بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يونس — Surah Yunus
آیت نمبر 32
کل آیات: 109
قرآن کریم يونس آیت 32
آیت نمبر: 32 — سورۃ يونس islamicurdubooks.com ↗
فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الۡحَقُّ ۚ فَمَا ذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۚۖ فَاَنّٰی تُصۡرَفُوۡنَ ﴿۳۲﴾
تب تو یہی اللہ تمہارا حقیقی رب ہے پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا باقی رہ گیا؟ آخر یہ تم کدھر پھرائے جا رہے ہو؟
سو یہ ہے اللہ تعالیٰ جو تمہارا رب حقیقی ہے۔ پھر حق کے بعد اور کیا ره گیا بجز گمراہی کے، پھر کہاں پھرے جاتے ہو؟
تو یہ اللہ ہے تمہارا سچا رب پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی پھر کہاں پھرے جاتے ہو،
یہی اللہ ہے جو تمہارا حقیقی پروردگار ہے پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے؟ تمہیں (حق سے) کدھر (غلط سمت) موڑا جا رہا ہے۔
اسی طرح تیرے رب کی بات ان لوگوں پر سچی ہوگئی جنھوں نے نافرمانی کی کہ بے شک وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ کی الوہیت کے منکر ٭٭

اللہ کی ربوبیت کو مانتے ہوئے اس کی الوہیت کا انکار کرنے والے قریشیوں پر اللہ کی حجت پوری ہو رہی ہے کہ «فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَفَاكِهَةً وَأَبًّا» ۱؎ [80-عبس:27-31] ‏‏‏‏ ’ ان سے پوچھو کہ آسمانوں سے بارش کون برساتا ہے؟ پھر اپنی قدرت سے زمین کو پھاڑ کر کھیتی و باغ کون اُگاتا ہے؟ دانے اور پھل کون پیدا کرتا ہے؟ اس کے جواب میں یہ سب کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی ‘۔ «أَمَّنْ هَـٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ» ۱؎ [67-الملک:21] ‏‏‏‏ ’ اس کے ہاتھ میں ہے چاہے روزی دے چاہے روک لے ‘۔ «قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّـهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم مَّنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:46] ‏‏‏‏ ’ کان آنکھیں بھی اس کے قبضے میں ہیں۔ دیکھنے کی سننے کی حالت بھی اسی کی دی ہوئی ہے اگر وہ چاہے اندھا بہرا بنا دے۔ پیدا کرنے والا وہی، اعضاء کا دینے والا وہی ہے۔ وہ اسی قوت کو چھین لے تو کوئی نہیں دے سکتا ‘۔ اس کی قدرت و عظمت کو دیکھو کہ مردے سے زندے کو پیدا کر دے، زندے سے مردے کو نکالے۔ وہی تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے۔ ہر چیز کی بادشاہت اسی کے ہاتھ ہے۔ سب کو وہی پناہ دیتا ہے اس کے مجرم کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہی متصرف و حاکم ہے کوئی اس سے بازپرس نہیں کر سکتا وہ سب پر حاکم ہے۔ «يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ» ۱؎ [55-الرحمن:29] ‏‏‏‏ ’ آسمان و زمین اس کے قبضے میں ہر تر و خشک کا مالک وہی ہے عالم بالا اور سفلی اسی کا ہے ‘۔ کل انس و جن فرشتے اور مخلوق اس کے سامنے عاجز و بے کس ہیں۔ ہر ایک پست و لاچار ہے۔ ان سب باتوں کا ان مشرکین کو بھی اقرار ہے۔ پھر کیا بات ہے جو یہ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار نہیں کرتے۔ جہالت وغبادت سے دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔

فاعل خود مختار اللہ کو جانتے ہوئے رب و مالک مانتے ہوئے معبود سمجھتے ہوئے پھر بھی دوسروں کی پوجا کرتے ہیں۔ وہی ہے تم سب کا سچا معبود اللہ تعالیٰ وکیل ہے اس کے سوا تمام معبود باطل ہیں وہ اکیلا ہے بے شریک ہے۔ مستحق عبادت صرف وہی ہے۔ حق ایک ہی ہے۔ اس کے سوا سب کچھ باطل ہے۔ پس تمہیں اس کی عبادت سے ہٹ کر دوسروں کی عبادت کی طرف نہ جانا چاہیئے یاد رکھو وہی رب العلمین ہے وہی ہرچیز میں متصرف ہے۔ کافروں پر اللہ کی بات ثابت ہو چکی ہے، ان کی عقل ماری گئی ہے۔ خالق رازق متصرف مالک صرف اللہ کو مانتے ہوئے اس کے رسولوں کا خلاف کر کے اس کی توحید کو نہیں مانتے۔ اپنی بدبختی سے جہنم کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔

📖 احسن البیان

32۔ 1 یعنی رب اور اللہ (معبود) تو یہی ہے جس کے بارے میں تمہیں خود اعتراف ہے کہ ہر چیز کا خالق ومالک اور مدبر وہی ہے، پھر اس معبود کو چھوڑ کر جو تم دوسرے معبود بنائے پھرتے ہو، وہ گمراہی کے سوا کچھ نہیں تمہاری سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آتی؟ تم کہاں پھرے جاتے ہو؟

📖 القرآن الکریم

(آیت 32) ➊ { فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ:الْحَقُّ “} ثابت شدہ، سچا، یعنی تمھارے رزق، موت و حیات، تمھارے جسم کا مالک و خالق اور پوری کائنات کی تدبیر کرنے والا جب تم بھی اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہو تو جان لو کہ پھر تمھارا سچا، ثابت شدہ اور حق رب تو یہی اللہ ہے۔ اب خواہ کوئی بھی چیز ہو وہ یا تو حق ہو گی یا باطل، دونوں نہیں ہو سکتیں کہ حق بھی ہو باطل بھی، تو جب اللہ کا رب اور مالک ہونا حق ہے اور صرف اسی کا صاحب اختیار ہونا حق ہے تو پھر کسی اور کا صاحب اختیار ہونا یا اللہ تعالیٰ سے بات منوانے کی قوت رکھنے والا ہونا باطل نہیں تو اور کیا ہے؟ اس کے باوجود تمھارا دل کیسے مانتا ہے کہ حق کو چھوڑ کر گمراہی اور توحید کو چھوڑ کر شرک کی راہ اختیار کرتے ہو۔ سوچو! راہ حق سے کیسے ہٹائے جا رہے ہو؟ ➋ {فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ …:} اس سے معلوم ہوا کہ حق ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے، یہ بات کہ جو جہاں لگا ہوا ہے لگا رہنے دو، سب ٹھیک ہیں، یا مسلمانوں میں خیر القرون کے بعد بننے والے چاروں سنی فرقے، حنفی ہوں یا شافعی، مالکی ہوں یا حنبلی سب حق ہیں، اس آیت کے خلاف ہے۔ ان تمام مذاہب کی ہر بات ایک ہی وقت میں حق کیسے ہو سکتی ہے؟ ان کے اختلافی مسائل میں حق مسئلہ اگر ہوا تو صرف ایک ہو گا، دوسرے خطا ہوں گے۔ مجتہد کو اگرچہ خطا کے باوجود اس کی نیک نیتی اور محنت کا ایک اجر مل جائے گا مگر اس کی خطا کو حق ہر گز نہیں کہہ سکتے، مثلاً ایک فرقے کی یہ بات کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور دوسرے کی یہ بات کہ صرف انگور یا کھجور کی بنائی ہوئی شراب حرام ہے، باقی نشہ آور چیزیں سب حلال ہیں، دونوں حق کیسے ہو سکتی ہیں؟ ایک کی یہ بات کہ اجرت پر لا کر کسی عورت سے زنا کرے تو اس پر حد ہے اور دوسرے کی یہ بات کہ اجرت پر لائی ہوئی عورت سے زنا کرنے پر حد نہیں، دونوں کیسے درست ہو سکتی ہیں؟ ایک مسلک کا یہ کہنا کہ ماں بہن سے نکاح کی حرمت کے علم کے باوجود نکاح کرکے زنا کر لے تو حد نہیں اور دوسرے کا یہ کہنا کہ یہ حرکت تو ارتداد ہے جس کی حد قتل ہے، دونوں باتیں کیسے درست ہو سکتی ہیں؟ پھر بہت سے ائمہ کا کہنا کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے اور اعمال ایمان کا جز ہیں اور ہمارے اور انبیاء و ملائکہ و صحابہ کے ایمان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اس کے مقابلے میں بعض حضرات کا یہ کہنا کہ ایمان صرف دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کا نام ہے، اعمال خواہ نماز روزہ ہی ہوں، ایمان کا جز نہیں اور چونکہ تصدیق اور اقرار ہم نے بھی کیا ہے، جبریل علیہ السلام اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی کیا ہے، سو ایمان میں ہمارے اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کہ کسی کا کم ہو یا کسی کا زیادہ، سب کا برابر ہے۔ آپ خود ہی بتائیں اتنے تضاد کے باوجود دونوں حق کس طرح ہو گئے؟ خلاصہ یہ کہ ہر دو متضاد چیزوں میں اگر ایک حق ہے تو یقینا دوسری ضلال اور گمراہی ہو گی۔
← پچھلی آیت (31) پوری سورۃ اگلی آیت (33) →