بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 196
صفحہ 7 از 10
حدیث نمبر: 19935 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عِمْرَانُ بْنُ عِصَامٍ الضُّبَعِيُّ ، شَيْخٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: سُئِلَ قَتَادَةُ عَنِ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ، فقال: ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عِصَامٍ الضُّبَعِيُّ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " هِيَ الصَّلَاةُ: مِنْهَا شَفْعٌ، وَمِنْهَا وَتْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سورة الفجر کے لفظ والشفع والوتر کا معنی پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد نماز ہے کہ بعض نمازیں جفت ہیں اور بعض طاق۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19935]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عمران
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عمران
حدیث نمبر: 19936 مسند احمد
صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، ابْنِ يَعْمَرَ ، أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، قَالَ: غَدَوْتُ عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ يَوْمًا مِنَ الْأَيَّامِ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْأَسْوَدِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ، شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ أَوْ مَضَى عَلَيْهِمْ فِي قَدَرٍ قَدْ سَبَقَ، أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَاتُّخِذَتْ عَلَيْهِمْ بِهِ الْحُجَّةُ؟ قَالَ: " بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ، وَمَضَى عَلَيْهِمْ" قَالَ: فَلِمَ يَعْمَلُونَ إِذًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" مَنْ كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَهُ لِوَاحِدَةٍ مِنَ الْمَنْزِلَتَيْنِ يُهَيِّئُهُ لِعَمَلِهَا، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ: وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا سورة الشمس آية 7 - 8" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالاسود دیلی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے فرمایا اے ابوالاسود! قبیلہ جہینہ کا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ لوگ آج جو عمل کرتے ہیں اور اس میں محنت ومشقت سے کام لیتے ہیں، اس کا ان کے لئے فیصلہ ہوچکا ہے اور پہلے سے تقدیر جاری ہوچکی ہے یا آئندہ فیصلہ ہوگا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات کے مطابق ہوگا اور اس کے ذریعے ان پر حجت قائم کی جائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بلکہ پہلے سے فیصلہ ہوچکا اور تقدیر جاری ہوچکی، اس نے پوچھا یا رسول اللہ! پھر لوگ عمل کیوں کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو دو میں سے کسی ایک مرتبے کے لئے پیدا کیا ہے، اس کیلئے وہی عمل آسان کردیتا ہے اور اس کی تصدیق قرآن کریم میں اس ارشاد سے بھی ہوئی ہے ونفس وماسواھا فالہمہا فجورہا وتقواہا [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19936]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2650
الحكم: إسناده صحيح، م: 2650
حدیث نمبر: 19937 مسند احمد
عَارِمٌ ، مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبِيهِ ، السُّمَيْطُ الشَّيْبَانِيُّ ، أَبِي الْعَلَاءِ ، رَجُلٌ ، عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي السُّمَيْطُ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ , أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ عُبَيْسًا أَوْ ابْنَ عُبَيْسٍ فِي أُنَاسٍ مِنْ بَنِي جُشَمٍ أَتَوْهُ، فَقَالَ لَهُ أَحَدُهُمْ: أَلَا تُقَاتِلُ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ؟ قَالَ: لَعَلِّي قَدْ قَاتَلْتُ حَتَّى لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ، قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أُرَاهُ يَنْفَعُكُمْ، فَأَنْصِتُوا , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْزُوا بَنِي فُلَانٍ مَعَ فُلَانٍ" قَالَ: فَصُفَّتْ الرِّجَالُ وَكَانَتْ النِّسَاءُ مِنْ وَرَاءِ الرِّجَالِ، ثُمَّ لَمَّا رَجَعُوا، قَالَ رَجُلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي غَفَرَ اللَّهُ لَكَ , قَالَ:" هَلْ أَحْدَثْتَ؟" قَالَ: لَمَّا هُزِمَ الْقَوْمُ، وَجَدْتُ رَجُلًا بَيْنَ الْقَوْمِ وَالنِّسَاءِ , فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ أَوْ قَالَ: أَسْلَمْتُ فَقَتَلْتُهُ، قَالَ تَعَوُّذًا بِذَلِكَ حِينَ غَشِيَهُ الرُّمْحُ , قَالَ:" هَلْ شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ تَنْظُرُ إِلَيْهِ؟" فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ مَا فَعَلْتُ , فَلَمْ يَسْتَغْفِرْ لَهُ، أَوْ كَمَا قَالَ , وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْزُوا