کیا جب وہ تم پر آ پڑے اسی وقت تم اسے مانو گے؟ اب بچنا چاہتے ہو؟ حالانکہ تم خود ہی اس کے جلدی آنے کا تقاضا کر رہے تھے!
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا پھر جب وه آہی پڑے گا اس پر ایمان لاؤ گے۔ ہاں اب مانا! حاﻻنکہ تم اس کی جلدی مچایا کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا جب ہو پڑے گا اس وقت اس کا یقین کرو گے کیا اب مانتے ہو پہلے تو اس کی جلدی مچارہے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا جب وہ (عذاب) واقع ہو جائے گا تو تب اس پر تم ایمان لاؤگے؟ (اس پر یقین کروگے؟) (اس وقت تو کہا جائے گا) اب؟ (اس پر یقین کرکے اس سے بچنا چاہتے ہو؟) حالانکہ تم ہی اس کی جلدی کر رہے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا پھر جوںہی وہ (عذاب) آپڑے گا تو اس پر ایمان لاؤگے؟ کیا اب! حالانکہ یقینا تم اسی کو جلدی طلب کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بے معنی سوال کرنے والوں کو جواب ٭٭
ان کا بے فائدہ سوال دیکھو، وعدہ کا دن کب آئے گا؟ «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ» ۱؎ [42-الشورى:18] ’ یہ پوچھتے ہیں اور پھر وہ بھی نہ ماننے اور انکار کے بعد بطور یہ جلدی مچا رہے ہیں اور مومن خوف زدہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں ‘۔ وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ ’ میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس کا خاص وقت بتایا نہ میں تمہیں بتا سکوں ہاں ہر زمانے کی ایک معیاد معین ہے ‘۔ «وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّـهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا» ۱؎ [63-المنافقون:11] ’ جہاں اجل آئی پھر نہ ایک ساعت پیچھے نہ آگے اجل آنے کے بعد نہیں رکتی ‘۔ پھر فرمایا کہ ’ وہ تو اچانک آنے والی ہے ‘ ممکن ہے رات کو آ جائے دن کو آ جائے اس کے عذاب میں دیر کیا ہے؟ پھر اس شور مچانے سے اور وقت کا تعین پوچھنے سے کیا حاصل؟ کیا جب قیامت آ جائے عذاب دیکھ لو تب ایمان لاؤ گے؟ وہ محض بے سود ہے۔ «رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» ۱؎ [32-السجدہ:12] ’ اس وقت تو یہ سب کہیں گے کہ ہم نے دیکھ سن لیا۔ کہیں گے ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور دوسرے سے کفر کرتے ہیں ‘۔ «فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:84-85] ’ لیکن ہمارے عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان بے نفع ہے۔ اللہ کا طریقہ اپنے بندوں میں یہی رہا ہے وہاں تو کافروں کو نقصان ہی رہے گا۔ اس دن تو ان سے صاف کہہ دیا جائے گا اور بہت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہ اب تو دائمی عذاب چکھو، ہمیشہ کی مصیبت اٹھاؤ ‘۔ انہیں دھکے دیدے کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ یہ ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔ اب بتاؤ کہ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب اس میں چلے جاؤ اب تو صبر کرنا نہ کرنا برابر ہے اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پاؤ گے۔
51۔ 1 لیکن عذاب آنے کے بعد ماننے کا کیا فائدہ؟
(آیت 51){اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ …:} یعنی کیا جوں ہی وہ عذاب آگیا تو فوراً ایمان لے آؤ گے؟ ہاں، بے شک اس وقت ایمان لے آؤ گے مگر عذاب آنے پر ایمان کب قبول ہو گا۔ دیکھیے سورۂ مومن (۸۴، ۸۵)، یونس (91،90) اور نساء (۱۸) اس لیے تمھارا پہلے ایمان لانے کے بجائے پہلے عذاب کی جلدی مچانا بے کار ہے۔
پھر ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب ہمیشہ کے عذاب کا مزا چکھو، جو کچھ تم کماتے رہے ہو اس کی پاداش کے سوا اور کیا بدلہ تم کو دیا جا سکتا ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ﻇالموں سے کہا جائے گا کہ ہمیشہ کا عذاب چکھو۔ تم کو تو تمہارے کیے کا ہی بدلہ ملا ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر ظالموں سے کہا جائے گا ہمیشہ کا عذاب چکھو تمہیں کچھ اور بدلہ نہ ملے گا مگر وہی جو کماتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب دائمی عذاب کا مزہ چکھو۔ تم جو کچھ (کرتوت) کیا کرتے تھے اس (دائمی عذاب) کے سوا تمہیں اور کیا بدلہ دیا جا سکتا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
پھر ان لوگوں سے جنھوں نے ظلم کیا، کہا جائے گا چکھو ہمیشگی کا عذاب، تمھیں بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر اسی کا جو تم کمایا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بے معنی سوال کرنے والوں کو جواب ٭٭
ان کا بے فائدہ سوال دیکھو، وعدہ کا دن کب آئے گا؟ «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ» ۱؎ [42-الشورى:18] ’ یہ پوچھتے ہیں اور پھر وہ بھی نہ ماننے اور انکار کے بعد بطور یہ جلدی مچا رہے ہیں اور مومن خوف زدہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں ‘۔ وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ ’ میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس کا خاص وقت بتایا نہ میں تمہیں بتا سکوں ہاں ہر زمانے کی ایک معیاد معین ہے ‘۔ «وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّـهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا» ۱؎ [63-المنافقون:11] ’ جہاں اجل آئی پھر نہ ایک ساعت پیچھے نہ آگے اجل آنے کے بعد نہیں رکتی ‘۔ پھر فرمایا کہ ’ وہ تو اچانک آنے والی ہے ‘ ممکن ہے رات کو آ جائے دن کو آ جائے اس کے عذاب میں دیر کیا ہے؟ پھر اس شور مچانے سے اور وقت کا تعین پوچھنے سے کیا حاصل؟ کیا جب قیامت آ جائے عذاب دیکھ لو تب ایمان لاؤ گے؟ وہ محض بے سود ہے۔ «رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» ۱؎ [32-السجدہ:12] ’ اس وقت تو یہ سب کہیں گے کہ ہم نے دیکھ سن لیا۔ کہیں گے ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور دوسرے سے کفر کرتے ہیں ‘۔ «فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:84-85] ’ لیکن ہمارے عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان بے نفع ہے۔ اللہ کا طریقہ اپنے بندوں میں یہی رہا ہے وہاں تو کافروں کو نقصان ہی رہے گا۔ اس دن تو ان سے صاف کہہ دیا جائے گا اور بہت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہ اب تو دائمی عذاب چکھو، ہمیشہ کی مصیبت اٹھاؤ ‘۔ انہیں دھکے دیدے کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ یہ ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔ اب بتاؤ کہ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب اس میں چلے جاؤ اب تو صبر کرنا نہ کرنا برابر ہے اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پاؤ گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 52) {ثُمَّ قِيْلَ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا …:} یہ بات عذاب آنے پر انھیں مزید ڈانٹنے اور ذلیل کرنے کے لیے کہی جائے گی۔
پھر پُوچھتے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے جو تم کہہ رہے ہو؟ کہو “میرے رب کی قسم، یہ بالکل سچ ہے اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے ظہُور میں آنے سے روک دو"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا عذاب واقعی سچ ہے؟ آپ فرما دیجئے کہ ہاں قسم ہے میرے رب کی وه واقعی سچ ہے اور تم کسی طرح اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے
احمد رضا خان بریلوی
اور تم سے پوچھتے ہیں کیا وہ حق ہے، تم فرماؤ، ہاں! میرے رب کی قسم بیشک وہ ضرور حق ہے، اور تم کچھ تھکا نہ سکو گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سچ ہے؟ (جو آپ کہتے ہیں؟) کہیے ہاں خدا کی قسم یہ بالکل سچ ہے اور تم (خدا کو) عاجز و بے بس نہیں بنا سکتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا یہ سچ ہی ہے؟ تو کہہ ہاں! مجھے اپنے رب کی قسم! یقینا یہ ضرور سچ ہے اور تم ہر گز عاجز کرنے والے نہیں ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مٹی ہو نے کے بعد جینا کیسا ہے؟ ٭٭
’ پوچھتے ہیں کہ کیا مٹی ہو جانے اور سڑ گل جانے کے بعد جی اُٹھنا اور قیامت کا قائم ہونا حق ہی ہے؟ تو ان کا شبہ مٹا دے اور قسم کھا کر کہہ دے کہ یہ سراسر حق ہی ہے۔ جس اللہ نے تمہیں اس وقت پیدا کیا جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ وہ تمہیں دوبارہ جب کہ تم مٹی ہو جاؤ گے پیدا کرنے پر یقیناً قادر ہے وہ تو جو چاہتا ہے فرما دیتا ہے کہ «إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» ۱؎ [36-يس:82] ’ یوں ہو جا اسی وقت ہو جاتا ہے ‘ ‘۔ اسی مضمون کی اور دو آیتیں قرآن کریم میں ہیں۔ سورۃ سبا میں ہے «قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُم» ۱؎ [34-سبأ:3] ، سورۃ التغابن میں ہے «قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُم» ۱؎ [64-التغابن:7] ان دونوں میں بھی قیامت کے ہونے پر قسم کھا کر یقین دلایا گیا ہے۔ اس دن تو کفار زمین بھر کر سونا اپنے بدلے میں دے کر بھی چھٹکارا پانا پسند کریں گے۔ دلوں میں ندامت ہوگی، عذاب سامنے ہوں گے، حق کے ساتھ فیصلے ہو رہے ہوں گے، کسی پر ظلم ہرگز نہ ہوگا۔ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [52-الطور:13-16] ’ جس دن وه دھکے دیدے کر آتش جہنم کی طرف لائیں جائیں گے، یہی وه آتش دوزخ ہے جسے تم جھوٹ بتلاتے تھے، (اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں ہو، جاؤ دوزخ میں اب تمہارا صبر کرنا اور نہ کرنا تمہارے لیے یکساں ہے تمہیں فقط تمہارے کیے کا بدلہ دیا جائے گا ‘۔
53۔ 1 یعنی وہ پوچھتے ہیں کہ یہ قیامت اور انسانوں کے مٹی ہوجانے کے بعد ان کا دوبارہ جی اٹھا ایک برحق ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے پیغمبر! ان سے کہہ دیجئے کہ تمہارا مٹی ہو کر مٹی میں مل جانا، اللہ تعالیٰ کو دوبارہ زندہ کرنے سے عاجز نہیں کرسکتا۔ اس لئے یقینا یہ ہو کر رہے گا۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس آیت کی نظیر قرآن میں مذید صرف دو آیتیں ہیں کہ جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا ہے کہ وہ قسم کھا کر قیامت کے وقوع کا اعلان کریں۔ ایک سورة سبا، آیت 13 اور دوسرا سورة تغابن آیت۔ 7۔
(آیت 53) ➊ {وَ يَسْتَنْۢبِـُٔوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ …: ” نَبَأٌ “} بہت بڑی اہمیت والی خبر کو کہتے ہیں۔ (راغب) {” يَسْتَنْبِـُٔوْنَ“ ” نَبَأٌ“} کے باب استفعال سے طلب کے لیے ہے۔ جب کفار کو ان کے سوال {” مَتٰي هٰذَا الْوَعْدُ “} کا مذکورہ جواب دیا گیا تو انھوں نے اسی سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ سوال کیا {” اَحَقٌّ هُوَ “} کیا یہ سچ ہی ہے، یا محض ہمیں ڈرایا جا رہا ہے؟ چونکہ کفار اپنے قیامت کے انکار اور قرآن کے اس کے قیام پر واضح دلائل کی وجہ سے سخت قلق اور پریشانی کا شکار تھے کہ اسے مانیں یا نہ مانیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یقین دلانے کے لیے تاکید کے کئی الفاظ جمع کرکے فرمایا {” قُلْ “} آپ ان سے کہہ دیجیے:{اِيْ وَ رَبِّيْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ” اِيْ“} کا معنی {” نَعَمْ “ } یعنی ہاں ہے، مگر یہ ہمیشہ قسم کے ساتھ آتا ہے، پھر{”إِنَّ“ } تاکید کا ہے، پھر لامِ تاکید ہے کہ ہاں، مجھے اپنے رب کی قسم ہے! یقینا یہ ضرور حق ہے۔ حافظ ابن کثیررحمہ اللہ نے فرمایا، قرآن مجید میں اس جیسی صرف دو اور آیتیں ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ نے آخرت کے منکروں کو قسم کھا کر کہنے کا حکم دیا، پہلی آیت: «{ وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِيْنَا السَّاعَةُ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُم}» [ سبا: ۳ ] دوسری آیت: «{ زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْاقُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ }» [التغابن: ۷ ] ➋ {وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ:} ”باء“ کی وجہ سے نفی کی تاکید کے لیے ترجمہ ”ہر گز“ کیا گیا ہے، یعنی نہ تم ہمارے عذاب سے بھاگ کر کہیں جا سکتے ہو کہ ہمیں پکڑنے سے عاجز کر دو اور نہ کسی طرح اسے روک سکتے ہو۔
اگر ہر اُس شخص کے پاس جس نے ظلم کیا ہے، رُوئے زمین کی دولت بھی ہو تو اُس عذاب سے بچنے کے لیے وہ اسے فدیہ میں دینے پر آمادہ ہو جائے گا جب یہ لوگ اس عذاب کو دیکھ لیں گے تو دل ہی دل میں پچھتائیں گے مگر ان کے درمیان پُورے انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا کوئی ظلم ان پر نہ ہو گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر ہر جان، جس نے ﻇلم (شرک) کیا ہے، کے پاس اتنا ہو کہ ساری زمین بھر جائے تب بھی اس کو دے کر اپنی جان بچانے لگے اور جب عذاب کو دیکھیں گے تو پشیمانی کو پوشیده رکھیں گے۔ اور ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہوگا۔ اور ان پر ﻇلم نہ ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ہر ظالم جان، زمین میں جو کچھ ہے سب کی مالک ہوتی، ضرور اپنی جان چھڑانے میں دیتی اور دل میں چپکے چپکے پشیمان ہوئے جب عذاب دیکھا اور ان میں انصاف سے فیصلہ کردیا گیا اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
علامہ محمد حسین نجفی
جو کچھ روئے زمین پر موجود ہے اگر وہ ہر ظالم شخص کے قبضہ میں آجائے تو (وہ عذاب اس قدر سخت ہے) کہ وہ یہ سب کچھ بطور فدیہ دے دے۔ جب یہ لوگ عذابِ الٰہی کو دیکھیں گے تو ندامت و پشیمانی کو دل میں چھپائیں گے (اور اندر ہی اندر پچھتائیں گے) لیکن پورے انصاف کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر ہر شخص کے لیے جس نے ظلم کیا ہے، وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے تو وہ اسے ضرور فدیے میں دے دے اور وہ پشیمانی کو چھپائیں گے، جب عذاب کو دیکھیں گے اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مٹی ہو نے کے بعد جینا کیسا ہے؟ ٭٭
’ پوچھتے ہیں کہ کیا مٹی ہو جانے اور سڑ گل جانے کے بعد جی اُٹھنا اور قیامت کا قائم ہونا حق ہی ہے؟ تو ان کا شبہ مٹا دے اور قسم کھا کر کہہ دے کہ یہ سراسر حق ہی ہے۔ جس اللہ نے تمہیں اس وقت پیدا کیا جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ وہ تمہیں دوبارہ جب کہ تم مٹی ہو جاؤ گے پیدا کرنے پر یقیناً قادر ہے وہ تو جو چاہتا ہے فرما دیتا ہے کہ «إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» ۱؎ [36-يس:82] ’ یوں ہو جا اسی وقت ہو جاتا ہے ‘ ‘۔ اسی مضمون کی اور دو آیتیں قرآن کریم میں ہیں۔ سورۃ سبا میں ہے «قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُم» ۱؎ [34-سبأ:3] ، سورۃ التغابن میں ہے «قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُم» ۱؎ [64-التغابن:7] ان دونوں میں بھی قیامت کے ہونے پر قسم کھا کر یقین دلایا گیا ہے۔ اس دن تو کفار زمین بھر کر سونا اپنے بدلے میں دے کر بھی چھٹکارا پانا پسند کریں گے۔ دلوں میں ندامت ہوگی، عذاب سامنے ہوں گے، حق کے ساتھ فیصلے ہو رہے ہوں گے، کسی پر ظلم ہرگز نہ ہوگا۔ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [52-الطور:13-16] ’ جس دن وه دھکے دیدے کر آتش جہنم کی طرف لائیں جائیں گے، یہی وه آتش دوزخ ہے جسے تم جھوٹ بتلاتے تھے، (اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں ہو، جاؤ دوزخ میں اب تمہارا صبر کرنا اور نہ کرنا تمہارے لیے یکساں ہے تمہیں فقط تمہارے کیے کا بدلہ دیا جائے گا ‘۔
54۔ 1 یعنی اگر دنیا بھر کا خزانہ دے کر وہ عذاب سے چھوٹ جائے تو دینے کے لئے آمادہ ہوگا۔ لیکن وہاں کسی کے پاس ہوگا ہی کیا؟ مطلب یہ ہے کہ عذاب سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔
(آیت 54) ➊ {وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ:} یعنی جس عذاب کا وہ ساری عمر مذاق اڑاتے رہے جب وہ ان کی توقع کے بالکل خلاف یکایک سامنے آ جائے گا تو ان کی عجیب کیفیت ہو گی، ایک طرف وہ سخت شرمندہ ہوں گے اور ان کے ضمیر انھیں کوس رہے ہوں گے، لیکن دوسری طرف وہ اپنی شرمندگی کو اپنے ساتھیوں اورماننے والوں سے چھپانا بھی چاہیں گے کہ کہیں وہ ملامت نہ کریں، اس لیے دل ہی دل میں شرمندہ ہوں گے اور بظاہر مطمئن بننے کی کوشش کریں گے۔ قاموس میں لکھا ہے کہ{ ” اَسَرَّهُ “ } اضداد میں سے ہے، اس کا معنی چھپانا بھی ہے اور ظاہر کرنا بھی۔ دوسرا معنی یہ بنے گا کہ وہ عذاب دیکھیں گے تو ندامت کا اظہار کریں گے۔ ➋ {وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ:} یعنی یہ عذاب ان کے اعمال ہی کا نتیجہ ہو گا، اس لیے وہ عین انصاف ہو گا اور ان پر کسی طرح ظلم نہیں ہو گا۔
سنو! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے سُن رکھو! اللہ کا وعدہ سچّا ہے مگر اکثر انسان جانتے نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یاد رکھو کہ جتنی چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں سب اللہ ہی کی ملک ہیں۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا وعده سچا ہے لیکن بہت سے آدمی علم ہی نہیں رکھتے
احمد رضا خان بریلوی
سن لو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں سن لو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر ان میں اکثر کو خبر نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
یاد رکھو! جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے اور یہ بھی یاد رکھو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ (یہ حقیقت نہیں جانتے)۔
عبدالسلام بن محمد
سن لو! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ سن لو! بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خالق کل عالم کل ہے ٭٭
مالک آسمان و زمین مختار کل کائنات اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ کے وعدے سچے ہیں وہ پورے ہو کر ہی رہیں گے۔ یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔ جلانے مارنے والا وہی ہے، سب باتوں پر وہ قادر ہے۔ جسم سے علیحدہ ہونے والی چیز کو، اس کے بکھر کر بگڑ کر ٹکڑے ہونے کو وہ جانتا ہے اس کے حصے کن جنگلوں میں کن دریاؤں میں کہاں ہیں وہ خوب جانتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 55){ اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …: ” اَلَا “} حرف تنبیہ ہے، یعنی آگاہ ہو جاؤ! خبردار ہو جاؤ! سن لو! پچھلی آیت میں ذکر تھا کہ ہر شخص جس نے ظلم کیا ہے، اگر آسمان و زمین میں موجود سب کچھ اس کی ملکیت ہو تو اس دن جان چھڑانے کے لیے ضرور ہی بطور فدیہ دے دے گا۔ {” لَوْ “} (اگر) ناممکن چیز کے لیے ہوتا ہے، اس لیے یہاں فرمایا کہ کان کھول کر سن لو کہ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، وہ ظالم فدیہ لائے گا کہاں سے۔ دوبارہ {” اَلَا “} (سن لو) کہہ کر فرمایا کہ یقینا قیامت قائم ہونے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ بالکل برحق ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ {” اَكْثَرَهُمْ “ } کے ساتھ اہل ایمان کو منکرین قیامت سے مستثنیٰ فرمایا، اس اشارے کے ساتھ کہ وہ تعداد میں دوسروں سے کم ہیں۔ زمین و آسمان کی ملکیت میں کسی دوسرے کا حصہ کتنا ہے، دیکھیے سورۂ سبا (۲۲) اور فاطر (۱۳)۔
وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور اسی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی جان ڈالتا ہے وہی جان نکالتا ہے اور تم سب اسی کے پاس ﻻئے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جِلاتا اور مارتا ہے اور اسی کی طرف پھرو گے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خالق کل عالم کل ہے ٭٭
مالک آسمان و زمین مختار کل کائنات اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ کے وعدے سچے ہیں وہ پورے ہو کر ہی رہیں گے۔ یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔ جلانے مارنے والا وہی ہے، سب باتوں پر وہ قادر ہے۔ جسم سے علیحدہ ہونے والی چیز کو، اس کے بکھر کر بگڑ کر ٹکڑے ہونے کو وہ جانتا ہے اس کے حصے کن جنگلوں میں کن دریاؤں میں کہاں ہیں وہ خوب جانتا ہے۔
56۔ 3 ان آیات میں آسمان اور زمین کے درمیان ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت نامہ، وعدہ الٰہی کے برحق، زندگی اور موت پر اس کا اختیار ہے، جو ذات اتنے اختیار کی مالک ہے، اس کی گرفت سے بچ کر کوئی کہاں جاسکتا ہے۔ اور اس نے حساب کتاب کے لئے ایک دن مقرر کیا ہوا ہے۔ اسے کون ٹال سکتا ہے؟ یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے، وہ ایک دن ضرور آئے گا اور ہر نیک و بد کو اس کے عملوں کے مطابق جزا اور سزا دی جائے گی۔
(آیت 56){هُوَ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ …:} یعنی زمین و آسمان کی ملکیت ہی نہیں، زندگی بخشنا اور موت دینا بھی اسی کے اختیار میں ہے اور تمھیں دوبارہ زندہ ہو کر اسی کے پاس جانا ہے۔
لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لیے شفا ہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے
احمد رضا خان بریلوی
اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے (قرآن کی شکل میں) پند و موعظہ، دلوں کی بیماریوں کی شفا اور اہلِ ایمان کے لئے ہدایت و رحمت کا مجموعہ آگیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو! بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے عظیم نصیحت اور اس کے لیے سراسر شفا جو سینوں میں ہے اور ایمان والوں کے لیے سرا سر ہدایت اور رحمت آئی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کریم کے منصب عظیم کا تذکرہ ٭٭
اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن عظیم نازل فرمانے کے احسان کو اللہ رب العزت بیان فرما رہے ہیں کہ ’ اللہ کا وعظ تمہارے پاس آچکا جو تمہیں بدیوں سے روک رہا ہے، جو دلوں کے شک شکوک دور کرنے والا ہے، جس سے ہدایت حاصل ہوتی ہے، جس سے اللہ کی رحمت ملتی ہے۔ جو اس سچائی کی تصدیق کریں اسے مانیں، اس پر یقین رکھیں، اس پر ایمان لائیں وہ اس سے نفع حاصل کرتے ہیں ‘۔ «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا» ۱؎ [17-الاسراء:82] ’ یہ ہمارا نازل کردہ قرآن مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے، ظالم تو اپنے نقصان میں ہی بڑھتے رہتے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:44] ’ کہہ دے کہ یہ تو ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے۔ اللہ کے فضل و رحمت یعنی اس قرآن کے ساتھ خوش ہونا چاہیئے۔ دنیائے فانی کے دھن دولت پر ریجھ جانے اور اس پر شادماں و فرحاں ہو جانے سے تو اس دولت کو حاصل کرنے اور اس ابدی خوشی اور دائمی مسرت کو پالینے سے بہت خوش ہونا چاہیئے ‘۔ ابن ابی حاتم اور طبرانی میں ہے کہ جب عراق فتح ہو گیا اور وہاں سے خراج دربار فاروق رضی اللہ عنہ میں پہنچا تو آپ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے اونٹوں کی گنتی کرنا چاہی لیکن وہ بے شمار تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرکے اسی آیت کی تلاوت کی۔ تو آپ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ عمرو نے کہا، یہ بھی تو اللہ کا فضل و رحمت ہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم نے غلط کہا یہ تمہارے ہمارے حاصل کردہ ہیں جس فضل و رحمت کا بیان اس آیت میں ہے وہ یہ نہیں۔“
57۔ 1 یعنی جو قرآن کو دل کی توجہ سے پڑھے اور اس کے معنی و مطالب پر غور کرے، اس کے لئے قرآن نصیحت ہے قرآن کریم ترغیب و ترہیب دونوں طریقوں سے واعظ و نصیحت کرتا ہے اور ان کے نتائج سے آگاہ کرتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی صورت میں دو چار ہونا پڑے گا اور ان کاموں سے روکتا ہے جن سے انسان کی اخروی زندگی برباد ہوسکتی ہے۔ 57۔ 2 یعنی دلوں میں توحید و رسالت اور عقائد حقہ کے بارے میں جو شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں ان کا ازالہ اور کفر و نفاق کی جو گندگی و پلیدی ہوتی ہے اسے صاف کرتا ہے۔ 75۔ 3 یہ قرآن مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت کا ذریعہ ہے ویسے تو یہ قرآن سارے جہان والوں کے لئے ہدایت و رحمت کا ذریعہ ہے لیکن چونکہ اس سے فیض یاب صرف اہل ایمان ہی ہوتے ہیں، اس لئے یہاں صرف انہی کے لئے اسے ہدایت و رحمت قرار دیا گیا ہے۔ اس مضمون کو قرآن کریم میں سورة بنی اسرائیل آیت 82 اور سورة الم سجدہ آیت 44 میں بھی بیان کیا گیا ہے (نیز ھدی للمتقین کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیں)
(آیت 57) {يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ …:} یہاں سے تمام لوگوں کو مخاطب کرکے قرآن مجید کی برکات اور خوبیاں بیان فرمائی ہیں۔ چنانچہ بنیادی خصوصیت اس کی یہ ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے تمھارے پاس آئی ہے، اب دنیا کی کسی اور کتاب کو یہ درجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ پھر اس کی چار صفات بیان فرمائیں، پہلی یہ کہ یہ {” مَوْعِظَةٌ “ } ہے، تنوینِ تعظیم کی وجہ سے ”عظیم نصیحت“ ترجمہ کیا ہے۔ خلیل نے فرمایا کہ اس کا معنی نیکی کی نصیحت ہے جس سے دل نرم ہو جائے۔ (مفردات) راغب نے خود اس کا معنی کیا ہے کہ کسی کام سے منع کرنا، جس کے ساتھ ڈرانا بھی شامل ہو، گویا یہ کتا ب موعظت نرمی و سختی ہر طرح سے سمجھا کر انسان کی اصلاح کرتی ہے۔ دوسری صفت ہے {” وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ “} یعنی یہ کتاب دلوں میں جو کفر و نفاق، حسد و ریا اور برے اخلاق کی بیماریاں پائی جاتی ہیں ان کے لیے سراسر تندرستی کا باعث ہے۔ بعض لوگوں نے ان آیات سے یہ بات اخذ کی ہے کہ قرآن مجید جسمانی بیماریوں کا بھی علاج ہے، جیسا کہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کرنے سے سانپ کا ڈسا ہوا تندرست ہو گیا اور انھوں نے اس پر تیس بکریاں لیں۔ [ بخاری، الإجارۃ، باب ما یعطي في الرقیۃ علی أحیاء العرب …: ۲۲۷۶ ] اور خارجہ بن صلت رضی اللہ عنہ کے چچا نے بیڑیوں میں جکڑے ہوئے پاگل آدمی کو سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ تندرست ہو گیا اور ان لوگوں نے انھیں ایک سو بکریاں دیں۔ [ أبوداوٗد، الطب، باب کیف الرقی: ۳۸۹۶ و صححہ الألبانی ] اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ سورۂ فاتحہ اور دوسری آیات پڑھ کر دم کرنے سے اللہ تعالیٰ چاہے تو شفا ہوتی ہے اور صرف مسلمانوں کو نہیں بلکہ کافروں پر دم کریں تو انھیں بھی ہوتی ہے، مگر ان آیات کا یہ مطلب نہیں بلکہ ان سے مراد روحانی بیماریاں کفر و شرک، نفاق اور حسد و بغض وغیرہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَ لَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا }» [ بنی إسرائیل: ۸۲ ] ”اور ہم قرآن میں سے تھوڑا تھوڑا نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے سراسر شفا اور رحمت ہے اور وہ ظالموں کو خسارے کے سوا کسی چیز میں زیادہ نہیں کرتا۔“ اور فرمایا: ”اور رہے وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے تو اس (سورت) نے ان کو ان کی گندگی کے ساتھ اور گندگی میں زیادہ کر دیا اور وہ اس حال میں مرے کہ وہ کافر تھے۔“ [ التوبۃ: ۱۲۵ ] اور فرمایا: ”کہہ دے یہ (قرآن) ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہدایت اور شفا ہے اور وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور یہ ان کے حق میں اندھا ہونے کا باعث ہے۔“ [ حٰمٓ السجدۃ: ۴۴ ] یعنی کفار کو اس سے سینے کی بیماریوں سے شفا نہیں ہوتی۔ تیسری صفت {” هُدًى “ } نرمی اور مہربانی کے ساتھ راستہ بتانا۔ (مفردات) چوتھی صفت {” رَحْمَةٌ “} ہے، اس کا معنی ہر شخص سمجھتا ہے۔ یہاں چاروں صفات {” مَوْعِظَةٌ، شِفَآءٌ، هُدًى، رَحْمَةٌ “} مبالغہ کے لیے مصدر کے لفظ کے ساتھ آئی ہیں، مراد ان سے اسم فاعل کا مفہوم ہے، جیسے کہتے ہیں {”زَيْدٌ عَدْلٌ“} زید انصاف ہے۔ مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ اتنا عادل ہے کہ گویا سراسر عدل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص تو سراپا حسن ہے، مراد بہت حسن والا ہوتا ہے، یعنی یہ کتاب اس قدر نصیحت، شفا، ہدایت اور رحمت والی ہے، گویا یہ اہل ایمان کے لیے سراسر نصیحت، شفا، ہدایت اور رحمت ہے۔
اے نبیؐ، کہو کہ “یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے کہ بس لوگوں کو اللہ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہئے۔ وه اس سے بدرجہا بہتر ہے جس کو وه جمع کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) کہیے کہ (یہ سب کچھ) خدا کے خاص فضل اور اس کی خصوصی رحمت کا نتیجہ ہے اس لئے چاہیے کہ لوگ خوشی منائیں یہ چیز اس دولتِ دنیا سے بہتر ہے جسے وہ جمع کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے (یہ) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت ہی سے ہے، سو اسی کے ساتھ پھر لازم ہے کہ وہ خوش ہوں۔ یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کریم کے منصب عظیم کا تذکرہ ٭٭
اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن عظیم نازل فرمانے کے احسان کو اللہ رب العزت بیان فرما رہے ہیں کہ ’ اللہ کا وعظ تمہارے پاس آچکا جو تمہیں بدیوں سے روک رہا ہے، جو دلوں کے شک شکوک دور کرنے والا ہے، جس سے ہدایت حاصل ہوتی ہے، جس سے اللہ کی رحمت ملتی ہے۔ جو اس سچائی کی تصدیق کریں اسے مانیں، اس پر یقین رکھیں، اس پر ایمان لائیں وہ اس سے نفع حاصل کرتے ہیں ‘۔ «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا» ۱؎ [17-الاسراء:82] ’ یہ ہمارا نازل کردہ قرآن مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے، ظالم تو اپنے نقصان میں ہی بڑھتے رہتے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:44] ’ کہہ دے کہ یہ تو ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے۔ اللہ کے فضل و رحمت یعنی اس قرآن کے ساتھ خوش ہونا چاہیئے۔ دنیائے فانی کے دھن دولت پر ریجھ جانے اور اس پر شادماں و فرحاں ہو جانے سے تو اس دولت کو حاصل کرنے اور اس ابدی خوشی اور دائمی مسرت کو پالینے سے بہت خوش ہونا چاہیئے ‘۔ ابن ابی حاتم اور طبرانی میں ہے کہ جب عراق فتح ہو گیا اور وہاں سے خراج دربار فاروق رضی اللہ عنہ میں پہنچا تو آپ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے اونٹوں کی گنتی کرنا چاہی لیکن وہ بے شمار تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرکے اسی آیت کی تلاوت کی۔ تو آپ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ عمرو نے کہا، یہ بھی تو اللہ کا فضل و رحمت ہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم نے غلط کہا یہ تمہارے ہمارے حاصل کردہ ہیں جس فضل و رحمت کا بیان اس آیت میں ہے وہ یہ نہیں۔“
58۔ 1 خوشی، اس کیفیت کا نام ہے جو کسی مطلوب چیز کے حصول پر انسان اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔ اہل ایمان کو کہا جا رہا ہے کہ یہ قرآن اللہ کا خاص فضل اور اس کی رحمت ہے، اس پر اہل ایمان کو خوش ہونا چاہیے یعنی ان کے دلوں میں فرحت اور اطمینان کی کفییت ہونی چاہیے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خوشی کے اظہار کے لیے جلسے جلوسوں کا چراغاں کا اور اس قسم کے غلط کام اور اسراف بےجا کا اہتمام کرو۔ جیسا کہ آج کل اہل بدعت اس آیت سے " جشن عید میلاد " اور اس کی غلط رسوم کا جواز ثابت کرتے ہیں۔
(آیت 58) ➊ {قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ: } اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے مراد قرآن مجید، دین حق، خاتم النبیین پیغمبر، جنت اور تمام اخروی نعمتیں ہیں۔ حرف باء{ ” بِفَضْلِ اللّٰهِ “} اور {” بِرَحْمَتِهٖ “ } دونوں پر آیا ہے، مطلب یہ کہ آخرت کی ہر ہر نعمت مستقل طور پر اپنی اپنی جگہ اس لائق ہے کہ اہل ایمان اس پر خوش ہوں۔ ➋ { فَبِذٰلِكَ:} اس فاء سے محذوف شرط کی طرف اشارہ ہے کہ اگر کوئی چیز حقیقی خوشی کے قابل ہے اور اگر تمھیں خوش ہونا ہے تو پھر یہ چیز ہے جس پر خوش ہونا چاہیے۔ {” فَبِذٰلِكَ “} پہلے لانے سے حصر بھی پیدا ہو گیا کہ صرف یہی اصل خوشی کی چیز ہے، باقی تمام چیزیں فانی ہیں اور سراسر دھوکا۔ ➌ { فَلْيَفْرَحُوْا:} مفردات القرآن میں ہے کہ {”فَرَحٌ“} کا معنی ہے کسی جلدی مل جانے والی لذت سے سینے کا کھل جانا، خوش ہو جانا۔ یہ لفظ اکثر بدنی لذتوں سے حاصل ہونے والی خوشی پر بولا جاتا ہے، اس لیے فرمایا: «{ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ }» [ الحدید: ۲۳ ] ”اور نہ اس پر پھول جاؤ جو اس نے تمھیں دیا ہے۔“ اور فرمایا: «{وَ فَرِحُوْا بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا }» [الرعد: ۲۶ ] ”اور وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہو گئے۔“ اور فرمایا: «{ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً }» [الأنعام: ۴۴ ] ”یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں کے ساتھ خوش ہو گئے جو انھیں دی گئی تھیں ہم نے انھیں اچانک پکڑ لیا۔“ اور فرمایا: «{ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِيْنَ }» [القصص: ۷۶ ] ”جب اس (قارون) کو اس کی قوم نے کہا، مت پھول، بے شک اللہ پھولنے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔“ {”فَرَحٌ“} کی اجازت صرف اللہ کے اس فرمان میں دی گئی ہے: «{ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا }» یعنی زیر تفسیر آیت میں۔ [مفردات القرآن للراغب ] معلوم ہوا فرح دل کی خوشی کا نام ہے، اب بعض لوگوں نے اس آیت سے میلاد کے جلوس کے لیے دلیل نکالی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا فضل ہیں، لہٰذا ان کے یوم ولادت پر خوشی منانی چاہیے، اس لیے یہ یوم عید ہے اور تیسری بلکہ سب سے بڑی عید ہے۔ ہمارے یہ بھائی اگر ایک دو باتیں مدنظر رکھیں تو کبھی آیت کے مفہوم میں اتنی تحریف کرکے بدعت کے لیے دلیل نہ گھڑیں۔ ایک تو یہ کہ {”فَرَحٌ“} کا معنی خوشی منانا تو کسی لغت میں نہیں، اس کا معنی تو خوش ہونا ہے، یہ دل کی خوشی کی کیفیت کا نام ہے نہ کہ جلوس نکال کر عید منانے کا۔ دوسرا یہ کہ یہ خوشی تو ہر وقت چوبیس گھنٹے، پورا سال اور ساری عمر مومن کے دل میں رہتی ہے اور اس کے سینے کو ٹھنڈا رکھتی ہے، آپ کو یہ کس نے کہا کہ یہ سال میں صرف ایک دن کے لیے ہے، ایک شاعر نے اپنی خوشی کا اظہار کس خوبصورتی سے کیا ہے نہ بہ نظم شاعر خوش غزل، نہ بہ نثرِ ناثر بے بدل بغلامیٔ شہ عزوجل و بہ عاشقی نبی خوشم ”میں نہ کسی بہترین غزل گو شاعر کے شعروں پر خوش ہوں اور نہ کسی بے مثال نثر لکھنے والے کی نثر پر، بلکہ میں تو صرف اللہ بادشاہ عزوجل کا غلام ہونے پر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنے پر خوش ہوں۔“ اللہ تعالیٰ یہ خوشی ہمیشہ ہمارے نصیب میں رکھے۔ آمین! ➍ { هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ:} یعنی یہ دنیا کے سازو سامان سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں، کیونکہ وہ مال و دولت اور جاہ و شرف دنیا میں کبھی کام آتا ہے، کبھی نہیں۔ اگر کام آتا بھی ہے تو چند دن کے لیے، پھر وہ چیز جو چھن جانے والی ہے اس پر خوشی کیسی؟ حسن، قوت، جوانی، مال و دولت، عز و جاہ کیا ہی دل لبھانے والی چیزیں ہیں، مگر کیا کیا جائے کہ ان میں سے باقی رہنے والی ایک بھی نہیں، فرمایا: «{ مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ }» [ النحل: ۹۶ ] ”جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔“ فانی کو باقی سے کیا نسبت؟
اے نبیؐ، ان سے کہو “تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حرام اور کسی کو حلال ٹھیرا لیا!" اِن سے پوچھو، اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی؟ یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہیے کہ یہ تو بتاؤ کہ اللہ نے تمہارے لیے جو کچھ رزق بھیجا تھا پھر تم نے اس کا کچھ حصہ حرام اور کچھ حلال قرار دے لیا۔ آپ پوچھیے کہ کیا تم کو اللہ نے حکم دیا تھا یا اللہ پر افترا ہی کرتے ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو اللہ نے تمہارے لیے رزق اتارا اس میں تم نے اپنی طرف سے حرام و حلال ٹھہرالیا تم فرماؤ کیا اللہ نے اس کی تمہیں اجازت دی یا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) کہیے! لوگو ذرا یہ تو بتاؤ کہ تم نے غور کیا ہے کہ خدا نے تمہارے لئے جو رزق اتارا ہے تو تم نے خود (اپنی خواہشِ نفس سے) کسی کو حرام اور کسی کو حلال قرار دے دیا ہے ان سے پوچھئے! کیا اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی ہے یا تم اللہ پر بہتان باندھ رہے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
کہہ کیا تم نے دیکھا جو اللہ نے تمھارے لیے رزق اتارا، پھر تم نے اس میں سے کچھ حرام اور کچھ حلال بنا لیا ۔ کہہ کیا اللہ نے تمھیں اجازت دی ہے، یا تم اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بغیر شرعی دلیل کے حلال و حرام کی مذمت ٭٭
مشرکوں نے بعض جانور مخصوص نام رکھ کر اپنے لیے حرام قرار دے رکھے تھے اس عمل کی تردید میں یہ آیتیں ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَجَعَلُوا لِلَّـهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَـٰذَا لِلَّـهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـٰذَا لِشُرَكَائِنَا» ۱؎ [6-الأنعام:136] ’ اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور چوپایوں میں یہ کچھ نہ کچھ حصہ تو اس کا کرتے ہیں ‘۔ مسند احمد میں ہے { عوف بن مالک بن فضلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت میری حالت یہ تھی کہ میلا کچیلا جسم بال بکھرے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا، { تمہارے پاس کچھ مال بھی ہے؟ } میں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { کس قسم کا مال؟} میں نے کہا اونٹ، غلام، گھوڑے، بکریاں وغیرہ غرض ہر قسم کا مال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جب اللہ تعالیٰ نے تجھے سب کچھ دے رکھا ہے تو اس کا اثر بھی تیرے جسم پر ظاہر ہونا چاہیئے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ { تیرے ہاں اونٹنیاں بچے بھی دیتی ہیں؟ میں نے کہا ہاں۔ فرمایا: { وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہوتے ہیں پھر تو اپنے ہاتھ میں چھری لے کر کسی کا کان کاٹ کے اس کا نام بحیرہ رکھ لیتا ہے۔ کسی کی کھال کاٹ کر حرام نام رکھ لیتا ہے۔ پھر اسے اپنے اوپر اور اپنے والوں پر حرام سمجھ لیتا ہے؟ } میں نے کہا ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سن اللہ نے تجھے جو دیا ہے وہ حلال ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بازو تیرے بازو سے قوی ہے اور اللہ تعالیٰ کی چھری تیری چھری سے بہت زیادہ تیز ہے } } }۔ [سنن ابوداود:4063:صحیح] اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کے فعل کی پوری مذمت بیان فرمائی ہے جو اپنی طرف سے بغیر شرعی دلیل کے کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام ٹھہرا لیتے ہیں۔ انہیں اللہ نے قیامت کے عذاب کے سے دھمکایا ہے اور فرمایا ہے کہ ’ ان کا کیا خیال ہے؟ یہ کس ہوا میں ہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ بے بس ہو کر قیامت کے دن ہمارے سامنے حاضر کئے جائیں گے ‘۔
اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر اپنا فضل و کرم ہی کرتا ہے، وہ دنیا میں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ اسی کا فضل ہے کہ اس نے دنیا میں بہت سی نفع کی چیزیں لوگوں کے لیے حلال کر دی ہیں، صرف انہیں چیزوں کو حرام فرمایا ہے، جو بندوں کو نقصان پہنچانے والی اور ان کے حق میں مضر ہیں۔ دنیوی طور پر یا اُخروی طور پر۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کر کے اللہ کی نعمتوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اپنی جانوں کو خود تنگی میں ڈالتے ہیں۔ مشرک لوگ اسی طرح از خود احکام گھڑ لیا کرتے تھے اور انہیں شریعت سمجھ بیٹھتے تھے۔ اہل کتاب نے بھی اپنے دین میں ایسی ہی بدعتیں ایجاد کرلی تھیں۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے قیامت کے دن اولیاء اللہ کی تین قسمیں کر کے انہیں جناب باری کے سامنے لایا جائے گا۔ پہلے قسم والوں میں سے ایک سے سوال ہو گا کہ تم لوگوں نے یہ نیکیاں کیوں کیں؟ وہ جواب دیں گے کہ پروردگار تو نے جنت بنائی اس میں درخت لگائے، ان درختوں میں پھل پیدا کئے، وہاں نہریں جاری کیں، حوریں پیدا کیں اور نعمتیں تیار کیں، پس اسی جنت کے شوق میں ہم راتوں کو بیدار رہے اور دنوں کو بھوک پیاس اٹھائی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تو تمہارے اعمال جنت کے حاصل کرنے کے لیے تھے۔ میں تمہیں جنت میں جانے کی اجازت دیتا ہوں اور یہ میرا خاص فضل ہے کہ جہنم سے تمہیں نجات دیتا ہوں۔ گو یہ بھی میرا فضل ہی ہے کہ میں تمہیں جنت میں پہنچاتا ہوں پس یہ اور اس کے سب ساتھی بہشت بریں میں داخل ہو جائیں گے۔ پھر دوسری قسم کے لوگوں میں سے ایک سے پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ نیکیاں کیسے کیں؟ وہ کہے گا پروردگار تو نے جہنم کو پیدا کیا۔ اپنے دشمنوں اور نافرمانوں کے لیے وہاں طوق و زنجیر، حرارت، آگ، گرم پانی اور گرم ہوا کا عذاب رکھا وہاں طرح طرح کے روح فرسا دکھ دینے والے عذاب تیار کئے۔
پس میں راتوں کو جاگتا رہا، دنوں کو بھوکا پیاسا رہا، صرف اس جہنم سے ڈر کر تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میں نے تجھے اس جہنم سے آزاد کیا اور تجھ پر میرا یہ خاص فضل ہے کہ تجھے اپنی جنت میں لے جاتا ہوں پس یہ اور اس کے ساتھی سب جنت میں چلے جائیں گے پھر تیسری قسم کے لوگوں میں سے ایک کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تم نے نیکیاں کیوں کیں؟ وہ جواب دے گا کہ صرف تیری محبت میں اور تیرے شوق میں۔ تیری عزت کی قسم میں راتوں کو عبادت میں جاگتا رہا اور دنوں کو روزے رکھ کر بھوک پیاس سہتا رہا، یہ سب صرف تیرے شوق اور تیری محبت کے لیے تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے یہ اعمال صرف میری محبت اور میرے اشتیاق میں ہی کئے۔ لے اب میرا دیدار کر لے۔ اسوقت اللہ تعالیٰ جل جلالہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو اپنا دیدار کرائے گا، فرمائے گا دیکھ لے، یہ ہوں میں، پھر فرمائے گا یہ میرا خاص فضل ہے کہ میں تجھے جہنم سے بچاتا ہوں اور جنت میں پہنچاتا ہوں میرے فرشتے تیرے پاس پہنچتے رہیں گے اور میں خود بھی تجھ پر سلام کہا کروں گا، پس وہ مع اپنے ساتھیوں کے جنت میں چلا جائے گا۔
