بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، هَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ الْبُرْجُمِيِّ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، سَمُرَةَ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، هَيَّاجٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَعَفَّانُ المعنى , قَالَا: ثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ عَفَّانُ , إِنَّ الْحَسَنَ حَدَّثَهُمْ , عَنْ هَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ الْبُرْجُمِيِّ : أَنَّ غُلَامًا لِأَبِيهِ أَبَقَ، فَجَعَلَ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ إِنْ قَدَرَ عَلَيْهِ، أَنْ يَقْطَعَ يَدَهُ , قَالَ: فَقَدَرَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَبَعَثَنِي إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: فَقَالَ: أَقْرِئْ أَبَاكَ السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الصَّدَقَةِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ، وَيَتَجَاوَزْ عَنْ غُلَامِهِ" , قَالَ: وَبَعَثَنِي إِلَى سَمُرَةَ ، فَقَالَ: أَقْرِئْ أَبَاكَ السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الصَّدَقَةِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ غُلَامِهِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ هَيَّاجٍ فذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہیاج بن عمران کہتے ہیں کہ ان کے والد کا غلام فرار ہوگیا، انہوں نے اللہ کے نام پر یہ منت مان لی کہ اگر انہیں اس پر قدرت مل گئی تو وہ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے، بعد میں وہ غلام ان کے قابو میں آگیا چناچہ انہوں نے مجھے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیج دیا، انہوں نے فرمایا اپنے والد سے جا کر میرا سلام اور یوں کہو کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور اس کے جسم کا کوئی عضو نہ کاٹے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے خطاب میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے، پھر انہوں نے مجھے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19846]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، والمرفوع منه صحيح
الحكم: إسناده حسن، والمرفوع منه صحيح