بَنِي فُلَانٍ مَعَ فُلَانٍ" فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْ لُحْمَتِي مَعَهُمْ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ اللَّهَ لِي غَفَرَ اللَّهُ لَكَ , قَالَ:" وَهَلْ أَحْدَثْتَ؟" قَالَ: لَمَّا هُزِمَ الْقَوْمُ أَدْرَكْتُ رَجُلَيْنِ بَيْنَ الْقَوْمِ وَالنِّسَاءِ، فَقَالَا: إِنَّا مُسْلِمَانِ أَوْ قَالَا: أَسْلَمْنَا فَقَتَلْتُهُمَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَمَّا أُقَاتِلُ النَّاسَ إِلَّا عَلَى الْإِسْلَامِ، وَاللَّهِ لَا أَسْتَغْفِرُ لَكَ" أَوْ كَمَا قَالَ، فَمَاتَ بَعْدُ فَدَفَنَتْهُ عَشِيرَتُهُ، فَأَصْبَحَ قَدْ نَبَذَتْهُ الْأَرْضُ، ثُمَّ دَفَنُوهُ وَحَرَسُوهُ ثَانِيَةً، فَنَبَذَتْهُ الْأَرْضُ، ثُمَّ قَالُوا: لَعَلَّ أَحَدًا جَاءَ وَأَنْتُمْ نِيَامٌ فَأَخْرَجَهُ، فَدَفَنُوهُ ثَالِثَةً , ثُمَّ حَرَسُوهُ، فَنَبَذَتْهُ الْأَرْضُ ثَالِثَةً، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ أَلْقَوْهُ , أَوْ كَمَا قَالَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس بنو جشم کے کچھ لوگوں کے ساتھ عبیس یا ابن عبیس آیا، ان میں سے ایک نے ان سے کہا کہ آپ اس وقت تک قتال میں کیوں شریک نہیں ہوتے جب تک فتنہ ختم نہ ہوجائے؟ انہوں نے فرمایا شاید میں اس وقت تک قتال کرچکا ہوں کہ فتنہ باقی نہ رہا، پھر فرمایا کیا میں تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث بیان نہ کروں؟ میرا خیال نہیں ہے کہ وہ تمہیں نفع دے سکے گی، لہذا تم لوگ خاموش رہو۔ پھر حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا فلاں آدمی کے ساتھ فلاں قبیلے کے لوگوں سے جہاد کرو، میدان جہاد میں مردوں نے صف بندی کرلی اور عورتیں ان کے پیچھے کھڑی ہوئیں، جہاد سے واپسی کے بعد ایک آدمی آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی! میرے لئے بخشش کی دعاء کیجئے، اللہ آپ کو معاف فرمائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تم سے کوئی گناہ ہوا ہے؟ اس نے کہا کہ جب دشمن کو شکست ہوئی تو میں نے مردوں اور عورتوں کے درمیان ایک آدمی کو دیکھا، وہ کہنے لگا کہ میں مسلمان ہوں، یہ بات اس نے میرے نیزے کو دیکھ کر اپنی جان بچانے کے لئے کہی تھی اس لئے میں نے اسے قتل کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لئے استغفار نہیں کیا۔ ایک حدیث میں دو مردوں کو قتل کرنے کا ذکر ہے اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اسلام کے علاوہ اور کس چیز پر لوگوں سے قتال کر رہا ہوں، بخدا! میں تمہارے لئے بخشش کی دعاء نہیں کرونگا، کچھ عرصہ بعد وہ شخص مرگیا، اس کے خاندان والوں نے اسے دفن کردیا لین صبح ہوئی تو زمین نے اسے باہر پھینک دیا تھا، انہوں نے اسے دوبارہ دفن کیا اور چوکیدار مقرر کردیا کہ شاید سوتے میں کوئی آ کر اسے قبر سے نکال گیا ہو، لیکن اس مرتبہ پھر زمین نے اس کی لاش کو باہر پھینک دیا، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، بالآخر انہوں نے اس کی لاش کو یوں ہی چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19937]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عمران
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عمران
حدیث نمبر: 19938 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: " أَعْتَقَ رَجُلٌ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ، فَأَقْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ مِنْهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ کے چھ غلام آزاد کردئیے، جن کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال بھی نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کرکے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، پھر جن دو کا نام نکل آیا انہیں آزاد کردیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19938]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران لكنه توبع
حدیث نمبر: 19939 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ الْخَزَّازُ ، كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ الْخَزَّازُ ، قال: حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: مَا قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا إِلَّا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ، وَنَهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ، قَالَ: قَالَ:" أَلَا وَإِنَّ مِنَ الْمُثْلَةِ أَنْ يَنْذُرَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرِمَ أَنْفَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیشہ اپنے خطاب میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے، یاد رکھو! مثلہ کرنے میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ انسان کسی کی ناک کاٹنے کی منت مانے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19939]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: ألا وإن من المثلة ... وهذا إسناد ضعيف ، الحسن لم يسمع من عمران ، و صالح و كثير فيهما كلام ، وقد تفرد يقول: ألا وإن من المثلة ...
