بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يونس — Surah Yunus
آیت نمبر 87
کل آیات: 109
قرآن کریم يونس آیت 87
آیت نمبر: 87 — سورۃ يونس islamicurdubooks.com ↗
وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰی وَ اَخِیۡہِ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِکُمَا بِمِصۡرَ بُیُوۡتًا وَّ اجۡعَلُوۡا بُیُوۡتَکُمۡ قِبۡلَۃً وَّ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸۷﴾
اور ہم نے موسیٰؑ اور اس کے بھائی کو اشارہ کیا کہ “مصر میں چند مکان اپنی قوم کے لیے مہیا کرو اور اپنے ان مکانوں کو قبلہ ٹھیرا لو اور نماز قائم کرو اور اہل ایمان کو بشارت دے دو"
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے پاس وحی بھیجی کہ تم دونوں اپنے ان لوگوں کے لیے مصر میں گھر برقرار رکھو اور تم سب اپنے انہی گھروں کو نماز پڑھنے کی جگہ قرار دے لو اور نماز کے پابند رہو اور آپ مسلمانوں کو بشارت دے دیں
اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کو وحی بھیجی کہ مصر میں اپنی قوم کے لیے مکانات بناؤ اور اپنے گھروں کو نماز کی جگہ کرو اور نماز قائم رکھو، اور مسلمانوں کو خوشخبری سناؤ
اور ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی (ہارون) کی طرف وحی کی کہ مصر میں اپنی قوم کے لئے چند گھر مہیا کرو (بناؤ) اور اپنے گھروں کو قبلہ رخ بنائیں (یا اپنے گھروں کو ہی قبلہ بنائیں) اور نماز قائم کریں اور (اے موسیٰ اہلِ ایمان کو) کامیابی کی بشات دیں۔
اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں کچھ گھروں کو ٹھکانا مقرر کر لو اور اپنے گھروں کو قبلہ رخ بنالو اور نماز قائم کرو، اور ایمان والوں کو خوش خبری دے دے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قوم فرعون سے بنی اسرائی کی نجات ٭٭

بنی اسرائیل کی فرعون اور فرعون کی قوم سے نجات پانا، اس کی کیفیت بیان ہو رہی ہے دونوں نبیوں کو اللہ کی وحی ہوئی کہ ’ اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بنا لو۔ اور اپنے گھروں کو مسجدیں مقرر کر لو۔ اور خوف کے وقت گھروں میں نماز ادا کر لیا کرو ‘۔ چنانچہ فرعون کی سختی بہت بڑھ گئی تھی۔ اس لیے انہیں کثرت سے نماز ادا کرنے کا حکم ہوا۔ یہی حکم اس امت کو ہے کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ» ۱؎ [2-البقرۃ:153] ‏‏‏‏ ’ ایمان دارو صبر اور نماز سے مدد چاہو ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جب کوئی گھبراہٹ ہوتی فوراً نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے }۔ [سنن ابوداود1319،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏۔ یہاں بھی حکم ہوتا ہے کہ ’ اپنے گھروں کو قبلہ بنا لو، اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان مومنوں کو تم بشارت دو انہیں دار آخرت میں ثواب ملے گا اور دنیا میں ان کی تائید و نصرت ہوگی ‘۔ اسرائیلیوں نے اپنے نبی سے کہا تھا کہ فرعونیوں کے سامنے ہم اپنی نماز اعلان سے نہیں پڑھ سکتے تو اللہ نے انہیں حکم دیا کہ ’ اپنے گھر قبلہ رو ہو کر وہیں نماز ادا کرسکتے ہو ‘ اپنے گھر آمنے سامنے بنانے کا حکم ہوگیا۔

