بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يونس — Surah Yunus
آیت نمبر 18
کل آیات: 109
قرآن کریم يونس آیت 18
آیت نمبر: 18 — سورۃ يونس islamicurdubooks.com ↗
وَ یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّہُمۡ وَ لَا یَنۡفَعُہُمۡ وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ قُلۡ اَتُنَبِّـُٔوۡنَ اللّٰہَ بِمَا لَا یَعۡلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۸﴾
یہ لوگ اللہ کے سوا اُن کی پرستش کر رہے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع، اور کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں اے محمدؐ، ان سے کہو “کیا تم اللہ کو اُس بات کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں؟" پاک ہے وہ اور بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو معلوم نہیں، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں، وه پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے
اور اللہ کے سوا ایسی چیز کو پوجتے ہیں جو ان کا کچھ بھلا نہ کرے اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں تم فرماؤ کیا اللہ کو وہ بات بتاتے ہو جو اس کے علم میں نہ آسمانوں میں ہے نہ زمین میں اسے پاکی اور برتری ہے ان کے شرک سے،
یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ فائدہ اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں (اے رسول(ص)) تم کہو۔ کیا تم اللہ کو اس چیز کی اطلاع دیتے ہو جو خود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہے اور نہ زمین میں۔ پاک ہے اس کی ذات اور بلند و بالا ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔
اور وہ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انھیں نقصان پہنچاتی ہیں اور نہ انھیں نفع دیتی ہیں اور کہتے ہیں یہ لوگ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ کہہ دے کیا تم اللہ کو اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں؟ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

شرک کے آغاز کی روداد ٭٭

مشرکوں کا خیال تھا کہ جن کو ہم پوجتے ہیں یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے اس غلط عقیدے کی قرآن کریم تردید فرماتا ہے کہ ’ وہ کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ان کی شفاعت تمہارے کچھ کام نہ آئے گی۔ تم تو اللہ کو بھی سکھانا چاہتے ہو گویا جو چیز زمین آسمان میں وہ نہیں جانتا تم اس کی خبر اسے دینا چاہتے ہو۔ یعنی یہ خیال غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک و کفر سے پاک ہے وہ برتر و بری ہے ‘۔ سنو پہلے سب کے سب لوگ اسلام پر تھے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر نوح علیہ السلام تک دس صدیاں وہ سب لوگ مسلمان تھے۔ پھر اختلاف رونما ہوا اور لوگوں نے تیری میری پرستش شروع کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے سلسلوں کو جاری کیا تاکہ «لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ» ۱؎ [8-الأنفال:42] ‏‏‏‏ ’ ثبوت و دلیل کے بعد جس کا جی چاہے زندہ رہے جس کا جی چاہے مر جائے ‘۔ چونکہ اللہ کی طرف سے فیصلے کا دن مقرر ہے۔ حجت تمام کرنے سے پہلے عذاب نہیں ہوتا اس لیے موت مؤخر ہے۔ ورنہ ابھی ہی حساب چکا دیا جاتا۔ مومن کامیاب رہتے اور کافر ناکام۔