الحكم: صحيح دون قوله: ألا وإن من المثلة ... وهذا إسناد ضعيف ، الحسن لم يسمع من عمران ، و صالح و كثير فيهما كلام ، وقد تفرد يقول: ألا وإن من المثلة ...
حدیث نمبر: 19940 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٌ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: " تَمَتَّعْنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهَا، وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهَا نَهْيٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حج تمتع کی آیت قرآن میں نازل ہوئی ہے، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں اس پر عمل کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وصال تک اس سے منع نہیں فرمایا: اور نہ ہی اس حوالے سے اس کی حرمت کا قرآن میں کوئی حکم نازل ہوا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19940]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1226، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1226، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران لكنه توبع
حدیث نمبر: 19941 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، يُونُسُ ، ابْنِ سِيرِينَ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ" , قَالَ: فَصَفَفْنَا فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ كَمَا تُصَلُّونَ عَلَى الْمَيِّتِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آج تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا ہے لہذا اس کی نماز جنازہ پڑھو، چناچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہم نے پیچھے صفیں بنالیں، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی جیسے عام طور پر کرتے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19941]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 953
الحكم: إسناده صحيح، م: 953
حدیث نمبر: 19942 مسند احمد
عَفَّانُ ، بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ" , قَالَ: فَقُمْنَا فَصَفَفْنَا عَلَيْهِ كَمَا نَصُفُّ عَلَى الْمَيِّتِ، وَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ كَمَا نُصَلِّي عَلَى الْمَيِّتِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آج تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا ہے لہذا اس کی نماز جنازہ پڑھو، چناچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہم نے پیچھے صفیں بنالیں، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی جیسے عام طور پر کرتے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19942]
حکم دارالسلام
حديث صحيح م: 953 ، بشر بن المفضل خولف ، والمحفوظ بدون واسطة أبى المهلب
الحكم: حديث صحيح م: 953 ، بشر بن المفضل خولف ، والمحفوظ بدون واسطة أبى المهلب
حدیث نمبر: 19943 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ ، الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ ، عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ , أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ: " مَا مَسِسْتُ فَرْجِي بِيَمِينِي مُنْذُ بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے میں نے اپنے دائیں ہاتھ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی ہے، کبھی اس سے اپنی شرمگاہ کو نہیں چھوا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19943]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19944 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، خَيْثَمَةَ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عن عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ: إِنَّهُ مَرَّ عَلَى قَاصٍّ قَرَأَ ثُمَّ سَأَلَ، فَاسْتَرْجَعَ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْيَسْأَلْ اللَّهَ بِهِ، فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ کسی آدمی کے پاس سے گزرے جو لوگوں کو قرآن پڑھ کر سنا رہا تھا، تلاوت سے فارغ ہو کر اس نے لوگوں سے مانگنا شروع کردیا، یہ دیکھ کر حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے " انا للہ وانا الیہ راجعون " کہا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص قرآن پڑھے، اسے چاہیے کہ قرآن کے ذریعے اللہ سے سوال کرے، کیونکہ عنقریب ایسے لوگ بھی آئیں گے جو قرآن کو پڑھ کر اس کے ذریعے لوگوں سے سوال کریں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19944]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف خيثمة ، والحسن البصري لم يسمع من عمران
