بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 196
صفحہ 3 از 10
حدیث نمبر: 19855 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي قَزَعَةَ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا جَلَبَ، وَلَا جَنَبَ، وَلَا شِغَارَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زکوٰۃ میں اچھے جانور وصول کرنا، یا زکوٰۃ کی ادائیگی سے (حیلے بہانوں سے) بچنا اور جانوروں کو نیزوں سے زخمی کرنے کی کوئی اصلیت نہیں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19855]
حکم دارالسلام
صحيح الغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
الحكم: صحيح الغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19856 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، مَنْصُورٌ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَسَرَهَا الْعَدُوُّ، وَقَدْ كَانُوا أَصَابُوا قَبْلَ ذَلِكَ نَاقَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَرَأَتْ مِنَ الْقَوْمِ غَفْلَةً، قَالَ: فَرَكِبَتْ نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَعَلَتْ عَلَيْهَا أَنْ تَنْحَرَهَا، قَالَ: فَقَدِمَتْ الْمَدِينَةَ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَنْحَرَ نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمُنِعَتْ مِنْ ذَلِكَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" بِئْسَمَا جَزَيْتِيهَا" قَالَ: ثُمَّ قَالَ: " لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان عورت کو دشمن نے قید کرلیا، قبل ازیں ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی بھی چرا لی تھی، ایک دن اس عورت نے لوگوں کو غافل دیکھا تو چپکے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی پر سوار ہوئی اور یہ منت مان لی کہ اگر صحیح سلامت مدینہ پہنچ گئی تو اسی اونٹنی کو ذبح کر دے گی، بہرحال! وہ مدینہ منورہ پہنچ گئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی کو ذبح کرنا چاہا لیکن لوگوں نے اسے اس سے منع کیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے اسے برا بدلہ دیا، پھر فرمایا ابن آدم جس چیز کا مالک نہ ہو، اس میں نذر نہیں ہوئی اور نہ ہی اللہ کی معصیت میں منت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19856]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران لكنه توبع
حدیث نمبر: 19857 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّي ، صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّي ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ:" مَا قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا إِلَّا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ، وَنَهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ" , قَالَ: وَقَالَ:" أَلَا وَإِنَّ مِنَ الْمُثْلَةِ أَنْ يَنْذُرَ الرَّجُلُ أَنْ ليَخْرِمَ أَنْفَهُ، أَلَا وَإِنَّ مِنَ الْمُثْلَةِ أَنْ يَنْذُرَ الرَّجُلُ أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا، فَلْيُهْدِ هَدْيًا، وَلْيَرْكَبْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیشہ اپنے خطاب میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے، یاد رکھو! مثلہ کرنے میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ انسان کسی کی ناک کاٹنے کی منت مانے اور یہ بھی کہ انسان پیدل حج کرنے کی منت مانے، ایسے آدمی کو چاہیے کہ ہدی کا جانور ساتھ لے کر جائے اور اس پر سوار ہوجائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19857]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: وإن من المثلة ... الخ ، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عمران، وصالح بن رستم وكثير بن شنظير فيهما كلام، وقد تفردا بقول: وإن من المثله ... الخ
الحكم: صحيح دون قوله: وإن من المثلة ... الخ ، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عمران، وصالح بن رستم وكثير بن شنظير فيهما كلام، وقد تفردا بقول: وإن من المثله ... الخ
حدیث نمبر: 19858 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ:" مَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً إِلَّا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ، وَنَهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیشہ اپنے خطاب میں ہمیں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19858]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران
الحكم: حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19859 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: لَعَنَتِ امْرَأَةٌ نَاقَةً لَهَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا مَلْعُونَةٌ فَخَلُّوا عَنْهَا" قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهَا تَتْبَعُ الْمَنَازِلَ مَا يَعْرِضُ لَهَا أَحَدٌ، نَاقَةٌ وَرْقَاءُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنی اونٹنی پر لعنت بھیجی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ اونٹنی ملعون ہوگئی ہے اس لئے اسے چھوڑ دو، میں نے اس اونٹنی کو منزلیں طے کرتے ہوئے دیکھا لیکن اسے کوئی ہاتھ نہ لگاتا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19859]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2595
الحكم: إسناده صحيح، م: 2595
