بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 196
صفحہ 6 از 10
حدیث نمبر: 19915 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامٌ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَال: إِنَّ ابن ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ؟ فَقَالَ: " لَكَ السُّدُسُ" فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ، فَقَالَ:" لَكَ سُدُسٌ آخَرُ" فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ، فَقَالَ:" إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میرا پوتا فوت ہوگیا ہے، اس کی وارثت میں سے مجھے کیا ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہیں چھٹا حصہ ملے گا، جب وہ واپس جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا تمہیں ایک چھٹا حصہ اور ملے گا، جب وہ دوبارہ واپس جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا یہ دوسرا چھٹا حصہ تمہارے لئے ایک زائد لقمہ ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19915]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عمران
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19916 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، مُطَرِّفٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَن أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقَلُّ سُكَّانِ الْجَنَّةِ النِّسَاءُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جنت میں سب سے کم رہائشی افراد خواتین ہوں گی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19916]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2738
الحكم: إسناده صحيح، م: 2738
حدیث نمبر: 19917 مسند احمد
يَزِيدُ ، شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مَنْصُورٍ ، خَيْثَمَةَ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَحَدُنَا آخِذٌ بِيَدِ صَاحِبِهِ، فَمَرَرْنَا بِسَائِلٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَاحْتَبَسَنِي عِمْرَانُ، وَقَالَ: قِفْ نَسْتَمِعْ الْقُرْآنَ , فَلَمَّا فَرَغَ سَأَلَ، فَقَالَ عِمْرَانُ: انْطَلِقْ بِنَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَسَلُوا اللَّهَ بِهِ، فَإِنَّ مِنْ بَعْدِكُمْ قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ کسی آدمی کے پاس سے گذرے جو لوگوں کو قرآن پڑھ کر سنا رہا تھا، تلاوت سے فارغ ہو کر اس نے لوگوں سے مانگنا شروع کردیا، یہ دیکھ کر حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا چلو اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص قرآن پڑھے، اسے چاہیے کہ قرآن کے ذریعے اللہ سے سوال کرے، کیونکہ عنقریب ایسے لوگ بھی آئیں گے جو قرآن کو پڑھ کر اس کے ذریعے لوگوں سے سوال کریں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19917]
حکم دارالسلام
حسن الغيره، وهذا إسناد ضعيف ، شريك و خيثمة ضعيفان، والحسن لم يسمع من عمران
الحكم: حسن الغيره، وهذا إسناد ضعيف ، شريك و خيثمة ضعيفان، والحسن لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19918 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صُبَيْحٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صُبَيْحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، قَالَ: ذَكَرُوا عِنْدَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: " الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ"، فَقَالُوا: كَيْفَ يُعَذَّبُ الْمَيِّتُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ؟ فَقَالَ عِمْرَانُ: قَدْ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں لوگ اس بات کا تذکرہ کر رہے تھے کہ میت کو اہل محلہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے، لوگوں نے ان سے پوچھا کہ میت کو اہل محلہ کے رونے کی وجہ سے کیسے عذاب ہوتا ہے؟ حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ بات تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19918]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19919 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، عِمْرَانَ بْنِ عِصَامٍ ، شَيْخًا ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عِصَامٍ ، أَنَّ شَيْخًا حَدَّثَهُ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ، فَقَالَ:" هِيَ الصَّلَاةُ: بَعْضُهَا شَفْعٌ، وَبَعْضُهَا وَتْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سورت الفجر کے لفظ " والشفع والوتر " کا معنی پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد نماز ہے کہ بعض نمازیں جفت ہیں اور بعض طاق۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19919]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عمران
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عمران
حدیث نمبر: 19920 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَتَادَةَ ، مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ ، قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ، حَتَّى يُقَاتِلَ آخِرُهُمْ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا اور اپنے مخالفین پر غالب رہے گا، یہاں تک کہ ان کا آخری حصہ دجال سے قتال کرے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19920]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19921 مسند احمد
بَهْزٌ ، أَبُو هِلَالٍ ، قَتَادَةُ ، أَبِي حَسَّانَ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا عَامَّةَ لَيْلِهِ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، لَا يَقُومُ إِلَّا إِلَى عُظْمِ صَلَاةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں رات کے وقت اکثر بنی اسرائیل کے واقعات سناتے رہتے تھے (اور بعض اوقات درمیان میں بھی نہیں اٹھتے تھے) صرف فرض نماز کے لئے اٹھتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19921]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، لكن من حديث عبدالله بن عمرو، أخطأ فيه أبو هلال ، فجعله من حديث عمران