59۔ 1 اس سے مراد وہی بعض جانوروں کا حرام کرنا جو مشرکین اپنے بتوں کے ناموں پر چھوڑ کر کیا کرتے ہیں تھے، جس کی تفصیل سورة انعام میں گزر چکی ہے۔
(آیت 59) ➊ {قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ …:} مشرکین اور یہود نے اپنے پاس سے کئی حلال چیزوں کو حرام اور حرام کو حلال کر رکھا تھا، ان سے سوال ہے کہ بتاؤ تم نے یہ حلال و حرام کس کے کہنے پر قرار دیے ہیں؟ تفصیل پیچھے گزر چکی ہے، مثلاً مشرکین کے متعلق دیکھیے سورۂ مائدہ(۱۰۳)، انعام(۱۱۸ تا ۱۲۱ اور ۱۳۶ تا ۱۴۰) اور یہود کے متعلق دیکھیے سورۂ آل عمران (۹۳) اور ان کے فوائد۔ ➋ { اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ:} اس سے معلوم ہوا کہ اپنی خواہشوں سے حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دینا افترا علی اللہ، یعنی اللہ پر بہتان باندھنا ہے۔ (ابن کثیر) قاضی شوکانی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ان مقلد حضرات کے لیے سخت تنبیہ ہے جو فتویٰ صادر فرمانے کی کرسی پر براجمان ہو جاتے ہیں اور حلال و حرام اور جائز و ناجائز ہونے کے فتوے صادر کرتے ہیں، حالانکہ وہ قرآن و حدیث کا علم نہیں رکھتے، ان کے علم کی رسائی صرف یہاں تک ہوتی ہے کہ امت کے کسی ایک شخص نے جو بات کہہ دی ہے اسے نقل کر دیتے ہیں، گویا انھوں نے اس شخص کو شارع (اللہ اور اس کے رسول) کی حیثیت دے رکھی ہے، کتاب و سنت کے جس حکم پر اس نے عمل کیا اس پر یہ بھی عمل کریں گے اور جو چیز اسے نہیں پہنچی یا پہنچی مگر وہ اسے ٹھیک طرح سمجھ نہ سکا یا سمجھا مگر اپنے اجتہاد و ترجیح میں غلطی کر بیٹھا، وہ ان کی نظر میں منسوخ ہے اور اس کا حکم ختم ہے، حالانکہ جس کی یہ لوگ تقلید کر رہے ہیں وہ بھی شریعت اور اس کے احکام کا اسی طرح پابند تھا جس طرح خود یہ لوگ۔ اس نے اجتہاد سے کام لیا اور جس رائے پر پہنچا اسے بیان کر دیا۔ اگر اس نے غلطی نہیں کی تو اسے دوہرا اجر ملے گا اور اگر غلطی کی تو اکہرا اجر پائے گا۔ وہ شخص تو اپنی جگہ معذور ہے، مگر یہ حضرات کسی طرح بھی معذور قرار نہیں دیے جا سکتے جنھوں نے اس کی آراء کو ایک مستقل شریعت اور قابل عمل دلیل بنا لیا۔ اہل علم کے نزدیک کسی مجتہد کی تقلید کرتے ہوئے اس کے اجتہاد پر عمل کرنا صحیح نہیں۔ (شوکانی)
جو لوگ اللہ پر یہ جھوٹا افترا باندھتے ہیں ان کا کیا گمان ہے کہ قیامت کے روز ان سے کیا معاملہ ہو گا؟ اللہ تو لوگوں پر مہربانی کی نظر رکھتا ہے مگر اکثر انسان ایسے ہیں جو شکر نہیں کرتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ اللہ پر جھوٹ افترا باندھتے ہیں ان کا قیامت کی نسبت کیا گمان ہے؟ واقعی لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہے لیکن اکثر آدمی شکر نہیں کرتے
احمد رضا خان بریلوی
اور کیا گمان ہے ان کا، جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں کہ قیامت میں ان کا کیا حال ہوگا، بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرتا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ خدا پر افترا پردازی کرتے ہیں ان کا قیامت کے دن کے بارے میں کیا گمان ہے؟ بے شک اللہ لوگوں پر فضل و کرم کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر گزاری نہیں کرتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا گمان ہے ان لوگوں کا جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، قیامت کے دن میں؟ بے شک اللہ تو لوگوں پر بڑے فضل والا ہے اور لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بغیر شرعی دلیل کے حلال و حرام کی مذمت ٭٭
مشرکوں نے بعض جانور مخصوص نام رکھ کر اپنے لیے حرام قرار دے رکھے تھے اس عمل کی تردید میں یہ آیتیں ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَجَعَلُوا لِلَّـهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَـٰذَا لِلَّـهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـٰذَا لِشُرَكَائِنَا» ۱؎ [6-الأنعام:136] ’ اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور چوپایوں میں یہ کچھ نہ کچھ حصہ تو اس کا کرتے ہیں ‘۔ مسند احمد میں ہے { عوف بن مالک بن فضلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت میری حالت یہ تھی کہ میلا کچیلا جسم بال بکھرے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا، { تمہارے پاس کچھ مال بھی ہے؟ } میں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { کس قسم کا مال؟} میں نے کہا اونٹ، غلام، گھوڑے، بکریاں وغیرہ غرض ہر قسم کا مال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جب اللہ تعالیٰ نے تجھے سب کچھ دے رکھا ہے تو اس کا اثر بھی تیرے جسم پر ظاہر ہونا چاہیئے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ { تیرے ہاں اونٹنیاں بچے بھی دیتی ہیں؟ میں نے کہا ہاں۔ فرمایا: { وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہوتے ہیں پھر تو اپنے ہاتھ میں چھری لے کر کسی کا کان کاٹ کے اس کا نام بحیرہ رکھ لیتا ہے۔ کسی کی کھال کاٹ کر حرام نام رکھ لیتا ہے۔ پھر اسے اپنے اوپر اور اپنے والوں پر حرام سمجھ لیتا ہے؟ } میں نے کہا ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سن اللہ نے تجھے جو دیا ہے وہ حلال ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بازو تیرے بازو سے قوی ہے اور اللہ تعالیٰ کی چھری تیری چھری سے بہت زیادہ تیز ہے } } }۔ [سنن ابوداود:4063:صحیح] اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کے فعل کی پوری مذمت بیان فرمائی ہے جو اپنی طرف سے بغیر شرعی دلیل کے کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام ٹھہرا لیتے ہیں۔ انہیں اللہ نے قیامت کے عذاب کے سے دھمکایا ہے اور فرمایا ہے کہ ’ ان کا کیا خیال ہے؟ یہ کس ہوا میں ہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ بے بس ہو کر قیامت کے دن ہمارے سامنے حاضر کئے جائیں گے ‘۔
اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر اپنا فضل و کرم ہی کرتا ہے، وہ دنیا میں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ اسی کا فضل ہے کہ اس نے دنیا میں بہت سی نفع کی چیزیں لوگوں کے لیے حلال کر دی ہیں، صرف انہیں چیزوں کو حرام فرمایا ہے، جو بندوں کو نقصان پہنچانے والی اور ان کے حق میں مضر ہیں۔ دنیوی طور پر یا اُخروی طور پر۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کر کے اللہ کی نعمتوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اپنی جانوں کو خود تنگی میں ڈالتے ہیں۔ مشرک لوگ اسی طرح از خود احکام گھڑ لیا کرتے تھے اور انہیں شریعت سمجھ بیٹھتے تھے۔ اہل کتاب نے بھی اپنے دین میں ایسی ہی بدعتیں ایجاد کرلی تھیں۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے قیامت کے دن اولیاء اللہ کی تین قسمیں کر کے انہیں جناب باری کے سامنے لایا جائے گا۔ پہلے قسم والوں میں سے ایک سے سوال ہو گا کہ تم لوگوں نے یہ نیکیاں کیوں کیں؟ وہ جواب دیں گے کہ پروردگار تو نے جنت بنائی اس میں درخت لگائے، ان درختوں میں پھل پیدا کئے، وہاں نہریں جاری کیں، حوریں پیدا کیں اور نعمتیں تیار کیں، پس اسی جنت کے شوق میں ہم راتوں کو بیدار رہے اور دنوں کو بھوک پیاس اٹھائی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تو تمہارے اعمال جنت کے حاصل کرنے کے لیے تھے۔ میں تمہیں جنت میں جانے کی اجازت دیتا ہوں اور یہ میرا خاص فضل ہے کہ جہنم سے تمہیں نجات دیتا ہوں۔ گو یہ بھی میرا فضل ہی ہے کہ میں تمہیں جنت میں پہنچاتا ہوں پس یہ اور اس کے سب ساتھی بہشت بریں میں داخل ہو جائیں گے۔ پھر دوسری قسم کے لوگوں میں سے ایک سے پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ نیکیاں کیسے کیں؟ وہ کہے گا پروردگار تو نے جہنم کو پیدا کیا۔ اپنے دشمنوں اور نافرمانوں کے لیے وہاں طوق و زنجیر، حرارت، آگ، گرم پانی اور گرم ہوا کا عذاب رکھا وہاں طرح طرح کے روح فرسا دکھ دینے والے عذاب تیار کئے۔
پس میں راتوں کو جاگتا رہا، دنوں کو بھوکا پیاسا رہا، صرف اس جہنم سے ڈر کر تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میں نے تجھے اس جہنم سے آزاد کیا اور تجھ پر میرا یہ خاص فضل ہے کہ تجھے اپنی جنت میں لے جاتا ہوں پس یہ اور اس کے ساتھی سب جنت میں چلے جائیں گے پھر تیسری قسم کے لوگوں میں سے ایک کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تم نے نیکیاں کیوں کیں؟ وہ جواب دے گا کہ صرف تیری محبت میں اور تیرے شوق میں۔ تیری عزت کی قسم میں راتوں کو عبادت میں جاگتا رہا اور دنوں کو روزے رکھ کر بھوک پیاس سہتا رہا، یہ سب صرف تیرے شوق اور تیری محبت کے لیے تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے یہ اعمال صرف میری محبت اور میرے اشتیاق میں ہی کئے۔ لے اب میرا دیدار کر لے۔ اسوقت اللہ تعالیٰ جل جلالہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو اپنا دیدار کرائے گا، فرمائے گا دیکھ لے، یہ ہوں میں، پھر فرمائے گا یہ میرا خاص فضل ہے کہ میں تجھے جہنم سے بچاتا ہوں اور جنت میں پہنچاتا ہوں میرے فرشتے تیرے پاس پہنچتے رہیں گے اور میں خود بھی تجھ پر سلام کہا کروں گا، پس وہ مع اپنے ساتھیوں کے جنت میں چلا جائے گا۔
60۔ 1 یعنی قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ان سے کیا معاملہ فرمائے گا۔ 60۔ 2 کہ وہ انسانوں کا دنیا میں فوراً مواخذا نہیں کرتا، بلکہ اس کے لئے ایک دن مقرر کر رکھا ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا کی نعمتیں بلا تفریق مومن و کافر، سب کو دیتا ہے۔ یا یہ چیزیں انسانوں کے لئے مفید اور ضروری ہیں، انھیں حلال اور جائز قرار دیا ہے، انھیں حرام نہیں کیا۔ 60۔ 3 یعنی اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے، یا اس کی حلال کردہ چیزوں کو حرام کرلیتے ہیں۔
(آیت 60) ➊ { وَ مَا ظَنُّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ:} یعنی ان سے کیا سلوک کیا جائے گا؟(فتح الرحمن) کیا ان کا گمان یہ ہے کہ ان کے بلا دلیل اپنے پاس سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دے کر اللہ پر بہتان باندھنے پر ان کی کوئی پکڑ نہ ہو گی اور انھیں یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا؟ ➋ { اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ …: ” فَضْلٍ “} کی تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر بہت بڑے فضل والا ہے کہ پیدا کرکے عقل اور ہر نعمت بخشی، پھر انھیں مہلت دی، نافرمانیوں کے باوجود ان کے رزق میں کمی نہ کی، مگر وہ اس کی نرمی اور استدراج (مہلت دینے) کو دیکھ کر گناہوں پر اور دلیر ہو جاتے ہیں اور اس کے دیے ہوئے رزق میں سے جسے چاہتے ہیں حلال اور جسے چاہتے ہیں حرام قرار دے لیتے ہیں۔ اس قسم کی ناشکر گزاری میں مشرکین بھی مبتلا تھے اور اہل کتاب بھی کہ انھوں نے اپنی طرف سے بہت سی چیزوں کو دین بنا رکھا تھا۔ (ابن کثیر)
اے نبیؐ، تم جس حال میں بھی ہوتے ہو اور قرآن میں سے جو کچھ بھی سُناتے ہو، اور لوگو، تم بھی جو کچھ کرتے ہو اُس سب کے دوران میں ہم تم کو دیکھتے رہتے ہیں کوئی ذرہ برابر چیز آسمان اور زمین میں ایسی نہیں ہے، نہ چھوٹی نہ بڑی، جو تیرے رب کی نظر سے پوشیدہ ہو اور ایک صاف دفتر میں درج نہ ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور آپ کسی حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے آپ کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور جو کام بھی کرتے ہوں ہم کو سب کی خبر رہتی ہے جب تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو۔ اور آپ کے رب سے کوئی چیز ذره برابر بھی غائب نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اورنہ کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ کوئی چیز بڑی مگر یہ سب کتاب مبین میں ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور تم کسی کام میں ہو اور اس کی طرف سے کچھ قرآن پڑھو اور تم لوگ کوئی کام کرو ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں جب تم اس کو شروع کرتے ہو، اور تمہارے رب سے ذرہ بھر کوئی چیز غائب نہیں زمین میں نہ آسمان میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ اس سے بڑی کوئی چیز نہیں جو ایک روشن کتاب میں نہ ہو
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) آپ جس حال میں بھی ہوں اور قرآن میں سے جو کچھ بھی پڑھ کر سنائیں اور (اے لوگو) تم بھی جو کوئی کام کرتے ہو ہم ضرور تم پر ناظر و نگران ہوتے ہیں جب تم اس (کام) میں مشغول و منہمک ہوتے ہو۔ اور آپ کے پروردگار سے کوئی ذرہ بھر چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ اور کوئی چیز خواہ ذرہ سے چھوٹی ہو یا اس سے بڑی مگر یہ کہ وہ ایک واضح کتاب میں موجود ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تو نہ کسی حال میں ہوتا ہے اور نہ اس کی طرف سے (آنے والے) قرآن میں سے کچھ پڑھتا ہے اور نہ تم کوئی عمل کرتے ہو، مگر ہم تم پر شاہد ہوتے ہیں، جب تم اس میں مشغول ہوتے ہو اور تیرے رب سے کوئی ذرہ برابر (چیز) نہ زمین میں غائب ہوتی ہے اور نہ آسمان میں اور نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز ہے اور نہ بڑی مگر ایک واضح کتاب میں موجود ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی سب کچھ جانتا ہے اور دیکھتا ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام امت کے تمام احوال ہر وقت اللہ تعالیٰ جانتا ہے، ساری مخلوق کے کل کام اس کے علم میں ہیں، اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے آسمان و زمین کا کوئی ذرہ بھی پوشیدہ نہیں۔ سب چھوٹی بڑی چیزیں ظاہر کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [6-الأنعام:59] ’ غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہ خشکی و تری کی ہر چیز کا علم رکھتا ہے ہر پتے کے جھڑنے کی اسے خبر ہے۔ زمین کے اندھیروں میں جو دانہ ہو، جو تر و خشک چیز ہو، سب کتاب مبین میں موجود ہے ‘۔ الغرض درختوں کا ہلنا، جمادات کا ادھر ادھر ہونا، جانداروں کا حرکت کرنا، کوئی چیز روئے زمین کی اور تمام آسمانوں کی ایسی نہیں، جس سے علیم و خبیر اللہ بے خبر ہو۔ فرمان ہے «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» ۱؎ [6-الانعام:38] ایک اور آیت میں ہے کہ «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [11-ھود:6] زمین کے ہر جاندار کا روزی رساں اللہ تعالیٰ ہے۔ جب کہ درختوں، ذروں جانوروں اور تمام تر و خشک چیزوں کے حال سے اللہ عزوجل واقف ہے بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ بندوں کے اعمال سے وہ بے خبر ہو۔ جنہیں عبادت رب کی بجا آوری کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ فرمان ہے «وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:217-219] ’ اس ذی عزت بڑے رحم و کرم والے اللہ پر تو بھروسہ رکھ جو تیرے قیام کی حالت میں تجھے دیکھتا رہتا ہے سجدہ کرنے والوں میں تیرا آنا جانا بھی دیکھ رہا ہے ‘۔ یہی بیان یہاں ہے کہ ’ تم سب ہماری آنکھوں اور کانوں کے سامنے ہو ‘۔ { جبرائیل علیہ السلام نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احسان کی بابت سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ { اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے یقیناً دیکھ ہی رہا ہے } }۔ [صحیح بخاری:50]
61۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی اور مومنین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ تمام مخلوقات کے احوال سے واقف ہے اور لحاظہ اور ہر گھڑی انسانوں پر اس کی نظر ہے۔ زمین آسمان کی کوئی بڑی چھوٹی چیز اس سے مخفی نہیں۔ یہ وہی مضمون ہے جو اس سے قبل سورة انعام، آیت 59 میں گزر چکا ہے ' اسی کے پاس غیب کے خزانے ہیں، جنہیں وہ جانتا ہے، اسے جنگلوں اور دریاؤں کی سب چیزوں کا علم ہے، اور کوئی پتہ نہیں جھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ اور کوئی ہری اور سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب مبین میں (لکھی ہوئی) ہے ' وہ آسمان اور زمین میں موجود اشیاء کی حرکتوں کو جانتا ہے تو انسان اور جنوں کی حرکات و اعمال سے کیوں کر بیخبر رہ سکتا ہے جو اللہ کی عبادت کے مکلف اور مامور ہیں؟
(آیت 61) ➊ {وَ مَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ …:} اس آیت کے شرو ع میں دو صیغے {” تَكُوْنُ “} اور {” تَتْلُوْا “ } واحد مذکر حاضر کے ہیں جن کا معنی ”تو“ ہے اور دو صیغے {” تَعْمَلُوْنَ “} اور {” تُفِيْضُوْنَ “} جمع مذکر حاضر کے ہیں جن کا معنی ”تم“ ہے۔ مفسرین نے اس کی تفسیر دو طرح سے کی ہے، ایک تو یہ کہ پہلے دونوں الفاظ کے مخاطب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور بعد والے دونوں الفاظ کے مخاطب تمام لوگ ہیں۔ متن میں آیت کا ترجمہ لفظوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ پہلے دونوں الفاظ میں خطاب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، مگر اس میں بھی تمام لوگ شامل ہیں، اس لیے بعد والے صیغے جمع لائے گئے ہیں، مراد ہر مخاطب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ۠ لِعِدَّتِهِنَّ }» [ الطلاق: ۱ ] ”اے نبی! جب تم (لوگ) عورتوں کو طلاق دو تو انھیں ان کی عدت کے وقت طلاق دو۔“ اس میں ابتدا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے تمام امت کو شامل کر لیا ہے۔ یعنی لوگوں میں سے کوئی بھی کسی حال میں ہو، قرآن پڑھ رہا ہو یا کوئی اور عمل کر رہا ہو اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہوتا ہے۔ یہ تفسیر بھی صحیح ہے۔ ➋ {” شَاْنٍ “} کا معنی حال ہے، مگر ایسا حال جو اہمیت رکھتا ہو، جیسے فرمایا: «{ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ }» [ الرحمٰن: ۲۹ ] ”ہر دن وہ ایک (نئی) شان میں ہے۔“ یہ لفظ معمولی اور حقیر کام پر نہیں بولا جاتا۔ ➌ { وَ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ: ” مِنْهُ “} کی ضمیر کے متعلق مفسرین نے بہت سے احتمال ذکر فرمائے ہیں کہ یہ کس کی طرف لوٹتی ہے، وہ سب درست ہیں، مگر میری دانست میں ان میں سب سے آسان اور واضح وہ ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہو رہا ہے، یعنی یہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے، کیونکہ قرآن اسی کی طرف سے آیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف ضمیر لوٹانے کے لیے اس کا پہلے ذکر ہونا ضروری نہیں، کیونکہ وہ ہر وقت ہر ذہن میں موجود ہے۔ ➍ { وَ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ …:} اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے تسلی کا پیغام ہے کہ آپ کی بندگی کی ہر ہر ادا اور عمل ہمارے سامنے ہے اور مخالفین کے لیے وعید ہے کہ تم جو عمل کرتے ہو، تمھارے اس کام میں مشغول ہوتے ہی ہم بھی گواہ ہوتے ہیں، نہ ہم اس سے بے خبر ہیں، نہ تم اس کی سزا سے بچ سکو گے۔ ➎ { وَ مَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ …:} یہ بعض جاہل فلسفیوں کی اس بات کی تردید ہے کہ اللہ تعالیٰ کلیات کو جانتا ہے جزئیات کو نہیں جانتا، بڑی بڑی باتیں اس کے علم میں آتی ہیں، چھوٹی باتیں نہیں۔ {” ذَرَّةٍ “} سب سے چھوٹی چیونٹی کو بھی کہتے ہیں اور روشن دان وغیرہ سے آنے والی روشنی کے اندر بکھرے ہوئے باریک ذروں کو بھی۔ فرمایا کہ زمین ہو یا آسمان اس میں نہ ایک ذرہ برابر چیز اس سے غائب ہے، نہ اس سے بھی چھوٹی یا بڑی کوئی چیز، بلکہ وہ سب کتاب مبین میں ہیں۔ کتاب مبین کا معنی لوح محفوظ بھی کرتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم بھی۔ اسی آیت کی ہم معنی سورۂ انعام کی آیات (۵۹، ۶۰) ہیں۔
سُنو! جو اللہ کے دوست ہیں، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا،
مولانا محمد جوناگڑھی
یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وه غمگین ہوتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم
علامہ محمد حسین نجفی
آگاہ ہو کہ جو اللہ کے دوست ہیں ان کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
سن لو! بے شک اللہ کے دوست، ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اولیاء اللہ کا تعارف ٭٭
اولیا اللہ وہ ہیں جن کے دلوں میں ایمان و یقین ہو، جن کا ظاہر تقویٰ اور پرہیزگاری میں ڈوبا ہوا ہو، جتنا تقویٰ ہوگا، اتنی ہی ولایت ہوگی۔ ایسے لوگ محض نڈر اور بے خوف ہیں قیامت کے دن کی وحشت ان سے دور ہے، نہ وہ کبھی غم و رنج سے آشنا ہوں گے۔ دنیا میں جو چھوٹ جائے اس پر انہیں حسرت و افسوس نہیں ہوتا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اور بہت سے سلف صالحین فرماتے ہیں کہ ”اولیاء اللہ وہ ہیں جن کے چہرہ دیکھنے سے اللہ یاد آ جائے۔“ بزار کی مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ وہ حدیث مرسلاً بھی مروی ہے۔ [طبرانی کبیر:12325] ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں جن پر انبیاء اور شہدا بھی رشک کریں گے } لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون ہیں؟ ہمیں بتائیے تاکہ ہم بھی ان سے محبت و الفت رکھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ لوگ ہیں جو صرف اللہ کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ہیں۔ مالی فائدے کی وجہ سے انہیں رشتے داری اور نسب کی بناء پر نہیں، صرف اللہ کے دین کی وجہ سے ان کے چہرے نورانی ہوں گے یہ نور کے منبروں پر ہوں گے۔ سب کو ڈر خوف ہو گا لیکن یہ بالکل بے خوف اور محض نڈر ہوں گے جب لوگ غمزدہ ہوں گے یہ بے غم ہوں گے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی }۔ یہی روایت منقطع سند سے ابوداؤد میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3527،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مسند احمد کی ایک مطول حدیث میں ہے کہ { دور دراز کے رہنے والے خاندانوں اور برادریوں سے الگ شدہ لوگ جن میں کوئی رشتہ کنبہ قوم برادری نہیں وہ محض توحید و سنت کی وجہ سے اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے کے لیے آپس میں ایک ہو گئے ہوں گے اور آپس میں میل ملاپ، محبت، مودت، دوستی اور بھائی چارہ رکھتے ہونگے، دین میں سب ایک ہوں گے، ان کے لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نورانی منبر بچھا دے گا جن پر وہ عزت سے تشریف رکھیں گے۔ لوگ پریشان ہوں گے لیکن یہ با اطمینان ہوں گے۔ یہ ہیں وہ اللہ کے اولیا جن پر کوئی خوف غم نہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد343/5:ضعیف]
خوابوں کے بارے میں ٭٭
خوابوں کے بارے میں مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارتوں کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ { یہ نیک خواب ہیں جنہیں مسلمان دیکھے یا اس کے لیے دکھائے جائیں } }۔ [مسند احمد445/6، صحیح] سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے جب اس کا سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے آج مجھ سے وہ باپ پوچھی جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی سوائے اس شخص کے جس نے یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جواب کے دینے سے پہلے نہیں فرمایا تھا کہ ’ تجھ سے پہلے میرے کسی امتی نے مجھ سے یہ سوال نہیں کیا ‘۔ خود انہی صحابی رضی اللہ عنہ سے جب سائل نے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی یہ فرما کر پھر تفسیر مرفوع حدیث سے بیان فرمائی۔ اور روایت میں ہے { سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ آخرت کی بشارت تو جنت ہے دنیا کی بشارت کیا ہے؟ فرمایا: { نیک خواب جسے بندہ دیکھے یا اس کے لیے اوروں کو دکھائے جائیں، یہ نبوت کا چوالیسواں یا سترواں جز ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17735:ضعیف] ۔ { سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ انسان نیکیاں کرتا ہے پھر لوگوں میں اس کی تعریف ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہی دنیوی بشارت ہے } }۔ [صحیح مسلم2642] فرماتے ہیں کہ { دنیا کی بشارت نیک خواب ہیں جن سے مومن کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ یہ نبوت کا انچاسواں حصہ ہے اس کے دیکھنے والے کو اسے بیان کرنا چاہیئے اور جو اس کے سوا دیکھے وہ شیطانی خواب ہیں تاکہ اسے غم زدہ کر دے۔ چاہیئے کہ ایسے موقعہ پر تین دفعہ بائیں جانب تھتکار دے۔ اللہ کی بڑائی بیان کرے اور کسی سے اس خواب کو بیان نہ کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:219/2:صحیح لغیرہ] اور روایت میں ہے کہ { نیک خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17769:صحیح بالشواہد]
اور حدیث میں ہے { دنیوی بشارت نیک خواب، اور اُخروی بشارت جنت }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17743:ضیعف] ۔ ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نبوت جاتی رہی خوشخبریاں رہ گئیں } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17743، ضعیف] ۔ «بُشْرَىٰ» کی یہی تفسیر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ، مجاہد رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ، ابن زبیر، یحییٰ بن ابی کثیر، ابراہیم نخعی، عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سلف صالحین سے مروی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے وہ خوشخبری ہے جو مومن کو اس کی موت کے وقت فرشتے دیتے ہیں جس کا ذکر «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:30-32] میں ہے کہ ’ سچے پکے مومنوں کے پاس فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم خوف نہ کرو، تم غم نہ کرو، تمہیں ہم اس جنت کی خوشخبری سناتے ہیں جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔ ہم دنیا و آخرت میں تمہارے کار ساز ولی ہیں۔ سنو تم جو چاہو گے جنت میں پاؤ گے، جو مانگو گے ملے گا۔ تم غفور و رحیم اللہ کے خاص مہمان بنو گے ‘۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں ہے مومن کی موت کے وقت نورانی سفید چہرے والے پاک صاف اجلے سفید کپڑوں والے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں اے پاک روح چل کشادگی راحت تروتازگی اور خوشبو اور بھلائی کی طرف چل۔
تیرے اس پالنہار کی طرف جو تجھ سے کبھی خفا نہیں ہونے کا۔ پس اس کی روح اس بشارت کو سن کر اس کے منہ سے اتنی آسانی اور شوق سے نکلتی ہے جیسے مشک کے منہ سے پانی کا کوئی قطرہ چھو جائے۔ اور آخرت کی بشارت کا ذکر «لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰىِٕكَةُ ھٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:103] میں ہے یعنی ’ انہیں اس دن کی زبردست پریشانی بالکل ہی نہ گھبرائے گی ادھر ادھر سے ان کے پاس فرشتے آئے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ اس دن کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا تھا ‘۔ ایک آیت میں ہے «يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْيَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» ۱؎ [57-الحديد:12] ’ جس دن تو مومن مردوں عورتوں کو دیکھے گا کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور دائیں طرف چل رہا ہوگا، لو تم خوشخبری سن لو کہ آج تمہیں وہ جنتیں ملیں گی، جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں، جہاں کی رہائش ہمیشہ کی ہوگی، یہی زبردست کامیابی ہے، اللہ کا وعدہ غلط نہیں ہوتا ‘۔ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا، اس نے جو فرما دیا سچ ہے، ثابت ہے، اٹل ہے یقینی اور ضروری ہے۔ یہ ہے پوری مقصد آوری، یہ ہے زبردست کامیابی، یہ ہے مراد کا ملنا اور یہ ہے گود کا بھرنا۔
62۔ 1 نافرمانوں کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فرماں برداروں کا ذکر فرما رہا ہے اور وہ ہیں اولیاء اللہ۔ اولیاء ولی کی جمع ہے، جس کے معنی لغت میں قریب کے ہیں۔ اس اعتبار سے اولیاء اللہ کے معنی ہوں گے، وہ سچے اور مخلص مومن جنہوں نے اللہ کی اطاعت اور معاصی سے اجتناب کر کے اللہ کا قرب حاصل کرلیا۔ اسی لیے اگلی آیت میں خود اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی تعریف ان الفاظ سے بیان فرمائی، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقوی اختیار کیا۔ اور ایمان وتقوی ہی اللہ کے قرب کی بنیاد اور اہم ترین ذریعہ ہے، اس لغت سے ہر متقی مومن اللہ کا ولی ہے۔ لوگ ولایت کے لیے اظہار کرامت کو ضروری سمجھتے ہیں۔ اور پھر وہ اپنے بنائے ہوئے ولیوں کے لیے جھوٹی سچی کرامتیں مشہور کرتے ہیں۔ یہ خیال بالکل غلط ہے۔ کرامت کا ولایت سے چولی دامن کا ساتھ ہے نہ اس کے لیے شرط۔ یہ ایک الگ چیز ہے کہ اگر کسی سے کرامت ظاہر ہوجائے تو اللہ کی مشیت ہے، اس میں اس بزرگ کی مشیت شامل نہیں ہے۔ لیکن کسی متقی مومن اور متبع سنت سے کرامت کا ظہور ہو یا نہ ہو، اس کی ولایت میں کوئی شک نہیں۔ خوف کا تعلق مستقبل سے ہے اور غم (حزن) کا ماضی سے، مطلب یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے زندگی خدا خوفی کے ساتھ گزاری ہوتی ہے۔ اس لیے قیامت کی ہولناکیوں کا اتنا خوف ان پر نہیں ہوگا، جس طرح دوسروں کو ہوگا۔ بلکہ وہ اپنے ایمان وتقوی کی وجہ سے اللہ کی رحمت وفضل خاص کے امیدوار اور اس کے ساتھ حسن ظن رکھنے والے ہوں گے۔ اسی طرح دنیا میں وہ جو کچھ چھوڑ گئے ہوں گے یا دنیا کی لذتیں انھیں حاصل نہ ہوسکی ہوں گی، ان پر انھیں کوئی حزن وملال نہیں ہوگا۔ ایک دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ دنیا میں جو مطلوبہ چیزیں انھیں نہ ملیں، اس پر وہ غم وحزن کا مظاہرہ نہیں کرتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ سب اللہ کی قضا و تقدیر ہے۔ جس سے ان ان کے دلوں میں کوئی کدورت پیدا نہیں ہوتی، بلکہ ان کے دل قضائے الہی پر مسرور و مطمئن رہتے ہیں۔
(آیت 62) {اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ …: ” اَلَا “} حرف تنبیہ کہلاتا ہے، یعنی خوب سن لو، آگاہ ہو جاؤ، بہت اہم بات ہونے والی ہے۔ حافظ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ نے ایک رسالہ لکھا ہے {” اَلْاَخْلَاقُ وَ السِّيَرُ “} جس میں اپنی زندگی کے تجربات کا نچوڑ بیان فرمایا ہے، اس میں وہ فرماتے ہیں: ”میں نے غور کیا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ دنیا میں جو شخص کوئی بھی محنت کرتا ہے اس کے پیش نظر خوشی کا حصول اور خوف (و غم) سے بچنا ہوتا ہے۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خوشی کے حصول اور خوف و غم سے بچنے کا طریقہ بیان فرمایا ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ولایت اور دوستی کا حصول۔ چنانچہ فرمایا: ”سن لو! بے شک اللہ کے دوست، ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“ یعنی آخرت میں یا دنیا اور آخرت دونوں میں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ خوف (ڈر) آنے والی چیز کا ہوتا ہے اور غم گزری ہوئی مصیبت کا۔ اللہ تعالیٰ کے اولیاء (دوستوں) کو مستقبل کا کوئی خوف نہیں، کیونکہ آخرت میں وہ ہر خوف سے آزاد ہوں گے۔ وہاں انھیں نہ کسی مصیبت کے آنے یا نعمت کے چھن جانے کا خوف ہو گا، نہ کسی گزشتہ چیز کا غم۔ اس کے برعکس چونکہ اللہ کے دشمنوں کا نہ آخرت پر ایمان ہے نہ اس کی نعمتوں میں ان کا کوئی حصہ، فرمایا: «{ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِيْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ}» [ ہود: ۱۶ ] ”یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور برباد ہو گیا جو کچھ انھوں نے اس دنیا میں کیا اور بے کار ہے جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔“ اس لیے ان کا ایک ایک لمحہ خوف میں گزرتا ہے، جو نعمت انھیں حاصل ہے اس کے چھن جانے کا خوف اور جو حاصل نہیں اس کے حاصل نہ ہو سکنے کا غم، پھر موت کا خوف، پھر بعد میں کیا ہو گا، کچھ خبر ہی نہیں، غرض خوف ہی خوف۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے اموال و اولاد کو بھی حیاتِ دنیا میں انھیں عذاب دینے کا ذریعہ بتایا۔ اللہ کے اولیاء کو آخرت میں کوئی غم نہیں ہو گا، کیونکہ ان پر دنیا میں گزری ہوئی ہر تکلیف جنت کی ایک ڈبکی سے کافور ہو جائے گی، پھر غم کیسا؟ دنیا میں آنے والی مصیبتیں دنیا میں بھی ان کے لیے کفار کی طرح غم کا باعث نہیں بنتیں، کیونکہ ایک تو انھیں ہر مصیبت پر اجر کی امید ہوتی ہے، دوسرے تقدیر پر ان کا ایمان انھیں کفار جیسے غم سے بچاتا ہے کہ اللہ کی تقدیر میں لکھی ہوئی کوئی مصیبت ہماری کسی تدبیر سے نہ ٹل سکتی تھی، نہ ٹل سکتی ہے، پھر غم سے کیا حاصل، فرمایا: «{ لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ }» [الحدید: ۲۳ ] ”تاکہ تم نہ اس پر غم کر و جو تمھارے ہاتھ سے نکل جائے اور نہ اس پر پھول جاؤ جو وہ تمھیں عطا کرے۔“
یہ وه لوگ ہیں جو ایمان ﻻئے اور (برائیوں سے) پرہیز رکھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ (اللہ کے دوست) وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیا۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جو ایمان لائے اور بچا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اولیاء اللہ کا تعارف ٭٭
اولیا اللہ وہ ہیں جن کے دلوں میں ایمان و یقین ہو، جن کا ظاہر تقویٰ اور پرہیزگاری میں ڈوبا ہوا ہو، جتنا تقویٰ ہوگا، اتنی ہی ولایت ہوگی۔ ایسے لوگ محض نڈر اور بے خوف ہیں قیامت کے دن کی وحشت ان سے دور ہے، نہ وہ کبھی غم و رنج سے آشنا ہوں گے۔ دنیا میں جو چھوٹ جائے اس پر انہیں حسرت و افسوس نہیں ہوتا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اور بہت سے سلف صالحین فرماتے ہیں کہ ”اولیاء اللہ وہ ہیں جن کے چہرہ دیکھنے سے اللہ یاد آ جائے۔“ بزار کی مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ وہ حدیث مرسلاً بھی مروی ہے۔ [طبرانی کبیر:12325] ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں جن پر انبیاء اور شہدا بھی رشک کریں گے } لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون ہیں؟ ہمیں بتائیے تاکہ ہم بھی ان سے محبت و الفت رکھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ لوگ ہیں جو صرف اللہ کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ہیں۔ مالی فائدے کی وجہ سے انہیں رشتے داری اور نسب کی بناء پر نہیں، صرف اللہ کے دین کی وجہ سے ان کے چہرے نورانی ہوں گے یہ نور کے منبروں پر ہوں گے۔ سب کو ڈر خوف ہو گا لیکن یہ بالکل بے خوف اور محض نڈر ہوں گے جب لوگ غمزدہ ہوں گے یہ بے غم ہوں گے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی }۔ یہی روایت منقطع سند سے ابوداؤد میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3527،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مسند احمد کی ایک مطول حدیث میں ہے کہ { دور دراز کے رہنے والے خاندانوں اور برادریوں سے الگ شدہ لوگ جن میں کوئی رشتہ کنبہ قوم برادری نہیں وہ محض توحید و سنت کی وجہ سے اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے کے لیے آپس میں ایک ہو گئے ہوں گے اور آپس میں میل ملاپ، محبت، مودت، دوستی اور بھائی چارہ رکھتے ہونگے، دین میں سب ایک ہوں گے، ان کے لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نورانی منبر بچھا دے گا جن پر وہ عزت سے تشریف رکھیں گے۔ لوگ پریشان ہوں گے لیکن یہ با اطمینان ہوں گے۔ یہ ہیں وہ اللہ کے اولیا جن پر کوئی خوف غم نہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد343/5:ضعیف]
خوابوں کے بارے میں ٭٭
خوابوں کے بارے میں مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارتوں کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ { یہ نیک خواب ہیں جنہیں مسلمان دیکھے یا اس کے لیے دکھائے جائیں } }۔ [مسند احمد445/6، صحیح] سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے جب اس کا سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے آج مجھ سے وہ باپ پوچھی جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی سوائے اس شخص کے جس نے یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جواب کے دینے سے پہلے نہیں فرمایا تھا کہ ’ تجھ سے پہلے میرے کسی امتی نے مجھ سے یہ سوال نہیں کیا ‘۔ خود انہی صحابی رضی اللہ عنہ سے جب سائل نے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی یہ فرما کر پھر تفسیر مرفوع حدیث سے بیان فرمائی۔ اور روایت میں ہے { سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ آخرت کی بشارت تو جنت ہے دنیا کی بشارت کیا ہے؟ فرمایا: { نیک خواب جسے بندہ دیکھے یا اس کے لیے اوروں کو دکھائے جائیں، یہ نبوت کا چوالیسواں یا سترواں جز ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17735:ضعیف] ۔ { سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ انسان نیکیاں کرتا ہے پھر لوگوں میں اس کی تعریف ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہی دنیوی بشارت ہے } }۔ [صحیح مسلم2642] فرماتے ہیں کہ { دنیا کی بشارت نیک خواب ہیں جن سے مومن کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ یہ نبوت کا انچاسواں حصہ ہے اس کے دیکھنے والے کو اسے بیان کرنا چاہیئے اور جو اس کے سوا دیکھے وہ شیطانی خواب ہیں تاکہ اسے غم زدہ کر دے۔ چاہیئے کہ ایسے موقعہ پر تین دفعہ بائیں جانب تھتکار دے۔ اللہ کی بڑائی بیان کرے اور کسی سے اس خواب کو بیان نہ کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:219/2:صحیح لغیرہ] اور روایت میں ہے کہ { نیک خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17769:صحیح بالشواہد]
اور حدیث میں ہے { دنیوی بشارت نیک خواب، اور اُخروی بشارت جنت }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17743:ضیعف] ۔ ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نبوت جاتی رہی خوشخبریاں رہ گئیں } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17743، ضعیف] ۔ «بُشْرَىٰ» کی یہی تفسیر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ، مجاہد رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ، ابن زبیر، یحییٰ بن ابی کثیر، ابراہیم نخعی، عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سلف صالحین سے مروی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے وہ خوشخبری ہے جو مومن کو اس کی موت کے وقت فرشتے دیتے ہیں جس کا ذکر «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:30-32] میں ہے کہ ’ سچے پکے مومنوں کے پاس فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم خوف نہ کرو، تم غم نہ کرو، تمہیں ہم اس جنت کی خوشخبری سناتے ہیں جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔ ہم دنیا و آخرت میں تمہارے کار ساز ولی ہیں۔ سنو تم جو چاہو گے جنت میں پاؤ گے، جو مانگو گے ملے گا۔ تم غفور و رحیم اللہ کے خاص مہمان بنو گے ‘۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں ہے مومن کی موت کے وقت نورانی سفید چہرے والے پاک صاف اجلے سفید کپڑوں والے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں اے پاک روح چل کشادگی راحت تروتازگی اور خوشبو اور بھلائی کی طرف چل۔