حدیث نمبر: 19860 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ وَغَيْرِ وَاحِدٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ: صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ بِالْكُوفَةِ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَكَبَّرَ بِنَا هَذَا التَّكْبِيرَ حِينَ يَرْكَعُ وَحِينَ يَسْجُدُ، فَكَبَّرَهُ كُلَّهُ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا , قَالَ لِي عِمْرَانُ:" مَا صَلَّيْتُ مُنْذُ حِينٍ أَوْ قَالَ: مُنْذُ كَذَا وَكَذَا أَشْبَهَ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ" يَعْنِي صَلَاةَ عَلِيٍّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مطرف بن شخیر کہتے ہیں کہ میں کوفہ میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ سجدے میں جاتے اور سر اٹھاتے وقت ہر مرتبہ اللہ اکبر کہتے رہے، جب نماز سے فراغت ہوئی تو حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے کافی عرصے سے اس نماز سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز سے مشابہہ کوئی نماز نہیں پڑھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19860]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19861 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ اعْتَرَفَتْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزِنًا، وَقَالَتْ: أَنَا حُبْلَى , فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا، فَقَالَ:" أَحْسِنْ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأَخْبِرْنِي" فَفَعَلَ، فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا، فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا؟! فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجَمْتَهَا، ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا؟! فَقَالَ: " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بدکاری کا اعتراف کرلیا اور کہنے لگی کہ میں امید سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلا کر اس سے فرمایا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور جب یہ بچے کو جنم دے چکے تو مجھے بتانا، اس نے ایسا ہی کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر اس عورت کے جسم پر اچھی طرح کپڑے باندھ دیئے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر اسے رجم کردیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، یہ دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ نے اسے رجم بھی کیا اور اس کی نماز جنازہ بھی پڑھا رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ستر اہل مدینہ پر تقسیم کردی جائے تو ان کے لئے بھی کافی ہوجائے اور تم نے اس سے افضل بھی کوئی چیز دیکھی ہے کہ اس نے اپنی جان کو اللہ کے لئے قربان کردیا؟ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19861]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1696
الحكم: إسناده صحيح، م: 1696
حدیث نمبر: 19862 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: عَضَّ رَجُلٌ رَجُلًا، فَانْتُزِعَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَ يَدَ أَخِيكَ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک آدمی نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا، اس نے اپنا ہاتھ جو کھینچا تو کاٹنے والے کے اگلے دانت ٹوٹ کر گرپڑے، وہ دونوں یہ جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے باطل قرار دے کر فرمایا تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتا ہے جیسے سانڈ۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19862]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6892، م: 1673
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6892، م: 1673
حدیث نمبر: 19863 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كَانَتْ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ، وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ، فَأُسِرَ الرَّجُلُ، وَأُخِذَتْ الْعَضْبَاءُ مَعَهُ، قَالَ: فَمَرَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي وَثَاقٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، تَأْخُذُونِي وَتَأْخُذُونَ سَابِقَةَ الْحَاجِّ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَأْخُذُكَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفَ" قَالَ: وَقَدْ كَانَتْ ثَقِيفُ قَدْ أَسَرُوا رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ فِيمَا قَالَ: وَإِنِّي مُسْلِمٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ" قَالَ: وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي، وَإِنِّي ظَمْآنُ فَاسْقِنِي، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ حَاجَتُكَ!" ثُمَّ فُدِيَ بِالرَّجُلَيْنِ، وَحَبَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَضْبَاءَ لِرَحْلِهِ , قَالَ: ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ أَغَارُوا عَلَى سَرْحِ الْمَدِينَةِ، فَذَهَبُوا بِهَا، وَكَانَتْ الْعَضْبَاءُ فِيهِ، قَالَ: وَأَسَرُوا امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: فَكَانُوا إِذَا نَزَلُوا أَرَاحُوا إِبِلَهُمْ بِأَفْنِيَتِهِمْ، قَالَ: فَقَامَتْ الْمَرْأَةُ ذَاتَ لَيْلَةٍ بَعْدَمَا نَامُوا، فَجَعَلَتْ كُلَّمَا أَتَتْ عَلَى بَعِيرٍ رَغَا، حَتَّى أَتَتْ عَلَى الْعَضْبَاءِ، فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةٍ ذَلُولٍ مُجَرَّسَةٍ فَرَكِبَتْهَا، ثُمَّ وَجَّهَتْهَا قِبَلَ الْمَدِينَةِ، قَالَ: وَنَذَرَتْ إِنْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا، فَلَمَّا قَدِمَتْ الْمَدِينَةَ عُرِفَتْ النَّاقَةُ، فَقِيلَ: نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَذْرِهَا، أَوْ أَتَتْهُ فَأَخْبَرَتْهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِئْسَمَا جَزَتْهَا أَوْ بِئْسَمَا جَزَيْتِيهَا إِنْ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا" قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ" , وقَالَ وُهَيْبٌ: يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ , وَكَانَتْ ثَقِيفُ حُلَفَاءَ لِبَنِي عُقَيْلٍ، وَزَادَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فِيهِ: وَكَانَتْ الْعَضْبَاءُ دَاجِنًا لَا تُمْنَعُ مِنْ حَوْضٍ وَلَا نَبْتٍ , قَالَ عَفَّانُ: مُجَرَّسَةٌ مُعَوَّدَةٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عضباء نامی اونٹنی دراصل بنو عقیل میں سے ایک آدمی کی تھی اور حاجیوں کی سواری تھی، وہ شخص گرفتار ہوگیا اور اس کی اونٹنی بھی پکڑ لی گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس سے گذرے تو وہ رسیوں سے بندھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک گدھے پر سوار تھے اور ایک چادر اوڑھ رکھی تھی، وہ کہنے لگا اے محمد! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا تم مجھے اور حاجیوں کی سواری کو بھی پکڑ لوگے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہم نے تمہیں تمہارے حلیفوں بنو ثقیف کی جرأت کی وجہ سے پکڑا ہے، کیونکہ بنو ثقیف نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دو صحابہ قید کر رکھے تھے، بہرحال! دوران گفتگو وہ کہنے لگا کہ میں تو مسلمان ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے اس وقت یہ بات کہی ہوتی جب کہ تمہیں اپنے اوپر مکمل اختیار تھا تو فلاح کلی حاصل کرلیتے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے بڑھنے لگے تو وہ کہنے لگا کہ اے محمد! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں بھوکا ہوں، مجھے کھانا کھلائیے، پیاسا ہوں، پانی پلائیے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ تمہاری ضرورت ہے (جو ہم پوری کریں گے) پھر ان دو صحابیوں کے فدئیے میں اس شخص کو دے دیا اور عضباء کو اپنی سواری کے لئے رکھ لیا، کچھ ہی عرصے بعد مشرکین نے مدینہ منورہ کی چراگاہ پر شب خون مارا اور وہاں کے جانور اپنے ساتھ لے گئے انہی میں عضباء بھی شامل تھی۔ نیز انہوں نے ایک مسلمان عورت کو بھی قید کرلیا، ایک دن اس عورت نے لوگوں کو غافل دیکھا تو چپکے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی پر سوار ہوئی اور یہ منت مان لی کہ اگر صحیح سلامت مدینہ پہنچ گئی تو اسی اونٹنی کو ذبح کر دے گی، بہرحال! وہ مدینہ منورہ پہنچ گئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی کو ذبح کرنا چاہا لیکن لوگوں نے اسے اس سے منع کیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے اسے برا بدلہ دیا، پھر فرمایا ابن آدم جس چیز کا مالک نہ ہو، اس میں نذر نہیں ہوئی اور نہ ہی اللہ کی معصیت میں منت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19863]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1641
الحكم: إسناده صحيح، م: 1641
حدیث نمبر: 19864 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَن يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْكَيِّ، فَاكْتَوَيْنَا، فَمَا أَفْلَحْنَا وَلَا أَنْجَحْنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں داغنے کا علاج کرنے سے منع فرمایا ہے، لیکن ہم داغتے رہے اور کبھی کامیاب نہ ہو سکے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19864]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19865 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , أَنَّ فَتًى سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَعَدَلَ إِلَى مَجْلِسِ الْعُوقَةِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْفَتَى سَأَلَنِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَاحْفَظُوا عَنِّي: " مَا سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ، وَإِنَّهُ أَقَامَ بِمَكَّةَ زَمَانَ الْفَتْحِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً يُصَلِّي بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَدَّثَنَاه يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ , وَزَادَ فِيهِ إِلَّا الْمَغْرِبَ , ثُمَّ يَقُولُ: يَا أَهْلَ مَكَّةَ، قُومُوا فَصَلُّوا رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ، فَإِنَّا سَفْرٌ، ثُمَّ غَزَا حُنَيْنًا , وَالطَّائِفَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى جِعِرَّانَةَ، فَاعْتَمَرَ مِنْهَا فِي ذِي الْقَعْدَةِ" , ثُمَّ غَزَوْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَحَجَجْتُ وَاعْتَمَرْتُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ , فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ قَالَ يُونُسُ: إِلَّا الْمَغْرِبَ , وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًَا من إِمَارَتِهِ، فصلَّى ركعتين قَالَ يُونُسُ: إِلَّا الْمَغْرِبَ ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ أَرْبَعًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ایک نوجوان نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز سفر