بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يونس — Surah Yunus
آیت نمبر 30
کل آیات: 109
قرآن کریم يونس آیت 30
آیت نمبر: 30 — سورۃ يونس islamicurdubooks.com ↗
ہُنَالِکَ تَبۡلُوۡا کُلُّ نَفۡسٍ مَّاۤ اَسۡلَفَتۡ وَ رُدُّوۡۤا اِلَی اللّٰہِ مَوۡلٰىہُمُ الۡحَقِّ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿٪۳۰﴾
اُس وقت ہر شخص اپنے کیے کا مزا چکھ لے گا، سب اپنے مالک حقیقی کی طرف پھیر دیے جائیں گے اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے گم ہو جائیں گے
اس مقام پر ہر شخص اپنے اگلے کیے ہوئے کاموں کی جانچ کرلے گا اور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ جھوٹ باندھا کرتے تھے سب ان سے غائب ہوجائیں گے
یہاں ہر جان جا نچ لے گی جو آگے بھیجا اور اللہ کی طرف پھیرے جائیں گے جو ان کا سچا مولیٰ ہے اور ان کی ساری بناوٹیں ان سے گم ہوجائیں گی
اس موقع پر ہر شخص اسے جانچ لے گا جو کچھ اس نے آگے بھیجا ہے (کہ اس کا نتیجہ کیا ہے؟) اور سب اللہ کی بارگاہ میں لوٹائے جائیں گے جو ان کا حقیقی مالک ہے اور جو (شریک) انہوں نے گھڑ رکھے تھے وہ سب غائب ہو جائیں گے (اور ان کے کچھ کام نہ آئیں گے)
اس موقع پر ہر شخص جانچ لے گا جو اس نے آگے بھیجا اور وہ اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے جو ان کا حقیقی مالک ہے اور ان سے گم ہو جائے گا جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

میدان حشر میں سبھی موجود ہوں گے ٭٭

{ مومن، کافر، نیک، بد، جن انسان، سب میدان قیامت میں اللہ کے سامنے جمع ہونگے۔ «وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:47] ‏‏‏‏ ’ سب کا حشر ہو گا، ایک بھی باقی نہ رہے گا ‘۔ «وَامْتَازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ» [36-یس:59] ‏‏‏‏ ’ پھر مشرکوں اور ان کے شریکوں کو الگ کھڑا کر دیا جائے گا ‘۔ «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ» ۱؎ [30-الروم:14] ‏‏‏‏ ’ ان مجرموں کی جماعت مومنوں سے الگ ہو جائے گی، سب جدا جدا گروہ میں بٹ جائیں گے ایک سے ایک الگ ہو جائے گا ‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خود فیصلوں کے لیے تشریف لائے گا۔ مومن سفارش کر کے اللہ کو لائیں گے کہ وہ فیصلے فرما دے }۔ [صحیح بخاری:7516] ‏‏‏‏ { یہ امت ایک اونچے ٹیلے پر ہوگی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:191] ‏‏‏‏ «سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ‏‏‏‏ ۱؎ [19-مریم:82] ‏‏‏‏ ’ مشرکین کے شرکا اپنے عابدوں سے بیزاری ظاہر کریں گے ‘، اور آیت میں ہے کہ «إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا» ۱؎ [2-البقرہ:166] ‏‏‏‏ ’ اس دن (‏‏‏‏کفر کے) پیشوا اپنے پیرووں سے بیزاری ظاہر کریں گے، اسی طرح خود مشرکین بھی ان سے انجان ہو جائیں گے۔ سب ایک دوسرے انجان بن جائیں گے ‘۔ «‏‏‏‏وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:5-6] ‏‏‏‏ ’ اب بتلاؤ ان مشرکوں سے بھی زیادہ کوئی بہکا ہوا ہے کہ انہیں پکارتے رہے جو آج تک ان کی پکار سے بھی غافل رہے اور آج ان کے دشمن بن کر مقابلے پر آگئے۔ صاف کہا کہ تم نے ہماری عبادت نہیں کی۔ ہمیں کچھ خبر نہیں ہماری تمہاری عبادتوں سے بالکل غافل رہے۔ اسے اللہ خوب جانتا ہے، نہ ہم نے اپنی عبادت کو تم سے کہا تھا نہ ہم اس سے کبھی خوش رہے۔ تم اندھی، نہ سنتی، بے کار چیزوں کو پوجتے رہے جو خود ہی بے خبر تھے نہ وہ اس سے خوش نہ ان کا یہ حکم ‘۔