تیرے اس پالنہار کی طرف جو تجھ سے کبھی خفا نہیں ہونے کا۔ پس اس کی روح اس بشارت کو سن کر اس کے منہ سے اتنی آسانی اور شوق سے نکلتی ہے جیسے مشک کے منہ سے پانی کا کوئی قطرہ چھو جائے۔ اور آخرت کی بشارت کا ذکر «لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰىِٕكَةُ ھٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:103] میں ہے یعنی ’ انہیں اس دن کی زبردست پریشانی بالکل ہی نہ گھبرائے گی ادھر ادھر سے ان کے پاس فرشتے آئے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ اس دن کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا تھا ‘۔ ایک آیت میں ہے «يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْيَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» ۱؎ [57-الحديد:12] ’ جس دن تو مومن مردوں عورتوں کو دیکھے گا کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور دائیں طرف چل رہا ہوگا، لو تم خوشخبری سن لو کہ آج تمہیں وہ جنتیں ملیں گی، جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں، جہاں کی رہائش ہمیشہ کی ہوگی، یہی زبردست کامیابی ہے، اللہ کا وعدہ غلط نہیں ہوتا ‘۔ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا، اس نے جو فرما دیا سچ ہے، ثابت ہے، اٹل ہے یقینی اور ضروری ہے۔ یہ ہے پوری مقصد آوری، یہ ہے زبردست کامیابی، یہ ہے مراد کا ملنا اور یہ ہے گود کا بھرنا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 63){الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا يَتَّقُوْنَ:} کچھ لوگوں نے اولیاء اللہ کچھ انوکھی قسم کے مافوق الفطرت آدمیوں کو سمجھ رکھا ہے، جن سے عجیب و غریب کرامتیں اور شعبدے ظاہر ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق پھر یہ بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے کہ دیکھا جائے ان کا عقیدہ کیا ہے؟ وہ موحد ہیں یا مشرک، وہ نماز بھی پڑھتے ہیں یا نہیں، پاک دامن اور حلال و حرام کا خیال رکھنے والے بھی ہیں یا نہیں۔ حالانکہ اس قسم کی چیزیں اور شعبدے تو شیطانوں اور ان کے چیلوں مثلاً ہندو جوگیوں سے بھی ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ مسمریزم اور ہپناٹزم کے ماہرین بھی لوگوں کو بے وقوف بناتے رہتے ہیں، خواہ وہ غیر مسلم ہی ہوں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء، یعنی دوستوں کی پہچان خود بتائی کہ {” الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} یعنی وہ لوگ جنھوں نے قرآن و سنت کے مطابق اپنے اعتقاد کو درست کر لیا۔ {” وَ كَانُوْا يَتَّقُوْنَ “} اور ہمیشہ گناہوں سے بچتے رہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری کرتے رہے۔ لفظ {” كَانَ “} تقویٰ کے استمرار اور ہمیشگی پر دلالت کر رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ ہر انسان جو عقیدہ و عمل درست کر لے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرلے وہ اللہ کا ولی ہے۔ لیکن لوگ جنگلوں اور پہاڑوں کے عافیت خانوں میں یا خانقاہوں کے حجروں میں ولیوں کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں، مگر اللہ کے راستے میں جان و مال قربان کرنے والوں سے بڑھ کر اللہ کا ولی (دوست) کون ہو سکتا ہے۔ ولی وہ نہیں جسے سُرخاب کا پر لگا ہوا ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ خود اپنے فرمان کے مطابق تمام اہل ایمان کا ولی ہے، فرمایا: «{ اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا }» [ البقرۃ: ۲۵۷] ”اللہ ان لوگوں کا ولی (دوست) ہے جو ایمان لائے۔“ اور دیکھیے سورۂ مائدہ (۵۵) اور یہ تو ظاہر ہے کہ اللہ جن کا ولی ہے وہ اللہ کے ولی ہیں، کیونکہ دوستی دونوں طرف سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے ولیوں ہی کا ولی ہے، دشمنوں کا ولی ہر گز نہیں۔ پھر دوستی اور دشمنی کے درمیان کوئی مرتبہ نہیں، کوئی بھی شخص یا اللہ کا دوست ہو گا یا دشمن، اب آپ خود سوچ لیں کہ آپ اللہ کے دوست ہیں یا دشمن۔ اللہ کے یہ دوست ہر طبقے میں موجود ہیں، علماء، تاجر، صنعت کار، مزدور، کاشت کار، غرض ضروری نہیں کہ پیر یا مولوی ہی ولی ہو، بلکہ ہر طبقے میں ایمان اور تقویٰ والے لوگ اللہ کے ولی ہیں۔ البتہ ایسا شخص جو غیب کی باتیں بتاتا ہو، یا کائنات میں قدرت و اختیار رکھنے کی ڈینگ مارتا ہو، یا لوگ اس کے سامنے اس کی یہ شان بیان کرتے ہوں اور وہ چپ رہ کر ان کی تائید کرتا ہو، وہ رحمان کا ولی ہرگز نہیں، وہ تو شیطان کا ولی ہے۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ اولیاء کے درجے یقینا مختلف ہیں، اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی خلت، ولایت اور دوستی دوسرے رسولوں کو بھی حاصل نہیں ہو سکی، عام آدمی کو کیسے مل سکتی ہے، پھر انبیاء میں بھی درجے ہیں، فرمایا: «{ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ }» [ البقرۃ: ۲۵۳ ] ”یہ رسول، ہم نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔“ اسی طرح اہل ایمان کے ایمان و تقویٰ کے فرق کے مطابق ان کی ولایت میں بھی فرق ہو گا، ہاں کوئی بھی مخلص مومن اللہ کی ولایت سے یکسر محروم نہیں اور یہ دوستی اپنے درجے کے مطابق قیامت کے دن کسی نہ کسی وقت ضرور کام آئے گی۔ پھر کافر بھی خواہش کریں گے کہ کاش! ہم کسی درجے کے بھی مسلمان ہوتے، فرمایا: «{رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ }» [ الحجر: ۲ ] ”بہت بار چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کاش! وہ مسلمان ہوتے۔“ یعنی جن کے دل میں ذرہ برابر یا اس سے بھی کم ایمان ہو گا وہ جہنم سے نکل کر جنت میں جائیں گے تو کفار چاہیں گے کاش! دنیا میں ہم بھی مسلم بن جاتے، خواہ کسی درجے کے، تاکہ ہمیشہ کے لیے تو جہنم میں نہ رہتے۔
دُنیا اور آخرت دونوں زندگیوں میں ان کے لیے بشارت ہی بشارت ہے اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی خوش خبری ہے اللہ تعالیٰ کی باتوں میں کچھ فرق ہوا نہیں کرتا۔ یہ بڑی کامیابی ہے
احمد رضا خان بریلوی
انہیں خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں، اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کے کلمات میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی یہی بڑی کامیابی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
انھی کے لیے دنیا کی زندگی میں خوش خبری ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کی باتوں کے لیے کوئی تبدیلی نہیں، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اولیاء اللہ کا تعارف ٭٭
اولیا اللہ وہ ہیں جن کے دلوں میں ایمان و یقین ہو، جن کا ظاہر تقویٰ اور پرہیزگاری میں ڈوبا ہوا ہو، جتنا تقویٰ ہوگا، اتنی ہی ولایت ہوگی۔ ایسے لوگ محض نڈر اور بے خوف ہیں قیامت کے دن کی وحشت ان سے دور ہے، نہ وہ کبھی غم و رنج سے آشنا ہوں گے۔ دنیا میں جو چھوٹ جائے اس پر انہیں حسرت و افسوس نہیں ہوتا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اور بہت سے سلف صالحین فرماتے ہیں کہ ”اولیاء اللہ وہ ہیں جن کے چہرہ دیکھنے سے اللہ یاد آ جائے۔“ بزار کی مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ وہ حدیث مرسلاً بھی مروی ہے۔ [طبرانی کبیر:12325] ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں جن پر انبیاء اور شہدا بھی رشک کریں گے } لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون ہیں؟ ہمیں بتائیے تاکہ ہم بھی ان سے محبت و الفت رکھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ لوگ ہیں جو صرف اللہ کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ہیں۔ مالی فائدے کی وجہ سے انہیں رشتے داری اور نسب کی بناء پر نہیں، صرف اللہ کے دین کی وجہ سے ان کے چہرے نورانی ہوں گے یہ نور کے منبروں پر ہوں گے۔ سب کو ڈر خوف ہو گا لیکن یہ بالکل بے خوف اور محض نڈر ہوں گے جب لوگ غمزدہ ہوں گے یہ بے غم ہوں گے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی }۔ یہی روایت منقطع سند سے ابوداؤد میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3527،قال الشيخ الألباني:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مسند احمد کی ایک مطول حدیث میں ہے کہ { دور دراز کے رہنے والے خاندانوں اور برادریوں سے الگ شدہ لوگ جن میں کوئی رشتہ کنبہ قوم برادری نہیں وہ محض توحید و سنت کی وجہ سے اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے کے لیے آپس میں ایک ہو گئے ہوں گے اور آپس میں میل ملاپ، محبت، مودت، دوستی اور بھائی چارہ رکھتے ہونگے، دین میں سب ایک ہوں گے، ان کے لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نورانی منبر بچھا دے گا جن پر وہ عزت سے تشریف رکھیں گے۔ لوگ پریشان ہوں گے لیکن یہ با اطمینان ہوں گے۔ یہ ہیں وہ اللہ کے اولیا جن پر کوئی خوف غم نہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد343/5:ضعیف]
خوابوں کے بارے میں ٭٭
خوابوں کے بارے میں مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارتوں کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ { یہ نیک خواب ہیں جنہیں مسلمان دیکھے یا اس کے لیے دکھائے جائیں } }۔ [مسند احمد445/6، صحیح] سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے جب اس کا سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے آج مجھ سے وہ باپ پوچھی جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی سوائے اس شخص کے جس نے یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جواب کے دینے سے پہلے نہیں فرمایا تھا کہ ’ تجھ سے پہلے میرے کسی امتی نے مجھ سے یہ سوال نہیں کیا ‘۔ خود انہی صحابی رضی اللہ عنہ سے جب سائل نے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی یہ فرما کر پھر تفسیر مرفوع حدیث سے بیان فرمائی۔ اور روایت میں ہے { سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ آخرت کی بشارت تو جنت ہے دنیا کی بشارت کیا ہے؟ فرمایا: { نیک خواب جسے بندہ دیکھے یا اس کے لیے اوروں کو دکھائے جائیں، یہ نبوت کا چوالیسواں یا سترواں جز ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17735:ضعیف] ۔ { سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ انسان نیکیاں کرتا ہے پھر لوگوں میں اس کی تعریف ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہی دنیوی بشارت ہے } }۔ [صحیح مسلم2642] فرماتے ہیں کہ { دنیا کی بشارت نیک خواب ہیں جن سے مومن کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ یہ نبوت کا انچاسواں حصہ ہے اس کے دیکھنے والے کو اسے بیان کرنا چاہیئے اور جو اس کے سوا دیکھے وہ شیطانی خواب ہیں تاکہ اسے غم زدہ کر دے۔ چاہیئے کہ ایسے موقعہ پر تین دفعہ بائیں جانب تھتکار دے۔ اللہ کی بڑائی بیان کرے اور کسی سے اس خواب کو بیان نہ کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:219/2:صحیح لغیرہ] اور روایت میں ہے کہ { نیک خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17769:صحیح بالشواہد]
اور حدیث میں ہے { دنیوی بشارت نیک خواب، اور اُخروی بشارت جنت }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17743:ضیعف] ۔ ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نبوت جاتی رہی خوشخبریاں رہ گئیں } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17743، ضعیف] ۔ «بُشْرَىٰ» کی یہی تفسیر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ، مجاہد رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ، ابن زبیر، یحییٰ بن ابی کثیر، ابراہیم نخعی، عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سلف صالحین سے مروی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے وہ خوشخبری ہے جو مومن کو اس کی موت کے وقت فرشتے دیتے ہیں جس کا ذکر «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:30-32] میں ہے کہ ’ سچے پکے مومنوں کے پاس فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم خوف نہ کرو، تم غم نہ کرو، تمہیں ہم اس جنت کی خوشخبری سناتے ہیں جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔ ہم دنیا و آخرت میں تمہارے کار ساز ولی ہیں۔ سنو تم جو چاہو گے جنت میں پاؤ گے، جو مانگو گے ملے گا۔ تم غفور و رحیم اللہ کے خاص مہمان بنو گے ‘۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں ہے مومن کی موت کے وقت نورانی سفید چہرے والے پاک صاف اجلے سفید کپڑوں والے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں اے پاک روح چل کشادگی راحت تروتازگی اور خوشبو اور بھلائی کی طرف چل۔
تیرے اس پالنہار کی طرف جو تجھ سے کبھی خفا نہیں ہونے کا۔ پس اس کی روح اس بشارت کو سن کر اس کے منہ سے اتنی آسانی اور شوق سے نکلتی ہے جیسے مشک کے منہ سے پانی کا کوئی قطرہ چھو جائے۔ اور آخرت کی بشارت کا ذکر «لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰىِٕكَةُ ھٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:103] میں ہے یعنی ’ انہیں اس دن کی زبردست پریشانی بالکل ہی نہ گھبرائے گی ادھر ادھر سے ان کے پاس فرشتے آئے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ اس دن کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا تھا ‘۔ ایک آیت میں ہے «يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْيَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» ۱؎ [57-الحديد:12] ’ جس دن تو مومن مردوں عورتوں کو دیکھے گا کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور دائیں طرف چل رہا ہوگا، لو تم خوشخبری سن لو کہ آج تمہیں وہ جنتیں ملیں گی، جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں، جہاں کی رہائش ہمیشہ کی ہوگی، یہی زبردست کامیابی ہے، اللہ کا وعدہ غلط نہیں ہوتا ‘۔ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا، اس نے جو فرما دیا سچ ہے، ثابت ہے، اٹل ہے یقینی اور ضروری ہے۔ یہ ہے پوری مقصد آوری، یہ ہے زبردست کامیابی، یہ ہے مراد کا ملنا اور یہ ہے گود کا بھرنا۔
64۔ 1 دنیا میں خوشخبری سے مراد، رؤیائے صادقہ ہیں یا وہ خوشخبری ہے جو موت کے فرشتے ایک مومن کو دیتے ہیں، جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔
(آیت 64) ➊ {لَهُمُ الْبُشْرٰى فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا …: ” لَهُمُ “ } پہلے آنے کی وجہ سے حصر کا معنی پیدا ہو گیا، یعنی دنیا کی زندگی میں خاص خوش خبری انھی کے لیے ہے۔ اس میں کئی چیزیں شامل ہیں: (1) پاکیزہ اور صاف ستھری زندگی، جیسا کہ فرمایا: «{ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً }» [ النحل: ۹۷ ] ”جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقینا ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی۔“ (2) تقدیر پر ایمان کی وجہ سے کفار جیسی بے صبری اور خوف و غم سے محفوظ رہنا، جیسا کہ اوپر گزرا ہے اور فرمایا: «{ اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا (19) اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًا (20) وَ اِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوْعًا (21) اِلَّا الْمُصَلِّيْنَ }» [ المعارج: ۱۹ تا ۲۲ ] ”بلاشبہ انسان تھڑدلا بنایا گیا ہے۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے۔ اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت روکنے والا ہے۔ سوائے نماز ادا کرنے والوں کے۔“ پھر ان نمازیوں کی چند صفات بیان کرنے کے بعد فرمایا: «{ اُولٰٓىِٕكَ فِيْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ }» [ المعارج: ۳۵ ] ”یہی لوگ جنتوں میں عزت دیے جانے والے ہیں۔“ 3 اچھے خواب، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: [ لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الْمُبَشِّرَاتُ، قَالُوْا وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ ] [ بخاری، التعبیر، باب المبشرات: ۶۹۹۰ ] ”نبوت میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی مگر مبشرات (بشارت والی چیزیں)۔“ لوگوں نے پوچھا: ”مبشرات کیا ہیں؟“ فرمایا: ”اچھے خواب۔“ 4 وہ بشارت بھی اس میں شامل ہو سکتی ہے جو دنیا کے آخری وقت میں فرشتے اسے موت کے وقت دیتے ہیں۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں: [ اَلْمُؤْمِنُ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللّٰهِ وَكَرَامَتِهٖ فَلَيْسَ شَيْئٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللّٰهِ وَأَحَبَّ اللّٰهُ لِقَاءَهُ ] [ بخاری، الرقاق، باب من أحب لقاء اللہ…: ۶۵۰۷ ] ” مومن کے پاس جب موت حاضر ہوتی ہے تو اسے اللہ کی رضا اور اس کی طرف سے عزت عطا ہونے کی خوش خبری دی جاتی ہے۔ اس وقت مومن کو کوئی چیز اس سے زیادہ عزیز نہیں ہوتی جو اس کے آگے (جنت اور اللہ کی رضا کی صورت میں) ہوتی ہے، تو وہ اللہ کی ملاقات محبوب رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے (جبکہ کافر کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے)۔“ 5 لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے محبت ہونا اور لوگوں کا اس کی تعریف اور مدح و ثنا کرنا، اگرچہ وہ عبادت اس لیے نہیں کرتا بلکہ محض اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے، مگر اللہ نیک لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے محبت رکھ دیتا ہے۔ دیکھیے سورۂ مریم (۹۶) ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: ”یہ بتائیں کہ آدمی خیر کا کوئی عمل کرتا ہے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَی الْمُؤْمِنِ ] [ مسلم، البر والصلۃ، باب إذا أثنی علی الصالح …: ۲۶۴۲ ] ”یہ مومن کو جلد ملنے والی خوش خبری ہے۔“ 6دعاؤں کی قبولیت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللّٰهِ مَنْ لَّوْ أَقْسَمَ عَلَی اللّٰهِ لَأَبَرَّهُ ] [ بخاری، الصلح، باب الصلح في الدیۃ: ۲۷۰۳ ] ”اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں کہ اگر اللہ پر قسم ڈال دیں تو وہ اسے پورا کر دے۔“ ➋ { وَ فِي الْاٰخِرَةِ:} اس سے وہ تمام بشارتیں مراد ہیں جو مومنوں کو آخرت میں دی گئی ہیں۔ دیکھیے سورۂ زمر (۲۰) اور شوریٰ (۲۲، ۲۳) اور بہت ہی بڑی نعمتیں، مثلاً موت کا ذبح کر دیا جانا، ہمیشہ جنت میں رہنا، اللہ تعالیٰ کا ان سے راضی ہونا اور اللہ تعالیٰ کا دیدار۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی یہ نعمتیں عطا فرمائے۔ (آمین) یہ تمام چیزیں قرآن مجید اور صحیح احادیث میں موجود ہیں۔ ➌ {لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ:} لہٰذا اس کے وہ وعدے پورے ہو کر رہیں گے جو اس نے اہل ایمان سے کر رکھے ہیں۔ ➍ {ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ: ” هُوَ “} ضمیر فصل کہلاتی ہے۔ اس کے تین فائدے ہوتے ہیں، ایک تاکید، دوسرا حصر اور تیسرا موصوف صفت اور مبتدا و خبر میں فرق۔ محلاً اس کا اعراب کچھ نہیں ہوتا، اس لیے ترجمہ ہے ”یہی بہت بڑی کامیابی ہے “ اس کے سوا اول تو کوئی کامیابی وجود ہی نہیں رکھتی، اگر مان بھی لی جائے تو وہ بے حیثیت ہے، اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔
اے نبیؐ، جو باتیں یہ لوگ تجھ پر بناتے ہیں وہ تجھے رنجیدہ نہ کریں، عزّت ساری کی ساری خدا کے اختیار میں ہے، اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور آپ کو ان کی باتیں غم میں نہ ڈالیں۔ تمام تر غلبہ اللہ ہی کے لیے ہے وه سنتا جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور تم ان کی باتو ں کا غم نہ کرو بیشک عزت ساری اللہ کے لیے ہے وہی سنتا جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے رسول) ان (کافروں) کی (معاندانہ) باتیں آپ کو غمزدہ نہ کریں۔ یقینا تمام کی تمام عزت اللہ کے لئے ہے (وہ جسے چاہے عزت و ذلت دے) وہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تجھے ان کی بات غمگین نہ کرے، بے شک عزت سب اللہ کے لیے ہے، وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عزت صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے ٭٭
ان مشرکوں کی باتوں کا کوئی رنج و غم نہ کر۔ اللہ تعالیٰ سے ان پر مدد طلب کر اس پر بھروسہ رکھ، ساری عزتیں اسی کے ہاتھ میں، وہ اپنے رسول کو اور مومنوں کو عزت دے گا۔ وہ بندوں کی باتوں کو خوب سنتا ہے وہ ان کی حالتوں سے پورا خبردار ہے۔ آسمان و زمین کا وہی مالک ہے۔ اس کے سوا جن جن کو تم پوجتے ہو ان میں سے کوئی کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا کوئی نفع نقصان ان کے بس کا نہیں۔ پھر ان کے عبادت بھی محض بے دلیل ہے۔ صرف گمان، اٹکل، جھوٹ اور افترا ہے۔ حرکت، رنج و تعب، تکلیف اور کام کاج سے راحت و آرام سکون و اطمینان حاصل کرنے کے لیے اللہ نے رات بنا دی ہے۔ دن کو اس سے روشن اور اجالے والا بنا دیا ہے تاکہ تم اس میں کام کاج کرو۔ معاش اور روزی کی فکر، سفر تجارت، کاروبار کر سکو، ان دلیلوں میں بہت کچھ عبرت ہے لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو ان آیتوں کو دیکھ کر ان خالق کی عظمت و جبروت کا تصور باندھتے اور اس خالق و مالک کی قدر عزت کرتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 65) ➊ { وَ لَا يَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ …:} اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کی دنیا اور آخرت کی سعادت بیان کرنے کے بعد اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی کہ دشمنوں کی باتوں، مثلاً جادوگر، دیوانہ اور کذاب وغیرہ کہنے سے آپ کو جو تکلیف پہنچی ہے اس سے آپ غم زدہ نہ ہوں۔ غم اگرچہ ایک طبعی چیز ہے مگر آپ نہ بد دل ہوں نہ مایوس، کیونکہ عزت یعنی غلبہ، اقتدار اور فتح تو سب اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہی جسے چاہے غالب اور جسے چاہے مغلوب کرتا ہے، لہٰذا آپ کو ان کافروں کی دھمکیوں، ان کے کفر و شرک اور طعن و تشنیع سے رنجیدہ خاطر ہونے کی ضرورت نہیں، آپ اللہ کے رسول ہیں، آخر کار غلبہ اور اقتدار آپ کو اور آپ کے پیش کردہ دین ہی کو حاصل ہو گا۔ نیز دیکھیے سورۂ مجادلہ (۲۱) اور منافقون (۸)۔ ➋ {هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ: } وہ ان کی فضول باتیں سن رہا ہے اور آپ کے ساتھ ان کا سلوک بھی خوب جانتا ہے، وہ جلد ہی آپ کے مخالفین سے نپٹ لے گا۔
آگاہ رہو! آسمان کے بسنے والے ہوں یا زمین کے، سب سے سب اللہ کے مملوک ہیں اور جو لوگ اللہ کے سوا کچھ (اپنے خودساختہ) شریکوں کو پکار رہے ہیں وہ نِرے وہم و گمان کے پیرو ہیں اور محض قیاس آرائیاں کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یاد رکھو کہ جتنے کچھ آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں یہ سب اللہ ہی کے ہیں اور جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے شرکا کی عبادت کررہے ہیں کس چیز کی اتباع کر رہے ہیں۔ محض بے سند خیال کی اتباع کر رہے ہیں اور محض اٹکلیں لگا رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
سن لو بیشک اللہ ہی کے مِلک ہیں جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمینوں میں اور کاہے کے پیچھے جارہے ہیں وہ جو اللہ کے سوا شریک پکار رہے ہیں، وہ تو پیچھے نہیں جاتے مگر گمان کے اور وہ تو نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے
علامہ محمد حسین نجفی
آگاہ ہو جاؤ وہ تمام ہستیاں جو آسمان میں ہیں اور وہ سب جو زمین میں ہیں اللہ ہی کے مملوک اور اسی کے تابعِ فرمان ہیں۔ اور جو (مشرک) لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ کاہے کی پیروی کر رہے ہیں؟ وہ محض اپنے گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور صرف اپنی اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
سن لو! بے شک اللہ ہی کے لیے ہے جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور جو لوگ اللہ کے غیر کو پکارتے ہیں وہ کسی بھی قسم کے شریکوں کی پیروی نہیں کر رہے۔ وہ پیروی نہیں کرتے مگر گمان کی اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عزت صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے ٭٭
ان مشرکوں کی باتوں کا کوئی رنج و غم نہ کر۔ اللہ تعالیٰ سے ان پر مدد طلب کر اس پر بھروسہ رکھ، ساری عزتیں اسی کے ہاتھ میں، وہ اپنے رسول کو اور مومنوں کو عزت دے گا۔ وہ بندوں کی باتوں کو خوب سنتا ہے وہ ان کی حالتوں سے پورا خبردار ہے۔ آسمان و زمین کا وہی مالک ہے۔ اس کے سوا جن جن کو تم پوجتے ہو ان میں سے کوئی کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا کوئی نفع نقصان ان کے بس کا نہیں۔ پھر ان کے عبادت بھی محض بے دلیل ہے۔ صرف گمان، اٹکل، جھوٹ اور افترا ہے۔ حرکت، رنج و تعب، تکلیف اور کام کاج سے راحت و آرام سکون و اطمینان حاصل کرنے کے لیے اللہ نے رات بنا دی ہے۔ دن کو اس سے روشن اور اجالے والا بنا دیا ہے تاکہ تم اس میں کام کاج کرو۔ معاش اور روزی کی فکر، سفر تجارت، کاروبار کر سکو، ان دلیلوں میں بہت کچھ عبرت ہے لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو ان آیتوں کو دیکھ کر ان خالق کی عظمت و جبروت کا تصور باندھتے اور اس خالق و مالک کی قدر عزت کرتے ہیں۔
66۔ 1 یعنی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں، بلکہ محض ظن او تخمین اور رائے و قیاس کی کرشمہ سازی ہے۔ آج اگر انسان اپنے قوائے عقل و فہم کو صحیح طریقے سے استعمال میں لائے تو یقینا اس پر واضح ہوسکتا ہے کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے جس طرح وہ آسمان اور زمین کی تخلیق میں واحد ہے، کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو پھر عبادت میں دوسرے کیوں کر اس کے شریک ہوسکتے ہیں۔
(آیت 66) ➊ {اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ: ” اَلَاۤ “} سے خبردار کیا کہ بات پر غور کرو۔ {” مَنْ “ } کا لفظ عام طور پر ذوی العقول یعنی انسان، جن اور فرشتوں پر بولا جاتا ہے۔ اس جملے سے دو باتیں نہایت واضح ہیں، ایک تو یہ کہ جب آسمان و زمین کا ہر شخص انسان ہو یا جن یا فرشتہ، وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، تو یہ کفار و مشرکین بھی، جو آپ کی مخالفت کر رہے ہیں، اسی کی ملکیت ہوئے، وہی ان کے معاملات جس طرح چاہتا ہے چلاتا ہے، لہٰذا آپ کو ان کی ایذا رسانی اور طعن و تشنیع سے رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ آپ کو کوئی ایسی تکلیف نہیں پہنچا سکتے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہ دی ہو اور اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت نہ ہو۔ دوسری یہ کہ جب یہ تینوں افضل مخلوقات اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہیں تو باقی چیزیں، پتھر، بت، دریا، درخت، جانور اور قبریں تو بدرجۂ اولیٰ اس کی ملکیت ہیں۔ تو کتنی بے عقلی کی بات ہے کہ مالک کو چھوڑ کر مملوک کی پرستش کی جائے، اس لیے اس کے ساتھ ہی شرک کی تردید فرمائی۔ (شوکانی، ابن کثیر) ➋ { وَ مَا يَتَّبِعُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ:} یعنی حقیقت میں تو کوئی بھی اللہ کا شریک نہیں کہ یہ کہا جائے کہ فلاں اللہ کا شریک ہے۔ مملوک مالک کا شریک کیسے ہو سکتا ہے؟ رہا یہ سوال کہ پھر اتنے بے شمار لوگوں نے جو شریک بنا رکھے ہیں یہ کیسے بن گئے؟ فرمایا، اللہ کے سوا جس کسی کی بھی کوئی پوجا کرتا ہے، اسے مشکل کشا یا حاجت روا سمجھتا یا اسے پکارتا ہے، ان میں سے کسی شریک کا بھی حقیقت میں کوئی وجود نہیں، وہ محض ان مشرکوں کے وہم اور خیال کے تراشے ہوئے خاکے ہیں اور حقیقت میں تمام مشرک خواہ بت پرست ہوں، قبر پرست یا کسی بھی چیز کو پوجنے والے، وہ محض اپنے خیال ہی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور اسی کی پوجا کر رہے ہیں۔ البتہ اپنے وہم و گمان کے تراشے ہوئے خاکے کا انھوں نے کوئی نہ کوئی نام رکھ چھوڑا ہے، کوئی لات، کوئی عزیٰ، کوئی غوث، کوئی مشکل کشا، کوئی دستگیر، کوئی داتا۔ دیکھیے سورۂ نجم (۲۳ تا ۲۸)۔ ➌ {” وَ مَا يَتَّبِعُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ “} میں بعض علماء نے {” مَا “} کو استفہامیہ بنایا ہے، گویا معنی یہ ہو گا کہ جو لوگ اللہ کے سوا شرکاء کو پکارتے ہیں، آخر وہ کیا چیز ہے جسے وہ پکار رہے ہیں؟ کیونکہ کسی شریک کا تو وجود ہی نہیں، پھر خود ہی اس سوال کا جواب دیا کہ وہ محض اپنے وہم و گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ ➍ { اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ …:} یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اور نہ دلیل کو دیکھتے ہیں، اگر عقل سے کام لیتے اور دلیل پر غور کرتے تو انھیں صاف معلوم ہو جاتا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق اور اکیلا معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہو سکتا۔ ان کے پاس وہم و گمان اور اٹکل پچو کے سوا کچھ بھی نہیں۔
وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو (کھلے کانوں سے پیغمبر کی دعوت کو) سنتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
وه ایسا ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن بھی اس طور پر بنایا کہ دیکھنے بھالنے کا ذریعہ ہے، تحقیق اس میں دﻻئل ہیں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں چین پاؤ اور دن بنایا تمہاری آنکھوں کھولتا بیشک اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (خدا) وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور دیکھنے کے لئے دن کو روشن بنایا (تاکہ اس میں کام کرو) بے شک اس میں ان لوگوں کیلئے (قدرتِ خدا کی) نشانیاں ہیں جو (کلامِ حق) سنتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہی ہے جس نے تمھارے لیے رات بنائی، تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن۔ بے شک اسی میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عزت صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے ٭٭
ان مشرکوں کی باتوں کا کوئی رنج و غم نہ کر۔ اللہ تعالیٰ سے ان پر مدد طلب کر اس پر بھروسہ رکھ، ساری عزتیں اسی کے ہاتھ میں، وہ اپنے رسول کو اور مومنوں کو عزت دے گا۔ وہ بندوں کی باتوں کو خوب سنتا ہے وہ ان کی حالتوں سے پورا خبردار ہے۔ آسمان و زمین کا وہی مالک ہے۔ اس کے سوا جن جن کو تم پوجتے ہو ان میں سے کوئی کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا کوئی نفع نقصان ان کے بس کا نہیں۔ پھر ان کے عبادت بھی محض بے دلیل ہے۔ صرف گمان، اٹکل، جھوٹ اور افترا ہے۔ حرکت، رنج و تعب، تکلیف اور کام کاج سے راحت و آرام سکون و اطمینان حاصل کرنے کے لیے اللہ نے رات بنا دی ہے۔ دن کو اس سے روشن اور اجالے والا بنا دیا ہے تاکہ تم اس میں کام کاج کرو۔ معاش اور روزی کی فکر، سفر تجارت، کاروبار کر سکو، ان دلیلوں میں بہت کچھ عبرت ہے لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو ان آیتوں کو دیکھ کر ان خالق کی عظمت و جبروت کا تصور باندھتے اور اس خالق و مالک کی قدر عزت کرتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 67) ➊ {هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ …:} اپنی قدرت، احسان اور وحدانیت کی ایک اور دلیل بیان فرمائی۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ قصص (۷۱ تا ۷۳) {” مُبْصِرًا “ } کا لفظی معنی ہے دیکھنے والا، یہ باب لازم بھی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی روشن، دن روشن ہوتا ہے تو ہرچیز نظر آنے لگتی ہے، رات اندھیری ہوتی ہے تو سکون و اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ ➋ { لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ:} یعنی ان میں صرف یہی حکمت نہیں جو ذکر فرمائی ہے، بلکہ رات اور دن کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے اور بھی بہت سے دلائل ہیں۔ {” لَاٰيٰتٍ “} بہت سی نشانیاں اور دلائل۔
لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے سبحان اللہ! وہ تو بے نیاز ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اس کی ملک ہے تمہارے پاس اس قول کے لیے آخر کیا دلیل ہے؟ کیا تم اللہ کے متعلق وہ باتیں کہتے ہو جو تمہارے علم میں نہیں ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
وه کہتے ہیں کہ اللہ اوﻻد رکھتا ہے۔ سبحان اللہ! وه تو کسی کا محتاج نہیں اسی کی ملکیت ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ تمہارے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں۔ کیا اللہ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے
احمد رضا خان بریلوی
بولے اللہ نے اپنے لیے اولاد بنائی پاکی اس کو، وہی بے نیاز ہے، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں تمہارے پاس اس کی کوئی بھی سند نہیں، کیا اللہ پر وہ بات بتاتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنا کوئی بیٹا بنایا ہے حالانکہ وہ پاک و بے نیاز ہے اور اس کیلئے زمین و آسمان کی ساری کائنات ہے۔ تمہارے پاس تو تمہاری بات کی کوئی دلیل بھی نہیں ہے۔ کیا تم لوگ خدا پر وہ الزام لگاتے ہو جس کا تمہیں علم بھی نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے۔ وہ پاک ہے، وہی بے پروا ہے، اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، تمھارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں، کیا تم اللہ پر وہ کہتے ہو جو نہیں جانتے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ساری مخلوق صرف اس کی ملکیت ہے ٭٭
جو لوگ اللہ کی اولاد مانتے تھے، ان کے عقیدے کا بطلان بیان ہو رہا ہے کہ ’ اللہ اس سے پاک ہے، وہ سب سے بے نیاز ہے، سب اس کے محتاج ہیں، زمین و آسمان کی ساری مخلوق اس کی ملکیت ہے، اس کی غلام ہے، پھر ان میں سے کوئی اس کی اولاد کیسے ہو جائے تمہارے اس جھوٹ اور بہتان کی خود تمہارے پاس بھی کوئی دلیل نہیں۔ تم تو اللہ پر بھی اپنی جہالت سے باتیں بنانے لگے۔ تمہارے اس کلمے سے تو ممکن ہے کہ آسمان پھٹ جائیں، زمین شق ہو جائے، پہاڑ ٹوٹ جائیں کہ «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» ۱؎ [19-مريم:88-95] تم اللہ رحمن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے ہو؟ بھلا اس کی اولاد کیسے ہو گی؟ اسے تو یہ لائق نہیں زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی غلامی میں حاضر ہونے والی ہے۔ سب اس کے شمار میں ہیں۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے۔ ہر ایک تنہا تنہا اس کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔ یہ افترا پرداز گروہ ہر کامیابی سے محروم ہے۔ دنیا میں انہیں کچھ مل جائے تو وہ عذاب کا پیش خیمہ اور سزاؤں کی زیادت کا باعث ہے۔ آخر ایک وقت آئے گا جب عذاب میں گرفتار ہو جائیں گے۔ سب کا لوٹنا اور سب کا اصلی ٹھکانا تو ہمارے ہاں ہے۔ یہ کہتے تھے اللہ کا بیٹا ہے ان کے اس کفر کا ہم اس وقت ان کو بدلہ چکھائیں گے جو نہایت سخت اور بہت بدترین ہوگا ‘۔
68۔ 1 اور جو کسی کا محتاج نہ ہو، اسے اولاد کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اولاد تو سہارے کے لئے ہوتی ہے اور جب وہ سہارے کا محتاج نہیں تو پھر اسے اولاد کی کیا ضرورت؟ 68۔ 2 جب آسمان اور زمین کی ہر چیز اسی کی ہے تو ہر چیز اسی کی مملوک اور غلام ہوئی۔ پھر اسے اولاد کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اولاد کی ضرورت تو اسے ہوتی ہے، جسے کچھ مدد اور سہارے کی ضرورت ہو، علاوہ ازیں اولاد کی ضرورت وہ شخص بھی محسوس کرتا ہے جو اپنے بعد مملوکات کا وارث دیکھنا یا پسند کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو تو فنا ہی نہیں اس لئے اللہ کے لئے اولاد قرار دینا بڑا جرم ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (تَكَاد السَّمٰوٰتُ يَــتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا 90 ۙ اَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا 91ۚ) 19۔ مریم:90) ' اس بات سے کہ وہ کہتے ہیں رحمٰن کی اولاد ہے، قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں۔
(آیت 68) ➊ {قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا: } یہاں ان کے ایک اور غلط عقیدے اور باطل خیال کی تردید کی ہے۔ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے، یہود عزیر علیہ السلام کو اور نصاریٰ مسیح علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے، ان کے اس عقیدے کی بنیاد بھی چونکہ محض ظن و تخمین پر تھی، اس لیے یہاں {” اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ “ } کے تحت اس کی بھی تردید فرما دی۔ ➋ { سُبْحٰنَهٗ هُوَ الْغَنِيُّ:} یہ ان کے شرک کو رد کرنے اور صرف اکیلے اللہ کے غنی ہونے کی دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی کا محتاج نہیں کہ اسے بیٹے یا بیٹی کی ضرورت ہو، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، آسمان و زمین کی ہر چیز اس کی ملکیت ہے، جبکہ بیٹا ملکیت نہیں بلکہ جانشین ہوتا ہے، پھر اولاد کا حاصل کرنا شہوت و لذت کو چاہتا ہے جو دونوں چیزیں بیوی کا محتاج بناتی ہیں، جبکہ اللہ کسی کا محتاج نہیں، وہ اکیلی ذات ہی تو غنی اور ہر ایک سے بے پروا ہے۔ {” هُوَ الْغَنِيُّ “} میں {” هُوَ “} کے بعد {” الْغَنِيُّ “} پر الف لام کا معنی ہی یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی غنی، کوئی بے پروا ہے ہی نہیں، سب محتاج ہیں۔ اولاد وہی حاصل کرتا ہے جو فانی ہو، تاکہ اس کے فنا ہونے کے بعد اولاد اس کی قائم مقام ہو جائے، اللہ تعالیٰ کی ذات ازلی اور ابدی ہے، شہوت و لذت اور فقر و احتیاج سے پاک اور بالا ہے، لہٰذا اس کی طرف اولاد کی نسبت سرے سے محال ہے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۱۱)، کہف (۴، ۵) اور مریم (۸۸ تا ۹۰)۔ ➌ { اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا:} ان کے عقیدے کو دلیل سے رد کرنے کے بعد مزید رد اور انکار کے لیے فرمایا کہ ان کے پاس اس کی قطعاً کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر وہ بات جس کے ساتھ اس کی دلیل نہ ہو توجہ کے قابل نہیں ہوتی۔ (شوکانی) ➍ { اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ:} یہ نہایت مبالغہ کے ساتھ ان کے گمان کی تردید ہے، یعنی تم وہ بات کہتے ہو جس کا تمھیں کوئی علم نہیں، کیا تم سب سے عظیم اور ہر چیز کی مالک ہستی اللہ تعالیٰ پر وہ بات کہتے ہو جس کی نہ تمھارے پاس کوئی دلیل ہے اور نہ کوئی علم۔ محض جہل کی بنیاد پر بہتان باندھ رہے ہو۔ آلوسی نے فرمایا: ”اس آیت میں دلیل ہے کہ ہر وہ بات جس کی دلیل نہ ہو علم نہیں بلکہ جہل ہے، جب کہ عقیدے کے لیے قطعی یقینی علم ضروری ہے اور یہ کہ تقلید کا ہدایت سے کوئی تعلق نہیں۔“ قرآن مجید نے کئی جگہ اہل باطل سے دلیل کا مطالبہ کیا ہے، فرمایا: «{ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ }» [ البقرۃ: ۱۱۱ ] ”کہہ دے لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔“ مزید دیکھیے سورۂ انبیاء (۲۴)، نمل (۶۴) اور قصص (۷۵)۔
اے محمدؐ، کہہ دو کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹے افترا باندھتے ہیں وہ ہرگز فلاح نہیں پا سکتے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ افترا کرتے ہیں، وه کامیاب نہ ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ وہ جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) کہہ دیجئے جو لوگ خدا پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے بے شک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ساری مخلوق صرف اس کی ملکیت ہے ٭٭
جو لوگ اللہ کی اولاد مانتے تھے، ان کے عقیدے کا بطلان بیان ہو رہا ہے کہ ’ اللہ اس سے پاک ہے، وہ سب سے بے نیاز ہے، سب اس کے محتاج ہیں، زمین و آسمان کی ساری مخلوق اس کی ملکیت ہے، اس کی غلام ہے، پھر ان میں سے کوئی اس کی اولاد کیسے ہو جائے تمہارے اس جھوٹ اور بہتان کی خود تمہارے پاس بھی کوئی دلیل نہیں۔ تم تو اللہ پر بھی اپنی جہالت سے باتیں بنانے لگے۔ تمہارے اس کلمے سے تو ممکن ہے کہ آسمان پھٹ جائیں، زمین شق ہو جائے، پہاڑ ٹوٹ جائیں کہ «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» ۱؎ [19-مريم:88-95] تم اللہ رحمن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے ہو؟ بھلا اس کی اولاد کیسے ہو گی؟ اسے تو یہ لائق نہیں زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی غلامی میں حاضر ہونے والی ہے۔ سب اس کے شمار میں ہیں۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے۔ ہر ایک تنہا تنہا اس کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔ یہ افترا پرداز گروہ ہر کامیابی سے محروم ہے۔ دنیا میں انہیں کچھ مل جائے تو وہ عذاب کا پیش خیمہ اور سزاؤں کی زیادت کا باعث ہے۔ آخر ایک وقت آئے گا جب عذاب میں گرفتار ہو جائیں گے۔ سب کا لوٹنا اور سب کا اصلی ٹھکانا تو ہمارے ہاں ہے۔ یہ کہتے تھے اللہ کا بیٹا ہے ان کے اس کفر کا ہم اس وقت ان کو بدلہ چکھائیں گے جو نہایت سخت اور بہت بدترین ہوگا ‘۔
69۔ 1 افترا کے معنی جھوٹی بات کہنے کے ہیں۔ اس کے بعد مذید ' جھوٹ ' کا اضافہ تاکید کے لئے۔ 69۔ 2 اس سے واضح ہے کہ کامیابی سے مراد آخرت کی کامیابی یعنی اللہ کے غضب اور اس کے عذاب سے بچ جانا محض دنیا کی عارضی خوش حالی، کامیابی نہیں۔ جیسا کہ بہت سے لوگ کافروں کی عارضی خوشحالی سے مغالطے کا اور شکوک و شبہات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے اگلی آیت میں فرمایا: " یہ دنیا میں تھوڑا سا عیش کرلیں پھر ہمارے ہی پاس ان کو آنا ہے " یعنی یہ دنیا کا عیش، آخرت کے مقابلے میں نہایت قلیل اور تھوڑا سا ہے جو شمار میں نہیں۔ اس کے بعد انھیں عذاب شدید سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اس لیے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ کافروں، مشرکوں اور اللہ کے نافرمانوں کی دنیاوی خوشحالی اور مادی ترقیاں، یہ اس بات کی دلیل نہیں ہیں کہ یہ قومیں کامیاب ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہے۔ یہ مادی کامیابیاں ان کی جہد مسلسل کا ثمرہ ہیں جو اسباب ظاہر کے مطابق ہر اس قوم کو حاصل ہوسکتی ہیں۔ جو اسباب کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کی طرح محنت کرے گی، چاہے وہ مومن ہو یا کافر۔ علاوہ ازیں یہ عارضی کامیابیاں اللہ کے قانون مہلت کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہیں۔ جس کی وضاحت اس سے قبل بعض جگہ ہم پہلے بھی کرچکے ہیں۔
(آیت 69){ قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ …:} افترا کا معنی ہی جھوٹ گھڑنا ہے۔ {” الْكَذِبَ “} کا لفظ تاکید کے لیے ہے، یعنی جو لوگ جھوٹ بکتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھتے ہیں وہ تو کسی طور بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ (شوکانی)
دنیا کی چند روزہ زندگی میں مزے کر لیں، پھر ہماری طرف اُن کو پلٹنا ہے پھر ہم اس کفر کے بدلے جس کا ارتکاب وہ کر رہے ہیں ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ دنیا میں تھوڑا سا عیش ہے پھر ہمارے پاس ان کو آنا ہے پھر ہم ان کو ان کے کفر کے بدلے سخت عذاب چکھائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
دنیا میں کچھ برت لینا (فائدہ اٹھانا) ہے پھر انہیں ہماری طرف واپس آنا پھر ہم انہیں سخت عذاب چکھائیں گے بدلہ ان کے کفر کا،
علامہ محمد حسین نجفی
(ان کے لئے صرف) دنیا میں تھوڑا سا فائدہ ہے پھر ان کی بازگشت ہماری طرف ہے پھر ہم ان کو ان کے کفر کی پاداش میں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
دنیا میں تھوڑا سا فائدہ ہے، پھر ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے، پھر ہم انھیں بہت سخت عذاب چکھائیں گے، اس کی وجہ سے جو وہ کفر کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ساری مخلوق صرف اس کی ملکیت ہے ٭٭
