بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يونس — Surah Yunus
آیت نمبر 23
کل آیات: 109
قرآن کریم يونس آیت 23
آیت نمبر: 23 — سورۃ يونس islamicurdubooks.com ↗
فَلَمَّاۤ اَنۡجٰہُمۡ اِذَا ہُمۡ یَبۡغُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغۡیُکُمۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ ۙ مَّتَاعَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۫ ثُمَّ اِلَیۡنَا مَرۡجِعُکُمۡ فَنُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۳﴾
مگر جب وہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں لوگو، تمہاری یہ بغاوت اُلٹی تمہارے ہی خلاف پڑ رہی ہے دنیا کے چند روزہ مزے ہیں (لُوٹ لو)، پھر ہماری طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت ہم تمہیں بتا دیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو
پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو بچالیتا ہے تو فوراً ہی وه زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں اے لوگو! یہ تمہاری سرکشی تمہارے لیے وبال ہونے والی ہے دنیاوی زندگی کے (چند) فائدے ہیں، پھر ہمارے پاس تم کو آنا ہے پھر ہم سب تمہارا کیا ہوا تم کو بتلادیں گے
پھر اللہ جب انہیں بچا لیتا ہے جبھی وہ زمین میں ناحق زیادتی کرنے لگتے ہیں اے لوگو! تمہاری زیادتی تمہارے ہی جانوں کا وبال ہے دنیا کے جیتے جی برت لو (فائد اٹھالو)، پھر تمہیں ہماری طرف پھرنا ہے اس وقت ہم تمہیں جتادیں گے جو تمہارے کوتک تھے
اور جب اللہ انہیں نجات دے دیتا ہے تو (اپنا سب عہد و پیمان بھول کر) زمین میں ناحق بغاوت اور سرکشی کرنے لگتے ہیں اے لوگو! تمہاری اس بغاوت کا وِزر و وبال تو خود تمہاری ہی جانوں پر پڑ رہا ہے یہ (چند روزہ) زندگی کے مزے ہیں (سو لوٹ لو) پھر تمہاری بازگشت ہماری ہی طرف ہے اس وقت ہم تمہیں بتائیں گے کہ تم کیا کرتے رہے ہو؟
پھر جب اس نے انھیں نجات دے دی اچانک وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو! تمھاری سرکشی تمھاری جانوں ہی پر ہے، دنیا کی زندگی کے فائدے کے لیے، پھر ہماری ہی طرف تمھارا لوٹ کر آنا ہے، تو ہم تمھیں بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

احسان فراموش انسان ٭٭

انسان کی ناشکری کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ اسے سختی کے بعد کی آسانی، خشک سالی کے بعد کی ترسالی، قحط کے بعد کی بارش اور بھی ناشکرا کر دیتی ہے یہ ہماری آیتوں سے مذاق اڑانے لگتا ہے۔ کیا تو اس وقت ہماری طرف ان کا جھکنا اور کیا اس وقت ان کا اکڑنا نہیں دیکھتا ‘۔ { رات کو بارش ہوئی، صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر پوچھا { جانتے بھی ہو رات کو باری تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے؟ } صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ہمیں کیا خبر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ کا ارشاد ہوا ہے کہ صبح کو میرے بہت سے بندے ایماندار ہو جائیں گے اور بہت سے کافر۔ کچھ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارش ہوئی وہ مجھ پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے اور ستاروں کی ایسی تاثیروں کے منکر ہو جائیں گے اور کچھ کہیں گے کہ فلاں فلاں نچھتر کی وجہ سے بارش برسائی گئی وہ مجھ سے کافر ہو جائیں گے اور ستاروں پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے } }۔ [صحیح بخاری:846] ‏‏‏‏ یہاں فرماتا ہے کہ ’ جیسے یہ چالبازی ان کی طرف سے ہے۔ میں بھی اس کے جواب سے غافل نہیں انہیں ڈھیل دیتا ہوں۔ یہ اسے غفلت سمجھتے ہیں پھر جب پکڑ آ جاتی ہے تو حیران و ششدر رہ جاتے ہیں۔ میں غافل نہیں۔ میں نے تو اپنے امین فرشتے چھوڑ رکھے ہیں جو ان کے کرتوت برابر لکھتے جا رہے ہیں۔ پھر میرے سامنے پیش کریں گے میں خود دانا بینا ہوں لیکن تاہم وہ سب تحریر میرے سامنے ہو گی۔ جس میں ان کے چھوٹے بڑے بڑے بھلے سب اعمال ہوں گے۔ اسی اللہ کی حفاظت میں تمہارے خشکی اور تری کے سفر ہوتے ہیں۔ تم کشتیوں میں سوار ہو، موافق ہوائیں چل رہی ہیں۔ کشتیاں تیر کی طرح منزل مقصود کو جا رہی ہیں تم خوشیاں منا رہے ہو کہ یکایک باد مخالف چلی اور چاروں طرف سے پہاڑوں کی طرح موجیں اٹھ کھڑی ہوئیں ‘۔

«وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [17-الإسراء:67] ‏‏‏‏ سمندر میں تلاطم شروع ہو گیا، کشتی تنکے کی طرح جھکولے کھانے لگی اور تمہارے کلیجے الٹنے لگے، ہر طرف سے موت نظر آنے لگی، اس وقت سارے بنے بنائے معبود اپنی جگہ دھرے رہ گئے اور نہایت خشوع وخضوع سے صرف مجھ سے دعائیں مانگیں جانے لگیں وعدے کئے جانے لگے کہ اب کے اس مصیبت سے نجات مل جانے کے بعد شکر گزاری میں باقی عمر گزار دیں گے، توحید میں لگے رہیں گے کسی کو اللہ کا شریک نہیں بنائیں گے، آج سے خالص توبہ ہے۔ لیکن ادھر نجات ملی، کنارے پر اترے، خشکی میں چلے پھرے کہ اس مصیبت کے وقت کو اس خالص دعا کو پھر اقرار شکرو توحید کو یکسر بھول گئے اور ایسے ہو گئے گویا ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ ہم سے کبھی معاملہ ہی نہ پڑا تھا۔ ناحق اکڑفوں کرنے لگے، مستی میں آ گئے۔ لوگو! تمہاری اس سرکشی کا وبال تم پر ہی ہے۔ تم اس سے دوسروں کا نہیں بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہو۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { وہ گناہ جس پر یہاں بھی اللہ کی پکڑ نازل ہو اور آخر میں بھی بدترین عذاب ہو فساد و سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی نہیں } }۔ [سنن ابوداود4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ تم اس دنیائے فانی کے تھوڑے سے برائے نام فائدے کو چاہے اٹھالو لیکن آخر انجام تو میری طرف ہی ہے۔ میرے سامنے آؤ گے میرے قبضے میں ہو گے۔ اس وقت ہم خود تمہیں تمہاری بد اعمالیوں پر متنبہ کریں گے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیں گے لہٰذا اچھائی پاکر ہمارا شکر کرو اور برائی دیکھ کر اپنے سوا کسی اور کو ملامت اور الزام نہ دو۔

