بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يونس — Surah Yunus
آیت نمبر 2
کل آیات: 109
قرآن کریم يونس آیت 2
آیت نمبر: 2 — سورۃ يونس islamicurdubooks.com ↗
اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی رَجُلٍ مِّنۡہُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنَّ لَہُمۡ قَدَمَ صِدۡقٍ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕؔ قَالَ الۡکٰفِرُوۡنَ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۲﴾
کیا لوگوں کے لیے یہ ایک عجیب بات ہو گئی کہ ہم نے خود اُنہی میں سے ایک آدمی کو اشارہ کیا کہ (غفلت میں پڑے ہوئے) لوگوں کو چونکا دے اور جو مان لیں ان کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اُن کے رب کے پاس سچی عزت و سرفرازی ہے؟ (کیا یہی وہ بات ہے جس پر) منکرین نے کہا کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے؟
کیا ان لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کے پاس وحی بھیج دی کہ سب آدمیوں کو ڈرائیے اور جو ایمان لے آئے ان کو یہ خوشخبری سنائیے کہ ان کے رب کے پاس ان کو پورا اجر ومرتبہ ملے گا۔ کافروں نے کہا کہ یہ شخص تو بلاشبہ صریح جادوگر ہے
کیا لوگوں کو اس کا اچنبا ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک مرد کو وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈر سناؤ اور ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس سچ کا مقام ہے، کافر بولے بیشک یہ تو کھلا جادوگر ہے
کیا یہ بات لوگوں کے لئے تعجب کا باعث ہے کہ ہم نے خود انہی میں سے ایک آدمی پر وحی بھیجی کہ (بے ایمان اور بدکردار لوگوں کو) ڈراؤ۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو۔ کہ ان کے لیے ان کے پروردگار کے ہاں اچھا مقام و مرتبہ ہے (لیکن) کافروں نے کہا کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے۔
کیا لوگوں کے لیے ایک عجیب بات ہوگئی کہ ہم نے ان میں سے ایک آدمی کی طرف وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈرا اور جو لوگ ایمان لائے انھیں بشارت دے کہ ان کے لیے ان کے رب کے ہاں سچا مرتبہ ہے۔ کافروں نے کہا بے شک یہ تو کھلا جادوگر ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عقل زدہ کافر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

کافروں کو اس پر بڑا تعجب ہوتا تھا کہ ایک انسان اللہ کا رسول بن جائے، کہتے تھے کہ «فَقَالُوا أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا» ۱؎ [64-التغابن:6] ‏‏‏‏ ’ کیا بشر ہمارا ہادی ہوگا؟ ‘ حضرت ہود علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «‏‏‏‏أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:63-69] ‏‏‏‏ ’ کیا تمہیں یہ کوئی انوکھی بات لگتی ہے کہ تم میں سے ہی ایک شخص پر تمہارے رب کی وحی نازل ہوئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے ‘۔ کفار قریش نے بھی کہا تھا کہ «‏‏‏‏أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَـٰهًا وَاحِدًا إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ» ۱؎ [38-ص:5] ‏‏‏‏ ’ کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کے بجائے ایک ہی اللہ مقرر کر دیا؟ یہ تو بڑے ہی تعجب کی بات ہے ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے بھی انہوں نے صاف انکار کر دیا اور انکار کی وجہ یہی پیش کی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے ایک انسان پر اللہ کی وحی کا آنا ہی نہیں مان سکتے۔ اس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ سچے پائے سے مراد سعادت اور نیکی کا ذکر ہے۔ بھلائیوں کا اجر ہے۔ ان کے نیک کام ہیں۔ مثلاً نماز روزہ صدقہ تسبیح۔ اور ان کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت الغرض ان کی سچائی کا ثبوت اللہ کو پہنچ چکا ہے۔ ان کے نیک اعمال وہاں جمع ہیں۔ یہ سابق لوگ ہیں۔ عرب کے شعروں میں بھی قدیم کا لفظ ان معنوں میں بولا گیا ہے۔ جو رسول ان میں ہے وہ بشیر بھی ہے، نذیر بھی ہے، لیکن کافروں نے اسے جادوگر کہہ کر اپنے جھوٹ پر مہر لگا دی۔