📖 احسن البیان

87۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے گھروں کو ہی مسجدیں بنا لو اور ان کا رخ اپنے قبلے (بیت المقدس) کی طرف کرلو تاکہ تمہیں عبادت کرنے کے لئے باہر عبادت خانوں غیرہ میں جانے کی ضرورت ہی نہ رہے، جہاں تمہیں فرعون کے کارندوں کے ظلم و ستم کا ڈر رہتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 87) ➊ { وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِيْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ …:} ہماری امت کی خصوصیت ہے کہ اس کے لیے پوری زمین مسجد بنا دی گئی ہے۔ مسلمان کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے نماز پڑھ سکتا ہے۔ پہلی امتوں میں یہ سہولت نہ تھی، بلکہ عبادت کے لیے مقررہ مقامات ہی میں نماز پڑھنا ضروری تھا، خواہ آپ اسے مسجد کہہ لیں یا کنیسہ۔ فرعون کو بنی اسرائیل کا جمع ہونا کسی طرح برداشت نہ تھا، خصوصاً جو مقام فرعون کی ربوبیت کے انکار کا اور اکیلے اللہ کی ربوبیت اور عبادت کا نشان ہو اور ایک اللہ کے پرستار بنی اسرائیل روزانہ کئی مرتبہ وہاں جمع ہوتے ہوں۔ اس لیے ان آیات سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ فرعون نے ان کے عبادت خانوں میں جانے پر پابندی لگا دی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو وحی فرمائی کہ مصرمیں کچھ گھروں کو اپنی نماز کی جگہ مقرر کر لو اور اپنے گھر قبلہ رخ بنا لو۔ اس سے کسی حد تک اجتماع کا موقع بھی ملتا رہے گا، باہمی ملاقات سے محبت بھی بڑھتی رہے گی اور نماز باجماعت بھی ہوتی رہے گی اور ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی بھی۔ ایسی صورت میں بنی اسرائیل سے مسجدوں میں جانے کی پابندی اضطرار کی بنا پر ختم کر دی گئی، البتہ نماز پھر بھی ہر جگہ پڑھنے کی اجازت نہیں ملی، بلکہ اپنے گھر قبلہ رخ بنا کر ان میں چھپ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام گھر قبلہ رخ بنانے کا حکم ہوا مگر نماز کے لیے چند گھر مخصوص تھے، جن کا صرف مسلمانوں کو علم تھا، اگر کسی گھر کا راز فاش ہو جاتا تو دوسرا کوئی گھر مقرر کر لیا جاتا اور تمام گھروں کے قبلہ رخ ہونے کی وجہ سے کوئی دشواری پیش نہ آتی۔ دلیل اس کی ایک تو یہ ہے کہ فرمایا: «اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوْتًا» ‏‏‏‏ {” بُيُوْتًا “} یعنی پوری قوم کے لیے چند گھروں کو ٹھکانا مقرر کر لو۔ دوسری یہ کہ حکم تھا: «{ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ }» اور اقامت صلوٰۃ صفوں کی درستگی کے بغیر نہیں ہوتی جو جماعت کی صورت ہی میں بنتی ہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ سَوُّوْا صُفُوْفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوْفِ مِنْ إِقَامَةِ الصَّلاَةِ ] [ بخاری، الأذان، باب إقامۃ الصف من تمام الصلاۃ: ۷۲۳، عن أنس رضی اللہ عنہ ] ”اپنی صفیں برابر کرو، کیونکہ صفیں برابر کرنا اقامت صلاۃ کا حصہ ہے“ تیسری یہ کہ بنی اسرائیل کو بھی ہماری امت کی طرح جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم تھا (جب کوئی عذر نہ ہو) فرمایا: «{ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ }» [ البقرۃ: ۴۳] ”اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔“ ➋ { وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ:} ایسے مشکل حالات میں بھی بنی اسرائیل کو نماز کی معافی نہیں ملی، بلکہ اسے خاص طور پر قائم کرنے کا حکم ہوا، کیونکہ صبر اور نماز ہی مشکل کے وقت اللہ تعالیٰ سے مدد حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں، فرمایا: «{ وَ اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ }» [البقرۃ: ۴۵ ] ”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو۔“ اور نماز ہی روزانہ کئی مرتبہ بندے کا تعلق اپنے رب سے جوڑتی اور اس سے ہم کلام ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ زکوٰۃ مال ہونے کی صورت میں سال میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے، روزے بھی سال میں کچھ دن فرض ہیں، حج استطاعت کی صورت میں عمر بھر میں ایک دفعہ فرض ہے، یہ نماز ہی ہے کہ آدمی کو جب بھی کوئی مشکل پیش آئے تو وہ اس کے ذریعے سے اپنے رب سے تار جوڑ سکتا ہے اور اس کے ساتھ آدمی کو پانچ دفعہ تو ضرور ہی اپنے مالک کے حضور پیش ہو کر فریاد کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ➌ { وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ:} یعنی اہل ایمان کو خوش خبری دو، اس خوش خبری کا ذکر سورۂ اعراف (۱۲۹) میں ہے کہ تمھارے دشمنوں کی ہلاکت اور تمھاری آزادی کے دن قریب ہی ہیں۔
← پچھلی آیت (86) پوری سورۃ اگلی آیت (88) →