بلکہ تمہاری پوری حاجت مندی کے وقت تمہارے شرک کے منکر، تمہاری عبادتوں کے منکر بلکہ تمہارے دشمن تھے۔ اس حی و قیوم، سمیع و بصیر، قادر و مالک، وحدہ لاشریک کو تم نے چھوڑ دیا جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہ تھا۔ «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى اللَّـهُ وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ» ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏ ’ جس نے رسول بھیج کر تمہیں توحید سکھائی اور سنائی تھی سب رسولوں کی زبانی کہلوایا تھا کہ میں ہی معبود ہوں میری ہی عبادت و اطاعت کرو۔ سوائے میرے کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ہر قسم کے شرک سے بچو۔ کبھی کسی طرح بھی مشرک نہ بنو ‘۔ وہاں ہر شخص اپنے اعمال دیکھ لے گا۔ اپنی بھلائی برائی معلوم کرلے گا۔ نیک و بد سامنے آ جائے گا۔ اسرار بے نقاب ہوں گے، کھل پڑیں گے، اگلے پچھلے چھوٹے بڑے کام سامنے ہوں گے۔ نامہ اعمال کھلے ہوئے ہوں گے، ترازو چڑھی ہوئی ہوگی۔ آپ اپنا حساب کرلے گا۔ «تَبْلُوا» کی دوسری قرآت «تَتْلُوْا» بھی ہے۔ اپنے اپنے کرتوت کے پیچھے ہر شخص ہوگا۔ حدیث میں ہے { ہر امت کو حکم ہو گا کہ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چل کھڑی ہو جائے۔ سورج پرست سب سورج کے پیچھے ہوں گے، چاند پرست چاند کے پیچھے، بت پرست بتوں کے پیچھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7438] ‏‏‏‏ سارے کے سارے حق تعالیٰ مولائے برحق کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کاموں کے فیصلے اس کے ہاتھ ہوں گے۔ اپنے فضل سے نیکوں کو جنت میں اور اپنے عدل سے بدوں کو جہنم میں لے جائے گا۔ مشرکوں کی ساری افرا پردازیاں رکھی کی رکھی رہ جائیں گی، بھرم کھل جائیں گے، پردے اُٹھ جائیں گے۔

📖 احسن البیان

30۔ 1 یعنی جان لے گا یا مزہ چکھ لے گا۔ 30۔ 2 یعنی کوئی معبود اور ' مشکل کشا ' وہاں کام نہیں آئے گا، کوئی کسی کی مشکل کشائی پر قادر نہیں ہوگا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 30) {” هُنَالِكَ “} ”اس وقت، اس جگہ“ دونوں معنی میں آتا ہے، اس لیے ترجمہ ”اس موقع پر“ کیا ہے، تاکہ دونوں معنی شامل ہو جائیں۔ {” تَبْلُوْا “} آزمائش کرنا، جانچ لینا۔ جانچنے پرکھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو اس چیز کا پوری طرح علم ہو جاتا ہے، یعنی اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کی پوری حقیقت ہر شخص کے سامنے پوری طرح کھل جائے گی اور اپنے اصل مالک کے پاس پہنچنے کے بعد نہ ان کے اپنے گھڑے ہوئے اور بنائے ہوئے مشکل کشا کہیں نظر آئیں گے، نہ کوئی زبردستی سفارش کے ساتھ چھڑا لینے والا کہیں ڈھونڈے سے ملے گا۔ سب لغو اور جھوٹی باتیں ہوا ہو جائیں گی۔
← پچھلی آیت (29) پوری سورۃ اگلی آیت (31) →