جو لوگ اللہ کی اولاد مانتے تھے، ان کے عقیدے کا بطلان بیان ہو رہا ہے کہ ’ اللہ اس سے پاک ہے، وہ سب سے بے نیاز ہے، سب اس کے محتاج ہیں، زمین و آسمان کی ساری مخلوق اس کی ملکیت ہے، اس کی غلام ہے، پھر ان میں سے کوئی اس کی اولاد کیسے ہو جائے تمہارے اس جھوٹ اور بہتان کی خود تمہارے پاس بھی کوئی دلیل نہیں۔ تم تو اللہ پر بھی اپنی جہالت سے باتیں بنانے لگے۔ تمہارے اس کلمے سے تو ممکن ہے کہ آسمان پھٹ جائیں، زمین شق ہو جائے، پہاڑ ٹوٹ جائیں کہ «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» ۱؎ [19-مريم:88-95] تم اللہ رحمن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے ہو؟ بھلا اس کی اولاد کیسے ہو گی؟ اسے تو یہ لائق نہیں زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی غلامی میں حاضر ہونے والی ہے۔ سب اس کے شمار میں ہیں۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے۔ ہر ایک تنہا تنہا اس کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔ یہ افترا پرداز گروہ ہر کامیابی سے محروم ہے۔ دنیا میں انہیں کچھ مل جائے تو وہ عذاب کا پیش خیمہ اور سزاؤں کی زیادت کا باعث ہے۔ آخر ایک وقت آئے گا جب عذاب میں گرفتار ہو جائیں گے۔ سب کا لوٹنا اور سب کا اصلی ٹھکانا تو ہمارے ہاں ہے۔ یہ کہتے تھے اللہ کا بیٹا ہے ان کے اس کفر کا ہم اس وقت ان کو بدلہ چکھائیں گے جو نہایت سخت اور بہت بدترین ہوگا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 70) {مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ اِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ …:} بس زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اللہ پر بہتان باندھ کر دنیا کا تھوڑا سا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ تنوین تقلیل کے لیے ہے، کیونکہ ساری دنیا بھی حاصل کر لیں تو وہ ختم ہونے والی ہے، لہٰذا نہایت کم اور بے وقعت ہے، پھر انھیں واپس تو ہمارے ہی پاس آنا ہے۔ {” اِلَيْنَا “} پہلے لانے سے حصر پیدا ہوا، جس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں اور نہیں جا سکتے، پھر ہم انھیں ان کی کفریات کی بہت سخت سزا چکھائیں گے۔
اِن کو نوحؑ کا قصہ سناؤ، اُس وقت کا قصہ جب اُس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ “اے برادران قوم، اگر میرا تمہارے درمیان رہنا اور اللہ کی آیات سنا سنا کر تمہیں غفلت سے بیدار کرنا تمہارے لیے ناقابل برداشت ہو گیا ہے تو میرا بھروسہ اللہ پر ہے، تم اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو ساتھ لے کر ایک متفقہ فیصلہ کر لو اور جو منصوبہ تمہارے پیش نظر ہو اس کو خوب سوچ سمجھ لو تاکہ اس کا کو ئی پہلو تمہاری نگاہ سے پوشیدہ نہ رہے، پھر میرے خلاف اس کو عمل میں لے آؤ اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور آپ ان کو نوح﴿علیہ السلام﴾ کا قصہ پڑھ کر سنائیے جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم! اگر تم کو میرا رہنا اور احکام الٰہی کی نصیحت کرنا بھاری معلوم ہوتا ہے تو میرا تو اللہ ہی پر بھروسہ ہے۔ تم اپنی تدبیر مع اپنے شرکا کے پختہ کرلو پھر تمہاری تدبیر تمہاری گھٹن کا باعﺚ نہ ہونی چاہئے۔ پھر میرے ساتھ کر گزرو اور مجھ کو مہلت نہ دو
احمد رضا خان بریلوی
اور انہیں نوح کی خبر پڑھ کر سناؤ جب اس نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اگر تم پر شاق گزرا ہے میرا کھڑا ہونا اور اللہ کی نشانیاں یاد دلانا تو میں نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا تو مِل کر کام کرو اور اپنے جھوٹے معبودوں سمیت اپنا کام پکا کرلو تمہارے کام میں تم پر کچھ گنجلک (الجھن) نہ رہے پھر جو ہو سکے میرا کرلو اور مجھے مہلت نہ دو
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے رسول(ص)) انہیں (کفار کو) نوح کا حال سنائیں جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم! اگر (تمہارے درمیان) میرا قیام کرنا اور آیاتِ الٰہیہ کا یاد دلانا (اور ان کے ساتھ پند و نصیحت کرنا) شاق گزرتا ہے تو میرا بھروسہ صرف اللہ پر ہے تو تم (میرے خلاف) اپنے خود ساختہ شریکوں کو بھی ساتھ ملا کر کوئی متفقہ فیصلہ کرلو اور (پھر خوب سوچ سمجھ لو تاکہ) تمہارا فیصلہ تم پر پوشیدہ نہ رہے اور تمہیں اس میں کوئی تذبذب باقی نہ رہے پھر میرے ساتھ جو کرنا ہے کر گزرو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان پر نوح کی خبر پڑھ، جب اس نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! اگر میرا کھڑا ہونا اور اللہ کی آیات کے ساتھ میرا نصیحت کرنا تم پر بھاری گزرا ہے تو میں نے اللہ ہی پر بھروسا کیا ہے، سو تم اپنا معاملہ اپنے شرکا کے ساتھ مل کر پکا کر لو، پھر تمھارا معاملہ تم پر کسی طرح مخفی نہ رہے، پھر میرے ساتھ کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام کی قوم کا کردار ٭٭
’ اے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو انہیں نوح علیہ السلام کے واقعہ کی خبر دے کہ ان کا اور ان کی قوم کا کیا حشر ہوا جس طرح کفار مکہ تجھے جھٹلاتے اور ستاتے ہیں، قوم نوح علیہ السلام نے بھی یہی وطیرہ اختیار کر رکھا تھا۔ بالآخر سب کے سب غرق کر دیئے گئے، سارے کافر دریا برد ہوگئے۔ پس انہیں بھی خبردار رہنا چاہیئے اور میری پکڑ سے بے خوف نہ ہونا چاہیئے۔ اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ‘۔ نوح علیہ السلام نے ایک مرتبہ ان سے صاف فرما دیا کہ ”اگر تم پر یہ گراں گزرتا ہے کہ میں تم میں رہتا ہوں اور تمہیں اللہ کی باتیں سنا رہا ہوں، تم اس سے چڑتے ہو اور مجھے نقصان پہنچانے درپے ہو تو سنو میں صاف کہتا ہوں کہ میں تم سے نڈر ہوں۔ مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔ میں تمہیں کوئی چیز نہیں سمجھتا۔ میں تم سے مطلقاً نہیں ڈرتا۔ تم سے جو ہو سکے کر لو۔ میرا جو بگاڑ سکو بگاڑ لو۔ تم اپنے ساتھ اپنے شریکوں اور اپنے جھوٹے معبودوں کو بھی بلا لو اور مل جل کر مشورے کر کے بات کھول کر پوری قوت کے ساتھ مجھ پر حملہ کرو، تمہیں قسم ہے جو میرا بگاڑ سکتے ہو اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو، مجھے بالکل مہلت نہ دو، اچانک گھیر لو، میں بالکل بے خوف ہوں، اس لیے کہ تمہاری روش کو میں باطل جانتا ہوں۔ میں حق پر ہوں، حق کا ساتھی اللہ ہوتا ہے، میرا بھروسہ اسی کی عظیم الشان ذات پر ہے، مجھے اس کی قدرت کے بڑائی معلوم ہے۔“ یہی ہود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ «إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [11-هود:54-56] ’ اللہ کے سوا جس جس کی بھی تم پوجا کر رہے ہو۔ میں تم سے اور ان سے بالکل بری ہوں، خوب کان کھول کر سن لو، اللہ بھی سن رہا ہے تم سب مل کر میرے خلاف کوشش کرو، میں تو تم سے مہلت بھی نہیں مانگتا۔ میرا بھروسہ اپنے اور تمہارے حقیقی مربی پر ہے ‘۔
حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اگر تم اب بھی مجھے جھٹلاؤ میری اطاعت سے منہ پھیر لو تو میرا اجر ضائع نہیں جائے گا، کیونکہ میرا اجر دینے والا میرا مربی ہے، مجھے تم سے کچھ نہیں لینا۔ میری خیر خواہی، میری تبلیغ کسی معاوضے کی بنا پر نہیں، مجھے تو جو اللہ کا حکم ہے میں اس کی بجا آوری میں لگا ہوا ہوں، مجھے اس کی طرف سے مسلمان ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ سو «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» میں مسلمان ہوں، اللہ کا پورا فرمان بردار ہوں۔“ تمام نبیوں کا دین اول سے آخر تک صرف اسلام ہی رہا ہے، گو احکامات میں قدرے اختلاف رہا ہو، جیسے فرمان ہے «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا» ۱؎ [5-المائدہ:48] ’ ہر ایک کے لیے راہ اور طریقہ ہے ‘۔ «وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» ۱؎ [27-النمل:91] ’ دیکھئیے یہ نوح علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں ‘، «إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [2-البقرة:131،132] ’ یہ ہیں ابراہیم علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں۔ اللہ ان سے فرماتا ہے اسلام لا۔ وہ جواب دیتے ہیں رب العلمین کے لیے میں اسلام لایا ‘۔ اسی کی وصیت آپ علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام اپنی اولاد کو کرتے ہیں کہ «وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» ۱؎ [2-البقرۃ:132] ’ اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے اسی دین کو پسند فرما لیا ہے۔ خبردار یاد رکھنا مسلم ہونے کی حالت میں ہی موت آئے ‘۔ یوسف علیہ السلام اپنی دعا میں فرماتے ہیں «تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ» ۱؎ [12-يوسف:101] ’ اللہ مجھے اسلام کی حالت میں موت دینا ‘۔ موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ «يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّـهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ» ۱؎ [10-یونس:84] ’ اگر تم مسلمان ہو تو اللہ پر توکل کرو ‘۔
آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر ایمان قبول کرنے والے جادوگر اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں ”تو ہمیں مسلمان اٹھانا۔“ بلقیس کہتی ہیں «رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [27-النمل:44] ’ میں سلیمان علیہ السلام کے ہاتھ پر مسلمان ہوتی ہوں ‘۔ قرآن فرماتا ہے ہے کہ «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا» ۱؎ [5-المائدہ:44] ’ تورات کے مطابق وہ انبیاء حکم فرماتے ہیں جو مسلمان ہیں ‘۔ «وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ آمِنُوا بِي وَبِرَسُولِي قَالُوا آمَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ» ۱؎ [5-المائدہ:111] ’ حواری عیسیٰ علیہ السلام سے کہتے ہیں آپ علیہ السلام گواہ رہیے ہم مسلمان ہیں ‘۔ خاتم الرسل سید البشر صل اللہ علیہ وسلم نماز کے شروع کی دعا کے آخر میں فرماتے ہیں «قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:162، 163] ’ میں اول مسلمان ہوں یعنی اس امت میں ‘۔ ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { «نَحْنُ مَعَاشِر الْأَنْبِيَاء أَوْلَاد عَلَّات دِيننَا وَاحِد» ہم انبیاء ایسے ہیں جیسے ایک باپ کی اولاد دین ایک اور بعض بعض احکام جدا گانہ }۔ پس توحید میں سب یکساں ہیں گو فروعی احکام میں علیحدگی ہو۔ جیسے وہ بھائی جن کا باپ ایک ہو مائیں جدا جدا ہوں۔ پھر فرماتا ہے ’ قوم نوح نے نوح نبی کریم علیہ السلام کو نہ مانا بلکہ انہیں جھوٹا کہا آخر ہم نے انہیں غرق کر دیا۔ نوح نبی علیہ السلام کو مع ایمانداروں کے اس بدترین عذاب سے ہم نے صاف بچا لیا۔ کشتی میں سوار کر کے انہیں طوفان سے محفوظ رکھ لیا۔ وہی وہ زمین پر باقی رہے پس ہماری اس قدرت کو دیکھ لے کہ کس طرح ظالموں کا نام و نشان مٹا دیا اور کس طرح مومنوں کو بچا لیا ‘۔
71۔ 1 یعنی جن کو تم نے اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے ان کی مدد بھی حاصل کرلو (اگر وہ گمان کے مطابق تمہاری مدد کرسکتے ہیں) 71۔ 2 غُمَّۃً کے دوسرے معنی ہیں، گول مول بات اور پوشیدگی۔ یعنی میرے خلاف تمہاری تدبیر واضح اور غیر مشکوک ہونی چاہئے۔
(آیت 71) ➊ { وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ …:} نبوت پر کفار کے شبہات اور ان کے مدلل جوابات بیان کرنے کے بعد یہاں کئی انبیاء کا ذکر فرمایا، خصوصاً تین انبیاء کے قصے کچھ تفصیل سے بیان فرمائے۔ اس میں کئی حکمتیں ہیں: (1) انداز بیان بدلنے اور نئی بات شروع کرنے سے سننے والوں میں اکتاہٹ پیدا نہیں ہوتی اور آدمی خوش دلی اور رغبت سے بات سنتا رہتا ہے۔ ایک ہی قسم کی بات خواہ کتنی علمی ہو، لمبی ہو جائے تو رغبت کم ہو جاتی ہے۔ (2) تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے پیروکاروں کو ان واقعات کے سننے سے تسلی ہو اور وہ کفار کی ایذا رسانی سے ملول نہ ہوں، بلکہ ان انبیاء اور ان کے ساتھیوں کو اپنے لیے اسوہ اور نمونہ بنائیں۔ (3) کفار کو بھی تنبیہ ہو تاکہ وہ دنیا میں سب سے پہلے اور پھر سب سے آخر میں غرق ہونے والی قوموں کے انجام پر غور کریں اور اس قسم کی گستاخیوں سے باز آ جائیں۔ (4) پھر ان تاریخی قصوں کو کسی قسم کی کمی بیشی کے بغیر ایک اُمّی نبی کا بیان کرناخود اس کے صدق نبوت کی دلیل بھی ہے۔ ➋ نوح علیہ السلام اولوالعزم رسولوں میں سے ایک ہیں۔ قرآن میں ان کا ذکر تینتالیس (۴۳) جگہ آیا ہے، ان کی قوم بت پرست تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اولین مخاطب اہل عرب بھی بت پرست تھے، ان کے بتوں کے نام بھی تقریباً ملتے جلتے تھے۔ نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کا ذکر سورۂ اعراف، ہود، مومنون اور نوح میں زیادہ تفصیل کے ساتھ آیا ہے، یہاں مختصر ذکر ہے اور ان کی زندگی کا یہ پہلو زیادہ نمایاں کیا ہے کہ طویل مدت تک اپنی قوم میں رہنے اور ان کے ایمان نہ لانے کے باوجود ان کا اللہ تعالیٰ پر اتنا بھروسا تھا کہ انھوں نے اپنی قوم کو چیلنج کیا کہ تم سب مل کر مجھے جو نقصان پہنچا سکتے ہو پہنچا لو۔ ➌ {” فَاَجْمِعُوْۤا “} باب افعال سے امر ہے، {” اَجْمَعْتُ عَلَي الْاَمْرِ“} یعنی میں نے فلاں کام کا پکا ارادہ کرلیا۔ {” وَ شُرَكَآءَكُمْ “} مفعول معہ ہے اور واؤ بمعنی {” مَعَ “} ہے۔ {” غُمَّةً “} پوشیدگی کے معنی میں ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے: {”غَمَّ عَلٰي فُلاَنٍ الْاَمْرُ“} ”فلاں شخص پر معاملہ مخفی اور پوشیدہ رہا۔“ یعنی نوح علیہ السلام نے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ پوری قوم کی اور ان کے جہالت سے بنائے ہوئے خداؤں کی ذرہ برابر وقعت نہیں سمجھتے اور ان کا اپنے رب پر اتنا توکل ہے کہ وہ ان کی کسی سازش سے نہیں ڈرتے، سب کو صاف چیلنج کیا کہ اگر میرا تم میں رہنا اور نصیحت کرنا تم پر بھاری ہے اور تم سمجھانے سے سمجھنے پر کسی طرح تیار نہیں تو اپنے بتوں کے ساتھ مل کر، جنھیں تم جہالت اور بے شرمی سے اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دیتے ہو، میرے خلاف جو سازش میرے قتل یا ایذا کی کر سکتے ہو کر لو۔ ➍ { ثُمَّ لَا يَكُنْ اَمْرُكُمْ …:} یعنی میرے مار ڈالنے کا جو منصوبہ تیار کرو اس پر اچھی طرح غور کر لو تاکہ اس کا کوئی پہلو تم پر ڈھکا چھپا نہ رہے، پھر میرے ساتھ جو کرنا چاہتے ہو کر گزرو اور مجھے مہلت مت دو۔ ➎ ان آیات سے نوح علیہ السلام کی انتہا درجے کی شجاعت، اللہ تعالیٰ پر کمال توکل، مخلوق سے کلی استغناء اور فریضۂ رسالت کی نہایت طویل مدت تک بغیر وقفے یا اکتاہٹ یا تھکاوٹ کے مسلسل ادائیگی اور اس کے دوران آنے والی ہر تکلیف، طعن اور استہزا کو کمال صبر سے برداشت کرنا ظاہر ہو رہا ہے۔ تبھی ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حکم ہوا کہ ان اولوالعزم پیغمبروں کی طرح صبر کرو۔ ہمیں تو ان پر پیش آنے والے حالات کے تصور ہی سے پسینا آ جاتا ہے اور بدن کانپ جاتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دعوت کے کام کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔(آمین)
تم نے میری نصیحت سے منہ موڑا (تو میرا کیا نقصان کیا) میں تم سے کسی اجر کا طلب گار نہ تھا، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ (خواہ کوئی مانے یا نہ مانے) میں خود مسلم بن کر رہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر بھی اگر تم اعراض ہی کیے جاؤ تو میں نے تم سے کوئی معاوضہ تو نہیں مانگا، میرا معاوضہ تو صرف اللہ ہی کے ذمہ ہے اور مجھ کو حکم کیا گیا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے رہوں
احمد رضا خان بریلوی
پھر اگر تم منہ پھیرو تو میں تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو نہیں مگر اللہ پر اور مجھے حکم ہے کہ میں مسلمانوں سے ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
اب اگر (اس کے باوجود) تم روگردانی کرتے ہو (تو تمہارا ہی نقصان ہے میرا کیا نقصان ہے) میں نے تم سے کوئی اجر تو نہیں مانگا۔ میرا اجر تو اللہ کے ذمے ہے مجھے تو حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کے فرمانبردار بندوں سے ہو کر رہوں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اگر تم منہ موڑ لو تو میں نے تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگی، میری مزدوری نہیں ہے مگر اللہ پر اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں سے ہوجاؤں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام کی قوم کا کردار ٭٭
’ اے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو انہیں نوح علیہ السلام کے واقعہ کی خبر دے کہ ان کا اور ان کی قوم کا کیا حشر ہوا جس طرح کفار مکہ تجھے جھٹلاتے اور ستاتے ہیں، قوم نوح علیہ السلام نے بھی یہی وطیرہ اختیار کر رکھا تھا۔ بالآخر سب کے سب غرق کر دیئے گئے، سارے کافر دریا برد ہوگئے۔ پس انہیں بھی خبردار رہنا چاہیئے اور میری پکڑ سے بے خوف نہ ہونا چاہیئے۔ اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ‘۔ نوح علیہ السلام نے ایک مرتبہ ان سے صاف فرما دیا کہ ”اگر تم پر یہ گراں گزرتا ہے کہ میں تم میں رہتا ہوں اور تمہیں اللہ کی باتیں سنا رہا ہوں، تم اس سے چڑتے ہو اور مجھے نقصان پہنچانے درپے ہو تو سنو میں صاف کہتا ہوں کہ میں تم سے نڈر ہوں۔ مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔ میں تمہیں کوئی چیز نہیں سمجھتا۔ میں تم سے مطلقاً نہیں ڈرتا۔ تم سے جو ہو سکے کر لو۔ میرا جو بگاڑ سکو بگاڑ لو۔ تم اپنے ساتھ اپنے شریکوں اور اپنے جھوٹے معبودوں کو بھی بلا لو اور مل جل کر مشورے کر کے بات کھول کر پوری قوت کے ساتھ مجھ پر حملہ کرو، تمہیں قسم ہے جو میرا بگاڑ سکتے ہو اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو، مجھے بالکل مہلت نہ دو، اچانک گھیر لو، میں بالکل بے خوف ہوں، اس لیے کہ تمہاری روش کو میں باطل جانتا ہوں۔ میں حق پر ہوں، حق کا ساتھی اللہ ہوتا ہے، میرا بھروسہ اسی کی عظیم الشان ذات پر ہے، مجھے اس کی قدرت کے بڑائی معلوم ہے۔“ یہی ہود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ «إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [11-هود:54-56] ’ اللہ کے سوا جس جس کی بھی تم پوجا کر رہے ہو۔ میں تم سے اور ان سے بالکل بری ہوں، خوب کان کھول کر سن لو، اللہ بھی سن رہا ہے تم سب مل کر میرے خلاف کوشش کرو، میں تو تم سے مہلت بھی نہیں مانگتا۔ میرا بھروسہ اپنے اور تمہارے حقیقی مربی پر ہے ‘۔
حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اگر تم اب بھی مجھے جھٹلاؤ میری اطاعت سے منہ پھیر لو تو میرا اجر ضائع نہیں جائے گا، کیونکہ میرا اجر دینے والا میرا مربی ہے، مجھے تم سے کچھ نہیں لینا۔ میری خیر خواہی، میری تبلیغ کسی معاوضے کی بنا پر نہیں، مجھے تو جو اللہ کا حکم ہے میں اس کی بجا آوری میں لگا ہوا ہوں، مجھے اس کی طرف سے مسلمان ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ سو «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» میں مسلمان ہوں، اللہ کا پورا فرمان بردار ہوں۔“ تمام نبیوں کا دین اول سے آخر تک صرف اسلام ہی رہا ہے، گو احکامات میں قدرے اختلاف رہا ہو، جیسے فرمان ہے «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا» ۱؎ [5-المائدہ:48] ’ ہر ایک کے لیے راہ اور طریقہ ہے ‘۔ «وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» ۱؎ [27-النمل:91] ’ دیکھئیے یہ نوح علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں ‘، «إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [2-البقرة:131،132] ’ یہ ہیں ابراہیم علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں۔ اللہ ان سے فرماتا ہے اسلام لا۔ وہ جواب دیتے ہیں رب العلمین کے لیے میں اسلام لایا ‘۔ اسی کی وصیت آپ علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام اپنی اولاد کو کرتے ہیں کہ «وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» ۱؎ [2-البقرۃ:132] ’ اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے اسی دین کو پسند فرما لیا ہے۔ خبردار یاد رکھنا مسلم ہونے کی حالت میں ہی موت آئے ‘۔ یوسف علیہ السلام اپنی دعا میں فرماتے ہیں «تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ» ۱؎ [12-يوسف:101] ’ اللہ مجھے اسلام کی حالت میں موت دینا ‘۔ موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ «يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّـهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ» ۱؎ [10-یونس:84] ’ اگر تم مسلمان ہو تو اللہ پر توکل کرو ‘۔
آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر ایمان قبول کرنے والے جادوگر اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں ”تو ہمیں مسلمان اٹھانا۔“ بلقیس کہتی ہیں «رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [27-النمل:44] ’ میں سلیمان علیہ السلام کے ہاتھ پر مسلمان ہوتی ہوں ‘۔ قرآن فرماتا ہے ہے کہ «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا» ۱؎ [5-المائدہ:44] ’ تورات کے مطابق وہ انبیاء حکم فرماتے ہیں جو مسلمان ہیں ‘۔ «وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ آمِنُوا بِي وَبِرَسُولِي قَالُوا آمَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ» ۱؎ [5-المائدہ:111] ’ حواری عیسیٰ علیہ السلام سے کہتے ہیں آپ علیہ السلام گواہ رہیے ہم مسلمان ہیں ‘۔ خاتم الرسل سید البشر صل اللہ علیہ وسلم نماز کے شروع کی دعا کے آخر میں فرماتے ہیں «قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:162، 163] ’ میں اول مسلمان ہوں یعنی اس امت میں ‘۔ ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { «نَحْنُ مَعَاشِر الْأَنْبِيَاء أَوْلَاد عَلَّات دِيننَا وَاحِد» ہم انبیاء ایسے ہیں جیسے ایک باپ کی اولاد دین ایک اور بعض بعض احکام جدا گانہ }۔ پس توحید میں سب یکساں ہیں گو فروعی احکام میں علیحدگی ہو۔ جیسے وہ بھائی جن کا باپ ایک ہو مائیں جدا جدا ہوں۔ پھر فرماتا ہے ’ قوم نوح نے نوح نبی کریم علیہ السلام کو نہ مانا بلکہ انہیں جھوٹا کہا آخر ہم نے انہیں غرق کر دیا۔ نوح نبی علیہ السلام کو مع ایمانداروں کے اس بدترین عذاب سے ہم نے صاف بچا لیا۔ کشتی میں سوار کر کے انہیں طوفان سے محفوظ رکھ لیا۔ وہی وہ زمین پر باقی رہے پس ہماری اس قدرت کو دیکھ لے کہ کس طرح ظالموں کا نام و نشان مٹا دیا اور کس طرح مومنوں کو بچا لیا ‘۔
72۔ 1 کہ جس کی وجہ سے تم یہ تہمت لگا سکو کہ دعوائے نبوت سے اس کا مقصد تو مال و دولت کا اکٹھا کرنا ہے۔ 72۔ 2 حضرت نوح ؑ کے اس قول سے بھی معلوم ہوا کہ تمام انبیاء کا دین اسلام ہی رہا گو شرائع مختلف اور مناہج متعدد رہے۔ جیسا کہ آیت لکل جعلنا منکم شرعۃ و منہاجا، سے واضح ہے۔ لیکن دین سب کا اسلام تھا۔ ملاحظہ ہو سورة النمل 91 (وَمَنْ جَاۗءَ بالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ ۭ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) سورة بقرہ 131، 132 (اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗٓ اَسْلِمْ ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 131 وَوَصّٰى بِهَآ اِبْرٰھٖمُ بَنِيْهِ وَيَعْقُوْبُ ۭيٰبَنِىَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّيْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ 132) سورة یونس 84 (وَقَالَ مُوْسٰى يٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ باللّٰهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِيْنَ 84) سورة اعراف 126 (وَمَا تَنْقِمُ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَاۗءَتْنَا ۭرَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ 126) سورة نمل 44 (قِيْلَ لَهَا ادْخُلِي الصَّرْحَ ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّكَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا ۭ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِيْرَ ڛ قَالَتْ رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 44) سورة مائدہ 11، 44 (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ يَّبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ 11ۧ) (اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِيْنَ هَادُوْا وَالرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَكَانُوْا عَلَيْهِ شُهَدَاۗءَ ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ 44) سورة انعام 162، 163 (قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 162ۙ لَا شَرِيْكَ لَهٗ ۚ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ 163)۔
(آیت 72) {فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ …:} یعنی اگر تم میری دعوت ٹھکرانے پر اصرار کرو تو میرا کچھ نقصان نہیں، کیونکہ میں نے تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگی۔ تمھارے نہ ماننے یا بے رخی کرنے سے میرے ثواب اور مزدوری میں کمی نہیں ہو گی، وہ میرے اللہ کے ذمے ہے، جو مجھے کبھی تمھارا محتاج نہیں ہونے دے گا۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۳۲) میری طرف سے تمھیں ایمان لانے کی دعوت بھی تمھارے ہی فائدے کے لیے ہے اور مجھے حکم ہے کہ مسلمین (حکم ماننے والوں) سے ہو جاؤں۔ معلوم ہوا کہ تمام انبیاء کا دین اسلام ہی تھا اور وہ سب مسلم تھے۔
انہوں نے اسے جھٹلایا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اسے اور اُن لوگوں کو جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے، بچا لیا اور انہی کو زمین میں جانشین بنایا اور ان سب لوگوں کو غرق کر دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا پس دیکھ لو کہ جنہیں متنبہ کیا گیا تھا (اور پھر بھی انہوں نے مان کر نہ دیا) اُن کا کیا انجام ہوا
مولانا محمد جوناگڑھی
سو وه لوگ ان کو جھٹلاتے رہے پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے ان کو نجات دی اور ان کو جانشین بنایا اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو غرق کردیا۔ سو دیکھنا چاہئے کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ڈرائے جاچکے تھے
احمد رضا خان بریلوی
تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے ان کو نجات دی اور انہیں ہم نے نائب کیا اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں ان کو ہم نے ڈبو دیا تو دیکھو ڈرائے ہوؤں کا انجام کیسا ہوا،
علامہ محمد حسین نجفی
(بایں ہمہ) ان لوگوں نے انہیں جھٹلایا پس ہم نے انہیں اور جو کشتی میں ان کے ساتھ سوار تھے نجات دی اور انہیں (غرق ہونے والوں کا) جانشین بنایا اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان سب کو غرق کر دیا تو دیکھو جن کو متنبہ کیا گیا تھا اور ڈرایا گیا تھا (مگر وہ نہ مانے) ان کا کیا انجام ہوا؟
عبدالسلام بن محمد
پس انھوں نے اسے جھٹلا دیا تو ہم نے اسے نجات دی اور ان کو بھی جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور انھیں جانشین بنایا اور ان لوگوں کو غرق کر دیا جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا۔ سو دیکھ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جنھیں ڈرایا گیا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام کی قوم کا کردار ٭٭
’ اے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو انہیں نوح علیہ السلام کے واقعہ کی خبر دے کہ ان کا اور ان کی قوم کا کیا حشر ہوا جس طرح کفار مکہ تجھے جھٹلاتے اور ستاتے ہیں، قوم نوح علیہ السلام نے بھی یہی وطیرہ اختیار کر رکھا تھا۔ بالآخر سب کے سب غرق کر دیئے گئے، سارے کافر دریا برد ہوگئے۔ پس انہیں بھی خبردار رہنا چاہیئے اور میری پکڑ سے بے خوف نہ ہونا چاہیئے۔ اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ‘۔ نوح علیہ السلام نے ایک مرتبہ ان سے صاف فرما دیا کہ ”اگر تم پر یہ گراں گزرتا ہے کہ میں تم میں رہتا ہوں اور تمہیں اللہ کی باتیں سنا رہا ہوں، تم اس سے چڑتے ہو اور مجھے نقصان پہنچانے درپے ہو تو سنو میں صاف کہتا ہوں کہ میں تم سے نڈر ہوں۔ مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔ میں تمہیں کوئی چیز نہیں سمجھتا۔ میں تم سے مطلقاً نہیں ڈرتا۔ تم سے جو ہو سکے کر لو۔ میرا جو بگاڑ سکو بگاڑ لو۔ تم اپنے ساتھ اپنے شریکوں اور اپنے جھوٹے معبودوں کو بھی بلا لو اور مل جل کر مشورے کر کے بات کھول کر پوری قوت کے ساتھ مجھ پر حملہ کرو، تمہیں قسم ہے جو میرا بگاڑ سکتے ہو اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو، مجھے بالکل مہلت نہ دو، اچانک گھیر لو، میں بالکل بے خوف ہوں، اس لیے کہ تمہاری روش کو میں باطل جانتا ہوں۔ میں حق پر ہوں، حق کا ساتھی اللہ ہوتا ہے، میرا بھروسہ اسی کی عظیم الشان ذات پر ہے، مجھے اس کی قدرت کے بڑائی معلوم ہے۔“ یہی ہود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ «إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [11-هود:54-56] ’ اللہ کے سوا جس جس کی بھی تم پوجا کر رہے ہو۔ میں تم سے اور ان سے بالکل بری ہوں، خوب کان کھول کر سن لو، اللہ بھی سن رہا ہے تم سب مل کر میرے خلاف کوشش کرو، میں تو تم سے مہلت بھی نہیں مانگتا۔ میرا بھروسہ اپنے اور تمہارے حقیقی مربی پر ہے ‘۔
حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اگر تم اب بھی مجھے جھٹلاؤ میری اطاعت سے منہ پھیر لو تو میرا اجر ضائع نہیں جائے گا، کیونکہ میرا اجر دینے والا میرا مربی ہے، مجھے تم سے کچھ نہیں لینا۔ میری خیر خواہی، میری تبلیغ کسی معاوضے کی بنا پر نہیں، مجھے تو جو اللہ کا حکم ہے میں اس کی بجا آوری میں لگا ہوا ہوں، مجھے اس کی طرف سے مسلمان ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ سو «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» میں مسلمان ہوں، اللہ کا پورا فرمان بردار ہوں۔“ تمام نبیوں کا دین اول سے آخر تک صرف اسلام ہی رہا ہے، گو احکامات میں قدرے اختلاف رہا ہو، جیسے فرمان ہے «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا» ۱؎ [5-المائدہ:48] ’ ہر ایک کے لیے راہ اور طریقہ ہے ‘۔ «وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» ۱؎ [27-النمل:91] ’ دیکھئیے یہ نوح علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں ‘، «إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [2-البقرة:131،132] ’ یہ ہیں ابراہیم علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں۔ اللہ ان سے فرماتا ہے اسلام لا۔ وہ جواب دیتے ہیں رب العلمین کے لیے میں اسلام لایا ‘۔ اسی کی وصیت آپ علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام اپنی اولاد کو کرتے ہیں کہ «وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» ۱؎ [2-البقرۃ:132] ’ اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے اسی دین کو پسند فرما لیا ہے۔ خبردار یاد رکھنا مسلم ہونے کی حالت میں ہی موت آئے ‘۔ یوسف علیہ السلام اپنی دعا میں فرماتے ہیں «تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ» ۱؎ [12-يوسف:101] ’ اللہ مجھے اسلام کی حالت میں موت دینا ‘۔ موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ «يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّـهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ» ۱؎ [10-یونس:84] ’ اگر تم مسلمان ہو تو اللہ پر توکل کرو ‘۔
آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر ایمان قبول کرنے والے جادوگر اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں ”تو ہمیں مسلمان اٹھانا۔“ بلقیس کہتی ہیں «رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [27-النمل:44] ’ میں سلیمان علیہ السلام کے ہاتھ پر مسلمان ہوتی ہوں ‘۔ قرآن فرماتا ہے ہے کہ «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا» ۱؎ [5-المائدہ:44] ’ تورات کے مطابق وہ انبیاء حکم فرماتے ہیں جو مسلمان ہیں ‘۔ «وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ آمِنُوا بِي وَبِرَسُولِي قَالُوا آمَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ» ۱؎ [5-المائدہ:111] ’ حواری عیسیٰ علیہ السلام سے کہتے ہیں آپ علیہ السلام گواہ رہیے ہم مسلمان ہیں ‘۔ خاتم الرسل سید البشر صل اللہ علیہ وسلم نماز کے شروع کی دعا کے آخر میں فرماتے ہیں «قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:162، 163] ’ میں اول مسلمان ہوں یعنی اس امت میں ‘۔ ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { «نَحْنُ مَعَاشِر الْأَنْبِيَاء أَوْلَاد عَلَّات دِيننَا وَاحِد» ہم انبیاء ایسے ہیں جیسے ایک باپ کی اولاد دین ایک اور بعض بعض احکام جدا گانہ }۔ پس توحید میں سب یکساں ہیں گو فروعی احکام میں علیحدگی ہو۔ جیسے وہ بھائی جن کا باپ ایک ہو مائیں جدا جدا ہوں۔ پھر فرماتا ہے ’ قوم نوح نے نوح نبی کریم علیہ السلام کو نہ مانا بلکہ انہیں جھوٹا کہا آخر ہم نے انہیں غرق کر دیا۔ نوح نبی علیہ السلام کو مع ایمانداروں کے اس بدترین عذاب سے ہم نے صاف بچا لیا۔ کشتی میں سوار کر کے انہیں طوفان سے محفوظ رکھ لیا۔ وہی وہ زمین پر باقی رہے پس ہماری اس قدرت کو دیکھ لے کہ کس طرح ظالموں کا نام و نشان مٹا دیا اور کس طرح مومنوں کو بچا لیا ‘۔
73۔ 1 یعنی قوم نوح ؑ نے تمام تر وعظ و نصیحت کے باوجود جھٹلانے کا راستہ نہیں چھوڑا چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ اور ان پر ایمان لانے والوں کو ایک کشتی میں بٹھا کر بچا لیا اور باقی سب کو حتٰی کہ حضرت نوح ؑ کے ایک بیٹے کو بھی غرق کردیا۔ 73۔ 2 یعنی زمین میں ان سے بچنے والوں کو ان سے پہلے کے لوگوں کا جانشین بنایا۔ پھر انسانوں کی آئندہ نسل انہی لوگوں بالخصوص حضرت نوح ؑ کے تین بیٹوں سے چلی، اسی لئے حضرت نوح ؑ آدم ثانی کہا جاتا ہے۔
(آیت 73) ➊ { فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّيْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِي الْفُلْكِ:} اس کی تفصیل سورۂ ہود (۳۶ تا ۴۹) میں دیکھیں۔ ➋ { وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓىِٕفَ:} یعنی ان کے بعد دنیا میں وہی بسنے والے رہ گئے۔ دیکھیے سورۂ صافات (۷۷) اس لیے نوح علیہ السلام کو آدم ثانی کہا جاتا ہے۔ ➌ {فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِيْنَ:} یہاں {” فَانْظُرْ “} کا معنی ہے غوروفکر کر اور عبرت حاصل کر کہ وہ کیسے تباہ و برباد کر دیے گئے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور اہل ایمان کو تسلی ہے اور ان لوگوں کے لیے مقام عبرت ہے جو آج بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کر رہے ہیں۔
پھر نوحؑ کے بعد ہم نے مختلف پیغمبروں کو اُن کی قوموں کی طرف بھیجا اور وہ اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، مگر جس چیز کو انہوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا اسے پھر مان کر نہ دیا اس طرح ہم حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر نوح (علیہ السلام) کے بعد ہم نے اور رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا سو وه ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے پس جس چیز کو انہوں نے اول میں جھوٹا کہہ دیا یہ نہ ہوا کہ پھر اس کو مان لیتے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح حد سے بڑھنے والوں کے دلوں پر بند لگا دیتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر اس کے بعد اور رسول ہم نے ان کی قوموں کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس روشن دلیلیں لائے تو وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے اس پر جسے پہلے جھٹلا چکے تھے، ہم یونہی مہر لگادیتے ہیں سرکشوں کے دلوں پر،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے ان (نوح(ع)) کے بعد متعدد رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں (معجزے) لے کر آئے اس پر بھی وہ تیار نہ تھے کہ جس چیز کو وہ پہلے جھٹلا چکے ہیں (اب معجزے دیکھ کر) اس پر ایمان لائیں۔ ہم یونہی ظلم و تعدی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس کے بعد ہم نے کئی پیغمبر ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے۔ سو وہ ہرگز ایسے نہ تھے کہ اس پر ایمان لاتے جسے اس سے پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اسی طرح ہم حد سے گزرنے والوں کے دلوں پر مہر کر دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سلسلہ رسالت کا تذکرہ ٭٭
حضرت نوح علیہ السلام کے بعد بھی رسولوں کا سلسلہ جاری رہا ہر رسول اپنی قوم کی طرف اللہ کا پیغام اور اپنی سچائی کی دلیلیں لے کر آتا رہا۔ لیکن عموماً ان سب کے ساتھ بھی لوگوں کی وہی پرانی روش رہی۔ یعنی ان کی سچائی تسلیم کو نہ کیا جیسے آیت «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:110] میں ہے۔ پس ان کے حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے جس طرح ان کے دلوں پر مہر لگ گئی۔ اسی طرح ان جیسے تمام لوگوں کے دل مہر زدہ ہو جاتے ہیں اور عذاب دیکھ لینے سے پہلے انہیں ایمان نصیب نہیں ہوتا یعنی نبیوں اور ان کے تابعداروں کو بچا لینا اور مخالفین کو ہلاک کرنا۔ نوح نبی علیہ السلام کے بعد سے برابر یہی ہوتا رہا ہے۔ آدم علیہ السلام کے زمانے میں بھی انسان زمین پر آباد تھے۔ جب ان میں بت پرستی شروع ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر نوح علیہ السلام کو ان میں بھیجا۔ یہی وجہ ہے کہ جب قیامت کے دن لوگ نوح علیہ السلام کے پاس سفارش کی درخواست لے کر جائیں گے تو کہیں گے کہ آپ پہلے رسول ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ [صحیح بخاری:3340] ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آدم علیہ السلام اور نوح علیہ السلام کے درمیان دس زمانے گزرے اور وہ سب اسلام میں ہی گزرے ہیں۔ اسی لیے فرمان اللہ ہے کہ «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» ۱؎ [17-الإسراء:17] ’ نوح علیہ السلام کے بعد کے آنے والی قوموں کو ہم نے ان کی بد کرداریوں کے باعث ہلاک کر دیا ‘۔ مقصود یہ کہ ان باتوں کو سن کر مشرکین عرب ہوشیار ہو جائیں کیونکہ وہ سب سے افضل و اعلیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں۔ پس جب کہ ان کے کم مرتبہ نبیوں اور رسولوں کے جھٹلانے پر ایسے دہشت افزاء عذاب سابقہ لوگوں پر نازل ہو چکے ہیں تو اس سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے جھٹلانے پر ان سے بھی بدترین عذاب ان پر نازل ہوں گے۔
74۔ 1 یعنی ایسے دلائل و معجزات لے کر آئے جو اس بات پر دلالت کرتے تھے کہ واقعی یہ اللہ کے سچے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت و رہنمائی کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔ 74۔ 2 لیکن یہ امتیں رسولوں کی دعوت پر ایمان نہیں لائے، محض اس لئے کہ جب اول اول یہ رسول ان کے پاس آئے تو فوراً بغیر غور و فکر کئے، ان کا انکار کردیا۔ اور یہ پہلی مرتبہ کا انکار ان کے لئے مستقل حجاب بن گیا۔ اور وہ یہی سوچتے رہے کہ ہم تو پہلے انکار کرچکے ہیں، اب اس کو کیا ماننا، لہذا ایمان سے محروم۔ 74۔ 3 یعنی جس طرح ان گذشتہ قوموں پر انکے کفر و تکذیب کی وجہ سے مہریں لگتی رہیں ہیں اسی طرح آئندہ بھی جو قوم رسولوں کو جھٹلائے گی اور اللہ کی آیتوں کا انکار کرے گی، ان کے دلوں پر مہر لگتی رہے گی اور ہدایت سے وہ، اسی طرح محروم رہے گی، جس طرح گذشتہ قومیں محروم رہیں۔
(آیت 74) ➊ {ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ: } یہاں نوح علیہ السلام کے بعد جن پیغمبروں کے مبعوث ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے ان میں ہود، صالح، ابراہیم، لوط اور شعیب علیھم السلام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ جن کا تذکرہ اگلی سورت ہود میں آ رہا ہے اور قرآن کے دوسرے مقامات پر بھی مرقوم ہے اور {” اِلٰى قَوْمِهِمْ “} کے الفاظ سے اشارہ فرما دیا ہے کہ نوح علیہ السلام اور ان کے بعد جتنے پیغمبر ہوئے ہیں ان میں سے کسی کی رسالت بنی نوع انسان کے لیے عام نہیں تھی بلکہ خاص خاص اقوام کی طرف مبعوث ہوتے رہے ہیں۔ البتہ نوح علیہ السلام کی بعثت میں اختلاف ہے، صحیح یہ ہے کہ وہ بھی خاص طور پر اپنی قوم ہی کی طرف مبعوث تھے۔ (ہمارے استاذ مولانا محمد عبدہ رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق صحیح یہی ہے کہ طوفان سے روئے زمین کے تمام لوگ غرق نہیں ہوئے بلکہ خاص علاقہ تباہ و برباد ہوا ہے) یہ درجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو حاصل ہے کہ ان کی رسالت تمام اقوام عالم کے لیے عام ہے اور قیامت تک اسی طرح باقی رہے گی۔ دیکھیے سورۂ سبا (۲۸)۔ ➋ { فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ:} یعنی ایسے دلائل و معجزات لے کر آئے جو اس بات پر دلالت کرتے تھے کہ واقعی یہ اللہ کے رسول ہیں۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ قرآن سب سے بڑا اور سب سے زیادہ مؤثر تھا، جس کی وجہ سے آپ کی امت بھی سب سے زیادہ ہوئی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ عنکبوت (۵۰، ۵۱) کے فوائد۔ ➌ { فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ:} لیکن یہ امتیں رسولوں کی دعوت پر ایمان نہیں لائیں، اس کا سبب یہ ہوا کہ جب اللہ کے رسول شروع میں ان کے پاس آئے تو انھوں نے اپنی سرکشی اور تکبر کی وجہ سے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور یہ انکار ان کے لیے مستقل حجاب بن گیا اور وہ یہی سوچتے رہے کہ جسے ہم جھٹلا چکے اب اس پر ایمان کیسے لائیں۔ نتیجتاً وہ ایمان کی نعمت سے محروم رہے۔ امام ابن جریررحمہ اللہ نے {” كَذَّبُوْا “} کا فاعل قوم نوح کو بنایا ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہو گا کہ ان رسولوں کی قومیں بھی ایسی نہ تھیں جو اس چیز پر ایمان لاتیں جسے قوم نوح اور پہلے کے لوگ اس سے قبل جھٹلا چکے تھے، بلکہ ان کے دلوں پر قوم نوح کی طرح مہر لگ گئی۔ پہلا معنی زیادہ مناسب ہے، اگرچہ یہ بھی درست ہے۔ ➍ { كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِيْنَ:} یعنی ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ آخر کار یہ سزا دیتا ہے کہ انھیں کبھی راہِ ہدایت پانے کی توفیق نہیں ہوتی اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کا ان کے دلوں پر مہر لگانے کا۔ آئندہ بھی جو یہ روش اختیار کرے گا اسے یہی سزا ملے گی۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۷)، انعام (۱۰۹، ۱۱۰) اور انفال (۲۴)۔
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰؑ اور ہارونؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا، مگر انہوں نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ مجرم لوگ تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ان پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو، فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا۔ سو انہوں نے تکبر کیا اور وه لوگ مجرم قوم تھے
