بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 196
صفحہ 10 از 10
حدیث نمبر: 19995 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، مُطَرِّفٍ ، وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ , قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ صَلَاةً خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ، وَإِذَا رَفَعَ كَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ , كَبَّرَ" ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، أَخَذَ بِيَدِي عِمْرَانُ، فَقَالَ: لَقَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا قَبَلُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: لَقَدْ صَلَّى بِنَا هَذَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مطرف بن شخیر کہتے ہیں کہ میں کوفہ میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ سجدے میں جاتے اور سر اٹھاتے وقت ہر مرتبہ اللہ اکبر کہتے رہے، جب نماز سے فراغت ہوئی تو حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا انہوں نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسی نماز پڑھائی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19995]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 826، م: 393
الحكم: إسناده صحيح، خ: 826، م: 393
حدیث نمبر: 19996 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، هُشَيْمٌ ، مَنْصُورٌ ، وَحُمَيْدٌ ، وَيُونُسُ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ , وَحُمَيْدٌ , وَيُونُسُ , عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا فَيَأْمُرُنَا بِالصَّدَقَةِ، وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیشہ اپنے خطاب میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19996]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران
الحكم: حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19997 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، خَيْثَمَةَ ، عِمْرَانُ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، قَالَ: مَرَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ بِرَجُلٍ يَقُصُّ، فَقَالَ عِمْرَانُ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَسَلُوا اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجِيءَ قَوْمٌ يَسْأَلُونَ النَّاسَ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ کسی آدمی کے پاس سے گزرے جو لوگوں کو قرآن پڑھ کر سنا رہا تھا، تلاوت سے فارغ ہو کر اس نے لوگوں سے مانگنا شروع کردیا، یہ دیکھ کر حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے " انا للہ وانا الیہ راجعون " کہا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص قرآن پڑھے، اسے چاہیے کہ قرآن کے ذریعے اللہ سے سوال کرے، کیونکہ عنقریب ایسے لوگ بھی آئیں گے جو قرآن کو پڑھ کر اس کے ذریعے لوگوں سے سوال کریں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19997]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ، وقد أسقط من هذا الإسناد الحسن البصري بين خيثمة وعمران، وخيثمة ضعيف
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ، وقد أسقط من هذا الإسناد الحسن البصري بين خيثمة وعمران، وخيثمة ضعيف
حدیث نمبر: 19998 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: " نَزَلَ الْقُرْآنُ وَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّنَنَ، ثُمَّ قَالَ: اتَّبِعُونَا، فَوَاللَّهِ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا تَضِلُّوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قرآن کریم نازل ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سنتیں متعین کی ہیں، پھر فرمایا کہ ہماری اتباع کرو، اللہ کی قسم! اگر تم نے ایسا نہ کیا تو گمراہ ہوجاؤ گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19998]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ، وعلي بن زيد ضعيف، والحسن البصري لم يسمع من عمران
الحكم: إسناده ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ، وعلي بن زيد ضعيف، والحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19999 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَبِي قَتَادَةَ الْعَدَوِيِّ ، عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي رَهْطٍ مِنْ بَنِي عَدِيٍّ فِينَا بُشَيْرُ ابْنُ كَعْبٍ، فَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ" أَوْ" إِنَّ الْحَيَاءَ خَيْرٌ كُلُّهُ" , فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ: إِنَّا لَنَجِدُ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ أَوْ قَالَ: الْحِكْمَةِ: أَنَّ مِنْهُ سَكِينَةً وَوَقَارًا لَلَّهِ، وَمِنْهُ ضَعْفًا، فَأَعَادَ عِمْرَانُ الْحَدِيثَ، وَأَعَادَ بُشَيْرٌ مَقَالَتَهُ، حَتَّى ذَكَر ذَاكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَغَضِبَ عِمْرَانُ حَتَّى احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ، وَقَالَ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَعْرِضُ فِيهِ لِحَدِيثِ الْكُتُبِ؟! قَالَ: فَقُلْنَا يَا أَبَا نُجَيْدٍ، إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ، وَإِنَّهُ مِنَّا، فَمَا زِلْنَا حَتَّى سَكَنَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حیاء ہمیشہ خیر ہی لاتی ہے، یہ حدیث ان سے سن کر بشیر بن کعب کہنے لگے کہ حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیاء سے وقاروسکینت پیدا ہوتی ہے، حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث بیان کررہا ہوں اور تم اپنے صحیفوں کی بات کررہے ہو، آئندہ میں تم سے کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا، لوگ کہنے لگے اے ابونجید! یہ اچھا آدمی ہے اور انہیں مسلسل مطمئن کرانے لگے، یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگئے اور حدیث بیان کرنے لگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19999]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6117، م: 37
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6117، م: 37
حدیث نمبر: 20000 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ عَلَى عَضُدِ رَجُلٍ حَلْقَةً أُرَاهُ قَالَ مِنْ صُفْرٍ , فَقَال:" وَيْحَكَ مَا هَذِهِ؟" قَالَ: مِنَ الْوَاهِنَةِ , قَالَ:" أَمَا إِنَّهَا لَا تَزِيدُكَ إِلَّا وَهْنًا، انْبِذْهَا عَنْكَ، فَإِنَّكَ لَوْ مِتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ مَا أَفْلَحْتَ أَبَدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کے بازو میں پیتل (تانبے) کا ایک کڑا دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! اس نے بتایا کہ یہ بیماری کی وجہ سے ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس سے تمہاری کمزوری میں مزید اضافہ ہی ہوگا، اسے اتار کر پھینکو، اگر تم اس حال میں مرگئے کہ یہ تمہارے ہاتھ میں ہو، تو تم کبھی کامیاب نہ ہوگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20000]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، مبارك بن فضالة مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع، والحسن لم يسمع من عمران، وتصريح الحسن بسماعه من عمر ان خطأ من مبارك
الحكم: إسناده ضعيف، مبارك بن فضالة مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع، والحسن لم يسمع من عمران، وتصريح الحسن بسماعه من عمر ان خطأ من مبارك