📖 احسن البیان

18۔ 1 یعنی اللہ کی عبادت سے تجاوز کرکے نہ کہ اللہ کی عبادت ترک کرکے۔ کیونکہ مشرکین اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ اور غیر اللہ کی بھی۔ 18۔ 2 جب کہ معبود کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے اطاعت گزاروں کو بدلہ اور اپنے نافرمانوں کو سزا دینے پر قادر ہے۔ 18۔ 3 یعنی ان کی سفارش سے اللہ ہماری ضرورتیں پوری کردیتا ہے ہماری بگڑی بنا دیتا ہے یا ہمارے دشمن کی بنائی ہوئی بگاڑ دیتا ہے۔ یعنی مشرکین بھی اللہ کے سوا جن کی عبادت کرتے تھے ان کو نفع اور ضر میں مستقل نہیں سمجھتے تھے بلکہ اپنے اور اللہ کے درمیان واسطہ اور وسیلہ سمجھتے تھے۔ 18۔ 4 یعنی اللہ کو تو اس بات کا علم نہیں کہ اس کا کوئی شریک بھی ہے یا اس کی بارگاہ میں سفارشی بھی ہونگے، گویا یہ مشرکین اللہ کو خبر دیتے ہیں کہ تجھے خبر نہیں۔ لیکن ہم تجھے بتلاتے ہیں کہ تیرے شریک بھی ہیں اور سفارشی بھی ہیں جو اپنے عقیدت مندوں کی سفارش کریں گے۔ 18۔ 5 اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین کی باتیں بےاصل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک اور برتر ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 18) ➊ {وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …: } مکہ کے مشرک اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی کرتے تھے اور کچھ اور ہستیوں کو بھی غائبانہ پکارتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم انھیں اللہ تعالیٰ نہیں مانتے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ سے ہمارے کام کروا دیتے ہیں (دیکھیے زمر: ۳) اللہ تعالیٰ ان کی سفارش رد نہیں کرتا، حالانکہ وہ نہ انھیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے تھے نہ نقصان (دیکھیے مائدہ: ۷۶۔ فرقان: ۳) بلکہ ان کو خبر بھی نہ ہوتی تھی کہ کوئی ہمیں پکار رہا ہے یا ہماری پوجا کر رہا ہے۔ یہی حال ہمارے زمانے کے ان لوگوں کا ہے جو پیروں فقیروں کو حاجت روا اور مشکل کشا مانتے ہیں اور مردہ اولیاء اللہ کی قبروں کو سجدہ کرتے، ان کا طواف کرتے، ان پر چڑھاوے چڑھاتے اور ان کے سامنے عاجزی سے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ انھیں سمجھانے کے لیے جب کوئی بات کی جاتی ہے تو وہ یہی دلیل پیش کرتے ہیں کہ ہم ان بزرگوں کو یہ سمجھ کر تو سجدہ نہیں کرتے اور نہ ان سے مرادیں مانگتے ہیں کہ یہ خود اللہ تعالیٰ ہیں، بلکہ انھیں صرف اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنا سفارشی سمجھتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ان کا اتنا زور ہے اور ان کی محبت میں وہ ایسا مجبور ہے کہ وہ ان کی کوئی سفارش رد نہیں کر سکتا۔ اسی چیز کا جواب اگلے جملے میں دیا جا رہا ہے۔ ➋ {قُلْ اَتُنَبِّـُٔوْنَ۠ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ …:} یعنی اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی ہر بات اور ہر چیز کو جانتا ہے، بلکہ وہی انھیں پیدا کرنے والا اور ہر لمحہ پالنے والا ہے، تو وہ کیسے بے خبر ہو سکتا ہے۔ اگر معاذ اللہ، تمھارے یہ بت یا زندہ و مردہ معبود اس کے شریک یا سفارشی ہوتے تو وہ انھیں بھی ضرور جانتا ہوتا، جب وہ ان میں سے کسی کے بھی شریک یا سفارشی ہونے سے انکار کر رہا ہے تو معلوم ہوا کہ ان کا کوئی وجود یا حقیقت نہیں، اب تمھارے ان کو شریک یا سفارشی اور نفع و نقصان پہنچانے والے ماننے پر اصرار کا مطلب یہی ہے کہ اللہ کو تو آسمان و زمین میں کوئی ایسی ہستی معلوم نہیں ہے مگر تم اسے وہ چیز بتا رہے ہو جو اس کے علم ہی میں نہیں۔ معلوم ہوا تمھارا یہ کہنا اور اس کی بنیاد پر کیے جانے والے تمھارے سب افعال بالکل بے ہودہ اور لغو ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے شرک سے ہر طرح سے پاک اور بے حد بلند ہے، وہ نہ کسی مددگار کا محتاج ہے نہ کسی سفارشی کے ہاتھوں مجبور۔
← پچھلی آیت (17) پوری سورۃ اگلی آیت (19) →