بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يونس — Surah Yunus
آیت نمبر 46
کل آیات: 109
قرآن کریم يونس آیت 46
آیت نمبر: 46 — سورۃ يونس islamicurdubooks.com ↗
وَ اِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ ثُمَّ اللّٰہُ شَہِیۡدٌ عَلٰی مَا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۴۶﴾
جن بُرے نتائج سے ہم انہیں ڈرا رہے ہیں ان کا کوئی حصہ ہم تیرے جیتے جی دکھا دیں یا اس سے پہلے ہی تجھے اُٹھا لیں، بہرحال اِنہیں آنا ہماری ہی طرف ہے اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اس پر اللہ گواہ ہے
اور جس کا ان سے ہم وعده کر رہے ہیں اس میں سے کچھ تھوڑا سا اگر ہم آپ کو دکھلا دیں یا (ان کے ﻇہور سے پہلے) ہم آپ کو وفات دے دیں، سو ہمارے پاس تو ان کو آنا ہی ہے۔ پھر اللہ ان کے سب افعال پر گواه ہے
اور اگر ہم تمہیں دکھا دیں کچھ اس میں سے جو انہیں وعدہ دے رہے ہیں یا تمہیں پہلے ہی اپنے پاس بلالیں بہرحال انہیں ہماری طرف پلٹ کر آنا ہے پھر اللہ گواہ ہے ان کے کاموں پر،
اور (اے رسول(ص)) خواہ ہم آپ کو ابھی بعض وہ باتیں (برے اعمال کے نتائج) دکھا دیں جن کا ان (منکرین) سے وعدہ کیا ہے یا اس سے پہلے آپ کو (دنیا سے) اٹھا لیں بہرحال انہیں لوٹ کر آنا تو ہماری ہی طرف ہے پھر اللہ گواہ ہے اس پر جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔
اور اگر کبھی ہم تجھے اس کا کچھ حصہ واقعی دکھلا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں، یا تجھے اٹھا ہی لیں تو ہماری ہی طرف ان کا لوٹ کر آنا ہے، پھر اللہ اس پر اچھی طرح گواہ ہے جو وہ کر رہے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالی مقتدر اعلی ہے ٭٭

فرمان ہے کہ ’ اگر تیری زندگی میں ہم ان کفار پر کوئی عذاب اتاریں یا تجھے ان عذابوں کے اتارنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلا لیں، بہر صورت ہے تو یہ سب ہمارے قبضے میں ہی اور ٹھکانا ان کا ہمارے ہاں ہی ہے، اور ہم پر ان کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ‘۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { گزشتہ رات اسی حجرے کے پاس میرے سامنے میری ساری امت پیش کی گئی } کسی نے پوچھا کہ اچھا موجود لوگ تو خیر لیکن جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے وہ کیسے پیش کئے گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی مٹی کے جسم پیش کئے گئے جیسے تم اپنے کسی ساتھی کو پہچانتے ہو ایسے ہی میں نے انہیں پہچان لیا } }۔ [طبرانی کبیر3055:ضعیف ] ‏‏‏‏ ہر امت کے رسول ہیں۔ جب کسی کے پاس رسول پہنچ گیا پھر حجت پوری ہوگئی۔ اب قیامت کے دن ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ بغیر کسی ظلم کے حساب چکا دیا جائے گا۔ جیسے «وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:69] ‏‏‏‏ والی آیت میں ہے۔ ہر امت اللہ کے سامنے ہو گی، رسول موجود ہو گا، نامہ اعمال ساتھ ہو گا، گواہ فرشتے حاضر ہوں گے، ایک کے بعد دوسری امت آئے گی اس شریف امت کا فیصلہ سب سے پہلے ہو گا۔ گو دنیا میں یہ سب سے آخر میں آئی ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہم سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔ ہماری فیصلے سب سے اول ہوں گے } } [صحیح بخاری:6624] ‏‏‏‏۔ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و شرف کی وجہ سے یہ امت بھی اللہ کے ہاں شریف و افضل ہے۔

📖 احسن البیان

46۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے ہم ان کفار کے بارے میں جو وعدہ کر رہے ہیں اگر انہوں نے کفر و شرک پر اصرار جاری رکھا تو ان پر بھی عذاب الٰہی آسکتا ہے، جس طرح پچھلی قوموں پر آیا، ان میں سے بعض اگر ہم آپ کی زندگی میں بھیج دیں تو یہ بھی ممکن ہے، جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہونگی۔ لیکن اگر آپ اس سے پہلے ہی دنیا سے اٹھا لئے گئے، تب بھی کوئی بات نہیں، ان کافروں کو بالآخر ہمارے پاس ہی آنا ہے۔ ان کے سارے اعمال و احوال کی ہمیں اطلاع ہے، وہاں یہ ہمارے عذاب سے کس طرح بچ سکیں گے، قیامت کے وقوع کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہاں اطاعت گزاروں کو ان کی اطاعت کا صلہ اور نافرمانوں کو ان کی نافرمانی کی سزا دی جائے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 46) ➊ {وَ اِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ …:} یعنی اسلام کے غلبے اور مخالفین کی ذلت و خواری، یعنی قتل و قید اور شکست کے جو وعدے ہم ان کفار سے وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں، اگر ہم ان میں سے بعض آپ کی زندگی ہی میں پورے کرکے آپ کو دکھلا دیں، یا ان میں سے بعض کے پورا کرنے سے پہلے ہی آپ کو اٹھا لیں، دونوں حالتوں میں انھیں ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس پر اچھی طرح گواہ ہے جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں۔ وہاں وہ ان کا انجام آپ کو دکھا دے گا۔ {” شَاهِدٌ “} کا معنی گواہ اور {” شَهِيْدٌ “} میں مبالغہ ہے۔ ➋ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کچھ وعدے آپ کی زندگی میں پورے کر دکھائے، مثلاً اہل مکہ پر قحط، بھوک اور خوف کا مسلط ہونا۔ دیکھیے نحل (۱۱۲) اس قحط کی وجہ سے ان کا ہڈیاں تک کھا جانا اور زمین و آسمان کے درمیان انھیں ہر طرف دھواں نظر آنا۔ دیکھیے دخان (۱۰، ۱۱) حتیٰ کہ اس وقت کفار کے سردار ابوسفیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر یوں بارش کی دعا کی درخواست کی: [أَيْ مُحَمَّدُ إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوْا، فَادْعُ اللّٰهَ أَنْ يَّكْشِفَ عَنْهُمْ، فَدَعَا ] [ بخاری، التفسیر، باب «‏‏‏‏ثم تولوا …» : ۴۸۲۴ ] ”اے محمد! بے شک تیری قوم کے لوگ ہلاک ہو گئے، پس آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے (اس مصیبت کو) دور کر دے تو آپ نے دعا کی۔“ پھر بدر، احد، خندق، حدیبیہ اور آخر میں فتح مکہ و خیبر اور پورے جزیرۂ عرب کا آپ کی زندگی میں حلقہ بگوش اسلام ہونا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی زندگی میں دکھا دیا اور کچھ وعدے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلفاء کے زمانے میں پورے ہوئے۔ بہرحال آپ کے سچا ہونے میں کوئی شک نہ رہا۔ موضح القرآن میں ہے: ”غلبۂ اسلام کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو ہوا اور باقی آپ کے خلیفوں سے۔“ شاید {”اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ“} میں دوسرے دور کی طرف اشارہ ہے۔
← پچھلی آیت (45) پوری سورۃ اگلی آیت (47) →