ا ل ر، یہ اُس کتاب کی آیات ہیں جو حکمت و دانش سے لبریز ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
الرٰ۔ یہ پرحکمت کتاب کی آیتیں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
الف، لام، را۔ یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
الر۔ یہ کمال حکمت والی کتاب کی آیات ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عقل زدہ کافر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
کافروں کو اس پر بڑا تعجب ہوتا تھا کہ ایک انسان اللہ کا رسول بن جائے، کہتے تھے کہ «فَقَالُوا أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا» ۱؎ [64-التغابن:6] ’ کیا بشر ہمارا ہادی ہوگا؟ ‘ حضرت ہود علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:63-69] ’ کیا تمہیں یہ کوئی انوکھی بات لگتی ہے کہ تم میں سے ہی ایک شخص پر تمہارے رب کی وحی نازل ہوئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے ‘۔ کفار قریش نے بھی کہا تھا کہ «أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَـٰهًا وَاحِدًا إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ» ۱؎ [38-ص:5] ’ کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کے بجائے ایک ہی اللہ مقرر کر دیا؟ یہ تو بڑے ہی تعجب کی بات ہے ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے بھی انہوں نے صاف انکار کر دیا اور انکار کی وجہ یہی پیش کی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے ایک انسان پر اللہ کی وحی کا آنا ہی نہیں مان سکتے۔ اس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ سچے پائے سے مراد سعادت اور نیکی کا ذکر ہے۔ بھلائیوں کا اجر ہے۔ ان کے نیک کام ہیں۔ مثلاً نماز روزہ صدقہ تسبیح۔ اور ان کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت الغرض ان کی سچائی کا ثبوت اللہ کو پہنچ چکا ہے۔ ان کے نیک اعمال وہاں جمع ہیں۔ یہ سابق لوگ ہیں۔ عرب کے شعروں میں بھی قدیم کا لفظ ان معنوں میں بولا گیا ہے۔ جو رسول ان میں ہے وہ بشیر بھی ہے، نذیر بھی ہے، لیکن کافروں نے اسے جادوگر کہہ کر اپنے جھوٹ پر مہر لگا دی۔
الر یہ پُر حکمت کتاب کی آیتیں ہیں (1)
سورۃ یونس (آیت 1) ➊ { الٓرٰ:} یہ حروف مقطعات ہیں، تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی پہلی آیت۔ ➋ {تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ: ” تِلْكَ “ } اسم اشارہ ہے، مشار الیہ {” اَلْآيَاتُ “} مقدر ہے۔ مراد قرآن مجید کی تمام آیات ہیں جن میں ہماری یہ سورت بھی شامل ہے، یعنی یہ عظیم الشان آیات کتاب حکیم کی آیات ہیں۔ {” الْحَكِيْمِ “} (کمال حکمت والی) کا ایک مطلب یہ ہے کہ یہ دانائی اور حکمت سے بھری ہوئی ہے، اس کی کوئی بات نہ خطا ہے، نہ عقل کے خلاف اور نہ کمتر درجہ کی، بلکہ ہر بات ہی کمال عقل و دانش پر مبنی ہے اور ایک معنی یہ ہے کہ یہ کتاب انتہائی محکم اور مضبوط ہے، اس کی آیات میں کوئی باہمی اختلاف نہیں، نہ ہی اس کے حلال و حرام اور حدود و احکام کبھی منسوخ ہوں گے، یعنی حکیم بمعنی محکم ہے۔
کیا لوگوں کے لیے یہ ایک عجیب بات ہو گئی کہ ہم نے خود اُنہی میں سے ایک آدمی کو اشارہ کیا کہ (غفلت میں پڑے ہوئے) لوگوں کو چونکا دے اور جو مان لیں ان کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اُن کے رب کے پاس سچی عزت و سرفرازی ہے؟ (کیا یہی وہ بات ہے جس پر) منکرین نے کہا کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کے پاس وحی بھیج دی کہ سب آدمیوں کو ڈرائیے اور جو ایمان لے آئے ان کو یہ خوشخبری سنائیے کہ ان کے رب کے پاس ان کو پورا اجر ومرتبہ ملے گا۔ کافروں نے کہا کہ یہ شخص تو بلاشبہ صریح جادوگر ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا لوگوں کو اس کا اچنبا ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک مرد کو وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈر سناؤ اور ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس سچ کا مقام ہے، کافر بولے بیشک یہ تو کھلا جادوگر ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا یہ بات لوگوں کے لئے تعجب کا باعث ہے کہ ہم نے خود انہی میں سے ایک آدمی پر وحی بھیجی کہ (بے ایمان اور بدکردار لوگوں کو) ڈراؤ۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو۔ کہ ان کے لیے ان کے پروردگار کے ہاں اچھا مقام و مرتبہ ہے (لیکن) کافروں نے کہا کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا لوگوں کے لیے ایک عجیب بات ہوگئی کہ ہم نے ان میں سے ایک آدمی کی طرف وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈرا اور جو لوگ ایمان لائے انھیں بشارت دے کہ ان کے لیے ان کے رب کے ہاں سچا مرتبہ ہے۔ کافروں نے کہا بے شک یہ تو کھلا جادوگر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عقل زدہ کافر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
کافروں کو اس پر بڑا تعجب ہوتا تھا کہ ایک انسان اللہ کا رسول بن جائے، کہتے تھے کہ «فَقَالُوا أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا» ۱؎ [64-التغابن:6] ’ کیا بشر ہمارا ہادی ہوگا؟ ‘ حضرت ہود علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:63-69] ’ کیا تمہیں یہ کوئی انوکھی بات لگتی ہے کہ تم میں سے ہی ایک شخص پر تمہارے رب کی وحی نازل ہوئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے ‘۔ کفار قریش نے بھی کہا تھا کہ «أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَـٰهًا وَاحِدًا إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ» ۱؎ [38-ص:5] ’ کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کے بجائے ایک ہی اللہ مقرر کر دیا؟ یہ تو بڑے ہی تعجب کی بات ہے ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے بھی انہوں نے صاف انکار کر دیا اور انکار کی وجہ یہی پیش کی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے ایک انسان پر اللہ کی وحی کا آنا ہی نہیں مان سکتے۔ اس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ سچے پائے سے مراد سعادت اور نیکی کا ذکر ہے۔ بھلائیوں کا اجر ہے۔ ان کے نیک کام ہیں۔ مثلاً نماز روزہ صدقہ تسبیح۔ اور ان کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت الغرض ان کی سچائی کا ثبوت اللہ کو پہنچ چکا ہے۔ ان کے نیک اعمال وہاں جمع ہیں۔ یہ سابق لوگ ہیں۔ عرب کے شعروں میں بھی قدیم کا لفظ ان معنوں میں بولا گیا ہے۔ جو رسول ان میں ہے وہ بشیر بھی ہے، نذیر بھی ہے، لیکن کافروں نے اسے جادوگر کہہ کر اپنے جھوٹ پر مہر لگا دی۔
2۔ 1 استفہام انکار تعجب کے لئے ہے، جس میں توبیخ کا پہلو بھی شامل ہے یعنی اس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سے ہی ایک آدمی کو وحی و رسالت کے لئے چن لیا، کیونکہ ان کے ہم جنس ہونے کی وجہ سے وہ صحیح معنوں میں انسان کی رہنمائی کرسکتا ہے۔ اگر وہ کسی اور جنس سے ہوتا تو فرشتہ یا جن ہوتا اور وہ دونوں ہی صورتوں میں رسالت کا اصل مقصد فوت ہوجاتا، اس لئے کہ انسان اس سے مانوس ہونے کی بجائے وحشت محسوس کرتا دوسرے، ان کے لئے اس کو دیکھنا بھی ممکن نہ ہوتا اور اگر ہم کسی جن یا فرشتے کا انسانی قالب میں بھیجتے تو پھر وہی اعتراض آتا کہ یہ تو ہماری طرح کا ہی انسان ہے۔ اس لئے ان کے اس تعجب میں کوئی معقولیت نہیں ہے۔ 2۔ 2 (قَدَمَ صِدْقٍ) کا مطلب، بلند مرتبہ، اجر حسن اور وہ اعمال صالحہ ہیں جو ایک مومن آگے بھیجتا ہے۔ 2۔ 3 کافروں کو جب انکار کے لئے بات نہیں سوجھتی تو یہ کہہ کر چھٹکارہ حاصل کرلیتے ہیں کہ یہ تو جادوگر ہے۔ نعوذ با للہ۔
(آیت 2) ➊ {اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا …:} یعنی آخر اس میں تعجب اور حیرت کی کون سی بات ہے کہ انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے اور فلاح و سعادت کی راہ دکھانے کے لیے خود انھی میں سے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیج دیا گیا؟ تعجب کی بات تو تب ہوتی کہ ان کا پروردگار ان کی ہدایت کا کوئی سامان نہ کرتا، یا ان میں کسی جن یا فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتا، کیونکہ فرشتہ یا جن انسانوں کے لیے نمونۂ عمل بن ہی نہیں سکتا۔ مزید دیکھیے سورۂ توبہ (۱۲۸) اور آل عمران (۱۶۴) کی تفسیر۔ ➋ { اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ …: ” قَدَمٌ “ } کا معنی تو ظاہر ہے، دوسروں سے آگے وہی نکلتا ہے جس کا قدم دوڑ میں سب سے آگے نکل جائے، اس لیے{ ” قَدَمٌ “} کا معنی پیش قدمی بھی کرتے ہیں۔ درجے اور مرتبے کی بلندی بھی آگے نکلنے ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ {” صِدْقٍ “} (سچ) مبالغہ کے لیے مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، یعنی اتنا سچا کہ سراپا سچ ہے، جیسے {” زَيْدٌ عَدْلٌ“ ” أَيْ زَيْدٌ عَادِلٌ “} گویا زید سراپا عدل ہے۔ صدق قول میں بھی ہوتا ہے اور فعل میں بھی۔ {” قَدَمَ “} (موصوف) اپنی صفت{ ” صِدْقٍ “ } کی طرف مضاف ہے، جیسا کہ {” مَسْجِدُ الْجَامِعِ“} معنی یہ ہوا کہ ایمان والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں حقیقی پیش قدمی اور سچا مرتبہ ہے، کفار اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھے ہی نہیں بلکہ شرک و کفر میں ایسے اندھے ہوئے کہ وہ شخص جس کی چالیس سالہ زندگی کے صدق و امانت کے وہ خود شاہد تھے اس پر ایمان لانے کے بجائے ضد اور عناد سے اسے جادوگر کہہ دیا، ایسے اندھوں اور بہروں کو رب تعالیٰ کے ہاں حقیقی پیش قدمی اور سچا مرتبہ کیسے حاصل ہو سکتا تھا۔ سو وہ آگے بڑھنے کے بجائے جہنم میں گرنے کے لیے پیچھے رہ گئے۔ چونکہ ان کا آپ کو جادوگر قرار دینا بالکل ہی بودی بات تھی، اس لیے اس کا جواب دینے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی گئی۔ ➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جادوگر قرار دینے سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ ان کے دماغ یہ مان گئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام آدمی نہیں۔ مگر ان کی بدبختی دیکھیے کہ وہ جادوگروں کی غلیظ اور خبیث زندگی اور بد عادات سے خوب واقف ہونے کے باوجود سب سے زیادہ امین، راست باز، پاک دامن اور صاحب عقل و دانش انسان کو محض ہٹ دھرمی کی بنا پر جادوگر کہہ رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر تخت حکومت پر جلوہ گر ہوا اور کائنات کا انتظام چلا رہا ہے کوئی شفاعت (سفارش) کرنے والا نہیں اِلّا یہ کہ اس کی اجازت کے بعد شفاعت کرے یہی اللہ تمہارا رب ہے لہٰذا تم اُسی کی عبادت کرو پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
بلاشبہ تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کردیا پھر عرش پر قائم ہوا وه ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی اس کے پاس سفارش کرنے واﻻ نہیں ایسا اللہ تمہارا رب ہے سو تم اس کی عبادت کرو، کیا تم پھر بھی نصیحت نہیں پکڑتے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے کام کی تدبیر فرما تا ہے کوئی سفارشی نہیں مگر اس کی اجازت کے بعد یہ ہے اللہ تمہارا رب تو اس کی بندگی کرو تو کیا تم دھیان نہیں کرتے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک تمہارا پروردگار اللہ ہے۔ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دنوں میں پیدا کیا ہے۔ پھر عرش پر غالب ہوا وہی (کائنات کے) ہر کام کی تدبیر اور اس کا بندوبست کرتا ہے اس کی بارگاہ میں کوئی سفارشی نہیں ہو سکتا مگر اس کی اجازت کے بعد۔ یہ ہے اللہ تمہارا پروردگار پس اسی کی عبادت کرو کیا تم غور و فکر نہیں کرتے (اور نصیحت قبول نہیں کرتے)۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک تمھارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا۔ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔ کوئی سفارش کرنے والا نہیں مگر اس کی اجازت کے بعد، وہی اللہ تمھارا رب ہے، سو اس کی عبادت کرو۔ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق کائنات کی قرآنی روداد ٭٭
تمام عالم کا رب وہی ہے۔ آسمان و زمین کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے۔ یا تو ایسے ہی معمولی دن یا ہر دن یہاں کی گنتی سے ایک ہزار دن کے برابر کا، پھر عرش پر وہ مستوی ہوگیا، جو سب سے بڑی مخلوق ہے اور ساری مخلوق کی چھت ہے، جو سرخ یاقوت کا ہے، جو نور سے پیدا شدہ ہے۔ یہ قول غریب ہے۔ وہی تمام مخلوق کا انتظام کرتا ہے «لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ» [34-السبأ:3] ’ اس سے کوئی زمین و آسمان کا کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں ‘، اسے کوئی کام مشغول نہیں کر لیتا، وہ سوالات سے اکتا نہیں سکتا۔ مانگنے والوں کی پکار اسے حیران نہیں کر سکتی۔ «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [11-ھود:6] ’ ہر چھوٹے بڑے کا، ہر کھلے چھپے کا، ہر ظاہر باہر کا، پہاڑوں میں سمندروں میں، آبادیوں میں، ویرانوں میں وہی بندوبست کر رہا ہے ہر جاندار کا روزی رساں وہی ہے ‘۔ «وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا وَلاَ حَبَّةٍ فِى ظُلُمَـتِ الاٌّرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [6-الأنعام:59] ’ ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے۔، زمین کے اندھیروں کے دانوں کی اس کو خبر ہے، ہر تر و خشک چیز کھلی کتاب میں موجود ہے ‘۔ کہتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے وقت لشکر کا لشکر مثل عربوں کے جاتا دیکھا گیا، ان سے پوچھا گیا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا ہم جنات ہیں۔ ہمیں مدینے سے ان آیتوں نے نکالا ہے، کوئی نہیں جو اس کی اجازت بغیر سفارش کر سکے، «مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ» ۱؎ [2-البقرہ:255] ’ کون جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے ‘۔
«وَكَمْ مِّن مَّلَكٍ فِى السَّمَـوَتِ لاَ تُغْنِى شَفَـعَتُهُمْ شَيْئاً إِلاَّ مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَى» ۱؎ [53-النجم:26] ’ آسمان کے فرشتے بھی اس کی اجازت کے بغیر زبان نہیں کھولتے۔ اسی کو شفاعت نفع دیتی ہے جس کے لیے اجازت ہو ‘۔ یہی اللہ تم سب مخلوق کا پالنہار ہے۔ تم اسی کی عبادت میں لگے رہو۔ اسے واحد اور لاشریک مانو۔ مشرکو! اتنی موٹی بات بھی تم نہیں سمجھ سکتے؟ جو اس کے ساتھ دوسروں کو پوجتے ہو حالانکہ جانتے ہو کہ خالق مالک وہی اکیلا ہے۔ اس کے وہ خود قائل تھے۔ زمین آسمان اور عرش عظیم کا رب اسی کو مانتے تھے۔
3۔ 1 اس کی وضاحت کے لئے دیکھئے سورة اعراف آیت 54 کا حاشیہ۔ 3۔ 2 یعنی آسمان و زمین کی تخلیق کرکے اس نے ان کو یوں ہی نہیں چھوڑ دیا، بلکہ ساری کائنات کا نظم و تدبیر وہ اس طرح کر رہا ہے کہ کبھی کسی کا آپس میں تصادم نہیں ہوا، ہر چیز اس کے حکم پر اپنے اپنے کام میں مصروف ہے۔ 3۔ 3 مشرکین و کفار، جو اصل ' مخاطب تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ یہ بت، جن کی وہ عبادت کرتے تھے اللہ کے ہاں ان کی شفاعت کریں گے اور ان کو اللہ کے عذاب سے چھڑوائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، وہاں اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کو سفارش کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اور یہ اجازت بھی صرف انہی لوگوں کے لئے ہوگی جن کے لئے اللہ تعالیٰ پسند فرمائے گا۔ 3۔ 4 یعنی ایسا اللہ، جو کائنات کا خالق بھی ہے اس کا مدبر و منتطم بھی علاوہ ازیں تمام اختیارات کا بھی کلی طرح پر وہی مالک ہے، وہی اس لائق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔
(آیت 3) ➊ {اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ …:} نبوت کے اثبات کے بعد توحید و قیامت کے دلائل شروع ہوتے ہیں۔ توحید کی پہلی اور اظہر من الشمس دلیل جو قرآن بار بار بیان کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا آسمان و زمین اور ہر چیز کا خالق و مالک، رب اور مدبر ہونا ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱، ۲۲) یہ بات مکہ کے مشرک بھی مانتے تھے۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۸۴ تا ۸۹) جب رب وہی ہے تو عبادت کسی اور کی کیوں کی جائے۔ اس آیت میں اور دوسرے بہت سے مقامات پر اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور دوسری صفات کو اس کے واحد معبود برحق ہونے کی دلیل بنایا ہے۔ ➋ { فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ:} اس آیت میں دہر یہ کا بھی رد ہے جو رب تعالیٰ کے وجود ہی کے منکر ہیں، جب معمولی سے معمولی چیز بنانے والے کے بغیر نہیں بنتی تو سمجھ لو کہ اتنی بڑی کائنات اور اس کا عظیم الشان نظام، جس میں کوئی حادثہ یا تصادم نہیں، اسے بنانے والا تمھارا رب ہی ہے۔ چھ دنوں سے مراد یا تو وہ دن ہیں جن میں سے ایک دن ہمارے ہزار سال کے برابر ہے، فرمایا: «{وَ اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ }» [ الحج: ۴۷ ] ”اور بے شک ایک دن تیرے رب کے ہاں ہزار سال کے برابر ہے، اس گنتی سے جو تم شمار کرتے ہو۔“ یا ہمارے چھ دنوں کے برابر مدت مراد ہے، کیونکہ یہ دن رات تو سورج کی پیدائش کے بعد وجود میں آئے۔ (واللہ اعلم) اس سے اللہ تعالیٰ کی حکمت تدریج بھی ظاہر ہو رہی ہے، کیونکہ وہ چاہتا تو سب کچھ ایک لمحے میں{”كُنْ“ } کہہ کر پیدا فرما لیتا، مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہی تھا کہ زمین و آسمان کو مرحلہ وار پیدا فرمائے۔ اس میں ہمارے لیے بھی ہر کام آرام و اطمینان کے ساتھ کرنے کا سبق ہے۔ کائنات کی اکثر اشیاء پر غور کریں تو وہ چھ مرحلوں سے گزر کر مکمل ہوئی ہیں، مثلاً انسان کی پیدائش کے لیے دیکھیے سورۂ مومنون (۱۲ تا ۱۴)۔ ➌ { ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ …: } پھر عر ش پر بلند ہوا اور وہاں رہ کر اسے کائنات کی تدبیر کا مرکز بنایا۔ نیز دیکھیے سورۂ اعراف (۵۴) {” يُدَبِّرُ الْاَمْرَ “} سے معلوم ہوا کہ پیدا کرنے کے بعد اس کا سارا اختیار اور تدبیر و انتظام بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ مشرکین نے اختیار کچھ اور ہستیوں کے پاس سمجھ لیا، بھلا پیدا کرنے کے بعد اپنی ملکیت و اختیار کسی دوسرے کو کون دیتا ہے، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ملکیت و اختیار بے بس مخلوق کو دے دے جو اپنا آپ نہیں سنبھال سکتی، حقیقت یہی ہے کہ مشرک سے بڑھ کر بے عقل کوئی نہیں ہو سکتا۔ دیکھیے سورۂ روم (۲۸)۔ ➍ {مَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ:} کفار اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کا خیال تھا اور ہے کہ کچھ ہستیاں ایسی ہیں جو مالک تو نہیں، مگر وہ اللہ تعالیٰ سے جو چاہیں کروا سکتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کو ان کی محبت کے ہاتھوں یا ان کی غیبی قوت سے مجبور ہو کر ان کی بات اور سفارش ماننا پڑتی ہے۔ اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کے بجائے ان سے التجائیں کرتے اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی صاف نفی فرما دی۔ ہاں، خود اللہ تعالیٰ کسی کو عزت بخشنے کے لیے اسے سفارش کی اجازت دے دے تو وہ سفارش کر سکے گا، مگر صرف اس کے لیے جس کے حق میں اجازت ملے گی۔ اس میں اس کا اپنا اختیار کچھ بھی نہیں ہو گا۔ یہ مضمون کہ اللہ تعالیٰ کے حضور کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر شفاعت نہیں کر سکے گا قرآن مجید کی متعدد آیات میں بیان ہوا ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۵۵)، طہ (۱۰۹)، سبا (۲۳) اور نجم (۲۶) بعض مقامات پر اللہ تعالیٰ نے سرے سے شفاعت ہی کی نفی کی ہے، جیسے فرمایا: «{ فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَ }» [ المدثر: ۴۸ ] ”پس انھیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہیں دے گی۔“ اور فرمایا: «{ وَ لَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ }» [ البقرۃ: ۴۸، ۱۲۳] ”اور کسی جان سے کوئی سفارش قبول نہ کی جائے گی۔“ وہاں یا تو کفار کا ذکر ہے کہ ان کی سفارش فائدہ نہیں دے گی، یا اجازت کے بغیر سفارش مراد ہے، ورنہ امت کے گناہ گاروں کے حق میں شفاعت تو صحیح احادیث سے ثابت ہے اور یہ بھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ {”اِلَّا بِاِذْنِهٖ “} والی آیات سے بھی یہ شفاعت ثابت ہو رہی ہے، مگر یہ شفاعت اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد ہی ہو گی۔ ➎ {فَاعْبُدُوْهُ: } عبادت کا معنی ”پوجا کرنا“ بھی ہے اور پوری زندگی ”عبد “ یعنی اس کا فرماں بردار غلام (بندہ) بن کر گزارنے کو بھی عبادت کہا جاتا ہے اور حاجت روائی کے لیے کسی غیبی قوت کے پکارنے کو بھی عبادت کہا جاتا ہے۔ قرآن نے ہر قسم کی عبادت کو اللہ کے ساتھ خاص کیا ہے، پس {” فَاعْبُدُوْهُ “} کے معنی ہیں اسی کی پوجا کرو، اسی کو مشکلات دور کرنے کے لیے پکارو اور پوری زندگی اسی کی بندگی (غلامی) میں بسر کرو۔ زندگی کے کسی شعبہ میں بھی اگر تم کسی اور کی بندگی اختیار کرو گے تو گویا اسے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شریک ٹھہراؤ گے۔ ➏ { اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ:} یہ اصل میں {” تَتَذَكَّرُوْنَ “} تھا، یہاں فکر کے بجائے ذکر کی دعوت دی ہے۔ ذکر یاد کرنے کو کہتے ہیں، نصیحت کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ مقصد ہے کہ اللہ واحد ہی کو عبادت کے لائق سمجھنے کے لیے لمبی چوڑی فکر اور سوچ کی ضرورت نہیں، جو کچھ تمھارے گردوپیش ہے اور جو کچھ تمھارے ذہن میں موجود ہے اسی کو یاد کرو، نصیحت کے لیے وہی کافی ہے۔
اسی کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے، یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے بے شک پیدائش کی ابتدا وہی کرتا ہے، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا، تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان کو پورے انصاف کے ساتھ جزا دے، اور جنہوں نے کفر کا طریقہ اختیار کیا وہ کھولتا ہوا پانی پییں اور دردناک سزا بھگتیں اُس انکار حق کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم سب کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے، اللہ نے سچا وعده کر رکھا ہے۔ بیشک وہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوباره بھی پیدا کرے گا تاکہ ایسے لوگوں کو جو کہ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک کام کیے انصاف کے ساتھ جزا دے اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے واسطے کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور دردناک عذاب ہوگا ان کے کفر کی وجہ سے
احمد رضا خان بریلوی
اسی کی طرف تم سب کو پھرنا ہے اللہ کا سچا وعدہ بیشک وہ پہلی بار بناتا ہے پھر فنا کے بعد دوبارہ بنائے گا کہ ان کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے انصاف کا صلہ دے اور کافروں کے لیے پینے کو کھولتا پانی اور دردناک عذاب بدلہ ان کے کفر کا،
علامہ محمد حسین نجفی
تم سب نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے بے شک وہی مخلوق کی پیدائش کی ابتداء کرتا ہے پھر وہی دوبارہ اسے زندہ کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں انہیں انصاف کے ساتھ جزا دے اور جنہوں نے کفر کیا انہیں ان کے کفر کی پاداش میں کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اسی کی طرف تم سب کا لوٹنا ہے، اللہ کا وعدہ ہے سچا۔ بے شک وہی پیدائش شروع کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا، تاکہ جولوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، انھیں انصاف کے ساتھ جزا دے اور جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے لیے نہایت گرم پانی سے پینا ہے اور دردناک عذاب ہے، اس کے بدلے جو وہ کفر کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کا عمل اسی تخلیق کا اعادہ ہے ٭٭
قیامت کے دن ایک بھی نہ بچے گا سب اپنے اللہ کے پاس حاضر کئے جائیں گے «وَهُوَ الَّذِى يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ’ جیسے اس نے شروع میں پیدا کیا تھا۔ ایسے ہی دوبارہ اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہو گا ‘۔ اس کے وعدے اٹل ہیں۔ عدل کے ساتھ وہ اپنے نیک بندوں کو اجر دے گا اور پورا پورا بدلہ عنایت فرمائے گا۔ کافروں کو بھی ان کے کفر کا بدلہ ملے گا۔ طرح طرح کی سزائیں ہوں گی۔ «فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ» [56-الواقعة:42،43] ’ گرم پانی، گرمی، گرم لو ان کے حصے میں آئیں گے اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوتے رہیں گے ‘۔ «هَـذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ» ۱؎ [38-ص:57،58] ’ یہ ہے، پس اسے چکھیں، گرم پانی اور پیپ اس کے علاوہ اور طرح طرح کے عذاب۔ وہ جہنم جسے یہ جھٹلا رہے تھے ان کا اوڑھنا بچھونا ہوگی۔ اس کے اور گرم پگھلے ہوئے تانبے جیسے پانی کے درمیان یہ حیران و پریشان ہوں گے ‘۔ «هَـذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِى يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ ـ يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍ» ۱؎ [55-الرحمن:43،44] ’ یہ ہے وہ جہنم جسے مجرم جھوٹا جانتے تھے۔ اس کے اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان چکر کھائیں گے ‘۔
4۔ 1 اس آیت میں قیامت کے وقوع، بارگاہ الٰہی میں سب کی حاضری اور جزا سزا کا بیان ہے، یہ مضمون قرآن کریم میں مختلف اسلوب سے متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔
(آیت 4){اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا …:} اس میں قیامت، یعنی سب لوگوں کے دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے حضور پیش ہونے کا بیان ہے۔ یہ اللہ کا پکا سچا وعدہ ہے کیونکہ دنیا میں نیک و بد کی جزا و سزا نہ ضروری ہے نہ ممکن، نہ یہاں اس کے لیے مطلوب فرصت میسر ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ہر حال میں اپنے سچے وعدے کو پورا کرتے ہوئے تمھیں دوبارہ زندہ کرکے ایمان والوں کو انصاف کے ساتھ جزا دے گا اور کافروں کو ان کے کفر کا بدلہ دے گا۔ اگر کوئی اسے ناممکن سمجھے تو سوچ لے کہ جو ذات تمھیں شروع میں پیدا کرتی ہے، یعنی عدم سے وجود میں لاتی ہے، کیا اس کے لیے یہ مشکل ہے کہ تمھارے مر جانے کے بعد تمھیں دوبارہ زندگی دے۔ مزید دیکھیے سورۂ روم (۲۷) {” حَمِيْمٍ “} وہ پانی جو گرمی کی انتہا کو پہنچا ہوا ہو۔ دیکھیے سورۂ رحمن (۴۴) اور سورۂ محمد (۱۵)۔
وہی ہے جس نے سُورج کو اجیالا بنایا اور چاند کو چمک دی اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کی منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کر دیں تاکہ تم اُس سے برسوں اور تاریخوں کے حساب معلوم کرو اللہ نے یہ سب کچھ (کھیل کے طور پر نہیں بلکہ) با مقصد ہی بنایا ہے وہ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر پیش کر رہا ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
وه اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو نورانی بنایا اور اس کے لیے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں بے فائده نہیں پیدا کیں۔ وه یہ دﻻئل ان کو صاف صاف بتلا رہا ہے جو دانش رکھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہی ہے جس نے سورج کو جگمگاتا بنا یا اور چاند چمکتا اور اس کے لیے منزلیں ٹھہرائیں کہ تم برسوں کی گنتی اور حساب جانو، اللہ نے اسے نہ بنایا مگر حق نشانیاں مفصل بیان فرماتا ہے علم والوں کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ وہی ہے جس نے سورج کو چمکدار اور چاند کو نور (روشن) بنایا اور پھر چاند کے لئے مختلف منزلیں قرار دیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور دوسرے حساب معلوم کر سکو اللہ نے یہ سب کچھ حق و حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ ان لوگوں کے لیے جو سمجھنا اور جاننا چاہیں اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہی ہے جس نے سورج کو تیز روشنی اور چاند کو نور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں، تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کرو۔ اللہ نے یہ (سب کچھ) نہیں پیدا کیا مگر حق کے ساتھ۔ وہ آیات کو ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہے جو جانتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ عزوجل کی عظمت و قدرت کے ثبوت مظاہر کائنات ٭٭
اس کی کمال قدرت، اس کی عظیم سلطنت کی نشانی یہ چمکیلا آفتاب ہے اور یہ روشن ماہتاب ہے۔ یہ اور ہی فن ہے اور وہ اور ہی کمال ہے۔ اس میں بڑا ہی فرق ہے۔ اس کی شعاعیں جگمگا دیں اور اس کی شعاعیں خود منور رہیں۔ دن کو آفتاب کی سلطنت رہتی ہے، رات کو ماہتاب کی جگمگاہٹ رہتی ہے، ان کی منزلیں اس نے مقرر کر رکھی ہیں۔ چاند شروع میں چھوٹا ہوتا ہے۔ چمک کم ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ بڑھتا ہے اور روشن بھی ہوتا ہے پھر اپنے کمال کو پہنچ کر گھٹنا شروع ہوتا ہے واپسی اگلی حالت پر آ جاتا ہے۔ ہر مہینے میں اس کا یہ ایک دور ختم ہوتا ہے نہ سورج چاند کو پکڑ لے، نہ چاند سورج کی راہ روکے، نہ دن رات پر سبقت کرے نہ رات دن سے آگے بڑھے۔ ہر ایک اپنی اپنی جگہ پابندی سے چل پھر رہا رہے۔ دور ختم کر رہا ہے۔ «وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَـهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالعُرجُونِ الْقَدِيمِ ـ لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» ۱؎ [36-يس:39،40] ’ اور چاند کی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں کہ وہ لوٹ کر پرانی ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن پر آگے بڑھ جانے والی ہے اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں ‘۔
دونوں کی گنتی سورج کی چال پر اور مہینوں کی گنتی چاند پر ہے۔ «وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَاناً» ۱؎ [6-الأنعام:96] ’ اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے ‘۔ یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ بحکمت ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی چیزیں باطل پیدا شدہ نہیں، یہ خیال تو کافروں کا ہے، جن کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالاٌّرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَـطِلاً ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُواْ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنَ النَّارِ» ۱؎ [38-ص:27] ’ اور ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو ناحق پیدا نہیں کیا یہ گمان تو کافروں کا ہے سو کافروں کے لیے خرابی ہے آگ کی ‘۔ ’ تم یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے تمہیں یونہی پیدا کر دیا ہے اور اب تم ہمارے قبضے سے باہر ہو، یاد رکھو میں اللہ ہوں، میں مالک ہوں، میں حق ہوں، میرے سوا کسی کی کچھ چلتی نہیں، عرش کریم بھی منجملہ مخلوق کے میری ادنیٰ مخلوق ہے ‘۔ «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَـكُمْ عَبَثاً وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لاَ تُرْجَعُونَ ـ فَتَعَـلَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ۱؎ [23-المؤمنون:115،116] ’ کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یونہی بے کار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ سچا بادشاہ ہے وہ بڑی بلندی والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی بزرگ عرش کا مالک ہے ‘۔ ’ حجتیں اور دلیلیں ہم کھول کھول کر بیان فرما رہے ہیں کہ اہل علم لوگ سمجھ لیں ‘۔
رات دن کے رد و بدل میں، ان کے برابر جانے آنے میں رات پر دن کا آنا، دن پر رات کا چھا جانا، ایک دوسرے کے پیچھے برابر لگاتار آنا جانا اور زمین و آسمان کا پیدا ہونا اور ان کی مخلوق کا رچایا جانا یہ سب عظمت رب کی بولتی ہوئی نشانیاں ہیں۔ «يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا» ۱؎ [7-الأعراف:54] ’ وہ رات سے دن ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ کہ وہ رات اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے ‘۔ «لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ» ۱؎ [36-يس:40] ’ نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے ‘۔ «فَالِقُ الإِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَناً» ۱؎ [6-الأنعام:96] ’ وہ صبح کا نکالنے والا اس نے رات کو راحت کی چیز بنایا ہے اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے ان سے منہ پھیر لینا کوئی عقلمندی کی دلیل نہیں یہ نشانات بھی جنہیں فائدہ نہ دیں انہیں ایمان کیسے نصیب ہو گا؟ تم اپنے آگے پیچھے اوپر نیچے بہت سی چیزیں دیکھ سکتے ہو ‘۔ «وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ» ۱؎ [12-يوسف:105] ’ آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں ‘۔ «قُلِ انظُرُواْ مَاذَا فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا تُغْنِى الآيَـتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لاَّ يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [10-يونس:101] ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئیے کہ تم غور کرو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو نشانیاں اور دھمکیاں کچھ فائدہ نہیں پہنچاتیں ‘۔ «أَفَلَمْ يَرَوْاْ إِلَى مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ» ۱؎ [34-سبأ:9] ’ کیا پس وہ اپنے آگے پیچھے آسمان و زمین کو دیکھ نہیں رہے ہیں؟ ‘، «إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَاخْتِلَـفِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ» ۱؎ [3-آل عمران:190] ’ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں عقلمندوں کے لیے یہ بڑی بڑی نشانیاں ہیں، کہ وہ سوچ سمجھ کر اللہ کے عذابوں سے بچ سکیں اور اس کی رحمت حاصل کر سکیں ‘۔
5۔ 1 ضیاء ضوء کے ہم معنی ہے۔ مضاف یہاں محذوف ہے ذات ضیاء والقمر ذانور، سورج کو چمکنے والا اور چاند کو نور والا بنایا۔ یا پھر انہیں مبالغے پر محمول کیا جائے گویا کہ یہ بذات خود ضیا اور نور ہیں۔ آسمان و زمین کی تخلیق اور ان کی تدبیر کے ذکر کے بعد بطور مثال کچھ اور چیزوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کا تعلق تدبیر کائنات سے ہے جس میں سورج اور چاند کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سورج کی حرارت اور تپش اور اس کی روشنی، کس قدر ناگزیر ہے اس سے ہر با شعور آدمی واقف ہے۔ اسی طرح چاند کی نورانیت کا جو لطف اور اس کے فوائد ہیں، وہ بھی محتاج بیان نہیں۔ حکما کا خیال ہے کہ سورج کی روشنی بالذات ہے اور چاند کی نورانیت ہے جو سورج کی روشنی سے مستفاد ہے (فتح القدیر) 5۔ 2 یعنی ہم نے چاند کی چال کی منزلیں مقرر کردی ہیں ان منزلوں سے مراد مسافت ہے جو وہ ایک رات اور ایک دن میں اپنی مخصوص حرکت یا چال کے ساتھ طے کرتا ہے یہ 28 منزلیں ہیں۔ ہر رات کو ایک منزل پر پہنچتا ہے جس میں کبھی خطا نہیں ہوتی۔ پہلی منزل میں وہ چھوٹا اور باریک نظر آتا ہے، پھر بتدریخ بڑا ہوتا جاتا ہے حتٰی کے چودھویں شب یا چودھویں منزل پر وہ مکمل (بدر کامل) ہوجاتا ہے اس کے بعد پھر وہ سکڑنا اور باریک ہونا شروع ہوجاتا ہے حتٰی کے آخر میں ایک یا دو راتیں چھپا رہتا ہے۔ اور پھر ہلال بن کر طلوع ہوجاتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرسکو۔ یعنی چاند کی ان منازل اور رفتار سے ہی مہینے اور سال بنتے ہیں۔ جن سے تمہیں ہر چیز کا حساب کرنے میں آسانی رہتی ہے۔ یعنی سال 12 مہینے کا، مہینہ 29، 30 دن کا ایک دن 24 گھنٹے یعنی رات اور دن کا۔ جو ایام استوا میں 12، 12 گھنٹے اور سردی گرمی میں کم و بیش ہوتے ہیں، علاوہ ازیں دینوی منافع اور کاروبار ہی ان منازل قمر سے وابستہ نہیں۔ دینی منافع بھی حاصل ہوتے ہیں۔ اس طلوع بلال سے حج، صیام رمضان، اشہر حرم اور دیگر عبادات کی تعین ہوتی ہے جن کا اہتمام ایک مومن کرتا ہے۔
(آیت 5) ➊ {هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَآءً …: ” ضِيَآءً “ ” ضَاءَ يَضُوْءُ ضَوْءً ا وَ ضِيَاءً“} سے ہے اور {” قِيَامًا “} کی طرح مصدر ہے، بعض کہتے ہیں یہ {” ضَوْءٌ“} کی جمع ہے، جیسا کہ{” سَوْطٌ“} کی جمع {”سِيَاطٌ“} یعنی سورج کو {”ذَاتَ ضِيَاءٍ“} تیز روشنی والا اور چاند کو {”ذَا نُوْرٍ“} نور والا بنایا، پھر {”ذَاتَ“} اور {”ذَا“} کو حذف کرکے مبالغہ کے لیے سورج کو سراپا ضیاء اور چاند کو سراپا نور قرار دیا۔ ضیاء اور نور میں وہی فرق ہے جو سورج کی تیز اور گرم روشنی اور چاند کی پر سکون روشنی میں ہوتا ہے۔ انسان اور کائنات کی حرکت و سکون کے لیے دن اور رات کی طرح سورج اور چاند بھی ضروری ہیں۔ ➋ {وَ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ …:} یعنی چاند کی منزلیں مقرر فرمائیں کہ ہر روز گھٹتا اور بڑھتا ہے، اگرچہ سورج کی بھی منزلیں مقرر ہیں، جس کا ذکر اگلی آیت میں آ رہا ہے، مگر چاند کا اٹھائیس منزلوں میں روزانہ شکل بدل کر آنا، پھر ایک یا دو دن چھپ کرنئے سرے سے طلوع ہونا تاریخ اور ماہ و سال کی تعیین کے لیے زیادہ آسان اور قابل عمل ہے۔ اس لیے شریعت کے تمام احکام مثلاً حج، روزہ اور کفارہ وغیرہ بھی اسی سے متعلق ہیں۔ دیکھیے «{ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ }» [ البقرۃ: ۱۸۹ ] کی تفسیر۔ ➌ { مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ بے فائدہ اور بے مقصد پیدا نہیں فرمایا۔ یہ تفصیل علم و فہم رکھنے والوں کے لیے ہے، کیونکہ بے علم اور بے سمجھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں کے بیان سے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
یقیناً رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور ہر اُس چیز میں جو اللہ نے زمین اور آسمانوں میں پیدا کی ہے، نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو (غلط بینی و غلط روی سے) بچنا چاہتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بلاشبہ رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں ان لوگوں کے واسطے دﻻئل ہیں جو اللہ کا ڈر رکھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک رات اور دن کا بدلتا آنا اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ان میں نشانیاں ہیں ڈر والوں کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک رات اور دن کی ادل بدل اور الٹ پھیر میں اور ان چیزوں میں جو خدا نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کی ہیں پرہیزگاروں کے لیے (خدا کی قدرت و حکمت کی) نشانیاں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک رات اور دن کے بدلنے میں اور ان چیزوں (میں) جو اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کی ہیں، یقینا ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو ڈرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ عزوجل کی عظمت و قدرت کے ثبوت مظاہر کائنات ٭٭
اس کی کمال قدرت، اس کی عظیم سلطنت کی نشانی یہ چمکیلا آفتاب ہے اور یہ روشن ماہتاب ہے۔ یہ اور ہی فن ہے اور وہ اور ہی کمال ہے۔ اس میں بڑا ہی فرق ہے۔ اس کی شعاعیں جگمگا دیں اور اس کی شعاعیں خود منور رہیں۔ دن کو آفتاب کی سلطنت رہتی ہے، رات کو ماہتاب کی جگمگاہٹ رہتی ہے، ان کی منزلیں اس نے مقرر کر رکھی ہیں۔ چاند شروع میں چھوٹا ہوتا ہے۔ چمک کم ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ بڑھتا ہے اور روشن بھی ہوتا ہے پھر اپنے کمال کو پہنچ کر گھٹنا شروع ہوتا ہے واپسی اگلی حالت پر آ جاتا ہے۔ ہر مہینے میں اس کا یہ ایک دور ختم ہوتا ہے نہ سورج چاند کو پکڑ لے، نہ چاند سورج کی راہ روکے، نہ دن رات پر سبقت کرے نہ رات دن سے آگے بڑھے۔ ہر ایک اپنی اپنی جگہ پابندی سے چل پھر رہا رہے۔ دور ختم کر رہا ہے۔ «وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَـهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالعُرجُونِ الْقَدِيمِ ـ لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» ۱؎ [36-يس:39،40] ’ اور چاند کی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں کہ وہ لوٹ کر پرانی ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن پر آگے بڑھ جانے والی ہے اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں ‘۔
دونوں کی گنتی سورج کی چال پر اور مہینوں کی گنتی چاند پر ہے۔ «وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَاناً» ۱؎ [6-الأنعام:96] ’ اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے ‘۔ یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ بحکمت ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی چیزیں باطل پیدا شدہ نہیں، یہ خیال تو کافروں کا ہے، جن کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالاٌّرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَـطِلاً ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُواْ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنَ النَّارِ» ۱؎ [38-ص:27] ’ اور ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو ناحق پیدا نہیں کیا یہ گمان تو کافروں کا ہے سو کافروں کے لیے خرابی ہے آگ کی ‘۔ ’ تم یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے تمہیں یونہی پیدا کر دیا ہے اور اب تم ہمارے قبضے سے باہر ہو، یاد رکھو میں اللہ ہوں، میں مالک ہوں، میں حق ہوں، میرے سوا کسی کی کچھ چلتی نہیں، عرش کریم بھی منجملہ مخلوق کے میری ادنیٰ مخلوق ہے ‘۔ «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَـكُمْ عَبَثاً وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لاَ تُرْجَعُونَ ـ فَتَعَـلَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ۱؎ [23-المؤمنون:115،116] ’ کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یونہی بے کار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ سچا بادشاہ ہے وہ بڑی بلندی والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی بزرگ عرش کا مالک ہے ‘۔ ’ حجتیں اور دلیلیں ہم کھول کھول کر بیان فرما رہے ہیں کہ اہل علم لوگ سمجھ لیں ‘۔
رات دن کے رد و بدل میں، ان کے برابر جانے آنے میں رات پر دن کا آنا، دن پر رات کا چھا جانا، ایک دوسرے کے پیچھے برابر لگاتار آنا جانا اور زمین و آسمان کا پیدا ہونا اور ان کی مخلوق کا رچایا جانا یہ سب عظمت رب کی بولتی ہوئی نشانیاں ہیں۔ «يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا» ۱؎ [7-الأعراف:54] ’ وہ رات سے دن ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ کہ وہ رات اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے ‘۔ «لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ» ۱؎ [36-يس:40] ’ نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے ‘۔ «فَالِقُ الإِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَناً» ۱؎ [6-الأنعام:96] ’ وہ صبح کا نکالنے والا اس نے رات کو راحت کی چیز بنایا ہے اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے ان سے منہ پھیر لینا کوئی عقلمندی کی دلیل نہیں یہ نشانات بھی جنہیں فائدہ نہ دیں انہیں ایمان کیسے نصیب ہو گا؟ تم اپنے آگے پیچھے اوپر نیچے بہت سی چیزیں دیکھ سکتے ہو ‘۔ «وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ» ۱؎ [12-يوسف:105] ’ آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں ‘۔ «قُلِ انظُرُواْ مَاذَا فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا تُغْنِى الآيَـتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لاَّ يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [10-يونس:101] ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئیے کہ تم غور کرو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو نشانیاں اور دھمکیاں کچھ فائدہ نہیں پہنچاتیں ‘۔ «أَفَلَمْ يَرَوْاْ إِلَى مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ» ۱؎ [34-سبأ:9] ’ کیا پس وہ اپنے آگے پیچھے آسمان و زمین کو دیکھ نہیں رہے ہیں؟ ‘، «إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَاخْتِلَـفِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ» ۱؎ [3-آل عمران:190] ’ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں عقلمندوں کے لیے یہ بڑی بڑی نشانیاں ہیں، کہ وہ سوچ سمجھ کر اللہ کے عذابوں سے بچ سکیں اور اس کی رحمت حاصل کر سکیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 6){اِنَّ فِي اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ …:} سورج روزانہ نئی جگہ سے طلوع اور نئی جگہ غروب ہوتا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ کی ایک صفت رب المشارق (بہت سے مشرقوں کا رب) ہے۔ اسی سے دن رات کا چھوٹا بڑا ہونا، موسموں کا بدلنا، ٹھیک وقت پر شمسی سال کے لحاظ سے سال کے بعد وہی موسم دوبارہ آ جانا اور زمین و آسمان میں موجود اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ بے شمار چیزوں میں یقینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی توحید کی بے شمار نشانیاں ہیں، مگر ان کے لیے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور برے انجام سے بچتے ہیں۔ ان نشانیوں کی تفصیل چاہو تو ہر قدم پر اور ہر لمحہ تمھارے سامنے ہیں، مگر جو منہ ہی موڑ لے اس کا کیا علاج؟ دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۵) موٹی موٹی نشانیوں کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۶۴)۔
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہو گئے ہیں، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا یقین نہیں ہے اور وه دنیوی زندگی پر راضی ہوگئے ہیں اور اس میں جی لگا بیٹھے ہیں اور جو لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جو ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے اور اس پر مطمئن ہوگئے اور وہ جو ہماری آیتوں سے غفلت کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جو لوگ (مرنے کے بعد) ہماری بارگاہ میں حاضری کی امید نہیں رکھتے اور صرف دنیوی زندگی میں مگن ہیں اور اس پر مطمئن ہیں اور جو لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے اور وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے اور اس پر مطمئن ہوگئے اور وہ لوگ جو ہمار ی آیات سے غافل ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نادان و محروم لوگ ٭٭
جو لوگ قیامت کے منکر ہیں، جو اللہ کی ملاقات کے امیدوار نہیں، جو اس دنیا پر خوش ہو گئے ہیں، اسی پر دل لگا لیا ہے، نہ اس زندگی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، نہ اس زندگی کو سود مند بناتے ہیں اور اس پر مطمئن ہیں۔ اللہ کی پیدا کردہ نشانیوں سے غافل ہیں، اللہ کی نازل کردہ آیتوں میں غور فکر نہیں کرتے، ان کی آخری جگہ جہنم ہے، جو ان کی خطاؤں اور گناہوں کا بدلہ ہے جو ان کے کفر و شرک کی جزا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 8،7) ➊ {اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا …:} آخرت کے ذکر کے بعد دو آیتوں میں اس کے منکرین اور پھر اس پر ایمان والوں کا ذکر فرمایا، آخرت کے منکروں کی چار صفات بیان فرمائی ہیں، پہلی صفت {” لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا “ ”رَجَاءٌ“} کا لفظ طمع اور خوف دونوں معنوں میں آتا ہے، اس لیے {” لَا يَرْجُوْنَ “} کا مطلب ہے کہ وہ اللہ سے ملاقات کی امید نہیں رکھتے، یا اس سے نہیں ڈرتے، نہ ہی آخرت میں ہونے والے حشر و نشر پر ان کا ایمان ہے۔ دوسری یہ کہ وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہو گئے اور اس پر وہی خوش ہوتا ہے جو پورے کا پورا جسمانی لذات و خواہشات کا اسیر ہو جائے۔ تیسری یہ کہ وہ اس پر مطمئن ہو گئے، مطمئن وہی ہوتا ہے جو اسے اپنی آخری پناہ سمجھ لے، سعادت مند لوگوں کو تو اللہ کے ذکر سے اطمینان ہوتا ہے، کیونکہ ان کی آخری پناہ گاہ وہی ہے، حیاتِ دنیا کے فانی ہونے کی وجہ سے وہ کبھی اس پر مطمئن نہیں ہوتے۔ ➋ { وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ اٰيٰتِنَا غٰفِلُوْنَ:} چوتھی یہ کہ وہ آسمان و زمین میں موجود بے شمار نشانیوں سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے، نہ ان پر کچھ غورو فکر کرتے ہیں۔ اگر ان آیات سے مراد آیات قرآنی ہوں تو معنی یہ ہوں گے کہ وہ ہمارے احکام سے غفلت برتتے ہیں، نہ ان پر غور کرتے ہیں اور نہ انھیں بجا لاتے ہیں۔ (ابن کثیر) ٹھکانا ان کا ان کے اعمال بد کی وجہ سے آگ ہے۔
اُن کا آخری ٹھکانہ جہنم ہو گا اُن برائیوں کی پاداش میں جن کا اکتساب وہ (اپنے اس غلط عقیدے اور غلط طرز عمل کی وجہ سے) کرتے رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ایسے لوگوں کا ٹھکانا ان کے اعمال کی وجہ سے دوزخ ہے
احمد رضا خان بریلوی
ان لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے بدلہ ان کی کمائی کا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ وہ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے ان کرتوتوں کی پاداش میں جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے، اس کے بدلے جو وہ کمایا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نادان و محروم لوگ ٭٭
جو لوگ قیامت کے منکر ہیں، جو اللہ کی ملاقات کے امیدوار نہیں، جو اس دنیا پر خوش ہو گئے ہیں، اسی پر دل لگا لیا ہے، نہ اس زندگی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، نہ اس زندگی کو سود مند بناتے ہیں اور اس پر مطمئن ہیں۔ اللہ کی پیدا کردہ نشانیوں سے غافل ہیں، اللہ کی نازل کردہ آیتوں میں غور فکر نہیں کرتے، ان کی آخری جگہ جہنم ہے، جو ان کی خطاؤں اور گناہوں کا بدلہ ہے جو ان کے کفر و شرک کی جزا ہے۔
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے (یعنی جنہوں نے اُن صداقتوں کو قبول کر لیا جو اس کتاب میں پیش کی گئی ہیں) اور نیک اعمال کرتے رہے انہیں اُن کا رب اُن کے ایمان کی وجہ سے سیدھی راہ چلائے گا، نعمت بھری جنتوں میں ان کے نیچے نہریں بہیں گی
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک کام کیے ان کا رب ان کو ان کے ایمان کے سبب ان کے مقصد تک پہنچا دے گا نعمت کے باغوں میں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی
احمد رضا خان بریلوی
بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کا رب ان کے ایمان کے سبب انھیں راہ دے گا ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی نعمت کے باغوں میں،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔ ان کا پروردگار ان کے ایمان کی بدولت انہیں اس منزل مقصود تک پہنچائے گا۔ یعنی وہ نعمتِ الٰہی کے ان باغوں میں ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے ان کی رہنمائی کرے گا، ان کے نیچے سے نعمت کے باغوں میں نہریں بہتی ہوں گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خوش انجام خوش نصیب لوگ ٭٭
نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے جو اللہ پر ایمان لائے رسولوں کو مانا، فرمانبرداری کی نیکیوں پر چلتے رہے، انہیں ان کے ایمان کی وجہ سے راہ مل جائے گی۔ پل صراط سے پار ہو جائیں گے۔ جنت میں پہنچ جائیں گے، نور مل جائے گا، جس کی روشنی میں چلیں پھریں گے۔ پس ممکن ہے کہ «بِإِيمَانِهِمْ» میں (ب) سبب کی ہو، اور ممکن ہے کہ استعانت کی ہو۔ ان کے اعمال اچھی بھلی صورت اور عطر و خوشبو بن کر ان کے پاس ان کی قبر میں آئیں گے اور انہیں خوشخبری دیں گے یہ پوچھیں گے کہ تم کون ہو؟ وہ جواب دیں گے تمہارے نیک اعمال۔ پس یہ اپنے ان نورانی عمل کی روشنی میں جنت میں پہنچ جائیں گے اور کافروں کا عمل نہایت بدصورت، بدبو دار ہو کر اس پر چمٹ جائے گا اور اسے دھکے دے کر جہنم میں لے جائے گا۔ یہ جو چیز کھانا چاہیں گے اسی وقت فرشتے اس تیار کر کے لائیں گے۔ انہیں سلام کہیں گے جو جواب دیں گے اور کھائیں گے۔ کھا کر اپنے رب کی حمد بیان کریں گے۔ ان کے صرف «سبْحانَك اللَّهُمّ» کہتے ہی دس ہزار خادم اپنے ہاتھوں میں سونے کے کٹوروں میں کھانا لے کر حاضر ہو جائیں گے اور یہ سب میں سے کھائے گا۔ ان کا آپس میں بھی تحفہ سلام ہو گا۔ «تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَـمٌ» ۱؎ [33-الأحزاب:44] ’ جس دن یہ اللہ سے ملاقات کریں گے ان کا تحفہ سلام ہوگا ‘، «لاَ يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْواً وَلاَ تَأْثِيماً» [56-الواقعة:25،26] ’ نہ وہاں بکواس سنیں گے اور نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی آواز ہو گی وہاں کوئی لغو بات کانوں میں نہ پڑے گی ‘۔ در و دیوار سے سلامتی کی آوازیں آتی رہیں گے۔ رب رحیم کی طرف سے بھی سلامتی کا قول ہوگا۔ «سَلاَمٌ قَوْلاً مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» ۱؎ [36-يس:58] ’ مہربان پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا ‘۔
فرشتے بھی ہر ایک دروازے سے آ کر سلام کریں گے، «وَالمَلَـئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِّن كُلِّ بَابٍسَلَـمٌ عَلَيْكُمُ» ۱؎ [13-الرعد:23، 24] ’ ان کے پاس فرشتے ہر دروازے سے آئیں گے، کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو ‘، آخری قول ان کا اللہ کی ثناء ہوگا۔ وہ معبود برحق ہے اول آخر حمد و تعریف کے سزاوار ہے۔ اسی لیے اس نے اپنی حمد بیان فرمائی مخلوق کی پیدائش کے شروع میں، اس کی بقاء میں، اپنی کتاب کے شروع میں، اور اس کے نازل فرمانے کے شروع میں۔ اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں ایک نہیں کئی ایک ہیں جیسے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَـبَ» ۱؎ [18-الكهف:1] ’ تمام تعریفیں اسی اللہ کے لیے سزاوار ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن اتارا ‘۔ «الْحَمْدُ للَّهِ الَّذِى خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْض» ۱؎ [6-الأنعام:1] ’ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ‘، وغیرہ۔ وہی اول آخر دنیا عقبیٰ میں لائق حمد و ثناء ہے ہر حال میں اس کی حمد ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ { اہل جنت سے تسبیح و حمد اس طرح ادا ہوگی جیسے سانس چلتا رہتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2835] یہ اس لیے کہ ہر وقت نعمتیں راحتیں آرام اور آسائش بڑھتا ہوا دیکھیں گے پس لامحالہ حمد ادا ہوگی۔ سچ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہ اس کے سوا کوئی پالنہار ہے۔
9۔ 1 اس کے ایک دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ دنیا میں ایمان کے سبب قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ان کے لئے پل صراط سے گزرنا آسان فرما دے گا، بعض کے نزدیک یہ مدد مانگنے کے لئے ہے اور معنی یہ ہونگے کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ان کے لئے ایک نور مہیا فرمائے گا جس کی روشنی میں وہ چلیں گے، جیسا کہ سورة حدید میں اس کا ذکر آتا ہے۔
(آیت 9) ➊ {يَهْدِيْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِيْمَانِهِمْ:} یعنی ایمان اور عمل صالح والوں کو ان کے ایمان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ دنیا میں صراط مستقیم کی ہدایت، یعنی سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرماتا ہے، یا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ایمان لانے کی وجہ سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی رہنمائی ہو گی، حتیٰ کہ وہ (پل) صراط سے گزر کر سیدھے جنت میں پہنچ جائیں گے۔ ان دونوں معنوں میں باء سببیت کے لیے ہے، یہ باء استعانت کے لیے بھی ہو سکتی ہے، جیسا کہ سورۂ حدید (۱۲، ۱۳) میں فرمایا کہ ایمان والے مردوں اور عورتوں کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑ رہا ہو گا، جب کہ منافق مرد اور عورتیں ان سے درخواست کریں گے کہ ہمیں بھی اپنے نور سے فائدہ اٹھا کر ساتھ چلنے کا موقع دو۔ گویا مومن اپنے نورِ ایمان کی مدد سے چلتے ہوئے جنت میں پہنچ جائیں گے، جب کہ منافق اندھیرے میں رہ جائیں گے۔ ➋ {تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ:} جنت کی نہروں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ محمد (۱۵)۔ ➌ {فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ:} ان نعمتوں کی تفصیل بیان میں نہیں آ سکتی، فرمایا: «{ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ }» [السجدۃ: ۱۷ ] ”پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَقُوْلُ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِيْنَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰي قَلْبِ بَشَرٍ ] [ مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب صفۃ الجنۃ:2824/4، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل پر اس کا خیال ہی گزرا۔“
وہاں ان کی صدا یہ ہوگی کہ “پاک ہے تو اے خدا، " اُن کی دعا یہ ہوگی کہ “سلامتی ہو " اور ان کی ہر بات کا خاتمہ اس پر ہوگا کہ “ساری تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے "
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے منھ سے یہ بات نکلے گی سبحان اللہ اور ان کا باہمی سلام یہ ہوگا السلام علیکم اور ان کی اخیر بات یہ ہوگی تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہان کا رب ہے
احمد رضا خان بریلوی
ان کی دعا اس میں یہ ہوگی کہ اللہ تجھے پاکی ہے اور ان کے ملتے وقت خوشی کا پہلا بول سلام ہے اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہے کہ سب خوبیوں کو سراہا اللہ جو رب ہے سارے جہان کا
علامہ محمد حسین نجفی
وہاں ان کی دعا و صدا یہ ہوگی۔ اے اللہ! پاک ہے تیری ذات اور ان کی صاحب سلامت سلام سے ہوگی اور ان کی آخری دعا و پکار یہ ہوگی کہ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ان کی دعا ان میں یہ ہوگی’’پاک ہے تو اے اللہ!‘‘ اور ان کی آپس کی دعا ان (باغات) میں سلام ہوگی اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہوگا کہ سب تعریف اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خوش انجام خوش نصیب لوگ ٭٭
نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے جو اللہ پر ایمان لائے رسولوں کو مانا، فرمانبرداری کی نیکیوں پر چلتے رہے، انہیں ان کے ایمان کی وجہ سے راہ مل جائے گی۔ پل صراط سے پار ہو جائیں گے۔ جنت میں پہنچ جائیں گے، نور مل جائے گا، جس کی روشنی میں چلیں پھریں گے۔ پس ممکن ہے کہ «بِإِيمَانِهِمْ» میں (ب) سبب کی ہو، اور ممکن ہے کہ استعانت کی ہو۔ ان کے اعمال اچھی بھلی صورت اور عطر و خوشبو بن کر ان کے پاس ان کی قبر میں آئیں گے اور انہیں خوشخبری دیں گے یہ پوچھیں گے کہ تم کون ہو؟ وہ جواب دیں گے تمہارے نیک اعمال۔ پس یہ اپنے ان نورانی عمل کی روشنی میں جنت میں پہنچ جائیں گے اور کافروں کا عمل نہایت بدصورت، بدبو دار ہو کر اس پر چمٹ جائے گا اور اسے دھکے دے کر جہنم میں لے جائے گا۔ یہ جو چیز کھانا چاہیں گے اسی وقت فرشتے اس تیار کر کے لائیں گے۔ انہیں سلام کہیں گے جو جواب دیں گے اور کھائیں گے۔ کھا کر اپنے رب کی حمد بیان کریں گے۔ ان کے صرف «سبْحانَك اللَّهُمّ» کہتے ہی دس ہزار خادم اپنے ہاتھوں میں سونے کے کٹوروں میں کھانا لے کر حاضر ہو جائیں گے اور یہ سب میں سے کھائے گا۔ ان کا آپس میں بھی تحفہ سلام ہو گا۔ «تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَـمٌ» ۱؎ [33-الأحزاب:44] ’ جس دن یہ اللہ سے ملاقات کریں گے ان کا تحفہ سلام ہوگا ‘، «لاَ يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْواً وَلاَ تَأْثِيماً» [56-الواقعة:25،26] ’ نہ وہاں بکواس سنیں گے اور نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی آواز ہو گی وہاں کوئی لغو بات کانوں میں نہ پڑے گی ‘۔ در و دیوار سے سلامتی کی آوازیں آتی رہیں گے۔ رب رحیم کی طرف سے بھی سلامتی کا قول ہوگا۔ «سَلاَمٌ قَوْلاً مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» ۱؎ [36-يس:58] ’ مہربان پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا ‘۔
فرشتے بھی ہر ایک دروازے سے آ کر سلام کریں گے، «وَالمَلَـئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِّن كُلِّ بَابٍسَلَـمٌ عَلَيْكُمُ» ۱؎ [13-الرعد:23، 24] ’ ان کے پاس فرشتے ہر دروازے سے آئیں گے، کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو ‘، آخری قول ان کا اللہ کی ثناء ہوگا۔ وہ معبود برحق ہے اول آخر حمد و تعریف کے سزاوار ہے۔ اسی لیے اس نے اپنی حمد بیان فرمائی مخلوق کی پیدائش کے شروع میں، اس کی بقاء میں، اپنی کتاب کے شروع میں، اور اس کے نازل فرمانے کے شروع میں۔ اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں ایک نہیں کئی ایک ہیں جیسے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَـبَ» ۱؎ [18-الكهف:1] ’ تمام تعریفیں اسی اللہ کے لیے سزاوار ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن اتارا ‘۔ «الْحَمْدُ للَّهِ الَّذِى خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْض» ۱؎ [6-الأنعام:1] ’ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ‘، وغیرہ۔ وہی اول آخر دنیا عقبیٰ میں لائق حمد و ثناء ہے ہر حال میں اس کی حمد ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ { اہل جنت سے تسبیح و حمد اس طرح ادا ہوگی جیسے سانس چلتا رہتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2835] یہ اس لیے کہ ہر وقت نعمتیں راحتیں آرام اور آسائش بڑھتا ہوا دیکھیں گے پس لامحالہ حمد ادا ہوگی۔ سچ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہ اس کے سوا کوئی پالنہار ہے۔
10۔ 1 یعنی اہل جنت اللہ کی حمد و تسبیح میں ہر وقت تعریف کرتے رہیں گے۔ جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ ' اہل جنت کی زبانوں پر تسبیح وتحمید کا اس طرح الہام ہوگا جس طرح سانس کا الہام کیا جاتا ہے، یعنی جس طرح بےاختیار سانس کی آمدورفت رہتی ہی، اسی طرح اہل جنت کی زبانوں پر بغیر اہتمام کے حمدو تسبیح الٰہی کے ترانے رہیں گے۔ 10۔ 2 یعنی ایک دوسرے کو اس طرح سلام کریں گے، نیز فرشتے بھی انہیں سلام عرض کریں گے۔
(آیت 10) ➊ {دَعْوٰىهُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ …:} یعنی وہ جنت کی نعمتیں اور عجائب دیکھ کر بے اختیار کہیں گے: ”اے اللہ! تو پاک ہے“ بلکہ جس طرح دنیا میں خود بخود سانس جاری رہتا ہے اہل جنت کے دل و زبان پر ہر وقت خود بخود اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید جاری رہے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُوْنَ فِيْهَا وَيَشْرَبُوْنَ وَلَا يَتْفِلُوْنَ وَلاَ يَبُوْلُوْنَ وَلاَ يَتَغَوَّطُوْنَ وَلاَ يَمْتَخِطُوْنَ، قَالُوْا فَمَا بَالُ الطَّعَامِ؟ قَالَ جُشَاءٌ وَ رَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ يُلْهَمُوْنَ التَّسْبِيْحَ وَالتَّحْمِيْدَ كَمَا يُلْهَمُوْنَ النَّفَسَ ] [ مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب في صفات الجنۃ وأھلھا…: ۲۸۳۵، عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما] ”جنتی جنت میں کھائیں گے اور پییں گے، وہ نہ تھوکیں گے، نہ پیشاب کریں گے، نہ پاخانہ کریں گے اور نہ ناک صاف کریں گے۔“ صحابہ نے پوچھا: ”جو کھانا وہ کھائیں گے وہ کہاں جائے گا؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”بس ڈکار آئے گا اور پسینا آئے گا جس سے مشک (کستوری) کی خوشبو آئے گی (اور ان کا کھانا تحلیل ہو جائے گا)۔ (ان کے دلوں میں اور ان کی زبانوں پر) تسبیح اور حمد خود بخود بے اختیار جاری ہو گی جس طرح سانس خود بخود جاری ہوتا ہے۔“ {” تَحِيَّتُهُمْ “} باب تفعیل کا مصدر، زندگی کی دعا دینا کہ اللہ تمھیں زندگی بخشے، یعنی وہ ایک دوسرے سے ملیں گے تو ایک دوسرے کو زندہ رہنے کی دعا سلام کے الفاظ سے دیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ ابراہیم (۲۳)، سورۂ مریم (۶۰ تا ۶۲) اور سورۂ واقعہ (۲۵، ۲۶) میں بیان فرمایا ہے۔ ➋ {وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ:} اور ان کی دعا اور گفتگو کا اختتام رب العالمین کی حمد کے ساتھ ہو گا، دنیا میں بھی ان کی گفتگو اور دعا کا خاتمہ اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح کے ساتھ ہوا کرتا تھا، جنت میں بھی اسی طرح جاری رہے گا۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص یہ الفاظ کہے: [ سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ ] کسی ذکر کی مجلس میں تو یہ مہر کی طرح ہوں گے جو آخر میں لگائی جاتی ہے اور جو انھیں کسی لغو کی مجلس میں کہے تو اس کے لیے کفارہ ہوں گے۔“ [ مستدرک حاکم: 537/1، ح: ۱۹۷۰۔ السلسلۃ الصحیحۃ: 120/1] عبد اللہ بن عمرو اور ابن مسعود رضی اللہ عنھم کی روایت کے الفاظ ہیں کہ کفارۂ مجلس یہ ہے کہ بندہ یوں کہے: [ سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلاَّ أَنْتَ وَحْدَكَ لاَ شَرِيْكَ لَكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ ] [ صحیح الجامع: ۴۴۸۷ ]
اگر کہیں اللہ لوگوں کے ساتھ برا معاملہ کرنے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی وہ دنیا کی بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی مہلت عمل کبھی کی ختم کر دی گئی ہوتی (مگر ہمارا یہ طریقہ نہیں ہے) اس لیے ہم اُن لوگوں کو جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اُن کی سرکشی میں بھٹکنے کے لیے چھُوٹ دے دیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر اللہ لوگوں پر جلدی سے نقصان واقع کردیا کرتا جس طرح وه فائده کے لیے جلدی مچاتے ہیں تو ان کا وعده کبھی کا پورا ہوچکا ہوتا۔ سو ہم ان لوگوں کو جن کو ہمارے پاس آنے کا یقین نہیں ہے ان کے حال پر چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر اللہ لوگوں پر برائی ایسی جلدبھیجتا جیسی وہ بھلائی کی جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا ہوچکا ہوتا تو ہم چھوڑتے انہیں جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں
علامہ محمد حسین نجفی
اگر خدا لوگوں کو نقصان پہنچانے میں اس طرح جلدی کرتا جس طرح یہ لوگ اپنی بھلائی کے لئے جلدی کرتے ہیں یعنی اگر ہر برائی کا برا نتیجہ فوراً سامنے آجاتا تو ان کی مدت (عمر) کبھی کی پوری ہو چکی ہوتی مگر ہمارے قانون (سزا میں ڈھیل ہے) اس لئے ہم تو ان لوگوں کو بھی اپنی سرکشیوں میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں جو مرنے کے بعد ہماری بارگاہ میں حضوری کی امید نہیں رکھتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر اللہ لوگوں کو برائی جلدی دے انھیں بہت جلدی بھلائی دینے کی طرح تو یقینا ان کی طرف ان کی مدت پوری کر دی جائے۔ تو ہم ان لوگوں کو جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے، چھوڑ دیتے ہیں، وہ اپنی سرکشی ہی میں حیران پھرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی اپنے احسانات کا تذکرہ فرماتے ہیں ٭٭
فرمان ہے کہ ’ میرے الطاف اور میری مہربانیوں کو دیکھو، کہ بندے کبھی کبھی تنگ آ کر، گھبرا کر اپنے لیے، اپنے بال بچوں کے لیے اپنے مالک کے لیے، بد دعائیں کربیٹھتے ہیں لیکن میں انہیں قبول کرنے میں جلدی نہیں کرتا، ورنہ وہ کسی گھر کے نہ رہیں جیسے کہ میں انہی چیزوں کی برکت کی دعائیں قبول فرما لیا کرتا ہوں، ورنہ یہ تباہ ہو جاتے ‘۔ پس بندوں کو ایسی بدعاؤں سے پرہیز کرنا چاہیئے۔ چنانچہ مسند بزار کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { اپنی جان و مال پر بد دعا نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ کسی قبولیت کی ساعت موافقت کر جائے اور وہ بد دعا قبول ہو جائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1532،قال الشيخ الألباني:صحیح] اسی مضمون کا بیان «وَيَدْعُ الإِنْسَـنُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهُ بِالْخَيْرِ» ۱؎ [17-الإسراء:11] میں ہے، غرض یہ ہے کہ انسان کا کسی وقت اپنی اولاد مال وغیرہ کے لیے بد دعا کرنا کہ اللہ اسے غارت کرے وغیرہ۔ ایک نیک دعاؤں کی طرح قبولیت میں ہی آ جایا کرے تو لوگ برباد ہوجائیں۔
11۔ 1 اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ جس طرح انسان خیر کے طلب کرنے میں جلدی کرتا ہے، اسی طرح وہ شر (عذاب) کے طلب کرنے میں بھی جلدی مچاتا ہے، اللہ کے پیغمبروں سے کہتا ہے اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لے کر آؤ جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ان کے اس مطالبے کے مطابق ہم جلدی عذاب بھیج دیتے تو کبھی کے یہ موت اور ہلاکت سے دوچار ہوچکے ہوتے۔ لیکن ہم مہلت دے کر انہیں پورا موقع دیتے ہیں۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ جس طرح انسان اپنے لئے خیر اور بھلائی کی دعائیں مانگتا ہے جنہیں ہم قبول کرتے ہیں۔ اسی طرح جب انسان غصے یا تنگی میں ہوتا ہے تو اپنے لئے اور اپنی اولاد وغیرہ کے لئے بد دعائیں کرتا ہے، جنہیں ہم اس لئے نظر انداز کردیتے ہیں کہ یہ زبان سے تو ہلاکت مانگ رہا ہے، مگر اس کے دل میں ایسا ارادہ نہیں ہے۔ لیکن اگر ہم انسانوں کی بد دعاؤں کے مطابق، انہیں فوراً ہلاکت سے دوچار کرنا شروع کردیں، تو پھر جلدی ہی لوگ موت اور تباہی سے ہمکنار ہوجایا کریں اس لئے حدیث میں آتا ہے کہ ' تم اپنے لئے، اپنی اولاد کے لئے اور اپنے مال و کاروبار کے لئے بد دعائیں مت کیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری بد دعائیں، اس گھڑی کو پالیں، جس میں اللہ کی طرف سے دعائیں قبول کی جاتی ہیں، پس وہ تمہاری بد دعائیں قبول فرما لے '۔
(آیت 11){وَ لَوْ يُعَجِّلُ اللّٰهُ …: ” تَعْجِيْلٌ “} تفعیل سے ہے، اس کا معنی وقت سے پہلے طلب کرنا اور {”اِسْتِعْجَالٌ“} کا معنی بھی جلدی طلب کرنا ہے، مگر یہاں یہ دونوں جلدی طلب کے معنی میں نہیں بلکہ جلدی دینے کے معنی میں ہیں اور حروف میں اضافہ معنی میں اضافے کے لیے ہے۔ اس آیت کی دو تفسیریں کی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ کفار جلدی مچاتے تھے کہ لاؤ عذاب جس سے ہمیں ڈراتے ہو، فرمایا: «{ وَ يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ }» [ الحج: ۴۷ ] ”اور وہ تجھ سے عذاب جلدی مانگتے ہیں۔“ حتیٰ کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ! اگر اسلام واقعی حق ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش برسا یا کوئی عذاب الیم بھیج دے۔ دیکھیے سورۂ انفال (۳۲) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم جس طرح انھیں خیر بہت جلدی عطا کر دیتے ہیں اسی طرح (ان کے مطالبے پر) عذاب بھی جلدی بھیج دیتے تو یہ کبھی کے ہلاک ہو چکے ہوتے، مگر ہم انھیں مہلت دے کر پورا موقع دیتے ہیں کہ واپس پلٹ آئیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے، انسان جب اپنے لیے یا دوسروں کے لیے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اسے جلد قبول فرماتا ہے، لیکن جب غصے یا رنج میں آکر اپنے منہ سے اپنے یا اپنے بچوں یا دوسروں کے لیے بددعا کے کلمات نکالتا ہے تو وہ انھیں قبول نہیں فرماتا، بلکہ ڈھیل اور مہلت دیتا ہے کہ شاید وہ اپنی اصلاح کریں اور اگر وہ یہ بھی جلدی قبول کرلے تو لوگ جلد ہی ہلاک ہو جائیں۔ اس صورت میں ”استعجال“ میں طلب کا معنی موجود ہے، ”تعجیل“ میں نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لاَ تَدْعُوْا عَلٰي أَنْفُسِكُمْ وَلاَ تَدْعُوْا عَلٰي أَوْلَادِكُمْ وَلاَ تَدْعُوْا عَلٰي خَدَمِكُمْ وَلاَ تَدْعُوْا عَلٰي أَمْوَالِكُمْ، لاَ تُوَافِقُوْا مِنَ اللّٰهِ سَاعَةَ نَيْلٍ فِیْھَا عَطَاءٌ فَيَسْتَجِيْبَ لَكُمْ ] [ أبوداوٗد، الوتر، باب النہي عن أن یدعو …: ۱۵۳۲، عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ و صححہ الألباني ] ”اپنے آپ پر بددعا نہ کرو اور اپنی اولاد پر بددعا نہ کرو اور اپنے خادموں پر بددعا نہ کرو اور اپنے مالوں پر بددعا نہ کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی ایسے وقت میں دعا کر بیٹھو جس میں (مانگی ہوئی چیز) دے دی جاتی ہے اور وہ تمھاری بددعا قبول کرلے۔ “ آخر میں فرمایا کہ آخرت کے دن پر ایمان نہ لانے والوں کو ہم ان کے کفر و شرک اور ان کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتے ہیں۔ پہلی تفسیر ان الفاظ کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔
انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے، مگر جب ہم اس کی مصیبت ٹال دیتے ہیں تو ایسا چل نکلتا ہے کہ گویا اس نے کبھی اپنے کسی بُرے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا اس طرح حد سے گزر جانے والوں کے لیے ان کے کرتوت خوشنما بنا دیے گئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے لیٹے بھی، بیٹھے بھی، کھڑے بھی۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف اس سے ہٹا دیتے ہیں تو وه ایسا ہوجاتا ہے کہ گویا اس نے اپنی تکلیف کے لیے جو اسے پہنچی تھی کبھی ہمیں پکارا ہی نہ تھا، ان حد سے گزرنے والوں کے اعمال کو ان کے لیے اسی طرح خوشنما بنادیا گیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب آدمی کو تکلیف پہنچتی ہے ہمیں پکارتا ہے لیٹے اور بیٹھے اور کھڑے پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں چل دیتا ہے گویا کبھی کسی تکلیف کے پہنچنے پر ہمیں پکارا ہی نہ تھا یونہی بھلے کر دکھائے ہیں حد سے بڑھنے والے کو ان کے کام
علامہ محمد حسین نجفی
جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ کروٹ کے بل لیٹے یا بیٹھے یا کھڑے ہوئے (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے اور جب ہم اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں تو وہ اس طرح (منہ موڑ کے) چل دیتا ہے جیسے اس نے کسی تکلیف میں جو اسے پہنچی تھی کبھی ہمیں پکارا ہی نہ تھا اسی طرح حد سے گزرنے والوں کے لیے ان کے وہ عمل خوشنما بنا دیئے گئے ہیں جو وہ کرتے رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر، یا بیٹھا ہوا، یا کھڑا ہوا ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں تو چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کسی تکلیف کی طرف، جو اسے پہنچی ہو، پکارا ہی نہیں۔ اسی طرح حد سے بڑھنے والوں کے لیے مزین بنا دیا گیا جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن ہر حال میں اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں ٭٭
اسی آیت جیسی یہ آیت ہے: «وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُو دُعَآءٍ عَرِيضٍ» ۱؎ [41-فصلت:51] یعنی ’ جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بڑی لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے ‘۔ ہر وقت اٹھتے بیٹھے لیٹتے اللہ سے اپنی تکلیف کے دور ہونے کی التجائیں کرتا ہے۔ لیکن جہاں دعا قبول ہوئی تکلیف دور ہوئی اور ایسا ہو گیا جیسے کہ نہ اسے کبھی تکلیف پہنچی تھی نہ اس نے کبھی دعا کی تھی۔ ایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہیں اور انہیں اپنے ایسے ہی گناہ اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ ہاں ایماندار، نیک اعمال، ہدایت و رشد والے ایسے نہیں ہوتے۔ حدیث شریف میں ہے { مومن کی حالت پر تعجب ہے، اس کے لیے ہر الٰہی فیصلہ اچھا ہی ہوتا ہے۔ اسے تکلیف پہنچی اس نے صبر و استقامت اختیار کی اور اسے نیکیاں ملیں۔ اسے راحت پہنچی، اس نے شکر کیا، اس پر بھی نیکیاں ملیں، یہ بات مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999]
12۔ 1 یہ انسان کی اس حالت کا تذکرہ ہے جو انسانوں کی اکثریت کا شیوہ ہے۔ بلکہ بہت سے اللہ کے ماننے والے بھی اس کوتاہی کا عام ارتکاب کرتے ہیں کہ مصیبت کے وقت تو خوب اللہ اللہ ہو رہا ہے، دعائیں کی جا رہی ہیں توبہ استغفار کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ مصیبت کا وہ کڑا وقت نکال دیتا ہے تو پھر بارگاہ الٰہی میں دعا و گڑگڑانے سے غافل ہوجاتے ہیں اور اللہ نے ان کی دعائیں قبول کرکے جس امتحان اور مصیبت سے نجات دی، اس پر اللہ کا شکر ادا کرنے کی بھی توفیق انہیں نصیب نہیں ہوتی۔ 12۔ 2 بطور آزمائش اور مہلت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ہوسکتی ہے، وسوسوں کے ذریعے سے شیطان کی طرف سے بھی ہوسکتی ہے اور انسان اس نفس کی طرف سے بھی ہوسکتی ہے، جو انسان کی برائی پر امادہ کرتا ہے، تاہم اس کا شکار ہوتے وہی لوگ ہیں جو حد سے گزر جانے والے ہیں۔ یہاں معنی یہ ہوئے کہ ان کے لیے دعا سے اعراض، شکر الہی سے غفلت اور شہوات و خواہشات کے ساتھ اشتغال کو مزین کردیا گیا ہے۔
(آیت 12) {وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ …:} یہاں {” الْاِنْسَانَ “} سے مراد اکثر انسان ہیں، جن میں کفار و مشرکین بھی شامل ہیں، کیونکہ انھی کا ذکر پہلے اور بعد میں چل رہا ہے اور وہ بھی مصیبت کے وقت اللہ کو پکارتے ہیں، پھر مقصد پورا ہو جانے کے بعد سرے سے اسے بھول جاتے ہیں، بعض مومنوں کا بھی یہی حال ہے۔ یعنی انسان اس قدر عاجز و ناتواں ہے کہ جوں ہی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹتے، بیٹھتے اور کھڑے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے، لیکن اس کی بے وفائی کا یہ عالم ہے کہ جوں ہی تکلیف دور ہوتی ہے اسی پہلے غرور میں بدمست ہو جاتا ہے اور اپنی مصیبت اور تکلیف سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتا۔ انسان کی اس عادت کا کئی آیات میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ دیکھیے حم السجدہ (۵۱)، زمر (۴۹) اور ہود (۱۰، ۱۱)۔ حافظ ابن کثیررحمہ اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں انھی لوگوں کی مذمت فرمائی ہے جن کا دعا کا طریقہ یہ ہے، البتہ وہ لوگ جنھیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور اپنی توفیقِ خاص سے نوازا ہے وہ ان میں شامل نہیں، کیونکہ وہ سختی اور نرمی ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو پکارتے اور اسے یاد رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهٗ كُلَّهٗ لَهٗ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذٰلِكَ لِأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهٗ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَّهٗ، وَ إِنْ أَصَابَتْهٗ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَّهٗ ] [ مسلم، الزہد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر: ۲۹۹۹، عن صہیب رضی اللہ عنہ ] ”مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا ہر کام ہی خیر ہے اور یہ چیز (کامل) مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں، اگر اسے کوئی خوشی حاصل ہو تو شکر کرتا ہے، پس وہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے، سو وہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔“ {”مُسْرِفِيْنَ“} (حد سے بڑھنے والوں) کو یہ نعمت حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس آیت میں مذکور لوگوں کی طرح ان کے لیے ان کے اعمال بد ہی خوش نما بنا دیے گئے ہیں۔رہی یہ بات کہ ان کے لیے ان کے اعمال کس نے خوش نما بنائے ہیں، آیت میں اس کا ذکر نہیں، کیونکہ وہ کئی چیزیں ہو سکتی ہیں: (1) شیطان، فرمایا: «{ وَ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ }» [ النمل: ۲۴ ] ”اور شیطان نے ان کے لیے ان کے عمل خوش نما بنا دیے۔“ (2) نفس، فرمایا: «{ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ }» [ یوسف: ۵۳ ] ”بے شک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے۔“ ہمارے لیے اس میں سبق یہ ہے کہ ہمیں مصیبت دور ہونے پر بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور دعا میں کمی نہیں کرنی چاہیے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يَّسْتَجِيْبَ اللّٰهُ لَهٗ عِنْدَ الشَّدَائِدِ وَالْكُرَبِ فَلْيُكْثِرِ الدُّعَاءَ فِي الرَّخَاءِ] [ ترمذی، کتاب الدعوات، باب أن دعوۃ المسلم مستجابۃ: ۳۳۸۲، و حسنہ الألباني ] ”جسے پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ سختیوں اور مصیبتوں میں اس کی دعا قبول فرمائے تو وہ خوش حالی میں کثرت سے دعا کیا کرے۔“
لوگو، تم سے پہلے کی قوموں کو (جو اپنے اپنے زمانہ میں برسر عروج تھیں) ہم نے ہلاک کر دیا جب انہوں نے ظلم کی روش اختیار کی اور اُن کے رسُول اُن کے پاس کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر آئے اور انہوں نے ایمان لا کر ہی نہ دیا اس طرح ہم مجرموں کو ان کے جرائم کا بدلہ دیا کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے تم سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کردیا جب کہ انہوں نے ﻇلم کیا حاﻻنکہ ان کے پاس ان کے پیغمبر بھی دﻻئل لے کر آئے، اور وه ایسے کب تھے کہ ایمان لے آتے؟ ہم مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے تم سے پہلی سنگتیں (قومیں) ہلاک فرمادیں جب وہ حد سے بڑھے اور ان کے رسول ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے اور وہ ایسے تھے ہی نہیں کہ ایمان لاتے، ہم یونہی بدلہ دیتے ہیں مجرموں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور بالیقین ہم تم سے پہلے (بہت سی) نسلوں کو ہلاک کر چکے ہیں جب انہوں نے ظلم کی راہ و روش اختیار کی۔ اور ان کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں (معجزے) لے آئے مگر وہ ایسے تھے ہی نہیں کہ ایمان لاتے ہم اسی طرح مجرم لوگوں کو سزا دیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تم سے پہلے بہت سے زمانوں کے لوگ ہلاک کر دیے، جب انھوں نے ظلم کیا اور ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں لے کر آئے اور وہ ہرگز ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ اسی طرح ہم مجرم لوگوں کو جزا دیا کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ سابقہ اقوام پر تکذیب رسول کی وجہ سے عذاب آئے تہس نہس ہوگئے۔ اب تم ان کے قائم مقام ہو اور تمہارے پاس بھی افضل الرسل صلی اللہ علیہ وسلم آچکے ہیں، اللہ دیکھ رہا ہے کہ تمہارے اعمال کی کیا کیفیت رہتی ہے؟ ‘ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا میٹھی، مزے کی، سبز رنگ والی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں خلیفہ بنا کر دیکھ رہا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو؟ دنیا سے ہوشیار رہو، اور عورتوں سے ہوشیار رہو، بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کا ہی آیا تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2742] سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا آسمان سے ایک رسی لٹکائی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اسے مکمل تھام لیا، پھر لٹکائی گئی تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح اسے مضبوطی سے تھام لیا۔ پھر منبر کے اردگرد لوگوں نے ماپنا شروع کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تین ذراع بڑھ گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ خواب سن کر فرمایا بس ہٹاؤ بھی، ہمیں خوابوں کیا حاجت؟ پھر اپنی خلافت کے زمانے میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا ”عوف تمہارا خواب کیا تھا؟“ سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے کہا جانے دیجئیے۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کو اس کی ضرورت ہی نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جب مجھے ڈانٹ دیا پھر اب کیوں پوچھتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس وقت تو تم خلیفۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی موت کی خبر دے رہے تھے۔ اب بیان کرو انہوں نے بیان کیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لوگوں کا منبر کی طرف تین ذراع پانا یہ تھا کہ ایک تو خلیفہ برحق تھا، دوسرے خلیفہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے بالکل بے پرواہ تھا۔ تیسرا خلیفہ شہید ہے۔“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ پھر ہم نے تمہیں خلیفہ بنایا کہ ہم تمہارے اعمال دیکھیں ‘۔ اے عمر رضی اللہ عنہ کی ماں کے لڑکے تو خلیفہ بنا ہوا ہے،خوب دیکھ بھال لے کہ کیا کیا عمل کر رہا ہے؟ آپ کا فرمان کہ ”میں اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کرتا“ سے مراد ان چیزوں میں ہے جو اللہ چاہے۔ شہید ہونے سے مراد یہ ہے کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی اس وقت مسلمان آپ رضی اللہ عنہ کے مطیع و فرمانبردار تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17090:ضعیف]
13۔ 1 یہ کفار کو تنبیہ ہے کہ گزشتہ امتوں کی طرح تم بھی ہلاکت سے دو چار ہوسکتے ہو۔
(آیت 13) {وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ …:} قرن سے مراد ایک عہد کے لوگ ہیں، یہاں مراد ایسی اقوام ہیں جنھوں نے اپنے اپنے دور میں عروج حاصل کیا، پھر ظلم کی وجہ سے ملیا میٹ کر دی گئیں، یا عروج سے زوال میں جاگریں۔ یہ دونوں صورتیں ہی ہلاکت ہیں۔ اوپر بتایا کہ ان کی بددعا اور طلب پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نہ اترنے میں سراسر اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے، پھر ان کا حال یہ ہے کہ تکلیف نازل ہونے پر آہ و زاری کرنے لگتے ہیں، اب انھیں ڈرایا جا رہا ہے کہ تمھاری بداعمالیوں کے باوجود اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹل جائے تو تمھیں بے فکر نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ایک نہ ایک دن ان بداعمالیوں کی سزا تو مل کر ہی رہے گی۔ تمھیں چاہیے کہ پہلی مجرم قوموں کے حالات پر غور کرو کہ آخر ان کا انجام کیا ہوا۔
اب ان کے بعد ہم نے تم کو زمین میں ان کی جگہ دی ہے تاکہ دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ان کے بعد ہم نے دنیا میں بجائے ان کے تم کو جانشین کیا تاکہ ہم دیکھ لیں کہ تم کس طرح کام کرتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں جانشین کیا کہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے ان (نسلوں) کے بعد تمہیں روئے زمین پر ان کا جانشین بنایا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
پھر ان کے بعد ہم نے تمھیں زمین میں جانشین بنا دیا، تاکہ ہم دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ سابقہ اقوام پر تکذیب رسول کی وجہ سے عذاب آئے تہس نہس ہوگئے۔ اب تم ان کے قائم مقام ہو اور تمہارے پاس بھی افضل الرسل صلی اللہ علیہ وسلم آچکے ہیں، اللہ دیکھ رہا ہے کہ تمہارے اعمال کی کیا کیفیت رہتی ہے؟ ‘ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا میٹھی، مزے کی، سبز رنگ والی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں خلیفہ بنا کر دیکھ رہا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو؟ دنیا سے ہوشیار رہو، اور عورتوں سے ہوشیار رہو، بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کا ہی آیا تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2742] سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا آسمان سے ایک رسی لٹکائی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اسے مکمل تھام لیا، پھر لٹکائی گئی تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح اسے مضبوطی سے تھام لیا۔ پھر منبر کے اردگرد لوگوں نے ماپنا شروع کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تین ذراع بڑھ گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ خواب سن کر فرمایا بس ہٹاؤ بھی، ہمیں خوابوں کیا حاجت؟ پھر اپنی خلافت کے زمانے میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا ”عوف تمہارا خواب کیا تھا؟“ سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے کہا جانے دیجئیے۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کو اس کی ضرورت ہی نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جب مجھے ڈانٹ دیا پھر اب کیوں پوچھتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس وقت تو تم خلیفۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی موت کی خبر دے رہے تھے۔ اب بیان کرو انہوں نے بیان کیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لوگوں کا منبر کی طرف تین ذراع پانا یہ تھا کہ ایک تو خلیفہ برحق تھا، دوسرے خلیفہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے بالکل بے پرواہ تھا۔ تیسرا خلیفہ شہید ہے۔“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ پھر ہم نے تمہیں خلیفہ بنایا کہ ہم تمہارے اعمال دیکھیں ‘۔ اے عمر رضی اللہ عنہ کی ماں کے لڑکے تو خلیفہ بنا ہوا ہے،خوب دیکھ بھال لے کہ کیا کیا عمل کر رہا ہے؟ آپ کا فرمان کہ ”میں اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کرتا“ سے مراد ان چیزوں میں ہے جو اللہ چاہے۔ شہید ہونے سے مراد یہ ہے کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی اس وقت مسلمان آپ رضی اللہ عنہ کے مطیع و فرمانبردار تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17090:ضعیف]