📖 احسن البیان

23۔ 1 یہ انسان کی ناشکری کی عادت کا ذکر ہے جس کا تذکرہ ابھی آیت 12 میں بھی گزرا، اور قرآن میں اور بھی متعدد مقامات پر اللہ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ 23۔ 2 اللہ تعالیٰ نے فرمایا، تم یہ ناشکری اور سرکشی کرلو، چار روزہ متاع زندگی سے فائدہ اٹھا کر بالآخر تمہیں ہمارے ہی پاس آنا ہے، پھر تمہیں، جو کچھ تم کرتے رہے ہو گے، بتلائیں گے یعنی ان پر سزا دیں گے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 23) ➊ { فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ يَبْغُوْنَ …:} یعنی طوفان سے بچ نکلنے پر پھر وہی ناحق سرکشی اور ظلم شروع کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ مشرکین کے اس رویے کا ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ عنکبوت (۶۵، ۶۶) اور لقمان (۳۲) ہاں، کوئی سعادت مند ہو تو اپنے عہد پر قائم رہتا ہے مگر وہ اتنے کم ہیں کہ نہ ہونے کے برابر ہیں، جیسا کہ سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن چار مردوں اور دو عورتوں کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ جہاں پائے جائیں قتل کر دیے جائیں۔ ان میں سے ایک عکرمہ بن ابوجہل بھی تھے۔ عکرمہ نے یہ سنا تو سمندر کے راستے راہ فرار اختیار کی، لیکن جب سفر شروع ہوا تو کشتی والوں کو تند و تیز ہوا نے آ لیا۔ (لوگ اپنے اپنے خداؤں کو پکارنے لگے) کشتی والوں نے کہا: [ أَخْلِصُوْا فَإِنَّ آلِهَتَكُمْ لاَ تُغْنِيْ عَنْكُمْ شَيْئًا هٰهُنَا، فَقَالَ عِكْرِمَةُ وَاللّٰهِ! لَئِنْ لَمْ يُنَجِّنِيْ مِنَ الْبَحْرِ إِلاَّ الْإِخْلَاصُ لَا يُنَجِّيْنِيْ فِي الْبَرِّ غَيْرُهٗ، اَللّٰهُمَّ إِنَّ لَكَ عَلَيَّ عَهْدًا إِنْ أَنْتَ عَافَيْتَنِيْ مِمَّا أَنَا فِيْهِ أَنْ آتِيَ مُحَمَّدًا صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰي أَضَعَ يَدِيْ فِيْ یَدِہٖ فَلَأَجِدَنَّهُ عَفُوًّا كَرِيْمًا فَجَاءَ فَأَسْلَمَ ] [ نسائی، تحریم الدم، باب الحکم فی المرتد: ۴۰۷۲، وصححہ الألباني ] ”خالص اللہ کو پکارو، کیونکہ اس وقت یہاں تمھارے (خود ساختہ) معبود تمھارے کچھ کام نہیں آئیں گے۔“ عکرمہ نے (دل میں) کہا: ”اللہ کی قسم! اگر سمندر میں نجات صرف اللہ تعالیٰ کی ذات دے سکتی ہے تو پھر خشکی میں بھی اس کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا، اے اللہ! اگر تو نے مجھے اس طوفان سے نجات دے دی تو میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جا کر اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا،تو یقینا میں انھیں بہت درگزر کرنے والا، بہت مہربان پاؤں گا۔“ چنانچہ وہ آئے اور مسلمان ہو گئے۔“ ➋ { يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ …:} یعنی اس سرکشی کا وبال تمھاری اپنی ہی جانوں پر ہے، اس سے تم کسی اور کو نقصان نہیں پہنچا سکو گے، دنیوی زندگی کا تھوڑا سا فائدہ اٹھا لو، آخر تمھیں ہمارے پاس ہی آنا ہے، پھر ہم تمھیں بتلائیں گے کہ تم کیا کرتے رہے ہو، یعنی پھر ہم تمھیں ایسی سزا دیں گے جس سے تمھیں پتا چل جائے گا کہ تم کتنا بھاری ظلم کرتے رہے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُّعَجِّلَ اللّٰهُ تَعَالٰی لِصَاحِبِهٖ الْعُقُوْبَةَ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهٗ فِي الْآخِرَةِ مِثْلُ الْبَغْيِ وَقَطِيْعَةِ الرَّحِمِ ] [ أبوداوٗد، الأدب، باب فی النہي عن البغی: ۴۹۰۲، عن أبي بکرۃ رضی اللہ عنہ ] ”کوئی گناہ اس لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی سزا دنیا میں بھی جلدی دے اور اس کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی اس کی سزا باقی رکھے سوائے ظلم و زیادتی اور قطع رحمی کے۔ “
← پچھلی آیت (22) پوری سورۃ اگلی آیت (24) →