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف خيثمة ، والحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19945 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْوَرَّاقُ ، أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْوَرَّاقُ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا غصے میں منت نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ وہی ہوتا ہے جو کفارہ قسم کا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19945]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً، محمد بن الزبير متروك، والحسن البصري لم يسمع من عمران
الحكم: إسناده ضعيف جداً، محمد بن الزبير متروك، والحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19946 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالَقَانِيُّ ، الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ ، حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا جَلَبَ , وَلَا جَنَبَ , وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ، وَمَنْ انْتَهَبَ، فَلَيْسَ مِنَّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زکوٰۃ میں اچھے جانور وصول کرنا، یا زکوٰۃ کی ادائیگی سے (حیلے بہانوں سے) بچنا اور جانوروں کو نیزوں سے زخمی کرنے کی کوئی اصلیت نہیں ہے اور جو شخص لوٹ مار کرتا ہے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19946]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19947 مسند احمد
هَاشِمٌ ، وَعَفَّانُ ، مَهْدِيٌّ ، عَفَّانُ ، غَيْلَانُ ، مُطَرِّفٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , وَعَفَّانُ , قَالَا: ثَنَا مَهْدِيٌّ ، قَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنَا غَيْلَانُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِمَّا أَنْ يَكُونَ قَالَ لِعِمْرَانَ، أَوْ لِرَجُلٍ وَهُوَ يَسْمَعُ: " صُمْتَ سُرَرَ هَذَا الشَّهْرِ؟" قَالَ: لَا , قَالَ:" فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی سے پوچھا کیا تم نے شعبان کے اس مہینے کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کے روزے ختم ہوجائیں تو ایک دو دن کے روزے رکھ لینا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19947]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1983، م: 1161
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1983، م: 1161
حدیث نمبر: 19948 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَوْفٍ ، أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، عِمْرَانَ ، هَوْذَةُ ، عَوْفٍ ، أَبِي رَجَاءٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخُو سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ : أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَرَدَّ عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ:" عَشْرٌ" ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ:" عِشْرُونَ" ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَرَدَّ عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ" ثَلَاثُونَ" , حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَن أَبِي رَجَاءٍ مُرْسَلًا، وَكَذَلِكَ قَالَ غَيْرُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے " السلام علیکم " کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا دس، دوسرا آیا اور اس نے " السلام علیکم ورحمۃ اللہ " کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا بھی جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا بیس، پھر تیسرا آیا اور اس نے " السلام علیکم وحمۃ اللہ وبرکاتہ " کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا بھی جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا تیس (نیکیاں) [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19948]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 19949 مسند احمد
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ عَنْ عَوْفٍ عَن أَبِي رَجَاءٍ مُرْسَلًا وَكَذَلِكَ قَالَ غَيْرُهُ
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا مرسل
الحكم: صحيح، وهذا مرسل
حدیث نمبر: 19950 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قال: أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ:" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ، وَنَهَى عَنِ الْمُثْلَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیشہ اپنے خطاب میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19950]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يسمع من عمران، وقول الحسن: حدثني عمران خطأ من مبارك بن فضالة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يسمع من عمران، وقول الحسن: حدثني عمران خطأ من مبارك بن فضالة
حدیث نمبر: 19951 مسند احمد