14۔ 1 خلائف، خلیفہ کی جمع ہے۔ اس کے معنی ہیں، گزشتہ امتوں کا جانشین۔ یا ایک دوسرے کا جانشین۔
(آیت 14) {ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓىِٕفَ …:} یعنی ان کے بعد تمھیں زمین میں ان کے جانشین بنایا، اگر تم بھی ان کی طرح ظلم و سرکشی پر کمربستہ رہو گے تو تمھاری تباہی بھی یقینی ہے۔ یہ خطاب ان تمام لوگوں کو ہے جن کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔
جب انہیں ہماری صاف صاف باتیں سُنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ “اِس کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں کچھ ترمیم کرو " اے محمدؐ، ان سے کہو “میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبّدل کر لوں میں تو بس اُس وحی کا پیرو ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں جو بالکل صاف صاف ہیں تو یہ لوگ جن کو ہمارے پاس آنے کی امید نہیں ہے یوں کہتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی دوسرا قرآن ﻻئیے یا اس میں کچھ ترمیم کردیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) یوں کہہ دیجئے کہ مجھے یہ حق نہیں کہ میں اپنی طرف سے اس میں ترمیم کردوں بس میں تو اسی کا اتباع کروں گا جو میرے پاس وحی کے ذریعہ سے پہنچا ہے، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں جنہیں ہم سے ملنے کی امید نہیں کہ اس کے سوا اور قرآن لے آیئے یا اسی کو بدل دیجیے تم فرماؤ مجھے نہیں پہنچتا کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں میں تو اسی کا تابع ہوں جو میری طرف وحی ہوتی ہے میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب انہیں ہماری آیاتِ بینات (واضح آیتیں) پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جو لوگ مرنے کے بعد ہماری بارگاہ میں حاضری کی توقع نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں رد و بدل کر دو۔ آپ کہہ دیجیے! کہ مجھے یہ حق نہیں ہے کہ میں اپنی طرف سے اس میں کچھ رد و بدل کر دوں! میں تو بس اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے، کہتے ہیں کوئی قرآن اس کے سوا لے آ، یا اسے بدل دے۔ کہہ دے میرے لیے ممکن نہیں کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں، میں پیروی نہیں کرتا، مگر اسی کی جو میری طرف وحی کی جاتی ہے، بے شک میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار کی بدترین حجتیں ٭٭
مکے کے کفار کا بغض دیکھئیے قرآن سن کر کہنے لگے، اسے تو بدل لا، بلکہ کوئی اور ہی لا۔ تو جواب دے کہ یہ میرے بس کی بات نہیں میں تو اللہ کا غلام ہوں اس کا رسول ہوں اس کا کہا کہتا ہوں۔ اگر میں ایسا کروں تو قیامت کے عذاب کا مجھے ڈر ہے۔ دیکھو اس بات کی دلیل یہ کیا کم ہے؟ کہ میں ایک بے پڑھا لکھا شخص ہوں تم لوگ استاد کلام ہو لیکن پھر بھی اس کا معروضہ اور مقابلہ نہیں کرسکتے۔ میری صداقت و امانت کے تم خود قائل ہو۔ میری دشمنی کے باوجود تم آج تک مجھ پر انگلی ٹکا نہیں سکتے۔ اس سے پہلے میں تم میں اپنی عمر کا بڑا حصہ گزار چکا ہوں۔ کیا پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے؟ شاہ روم ہرقل نے ابوسفیان اور ان کے ساتھیوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں دریافت کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا دعویٰ نبوت سے پہلے کبھی تم نے اسے جھوٹ کی تہمت لگائی ہے؟ تو اسے باوجود دشمن اور کافر ہونے کے کہنا پڑا کہ نہیں، یہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت جو دشمنوں کی زبان سے بھی بے ساختہ ظاہر ہوتی تھی۔ ہرقل نے نتیجہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں کیسے مان لوں کہ لوگوں کے معاملات میں تو جھوٹ نہ بولے اور اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ لے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7] جعفر بن ابوطالب نے دربار نجاشی میں شاہ حبش سے فرمایا تھا ”ہم میں اللہ نے جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے ہم اس کی صدقت امانت نسب وغیرہ سب کچھ جانتے ہیں وہ نبوت سے پہلے ہم میں چالیس سال گزار چکے ہیں۔“ سعید بن مسیب سے تنتالیس سال مروی ہیں لیکن مشہور قول پہلا ہی ہے۔
15۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ کی الوہیت و واحدیت پر دلالت کرتے ہیں۔ 15۔ 2 مطلب یہ ہے کہ یا تو اس قرآن مجید کی جگہ قرآن ہی دوسرا لائیں یا پھر اس میں ہماری حسب خواہش تبدیلی کردیں۔ 15۔ 3 یعنی مجھ سے دونوں باتیں ممکن نہیں میرے اختیار میں ہی نہیں۔ 15۔ 4 یہ اس کی مذید تاکید ہے۔ میں تو صرف اس بات کا پیرو ہوں جو اللہ کی طرف سے مجھ پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں کسی کمی بیشی کا ارتکاب کروں گا تو یوم عظیم کے عذاب سے میں محفوظ نہیں رہ سکتا۔
(آیت 15) ➊ {وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيَاتُنَا بَيِّنٰتٍ …:} اس سے پچھلی آیات میں مشرکین کو مخاطب کیا تھا، یہاں ان کا ذکر غائب کے صیغے سے کیا ہے، اسے التفات کہتے ہیں اور یہاں اس سے مقصود مشرکین کی تحقیر اور ان پر ناراضگی کا اظہار ہے کہ یہ بے عقل لوگ خطاب کے قابل ہی نہیں ہیں۔ مشرکین کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور شرک کی تردید کا ذکر اور آخرت پر یقین کی بات سننا کسی طرح گوارا نہ تھا۔ وہ آیات الٰہی سن کر مطالبہ کرتے کہ اس قرآن کی جگہ کوئی اور قرآن لائیں، جس میں ہمارے لیے یہ تکلیف دہ باتیں نہ ہوں، بلکہ کچھ ہماری پسندیدہ باتیں بھی ہوں، اللہ کے سوا بھی کسی داتا، دستگیر، مشکل کشا، بگڑی بنانے والے کے اختیارات مذکور ہوں، اگر پورا قرآن اور نہیں لا سکتے تو اس میں ہماری خاطر داری کے لیے کچھ اپنے پاس ہی سے تبدیلیاں کر دیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان سے کہہ دیں کہ پورا قرآن اور لانا تو بہت دور کی بات ہے میں تو اس میں اپنی طرف سے ایک شوشہ بھی نہیں بدل سکتا۔ میرا کام نہ قرآن تصنیف کرنا ہے، نہ اس میں ترمیم، تبدیلی یا اضافہ کرنا۔ میرا کام صرف یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئے وہ پہنچا دوں، اگر میں ایسی کسی حرکت کا ارتکاب کروں گا تو میں اپنے رب کے عذاب سے ڈرتا ہوں جو بہت بڑے دن میں واقع ہونے والا ہے۔ ➋ بعض مفسرین نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تہمت لگاتے تھے کہ قرآن انھوں نے خود ہی تصنیف کیا ہے، اب اپنی اس بات کا ثبوت حاصل کرنے کے لیے وہ آپ سے کوئی اور قرآن لانے کا یا اس میں اپنے پاس سے تبدیلی کا مطالبہ کرتے تھے کہ اگر آپ یہ مطالبہ مان لیں گے تو ثابت ہو جائے گا کہ یہ قرآن خود انھی کا تصنیف کردہ ہے، پھر ہمیں آپ کو جھٹلانے اور مذاق اڑانے کا موقع مل جائے گا، کفار کی مراد پہلی تفسیر اور اس تفسیر میں مذکور دونوں باتیں ہی ہو سکتی ہیں اور ہیں۔
اور کہو “اگر اللہ کی مشیّت نہ ہوتی تو میں یہ قرآن تمہیں کبھی نہ سناتا اور اللہ تمہیں اس کی خبر تک نہ دیتا آخر اس سے پہلے میں ایک عمر تمہارے درمیان گزار چکا ہوں، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ یوں کہہ دیجئے کہ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو نہ تو میں تم کو وه پڑھ کر سناتا اور نہ اللہ تعالیٰ تم کو اس کی اطلاع دیتا کیونکہ میں اس سے پہلے تو ایک بڑے حصہ عمر تک تم میں ره چکا ہوں۔ پھر کیا تم عقل نہیں رکھتے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ اگر اللہ چاہتا تو میں اسے تم پر نہ پڑھتا نہ وہ تم کو اس سے خبردار کرتا تو میں اس سے پہلے تم میں اپنی ایک عمر گزار چکا ہوں تو کیا تمہیں عقل نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) کہہ دیجیے! اگر خدا چاہتا تو میں تمہیں قرآن پڑھ کر نہ سناتا اور نہ ہی وہ تمہیں اس پر مطلع فرماتا۔ آخر میں تو اس سے پہلے تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اگر اللہ چاہتا تو میں اسے تم پر نہ پڑھتا اور نہ وہ تمھیں اس کی خبر دیتا، پس بے شک میں تم میں اس سے پہلے ایک عمر رہ چکا ہوں، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار کی بدترین حجتیں ٭٭
مکے کے کفار کا بغض دیکھئیے قرآن سن کر کہنے لگے، اسے تو بدل لا، بلکہ کوئی اور ہی لا۔ تو جواب دے کہ یہ میرے بس کی بات نہیں میں تو اللہ کا غلام ہوں اس کا رسول ہوں اس کا کہا کہتا ہوں۔ اگر میں ایسا کروں تو قیامت کے عذاب کا مجھے ڈر ہے۔ دیکھو اس بات کی دلیل یہ کیا کم ہے؟ کہ میں ایک بے پڑھا لکھا شخص ہوں تم لوگ استاد کلام ہو لیکن پھر بھی اس کا معروضہ اور مقابلہ نہیں کرسکتے۔ میری صداقت و امانت کے تم خود قائل ہو۔ میری دشمنی کے باوجود تم آج تک مجھ پر انگلی ٹکا نہیں سکتے۔ اس سے پہلے میں تم میں اپنی عمر کا بڑا حصہ گزار چکا ہوں۔ کیا پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے؟ شاہ روم ہرقل نے ابوسفیان اور ان کے ساتھیوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں دریافت کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا دعویٰ نبوت سے پہلے کبھی تم نے اسے جھوٹ کی تہمت لگائی ہے؟ تو اسے باوجود دشمن اور کافر ہونے کے کہنا پڑا کہ نہیں، یہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت جو دشمنوں کی زبان سے بھی بے ساختہ ظاہر ہوتی تھی۔ ہرقل نے نتیجہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں کیسے مان لوں کہ لوگوں کے معاملات میں تو جھوٹ نہ بولے اور اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ لے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7] جعفر بن ابوطالب نے دربار نجاشی میں شاہ حبش سے فرمایا تھا ”ہم میں اللہ نے جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے ہم اس کی صدقت امانت نسب وغیرہ سب کچھ جانتے ہیں وہ نبوت سے پہلے ہم میں چالیس سال گزار چکے ہیں۔“ سعید بن مسیب سے تنتالیس سال مروی ہیں لیکن مشہور قول پہلا ہی ہے۔
16۔ 1 یعنی سارا معاملہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے، وہ چاہتا تو میں نہ تمہیں پڑھ کر سناتا نہ تمہیں اس کی کوئی اطلاع دی جاتی، بعض نے ادراکم بہ کے معنی کیے ہیں اعلمکم بہ علی لسانی، کہ وہ تم کو میری زبانی اس قرآن کی بابت کچھ بھی نہ بتلاتا۔ 16۔ 2 اور تم بھی جانتے ہو کہ دعوائے نبوت سے قبل چالیس سال میں نے تمہارے اندر گزارے کیا میں نے کسی استاذ سے کچھ سیکھا ہے؟ اسی طرح تم میری امانت و صداقت کے بھی قائل رہے ہو۔ کیا اب یہ ممکن ہے کہ میں اللہ پر افترا باندھنا شروع کردوں؟ مطلب ان دونوں باتوں کا یہ ہے کہ یہ قرآن اللہ ہی کا نازل کردہ ہے نہ میں نے کسی سے سن یا سیکھ کر اسے بیان کیا ہے اور نہ یوں ہی جھوٹ موٹ اسے اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے۔
(آیت 16){قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ …: ” تَلَوْتُ “ ” تَلاَ يَتْلُوْ تِلَاوَةً “} (ن) سے واحد متکلم ماضی معلوم کا صیغہ ہے۔ {” مَا تَلَوْتُهٗ“} میں اسے نہ پڑھتا۔ {” أَدْرٰي “} یہ{” دَرٰي يَدْرِيْ “} (ض) (جاننا، معلوم کرنا) سے باب افعال {”اَدْرٰي يُدْرِيْ“} کا ماضی معلوم واحد غائب کا صیغہ ہے۔ {” وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ “} اور نہ وہ تمھیں اس کی خبر دیتا، یا نہ وہ تمھیں یہ معلوم کرواتا۔ مطلب یہ ہے کہ میں نبوت سے پہلے ایک عمر، یعنی چالیس برس تم میں رہا، اس ساری مدت میں تم سب جانتے ہو کہ نہ مجھے پڑھنا آتا تھا نہ لکھنا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ}» [ العنکبوت: ۴۸ ] ”اور اس سے پہلے تو نہ کوئی کتاب پڑھتا تھا اور نہ اسے دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا، اس وقت باطل والے ضرور شک کرتے۔“ اور دیکھیے سورۂ شوریٰ (۵۲، ۵۳) اور تم سب کا میرے صدق اور امانت پر بھی اتفاق ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۳۳) تو کیا تمھاری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ قرآن جس کی سب سے چھوٹی سورت کی مثل پیش کرنے سے اللہ کے سوا پوری کائنات عاجز ہے، وہ میں نے کیسے تصنیف کر لیا اور تم اعتبار کیوں نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو نہ وہ اسے مجھ پر نازل کرتا، نہ میں اسے پڑھ کر تمھیں سناتا اور نہ وہ اس کی خبر تمھیں دیتا۔ اب کوئی اور قرآن میں کہاں سے لاؤں، یا اس میں اپنے پاس سے تبدیلی کیسے کروں؟ یہ بات میرے امکان اور میرے بس ہی میں نہیں۔
پھر اُس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسُوب کرے یا اللہ کی واقعی آیات کو جھُوٹا قرار دے یقیناً مجرم کبھی فلاح نہیں پا سکتے "
مولانا محمد جوناگڑھی
سو اس شخص سے زیاده کون ﻇالم ہوگا جو اللہ پرجھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھوٹا بتلائے، یقیناً ایسے مجرموں کو اصلاً فلاح نہ ہوگی
احمد رضا خان بریلوی
تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتیں جھٹلائے، بیشک مجرموں کا بھلا نہ ہوگا،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اس سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے جو خدا پر جھوٹا افترا باندھے؟ یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے یقینا مجرم کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو اللہ پر کوئی جھوٹ باندھے، یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ بے شک حقیقت یہ ہے کہ مجرم لوگ فلاح نہیں پاتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مجرم اور ظالموں کا سرغنہ ٭٭
اس سے زیادہ ظالم، اس سے زیادہ مجرم، اسے زیادہ سرکش اور کون ہو گا؟ جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور اس کی طرف نسبت کر کے وہ کہے جو اس نے نہ فرمایا ہو۔ رسالت کا دعویٰ کردے حالانکہ اللہ نے اسے نہ بھیجا ہو۔ ایسے جھوٹے لوگ تو عامیوں کے سامنے بھی چھپ نہیں سکتے چہ جائیکہ عاقلوں کے سامنے اس گناہ کا کبیرہ ترین ہونا تو کسی سے مخفی نہیں۔ پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ نبی علیہ السلام اس سے غافل رہیں؟ یاد رکھو جو بھی منصب نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کی صداقت یا جھوٹ پر ایسے دلائل قائم کر دیتی ہے کہ اس کا معاملہ بالکل ہی کھل جاتا ہے۔ ایک طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیجئے اور دوسری جانب مسلیمہ کذاب کو رکھئے تو اتنا ہی فرق معلوم ہوگا، جتنا آدھی رات اور دوپہر کے وقت میں دونوں کے اخلاق عادات، حالات کا معائنہ کرنے والا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور اس کی غلط گوئی میں کوئی شک نہیں کرسکتا۔ اسی طرح سجاح اور اسود عنسی کا دعویٰ ہے کہ نظر ڈالنے کے بعد کسی کو ان کے جھوٹ میں شک نہیں رہتا۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے کے لیے گئے۔ میں بھی گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نظریں پڑتے ہی میں نے سمجھ لیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے آدمی کا نہیں۔ پاس گیا تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ کلام سنا کہ { لوگو سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاتے رہا کرو صلہ رحمی قائم رکھو، راتوں کو لوگوں کی نیند کے وقت تہجد کی نماز پڑھا کرو تو سلامتی کے ساتھ جنت میں جاؤ گے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2485قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ اسی طرح جب سعد بن بکر کے قبیلے کے وفد میں سیدنا ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو پوچھا کہ اس آسمان کا بلند کرنے والا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ ہے }۔ اس نے پوچھا ان پہاڑوں کا گاڑنے ولا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ }۔ اس نے پوچھا اس زمین کا پھیلانے والا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ }، تو اس نے کہا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی اللہ کی قسم دیتا ہوں، جس نے ان آسمانوں کو بلند کیا، ان پہاڑوں کو گاڑ دیا اس زمین کو پھیلا دیا کہ کیا واقعی اللہ تعالیٰ ہی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول بنا کر ہماری طرف بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں اسی اللہ کی قسم ہاں }۔ اسی طرح نماز، زکوٰۃ، حج اور روزے کی بابت بھی اس نے ایسی ہی تاکیدی قسم دلا کر سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قسم کھا کر جواب دیا۔ تب اس نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں۔ اس کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ نہ میں اس پر بڑھاؤں گا اور نہ کم کروں گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:63] پس اس شخص نے صرف اسی پر قناعت کرلی۔ اور جو دلائل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے اس کے سامنے تھے ان پر اسے اعتبار آگیا۔ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں کتنا اچھا شعر کہا ہے «لَوْ لَمْ تَكُنْ فِيهِ آيَاتٌ مُبَيِّنَةٌ» «كَانَتْ بَدِيهَتُهُ تَأْتِيكَ بِالْخَبَرِ»
یعنی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں اگر اور ظاہر اور کھلی نشانیاں نہ بھی ہوتیں تو صرف یہی ایک بات کافی تھی کہ چہرہ دیکھتے ہی بھلائی اور خوبی تیری طرف لپکتی ہے۔ «فَصَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔ برخلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کذاب مسیلمہ کے جس نے اسے بیک نگاہ دیکھ لیا اس کا جھوٹ اس پر کھل گیا، خصوصاً جس نے اس کے فضول اقوال اور بدترین افعال دیکھ لیے، اسے اس کے جھوٹ میں ذرا سا شائبہ بھی نہ رہا۔ جسے وہ اللہ کا کلام کہہ رہا تھا اس کلام کی بدمزگی، اس کی بے کاری، تو اتنی ظاہر ہے کہ کلام کے سامنے پیش کئے جانے کے بھی قابل نہیں۔ لو اب تم ہی انصاف کرو، آیت الکرسی [البقرة:255] کے مقابلے میں اس ملعون نے یہ آیت بنائی تھی۔ «(يَا ضُفْدَعُ بِنْتَ الضُّفْدَعَيْنِ، نَقِّي كَمَا تُنَقِّينَ لَا الْمَاءُ تُكَدِّرِينَ، وَلَا الشَّارِبُ تَمْنَعِينَ)» یعنی اے مینڈکوں کے بچے مینڈک تو ٹراتا رہ۔ نہ تو پانی خراب کر سکے نہ پینے والوں کو روک سکے۔ اس طرح اس کے ناپاک کلام کے نمونے میں اس کی بنائی ایک اور آیت ہے کہ «(لَقَدْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى الْحُبْلَى، إِذْ أَخْرَجَ مِنْهَا نَسَمَةً تَسْعَى، مِنْ بَيْنِ صِفَاقٍ وَحَشَى)» اللہ نے حاملہ پر بڑی مہربانی فرمائی کہ اس کے پیٹ سے چلتی پھرتی جان برآمد کی، جھلی اور آنتوں کے درمیان سے۔ سورۃ الفیل کے مقابلے میں وہ پاجی کہتا ہے «(الْفِيلُ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْفِيلُ؟ لَهُ زُلْقُومٌ طَوِيلٌ)» یعنی ہاتھی اور کیا جانے تو کیا ہے ہاتھی؟ اس کی بڑی لمبی سونڈھ ہوتی ہے۔
والنازعات کا معارضہ کرتے ہوئے یہ کمینہ کہتا ہے «(وَالْعَاجِنَاتِ عَجْنًا، وَالْخَابِزَاتِ خَبْزًا، وَاللَّاقِمَاتِ لَقْمًا، إِهَالَةً وَسَمْنًا، إِنَّ قُرَيْشًا قَوْمٌ يَعْتَدُونَ)» یعنی آٹا گوندھنے والا اور روٹی پکانے والیاں، اور لقمے بنانے والیاں، سالن اور گھی سے، قریشی لوگ بہت آگے نکل گئے۔ اب آپ ہی انصاف کیجئے کہ یہ بچوں کا کھیل ہے یا نہیں؟ شریف انسان تو سوائے مذاق کے ایسی بات منہ سے بھی نہیں نکال سکتا پھر اس کا انجام دیکھئیے لڑائی میں مارا گیا، اس کا گروہ مٹ گیا۔ اس کے ساتھیوں پر لعنت برسی۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے پاس خائب و خاسر ہو کر منہ پر مٹی مل کر پیش ہوئے اور رو دھو کر توبہ کر کے جوں جوں کر کے جان بچائی۔ پھر تو اللہ کے سچے دین کی چاشنی سے ہونٹ چوسنے لگے۔ ایک روز ان سے خلیفۃ المسلمین امیر المؤمنین ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مسیلمہ کا قرآن تو سناؤ تو بہت سٹ پٹائے بے حد شرمائے اور کہنے لگے ہمیں اس ناپاک کلام کے زبان سے نکالنے پر مجبور نہ کیجئے ہمیں تو اس سے شرم معلوم ہوتی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں تو ضرور سناؤ تاکہ ہمارے مسلمان بھائیوں کو بھی اس کی رکاکت اور بے ہودگی معلوم ہو جائے۔ آخر مجبور ہو کر انہوں نہایت ہی شرماتے ہوئے کچھ پڑھا جس کا نمونہ اوپر گزرا کہ کہیں میں مینڈک کا ذکر کہیں ہاتھی کا کہیں روٹی کا کہیں حمل کا۔ اور وہ سارے ہی ذکر بےسود بے مزہ اور بے کار۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آخر میں فرمایا یہ تو بتاؤ تمہاری عقلیں کہاں ماری گئیں تھیں؟ واللہ اسے تو کوئی بے وقوف بھی ایک لمحہ کے لیے کلام اللہ نہیں کہہ سکتا۔
مذکور ہے کہ عمرو بن العاص اپنے کفر کے زمانے میں مسیلمہ کے پاس پہنچا، یہ دونوں بچپن کے دوست تھے اس سے پوچھا کہو عمرو تمہارے ہاں کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر آج کل جو وحی اتری ہو اس میں سے کچھ سنا سکتے ہو؟ اس نے کہا ہاں ان کے اصحاب رضی اللہ عنہم ایک مختصر سورت پڑھتے تھے جو میری زبان پر بھی چڑھ گئی لیکن بھائی اپنی مضمون کے لحاظ سے وہ سورت بہت بڑی اور بہت ہی اعلیٰ ہے اور لفظوں کے اعتبار سے بہت ہی مختصر اور بڑی جامع ہے۔ پھر اس نے سورۃ والعصر پڑھ سنائی۔ مسیلمہ چپکا ہوگیا بہت دیر کے بعد کہنے لگا مجھ پر اسی جیسی سورت اتری ہے۔ اس نے کہا ہاں تو بھی سنا دے تو اس نے پڑھا «(يَا وَبْرُ إِنَّمَا أَنْتِ أُذُنَانِ وَصَدْرٌ، وَسَائِرُكِ حَقْرٌ نَقْرٌ)» یعنی اے وبر جانور تیرے تو بس دو کان ہیں اور سینہ ہے، اور باقی جسم تو تیرا بالکل حقیر اور عیب دار ہے۔ یہ سنا کر عمرو سے پوچھتا ہے کہو دوست کیسی کہی؟ اس نے کہا دوست اپنے جھوٹ پر مہر لگا دی اور کیسی کہی؟ پس جب کہ ایک مشرک پر بھی سچے جھوٹے کی تمیز مشکل نہ ہوئی تو ایک صاحب عقل تمیز دار اور بایمان پر کیسے یہ بات چھپ سکتی ہے؟ اس کا بیان «وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَيْءٌ» ۱؎ [6-الأنعام:93] میں ہے یعنی ’ اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے یا اس کے طرف وحی نہ آنے کے باوجود وحی آنے کا دعویٰ کرنے والے سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں ‘۔ اسی طرح جو کہے کہ میں بھی اللہ کی طرح کا کلام اتار سکتا ہوں، مندرجہ بالا آیت میں بھی یہی فرمان ہے۔ پس وہ بڑا ہی ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے، وہ بڑا ہی ظالم ہے جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے۔ حجت ظاہر ہو جانے پر بھی نہ مانے۔ حدیث میں ہے { سب سے بڑا سرکش اور بدنصیب وہ ہے جو کسی نبی کو قتل کرے یا نبی اسے قتل کرے }۔ [مسند احمد32/4 [قال الشيخ الألباني:حسن]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 17){فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى …:} یعنی اگر یہ قرآن میں نے خود تصنیف کر لیا ہے، جیسا کہ تم سمجھتے ہو تو میں نے اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھا، جس سے بڑا کوئی گناہ نہیں، مگر اس کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا اوپر کے دلائل سے ثابت ہو چکا ہے، اس کے بعد بھی اگر تم نے اس کی آیات کو جھٹلایا تو تم سے بڑا ظالم اور گناہ گار کوئی نہیں اور ایسے گناہ گار اور مجرم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔
یہ لوگ اللہ کے سوا اُن کی پرستش کر رہے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع، اور کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں اے محمدؐ، ان سے کہو “کیا تم اللہ کو اُس بات کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں؟" پاک ہے وہ اور بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو معلوم نہیں، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں، وه پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ کے سوا ایسی چیز کو پوجتے ہیں جو ان کا کچھ بھلا نہ کرے اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں تم فرماؤ کیا اللہ کو وہ بات بتاتے ہو جو اس کے علم میں نہ آسمانوں میں ہے نہ زمین میں اسے پاکی اور برتری ہے ان کے شرک سے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ فائدہ اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں (اے رسول(ص)) تم کہو۔ کیا تم اللہ کو اس چیز کی اطلاع دیتے ہو جو خود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہے اور نہ زمین میں۔ پاک ہے اس کی ذات اور بلند و بالا ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انھیں نقصان پہنچاتی ہیں اور نہ انھیں نفع دیتی ہیں اور کہتے ہیں یہ لوگ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ کہہ دے کیا تم اللہ کو اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں؟ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شرک کے آغاز کی روداد ٭٭
مشرکوں کا خیال تھا کہ جن کو ہم پوجتے ہیں یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے اس غلط عقیدے کی قرآن کریم تردید فرماتا ہے کہ ’ وہ کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ان کی شفاعت تمہارے کچھ کام نہ آئے گی۔ تم تو اللہ کو بھی سکھانا چاہتے ہو گویا جو چیز زمین آسمان میں وہ نہیں جانتا تم اس کی خبر اسے دینا چاہتے ہو۔ یعنی یہ خیال غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک و کفر سے پاک ہے وہ برتر و بری ہے ‘۔ سنو پہلے سب کے سب لوگ اسلام پر تھے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر نوح علیہ السلام تک دس صدیاں وہ سب لوگ مسلمان تھے۔ پھر اختلاف رونما ہوا اور لوگوں نے تیری میری پرستش شروع کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے سلسلوں کو جاری کیا تاکہ «لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ» ۱؎ [8-الأنفال:42] ’ ثبوت و دلیل کے بعد جس کا جی چاہے زندہ رہے جس کا جی چاہے مر جائے ‘۔ چونکہ اللہ کی طرف سے فیصلے کا دن مقرر ہے۔ حجت تمام کرنے سے پہلے عذاب نہیں ہوتا اس لیے موت مؤخر ہے۔ ورنہ ابھی ہی حساب چکا دیا جاتا۔ مومن کامیاب رہتے اور کافر ناکام۔
18۔ 1 یعنی اللہ کی عبادت سے تجاوز کرکے نہ کہ اللہ کی عبادت ترک کرکے۔ کیونکہ مشرکین اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ اور غیر اللہ کی بھی۔ 18۔ 2 جب کہ معبود کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے اطاعت گزاروں کو بدلہ اور اپنے نافرمانوں کو سزا دینے پر قادر ہے۔ 18۔ 3 یعنی ان کی سفارش سے اللہ ہماری ضرورتیں پوری کردیتا ہے ہماری بگڑی بنا دیتا ہے یا ہمارے دشمن کی بنائی ہوئی بگاڑ دیتا ہے۔ یعنی مشرکین بھی اللہ کے سوا جن کی عبادت کرتے تھے ان کو نفع اور ضر میں مستقل نہیں سمجھتے تھے بلکہ اپنے اور اللہ کے درمیان واسطہ اور وسیلہ سمجھتے تھے۔ 18۔ 4 یعنی اللہ کو تو اس بات کا علم نہیں کہ اس کا کوئی شریک بھی ہے یا اس کی بارگاہ میں سفارشی بھی ہونگے، گویا یہ مشرکین اللہ کو خبر دیتے ہیں کہ تجھے خبر نہیں۔ لیکن ہم تجھے بتلاتے ہیں کہ تیرے شریک بھی ہیں اور سفارشی بھی ہیں جو اپنے عقیدت مندوں کی سفارش کریں گے۔ 18۔ 5 اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین کی باتیں بےاصل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک اور برتر ہے۔
(آیت 18) ➊ {وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …: } مکہ کے مشرک اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی کرتے تھے اور کچھ اور ہستیوں کو بھی غائبانہ پکارتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم انھیں اللہ تعالیٰ نہیں مانتے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ سے ہمارے کام کروا دیتے ہیں (دیکھیے زمر: ۳) اللہ تعالیٰ ان کی سفارش رد نہیں کرتا، حالانکہ وہ نہ انھیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے تھے نہ نقصان (دیکھیے مائدہ: ۷۶۔ فرقان: ۳) بلکہ ان کو خبر بھی نہ ہوتی تھی کہ کوئی ہمیں پکار رہا ہے یا ہماری پوجا کر رہا ہے۔ یہی حال ہمارے زمانے کے ان لوگوں کا ہے جو پیروں فقیروں کو حاجت روا اور مشکل کشا مانتے ہیں اور مردہ اولیاء اللہ کی قبروں کو سجدہ کرتے، ان کا طواف کرتے، ان پر چڑھاوے چڑھاتے اور ان کے سامنے عاجزی سے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ انھیں سمجھانے کے لیے جب کوئی بات کی جاتی ہے تو وہ یہی دلیل پیش کرتے ہیں کہ ہم ان بزرگوں کو یہ سمجھ کر تو سجدہ نہیں کرتے اور نہ ان سے مرادیں مانگتے ہیں کہ یہ خود اللہ تعالیٰ ہیں، بلکہ انھیں صرف اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنا سفارشی سمجھتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ان کا اتنا زور ہے اور ان کی محبت میں وہ ایسا مجبور ہے کہ وہ ان کی کوئی سفارش رد نہیں کر سکتا۔ اسی چیز کا جواب اگلے جملے میں دیا جا رہا ہے۔ ➋ {قُلْ اَتُنَبِّـُٔوْنَ۠ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ …:} یعنی اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی ہر بات اور ہر چیز کو جانتا ہے، بلکہ وہی انھیں پیدا کرنے والا اور ہر لمحہ پالنے والا ہے، تو وہ کیسے بے خبر ہو سکتا ہے۔ اگر معاذ اللہ، تمھارے یہ بت یا زندہ و مردہ معبود اس کے شریک یا سفارشی ہوتے تو وہ انھیں بھی ضرور جانتا ہوتا، جب وہ ان میں سے کسی کے بھی شریک یا سفارشی ہونے سے انکار کر رہا ہے تو معلوم ہوا کہ ان کا کوئی وجود یا حقیقت نہیں، اب تمھارے ان کو شریک یا سفارشی اور نفع و نقصان پہنچانے والے ماننے پر اصرار کا مطلب یہی ہے کہ اللہ کو تو آسمان و زمین میں کوئی ایسی ہستی معلوم نہیں ہے مگر تم اسے وہ چیز بتا رہے ہو جو اس کے علم ہی میں نہیں۔ معلوم ہوا تمھارا یہ کہنا اور اس کی بنیاد پر کیے جانے والے تمھارے سب افعال بالکل بے ہودہ اور لغو ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے شرک سے ہر طرح سے پاک اور بے حد بلند ہے، وہ نہ کسی مددگار کا محتاج ہے نہ کسی سفارشی کے ہاتھوں مجبور۔
ابتداءً سارے انسان ایک ہی امّت تھے، بعد میں انہوں نے مختلف عقیدے اور مسلک بنا لیے، اور اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ہی ایک بات طے نہ کر لی گئی ہوتی تو جس چیز میں وہ باہم اختلاف کر رہے ہیں اس کا فیصلہ کر دیا جاتا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تمام لوگ ایک ہی امت کے تھے پھر انہوں نے اختلاف پیداکرلیا اور اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے تو جس چیز میں یہ لوگ اختلاف کررہے ہیں ان کا قطعی فیصلہ ہوچکا ہوتا
احمد رضا خان بریلوی
اور لوگ ایک ہی امت تھے پھر مختلف ہوئے، اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو یہیں ان کے اختلافوں کا ان پر فیصلہ ہوگیا ہوتا
علامہ محمد حسین نجفی
اور (ابتداء میں) سب انسان ایک ہی امت تھے (دینِ فطرت پر تھے) پھر آپس میں اختلاف کیا اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک طئے شدہ بات نہ ہوتی (کہ اعمال کی جزا و سزا آخرت میں ہوگی) تو جن باتوں میں یہ لوگ باہم اختلاف کر رہے ہیں اس کا فیصلہ کر دیا گیا ہوتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت، پھر وہ جدا جدا ہوگئے اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے پہلے طے ہوچکی تو ان کے درمیان اس بات کے بارے میں ضرور فیصلہ کر دیا جاتا جس میں وہ اختلاف کرر ہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شرک کے آغاز کی روداد ٭٭
مشرکوں کا خیال تھا کہ جن کو ہم پوجتے ہیں یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے اس غلط عقیدے کی قرآن کریم تردید فرماتا ہے کہ ’ وہ کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ان کی شفاعت تمہارے کچھ کام نہ آئے گی۔ تم تو اللہ کو بھی سکھانا چاہتے ہو گویا جو چیز زمین آسمان میں وہ نہیں جانتا تم اس کی خبر اسے دینا چاہتے ہو۔ یعنی یہ خیال غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک و کفر سے پاک ہے وہ برتر و بری ہے ‘۔ سنو پہلے سب کے سب لوگ اسلام پر تھے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر نوح علیہ السلام تک دس صدیاں وہ سب لوگ مسلمان تھے۔ پھر اختلاف رونما ہوا اور لوگوں نے تیری میری پرستش شروع کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے سلسلوں کو جاری کیا تاکہ «لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ» ۱؎ [8-الأنفال:42] ’ ثبوت و دلیل کے بعد جس کا جی چاہے زندہ رہے جس کا جی چاہے مر جائے ‘۔ چونکہ اللہ کی طرف سے فیصلے کا دن مقرر ہے۔ حجت تمام کرنے سے پہلے عذاب نہیں ہوتا اس لیے موت مؤخر ہے۔ ورنہ ابھی ہی حساب چکا دیا جاتا۔ مومن کامیاب رہتے اور کافر ناکام۔
19۔ 1 یعنی یہ شرک، لوگوں کی اپنی ایجاد ہے ورنہ پہلے پہل اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ تمام لوگ ایک ہی دین اور ایک ہی طریقہ پر تھے اور وہ اسلام ہے جس میں توحید کی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ حضرت نوح ؑ تک لوگ اسی توحید پر قائم رہے پھر ان میں اختلاف ہوگیا اور کچھ لوگوں نے اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی معبود، حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا شروع کردیا۔ 19۔ 2 یعنی اگر اللہ کا فیصلہ نہ ہوتا کہ، تمام حجت سے پہلے کسی کو عذاب نہیں دیتا، اس طرح اس نے مخلوق کے لئے ایک وقت کا تعین نہ کیا ہوتا تو یقینا وہ ان کے مابین اختلافات کا فیصلہ اور مومنوں کو سعادت مند اور کافروں کو عذاب میں مبتلا کرچکا ہوتا۔
(آیت 19) ➊ { وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا:} اس زمانے کے ملحد فلسفیوں اور تاریخ سازوں کے برعکس قرآن بار بار یہ اعلان کرتا ہے کہ انسانیت کی ابتدا کفر یا شرک سے نہیں بلکہ خالص توحید سے ہوئی۔ ابتدا میں تمام انسان ایک ہی دین، یعنی اسلام رکھتے تھے اور ایک ہی ان کی ملت تھی، لیکن آہستہ آہستہ انھوں نے اس دین سے انحراف کیا اور اپنی خواہشات کے پیچھے لگ کر آپس میں اختلاف کرکے اپنی اپنی مرضی کے دین اور قانون گھڑ لیے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۳)۔ ➋ {وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ …:} یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی یہ فیصلہ نہ کر لیا ہوتا کہ دنیا میں لوگوں کو مہلت دی جائے گی، تاکہ وہ اپنی عقل و فہم سے کام لے کر جس راستے کو چاہیں اختیار کریں اور جس راستے کو چاہیں چھوڑ دیں اور قیامت ہی کے دن انھیں ان کے اچھے یا برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا تو کبھی کا اللہ تعالیٰ حقیقت کو بے نقاب کرکے ان لوگوں کو پکڑ چکا ہوتا جو ایمان کا راستہ چھوڑ کر کفر و شرک کے راستے پر چل رہے ہیں۔ (ابن کثیر، قرطبی)
اور یہ جو وہ کہتے ہیں کہ اِس نبیؐ پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی، تو ان سے کہو “غیب کا مالک و مختار تو اللہ ہی ہے، اچھا، انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں "
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان پر ان کے رب کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں نازل ہوتی؟ سو آپ فرما دیجئے کہ غیب کی خبر صرف اللہ کو ہے سو تم بھی منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور کہتے ہیں ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری تم فرماؤ غیب تو اللہ کے لیے ہے اب راستہ دیکھو میں بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھ رہا ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر(ص)) پر ان کے پروردگار کی طرف سے (ان کی مطلوبہ) کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوتی؟ کہہ دیجیئے کہ غیب کا علم اللہ سے مخصوص ہے سو تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ کہتے ہیں اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی؟ سو کہہ دے غیب تو صرف اللہ کے پاس ہے، پس انتظار کرو، بے شک میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ثبوت صداقت مانگنے والے ٭٭
کہتے ہیں کہ اگر یہ سچا نبی ہے تو جیسے آل ثمود کو اونٹنی ملی تھی انہیں ایسی کوئی نشانی کیوں نہیں ملی؟ چاہیئے تھا کہ یہ صفا پہاڑ کوسونا بنا دیتا یا مکے کے پہاڑوں کو ہٹا کر یہاں کھیتیاں باغ اور نہریں بنا دیتا۔ گو اللہ کی قدرت اس سے عاجز نہیں لیکن اس کی حکمت کا تقاضا وہی جانتا ہے۔ آیت میں ہے «تَبَارَكَ الَّذِي إِن شَاءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِّن ذَٰلِكَ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَيَجْعَل لَّكَ قُصُورًا بَلْ كَذَّبُوا بِالسَّاعَةِ وَأَعْتَدْنَا لِمَن كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:10] ’ اگر وہ چاہے تو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے باغات اور نہریں بنا دے لیکن یہ پھر بھی قیامت کے منکر ہی رہیں گے اور آخر جہنم میں جائیں گے ‘۔ آیت میں ہے «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا» ۱؎ [17-الإسراء:59] ’ اگلوں نے بھی ایسے معجزے طلب کئے دکھائے گئے پھر بھی جھٹلایا تو عذاب اللہ آگئے ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی فرمایا گیا تھا کہ ’ اگر تم چاہو تو میں ان کے منہ مانگے معجزے دکھا دوں لیکن پھر بھی یہ کافر رہے تو غارت کر دیئے جائیں گے اور اگر چاہو تو مہلت دوں ‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حلم و کرم سے دوسری بات ہی اختیار کی۔ یہاں حکم ہوتا ہے کہ ’ غیب کا علم اللہ ہی کو ہے تمام کاموں کا انجام وہی جانتا ہے۔ تم ایمان نہیں لاتے تو نتیجے کے منتظر رہو۔ دیکھو میرا کیا ہوتا ہے اور تمہارا کیا ہوتا ہے؟ ‘ آہ! کیسے بدنصیب تھے جو مانگتے تھے اس سے بدرجہا بڑھ کر دیکھ چکے تھے اور سب معجزوں کو جانے دو چاند کو ایک اشارے سے دو ٹکڑے کر دینا ایک ٹکڑے کا پہاڑ کے اس طرف اور دوسرے کا اس طرف چلے آنا کیا یہ معجزہ کس طرح اور کس معجزے سے کم تھا؟ لیکن چونکہ ان کا یہ سوال محض کفر کی بنا پر تھا ورنہ یہ بھی اللہ دکھا دیتا جن پر عذاب عملاً آ جاتا ہے وہ چاہے دنیا بھر کے معجزے دیکھ لیں انہیں ایمان نصیب نہیں ہوتا۔ آیت میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:96،97] یعنی ’ جن لوگوں کے بارے میں خدا کا حکم (عذاب) قرار پاچکا ہے وہ ایمان نہیں لانے کے، جب تک کہ عذاب الیم نہ دیکھ لیں خواہ ان کے پاس ہر (طرح کی) نشانی آ جائے۔
اگر ان پر فرشتے اترتے اگر ان سے مردے باتیں کرتے اگر ہر ایک چیز ان کے سامنے کر دی جاتی پھر بھی انہیں تو ایمان نصیب نہ ہوتا اسی کا بیان آیت «وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ» ۱؎ [14-الحجر:14،15] ، اور آیت «وَإِن يَرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاءِ سَاقِطًا يَقُولُوا سَحَابٌ مَّرْكُومٌ» ۱؎ [52-الطور:44] ، اور آیت «وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا فِيْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَيْدِيْهِمْ لَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْـرٌ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [6-الأنعام:7] میں بھی ہوا ہے۔ پس ایسے لوگوں کو ان کے منہ مانگے معجزے دکھانے بھی بے سود ہیں۔ اس لیے کہ انہوں نے تو کفر پر گرہ لگا لی ہے۔ اس لیے فرما دیا کہ ’ آگے چل کر دیکھ لینا کہ کیا ہوتا ہے ‘۔
20۔ 1 اس سے مراد کوئی بڑا اور واضح معجزہ، جیسے قوم ثمود کے لئے اونٹنی کا ظہور ہوا ان کے لئے صفا پہاڑی سونے کا یا مکہ کے پہاڑوں کو ختم کرکے ان کی جگہ نہریں اور باغات بنانے کا یا اور اس قسم کا کوئی معجزہ صادر کرکے دکھلایا جائے۔ 20۔ 2 یعنی اگر اللہ چاہے تو ان کی خواہشات کے مطابق وہ معجزے تو ظاہر کرکے دکھا سکتا ہے۔ لیکن اس کے بعد بھی اگر وہ ایمان نہ لائے تو پھر اللہ کا قانون یہ ہے کہ ایسی قوم کو فوراً وہ ہلاک کردیتا ہے۔ اس لئے اس بات کا علم صرف اسی کو ہے کہ کسی قوم کے لئے اس کی خواہشات کے مطابق معجزے ظاہر کردیتا اس کے حق میں بہتر ہے یا نہیں؟ اور اس طرح اس بات کا علم بھی صرف اسی کو ہے کہ ان کے مطلوبہ معجزے اگر ان کو دکھائے گئے تو انہیں، کتنی مہلت دی جائے گی، اسی لئے آگے فرمایا، ' تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔
(آیت 20) ➊ {وَ يَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ:} مثلاً یہ مکہ کے سب پہاڑ سونے کے کر دیتا، ہمارے باپ دادا کو زندہ کرکے ہمارے سامنے لا کھڑا کرتا، یا کوئی فرشتہ اتار دیتا جو اس کے ساتھ بازاروں اور گلی کوچوں میں چل پھر کر اعلان کرتا کہ واقعی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اللہ ہی نے اپنا پیغمبر بنا کر دنیا میں بھیجا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل (۹۰تا ۹۳) میں ان کی معجزوں کی کئی فرمائشیں ذکر ہوئی ہیں۔ ➋ { فَقُلْ اِنَّمَا الْغَيْبُ لِلّٰهِ …:} یعنی اللہ کے سوا کوئی غیب کی بات نہیں جانتا، لہٰذا مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس قسم کی کوئی نشانی اتارے گا کہ نہیں اور اگر اتارے گا تو کب اتارے گا۔ نشانی اتارنا یا نہ اتارنا اس کی مرضی پر موقوف ہے، اگر تم سمجھتے ہو کہ وہ نشانی اتارے گا تب تم ایمان لاؤ گے تو بیٹھے انتظار کرتے رہو، میں بھی دیکھوں گا تمھارا یہ مطالبہ پورا ہوتا ہے یا نہیں۔ (مگر تمھارے جیسے لوگوں کے متعلق تجربہ یہی ہے کہ وہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے، بلکہ ایمان نہ لانے کا بہانہ بنانے کے لیے معجزے کو بھی جھٹلا دیتے ہیں۔ دیکھیے انعام: ۷، ۱۱۱۔ بنی اسرائیل: ۵۹)۔
لوگوں کا حال یہ ہے کہ مصیبت کے بعد جب ہم ان کو رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو فوراً ہی وہ ہماری نشانیوں کے معاملہ میں چال بازیاں شروع کر دیتے ہیں ان سے کہو “اللہ اپنی چال میں تم سے زیادہ تیز ہے، اس کے فرشتے تمہاری سب مکّاریوں کو قلم بند کر رہے ہیں "
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ہم لوگوں کو اس امر کے بعد کہ ان پر کوئی مصیبت پڑ چکی ہو کسی نعمت کامزه چکھا دیتے ہیں تو وه فوراً ہی ہماری آیتوں کے بارے میں چالیں چلنے لگتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ چال چلنے میں تم سے زیاده تیز ہے، بالیقین ہمارے فرشتے تمہاری سب چالوں کو لکھ رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب کہ ہمارے آدمیوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں کسی تکلیف کے بعد جو انہیں پہنچی تھی جبھی وہ ہماری آیتوں کے ساتھ داؤں چلتے ہیں تم فرمادو اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے جلد ہوجاتی ہے بیشک ہمارے فرشتے تمہارے مکر لکھ رہے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ہم لوگوں کو تکلیف اور دکھ درد کے بعد (اپنی) رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ فوراً ہماری آیتوں میں چال بازی و حیلہ سازی کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دیجیئے کہ اللہ تدبیر و ترکیب میں (تم سے) زیادہ تیز ہے بے شک ہمارے فرستادہ (فرشتے) تمہاری سب چالبازیاں اور مکاریاں برابر لکھتے جا رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ہم لوگوں کو کوئی رحمت چکھاتے ہیں، کسی تکلیف کے بعد، جو انھیں پہنچی ہو، تو اچانک ان کے لیے ہماری آیات کے بارے میں کوئی نہ کوئی چال ہوتی ہے۔ کہہ دے اللہ چال میں زیادہ تیز ہے۔ بے شک ہمارے بھیجے ہوئے لکھ رہے ہیں جو تم چال چلتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احسان فراموش انسان ٭٭
