بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يونس — Surah Yunus
آیت نمبر 75
کل آیات: 109
قرآن کریم يونس آیت 75
آیت نمبر: 75 — سورۃ يونس islamicurdubooks.com ↗
ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ مُّوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسۡتَکۡبَرُوۡا وَ کَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿۷۵﴾
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰؑ اور ہارونؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا، مگر انہوں نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ مجرم لوگ تھے
پھر ان پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو، فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا۔ سو انہوں نے تکبر کیا اور وه لوگ مجرم قوم تھے
پھر ان کے بعد ہم نے موسٰی اور ہارون کو فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف اپنی نشانیاں دے کر بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے،
پھر ہم نے ان (رسولوں) کے بعد موسیٰ (ع)و ہارون (ع)کو اپنی نشانیوں (معجزوں) کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ لوگ (عادی) مجرم تھے۔
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف اپنی نشانیاں دے کر بھیجا تو انھوں نے بہت تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔ لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [27-النمل:14] ‏‏‏‏ حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود داری اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو؟ کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں؟ ان پر اس نصیحت نے بھی اُلٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک بن جاؤ۔ سو بکتے رہو ہم تو تمہاری ماننے کے نہیں۔ اس قصے کو قرآن کریم میں باربار دہرایا گیا ہے، اس لیے کہ یہ عجیب و غریب قصہ ہے۔ فرعون موسیٰ علیہ السلام سے بہت ڈرتا بچتا رہا۔ لیکن قدرت نے موسیٰ علیہ السلام کو اسی کے ہاں پلوایا اور شاہزادوں کی طرح عزت کے گہوارے میں جھلایا۔ جب جوانی کی عمر کو پہنچے تو ایک ایسا سبب کھڑا کر دیا کہ یہاں سے آپ چلے گئے۔ پھر جناب باری نے ان سے خود کلام کیا۔ نبوت و رسالت دی اور اسی کے ہاں پھر بھیجا۔ فقط ایک ہارون علیہ السلام کو ساتھ دے کر آپ علیہ السلام نے یہاں آکے اس عظیم الشان سلطان کے رعب و دبدبے کی کوئی پرواہ نہ کر کے اسے دین حق کی دعوت دی۔ اس سرکش نے اس پر بہت برا منایا اور کمینہ پن پر اتر آیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں رسولوں کی خود ہی حفاظت کی وہ وہ معجزات اپنے نبی کے ہاتھوں میں ظاہر کئے کہ ان کے دل ان کی نبوت مان گئے۔ لیکن تاہم ان کا نفس ایمان پر آمادہ نہ ہوا اور یہ اپنے کفر سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوئے۔ «فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [6-الأنعام:45] ‏‏‏‏ ’ آخر اللہ کا عذاب آہی گیا اور ان کی جڑیں کاٹ دی گئیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ‘۔

📖 احسن البیان

75۔ 1 رسولوں کے عمومی ذکر کے بعد، حضرت موسیٰ و ہارون علیہا اسلام کا ذکر کیا جا رہا ہے، درآنحالیکہ رسول کے تحت میں وہ بھی آجاتے ہیں۔ لیکن چونکہ ان کا شمار جلیل القدر رسولوں میں ہوتا ہے اس لئے خصوصی طور پر ان کا الگ ذکر فرما دیا۔ 75۔ 2 حضرت موسیٰ ؑ کے معجزات، بالخصوص نو آیات بینات، جن کا ذکر اللہ نے سورت نبی اسرائیل آیت 11 میں کیا ہے۔ مشہور ہیں۔ 75۔ 3 لیکن چونکہ وہ بڑے بڑے جرائم اور گناہوں کے عادی تھے۔ اس لئے انہوں نے اللہ کے بھیجے ہوئے رسول کے ساتھ بھی استکبار کا معاملہ کیا۔ کیونکہ ایک گناہ، دوسرے گناہ کا ذریعہ بنتا اور گناہوں پر اصرار بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کی جرّات پیدا کرتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 75) {ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ …:} یہ دوسرا قصہ موسیٰ و ہارون علیہما السلام کی قوم کا ہے جو غرق ہونے میں نوح علیہ السلام کی قوم کی مثال ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ قریش آپ کو جادوگر کہہ رہے ہیں (یہ کوئی نئی بات نہیں، جو شخص یا قوم بھی دلیل سے لاجواب ہو جائے وہ اسے جادو کہہ کر جان چھڑاتے ہیں) مگر ان میں سے بعض تو ان جادوگروں کی طرح ایمان لے آئیں گے اور جو اپنے کفر پر اڑے رہے وہ فرعون اور اس کی قوم کی طرح تباہ و برباد ہوں گے۔ {”آيَاتٌ“} سے مراد وہ نو(۹) معجزے ہیں جو سورۂ بنی اسرائیل (۱۰۱) میں ذکر ہوئے ہیں۔
← پچھلی آیت (74) پوری سورۃ اگلی آیت (76) →