کے متعلق پوچھا تو وہ مجلس عوقہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ یہ نوجوان مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز سفر کے متعلق پوچھ رہا ہے، لہذا تم بھی اسے اچھی طرح محفوظ کرلو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب بھی کوئی سفر کیا ہے تو واپسی تک دو دو رکعتیں ہی پڑھی ہیں اور مکہ مکرمہ میں فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اٹھارہ دن تک رہے لیکن لوگوں کو دو دو رکعتیں ہی پڑھاتے رہے۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ گزشتہ حدیث یونس بن محمد سے اس اضافے کے ساتھ منقول ہے کہ البتہ مغرب میں قصر نہیں فرماتے تھے، پھر فرما دیتے کہ اہل مکہ! تم لوگ کھڑے ہو کر اگلی دو رکعتیں خود ہی پڑھ لو کیونکہ ہم لوگ مسافر ہیں۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غروہ حنین اور طائف کے لئے تشریف لے گئے تب بھی دو دو رکعتیں پڑھتے رہے، پھر جعرانہ گئے اور ماہ ذیقعدہ میں وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا (تب بھی ایسا ہی کیا) پھر میں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوات، حج اور عمرے کے سفر میں شرکت کی، انہوں نے بھی دو دو رکعتیں پڑھیں، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ان کے ابتدائی دور خلافت میں ایسے ہی نماز پڑھی، بعد میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ چار رکعتیں پڑھنے لگے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19865]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ولبعضه شواهد، على بن زيد ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف، ولبعضه شواهد، على بن زيد ضعيف
حدیث نمبر: 19866 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، مَنْصُورٌ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ، وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ" قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِالرَّقِيقِ فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ کے چھ غلام آزاد کر دئیے، جن کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال بھی نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کرکے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، پھر جن دو کا نام نکل آیا انہیں آزاد کردیا اور باقی چار کو غلام ہی رہنے دیا اور مرنے والے کے متعلق فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھاؤں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19866]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1668، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1668، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19867 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يُونُسُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ، فَصَلُّوا عَلَيْهِ" فَقَامَ فَصَفَّنَا خَلْفَهُ، فَإِنِّي لَفِي الصَّفِّ الثَّانِي، فَصَلَّى عَلَيْهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آج تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا ہے لہذا اس کی نماز جنازہ پڑھو، چناچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہم نے پیچھے صفیں بنالیں، میں دوسری صف میں تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19867]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19868 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، خَالِدٍ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، فَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَةً، فَسَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عصر کی تین رکعتوں پر ہی سلام پھیر دیا، لوگوں کے توجہ دلانے پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر چھوٹی ہوئی ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر کر بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کئے اور سلام پھیر دیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19868]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 574
الحكم: إسناده صحيح، م: 574
حدیث نمبر: 19869 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يَزِيدُ يَعْنِي الرِّشْكَ ، مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي الرِّشْكَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: فِيمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ؟ قَالَ: " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ" , أَوْ كَمَا قَالَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کیا اہل جہنم، اہل جنت سے ممتاز ہوچکے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! اس نے پوچھا کہ پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عمل کرتے رہو، کیونکہ ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19869]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6596، م: 2649
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6596، م: 2649