انسان کی ناشکری کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ اسے سختی کے بعد کی آسانی، خشک سالی کے بعد کی ترسالی، قحط کے بعد کی بارش اور بھی ناشکرا کر دیتی ہے یہ ہماری آیتوں سے مذاق اڑانے لگتا ہے۔ کیا تو اس وقت ہماری طرف ان کا جھکنا اور کیا اس وقت ان کا اکڑنا نہیں دیکھتا ‘۔ { رات کو بارش ہوئی، صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر پوچھا { جانتے بھی ہو رات کو باری تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے؟ } صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ہمیں کیا خبر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ کا ارشاد ہوا ہے کہ صبح کو میرے بہت سے بندے ایماندار ہو جائیں گے اور بہت سے کافر۔ کچھ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارش ہوئی وہ مجھ پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے اور ستاروں کی ایسی تاثیروں کے منکر ہو جائیں گے اور کچھ کہیں گے کہ فلاں فلاں نچھتر کی وجہ سے بارش برسائی گئی وہ مجھ سے کافر ہو جائیں گے اور ستاروں پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے } }۔ [صحیح بخاری:846] یہاں فرماتا ہے کہ ’ جیسے یہ چالبازی ان کی طرف سے ہے۔ میں بھی اس کے جواب سے غافل نہیں انہیں ڈھیل دیتا ہوں۔ یہ اسے غفلت سمجھتے ہیں پھر جب پکڑ آ جاتی ہے تو حیران و ششدر رہ جاتے ہیں۔ میں غافل نہیں۔ میں نے تو اپنے امین فرشتے چھوڑ رکھے ہیں جو ان کے کرتوت برابر لکھتے جا رہے ہیں۔ پھر میرے سامنے پیش کریں گے میں خود دانا بینا ہوں لیکن تاہم وہ سب تحریر میرے سامنے ہو گی۔ جس میں ان کے چھوٹے بڑے بڑے بھلے سب اعمال ہوں گے۔ اسی اللہ کی حفاظت میں تمہارے خشکی اور تری کے سفر ہوتے ہیں۔ تم کشتیوں میں سوار ہو، موافق ہوائیں چل رہی ہیں۔ کشتیاں تیر کی طرح منزل مقصود کو جا رہی ہیں تم خوشیاں منا رہے ہو کہ یکایک باد مخالف چلی اور چاروں طرف سے پہاڑوں کی طرح موجیں اٹھ کھڑی ہوئیں ‘۔
«وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:67] سمندر میں تلاطم شروع ہو گیا، کشتی تنکے کی طرح جھکولے کھانے لگی اور تمہارے کلیجے الٹنے لگے، ہر طرف سے موت نظر آنے لگی، اس وقت سارے بنے بنائے معبود اپنی جگہ دھرے رہ گئے اور نہایت خشوع وخضوع سے صرف مجھ سے دعائیں مانگیں جانے لگیں وعدے کئے جانے لگے کہ اب کے اس مصیبت سے نجات مل جانے کے بعد شکر گزاری میں باقی عمر گزار دیں گے، توحید میں لگے رہیں گے کسی کو اللہ کا شریک نہیں بنائیں گے، آج سے خالص توبہ ہے۔ لیکن ادھر نجات ملی، کنارے پر اترے، خشکی میں چلے پھرے کہ اس مصیبت کے وقت کو اس خالص دعا کو پھر اقرار شکرو توحید کو یکسر بھول گئے اور ایسے ہو گئے گویا ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ ہم سے کبھی معاملہ ہی نہ پڑا تھا۔ ناحق اکڑفوں کرنے لگے، مستی میں آ گئے۔ لوگو! تمہاری اس سرکشی کا وبال تم پر ہی ہے۔ تم اس سے دوسروں کا نہیں بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہو۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { وہ گناہ جس پر یہاں بھی اللہ کی پکڑ نازل ہو اور آخر میں بھی بدترین عذاب ہو فساد و سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی نہیں } }۔ [سنن ابوداود4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] تم اس دنیائے فانی کے تھوڑے سے برائے نام فائدے کو چاہے اٹھالو لیکن آخر انجام تو میری طرف ہی ہے۔ میرے سامنے آؤ گے میرے قبضے میں ہو گے۔ اس وقت ہم خود تمہیں تمہاری بد اعمالیوں پر متنبہ کریں گے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیں گے لہٰذا اچھائی پاکر ہمارا شکر کرو اور برائی دیکھ کر اپنے سوا کسی اور کو ملامت اور الزام نہ دو۔
21۔ 1 مصیبت کے بعد نعمت کا مطلب ہے۔ تنگی، قحط سالی اور آلام و مصائب کے بعد، رزق کی فروانی، اسباب معیشت کی ارزانی وغیرہ۔ 21۔ 2 اس کا مطلب ہے کہ ہماری ان نعمتوں کی قدر اور ان پر اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ کفر اور شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یعنی ان کی وہ بری تدبیر ہے جو اللہ کی نعمتوں کے مقابلے میں اختیار کرتے ہیں۔ 21۔ 3 یعنی اللہ کی تدبیر ان سے کہیں زیادہ تیز ہے جو وہ اختیار کرتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ ان کا مواخذہ کرنے پر قادر ہے، وہ جب چاہے ان کی گرفت کرسکتا ہے، فوراً بھی اور اس کی حکمت تاخیر کا تقاضا کرنے والی ہو تو بعد میں بھی۔ مکر، عربی زبان میں خفیہ تدبیر اور حکمت عملی کو کہتے ہیں، جو اچھی بھی ہوسکتی ہے اور بری بھی۔ یہاں اللہ کی عقوبت اور گرفت مکر سے تعبیر ہے۔
(آیت 21) ➊ { اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِيْۤ اٰيَاتِنَا:} یعنی جب ہم لوگوں کو بیماری کے بعد شفا، قحط کے بعد خوش حالی، جنگ کے بعد امن یا انھیں پہنچنے والی کسی بھی تکلیف کے بعد اپنی کسی رحمت کی لذت چکھاتے ہیں تو ہمارے شکر گزار ہو کر ہماری توحید اور ہمارے رسول کی رسالت ماننے کے بجائے اسے جھٹلانے اور اس کا مذاق اڑانے کی کوئی نہ کوئی چال اختیار کرتے ہیں۔ ”مکر“ کا معنی خفیہ تدبیر ہے، جو شر کے لیے ہو، یہ لفظ کبھی خیر کے لیے بھی استعمال ہو جاتا ہے، یا مقابلے میں بول لیا جاتا ہے۔ کفار کی اس عادت کی مثال فرعون کا پے در پے معجزے دیکھ کر انھیں جادو کہہ کر ایمان لانے سے انکار ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۳۰ تا ۱۳۶) انسان کی اس عادت کا تذکرہ سورۂ زمر (۸)، ہود (۱۰) اور اعراف (۹۵) میں بھی کیا گیا ہے۔ ➋ { قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا:} اللہ کی چال سے مراد وہ سزا ہے جو وہ مشرکین کو ان کی مکاریوں اور چال بازیوں پر دیتا ہے اور وہ ہے اس کا انھیں ان کی باغیانہ روش پر چھوٹ دینا اور انھیں اپنے رزق اور نعمتوں سے نوازتے رہنا، تاکہ وہ جی بھر کر اپنا نامۂ اعمال سیاہ کرتے رہیں۔ ➌ { اِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ:} یعنی جب تمھارا نامۂ اعمال خوب سیاہ ہو جائے گا تو اچانک موت کا پیغام آ جائے گا اور تم اپنے اعمال کا حساب دینے کے لیے دھر لیے جاؤ گے۔ شاہ عبد القادررحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”سختی کے وقت آدمی کی نظر اسباب سے اٹھ کر اللہ پر رہتی ہے، جب کام بن گیا تو لگا اسباب پر نگاہ رکھنے۔ سو ڈرتا نہیں کہ اللہ پھر کوئی سبب کھڑا کر دے اسی تکلیف کا، سب اسباب اس کے ہاتھ میں (ہر وقت) تیار ہیں، ایک اسی کی صورت آگے اور فرمائی۔“ (موضح)
وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے چنانچہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو کر بادِ موافق پر فرحاں و شاداں سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکایک بادِ مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ طوفان میں گھر گئے، اُس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کر کے اس سے دُعائیں مانگتے ہیں کہ “اگر تو نے ہم کو اس بلا سے نجات دے دی تو ہم شکر گزار بندے بنیں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
وه اللہ ایسا ہے کہ تم کو خشکی اور دریا میں چلاتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور وه کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعہ سے لے کر چلتی ہیں اور وه لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں ان پر ایک جھونکا سخت ہوا کا آتا ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وه سمجھتے ہیں کہ (برے) آ گھرے، (اس وقت) سب خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارتے ہیں کہ اگر تو ہم کو اس سے بچالے تو ہم ضرور شکر گزار بن جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
وہی ہے کہ تمہیں خشکی اور تری میں چلاتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہو اور وہ اچھی ہوا سے انھیں لے کر چلیں اور اس پر خوش ہوئے ان پر آندھی کا جھونکا آیا اور ہر طرف لہروں نے انہیں آلیا اور سمجھ لے کہ ہم گِھر گئے اس وقت اللہ کو پکارتے ہیں نرے اس کے بندے ہوکر، کہ اگر تو اس سے ہمیں بچالے گا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (خدا) وہی ہے جو تمہیں خشکی و تری میں سیر و سفر کراتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو اور وہ موافق ہوا کے مطابق مسافروں کو لے کر چلتی ہیں اور وہ خوش و خرم ہوتے ہیں تو پھر اچانک بادِ مخالف کا تھپیڑ آجاتا ہے اور ہر طرف سے موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب ہم بالکل گھر گئے ہیں (اور زندہ بچنے کی کوئی امید باقی نہیں رہتی) تو اس وقت دین کو اللہ کے لئے خالص کرکے یعنی بڑے اخلاص کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیں کہ (یا اللہ) اگر تو ہمیں اس (مصیبت) سے نجات دے دے تو ہم ضرور تیرے شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
وہی ہے جو تمھیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ انھیں لے کر عمدہ ہوا کے ساتھ چل پڑتی ہیں اور وہ اس پر خوش ہوتے ہیں تو ان (کشتیوں) پر سخت تیز ہوا آجاتی ہے اور ان پر ہر جگہ سے موج آجاتی ہے اور وہ یقین کر لیتے ہیں کہ ان کو گھیر لیا گیا ہے، تو اللہ کو اس طرح پکارتے ہیں کہ ہر عبادت کو اس کے لیے خالص کرنے والے ہوتے ہیں، یقینا اگر تو نے ہمیں اس سے نجات دے دی تو ہم ضرور ہی شکر کرنے والوں سے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احسان فراموش انسان ٭٭
انسان کی ناشکری کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ اسے سختی کے بعد کی آسانی، خشک سالی کے بعد کی ترسالی، قحط کے بعد کی بارش اور بھی ناشکرا کر دیتی ہے یہ ہماری آیتوں سے مذاق اڑانے لگتا ہے۔ کیا تو اس وقت ہماری طرف ان کا جھکنا اور کیا اس وقت ان کا اکڑنا نہیں دیکھتا ‘۔ { رات کو بارش ہوئی، صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر پوچھا { جانتے بھی ہو رات کو باری تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے؟ } صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ہمیں کیا خبر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ کا ارشاد ہوا ہے کہ صبح کو میرے بہت سے بندے ایماندار ہو جائیں گے اور بہت سے کافر۔ کچھ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارش ہوئی وہ مجھ پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے اور ستاروں کی ایسی تاثیروں کے منکر ہو جائیں گے اور کچھ کہیں گے کہ فلاں فلاں نچھتر کی وجہ سے بارش برسائی گئی وہ مجھ سے کافر ہو جائیں گے اور ستاروں پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے } }۔ [صحیح بخاری:846] یہاں فرماتا ہے کہ ’ جیسے یہ چالبازی ان کی طرف سے ہے۔ میں بھی اس کے جواب سے غافل نہیں انہیں ڈھیل دیتا ہوں۔ یہ اسے غفلت سمجھتے ہیں پھر جب پکڑ آ جاتی ہے تو حیران و ششدر رہ جاتے ہیں۔ میں غافل نہیں۔ میں نے تو اپنے امین فرشتے چھوڑ رکھے ہیں جو ان کے کرتوت برابر لکھتے جا رہے ہیں۔ پھر میرے سامنے پیش کریں گے میں خود دانا بینا ہوں لیکن تاہم وہ سب تحریر میرے سامنے ہو گی۔ جس میں ان کے چھوٹے بڑے بڑے بھلے سب اعمال ہوں گے۔ اسی اللہ کی حفاظت میں تمہارے خشکی اور تری کے سفر ہوتے ہیں۔ تم کشتیوں میں سوار ہو، موافق ہوائیں چل رہی ہیں۔ کشتیاں تیر کی طرح منزل مقصود کو جا رہی ہیں تم خوشیاں منا رہے ہو کہ یکایک باد مخالف چلی اور چاروں طرف سے پہاڑوں کی طرح موجیں اٹھ کھڑی ہوئیں ‘۔
«وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:67] سمندر میں تلاطم شروع ہو گیا، کشتی تنکے کی طرح جھکولے کھانے لگی اور تمہارے کلیجے الٹنے لگے، ہر طرف سے موت نظر آنے لگی، اس وقت سارے بنے بنائے معبود اپنی جگہ دھرے رہ گئے اور نہایت خشوع وخضوع سے صرف مجھ سے دعائیں مانگیں جانے لگیں وعدے کئے جانے لگے کہ اب کے اس مصیبت سے نجات مل جانے کے بعد شکر گزاری میں باقی عمر گزار دیں گے، توحید میں لگے رہیں گے کسی کو اللہ کا شریک نہیں بنائیں گے، آج سے خالص توبہ ہے۔ لیکن ادھر نجات ملی، کنارے پر اترے، خشکی میں چلے پھرے کہ اس مصیبت کے وقت کو اس خالص دعا کو پھر اقرار شکرو توحید کو یکسر بھول گئے اور ایسے ہو گئے گویا ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ ہم سے کبھی معاملہ ہی نہ پڑا تھا۔ ناحق اکڑفوں کرنے لگے، مستی میں آ گئے۔ لوگو! تمہاری اس سرکشی کا وبال تم پر ہی ہے۔ تم اس سے دوسروں کا نہیں بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہو۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { وہ گناہ جس پر یہاں بھی اللہ کی پکڑ نازل ہو اور آخر میں بھی بدترین عذاب ہو فساد و سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی نہیں } }۔ [سنن ابوداود4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] تم اس دنیائے فانی کے تھوڑے سے برائے نام فائدے کو چاہے اٹھالو لیکن آخر انجام تو میری طرف ہی ہے۔ میرے سامنے آؤ گے میرے قبضے میں ہو گے۔ اس وقت ہم خود تمہیں تمہاری بد اعمالیوں پر متنبہ کریں گے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیں گے لہٰذا اچھائی پاکر ہمارا شکر کرو اور برائی دیکھ کر اپنے سوا کسی اور کو ملامت اور الزام نہ دو۔
22۔ 1 یسیرکم وہ تمہیں چلاتا یا چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے ' خشکی میں ' یعنی اس نے تمہیں قدم عطا کئے جن سے تم چلتے ہو، سواریاں مہیا کیں، جن پر سوار ہو کر دور دراز کے سفر کرتے ہو ' اور سمندر میں ' یعنی اللہ نے تمہیں کشتیاں اور جہاز بنانے کی عقل اور سمجھ دی، تم نے وہ بنائیں اور ان کے ذریعے سے سمندر کا سفر کرتے ہو۔ 22۔ 2 جس طرح دشمن کسی قوم یا شہر کا احاطہ یعنی محاصرہ کرلیتا ہے اور وہ دشمن کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، اسی طرح وہ جب سخت ہواؤں کے تھپیڑوں اور تلاطم خیز موجوں میں گھر جاتے ہیں اور موت ان کو سامنے نظر آتی ہے۔ 22۔ 3 یعنی پھر وہ دعا میں غیر اللہ کی ملاوٹ نہیں کرتے جس طرح عام حالات میں کرتے ہیں۔ عام حالات میں تو کہتے ہیں کہ یہ بزرگ بھی اللہ کے بندے ہیں، انہیں بھی اللہ نے اختیارات سے نواز رکھا ہے اور انہی کے ذریعے سے ہم اللہ کا قرب تلاش کرتے ہیں۔ لیکن جب اس طرح شدائد میں گھر جاتے ہیں تو یہ سارے شیطانی فلسفے بھول جاتے ہیں اور صرف اللہ یاد رہ جاتا ہے اور پھر صرف اسی کو پکارتے ہیں۔ اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ انسان کی فطرت میں اللہ واحد کی طرف رجوع کا جذبہ ودیعت کیا گیا ہے۔ انسان ماحول سے متاثر ہو کر اس جذبے یا فطرت کو دبا دیتا ہے لیکن مصیبت میں یہ جذبہ ابھر آتا ہے اور یہ فطرت عود کر آتی ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ توحید، فطرت انسانی کی آواز اور اصل چیز ہے، جس سے انسان کو انحراف نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس سے انحراف فطرت سے انحراف جو سراسر گمراہی ہے، دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ مشرکین، جب اس طرح مصائب میں گھر جاتے تو وہ اپنے خود ساختہ معبودوں کے بجائے، صرف ایک اللہ کو پکارتے تھے چناچہ حضرت عکرمہ بن ابی جہل ؓ کے بارے میں آتا ہے کہ جب مکہ فتح کیا تو یہ وہاں سے فرار ہوگئے۔ باہر کسی جگہ جانے کے لیے کشتی میں سوار ہوئے، تو کشتی طوفانی ہواؤں کی زد میں آگئی۔ جس پر ملاح نے کشتی میں سوار لوگوں سے کہا کہ آج اللہ واحد سے دعا کرو، تمہیں اس طوفان سے اس کے سوا کوئی نجات دینے والا نہیں ہے۔ حضرت عکرمہ ؓ کہتے ہیں، میں نے سوچا اگر سمندر میں نجات دینے والا صرف ایک اللہ ہے تو خشکی میں بھی یقینا نجات دینے والا وہی ہے۔ اور یہی بات محمد کہتے ہیں۔ چناچہ انہوں فیصلہ کرلیا اگر یہاں سے میں زندہ بچ کر نکل گیا تو مکہ واپس جا کر اسلام قبول کرلوں گا۔ چناچہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسلمان ہوگئے، لیکن افسوس! امت محمدیہ کے عوام اس طرح شرک میں پھنسے ہوئے ہیں کہ شدائد و آلام میں بھی وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے کے بجائے فوت شدہ بزرگوں کو ہی مشکل کشا سمجھتے اور انہی کو مدد کے لیے پکارتے ہیں۔
(آیت 22) ➊ { هُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ …:} اس آیت میں بھی پہلے مشرکین کو مخاطب کرکے فرمایا کہ وہی ہے جو تمھیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے۔ آگے چل کر ان کا ذکر غائب کے ساتھ کیا کہ وہ کشتیاں انھیں لے کر چل پڑتی ہیں۔ مخاطب کو غائب کے الفاظ سے ذکر کرنا التفات کہلاتا ہے۔ یہ التفات بھی ناراضگی کے اظہار کے لیے ہے کہ یہ لوگ اپنی بدعہدی کی وجہ سے خطاب کے قابل نہیں، اس لیے ان کا غائب کے صیغے سے ذکر فرمایا کہ جب وہ کشتیاں موافق اور طیب ہوا کے ساتھ ان کی خواہش کے مطابق چل رہی ہوتی ہیں تو اچانک تند و تیز آندھی آ جاتی ہے اور انھیں یقین ہو جاتا ہے کہ وہ گھیرے میں آ چکے ہیں، اب اگر اللہ تعالیٰ نہ بچائے تو بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ ➋ { دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ:} تو یہ مشرک لوگ (جو خطاب کے قابل ہی نہیں ہیں) اپنی پوری عبادت اور اطاعت ایک اللہ کے لیے خالص کر کے صرف اسی کو پکارتے ہیں اور اپنے تمام معبودوں اور بتوں کو بھول جاتے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے آہ و زاری کرتے ہیں۔ (ابن کثیر) ➌ { لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ:} یہ تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب کا حال بیان فرمایا ہے، مگر ہمارے زمانے کے بعض نام کے مسلمانوں کا حال ان سے بھی بدتر ہے، ان پر جب کوئی بڑی مصیبت آتی ہے، مثلاً دریا میں ڈوبنے یا آگ میں جلنے لگتے ہیں تو بھی شرک سے توبہ نہیں کرتے اور وہی ”یا خواجہ خضر “ ”یا علی مدد“ کا نعرہ لگاتے ہیں، مرتے اور ڈوبتے وقت بھی اللہ کو نہیں پکارتے۔ [ لاَ حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ]
مگر جب وہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں لوگو، تمہاری یہ بغاوت اُلٹی تمہارے ہی خلاف پڑ رہی ہے دنیا کے چند روزہ مزے ہیں (لُوٹ لو)، پھر ہماری طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت ہم تمہیں بتا دیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو بچالیتا ہے تو فوراً ہی وه زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں اے لوگو! یہ تمہاری سرکشی تمہارے لیے وبال ہونے والی ہے دنیاوی زندگی کے (چند) فائدے ہیں، پھر ہمارے پاس تم کو آنا ہے پھر ہم سب تمہارا کیا ہوا تم کو بتلادیں گے
احمد رضا خان بریلوی
پھر اللہ جب انہیں بچا لیتا ہے جبھی وہ زمین میں ناحق زیادتی کرنے لگتے ہیں اے لوگو! تمہاری زیادتی تمہارے ہی جانوں کا وبال ہے دنیا کے جیتے جی برت لو (فائد اٹھالو)، پھر تمہیں ہماری طرف پھرنا ہے اس وقت ہم تمہیں جتادیں گے جو تمہارے کوتک تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب اللہ انہیں نجات دے دیتا ہے تو (اپنا سب عہد و پیمان بھول کر) زمین میں ناحق بغاوت اور سرکشی کرنے لگتے ہیں اے لوگو! تمہاری اس بغاوت کا وِزر و وبال تو خود تمہاری ہی جانوں پر پڑ رہا ہے یہ (چند روزہ) زندگی کے مزے ہیں (سو لوٹ لو) پھر تمہاری بازگشت ہماری ہی طرف ہے اس وقت ہم تمہیں بتائیں گے کہ تم کیا کرتے رہے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
پھر جب اس نے انھیں نجات دے دی اچانک وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو! تمھاری سرکشی تمھاری جانوں ہی پر ہے، دنیا کی زندگی کے فائدے کے لیے، پھر ہماری ہی طرف تمھارا لوٹ کر آنا ہے، تو ہم تمھیں بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احسان فراموش انسان ٭٭
انسان کی ناشکری کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ اسے سختی کے بعد کی آسانی، خشک سالی کے بعد کی ترسالی، قحط کے بعد کی بارش اور بھی ناشکرا کر دیتی ہے یہ ہماری آیتوں سے مذاق اڑانے لگتا ہے۔ کیا تو اس وقت ہماری طرف ان کا جھکنا اور کیا اس وقت ان کا اکڑنا نہیں دیکھتا ‘۔ { رات کو بارش ہوئی، صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر پوچھا { جانتے بھی ہو رات کو باری تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے؟ } صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ہمیں کیا خبر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ کا ارشاد ہوا ہے کہ صبح کو میرے بہت سے بندے ایماندار ہو جائیں گے اور بہت سے کافر۔ کچھ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارش ہوئی وہ مجھ پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے اور ستاروں کی ایسی تاثیروں کے منکر ہو جائیں گے اور کچھ کہیں گے کہ فلاں فلاں نچھتر کی وجہ سے بارش برسائی گئی وہ مجھ سے کافر ہو جائیں گے اور ستاروں پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے } }۔ [صحیح بخاری:846] یہاں فرماتا ہے کہ ’ جیسے یہ چالبازی ان کی طرف سے ہے۔ میں بھی اس کے جواب سے غافل نہیں انہیں ڈھیل دیتا ہوں۔ یہ اسے غفلت سمجھتے ہیں پھر جب پکڑ آ جاتی ہے تو حیران و ششدر رہ جاتے ہیں۔ میں غافل نہیں۔ میں نے تو اپنے امین فرشتے چھوڑ رکھے ہیں جو ان کے کرتوت برابر لکھتے جا رہے ہیں۔ پھر میرے سامنے پیش کریں گے میں خود دانا بینا ہوں لیکن تاہم وہ سب تحریر میرے سامنے ہو گی۔ جس میں ان کے چھوٹے بڑے بڑے بھلے سب اعمال ہوں گے۔ اسی اللہ کی حفاظت میں تمہارے خشکی اور تری کے سفر ہوتے ہیں۔ تم کشتیوں میں سوار ہو، موافق ہوائیں چل رہی ہیں۔ کشتیاں تیر کی طرح منزل مقصود کو جا رہی ہیں تم خوشیاں منا رہے ہو کہ یکایک باد مخالف چلی اور چاروں طرف سے پہاڑوں کی طرح موجیں اٹھ کھڑی ہوئیں ‘۔
«وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:67] سمندر میں تلاطم شروع ہو گیا، کشتی تنکے کی طرح جھکولے کھانے لگی اور تمہارے کلیجے الٹنے لگے، ہر طرف سے موت نظر آنے لگی، اس وقت سارے بنے بنائے معبود اپنی جگہ دھرے رہ گئے اور نہایت خشوع وخضوع سے صرف مجھ سے دعائیں مانگیں جانے لگیں وعدے کئے جانے لگے کہ اب کے اس مصیبت سے نجات مل جانے کے بعد شکر گزاری میں باقی عمر گزار دیں گے، توحید میں لگے رہیں گے کسی کو اللہ کا شریک نہیں بنائیں گے، آج سے خالص توبہ ہے۔ لیکن ادھر نجات ملی، کنارے پر اترے، خشکی میں چلے پھرے کہ اس مصیبت کے وقت کو اس خالص دعا کو پھر اقرار شکرو توحید کو یکسر بھول گئے اور ایسے ہو گئے گویا ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ ہم سے کبھی معاملہ ہی نہ پڑا تھا۔ ناحق اکڑفوں کرنے لگے، مستی میں آ گئے۔ لوگو! تمہاری اس سرکشی کا وبال تم پر ہی ہے۔ تم اس سے دوسروں کا نہیں بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہو۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { وہ گناہ جس پر یہاں بھی اللہ کی پکڑ نازل ہو اور آخر میں بھی بدترین عذاب ہو فساد و سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی نہیں } }۔ [سنن ابوداود4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] تم اس دنیائے فانی کے تھوڑے سے برائے نام فائدے کو چاہے اٹھالو لیکن آخر انجام تو میری طرف ہی ہے۔ میرے سامنے آؤ گے میرے قبضے میں ہو گے۔ اس وقت ہم خود تمہیں تمہاری بد اعمالیوں پر متنبہ کریں گے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیں گے لہٰذا اچھائی پاکر ہمارا شکر کرو اور برائی دیکھ کر اپنے سوا کسی اور کو ملامت اور الزام نہ دو۔
23۔ 1 یہ انسان کی ناشکری کی عادت کا ذکر ہے جس کا تذکرہ ابھی آیت 12 میں بھی گزرا، اور قرآن میں اور بھی متعدد مقامات پر اللہ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ 23۔ 2 اللہ تعالیٰ نے فرمایا، تم یہ ناشکری اور سرکشی کرلو، چار روزہ متاع زندگی سے فائدہ اٹھا کر بالآخر تمہیں ہمارے ہی پاس آنا ہے، پھر تمہیں، جو کچھ تم کرتے رہے ہو گے، بتلائیں گے یعنی ان پر سزا دیں گے۔
(آیت 23) ➊ { فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ يَبْغُوْنَ …:} یعنی طوفان سے بچ نکلنے پر پھر وہی ناحق سرکشی اور ظلم شروع کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ مشرکین کے اس رویے کا ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ عنکبوت (۶۵، ۶۶) اور لقمان (۳۲) ہاں، کوئی سعادت مند ہو تو اپنے عہد پر قائم رہتا ہے مگر وہ اتنے کم ہیں کہ نہ ہونے کے برابر ہیں، جیسا کہ سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن چار مردوں اور دو عورتوں کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ جہاں پائے جائیں قتل کر دیے جائیں۔ ان میں سے ایک عکرمہ بن ابوجہل بھی تھے۔ عکرمہ نے یہ سنا تو سمندر کے راستے راہ فرار اختیار کی، لیکن جب سفر شروع ہوا تو کشتی والوں کو تند و تیز ہوا نے آ لیا۔ (لوگ اپنے اپنے خداؤں کو پکارنے لگے) کشتی والوں نے کہا: [ أَخْلِصُوْا فَإِنَّ آلِهَتَكُمْ لاَ تُغْنِيْ عَنْكُمْ شَيْئًا هٰهُنَا، فَقَالَ عِكْرِمَةُ وَاللّٰهِ! لَئِنْ لَمْ يُنَجِّنِيْ مِنَ الْبَحْرِ إِلاَّ الْإِخْلَاصُ لَا يُنَجِّيْنِيْ فِي الْبَرِّ غَيْرُهٗ، اَللّٰهُمَّ إِنَّ لَكَ عَلَيَّ عَهْدًا إِنْ أَنْتَ عَافَيْتَنِيْ مِمَّا أَنَا فِيْهِ أَنْ آتِيَ مُحَمَّدًا صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰي أَضَعَ يَدِيْ فِيْ یَدِہٖ فَلَأَجِدَنَّهُ عَفُوًّا كَرِيْمًا فَجَاءَ فَأَسْلَمَ ] [ نسائی، تحریم الدم، باب الحکم فی المرتد: ۴۰۷۲، وصححہ الألباني ] ”خالص اللہ کو پکارو، کیونکہ اس وقت یہاں تمھارے (خود ساختہ) معبود تمھارے کچھ کام نہیں آئیں گے۔“ عکرمہ نے (دل میں) کہا: ”اللہ کی قسم! اگر سمندر میں نجات صرف اللہ تعالیٰ کی ذات دے سکتی ہے تو پھر خشکی میں بھی اس کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا، اے اللہ! اگر تو نے مجھے اس طوفان سے نجات دے دی تو میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جا کر اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا،تو یقینا میں انھیں بہت درگزر کرنے والا، بہت مہربان پاؤں گا۔“ چنانچہ وہ آئے اور مسلمان ہو گئے۔“ ➋ { يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ …:} یعنی اس سرکشی کا وبال تمھاری اپنی ہی جانوں پر ہے، اس سے تم کسی اور کو نقصان نہیں پہنچا سکو گے، دنیوی زندگی کا تھوڑا سا فائدہ اٹھا لو، آخر تمھیں ہمارے پاس ہی آنا ہے، پھر ہم تمھیں بتلائیں گے کہ تم کیا کرتے رہے ہو، یعنی پھر ہم تمھیں ایسی سزا دیں گے جس سے تمھیں پتا چل جائے گا کہ تم کتنا بھاری ظلم کرتے رہے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُّعَجِّلَ اللّٰهُ تَعَالٰی لِصَاحِبِهٖ الْعُقُوْبَةَ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهٗ فِي الْآخِرَةِ مِثْلُ الْبَغْيِ وَقَطِيْعَةِ الرَّحِمِ ] [ أبوداوٗد، الأدب، باب فی النہي عن البغی: ۴۹۰۲، عن أبي بکرۃ رضی اللہ عنہ ] ”کوئی گناہ اس لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی سزا دنیا میں بھی جلدی دے اور اس کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی اس کی سزا باقی رکھے سوائے ظلم و زیادتی اور قطع رحمی کے۔ “
دنیا کی یہ زندگی (جس کے نشے میں مست ہو کر تم ہماری نشانیوں سے غفلت برت رہے ہو) اس کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا تو زمین کی پیداوار، جسے آدمی اور جانور سب کھاتے ہیں، خوب گھنی ہو گئی، پھر عین اُس وقت جبکہ زمین اپنی بہار پر تھی اور کھیتیاں بنی سنوری کھڑی تھیں اور ان کے مالک یہ سمجھ رہے تھے کہ اب ہم ان سے فائدہ اُٹھانے پر قادر ہیں، یکایک رات کو یا دن کو ہمارا حکم آ گیا اور ہم نے اسے ایسا غارت کر کے رکھ دیا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں اس طرح ہم نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو سوچنے سمجھنے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پس دنیاوی زندگی کی حالت تو ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کی نباتات، جن کو آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں، خوب گنجان ہوکر نکلی۔ یہاں تک کہ جب وه زمین اپنی رونق کا پورا حصہ لے چکی اور اس کی خوب زیبائش ہوگئی اور اس کے مالکوں نے سمجھ لیا کہ اب ہم اس پر بالکل قابض ہوچکے تو دن میں یا رات میں اس پر ہماری طرف سے کوئی حکم (عذاب) آپڑا سو ہم نے اس کو ایسا صاف کردیا کہ گویا کل وه موجود ہی نہ تھی۔ ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے جو سوچتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
دنیا کی زندگی کی کہا وت تو ایسی ہی ہے جیسے وہ پانی کہ ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین سے اگنے والی چیزیں سب گھنی ہوکر نکلیں جو کچھ آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین میں اپنا سنگھار لے لیا اور خوب آراستہ ہوگئی اور اس کے مالک سمجھے کہ یہ ہمارے بس میں آگئی ہمارا حکم اس پر آیا رات میں یا دن میں تو ہم نے اسے کردیا کاٹی ہوئی گویا کل تھی ہی نہیں ہم یونہی آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں غور کرنے والوں کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
دنیاوی زندگی کی مثال تو اس پانی جیسی ہے جسے ہم نے آسمان سے برسایا اور زمین سے وہ نباتات پیدا ہوئیں جن کو انسان اور مویشی سب کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین اپنی زیب و زینت کو لے چکی اور فصل کے سبزہ زار سے آراستہ ہوگئی۔ اور اس کے مالک سمجھے کہ انہیں اس (فصل) پر قابو حاصل ہے (جب چاہیں گے کاٹیں گے) تو ایک دم رات یا دن کو ہمارا حکم آگیا۔ تو ہم نے اسے اس طرح بیخ و بن سے کاٹ کے رکھ دیا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ ہم غور و فکر کرنے والوں کیلئے اسی طرح کھول کھول کر اپنی آیتیں پیش کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
دنیا کی زندگی کی مثال تو بس اس پانی کی سی ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے ساتھ زمین سے اگنے والی چیزیں خوب مل جل گئیں، جس سے انسان اور چوپائے کھاتے ہیں، یہاںتک کہ جب زمین نے اپنی آرائش حاصل کرلی اور خوب مزین ہوگئی اور اس کے رہنے والوں نے یقین کر لیا کہ وہ اس پر قادر ہیں تو رات یا دن کو اس پر ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اسے کٹی ہوئی کر دیا، جیسے وہ کل تھی ہی نہیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کے لیے آیات کھول کر بیان کرتے ہیں جو خوب سوچتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دنیا اور اس کی حقیقت ٭٭
دنیا کی ٹیپ ٹاپ اور اس کی دو گھڑی کی سہانی رونق پھر اس کی بربادی اور بے رونقی کی مثال زمین کے سبزے سے دی جا رہی ہے کہ بادل سے پانی برسا زمین لہلہا اُٹھی، طرح طرح کی سبزیاں، چارے، پھل پھول، کھیت باغات، پیدا ہو گئے۔ انسانوں کے کھانے کی چیزں، جانوروں کے چرنے چگنے کی چیزیں، چاروں طرف پھیل پڑیں، زمین سرسبز ہو گئی، ہر چہار طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آنے لگی، کھیتی والے خوش ہوگئے، باغات والے پھولے نہیں سماتے کہ اب کے پھل اور انجاج بکثرت ہے۔ ناگہاں آندھیوں کے جھکڑ چلنے لگلے، برف باری ہوئی، اولے گرے، پالہ پڑا، پھل چھوڑ پتے بھی جل گئے۔ درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، تازگی خشکی سے بدل گئی، پھل ٹھٹھر گئے۔، جل گئے، کھیت و باغات ایسے ہو گئے گویا تھے ہی نہیں اور جو چیز کل تھی بھی آج نہیں تو گویا کل بھی نہ تھی۔ حدیث میں ہے { بڑے دنیادار کروڑ پتی کو جو ہمیشہ ناز و نعمت میں ہی رہا تھا، لا کر جہنم میں ایک غوطہٰ دے کر پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ کہو تمہاری زندگی کیسی گزری؟ وہ جواب دے گا کہ میں نے تو کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی۔ کبھی آرام کا نام بھی نہیں سنا۔ اسی طرح دنیا کی زندگی میں ایک گھڑی بھی جس پر آرام کی نہیں گزری تھی اسے لایا جائے گا۔ جنت میں ایک غوطہٰ کھلا کر پوچھا جائے گا کہ کہو دنیا میں کیسے رہے؟ جواب دے گا کہ پوری عمر کبھی رنج و غم کا نام بھی نہیں سنا کبھی تکلیف اور دکھ دیکھا بھی نہیں } }۔ [صحیح مسلم:2807] اللہ تعالیٰ اسی طرح عقلمندوں کے لیے واقعات واضح کرتا ہے تاکہ وہ عبرت حاصل کر لیں۔ ایسا نہ ہو اس فانی چند روزہ دنیا کے ظاہری چکر میں پھنس جائیں اور اس ڈھل جانے والے سائے کو اصلی اور پائیدار سمجھ لیں۔ اس کی رونق دو روزہ ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو اپنے چاہنے والوں سے بھاگتی ہے
اور نفرت کرنے والوں سے لپٹتی ہے۔ دنیا کی زندگی کی مثال اسی طرح ہے اور بھی بہت سی آیتوں میں بیان ہوئی ہے۔ مثلاً سورۃ الکہف کی آیت «وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِيْمًا تَذْرُوْهُ الرِّيٰحُ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا» ۱؎ [18-الكهف:45] میں اور سورۃ الزمر اور سورۃ الحدید میں۔ خلیفہ مروان بن حکم نے منبر پر آیت «وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَيْهَا وَمَا كَانَ اللهُ لِيُهْلِكَهَا إِلا بِذُنُوبِ أَهْلِهَا» پڑھ کر فرمایا میں نے تو اسی طرح پڑھی ہے لیکن قرآن میں یہ لکھی ہوئی نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نے فرمایا ”میرے والد بھی اسی طرح پڑھتے تھے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس جب آدمی بھیجا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرآت بھی یونہی ہے، لیکن یہ قرأت غریبہ ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:17616:سخت ضعیف] اس کی سند اور گویا یہ جملہ تفسیر یہ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف اپنے بندوں کو بلاتا ہے جو دنیا کی طرف فانی نہیں بلکہ باقی ہے دنیا کی طرف دو دن کے لیے زینت دار نہیں بلکہ ہمیشہ کی نعمتوں اور ابدی راحتوں والی ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھ سے کہا گیا تیری آنکھیں سو جائیں، تیرا دل جاگتا رہے اور تیرے کان سنتے رہیں چنانچہ ایسا ہی ہوا }۔ پھر فرمایا گیا { ایک سردار نے ایک گھر بنایا۔ وہاں دعوت کا انتظام کیا۔ ایک بلانے والے کو بھیجا۔ پس جس نے اس کی دعوت قبول کی۔ گھر میں داخل ہوا اور دستر خوان سے کھانا کھایا جس نے نہ قبول کی نہ اسے اپنے گھر میں آٹا ملا نہ دعوت کا کھانا میسر ہوا نہ سردار اس سے خوش ہوا۔ پس اللہ سردار ہے اور گھر اسلام ہے اور دستر خوان جنت ہے اور بلانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں } } یہ روایت مرسل ہے۔ دوسری متصل بھی ہے، اس میں ہے کہ{ ایک دن ہمارے مجمع میں آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { خواب میں میرے پاس جبرائیل و میکائیل علیہم السلام آئے جبرائیل سرہانے اور میکائیل پیروں کی طرف کھڑے ہوگئے۔ ایک نے دوسرے سے کہا اس کی مثال بیان کرو۔ پھر یہ مثال بیان کی۔ پس جس نے تیری دعوت قبول کی وہ اسلام میں داخل ہوا اور جو اسلام لایا وہ جنت میں پہنچا اور و وہاں کھایا پیا } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2860،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ایک حدیث میں ہے { ہر دن سورج کے طلوع ہونے کے وقت اس کے دونوں جانب دو فرشتے ہوتے ہیں جو باآواز بلند انسانوں اور جنوں کے سوا سب کو سنا کر کہتے ہیں کہ لوگو! اپنے رب کی طرف آؤ۔ جو کم ہو یا کافی ہو وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے۔ قرآن فرماتا ہے لوگو! اللہ تعالیٰ تمہیں دارالسلام کی طرف بلاتا ہے }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17623:صحیح]
24۔ 1 حصیدا فعیل بمعنی مفعول یعنی محصود دنیا کی زندگی اس طرح کھیتی سے تشبیہ دے کر اس کے عارضی پن اور ناپائیداری کو واضح کیا گیا ہے کہ کھیتی بھی بارش کے پانی سے نشمونما پاتی اور سرسبز و شداب ہوتی ہے لیکن اس کے بعد اسے کاٹ کر فنا کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔
(آیت 24) ➊ {اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا …:} پچھلی آیت میں ذکر تھا کہ تم یہاں جتنی بھی سرکشی کر لو یا لذتوں میں مست ہو کر ہماری آیات کو جھٹلا لو، یہ دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے اور بہت جلد فنا ہو جانے والا ہے۔ اس آیت میں اس کی مثال بیان فرمائی کہ آسمان سے پانی برسنے سے زمین میں سے لوگوں کے اور ان کے چوپاؤں کے کھانے اور لذت حاصل کرنے کے لیے مختلف فصلیں، کھیتیاں، چارا اور پھل پیدا ہوئے، پھر خوب پھلے پھولے، زمین سج گئی، مالک سمجھنے لگے کہ ہمیں اس سے فائدہ اٹھانے کی اور اس سے غلہ، میوے اور سبزیاں حاصل کرنے کی پوری قدرت حاصل ہے۔ ➋ { اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَيْلًا اَوْ نَهَارًا …: ” اَمْرُنَا “} سے مراد اس کے فنا کا حکم ہے، خواہ وہ پک کر زرد ہو گئی ہو اور کاٹ لی گئی ہو، یا پھر کسی دشمن نے کچی ہی برباد کر دی ہو، یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی آفت سیلاب، پالے، آگ یا طوفان کی شکل میں آ پڑی کہ پکنے سے پہلے کچی ہی اس طرح کٹ کر نا پید ہو گئی گویا کبھی یہاں رہی ہی نہیں۔{” حَصِيْدًا “} بمعنی {”مَحْصُوْدٌ“} یعنی کٹی ہوئی۔ ➌ {كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ: ” لَمْ تَغْنَ “ ” غَنِيَ يَغْنٰي “} (ع) کسی جگہ رہنا۔ یہی حال انسانی زندگی کا ہے، روح پانی کی طرح آسمان سے اترتی ہے اور بدن اس سے مل کر خوب پھلتا پھولتا ہے، جب جوانی پر آتا ہے تو علم و ہنر سیکھتا ہے اور امید ہو جاتی ہے کہ چند روز جی کر مزے اڑائیں گے، گھر والوں کو یقین ہوتا ہے کہ اب کما کر لائے گا کہ یکایک موت آجاتی ہے اور تمام امیدوں کو خاک میں ملا دیتی ہے اور ایسے معلوم ہوتا ہے {” كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ “} (جیسے وہ کل تھا ہی نہیں)، کچھ مدت بعد وہ ذہنوں سے بھی محو ہو جاتا ہے اور اگر وہ اپنی عمر پوری بھی کر لے تو جس طرح پکی ہوئی کھیتی کاٹ لی جاتی ہے یا خود بخود ہی چورا بن کر بکھر جاتی ہے، اسی طرح بڑھاپے کے بعد یہ بھی فنا کی نذر ہو جاتا ہے۔ سورۂ حدید (۲۰) اور قلم (۱۷ تا ۳۳) میں بھی دنیا کی بے ثباتی کا نقشہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔ اسی لیے ایک لمبی حدیث میں آیا ہے: [ يُؤْتٰی بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً ثُمَّ يُقَالُ هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيْمٌ قَطُّ؟ فَيَقُوْلُ لاَ وَاللّٰهِ! يَا رَبِّ! وَيُؤْتٰی بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسَا فِی الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لَهٗ يَا ابْنَ آدَمَ! هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ؟ فَيَقُوْلُ لاَ وَاللّٰهِ! يَا رَبِّ! مَا مَرَّ بِيْ بُؤْسٌ قَطُّ وَلاَ رَأَيْتُ شِدَّةً قَطُّ ] [ مسلم، صفات المنافقین، باب صبغ أنعم أہل الدنیا فی النار: ۲۸۰۷، عن أنس رضی اللہ عنہ ] ”قیامت کے دن اس شخص کو جو اہل جہنم میں سے دنیا میں سب سے زیادہ خوش حال تھا، لایا جائے گا، اسے آگ میں ایک غوطہ دے کر نکالا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا: ”کیا تم نے کبھی کوئی خوشحالی دیکھی، کیا تیرے پاس آسودگی آئی؟“ وہ جواب دے گا: ”نہیں اللہ کی قسم! اے میرے رب!“ پھر اہل جنت میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ بدحال تھا، اسے جنت میں ایک غوطہ دے کر نکالا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا: ”کیا تم نے دنیا میں کوئی بدحالی دیکھی، یا کوئی سختی پہنچی؟“ وہ جواب دے گا:”نہیں اللہ کی قسم! اے میرے رب! مجھے کوئی سختی نہیں پہنچی اور میں نے کوئی بدحالی نہیں دیکھی۔“ ➍ { يَتَفَكَّرُوْنَ:} تا کہ ان پر غور کریں اور ان سے سبق حاصل کریں۔
(تم اِس نا پائیدار زندگی کے فریب میں مبتلا ہو رہے ہو) اور اللہ تمہیں دار السلام کی طرف دعوت دے رہا ہے (ہدایت اُس کے اختیار میں ہے) جس کو وہ چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف تم کو بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راه راست پر چلنے کی توفیق دیتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف پکارتا ہے اور جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ پر لگا دیتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے راستے تک پہنچا دیتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دنیا اور اس کی حقیقت ٭٭
دنیا کی ٹیپ ٹاپ اور اس کی دو گھڑی کی سہانی رونق پھر اس کی بربادی اور بے رونقی کی مثال زمین کے سبزے سے دی جا رہی ہے کہ بادل سے پانی برسا زمین لہلہا اُٹھی، طرح طرح کی سبزیاں، چارے، پھل پھول، کھیت باغات، پیدا ہو گئے۔ انسانوں کے کھانے کی چیزں، جانوروں کے چرنے چگنے کی چیزیں، چاروں طرف پھیل پڑیں، زمین سرسبز ہو گئی، ہر چہار طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آنے لگی، کھیتی والے خوش ہوگئے، باغات والے پھولے نہیں سماتے کہ اب کے پھل اور انجاج بکثرت ہے۔ ناگہاں آندھیوں کے جھکڑ چلنے لگلے، برف باری ہوئی، اولے گرے، پالہ پڑا، پھل چھوڑ پتے بھی جل گئے۔ درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، تازگی خشکی سے بدل گئی، پھل ٹھٹھر گئے۔، جل گئے، کھیت و باغات ایسے ہو گئے گویا تھے ہی نہیں اور جو چیز کل تھی بھی آج نہیں تو گویا کل بھی نہ تھی۔ حدیث میں ہے { بڑے دنیادار کروڑ پتی کو جو ہمیشہ ناز و نعمت میں ہی رہا تھا، لا کر جہنم میں ایک غوطہٰ دے کر پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ کہو تمہاری زندگی کیسی گزری؟ وہ جواب دے گا کہ میں نے تو کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی۔ کبھی آرام کا نام بھی نہیں سنا۔ اسی طرح دنیا کی زندگی میں ایک گھڑی بھی جس پر آرام کی نہیں گزری تھی اسے لایا جائے گا۔ جنت میں ایک غوطہٰ کھلا کر پوچھا جائے گا کہ کہو دنیا میں کیسے رہے؟ جواب دے گا کہ پوری عمر کبھی رنج و غم کا نام بھی نہیں سنا کبھی تکلیف اور دکھ دیکھا بھی نہیں } }۔ [صحیح مسلم:2807] اللہ تعالیٰ اسی طرح عقلمندوں کے لیے واقعات واضح کرتا ہے تاکہ وہ عبرت حاصل کر لیں۔ ایسا نہ ہو اس فانی چند روزہ دنیا کے ظاہری چکر میں پھنس جائیں اور اس ڈھل جانے والے سائے کو اصلی اور پائیدار سمجھ لیں۔ اس کی رونق دو روزہ ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو اپنے چاہنے والوں سے بھاگتی ہے