حدیث نمبر: 20001 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، وَحَبِيبٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَحُمَيْدٍ ، وَيُونُسَ ، وَقَتَادَةَ ، وَسِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَيُّوبَ , وَهِشَامٍ , وَحَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحُمَيْدٍ , وَيُونُسَ , وَقَتَادَةَ , وَسِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ، فَأَقْرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ، وَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ کے چھ غلام آزاد کردئیے، جن کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال بھی نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کرکے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، پھر جن دو کا نام نکل آیا انہیں آزاد کردیا اور باقی چار کو غلام ہی رہنے دیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20001]
حکم دارالسلام
هذا الحديث له ثلاثة أسانيد: الاسناد الأول ضعيف لضعف عطاء وإرساله، والإسناد الثاني صحيح، والإسناد الثالث ضعيف لأن الحسن البصري لم يسمع من عمران بن حصين
الحكم: هذا الحديث له ثلاثة أسانيد: الاسناد الأول ضعيف لضعف عطاء وإرساله، والإسناد الثاني صحيح، والإسناد الثالث ضعيف لأن الحسن البصري لم يسمع من عمران بن حصين
حدیث نمبر: 20002 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيُّ ، رَجُلٌ ، بِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيُّ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ , أَنَّ يَعْلَي بْنَ سُهَيْلٍ مَرَّ بِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، فَقَالَ لَهُ: يَا يَعْلَي، أَلَمْ أُنَبَّأْ أَنَّكَ بِعْتَ دَارَكَ بِمِائَةِ أَلْفٍ؟ قَالَ: بَلَى، قَدْ بِعْتُهَا بِمِائَةِ أَلْفٍ , قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ بَاعَ عُقْدَةَ مَالٍ، سَلَّطَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا تَالِفًا يُتْلِفُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یعلی بن سہیل ایک مرتبہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس گذرے، حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اے یعلی! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے اپنا گھر ایک لاکھ میں فروخت کردیا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! ایک لاکھ میں بیچا ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص مال کی گرہ بیچ دے، اللہ اس پر کسی مہلک چیز کو مسلط کردیتا ہے، جو اسے تباہ کردیتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20002]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف محمد بن أبى المليح، ولم يوجد ترجمة يعلى بن سهيل
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن أبى المليح، ولم يوجد ترجمة يعلى بن سهيل
حدیث نمبر: 20003 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٌ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص لوٹ مار کرتا ہے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20003]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 20004 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، أَبُو التَّيَّاحِ ، مُطَرِّفٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَعَفَّانُ , قَالَا: ثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ , قَالَ عَفَّانُ: أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ , عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْكَيِّ، فَاكْتَوَيْنَا، فَمَا أَفْلَحْنَ وَلَا أَنْجَحْنَ" , وَقَالَ عَفَّانُ: فَلَمْ يُفْلِحْنَ وَلَمْ يُنْجِحْنَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں داغنے کا علاج کرنے سے منع فرمایا ہے، لیکن ہم داغتے رہے اور کبھی کامیاب نہ ہو سکے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20004]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20005 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَرْبٌ ، يَحْيَى ، أَبَا قِلَابَةَ ، أَبَا الْمُهَلَّبِ ، عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا الْمُهَلَّبِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ تُوُفِّيَ فَصَلُّوا عَلَيْهِ" , قَالَ: فَصَفَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَمَا نَحْسِبُ الْجِنَازَةَ إِلَّا مَوْضُوعَةً بَيْنَ يَدَيْهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آج تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا ہے لہذا اس کی نماز جنازہ پڑھو، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہم نے پیچھے صفیں بنالیں، میں دوسری صف میں تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی، ہمیں یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس کا جنازہ سامنے ہی پڑا ہوا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20005]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20006 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، مَهْدِيٌّ ، غَيْلَانُ ، مُطَرِّفٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ أَوْ سَأَلَ رَجُلًا وَهُوَ شَاهِدٌ: " هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا؟" قَالَ: لَا , قَالَ:" فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی سے پوچھا کیا تم نے شعبان کے اس مہینے کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کے روزے ختم ہوجائیں تو دو دن کے روزے رکھ لینا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20006]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1983، م: 1161
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1983، م: 1161
حدیث نمبر: 20007 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رجم کی سزا جاری فرمائی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20007]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران
الحكم: حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 20008 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ ، أَبِي قَتَادَةَ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ يحدث، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رجم کی سزا جاری فرمائی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20008]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6117، م: 37
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6117، م: 37
حدیث نمبر: 20009 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ عِنْدَ مَوْتِهِ سِتَّةَ رَجْلَةٍ لَهُ، فَجَاءَ وَرَثَتُهُ مِنَ الْأَعْرَابِ فَأَخْبَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا صَنَعَ، قَالَ:" أَوَفَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: لَوْ عَلِمْنَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَا صَلَّيْنَا عَلَيْهِ" قَالَ: فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ مِنْهُمْ اثْنَيْنِ، وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ کے چھ غلام آزاد کردئیے، جن کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال بھی نہ تھا، اس کے ورثاء نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر ہمیں پہلے پتہ چل جاتا تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کر کے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، پھر جن دو کا نام نکل آیا انہیں آزاد کردیا اور باقی چار کو غلام ہی رہنے دیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20009]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 20010 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، حُصَيْنٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , وَأَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ , عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سوائے نظر بد یا کسی زہریلے جانور کے ڈنک کے کسی مرض کا علاج منتر سے نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20010]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح