بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 196
صفحہ 5 از 10
حدیث نمبر: 19895 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، مُطَرِّفٍ ، عِمْرَانُ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ , إِنِّي لَأُحَدِّثُكَ بِالْحَدِيثِ الْيَوْمَ لِيَنْفَعَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ، اعْلَمْ أَنَّ " خَيْرَ عِبَادِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْحَمَّادُونَ" . وَاعْلَمْ أَنَّهُ " لَنْ تَزَالَ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ حَتَّى يُقَاتِلُوا الدَّجَّالَ" . وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَعْمَرَ طائفةً مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ، فَلَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ ذَلِكَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ، ارْتَأَى كُلُّ امْرِئٍ بَعْدَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَرْتَئِيَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مطرف کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا میں آج تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ تمہیں کل کو نفع پہنچائے گا، یاد رکھو! کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سب سے بہترین بندے اس کی تعریف کرنے والے ہوں گے اور یہ بھی یاد رکھو! کہ اہل اسلام کا ایک گروہ ہمیشہ حق کی خاطر جہاد کرتا رہے گا اور اپنے مخالفین پر غالب رہے گا یہاں تک کہ دجال سے قتال کرے گا اور یاد رکھو! کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عشرہ ذی الحجہ میں اپنے چند اہل خانہ کو عمرہ کرایا تھا، جس کے بعد کوئی آیت ایسی نازل نہیں ہوئی جس نے اسے منسوخ کردیا ہو اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس سے منع نہیں فرمایا: یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہوگئے ان کے بعد ہر آدمی نے اپنی اپنی رائے اختیار کرلی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19895]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1226
الحكم: إسناده صحيح، م: 1226
حدیث نمبر: 19896 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، التَّيْمِيِّ ، أَبِي الْعَلَاءِ ، مُطَرِّفٍ ، عِمْرَانَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، قَالَ: أُرَاهُ عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ: " هَلْ صُمْتَ سِرَارَ هَذَا الشَّهْرِ؟" قَالَ: لَا , قَالَ:" فَإِذَا أَفْطَرْتَ أَوْ أَفْطَرَ النَّاسُ فَصُمْ يَوْمَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی سے پوچھا کیا تم نے شعبان کے اس مہینے کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کے روزے ختم ہوجائیں تو ایک دو دن کے روزے رکھ لینا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19896]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1983، م: 1162
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1983، م: 1162
حدیث نمبر: 19897 مسند احمد
يَحْيَى ، الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، أَبُو رَجَاءٍ ، عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ قَوْمٌ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہنم سے ایک قوم صرف محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شفاعت کی برکت سے نکلے گی، انہیں " جہنمی " کہا جائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19897]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 6566 ، هذا من صحيح حديث الحسن بن ذكوان
الحكم: صحيح لغيره، خ: 6566 ، هذا من صحيح حديث الحسن بن ذكوان
حدیث نمبر: 19898 مسند احمد
يَحْيَى ، عَوْفٍ ، أَبُو رَجَاءٍ ، عِمَرانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عَوْفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، حَدَّثَنِي عِمَرانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّا أَسْرَيْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ، فَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا، قَالَ: فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ اسْتَيْقَظَ فُلَانٌ، ثُمَّ فُلَانٌ كَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ، وَنَسِيَهُمْ عَوْفٌ , ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ الرَّابِعُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ نُوقِظْهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ، لِأَنَّا لَا نَدْرِي مَا يُحْدِثُ أَوْ يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ، وَكَانَ رَجُلًا أَجْوَفَ جَلِيدًا، قَالَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ لِصَوْتِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا الَّذِي أَصَابَهُمْ، فَقَالَ: " لَا ضَيْرَ , أَوْ لَا يَضِيرُ , ارْتَحِلُوا" فَارْتَحَلَ فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ:" مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ" , ثُمَّ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَكَى إِلَيْهِ النَّاسُ الْعَطَشَ، فَنَزَلَ فَدَعَا فُلَانًا كَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ، وَنَسِيَهُ عَوْفٌ وَدَعَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ , فَقَالَ:" اذْهَبَا فَابْغِيَا لَنَا الْمَاءَ" قَالَ: فَانْطَلَقَا، فَيَلْقَيَانِ امْرَأَةً بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا، فَقَالَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ فَقَالَتْ: عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ، وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ , قَالَ: فَقَالَا لَهَا: انْطَلِقِي إِذًا , قَالَتْ: إِلَى أَيْنَ؟ , قَالَا: إِلَى رَسُولِ اللَّهِ , قَالَتْ: هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الصَّابِئُ؟ قَالَا: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ، فَانْطَلِقِي إِذًا، فَجَاءَا بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ، فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ أَوْ السَّطِيحَتَيْنِ، وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا فَأَطْلَقَ الْعَزَالِي، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ: أَنْ اسْقُوا وَاسْتَقُوا، فَسَقَى مَنْ شَاءَ، وَاسْتَقَى مَنْ شَاءَ، وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ:" اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ" قَالَ: وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ مَا يُفْعَلُ بِمَائِهَا، قَالَ: وَايْمُ اللَّهِ، لَقَدْ أَقْلَعَ عَنْهَا، وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مِلْأَةً مِنْهَا حِينَ ابْتَدَأَ فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْمَعُوا لَهَا" فَجَمَع لَهَا مِنْ بَيْنِ عَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ وَسُوَيْقَةٍ، حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا كَثِيرًا وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبٍ، وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا، وَوَضَعُوا الثَّوْبَ بَيْنَ يَدَيْهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعْلَمِينَ وَاللَّهِ مَا رَزَأْنَاكِ مِنْ مَائِكِ شَيْئًا، وَلَكِنَّ اللَّهَ هُوَ سَقَانَا" , قَالَ: فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدْ احْتَبَسَتْ عَنْهُمْ، فَقَالُوا: مَا حَبَسَكِ يَا فُلَانَةُ؟ فَقَالَتْ: الْعَجَبُ، لَقِيَنِي رَجُلَانِ فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الصَّابِئُ، فَفَعَلَ بِمَائِي كَذَا وَكَذَا لِلَّذِي قَدْ كَانَ، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَسْحَرُ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ وَهَذِهِ , قَالَتْ بِأُصْبُعَيْهَا الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ فَرَفَعَتْهُمَا إِلَى السَّمَاءِ يَعْنِي السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا , قَالَ: وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدُ يُغِيرُونَ عَلَى مَا حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَلَا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ منه، فَقَالَتْ: يَوْمًا لِقَوْمِهَا: مَا أدَرَى أَنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ يَدَعُونَكُمْ إلا عَمْدًا فَهَلْ لَكُمْ فِي الْإِسْلَامِ؟ فَأَطَاعُوهَا فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہم رکاب سفر میں ایک شب رات بھر چلے رہے اور رات کے آخری حصے میں ایک جگہ ٹھہر کر سو رہے، کیونکہ مسافر کو پچھلی رات کا سونا نہایت شیریں معلوم ہوتا ہے، صبح کو آفتاب کی تیزی سے ہماری آنکھ کھلی پہلے فلاں شخص پھر فلاں پھر فلاں اور چوتھے نمبر پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور یہ قاعدہ تھا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خواب راحت میں ہوتے تو تاوقتیکہ خود بیدار نہ ہوجائیں کوئی جگاتا نہ تھا کیونکہ ہم کو علم نہ ہوتا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خواب میں کیا واقعہ دکھائی دے رہا ہے، مگر جب عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور آپ نے لوگوں کی کیفیت دیکھی تو چونکہ دلیر آدمی تھے اس لئے آپ نے زور زور سے تکبیر کہنی شروع کردی اور اس ترکیب سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہوگئے لوگوں نے ساری صورت حال عرض کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کچھ حرج نہیں یہاں سے کوچ کر چلو۔ چناچہ لوگ چل دیئے اور تھوڑی دور چل کر پھر اتر پڑے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا اور اذان کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھائی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کو علیحدہ کھڑا دیکھا اس شخص نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے شخص! تو نے جماعت کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ اس نے عرض کیا کہ مجھے غسل کی ضرورت تھی اور پانی موجود نہ تھا (اس لئے غسل نہ کرسکا) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تیمم کرلو کافی ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سے چل دیئے (چلتے چلتے راستہ میں) لوگوں نے پیاس کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتر پڑے اور ایک شخص کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں بلا کر حکم دیا کہ جاؤ پانی تلاش کرو، ہر دو صاحبان چل دیئے، راستہ میں انہوں نے ایک عورت کو دیکھا جو پانی کی دو مشکیں اونٹ پر لادے ہوئے ان کے درمیان میں پاؤں لٹکا کر بیٹھی تھی، انہوں نے اس سے دریافت کیا کہ پانی کہا ہے؟ عورت نے جواب دیا کہ کل اس وقت میں پانی پر تھی اور ہماری جماعت پیچھے ہے، انہوں نے اس سے کہا کہ ہمارے ساتھ چل! عورت بولی کہاں؟ انہوں نے جواب دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس! عورت بولی کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہی جن کو لوگ صابی کہتے ہیں، انہوں نے کہا وہی، ان ہی کے پاس چل! چناچہ دونوں صاحبان عورت کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے آئے اور پورا قصہ بیان کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشکوں کو نیچے اتروا دیا اور برتن منگوا کر اس میں پانی گرانے کا حکم دیا، اوپر کے دھانوں کو بند کردیا اور نیچے کے دہانے کھول دیئے اور لوگوں میں اعلان کرا دیا کہ اپنے چانور کو پانی پلاؤ اور خود بھی پیو اور مشکیں بھی بھر لو، چناچہ جس نے چاہا اپنے جانور کو پلایا اور جس نے چاہا خود پیا اور سب کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص کو جسے نہانے کی ضرورت تھی پانی دیا اور فرمایا کہ اسے لے جاؤ اور نہا لو اور وہ عورت یہ سب واقعہ دیکھ رہی تھی، اللہ کی قسم تمام لوگ پانی پی چکے حالانکہ وہ مشکیں ویسی ہی بلکہ اس سے زائد بھری ہوئی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پانی کے بدلے اس عورت کے لئے کچھ کھانا جمع کردو، صحابہ رضی اللہ عنہ نے اس کے لئے بہت سا آٹا، کھجوریں اور ستو جمع کر کے ایک کپڑے میں باندھ کر اس کو اونٹ پر سوار کرا کے اس کے آگے رکھ دیا، پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تجھے معلوم ہے کہ ہم نے تیرے پانی کا کچھ نقصان نہیں کیا لیکن اللہ نے ہم کو سیراب کردیا، اس کے بعد وہ عورت اپنے گھر چلی گئی اور اس کو دیر ہوگئی تھی لہذا اس کے گھر والوں نے کہا کہ اے فلانی تجھے دیر کیوں ہوگئی، اس نے جواب دیا کہ ایک عجیب واقعہ پیش آیا، مجھے دو آدمی ملے اور مجھے اس شخص کے پاس لے گئے جس کو لوگ صابی کہا کرتے ہیں اور اس نے ایسا ایسا کیا، لہذا وہ یا تو آسمان و زمین میں سب سے بڑا جاودگر ہے اور یا وہ اللہ کا سچا رسول ہے، اس کے بعد مسلمان آس پاس کے مشرک قبائل میں لوٹ مار کیا کرتے لیکن جس قبیلہ سے اس عورت کا تعلق تھا اس سے کچھ تعرض نہیں کرتے تھے، ایک دن اس عورت نے اپنی قوم سے کہا کہ میرے خیال میں یہ لوگ تم سے عمداً تعرض نہیں کرتے کیا تم مسلمان ہونا چاہتے ہو؟ لوگوں نے اثبات میں جواب دے دیا اور سب کے سب مشرف بہ اسلام ہوگئے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19898]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 344، م: 682
الحكم: إسناده صحيح، خ: 344، م: 682
حدیث نمبر: 19899 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا، فَقَالَ: " مَنْ صَلَّى قَائِمًا، فَهُوَ أَفْضَلُ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِهِ قَائِمًا، وَصَلَاتُهُ نَائِمًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھنا سب سے افضل ہے، بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے نصف ہے اور لیٹ کر نماز پڑھنے کا ثواب بیٹھ کر نماز پڑھنے سے نصف ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19899]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1117
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1117
حدیث نمبر: 19900 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةُ ، زُرَارَةَ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ أَوْ ثَنِيَّتَاهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ، لَا دِيَةَ لَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دور سے کا ہاتھ کاٹ لیا، اس نے اپنا ہاتھ جو کھینچا تو کاٹنے والے کے اگلے دانت ٹوٹ کر گرپڑے، وہ دونوں یہ جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے باطل قرار دے کر فرمایا تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتا ہے جیسے سانڈ، تمہیں کوئی دیت نہیں ملے گی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19900]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6892، م: 1673
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6892، م: 1673
حدیث نمبر: 19901 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، وَهِشَامُ بْنُ أَبِي عبد الله
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَقَدْ تَفَاوَتَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ السَّيْرُ، رَفَعَ بِهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ صَوْتَهُ:" يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ سورة الحج آية 1 - 2 حَتَّى بَلَغَ آخِرَ الْآيَتَيْنِ، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَ أَصْحَابُهُ بِذَلِكَ حَثُّوا الْمَطِيَّ وَعَرَفُوا أَنَّهُ عِنْدَ قَوْلٍ يَقُولُهُ، فَلَمَّا تَأَشَّبُوا حَوْلَهُ , قَالَ: " أَتَدْرُونَ أَيَّ يَوْمٍ ذَاكَ؟" , قَالَ:" ذَاكَ يَوْمَ يُنَادَى آدَمُ، فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ فيقول: يَا آدَمُ ابْعَثْ بَعْثًا إِلَى النَّارِ , فَيَقُولُ: يَا رَبِّ , وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ قَالَ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ فِي النَّارِ، وَوَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ" قَالَ: فَأَبْلَسَ أَصْحَابُهُ حَتَّى مَا أَوْضَحُوا بِضَاحِكَةٍ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ، قَالَ:" اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّكُمْ لَمَعَ خَلِيقَتَيْنِ مَا كَانَتَا مَعَ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا كَثَرَتَاهُ: يَأْجُوجَ , وَمَأْجُوجَ، وَمَنْ هَلَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ وَبَنِي إِبْلِيسَ" قَالَ: فَأُسْرِيَ عَنْهُمْ، ثُمَّ قَالَ:" اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ، أَوْ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ" , حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , وَهِشَامُ بْنُ أَبِي عبد الله ، فذكر معناه إلا أَنَّهُ قَالَ: فَسُرِّيَ عَنِ الْقَوْمِ , وَقَالَ:" إِلَّا كَثَّرَتَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ مختلف رفتار سے چل رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بلند آواز سے یہ دو آیتیں پڑھیں تو یہ آیت نازل ہوئی، " اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی عظیم چیز ہے " صحابہ رضی اللہ عنہ کے کان میں اس کی آواز پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریوں کو قریب کیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گرد آ کر کھڑے ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا تم جانتے ہو وہ کون سا دن ہوگا؟ یہ وہ دن ہوگا جب اللہ تعالیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) سے پکار کر کہے گا کہ اے آدم! جہنم کا حصہ نکالو، وہ پوچھیں گے کہ جہنم کا حصہ کیا ہے؟ تو ارشاد ہوگا ہر ہزار میں سے نوسوننانوے جہنم کے لئے نکال لو، یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ رونے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم عمل کرتے رہو اور خوش ہوجاؤ، تم ایسی دو قوموں کے ساتھ ہو گے کہ وہ جس چیز کے ساتھ مل جائیں اس کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے یعنی یاجوج ماجوج اور بنی آدم میں سے ہلاک ہونے والے اور شیطان کی اولاد، اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی وہ کیفیت دور ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا عمل کرتے رہو اور خوش ہوجاؤ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے، تمام امتوں میں تم لوگ اونٹ کے پہلو میں نشان کی طرح ہوگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19901]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران لكنه توبع
حدیث نمبر: 19902 مسند احمد
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهِشَامُ بْنُ أَبِي عبد الله فذكر معناه إلا أَنَّهُ قَالَ: فَسُرِّيَ عَنِ الْقَوْمِ وَقَالَ:" إِلَّا كَثَّرَتَاهُ"
حکم دارالسلام
حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران لكنه توبع
حدیث نمبر: 19903 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ امْرَأَةً أُتِيَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جُهَيْنَةَ حُبْلَى مِنَ الزِّنَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْهُ عَلَيَّ , قَالَ: فَدَعَا وَلِيَّهَا , فَقَالَ:" أَحْسِنْ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا" فَفَعَل فَأَمَرَ بِهَا فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ , تُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ؟! فَقَالَ: " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بدکاری کا اعتراف کرلیا اور کہنے لگی کہ میں امید سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلا کر اس سے فرمایا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور جب یہ بچے کو جنم دے چکے تو مجھے بتانا، اس نے ایسا ہی کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر اس عورت کے جسم پر اچھی طرح کپڑے باندھ دیئے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر اسے رجم کردیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، یہ دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ نے اسے رجم بھی کیا اور اس کی نماز جنازہ بھی پڑھا رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ستر اہل مدینہ پر تقسیم کردی جائے تو ان کے لئے بھی کافی ہوجائے اور تم نے اس سے افضل بھی کوئی چیز دیکھی ہے کہ اس نے اپنی جان کو اللہ کے لئے قربان کردیا؟ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19903]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1696
الحكم: إسناده صحيح، م: 1696
حدیث نمبر: 19904 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةُ ، أَبِي مِرَايَةَ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي مِرَايَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19904]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 19905 مسند احمد
يَحْيَى ، خَالِدُ بْنُ رَبَاحٍ ، أَبَا السَّوَّارِ ، عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ رَبَاحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا السَّوَّارِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا حیاء تو سراسر خیر ہی خیر ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19905]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 19906 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، أَبُو جَمْرَةَ ، زَهْدَمُ بْنُ مُضَرِّبٍ ، عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ ، حَدَّثَنِي زَهْدَمُ بْنُ مُضَرِّبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُكُمْ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، لَا أَدْرِي مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ثُمَّ يَأْتِي أَوْ يَجِيءُ بَعْدَكُمْ قَوْمٌ يَنْذُرُونَ فَلَا يُوفُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَفْشُو فِيهِمْ السِّمَنُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت کا سب سے بہترین زمانہ تو وہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے، پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ ہے، پھر ایک ایسی قوم آئے گی جو منت مانے گی لیکن پوری نہیں کرے گی، خیانت کرے گی، امانت دار نہ ہوگی، گواہی دینے کے لئے تیار ہوگی گو کہ اس سے گواہی نہ مانگی جائے اور ان میں موٹاپا عام ہوجائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19906]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6695، م: 2535
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6695، م: 2535
حدیث نمبر: 19907 مسند احمد
يَحْيَى ، عِمْرَانُ الْقَصِيرُ ، أَبُو رَجَاءٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَصِيرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: " نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَعَمِلْنَا بِهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُهَا، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حج تمتع کی آیت قرآن میں نازل ہوئی ہے، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں اس پر عمل کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وصال تک اس سے منع نہیں فرمایا: اور نہ ہی اس حوالے سے اس کی حرمت کا قرآن میں کوئی حکم نازل ہوا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19907]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4518، م: 1226