اور نفرت کرنے والوں سے لپٹتی ہے۔ دنیا کی زندگی کی مثال اسی طرح ہے اور بھی بہت سی آیتوں میں بیان ہوئی ہے۔ مثلاً سورۃ الکہف کی آیت «وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِيْمًا تَذْرُوْهُ الرِّيٰحُ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا» ۱؎ [18-الكهف:45] میں اور سورۃ الزمر اور سورۃ الحدید میں۔ خلیفہ مروان بن حکم نے منبر پر آیت «وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَيْهَا وَمَا كَانَ اللهُ لِيُهْلِكَهَا إِلا بِذُنُوبِ أَهْلِهَا» پڑھ کر فرمایا میں نے تو اسی طرح پڑھی ہے لیکن قرآن میں یہ لکھی ہوئی نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نے فرمایا ”میرے والد بھی اسی طرح پڑھتے تھے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس جب آدمی بھیجا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرآت بھی یونہی ہے، لیکن یہ قرأت غریبہ ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:17616:سخت ضعیف] اس کی سند اور گویا یہ جملہ تفسیر یہ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف اپنے بندوں کو بلاتا ہے جو دنیا کی طرف فانی نہیں بلکہ باقی ہے دنیا کی طرف دو دن کے لیے زینت دار نہیں بلکہ ہمیشہ کی نعمتوں اور ابدی راحتوں والی ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھ سے کہا گیا تیری آنکھیں سو جائیں، تیرا دل جاگتا رہے اور تیرے کان سنتے رہیں چنانچہ ایسا ہی ہوا }۔ پھر فرمایا گیا { ایک سردار نے ایک گھر بنایا۔ وہاں دعوت کا انتظام کیا۔ ایک بلانے والے کو بھیجا۔ پس جس نے اس کی دعوت قبول کی۔ گھر میں داخل ہوا اور دستر خوان سے کھانا کھایا جس نے نہ قبول کی نہ اسے اپنے گھر میں آٹا ملا نہ دعوت کا کھانا میسر ہوا نہ سردار اس سے خوش ہوا۔ پس اللہ سردار ہے اور گھر اسلام ہے اور دستر خوان جنت ہے اور بلانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں } } یہ روایت مرسل ہے۔ دوسری متصل بھی ہے، اس میں ہے کہ{ ایک دن ہمارے مجمع میں آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { خواب میں میرے پاس جبرائیل و میکائیل علیہم السلام آئے جبرائیل سرہانے اور میکائیل پیروں کی طرف کھڑے ہوگئے۔ ایک نے دوسرے سے کہا اس کی مثال بیان کرو۔ پھر یہ مثال بیان کی۔ پس جس نے تیری دعوت قبول کی وہ اسلام میں داخل ہوا اور جو اسلام لایا وہ جنت میں پہنچا اور و وہاں کھایا پیا } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2860،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ایک حدیث میں ہے { ہر دن سورج کے طلوع ہونے کے وقت اس کے دونوں جانب دو فرشتے ہوتے ہیں جو باآواز بلند انسانوں اور جنوں کے سوا سب کو سنا کر کہتے ہیں کہ لوگو! اپنے رب کی طرف آؤ۔ جو کم ہو یا کافی ہو وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے۔ قرآن فرماتا ہے لوگو! اللہ تعالیٰ تمہیں دارالسلام کی طرف بلاتا ہے }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17623:صحیح]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 25) {وَ اللّٰهُ يَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ…:} اوپر کی آیت میں دنیا اور اس کے بہت جلد زوال کا ذکر کرکے لوگوں کو اس کی طرف مائل ہونے سے نفرت دلائی، اب اس آیت میں جنت کی ترغیب دی اور جنت کا نام ”دار السلام“ رکھا۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۲۵ تا ۱۲۷) یعنی جو ہر قسم کے آفات و آلام سے پاک ہے اور اس میں سلامتی ہی سلامتی ہے، فرشتے ہر طرف سے اس میں سلام کریں گے اور اہل جنت بھی ایک دوسرے کو سلام کا تحیہ پیش کریں گے، فرمایا: «{ وَ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ }» [یونس: ۱۰ ] ”اور ان کی آپس کی دعا ان (باغات) میں سلام ہو گی۔“ رب رحیم کی طرف سے بھی سلام کی نعمت سے سرفراز ہوں گے، فرمایا: «{ سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ }» [ یٰسٓ: ۵۸] ”سلام ہو، اس رب کی طرف سے کہا جائے گا جو بے حد مہربان ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے جنت کی دعوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے دی ہے، چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبریل اور میکائیل نے آپس میں میرے لیے ایک مثال بیان کی کہ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک بادشاہ نے ایک محل بنایا، پھر اس میں ایک شان دار دعوت کا اہتمام کیا اور لوگوں کو بلانے کے لیے ایک بلانے والا بھیجا، پس جس شخص نے اس بلانے والے کے کہنے کو قبول کیا وہ تو محل میں بھی داخل ہو گا اور کھانا بھی کھائے گا اور جو بلانے والے کے کہنے کو قبول نہیں کرے گا وہ نہ تو محل میں داخل ہو گا اور نہ کھانا کھائے گا، پھر انھوں نے کہا، اس کے لیے اس کی وضاحت کرو، تاکہ یہ سمجھ جائے! تو ایک نے کہا کہ وہ محل جنت ہے اور اس کی طرف بلانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تو جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی، تو اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے (اچھے برے کے) درمیان فرق (کرنے والے) ہیں۔ [ بخاری، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ۷۲۸۱ ]
جن لوگوں نے بھَلائی کا طریقہ اختیار کیا ان کے لیے بھَلائی ہے اور مزید فضل ان کے چہروں پر رُو سیاہی اور ذلّت نہ چھائے گی وہ جنت کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے خوبی ہے اور مزید برآں بھی اور ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت، یہ لوگ جنت میں رہنے والے ہیں وه اس میں ہمیشہ رہیں گے
احمد رضا خان بریلوی
بھلائی والوں کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بھی زائد اور ان کے منہ پر نہ چڑھے گی سیاہی اور نہ خواری وہی جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
جن لوگوں نے (دنیا میں) بھلائی کی ہوگی ان کیلئے (آخرت میں) بھلائی ہوگی اور اس سے بھی کچھ زیادہ ان کے چہروں پر نہ غبار چھائے گا اور نہ ذلت و رسوائی (نمایاں ہوگی) یہی لوگ جنتی ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
جن لوگوں نے نیکی کی انھی کے لیے نہایت اچھا بدلہ اور کچھ زیادہ ہے اور ان کے چہروں کو نہ کوئی سیاہی ڈھانپے گی اور نہ کوئی ذلت، یہی لوگ جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی ٭٭
یہاں جس نے نیک اعمال کئے اور با ایمان رہا وہاں اسے بھلائیاں اور نیک بدلے ملیں گے۔ «هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ» ۱؎ [55-الرحمن:60] ’ احسان کا بدلہ احسان ہے ‘۔ ایک ایک نیکی بڑھا چڑھا کر زیادہ ملے گی ایک کے بدلے سات سات سو تک۔ جنت حور قصور وغیرہ وغیرہ آنکھوں کی طرح طرح کی ٹھنڈک، دل کی لذت اور ساتھ ہی اللہ عزوجل کے چہرے کی زیارت یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم ہے۔ بہت سے سلف خلف صحابہ وغیرہ سے مروی ہے کہ زیادہ سے مراد اللہ عزوجل کا دیدار ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے اور اس وقت ایک منادی کرنے والا ندا کرے گا کہ اے جنتیو! تم سے اللہ کا ایک وعدہ ہوا تھا، اب وہ بھی پورا ہونے کو ہے۔ یہ کہیں گے «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ہمارے میزان بھاری ہوگئے، ہمارے چہرے نورانی ہوگئے، ہم جنت میں پہنچ گئے، ہم جہنم سے دور ہوئے، اب کیا چیز باقی ہے؟ اس وقت حجاب ہٹ جائے گا اور یہ اپنے پاک پرودگار کا دیدار کریں گے۔ واللہ کسی چیز میں انہیں وہ لذت و سرور نہ حاصل ہوا ہو گا جو دیدار الٰہی میں ہوگا } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:181] اور حدیث میں کہ { منادی کہے گا حسنیٰ سے مراد جنت تھی اور زیارت سے مراد دیدار الٰہی تھا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17633:سخت ضعیف] ایک حدیث میں یہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مروی ہے۔ میدان محشر میں ان کے چہروں پر سیاہی نہ ہوگی نہ ذلت ہوگی۔ جیسے کہ کافروں کے چہروں پر یہ دونوں چیزیں ہوں گی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17633:ضیعف] غرض ظاہر اور باطنی اہانت سے وہ دور ہوں گے۔ چہرے پر نور دل راحتوں سے مسرور۔ اللہ ہمیں بھی انہیں میں کرے آمین۔
26۔ 1 اس زیادہ کے کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں لیکن حدیث میں اس کی تفسیر دیدار باری تعالیٰ سے کی گئی ہے جس سے اہل جنت کو جنت کی نعمتیں دینے کے بعد، مشرف کیا جائے گا (صحیح مسلم)
(آیت 26){لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِيَادَةٌ:} احسان کی تفسیر حدیث جبریل میں ہے، فرمایا: [ أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهٗ فَإِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهٗ فَإِنَّهٗ يَرَاكَ ] [ بخاری، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۵۰ ] ”اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو جیسے اسے دیکھ رہے ہو، سو اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو یقینا وہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔“ مقصد یہ کہ خلوص کے ساتھ اللہ کی بندگی کرنے والوں کو جنت کے ساتھ ایک عظیم زائد چیز بھی عطا ہو گی۔ {” زِيَادَةٌ “} میں تنکیر تعظیم کے لیے ہے۔ جنت کی دعوت دینے کے بعد اس کی سعادتوں کا ذکر فرمایا۔ اس آیت کریمہ میں {” الْحُسْنٰى “} جو {” أَحْسَنُ“} کی مؤنث ہے، اس کا معنی سب سے اچھا بدلہ ہے اور فرمایا ایک عظیم زائد چیز بھی ہے۔ {” زِيَادَةٌ “} مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، اس {” زِيَادَةٌ “} سے مراد اللہ تعالیٰ کا دیدار ہے۔ یہی مفہوم سورۂ نساء (۱۷۳)، نور (۳۸) اور سورۂ ق (۳۵) میں بیان ہو اہے۔ متعدد صحیح احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہی تفسیر فرمائی ہے، چنانچہ صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «{ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِيَادَةٌ }» اور فرمایا: ”جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو اس وقت ایک منادی کرنے والا پکارے گا: ”اے جنت والو! اللہ نے تم سے ایک وعدہ کیا تھا، وہ چاہتا ہے کہ اسے بھی پورا کر دیا جائے۔“ وہ کہیں گے: ” وہ کون سا وعدہ ہے؟ کیا اس نے ہمارے میزان (نیک اعمال کے تول) بھاری نہیں کر دیے؟ کیا اس نے ہمارے چہرے روشن نہیں کردیے، ہمیں جنت میں داخل اور آگ سے محفوظ نہیں کر دیا؟“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَيُكْشَفُ لَهُمُ الْحِجَابُ فَيَنْظُرُوْنَ إِلَيْهِ، قَالَ: ” فَوَاللّٰهِ! مَا أَعْطَاهُمْ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظْرِ إِلَيْهِ وَلاَ أَقَرَّ بِأَعْيُنِهِمْ ] [ مسند أحمد: 333/4، ح: ۱۸۹۶۵۔ مسلم، الإیمان، باب إثبات رؤیۃ المؤمنین…: ۱۸۱ ] ”اس وقت ان کے لیے پردہ ہٹا دیا جائے گا اور وہ اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے۔“ پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! انھیں اب تک ایسی کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی ہو گی جو انھیں اس دیدار سے زیادہ محبوب ہو اور اس میں ان کی آنکھوں کے لیے اس سے زیادہ ٹھنڈک ہو۔“ اس آیت کی تفسیر ایک دوسری آیت اور اس کی تفسیر سے بھی ہو سکتی ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۷۲)۔
اور جن لوگوں نے بُرائیاں کمائیں ان کی بُرائی جیسی ہے ویسا ہی وہ بدلہ پائیں گے، ذلّت ان پر مسلّط ہو گی، کوئی اللہ سے ان کو بچانے والا نہ ہو گا، ان کے چہروں پر ایسی تاریکی چھائی ہوئی ہو گی جیسے رات کے سیاہ پردے ان پر پڑے ہوئے ہوں، وہ دوزخ کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جن لوگوں نے بدکام کیے ان کی بدی کی سزا اس کے برابر ملے گی اور ان کو ذلت چھائے گی، ان کو اللہ تعالیٰ سے کوئی نہ بچا سکے گا۔ گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے پرت کے پرت لپیٹ دیے گئے ہیں۔ یہ لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں، وه اس میں ہمیشہ رہیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور جنہوں نے برائیاں کمائیں تو برائی کا بدلہ اسی جیسا اور ان پر ذلت چڑھے گی، انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا، گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے ٹکڑے چڑھا دیئے ہیں وہی دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں تو برائی کی سزا بھی ویسی ہی برائی ہے اور ان پر ذلت و خواری چھا جائے گی ان کو اللہ (کے قانون مکافاتِ عمل) سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا (ان کے چہرے سیاہ ہوں گے کہ) گویا ان کے چہروں کو اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے یہی لوگ دوزخی ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں، کسی بھی برائی کا بدلہ اس جیسا ہوگا اور انھیں بڑی ذلت ڈھانپے گی، انھیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا، گویا ان کے چہروں پر رات کے بہت سے ٹکڑے اوڑھا دیے گئے ہیں، جب کہ وہ اندھیری ہے۔ یہی لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک تقابلی جائزہ ٭٭
نیکوں کا حال بیان فرما کر اب بدوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ ان کی نیکیاں بڑھا کر ان کی برائیاں برابر ہی رکھی جائیں گی۔ نیکی کم مگر بدکاریاں ان کے چہروں پر سیاہیاں بن کر چڑھ جائیں گی ذلت و پستی سے ان کے منہ کالے پڑ جائیں گے۔ یہ اپنے مظالم سے اللہ کو بیخبر سمجھتے رہے حالانکہ انہیں اس دن تک کی ڈھیل ملی تھی۔ آج آنکھیں چڑھ جائیں گی شکلیں بگڑ جائیں گی، کوئی نہ ہو گا جو کام آئے اور عذاب سے بچائے، کوئی بھاگنے کی جگہ نہ نظر آئے گی۔ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ کافروں کے چہرے ان کے کفر کی وجہ سے سیاہ ہوں گے، اب کفر کا مزہ اٹھاؤ۔ مومنوں کے منہ نورانی اور چمکیلے، گورے اور صاف ہوں گے، کافروں کے چہرے ذلیل اور پست ہوں گے۔
27۔ 1 گزشتہ آیت میں اہل جنت کا تذکرہ تھا، اس میں بتلایا گیا تھا کہ انہیں ان کے نیک اعمال کی جزا کئی کئی گنا ملے گی اور پھر مزید دیدار الٰہی سے نوازے جائیں گے۔ اس آیت میں بتلایا جا رہا ہے کہ برائی کا بدلہ برائی کے مثل ہی ملے گا سَيِّئَاتِ سے مراد کفر اور شرک اور دیگر معاصی ہیں۔ 27۔ 2 جس طرح اہل ایمان کو بچانے والا اللہ تعالیٰ ہوگا اس طرح انہیں اس روز اپنے فضل خاص سے نوازے گا علاوہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے مخصوص بندوں کو شفاعت کی اجازت بھی دے گا، جن کی شفاعت بھی وہ قبول فرمائے گا۔ 27۔ 3 یہ مبالغہ ہے کہ ان کے چہرے اتنے سخت سیاہ ہونگے۔ اس کے برعکس اہل ایمان کے چہرے ترو تازہ اور روشن ہونگے جس طرح سورة ال عمران، آیت 16 اور سورة عبس 38۔ 41 اور سورة قیامت میں ہے۔
(آیت 27) ➊ {وَ الَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ …:} اوپر محسنین (نیکی کرنے والوں) کا بیان تھا، اب ان لوگوں کی حالت بیان کی جو سیئات (برائیوں) کا ارتکاب کرتے ہیں۔ {” سَيِّئَةٍۭ “} میں تنوین تنکیر کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”کسی بھی برائی“ کیا ہے۔ گزشتہ آیت میں ذکر ہے کہ نیکی کا بدلہ اس سے بہت اچھا، یعنی جنت اور مزید دیدارِ الٰہی کی صورت میں ملے گا، اب بتایا کہ برائی خواہ کوئی ہو اس کا بدلہ صرف اس کے برابر ملے گا، زیادہ یا کئی گنا نہیں ملے گا۔ انھیں بہت بڑی ذلت گھیرے ہوئے ہو گی، یعنی {” ذِلَّةٌ “} میں تنوین تہویل و تعظیم کے لیے ہے۔ ➋ {مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ:} حقیقت میں تو دنیا ہو یا آخرت، کہیں بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں، مگر انسان دنیا میں بہت سے سہارے تلاش کر لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ان کے ذریعے سے میں نے اپنی مراد حاصل کرلی ہے، مگر آخرت میں اس قسم کے سب اسباب ختم ہو جائیں گے اور ہر ایک کو یہ یقین ہو جائے گا کہ اب اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں، جیسا کہ سورۂ قیامہ میں فرمایا: «{ يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ (10) كَلَّا لَا وَزَرَ (11) اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِ الْمُسْتَقَرُّ }» [القیامۃ: ۱۰ تا ۱۲ ] ”اور انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ ہر گز نہیں، پناہ کی جگہ کوئی نہیں، اس دن تیرے رب ہی کی طرف جا ٹھہرنا ہے۔“ ➌ { كَاَنَّمَاۤ اُغْشِيَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّيْلِ مُظْلِمًا: ” غَشِيَ يَغْشٰي“} (ع) ڈھانپنا۔ {” اَغْشٰي يُغْشِيْ “} (افعال) کسی پر کوئی چیز ڈال دینا جو اسے ڈھانپ لے۔ ان کے چہروں کی حد سے بڑھی ہوئی سیاہی کو تشبیہ دی ہے کہ گویا اندھیری رات کے اندھیروں کے کئی ٹکڑے ملا کر ان کے چہروں پر ڈال دیے گئے ہوں، جنھوں نے ان کو ڈھانپ رکھا ہو۔ مجرموں کے چہروں کی سیاہی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر کیا ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۰۶، ۱۰۷)، قیامہ(۲۲تا ۲۵) اور عبس (۳۸ تا ۴۱) {” مُظْلِمًا “} یہ {” الَّيْلِ “} سے حال ہے۔
جس روز ہم ان سب کو ایک ساتھ (اپنی عدالت میں) اکٹھا کریں گے، پھر ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ہے کہیں گے کہ ٹھیر جاؤ تم بھی اور تمہارے بنائے ہوئے شریک بھی، پھر ہم ان کے درمیان سے اجنبیّت کا پردہ ہٹا دیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ “تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه دن بھی قابل ذکر ہے جس روز ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ ٹھہرو پھر ہم ان کے آپس میں پھوٹ ڈال دیں گے اور ان کے وه شرکا کہیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور جس دن ہم ان سب کو اٹھائیں گے پھر مشرکوں سے فرمائیں گے اپنی جگہ رہو تم اور تمہارے شریک تو ہم انہیں مسلمانوں سے جدا کردیں گے اور ان کے شریک ان سے کہیں گے تم ہمیں کب پوجتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن ہم سب کو (اپنے حضور) محشور (اکھٹا) کریں گے پھر ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا تھا کہیں گے کہ تم اور جو تمہارے بنائے ہوئے شریک ہیں اپنی جگہ پر ٹھہر جاؤ۔ پھر ہم ان میں امتیاز پیدا کر دیں گے (الگ الگ کر دیں گے) (اس وقت) ان کے خود ساختہ شریک کہیں گے کہ (اے مشرکو) تم ہماری عبادت تو نہیں کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے، پھر ہم ان لوگوں سے جنھوں نے شریک بنائے تھے، کہیں گے اپنی جگہ ٹھہرے رہو، تم اور تمھارے شریک بھی، پھر ہم ان کے درمیان علیحدگی کر دیں گے اور ان کے شریک کہیں گے تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
میدان حشر میں سبھی موجود ہوں گے ٭٭
{ مومن، کافر، نیک، بد، جن انسان، سب میدان قیامت میں اللہ کے سامنے جمع ہونگے۔ «وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ سب کا حشر ہو گا، ایک بھی باقی نہ رہے گا ‘۔ «وَامْتَازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ» [36-یس:59] ’ پھر مشرکوں اور ان کے شریکوں کو الگ کھڑا کر دیا جائے گا ‘۔ «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ» ۱؎ [30-الروم:14] ’ ان مجرموں کی جماعت مومنوں سے الگ ہو جائے گی، سب جدا جدا گروہ میں بٹ جائیں گے ایک سے ایک الگ ہو جائے گا ‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خود فیصلوں کے لیے تشریف لائے گا۔ مومن سفارش کر کے اللہ کو لائیں گے کہ وہ فیصلے فرما دے }۔ [صحیح بخاری:7516] { یہ امت ایک اونچے ٹیلے پر ہوگی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:191] «سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ۱؎ [19-مریم:82] ’ مشرکین کے شرکا اپنے عابدوں سے بیزاری ظاہر کریں گے ‘، اور آیت میں ہے کہ «إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا» ۱؎ [2-البقرہ:166] ’ اس دن (کفر کے) پیشوا اپنے پیرووں سے بیزاری ظاہر کریں گے، اسی طرح خود مشرکین بھی ان سے انجان ہو جائیں گے۔ سب ایک دوسرے انجان بن جائیں گے ‘۔ «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:5-6] ’ اب بتلاؤ ان مشرکوں سے بھی زیادہ کوئی بہکا ہوا ہے کہ انہیں پکارتے رہے جو آج تک ان کی پکار سے بھی غافل رہے اور آج ان کے دشمن بن کر مقابلے پر آگئے۔ صاف کہا کہ تم نے ہماری عبادت نہیں کی۔ ہمیں کچھ خبر نہیں ہماری تمہاری عبادتوں سے بالکل غافل رہے۔ اسے اللہ خوب جانتا ہے، نہ ہم نے اپنی عبادت کو تم سے کہا تھا نہ ہم اس سے کبھی خوش رہے۔ تم اندھی، نہ سنتی، بے کار چیزوں کو پوجتے رہے جو خود ہی بے خبر تھے نہ وہ اس سے خوش نہ ان کا یہ حکم ‘۔
بلکہ تمہاری پوری حاجت مندی کے وقت تمہارے شرک کے منکر، تمہاری عبادتوں کے منکر بلکہ تمہارے دشمن تھے۔ اس حی و قیوم، سمیع و بصیر، قادر و مالک، وحدہ لاشریک کو تم نے چھوڑ دیا جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہ تھا۔ «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى اللَّـهُ وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ» ۱؎ [16-النحل:36] ’ جس نے رسول بھیج کر تمہیں توحید سکھائی اور سنائی تھی سب رسولوں کی زبانی کہلوایا تھا کہ میں ہی معبود ہوں میری ہی عبادت و اطاعت کرو۔ سوائے میرے کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ہر قسم کے شرک سے بچو۔ کبھی کسی طرح بھی مشرک نہ بنو ‘۔ وہاں ہر شخص اپنے اعمال دیکھ لے گا۔ اپنی بھلائی برائی معلوم کرلے گا۔ نیک و بد سامنے آ جائے گا۔ اسرار بے نقاب ہوں گے، کھل پڑیں گے، اگلے پچھلے چھوٹے بڑے کام سامنے ہوں گے۔ نامہ اعمال کھلے ہوئے ہوں گے، ترازو چڑھی ہوئی ہوگی۔ آپ اپنا حساب کرلے گا۔ «تَبْلُوا» کی دوسری قرآت «تَتْلُوْا» بھی ہے۔ اپنے اپنے کرتوت کے پیچھے ہر شخص ہوگا۔ حدیث میں ہے { ہر امت کو حکم ہو گا کہ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چل کھڑی ہو جائے۔ سورج پرست سب سورج کے پیچھے ہوں گے، چاند پرست چاند کے پیچھے، بت پرست بتوں کے پیچھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7438] سارے کے سارے حق تعالیٰ مولائے برحق کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کاموں کے فیصلے اس کے ہاتھ ہوں گے۔ اپنے فضل سے نیکوں کو جنت میں اور اپنے عدل سے بدوں کو جہنم میں لے جائے گا۔ مشرکوں کی ساری افرا پردازیاں رکھی کی رکھی رہ جائیں گی، بھرم کھل جائیں گے، پردے اُٹھ جائیں گے۔
28۔ 1 جَمَیْعًا سے مراد، ازل سے ابد تک کے تمام اہل زمین انسان اور جنات ہیں، سب کو اللہ تعالیٰ جمع فرمائے گا جس طرح کہ دوسرے مقام پر فرمایا (ۙ وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا) 18۔ الکہف:47) ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے، کسی ایک کو بھی نہ چھوڑیں گے۔ 28۔ 2 ان کے مقابلے میں اہل ایمان کو دوسری طرف کردیا جائے گا یعنی اہل ایمان اور اہل کفر و شرک کو الگ الگ ایک دوسرے سے ممتاز کردیا جائے گا جیسے فرمایا (وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ) 36۔ یس:59) اس دن لوگ گروہوں میں بٹ جائیں گے ' یعنی دو گروہوں میں (ابن کثیر) 28۔ 3 یعنی دنیا میں ان کے درمیان آپس میں جو خصوصی تعلق تھا وہ ختم کردیا جائے گا اور ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے اور ان کے معبود اس بات کا ہی انکار کریں گے کہ یہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے، ان کو مدد کے لئے پکارتے تھے، ان کے نام کی نذر نیاز دیتے تھے۔
(آیت 28) ➊ {وَ يَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا: } اس آیت میں بھی کفار کی ایک رسوائی بیان کی گئی ہے کہ جس دن ہم شروع سے آخر تک کے تمام جن و انس،مسلم و کافر اورنیک و بد کو اکٹھا کریں گے (دیکھیے کہف: ۴۷۔ مریم: ۹۳، ۹۴) اس دن شرک کرنے والوں اور جنھیں وہ شریک بناتے رہے ان سب کو بھی اکٹھا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی عظمت و رفعت کے اظہار کے لیے اپنا ذکر جمع کے صیغے سے کیا ہے کہ ”ہم“ جمع کریں گے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کے واحد، احد ہونے میں کیا شک ہے، پورا قرآن ہی یہ سمجھانے کے لیے نازل ہوا کہ وہ ذات پاک وحدہ لا شریک لہ ہے۔ ➋ { ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا …:} پھر ہم شرک کرنے والوں سے کہیں گے کہ تم اور جنھیں تم نے شریک بنایا تھا اپنی جگہ ٹھہرے رہو، تاکہ تمھارے لیے تمھارے شرک اور شرکاء کی حقیقت واضح ہو جائے۔ ➌ { فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ:} ان کے درمیان علیحدگی کرنے سے مراد ایک تو یہ ہے کہ مسلم و کافر الگ الگ کر دیے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ امْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ }» [ یٰسٓ: ۵۹ ] ”اور الگ ہو جاؤ آج اے مجرمو!“ اور دیکھیے سورۂ روم (۱۴ تا ۱۶، ۴۳) اور ایک مطلب یہ ہے کہ شرک کرنے والوں کو اور ان کے قرار دیے گئے شرکاء کو اپنی اپنی جگہ ٹھہرنے کا حکم دے کر ان کی گفتگو کروائی جائے گی۔ مشرک ان سے کہیں گے کہ ہم دنیا میں تمھاری عبادت کرتے رہے، مشکل کے وقت پکارتے رہے، اپنے نفع نقصان کا مالک سمجھتے رہے، قیامت کے دن تمھاری پناہ میں آ کر عذاب سے بچانے کی درخواست کرتے رہے۔ ➍ {وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِيَّانَا تَعْبُدُوْنَ:} وہ شرکاء کہیں گے کہ تم ہماری عبادت تو نہیں کیا کرتے تھے، معلوم نہیں کس کی عبادت کرتے رہے ہو؟ دنیا میں جن لوگوں کی پرستش کی گئی ان میں سے کچھ وہ تھے جو اپنی پرستش کروانا چاہتے تھے، جیسے فرعون، ابلیس وغیرہ اور کچھ وہ تھے جو یہ نہیں چاہتے تھے، بلکہ اللہ کا شریک کسی کو بھی بنانے سے منع کرتے تھے، جیسے انبیاء و صالحین۔ اب جب اللہ تعالیٰ سب کو جمع کرے گا، تو وہ سب لوگ جن کی عبادت اور پرستش کی گئی اپنے پرستش کرنے والوں سے صاف لاتعلق ہو جائیں گے، جو اپنی پرستش کروانا چاہتے تھے وہ بھی، جیسا کہ سورۂ بقرہ (۱۶۵ تا ۱۶۷) میں مذکور ہے اور وہ بھی جو غیر اللہ کی پرستش سے منع کرتے تھے، جیسا کہ مسیح علیہ السلام اور دوسرے انبیاء و صلحاء۔ ان سب کی اپنی عبادت کرنے والوں سے اور پوجنے پکارنے والوں سے صاف بری اور لاتعلق ہونے کی کئی وجہیں ہوں گی، جن میں سے پہلی وجہ تو یہ ہو گی کہ یہ مشرک تو اللہ کے سوا کسی اور کو بھی عالم الغیب، ان کے حالات سے واقف اور ان کی فریاد سننے والا سمجھتے رہے اور یہ سمجھ کر دن رات یا علی یا حسن یا حسین یا دستگیر یا داتا یا شکر گنج وغیرہ پکارتے رہے، جب کہ ان حضرات کو کچھ خبر ہی نہ تھی کہ کوئی ہمیں پکار رہا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ (5) وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِيْنَ }» [ الأحقاف: ۵، ۶ ] ”اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بے خبر ہیں۔ اور جب سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوں گے۔“ دوسری وجہ یہ کہ ان لوگوں کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بھی کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے، جب کہ قرآن اترا ہی یہ بتانے کے لیے ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان، مثلاً دیکھیے سورۂ یونس (۱۰۶، ۱۰۷)، زمر (۳۸)، مومنون (۸۶ تا ۸۹)، جن (۲۱) اور بہت سی دیگر آیات۔ اس لیے تمام شرکاء کہیں گے کہ ہمارا اختیار ہی کچھ نہ تھا، معلوم نہیں تم کسے پکارتے تھے، بہرحال ہمیں تو نہیں پکارتے تھے۔ تیسری وجہ یہ کہ مشرک لوگ حقیقت میں صرف اپنے وہم و گمان کے بنائے ہوئے مشکل کشاؤں کی پرستش کرتے رہے، جب کہ وہ سب لوگ جن کو یہ پکارتے رہے، ایک بھی نہ اللہ کا شریک تھا نہ کسی اختیار کا مالک۔ اب اپنے گمان کی پوجا کرکے ان کے نام لگانے پر ان کو غصہ آئے گا۔ دیکھیے سورۂ یونس (۶۶) چوتھی وجہ یہ ہو گی کہ ان ظالموں کے شرک کی وجہ سے ان انبیاء اور صالحین کی قیامت کے دن اللہ کے دربار میں پیشی پڑ جائے گی اور ان سے باز پُرس ہو گی اور وہ اپنی صفائی اور لاعلمی کا عذر پیش کریں گے، تو ان کے شرک کی وجہ سے، سوال کی وجہ سے جو ان کے دل پر گزرے گی اور پیشی پڑنے پر جو فکر مندی ہو گی ہم اندازہ ہی نہیں کر سکتے کہ اس کی وجہ سے وہ ان سے کس قدر بے زار اور ان کے کتنے زبردست دشمن ہوں گے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۱۱۶ تا ۱۱۸) رہے وہ بادشاہ اور پیر اور شیطان جو اپنی پرستش کروانا چاہتے تھے اور ان کو شرک پر لگانے والے تھے، وہ خود اپنی مصیبت میں گرفتار ہوں گے، وہ ان کے قابو کہاں آئیں گے، حتیٰ کہ شیطان بھی کہے گا کہ میں نے تم پر کوئی فوج بھیجی تھی؟ محض تمھیں دعوت دی تھی، تم نہ مانتے، اب نہ میں کسی طرح تمھاری مدد کر سکتا ہوں نہ تم میری۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۲۱، ۲۲)۔ ➎ اس ساری تفصیل سے معلوم ہوا کہ شرک صرف پتھر کے بتوں یا قبروں کو پکارنے ہی کا نام نہیں بلکہ ان شخصیتوں کو پکارنا ہے جن کے وہ بت ہیں یا قبریں ہیں، ورنہ بت بنانے کی ضرورت کیا تھی، کسی بھی پتھر کو پوج لیتے، بت اور قبر کی نیاز اور سجدے کا صاف مطلب ان شخصیتوں کی پرستش ہے جن کے وہ بت یا قبریں ہیں۔ دیکھیے سورۂ نوح کی آیت (۲۳) کی تفسیر۔
ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے کہ (تم اگر ہماری عبادت کرتے بھی تھے تو) ہم تمہاری اس عبادت سے بالکل بے خبر تھے "
مولانا محمد جوناگڑھی
سو ہمارے تمہارے درمیان اللہ کافی ہے گواه کے طور پر، کہ ہم کو تمہاری عبادت کی خبر بھی نہ تھی
احمد رضا خان بریلوی
تو اللہ گواہ کافی ہے ہم میں اور تم میں کہ ہمیں تمہارے پوجنے کی خبر بھی نہ تھی،
علامہ محمد حسین نجفی
آج ہمارے اور تمہارے درمیان گواہی کیلئے اللہ کافی ہے کہ ہم تمہاری عبادت سے بالکل غافل و بے خبر تھے۔
عبدالسلام بن محمد
سو اللہ ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان کافی گواہ ہے کہ بے شک ہم تمھاری عبادت سے یقینا بے خبر تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
میدان حشر میں سبھی موجود ہوں گے ٭٭
{ مومن، کافر، نیک، بد، جن انسان، سب میدان قیامت میں اللہ کے سامنے جمع ہونگے۔ «وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ سب کا حشر ہو گا، ایک بھی باقی نہ رہے گا ‘۔ «وَامْتَازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ» [36-یس:59] ’ پھر مشرکوں اور ان کے شریکوں کو الگ کھڑا کر دیا جائے گا ‘۔ «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ» ۱؎ [30-الروم:14] ’ ان مجرموں کی جماعت مومنوں سے الگ ہو جائے گی، سب جدا جدا گروہ میں بٹ جائیں گے ایک سے ایک الگ ہو جائے گا ‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خود فیصلوں کے لیے تشریف لائے گا۔ مومن سفارش کر کے اللہ کو لائیں گے کہ وہ فیصلے فرما دے }۔ [صحیح بخاری:7516] { یہ امت ایک اونچے ٹیلے پر ہوگی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:191] «سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ۱؎ [19-مریم:82] ’ مشرکین کے شرکا اپنے عابدوں سے بیزاری ظاہر کریں گے ‘، اور آیت میں ہے کہ «إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا» ۱؎ [2-البقرہ:166] ’ اس دن (کفر کے) پیشوا اپنے پیرووں سے بیزاری ظاہر کریں گے، اسی طرح خود مشرکین بھی ان سے انجان ہو جائیں گے۔ سب ایک دوسرے انجان بن جائیں گے ‘۔ «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:5-6] ’ اب بتلاؤ ان مشرکوں سے بھی زیادہ کوئی بہکا ہوا ہے کہ انہیں پکارتے رہے جو آج تک ان کی پکار سے بھی غافل رہے اور آج ان کے دشمن بن کر مقابلے پر آگئے۔ صاف کہا کہ تم نے ہماری عبادت نہیں کی۔ ہمیں کچھ خبر نہیں ہماری تمہاری عبادتوں سے بالکل غافل رہے۔ اسے اللہ خوب جانتا ہے، نہ ہم نے اپنی عبادت کو تم سے کہا تھا نہ ہم اس سے کبھی خوش رہے۔ تم اندھی، نہ سنتی، بے کار چیزوں کو پوجتے رہے جو خود ہی بے خبر تھے نہ وہ اس سے خوش نہ ان کا یہ حکم ‘۔
بلکہ تمہاری پوری حاجت مندی کے وقت تمہارے شرک کے منکر، تمہاری عبادتوں کے منکر بلکہ تمہارے دشمن تھے۔ اس حی و قیوم، سمیع و بصیر، قادر و مالک، وحدہ لاشریک کو تم نے چھوڑ دیا جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہ تھا۔ «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى اللَّـهُ وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ» ۱؎ [16-النحل:36] ’ جس نے رسول بھیج کر تمہیں توحید سکھائی اور سنائی تھی سب رسولوں کی زبانی کہلوایا تھا کہ میں ہی معبود ہوں میری ہی عبادت و اطاعت کرو۔ سوائے میرے کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ہر قسم کے شرک سے بچو۔ کبھی کسی طرح بھی مشرک نہ بنو ‘۔ وہاں ہر شخص اپنے اعمال دیکھ لے گا۔ اپنی بھلائی برائی معلوم کرلے گا۔ نیک و بد سامنے آ جائے گا۔ اسرار بے نقاب ہوں گے، کھل پڑیں گے، اگلے پچھلے چھوٹے بڑے کام سامنے ہوں گے۔ نامہ اعمال کھلے ہوئے ہوں گے، ترازو چڑھی ہوئی ہوگی۔ آپ اپنا حساب کرلے گا۔ «تَبْلُوا» کی دوسری قرآت «تَتْلُوْا» بھی ہے۔ اپنے اپنے کرتوت کے پیچھے ہر شخص ہوگا۔ حدیث میں ہے { ہر امت کو حکم ہو گا کہ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چل کھڑی ہو جائے۔ سورج پرست سب سورج کے پیچھے ہوں گے، چاند پرست چاند کے پیچھے، بت پرست بتوں کے پیچھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7438] سارے کے سارے حق تعالیٰ مولائے برحق کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کاموں کے فیصلے اس کے ہاتھ ہوں گے۔ اپنے فضل سے نیکوں کو جنت میں اور اپنے عدل سے بدوں کو جہنم میں لے جائے گا۔ مشرکوں کی ساری افرا پردازیاں رکھی کی رکھی رہ جائیں گی، بھرم کھل جائیں گے، پردے اُٹھ جائیں گے۔
29۔ 1 یہ انکار کی وجہ ہے کہ ہمیں تو کچھ پتہ ہی نہیں، تم کیا کچھ کرتے تھے اور ہم جھوٹ بول رہے ہوں تو ہمارے درمیان اللہ تعالیٰ گواہ ہے اور وہ کافی ہے، اس کی گواہی کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی، یہ آیت اس بات پر صحیح ہے کہ مشرکین جن کو مدد کے لئے پکارتے تھے، بلکہ وہ عقل و شعور رکھنے والے افراد ہی ہوتے تھے جن کے مرنے کے بعد لوگ ان کے مجسمے اور بت بنا کر پوجنا شروع کردیتے تھے۔ جس طرح کہ حضرت نوح ؑ کی قوم کے طرز عمل سے ثابت ہے جس کی تصریح صحیح بخاری میں موجود ہے۔ دوسرا یہ بھی معلوم ہوا کہ مرنے کے بعد، انسان کتنا بھی نیک ہو، حتیٰ کہ نبی و رسول ہو۔ اسے دنیا کے حالات کا علم نہیں ہوتا، اس کے ماننے والے اور عقیدت مند اسے مدد کے لئے پکارتے ہیں اس کے نام کی نذر نیاز دیتے ہیں، اس کی قبر پر میلے ٹھیلے کا انتظام کرتے ہیں، لیکن وہ بیخبر ہوتا ہے اور ان تمام چیزوں کا انکار ایسے لوگ قیامت والے دن کریں گے۔ یہی بات سورة احقاف آیت 5، 6 میں بھی بیان کی گئی ہے۔
(آیت 29){ فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا …:} یہ الفاظ قسم کے معنی میں بھی آتے ہیں۔ {” اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِيْنَ “} میں{ ” اِنْ كُنَّا“} دراصل {” اِنَّا كُنَّا “} تھا، {” غَافِلِيْنَ “} پر لام کا آنا اس بات کی دلیل ہے، اس لیے اس {” اِنْ كُنَّا “ } کا معنی {”اِنَّا كُنَّا “} کیا ہے، یعنی یہاں {” إِنَّ “} کا ایک نون اور جمع متکلم کی ضمیر {” نَا “} دونوں مقدر ہیں۔
اُس وقت ہر شخص اپنے کیے کا مزا چکھ لے گا، سب اپنے مالک حقیقی کی طرف پھیر دیے جائیں گے اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے گم ہو جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس مقام پر ہر شخص اپنے اگلے کیے ہوئے کاموں کی جانچ کرلے گا اور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ جھوٹ باندھا کرتے تھے سب ان سے غائب ہوجائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
یہاں ہر جان جا نچ لے گی جو آگے بھیجا اور اللہ کی طرف پھیرے جائیں گے جو ان کا سچا مولیٰ ہے اور ان کی ساری بناوٹیں ان سے گم ہوجائیں گی
علامہ محمد حسین نجفی
اس موقع پر ہر شخص اسے جانچ لے گا جو کچھ اس نے آگے بھیجا ہے (کہ اس کا نتیجہ کیا ہے؟) اور سب اللہ کی بارگاہ میں لوٹائے جائیں گے جو ان کا حقیقی مالک ہے اور جو (شریک) انہوں نے گھڑ رکھے تھے وہ سب غائب ہو جائیں گے (اور ان کے کچھ کام نہ آئیں گے)
عبدالسلام بن محمد
اس موقع پر ہر شخص جانچ لے گا جو اس نے آگے بھیجا اور وہ اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے جو ان کا حقیقی مالک ہے اور ان سے گم ہو جائے گا جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
میدان حشر میں سبھی موجود ہوں گے ٭٭
{ مومن، کافر، نیک، بد، جن انسان، سب میدان قیامت میں اللہ کے سامنے جمع ہونگے۔ «وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ سب کا حشر ہو گا، ایک بھی باقی نہ رہے گا ‘۔ «وَامْتَازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ» [36-یس:59] ’ پھر مشرکوں اور ان کے شریکوں کو الگ کھڑا کر دیا جائے گا ‘۔ «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ» ۱؎ [30-الروم:14] ’ ان مجرموں کی جماعت مومنوں سے الگ ہو جائے گی، سب جدا جدا گروہ میں بٹ جائیں گے ایک سے ایک الگ ہو جائے گا ‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خود فیصلوں کے لیے تشریف لائے گا۔ مومن سفارش کر کے اللہ کو لائیں گے کہ وہ فیصلے فرما دے }۔ [صحیح بخاری:7516] { یہ امت ایک اونچے ٹیلے پر ہوگی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:191] «سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ۱؎ [19-مریم:82] ’ مشرکین کے شرکا اپنے عابدوں سے بیزاری ظاہر کریں گے ‘، اور آیت میں ہے کہ «إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا» ۱؎ [2-البقرہ:166] ’ اس دن (کفر کے) پیشوا اپنے پیرووں سے بیزاری ظاہر کریں گے، اسی طرح خود مشرکین بھی ان سے انجان ہو جائیں گے۔ سب ایک دوسرے انجان بن جائیں گے ‘۔ «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:5-6] ’ اب بتلاؤ ان مشرکوں سے بھی زیادہ کوئی بہکا ہوا ہے کہ انہیں پکارتے رہے جو آج تک ان کی پکار سے بھی غافل رہے اور آج ان کے دشمن بن کر مقابلے پر آگئے۔ صاف کہا کہ تم نے ہماری عبادت نہیں کی۔ ہمیں کچھ خبر نہیں ہماری تمہاری عبادتوں سے بالکل غافل رہے۔ اسے اللہ خوب جانتا ہے، نہ ہم نے اپنی عبادت کو تم سے کہا تھا نہ ہم اس سے کبھی خوش رہے۔ تم اندھی، نہ سنتی، بے کار چیزوں کو پوجتے رہے جو خود ہی بے خبر تھے نہ وہ اس سے خوش نہ ان کا یہ حکم ‘۔
بلکہ تمہاری پوری حاجت مندی کے وقت تمہارے شرک کے منکر، تمہاری عبادتوں کے منکر بلکہ تمہارے دشمن تھے۔ اس حی و قیوم، سمیع و بصیر، قادر و مالک، وحدہ لاشریک کو تم نے چھوڑ دیا جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہ تھا۔ «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى اللَّـهُ وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ» ۱؎ [16-النحل:36] ’ جس نے رسول بھیج کر تمہیں توحید سکھائی اور سنائی تھی سب رسولوں کی زبانی کہلوایا تھا کہ میں ہی معبود ہوں میری ہی عبادت و اطاعت کرو۔ سوائے میرے کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ہر قسم کے شرک سے بچو۔ کبھی کسی طرح بھی مشرک نہ بنو ‘۔ وہاں ہر شخص اپنے اعمال دیکھ لے گا۔ اپنی بھلائی برائی معلوم کرلے گا۔ نیک و بد سامنے آ جائے گا۔ اسرار بے نقاب ہوں گے، کھل پڑیں گے، اگلے پچھلے چھوٹے بڑے کام سامنے ہوں گے۔ نامہ اعمال کھلے ہوئے ہوں گے، ترازو چڑھی ہوئی ہوگی۔ آپ اپنا حساب کرلے گا۔ «تَبْلُوا» کی دوسری قرآت «تَتْلُوْا» بھی ہے۔ اپنے اپنے کرتوت کے پیچھے ہر شخص ہوگا۔ حدیث میں ہے { ہر امت کو حکم ہو گا کہ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چل کھڑی ہو جائے۔ سورج پرست سب سورج کے پیچھے ہوں گے، چاند پرست چاند کے پیچھے، بت پرست بتوں کے پیچھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7438] سارے کے سارے حق تعالیٰ مولائے برحق کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کاموں کے فیصلے اس کے ہاتھ ہوں گے۔ اپنے فضل سے نیکوں کو جنت میں اور اپنے عدل سے بدوں کو جہنم میں لے جائے گا۔ مشرکوں کی ساری افرا پردازیاں رکھی کی رکھی رہ جائیں گی، بھرم کھل جائیں گے، پردے اُٹھ جائیں گے۔
30۔ 1 یعنی جان لے گا یا مزہ چکھ لے گا۔ 30۔ 2 یعنی کوئی معبود اور ' مشکل کشا ' وہاں کام نہیں آئے گا، کوئی کسی کی مشکل کشائی پر قادر نہیں ہوگا۔
(آیت 30) {” هُنَالِكَ “} ”اس وقت، اس جگہ“ دونوں معنی میں آتا ہے، اس لیے ترجمہ ”اس موقع پر“ کیا ہے، تاکہ دونوں معنی شامل ہو جائیں۔ {” تَبْلُوْا “} آزمائش کرنا، جانچ لینا۔ جانچنے پرکھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو اس چیز کا پوری طرح علم ہو جاتا ہے، یعنی اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کی پوری حقیقت ہر شخص کے سامنے پوری طرح کھل جائے گی اور اپنے اصل مالک کے پاس پہنچنے کے بعد نہ ان کے اپنے گھڑے ہوئے اور بنائے ہوئے مشکل کشا کہیں نظر آئیں گے، نہ کوئی زبردستی سفارش کے ساتھ چھڑا لینے والا کہیں ڈھونڈے سے ملے گا۔ سب لغو اور جھوٹی باتیں ہوا ہو جائیں گی۔
اِن سے پُوچھو، کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں؟ کون بے جان میں سے جاندار کو اور جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے؟ کون اِس نظم عالم کی تدبیر کر رہا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ کہو، پھر تم (حقیقت کے خلاف چلنے سے) پرہیز نہیں کرتے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہیے کہ وه کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وه کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وه کون ہے جو زنده کو مرده سے نکالتا ہے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے اور وه کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وه یہی کہیں گے کہ اللہ تو ان سے کہیے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ تمہیں کون روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردے سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور کون تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے تو اب کہیں گے کہ اللہ تو تم فرماؤ تو کیوں نہیں ڈرتے
علامہ محمد حسین نجفی
اے پیغمبر) ان لوگوں سے کہو (پوچھو) وہ کون ہے جو تمہیں آسمان و زمین سے روزی دیتا ہے؟ وہ کون ہے جو سمع و بصر (سننے اور دیکھنے کی طاقت) کا مالک ہے؟ وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے؟ اور وہ کون ہے جو کائنات کا انتظام کر رہا ہے؟ اس سوال پر وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ پس تم کہو (کہ اگر حقیقت حال یہی ہے) تو تم کیوں نہیں ڈرتے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے کون ہے جو تمھیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ یا کون ہے جو کانوں اور آنکھوں کا مالک ہے؟ اور کون زندہ کو مردہ سے نکالتا اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے؟ اور کون ہے جو ہر کام کی تدبیر کرتا ہے؟ تو ضرور کہیں گے ’’اللہ‘‘ تو کہہ پھر کیا تم ڈرتے نہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی الوہیت کے منکر ٭٭
اللہ کی ربوبیت کو مانتے ہوئے اس کی الوہیت کا انکار کرنے والے قریشیوں پر اللہ کی حجت پوری ہو رہی ہے کہ «فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَفَاكِهَةً وَأَبًّا» ۱؎ [80-عبس:27-31] ’ ان سے پوچھو کہ آسمانوں سے بارش کون برساتا ہے؟ پھر اپنی قدرت سے زمین کو پھاڑ کر کھیتی و باغ کون اُگاتا ہے؟ دانے اور پھل کون پیدا کرتا ہے؟ اس کے جواب میں یہ سب کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی ‘۔ «أَمَّنْ هَـٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ» ۱؎ [67-الملک:21] ’ اس کے ہاتھ میں ہے چاہے روزی دے چاہے روک لے ‘۔ «قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّـهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم مَّنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:46] ’ کان آنکھیں بھی اس کے قبضے میں ہیں۔ دیکھنے کی سننے کی حالت بھی اسی کی دی ہوئی ہے اگر وہ چاہے اندھا بہرا بنا دے۔ پیدا کرنے والا وہی، اعضاء کا دینے والا وہی ہے۔ وہ اسی قوت کو چھین لے تو کوئی نہیں دے سکتا ‘۔ اس کی قدرت و عظمت کو دیکھو کہ مردے سے زندے کو پیدا کر دے، زندے سے مردے کو نکالے۔ وہی تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے۔ ہر چیز کی بادشاہت اسی کے ہاتھ ہے۔ سب کو وہی پناہ دیتا ہے اس کے مجرم کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہی متصرف و حاکم ہے کوئی اس سے بازپرس نہیں کر سکتا وہ سب پر حاکم ہے۔ «يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ» ۱؎ [55-الرحمن:29] ’ آسمان و زمین اس کے قبضے میں ہر تر و خشک کا مالک وہی ہے عالم بالا اور سفلی اسی کا ہے ‘۔ کل انس و جن فرشتے اور مخلوق اس کے سامنے عاجز و بے کس ہیں۔ ہر ایک پست و لاچار ہے۔ ان سب باتوں کا ان مشرکین کو بھی اقرار ہے۔ پھر کیا بات ہے جو یہ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار نہیں کرتے۔ جہالت وغبادت سے دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔
فاعل خود مختار اللہ کو جانتے ہوئے رب و مالک مانتے ہوئے معبود سمجھتے ہوئے پھر بھی دوسروں کی پوجا کرتے ہیں۔ وہی ہے تم سب کا سچا معبود اللہ تعالیٰ وکیل ہے اس کے سوا تمام معبود باطل ہیں وہ اکیلا ہے بے شریک ہے۔ مستحق عبادت صرف وہی ہے۔ حق ایک ہی ہے۔ اس کے سوا سب کچھ باطل ہے۔ پس تمہیں اس کی عبادت سے ہٹ کر دوسروں کی عبادت کی طرف نہ جانا چاہیئے یاد رکھو وہی رب العلمین ہے وہی ہرچیز میں متصرف ہے۔ کافروں پر اللہ کی بات ثابت ہو چکی ہے، ان کی عقل ماری گئی ہے۔ خالق رازق متصرف مالک صرف اللہ کو مانتے ہوئے اس کے رسولوں کا خلاف کر کے اس کی توحید کو نہیں مانتے۔ اپنی بدبختی سے جہنم کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔
31۔ 1 اس آیت سے بھی واضح ہے کہ مشرکین اللہ تعالیٰ کی مالکیت، خالقیت، ربویت اور اس کے مدبر الامور ہونے کو تسلیم کرتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود چونکہ وہ اس کی الوہیت میں دوسروں کو شریک ٹھہراتے تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ انہیں جہنم کا ایندھن قرار دیا۔ آج کل کے مدعیان ایمان بھی اسی توحید الوہیت کے منکر ہیں۔
(آیت 31) ➊ { قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ …:} بت پرستوں کی حماقتوں اور ان کا انجام بیان کرنے کے بعد اب یہاں سے بت پرستی کی تردید میں دلائل کا بیان شروع ہوا ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہاں چار چیزیں شرک کی تردید اور توحید الٰہی کی دلیل کے طور پر پیش فرمائی ہیں، اول یہ کہ آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے؟ آسمان سے بارش برسانے والا اور زمین سے تمھارے کھانے اور ضرورت کی ہر چیز پیدا کرکے تمھیں روزی دینے والا کون ہے؟ دوم انسان کے حواس جن میں سب سے زیادہ باشرف سمع و بصر ہیں، جو انسان کے علم کا ذریعہ بنتے ہیں، یہ دونوں کس کے قبضہ میں ہیں کہ اگر چاہے تو چھین کر اندھا اور بہرا کر دے؟ سوم موت و حیات کا اختیار کس کے پاس ہے، کون ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے؟ مثلاً نطفہ اور جان دار، انڈا اور پرندے، بیج اور لہلہاتے کھیت اور درخت، مومن اور کافر میں سے ایک کو دوسرے سے کون نکالتا ہے۔ چہارم پوری کائنات کے ہر معاملہ کی تدبیر کون کرتا ہے کہ اس میں نہ کوئی خرابی ہے نہ حادثہ؟ تدبیر میں پہلی تمام چیزیں بھی آجاتی ہیں، جو باقی رہ گئی تھیں تدبیر کی صراحت کے بعد وہ سب بھی شامل ہو گئیں۔ یہ خاص کے بعد عام کا ذکر ہے۔ ➋ { فَسَيَقُوْلُوْنَ۠ اللّٰهُ …:} یہ ”سین“ تاکید کے لیے ہے، قرآن مجید اور کلام عرب میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں، یعنی یہ مشرک بھی ضرور کہیں گے کہ وہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرمایا تم ان سے کہو کہ پھر کیا تم ڈرتے نہیں؟ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کے کافر بھی اس بات کے قائل تھے کہ کوئی اللہ کے برابر نہیں اور کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، مگر بتوں یا بزرگوں کو اس کی جناب میں اپنا وکیل اور وسیلہ سمجھ کر مانتے تھے، اس سے کافر ہو گئے۔ سو اب بھی جو کوئی کسی مخلوق کے لیے عالم میں تصرف ثابت کرے اور اپنا وکیل ہی سمجھ کر اس کو مانے اس پر شرک ثابت ہو جاتا ہے، گو اللہ کے برابر نہ سمجھے اور اس کے مقابلہ کی طاقت اس کو ثابت نہ کرے۔
تب تو یہی اللہ تمہارا حقیقی رب ہے پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا باقی رہ گیا؟ آخر یہ تم کدھر پھرائے جا رہے ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
سو یہ ہے اللہ تعالیٰ جو تمہارا رب حقیقی ہے۔ پھر حق کے بعد اور کیا ره گیا بجز گمراہی کے، پھر کہاں پھرے جاتے ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
تو یہ اللہ ہے تمہارا سچا رب پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی پھر کہاں پھرے جاتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
یہی اللہ ہے جو تمہارا حقیقی پروردگار ہے پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے؟ تمہیں (حق سے) کدھر (غلط سمت) موڑا جا رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اسی طرح تیرے رب کی بات ان لوگوں پر سچی ہوگئی جنھوں نے نافرمانی کی کہ بے شک وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی الوہیت کے منکر ٭٭
اللہ کی ربوبیت کو مانتے ہوئے اس کی الوہیت کا انکار کرنے والے قریشیوں پر اللہ کی حجت پوری ہو رہی ہے کہ «فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَفَاكِهَةً وَأَبًّا» ۱؎ [80-عبس:27-31] ’ ان سے پوچھو کہ آسمانوں سے بارش کون برساتا ہے؟ پھر اپنی قدرت سے زمین کو پھاڑ کر کھیتی و باغ کون اُگاتا ہے؟ دانے اور پھل کون پیدا کرتا ہے؟ اس کے جواب میں یہ سب کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی ‘۔ «أَمَّنْ هَـٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ» ۱؎ [67-الملک:21] ’ اس کے ہاتھ میں ہے چاہے روزی دے چاہے روک لے ‘۔ «قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّـهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم مَّنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:46] ’ کان آنکھیں بھی اس کے قبضے میں ہیں۔ دیکھنے کی سننے کی حالت بھی اسی کی دی ہوئی ہے اگر وہ چاہے اندھا بہرا بنا دے۔ پیدا کرنے والا وہی، اعضاء کا دینے والا وہی ہے۔ وہ اسی قوت کو چھین لے تو کوئی نہیں دے سکتا ‘۔ اس کی قدرت و عظمت کو دیکھو کہ مردے سے زندے کو پیدا کر دے، زندے سے مردے کو نکالے۔ وہی تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے۔ ہر چیز کی بادشاہت اسی کے ہاتھ ہے۔ سب کو وہی پناہ دیتا ہے اس کے مجرم کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہی متصرف و حاکم ہے کوئی اس سے بازپرس نہیں کر سکتا وہ سب پر حاکم ہے۔ «يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ» ۱؎ [55-الرحمن:29] ’ آسمان و زمین اس کے قبضے میں ہر تر و خشک کا مالک وہی ہے عالم بالا اور سفلی اسی کا ہے ‘۔ کل انس و جن فرشتے اور مخلوق اس کے سامنے عاجز و بے کس ہیں۔ ہر ایک پست و لاچار ہے۔ ان سب باتوں کا ان مشرکین کو بھی اقرار ہے۔ پھر کیا بات ہے جو یہ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار نہیں کرتے۔ جہالت وغبادت سے دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔
فاعل خود مختار اللہ کو جانتے ہوئے رب و مالک مانتے ہوئے معبود سمجھتے ہوئے پھر بھی دوسروں کی پوجا کرتے ہیں۔ وہی ہے تم سب کا سچا معبود اللہ تعالیٰ وکیل ہے اس کے سوا تمام معبود باطل ہیں وہ اکیلا ہے بے شریک ہے۔ مستحق عبادت صرف وہی ہے۔ حق ایک ہی ہے۔ اس کے سوا سب کچھ باطل ہے۔ پس تمہیں اس کی عبادت سے ہٹ کر دوسروں کی عبادت کی طرف نہ جانا چاہیئے یاد رکھو وہی رب العلمین ہے وہی ہرچیز میں متصرف ہے۔ کافروں پر اللہ کی بات ثابت ہو چکی ہے، ان کی عقل ماری گئی ہے۔ خالق رازق متصرف مالک صرف اللہ کو مانتے ہوئے اس کے رسولوں کا خلاف کر کے اس کی توحید کو نہیں مانتے۔ اپنی بدبختی سے جہنم کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔
32۔ 1 یعنی رب اور اللہ (معبود) تو یہی ہے جس کے بارے میں تمہیں خود اعتراف ہے کہ ہر چیز کا خالق ومالک اور مدبر وہی ہے، پھر اس معبود کو چھوڑ کر جو تم دوسرے معبود بنائے پھرتے ہو، وہ گمراہی کے سوا کچھ نہیں تمہاری سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آتی؟ تم کہاں پھرے جاتے ہو؟
(آیت 32) ➊ { فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ: ” الْحَقُّ “} ثابت شدہ، سچا، یعنی تمھارے رزق، موت و حیات، تمھارے جسم کا مالک و خالق اور پوری کائنات کی تدبیر کرنے والا جب تم بھی اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہو تو جان لو کہ پھر تمھارا سچا، ثابت شدہ اور حق رب تو یہی اللہ ہے۔ اب خواہ کوئی بھی چیز ہو وہ یا تو حق ہو گی یا باطل، دونوں نہیں ہو سکتیں کہ حق بھی ہو باطل بھی، تو جب اللہ کا رب اور مالک ہونا حق ہے اور صرف اسی کا صاحب اختیار ہونا حق ہے تو پھر کسی اور کا صاحب اختیار ہونا یا اللہ تعالیٰ سے بات منوانے کی قوت رکھنے والا ہونا باطل نہیں تو اور کیا ہے؟ اس کے باوجود تمھارا دل کیسے مانتا ہے کہ حق کو چھوڑ کر گمراہی اور توحید کو چھوڑ کر شرک کی راہ اختیار کرتے ہو۔ سوچو! راہ حق سے کیسے ہٹائے جا رہے ہو؟ ➋ {فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ …:} اس سے معلوم ہوا کہ حق ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے، یہ بات کہ جو جہاں لگا ہوا ہے لگا رہنے دو، سب ٹھیک ہیں، یا مسلمانوں میں خیر القرون کے بعد بننے والے چاروں سنی فرقے، حنفی ہوں یا شافعی، مالکی ہوں یا حنبلی سب حق ہیں، اس آیت کے خلاف ہے۔ ان تمام مذاہب کی ہر بات ایک ہی وقت میں حق کیسے ہو سکتی ہے؟ ان کے اختلافی مسائل میں حق مسئلہ اگر ہوا تو صرف ایک ہو گا، دوسرے خطا ہوں گے۔ مجتہد کو اگرچہ خطا کے باوجود اس کی نیک نیتی اور محنت کا ایک اجر مل جائے گا مگر اس کی خطا کو حق ہر گز نہیں کہہ سکتے، مثلاً ایک فرقے کی یہ بات کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور دوسرے کی یہ بات کہ صرف انگور یا کھجور کی بنائی ہوئی شراب حرام ہے، باقی نشہ آور چیزیں سب حلال ہیں، دونوں حق کیسے ہو سکتی ہیں؟ ایک کی یہ بات کہ اجرت پر لا کر کسی عورت سے زنا کرے تو اس پر حد ہے اور دوسرے کی یہ بات کہ اجرت پر لائی ہوئی عورت سے زنا کرنے پر حد نہیں، دونوں کیسے درست ہو سکتی ہیں؟ ایک مسلک کا یہ کہنا کہ ماں بہن سے نکاح کی حرمت کے علم کے باوجود نکاح کرکے زنا کر لے تو حد نہیں اور دوسرے کا یہ کہنا کہ یہ حرکت تو ارتداد ہے جس کی حد قتل ہے، دونوں باتیں کیسے درست ہو سکتی ہیں؟ پھر بہت سے ائمہ کا کہنا کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے اور اعمال ایمان کا جز ہیں اور ہمارے اور انبیاء و ملائکہ و صحابہ کے ایمان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اس کے مقابلے میں بعض حضرات کا یہ کہنا کہ ایمان صرف دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کا نام ہے، اعمال خواہ نماز روزہ ہی ہوں، ایمان کا جز نہیں اور چونکہ تصدیق اور اقرار ہم نے بھی کیا ہے، جبریل علیہ السلام اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی کیا ہے، سو ایمان میں ہمارے اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کہ کسی کا کم ہو یا کسی کا زیادہ، سب کا برابر ہے۔ آپ خود ہی بتائیں اتنے تضاد کے باوجود دونوں حق کس طرح ہو گئے؟ خلاصہ یہ کہ ہر دو متضاد چیزوں میں اگر ایک حق ہے تو یقینا دوسری ضلال اور گمراہی ہو گی۔
(اے نبیؐ، دیکھو) اس طرح نافرمانی اختیار کرنے والوں پر تمہارے رب کی بات صادق آ گئی کہ وہ مان کر نہ دیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی طرح آپ کے رب کی یہ بات کہ یہ ایمان نہ ﻻئیں گے، تمام فاسق لوگوں کے حق میں ﺛابت ہوچکی ہے
احمد رضا خان بریلوی
یونہی ثابت ہوچکی ہے تیرے رب کی بات فاسقوں پر تو وہ ایمان نہیں لائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اسی طرح تمہارے پروردگار کی بات فاسقوں (نافرمانوں) پر سچی ثابت ہو کر رہی کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اسی طرح تیرے رب کی بات ان لوگوں پر سچی ہوگئی جنھوں نے نافرمانی کی کہ بے شک وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی الوہیت کے منکر ٭٭
اللہ کی ربوبیت کو مانتے ہوئے اس کی الوہیت کا انکار کرنے والے قریشیوں پر اللہ کی حجت پوری ہو رہی ہے کہ «فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَفَاكِهَةً وَأَبًّا» ۱؎ [80-عبس:27-31] ’ ان سے پوچھو کہ آسمانوں سے بارش کون برساتا ہے؟ پھر اپنی قدرت سے زمین کو پھاڑ کر کھیتی و باغ کون اُگاتا ہے؟ دانے اور پھل کون پیدا کرتا ہے؟ اس کے جواب میں یہ سب کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی ‘۔ «أَمَّنْ هَـٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ» ۱؎ [67-الملک:21] ’ اس کے ہاتھ میں ہے چاہے روزی دے چاہے روک لے ‘۔ «قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّـهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم مَّنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:46] ’ کان آنکھیں بھی اس کے قبضے میں ہیں۔ دیکھنے کی سننے کی حالت بھی اسی کی دی ہوئی ہے اگر وہ چاہے اندھا بہرا بنا دے۔ پیدا کرنے والا وہی، اعضاء کا دینے والا وہی ہے۔ وہ اسی قوت کو چھین لے تو کوئی نہیں دے سکتا ‘۔ اس کی قدرت و عظمت کو دیکھو کہ مردے سے زندے کو پیدا کر دے، زندے سے مردے کو نکالے۔ وہی تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے۔ ہر چیز کی بادشاہت اسی کے ہاتھ ہے۔ سب کو وہی پناہ دیتا ہے اس کے مجرم کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہی متصرف و حاکم ہے کوئی اس سے بازپرس نہیں کر سکتا وہ سب پر حاکم ہے۔ «يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ» ۱؎ [55-الرحمن:29] ’ آسمان و زمین اس کے قبضے میں ہر تر و خشک کا مالک وہی ہے عالم بالا اور سفلی اسی کا ہے ‘۔ کل انس و جن فرشتے اور مخلوق اس کے سامنے عاجز و بے کس ہیں۔ ہر ایک پست و لاچار ہے۔ ان سب باتوں کا ان مشرکین کو بھی اقرار ہے۔ پھر کیا بات ہے جو یہ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار نہیں کرتے۔ جہالت وغبادت سے دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔
فاعل خود مختار اللہ کو جانتے ہوئے رب و مالک مانتے ہوئے معبود سمجھتے ہوئے پھر بھی دوسروں کی پوجا کرتے ہیں۔ وہی ہے تم سب کا سچا معبود اللہ تعالیٰ وکیل ہے اس کے سوا تمام معبود باطل ہیں وہ اکیلا ہے بے شریک ہے۔ مستحق عبادت صرف وہی ہے۔ حق ایک ہی ہے۔ اس کے سوا سب کچھ باطل ہے۔ پس تمہیں اس کی عبادت سے ہٹ کر دوسروں کی عبادت کی طرف نہ جانا چاہیئے یاد رکھو وہی رب العلمین ہے وہی ہرچیز میں متصرف ہے۔ کافروں پر اللہ کی بات ثابت ہو چکی ہے، ان کی عقل ماری گئی ہے۔ خالق رازق متصرف مالک صرف اللہ کو مانتے ہوئے اس کے رسولوں کا خلاف کر کے اس کی توحید کو نہیں مانتے۔ اپنی بدبختی سے جہنم کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔
33۔ 1 یعنی جس طرح مشرکین تمام تر اعتراف کے باوجود اپنے شرک پر قائم ہیں اور اسے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ اسی طرح تیرے رب کی بات ثابت ہوگئی کہ ایمان والے نہیں ہیں، کیونکہ یہ غلط راستہ چھوڑ کر صحیح راستہ اختیار کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں تو ہدایت اور ایمان انہیں کس طرح نصیب ہوسکتا ہے؟ یہ وہی بات ہے جسے دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے (وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ) 39۔ الزمر:71) لیکن عذاب کی بات کافروں پر ثابت ہوگئی۔
(آیت 33) {كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ …:} یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ کا رب ہونا ثابت ہوا، یا جس طرح یہ ثابت ہوا کہ حق کے بعد گمراہی کے سواکچھ نہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ جو لوگ فسق اختیار کریں، یعنی جان بوجھ کر ضد اور سرکشی اختیار کریں وہ ایمان نہیں لایا کرتے۔ شاہ عبد القادررحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یعنی چونکہ اللہ کے علم میں تھا کہ یہ لوگ سرکش اور نافرمان ہوں گے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی قسمت میں ایمان لکھا ہی نہیں۔“ (موضح)
اِن سے پُوچھو، تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو تخلیق کی ابتدا بھی کرتا ہو اور پھر اس کا اعادہ بھی کرے؟ کہو وہ صرف اللہ ہے جو تخلیق کی ابتدا بھی کرتا ہے اور اس کا اعادہ بھی، پھر تم یہ کس اُلٹی راہ پر چلائے جا رہے ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ یوں کہیے کہ کیا تمہارے شرکا میں کوئی ایسا ہے جو پہلی بار بھی پیدا کرے، پھر دوباره بھی پیدا کرے؟ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی دوباره بھی پیدا کرے گا۔ پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے کہ اول بنائے پھر فنا کے بعد دوبارہ بنائے تم فرماؤ اللہ اوّل بناتا ہے پھر فنا کے بعد دوبارہ بنائے گا تو کہاں اوندھے جاتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
(اے پیغمبر(ص)) آپ کہیے۔ تمہارے ساختہ پرداختہ شریکوں میں سے کوئی ہے جو تخلیقِ کائنات کا آغاز بھی کرے اور (فنا کے بعد) اسے دوبارہ زندہ کرے؟ کہیے! اللہ وہ ہے جو کائنات کو پہلے پیدا بھی کرتا ہے اور پھر اسے دوبارہ زندہ بھی کرے گا تم کدھر الٹے جا رہے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے کیا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو پیدائش کی ابتدا کرتا ہو، پھر اسے دوبارہ بناتا ہو؟ کہہ دے اللہ ہی پیدائش کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ بناتا ہے، تو تم کہاں بہکائے جاتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مصنوعی معبودوں کی حقیقت ٭٭
مشرکوں کے شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ ’ بتلاؤ تمہارے معبودوں میں سے ایک بھی ایسا ہے جو آسمانوں و زمین کو اور مخلوق کو پیدا کرسکے یا بگاڑ کر بنا سکے نہ ابتداء پر کوئی قادر نہ اعادہ پر کوئی قادر۔ بلکہ اللہ ہی ابتداء کرے وہی اعادہ کرے۔ وہ اپنے تمام کاموں میں یکتا ہے۔ پس تم طریق حق سے گھوم کر راہ ضلالت کی طرف کیوں جا رہے ہو؟ کہو تو تمہارے معبود کسی بھٹکے ہوئے کی رہبری کر سکتے ہیں؟ یہ بھی ان کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ بھی اللہ کے ہاتھ ہے۔ ہادی برحق وہی ہے، وہی گمراہوں کو راہ راست دکھاتا ہے، اس کے سوا کوئی ساتھی نہیں ‘۔ پس جو رہبری تو کیا کرے خود ہی اندھا بہرا ہو اس کی تابعداری ٹھیک یا اس کی اطاعت اچھی جو سچا ہادی مالک کل قادر کل ہو؟ یہ ابراہیم خلیل اللہ نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ «إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا» ۱؎ [19-مریم:42] ’ ان کی پوجا کیوں کرتا ہے؟ جو نہ سنیں نہ دیکھیں نہ کوئی فائدہ دے سکیں ‘۔ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ وَاللَّـهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [37-الصافات:95۔96] ’ تم ان کی پوجا کرتے ہو جنہیں خود اپنے ہاتھوں بناتے ہو، حالانکہ تمہارا اور تمہارے کام کی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے ‘۔
یہاں فرماتا ہے ’ تمہاری عقلیں کیا اوندھی ہو گئیں کہ خالق مخلوق کو ایک کر دیا نیکی سے ہٹ کر بدی میں جا گرے توحید کوچھوڑ کر شرک میں پھنس گئے۔ اس کو اور اس کو پوجنے لگے۔ رب جل جلالہ مالک و حاکم و ہادی و رب سے بھٹک گئے۔ اس کی طرف خلوص دلی توجہ چھوڑ دی ‘۔ دلیل و برہان سے ہٹ گئے مغالطوں اور تقلید میں پھنس گئے۔ گمان اور اٹکل کے پیچھے پڑگئے۔ وہم و خیال کے بھنور میں آگئے، حالانکہ ظن و گمان فضول چیز ہے۔ حق کے سامنے وہ محض بے کار ہے تمہیں اس سے کوئی فائدہ پہنچ نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے اعمال سے باخبر ہے وہ انہیں پوری سزا دے گا۔
34۔ 1 مشرکین کے شرک کے کھوکھلے پن کو واضح کرنے کے لئے ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ بتلاؤ جنہیں تم اللہ کا شریک گردانتے ہو، کیا انہوں نے اس کائنات کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے؟ یا دوبارہ اسے پیدا کرنے پر قادر ہیں؟ نہیں یقیناً نہیں پہلی مرتبہ بھی پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور روز قیامت دوبارہ وہی سب کو زندہ کرے گا۔ تو پھر ہدایت کا راستہ چھوڑ کر، کہاں پھرے جا رہے ہو؟
(آیت 34){قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآىِٕكُمْ مَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ …: ” تُؤْفَكُوْنَ “ ”اِفْكٌ“} کا معنی ہے کسی کو کسی چیز سے پھیر دینا، ہٹا دینا۔ اس لیے جھوٹ اور بہتان کو بھی {”اِفْكٌ“} کہتے ہیں، کیونکہ اس میں بھی سننے والے کو اصل بات سے پھیر دیا جاتا ہے۔ یعنی آپ ان سے پوچھیں کیا تمھارا کوئی شریک ایسا ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہو، پھر اسے دوبارہ بنائے؟ جیسا کہ اللہ نے انسان کو مٹی سے، پھر نطفہ، پھر علقہ، غرض تمام منازل سے گزار کر پیدا کیا، اسی طرح ساری مخلوق کی ابتدا اس نے کی اور دوبارہ بھی وہی بنائے گا۔ وہ جواب میں خاموشی اختیار کریں گے، اگر کوئی ایسا شریک ہے تو اس کا نام لو۔ اب نہ وہ ایسے شریک کا نام لے سکتے ہیں، کیونکہ خود مان چکے ہیں کہ خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے اور نہ وہ یہ کہنے کے لیے تیار ہیں کہ ہمارے شرکاء میں سے کوئی ایسا نہیں، کیونکہ اس سے ان کے شرکاء کی حقیقت کھلتی اور ان کی بے بسی ظاہر ہوتی ہے، اس لیے وہ جواب ہی نہیں دیں گے۔ سو اگر وہ جواب نہ دیں تو آپ خود فرمائیں کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ ہے جو پہلے پیدا کرتا ہے دوبارہ بھی وہی اٹھائے گا۔ پھر اس کے باوجود تم کیسے گوارا کرتے ہو کہ سیدھے راستے، یعنی توحید کو چھوڑ کر صاف گمراہی، یعنی شرک کی طرف پھیر دیے جاؤ جو سراسر افک (جھوٹ) ہے۔
اِن سے پُوچھو تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہو؟ کہو وہ صرف اللہ ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے پھر بھلا بتاؤ، جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے وہ اِس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود راہ نہیں پاتا اِلّا یہ کہ اس کی رہنمائی کی جائے؟ آخر تمہیں ہو کیا گیا ہے، کیسے اُلٹے الٹے فیصلے کرتے ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہیے کہ تمہارے شرکا میں کوئی ایسا ہے کہ حق کا راستہ بتاتا ہو؟ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی حق کا راستہ بتاتا ہے۔ تو پھر آیا جو شخص حق کا راستہ بتاتا ہو وه زیاده اتباع کے ﻻئق ہے یا وه شخص جس کو بغیر بتائے خود ہی راستہ نہ سوجھے؟ پس تم کو کیا ہوگیا ہے تم کیسے فیصلے کرتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے کہ حق کی راہ دکھائے تم فرماؤ کہ اللہ حق کی راہ دکھاتا ہے، تو کیا جو حق کی راہ دکھائے اس کے حکم پر چلنا چاہیے یا اس کے جو خود ہی راہ نہ پائے جب تک راہ نہ دکھایا جائے تو تمہیں کیا ہوا کیسا حکم لگاتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے پیغمبر(ص)) ان سے کہیے (پوچھئے) کہ تمہارے بنائے ہوئے (خدا کے) شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہو؟ کہئے! وہ اللہ ہی ہے جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے پھر (بتاؤ) جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے وہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود اس وقت تک راہ نہیں پا سکتا جب تک اسے راہ نہ دکھائی جائے؟ تمہیں کیا ہوگیا تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے کیا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرے؟ کہہ اللہ حق کے لیے رہنمائی کرتا ہے۔ تو کیا جو حق کی طرف رہنمائی کرے وہ زیادہ حق دار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، یاوہ جو خود اس کے سوا راستہ نہیں پاتا کہ اسے راستہ بتایا جائے؟ تو تمھیں کیا ہے، تم کیسے فیصلہ کرتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مصنوعی معبودوں کی حقیقت ٭٭
مشرکوں کے شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ ’ بتلاؤ تمہارے معبودوں میں سے ایک بھی ایسا ہے جو آسمانوں و زمین کو اور مخلوق کو پیدا کرسکے یا بگاڑ کر بنا سکے نہ ابتداء پر کوئی قادر نہ اعادہ پر کوئی قادر۔ بلکہ اللہ ہی ابتداء کرے وہی اعادہ کرے۔ وہ اپنے تمام کاموں میں یکتا ہے۔ پس تم طریق حق سے گھوم کر راہ ضلالت کی طرف کیوں جا رہے ہو؟ کہو تو تمہارے معبود کسی بھٹکے ہوئے کی رہبری کر سکتے ہیں؟ یہ بھی ان کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ بھی اللہ کے ہاتھ ہے۔ ہادی برحق وہی ہے، وہی گمراہوں کو راہ راست دکھاتا ہے، اس کے سوا کوئی ساتھی نہیں ‘۔ پس جو رہبری تو کیا کرے خود ہی اندھا بہرا ہو اس کی تابعداری ٹھیک یا اس کی اطاعت اچھی جو سچا ہادی مالک کل قادر کل ہو؟ یہ ابراہیم خلیل اللہ نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ «إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا» ۱؎ [19-مریم:42] ’ ان کی پوجا کیوں کرتا ہے؟ جو نہ سنیں نہ دیکھیں نہ کوئی فائدہ دے سکیں ‘۔ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ وَاللَّـهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [37-الصافات:95۔96] ’ تم ان کی پوجا کرتے ہو جنہیں خود اپنے ہاتھوں بناتے ہو، حالانکہ تمہارا اور تمہارے کام کی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے ‘۔
یہاں فرماتا ہے ’ تمہاری عقلیں کیا اوندھی ہو گئیں کہ خالق مخلوق کو ایک کر دیا نیکی سے ہٹ کر بدی میں جا گرے توحید کوچھوڑ کر شرک میں پھنس گئے۔ اس کو اور اس کو پوجنے لگے۔ رب جل جلالہ مالک و حاکم و ہادی و رب سے بھٹک گئے۔ اس کی طرف خلوص دلی توجہ چھوڑ دی ‘۔ دلیل و برہان سے ہٹ گئے مغالطوں اور تقلید میں پھنس گئے۔ گمان اور اٹکل کے پیچھے پڑگئے۔ وہم و خیال کے بھنور میں آگئے، حالانکہ ظن و گمان فضول چیز ہے۔ حق کے سامنے وہ محض بے کار ہے تمہیں اس سے کوئی فائدہ پہنچ نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے اعمال سے باخبر ہے وہ انہیں پوری سزا دے گا۔
35۔ 1 یعنی بھٹکے ہوئے مسافرین راہ کو راستہ بتانے والا اور دلوں کو گمراہی سے ہدایت کی طرف پھیرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ان کے شرکاء میں کوئی ایسا نہیں جو یہ کام کرسکے۔ 35۔ 2 یعنی پیروی کے لائق کون ہے؟ وہ شخص جو دیکھتا سنتا اور لوگوں کی حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے؟ یا وہ جو اندھے اور بہرے ہونے کی وجہ سے خود راستے پر چل بھی نہیں سکتا، جب تک دوسرے لوگ اسے راستے پر نہ ڈال دیں یا ہاتھ پکڑ کرلے نہ جائیں؟ 35۔ 3 یعنی تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے؟ تم کس طرح اللہ کو اور اس کی مخلوق کو برابر ٹھہرائے جا رہے ہو؟ اللہ کے ساتھ تم دوسروں کو بھی شریک عبادت بنا رہے ہو؟ جب کہ ان دلائل کا تقاضا یہ ہے کہ صرف اسی ایک اللہ کو معبود مانا جائے اور عبادت کی تمام قسمیں صرف اسی کے لئے خاص مانی جائیں۔
(آیت 35) ➊ {قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآىِٕكُمْ مَّنْ يَّهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ …: ” يَهْدِيْۤ “} ہدایت دیتا ہے۔ {” لَا يَهِدِّيْۤ “} اصل میں {” لاَ يَهْتَدِيْ “} تھا، تاء کو دال سے بدل کر دال میں ادغام کر دیا، جس کا معنی ہے ہدایت نہیں پاتا، یعنی آپ ان سے پوچھیں کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرکے ان کی حق کی طرف راہنمائی کا انتظام بھی فرمایا، رسول بھیجے، کتابیں اتاریں، شریعت مقرر فرمائی، کائنات کا نہایت دقیق و مستحکم نظام مقرر کیا کہ اس کے مقرر کر دہ راستے سے کوئی چیز ایک ذرہ ادھر ادھر نہیں ہوتی۔ انسان کو پیدا ہوتے ہی پستان چوسنا سکھایا، فرمایا: «{ وَ هَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ }» [ البلد: ۱۶ ] ”اور ہم نے اسے دو واضح راستے دکھا دیے۔“ بطخ کو تیرنا، پرندوں کو اڑنا، درندوں کو شکار کرنا، چرندوں کو چرنا، بلبل کو پھول کی طرف رغبت، پروانے کو جلنا، ماں کو محبت کی طرف، موذی اشیاء کو دشمنی کی طرف راہ نمائی کون کر رہا ہے؟ اسی طرح زمین، آسمان، سورج، چاند، سیاروں، کہکشاؤں، سمندروں اور بادلوں کا راستہ کہاں سے متعین ہو رہا ہے؟ غرض ہر چیز محض اللہ کی ہدایت کے مطابق چل رہی ہے، کسی داتا یا دستگیر کا اس میں کوئی دخل ہے تو پیش کرو۔ بتاؤ تمھارا وہ شریک کون سا ہے جس نے حق کی طرف ہدایت کا کام کیا ہو، یا کائنات کے راہِ راست پر چلنے کے نظام میں اس کا کوئی دخل ہو۔ اب خود ہی بتاؤ کہ وہ ذات پاک جو حق کی طرف ہدایت دیتی ہے، شرعی طور پر بھی اور کونی طور پر بھی، اس کا اتباع کیا جانا چاہیے، یا وہ شرکاء جو اللہ تعالیٰ کی ”کونی“ ہدایت کے بغیر خود اپنا راستہ معلوم نہیں کر سکتے، جنھیں کھانا، پینا، چلنا، دیکھنا سب کچھ اللہ تعالیٰ نے سکھایا، وہ خود کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے۔ رازی نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اکثر اپنی توحید کے اثبات کے لیے خلق کے ساتھ ہدایت کو بھی ذکر فرمایا ہے، چنانچہ ابراہیم علیہ السلام کا قول: «{ الَّذِيْ خَلَقَنِيْ فَهُوَ يَهْدِيْنِ }» [ الشعراء: ۷۸ ] ”وہ جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہ مجھے راستہ دکھاتا ہے۔“ اور موسیٰ علیہ السلام کا قول: «{ رَبُّنَا الَّذِيْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى }» [ طٰہٰ: ۵۰ ] ”ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل و صورت بخشی، پھر راستہ دکھایا۔“ اور ہمارے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا: «{ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى (1) الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى (2) وَ الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى }» [ الأعلٰی: ۱ تا ۳ ] ”اپنے رب کے نام کی تسبیح کر جو سب سے بلند ہے۔ وہ جس نے پیدا کیا، پھر درست بنایا۔ اور وہ جس نے اندازہ ٹھہرایا، پھر راستہ دکھایا۔“ ➋ { فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ:} یہ دو جملے ہیں ڈانٹنے کے لیے اور حق کی طرف توجہ دلانے کے لیے، دو طرح سے سوال کیا، ایک یہ کہ تمھیں کیا ہو گیا؟ دوسرا یہ کہ تم کیسے فیصلہ کرتے ہو؟
حقیقت یہ ہے کہ اِن میں سے اکثر لوگ محض قیاس و گمان کے پیچھے چلے جا رہے ہیں، حالاں کہ گمان حق کی ضرورت کو کچھ بھی پُورا نہیں کرتا جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان میں سے اکثر لوگ صرف گمان پر چل رہے ہیں۔ یقیناً گمان، حق (کی معرفت) میں کچھ بھی کام نہیں دے سکتا یہ جو کچھ کررہے ہیں یقیناً اللہ کو سب خبر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں اکثر تو نہیں چلتے مگر گمان پر بیشک گمان حق کا کچھ کام نہیں دیتا، بیشک اللہ ان کاموں کو جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
لوگوں میں اکثر ایسے ہیں جو صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں حالانکہ گمان حق کی پہچان اور اس تک رسائی حاصل کرنے میں کچھ فائدہ نہیں دیتا (اور نہ ہی یہ حق و یقین سے بے نیاز کرتا ہے) بے شک اللہ اسے خوب جانتا ہے جو کچھ لوگ کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کے اکثر پیروی نہیں کرتے مگر ایک گمان کی، بے شک گمان حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔ بے شک اللہ خوب جاننے والا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مصنوعی معبودوں کی حقیقت ٭٭
مشرکوں کے شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ ’ بتلاؤ تمہارے معبودوں میں سے ایک بھی ایسا ہے جو آسمانوں و زمین کو اور مخلوق کو پیدا کرسکے یا بگاڑ کر بنا سکے نہ ابتداء پر کوئی قادر نہ اعادہ پر کوئی قادر۔ بلکہ اللہ ہی ابتداء کرے وہی اعادہ کرے۔ وہ اپنے تمام کاموں میں یکتا ہے۔ پس تم طریق حق سے گھوم کر راہ ضلالت کی طرف کیوں جا رہے ہو؟ کہو تو تمہارے معبود کسی بھٹکے ہوئے کی رہبری کر سکتے ہیں؟ یہ بھی ان کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ بھی اللہ کے ہاتھ ہے۔ ہادی برحق وہی ہے، وہی گمراہوں کو راہ راست دکھاتا ہے، اس کے سوا کوئی ساتھی نہیں ‘۔ پس جو رہبری تو کیا کرے خود ہی اندھا بہرا ہو اس کی تابعداری ٹھیک یا اس کی اطاعت اچھی جو سچا ہادی مالک کل قادر کل ہو؟ یہ ابراہیم خلیل اللہ نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ «إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا» ۱؎ [19-مریم:42] ’ ان کی پوجا کیوں کرتا ہے؟ جو نہ سنیں نہ دیکھیں نہ کوئی فائدہ دے سکیں ‘۔ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ وَاللَّـهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [37-الصافات:95۔96] ’ تم ان کی پوجا کرتے ہو جنہیں خود اپنے ہاتھوں بناتے ہو، حالانکہ تمہارا اور تمہارے کام کی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے ‘۔
یہاں فرماتا ہے ’ تمہاری عقلیں کیا اوندھی ہو گئیں کہ خالق مخلوق کو ایک کر دیا نیکی سے ہٹ کر بدی میں جا گرے توحید کوچھوڑ کر شرک میں پھنس گئے۔ اس کو اور اس کو پوجنے لگے۔ رب جل جلالہ مالک و حاکم و ہادی و رب سے بھٹک گئے۔ اس کی طرف خلوص دلی توجہ چھوڑ دی ‘۔ دلیل و برہان سے ہٹ گئے مغالطوں اور تقلید میں پھنس گئے۔ گمان اور اٹکل کے پیچھے پڑگئے۔ وہم و خیال کے بھنور میں آگئے، حالانکہ ظن و گمان فضول چیز ہے۔ حق کے سامنے وہ محض بے کار ہے تمہیں اس سے کوئی فائدہ پہنچ نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے اعمال سے باخبر ہے وہ انہیں پوری سزا دے گا۔
36۔ 1 لیکن بات یہ ہے کہ لوگ محض اٹکل پچو باتوں پر چلنے والے ہیں حالانکہ جانتے ہیں کہ دلائل کے مقابلے میں اوہام و خیالات اور ظن و گمان کی کوئی حیثیت نہیں۔ قرآن میں ظن، یقین اور گمان دونوں معنی میں استعمال ہوا ہے، یہاں دوسرا معنی مراد ہے۔ 36۔ 2 یعنی اس ہٹ دھرمی کی وہ سزا دے گا، کہ دلائل نہ رکھنے کے باوجود، یہ محض غلط وہم اور دیوانہ پن کے پیچھے لگے رہے اور عقل فہم سے ذرا کام نہ لیا۔
(آیت 36) ➊ {وَ مَا يَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا …:} ظن کا لفظ اگرچہ بعض اوقات یقین پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ }» [ البقرۃ: ۴۶ ] ”وہ لوگ جو یقین رکھتے ہیں کہ بے شک وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں۔“ بعض اوقات غالب گمان کے معنی میں بھی آتا ہے، جو صحیح گمان ہو، اگرچہ اس میں خطا کا بھی نہایت کمزور سا احتمال ہو۔ جہاں یہ معانی مراد ہوں وہاں اس کا قرینہ اور دلیل بھی موجود ہوتی ہے۔ اس معنی میں ظن پر دنیا کے تمام معاملات چل رہے ہیں، جب تک کسی دلیل سے اس کا غلط ہونا ثابت نہ ہو اس پر عمل واجب ہوتا ہے۔ خط، ٹیلی فون، پیغام کے ذریعے سے پہنچنے والی تمام خبریں ظنی ہوتی ہیں، کیونکہ ان میں غلطی یا جعل سازی کا کمزور سا احتمال موجود ہوتا ہے، مگر سب لوگ ان پر عمل کرتے، ان کے ذریعے کاروبار کرتے ہیں اور شرعی احکام پر بھی عمل کرتے ہیں، خطا کے احتمال کی پروا نہیں کرتے۔ خبر واحد یا حدیث کو بعض لوگ جو ظنی کہتے ہیں وہ اسی معنی میں ہے، اگرچہ فی نفسہ یہ بات درست نہیں کہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ظنی ہیں، بلکہ صحیح احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم قطعی اور یقینی ہیں، خصوصاً صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی تمام احادیث اور دوسری کتب کی سنداً صحیح احادیث سب یقینی اور قطعی ہیں اور ان پر عمل واجب ہے۔ البتہ عام طور پر ظن کا جو معنی مراد لیا جاتا ہے وہ ہے ایسا وہم و گمان اور خیال جس کی کوئی بنیاد نہ ہو۔ قرآن و حدیث میں یہ لفظ اکثر اسی مذموم معنی کے لیے استعمال ہوا ہے اور ایسے استعمال کے موقع پر اس کی مذمت کا قرینہ بھی موجود ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيْثِ ] [بخاری، النکاح، باب لا یخطب علی خطبۃ أخیہ…: ۵۱۴۳ ] ”ظن (گمان) سے بچو، کیونکہ ظن (گمان) سب سے جھوٹی بات ہے۔“ اس ظن سے وہ بے بنیاد بات مراد ہے جو محض کسی کی تقلید یا وہم و خیال پر مبنی ہو اور اس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل موجود نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ مشرکین کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ محض ظن، یعنی بے بنیاد وہم و خیال کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، جس کی نہ کوئی حقیقت ہے نہ دلیل، جیسا کہ لات، عزیٰ اور منات کے پجاریوں کے متعلق فرمایا: «{ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ }» [ النجم: ۲۳ ] ”یہ لوگ صرف گمان کے اور ان چیزوں کے پیچھے چل رہے ہیں جو ان کے دل چاہتے ہیں۔“ اور فرشتوں کا نام عورتوں والا رکھنے والے مشرکوں کے متعلق فرمایا، جو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے: «{ وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔا }» [ النجم: ۲۸ ] ”حالانکہ انھیں اس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور بے شک گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا۔“ یہاں بھی ظن کا یہی معنی ہے، کیونکہ یہ حق کے مقابلے میں آیا ہے اور صاف واضح ہے کہ اللہ کا شریک بنانے والے علم سے بالکل کورے اور کسی بھی عقلی یا نقلی دلیل سے بالکل خالی ہاتھ ہیں اور ایسے وہم و گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتے۔ اسی مفہوم کی تائید کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (۶۶) جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو بھی جو لوگ پکارتے ہیں حقیقت میں کوئی ایسا شریک ہے ہی نہیں جسے وہ پکارتے ہوں، بلکہ محض اپنے دماغ کے بنائے ہوئے خیالی خاکوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے اکثر محض گمان کی پیروی کرتے ہیں، جب کہ حقیقت میں تمام مشرکین محض گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، تو مفسرین نے اسے دو طرح سے حل کیا ہے، ایک تویہ کہ اکثر سے مراد وہ سب کے سب ہیں اور ایسا کلام عرب میں اکثر ہوتا ہے کہ اکثر بول کر سب مراد لیے جاتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ ان کے اکثر کا تو یہی حال ہے کہ وہ نہ کچھ جانتے ہیں نہ عقل رکھتے ہیں، مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ ہی کے واحد معبود ہونے کو جانتے ہیں، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتے اور شرک پر اڑے ہوئے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ }» [ البقرۃ:۲۲] ”پس اللہ کے لیے کسی قسم کے شریک نہ بناؤ، جب کہ تم جانتے ہو (کہ اس کا کوئی شریک نہیں)۔“ ➌ { اِلَّا ظَنًّا:} ظن کو نکرہ رکھا ہے کہ ان کے اکثر ایک نہ ایک گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، کسی کا کسی کے متعلق کچھ گمان ہے، کسی کا کسی دوسرے کے متعلق اور ہی گمان ہے۔ اپنے شرکاء کی تعیین اور ان کے اختیارات کے تعین پر بھی ان کا اتفاق نہیں، ہر ایک کا اپنا ایک الگ ہی گمان ہے۔ ➍ { اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ:} یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈرانا ہے کہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ یقینا اسے خوب جانتا ہے، وہ خود ہی ان سے نمٹ لے گا۔
اور یہ قرآن وہ چیز نہیں ہے جو اللہ کی وحی و تعلیم کے بغیر تصنیف کر لیا جائے بلکہ یہ تو جو کچھ پہلے آ چکا تھا اس کی تصدیق اور الکتاب کی تفصیل ہے اِس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فرمانروائے کائنات کی طرف سے ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اللہ (کی وحی) کے بغیر (اپنے ہی سے) گھڑ لیا گیا ہو۔ بلکہ یہ تو (ان کتابوں کی) تصدیق کرنے واﻻ ہے جو اس کے قبل (نازل) ہوچکی ہیں اور کتاب (احکام ضروریہ) کی تفصیل بیان کرنے واﻻ ہے اس میں کوئی بات شک کی نہیں کہ رب العالمین کی طرف سے ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس قرآن کی یہ شان نہیں کہ کوئی اپنی طرف سے بنالے بے اللہ کے اتارے ہاں وہ اگلی کتابوں کی تصدیق ہے اور لوح میں جو کچھ لکھا ہے سب کی تفصیل ہے اس میں کچھ شک نہیں ہے پروردگار عالم کی طرف سے ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے گھڑ لیا جائے بلکہ یہ تو تمام سابقہ کتابوں اور وحیوں کی تصدیق ہے اور الکتاب کی تفصیل ہے (یعنی اس میں آسمانی کتابوں کی تعلیم کی تفصیل ہے) اس میں کچھ شک و شبہ نہیں ہے کہ یہ تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہ قرآن ہرگز ایسا نہیں کہ اللہ کے غیر سے گھڑ لیا جائے اور لیکن اس کی تصدیق ہے جو اس سے پہلے ہے اور رب العالمین کی طرف سے کتاب کی تفصیل ہے، جس میں کوئی شک نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعجاز قرآن حکیم ٭٭
قرآن کریم کے اعجاز کا اور قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے کا بیان ہو رہا ہے کہ کوئی اس کا بدل اور مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس جیسا قرآن بلکہ اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی کسی کے بس کی نہیں۔ یہ بے مثل قرآن بے مثل اللہ کی طرف سے ہے۔ اس کی فصاحت و بلاغت، اس کی وجاہت و حلاوت، اس کے معنوں کی بلندی، اس کے مضامین کی عمدگی بالکل بے نظیر چیز ہے۔ اور یہی دلیل ہے اس کی کہ یہ قرآن اس اللہ کی طرف سے ہے جس کی ذات بے مثل صفتیں بے مثل، جس کے اقوال بے مثل، جس کے افعال بے مثل، جس کا کلام اس چیز سے عالی اور بلند کہ مخلوق کا کلام اس کے مشابہ ہوسکے۔ یہ کلام تو رب العالمین کا ہی کلام ہے، نہ کوئی اور اسے بنا سکے، نہ یہ کسی اور کا بنایا ہوا۔ یہ تو سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، ان پر نگہبانی کرتا ہے، ان کا اظہار کرتا ہے، ان میں جو تحریف تبدیل تاویل ہوئی ہے اسے بے حجاب کرتا ہے، حلال و حرام جائز و ناجائز غرض کل امور شرع کا شافی اور پورا بیان فرماتا ہے۔ پس اس کے کلام اللہ ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں اگلی خبریں ہیں اس میں آنے والی پیش گوئیاں ہیں اور آنے والی خبریں ہیں، سب جھگڑوں کے فیصلے ہیں سب احکام کے حکم ہیں۔ [سنن ترمذي2906، قال الشيخ الألباني:ضعیف] اگر تمہیں اس کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے۔ تو اسے گھڑا ہوا سمجھتے ہو اور کہتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے کہہ لیا ہے «قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَـٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا» ۱؎ [17-الاسراء:88] ’ تو جاؤ تم سب مل کر ایک ہی سورۃ اس جیسی بنا لاؤ اور کل انسان اور جنوں سے مدد بھی لے لو ‘۔ یہ تیسرا مقام ہے جہاں کفار کو مقابلے پر بلا کر عاجر کیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہوں تو اس کے مقابلے میں اسی جیسا کلام پیش کریں۔ لیکن یہ ہے ناممکن یہ خبر بھی ساتھ ہی دے دی تھی کہ انسان و جنات سب جمع ہو جائیں ایک دوسرے کا ساتھ دیں لیکن اس قرآن جیسا بنا کر پیش نہیں کرسکتے۔
اس پورے قرآن کے مقابلہ سے جب وہ عاجز و لاچار ثابت ہوچکے تو ان سے مطالبہ ہوا کہ اس جیسی صرف دس سورتیں ہی بنا کر لاؤ۔ سورۃ ھود کے شروع کی آیت «قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَيٰتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» ۱؎ [11-ھود:13] میں یہ فرمان ہے۔ جب یہ بھی ان سے نہ ہو سکا تو اور آسانی کر دی گئی اور سورۃ البقرہ میں جو مدنی ہے فرمایا کہ «فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [2-البقرة:23] ’ اچھا ایک ہی سورت اس جیسی بنا کر پیش کرو ‘۔ وہاں بھی ساتھ ہی فرمایا کہ «فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا» ۱؎ [2-البقرة:24] ’ نہ یہ تمہارے بس کی بات ہے نہ ساری مخلوق کے بس کی بات ‘۔ پس اس الہامی کتاب کو جھٹلا کر عذاب الٰہی مول نہ لو۔ اس وقت کلام کی فصاحت و بلاغت پر پورا زور تھا۔ عرب اپنے مقابلے میں سارے جہاں کو عجم یعنی گونگا کہا کرتے تھے۔ اپنی زبان پر بڑا گھمنڈ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے وہ قرآن اتارا کہ سب سے پہلے انہیں شاعروں اور زبان دانوں اور عالموں کی گردنیں اس کے سامنے خم ہوئیں جیسے سب سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کے اس معجزے نے کہ مردوں کو بحکم الٰہی جِلا دینا۔ مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم رب شفاء دے دینا، دنیا کے سب سے پہلے معالجوں اور اطباء کو اللہ کی راہ پر لا کھڑا کر دیا۔ کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا کہ یہ کام دوا کا نہیں اللہ کا ہے۔ جادوگروں نے سانپ کو جو موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی تھی دیکھتے ہی آپ علیہ السلام کی نبوت کا یقین کر لیا اور عاجز و درماندہ ہو گئے۔
اسی طرح اس قرآن نے فصیح و بلیغ لوگوں کی زبانیں بند کر دیں۔ ان کے دلوں میں یقین آ گیا کہ بیشک یہ کلام انسان کا کلام نہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نبیوں کو ایسے معجزے دئیے گئے کہ ان کی وجہ سے لوگ ان پر ایمان لائے۔ میرا ایسا معجزہ قرآن ہے پس مجھے اُمید ہے کہ میرے تابعدار بہ نسبت ان کے بہت ہی زیادہ ہوں گے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4981] یہ (کافر) لوگ بغیر سوچے سمجھے، بغیر علم حاصل کئے اسے جھٹلانے لگے۔ اب تک تو اس کے مصداق اور حقیقت تک بھی یہ نہیں پہنچے۔ اپنی جہالت و سفاہت کی وجہ سے اس کی ہدایت اس کے علم سے محروم رہ گئے اور چلانا شروع کر دیا کہ ہم اسے نہیں مانتے۔ ان سے پہلے کی امتوں نے بھی اللہ کے کلام کو اسی طرح جھٹلا دیا تھا جس بنا پر وہ ہلاک کر دیئے گئے۔ تو آپ نے دیکھ لیا کہ ان کا کیسا برا انجام ہوا۔ کسی طرح ان کے پرخچے اڑے؟ ہمارے رسولوں کو ستانے ان کے نہ ماننے کا کبھی انجام اچھا نہیں ہوا۔ تمہیں ڈرنا چاہیئے کہیں انہیں آفتوں کا نشانہ تم بھی نہ بنو۔ تیری اُمت کے بھی بعض لوگ تو اس پر ایمان لائے تجھے رسول برحق مانا ہے۔ تیری باتوں سے نفع اٹھا رہے ہیں۔ اور بعض ایمان سے رہ گئے ہیں خیر سے خالی ہو گئے ہیں تیرا رب مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے گمراہ اور نیک اس پر ظاہر ہیں ہدایت اور ضلالت کے مستحق اس کے سامنے ہیں۔ وہ عادل ہے ظالم نہیں۔ ہر ایک کو اس کا حصہ دیتا ہے۔ وہ برکت اور بلندی والا پاک اور انتہائی حسن والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