احمد رضا خان بریلوی
پھر ان کے بعد ہم نے موسٰی اور ہارون کو فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف اپنی نشانیاں دے کر بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے ان (رسولوں) کے بعد موسیٰ (ع)و ہارون (ع)کو اپنی نشانیوں (معجزوں) کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ لوگ (عادی) مجرم تھے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف اپنی نشانیاں دے کر بھیجا تو انھوں نے بہت تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔ لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [27-النمل:14] حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود داری اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو؟ کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں؟ ان پر اس نصیحت نے بھی اُلٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک بن جاؤ۔ سو بکتے رہو ہم تو تمہاری ماننے کے نہیں۔ اس قصے کو قرآن کریم میں باربار دہرایا گیا ہے، اس لیے کہ یہ عجیب و غریب قصہ ہے۔ فرعون موسیٰ علیہ السلام سے بہت ڈرتا بچتا رہا۔ لیکن قدرت نے موسیٰ علیہ السلام کو اسی کے ہاں پلوایا اور شاہزادوں کی طرح عزت کے گہوارے میں جھلایا۔ جب جوانی کی عمر کو پہنچے تو ایک ایسا سبب کھڑا کر دیا کہ یہاں سے آپ چلے گئے۔ پھر جناب باری نے ان سے خود کلام کیا۔ نبوت و رسالت دی اور اسی کے ہاں پھر بھیجا۔ فقط ایک ہارون علیہ السلام کو ساتھ دے کر آپ علیہ السلام نے یہاں آکے اس عظیم الشان سلطان کے رعب و دبدبے کی کوئی پرواہ نہ کر کے اسے دین حق کی دعوت دی۔ اس سرکش نے اس پر بہت برا منایا اور کمینہ پن پر اتر آیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں رسولوں کی خود ہی حفاظت کی وہ وہ معجزات اپنے نبی کے ہاتھوں میں ظاہر کئے کہ ان کے دل ان کی نبوت مان گئے۔ لیکن تاہم ان کا نفس ایمان پر آمادہ نہ ہوا اور یہ اپنے کفر سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوئے۔ «فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [6-الأنعام:45] ’ آخر اللہ کا عذاب آہی گیا اور ان کی جڑیں کاٹ دی گئیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ‘۔
75۔ 1 رسولوں کے عمومی ذکر کے بعد، حضرت موسیٰ و ہارون علیہا اسلام کا ذکر کیا جا رہا ہے، درآنحالیکہ رسول کے تحت میں وہ بھی آجاتے ہیں۔ لیکن چونکہ ان کا شمار جلیل القدر رسولوں میں ہوتا ہے اس لئے خصوصی طور پر ان کا الگ ذکر فرما دیا۔ 75۔ 2 حضرت موسیٰ ؑ کے معجزات، بالخصوص نو آیات بینات، جن کا ذکر اللہ نے سورت نبی اسرائیل آیت 11 میں کیا ہے۔ مشہور ہیں۔ 75۔ 3 لیکن چونکہ وہ بڑے بڑے جرائم اور گناہوں کے عادی تھے۔ اس لئے انہوں نے اللہ کے بھیجے ہوئے رسول کے ساتھ بھی استکبار کا معاملہ کیا۔ کیونکہ ایک گناہ، دوسرے گناہ کا ذریعہ بنتا اور گناہوں پر اصرار بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کی جرّات پیدا کرتا ہے۔
(آیت 75) {ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ …:} یہ دوسرا قصہ موسیٰ و ہارون علیہما السلام کی قوم کا ہے جو غرق ہونے میں نوح علیہ السلام کی قوم کی مثال ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ قریش آپ کو جادوگر کہہ رہے ہیں (یہ کوئی نئی بات نہیں، جو شخص یا قوم بھی دلیل سے لاجواب ہو جائے وہ اسے جادو کہہ کر جان چھڑاتے ہیں) مگر ان میں سے بعض تو ان جادوگروں کی طرح ایمان لے آئیں گے اور جو اپنے کفر پر اڑے رہے وہ فرعون اور اس کی قوم کی طرح تباہ و برباد ہوں گے۔ {”آيَاتٌ“} سے مراد وہ نو(۹) معجزے ہیں جو سورۂ بنی اسرائیل (۱۰۱) میں ذکر ہوئے ہیں۔
پس جب ہمارے پاس سے حق ان کے سامنے آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر جب ان کو ہمارے پاس سے صحیح دلیل پہنچی تو وه لوگ کہنے لگے کہ یقیناً یہ صریح جادو ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا بولے یہ تو ضرور کھلا جادو ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ہماری طرف سے ان کے پاس حق آیا (اور حقیقت واضح ہوگئی) تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے بے شک یہ تو کھلا جادو ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔ لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [27-النمل:14] حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود داری اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو؟ کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں؟ ان پر اس نصیحت نے بھی اُلٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک بن جاؤ۔ سو بکتے رہو ہم تو تمہاری ماننے کے نہیں۔ اس قصے کو قرآن کریم میں باربار دہرایا گیا ہے، اس لیے کہ یہ عجیب و غریب قصہ ہے۔ فرعون موسیٰ علیہ السلام سے بہت ڈرتا بچتا رہا۔ لیکن قدرت نے موسیٰ علیہ السلام کو اسی کے ہاں پلوایا اور شاہزادوں کی طرح عزت کے گہوارے میں جھلایا۔ جب جوانی کی عمر کو پہنچے تو ایک ایسا سبب کھڑا کر دیا کہ یہاں سے آپ چلے گئے۔ پھر جناب باری نے ان سے خود کلام کیا۔ نبوت و رسالت دی اور اسی کے ہاں پھر بھیجا۔ فقط ایک ہارون علیہ السلام کو ساتھ دے کر آپ علیہ السلام نے یہاں آکے اس عظیم الشان سلطان کے رعب و دبدبے کی کوئی پرواہ نہ کر کے اسے دین حق کی دعوت دی۔ اس سرکش نے اس پر بہت برا منایا اور کمینہ پن پر اتر آیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں رسولوں کی خود ہی حفاظت کی وہ وہ معجزات اپنے نبی کے ہاتھوں میں ظاہر کئے کہ ان کے دل ان کی نبوت مان گئے۔ لیکن تاہم ان کا نفس ایمان پر آمادہ نہ ہوا اور یہ اپنے کفر سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوئے۔ «فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [6-الأنعام:45] ’ آخر اللہ کا عذاب آہی گیا اور ان کی جڑیں کاٹ دی گئیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ‘۔
76۔ 1 جب انکار کے لئے کوئی معقول دلیل نہیں ہوتی تو اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے۔
(آیت 76) {فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ …:} ”ہماری طرف سے حق“ اس حق کی عظمت کے بیان کے لیے ہے جو موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے۔ اس واضح حق کی تردید جب وہ کسی طرح نہ کر سکے تو اسے جادو کہہ دیا۔
موسیٰؑ نے کہا: “تم حق کو یہ کہتے ہو جبکہ وہ تمہارے سامنے آگیا؟ کیا یہ جادو ہے؟ حالانکہ جادو گر فلاح نہیں پایا کرتے"
مولانا محمد جوناگڑھی
موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کیا تم اس صحیح دلیل کی نسبت جب کہ وه تمہارے پاس پہنچی ایسی بات کہتے ہو کیا یہ جادو ہے، حاﻻنکہ جادوگر کامیاب نہیں ہوا کرتے
احمد رضا خان بریلوی
موسیٰ نے کہا کیا حق کی نسبت ایسا کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آیا کیا یہ جادو ہے اور جادوگر مراد کو نہیں پہنچتے،
علامہ محمد حسین نجفی
موسیٰ (ع) نے کہا کیا تم حق کے بارے میں ایسی بات کہتے ہو جبکہ وہ تمہارے پاس آیا؟ کیا یہ جادو ہے؟ حالانکہ جادوگر کبھی فلاح و کامیابی نہیں پا سکتے۔
عبدالسلام بن محمد
موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں (یہ) کہتے ہو، جب وہ تمھارے پاس آیا، کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ جادوگر کامیاب نہیں ہوتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔ لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [27-النمل:14] حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود داری اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو؟ کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں؟ ان پر اس نصیحت نے بھی اُلٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک بن جاؤ۔ سو بکتے رہو ہم تو تمہاری ماننے کے نہیں۔ اس قصے کو قرآن کریم میں باربار دہرایا گیا ہے، اس لیے کہ یہ عجیب و غریب قصہ ہے۔ فرعون موسیٰ علیہ السلام سے بہت ڈرتا بچتا رہا۔ لیکن قدرت نے موسیٰ علیہ السلام کو اسی کے ہاں پلوایا اور شاہزادوں کی طرح عزت کے گہوارے میں جھلایا۔ جب جوانی کی عمر کو پہنچے تو ایک ایسا سبب کھڑا کر دیا کہ یہاں سے آپ چلے گئے۔ پھر جناب باری نے ان سے خود کلام کیا۔ نبوت و رسالت دی اور اسی کے ہاں پھر بھیجا۔ فقط ایک ہارون علیہ السلام کو ساتھ دے کر آپ علیہ السلام نے یہاں آکے اس عظیم الشان سلطان کے رعب و دبدبے کی کوئی پرواہ نہ کر کے اسے دین حق کی دعوت دی۔ اس سرکش نے اس پر بہت برا منایا اور کمینہ پن پر اتر آیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں رسولوں کی خود ہی حفاظت کی وہ وہ معجزات اپنے نبی کے ہاتھوں میں ظاہر کئے کہ ان کے دل ان کی نبوت مان گئے۔ لیکن تاہم ان کا نفس ایمان پر آمادہ نہ ہوا اور یہ اپنے کفر سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوئے۔ «فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [6-الأنعام:45] ’ آخر اللہ کا عذاب آہی گیا اور ان کی جڑیں کاٹ دی گئیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ‘۔
77۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ نے کہ ذرا سوچو تو سہی، حق کی دعوت اور صحیح بات کو تم جادو کہتے ہو، بھلا یہ جادو ہے جادوگر تو کامیاب ہی نہیں ہوتے۔ یعنی مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے اور ناپسندیدہ انجام سے بچنے میں وہ ناکام ہی رہتے ہیں اور میں تو اللہ کا رسول ہوں، مجھے اللہ کی مدد حاصل ہے اور اس کی طرف سے مجھے معجزات اور آیات بینات عطا کی گئی ہیں مجھے سحر و ساحری کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اور اللہ کے عطا کردہ معجزات کے مقابلے میں اس کی حیثیت ہی کیا ہے؟
(آیت 77) {قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ …:} مفسرین نے فرمایا کفار کے جواب میں درحقیقت یہ تین جملے ہیں، پہلا {”اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ “} یعنی یہ بات کہ ”یہ جادو ہے“ کیا تم حق کے بارے میں کہہ رہے ہو، جب کہ حق تمھارے سامنے ہے؟ دوسرا {”اَسِحْرٌ هٰذَا “} کیا یہ جادو ہے؟ یہ سوال انکار کے لیے ہے، جیسے کوئی پھول کو پتھر کہے تو اسے کہا جائے، کیا یہ پتھر ہے؟ تیسرا یہ کہ جادوگر تو کامیاب نہیں ہوتے، جبکہ تم دیکھ رہے ہو کہ میں دلیل و برہان کی رو سے کامیاب ہوں، تو پھر یہ جادو کیسے ہو سکتا ہے۔ اس میں آئندہ جادوگروں کے ساتھ مقابلہ میں اپنی کامیابی اور جادوگروں کی ناکامی کی طرف بھی اشارہ فرما دیا ہے۔
اُنہوں نے جواب میں کہا “کیا تواس لیے آیا ہے کہ ہمیں اُ س طریقے سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور زمین میں بڑائی تم دونوں کی قائم ہو جائے؟ تمہارے بات تو ہم ماننے والے نہیں ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
وه لوگ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم کو اس طریقہ سے ہٹادو جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اور تم دونوں کو دنیا میں بڑائی مل جائے اور ہم تم دونوں کو کبھی نہ مانیں گے
احمد رضا خان بریلوی
بولے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اس سے پھیردو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا اور زمین میں تمہیں دونوں کی بڑائی رہے، اور ہم تم پر ایمان لانے کے نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے (جواب میں) کہا کہ کیا تم اس لئے ہمارے پاس آئے ہو کہ ہمیں اس راہ سے ہٹا دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے۔ اور اس سر زمین میں تم دونوں (بھائیوں) کی بڑائی (سرداری) قائم ہو جائے اور ہم تم دونوں کی بات تسلیم کرنے والے نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اس راہ سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور اس سر زمین میں تم دونوں ہی کو بڑائی مل جائے؟ اور ہم تم دونوں کو ہرگز ماننے والے نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔ لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [27-النمل:14] حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود داری اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو؟ کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں؟ ان پر اس نصیحت نے بھی اُلٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک بن جاؤ۔ سو بکتے رہو ہم تو تمہاری ماننے کے نہیں۔ اس قصے کو قرآن کریم میں باربار دہرایا گیا ہے، اس لیے کہ یہ عجیب و غریب قصہ ہے۔ فرعون موسیٰ علیہ السلام سے بہت ڈرتا بچتا رہا۔ لیکن قدرت نے موسیٰ علیہ السلام کو اسی کے ہاں پلوایا اور شاہزادوں کی طرح عزت کے گہوارے میں جھلایا۔ جب جوانی کی عمر کو پہنچے تو ایک ایسا سبب کھڑا کر دیا کہ یہاں سے آپ چلے گئے۔ پھر جناب باری نے ان سے خود کلام کیا۔ نبوت و رسالت دی اور اسی کے ہاں پھر بھیجا۔ فقط ایک ہارون علیہ السلام کو ساتھ دے کر آپ علیہ السلام نے یہاں آکے اس عظیم الشان سلطان کے رعب و دبدبے کی کوئی پرواہ نہ کر کے اسے دین حق کی دعوت دی۔ اس سرکش نے اس پر بہت برا منایا اور کمینہ پن پر اتر آیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں رسولوں کی خود ہی حفاظت کی وہ وہ معجزات اپنے نبی کے ہاتھوں میں ظاہر کئے کہ ان کے دل ان کی نبوت مان گئے۔ لیکن تاہم ان کا نفس ایمان پر آمادہ نہ ہوا اور یہ اپنے کفر سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوئے۔ «فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [6-الأنعام:45] ’ آخر اللہ کا عذاب آہی گیا اور ان کی جڑیں کاٹ دی گئیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ‘۔
78۔ 1 یہ منکرین کی دیگر حجتیں ہیں جو دلائل سے عاجز آکر، پیش کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ تم ہمارے آباء و اجداد کے راستے سے ہٹانا چاہتے ہو، دوسرے یہ کہ ہمیں جاہ و ریاست حاصل ہے، اسے ہم سے چھین کر خود اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہو اسلیے ہم تو کبھی بھی تم پر ایمان نہ لائیں گے۔ یعنی تنقید آباء پر اصرار اور دنیاوی وجہ کی خواہش نے انھیں ایمان لانے سے روکے رکھا۔ اس کے بعد آگے وہی قصہ ہے کہ فرعون نے ماہر جادوگروں کو بلایا اور حضرت موسیٰ ؑ اور جادوں گروں کا مقابلہ ہوا، جیسا کہ سورت اعراف میں گزرا اور سورت طہ میں بھی اس کی کچھ تفصیل آئے گی۔
(آیت 78) {قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا …: } فرعون اور اس کے ساتھی اپنے شرکیہ عقائد کی وجہ سے مذہبی برتری بھی جتاتے رہتے تھے اور سرزمین مصر کی حکومت پر قبضے کی وجہ سے تمام وسائل کے مالک بن کر سیاسی طور پر بھی سب سے بڑے بنے ہوئے تھے، اس لیے انھوں نے یہ دو الزام دھر دیے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اصلاح کی ہر تحریک، پرانی ہو یا نئی، وقت کے تمام فرعون اس پر یہی الزام رکھتے ہیں کہ ان لوگوں کا مقصد اصلاح نہیں، بلکہ ہماری مذہبی سیادت اور سیاسی برتری کو ختم کرنا اور اپنی حکومت قائم کرنا ہے، جیسا کہ نوح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں نے بھی کہا تھا کہ یہ شخص محض تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے، فرمایا: «{يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ }» [ المؤمنون: ۲۴ ] ”یہ چاہتا ہے کہ تم پر برتری حاصل کرلے۔“ حالانکہ انبیاء اور مصلحین محض اصلاح کے لیے آتے ہیں، اگر حکمران اسلام قبول کر لیں اور خود ہی اصلاح کا فریضہ سرانجام دیں تو ان کی حکومت سے تعرض نہیں کیا جاتا۔ مثلاً اس دور میں محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے ابن سعود کے ذریعے سے توحید و سنت کی دعوت کو پھیلایا، خود حکومت طلب نہیں کی، نہ ان کی اولاد میں سے کسی نے یہ خواہش یا کوشش کی۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے وقت کے حاکموں کو جہاد پر ابھار کر اور ان کا ساتھ دے کر تاتاریوں کو مار بھگایا، خود کوئی عہدہ نہ طلب کیا نہ قبول کیا۔ اس لیے ہرقل نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اگر چاہتے ہو کہ تمھاری حکومت قائم رہے تو اسلام قبول کر لو، مگر وہ بدنصیب نکلے اور ہرقل بھی ان کی بادشاہت کے طمع میں ایمان سے محروم رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان ہونے والے قبائل کے سرداروں کو اور مختلف علاقوں کے مسلمان ہونے والے بادشاہوں، مثلاً ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ وغیرہ کو ان کے عہدوں پر قائم رکھا۔ آخر میں فرعون کے ساتھیوں نے نہایت ڈھٹائی سے کہا کہ ہم تم دونوں کو ہر گز ماننے والے نہیں۔
اور فرعون نے (اپنے آدمیوں سے) کہا کہ “ہر ماہر فن جادوگر کو میرے پاس حاضر کرو "
مولانا محمد جوناگڑھی
اور فرعون نے کہا کہ میرے پاس تمام ماہر جادوگروں کو حاضر کرو
احمد رضا خان بریلوی
اور فرعون بولا ہر جادوگر علم والے کو میرے پاس لے آؤ،
علامہ محمد حسین نجفی
اور فرعون نے کہا (میرے ملک کے) تمام ماہر جادوگروں کو میرے پاس لاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اور فرعون نے کہا میرے پاس ہر ماہر فن جادوگر لے کر آؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام بمقابلہ فرعونی ساحرین ٭٭
سورۃ الاعراف، سورۃ طہٰ، سورۃ الشعراء اور اس سورت میں بھی فرعونی جادو گروں اور موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ بیان فرمایا گیا ہے۔ ہم نے اس پورے واقعہ کی تفصیل سورۃ الاعراف کی تفسیر میں لکھ دی ہے۔ فرعون نے جادو گروں اور شعبدہ بازوں سے موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ اس کے لیے انتظام کئے۔ قدرت نے بھرے میدان میں اے شکست فاش دی اور خود جادوگر حق کو مان گئے وہ سجدے میں گر کر اللہ اور اس کے دونوں نبیوں پر وہیں ایمان لائے اور اپنے ایمان کا غیر مشتبہ الفاظ میں سب کے سامنے فرعون کی موجودگی میں اعلان کر دیا «فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:46-48] ( یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر)۔ اس وقت فرعون کا منہ کالا ہو گیا اور اللہ کے دین کا بول بالا ہوا۔ اس نے اپنی سپاہ اور جادوگروں کے جمع کرنے کا حکم دیا۔ یہ آئے، صفیں باندھ کر کھڑے ہوئے، فرعون نے ان کی کمر ٹھونکی انعام کے وعدے دیئے۔ «قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِمَّا أَن تُلْقِيَ وَإِمَّا أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَىٰ قَالَ بَلْ أَلْقُوا ۖ فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ» ۱؎ [20-طه:65، 66] ’ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ بولو اب ہم پہلے اپنا کرتب دکھائیں یا تم پہل کرتے ہو؟ ‘۔ آپ علیہ السلام نے اسی بات کو بہتر سمجھا کہ ان کے دل کی بھڑاس پہلے نکل جائے۔ لوگ ان کے تماشے اور باطل کے ہتھکنڈے پہلے دیکھ لیں۔ پھر حق آئے اور باطل کا صفایا کر جائے۔
یہ اچھا اثر ڈالے گا، اس لیے آپ علیہ السلام نے انہیں فرمایا کہ ”تمہیں جو کچھ کرنا ہے شروع کردو۔“ «أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» ۱؎ [7-الأعراف:116] ’ انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کرکے انہیں ہیبت زدہ کرنے کا زبردست مظاہرہ کیا ‘۔ جس سے موسیٰ علیہ السلام کے دل میں بھی خطرہ پیدا ہو گیا فوراً اللہ کی طرف سے وحی اتری کہ «فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ» ۱؎ [20-طه:67،69] ’ خبردار ڈرنا مت۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دے۔ وہ ان کے سو ڈھکوسلے صاف کر دے گی۔ یہ جادو کے مکر کی صفت ہے۔ اس میں اصلیت کہاں انہیں اوج و فلاح کیسے نصیب ہو؟ ‘ اب موسیٰ علیہ السلام سنبھل گئے اور زور دے کر پیشگوئی کی کہ ”تم تو یہ سب جادو کے کھلونے بنا لائے ہو دیکھنا اللہ تعالیٰ انہیں بھی درہم برہم کر دے گا۔ تم فسادیوں کے اعمال دیر پا ہو ہی نہیں سکتے۔“ لیث بن ابی سلیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ان آیتوں میں اللہ کے حکم سے جادو کی شفاء ہے۔ ایک برتن میں پانی لے کر اس پر یہ آیتیں پڑھ کر دم کر دیں جائیں اور جس پر جادو کر دیا گیا ہو اس کے سر پر وہ پانی بہا دیا جائے «فَلَمَّا أَلْقَوْا قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُم بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ» ۱؎ [10-یونس:81،82] تک یہ آیتیں اور «فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ فَغُلِبُوا هُنَالِكَ وَانقَلَبُوا صَاغِرِينَ وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُم بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:118-122] سے چار آیتوں تک اور «إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ» ۱؎ [20-طه:69] [ابن ابی حاتم]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 79تا82) ➊ {وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِيْ …:} یہ قصہ تفصیل سے سورۂ اعراف میں گزر چکا ہے اور سورۂ طٰہٰ اور شعراء میں بھی آ رہا ہے۔ ➋ { مَا جِئْتُمْ بِهِ السِّحْرُ:} یعنی جادو تو وہ ہے جو تم لائے ہو، نہ کہ وہ جو میں پیش کر رہا ہوں۔ {” عَمَلَ الْمُفْسِدِيْنَ “} جادوگروں کو مفسد قرار دیا ہے جو ایک مشرک ظالم اور خدائی کے دعوے دار کی حمایت محض دنیا کے لالچ میں کر رہے تھے۔ ➌ { وَ يُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ:} اپنے کلمات (اپنی باتوں) کے ساتھ، یعنی ان وعدوں کے مطابق جو اس نے حق کو غالب کرنے کے متعلق کیے ہیں، حق کو سچا کر دیتا ہے۔ یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ چاہے تو اپنے کلمہ {”كُنْ“} کے ساتھ، یعنی اپنے کسی حکم کے ساتھ ظاہری اسباب کے بغیر بھی حق کو سچا کر دیتا ہے، یا اپنے کلمات کی برکت سے حق کو سچا کر دیتا ہے۔
جب جادو گر آ گئے تو موسیٰؑ نے ان سے کہا “جو کچھ تمہیں پھینکنا ہے پھینکو"
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر جب جادوگر آئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب جادوگر آئے ان سے موسیٰ نے کہا ڈالو جو تمہیں ڈالنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب جادوگر آگئے تو موسیٰ نے ان سے کہا (جادو کے سامان سے) تمہیں جو کچھ پھینکنا ہے پھینکو۔
عبدالسلام بن محمد
تو جب جادوگر آگئے تو موسیٰ نے ان سے کہا پھینکو جو کچھ تم پھینکنے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام بمقابلہ فرعونی ساحرین ٭٭
سورۃ الاعراف، سورۃ طہٰ، سورۃ الشعراء اور اس سورت میں بھی فرعونی جادو گروں اور موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ بیان فرمایا گیا ہے۔ ہم نے اس پورے واقعہ کی تفصیل سورۃ الاعراف کی تفسیر میں لکھ دی ہے۔ فرعون نے جادو گروں اور شعبدہ بازوں سے موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ اس کے لیے انتظام کئے۔ قدرت نے بھرے میدان میں اے شکست فاش دی اور خود جادوگر حق کو مان گئے وہ سجدے میں گر کر اللہ اور اس کے دونوں نبیوں پر وہیں ایمان لائے اور اپنے ایمان کا غیر مشتبہ الفاظ میں سب کے سامنے فرعون کی موجودگی میں اعلان کر دیا «فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:46-48] ( یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر)۔ اس وقت فرعون کا منہ کالا ہو گیا اور اللہ کے دین کا بول بالا ہوا۔ اس نے اپنی سپاہ اور جادوگروں کے جمع کرنے کا حکم دیا۔ یہ آئے، صفیں باندھ کر کھڑے ہوئے، فرعون نے ان کی کمر ٹھونکی انعام کے وعدے دیئے۔ «قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِمَّا أَن تُلْقِيَ وَإِمَّا أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَىٰ قَالَ بَلْ أَلْقُوا ۖ فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ» ۱؎ [20-طه:65، 66] ’ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ بولو اب ہم پہلے اپنا کرتب دکھائیں یا تم پہل کرتے ہو؟ ‘۔ آپ علیہ السلام نے اسی بات کو بہتر سمجھا کہ ان کے دل کی بھڑاس پہلے نکل جائے۔ لوگ ان کے تماشے اور باطل کے ہتھکنڈے پہلے دیکھ لیں۔ پھر حق آئے اور باطل کا صفایا کر جائے۔
یہ اچھا اثر ڈالے گا، اس لیے آپ علیہ السلام نے انہیں فرمایا کہ ”تمہیں جو کچھ کرنا ہے شروع کردو۔“ «أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» ۱؎ [7-الأعراف:116] ’ انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کرکے انہیں ہیبت زدہ کرنے کا زبردست مظاہرہ کیا ‘۔ جس سے موسیٰ علیہ السلام کے دل میں بھی خطرہ پیدا ہو گیا فوراً اللہ کی طرف سے وحی اتری کہ «فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ» ۱؎ [20-طه:67،69] ’ خبردار ڈرنا مت۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دے۔ وہ ان کے سو ڈھکوسلے صاف کر دے گی۔ یہ جادو کے مکر کی صفت ہے۔ اس میں اصلیت کہاں انہیں اوج و فلاح کیسے نصیب ہو؟ ‘ اب موسیٰ علیہ السلام سنبھل گئے اور زور دے کر پیشگوئی کی کہ ”تم تو یہ سب جادو کے کھلونے بنا لائے ہو دیکھنا اللہ تعالیٰ انہیں بھی درہم برہم کر دے گا۔ تم فسادیوں کے اعمال دیر پا ہو ہی نہیں سکتے۔“ لیث بن ابی سلیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ان آیتوں میں اللہ کے حکم سے جادو کی شفاء ہے۔ ایک برتن میں پانی لے کر اس پر یہ آیتیں پڑھ کر دم کر دیں جائیں اور جس پر جادو کر دیا گیا ہو اس کے سر پر وہ پانی بہا دیا جائے «فَلَمَّا أَلْقَوْا قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُم بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ» ۱؎ [10-یونس:81،82] تک یہ آیتیں اور «فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ فَغُلِبُوا هُنَالِكَ وَانقَلَبُوا صَاغِرِينَ وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُم بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:118-122] سے چار آیتوں تک اور «إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ» ۱؎ [20-طه:69] [ابن ابی حاتم]
پھر جب انہوں نے اپنے آنچھر پھینک دیے تو موسیٰؑ نے کہا “یہ جو کچھ تم نے پھینکا ہے یہ جادو ہے، اللہ ابھی اِسے باطل کیے دیتا ہے، مفسدوں کے کام کو اللہ سدھرنے نہیں دیتا
مولانا محمد جوناگڑھی
سو جب انہوں نے ڈاﻻ تو موسی﴿علیہ السلام﴾ نے فرمایا کہ یہ جو کچھ تم ﻻئے ہو جادو ہے۔ یقینی بات ہے کہ اللہ اس کو ابھی درہم برہم کیے دیتا ہے، اللہ ایسے فسادیوں کا کام بننے نہیں دیتا
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب انہوں نے ڈالا موسیٰ نے کہا یہ جو تم لائے یہ جادو ہے اب اللہ اسے باطل کردے گا، اللہ مفسدوں کا کام نہیں بناتا،
علامہ محمد حسین نجفی
جب وہ (رسیاں وغیرہ) پھینک چکے۔ تو موسیٰ نے کہا جو کچھ تم لائے ہو یہ جادو ہے (نہ وہ جو میں لایا ہوں) یقینا اللہ اسے بھی ملیامیٹ کر دے گا کیونکہ قانونِ قدرت ہے کہ اللہ مفسدین کے کام کو بننے نہیں دیتا۔
عبدالسلام بن محمد
تو جب انھوں نے پھینکا، موسیٰ نے کہا تم جو کچھ لائے ہو یہ تو جادو ہے، یقینا اللہ اسے جلدی باطل کر دے گا۔ بے شک اللہ مفسدوں کا کام درست نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام بمقابلہ فرعونی ساحرین ٭٭
سورۃ الاعراف، سورۃ طہٰ، سورۃ الشعراء اور اس سورت میں بھی فرعونی جادو گروں اور موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ بیان فرمایا گیا ہے۔ ہم نے اس پورے واقعہ کی تفصیل سورۃ الاعراف کی تفسیر میں لکھ دی ہے۔ فرعون نے جادو گروں اور شعبدہ بازوں سے موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ اس کے لیے انتظام کئے۔ قدرت نے بھرے میدان میں اے شکست فاش دی اور خود جادوگر حق کو مان گئے وہ سجدے میں گر کر اللہ اور اس کے دونوں نبیوں پر وہیں ایمان لائے اور اپنے ایمان کا غیر مشتبہ الفاظ میں سب کے سامنے فرعون کی موجودگی میں اعلان کر دیا «فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:46-48] ( یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر)۔ اس وقت فرعون کا منہ کالا ہو گیا اور اللہ کے دین کا بول بالا ہوا۔ اس نے اپنی سپاہ اور جادوگروں کے جمع کرنے کا حکم دیا۔ یہ آئے، صفیں باندھ کر کھڑے ہوئے، فرعون نے ان کی کمر ٹھونکی انعام کے وعدے دیئے۔ «قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِمَّا أَن تُلْقِيَ وَإِمَّا أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَىٰ قَالَ بَلْ أَلْقُوا ۖ فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ» ۱؎ [20-طه:65، 66] ’ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ بولو اب ہم پہلے اپنا کرتب دکھائیں یا تم پہل کرتے ہو؟ ‘۔ آپ علیہ السلام نے اسی بات کو بہتر سمجھا کہ ان کے دل کی بھڑاس پہلے نکل جائے۔ لوگ ان کے تماشے اور باطل کے ہتھکنڈے پہلے دیکھ لیں۔ پھر حق آئے اور باطل کا صفایا کر جائے۔
یہ اچھا اثر ڈالے گا، اس لیے آپ علیہ السلام نے انہیں فرمایا کہ ”تمہیں جو کچھ کرنا ہے شروع کردو۔“ «أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» ۱؎ [7-الأعراف:116] ’ انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کرکے انہیں ہیبت زدہ کرنے کا زبردست مظاہرہ کیا ‘۔ جس سے موسیٰ علیہ السلام کے دل میں بھی خطرہ پیدا ہو گیا فوراً اللہ کی طرف سے وحی اتری کہ «فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ» ۱؎ [20-طه:67،69] ’ خبردار ڈرنا مت۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دے۔ وہ ان کے سو ڈھکوسلے صاف کر دے گی۔ یہ جادو کے مکر کی صفت ہے۔ اس میں اصلیت کہاں انہیں اوج و فلاح کیسے نصیب ہو؟ ‘ اب موسیٰ علیہ السلام سنبھل گئے اور زور دے کر پیشگوئی کی کہ ”تم تو یہ سب جادو کے کھلونے بنا لائے ہو دیکھنا اللہ تعالیٰ انہیں بھی درہم برہم کر دے گا۔ تم فسادیوں کے اعمال دیر پا ہو ہی نہیں سکتے۔“ لیث بن ابی سلیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ان آیتوں میں اللہ کے حکم سے جادو کی شفاء ہے۔ ایک برتن میں پانی لے کر اس پر یہ آیتیں پڑھ کر دم کر دیں جائیں اور جس پر جادو کر دیا گیا ہو اس کے سر پر وہ پانی بہا دیا جائے «فَلَمَّا أَلْقَوْا قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُم بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ» ۱؎ [10-یونس:81،82] تک یہ آیتیں اور «فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ فَغُلِبُوا هُنَالِكَ وَانقَلَبُوا صَاغِرِينَ وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُم بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:118-122] سے چار آیتوں تک اور «إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ» ۱؎ [20-طه:69] [ابن ابی حاتم]
81۔ 1 چناچہ ایسا ہی ہوا۔ بھلا جھوٹ بھی، سچ کے مقابلے میں کامیاب ہوسکتا ہے؟ جادوگروں نے، چاہے وہ اپنی فن میں کتنے ہی درجہ کمال کو پہنچے ہوئے تھے، جو کچھ پیش کیا، وہ جادو ہی تھا اور نظر کی شعبدہ بازی ہی تھی اور جب حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ کے حکم سے اپنا عصا پھینکا تو اس نے ساری شعبدہ بازیوں کو آن واحد میں ختم کردیا۔ 81۔ 2 اور یہ جادوگر بھی مفسدین تھے، جنہوں نے محض دنیا کمانے کے لئے جادوگری کا فن سیکھا ہوا تھا اور جادو کے کرتب دکھا کر لوگوں کو بیوقوف بناتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کے اس عمل فساد کو کس طرح سنوار سکتا تھا۔
اور اللہ اپنے فرمانوں سے حق کو حق کر دکھاتا ہے، خواہ مجرموں کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ تعالیٰ حق کو اپنے فرمان سے ﺛابت کردیتا ہے گو مجرم کیسا ہی ناگوار سمجھیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ اپنی باتوں سے حق کو حق کر دکھاتا ہے پڑے برا مانیں مجرم،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ حق کو اپنے کلمات کے ذریعہ سے ضرور حق ثابت کر دکھاتا ہے اگرچہ مجرموں کو ناپسند ہی ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ حق کو اپنی باتوں کے ساتھ سچا کر دیتاہے، خواہ مجرم برا ہی جانیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام بمقابلہ فرعونی ساحرین ٭٭
سورۃ الاعراف، سورۃ طہٰ، سورۃ الشعراء اور اس سورت میں بھی فرعونی جادو گروں اور موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ بیان فرمایا گیا ہے۔ ہم نے اس پورے واقعہ کی تفصیل سورۃ الاعراف کی تفسیر میں لکھ دی ہے۔ فرعون نے جادو گروں اور شعبدہ بازوں سے موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ اس کے لیے انتظام کئے۔ قدرت نے بھرے میدان میں اے شکست فاش دی اور خود جادوگر حق کو مان گئے وہ سجدے میں گر کر اللہ اور اس کے دونوں نبیوں پر وہیں ایمان لائے اور اپنے ایمان کا غیر مشتبہ الفاظ میں سب کے سامنے فرعون کی موجودگی میں اعلان کر دیا «فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:46-48] ( یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر)۔ اس وقت فرعون کا منہ کالا ہو گیا اور اللہ کے دین کا بول بالا ہوا۔ اس نے اپنی سپاہ اور جادوگروں کے جمع کرنے کا حکم دیا۔ یہ آئے، صفیں باندھ کر کھڑے ہوئے، فرعون نے ان کی کمر ٹھونکی انعام کے وعدے دیئے۔ «قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِمَّا أَن تُلْقِيَ وَإِمَّا أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَىٰ قَالَ بَلْ أَلْقُوا ۖ فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ» ۱؎ [20-طه:65، 66] ’ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ بولو اب ہم پہلے اپنا کرتب دکھائیں یا تم پہل کرتے ہو؟ ‘۔ آپ علیہ السلام نے اسی بات کو بہتر سمجھا کہ ان کے دل کی بھڑاس پہلے نکل جائے۔ لوگ ان کے تماشے اور باطل کے ہتھکنڈے پہلے دیکھ لیں۔ پھر حق آئے اور باطل کا صفایا کر جائے۔
یہ اچھا اثر ڈالے گا، اس لیے آپ علیہ السلام نے انہیں فرمایا کہ ”تمہیں جو کچھ کرنا ہے شروع کردو۔“ «أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» ۱؎ [7-الأعراف:116] ’ انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کرکے انہیں ہیبت زدہ کرنے کا زبردست مظاہرہ کیا ‘۔ جس سے موسیٰ علیہ السلام کے دل میں بھی خطرہ پیدا ہو گیا فوراً اللہ کی طرف سے وحی اتری کہ «فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ» ۱؎ [20-طه:67،69] ’ خبردار ڈرنا مت۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دے۔ وہ ان کے سو ڈھکوسلے صاف کر دے گی۔ یہ جادو کے مکر کی صفت ہے۔ اس میں اصلیت کہاں انہیں اوج و فلاح کیسے نصیب ہو؟ ‘ اب موسیٰ علیہ السلام سنبھل گئے اور زور دے کر پیشگوئی کی کہ ”تم تو یہ سب جادو کے کھلونے بنا لائے ہو دیکھنا اللہ تعالیٰ انہیں بھی درہم برہم کر دے گا۔ تم فسادیوں کے اعمال دیر پا ہو ہی نہیں سکتے۔“ لیث بن ابی سلیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ان آیتوں میں اللہ کے حکم سے جادو کی شفاء ہے۔ ایک برتن میں پانی لے کر اس پر یہ آیتیں پڑھ کر دم کر دیں جائیں اور جس پر جادو کر دیا گیا ہو اس کے سر پر وہ پانی بہا دیا جائے «فَلَمَّا أَلْقَوْا قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُم بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ» ۱؎ [10-یونس:81،82] تک یہ آیتیں اور «فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ فَغُلِبُوا هُنَالِكَ وَانقَلَبُوا صَاغِرِينَ وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُم بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:118-122] سے چار آیتوں تک اور «إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ» ۱؎ [20-طه:69] [ابن ابی حاتم]
82۔ 1 یا کلمات سے مراد وہ دلائل وبراہین ہیں، جو اللہ تعالیٰ اپنی کتابوں میں اتارتا رہا جو پیغمبروں کو وہ عطا فرماتا تھا۔ یا وہ معجزات ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے انبیاء کے ہاتھوں سے صادر ہوتے تھے، یا اللہ کا وہ حکم ہے جو لفظ کُنْ سے صادر فرماتا ہے۔
(پھر دیکھو کہ) موسیٰؑ کو اس کی قوم میں سے چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا، فرعون کے ڈر سے اور خود اپنی قوم کے سر بر آوردہ لوگوں کے ڈر سے (جنہیں خوف تھا کہ) فرعون ان کو عذاب میں مبتلا کرے گا اور واقعہ یہ ہے کہ فرعون زمین میں غلبہ رکھتا تھا اور وہ اُن لوگوں میں سے تھا جو کسی حد پر رکتے نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پس موسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی قوم میں سے صرف قدرے قلیل آدمی ایمان ﻻئے وه بھی فرعون سے اور اپنے حکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں ان کو تکلیف پہنچائے اور واقع میں فرعون اس ملک میں زور رکھتا تھا، اور یہ بھی بات تھی کہ وه حد سے باہر ہو جاتا تھا
احمد رضا خان بریلوی
تو موسیٰ پر ایمان نہ لائے مگر اس کی قوم کی اولاد سے کچھ لوگ فرعون اور اس کے درباریوں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں انہیں ہٹنے پر مجبور نہ کردیں اور بیشک فرعون زمین پر سر اٹھانے والا تھا، اور بیشک وہ حد سے گزر گیا
علامہ محمد حسین نجفی
پس موسیٰ پر ان کی قوم کے چند نوجوانوں کے ایک گروہ کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لایا اور وہ (ایمان لانے والے) بھی فرعون اور اپنی قوم کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے ایمان لائے۔ کہ کہیں وہ انہیں آزمائش (اور مصیبت) میں نہ ڈال دے اور بے شک فرعون بڑا سرکش (بادشاہ) تھا اور حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا۔
عبدالسلام بن محمد
تو موسیٰ پر اس کی قوم کے چند لڑکوںکے سواکوئی ایمان نہ لایا، (وہ بھی) فرعون اور ان کے سرداروں کے خوف کے باوجود کہ وہ انھیں آزمائش میں ڈال دے گا اور بے شک فرعون یقینا زمین میں سرکش ہے اور بے شک وہ یقینا حد سے گزرنے والوں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بزدلی ایمان کے درمیان دیوار بن گئی ٭٭
ان زبردست روشن دلیلوں کے اور معجزوں کے باوجود موسیٰ علیہ السلام پر بہت کم فرعونی ایمان لا سکے۔ کیونکہ ان کے دل میں فرعون کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ یہ خبیث رعب دبدبے والا بھی تھا اور ترقی پر بھی تھا۔ حق ظاہر ہو گیا تھا لیکن کسی کو اس کی مخالفت کی جرأت نہ تھی ہر ایک کا خوف تھا کہ اگر آج میں ایمان لے آیا تو کل اس کی سخت سزاؤں سے مجبور ہو کر دین حق چھوڑنا پڑے گا۔ پس بہت سے ایسے جانباز موحد جنہوں نے اس کی سلطنت اور سزا کی کوئی پرواہ نہ کی اور حق کے سامنے سر جھکا دیا۔ ان میں خصوصیت سے قابل ذکر فرعون کی بیوی تھی اس کی آل کا ایک اور شخص تھا ایک جو فرعون کا خزانچی تھا۔ اس کی بیوہ تھی وغیرہ رضی اللہ عنہم اجمعین۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے موسیٰ پر بنی اسرائیل کی تھوڑی سی تعداد کا ایمان لانا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ ذریت سے مراد قلیل ہے یعنی بہت کم لوگ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اولاد بھی مراد ہے۔ یعنی جب موسیٰ نبی بن کر آئے اس وقت جو لوگ ہیں ان کی موت کے بعد ان کی اولاد میں سے کچھ لوگ ایمان لائے۔
امام ابن جریر تو قول مجاہد رحمہ اللہ کو پسند فرماتے ہیں کہ «قَوْمِہِ» میں ضمیر کا مرجع موسیٰ علیہ السلام ہیں کیونکہ یہی نام اس سے قریب ہے۔ لیکن یہ محل نظر ہے کیونکہ ذریت کے لفظ کا تقاضا جوان اور کم عمر لوگ ہیں اور بنو اسرائیل تو سب کے سب مومن تھے جیسا کہ مشہور ہے یہ تو موسیٰ علیہ السلام کے آنے کی خوشیاں منا رہے تھے ان کی کتابوں میں موجود تھا کہ اس طرح نبی اللہ علیہ السلام آئیں گے اور ان کے ہاتھوں انہیں فرعون کی غلامی کی ذلت سے نجات ملے گی ان کی کتابوں کی یہی بات تو فرعون کے ہوش و حواس گم کئے ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس نے موسیٰ علیہ السلام کی دشمنی پر کمر کس لی تھی اور آپ علیہ السلام کی نبوت کے ظاہر ہونے سے پہلے اور آپ علیہ السلام کے آنے سے پہلے اور آپ علیہ السلام کے آجانے کے بعد ہم تو اس کے ہاتھوں بہت ہی تنگ کئے گئے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے انہیں تسلی دی کہ «قَالُوا أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:129] ’ جلدی نہ کرو۔ اللہ تمہارے دشمن کا ناس کرے گا، تمہیں ملک کا مالک بنائے گا پھر دیکھے گا کہ تم کیا کرتے ہو؟ ‘ پس یہ تو سمجھ میں نہیں آتا کہ اس آیت سے مراد قوم موسیٰ کی نئی نسل ہو، اور یہ کہ بنو اسرائیل میں سے سوائے قارون کے اور کوئی دین کا چھوڑنے والا ایسا نہ تھا جس کے فتنے میں پڑ جانے کا خوف ہو۔ قارون گو قوم موسیٰ میں سے تھا لیکن وہ باغی تھا فرعون کا دوست تھا۔ اس کے حاشیہ نشینوں میں تھا، اس سے گہرے تعلق رکھتا تھا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ «مَلَا۠ئِہِمۡ» میں ضمیر فرعون کی طرف عائد ہے اور بطور اس کے تابعداری کرنے والوں کی زیادتی کے ضمیر جمع کی لائی گئی ہے۔ یا یہ کہ فرعون سے پہلے لفظ ال جو مضاف تھا محذوف کر دیا گیا ہے۔ اور مضاف الیہ اس کے قائم مقام رکھ دیا ہے۔ ان کا قول بھی بہت دور کا ہے۔ گو امام ابن جریر نے بعض نحویوں سے بھی ان دونوں اقوال کی حکایت کی ہے اور اس سے اگلی آیت جو آ رہی ہے وہ بھی دلالت کرتی ہے کہ بنی اسرائیل سب مومن تھے۔
83۔ 1 قومہ کے " ہ " ضمیر کے مرجع میں مفسرین کا اختلاف ہے، بعض نے اس کا مرجع حضرت موسیٰ ؑ کو قرار دیا ہے۔ کیونکہ آیت میں ضمیر سے پہلے انہی کا ذکر ہے یعنی فرعون کی قوم میں سے تھوڑے سے لوگ ایمان لائے، ان کی دلیل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے لوگ تو ایک رسول اور نجات دہندہ کے انتظار میں تھے جو حضرت موسیٰ ؑ کی صورت میں انھیں مل گئے اور اس اعتبار سے سارے بنی اسرائیل (سوائے قارون کے) ان پر ایمان رکھتے تھے۔ اس لئے صحیح بات یہی ہے کہ (ذُ رِیَّۃُ مِنْ قَوْمِہٖ) سے مراد، فرعون کی قوم سے تھوڑے سے لوگ ہیں، جو حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لائے۔ انھیں میں سے اس کی بیوی (حضرت آسیہ) بھی ہیں۔ 83۔ 2 قرآن کریم کی یہ صراحت بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ ایمان لانے والے تھوڑے سے لوگ فرعون کی قوم میں سے تھے، کیونکہ انہی کو فرعون اس کے درباریوں اور حکام سے تکلیف پہنچانے کا ڈر تھا۔ بنی اسرئیل، ویسے تو فرعون کی غلامی و محکومی کی ذلت ایک عرصے سے برداشت کر رہے تھے۔ لیکن موسیٰ ؑ پر ایمان لانے سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا، نہ انھیں اس وجہ سے مزید تکالیف کا اندیشہ تھا۔ 83۔ 3 اور ایمان لانے والے اس کے اسی ظلم و ستم کی عادت سے خوف زدہ تھے۔
(آیت 83) {فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ …:} اتنے واضح معجزات دیکھنے اور جادوگروں کی شکست اور ان کے ایمان لانے کے باوجود موسیٰ علیہ السلام پر اس کی قوم کے چند لڑکوں کے سوا کوئی ایمان نہ لایا۔ یہاں ”اس کی قوم“ سے کس کی قوم مراد ہے؟ ابن جریر طبری رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی اپنی قوم بنی اسرائیل کے چند لڑکے لڑکیوں کے سوا کوئی ایمان نہ لایا، وہ بھی فرعون اور اپنے یعنی بنی اسرائیل کے سرداروں کے خوف کے ہوتے ہوئے جو فرعون کے ایجنٹ تھے کہ وہ انھیں ایمان سے ہٹانے کے لیے آزمائشوں اور مصیبتوں میں ڈالیں گے۔ اس تفسیر کا نتیجہ تو یہی ہے کہ فرعون کی قوم میں سے جادوگروں کے سوا اور بنی اسرائیل میں سے چند لڑکوں کے سوا ایک شخص بھی ایمان نہ لایا۔ فرعون کی پوری قوم اور بنی اسرائیل کے تمام بڑی عمر کے لوگ ایمان سے محروم اور فرعون کے دین پر رہے۔ ابن جریر اور ان کے ہم خیال حضرات کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت ابتدائی دور کی ہے، بعد میں تو قارون کے سوا سب بنی اسرائیل موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے تھے۔{ ”مَلَاۡىِٕهِمْ “} (ان کے سرداروں) میں {”هُمْ“} ضمیر جمع یا تو فرعون کی طرف لوٹ رہی ہے، کیونکہ مصری لوگ فرعون کے لیے بطور تعظیم جمع کی ضمیر استعمال کرتے تھے، یا اس سے مراد بنی اسرائیل کے سردار ہیں، یعنی بنی اسرائیل میں سے جو نوجوان ایمان لائے انھیں ایک طرف فرعون کا ڈر تھا اور دوسری طرف خود اپنے سرداروں کا۔ لیکن حافظ ابن کثیررحمہ اللہ نے آیت کے اس مطلب کی سخت تردید کی ہے، ان کی ترجیح میں {” ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ “} میں {”هٖ“ } ضمیر فرعون کی طرف لوٹ رہی ہے، کیونکہ بنی اسرائیل تو پہلے سے موسیٰ علیہ السلام کی آمد کے منتظر تھے اور ان کے تشریف لانے پر سب کے سب ایمان لے آئے اور اس کی تائید اگلی آیت بھی کر رہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام کے تمام بنی اسرائیل موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لا چکے تھے، البتہ فرعون کی قوم قبطیوں میں سے چند نوجوان ہی ایسے نکلے جو موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے اور آیت کا ترجمہ یوں ہو گا: ”پھر موسیٰ پر اس (فرعون) کی قوم قبطیوں میں سے صرف چند نوجوان ہی ایمان لائے اور وہ فرعون اور اپنے سرداروں سے ڈرے کہ کہیں وہ فرعون انھیں آزمائش میں نہ ڈالے۔“ یہ ترجمہ زیادہ واضح ہے اور علمائے تحقیق نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ (ابن کثیر، روح المعانی) اگر غور کیا جائے تو بنی اسرائیل کا موسیٰ علیہ السلام کے آنے سے پہلے بھی اپنی تمام خرابیوں کے باوجود مسلمان ہونا اور پیغمبروں کی اولاد ہونے پر فخر کرنا معلوم ہے، ورنہ اگر وہ فرعون کا دین قبول کر لیتے اور آزادی کا مطالبہ نہ کرتے تو فرعون کو ان کے لڑکوں کو قتل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ موسیٰ علیہ السلام کا ایک قبطی کو قتل کرنے کا واقعہ بھی اپنی قوم کے آدمی کی حمایت ہی کی وجہ سے پیش آیا۔ اس وقت بھی موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو اپنی جماعت اور قبطیوں کو اپنا دشمن سمجھتے تھے اور بنی اسرائیل بھی موسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہی سمجھتے تھے، تب ہی اس اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام کو مدد کے لیے پکارا، حالانکہ موسیٰ علیہ السلام کو اس وقت تک نبوت عطا نہیں ہوئی تھی۔ اب اگر خدانخواستہ اہل کشمیر ہندو ہو جائیں یا فلسطینی یہودی ہو جائیں تو ہندوؤں اور یہودیوں کو ان پر ظلم و جبر کی کیا ضرورت ہے، مگر عقیدے اور عمل کی بے شمار خرابیوں کے باوجود ان کا مسلمان ہونا اور اس پر استقامت کفار کو کسی صورت برداشت نہیں۔
موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ “لوگو، اگر تم واقعی اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اس پر بھروسہ کرو اگر مسلمان ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان لائے تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم اسلام رکھتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم! اگر تم واقعی اللہ پر ایمان لائے ہو تو پھر اسی پر بھروسہ کرو۔ اگر تم فی الحقیقت مسلمان ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسا کرو، اگر تم فرماں بردار ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ پر مکمل بھروسہ ایمان کی روح ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم بنی اسرائیل سے فرماتے ہیں کہ «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ» ۱؎ [39-الزمر:36] ’ اگر تم مومن مسلمان ہو تو اللہ پر بھروسہ رکھو ‘، «وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ» ۱؎ [65-الطلاق:3] ’ جو اس پر بھروسہ کرے وہ اسے کافی ہے ‘، عبادت و توکل دونوں ہم پلہ چیزیں ہیں۔ فرمان رب العالمین ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ» ۱؎ [11-ھود:123] ’ اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ ‘۔ ایک اور آیت میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتا ہے کہ «قُلْ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا» ۱؎ [67-الملک:29] ’ کہہ دے کہ رب رحمن پر ہم ایمان لائے اور اسی کی ذات پاک پر ہم نے توکل کیا ‘۔ فرماتا ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:9] ’ مشرق و مغرب کا رب جو عبادت کے لائق معبود ہے، جس کے سوا پرستش کے لائق اور کوئی نہیں۔ تو اسی کو اپنا وکیل و کارساز بنا لے ‘۔ تمام ایمانداروں کو جو سورت پانچوں نمازوں میں تلاوت کرنے کا حکم ہوا اس میں بھی ان کی زبانی اقرار کرایا گیا ہے کہ «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» ۱؎ [1-الفاتحة:5] ’ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں ‘۔ بنو اسرائیل نے اپنے نبی علیہ السلام کا یہ حکم سن کر اطاعت کی اور جواباً عرض کیا کہ ”ہمارا بھروسہ اپنے رب پر ہی ہے۔ پروردگار تو ہمیں ظالموں کے لیے فتنہ نہ بنا کہ وہ ہم پر غالب رہ کر یہ سمجھنے لگیں کہ اگر یہ حق پر ہوتے اور ہم باطل پر ہوتے تو ہم ان پر غالب کیسے رہ سکتے۔“ یہ مطلب بھی اس دعا کا بیان کیا گیا ہے کہ ”اللہ ہم پر ان کے ہاتھوں عذاب مسلط نہ کرانا، نہ اپنے پاس سے کوئی عذاب ہم پر نازل فرما کہ یہ لوگ کہنے لگیں کہ اگر بنی اسرائیل حق پر ہوتے تو ہماری سزائیں کیوں بھگتتے یا اللہ کے عذاب ان پر کیوں اترتے؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ ہم پر غالب رہے تو ایسا نہ ہو کہ یہ کہیں ہمارے سچے دین سے ہمیں ہٹانے کے لیے کوششیں کریں۔ اور اے پروردگار ان کافروں سے جنہوں نے حق سے انکار کر دیا ہے حق کو چھپایا لیا تو ہمیں نجات دے، ہم تجھ پر ایمان لائے ہیں اور ہمارا بھروسہ صرف تیری ذات پر ہے۔
84۔ 1 بنی اسرائیل، فرعون کی طرف سے جس ذلت اور رسوائی کا شکار تھے، حضرت موسیٰ ؑ کے آنے کے بعد بھی اس میں کمی نہیں آئی، اس لئے وہ سخت پریشان تھے، بلکہ حضرت موسیٰ ؑ سے انہوں نے یہ تک کہہ دیا، اے موسٰی، جس طرح تیرے آنے سے پہلے ہم فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے تکلیفوں میں مبتلا تھے، تیرے آنے کے بعد بھی ہمارا یہی حال ہے۔ جس پر حضرت موسیٰ ؑ نے انھیں کہا تھا کہ امید ہے کہ میرا رب جلدی تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ تم صرف ایک اللہ سے مدد چاہو اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو (ملاحظہ ہو سورت الا عراف آیات 128، 129) (قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا باللّٰهِ وَاصْبِرُوْا ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ 128 قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۭ قَالَ عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ 129) یہاں بھی حضرت موسیٰ ؑ نے انھیں تلقین کی کہ اگر تم اللہ کے سچے فرمانبردار ہو تو اسی پر توکل کرو۔
(آیت 84){وَ قَالَ مُوْسٰى يٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ …:} موسیٰ علیہ السلام کے معجزات اور سچا نبی ثابت ہونے پر بھی فرعون کے ظلم میں کمی نہ آئی، بلکہ وہ اور بڑھ گیا۔ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے شکوہ کیا کہ آپ کے آنے سے پہلے بھی اور آپ کے آنے پر بھی ہمیں ایذا ہی دی گئی تو موسیٰ علیہ السلام نے انھیں صبر اور توکل کی تلقین فرمائی۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۲۸، ۱۲۹) زیر تفسیر آیت میں اللہ پر توکل کو ایمان اور اسلام کا لازمی نتیجہ قرار دیا گیا، جیسا کہ دوسری آیات میں ایمان اور توکل یا عبادت اور توکل کو ایک ساتھ بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ ہود (۱۲۳)، ملک (۲۹) اور فاتحہ (۴)۔
انہوں نے جواب دیا “ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا۔ اے ہمارے پروردگار! ہم کو ان ﻇالموں کے لئے فتنہ نہ بنا
احمد رضا خان بریلوی
بولے ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا الہٰی ہم کو ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے (جواب میں) کہا ہم اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں (اور دعا کرتے ہیں) اے ہمارے پروردگار ہمیں ظالم لوگوں کیلئے آزمائش کا موجب نہ بنا (ان کے ظلم کا تختہ مشق نہ بنا)۔
عبدالسلام بن محمد
تو انھوں نے کہا ہم نے اللہ ہی پر بھروسا کیا، اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ پر مکمل بھروسہ ایمان کی روح ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم بنی اسرائیل سے فرماتے ہیں کہ «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ» ۱؎ [39-الزمر:36] ’ اگر تم مومن مسلمان ہو تو اللہ پر بھروسہ رکھو ‘، «وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ» ۱؎ [65-الطلاق:3] ’ جو اس پر بھروسہ کرے وہ اسے کافی ہے ‘، عبادت و توکل دونوں ہم پلہ چیزیں ہیں۔ فرمان رب العالمین ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ» ۱؎ [11-ھود:123] ’ اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ ‘۔ ایک اور آیت میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتا ہے کہ «قُلْ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا» ۱؎ [67-الملک:29] ’ کہہ دے کہ رب رحمن پر ہم ایمان لائے اور اسی کی ذات پاک پر ہم نے توکل کیا ‘۔ فرماتا ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:9] ’ مشرق و مغرب کا رب جو عبادت کے لائق معبود ہے، جس کے سوا پرستش کے لائق اور کوئی نہیں۔ تو اسی کو اپنا وکیل و کارساز بنا لے ‘۔ تمام ایمانداروں کو جو سورت پانچوں نمازوں میں تلاوت کرنے کا حکم ہوا اس میں بھی ان کی زبانی اقرار کرایا گیا ہے کہ «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» ۱؎ [1-الفاتحة:5] ’ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں ‘۔ بنو اسرائیل نے اپنے نبی علیہ السلام کا یہ حکم سن کر اطاعت کی اور جواباً عرض کیا کہ ”ہمارا بھروسہ اپنے رب پر ہی ہے۔ پروردگار تو ہمیں ظالموں کے لیے فتنہ نہ بنا کہ وہ ہم پر غالب رہ کر یہ سمجھنے لگیں کہ اگر یہ حق پر ہوتے اور ہم باطل پر ہوتے تو ہم ان پر غالب کیسے رہ سکتے۔“ یہ مطلب بھی اس دعا کا بیان کیا گیا ہے کہ ”اللہ ہم پر ان کے ہاتھوں عذاب مسلط نہ کرانا، نہ اپنے پاس سے کوئی عذاب ہم پر نازل فرما کہ یہ لوگ کہنے لگیں کہ اگر بنی اسرائیل حق پر ہوتے تو ہماری سزائیں کیوں بھگتتے یا اللہ کے عذاب ان پر کیوں اترتے؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ ہم پر غالب رہے تو ایسا نہ ہو کہ یہ کہیں ہمارے سچے دین سے ہمیں ہٹانے کے لیے کوششیں کریں۔ اور اے پروردگار ان کافروں سے جنہوں نے حق سے انکار کر دیا ہے حق کو چھپایا لیا تو ہمیں نجات دے، ہم تجھ پر ایمان لائے ہیں اور ہمارا بھروسہ صرف تیری ذات پر ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 86،85) { فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا …:} انھوں نے پیغمبر کی نصیحت کو نہ صرف قبول کیا بلکہ زبان سے اقرار بھی کیا کہ ہم صرف اللہ ہی پر توکل کرتے ہیں، وہی ہمارا سہارا ہے اور اس کے ساتھ دو دعائیں کیں اور یہ دونوں دعائیں ظالم حکمرانوں کے ظلم سے بچنے کے لیے اکسیر ہیں۔ پہلی دعا یہ کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا۔ {” فِتْنَةً “} کا لفظ مصدر ہے جو {” فَتَنَ “} فعل معروف کا مصدر بمعنی اسم فاعل ہو گا، یعنی {” فَاتِنِيْنَ“} فتنے اور آزمائش میں ڈالنے والے۔ اسی طرح یہ {” فُتِنَ“} فعل مجہول کا مصدر بمعنی اسم مفعول بھی ہو سکتا ہے، یعنی {” مَفْتُوْنِيْنَ “} فتنے میں ڈالے ہوئے۔ پہلی صورت میں معنی ہو گا کہ یا اللہ! تو ہمیں ان ظالموں کو فتنے میں ڈالنے والے، یعنی کفر کے فتنے میں ڈالنے کا باعث نہ بنا کہ اگر یہ ہم پر مسلط رہے اور ہم مسلسل ان کے ظلم کا نشانہ ہی بنے رہے تو یہ اپنے سچے ہونے اور حق پر ہونے کے فتنے میں پڑ جائیں گے اور کفر میں مزید پختہ ہو جائیں گے اور سمجھیں گے کہ اگر مسلمان سچے اور حق پر ہوتے تو ان کا رب ضرور ان کی مدد کرتا، جیسا کہ ایک شاعر نے کہا ہے۔ حق پرستوں کی اگر کی تو نے دل جوئی نہیں طعنہ دیں گے بت کہ مسلم کا خدا کوئی نہیں اور {” فِتْنَةً “} کو مصدر مجہول ماننے کی صورت میں معنی یہ ہو گا کہ ہمیں ان ظالموں کے لیے (مفتون) فتنے میں پڑ جانے والے نہ بنا کہ ان کے ظلم و تشدد کی وجہ سے ہمارا کوئی شخص فتنۂ ارتداد میں پڑ کر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دوسری دعا یہ کی کہ پروردگارا! تو ہمیں صرف ان کے لیے فتنے کا باعث بننے ہی سے نہ بچا، بلکہ اپنی رحمت کے ساتھ ان کافروں سے ہمیں نجات اور آزادی بھی دلا۔ اس دعا سے معلوم ہوا کہ اللہ کے بندوں کو ایمان اور آخرت کی کتنی فکر تھی کہ وہ یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ وہ کسی شخص کے کفر میں مبتلا رہنے کا باعث بنیں اور نہ یہ چاہتے تھے کہ کسی کے ظلم کی وجہ سے خود فتنے میں پڑ کر اپنا ایمان ضائع کر بیٹھیں۔
اور ہمیں اپنی رحمت سے ظالموں (کے پنجۂ ظلم) سے نجات عطا فرما۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنی رحمت کے ساتھ ہمیں کافر لوگوں سے نجات دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ پر مکمل بھروسہ ایمان کی روح ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم بنی اسرائیل سے فرماتے ہیں کہ «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ» ۱؎ [39-الزمر:36] ’ اگر تم مومن مسلمان ہو تو اللہ پر بھروسہ رکھو ‘، «وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ» ۱؎ [65-الطلاق:3] ’ جو اس پر بھروسہ کرے وہ اسے کافی ہے ‘، عبادت و توکل دونوں ہم پلہ چیزیں ہیں۔ فرمان رب العالمین ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ» ۱؎ [11-ھود:123] ’ اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ ‘۔ ایک اور آیت میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتا ہے کہ «قُلْ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا» ۱؎ [67-الملک:29] ’ کہہ دے کہ رب رحمن پر ہم ایمان لائے اور اسی کی ذات پاک پر ہم نے توکل کیا ‘۔ فرماتا ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:9] ’ مشرق و مغرب کا رب جو عبادت کے لائق معبود ہے، جس کے سوا پرستش کے لائق اور کوئی نہیں۔ تو اسی کو اپنا وکیل و کارساز بنا لے ‘۔ تمام ایمانداروں کو جو سورت پانچوں نمازوں میں تلاوت کرنے کا حکم ہوا اس میں بھی ان کی زبانی اقرار کرایا گیا ہے کہ «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» ۱؎ [1-الفاتحة:5] ’ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں ‘۔ بنو اسرائیل نے اپنے نبی علیہ السلام کا یہ حکم سن کر اطاعت کی اور جواباً عرض کیا کہ ”ہمارا بھروسہ اپنے رب پر ہی ہے۔ پروردگار تو ہمیں ظالموں کے لیے فتنہ نہ بنا کہ وہ ہم پر غالب رہ کر یہ سمجھنے لگیں کہ اگر یہ حق پر ہوتے اور ہم باطل پر ہوتے تو ہم ان پر غالب کیسے رہ سکتے۔“ یہ مطلب بھی اس دعا کا بیان کیا گیا ہے کہ ”اللہ ہم پر ان کے ہاتھوں عذاب مسلط نہ کرانا، نہ اپنے پاس سے کوئی عذاب ہم پر نازل فرما کہ یہ لوگ کہنے لگیں کہ اگر بنی اسرائیل حق پر ہوتے تو ہماری سزائیں کیوں بھگتتے یا اللہ کے عذاب ان پر کیوں اترتے؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ ہم پر غالب رہے تو ایسا نہ ہو کہ یہ کہیں ہمارے سچے دین سے ہمیں ہٹانے کے لیے کوششیں کریں۔ اور اے پروردگار ان کافروں سے جنہوں نے حق سے انکار کر دیا ہے حق کو چھپایا لیا تو ہمیں نجات دے، ہم تجھ پر ایمان لائے ہیں اور ہمارا بھروسہ صرف تیری ذات پر ہے۔
86۔ 1 اللہ پر توکل کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے بارگاہ الٰہی میں دعائیں بھی کیں۔ اور یقینا اہل ایمان کے لئے یہ ایک بہت بڑا ہتھیار بھی ہے اور سہارا بھی۔
اور ہم نے موسیٰؑ اور اس کے بھائی کو اشارہ کیا کہ “مصر میں چند مکان اپنی قوم کے لیے مہیا کرو اور اپنے ان مکانوں کو قبلہ ٹھیرا لو اور نماز قائم کرو اور اہل ایمان کو بشارت دے دو"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے پاس وحی بھیجی کہ تم دونوں اپنے ان لوگوں کے لیے مصر میں گھر برقرار رکھو اور تم سب اپنے انہی گھروں کو نماز پڑھنے کی جگہ قرار دے لو اور نماز کے پابند رہو اور آپ مسلمانوں کو بشارت دے دیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کو وحی بھیجی کہ مصر میں اپنی قوم کے لیے مکانات بناؤ اور اپنے گھروں کو نماز کی جگہ کرو اور نماز قائم رکھو، اور مسلمانوں کو خوشخبری سناؤ
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی (ہارون) کی طرف وحی کی کہ مصر میں اپنی قوم کے لئے چند گھر مہیا کرو (بناؤ) اور اپنے گھروں کو قبلہ رخ بنائیں (یا اپنے گھروں کو ہی قبلہ بنائیں) اور نماز قائم کریں اور (اے موسیٰ اہلِ ایمان کو) کامیابی کی بشات دیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں کچھ گھروں کو ٹھکانا مقرر کر لو اور اپنے گھروں کو قبلہ رخ بنالو اور نماز قائم کرو، اور ایمان والوں کو خوش خبری دے دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم فرعون سے بنی اسرائی کی نجات ٭٭
بنی اسرائیل کی فرعون اور فرعون کی قوم سے نجات پانا، اس کی کیفیت بیان ہو رہی ہے دونوں نبیوں کو اللہ کی وحی ہوئی کہ ’ اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بنا لو۔ اور اپنے گھروں کو مسجدیں مقرر کر لو۔ اور خوف کے وقت گھروں میں نماز ادا کر لیا کرو ‘۔ چنانچہ فرعون کی سختی بہت بڑھ گئی تھی۔ اس لیے انہیں کثرت سے نماز ادا کرنے کا حکم ہوا۔ یہی حکم اس امت کو ہے کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ» ۱؎ [2-البقرۃ:153] ’ ایمان دارو صبر اور نماز سے مدد چاہو ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جب کوئی گھبراہٹ ہوتی فوراً نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے }۔ [سنن ابوداود1319،قال الشيخ الألباني:حسن] ۔ یہاں بھی حکم ہوتا ہے کہ ’ اپنے گھروں کو قبلہ بنا لو، اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان مومنوں کو تم بشارت دو انہیں دار آخرت میں ثواب ملے گا اور دنیا میں ان کی تائید و نصرت ہوگی ‘۔ اسرائیلیوں نے اپنے نبی سے کہا تھا کہ فرعونیوں کے سامنے ہم اپنی نماز اعلان سے نہیں پڑھ سکتے تو اللہ نے انہیں حکم دیا کہ ’ اپنے گھر قبلہ رو ہو کر وہیں نماز ادا کرسکتے ہو ‘ اپنے گھر آمنے سامنے بنانے کا حکم ہوگیا۔
87۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے گھروں کو ہی مسجدیں بنا لو اور ان کا رخ اپنے قبلے (بیت المقدس) کی طرف کرلو تاکہ تمہیں عبادت کرنے کے لئے باہر عبادت خانوں غیرہ میں جانے کی ضرورت ہی نہ رہے، جہاں تمہیں فرعون کے کارندوں کے ظلم و ستم کا ڈر رہتا ہے۔
(آیت 87) ➊ { وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِيْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ …:} ہماری امت کی خصوصیت ہے کہ اس کے لیے پوری زمین مسجد بنا دی گئی ہے۔ مسلمان کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے نماز پڑھ سکتا ہے۔ پہلی امتوں میں یہ سہولت نہ تھی، بلکہ عبادت کے لیے مقررہ مقامات ہی میں نماز پڑھنا ضروری تھا، خواہ آپ اسے مسجد کہہ لیں یا کنیسہ۔ فرعون کو بنی اسرائیل کا جمع ہونا کسی طرح برداشت نہ تھا، خصوصاً جو مقام فرعون کی ربوبیت کے انکار کا اور اکیلے اللہ کی ربوبیت اور عبادت کا نشان ہو اور ایک اللہ کے پرستار بنی اسرائیل روزانہ کئی مرتبہ وہاں جمع ہوتے ہوں۔ اس لیے ان آیات سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ فرعون نے ان کے عبادت خانوں میں جانے پر پابندی لگا دی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو وحی فرمائی کہ مصرمیں کچھ گھروں کو اپنی نماز کی جگہ مقرر کر لو اور اپنے گھر قبلہ رخ بنا لو۔ اس سے کسی حد تک اجتماع کا موقع بھی ملتا رہے گا، باہمی ملاقات سے محبت بھی بڑھتی رہے گی اور نماز باجماعت بھی ہوتی رہے گی اور ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی بھی۔ ایسی صورت میں بنی اسرائیل سے مسجدوں میں جانے کی پابندی اضطرار کی بنا پر ختم کر دی گئی، البتہ نماز پھر بھی ہر جگہ پڑھنے کی اجازت نہیں ملی، بلکہ اپنے گھر قبلہ رخ بنا کر ان میں چھپ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام گھر قبلہ رخ بنانے کا حکم ہوا مگر نماز کے لیے چند گھر مخصوص تھے، جن کا صرف مسلمانوں کو علم تھا، اگر کسی گھر کا راز فاش ہو جاتا تو دوسرا کوئی گھر مقرر کر لیا جاتا اور تمام گھروں کے قبلہ رخ ہونے کی وجہ سے کوئی دشواری پیش نہ آتی۔ دلیل اس کی ایک تو یہ ہے کہ فرمایا: «اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوْتًا» {” بُيُوْتًا “} یعنی پوری قوم کے لیے چند گھروں کو ٹھکانا مقرر کر لو۔ دوسری یہ کہ حکم تھا: «{ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ }» اور اقامت صلوٰۃ صفوں کی درستگی کے بغیر نہیں ہوتی جو جماعت کی صورت ہی میں بنتی ہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ سَوُّوْا صُفُوْفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوْفِ مِنْ إِقَامَةِ الصَّلاَةِ ] [ بخاری، الأذان، باب إقامۃ الصف من تمام الصلاۃ: ۷۲۳، عن أنس رضی اللہ عنہ ] ”اپنی صفیں برابر کرو، کیونکہ صفیں برابر کرنا اقامت صلاۃ کا حصہ ہے“ تیسری یہ کہ بنی اسرائیل کو بھی ہماری امت کی طرح جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم تھا (جب کوئی عذر نہ ہو) فرمایا: «{ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ }» [ البقرۃ: ۴۳] ”اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔“ ➋ { وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ:} ایسے مشکل حالات میں بھی بنی اسرائیل کو نماز کی معافی نہیں ملی، بلکہ اسے خاص طور پر قائم کرنے کا حکم ہوا، کیونکہ صبر اور نماز ہی مشکل کے وقت اللہ تعالیٰ سے مدد حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں، فرمایا: «{ وَ اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ }» [البقرۃ: ۴۵ ] ”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو۔“ اور نماز ہی روزانہ کئی مرتبہ بندے کا تعلق اپنے رب سے جوڑتی اور اس سے ہم کلام ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ زکوٰۃ مال ہونے کی صورت میں سال میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے، روزے بھی سال میں کچھ دن فرض ہیں، حج استطاعت کی صورت میں عمر بھر میں ایک دفعہ فرض ہے، یہ نماز ہی ہے کہ آدمی کو جب بھی کوئی مشکل پیش آئے تو وہ اس کے ذریعے سے اپنے رب سے تار جوڑ سکتا ہے اور اس کے ساتھ آدمی کو پانچ دفعہ تو ضرور ہی اپنے مالک کے حضور پیش ہو کر فریاد کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ➌ { وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ:} یعنی اہل ایمان کو خوش خبری دو، اس خوش خبری کا ذکر سورۂ اعراف (۱۲۹) میں ہے کہ تمھارے دشمنوں کی ہلاکت اور تمھاری آزادی کے دن قریب ہی ہیں۔
موسیٰؑ نے دعا کی “اے ہمارے رب، تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت اور اموال سے نواز رکھا ہے اے رب، کیا یہ اس لیے ہے کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بھٹکائیں؟ اے رب، ان کے مال غارت کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی مہر کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے ہمارے رب! تو نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو سامان زینت اور طرح طرح کے مال دنیاوی زندگی میں دیئے۔ اے ہمارے رب! (اسی واسطے دیئے ہیں کہ) وه تیری راه سے گمراه کریں۔ اے ہمارے رب! ان کے مالوں کو نیست ونابود کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کردے سو یہ ایمان نہ ﻻنے پائیں یہاں تک کہ دردناک عذاب کو دیکھ لیں
احمد رضا خان بریلوی
اور موسیٰ نے عرض کی اے رب ہمارے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو آرائش اور مال دنیا کی زندگی میں دیے، اے رب ہمارے! اس لیے کہ تیری راہ سے بہکادیں، اے رب ہمارے! ان کے مال برباد کردے اور ان کے دل سخت کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور موسیٰ نے (دعا مانگتے ہوئے) کہا اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیاوی زندگی میں زیب و زینت (کی چیزوں) اور بہت سے مال و دولت سے نوازا ہے۔ اے پروردگار! اس کا نتیجہ اور انجام یہ ہے کہ وہ (تیرے بندوں کو) تیرے راستہ سے بہکاتے ہیں۔ اے ہمارے مالک، ان کے مالوں کو نابود کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے تاکہ جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں ایمان نہ لائیں (اور اس وقت ایمان کا لانا سودمند نہ ہوگا)۔
عبدالسلام بن محمد
اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب! بے شک تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں بہت سی زینت اور اموال عطا کیے ہیں، اے ہمارے رب! تاکہ وہ تیرے راستے سے گمراہ کریں، اے ہمارے رب! ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں پر سخت گرہ لگا دے، پس وہ ایمان نہ لائیں، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعون کا تکبر اور موسیٰ علیہ السلام کی بددعا ٭٭
جب فرعون اور فرعونیوں کا تکبر، تحیر، تعصب بڑھتا ہی گیا۔ ظلم و ستم بے رحمی اور جفا کاری انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ کے صابر نبیوں نے ان کے لیے بد دعا کی کہ ”یا اللہ تو نے انہیں دنیا کی زینت و مال خوب خوب دیا اور تو بخوبی جانتا ہے کہ وہ تیرے حکم کے مطابق مال خرچ نہیں کرتے۔ یہ صرف تیری طرف سے انہیں ڈھیل اور مہلت ہے۔“ یہ مطلب تو ہے جب «لِيَضِلُّوْا» پڑھا جائے جو ایک قرأت ہے اور جب «لِیُضِلُّوْا» پڑھیں تو مطلب یہ ہے کہ یہ اس لیے کہ وہ اوروں کو گمراہ کریں جن کی گمراہی تیری چاہت میں ہے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ یہی لوگ اللہ کے محبوب ہیں ورنہ اتنی دولت مندی اور اس قدر عیش و عشرت انہیں کیوں نصیب ہوتا ہے؟ اب ہمای دعا ہے کہ ان کے یہ مال تو غارت اور تباہ کر دے۔ چنانچہ ان کے تمام مال اسی طرح پتھر بن گئے۔ سونا چاندی ہی نہیں بلکہ کھیتیاں تک پتھر کی ہو گئیں۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ اس سورۃ یونس کی تلاوت امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے کر رہے تھے جب اس آیت تک پہنچے تو خلیفۃالمسلمین نے سوال کیا کہ یہ «طْمِسْ» کیا چیز ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”ان کے مال پتھر بنا دیئے گئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا صندوقچہ منگوا کر اس میں سے سفید چنا نکال کر دکھایا جو پتھر بن گیا تھا۔ [الدر المنشور للسیوطی:566/3:ضعیف] ۔
اور دعا کی کہ ”پروردگار ان کے دل سخت کر دے ان پر مہر لگا دے کہ انہیں عذاب دیکھنے تک ایمان لانا نصیب نہ ہو۔“ یہ بد دعا صرف دینی حمیت اور دینی دل سوزی کی وجہ سے تھی یہ غصہ اللہ اور اس کے دین کی خاطر تھا۔ جب دیکھ لیا اور مایوسی کی حد آ گئی۔ نوح علیہ السلام کی دعا ہے کہ «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا» ۱؎ [71-نوح:26،27] ’ الٰہی زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑ ورنہ اوروں کو بھی بہکائیں گے اور جو نسل ان کی ہو گی وہ بھی انہیں جیسی بے ایمان بدکار ہوگی ‘۔ جناب باری نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام دونوں بھائیوں کی یہ دعا قبول فرمائی۔ موسیٰ علیہ السلام دعا کرتے جاتے تھے اور ہارون علیہ السلام آمین کہتے جاتے تھے۔ اسی وقت وحی آئی کہ ”ہماری یہ دعا مقبول ہوگئی“ سے دلیل پکڑی گئی ہے کہ آمین کا کہنا بمنزلہ دعا کرنے کے ہے کیونکہ دعا کرنے والے صرف موسیٰ علیہ السلام تھے آمین کہنے والے ہارون علیہ السلام تھے لیکن اللہ نے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی۔ پس مقتدی کے آمین کہہ لینے سے گویا فاتحہ کا پڑھ لینے والا ہے۔ ’ پس اب تم دونوں بھائی میرے حکم پر مضبوطی سے جم جاؤ۔ جو میں کہوں بجا لاؤ ‘۔ اسی دعا کے بعد فرعون چالیس ماہ زندہ رہا کوئی کہتا ہے چالیس دن۔
88۔ 1 جب موسیٰ ؑ نے دیکھا کہ فرعون اور اس کی قوم پر وعظ نصیحت کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا اور اس طرح معجزات دیکھ کر بھی ان کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ تو پھر ان کے حق میں بد دعا فرمائی۔ جسے اللہ نے یہاں نقل فرمایا ہے۔ 88۔ 2 یعنی اگر یہ ایمان لائیں بھی تو عذاب دیکھنے کے بعد لائیں، جو ان کے لئے نفع بخش نہیں ہوگا۔ یہاں ذہن میں یہ اشکال نہیں آنا چاہیے کہ پیغمبر تو ہدایت کی دعا کرتے ہیں نہ کہ ہلاکت کی بد دعا۔ اس لئے کہ دعوت و تبلیغ اور ہر طرح سے تمام حجت کے بعد، جب یہ واضح ہوجائے کہ اب ایمان لانے کی کوئی امید باقی نہیں رہی، تو پھر آخری چارہ کار یہی رہ جاتا ہے کہ اس قوم کے معاملے کو اللہ کے سپرد کردیا جائے، یہ گو اللہ کی مشیت ہی ہوتی ہے جو بےاختیار پیغمبر کی زبان پر جاری ہوجاتی ہے جس طرح حضرت نوح ؑ نے بھی ساڑھے نو سو سال تبلیغ کرنے کے بعد بالآخر اپنی قوم کے بارے بد دعا فرمائی۔ " رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا: اے رب زمین پر ایک کافر کو بھی بسا نہ رہنے دے۔
(آیت 88) ➊ {وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيْتَ …:} پے در پے معجزات دیکھنے اور مختلف عذابوں کے نزول پر ایمان لانے اور آزادی دینے کے وعدوں کے باوجود جب فرعون اور اس کے ساتھی کفر اور ظلم سے کسی صورت باز نہ آئے تو موسیٰ علیہ السلام نے تنگ آکر ان کے حق میں بددعا کی۔ ➋ {رَبَّنَا لِيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِكَ: ” لِيُضِلُّوْا “ } میں لام عاقبت اور انجام کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ اس اعتبار سے آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ اے ہمارے پروردگار! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت واموال عطا فرمائے، جس کا انجام یہ ہوا کہ وہ تیرا شکر ادا کرنے کے بجائے اس دولت کے بل بوتے پر لوگوں کو تیری راہ سے گمراہ کرنے لگے۔یہ معنی سیبویہ اور خلیل نے بیان کیا ہے۔ بعض مفسرین نے {” لِيُضِلُّوْا “} کے لام کو تعلیل کا بھی بتایا ہے، جس کا معنی ”تاکہ“ ہے، یعنی تو نے انھیں دنیا کا مال و دولت اور اس کی زینت اس لیے دی ہے کہ تو اس کے ذریعے سے انھیں فتنے اور آزمائش میں ڈالے اور یہ مال و دولت تو نے انھیں دی ہی اس لیے ہے کہ یہ فتنے میں پڑ کر خود بھی گمراہ ہوں اور شیطان کی طرح دوسرے لوگوں کو بھی تیری راہ سے گمراہ کرتے پھریں۔ یہ معنی ابن جریر طبری نے کیا ہے اور دلیل میں سورۂ جن کی یہ آیت پیش کی ہے: «{لَاَسْقَيْنٰهُمْ۠ مَّآءً غَدَقًا (16) لِّنَفْتِنَهُمْ فِيْهِ }» [ الجن: ۱۶، ۱۷ ] ”تو ہم انھیں ضرور بہت وافر پانی پلاتے۔ تاکہ ہم اس میں ان کی آزمائش کریں۔“ ➌ {رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ …:} پروردگارا! ان کا ظلم اب حد سے بڑھ گیا ہے، اس لیے تیرے حضور درخواست ہے کہ تو ان کے مالوں کو مٹا دے، جن کے زور پر یہ تیری راہ سے گمراہ کرتے ہیں اور ایمان لانے کے وعدوں کی انھوں نے اتنی بار خلاف ورزی کی ہے کہ ان کی سزا یہی ہے کہ تو انھیں ایمان کی توفیق سے محروم کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی گرہ لگا کہ یہ عذاب الیم دیکھنے تک ایمان نہ لا سکیں، جس کے دیکھنے کے بعد ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبر نے یہ بد دعا اللہ تعالیٰ کے کسی اشارے کے بعد کی ہے کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کی قسمت میں ایمان نہیں، جیسا کہ نوح علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے صاف بتا دیا کہ آپ کی قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے ان کے بعد مزید کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا (دیکھیے ہود: ۳۶) تو انھوں نے ان کے خلاف وہ زبردست بددعا کی جو سورۂ نوح میں مذکور ہے۔ یا جب آل فرعون نے تمام معجزات دیکھ کر کہا کہ تو ہمارے پاس خواہ کوئی بھی نشانی لے آئے ہم ہر گز تم دونوں پر ایمان نہیں لائیں گے (دیکھیے اعراف: ۱۳۲) تو موسیٰ اور ہارون علیہما السلام نے ان کے ایمان سے مایوس ہو کر یہ بددعا کی۔
اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا “تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ثابت قدم رہو اور اُن لوگوں کے طریقے کی ہرگز پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے"
مولانا محمد جوناگڑھی
حق تعالیٰ نے فرمایا کہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، سو تم ﺛابت قدم رہو اور ان لوگوں کی راه نہ چلنا جن کو علم نہیں
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا تم دونوں کی دعا قبول ہوئی تو ثابت قدم رہو اور نادانوں کی راہ نہ چلو
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں کی دعا قبول کر لی گئی ہے سو تم ثابت قدم رہو۔ اور ان لوگوں کی پیروی نہ کرو۔ جو (حق و حقیقت کا) علم نہیں رکھتے۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا بلاشبہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، پس دونوں ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کے راستے پر ہرگز نہ چلو جو نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعون کا تکبر اور موسیٰ علیہ السلام کی بددعا ٭٭
جب فرعون اور فرعونیوں کا تکبر، تحیر، تعصب بڑھتا ہی گیا۔ ظلم و ستم بے رحمی اور جفا کاری انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ کے صابر نبیوں نے ان کے لیے بد دعا کی کہ ”یا اللہ تو نے انہیں دنیا کی زینت و مال خوب خوب دیا اور تو بخوبی جانتا ہے کہ وہ تیرے حکم کے مطابق مال خرچ نہیں کرتے۔ یہ صرف تیری طرف سے انہیں ڈھیل اور مہلت ہے۔“ یہ مطلب تو ہے جب «لِيَضِلُّوْا» پڑھا جائے جو ایک قرأت ہے اور جب «لِیُضِلُّوْا» پڑھیں تو مطلب یہ ہے کہ یہ اس لیے کہ وہ اوروں کو گمراہ کریں جن کی گمراہی تیری چاہت میں ہے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ یہی لوگ اللہ کے محبوب ہیں ورنہ اتنی دولت مندی اور اس قدر عیش و عشرت انہیں کیوں نصیب ہوتا ہے؟ اب ہمای دعا ہے کہ ان کے یہ مال تو غارت اور تباہ کر دے۔ چنانچہ ان کے تمام مال اسی طرح پتھر بن گئے۔ سونا چاندی ہی نہیں بلکہ کھیتیاں تک پتھر کی ہو گئیں۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ اس سورۃ یونس کی تلاوت امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے کر رہے تھے جب اس آیت تک پہنچے تو خلیفۃالمسلمین نے سوال کیا کہ یہ «طْمِسْ» کیا چیز ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”ان کے مال پتھر بنا دیئے گئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا صندوقچہ منگوا کر اس میں سے سفید چنا نکال کر دکھایا جو پتھر بن گیا تھا۔ [الدر المنشور للسیوطی:566/3:ضعیف] ۔
اور دعا کی کہ ”پروردگار ان کے دل سخت کر دے ان پر مہر لگا دے کہ انہیں عذاب دیکھنے تک ایمان لانا نصیب نہ ہو۔“ یہ بد دعا صرف دینی حمیت اور دینی دل سوزی کی وجہ سے تھی یہ غصہ اللہ اور اس کے دین کی خاطر تھا۔ جب دیکھ لیا اور مایوسی کی حد آ گئی۔ نوح علیہ السلام کی دعا ہے کہ «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا» ۱؎ [71-نوح:26،27] ’ الٰہی زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑ ورنہ اوروں کو بھی بہکائیں گے اور جو نسل ان کی ہو گی وہ بھی انہیں جیسی بے ایمان بدکار ہوگی ‘۔ جناب باری نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام دونوں بھائیوں کی یہ دعا قبول فرمائی۔ موسیٰ علیہ السلام دعا کرتے جاتے تھے اور ہارون علیہ السلام آمین کہتے جاتے تھے۔ اسی وقت وحی آئی کہ ”ہماری یہ دعا مقبول ہوگئی“ سے دلیل پکڑی گئی ہے کہ آمین کا کہنا بمنزلہ دعا کرنے کے ہے کیونکہ دعا کرنے والے صرف موسیٰ علیہ السلام تھے آمین کہنے والے ہارون علیہ السلام تھے لیکن اللہ نے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی۔ پس مقتدی کے آمین کہہ لینے سے گویا فاتحہ کا پڑھ لینے والا ہے۔ ’ پس اب تم دونوں بھائی میرے حکم پر مضبوطی سے جم جاؤ۔ جو میں کہوں بجا لاؤ ‘۔ اسی دعا کے بعد فرعون چالیس ماہ زندہ رہا کوئی کہتا ہے چالیس دن۔
89۔ 1 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اپنی بد دعا پر قائم رہنا، چاہے اس کے ظہور میں تاخیر ہوجائے۔ کیونکہ تمہاری دعا تو یقینا قبول کرلی گئی لیکن ہم اسے عملی جامہ کب پہنائیں گے؟ یہ خالص ہماری مشیت و حکمت پر موقوف ہے۔ چناچہ بعض مفسرین نے بیان کیا کہ اس بد دعا کے چالیس سال بعد فرعون اور اس کی قوم ہلاک کی گئی اور بد دعا کے مطابق فرعون جب ڈوبنے لگا تو اس وقت اس نے ایمان لانے کا اعلان کیا، جس کا اسے کوئی فائدہ نہ ہوا۔ دوسرا مطلب یہ کہ تم اپنی تبلیغ و دعوت۔ بنی اسرائیل کی ہدایت و راہنمائی اور اس کو فرعون کی غلامی سے نجات دلانے کی جد و جہد جاری رکھو۔ 98۔ 2 یعنی جو لوگ اللہ کی سنت، اس کے قانون، اور اس کی مصلحتوں اور حکمتوں کو نہیں جانتے، تم ان کی طرح مت ہونا بلکہ اب انتظار اور صبر کرو، اللہ تعالیٰ اپنی حکمت و مصلحت کے مطابق جلد یا بہ دیر اپنا وعدہ یعتزرون 11 یونس 10 ضرور پورا فرمائے گا۔ کیونکہ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
(آیت 89) ➊ { قَالَ قَدْ اُجِيْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا:} یعنی یقینا تم دونوں کی دعا قبول کر لی گئی۔ معلوم ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام بھی اس دعا میں شریک تھے۔ بعض اہل علم کے اقوال ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام دعا کرتے تھے اور ہارون علیہ السلام آمین کہتے تھے، مگر یہ بات قرآن مجید سے یا حدیث سے مجھے نہیں ملی۔ ➋ { فَاسْتَقِيْمَا:} اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ دعوت پر ثابت قدم رہو، بے شک تمھاری دعا قبول ہے، مگر قبولیت ظاہر ہونے میں دیر ہو سکتی ہے، اس لیے دیر کی وجہ سے دعوت میں کوتاہی نہ کرنا۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے کہ قبولیت کااثر کب ظاہر ہو گا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اب اپنی اس بد دعا پر قائم رہنا، ایسا نہ ہو کہ میرا عذاب آنے پر ان کی سفارش کرنے لگو۔ یہ ایسے ہی ہے جس طرح نوح علیہ السلام نے بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ یہ سارے کافر غرق ہوں گے، مگر اب مجھ سے ان ظالموں کے (حق میں) بات نہ کرنا۔ (دیکھیے ہود: ۳۷) اللہ تعالیٰ کو نوح اور موسیٰ علیہما السلام کی بددعا کے باوجود ان کے دل کی نرمی کا علم تھا، اس لیے انھیں پہلے ہی اپنی بددعا پرثابت رہنے کی تاکید فرما دی۔ مگر نوح علیہ السلام پھر بھی بیٹے کے لیے سفارش کر بیٹھے اور انھیں اللہ تعالیٰ کا عتاب سننا پڑا، جس پر انھوں نے معافی مانگی۔ دیکھیے سورۂ ہود (۴۵ تا ۴۷)۔ ➌ { وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيْلَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی ان لوگوں کا راستہ اختیار نہ کرنا جو دعوت کے کام میں حوصلہ چھوڑ بیٹھتے ہیں، یا دعا کرتے ہی چاہتے ہیں کہ ان کا مطلب پورا ہو جائے اور اگر فوراً پورا نہ ہو تو شکایت کرنے لگتے ہیں کہ ہم نے بہت دعائیں کیں مگر پروردگار نے قبول ہی نہیں کیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ، يَقُوْلُ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِيْ ] [ بخاری، الدعوات، باب یستجاب للعبد ما لم یعجل: ۶۳۴۰۔ مسلم: ۲۷۳۵، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”تم میں سے کسی شخص کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ جلدی نہیں کرتا، یہ نہیں کہتا کہ میں نے دعا کی مگر میری دعا قبول نہیں کی گئی۔“
اور ہم بنی اسرائیل کو سمندر سے گزار لے گئے پھر فرعون اور اس کے لشکر ظلم اور زیادتی کی غرض سے ان کے پیچھے چلے حتیٰ کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بول اٹھا "میں نے مان لیا کہ خداوند حقیقی اُس کے سوا کوئی نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے، اور میں بھی سر اطاعت جھکا دینے والوں میں سے ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا پھر ان کے پیچھے پیچھے فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ﻇلم اور زیادتی کے اراده سے چلا یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں ایمان ﻻتا ہوں کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان ﻻئے ہیں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم بنی اسرائیل کو دریا پار لے گئے تو فرعون اور اس کے لشکروں نے ان کا پیچھا کیا سرکشی اور ظلم سے یہاں تک کہ جب اسے ڈوبنے نے ا ٓ لیا بولا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا پھر فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور ظلم و تعدی سے ان کا پیچھا کیا یہاں تک کہ جب وہ (فرعون) (دریا میں) غرق ہونے لگا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لاتا ہوں (مانتا ہوں) کہ اس ہستی کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں (فرمانبرداروں) میں سے ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار کر دیا تو فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اور زیادتی کرتے ہوئے ان کا پیچھا کیا، یہاںتک کہ جب اسے ڈوبنے نے پا لیا تو اس نے کہا میں ایمان لے آیا کہ حق یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرماں برداروں سے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دریائے نیل، فرعون اور قوم بنی اسرائیل ٭٭
فرعون اور اس کے لشکریوں کے غرق ہونے کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ بنی اسرائل جب اپنے نبی کے ساتھ چھ لاکھ کی تعداد میں جو بال بچوں کے علاوہ تھی، مصر سے نکل کھڑے ہوئے اور فرعون کو یہ خبر پہنچی تو اس نے بڑا ہی تاؤ کھایا اور زبردست لشکر جمع کرکے اپنے تمام لوگوں کو لے کر ان کے پیچھے لگا۔ اس نے تمام لاؤ لشکر کو تمام سرداروں، فوجوں، رشتے کنبے کے تمام لوگوں اور کل ارکان سلطنت کو اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ اپنے پورے ملک میں کسی صاحب حیثیت شخص کو باقی نہیں چھوڑا تھا۔ بنی اسرائیل جس راہ گئے تھے اسی راہ یہ بھی بہت تیزی سے جا رہا تھا۔ ٹھیک سورج چڑھے، اس نے انہیں اور انہوں نے اسے دیکھ لیا۔ بنی اسرائیل گھبرا گئے اور موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے «فَلَمَّا تَرَاءَى الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَىٰ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:61] ’ لو اب پکڑ لیے گئے ‘ کیونکہ سامنے دریا تھا اور پیچھے لشکر فرعون نہ آگے بڑھ سکتے تھے نہ پیچھے ہٹ سکتے تھے۔ آگے بڑھتے تو ڈوب جاتے پیچھے ہٹے تو قتل ہوتے۔ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تسکین دی اور فرمایا «كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ» ۱؎ [26-الشعراء:62] ’ میں اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے تمہیں لے جا رہا ہوں ‘۔ میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ مجھے کوئی نہ کوئی نجات کی راہ بتلا دے گا، تم بے فکر رہو، وہ سختی کو آسانی سے تنگی کو فراخی سے بدلنے پر قادر ہے۔ اسی وقت وحی ربانی آئی کہ ’ اپنی لکڑی دریا پر مار دے ‘۔ آپ علیہ السلام نے یہی کیا۔ «فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ» ۱؎ [26-الشعراء:63] اس وقت پانی پھٹ گیا، راستے دے دئیے اور پہاڑوں کی طرح پانی کھڑا ہوگیا۔ ان کے بارہ قبیلے تھے بارہ راستے دریا میں بن گئے۔ «فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» ۱؎ [20-طه:77] تیز اور سوکھی ہوائیں چل پڑیں جس نے راستے خشک کر دیئے اب نہ تو فرعونیوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہونے کا کھٹکا رہا نہ پانی میں ڈوب جانے کا۔ ساتھ ہی قدرت نے پانی کی دیواروں میں طاق اور سوراخ بنا دیئے کہ ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ کو بھی دیکھ سکے۔ تاکہ دل میں یہ خدشہ بھی نہ رہے کہ کہیں وہ ڈوب نہ گیا ہو۔
بنو اسرائیل ان راستوں سے جانے لگے اور دریا پار اتر گئے۔ انہیں پار ہوتے ہوئے فرعونی دیکھ رہے تھے۔ جب یہ سب کے سب اس کنارے پہنچ گئے اب لشکر فرعون بڑھا اور سب کے سب دریا میں اتر گئے ان کی تعداد کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس ایک لاکھ گھوڑے تو صرف سیاہ رنگ کے تھے جو باقی رنگ کے تھے ان کی تعداد کا خیال کر لیجئے۔ فرعون بڑا کائیاں تھا۔ دل سے موسیٰ علیہ السلام کی صداقت جانتا تھا۔ اسے یہ رنگ دیکھ کر یقین ہو چکا تھا کہ یہ بھی بنی اسرائیل کی غیبی تائید ہوئی ہے وہ چاہتا تھا کہ یہاں سے واپس لوٹ جائے لیکن موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول ہو چکی تھی۔ قدرت کا قلم چل چکا تھا۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام گھوڑے پر سوار آ گئے۔ ان کے جانور کے پیچھے فرعون کا گھوڑا لگ گیا۔ آپ نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ فرعون کا گھوڑا اسے گھسیٹتا ہوا دریا میں اتر گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو آواز لگائی کہ بنی اسرائیل گزر گئے اور تم یہاں ٹھیر گئے۔ چلو ان کے پیچھے اپنے گھوڑے بھی میری طرح دریا میں ڈال دو۔ اسی وقت ساتھیوں نے بھی اپنے گھوڑوں کو مہمیز کیا۔ میکائیل علیہ السلام ان کے پیچھے تھا کیونکہ ان کے جانوروں کو ہنکائیں غرض بغیر ایک کے بھی باقی رہے سب دریا میں اتر گئے۔ جب یہ سب اندر پہنچ گئے اور ان کا سب سے آگے کا حصہ دوسرے کنارے کے قریب پہنچ چکا، اسی وقت جناب باری قادر و قیوم کا دریا کو حکم ہوا اب مل جا اور ان کو ڈبو دے۔
پانی کے پتھر بنے ہوئے پہاڑ فوراً پانی ہو گئے اور اسی وقت یہ سب غوطے کھانے لگے اور فوراً ڈوب گئے ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا۔ پانی کی موجوں نے انہیں اوپر تلے کر کر کے ان کے جوڑ جوڑ الگ الگ کر دئیے۔ فرعون جب موجوں میں پھنس گیا اور سکرات موت کا اسے مزہ آنے لگا تو کہنے لگا کہ میں لاشریک رب واحد پر ایمان لاتا ہوں۔ جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ ظاہر ہے کہ عذاب کے دیکھ چکنے کے بعد عذاب کے آجانے کے بعد ایمان سود مند نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو فرما چکا ہے اور یہ قاعدہ جاری کر چکا ہے۔ اسی لیے فرعون کو جواب ملا کہ «فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:84-85] ’ اس وقت یہ کہتا ہے حالانکہ اب تک شر وفساد پر تلا رہا۔ پوری عمر اللہ کی نافرمانیاں کرتا رہا، ملک میں فساد مچاتا رہا، خود گمراہ ہو کر اوروں کو بھی راہ حق سے روکتا رہا، لوگوں کو جہنم کی طرف بلانے کا امام تھا، قیامت کے دن بے یارومددگار رہے گا ‘۔ فرعون کا اس وقت کا قول اللہ تعالیٰ علام الغیوب نے اپنے علم غیب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس واقعے کی خبر دیتے وقت جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہوتے اور دیکھتے کہ میں اس کے منہ میں کیچڑ ٹھونس رہا تھا اس خیال سے کہ کہیں اس کی بات پوری ہونے پر اللہ کی رحمت اس کی دست گیری نہ کرلے }۔ [سنن ترمذي:3107، قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ڈوبتے وقت فرعون نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر اپنے ایمان کا اقرار کرنا شروع کیا جس پر جبرائیل علیہ السلام نے اس کے منہ میں مٹی بھرنی شروع کی۔ اس فرعون کثیر بن زاذان ملعون کا منہ جبرائیل علیہ السلام اس وقت بند کر رہے تھے اور اس کے منہ کیچڑ ٹھونس رہے تھے۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
کہتے ہیں کہ بعض بنی اسرائیل کو فرعون کی موت میں شک پیدا ہوگیا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ اس کی لاش بلند ٹیلے پر خشکی میں ڈال دے تاکہ یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور ان کا معائنہ کرلیں۔ چنانچہ اس کا جسم معہ اس کے لباس کے خشکی پر ڈال دیا گیا تاکہ بنی اسرائیل کو معلوم ہو جائے اور ان کے لیے نشانی اور عبرت بن جائے اور وہ جان لیں کہ غضب الٰہی کو کوئی چیز دفع نہیں کر سکتی۔ باوجود ان کھلے واقعات کے بھی اکثر لوگ ہماری آیتوں سے غفلت برتتے ہیں۔ کچھ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ ان فرعونیوں کا غرق ہونا اور موسیٰ علیہ السلام کا مع مسلمانوں کے نجات پانا عاشورے کے دن ہوا تھا۔ چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے تو یہودیوں کو اس دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا۔ وہ کہتے تھے کہ اسی دن موسیٰ علیہ السلام فرعون پر غالب آئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم تو موسیٰ علیہ السلام کے بہ نسبت ان کے زیادہ حقدار ہو تم بھی اس عاشورے کے دن کا روزہ رکھو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1130]
90۔ 1 یعنی سمندر کو پھاڑ کر، اس میں خشک راستہ بنادیا۔ (جس طرح کہ سورة بقرہ آیت 50 میں گزرا اور مذید تفصیل سورة شعرا میں آئے گی) اور تمہیں ایک کنارے سے دوسرے کنارے پر پہنچا دیا۔ 90۔ 2 یعنی اللہ کے حکم سے معجزانہ طریق پر بنے ہوئے خشک راستے پر، جس پر چل کر موسیٰ ؑ اور ان کی قوم نے سمندر پار کیا تھا، فرعون اور اس کا لشکر بھی سمندر پار کرنے کی غرض سے چلنا شروع ہوگیا۔ مقصد یہ تھا کہ موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو جو میری غلامی سے نجات دلانے کے لئے راتوں رات لے آیا تو اسے دوبارہ قید غلامی میں لایا جائے۔ جب فرعون اور اس کا لشکر، اس سمندری راستے میں داخل ہوگیا تو اللہ نے سمندر کو حسب سابق جاری ہوجانے کا حکم دے دیا۔ نتیجتاً فرعون سمیت سب کے سب غرق دریا ہوگئے۔
(آیت 91،90) ➊ { وَ جٰوَزْنَا بِبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ الْبَحْرَ:} یعنی بنی اسرائیل کا سمندر پار کرنا انسانی اسباب کے ساتھ نہ تھا، بلکہ انسان کے اختیار سے باہر خاص ہمارے پار کرانے سے تھا۔ بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے، فرعون کے تعاقب، موسیٰ علیہ السلام کے لاٹھی مارنے سے سمندر کے پھٹنے اور پانی کے منجمد ہو کر راستے دینے کی تفصیل سورۂ شعراء (۵۲ تا ۶۸) اور دخان (۲۳ تا ۳۱) میں آئے گی۔ ➋ {فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْيًا وَّ عَدْوًا:} فرعون اور اس کے لشکروں نے ان کا پیچھا انھیں ستانے، ان پر زیادتی کرنے اور انھیں دوبارہ غلام بنانے کے لیے کیا، یعنی ان کی نیت صلح یا اصلاح کی نہ تھی۔ {” بَغْيًا “} اور {” عَدْوًا “} حال بمعنی اسم فاعل یا مصدر برائے مفعول لہ ہیں۔ ہمارے استاذ مولانا عبدہ رحمہ اللہ نے قرطبی کے حوالے سے لکھا ہے کہ {”بَغْيٌ“ } وہ زیادتی ہے جو قول سے ہو اور {”عَدْوٌ“} وہ جو فعل سے ہو اور طنطاوی نے لکھا ہے: {”بَغٰي فُلَانٌ عَلٰي فُلاَنٍ بَغْيًا“} جب کوئی کسی پر دست درازی اور ظلم کرے اور {”عَدَا عَلَيْهِ عَدْوًا“} جب اس سے اس کا حق چھین لے۔ موسیٰ علیہ السلام کو حکم تھا کہ سمندر سے پار ہو کر اسے اسی حالت میں رہنے دو۔ (دیکھیے دخان: ۲۴) چنانچہ جب بنی اسرائیل کا آخری آدمی بھی نکل گیا اور فرعون کا پورا لشکر ان کے پیچھے مع فرعون سمندر میں داخل ہو گیا تو سمندر کا پانی برابر ہو گیا۔ ➌ {حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ …:} غرق یعنی ڈوبنے نے اسے پا لیا، گویا غرق اللہ کا سپاہی تھا جس نے اسے آپکڑا اور واقعی اللہ کے لشکروں اور سپاہیوں کا شمار نہیں۔ تو فرعون نے تین دفعہ مسلمان ہونے کا اقرار کیا: (1) {” اٰمَنْتُ “} (2) {” اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِيْلَ “} (3) {” وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ “} یہ سارا معاملہ غیب کا ہے، ڈوبتے وقت اس نے کیا کہا؟ اللہ تعالیٰ یا اس کے فرشتوں کے سوا وہاں کون تھا؟ سو یہ ساری بات اللہ تعالیٰ ہی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے بتائی، جو آپ کی نبوت کی زبردست دلیل ہے۔ ➍ {آٰلْـٰٔنَ وَ قَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ …:} کیا اب؟ یہ اللہ کی طرف سے ڈانٹ تھی اور بتانا تھا کہ عذاب نازل ہو جانے کے بعد توبہ کرنے اور ایمان لانے سے کوئی فائدہ نہیں، فرمایا: «{ فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا }» [ المؤمن: ۸۵ ] ”پھر یہ نہ تھا کہ ان کا ایمان انھیں فائدہ دیتا جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔“ اور دیکھیے سورۂ یونس (۵۱) اور نساء (۱۸) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ ] [ ترمذی، الدعوات، باب إن اللہ یقبل توبۃ العبد ما لم یغرغر…: ۳۵۳۷، عن ابن عمر رضی اللہ عنہ ] ”بے شک اللہ بندے کی توبہ قبول کرتا ہے، جب تک اس کا غرغرہ (جان نکلنے کی حالت) نہ ہو۔“ ➎ فرعون کی سرکشی پر اللہ کے فرشتوں کو بھی اس قدر غصہ تھا کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا: [ قَالَ لِيْ جِبْرِيْلُ لَوْ رَأَيْتَنِيْ وَأَنَا آخِذٌ مِنْ حَالِ الْبَحْرِ فَأُدُسُّهٗ فِيْ فَمِ فِرْعَوْنَ مَخَافَةَ أَنْ تُدْرِكَهُ الرَّحْمَةُ ] [ السلسلۃ الصحیحۃ: 26/5، ح: ۲۰۱۵۔ مسند طیالسی: ۲۶۱۸۔ ترمذی: ۳۱۰۸ ] ”مجھ سے جبریل علیہ السلام نے کہا، کاش! آپ مجھے دیکھتے کہ میں سمندر کا سیاہ کیچڑ اٹھا کر فرعون کے منہ میں ٹھونس رہا تھا، اس خوف سے کہ کہیں اس کو رحمت نہ آ پہنچے۔“ ➏ یہ واقعہ دس محرم (عاشوراء) کو پیش آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہودی عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے تھے، آپ نے فرمایا: [ مَا هٰذَا؟ قَالُوْا هٰذَا يَوْمٌ صَالِحٌ، هٰذَا يَوْمٌ نَجَّی اللّٰهُ بَنِيْ إِسْرَائِيْلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ، فَصَامَهٗ مُوْسٰی قَالَ فَأَنَا أَحَقُّ بِمُوْسَی مِنْكُمْ، فَصَامَهٗ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ ] [ بخاری، الصوم، باب صوم یوم عاشوراء: ۲۰۰۴ ] ”یہ کیا ہے؟“ انھوں نے کہا: ”یہ ایک صالح دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلائی تھی تو موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”پھر میں تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام پر حق رکھنے والا ہوں۔“ چنانچہ آپ نے اس (دن) کا روزہ رکھا اور اس کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔“ صحیح بخاری ہی کی دوسری روایت میں ہے: [ هٰذَا يَوْمٌ ظَهَرَ فِيْهِ مُوْسَی عَلٰی فِرْعَوْنَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ أَنْتُمْ أَحَقُّ بِمُوْسَی مِنْهُمْ فَصُوْمُوْا ] [ بخاری، التفسیر، باب: «وجاوزنا ببني إسرائیل البحر» : ۴۶۸۰ ] ”اس دن موسیٰ علیہ السلام فرعون پر غالب آئے تھے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا:”تم ان (یہود) سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام پر حق رکھتے ہو، پس روزہ رکھو۔“
(جواب دیا گیا) “اب ایمان لاتا ہے! حالانکہ اِس سے پہلے تک تو نافرمانی کرتا رہا اور فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
(جواب دیا گیا کہ) اب ایمان ﻻتا ہے؟ اور پہلے سرکشی کرتا رہا اور مفسدوں میں داخل رہا
احمد رضا خان بریلوی
کیا اب اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا
علامہ محمد حسین نجفی
(اس سے کہا گیا) اب؟ (ایمان لاتا ہے؟) حالانکہ اس سے پہلے تو مسلسل نافرمانی کرتا رہا ہے اور تو فسادیوں میں سے ایک (بڑا) مفسد تھا۔
عبدالسلام بن محمد
کیا اب؟ حالانکہ بے شک تو نے اس سے پہلے نافرمانی کی اور تو فساد کرنے والوں سے تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دریائے نیل، فرعون اور قوم بنی اسرائیل ٭٭
فرعون اور اس کے لشکریوں کے غرق ہونے کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ بنی اسرائل جب اپنے نبی کے ساتھ چھ لاکھ کی تعداد میں جو بال بچوں کے علاوہ تھی، مصر سے نکل کھڑے ہوئے اور فرعون کو یہ خبر پہنچی تو اس نے بڑا ہی تاؤ کھایا اور زبردست لشکر جمع کرکے اپنے تمام لوگوں کو لے کر ان کے پیچھے لگا۔ اس نے تمام لاؤ لشکر کو تمام سرداروں، فوجوں، رشتے کنبے کے تمام لوگوں اور کل ارکان سلطنت کو اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ اپنے پورے ملک میں کسی صاحب حیثیت شخص کو باقی نہیں چھوڑا تھا۔ بنی اسرائیل جس راہ گئے تھے اسی راہ یہ بھی بہت تیزی سے جا رہا تھا۔ ٹھیک سورج چڑھے، اس نے انہیں اور انہوں نے اسے دیکھ لیا۔ بنی اسرائیل گھبرا گئے اور موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے «فَلَمَّا تَرَاءَى الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَىٰ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:61] ’ لو اب پکڑ لیے گئے ‘ کیونکہ سامنے دریا تھا اور پیچھے لشکر فرعون نہ آگے بڑھ سکتے تھے نہ پیچھے ہٹ سکتے تھے۔ آگے بڑھتے تو ڈوب جاتے پیچھے ہٹے تو قتل ہوتے۔ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تسکین دی اور فرمایا «كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ» ۱؎ [26-الشعراء:62] ’ میں اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے تمہیں لے جا رہا ہوں ‘۔ میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ مجھے کوئی نہ کوئی نجات کی راہ بتلا دے گا، تم بے فکر رہو، وہ سختی کو آسانی سے تنگی کو فراخی سے بدلنے پر قادر ہے۔ اسی وقت وحی ربانی آئی کہ ’ اپنی لکڑی دریا پر مار دے ‘۔ آپ علیہ السلام نے یہی کیا۔ «فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ» ۱؎ [26-الشعراء:63] اس وقت پانی پھٹ گیا، راستے دے دئیے اور پہاڑوں کی طرح پانی کھڑا ہوگیا۔ ان کے بارہ قبیلے تھے بارہ راستے دریا میں بن گئے۔ «فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» ۱؎ [20-طه:77] تیز اور سوکھی ہوائیں چل پڑیں جس نے راستے خشک کر دیئے اب نہ تو فرعونیوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہونے کا کھٹکا رہا نہ پانی میں ڈوب جانے کا۔ ساتھ ہی قدرت نے پانی کی دیواروں میں طاق اور سوراخ بنا دیئے کہ ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ کو بھی دیکھ سکے۔ تاکہ دل میں یہ خدشہ بھی نہ رہے کہ کہیں وہ ڈوب نہ گیا ہو۔
بنو اسرائیل ان راستوں سے جانے لگے اور دریا پار اتر گئے۔ انہیں پار ہوتے ہوئے فرعونی دیکھ رہے تھے۔ جب یہ سب کے سب اس کنارے پہنچ گئے اب لشکر فرعون بڑھا اور سب کے سب دریا میں اتر گئے ان کی تعداد کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس ایک لاکھ گھوڑے تو صرف سیاہ رنگ کے تھے جو باقی رنگ کے تھے ان کی تعداد کا خیال کر لیجئے۔ فرعون بڑا کائیاں تھا۔ دل سے موسیٰ علیہ السلام کی صداقت جانتا تھا۔ اسے یہ رنگ دیکھ کر یقین ہو چکا تھا کہ یہ بھی بنی اسرائیل کی غیبی تائید ہوئی ہے وہ چاہتا تھا کہ یہاں سے واپس لوٹ جائے لیکن موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول ہو چکی تھی۔ قدرت کا قلم چل چکا تھا۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام گھوڑے پر سوار آ گئے۔ ان کے جانور کے پیچھے فرعون کا گھوڑا لگ گیا۔ آپ نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ فرعون کا گھوڑا اسے گھسیٹتا ہوا دریا میں اتر گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو آواز لگائی کہ بنی اسرائیل گزر گئے اور تم یہاں ٹھیر گئے۔ چلو ان کے پیچھے اپنے گھوڑے بھی میری طرح دریا میں ڈال دو۔ اسی وقت ساتھیوں نے بھی اپنے گھوڑوں کو مہمیز کیا۔ میکائیل علیہ السلام ان کے پیچھے تھا کیونکہ ان کے جانوروں کو ہنکائیں غرض بغیر ایک کے بھی باقی رہے سب دریا میں اتر گئے۔ جب یہ سب اندر پہنچ گئے اور ان کا سب سے آگے کا حصہ دوسرے کنارے کے قریب پہنچ چکا، اسی وقت جناب باری قادر و قیوم کا دریا کو حکم ہوا اب مل جا اور ان کو ڈبو دے۔
پانی کے پتھر بنے ہوئے پہاڑ فوراً پانی ہو گئے اور اسی وقت یہ سب غوطے کھانے لگے اور فوراً ڈوب گئے ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا۔ پانی کی موجوں نے انہیں اوپر تلے کر کر کے ان کے جوڑ جوڑ الگ الگ کر دئیے۔ فرعون جب موجوں میں پھنس گیا اور سکرات موت کا اسے مزہ آنے لگا تو کہنے لگا کہ میں لاشریک رب واحد پر ایمان لاتا ہوں۔ جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ ظاہر ہے کہ عذاب کے دیکھ چکنے کے بعد عذاب کے آجانے کے بعد ایمان سود مند نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو فرما چکا ہے اور یہ قاعدہ جاری کر چکا ہے۔ اسی لیے فرعون کو جواب ملا کہ «فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:84-85] ’ اس وقت یہ کہتا ہے حالانکہ اب تک شر وفساد پر تلا رہا۔ پوری عمر اللہ کی نافرمانیاں کرتا رہا، ملک میں فساد مچاتا رہا، خود گمراہ ہو کر اوروں کو بھی راہ حق سے روکتا رہا، لوگوں کو جہنم کی طرف بلانے کا امام تھا، قیامت کے دن بے یارومددگار رہے گا ‘۔ فرعون کا اس وقت کا قول اللہ تعالیٰ علام الغیوب نے اپنے علم غیب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس واقعے کی خبر دیتے وقت جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہوتے اور دیکھتے کہ میں اس کے منہ میں کیچڑ ٹھونس رہا تھا اس خیال سے کہ کہیں اس کی بات پوری ہونے پر اللہ کی رحمت اس کی دست گیری نہ کرلے }۔ [سنن ترمذي:3107، قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ڈوبتے وقت فرعون نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر اپنے ایمان کا اقرار کرنا شروع کیا جس پر جبرائیل علیہ السلام نے اس کے منہ میں مٹی بھرنی شروع کی۔ اس فرعون کثیر بن زاذان ملعون کا منہ جبرائیل علیہ السلام اس وقت بند کر رہے تھے اور اس کے منہ کیچڑ ٹھونس رہے تھے۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
کہتے ہیں کہ بعض بنی اسرائیل کو فرعون کی موت میں شک پیدا ہوگیا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ اس کی لاش بلند ٹیلے پر خشکی میں ڈال دے تاکہ یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور ان کا معائنہ کرلیں۔ چنانچہ اس کا جسم معہ اس کے لباس کے خشکی پر ڈال دیا گیا تاکہ بنی اسرائیل کو معلوم ہو جائے اور ان کے لیے نشانی اور عبرت بن جائے اور وہ جان لیں کہ غضب الٰہی کو کوئی چیز دفع نہیں کر سکتی۔ باوجود ان کھلے واقعات کے بھی اکثر لوگ ہماری آیتوں سے غفلت برتتے ہیں۔ کچھ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ ان فرعونیوں کا غرق ہونا اور موسیٰ علیہ السلام کا مع مسلمانوں کے نجات پانا عاشورے کے دن ہوا تھا۔ چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے تو یہودیوں کو اس دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا۔ وہ کہتے تھے کہ اسی دن موسیٰ علیہ السلام فرعون پر غالب آئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم تو موسیٰ علیہ السلام کے بہ نسبت ان کے زیادہ حقدار ہو تم بھی اس عاشورے کے دن کا روزہ رکھو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1130]
91۔ 1 اللہ کی طرف سے جواب دیا گیا کہ اب ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ جب ایمان لانے کا وقت تھا، اس وقت تو نافرمانیوں اور فساد انگیزیوں میں مبتلا رہا۔
اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تاکہ تو بعد کی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنے اگرچہ بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
سو آج ہم صرف تیری ﻻش کو نجات دیں گے تاکہ تو ان کے لیے نشان عبرت ہو جو تیرے بعد ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے آدمی ہماری نشانیوں سے غافل ہیں
احمد رضا خان بریلوی
آج ہم تیری لاش کو اوترا دیں (باقی رکھیں) گے تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو اور بیشک لوگ ہما ری آ یتو ں سے غافل ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
پس آج ہم صرف تیرے بدن (لاش) کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد آنے والوں کے لئے (قدرت و عبرت کی) ایک نشانی بن جائے (اگرچہ) لوگوں کی اکثریت ہماری نشانیوں سے غافل ہی رہتی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پس آج ہم تجھے تیرے (خالی) بدن کے ساتھ بچالیں گے، تاکہ تو ان کے لیے عظیم نشانی بنے جو تیرے بعد ہوں اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے یقینا غافل ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دریائے نیل، فرعون اور قوم بنی اسرائیل ٭٭
فرعون اور اس کے لشکریوں کے غرق ہونے کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ بنی اسرائل جب اپنے نبی کے ساتھ چھ لاکھ کی تعداد میں جو بال بچوں کے علاوہ تھی، مصر سے نکل کھڑے ہوئے اور فرعون کو یہ خبر پہنچی تو اس نے بڑا ہی تاؤ کھایا اور زبردست لشکر جمع کرکے اپنے تمام لوگوں کو لے کر ان کے پیچھے لگا۔ اس نے تمام لاؤ لشکر کو تمام سرداروں، فوجوں، رشتے کنبے کے تمام لوگوں اور کل ارکان سلطنت کو اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ اپنے پورے ملک میں کسی صاحب حیثیت شخص کو باقی نہیں چھوڑا تھا۔ بنی اسرائیل جس راہ گئے تھے اسی راہ یہ بھی بہت تیزی سے جا رہا تھا۔ ٹھیک سورج چڑھے، اس نے انہیں اور انہوں نے اسے دیکھ لیا۔ بنی اسرائیل گھبرا گئے اور موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے «فَلَمَّا تَرَاءَى الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَىٰ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:61] ’ لو اب پکڑ لیے گئے ‘ کیونکہ سامنے دریا تھا اور پیچھے لشکر فرعون نہ آگے بڑھ سکتے تھے نہ پیچھے ہٹ سکتے تھے۔ آگے بڑھتے تو ڈوب جاتے پیچھے ہٹے تو قتل ہوتے۔ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تسکین دی اور فرمایا «كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ» ۱؎ [26-الشعراء:62] ’ میں اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے تمہیں لے جا رہا ہوں ‘۔ میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ مجھے کوئی نہ کوئی نجات کی راہ بتلا دے گا، تم بے فکر رہو، وہ سختی کو آسانی سے تنگی کو فراخی سے بدلنے پر قادر ہے۔ اسی وقت وحی ربانی آئی کہ ’ اپنی لکڑی دریا پر مار دے ‘۔ آپ علیہ السلام نے یہی کیا۔ «فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ» ۱؎ [26-الشعراء:63] اس وقت پانی پھٹ گیا، راستے دے دئیے اور پہاڑوں کی طرح پانی کھڑا ہوگیا۔ ان کے بارہ قبیلے تھے بارہ راستے دریا میں بن گئے۔ «فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» ۱؎ [20-طه:77] تیز اور سوکھی ہوائیں چل پڑیں جس نے راستے خشک کر دیئے اب نہ تو فرعونیوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہونے کا کھٹکا رہا نہ پانی میں ڈوب جانے کا۔ ساتھ ہی قدرت نے پانی کی دیواروں میں طاق اور سوراخ بنا دیئے کہ ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ کو بھی دیکھ سکے۔ تاکہ دل میں یہ خدشہ بھی نہ رہے کہ کہیں وہ ڈوب نہ گیا ہو۔
بنو اسرائیل ان راستوں سے جانے لگے اور دریا پار اتر گئے۔ انہیں پار ہوتے ہوئے فرعونی دیکھ رہے تھے۔ جب یہ سب کے سب اس کنارے پہنچ گئے اب لشکر فرعون بڑھا اور سب کے سب دریا میں اتر گئے ان کی تعداد کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس ایک لاکھ گھوڑے تو صرف سیاہ رنگ کے تھے جو باقی رنگ کے تھے ان کی تعداد کا خیال کر لیجئے۔ فرعون بڑا کائیاں تھا۔ دل سے موسیٰ علیہ السلام کی صداقت جانتا تھا۔ اسے یہ رنگ دیکھ کر یقین ہو چکا تھا کہ یہ بھی بنی اسرائیل کی غیبی تائید ہوئی ہے وہ چاہتا تھا کہ یہاں سے واپس لوٹ جائے لیکن موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول ہو چکی تھی۔ قدرت کا قلم چل چکا تھا۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام گھوڑے پر سوار آ گئے۔ ان کے جانور کے پیچھے فرعون کا گھوڑا لگ گیا۔ آپ نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ فرعون کا گھوڑا اسے گھسیٹتا ہوا دریا میں اتر گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو آواز لگائی کہ بنی اسرائیل گزر گئے اور تم یہاں ٹھیر گئے۔ چلو ان کے پیچھے اپنے گھوڑے بھی میری طرح دریا میں ڈال دو۔ اسی وقت ساتھیوں نے بھی اپنے گھوڑوں کو مہمیز کیا۔ میکائیل علیہ السلام ان کے پیچھے تھا کیونکہ ان کے جانوروں کو ہنکائیں غرض بغیر ایک کے بھی باقی رہے سب دریا میں اتر گئے۔ جب یہ سب اندر پہنچ گئے اور ان کا سب سے آگے کا حصہ دوسرے کنارے کے قریب پہنچ چکا، اسی وقت جناب باری قادر و قیوم کا دریا کو حکم ہوا اب مل جا اور ان کو ڈبو دے۔
پانی کے پتھر بنے ہوئے پہاڑ فوراً پانی ہو گئے اور اسی وقت یہ سب غوطے کھانے لگے اور فوراً ڈوب گئے ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا۔ پانی کی موجوں نے انہیں اوپر تلے کر کر کے ان کے جوڑ جوڑ الگ الگ کر دئیے۔ فرعون جب موجوں میں پھنس گیا اور سکرات موت کا اسے مزہ آنے لگا تو کہنے لگا کہ میں لاشریک رب واحد پر ایمان لاتا ہوں۔ جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ ظاہر ہے کہ عذاب کے دیکھ چکنے کے بعد عذاب کے آجانے کے بعد ایمان سود مند نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو فرما چکا ہے اور یہ قاعدہ جاری کر چکا ہے۔ اسی لیے فرعون کو جواب ملا کہ «فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:84-85] ’ اس وقت یہ کہتا ہے حالانکہ اب تک شر وفساد پر تلا رہا۔ پوری عمر اللہ کی نافرمانیاں کرتا رہا، ملک میں فساد مچاتا رہا، خود گمراہ ہو کر اوروں کو بھی راہ حق سے روکتا رہا، لوگوں کو جہنم کی طرف بلانے کا امام تھا، قیامت کے دن بے یارومددگار رہے گا ‘۔ فرعون کا اس وقت کا قول اللہ تعالیٰ علام الغیوب نے اپنے علم غیب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس واقعے کی خبر دیتے وقت جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہوتے اور دیکھتے کہ میں اس کے منہ میں کیچڑ ٹھونس رہا تھا اس خیال سے کہ کہیں اس کی بات پوری ہونے پر اللہ کی رحمت اس کی دست گیری نہ کرلے }۔ [سنن ترمذي:3107، قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ڈوبتے وقت فرعون نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر اپنے ایمان کا اقرار کرنا شروع کیا جس پر جبرائیل علیہ السلام نے اس کے منہ میں مٹی بھرنی شروع کی۔ اس فرعون کثیر بن زاذان ملعون کا منہ جبرائیل علیہ السلام اس وقت بند کر رہے تھے اور اس کے منہ کیچڑ ٹھونس رہے تھے۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
کہتے ہیں کہ بعض بنی اسرائیل کو فرعون کی موت میں شک پیدا ہوگیا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ اس کی لاش بلند ٹیلے پر خشکی میں ڈال دے تاکہ یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور ان کا معائنہ کرلیں۔ چنانچہ اس کا جسم معہ اس کے لباس کے خشکی پر ڈال دیا گیا تاکہ بنی اسرائیل کو معلوم ہو جائے اور ان کے لیے نشانی اور عبرت بن جائے اور وہ جان لیں کہ غضب الٰہی کو کوئی چیز دفع نہیں کر سکتی۔ باوجود ان کھلے واقعات کے بھی اکثر لوگ ہماری آیتوں سے غفلت برتتے ہیں۔ کچھ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ ان فرعونیوں کا غرق ہونا اور موسیٰ علیہ السلام کا مع مسلمانوں کے نجات پانا عاشورے کے دن ہوا تھا۔ چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے تو یہودیوں کو اس دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا۔ وہ کہتے تھے کہ اسی دن موسیٰ علیہ السلام فرعون پر غالب آئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم تو موسیٰ علیہ السلام کے بہ نسبت ان کے زیادہ حقدار ہو تم بھی اس عاشورے کے دن کا روزہ رکھو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1130]
92۔ 1 جب فرعون غرق ہوگیا تو اس کی موت کا بہت سے لوگوں کو یقین نہ آتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا، کہ اس نے اس کی لاش کو باہر خشکی پر پھینک دیا، جس کا مشاہدہ پھر سب نے کیا۔ مشہور ہے کہ آج بھی یہ لاش مصر کے عجائب خانے میں محفوظ ہے۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بالصَّوَابِ۔
(آیت 92) ➊ {فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ …: ” نُنَجِّيْ “ ” نَجَا يَنْجُوْ “} سے باب تفعیل ہے۔ {” نَجَّاهُ اللّٰهُ “} اللہ تعالیٰ نے اسے بچا لیا۔ {”اَلنَّجْوَةُ “} یا {” اَلنَّجَا“} اونچی جگہ یا ٹیلے کو بھی کہتے ہیں۔ {” نَجَّاهُ “} کا معنی اس صورت میں یہ ہو گا کہ اس نے اسے اونچی جگہ پھینک دیا، یعنی آج ہم تمھارے بے جان لاشے کو سمندر سے بچا لیں گے، یا اونچی جگہ پھینک دیں گے، تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے ایک عظیم نشانی بنے۔ {” اٰيَةً “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی فرعون اور اس کی ساری فوج کے غرق ہو جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون کی لاش سمندر کے کنارے پر باہر نکال پھینکی، تاکہ وہ بعد والوں کے لیے عظیم نشانی بنے اور بنی اسرائیل کے کمزور عقیدے والوں کو بھی خدائی کے دعوے دار کی حقیقت اور انجام آنکھوں سے دیکھنے کا موقع مل جائے اور فرعون اور اس کا سمندر میں غرق ہونے کا واقعہ بعدمیں ہر اس شخص کے لیے قدرت کی عظیم نشانی بن جائے جو اس کو سنے یا پڑھے۔ عام طور پر مشہور ہے کہ فرعون کی لاش مصر کے عجائب گھر میں اب تک محفوظ ہے مگر اس کی کوئی دلیل نہیں کہ یہ اسی فرعون کی لاش ہے۔ علاوہ ازیں اگر اس کی لاش محفوظ نہ بھی رہے تو تاریخ اور قرآن میں اس واقعہ کا ذکر ہی بعد والوں کے لیے بطور عبرت اور نشانی کافی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب سبت کو بندر بنانے کے متعلق فرمایاـ: «{ فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ }» [البقرۃ: ۶۶ ] ”تو ہم نے اسے (یعنی اس واقعہ کو) ان لوگوں کے لیے جو اس کے سامنے تھے اور جو اس کے پیچھے تھے ایک عبرت اور ڈرنے والوں کے لیے ایک نصیحت بنا دیا۔“ حالانکہ ان میں سے کسی مسخ شدہ بندر کی کوئی ممی کہیں موجود نہیں۔ الغرض! یہ اس فرعون کی لاش نہ ہو تب بھی بعد والوں کے لیے اس واقعہ کے نشان عظیم ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ➋ ہمارے شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”آج تک جزیرہ نمائے سینا کے مغربی ساحل پر اس مقام کی نشان دہی کی جاتی ہے، جہاں فرعون کی لاش سمندر میں تیرتی ہوئی پائی گئی۔ اس زمانے میں اس مقام کو جبلِ فرعون یا حمامہ فرعون کہا جاتا ہے۔ اس کی جائے وقوع ابوزنیمہ (جہاں تانبے وغیرہ کی کانیں ہیں) سے چند میل اوپر شمال کی جانب ہے، آج قاہرہ کے عجائب گھر میں جن فرعونوں کی لاشیں موجود ہیں ان میں سے ایک فرعون کی لاش کو اسی فرعون کی لاش بتایا جاتا ہے۔ ۱۹۰۷ ء میں جب فرعونوں کی لاشیں دریافت ہوئی تھیں تو اس فرعون کی لاش پر نمک کی ایک تہ جمی ہوئی پائی گئی تھی جو سمندر کے کھاری پانی میں اس کی غرقابی کی کھلی علامت تھی۔“ شاہ عبد القادررحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جیسا وہ بے وقوف ایمان لایا بے فائدہ ویسا ہی اللہ نے مرنے کے بعد اس کا بدن دریا سے نکال کر ٹیلے پر ڈال دیا، تاکہ بنی اسرائیل دیکھ کر شکر کریں اور عبرت پکڑیں۔ اس کو بدن بچنے سے کیا فائدہ؟“ (موضح) ➌ {وَ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ:} یعنی ان پر غور نہیں کرتے اور ان سے سبق حاصل نہیں کرتے، اگر غور کریں تو معلوم ہوجائے گا کہ انسان کی بساط کیا ہے؟
ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا دیا اور نہایت عمدہ وسائل زندگی انہیں عطا کیے پھر انہوں نے باہم اختلاف نہیں کیا مگراُس وقت جبکہ علم اُن کے پاس آ چکا تھا یقیناً تیرا رب قیامت کے روز اُن کے درمیان اُس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا رہنے کو دیا اور ہم نے انہیں پاکیزه چیزیں کھانے کو دیں۔ سو انہوں نے اختلاف نہیں کیا یہاں تک کہ ان کے پاس علم پہنچ گیا۔ یقینی بات ہے کہ آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن ان امور میں فیصلہ کرے گا جن میں وه اختلاف کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو عزت کی جگہ دی اور انہیں ستھری روزی عطا کی تو اختلاف میں نہ پڑے مگر علم آنے کے بعد بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے (حسب الوعدہ) بنی اسرائیل کو (رہنے کے لئے) بہت اچھا ٹھکانا دیا اور پاکیزہ چیزوں سے ان کی روزی کا انتظام کیا پس جب تک ان کے پاس توراۃ وغیرہ کی شکل میں علم نہیں آگیا تب تک انہوں نے باہم اختلاف نہیں کیا۔ (پھر جان بوجھ کر اختلاف کیا)۔ یقینا آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا ان باتوں میں جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا دیا، باعزت ٹھکانا، اور انھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا، پھر انھوں نے آپس میں اختلاف نہیں کیا، یہاں تک کہ ان کے پاس علم آگیا، بے شک تیرا رب ان کے درمیان قیامت کے دن اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات ٭٭
اللہ نے جو نعمتیں بنی اسرائیل پر انعام فرمائیں ان کا ذکر ہو رہا ہے کہ شام اور ملک مصر میں بیت المقدس کے آپس پاس انہیں جگہ دی۔ تمام و کمال ملک مصر پر ان کی حکومت ہوگئ۔ فرعون کی ہلاکت کے بعد دولت موسویہ قائم ہوگئی۔ جیسے قرآن میں بیان ہے کہ ہم نے ان کمزور بنی اسرائیلیوں کے مشرق مغرب کے ملک کا مالک کر دیا۔ برکت والی زمین ان کے قبضے میں دے دی اور ان پر اپنی سچی بات کی سچائی کھول دی ان کے صبر کا پھل انہیں مل گیا۔ فرعون، فرعونی اور ان کے کاریگریاں سب نیست و نابود ہوئیں اور آیتوں میں ہے کہ ہم نے فرعونیوں کو باغوں سے دشمنوں سے، خزانوں سے بہترین مقامات اور مکانات سے نکال باہر کیا۔ «كَمْ تَرَكُوا مِن جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ» ۱؎ [44-الدخان:25] ’ وه بہت سے باغات اور چشمے چھوڑ گئے، اور بنی اسرائیل کے قبضے میں یہ سب کچھ کر دیا ‘۔ اور آیتوں میں ہے، باوجود اس کے خلیل الرحمن علیہ السلام کے شہر بیت المقدس کی محبت ان کے دل میں چٹکیاں لیتی رہی۔ وہاں عمالقہ کی قوم کا قبلہ تھا انہوں نے اپنے پیغمبر علیہ السلام سے درخواست کی، انہیں جہاد کا حکم ہوا یہ نامردی کرگئے جس کے بدلے انہیں چالیس سال تک میدان تیہ میں سرگرداں پھرنا پڑا۔ وہیں ہارون علیہ السلام کا انتقال ہوا پھر موسیٰ علیہ السلام کا۔ ان کے بعد یہ یوشع بن نون علیہ السلام کے ساتھ نکلے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں پر بیت المقدس کو فتح کیا۔ یہاں بخت نصر کے زمانے تک انہیں کا قبضہ رہا پھر کچھ مدت کے بعد دوبارہ انہوں نے اسے لے لیا پھر یونانی بادشاہوں نے وہاں قبضہ کیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے تک وہاں یونانیوں کا ہی قبضہ رہا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ضد میں ان ملعون یہودیوں نے شاہ یونان سے ساز باز کی اور عیسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری کے احکام انہیں باغی قرار دے کر نکلوا دیئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو تو اپنی طرف چڑھا لیا اور آپ علیہ السلام کے کسی حواری پر آپ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی انہوں نے آپ علیہ السلام کے دھوکے میں اسے قتل کر دیا اور سولی پر لٹکا دیا۔ یقیناً جناب روح اللہ علیہ الصلوۃ والسلام ان کے ہاتھوں قتل نہیں ہوئے۔ «وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا» [4-النساء:158] ’ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف بلند کر لیا۔ اللہ عزیز و حکیم ہے ‘۔ عیسٰی علیہ السلام کے تقریباً تین سو سال بعد قسطنطیس نامی یونانی بادشاہ عیسائی بن گیا۔ وہ بڑا پاجی اور مکار تھا۔ دین عیسوی میں یہ بادشاہ صرف سیاسی منصوبوں کے پورا کرنے اور اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے اور دین نصاری کو بدل ڈالنے کے لیے گھسا تھا۔ حیلہ اور مکر و فریب اور چال کے طور پر یہ مسیحی بنا تھا کہ مسیحیت کی جڑیں کھوکھلی کر دے۔ نصرانی علماء اور درویشوں کو جمع کر کے ان سے قوانین شریعت کے مجموعے کے نام سے نئی نئی تراشی ہوئی باتیں لکھوا کر ان بدعتوں کو نصرانیوں میں پھیلا دیا اور اصل کتاب و سنت سے انہیں ہٹا دیا۔ اس نے کلیسا، گرجے، خانقاہیں، ہیکلیں وغیرہ بنائیں اور بیسیوں قسم کے مجاہدے اور نفس کشی کے طریقے اور طرح طرح کی عبادتیں ریاضتیں نکال کر لوگوں میں اس نئے دین کی خوب اشاعت کی اور حکومت کے زور اور زر کے لالچ سے اسے دور تک پہنچا دیا۔ جو بیچارے موحد، متبع انجیل اور سچے تابعدار عیسیٰ علیہ السلام کے اصلی دین پر قائم رہے انہیں ان ظالموں نے شہر بدر کردیا۔
لوگ جنگلوں میں رہنے سہنے لگے اور یہ نئے دین والے جن کے ہاتھوں میں تبدیلی اور مسخ والا دین رہ گیا تھا اُٹھ کھڑے ہوئے اور تمام جزیرہ روم پر چھاگئے۔ قسطنطنیہ کی بنیادیں اس نے رکھیں۔ بیت لحم اور بیت المقدس کے کلیسا اور حواریوں کے شہر سب اسی کے بسائے ہوئے ہیں۔ بڑی بڑی شاندار، دیرپا اور مضبوط عمارتیں اس نے بنائیں۔ صلیب کی پرستش، مشرق کا قبلہ، کنیسوں کی تصویریں، سور کا کھانا وغیرہ یہ سب چیزیں نصرانیت میں اسی نے داخل کیں۔ فروع اصول سب بدل کر دین مسیح کو الٹ پلٹ کر دیا۔ امانت کبیرہ اسی کی ایجاد ہے اور دراصل ذلیل ترین خیانت ہے۔ لمبے چوڑے فقہی مسائل کی کتابیں اسی نے لکھوائیں۔ اب بیت المقدس انہیں کے ہاتھوں میں تھا یہاں تک کہ صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فتح کیا۔ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت میں یہ مقدس شہر اس مقدس جماعت کے قبضے میں آیا۔ الغرض یہ پاک جگہ انہیں ملی تھی اور پاک روزی اللہ نے دے رکھی تھی جو شرعا بھی حلال اور طبعا بھی طیب۔ افسوس باوجود اللہ کی کتاب ہاتھ میں ہونے کے انہوں نے خلاف بازی اور فرقہ بندی شروع کر دی۔ ایک دو نہیں بہتر (۷۲) فرقے قائم ہو گئے۔ اللہ اپنے رسول علیہ السلام پر درود سلام نازل فرمائے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس پھوٹ کا ذکر فرما کر فرمایا کہ { میری امت میں بھی یہی بیماری پھیلے گی اور ان کے تہتر فرقے ہو جائیں گے جس میں سے ایک جنتی باقی سب دوزخی ہوں گے }۔ پوچھا گیا کہ جنتی کون ہیں؟ فرمایا: { وہ جو اس پر ہوں جس پر میں اور میرے صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:حسن] اللہ فرماتا ہے ’ ان کے اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن میں آپ ہی کروں گا ‘۔
93۔ 1 یعنی ایک تو اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے، آپس میں اختلاف شروع کردیا، پھر یہ اختلاف بھی لا علمی اور جہالت کی وجہ سے نہیں کیا، بلکہ علم آجانے کے بعد کیا، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ اختلاف محض عناد اور تکبر کی بنیاد پر تھا۔