حدیث نمبر: 19870 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَامْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى نَاقَةٍ، فَضَجِرَتْ فَلَعَنَتْهَا، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " خُذُوا مَا عَلَيْهَا وَدَعُوهَا، فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ" , قَالَ عِمْرَانُ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا الْآنَ تَمْشِي فِي النَّاسِ مَا يَعْرِضُ لَهَا أَحَدٌ , يَعْنِي النَّاقَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنی اونٹنی پر لعنت بھیجی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ اونٹنی ملعون ہوگئی ہے اس لئے اسے چھوڑ دو، میں نے اس اونٹنی کو منزلیں طے کرتے ہوئے لیکن اسے کوئی ہاتھ نہ لگاتا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19870]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2595
الحكم: إسناده صحيح، م: 2595
حدیث نمبر: 19871 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ أخبرنا، عن أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: مَرَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، بمَجَلَسْنَا فَقَامَ إِلَيْهِ فَتًى مِنَ الْقَوْمِ، فَسَأَلَهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَزْوِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَجَاءَ فَوَقَفَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا سَأَلَنِي عَنْ أَمْرٍ فَأَرَدْتُ أَنْ تَسْمَعُوهُ أَوْ كَمَا قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَحَجَجْتُ مَعَهُ، فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَشَهِدْتُ مَعَهُ الْفَتْحَ، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانِ عَشْرَةَ لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، وَيَقُولُ لِأَهْلِ الْبَلَدِ:" صَلُّوا أَرْبَعًا فَإِنَّا سَفْرٌ" , وَاعْتَمَرْتُ مَعَهُ ثَلَاثَ عُمَرٍ، فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا حَجَّاتٍ، فَلَمْ يُصَلِّيَا إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَا إِلَى الْمَدِينَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابونضرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمران رضی اللہ عنہ ہماری مجلس سے گذرے تو ایک نوجوان نے کھڑے ہو کر ان سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز سفر کے متعلق پوچھا تو وہ ہماری مجلس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ یہ نوجوان مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز سفر کے متعلق پوچھ رہا ہے، لہذا تم بھی اسے اچھی طرح محفوظ کرلو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب بھی کوئی سفر کیا ہے تو واپسی تک دو دو رکعتیں ہی پڑھی ہیں، حج کے موقع پر بھی واپسی تک اور مکہ مکرمہ میں فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اٹھارہ دن تک رہے لیکن لوگوں کو دو دو رکعتیں ہی پڑھاتے رہے، پھر فرما دیتے کہ اہل مکہ! تم لوگ کھڑے ہو کر اگلی دو رکعتیں خود ہی پڑھ لو کیونکہ ہم لوگ مسافر ہیں، میں نے ان کے ساتھ تین مرتبہ عمرہ بھی کیا ہے، اس میں بھی انہوں نے دو دو رکعتیں پڑھیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19871]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل على ابن زيد، ولبعضه شواهد
الحكم: إسناده ضعيف من أجل على ابن زيد، ولبعضه شواهد
حدیث نمبر: 19872 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَسِيرٍ فَعَرَّسُوا، فَنَامُوا عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظُوا حَتَّى طَلَعَتْ الشَّمْسُ، فَلَمَّا ارْتَفَعَتْ وَانْبَسَطَتْ، أَمَرَ إِنْسَانًا فَأَذَّنَ فَصَلَّوْا الرَّكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا حَانَتْ الصَّلَاةُ صَلَّوْا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی سفر میں تھے، رات کے وقت ایک مقام پر پڑاؤ کیا، تو فجر کی نماز کے وقت سب لوگ سوتے ہی رہ گئے اور اس وقت بیدار ہوئے جب سورج طلوع ہوچکا تھا، جب سورج خوب بلند ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا، اس نے اذان دی اور لوگوں نے دو سنتیں پڑھیں، پھر انہوں نے فرض نماز ادا کی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19872]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، الحسن البصري لم يسمع من عمران، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19873 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، مُطَرِّفٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فُلَانًا لَا يُفْطِرُ نَهَارَ الدَّهْرِ! قَالَ: " لَا أَفْطَرَ وَلَا صَامَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مری ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ فلاں آدمی تو ہمیشہ دن کو روزے کا ناغہ کرتا ہی نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے ناغہ کیا اور نہ روزہ رکھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19873]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19874 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ:" أَيُّكُمْ قَرَأَ: بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى؟" فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا، فَقَالَ: " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی، مقتدیوں میں سے ایک آدمی نے سبح اسم ربک الاعلی والی سورت پڑھی، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا تم میں سے سبح اسم ربک الاعلی کس نے پڑھی ہے؟ ایک آدمی نے کہا میں نے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں سمجھ گیا تھا کہ تم میں سے کوئی مجھ سے جھگڑ رہا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19874]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 398
الحكم: إسناده صحيح، م: 398