37۔ 1 جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن گھڑا ہوا نہیں ہے، بلکہ اسی ذات کا نازل کردہ ہے جس نے پچھلی کتابیں نازل فرمائیں تھیں۔ 37۔ 2 یعنی حلال و حرام اور جائز ناجائز کی تفصیل بیان کرنے والا۔ 37۔ 3 اس کی تعلیمات میں، اس کے بیان کردہ قصص و واقعات میں اور مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں۔ 37۔ 4 یہ سب باتیں واضح کرتی ہیں کہ یہ رب العالمین ہی کی طرف سے نازل ہوا ہے، جو ماضی اور مستقبل کو جاننے والا ہے۔
(آیت 38،37){وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ …:} اللہ تعالیٰ کی توحید ثابت کرنے اور شرک کی تردید کرنے کے بعد قرآن مجید کی حقانیت کا بیان فرمایا کہ یہ ہر گز ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور اپنے پاس سے بنا لائے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک ایسے شخص پر نازل فرمایا جو نہ لکھنا جانتا تھا نہ پڑھنا، تصنیف تو بہت دور کی بات ہے۔ تم بھی اہل زبان ہو، بڑے بڑے شاعر و ادیب اور فصاحت و بلاغت رکھنے والے مصنف ہو، اگر یقین نہ ہو کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور تمھیں اصرار ہو کہ یہ انسانی کلام ہے تو تم تمام جن و انس ایک دوسرے کی مدد کرکے اس جیسی کتاب تصنیف کرکے دکھا دو۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۸۸) پھر یہ نہ کر سکے تو اللہ تعالیٰ نے دس سورتوں کا چیلنج کیا۔ دیکھیے سورۂ ہود (۱۳) جب یہ بھی نہ کر سکے تو یہاں سورۂ یونس مکی میں اس کی مثل ایک سورت لانے کا چیلنج کیا، پھر مدینہ میں یہی چیلنج سورۂ بقرہ(۲۳) میں دوبارہ دوہرایا۔ قارئین یہ سب مقامات ملاحظہ فرما لیں، آج تک کوئی مشرک کافر سورۃ الکوثر کے برابر تین آیتوں کی سورت بھی نہیں لا سکا، جسے کسی اہل زبان یا صاحب عقل نے تسلیم کیا ہو۔ {” وَ لٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ “} اللہ تعالیٰ نے قرآن کا وصف بیان فرمایا کہ یہ پہلی تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی اور رب العالمین کی طرف سے انسان کے لیے تمام ضروری عقائد و اعمال کی تفصیل پر مشتمل کتاب ہے۔
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبرؐ نے اسے خود تصنیف کر لیا ہے؟ کہو، “اگر تم اپنے اس الزام میں سچّے ہو تو ایک سُورۃ اس جیسی تصنیف کر لاؤ اور ایک خدا کو چھوڑ کر جس جس کو بُلا سکتے ہو مدد کے لیے بُلا لو"
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ آپ نے اس کو گھڑ لیا ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ تو پھر تم اس کے مثل ایک ہی سورت لاؤ اور جن جن غیراللہ کو بلا سکو، بلالو اگر تم سچے ہو
احمد رضا خان بریلوی
کیا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اسے بنالیا ہے تم فرماؤ تو اس جیسی کوئی ایک سورة لے آؤ اور اللہ کو چھوڑ کر جو مل سکیں سب کو بلا لاؤ اگر تم سچے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا یہ (کافر) لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص (پیغمبرِ اسلام(ص)) نے اسے خود گھڑ لیا ہے؟ آپ کہیے! اگر تم اپنے اس الزام میں سچے ہو تو تم اللہ کے سوا اپنی مدد کے لئے جس جس کو بلا سکتے ہو بلا لو اور پھر قرآن کی مانند ایک ہی سورہ لے آؤ۔
عبدالسلام بن محمد
یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے؟ کہہ دے تو تم اس جیسی ایک سورت لے آئو اور اللہ کے سوا جسے بلا سکو بلا لو، اگر تم سچے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعجاز قرآن حکیم ٭٭
قرآن کریم کے اعجاز کا اور قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے کا بیان ہو رہا ہے کہ کوئی اس کا بدل اور مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس جیسا قرآن بلکہ اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی کسی کے بس کی نہیں۔ یہ بے مثل قرآن بے مثل اللہ کی طرف سے ہے۔ اس کی فصاحت و بلاغت، اس کی وجاہت و حلاوت، اس کے معنوں کی بلندی، اس کے مضامین کی عمدگی بالکل بے نظیر چیز ہے۔ اور یہی دلیل ہے اس کی کہ یہ قرآن اس اللہ کی طرف سے ہے جس کی ذات بے مثل صفتیں بے مثل، جس کے اقوال بے مثل، جس کے افعال بے مثل، جس کا کلام اس چیز سے عالی اور بلند کہ مخلوق کا کلام اس کے مشابہ ہوسکے۔ یہ کلام تو رب العالمین کا ہی کلام ہے، نہ کوئی اور اسے بنا سکے، نہ یہ کسی اور کا بنایا ہوا۔ یہ تو سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، ان پر نگہبانی کرتا ہے، ان کا اظہار کرتا ہے، ان میں جو تحریف تبدیل تاویل ہوئی ہے اسے بے حجاب کرتا ہے، حلال و حرام جائز و ناجائز غرض کل امور شرع کا شافی اور پورا بیان فرماتا ہے۔ پس اس کے کلام اللہ ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں اگلی خبریں ہیں اس میں آنے والی پیش گوئیاں ہیں اور آنے والی خبریں ہیں، سب جھگڑوں کے فیصلے ہیں سب احکام کے حکم ہیں۔ [سنن ترمذي2906، قال الشيخ الألباني:ضعیف] اگر تمہیں اس کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے۔ تو اسے گھڑا ہوا سمجھتے ہو اور کہتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے کہہ لیا ہے «قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَـٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا» ۱؎ [17-الاسراء:88] ’ تو جاؤ تم سب مل کر ایک ہی سورۃ اس جیسی بنا لاؤ اور کل انسان اور جنوں سے مدد بھی لے لو ‘۔ یہ تیسرا مقام ہے جہاں کفار کو مقابلے پر بلا کر عاجر کیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہوں تو اس کے مقابلے میں اسی جیسا کلام پیش کریں۔ لیکن یہ ہے ناممکن یہ خبر بھی ساتھ ہی دے دی تھی کہ انسان و جنات سب جمع ہو جائیں ایک دوسرے کا ساتھ دیں لیکن اس قرآن جیسا بنا کر پیش نہیں کرسکتے۔
اس پورے قرآن کے مقابلہ سے جب وہ عاجز و لاچار ثابت ہوچکے تو ان سے مطالبہ ہوا کہ اس جیسی صرف دس سورتیں ہی بنا کر لاؤ۔ سورۃ ھود کے شروع کی آیت «قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَيٰتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» ۱؎ [11-ھود:13] میں یہ فرمان ہے۔ جب یہ بھی ان سے نہ ہو سکا تو اور آسانی کر دی گئی اور سورۃ البقرہ میں جو مدنی ہے فرمایا کہ «فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [2-البقرة:23] ’ اچھا ایک ہی سورت اس جیسی بنا کر پیش کرو ‘۔ وہاں بھی ساتھ ہی فرمایا کہ «فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا» ۱؎ [2-البقرة:24] ’ نہ یہ تمہارے بس کی بات ہے نہ ساری مخلوق کے بس کی بات ‘۔ پس اس الہامی کتاب کو جھٹلا کر عذاب الٰہی مول نہ لو۔ اس وقت کلام کی فصاحت و بلاغت پر پورا زور تھا۔ عرب اپنے مقابلے میں سارے جہاں کو عجم یعنی گونگا کہا کرتے تھے۔ اپنی زبان پر بڑا گھمنڈ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے وہ قرآن اتارا کہ سب سے پہلے انہیں شاعروں اور زبان دانوں اور عالموں کی گردنیں اس کے سامنے خم ہوئیں جیسے سب سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کے اس معجزے نے کہ مردوں کو بحکم الٰہی جِلا دینا۔ مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم رب شفاء دے دینا، دنیا کے سب سے پہلے معالجوں اور اطباء کو اللہ کی راہ پر لا کھڑا کر دیا۔ کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا کہ یہ کام دوا کا نہیں اللہ کا ہے۔ جادوگروں نے سانپ کو جو موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی تھی دیکھتے ہی آپ علیہ السلام کی نبوت کا یقین کر لیا اور عاجز و درماندہ ہو گئے۔
اسی طرح اس قرآن نے فصیح و بلیغ لوگوں کی زبانیں بند کر دیں۔ ان کے دلوں میں یقین آ گیا کہ بیشک یہ کلام انسان کا کلام نہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نبیوں کو ایسے معجزے دئیے گئے کہ ان کی وجہ سے لوگ ان پر ایمان لائے۔ میرا ایسا معجزہ قرآن ہے پس مجھے اُمید ہے کہ میرے تابعدار بہ نسبت ان کے بہت ہی زیادہ ہوں گے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4981] یہ (کافر) لوگ بغیر سوچے سمجھے، بغیر علم حاصل کئے اسے جھٹلانے لگے۔ اب تک تو اس کے مصداق اور حقیقت تک بھی یہ نہیں پہنچے۔ اپنی جہالت و سفاہت کی وجہ سے اس کی ہدایت اس کے علم سے محروم رہ گئے اور چلانا شروع کر دیا کہ ہم اسے نہیں مانتے۔ ان سے پہلے کی امتوں نے بھی اللہ کے کلام کو اسی طرح جھٹلا دیا تھا جس بنا پر وہ ہلاک کر دیئے گئے۔ تو آپ نے دیکھ لیا کہ ان کا کیسا برا انجام ہوا۔ کسی طرح ان کے پرخچے اڑے؟ ہمارے رسولوں کو ستانے ان کے نہ ماننے کا کبھی انجام اچھا نہیں ہوا۔ تمہیں ڈرنا چاہیئے کہیں انہیں آفتوں کا نشانہ تم بھی نہ بنو۔ تیری اُمت کے بھی بعض لوگ تو اس پر ایمان لائے تجھے رسول برحق مانا ہے۔ تیری باتوں سے نفع اٹھا رہے ہیں۔ اور بعض ایمان سے رہ گئے ہیں خیر سے خالی ہو گئے ہیں تیرا رب مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے گمراہ اور نیک اس پر ظاہر ہیں ہدایت اور ضلالت کے مستحق اس کے سامنے ہیں۔ وہ عادل ہے ظالم نہیں۔ ہر ایک کو اس کا حصہ دیتا ہے۔ وہ برکت اور بلندی والا پاک اور انتہائی حسن والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
38۔ 1 ان تمام حقائق اور دلائل کے بعد بھی، اگر تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ یہ قرآن محمد کا گھڑا ہوا ہے تو بھی تمہاری طرح ایک انسان ہے، تمہاری زبان بھی اسی طرح عربی ہے وہ تو ایک ہے، تم اگر اپنے دعوے میں سچے ہو تو تم دنیا بھر کے ادیبوں، فصحاوں کو اور اہل علم و اہل قلم کو جمع کرلو اور اس قرآن کی ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت کے مثل بنا کر پیش کردو۔ قرآن مجید کا یہ چیلنج آج تک باقی ہے، اس کا جواب نہیں ملا۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ یہ قرآن۔ کسی انسانی کاوش کا نتیجہ نہیں، بلکہ فی الواقع کلام الٰہی ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا ہے۔
اصل یہ ہے کہ جو چیز اِن کے علم کی گرفت میں نہیں آئی اور جس کا مآل بھی ان کے سامنے نہیں آیا، اُس کو اِنہوں نے (خوامخواہ اٹکل پچّو) جھٹلا دیا اِسی طرح تو ان سے پہلے کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں پھر دیکھ لو اُن ظالموں کا کیا انجام ہُوا
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ ایسی چیز کی تکذیب کرنے لگے جس کو اپنے احاطہٴ علمی میں نہیں ﻻئے اور ہنوز ان کو اس کا اخیر نتیجہ نہیں ملا۔ جو لوگ ان سے پہلے ہوئے ہیں اسی طرح انہوں نے بھی جھٹلایا تھا، سو دیکھ لیجئے ان ﻇالموں کا انجام کیسا ہوا؟
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ اسے جھٹلایا جس کے علم پر قابو نہ پایا اور ابھی انہوں نے اس کا انجام نہیں دیکھا ایسے ہی ان سے اگلوں نے جھٹلایا تھا تو دیکھو ظالموں کیسا انجام ہوا
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ یہ لوگ اس چیز کو جھٹلا دیتے ہیں جس کا علمی احاطہ نہیں کر سکتے اور جس کی تاویل ابھی ان کے سامنے نہیں آئی ہے اسی طرح ان لوگوں نے بھی (حقائق کو) جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے تھے تو دیکھو کہ ظلم کرنے والوں کا کیا انجام ہوا؟
عبدالسلام بن محمد
بلکہ انھوں نے اس چیز کو جھٹلا دیا جس کے علم کا انھوں نے احاطہ نہیں کیا، حالانکہ اس کی اصل حقیقت ابھی ان کے پاس نہیں آئی تھی۔ اسی طرح ان لوگوں نے جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے۔ سو دیکھ ظالموں کا انجام کیسا ہوا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعجاز قرآن حکیم ٭٭
قرآن کریم کے اعجاز کا اور قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے کا بیان ہو رہا ہے کہ کوئی اس کا بدل اور مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس جیسا قرآن بلکہ اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی کسی کے بس کی نہیں۔ یہ بے مثل قرآن بے مثل اللہ کی طرف سے ہے۔ اس کی فصاحت و بلاغت، اس کی وجاہت و حلاوت، اس کے معنوں کی بلندی، اس کے مضامین کی عمدگی بالکل بے نظیر چیز ہے۔ اور یہی دلیل ہے اس کی کہ یہ قرآن اس اللہ کی طرف سے ہے جس کی ذات بے مثل صفتیں بے مثل، جس کے اقوال بے مثل، جس کے افعال بے مثل، جس کا کلام اس چیز سے عالی اور بلند کہ مخلوق کا کلام اس کے مشابہ ہوسکے۔ یہ کلام تو رب العالمین کا ہی کلام ہے، نہ کوئی اور اسے بنا سکے، نہ یہ کسی اور کا بنایا ہوا۔ یہ تو سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، ان پر نگہبانی کرتا ہے، ان کا اظہار کرتا ہے، ان میں جو تحریف تبدیل تاویل ہوئی ہے اسے بے حجاب کرتا ہے، حلال و حرام جائز و ناجائز غرض کل امور شرع کا شافی اور پورا بیان فرماتا ہے۔ پس اس کے کلام اللہ ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں اگلی خبریں ہیں اس میں آنے والی پیش گوئیاں ہیں اور آنے والی خبریں ہیں، سب جھگڑوں کے فیصلے ہیں سب احکام کے حکم ہیں۔ [سنن ترمذي2906، قال الشيخ الألباني:ضعیف] اگر تمہیں اس کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے۔ تو اسے گھڑا ہوا سمجھتے ہو اور کہتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے کہہ لیا ہے «قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَـٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا» ۱؎ [17-الاسراء:88] ’ تو جاؤ تم سب مل کر ایک ہی سورۃ اس جیسی بنا لاؤ اور کل انسان اور جنوں سے مدد بھی لے لو ‘۔ یہ تیسرا مقام ہے جہاں کفار کو مقابلے پر بلا کر عاجر کیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہوں تو اس کے مقابلے میں اسی جیسا کلام پیش کریں۔ لیکن یہ ہے ناممکن یہ خبر بھی ساتھ ہی دے دی تھی کہ انسان و جنات سب جمع ہو جائیں ایک دوسرے کا ساتھ دیں لیکن اس قرآن جیسا بنا کر پیش نہیں کرسکتے۔
اس پورے قرآن کے مقابلہ سے جب وہ عاجز و لاچار ثابت ہوچکے تو ان سے مطالبہ ہوا کہ اس جیسی صرف دس سورتیں ہی بنا کر لاؤ۔ سورۃ ھود کے شروع کی آیت «قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَيٰتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» ۱؎ [11-ھود:13] میں یہ فرمان ہے۔ جب یہ بھی ان سے نہ ہو سکا تو اور آسانی کر دی گئی اور سورۃ البقرہ میں جو مدنی ہے فرمایا کہ «فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [2-البقرة:23] ’ اچھا ایک ہی سورت اس جیسی بنا کر پیش کرو ‘۔ وہاں بھی ساتھ ہی فرمایا کہ «فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا» ۱؎ [2-البقرة:24] ’ نہ یہ تمہارے بس کی بات ہے نہ ساری مخلوق کے بس کی بات ‘۔ پس اس الہامی کتاب کو جھٹلا کر عذاب الٰہی مول نہ لو۔ اس وقت کلام کی فصاحت و بلاغت پر پورا زور تھا۔ عرب اپنے مقابلے میں سارے جہاں کو عجم یعنی گونگا کہا کرتے تھے۔ اپنی زبان پر بڑا گھمنڈ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے وہ قرآن اتارا کہ سب سے پہلے انہیں شاعروں اور زبان دانوں اور عالموں کی گردنیں اس کے سامنے خم ہوئیں جیسے سب سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کے اس معجزے نے کہ مردوں کو بحکم الٰہی جِلا دینا۔ مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم رب شفاء دے دینا، دنیا کے سب سے پہلے معالجوں اور اطباء کو اللہ کی راہ پر لا کھڑا کر دیا۔ کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا کہ یہ کام دوا کا نہیں اللہ کا ہے۔ جادوگروں نے سانپ کو جو موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی تھی دیکھتے ہی آپ علیہ السلام کی نبوت کا یقین کر لیا اور عاجز و درماندہ ہو گئے۔
اسی طرح اس قرآن نے فصیح و بلیغ لوگوں کی زبانیں بند کر دیں۔ ان کے دلوں میں یقین آ گیا کہ بیشک یہ کلام انسان کا کلام نہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نبیوں کو ایسے معجزے دئیے گئے کہ ان کی وجہ سے لوگ ان پر ایمان لائے۔ میرا ایسا معجزہ قرآن ہے پس مجھے اُمید ہے کہ میرے تابعدار بہ نسبت ان کے بہت ہی زیادہ ہوں گے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4981] یہ (کافر) لوگ بغیر سوچے سمجھے، بغیر علم حاصل کئے اسے جھٹلانے لگے۔ اب تک تو اس کے مصداق اور حقیقت تک بھی یہ نہیں پہنچے۔ اپنی جہالت و سفاہت کی وجہ سے اس کی ہدایت اس کے علم سے محروم رہ گئے اور چلانا شروع کر دیا کہ ہم اسے نہیں مانتے۔ ان سے پہلے کی امتوں نے بھی اللہ کے کلام کو اسی طرح جھٹلا دیا تھا جس بنا پر وہ ہلاک کر دیئے گئے۔ تو آپ نے دیکھ لیا کہ ان کا کیسا برا انجام ہوا۔ کسی طرح ان کے پرخچے اڑے؟ ہمارے رسولوں کو ستانے ان کے نہ ماننے کا کبھی انجام اچھا نہیں ہوا۔ تمہیں ڈرنا چاہیئے کہیں انہیں آفتوں کا نشانہ تم بھی نہ بنو۔ تیری اُمت کے بھی بعض لوگ تو اس پر ایمان لائے تجھے رسول برحق مانا ہے۔ تیری باتوں سے نفع اٹھا رہے ہیں۔ اور بعض ایمان سے رہ گئے ہیں خیر سے خالی ہو گئے ہیں تیرا رب مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے گمراہ اور نیک اس پر ظاہر ہیں ہدایت اور ضلالت کے مستحق اس کے سامنے ہیں۔ وہ عادل ہے ظالم نہیں۔ ہر ایک کو اس کا حصہ دیتا ہے۔ وہ برکت اور بلندی والا پاک اور انتہائی حسن والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
39۔ 1 یعنی قرآن میں تدبر اور اس کے معنی پر غور کئے بغیر، اسکو جھٹلانے پر تل گئے۔ 39۔ 2 یعنی قرآن نے جو پچھلے واقعات اور مستقبل کے امکانات بیان کئے ہیں، اس کی پوری سچائی اور حقیقت بھی ان پر واضح نہیں ہوئی، اس کے بغیر جھٹلانا شروع کردیا، یا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ انہوں نے قرآن پر کما حقہ تدبر کئے بغیر ہی اس کو جھٹلایا حالانکہ اگر وہ صحیح معنوں میں اس پر تدبر کرتے اور ان امور پر غور کرتے، جو اسکے کلام الٰہی ہونے پر دلالت کرتے ہیں تو یقیناً اس کے فہم اور معانی کے دروازے ان پر کھل جاتے۔ اس صورت میں تاویل کے معنی۔ قرآن کریم کے اسرار و معارف اور لطائف و معانی کے واضح ہوجانے کے ہونگے۔ 39۔ 3 یہ ان کفار و مشرکین کو تنبیہ و سرزنش ہے، کہ تمہاری طرح پچھلی قوموں نے بھی آیات الٰہی کو جھٹلایا تو دیکھ لو ان کا کیا انجام ہوا؟ اگر تم اس کو جھٹلانے سے باز نہ آئے تو تمہارا انجام بھی اس سے مختلف نہیں ہوگا۔
(آیت 39) ➊ { بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ يُحِيْطُوْا بِعِلْمِهٖ:} یعنی یہ لوگ جو قرآن کو جھٹلا رہے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لا رہے، ان کے جھٹلانے کی وجہ صرف یہ ہے کہ انھوں نے نہ اسے پوری طرح جانا اور نہ اس کے مطالب و مضامین سمجھنے کی کوشش کی، ان کی بنیاد جہالت، ہٹ دھرمی اور باپ دادا کی اندھی تقلید پر ہے، انھوں نے محض یہ دیکھ کر کہ قرآن ان کے موروثی عقائد و خیالات کی تردید کرتا ہے، جھٹ سے اس کا انکار کر دیا، ورنہ قرآن کا ایسے حقائق کے بیان پر مشتمل ہونا جو ان کے فہم سے بالاتر ہیں اور جن کی تہ تک یہ نہیں پہنچ سکتے کسی طرح بھی جھٹلانے کی وجہ نہیں بن سکتا۔ قصور ان کے فہم کا ہے قرآن کا نہیں۔ (روح المعانی، کبیر) یہی حال ان حضرات کا بھی ہے جو محض اپنے بزرگوں اور اماموں کی تقلید کے چکر میں پھنس کر صحیح حدیث سے انکار کر دیتے ہیں، حالانکہ اگر وہ ان صحیح احادیث پر غور کرتے اور انھیں سمجھنے کی کوشش کرتے تو کبھی صحیح حدیث کو رد نہیں کر سکتے تھے۔ ➋ {وَ لَمَّا يَاْتِهِمْ تَاْوِيْلُهٗ:} یعنی ان کے قرآن کو جھٹلانے کی اگر کوئی بنیاد ہے تو وہ یہ کہ وہ اس کی تاویل و تفسیر سمجھنے سے قاصر ہیں اور قرآن جن غیبی چیزوں پر مشتمل ہے ان کا وقوع ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں ہے، ورنہ اگر وہ غور و فکر کرتے اور جن امور کی پیش گوئی قرآن مجید میں کی گئی ہے ان کے واقع ہونے کا انتظار کرتے تو ان کا انکار از خود ہی زائل ہو جاتا۔ (روح المعانی) {” وَ لَمَّا يَاْتِهِمْ تَاْوِيْلُهٗ “} کے متعلق شاہ عبد القادررحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یعنی جو وعدہ ہے اس قرآن میں وہ ابھی ظاہر نہیں ہوا۔“(موضح) ➌ { فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيْنَ:} یعنی وہ ظالم سب کے سب برباد ہو گئے، فرمایا: «{ فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ }» [ العنکبوت: ۴۰ ] ”تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کر دیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔“ اسی طرح اب یہ بھی اپنی تباہی و بربادی کا سامان کر رہے ہیں۔
اِن میں سے کچھ لوگ ایمان لائیں گے اور کچھ نہیں لائیں گے اور تیرا رب اُن مفسدوں کو خوب جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئیں گے اور بعض ایسے ہیں کہ اس پر ایمان نہ ﻻئیں گے۔ اور آپ کا رب مفسدوں کو خوب جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں کوئی اس پر ایمان لاتا ہے اور ان میں کوئی اس پر ایمان نہیں لاتا ہے، اور تمہارا رب مفسدوں کو خوب جانتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
ان لوگوں میں کچھ تو ایسے ہیں جو اس (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو ایمان نہیں لاتے اور آپ کا پروردگار مفسدین کو خوب جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اس پر ایمان نہیں لاتے اور تیرا رب فساد کرنے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعجاز قرآن حکیم ٭٭
قرآن کریم کے اعجاز کا اور قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے کا بیان ہو رہا ہے کہ کوئی اس کا بدل اور مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس جیسا قرآن بلکہ اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی کسی کے بس کی نہیں۔ یہ بے مثل قرآن بے مثل اللہ کی طرف سے ہے۔ اس کی فصاحت و بلاغت، اس کی وجاہت و حلاوت، اس کے معنوں کی بلندی، اس کے مضامین کی عمدگی بالکل بے نظیر چیز ہے۔ اور یہی دلیل ہے اس کی کہ یہ قرآن اس اللہ کی طرف سے ہے جس کی ذات بے مثل صفتیں بے مثل، جس کے اقوال بے مثل، جس کے افعال بے مثل، جس کا کلام اس چیز سے عالی اور بلند کہ مخلوق کا کلام اس کے مشابہ ہوسکے۔ یہ کلام تو رب العالمین کا ہی کلام ہے، نہ کوئی اور اسے بنا سکے، نہ یہ کسی اور کا بنایا ہوا۔ یہ تو سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، ان پر نگہبانی کرتا ہے، ان کا اظہار کرتا ہے، ان میں جو تحریف تبدیل تاویل ہوئی ہے اسے بے حجاب کرتا ہے، حلال و حرام جائز و ناجائز غرض کل امور شرع کا شافی اور پورا بیان فرماتا ہے۔ پس اس کے کلام اللہ ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں اگلی خبریں ہیں اس میں آنے والی پیش گوئیاں ہیں اور آنے والی خبریں ہیں، سب جھگڑوں کے فیصلے ہیں سب احکام کے حکم ہیں۔ [سنن ترمذي2906، قال الشيخ الألباني:ضعیف] اگر تمہیں اس کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے۔ تو اسے گھڑا ہوا سمجھتے ہو اور کہتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے کہہ لیا ہے «قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَـٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا» ۱؎ [17-الاسراء:88] ’ تو جاؤ تم سب مل کر ایک ہی سورۃ اس جیسی بنا لاؤ اور کل انسان اور جنوں سے مدد بھی لے لو ‘۔ یہ تیسرا مقام ہے جہاں کفار کو مقابلے پر بلا کر عاجر کیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہوں تو اس کے مقابلے میں اسی جیسا کلام پیش کریں۔ لیکن یہ ہے ناممکن یہ خبر بھی ساتھ ہی دے دی تھی کہ انسان و جنات سب جمع ہو جائیں ایک دوسرے کا ساتھ دیں لیکن اس قرآن جیسا بنا کر پیش نہیں کرسکتے۔
اس پورے قرآن کے مقابلہ سے جب وہ عاجز و لاچار ثابت ہوچکے تو ان سے مطالبہ ہوا کہ اس جیسی صرف دس سورتیں ہی بنا کر لاؤ۔ سورۃ ھود کے شروع کی آیت «قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَيٰتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» ۱؎ [11-ھود:13] میں یہ فرمان ہے۔ جب یہ بھی ان سے نہ ہو سکا تو اور آسانی کر دی گئی اور سورۃ البقرہ میں جو مدنی ہے فرمایا کہ «فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [2-البقرة:23] ’ اچھا ایک ہی سورت اس جیسی بنا کر پیش کرو ‘۔ وہاں بھی ساتھ ہی فرمایا کہ «فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا» ۱؎ [2-البقرة:24] ’ نہ یہ تمہارے بس کی بات ہے نہ ساری مخلوق کے بس کی بات ‘۔ پس اس الہامی کتاب کو جھٹلا کر عذاب الٰہی مول نہ لو۔ اس وقت کلام کی فصاحت و بلاغت پر پورا زور تھا۔ عرب اپنے مقابلے میں سارے جہاں کو عجم یعنی گونگا کہا کرتے تھے۔ اپنی زبان پر بڑا گھمنڈ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے وہ قرآن اتارا کہ سب سے پہلے انہیں شاعروں اور زبان دانوں اور عالموں کی گردنیں اس کے سامنے خم ہوئیں جیسے سب سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کے اس معجزے نے کہ مردوں کو بحکم الٰہی جِلا دینا۔ مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم رب شفاء دے دینا، دنیا کے سب سے پہلے معالجوں اور اطباء کو اللہ کی راہ پر لا کھڑا کر دیا۔ کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا کہ یہ کام دوا کا نہیں اللہ کا ہے۔ جادوگروں نے سانپ کو جو موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی تھی دیکھتے ہی آپ علیہ السلام کی نبوت کا یقین کر لیا اور عاجز و درماندہ ہو گئے۔
اسی طرح اس قرآن نے فصیح و بلیغ لوگوں کی زبانیں بند کر دیں۔ ان کے دلوں میں یقین آ گیا کہ بیشک یہ کلام انسان کا کلام نہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نبیوں کو ایسے معجزے دئیے گئے کہ ان کی وجہ سے لوگ ان پر ایمان لائے۔ میرا ایسا معجزہ قرآن ہے پس مجھے اُمید ہے کہ میرے تابعدار بہ نسبت ان کے بہت ہی زیادہ ہوں گے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4981] یہ (کافر) لوگ بغیر سوچے سمجھے، بغیر علم حاصل کئے اسے جھٹلانے لگے۔ اب تک تو اس کے مصداق اور حقیقت تک بھی یہ نہیں پہنچے۔ اپنی جہالت و سفاہت کی وجہ سے اس کی ہدایت اس کے علم سے محروم رہ گئے اور چلانا شروع کر دیا کہ ہم اسے نہیں مانتے۔ ان سے پہلے کی امتوں نے بھی اللہ کے کلام کو اسی طرح جھٹلا دیا تھا جس بنا پر وہ ہلاک کر دیئے گئے۔ تو آپ نے دیکھ لیا کہ ان کا کیسا برا انجام ہوا۔ کسی طرح ان کے پرخچے اڑے؟ ہمارے رسولوں کو ستانے ان کے نہ ماننے کا کبھی انجام اچھا نہیں ہوا۔ تمہیں ڈرنا چاہیئے کہیں انہیں آفتوں کا نشانہ تم بھی نہ بنو۔ تیری اُمت کے بھی بعض لوگ تو اس پر ایمان لائے تجھے رسول برحق مانا ہے۔ تیری باتوں سے نفع اٹھا رہے ہیں۔ اور بعض ایمان سے رہ گئے ہیں خیر سے خالی ہو گئے ہیں تیرا رب مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے گمراہ اور نیک اس پر ظاہر ہیں ہدایت اور ضلالت کے مستحق اس کے سامنے ہیں۔ وہ عادل ہے ظالم نہیں۔ ہر ایک کو اس کا حصہ دیتا ہے۔ وہ برکت اور بلندی والا پاک اور انتہائی حسن والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
40۔ 1 وہ خوب جانتا ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے؟ اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور گمراہی کا مستحق کون ہے اس کے لئے گمراہی کا راستہ چوپٹ کھول دیتا ہے۔ وہ عادل ہے، اس کے کسی کام میں شک نہیں۔ جو جس بات کا مستحق ہوتا ہے، اس کے مطابق وہ چیز اس کو عطا کردیتا ہے۔
(آیت 40) ➊ { وَ مِنْهُمْ مَّنْ يُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا يُؤْمِنُ بِهٖ:} یعنی ان کفار میں دو طرح کے لوگ ہیں، بعض ایسے ہیں جنھیں یقینی طور پر معلوم ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس جیسی معجز تصنیف کر لینا کسی انسان کے بس میں نہیں ہے، مگر وہ ہٹ دھرمی سے اسے جھٹلائے جا رہے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو بالکل عقل کے اندھے اور سمجھ کے کورے ہیں، انھیں اس قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا واقعی یقین نہیں ہے۔ اس آیت کا ایک ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان میں سے بعض وہ ہیں جو اس (قرآن) پر ایمان لے آئیں گے اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اس پر ایمان نہیں لائیں گے، بلکہ کفر پر قائم رہیں گے۔ یہ مطلب بھی درست ہے۔ ➋ { وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِيْنَ:} جو خواہ مخواہ تعصب اور ہٹ دھرمی سے قرآن کے برحق ہونے سے انکار کیے جا رہے ہیں، حالانکہ وہ اپنے دل میں اس کے برحق ہونے کا یقین رکھتے ہیں، یا تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون ان میں سے کفر پر اڑا رہے گا اور کون اس کفر سے باز آ جائے گا۔ گویا مفسدین کا معنی ہے مسلمان نہ ہونے والے۔
اگر یہ تجھے جھٹلاتے ہیں تو کہہ دے کہ “میرا عمل میرے لیے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لیے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بَری ہو اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بَری ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر آپ کو جھٹلاتے رہیں تو یہ کہہ دیجئے کہ میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل، تم میرے عمل سے بری ہو اور میں تمہارے عمل سے بری ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو فرمادو کہ میرے لیے میری کرنی اور تمہارے لیے تمہاری کرنی (اعمال) تمہیں میرے کام سے علاقہ نہیں اور مجھے تمہارے کام سے لاتعلق نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو فرما دیجیے! میرا عمل میرے لئے ہے اور تمہارا تمہارے لئے جو کچھ میں کرتا ہوں اس سے تم بری الذمہ ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے میرے لیے میرا عمل ہے اور تمھارے لیے تمھارا عمل، تم اس سے بری ہو جو میں کرتا ہوں اور میں اس سے بری ہوں جو تم کر رہے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین سے اجتناب فرما لیجئے ٭٭
فرمان ہوتا ہے کہ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ مشرکین تجھے جھوٹا ہی بتلاتے رہیں تو تو ان سے اور ان کے کاموں سے اپنی بیزاری کا اعلان کر دے۔ اور کہہ دے کہ «فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ» تمہارے اعمال تمہارے ساتھ میرے اعمال میرے ساتھ ‘۔ جیسے کہ وہ سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» ۱؎ [109-الکافرون] میں بیان ہوا ہے، اور جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ» ۱؎ [60-الممتحنة:4] ’ ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے بیزار ہیں، جنہیں تم نے اللہ کے سوا اپنا معبود بنا رکھا ہے ‘۔ ان میں سے بعض تیرا پاکیزہ کلام بھی سنتے ہیں اور خود اللہ تعالیٰ کا بلند و بالا کلام بھی ان کے کانوں میں پڑ رہا ہے۔ لیکن ہدایت نہ تیرے ہاتھ نہ ان کے ہاتھ گو یہ فصیح و صحیح کلام دلوں میں گھر کرنے والا، انسانوں کو پورا نفع دینے والا ہے۔ یہ کافی اور وافی ہے لیکن بہروں کو کون سنا سکے؟ یہ دل کے کان نہیں رکھتے۔ اللہ ہی کے ہاتھ ہدایت ہے۔ یہ تجھے دیکھتے ہیں، تیرے پاکیزہ اخلاق، تیری ستھری تعلیم تیری نبوت کی روشن دلیلیں ہر وقت ان کے سامنے ہیں لیکن ان سے بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ مومن تو انہیں دیکھ کر ایمان بڑھاتے ہیں۔ لیکن ان کے دل اندھے ہیں عقل و بصیرت ان میں نہیں ہے۔
مومن وقار کی نظر ڈالتے ہیں اور یہ حقارت کی۔ ہر وقت ہنسی مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔ پس اپنے اندھے پن کی وجہ سے راہ ہدایت دیکھ نہیں سکتے۔ اس میں بھی اللہ کی حکمت کار ہے کہ ایک تو دیکھے اور سنے اور نفع پائے دوسرا دیکھے سنے اور نفع سے محروم رہے۔ اسے اللہ کا ظلم نہ سمجھو وہ تو سراسر عدل کرنے والا ہے، کسی پر کبھی کوئی ظلم وہ روا نہیں رکھتا۔ لوگ خود اپنا برا آپ ہی کر لیتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّـهُ رَسُولًا إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلَا أَن صَبَرْنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:41، 42] { اللہ عزوجل اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی فرماتا ہے کہ «يا عِبَادِي إني حَرَّمْتُ الظُّلْمَ على نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فلا تَظَالَمُوا، يا عِبَادِي، إنما هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ غير ذلك فلا يَلُومَنَّ إلا نَفْسَهُ» اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی اسے حرام کر دیا ہے۔ خبردار ایک دوسرے پر ظلم ہرگز نہ کرنا۔ اس کے آخر میں ہے اے میرے بندو! یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں جنہیں میں جمع کر رہا ہوں پھر تمہیں ان کا بدلہ دونگا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کا شکر بجا لائے اور جو اس کے سوا کچھ اور پائے وہ صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے }۔ [صحیح مسلم:2577]
41۔ 1 یعنی تمام تر سمجھانے اور دلائل پیش کرنے کے بعد بھی اگر وہ جھٹلانے سے باز نہ آئیں تو پھر آپ یہ کہہ دیں، مطلب یہ ہے کہ میرا کام صرف دعوت و تبلیغ ہے، سو وہ میں کرچکا ہوں، نہ تم میرے عمل کے ذمہ دار ہو اور نہ میں تمہارے عمل کا سب کو اللہ کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے، وہاں ہر شخص سے اس کے اچھے یا برے عمل کی باز پرس ہوگی۔ یہ وہی بات ہے جو " قل یا ایھا الکافروں لا اعبد ماتعبدون " میں ہے اور حضرت ابراہیم ؑ نے ان الفاظ میں کہی تھی " انا برآء منکم ومما تعبدون من دون اللہ کفرنا بکم " بیشک ہم تم سے اور جن جن کی تم الہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں، ہم تمہارے عقائد سے منکر ہیں۔
(آیت 41) {وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّيْ عَمَلِيْ …:} یعنی اگر وہ حجت پوری ہونے کے بعد بھی جھٹلانے پر اصرار کریں تو انھیں صاف کہہ دیں کہ مجھ پر قرآن اور اللہ کے احکام پہنچانے کا جو فریضہ عائد کیا گیا تھا، میں نے اسے کسی کمی یا زیادتی کے بغیر ادا کر دیا ہے، اگر تم اس پر ایمان لانے سے انکار کرو تو تم اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہو گے، مجھ پر اس کا کوئی بوجھ نہیں ہو گا۔ اس مفہوم کی چند مزید آیات کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۳۹)، آل عمران (۲۰)، شوریٰ (۱۵) اور سورۃ الکافرون مکمل۔
ان میں بہت سے لوگ ہیں جو تیری باتیں سنتے ہیں، مگر کیا تو بہروں کو سنائیگا خواہ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان میں بعض ایسے ہیں جو آپ کی طرف کان لگائے بیٹھے ہیں۔ کیا آپ بہروں کو سناتے ہیں گو ان کو سمجھ بھی نہ ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں کوئی وہ ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو کیا تم بہروں کو سنا دو گے اگرچہ انہیں عقل نہ ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے رسول) ان لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو آپ کی باتوں کی طرف کان لگاتے ہیں (حالانکہ سنتے نہیں ہیں) تو کیا آپ بہروں کو سنائیں گے اگرچہ وہ عقل سے کام نہ لیتے ہوں؟
عبدالسلام بن محمد
اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تیری طرف کان لگاتے ہیں، تو کیا تو بہروں کو سنائے گا، اگرچہ وہ نہ سمجھتے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین سے اجتناب فرما لیجئے ٭٭
فرمان ہوتا ہے کہ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ مشرکین تجھے جھوٹا ہی بتلاتے رہیں تو تو ان سے اور ان کے کاموں سے اپنی بیزاری کا اعلان کر دے۔ اور کہہ دے کہ «فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ» تمہارے اعمال تمہارے ساتھ میرے اعمال میرے ساتھ ‘۔ جیسے کہ وہ سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» ۱؎ [109-الکافرون] میں بیان ہوا ہے، اور جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ» ۱؎ [60-الممتحنة:4] ’ ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے بیزار ہیں، جنہیں تم نے اللہ کے سوا اپنا معبود بنا رکھا ہے ‘۔ ان میں سے بعض تیرا پاکیزہ کلام بھی سنتے ہیں اور خود اللہ تعالیٰ کا بلند و بالا کلام بھی ان کے کانوں میں پڑ رہا ہے۔ لیکن ہدایت نہ تیرے ہاتھ نہ ان کے ہاتھ گو یہ فصیح و صحیح کلام دلوں میں گھر کرنے والا، انسانوں کو پورا نفع دینے والا ہے۔ یہ کافی اور وافی ہے لیکن بہروں کو کون سنا سکے؟ یہ دل کے کان نہیں رکھتے۔ اللہ ہی کے ہاتھ ہدایت ہے۔ یہ تجھے دیکھتے ہیں، تیرے پاکیزہ اخلاق، تیری ستھری تعلیم تیری نبوت کی روشن دلیلیں ہر وقت ان کے سامنے ہیں لیکن ان سے بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ مومن تو انہیں دیکھ کر ایمان بڑھاتے ہیں۔ لیکن ان کے دل اندھے ہیں عقل و بصیرت ان میں نہیں ہے۔
مومن وقار کی نظر ڈالتے ہیں اور یہ حقارت کی۔ ہر وقت ہنسی مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔ پس اپنے اندھے پن کی وجہ سے راہ ہدایت دیکھ نہیں سکتے۔ اس میں بھی اللہ کی حکمت کار ہے کہ ایک تو دیکھے اور سنے اور نفع پائے دوسرا دیکھے سنے اور نفع سے محروم رہے۔ اسے اللہ کا ظلم نہ سمجھو وہ تو سراسر عدل کرنے والا ہے، کسی پر کبھی کوئی ظلم وہ روا نہیں رکھتا۔ لوگ خود اپنا برا آپ ہی کر لیتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّـهُ رَسُولًا إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلَا أَن صَبَرْنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:41، 42] { اللہ عزوجل اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی فرماتا ہے کہ «يا عِبَادِي إني حَرَّمْتُ الظُّلْمَ على نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فلا تَظَالَمُوا، يا عِبَادِي، إنما هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ غير ذلك فلا يَلُومَنَّ إلا نَفْسَهُ» اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی اسے حرام کر دیا ہے۔ خبردار ایک دوسرے پر ظلم ہرگز نہ کرنا۔ اس کے آخر میں ہے اے میرے بندو! یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں جنہیں میں جمع کر رہا ہوں پھر تمہیں ان کا بدلہ دونگا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کا شکر بجا لائے اور جو اس کے سوا کچھ اور پائے وہ صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے }۔ [صحیح مسلم:2577]
42۔ 1 یعنی ظاہری طور پر وہ قرآن سنتے ہیں، لیکن سننے کا مقصد طلب ہدایت نہیں، اس لئے انہیں، اسی طرح کوئی فائدہ نہیں ہوتا، جس طرح ایک بہرے کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ بالخصوص جب بہرا غیر عاقل بھی ہو، کیونکہ عقلمند بہرہ پھر بھی اشاروں سے کچھ سمجھ لیتا ہے۔ لیکن ان کی مثال تو غیر عاقل بہرے کی طرح ہے بالکل ہی بےبہرہ رہتا ہے۔
(آیت 43،42) {وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ …:} پچھلی آیت (۴۰) کی ایک تفسیر کے مطابق کفار کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جو قرآن کے حق ہونے پر یقین رکھتے ہیں، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے اسے جھٹلا رہے ہیں اور ایک وہ جو عقل کے اندھے ہیں، جنھیں قرآن کے حق ہونے کا یقین ہی نہیں۔ دوسری تفسیر کے مطابق کچھ وہ کفار ہیں جو آئندہ ایمان لے آئیں گے، کچھ وہ جن کی قسمت میں یہ نعمت نہیں ہے۔ اس آیت میں کفار کی اس دوسری قسم کا ذکر ہے جن کی قسمت میں ایمان نہیں اور جنھوں نے ہر حال میں کفر پر اڑے رہنا ہے۔ فرمایا کہ ان میں سے کچھ لوگ آپ کی بات اور قرآن کی قراءت پر کان لگاتے ہیں مگر فائدہ نہیں اٹھا سکتے، کیونکہ حق سننے سے ان کے کان بہرے ہیں، پھر بہرے بھی اگر عقل رکھتے ہیں تو بات سمجھ جاتے ہیں مگر جو بہرے بھی ہوں اور عقل سے بھی خالی ہوں، آپ اپنی بات ان تک کیسے پہنچا سکتے ہیں۔ {”الصُّمَّ “} جمع ہے {” اَصَمُّ “} کی، یعنی بہرے۔ اسی طرح کچھ لوگ آپ کی طرف دیکھتے ہیں، اگر کوئی عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جیسا سعادت مند ہو تو چہرہ دیکھ کر ہی پہچان لیتا ہے کہ یہ جھوٹے شخص کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔ [ ترمذی: ۲۴۸۵۔ ابن ماجہ: ۱۳۳۴ ] مگر جو جان بوجھ کر اندھا بن جائے اور دل کا بھی اندھا ہو، کیا آپ اسے راہ راست پر لا سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔ {” اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا يَعْقِلُوْنَ “} میں {” الْعُمْيَ “ ” اَعْمٰي“} کی جمع ہے، مراد آنکھوں کا اندھا ہونا اور {” لَا يُبْصِرُوْنَ “} میں مراد بصارت نہیں بلکہ بصیرت کا نہ ہونا ہے، تاکہ تکرار لازم نہ آئے۔ ایسے لوگوں کو اندھے و بہرے کے علاوہ مردہ بھی کہا گیا ہے، فرمایا: «{ اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى }» [ النمل: ۸۰ ] ”بے شک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔“ مقصد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ ایسے لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ پریشان خاطر یا دل برداشتہ نہ ہوں۔
اِن میں بہت سے لوگ ہیں جو تجھے دیکھتے ہیں، مگر کیا تو اندھوں کو راہ بتائے گا خواہ انہیں کچھ نہ سُوجھتا ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ آپ کو تک رہے ہیں۔ پھر کیا آپ اندھوں کو راستہ دکھلانا چاہتے ہیں گو ان کو بصیرت بھی نہ ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں کوئی تمہاری طرف تکتا ہے کیا تم اندھوں کو راہ دکھا دو گے اگرچہ وہ نہ سوجھیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں (جو بظاہر) آپ کی طرف دیکھتے ہیں (حالانکہ وہ دیکھتے نہیں ہیں) تو کیا آپ اندھوں کو راہ دکھائیں گے چاہے وہ کچھ نہ دیکھتے ہوں؟
عبدالسلام بن محمد
اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تیری طرف دیکھتے ہیں، تو کیا تو اندھوں کو راستہ دکھائے گا، اگرچہ وہ بصیرت نہ رکھتے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین سے اجتناب فرما لیجئے ٭٭
فرمان ہوتا ہے کہ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ مشرکین تجھے جھوٹا ہی بتلاتے رہیں تو تو ان سے اور ان کے کاموں سے اپنی بیزاری کا اعلان کر دے۔ اور کہہ دے کہ «فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ» تمہارے اعمال تمہارے ساتھ میرے اعمال میرے ساتھ ‘۔ جیسے کہ وہ سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» ۱؎ [109-الکافرون] میں بیان ہوا ہے، اور جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ» ۱؎ [60-الممتحنة:4] ’ ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے بیزار ہیں، جنہیں تم نے اللہ کے سوا اپنا معبود بنا رکھا ہے ‘۔ ان میں سے بعض تیرا پاکیزہ کلام بھی سنتے ہیں اور خود اللہ تعالیٰ کا بلند و بالا کلام بھی ان کے کانوں میں پڑ رہا ہے۔ لیکن ہدایت نہ تیرے ہاتھ نہ ان کے ہاتھ گو یہ فصیح و صحیح کلام دلوں میں گھر کرنے والا، انسانوں کو پورا نفع دینے والا ہے۔ یہ کافی اور وافی ہے لیکن بہروں کو کون سنا سکے؟ یہ دل کے کان نہیں رکھتے۔ اللہ ہی کے ہاتھ ہدایت ہے۔ یہ تجھے دیکھتے ہیں، تیرے پاکیزہ اخلاق، تیری ستھری تعلیم تیری نبوت کی روشن دلیلیں ہر وقت ان کے سامنے ہیں لیکن ان سے بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ مومن تو انہیں دیکھ کر ایمان بڑھاتے ہیں۔ لیکن ان کے دل اندھے ہیں عقل و بصیرت ان میں نہیں ہے۔
