عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، قَالَ: جَاءَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ إِلَى امْرَأَتِهِ مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ حينَ حَدِيثٍ , فَأَغْضَبَتْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " نَظَرْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ، وَنَظَرْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں سے اپنی بیوی کے پاس گئے، اس نے کہا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو حدیث سنی ہے وہ ہمیں بھی سنائیے؟ انہوں نے کہا وہ تمہارے حق میں اچھی نہیں ہے اس پر وہ ناراض ہوگئی، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں اکثریت خواتین کی نظر آئی اور جنت میں جھانک کر دیکھا تو اکثریت فقراء کی نظر آئی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19927]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3241
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3241