مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فِي مَرَضِهِ، فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ لِي: إِنِّي كُنْتُ أُحَدِّثُكَ بِأَحَادِيثَ لَعَلَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَنْفَعُكَ بِهَا بَعْدِي، وَاعْلَمْ أَنَّهُ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ، فَإِنْ عِشْتُ فَاكْتُمْ عَلَيَّ، وَإِنْ مِتُّ فَحَدِّثْ إِنْ شِئْتَ , وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ رَجُلٌ فِيهَا بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے اپنے مرض الوفات میں مجھے بلا بھیجا، میں حاضر ہوا تو فرمایا میں تم سے بہت سی احادیث بیان کرتا رہا ہوں جن سے ہوسکتا ہے کہ میرے بعد اللہ تمہیں فائدہ پہنچائے اور یہ بات بھی اپنی معلومات میں شامل کرلو کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے سلام کرتے تھے، جب تک میں زندہ رہوں، اسے مخفی رکھنا اور جب مرجاؤں تو اگر تمہارا دل چاہے تو بیان کردینا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19841]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1226
الحكم: إسناده صحيح، م: 1226