(آیت 93) ➊ {وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ …: ” مُبَوَّاَ “} (ٹھکانا)کی{” صِدْقٍ “} کی طرف اضافت کا مطلب اس کی تعریف ہے، یعنی بہترین باعزت ٹھکانا۔ اہل عرب جس چیز کی تعریف کرنا چاہیں اسے {”صِدْقٌ“ } کی طرف مضاف کر دیتے ہیں، جیسے کہتے ہیں: {”رَجُلُ صِدْقٍ“} ”سچ مچ کا آدمی۔“ فرمایا: «{ اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ }» [ یونس:۲ ] اور فرمایا: «{ وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ }» [ بنی إسرائیل: ۸۰ ] یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو نہایت باعزت ٹھکانا، حکومت اور وافر صاف ستھری چیزیں کھانے کے لیے عطا فرمائیں۔ ان بنی اسرائیل سے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی مراد لینا تو مشکل ہے، کیونکہ وہ تو موسیٰ علیہ السلام کے حکم پر جہاد کے لیے نکلنے سے صاف انکار کی پاداش میں چالیس سال صحرائے سینا ہی میں بھٹکتے رہے تھے، البتہ ان کے بعد یوشع بن نون علیہ السلام کی قیادت میں نئی نسل نے فلسطین اور شام اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق فتح کیے، وعدہ یہ تھا: «{ يٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِيْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ }» [ المائدۃ: ۲۱ ] ”اے میری قوم! اس مقدس زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے۔“ پھر مصر پر بھی بنی اسرائیل کی حکومت قائم ہو گئی، جیسا کہ فرمایا: «{ كَذٰلِكَ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ }» [ الشعراء: ۵۹ ] ”ایسے ہی ہوا اور ہم نے ان کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا۔“ پھر بنی اسرائیل پر حکومت اور غلامی کے کئی دور آئے، کبھی داؤد اور سلیمان علیہما السلام جیسے عظیم الشان حکمران آئے اور کبھی بخت نصر اور دوسرے کفار کے ہاتھوں ان کی پامالی ہوئی اور اس پامالی کا سبب ہمیشہ ان کا اختلاف بنا، جس کا باعث ان کی لاعلمی نہ تھا بلکہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے وہ احبار و رہبان کو رب بنا کر مختلف سیاسی اور دینی فرقوں میں بٹ گئے تھے۔ احادیث میں ان کے بہتر (۷۲) فرقوں کا ذکر ہے، ان میں صحیح کون تھا اور غلط کون! یہ فیصلہ اب قیامت کے دن رب تعالیٰ ہی فرمائیں گے۔ ➋ {” فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ “} کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اللہ کی کتاب تورات کی صاف پیش گوئی کے مطابق بنی اسرائیل کا اتفاق تھا کہ خاتم النّبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے ہیں، کسی کا بھی اختلاف نہ تھا اور کوئی اس سے لا علم نہ تھا، بلکہ سب آپ کے آنے کے منتظر تھے اور آپ کے آنے کی دعا کرتے تھے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ۠ عَلَى الَّذِيْنَ كَفَرُوْا }» [ البقرۃ: ۸۹ ] ”حالانکہ وہ اس سے پہلے ان لوگوں پر فتح طلب کیا کرتے تھے جنھوں نے کفر کیا۔“ مگر جب آپ تشریف لے آئے تو آپ کو پہچان لینے کے بعد محض ضد اور حسد کی وجہ سے ان کا اتفاق اختلاف میں بدل گیا۔ کسی نے کہا، وہ ہیں ہی نہیں جن کے آنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ کسی نے کہا یہ ہمارے نہیں بلکہ صرف امیوں کے رسول ہیں۔ بعض خوش نصیبوں نے ایمان قبول بھی کر لیا، بہرحال علم کے بعد اختلاف کا فیصلہ اب رب تعالیٰ ہی فرمائیں گے۔
اب اگر تجھے اُس ہدایت کی طرف سے کچھ بھی شک ہو جو ہم نے تجھ پر نازل کی ہے تو اُن لوگوں سے پوچھ لے جو پہلے سے کتاب پڑھ رہے ہیں فی الواقع یہ تیرے پاس حق ہی آیا ہے تیرے رب کی طرف سے، لہٰذا تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اگر آپ اس کی طرف سے شک میں ہوں جس کو ہم نے آپ کے پاس بھیجا ہے تو آپ ان لوگوں سے پوچھ دیکھیے جو آپ سے پہلی کتابوں کو پڑھتے ہیں۔ بیشک آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے سچی کتاب آئی ہے۔ آپ ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور اے سننے والے! اگر تجھے کچھ شبہ ہو اس میں جو ہم نے تیری طرف اتارا تو ان سے پوچھ دیکھ جو تجھ سے پہلے کتاب پڑھنے والے ہیں بیشک تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے حق آیا تو تُو ہر گز شک والوں میں نہ ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اگر (بالفرض) آپ کو اس (قرآن میں) کچھ شک ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے تو پھر ان لوگوں (اہل کتاب) سے پوچھ لو جو آپ سے پہلے کتابیں (توراۃ و انجیل وغیرہ) پڑھتے رہتے ہیں۔ بے شک آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ کے پاس حق آیا ہے لہٰذا ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اگر تو اس کے بارے میں کسی شک میں ہے جو ہم نے تیری طرف نازل کیا ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تجھ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں، بلاشبہ یقینا تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے حق آیا ہے، سو تو ہرگز شک کرنے والوں سے نہ ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ٹھوس دلائل کے باوجود انکار قابل مذمت ہے ٭٭
{ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہ مجھے کچھ شک نہ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت } }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17907:مرسل] ۔ پس اس آیت سے مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ایمان کی مضبوطی کی جائے اور ان سے بیان کیا جائے کہ اگلی الٰہامی کتابوں میں بھی ان کے نبی کی صفتیں موجود ہیں، خود اہل کتاب بھی بخوبی واقف ہیں۔ جیسے «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» ۱؎ [7-الأعراف:157] الخ میں ہے۔ ان لوگوں پر تعجب اور افسوس ہے ان کی کتابوں میں اس نبی آخر الزمان کی تعریف و توصیف اور جان پہچان ہونے کے باوجود بھی ان کتابوں کے احکام کا خلط ملط کرتے ہیں اور تحریف و تبدیل کر کے بات بدل دیتے ہیں اور دلیل سامنے ہونے کے باوجود انکاری رہتے ہیں۔ شک و شبہ کی ممانعت کے بعد آیات رب کی تکذیب کی ممانعت ہوئی۔ پھر بدقسمت لوگوں کے ایمان سے ناامیدی دلائی گئی۔ جب تک کہ وہ عذاب نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ تو اس وقت ایمان لائیں گے جس وقت ایمان لانا بے سود ہوگا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے لیے اور فرعونیوں کے لیے یہی بد دعا کی تھی «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:88] ’ اے ہمارے رب! ان کے مالوں کو نیست و نابود کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے سو یہ ایمان نہ لانے پائیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب کو دیکھ لیں‘۔ «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:111] ’ ان کی جہالت اس درجے پر پہنچ چکی ہے کہ بالفرض ہم اپنے فرشتوں کو ان پر اتاریں، مردے ان سے بولیں ہر پوشیدہ چیز سامنے آ جائے جب بھی انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا ہاں مرضی مولیٰ اور چیز ہے ‘۔
94۔ 1 یہ خطاب یا تو عام انسانوں کو ہے یا پھر نبی کے واسطے سے امت کو تعلیم دی جا رہی ہے۔ کیونکہ نبی کو تو وحی کے بارے میں کوئی شک ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ جو کتاب پڑھتے ہیں، ان سے پوچھ لیں ' کا مطلب ہے کہ قرآن مجید سے پہلے کی آسمانی کتابیں (تورات و انجیل وغیرہ) یعنی جن کے پاس یہ کتابیں موجود ہیں ان سے اس قرآن کی بابت معلوم کریں کیونکہ ان میں اس کی نشانیاں اور آخری پیغمبر کی صفات بیان کی گئی ہیں۔
(آیت 94) {فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ …:} اس سورت کااصل موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت اور مخالفین کے شبہات کی تردید ہے۔ یہاں سورت کے آخر میں پھر اصل موضوع کی طرف توجہ فرمائی ہے۔ مشرکین عرب چونکہ ان پڑھ اور آسمانی کتابوں کے علم سے بے بہرہ تھے، اس لیے ان کو توجہ دلائی کہ اگر تمھیں کوئی شک ہے، خود علم نہیں ہے تو ان علمائے یہود سے دریافت کر لو جو تورات وغیرہ کا آسمانی علم رکھتے ہیں۔ ان میں سے جو منصف مزاج اور اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ اقرار کریں گے کہ قرآن واقعی آسمانی کتاب اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں، کیونکہ ان کی کتابوں میں جگہ جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتیں موجود ہیں اور آپ کی علامات بیان کی گئی ہیں۔ الغرض! یہ خطاب تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے مگر مقصود مشرکین عرب کو توجہ دلانا ہے، ورنہ آپ کو اپنی رسالت پر شک ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ بات بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ بعض اوقات ایک بات بطور فرض و تقدیر کی جاتی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ فی الواقع ایسا ہے، یعنی اگر فرض کریں آپ کو کوئی شک ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لیں، ان کی کتابوں میں آپ کا واضح ذکر خیر موجود ہے، پھر شک کیسا؟ یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ جب عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھیں گے کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟ تو وہ اپنے تفصیلی بیان میں یہ بھی کہیں گے: «{ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ }» [ المائدۃ: ۱۱۶ ] یعنی فرض کریں کہ میں نے یہ بات کہی تھی تو یا اللہ! تجھ سے تو اوجھل نہیں رہ سکتی۔ مطلب صاف ہے کہ میں نے یہ بات ہر گز نہیں کہی۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ شک تھا نہ آپ کو کسی اہل کتاب سے پوچھنے کی ضرورت تھی۔ ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ یہاں {” كُنْتَ فِيْ شَكٍّ “} میں ہر انسان کو براہ راست خطاب ہے، کیونکہ یہ کتاب ہر ایک کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی ہے۔
اور ان لوگوں میں نہ شامل ہو جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا ہے، ورنہ تو نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور نہ ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلایا، کہیں آپ خساره پانے والوں میں سے نہ ہوجائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہرگز ان میں نہ ہونا جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں کہ تو خسارے والوں میں ہوجائے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور نہ ہی ان لوگوں میں سے ہونا جنہوں نے آیاتِ الٰہیہ کو جھٹلایا ورنہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہ کبھی ان لوگوں سے ہونا جنھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا، ورنہ تو خسارہ اٹھانے والوں سے ہو جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ٹھوس دلائل کے باوجود انکار قابل مذمت ہے ٭٭
{ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہ مجھے کچھ شک نہ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت } }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17907:مرسل] ۔ پس اس آیت سے مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ایمان کی مضبوطی کی جائے اور ان سے بیان کیا جائے کہ اگلی الٰہامی کتابوں میں بھی ان کے نبی کی صفتیں موجود ہیں، خود اہل کتاب بھی بخوبی واقف ہیں۔ جیسے «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» ۱؎ [7-الأعراف:157] الخ میں ہے۔ ان لوگوں پر تعجب اور افسوس ہے ان کی کتابوں میں اس نبی آخر الزمان کی تعریف و توصیف اور جان پہچان ہونے کے باوجود بھی ان کتابوں کے احکام کا خلط ملط کرتے ہیں اور تحریف و تبدیل کر کے بات بدل دیتے ہیں اور دلیل سامنے ہونے کے باوجود انکاری رہتے ہیں۔ شک و شبہ کی ممانعت کے بعد آیات رب کی تکذیب کی ممانعت ہوئی۔ پھر بدقسمت لوگوں کے ایمان سے ناامیدی دلائی گئی۔ جب تک کہ وہ عذاب نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ تو اس وقت ایمان لائیں گے جس وقت ایمان لانا بے سود ہوگا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے لیے اور فرعونیوں کے لیے یہی بد دعا کی تھی «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:88] ’ اے ہمارے رب! ان کے مالوں کو نیست و نابود کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے سو یہ ایمان نہ لانے پائیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب کو دیکھ لیں‘۔ «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:111] ’ ان کی جہالت اس درجے پر پہنچ چکی ہے کہ بالفرض ہم اپنے فرشتوں کو ان پر اتاریں، مردے ان سے بولیں ہر پوشیدہ چیز سامنے آ جائے جب بھی انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا ہاں مرضی مولیٰ اور چیز ہے ‘۔
95۔ 1 یہ بھی دراصل مخاطب امت کو سمجھایا جا رہا ہے کہ تکذیب کا راستہ خسران اور تباہی کا راستہ ہے۔
(آیت 95) {وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا …:} یہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرکے امت ہی کو سمجھایا جا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں پر تیرے رب کا قول راست آگیا ہے ان کے سامنے خواہ کوئی نشانی آ جائے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً جن لوگوں کے حق میں آپ کے رب کی بات ﺛابت ہوچکی ہے وه ایمان نہ ﻻئیں گے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جن پر تیرے رب کی بات ٹھیک پڑچکی ہے ایمان نہ لائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک وہ لوگ جن پر آپ کے پروردگار کی بات ثابت ہو چکی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ٹھوس دلائل کے باوجود انکار قابل مذمت ہے ٭٭
{ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہ مجھے کچھ شک نہ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت } }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17907:مرسل] ۔ پس اس آیت سے مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ایمان کی مضبوطی کی جائے اور ان سے بیان کیا جائے کہ اگلی الٰہامی کتابوں میں بھی ان کے نبی کی صفتیں موجود ہیں، خود اہل کتاب بھی بخوبی واقف ہیں۔ جیسے «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» ۱؎ [7-الأعراف:157] الخ میں ہے۔ ان لوگوں پر تعجب اور افسوس ہے ان کی کتابوں میں اس نبی آخر الزمان کی تعریف و توصیف اور جان پہچان ہونے کے باوجود بھی ان کتابوں کے احکام کا خلط ملط کرتے ہیں اور تحریف و تبدیل کر کے بات بدل دیتے ہیں اور دلیل سامنے ہونے کے باوجود انکاری رہتے ہیں۔ شک و شبہ کی ممانعت کے بعد آیات رب کی تکذیب کی ممانعت ہوئی۔ پھر بدقسمت لوگوں کے ایمان سے ناامیدی دلائی گئی۔ جب تک کہ وہ عذاب نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ تو اس وقت ایمان لائیں گے جس وقت ایمان لانا بے سود ہوگا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے لیے اور فرعونیوں کے لیے یہی بد دعا کی تھی «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:88] ’ اے ہمارے رب! ان کے مالوں کو نیست و نابود کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے سو یہ ایمان نہ لانے پائیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب کو دیکھ لیں‘۔ «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:111] ’ ان کی جہالت اس درجے پر پہنچ چکی ہے کہ بالفرض ہم اپنے فرشتوں کو ان پر اتاریں، مردے ان سے بولیں ہر پوشیدہ چیز سامنے آ جائے جب بھی انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا ہاں مرضی مولیٰ اور چیز ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 96) {اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ …:} اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حد تک ارادہ و اختیار دیا ہے، جس کے مطابق وہ نیکی یا بدی میں سے جس پر چاہے عمل کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کو وہ سب کچھ معلوم ہے جو شروع سے اب تک واقع ہوا، اسی طرح وہ آئندہ ہونے والی ہر بات کا بھی پورا علم رکھتا ہے اور اس کی رو سے اسے پہلے ہی معلوم ہے کہ اپنے ارادہ و اختیار کو استعمال کرتے ہوئے کون حق کو قبول کرے گا اور کون کفر کی راہ اختیار کرے گا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے اس ازلی علم کو {” كَلِمَتُ رَبِّكَ “} کہا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کفر میں اور اللہ کی نافرمانی میں اس قدر غرق ہو جاتے ہیں کہ ان کی حق قبول کرنے کی استعداد ہی ختم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ وہ کسی صورت ایمان نہیں لاتے، بلکہ وہ کفر ہی پر مریں گے اور ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انھیں ایمان لانے کی توفیق نہیں ہو گی۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۶)، یس(۷) اور زمر (۱۹)۔
وہ کبھی ایمان لا کر نہیں دیتے جب تک کہ درد ناک عذاب سامنے آتا نہ دیکھ لیں
مولانا محمد جوناگڑھی
گو ان کے پاس تمام نشانیاں پہنچ جائیں جب تک کہ وه دردناک عذاب کو نہ دیکھ لیں
احمد رضا خان بریلوی
اگرچہ سب نشانیاں ان کے پاس آئیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں
علامہ محمد حسین نجفی
سو اگرچہ دنیا جہاں کی تمام نشانیاں (معجزات) ان کے سامنے آجائیں مگر وہ جب تک دردناک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں تب تک وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
خواہ ان کے پاس ہر نشانی آجائے، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ٹھوس دلائل کے باوجود انکار قابل مذمت ہے ٭٭
{ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہ مجھے کچھ شک نہ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت } }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17907:مرسل] ۔ پس اس آیت سے مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ایمان کی مضبوطی کی جائے اور ان سے بیان کیا جائے کہ اگلی الٰہامی کتابوں میں بھی ان کے نبی کی صفتیں موجود ہیں، خود اہل کتاب بھی بخوبی واقف ہیں۔ جیسے «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» ۱؎ [7-الأعراف:157] الخ میں ہے۔ ان لوگوں پر تعجب اور افسوس ہے ان کی کتابوں میں اس نبی آخر الزمان کی تعریف و توصیف اور جان پہچان ہونے کے باوجود بھی ان کتابوں کے احکام کا خلط ملط کرتے ہیں اور تحریف و تبدیل کر کے بات بدل دیتے ہیں اور دلیل سامنے ہونے کے باوجود انکاری رہتے ہیں۔ شک و شبہ کی ممانعت کے بعد آیات رب کی تکذیب کی ممانعت ہوئی۔ پھر بدقسمت لوگوں کے ایمان سے ناامیدی دلائی گئی۔ جب تک کہ وہ عذاب نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ تو اس وقت ایمان لائیں گے جس وقت ایمان لانا بے سود ہوگا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے لیے اور فرعونیوں کے لیے یہی بد دعا کی تھی «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:88] ’ اے ہمارے رب! ان کے مالوں کو نیست و نابود کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے سو یہ ایمان نہ لانے پائیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب کو دیکھ لیں‘۔ «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:111] ’ ان کی جہالت اس درجے پر پہنچ چکی ہے کہ بالفرض ہم اپنے فرشتوں کو ان پر اتاریں، مردے ان سے بولیں ہر پوشیدہ چیز سامنے آ جائے جب بھی انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا ہاں مرضی مولیٰ اور چیز ہے ‘۔
97۔ 1 یہ وہی لوگ ہیں جو کفر و مصیت الٰہی میں اتنے غرق ہوچکے ہوتے ہیں کہ کوئی و عظ ان پر اثر نہیں کرتا اور کوئی دلیل ان کے کارگر نہیں ہوتی۔ اسلئے نافرمانیاں کرکے قبول حق کی فطری استعداد و صلاحیت کو وہ ختم کر لئے ہوتے ہیں، ان کی آنکھیں اگر کھلتی ہیں تو اس وقت، جب عذاب الٰہی ان کے سروں پر آجاتا ہے، تب وہ ایمان اللہ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا (فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا) (40۔ المومن۔ 85) ' جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے (اس وقت) ان کے ایمان نے انھیں کوئی فائدہ نہیں دیا۔
(آیت 97) {وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰيَةٍ …:} یعنی کوئی بھی نشانی یا معجزہ آ جائے، وہ ہر گز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ عذاب الیم دیکھ لیں، مگر اس وقت انھیں ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکے گا، جیسا کہ فرعون اور اس کی قوم کو کچھ فائدہ نہیں ہوا اور اسی طرح دوسرے پیغمبروں کی امتوں کے کفار کو اللہ کا عذاب دیکھنے پر ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ دیکھیے سورۂ مومن (۸۵) اس کی وجہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ اگر اس وقت ان کو چھوڑ دیا جائے تو وہ دوبارہ کفر کی روش پر چل نکلیں گے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۲۷، ۲۸)۔
پھر کیا ایسی کوئی مثال ہے کہ ایک بستی عذاب دیکھ کر ایمان لائی ہو اور اس کا ایمان اس کے لیے نفع بخش ثابت ہوا ہو؟ یونسؑ کی قوم کے سوا (اس کی کوئی نظیر نہیں) وہ قوم جب ایمان لے آئی تھی تو البتہ ہم نے اس پر سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ٹال دیا تھا اور اس کو ایک مدت تک زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دے دیا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
چنانچہ کوئی بستی ایمان نہ ﻻئی کہ ایمان ﻻنا اس کو نافع ہوتا سوائے یونس ﴿علیہ السلام﴾ کی قوم کے۔ جب وه ایمان لے آئے تو ہم نے رسوائی کے عذاب کو دنیوی زندگی میں ان پر سے ٹال دیا اور ان کو ایک وقت (خاص) تک کے لیے زندگی سے فائده اٹھانے (کا موقع) دیا
احمد رضا خان بریلوی
تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم، جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا
علامہ محمد حسین نجفی
قومِ یونس کے سوا کیوں کوئی ایسی بستی نہیں ہوئی جو (عذاب دیکھ کر) ایمان لائی ہو اور اس کے ایمان نے اسے فائدہ بھی پہنچایا ہو؟ جب وہ (قومِ یونس والے) ایمان لائے تو ہم نے اس دنیاوی زندگی میں ان سے رسوائی والا عذاب ٹال دیا اور ان کو ایک مدت تک زندگی کے سرو سامان سے فائدہ اٹھانے کی مہلت دے دی۔
عبدالسلام بن محمد
سو کوئی ایسی بستی کیوں نہ ہوئی جو ایمان لائی ہو، پھر اس کے ایمان نے اسے نفع دیا ہو، یونس کی قوم کے سوا، جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے ذلت کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹا دیا اور انھیں ایک وقت تک سامان دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
افسوس انسان نے اکثر حق کی مخالفت کی ٭٭
کسی بستی کے تمام باشندے کسی نبی علیہ السلام پر کبھی ایمان نہیں لائے، یا تو سب نے ہی کفر کیا یا اکثر نے۔ سورۃ یٰسین میں فرمایا «يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ» ۱؎ [36-یس:30] ’ بندوں پر افسوس ہے ان کے پاس جو رسول آئے انہوں نے ان کا مذاق اڑایا ‘۔ ایک آیت میں ہے «كَذَٰلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ» ۱؎ [51-الذاريات:52] ’ ان سے پہلے رسول آئے، انہیں لوگوں نے جادوگر یا مجنون کا ہی خطاب دیا ‘۔ «وَكَذَٰلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:23] ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب کو ان کی قوم کے سرکش ساہو کاروں نے یہی کہا کہ ہم نے تو اپنے بڑوں کو جس لکیر پر پایا اسی کے فقیر بنے رہیں گے ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھ پر انبیاء علیہم السلام پیش کئے گئے کسی نبی علیہ السلام کے ساتھ تو لوگوں کا ایک گروہ تھا۔ کسی کے ساتھ صرف ایک آدمی کوئی محض تنہا }۔ پھر آپ نے موسیٰ علیہ السلام کی امت کی کثرت کا بیان کیا۔ پھر اپنی امت کا، اس سے بھی زیادہ ہونا۔ زمین کے مشرق مغرب کی سمت کو ڈھانپ لینا بیان فرمایا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6541] الغرض تمام انبیاء علیہم السلام میں سے کسی کی ساری امت نے انہیں نبی نہیں مانا۔ سوائے اہل نینویٰ کے جو یونس علیہ السلام کی امت کے لوگ تھے۔ یہ بھی اس وقت جب نبی علیہ السلام کی زبان سے عذاب کی خبر معلوم ہوگئی، پھر اس کے ابتدائی آثار بھی دیکھ لیے۔ ان کے نبی علیہ السلام انہیں چھوڑ کر چلے بھی گئے۔ اس وقت یہ سارے کے سارے اللہ کے سامنے جھک گئے اس سے فریاد شروع کی، اس کی جناب میں عاجزی اور گریہ و زاری کرنے لگے، اپنی مسکینی ظاہر کرنے لگے۔ اور دامن رحمت سے لپٹ گئے۔ سارے کے سارے میدان میں نکل کھڑے ہوئے اپنی بیویوں، بچوں اور جانوروں کو بھی ساتھ اٹھا کر لے گئے۔ اور آنسوؤں کی جھڑیاں لگا کر اللہ تعالیٰ سے فریاد کرنے دعائیں مانگنے لگے کہ یا رب عذاب ہٹا لے۔ رحمت رب جوش میں آئی، پروردگار نے ان سے عذاب ہٹا لیا اور دنیا کی رسوائی کے عذاب سے انہیں بچا لیا۔
اور ان کی عمر تک کی انہیں مہلت دے دی اور اس دنیا کا فائدہ انہیں پہنچایا۔ یہاں جو فرمایا کہ ’ دنیا کا عذاب ان سے ہٹا لیا ‘۔ اس سے بعض نے کہا ہے کہ اُخروی عذاب دور نہیں۔ لیکن یہ ٹھیک نہیں اس لیے کے دوسری آیت میں ہے «وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ۱؎ [37-الصافات:147،148] ’ وہ ایمان لائے اور ہم نے انہیں زندگی کا فائدہ دیا ‘۔ اس سے ثابت ہوا کہ وہ ایمان لائے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ ایمان آخرت کے عذاب سے نجات دینے والا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت کا مطلب یہ ہے کہ کس بستی اہل کفر کا عذاب دیکھ لینے کے بعد ایمان لانا ان کے لیے نفع بخش ثابت نہیں ہوا۔ سوائے قوم یونس علیہ السلام کی قوم کے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے نبی علیہ السلام ان میں سے نکل گئے اور انہوں نے خیال کر لیا کہ اب اللہ کا عذاب آیا چاہتا ہے، اس وقت توبہ استغفار کرنے لگے ٹاٹ پہن کر خشوع و خضوع سے میلے کچیلے میدان میں آکھڑے ہوئے بچوں کو ماؤں سے دور کردیا۔ جانوروں کے تھنوں سے ان کے بچوں کو الگ کر دیا۔ اب جو رونا دھونا اور فریاد شروع کی تو چالیس دن رات اسی طرح گزار دیئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کی سچائی دیکھ لی۔ ان کی توبہ و ندامت قبول فرمائی اور ان سے عذاب دور کر دیا، یہ لوگ موصل کے شہر نینویٰ کے رہنے والے تھے۔ «فَلَوْلَا» کی «فَھَلَّا» قرأت بھی ہے ان کے سروں پر عذاب رات کی سیاہی کے ٹکڑوں کی طرح گھوم رہا تھا ان کے علماء نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ جنگل میں نکل کھڑے ہو اور اللہ سے دعا کرو کہ وہ ہم سے اپنے عذاب کو دور کر دے اور یہ کہو «يَا حَيُّ مُحْييْ الْـمَـوْتٰى يَا حَيُّ لَاۤ إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» قوم یونس کا پورہ قصہ سورۃ الصافات کی تفسیر میں ان شاءاللہ العزیز ہم بیان کریں گے۔
98۔ 1 لولا یہاں تحضیض کے لیے ھلا کے معنی میں ہے یعنی جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا، ان میں کوئی ایک بستی بھی ایسی کیوں نہ ہوئی جو ایسا ایمان لاتی جو اس کے لئے فائدہ مند ہوتا۔ ہاں صرف یونس ؑ کی قوم ایسی ہوئی ہے کہ جب وہ ایمان لے آئی تو اللہ نے ان سے عذاب دور کردیا مختصر پس منظر یہ کہ یونس ؑ نے جب دیکھا کہ ان کی تبلیغ و دعوت سے ان کی قوم متاثر نہیں ہو رہی تو انہوں نے قوم میں اعلان کیا کہ فلاں فلاں دن تم پر عذاب آجائے گا اور وہ خود وہاں سے نکل گئے۔ جب عذاب بادل کی طرح ان پر امڈ آیا تو وہ بچوں عورتوں سمیت ایک میدان میں جمع ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ و استفغار شروع کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی اور ان سے عذاب ٹال دیا۔ حضرت یونس ؑ آنے جانے والے مسافروں سے اپنی قوم کا حال معلوم کرتے رہتے تھے، انھیں جب معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم سے عذاب ٹال دیا ہے، تو انہوں نے اپنی تکذیب کے بعد اس قوم میں جانا پسند نہیں کیا بلکہ ان سے ناراض ہو کر وہ کسی اور طرف روانہ ہوگئے، جس پر وہ کشتی کا واقعہ پیش آیا (جس کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی) البتہ مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ قوم یونس ایمان کب لائی؟ عذاب دیکھ کر لائی جب کہ ایمان لانا نافع نہیں ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے اس قانون سے مستثنی کر کے اس کے ایمان کو قبول کرلیا۔ یا ابھی عذاب نہیں آیا تھا یعنی وہ مرحلہ نہیں آیا تھا کہ جب ایمان نافع نہیں ہوتا۔ لیکن قرآن کریم قوم یونس کا الا کے ساتھ جو استثنا کیا ہے وہ پہلی تفسیر کی تائید کرتا ہے۔ واللہ اعلم با الصواب۔ 98۔ 2 قرآن نے دنیاوی عذاب کے دور کرنے کی صراحت تو کی ہے، اخروی عذاب کی بابت صراحت نہیں کی، اس لیے بعض مفسرین کے خیال میں اخروی عذاب ان سے ختم نہیں کیا گیا۔ لیکن جب قرآن نے یہ وضاحت کردی کہ دنیاوی عذاب، ایمان لانے کی وجہ سے ٹالا گیا تھا، تو پھر اخروی عذاب کی بابت صراحت کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی ہے۔ کیونکہ اخروی عذاب کا فیصلہ تو ایمان اور عدم ایمان کی بنیاد پر ہی ہونا ہے۔ اگر ایمان لانے کے بعد قوم یونس اپنے ایمان پر قائم رہی ہوگی، تو یقینا وہ اخروی عذاب سے بھی محفوظ رہے گی۔ البتہ بصورت دیگر عذاب سے بچنا صرف دنیا ہی کی حد تک ہی ہوگا۔
(آیت 98) ➊ {فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِيْمَانُهَاۤ …:} یعنی کوئی ایسی بستی کیوں نہ ہوئی جو رسول کے عذاب سے ڈرانے پر ڈر جاتی اور عذاب آنے سے پہلے ایمان لے آتی، پھر اس کا ایمان اسے نفع دیتا، مگر ایسی کوئی بستی بھی نہ ہوئی، سب اس وقت ہی ایمان لائے جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ گیا، سوائے یونس علیہ السلام کی قوم کے کہ یونس علیہ السلام کے کئی سال دعوت دینے کے باوجود جب وہ ایمان نہ لائے تو یونس علیہ السلام نے ان پر عذاب کے لیے بددعا کی اور انھیں آگاہ کر دیا کہ تم پر عذاب آنے ہی والا ہے اور خود وہاں سے ناراض ہو کر نکل گئے۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۸۷) اور صافات (۱۴۰) قوم جانتی تھی کہ یونس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، ان کے نکل جانے سے وہ مزید ڈر گئے، اس لیے عذاب آنے سے پہلے ہی پوری بستی نے نہایت عاجزی کے ساتھ کفر سے توبہ کی اور یونس علیہ السلام پر ایمان لے آئے، اب یہ ایمان چونکہ بروقت تھا، عذاب دیکھنے سے پہلے تھا، اس لیے اس ایمان نے انھیں یہ نفع دیا کہ ان سے عذاب ہٹا لیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کی طبعی عمر تک دنیا کی زندگی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا۔ سورۂ صافات کی آخری آیات میں بھی ان کے ایمان لانے اور اس کے نافع ہونے کا ذکر ہے۔ ➋ یہ کفار قریش اور اہل کتاب کو تنبیہ ہے کہ تمھیں یونس علیہ السلام کی قوم سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور عذاب سے پہلے ایمان لے آنا چاہیے، نہ کہ آل فرعون اور دوسری برباد ہونے والی قوموں کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔ ➌ تفسیر قاسمی میں ہے کہ یہ بات کہ عذاب کے بادل پہنچ گئے تھے، اندھیرا چھا گیا تھا، پھر انھوں نے توبہ کی، قرآن و حدیث میں کہیں مذکور نہیں اور نہ ہی عذاب آنے کے بعد ٹلتا ہے۔
اگر تیرے رب کی مشیت یہ ہوتی (کہ زمین میں سب مومن و فرمانبردار ہی ہوں) تو سارے اہل زمین ایمان لے آئے ہوتے پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہو جائیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام روئے زمین کے لوگ سب کے سب ایمان لے آتے، تو کیا آپ لوگوں پر زبردستی کرسکتے ہیں یہاں تک کہ وه مومن ہی ہوجائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تمہارا رب چاہتا زمین میں جتنے ہیں سب کے سب ایمان لے آتے تو کیا تم لوگوں کو زبردستی کرو گے یہاں تک کہ مسلمان ہوجائیں
علامہ محمد حسین نجفی
اگر آپ کا پروردگار (جبراً) چاہتا تو روئے زمین کے سب لوگ ایمان لے آتے۔ تو کیا آپ لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ مؤمن ہو جائیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر تیرا رب چاہتا تو یقینا جو لوگ زمین میں ہیں سب کے سب اکٹھے ایمان لے آتے۔ تو کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا، یہاں تک کہ وہ مومن بن جائیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی حکمت سے کوئی آگاہ نہیں ٭٭
اللہ کی حکمت ہے کہ کوئی ایمان لائے اور کسی کو ایمان نصیب ہی نہ ہو۔ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» ۱؎ [11-هود:118-119] ’ ورنہ اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو تمام انسان ایماندار ہو جاتے۔ اگر وہ چاہتا تو سب کو اسی دین پر کار بند کر دیتا۔ لوگوں میں اختلاف تو باقی ہی نہ رہے۔ سوائے ان کے جن پر رب کا رحم ہو، انہیں اسی لیے پیدا کیا ہے، تیرے رب کا فرمان حق ہے کہ جہنم انسانوں اور جنوں سے پر ہوگی ‘۔ ’ کیا ایماندار ناامید نہیں ہوگئے؟ یہ کہ اللہ اگر چاہتا تو تمام لوگوں کو ہدایت کرسکتا تھا۔ یہ تو ناممکن ہے کہ تو ایمان ان کے دلوں کے ساتھ چپکا دے، یہ تیرے اختیار سے باہر ہے ‘۔ «أَفَلَمْ يَيْأَسِ الَّذِينَ آمَنُوا أَن لَّوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيعًا» ۱؎ [13-الرعد:31] ’ ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ ہے، تو ان پر افسوس اور رنج و غم نہ کر اگر یہ ایمان نہ لائیں تو تو اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کر دے گا؟ ‘ «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» ۱؎ [2-البقرة:272] ’ تو جسے چاہے راہ راست پر لا نہیں سکتا۔ یہ تو اللہ کے قبضے میں ہے ‘، «فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ’ تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے حساب ہم خود لے لیں گے ‘، «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» ۱؎ [88-الغاشية:21، 22] ’ تو تو نصیحت کر دینے والا ہے، ان پر داروغہ نہیں ‘۔ «مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» ۱؎ [35-فاطر:8] ’ جسے چاہے راہ راست دکھائے جسے چاہے گمراہ کر دے۔ اس کا علم اس کی حکمت اس کا عدل اسی کے ساتھ ہے ‘۔ «إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» ۱؎ [28-القص:56] ’ آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے ‘۔ اس کی مشیت کے بغیر کوئی بھی مومن نہیں ہوسکتا۔ وہ ان کو ایمان سے خالی، ان کے دلوں کو نجس اور گندہ کر دیتا ہے جو اللہ کی قدرت، اللہ کی برھان، اللہ کے احکام کی آیتوں میں غور فکر نہیں کرتے۔ عقل و سمجھ سے کام نہیں لیتے، وہ عادل ہے، حکیم ہے، اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں۔
99۔ 1 لیکن اللہ نے ایسا نہیں چاہا، کیونکہ یہ اس کی اس حکمت و مصلحت کے خلاف ہے، جسے مکمل طور پر وہی جانتا ہے۔ یہ اس لئے فرمایا کہ نبی کی شدید خواہش ہوتی تھی کہ سب مسلمان ہوجائیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ مشیت الٰہی جو حکمت بالغہ اور مصلحت راجحہ پر مبنی ہے، اس کا تقاضہ نہیں۔ اس لئے آگے فرمایا کہ آپ لوگوں کو زبردستی ایمان لانے پر کیسے مجبور کرسکتے ہیں؟ جب کہ آپ کے اندر اس کی طاقت ہے نہ اس کے آپ مکلف ہی ہیں۔
(آیت 99) ➊ {وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ …:} یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو فرشتوں کی طرح جنوں اور انسانوں کی فطرت بھی ایسی بنا دیتا کہ وہ کفر و نافرمانی کر ہی نہ سکتے، یا ان سب کے دل ایمان و طاعت کی طرف پھیر دیتا، لیکن اس طرح چونکہ جنوں اور انسانوں کو علیحدہ قسم کی حیثیت سے پیدا کرنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا۔ (دیکھیے ہود: ۱۱۸، ۱۱۹۔ فاطر: ۸) اس لیے اس نے اپنی مرضی سے ان کی فطرت میں یہ چیز رکھی ہے کہ وہ عقل سے کام لے کر چاہیں تو ایمان و طاعت کا راستہ اختیار کریں یا چاہیں تو کفر و نافرمانی کا۔ ➋ { اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ:} یعنی ایمان دل کا معاملہ ہے، اس پر کسی کو مجبور کیا جا سکتا ہی نہیں اور مجبور کرنا جائز بھی نہیں، فرمایا: «{ لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ }» [ البقرۃ: ۲۵۶ ] ”دین میں کوئی زبردستی نہیں۔“ اگر آپ کسی کو زبردستی مسلمان بنا بھی لیں تو دل کی کیا ضمانت ہے کہ اس میں بھی ایمان آ چکا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازراہ شفقت یہ زبردست خواہش تھی کہ اللہ کے سب بندے ایمان لے آئیں، اس لیے اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہہ کر تسلی دی گئی کہ یہ چونکہ ہونے والی بات نہیں، اس لیے آپ کیوں اپنے آپ کو رنج و کرب میں مبتلا کرتے ہیں؟
کوئی متنفس اللہ کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لا سکتا، اور اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ ان پر گندگی ڈال دیتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
حاﻻنکہ کسی شخص کا ایمان ﻻنا اللہ کے حکم کے بغیر ممکن نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ بے عقل لوگوں پر گندگی ڈال دیتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کسی جان کی قدرت نہیں کہ ایمان لے آئے مگر اللہ کے حکم سے اور عذاب ان پر ڈالنا ہے جنہیں عقل نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
کوئی بھی متنفس ایسا نہیں ہے جو اللہ کے اذن کے بغیر ایمان لے آئے اور اللہ ان لوگوں پر (کفر و شرک) کی نجاست ڈال دیتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے۔
عبدالسلام بن محمد
اورکسی شخص کے لیے ممکن نہیں کہ ایمان لائے مگر اللہ کے اذن سے اور وہ گندگی ان لوگوں پر ڈالتا ہے جو نہیں سمجھتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی حکمت سے کوئی آگاہ نہیں ٭٭
اللہ کی حکمت ہے کہ کوئی ایمان لائے اور کسی کو ایمان نصیب ہی نہ ہو۔ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» ۱؎ [11-هود:118-119] ’ ورنہ اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو تمام انسان ایماندار ہو جاتے۔ اگر وہ چاہتا تو سب کو اسی دین پر کار بند کر دیتا۔ لوگوں میں اختلاف تو باقی ہی نہ رہے۔ سوائے ان کے جن پر رب کا رحم ہو، انہیں اسی لیے پیدا کیا ہے، تیرے رب کا فرمان حق ہے کہ جہنم انسانوں اور جنوں سے پر ہوگی ‘۔ ’ کیا ایماندار ناامید نہیں ہوگئے؟ یہ کہ اللہ اگر چاہتا تو تمام لوگوں کو ہدایت کرسکتا تھا۔ یہ تو ناممکن ہے کہ تو ایمان ان کے دلوں کے ساتھ چپکا دے، یہ تیرے اختیار سے باہر ہے ‘۔ «أَفَلَمْ يَيْأَسِ الَّذِينَ آمَنُوا أَن لَّوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيعًا» ۱؎ [13-الرعد:31] ’ ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ ہے، تو ان پر افسوس اور رنج و غم نہ کر اگر یہ ایمان نہ لائیں تو تو اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کر دے گا؟ ‘ «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» ۱؎ [2-البقرة:272] ’ تو جسے چاہے راہ راست پر لا نہیں سکتا۔ یہ تو اللہ کے قبضے میں ہے ‘، «فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ’ تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے حساب ہم خود لے لیں گے ‘، «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» ۱؎ [88-الغاشية:21، 22] ’ تو تو نصیحت کر دینے والا ہے، ان پر داروغہ نہیں ‘۔ «مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» ۱؎ [35-فاطر:8] ’ جسے چاہے راہ راست دکھائے جسے چاہے گمراہ کر دے۔ اس کا علم اس کی حکمت اس کا عدل اسی کے ساتھ ہے ‘۔ «إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» ۱؎ [28-القص:56] ’ آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے ‘۔ اس کی مشیت کے بغیر کوئی بھی مومن نہیں ہوسکتا۔ وہ ان کو ایمان سے خالی، ان کے دلوں کو نجس اور گندہ کر دیتا ہے جو اللہ کی قدرت، اللہ کی برھان، اللہ کے احکام کی آیتوں میں غور فکر نہیں کرتے۔ عقل و سمجھ سے کام نہیں لیتے، وہ عادل ہے، حکیم ہے، اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں۔
10۔ 1 گندگی سے مراد عذاب یا کفر ہے۔ یعنی جو لوگ اللہ کی آیات پر غور نہیں کرتے، وہ کفر میں مبتلا رہتے ہیں اور یوں عذاب کے مستحق قرار پاتے ہیں۔
(آیت 100) ➊ { وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ:} یعنی جس طرح تکوینی طور پر دنیا کی کوئی نعمت کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی، یعنی دنیا کی نعمتوں میں بھی اگرچہ آدمی کی محنت کا دخل ہے، مگر اللہ کے اذن کے بغیر کوئی محنت نہ ہو سکتی ہے اور نہ نتیجہ خیز ہو سکتی ہے۔ اسی طرح کسی شخص کو ایمان کی نعمت حاصل ہونے یا نہ ہونے کا انحصار بھی اللہ کے اذن پر ہے۔ کوئی شخص اس نعمت کو نہ خود پا سکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کو عطا کر سکتا ہے، اس لیے اگر نبی چاہے بھی کہ تمام لوگوں کو مومن بنا دے تو نہیں بنا سکتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب، نوح علیہ السلام کا بیٹا اور نوح اور لوط علیہما السلام کی بیویاں اس کی مثال ہیں، اسی طرح بت گر آزر کا بیٹا ابراہیم، فرعون کی بیوی آسیہ، ابوجہل کا بیٹا عکرمہ اللہ کے اپنی مرضی سے ایمان کی نعمت عطا کرنے کی مثالیں ہیں۔ ➋ { وَ يَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ:} یعنی اگرچہ ایمان کی توفیق دینے یا نہ دینے کا کلی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، مگر اس کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ اس نعمت سے انھی لوگوں کو محروم رکھتا ہے اور انھی کو کفر و شرک کی نجاست میں پڑے رہنے کے لیے چھوڑتا ہے جو اس کی عطا کردہ عقل سے کام نہیں لیتے اور جس راستے پر اپنے باپ دادا کو چلتے دیکھتے ہیں اسی پر آنکھیں بند کرکے چلتے رہنا پسند کرتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۶، ۲۷)۔