هَاشِمٌ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ:" أُتِيَ بِرَجُلٍ أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ عِنْدَ مَوْتِهِ، وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَأَقْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ کے چھ غلام آزاد کردئیے، جن کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال بھی نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کرکے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، پھر جن دو کا نام نکل آیا انہیں آزاد کردیا اور باقی چار کو غلام ہی رہنے دیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19951]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1668، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عمران، وتصريح الحسن بسماعه من عمران خطأ من مبارك بن فضالةأ
الحكم: حديث صحيح، م: 1668، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عمران، وتصريح الحسن بسماعه من عمران خطأ من مبارك بن فضالةأ
حدیث نمبر: 19952 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَحَسْنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، مُطَرِّفٍ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ , وَحَسْنُ بْنُ مُوسَى , قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ، وَإِذَا رَفَعَ كَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا أَخَذَ عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ بِيَدِي، فَقَالَ: لَقَدْ صَلَّى بِنَا هَذَا مِثْلَ صَلَاةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَوْ قَالَ: لَقَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مطرف بن شخیر کہتے ہیں کہ میں کوفہ میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ سجدے میں جاتے اور سر اٹھاتے وقت ہر مرتبہ اللہ اکبر کہتے رہے، جب نماز سے فراغت ہوئی تو حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا انہوں نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسی نماز پڑھائی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19952]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 826، م: 393
الحكم: إسناده صحيح، خ: 826، م: 393
حدیث نمبر: 19953 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةُ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , وَبَهْزٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , قَالَ بَهْزٌ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ" , قَالَ: وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا؟" ثُمَّ يَنْشَأُ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَنْذُرُونَ وَلَا يُوفُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَفْشُو فِيهِمْ السِّمَنُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت کا سب سے بہترین زمانہ تو وہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے، پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ ہے، پھر ایک ایسی قوم آئے گی جو منت مانے گی لیکن پوری نہیں کرے گی، خیانت کرے گی، امانت دار نہ ہوگی، گواہی دینے کے لئے تیار ہوگی گو کہ اس سے گواہی نہ مانگی جائے اور ان میں موٹاپا عام ہوجائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19953]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2651، م: 2535
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2651، م: 2535
حدیث نمبر: 19954 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ لَهُ: إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، وَهِيَ حَامِلٌ، فَأَمَرَ بِهَا أَنْ يُحْسَنَ إِلَيْهَا حَتَّى تَضَعَ، فَلَمَّا وَضَعَتْ جِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا، فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ رَجَمَهَا، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ عُمَرُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، تُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ؟! قَالَ: " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بدکاری کا اعتراف کرلیا اور کہنے لگی کہ میں امید سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلا کر اس سے فرمایا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور جب یہ بچے کو جنم دے چکے تو مجھے بتانا، اس نے ایسا ہی کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر اس عورت کے جسم پر اچھی طرح کپڑے باندھ دیئے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر اسے رجم کردیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، یہ دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ نے اسے رجم بھی کیا اور اس کی نماز جنازہ بھی پڑھا رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ستر اہل مدینہ پر تقسیم کردی جائے تو ان کے لئے بھی کافی ہوجائے اور تم نے اس سے افضل بھی کوئی چیز دیکھی ہے کہ اس نے اپنی جان کو اللہ کے لئے قربان کردیا؟ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19954]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1696
الحكم: إسناده صحيح، م: 1696