📖 احسن البیان

2۔ 1 استفہام انکار تعجب کے لئے ہے، جس میں توبیخ کا پہلو بھی شامل ہے یعنی اس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سے ہی ایک آدمی کو وحی و رسالت کے لئے چن لیا، کیونکہ ان کے ہم جنس ہونے کی وجہ سے وہ صحیح معنوں میں انسان کی رہنمائی کرسکتا ہے۔ اگر وہ کسی اور جنس سے ہوتا تو فرشتہ یا جن ہوتا اور وہ دونوں ہی صورتوں میں رسالت کا اصل مقصد فوت ہوجاتا، اس لئے کہ انسان اس سے مانوس ہونے کی بجائے وحشت محسوس کرتا دوسرے، ان کے لئے اس کو دیکھنا بھی ممکن نہ ہوتا اور اگر ہم کسی جن یا فرشتے کا انسانی قالب میں بھیجتے تو پھر وہی اعتراض آتا کہ یہ تو ہماری طرح کا ہی انسان ہے۔ اس لئے ان کے اس تعجب میں کوئی معقولیت نہیں ہے۔ 2۔ 2 (قَدَمَ صِدْقٍ) کا مطلب، بلند مرتبہ، اجر حسن اور وہ اعمال صالحہ ہیں جو ایک مومن آگے بھیجتا ہے۔ 2۔ 3 کافروں کو جب انکار کے لئے بات نہیں سوجھتی تو یہ کہہ کر چھٹکارہ حاصل کرلیتے ہیں کہ یہ تو جادوگر ہے۔ نعوذ با للہ۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 2) ➊ {اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا …:} یعنی آخر اس میں تعجب اور حیرت کی کون سی بات ہے کہ انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے اور فلاح و سعادت کی راہ دکھانے کے لیے خود انھی میں سے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیج دیا گیا؟ تعجب کی بات تو تب ہوتی کہ ان کا پروردگار ان کی ہدایت کا کوئی سامان نہ کرتا، یا ان میں کسی جن یا فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتا، کیونکہ فرشتہ یا جن انسانوں کے لیے نمونۂ عمل بن ہی نہیں سکتا۔ مزید دیکھیے سورۂ توبہ (۱۲۸) اور آل عمران (۱۶۴) کی تفسیر۔ ➋ { اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ …: ” قَدَمٌ “ } کا معنی تو ظاہر ہے، دوسروں سے آگے وہی نکلتا ہے جس کا قدم دوڑ میں سب سے آگے نکل جائے، اس لیے{ ” قَدَمٌ “} کا معنی پیش قدمی بھی کرتے ہیں۔ درجے اور مرتبے کی بلندی بھی آگے نکلنے ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ {” صِدْقٍ “} (سچ) مبالغہ کے لیے مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، یعنی اتنا سچا کہ سراپا سچ ہے، جیسے {” زَيْدٌ عَدْلٌ“أَيْ زَيْدٌ عَادِلٌ “} گویا زید سراپا عدل ہے۔ صدق قول میں بھی ہوتا ہے اور فعل میں بھی۔ {” قَدَمَ “} (موصوف) اپنی صفت{ ” صِدْقٍ “ } کی طرف مضاف ہے، جیسا کہ {” مَسْجِدُ الْجَامِعِ“} معنی یہ ہوا کہ ایمان والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں حقیقی پیش قدمی اور سچا مرتبہ ہے، کفار اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھے ہی نہیں بلکہ شرک و کفر میں ایسے اندھے ہوئے کہ وہ شخص جس کی چالیس سالہ زندگی کے صدق و امانت کے وہ خود شاہد تھے اس پر ایمان لانے کے بجائے ضد اور عناد سے اسے جادوگر کہہ دیا، ایسے اندھوں اور بہروں کو رب تعالیٰ کے ہاں حقیقی پیش قدمی اور سچا مرتبہ کیسے حاصل ہو سکتا تھا۔ سو وہ آگے بڑھنے کے بجائے جہنم میں گرنے کے لیے پیچھے رہ گئے۔ چونکہ ان کا آپ کو جادوگر قرار دینا بالکل ہی بودی بات تھی، اس لیے اس کا جواب دینے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی گئی۔ ➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جادوگر قرار دینے سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ ان کے دماغ یہ مان گئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام آدمی نہیں۔ مگر ان کی بدبختی دیکھیے کہ وہ جادوگروں کی غلیظ اور خبیث زندگی اور بد عادات سے خوب واقف ہونے کے باوجود سب سے زیادہ امین، راست باز، پاک دامن اور صاحب عقل و دانش انسان کو محض ہٹ دھرمی کی بنا پر جادوگر کہہ رہے ہیں۔
← پچھلی آیت (1) پوری سورۃ اگلی آیت (3) →