الحكم: حديث صحيح، لكن من حديث عبدالله بن عمرو، أخطأ فيه أبو هلال ، فجعله من حديث عمران
حدیث نمبر: 19922 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رجم کی سزا جاری فرمائی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19922]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19923 مسند احمد
هُدْبَةُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رجم کی سزا جاری فرمائی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19923]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19924 مسند احمد
عَلِيٌّ ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، أَبِي حَسَّانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ:" كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَتَّى يُصْبِحَ لَا يَقُومُ فِيهَا إِلَّا إِلَى عُظْمِ صَلَاةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں رات کے واقعات سناتے رہتے تھے (اور بعض اوقات درمیان میں بھی نہیں اٹھتے تھے) صرف فرض نماز کے لئے اٹھتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19924]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19925 مسند احمد
عَلِيٌّ ، مُعَاذٌ ، أَبِي ، عَوْنٍ وَهُوَ الْعَقِيلِيُّ ، مُطَرِّفٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَوْنٍ وَهُوَ الْعَقِيلِيُّ , عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كَانَ عَامَّةُ دُعَاءِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا جَهِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکثر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعاء یہ ہوتی تھی اے اللہ! میرے ان گناہوں کو معاف فرما جو میں نے غلطی سے کئے، جان بوجھ کر کئے، چھپ کر کئے، علانیہ طور پر کئے، نادانی میں کئے یا جانتے بوجھتے ہوئے کئے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19925]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19926 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَن أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى مِنْ زِنًا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ , فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا، فَقَالَ:" أَحْسِنْ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا فَأْتِنِي بِهَا" فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: تُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ رَجَمْتَهَا؟ فَقَالَ: " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بدکاری کا اعتراف کرلیا اور کہنے لگی کہ میں امید سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلا کر اس سے فرمایا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور جب یہ بچے کو جنم دے چکے تو مجھے بتانا، اس نے ایسا ہی کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر اس عورت کے جسم پر اچھی طرح کپڑے باندھ دیئے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر اسے رجم کردیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، یہ دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یارسول اللہ! آپ نے اسے رجم بھی کیا اور اس کی نماز جنازہ بھی پڑھا رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ستر اہل مدینہ پر تقسیم کردی جائے تو ان کے لئے بھی کافی ہوجائے اور تم نے اس سے افضل بھی کوئی چیز دیکھی ہے کہ اس نے اپنی جان کو اللہ کے لئے قربان کردیا؟ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19926]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1696
الحكم: إسناده صحيح، م: 1696
حدیث نمبر: 19927 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، قَالَ: جَاءَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ إِلَى امْرَأَتِهِ مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ حينَ حَدِيثٍ , فَأَغْضَبَتْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " نَظَرْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ، وَنَظَرْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں سے اپنی بیوی کے پاس گئے، اس نے کہا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو حدیث سنی ہے وہ ہمیں بھی سنائیے؟ انہوں نے کہا وہ تمہارے حق میں اچھی نہیں ہے اس پر وہ ناراض ہوگئی، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں اکثریت خواتین کی نظر آئی اور جنت میں جھانک کر دیکھا تو اکثریت فقراء کی نظر آئی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19927]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3241
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3241
حدیث نمبر: 19928 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَعَفَّانُ ، جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، يَزِيدُ الرِّشْكُ ، مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَعَفَّانُ المعنى , وهذا حديث عبد الرزاق قَالَا: ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ الرِّشْكُ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَحْدَثَ شَيْئًا فِي سَفَرِهِ، فَتَعَاهَدَ , قَالَ عَفَّانُ: فَتَعَاقَدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَذْكُرُوا أَمْرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عِمْرَانُ: وَكُنَّا إِذَا قَدِمْنَا مِنْ سَفَرٍ بَدَأْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ، قَالَ: فَدَخَلُوا عَلَيْهِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ الثَّالِثُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّابِعِ , وَقَدْ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ، فَقَالَ:" دَعُوا عَلِيًّا، دَعُوا عَلِيًّا، دَعُوا عليًّا، إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لشکر کا ایک دستہ کسی طرف روانہ کیا اور ان کا امیر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مقرر کردیا، دوران سفر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کچھ نئی باتیں کیں، تو چار صحابہ رضی اللہ عنہ نے یہ عہد کرلیا کہ یہ چیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ضرور ذکر کریں گے، ہم لوگوں کا یہ معمول تھا کہ جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضری دیتے اور انہیں سلام کرتے تھے۔ چناچہ اس مرتبہ بھی وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، تھوڑی دیر بعد ان میں سے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! علی نے اس اس طرح کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا: پھر دوسرے، تیسرے اور چھو تھے نے باری باری کھڑے ہو کر یہی کہا یارسول اللہ! علی نے اس اس طرح کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چوتھے آدمی کی طرف متوجہ ہوئے، اس وقت تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رخ انور کا رنگ بدل چکا تھا اور تین مرتبہ فرمایا علی کو چھوڑ دو، علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد ہر مؤمن کا محبوب ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19928]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وهذا الحديث من منكرات جعفر بن سليمان
الحكم: إسناده ضعيف، وهذا الحديث من منكرات جعفر بن سليمان
حدیث نمبر: 19929 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص لوٹ مار کرتا ہے، ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19929]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19930 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، حُصَيْنٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سوائے نظر بد یا کسی زہریلے جانور کے ڈنک کے کسی مرض کا علاج منتر سے نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19930]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19931 مسند احمد
مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : " أَنَّ غُلَامًا لِأُنَاسٍ فُقَرَاءَ قَطَعَ أُذُنَ غُلَامٍ لِأُنَاسٍ أَغْنِيَاءَ، فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّا نَاسٌ فُقَرَاءُ، فَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِ شَيْئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فقراء کے ایک غلام نے مالداروں کے کسی غلام کا کان کاٹ دیا، اس غلام کے مالک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! ہم تو ویسے ہی فقیر لوگ ہیں، آپ اس پر کوئی چیز لازم نہ کریں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19931]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19932 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، يَحْيَى ابْنِ عَتِيقٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ :" أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ لَهُ، فَأَقْرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً , قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ: لَوْ لَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهُ، لَجَعَلْتُهُ رَأْيِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ غلام آزاد کردیئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کرکے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، پھر جن دو کا نام نکل آیا انہیں آزاد کردیا اور باقی چار کو غلام ہی رہنے دیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19932]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1668
الحكم: إسناده صحيح، م: 1668
حدیث نمبر: 19933 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٌ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّهُ قَالَ: " تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَنْهَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ عَنْهَا، وَلَمْ يَنْزِلْ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا نَهْيٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حج تمتع کی آیت قرآن میں نازل ہوئی ہے، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں اس پر عمل کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وصال تک اس سے منع نہیں فرمایا: اور نہ ہی اس حوالے سے اس کی حرمت کا قرآن میں کوئی حکم نازل ہوا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19933]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1226، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ، والحسن البصري لم يسمع من عمران، لكنهما توبعا
الحكم: حديث صحيح، م: 1226، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ، والحسن البصري لم يسمع من عمران، لكنهما توبعا
حدیث نمبر: 19934 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، الْفُضَيْلِ بْنِ فَضَالَةَ ، أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ فَضَالَةَ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَعَلَيْهِ مِطْرَفٌ مِنْ خَزٍّ لَمْ نَرَهُ عَلَيْهِ قَبْلَ ذَلِكَ وَلَا بَعْدَهُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ نِعْمَةً، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ يُرَى أَثَرُ نِعْمَتِهِ عَلَى خَلْقِهِ" ، وَقَالَ رَوْحٌ بِبَغْدَادَ: يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابورجاء عطاردی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے تو انہوں نے نقش ونگار والی ایک ریشمی چادر اپنے اوپر لی ہوئی تھی، جو ہم نے اس سے پہلے ان پر دیکھی تھی اور نہ اس کے بعد دیکھی، وہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس شخص پر اللہ تعالیٰ اپنا انعام فرماتا ہے تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی نعمت کا اثر اس کی مخلوق پر نظر بھی آئے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19934]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح