بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يونس — Surah Yunus
آیت نمبر 84
کل آیات: 109
قرآن کریم يونس آیت 84
آیت نمبر: 84 — سورۃ يونس islamicurdubooks.com ↗
وَ قَالَ مُوۡسٰی یٰقَوۡمِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰہِ فَعَلَیۡہِ تَوَکَّلُوۡۤا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِیۡنَ ﴿۸۴﴾
موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ “لوگو، اگر تم واقعی اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اس پر بھروسہ کرو اگر مسلمان ہو"
اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو
اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان لائے تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم اسلام رکھتے ہو،
اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم! اگر تم واقعی اللہ پر ایمان لائے ہو تو پھر اسی پر بھروسہ کرو۔ اگر تم فی الحقیقت مسلمان ہو۔
اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسا کرو، اگر تم فرماں بردار ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ پر مکمل بھروسہ ایمان کی روح ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم بنی اسرائیل سے فرماتے ہیں کہ «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ» ۱؎ [39-الزمر:36] ‏‏‏‏ ’ اگر تم مومن مسلمان ہو تو اللہ پر بھروسہ رکھو ‘، «وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ» ۱؎ [65-الطلاق:3] ‏‏‏‏ ’ جو اس پر بھروسہ کرے وہ اسے کافی ہے ‘، عبادت و توکل دونوں ہم پلہ چیزیں ہیں۔ فرمان رب العالمین ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ» ۱؎ [11-ھود:123] ‏‏‏‏ ’ اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ ‘۔ ایک اور آیت میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتا ہے کہ «قُلْ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا» ۱؎ [67-الملک:29] ‏‏‏‏ ’ کہہ دے کہ رب رحمن پر ہم ایمان لائے اور اسی کی ذات پاک پر ہم نے توکل کیا ‘۔ فرماتا ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:9] ‏‏‏‏ ’ مشرق و مغرب کا رب جو عبادت کے لائق معبود ہے، جس کے سوا پرستش کے لائق اور کوئی نہیں۔ تو اسی کو اپنا وکیل و کارساز بنا لے ‘۔ تمام ایمانداروں کو جو سورت پانچوں نمازوں میں تلاوت کرنے کا حکم ہوا اس میں بھی ان کی زبانی اقرار کرایا گیا ہے کہ «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» ۱؎ [1-الفاتحة:5] ‏‏‏‏ ’ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں ‘۔ بنو اسرائیل نے اپنے نبی علیہ السلام کا یہ حکم سن کر اطاعت کی اور جواباً عرض کیا کہ ”ہمارا بھروسہ اپنے رب پر ہی ہے۔ پروردگار تو ہمیں ظالموں کے لیے فتنہ نہ بنا کہ وہ ہم پر غالب رہ کر یہ سمجھنے لگیں کہ اگر یہ حق پر ہوتے اور ہم باطل پر ہوتے تو ہم ان پر غالب کیسے رہ سکتے۔‏‏‏‏“ یہ مطلب بھی اس دعا کا بیان کیا گیا ہے کہ ”اللہ ہم پر ان کے ہاتھوں عذاب مسلط نہ کرانا، نہ اپنے پاس سے کوئی عذاب ہم پر نازل فرما کہ یہ لوگ کہنے لگیں کہ اگر بنی اسرائیل حق پر ہوتے تو ہماری سزائیں کیوں بھگتتے یا اللہ کے عذاب ان پر کیوں اترتے؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ ہم پر غالب رہے تو ایسا نہ ہو کہ یہ کہیں ہمارے سچے دین سے ہمیں ہٹانے کے لیے کوششیں کریں۔ اور اے پروردگار ان کافروں سے جنہوں نے حق سے انکار کر دیا ہے حق کو چھپایا لیا تو ہمیں نجات دے، ہم تجھ پر ایمان لائے ہیں اور ہمارا بھروسہ صرف تیری ذات پر ہے۔

📖 احسن البیان

84۔ 1 بنی اسرائیل، فرعون کی طرف سے جس ذلت اور رسوائی کا شکار تھے، حضرت موسیٰ ؑ کے آنے کے بعد بھی اس میں کمی نہیں آئی، اس لئے وہ سخت پریشان تھے، بلکہ حضرت موسیٰ ؑ سے انہوں نے یہ تک کہہ دیا، اے موسٰی، جس طرح تیرے آنے سے پہلے ہم فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے تکلیفوں میں مبتلا تھے، تیرے آنے کے بعد بھی ہمارا یہی حال ہے۔ جس پر حضرت موسیٰ ؑ نے انھیں کہا تھا کہ امید ہے کہ میرا رب جلدی تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ تم صرف ایک اللہ سے مدد چاہو اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو (ملاحظہ ہو سورت الا عراف آیات 128، 129) (قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا باللّٰهِ وَاصْبِرُوْا ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ 128؁ قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۭ قَالَ عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ 129؀) یہاں بھی حضرت موسیٰ ؑ نے انھیں تلقین کی کہ اگر تم اللہ کے سچے فرمانبردار ہو تو اسی پر توکل کرو۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 84){وَ قَالَ مُوْسٰى يٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ …:} موسیٰ علیہ السلام کے معجزات اور سچا نبی ثابت ہونے پر بھی فرعون کے ظلم میں کمی نہ آئی، بلکہ وہ اور بڑھ گیا۔ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے شکوہ کیا کہ آپ کے آنے سے پہلے بھی اور آپ کے آنے پر بھی ہمیں ایذا ہی دی گئی تو موسیٰ علیہ السلام نے انھیں صبر اور توکل کی تلقین فرمائی۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۲۸، ۱۲۹) زیر تفسیر آیت میں اللہ پر توکل کو ایمان اور اسلام کا لازمی نتیجہ قرار دیا گیا، جیسا کہ دوسری آیات میں ایمان اور توکل یا عبادت اور توکل کو ایک ساتھ بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ ہود (۱۲۳)، ملک (۲۹) اور فاتحہ (۴)۔
← پچھلی آیت (83) پوری سورۃ اگلی آیت (85) →