مومن وقار کی نظر ڈالتے ہیں اور یہ حقارت کی۔ ہر وقت ہنسی مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔ پس اپنے اندھے پن کی وجہ سے راہ ہدایت دیکھ نہیں سکتے۔ اس میں بھی اللہ کی حکمت کار ہے کہ ایک تو دیکھے اور سنے اور نفع پائے دوسرا دیکھے سنے اور نفع سے محروم رہے۔ اسے اللہ کا ظلم نہ سمجھو وہ تو سراسر عدل کرنے والا ہے، کسی پر کبھی کوئی ظلم وہ روا نہیں رکھتا۔ لوگ خود اپنا برا آپ ہی کر لیتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّـهُ رَسُولًا إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلَا أَن صَبَرْنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:41، 42] { اللہ عزوجل اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی فرماتا ہے کہ «يا عِبَادِي إني حَرَّمْتُ الظُّلْمَ على نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فلا تَظَالَمُوا، يا عِبَادِي، إنما هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ غير ذلك فلا يَلُومَنَّ إلا نَفْسَهُ» اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی اسے حرام کر دیا ہے۔ خبردار ایک دوسرے پر ظلم ہرگز نہ کرنا۔ اس کے آخر میں ہے اے میرے بندو! یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں جنہیں میں جمع کر رہا ہوں پھر تمہیں ان کا بدلہ دونگا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کا شکر بجا لائے اور جو اس کے سوا کچھ اور پائے وہ صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے }۔ [صحیح مسلم:2577]
43۔ 1 اسی طرح بعض لوگ آپ کی طرف دیکھتے ہیں لیکن مقصد ان کا بھی چونکہ کچھ اور ہوتا ہے اس لئے انہیں بھی اس طرح کوئی فائدہ نہیں ہوتا، جس طرح ایک اندھے کو نہیں ہوتا۔ بالخصوص وہ اندھا جو بصارت کے ساتھ بصیرت سے بھی محروم ہو۔ لیکن ان کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی اندھا جو دل کی بصیرت سے بھی محروم ہو مقصد ان باتوں سے نبی کی تسلی ہے۔ جس طرح ایک حکیم اور طبیب کو جب معلوم ہوجائے کہ مریض علاج کروانے میں سنجیدہ نہیں اور میری ہدایت اور علاج کی پرواہ نہیں کرتا، تو وہ اسے نظر انداز کردیتا ہے اور وہ اس پر اپنا وقت صرف کرنا پسند نہیں کرتا۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا، لوگ خود ہی اپنے اُوپر ظلم کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ یقینی بات ہے کہ اللہ لوگوں پر کچھ ﻇلم نہیں کرتا لیکن لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا ہاں لوگ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
یقینا اللہ لوگوں پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ مگر لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اللہ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا اور لیکن لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین سے اجتناب فرما لیجئے ٭٭
فرمان ہوتا ہے کہ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ مشرکین تجھے جھوٹا ہی بتلاتے رہیں تو تو ان سے اور ان کے کاموں سے اپنی بیزاری کا اعلان کر دے۔ اور کہہ دے کہ «فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ» تمہارے اعمال تمہارے ساتھ میرے اعمال میرے ساتھ ‘۔ جیسے کہ وہ سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» ۱؎ [109-الکافرون] میں بیان ہوا ہے، اور جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ» ۱؎ [60-الممتحنة:4] ’ ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے بیزار ہیں، جنہیں تم نے اللہ کے سوا اپنا معبود بنا رکھا ہے ‘۔ ان میں سے بعض تیرا پاکیزہ کلام بھی سنتے ہیں اور خود اللہ تعالیٰ کا بلند و بالا کلام بھی ان کے کانوں میں پڑ رہا ہے۔ لیکن ہدایت نہ تیرے ہاتھ نہ ان کے ہاتھ گو یہ فصیح و صحیح کلام دلوں میں گھر کرنے والا، انسانوں کو پورا نفع دینے والا ہے۔ یہ کافی اور وافی ہے لیکن بہروں کو کون سنا سکے؟ یہ دل کے کان نہیں رکھتے۔ اللہ ہی کے ہاتھ ہدایت ہے۔ یہ تجھے دیکھتے ہیں، تیرے پاکیزہ اخلاق، تیری ستھری تعلیم تیری نبوت کی روشن دلیلیں ہر وقت ان کے سامنے ہیں لیکن ان سے بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ مومن تو انہیں دیکھ کر ایمان بڑھاتے ہیں۔ لیکن ان کے دل اندھے ہیں عقل و بصیرت ان میں نہیں ہے۔
مومن وقار کی نظر ڈالتے ہیں اور یہ حقارت کی۔ ہر وقت ہنسی مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔ پس اپنے اندھے پن کی وجہ سے راہ ہدایت دیکھ نہیں سکتے۔ اس میں بھی اللہ کی حکمت کار ہے کہ ایک تو دیکھے اور سنے اور نفع پائے دوسرا دیکھے سنے اور نفع سے محروم رہے۔ اسے اللہ کا ظلم نہ سمجھو وہ تو سراسر عدل کرنے والا ہے، کسی پر کبھی کوئی ظلم وہ روا نہیں رکھتا۔ لوگ خود اپنا برا آپ ہی کر لیتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّـهُ رَسُولًا إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلَا أَن صَبَرْنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:41، 42] { اللہ عزوجل اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی فرماتا ہے کہ «يا عِبَادِي إني حَرَّمْتُ الظُّلْمَ على نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فلا تَظَالَمُوا، يا عِبَادِي، إنما هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ غير ذلك فلا يَلُومَنَّ إلا نَفْسَهُ» اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی اسے حرام کر دیا ہے۔ خبردار ایک دوسرے پر ظلم ہرگز نہ کرنا۔ اس کے آخر میں ہے اے میرے بندو! یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں جنہیں میں جمع کر رہا ہوں پھر تمہیں ان کا بدلہ دونگا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کا شکر بجا لائے اور جو اس کے سوا کچھ اور پائے وہ صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے }۔ [صحیح مسلم:2577]
44۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں ساری صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ آنکھیں بھی دی ہیں، جن سے وہ دیکھ سکتے ہیں، کان دیئے ہیں، جن سے سن سکتے ہیں، عقل و بصیرت دی ہے جن سے حق اور باطل اور جھوٹ اور سچ کے درمیان تمیز کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر ان کی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرکے وہ حق راستہ نہیں اپناتے، تو پھر یہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے تو ان پر ظلم نہیں کیا ہے۔
(آیت 44) {اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْـًٔا …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو دوسرے انسانوں کی طرح پورے حواس دیے ہیں، پھر یہ ضد اور ہٹ دھرمی سے ایمان نہ لائیں تو ان کا اپنا قصور ہے، اللہ کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوئی۔ مزید دیکھیے سورۂ عنکبوت (۴۰)۔
(آج یہ دُنیا کی زندگی میں مست ہیں) اور جس روز اللہ اِن کو اکٹھا کرے گا تو (یہی دُنیا کی زندگی اِنہیں ایسی محسُوس ہوگی) گویا یہ محض ایک گھڑی بھر آپس میں جان پہچان کرنے کو ٹھیرے تھے (اس وقت تحقیق ہو جائے گا کہ) فی الواقع سخت گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا اور ہرگز وہ راہِ راست پر نہ تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان کو وه دن یاد دﻻئیے جس میں اللہ ان کو (اپنے حضور) جمع کرے گا (تو ان کو ایسا محسوس ہوگا) کہ گویا وه (دنیا میں) سارے دن کی ایک آدھ گھڑی رہے ہوں گے اور آپس میں ایک دوسرے کو پہچاننے کو ٹھہرے ہوں گے۔ واقعی خسارے میں پڑے وه لوگ جنہوں نے اللہ کے پاس جانے کو جھٹلایا اور وه ہدایت پانے والے نہ تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور جس دن انہیں اٹھائے گا گویا دنیا میں نہ رہے تھے مگر اس دن کی ایک گھڑی آپس میں پہچان کریں گے کہ پورے گھاٹے میں رہے وہ جنہوں نے اللہ سے ملنے کو جھٹلایا اور ہدایت پر نہ تھے
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن اللہ لوگوں کو اپنی بارگاہ میں جمع کرے گا (اس دن انہیں ایسا معلوم ہوگا کہ) جیسے دن کی ایک گھڑی آپس میں جان پہچان کے لئے ٹھہرے ہوں۔ بے شک وہ لوگ گھاٹے میں ہیں جنہوں نے (مرنے کے بعد) خدا کی بارگاہ میں حضوری کو جھٹلایا اور وہ ہدایت یافتہ نہیں تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جس دن وہ انھیں اکٹھا کرے گا، گویا وہ نہیں ٹھہرے مگر دن کی ایک گھڑی، آپس میں جان پہچان کرتے رہے۔ بے شک وہ لوگ خسارے میں رہے جنھوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا اور وہ راہ پانے والے نہ ہوئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب سب اپنی قبر سے اٹھیں گے ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ ’ وہ وقت بھی آ رہا ہے جب قیامت قائم ہوگی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کی قبروں سے اٹھا کر میدان قیامت میں جمع کرے گا ‘۔ «كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا» ۱؎ [79-النازعات:46] ’ اس وقت انہیں ایسا معلوم ہو گا کہ گویا گھڑی بھر دن ہم رہے تھے۔ صبح یا شام ہی تک ہمارا رہنا ہوا تھا ‘۔ «يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ وَنَحْشُرُ الْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ زُرْقًا يَتَخَافَتُونَ بَيْنَهُمْ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا عَشْرًا نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذْ يَقُولُ أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًا» ۱؎ [20-طه:102-104] ’ کہیں گے کہ دس روز دنیا میں گزارے ہوں گے، تو بڑے بڑے حافظے والے کہیں گے کہاں کے دس دن تم تو ایک ہی دن رہے ‘۔ «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ كَذَٰلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّـهِ إِلَىٰ يَوْمِ الْبَعْثِ فَهَـٰذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلَـٰكِنَّكُمْ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» ۱؎ [30-الروم:55-56] ’ قیامت کے دن یہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ایک ساعت ہی رہے ‘ وغیرہ۔ ایسی آیتیں قرآن کریم میں بہت سی ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ دنیا کی زندگی آج بہت تھوڑی معلوم ہوگی۔ سوال ہوگا کہ «قَالَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَاسْأَلِ الْعَادِّينَ» ۱؎ [23-المؤمنون:112-114] کتنے سال دنیا میں گزارے، جواب دیں گے کہ ایک دن بلکہ اسے بھی کم شمار والوں سے پوچھ لو۔ جواب ملے گا کہ واقعہ میں دار دنیادار آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے اور فی الحقیقت وہاں کی زندگی بہت ہی تھوڑی تھی لیکن تم نے اس کا خیال زندگی بھر نہ کیا۔ اس وقت بھی ہر ایک دوسرے کو پہچانتا ہو گا جیسے دنیا میں تھے ویسے ہی وہاں بھی ہوں گے رشتے کنبے کو، باپ بیٹوں الگ الگ پہنچان لیں گے۔ لیکن ہر ایک نفسا نفسی میں مشغول ہوگا۔ جیسے فرمان الٰہی ہے کہ «فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] ’ صور کے پھونکتے ہی حسب و نسب فنا ہو جائیں گے، کوئی دوست اپنے کسی دوست سے کچھ سوال تک نہ کرے گا ‘۔ «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» ۱؎ [77-المرسلات:15] ’ جو اس دن کو جھٹلاتے رہے وہ آج گھاٹے میں رہیں گے ان کے لیے ہلاکت ہو گی انہوں نے اپنا ہی برا کیا اور اپنے والوں کو بھی برباد کیا ‘۔ اس سے بڑھ کر خسارہ اور کیا ہوگا کہ ایک دوسرے سے دور ہے دوستوں کے درمیان تفریق ہے، حسرت و ندامت کا دن ہے۔
45۔ 1 یعنی محشر کی سختیاں دیکھ کر انہیں دنیا کی ساری لذتیں بھول جائیں گی اور دنیا کی زندگی انہیں ایسے معلوم ہوگی گویا وہ دنیا میں ایک آدھ گھڑی ہی رہے ہیں۔ لم یلبثوا الا عشیۃ او ضحھا۔ 45۔ 2 محشر میں مختلف حالتیں ہونگی، جنہیں قرآن میں مختلف جگہوں پر بیان کیا گیا ہے۔ ایک وقت یہ بھی ہوگا، جب ایک دوسرے کو پہچانیں گے، بعض مواقع ایسے آئیں گے کہ آپس میں ایک دوسرے پر گمراہی کا الزام دھریں گے، اور بعض موقعوں پر ایسی دہشت طاری ہوگی کہ ' آپس میں ایک دوسرے کی رشتہ داریوں کا پتہ ہوگا اور نہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔
(آیت 45) ➊ {وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ يَلْبَثُوْۤا …:” سَاعَةً “} ایک گھڑی، عرب نہایت کم مدت کے لیے یہ لفظ بولتے ہیں۔ قیامت بھی چونکہ ایک لمحے میں قائم ہو جائے گی، اس لیے اس پر بھی {”اَلسَّاعَةُ“} کا لفظ بولا جاتا ہے، یعنی اس دن کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ ان حق سے اندھے اور بہرے لوگوں کو حساب کے لیے اکٹھا کرے گا تو انھیں دنیا میں گزری ہوئی راحت و لذت والی لمبی مدت اور طویل ماہ و سال ایک گھڑی محسوس ہوں گے اور انھیں وہ سب لذتیں بھول جائیں گی، جیسا کہ سورۂ احقاف (۳۵) اور سورۂ روم (۵۵) میں ہے کہ مجرم قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک ساعت (لمحے) کے سوا دنیا میں نہیں رہے۔ ➋ { سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ:} دن کی گھڑی چونکہ رات کی بہ نسبت زیادہ یاد رہتی ہے، اس لیے {” مِنَ النَّهَارِ “} فرمایا۔ ➌ { يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَهُمْ:} اس کی دو تفسیریں ہیں، ایک تو یہ کہ دنیا میں ان کی وہ گھڑی بھی ایک دوسرے کی جان پہچان کرتے گزر گئی اور دوسری یہ کہ قیامت کے دن وہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے اور آپس میں ایک دوسرے کو گمراہ کرنے پر ملامت اور گلے شکوے کریں گے۔ ➍ قرآن مجید کی بعض آیات میں ہے کہ وہ کہیں گے کہ ہم تو محض ایک دن یا دن کا کچھ حصہ دنیا میں رہے ہیں، جیسا کہ سورۂ مومنون (۱۱۲، ۱۱۳) میں ہے، یا یہ کہ ہم ایک سہ پہر یا دو پہر وہاں رہے ہیں۔ دیکھیے سورۂ نازعات (۴۶) یا یہ کہ ہم تو صرف دس راتیں وہاں رہے ہیں۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۰۳) اب ایک گھڑی رہنے اور ان آیات میں کیا تطبیق ہو گی، جواب یہ ہے کہ مجرموں کے درجات اور احوال مختلف ہونے کی وجہ سے ان کے اندازے بھی مختلف ہوں گے۔ اسی طرح قیامت کا دن پچاس ہزار سال کی انتہائی لمبی مدت کا دن ہے (دیکھیے معارج: ۴) جس میں مجرموں پر مختلف احوال گزریں گے، اس میں ہونے والی ان کی باہمی بحثوں کا نتیجہ وہ کبھی کچھ نکالیں گے اور کبھی کچھ نکالیں گے۔ یہ بھی ان کی بدحالی کا ایک اظہار ہے، جیسا کہ فرمایا: «{وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ الْقَوْلَ }» [ سبا: ۳۱] ”اور کاش! تو دیکھے جب یہ ظالم اپنے رب کے پاس کھڑے کیے ہوئے ہوں گے، ان میں سے ایک دوسرے کی بات رد کر رہا ہو گا۔“ ➎ { قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا …:} اللہ کی ملاقات جھٹلانے کا مطلب قیامت اور حساب کتاب کا انکار ہے اور خسارا یہ کہ دنیا میں بھی حیوانوں کی سی بے اصولی زندگی بسر کی اور آخرت میں بھی جہنم کا ایندھن بنے۔
جن بُرے نتائج سے ہم انہیں ڈرا رہے ہیں ان کا کوئی حصہ ہم تیرے جیتے جی دکھا دیں یا اس سے پہلے ہی تجھے اُٹھا لیں، بہرحال اِنہیں آنا ہماری ہی طرف ہے اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اس پر اللہ گواہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس کا ان سے ہم وعده کر رہے ہیں اس میں سے کچھ تھوڑا سا اگر ہم آپ کو دکھلا دیں یا (ان کے ﻇہور سے پہلے) ہم آپ کو وفات دے دیں، سو ہمارے پاس تو ان کو آنا ہی ہے۔ پھر اللہ ان کے سب افعال پر گواه ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ہم تمہیں دکھا دیں کچھ اس میں سے جو انہیں وعدہ دے رہے ہیں یا تمہیں پہلے ہی اپنے پاس بلالیں بہرحال انہیں ہماری طرف پلٹ کر آنا ہے پھر اللہ گواہ ہے ان کے کاموں پر،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے رسول(ص)) خواہ ہم آپ کو ابھی بعض وہ باتیں (برے اعمال کے نتائج) دکھا دیں جن کا ان (منکرین) سے وعدہ کیا ہے یا اس سے پہلے آپ کو (دنیا سے) اٹھا لیں بہرحال انہیں لوٹ کر آنا تو ہماری ہی طرف ہے پھر اللہ گواہ ہے اس پر جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر کبھی ہم تجھے اس کا کچھ حصہ واقعی دکھلا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں، یا تجھے اٹھا ہی لیں تو ہماری ہی طرف ان کا لوٹ کر آنا ہے، پھر اللہ اس پر اچھی طرح گواہ ہے جو وہ کر رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالی مقتدر اعلی ہے ٭٭
فرمان ہے کہ ’ اگر تیری زندگی میں ہم ان کفار پر کوئی عذاب اتاریں یا تجھے ان عذابوں کے اتارنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلا لیں، بہر صورت ہے تو یہ سب ہمارے قبضے میں ہی اور ٹھکانا ان کا ہمارے ہاں ہی ہے، اور ہم پر ان کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ‘۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { گزشتہ رات اسی حجرے کے پاس میرے سامنے میری ساری امت پیش کی گئی } کسی نے پوچھا کہ اچھا موجود لوگ تو خیر لیکن جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے وہ کیسے پیش کئے گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی مٹی کے جسم پیش کئے گئے جیسے تم اپنے کسی ساتھی کو پہچانتے ہو ایسے ہی میں نے انہیں پہچان لیا } }۔ [طبرانی کبیر3055:ضعیف ] ہر امت کے رسول ہیں۔ جب کسی کے پاس رسول پہنچ گیا پھر حجت پوری ہوگئی۔ اب قیامت کے دن ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ بغیر کسی ظلم کے حساب چکا دیا جائے گا۔ جیسے «وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:69] والی آیت میں ہے۔ ہر امت اللہ کے سامنے ہو گی، رسول موجود ہو گا، نامہ اعمال ساتھ ہو گا، گواہ فرشتے حاضر ہوں گے، ایک کے بعد دوسری امت آئے گی اس شریف امت کا فیصلہ سب سے پہلے ہو گا۔ گو دنیا میں یہ سب سے آخر میں آئی ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہم سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔ ہماری فیصلے سب سے اول ہوں گے } } [صحیح بخاری:6624] ۔ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و شرف کی وجہ سے یہ امت بھی اللہ کے ہاں شریف و افضل ہے۔
46۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے ہم ان کفار کے بارے میں جو وعدہ کر رہے ہیں اگر انہوں نے کفر و شرک پر اصرار جاری رکھا تو ان پر بھی عذاب الٰہی آسکتا ہے، جس طرح پچھلی قوموں پر آیا، ان میں سے بعض اگر ہم آپ کی زندگی میں بھیج دیں تو یہ بھی ممکن ہے، جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہونگی۔ لیکن اگر آپ اس سے پہلے ہی دنیا سے اٹھا لئے گئے، تب بھی کوئی بات نہیں، ان کافروں کو بالآخر ہمارے پاس ہی آنا ہے۔ ان کے سارے اعمال و احوال کی ہمیں اطلاع ہے، وہاں یہ ہمارے عذاب سے کس طرح بچ سکیں گے، قیامت کے وقوع کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہاں اطاعت گزاروں کو ان کی اطاعت کا صلہ اور نافرمانوں کو ان کی نافرمانی کی سزا دی جائے۔
(آیت 46) ➊ {وَ اِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ …:} یعنی اسلام کے غلبے اور مخالفین کی ذلت و خواری، یعنی قتل و قید اور شکست کے جو وعدے ہم ان کفار سے وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں، اگر ہم ان میں سے بعض آپ کی زندگی ہی میں پورے کرکے آپ کو دکھلا دیں، یا ان میں سے بعض کے پورا کرنے سے پہلے ہی آپ کو اٹھا لیں، دونوں حالتوں میں انھیں ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس پر اچھی طرح گواہ ہے جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں۔ وہاں وہ ان کا انجام آپ کو دکھا دے گا۔ {” شَاهِدٌ “} کا معنی گواہ اور {” شَهِيْدٌ “} میں مبالغہ ہے۔ ➋ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کچھ وعدے آپ کی زندگی میں پورے کر دکھائے، مثلاً اہل مکہ پر قحط، بھوک اور خوف کا مسلط ہونا۔ دیکھیے نحل (۱۱۲) اس قحط کی وجہ سے ان کا ہڈیاں تک کھا جانا اور زمین و آسمان کے درمیان انھیں ہر طرف دھواں نظر آنا۔ دیکھیے دخان (۱۰، ۱۱) حتیٰ کہ اس وقت کفار کے سردار ابوسفیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر یوں بارش کی دعا کی درخواست کی: [أَيْ مُحَمَّدُ إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوْا، فَادْعُ اللّٰهَ أَنْ يَّكْشِفَ عَنْهُمْ، فَدَعَا ] [ بخاری، التفسیر، باب «ثم تولوا …» : ۴۸۲۴ ] ”اے محمد! بے شک تیری قوم کے لوگ ہلاک ہو گئے، پس آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے (اس مصیبت کو) دور کر دے تو آپ نے دعا کی۔“ پھر بدر، احد، خندق، حدیبیہ اور آخر میں فتح مکہ و خیبر اور پورے جزیرۂ عرب کا آپ کی زندگی میں حلقہ بگوش اسلام ہونا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی زندگی میں دکھا دیا اور کچھ وعدے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلفاء کے زمانے میں پورے ہوئے۔ بہرحال آپ کے سچا ہونے میں کوئی شک نہ رہا۔ موضح القرآن میں ہے: ”غلبۂ اسلام کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو ہوا اور باقی آپ کے خلیفوں سے۔“ شاید {”اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ“} میں دوسرے دور کی طرف اشارہ ہے۔
ہر امّت کے لیے ایک رسُول ہے پھر جب کسی امّت کے پاس اُس کا رسُول آ جاتا ہے تو اس کا فیصلہ پُورے انصاف کے ساتھ چکا دیا جاتا ہے اور اس پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جاتا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہر امت کے لیے ایک رسول ہے، سو جب ان کا وه رسول آچکتا ہے ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے، اور ان پر ﻇلم نہیں کیا جاتا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہر امت میں ایک رسول ہوا جب ان کا رسول ان کے پاس آتا ان پر انصاف کا فیصلہ کردیا جاتا اور ان پر ظلم نہیں ہوتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہر امت کے لئے ایک رسول ہوتا ہے تو جب ان کا رسول ان کے پاس آجاتا ہے تو پورے انصاف کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہر امت کے لیے ایک پیغام پہنچانے والا ہے، تو جب ان کا پیغام پہنچانے والا آتا ہے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور وہ ظلم نہیں کیے جاتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالی مقتدر اعلی ہے ٭٭
فرمان ہے کہ ’ اگر تیری زندگی میں ہم ان کفار پر کوئی عذاب اتاریں یا تجھے ان عذابوں کے اتارنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلا لیں، بہر صورت ہے تو یہ سب ہمارے قبضے میں ہی اور ٹھکانا ان کا ہمارے ہاں ہی ہے، اور ہم پر ان کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ‘۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { گزشتہ رات اسی حجرے کے پاس میرے سامنے میری ساری امت پیش کی گئی } کسی نے پوچھا کہ اچھا موجود لوگ تو خیر لیکن جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے وہ کیسے پیش کئے گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی مٹی کے جسم پیش کئے گئے جیسے تم اپنے کسی ساتھی کو پہچانتے ہو ایسے ہی میں نے انہیں پہچان لیا } }۔ [طبرانی کبیر3055:ضعیف ] ہر امت کے رسول ہیں۔ جب کسی کے پاس رسول پہنچ گیا پھر حجت پوری ہوگئی۔ اب قیامت کے دن ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ بغیر کسی ظلم کے حساب چکا دیا جائے گا۔ جیسے «وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:69] والی آیت میں ہے۔ ہر امت اللہ کے سامنے ہو گی، رسول موجود ہو گا، نامہ اعمال ساتھ ہو گا، گواہ فرشتے حاضر ہوں گے، ایک کے بعد دوسری امت آئے گی اس شریف امت کا فیصلہ سب سے پہلے ہو گا۔ گو دنیا میں یہ سب سے آخر میں آئی ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہم سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔ ہماری فیصلے سب سے اول ہوں گے } } [صحیح بخاری:6624] ۔ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و شرف کی وجہ سے یہ امت بھی اللہ کے ہاں شریف و افضل ہے۔
47 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ہر امت میں ہم رسول بھیجتے رہے۔ اور جب رسول اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرچکتا تو پھر ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیتے۔ یعنی پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والوں کو بچا لیتے اور دوسروں کو ہلاک کردیتے۔ کیونکہ " وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا " اور ہماری عادت نہیں کہ رسول بھیجنے سے پہلے ہی عذاب بھیج دیا جاتا یا بغیر حجت تمام کیے، ان کا مواخذہ کرلیا جاتا۔ (فتح القدیر) اور دوسرا مفہوم اس کا یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کا تعلق قیامت سے ہے یعنی قیامت والے دن ہر امت جب اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوگی، تو اس امت میں بھیجا گیا رسول بھی ساتھ ہوگا۔ سب کے اعمال نامے بھی ہوں گے اور فرشتے بھی بطور گواہ پیش ہوں گے۔ اور یوں ہر امت اور اس کے رسول کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔ اور حدیث میں آتا ہے کہ امت محمدیہ کا فیصلہ سب سے پہلے کیا جائے گا۔ جیسا کہ فرمایا " ہم اگرچہ سب کے بعد آنے والے ہیں لیکن قیامت کو سب سے آگے ہوں گے " اور تمام مخلوقات سے پہلے ہمارا فیصلہ کیا جائے گا۔ (صحیح مسلم۔ کتاب الجمعہ، باب ھدایہ ھذہ الامۃ لیوم الجمعہ) (تفسیر ابن کثیر)
(آیت 47) {وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ…:} اس کی دو تفسیریں ہیں، ایک وہ جو اس آیت کا مفہوم ہے: «{ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا }» [ بنی إسرائیل: ۱۵ ] ”اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔“ یعنی دنیا میں ہر قوم کی طرف کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجا جاتا ہے، پھر اس کی نافرمانی اور فرماں برداری کو مدنظر رکھ کر جزا و سزا کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ بے گناہ کو سزا نہیں ہوتی اور نہ حجت تمام کیے بغیر ان کا مؤاخذہ کیا جاتا ہے۔ شاہ عبد القادررحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”عمل بد آگے سے ہوتے ہیں لیکن رسول پہنچ کر سزا ملتی ہے۔“ (موضح) پہلی امتوں میں چونکہ دنیا کے لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ نہ تھا، اس لیے ہر امت کے لیے الگ الگ رسول مبعوث ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے وقت دنیا کے تمام ممالک کے درمیان روابط پیدا ہو چکے تھے اور آئندہ بھی اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ تمام دنیا ایک آبادی کی طرح بن جانے والی ہے، اس لیے خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام دنیا کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا۔ اب آپ پر ایمان لانا یا نہ لانا قیامت کے دن جنت یا دوزخ میں جانے کا سبب ہو گا۔ دوسرا مفہوم آیت کا یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر امت کے سامنے اس کا رسول بطور شاہد پیش ہو گا کہ میں نے اس امت کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا، پھر وہ سب لوگ بھی جنھوں نے دوسروں تک پیغام حق پہنچایا بطور گواہ پیش ہوں گے، پھر ان کی شہادت کی روشنی میں انصاف کے ساتھ فیصلہ ہو گا۔ یہی بات ان آیات میں کہی گئی ہے: «{ فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِيْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِيْدًا}» [ النساء: ۴۱ ] ”پھر کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔“ اور فرمایا: «{ وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِايْٓءَ بِالنَّبِيّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ }» [ الزمر: ۶۹ ] ”اور زمین اپنے رب کے نور کے ساتھ روشن ہو جائے گی اور لکھا ہوا (سامنے) رکھا جائے گا اور نبی اور گواہ لائے جائیں گے اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ “
کہتے ہیں اگر تمہاری یہ دھمکی سچّی ہے تو آخر یہ کب پُوری ہو گی؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعده کب ہوگا؟ اگر تم سچے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو پھر بتاؤ (عذابِ الٰہی کا) وہ وعدہ کب پورا ہوگا؟
عبدالسلام بن محمد
اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بے معنی سوال کرنے والوں کو جواب ٭٭
ان کا بے فائدہ سوال دیکھو، وعدہ کا دن کب آئے گا؟ «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ» ۱؎ [42-الشورى:18] ’ یہ پوچھتے ہیں اور پھر وہ بھی نہ ماننے اور انکار کے بعد بطور یہ جلدی مچا رہے ہیں اور مومن خوف زدہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں ‘۔ وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ ’ میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس کا خاص وقت بتایا نہ میں تمہیں بتا سکوں ہاں ہر زمانے کی ایک معیاد معین ہے ‘۔ «وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّـهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا» ۱؎ [63-المنافقون:11] ’ جہاں اجل آئی پھر نہ ایک ساعت پیچھے نہ آگے اجل آنے کے بعد نہیں رکتی ‘۔ پھر فرمایا کہ ’ وہ تو اچانک آنے والی ہے ‘ ممکن ہے رات کو آ جائے دن کو آ جائے اس کے عذاب میں دیر کیا ہے؟ پھر اس شور مچانے سے اور وقت کا تعین پوچھنے سے کیا حاصل؟ کیا جب قیامت آ جائے عذاب دیکھ لو تب ایمان لاؤ گے؟ وہ محض بے سود ہے۔ «رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» ۱؎ [32-السجدہ:12] ’ اس وقت تو یہ سب کہیں گے کہ ہم نے دیکھ سن لیا۔ کہیں گے ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور دوسرے سے کفر کرتے ہیں ‘۔ «فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:84-85] ’ لیکن ہمارے عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان بے نفع ہے۔ اللہ کا طریقہ اپنے بندوں میں یہی رہا ہے وہاں تو کافروں کو نقصان ہی رہے گا۔ اس دن تو ان سے صاف کہہ دیا جائے گا اور بہت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہ اب تو دائمی عذاب چکھو، ہمیشہ کی مصیبت اٹھاؤ ‘۔ انہیں دھکے دیدے کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ یہ ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔ اب بتاؤ کہ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب اس میں چلے جاؤ اب تو صبر کرنا نہ کرنا برابر ہے اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پاؤ گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 48) {وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ …:} جب مخلوق کو دوبارہ زندہ کرنے اور ان کا محاسبہ کرنے کے خلاف کفار کے پاس کوئی دلیل نہ رہ جاتی تو ان کا آخری تیر یہ تھا کہ لاؤ وہ قیامت، وہ عذا ب لاتے کیوں نہیں، یہ وعدہ جو تم کرتے ہو کب پورا ہو گا؟ اس کا جواب تو واضح ہے کہ جب معلوم ہو کہ امتحان ہونا یقینی ہے، پھر آدمی محض اس لیے تیاری نہ کرے یا اس کا انکار کرے کہ اس کی تاریخ بتاؤ، ڈیٹ شیٹ کیا ہے، تو ایسے آدمی کی بے عقلی میں کیا شبہ ہے۔ مگر ان کے اصرار پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ جواب دینے کے لیے کہا جو اگلی آیت میں ہے۔
کہو “میرے اختیار میں خود اپنا نفع و ضرر بھی نہیں، سب کچھ اللہ کی مشیّت پر موقوف ہے ہر امّت کے لیے مُہلت کی ایک مدّت ہے، جب یہ مدّت پُوری ہو جاتی ہے تو گھڑی بھر کی تقدیم و تاخیر بھی نہیں ہوتی"
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ فرما دیجئے کہ میں اپنی ذات کے لیے تو کسی نفع کا اور کسی ضرر کا اختیار رکھتا ہی نہیں مگر جتنا اللہ کو منظور ہو۔ ہر امت کے لیے ایک معین وقت ہے جب ان کا وه معین وقت آپہنچتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے سرک سکتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ میں اپنی جان کے برے بھلے کا (ذاتی) اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے ہر گروہ کا ایک وعدہ ہے جب ان کا وعدہ آئے گا تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹیں نہ آگے بڑھیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) کہہ دیجیے! (یہ معاملہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے) میں تو خود اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں۔ مگر جو اللہ چاہے (وہی ہوتا ہے) ہر امت (قوم) کیلئے (مہلت کی) ایک مدت ہوتی ہے جب وہ مدت پوری ہو جاتی ہے (اور مقررہ وقت آجاتا ہے) تو پھر ایک گھڑی کی بھی نہ تاخیر ہو سکتی ہے اور نہ تقدیم۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے میں اپنی ذات کے لیے نہ کسی نقصان کا مالک ہوں اور نہ کسی نفع کا، مگر جو اللہ چاہے۔ ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، جب ان کا وقت آپہنچتا ہے تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے رہتے ہیں اور نہ آگے بڑھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بے معنی سوال کرنے والوں کو جواب ٭٭
ان کا بے فائدہ سوال دیکھو، وعدہ کا دن کب آئے گا؟ «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ» ۱؎ [42-الشورى:18] ’ یہ پوچھتے ہیں اور پھر وہ بھی نہ ماننے اور انکار کے بعد بطور یہ جلدی مچا رہے ہیں اور مومن خوف زدہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں ‘۔ وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ ’ میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس کا خاص وقت بتایا نہ میں تمہیں بتا سکوں ہاں ہر زمانے کی ایک معیاد معین ہے ‘۔ «وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّـهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا» ۱؎ [63-المنافقون:11] ’ جہاں اجل آئی پھر نہ ایک ساعت پیچھے نہ آگے اجل آنے کے بعد نہیں رکتی ‘۔ پھر فرمایا کہ ’ وہ تو اچانک آنے والی ہے ‘ ممکن ہے رات کو آ جائے دن کو آ جائے اس کے عذاب میں دیر کیا ہے؟ پھر اس شور مچانے سے اور وقت کا تعین پوچھنے سے کیا حاصل؟ کیا جب قیامت آ جائے عذاب دیکھ لو تب ایمان لاؤ گے؟ وہ محض بے سود ہے۔ «رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» ۱؎ [32-السجدہ:12] ’ اس وقت تو یہ سب کہیں گے کہ ہم نے دیکھ سن لیا۔ کہیں گے ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور دوسرے سے کفر کرتے ہیں ‘۔ «فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:84-85] ’ لیکن ہمارے عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان بے نفع ہے۔ اللہ کا طریقہ اپنے بندوں میں یہی رہا ہے وہاں تو کافروں کو نقصان ہی رہے گا۔ اس دن تو ان سے صاف کہہ دیا جائے گا اور بہت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہ اب تو دائمی عذاب چکھو، ہمیشہ کی مصیبت اٹھاؤ ‘۔ انہیں دھکے دیدے کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ یہ ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔ اب بتاؤ کہ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب اس میں چلے جاؤ اب تو صبر کرنا نہ کرنا برابر ہے اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پاؤ گے۔
49۔ 1 یہ مشرکین کے عذاب الٰہی مانگنے پر کہا جا رہا ہے کہ میں تو اپنے نفس کے لئے بھی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ چہ جائیکہ کہ میں کسی دوسرے کو نقصان یا نفع پہنچا سکوں، ہاں سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنی مشیت کے مطابق ہی کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ علاوہ ازیں اللہ نے ہر امت کے لئے ایک وقت مقرر کیا ہوا ہے، اس وقت تک مہلت دیتا ہے۔ لیکن جب وہ وقت آجاتا ہے تو پھر وہ ایک گھڑی پیچھے ہوسکتے ہیں نہ آگے سرک سکتے ہیں۔ تنبیہ: یہاں یہ بات نہایت اہم ہے کہ جب افضل الخلائق سید الرسل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک کسی کو نفع نقصان پہنچانے پر قادر نہیں، تو آپ کے بعد انسانوں میں اور کون سی ہستی ایسی ہوسکتی ہے جو کسی کی حاجت برآری اور مشکل کشائی پر قادر ہو؟ اسی طرح خود اللہ کے پیغمبر سے مدد مانگنا، ان سے فریاد کرنا " یا رسول اللہ مدد " اور اغثنی یارسول اللہ " وغیرہ الفاظ سے استغاثہ واستعانت کرنا، کسی طرح بھی جائز نہیں ہے کیونکہ یہ قرآن کی اس آیت اور اس قسم کی دیگر واضح تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ یہ شرک کے ذیل میں آتا ہے۔
(آیت 49) ➊ {قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ:} یعنی یہ تعیین میرے اختیار میں نہیں، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ہر امت کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وقت مقرر ہے، جب وہ آ جائے گا پھرایک لمحے کا آگا پیچھا نہیں ہو گا۔ ➋ {قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ …:} یعنی تمھاری موت کا وقت یا عذاب آنے کا وقت سب اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت اور مرضی پر موقوف ہے، جب چاہے گا تم پر عذاب بھیجے گا اور جب تک نہیں چاہے گا نہیں بھیجے گا۔ رہا تمھارا مجھ سے اصرار تو میں تمھیں کیا بتاؤں، میں تو خود اپنی ذات کے لیے نہ کسی نقصان کا مالک ہوں اور نہ کسی نفع کا، مگر جو اللہ چاہے، میرے اختیار میں ہوتا تو تم پر کبھی کا عذاب آ چکا ہوتا۔ دیکھیے سورۂ انعام (۵۷، ۵۸) قاضی شوکانی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ان لوگوں کو سخت تنبیہ ہے جو مصیبتوں اور مشکل کی گھڑیوں میں، جنھیں اللہ کے سو اکوئی نہیں ٹال سکتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد طلب کرتے ہیں، یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں چاہتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی پورا نہیں کر سکتا۔ یہ مقام صرف رب العالمین کا ہے جس نے تمام انبیاء، صالحین اور مخلوقات کو پیدا فرمایا، وہی انھیں روزی اور زندگی بخشتا ہے اور جب چاہتا ہے اس دنیا سے اٹھا لیتا ہے، پھر کسی نبی یا فرشتے یا کسی نیک سے نیک بندے سے کسی ایسی چیز کی درخواست کیونکر کی جا سکتی ہے جس پر اسے قدرت ہی حاصل نہیں؟ اس آیت میں نصیحت کا خاص پہلو یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو تمام بنی آدم کے سردار اور تمام انبیاء سے افضل ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے کسی نقصان یا نفع کا مالک نہ ہونے کی صراحت فرما دی ہے تو کوئی ولی یا امام یا پیر اپنے یا کسی دوسرے کے نفع نقصان کا مالک کیونکر ہو سکتا ہے؟ سخت تعجب کا مقام ہے کہ پھر بھی کچھ لوگ، جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں، مردوں کی قبروں پر جھکتے اور ان سے ایسی ایسی مرادیں طلب کرتے ہیں جنھیں پورا کرنے کی قدرت اللہ کے سوا کوئی نہیں رکھتا۔ یہ صریحاً شرک اور کلمہ{” لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ “} کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور اس سے بڑھ کر افسوس ان کے علماء و مشائخ پر ہے جو انھیں اس کام سے منع نہیں کرتے۔ یہ وہی جاہلیت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عربوں میں پائی جاتی تھی، بلکہ اس کا معاملہ اس جاہلیت سے بھی زیادہ سخت ہے، کیونکہ عرب مشرکین نفع نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کو سمجھتے تھے اور بتوں کو صرف اپنا سفارشی خیال کرتے تھے، مگر یہ لوگ تو قبروں والوں کو نفع نقصان کا مالک سمجھتے ہیں اور کبھی ان کو علیحدہ اور کبھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکارتے ہیں۔ اس امت میں کتنے ہی لوگ ہیں جنھیں شیطان مردود نے اس ذریعے سے کفر کی راہ پر ڈال دیا ہے اور وہ یہ سمجھتے ہوئے اس پر آگے سے آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں کہ «{ اَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا }» [ الکہف: ۱۰۴ ] ”وہ بڑا نیک کام کر رہے ہیں۔“ [ فَإنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ] اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت فرمائے۔ آمین! (مختصر از شوکانی)
اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ کا عذاب اچانک رات کو یا دن کو آ جائے (تو تم کیا کر سکتے ہو؟) آخر یہ ایسی کونسی چیز ہے جس کے لیے مجرم جلدی مچائیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ فرما دیجئے کہ یہ تو بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب رات کو آپڑے یا دن کو تو عذاب میں کون سی چیز ایسی ہے کہ مجرم لوگ اس کو جلدی مانگ رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر اس کا عذاب تم پر رات کو آئے یا دن کو تو اس میں وہ کونسی چیز ہے کہ مجرموں کو جس کی جلدی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) ان لوگوں سے کہیے کیا تم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ اگر اس کا عذاب (اچانک) رات کے وقت تم پر آجائے یا دن دہاڑے (تو تم کیا کروگے؟) آخر وہ کون سی چیز ہے جس کی مجرم جلدی کر رہے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر تم پر اس کا عذاب رات کو، یا دن کو آجائے تو مجرم اس میں سے کون سی چیز جلدی طلب کریں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بے معنی سوال کرنے والوں کو جواب ٭٭
ان کا بے فائدہ سوال دیکھو، وعدہ کا دن کب آئے گا؟ «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ» ۱؎ [42-الشورى:18] ’ یہ پوچھتے ہیں اور پھر وہ بھی نہ ماننے اور انکار کے بعد بطور یہ جلدی مچا رہے ہیں اور مومن خوف زدہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں ‘۔ وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ ’ میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس کا خاص وقت بتایا نہ میں تمہیں بتا سکوں ہاں ہر زمانے کی ایک معیاد معین ہے ‘۔ «وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّـهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا» ۱؎ [63-المنافقون:11] ’ جہاں اجل آئی پھر نہ ایک ساعت پیچھے نہ آگے اجل آنے کے بعد نہیں رکتی ‘۔ پھر فرمایا کہ ’ وہ تو اچانک آنے والی ہے ‘ ممکن ہے رات کو آ جائے دن کو آ جائے اس کے عذاب میں دیر کیا ہے؟ پھر اس شور مچانے سے اور وقت کا تعین پوچھنے سے کیا حاصل؟ کیا جب قیامت آ جائے عذاب دیکھ لو تب ایمان لاؤ گے؟ وہ محض بے سود ہے۔ «رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» ۱؎ [32-السجدہ:12] ’ اس وقت تو یہ سب کہیں گے کہ ہم نے دیکھ سن لیا۔ کہیں گے ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور دوسرے سے کفر کرتے ہیں ‘۔ «فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:84-85] ’ لیکن ہمارے عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان بے نفع ہے۔ اللہ کا طریقہ اپنے بندوں میں یہی رہا ہے وہاں تو کافروں کو نقصان ہی رہے گا۔ اس دن تو ان سے صاف کہہ دیا جائے گا اور بہت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہ اب تو دائمی عذاب چکھو، ہمیشہ کی مصیبت اٹھاؤ ‘۔ انہیں دھکے دیدے کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ یہ ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔ اب بتاؤ کہ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب اس میں چلے جاؤ اب تو صبر کرنا نہ کرنا برابر ہے اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پاؤ گے۔
50۔ 1 یعنی عذاب تو ایک نہایت ہی ناپسندیدہ چیز ہے جس سے دل نفرت کرتے ہیں اور طبیعتیں انکار کرتی ہیں، پھر یہ اس میں کیا خوبی دیکھتے ہیں اور اس کو جلدی طلب کرتے ہیں۔
(آیت 50) {قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ …:” اَرَءَيْتُمْ “} کا لفظی معنی تو یہی ہے کہ ”کیا تم نے دیکھا“ مگر اہل عرب اس سے مراد {”اَخْبِرُوْنِيْ“} لیتے ہیں، یعنی اگر تم نے دیکھا ہے تو بتاؤ۔ {” بَيَاتًا “} یعنی رات کو، گھر کو{ ” بَيْتٌ “} اسی لیے کہتے ہیں کہ آدمی وہاں رات گزارتا ہے۔ یہ ان کے سوال {” مَتٰي هٰذَا الْوَعْدُ “} کا دوسرا جواب ہے، یعنی اگر بالفرض عذاب رات سوتے ہوئے یا دن کی مصروفیت میں یک لخت آگیا تو وہ کون سی میٹھی اور خوش گوار چیز ہے کہ مجرم جلد از جلد اس کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ تو نہایت تلخ اور ناقابل برداشت چیز ہے، اس کے آنے کے بعد ایمان لانا فائدہ مند نہیں ہو سکے گا اور آخرت میں دائمی عذاب سامنے ہے، پس جب حالت یہ ہے تو اس کے آنے کی کیوں جلدی مچا رہے ہیں۔