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4518، م: 1226
حدیث نمبر: 19908 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، حُصَيْنٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ , عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سوائے نظر بد یا کسی زہریلے جانور کے ڈنک کے کسی مرض کا علاج منتر سے نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19908]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19909 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ ، أَبِي قِلَابَةَ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَا:" مَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً إِلَّا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ، وَنَهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ اور سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیشہ ہمیں اپنے خطاب میں صدقہ کی ترغیب دینے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19909]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، أبو قلابة لم يسمع من سمرة
الحكم: حديث صحيح، أبو قلابة لم يسمع من سمرة
حدیث نمبر: 19910 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَبْشِرُوا" قَالُوا: بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا , قَالَ: فَقَدِمَ عَلَيْهِ حَيٌّ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنو تمیم کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا اے بنو تمیم! خوشخبری قبول کرو، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ نے ہمیں خوشخبری تو دے دی، اب کچھ عطاء بھی کر دیجئے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ انور کا رنگ بدل گیا، تھوڑی دیر بعد یمن کا ایک قبیلہ آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے تو خوشخبری قبول نہیں کی، تم قبول کرلو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم نے اسے قبول کرلیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19910]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3190
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3190
حدیث نمبر: 19911 مسند احمد
وَكِيعٌ ، جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَسْأَلَةُ الْغَنِيِّ شَيْنٌ فِي وَجْهِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مالدار آدمی کا مانگنا قیامت کے دن اس کے چہرے پر بدنما دھبہ ہوگا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19911]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع لأن الحسن لم يسمع من عمران
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع لأن الحسن لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19912 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ مَصْبُورَةٍ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ بِوَجْهِهِ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوجھ کر کسی بات پر ناحق جھوٹی قسم کھائے، اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم کی آگ میں بنا لے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19912]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19913 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، لَا يَكْتَوُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ" , قَالَ: فَقَامَ عُكَّاشَةُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ:" أَنْتَ مِنْهُمْ" قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ , قَالَ:" قَدْ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بلا حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو داغ کر علاج نہیں کرتے، تعویذ نہیں لٹکاتے، پرندوں سے فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں، حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ یہ سن کر کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم ان میں شامل ہو، پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19913]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 218
الحكم: حديث صحيح، م: 218
حدیث نمبر: 19914 مسند احمد
يَزِيدُ ، خَالِدُ بْنُ رَبَاحٍ أَبُو الْفَضْلِ ، أَبُو السَّوَّارِ الْعَدَوِيُّ ، عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ رَبَاحٍ أَبُو الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا أَبُو السَّوَّارِ الْعَدَوِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ" , فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ: إِنَّهُ يُقَالُ فِي الْحِكْمَةِ: إِنَّ مِنْهُ وَقَارًا لِلَّهِ، وَإِنَّ مِنْهُ ضَعْفًا , فَقَالَ لَهُ عِمْرَانُ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُحَدِّثُنِي عَنِ الصُّحُفِ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حیاء ہمیشہ خیر ہی لاتی ہے، یہ حدیث ان سے سن کر بشیر بن کعب کہنے لگے کہ حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیاء سے وقاروسکینت پیدا ہوتی ہے، حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث بیان کررہا ہوں اور تم اپنے صحیفوں کی بات کررہے ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19914]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي