بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يونس — Surah Yunus
آیت نمبر 78
کل آیات: 109
قرآن کریم يونس آیت 78
آیت نمبر: 78 — سورۃ يونس islamicurdubooks.com ↗
قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّا وَجَدۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا وَ تَکُوۡنَ لَکُمَا الۡکِبۡرِیَآءُ فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَا نَحۡنُ لَکُمَا بِمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۷۸﴾
اُنہوں نے جواب میں کہا “کیا تواس لیے آیا ہے کہ ہمیں اُ س طریقے سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور زمین میں بڑائی تم دونوں کی قائم ہو جائے؟ تمہارے بات تو ہم ماننے والے نہیں ہیں"
وه لوگ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم کو اس طریقہ سے ہٹادو جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اور تم دونوں کو دنیا میں بڑائی مل جائے اور ہم تم دونوں کو کبھی نہ مانیں گے
بولے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اس سے پھیردو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا اور زمین میں تمہیں دونوں کی بڑائی رہے، اور ہم تم پر ایمان لانے کے نہیں،
انہوں نے (جواب میں) کہا کہ کیا تم اس لئے ہمارے پاس آئے ہو کہ ہمیں اس راہ سے ہٹا دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے۔ اور اس سر زمین میں تم دونوں (بھائیوں) کی بڑائی (سرداری) قائم ہو جائے اور ہم تم دونوں کی بات تسلیم کرنے والے نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اس راہ سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور اس سر زمین میں تم دونوں ہی کو بڑائی مل جائے؟ اور ہم تم دونوں کو ہرگز ماننے والے نہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا۔ اپنی دلیلیں اور حجتیں عطا فرما کر بھیجا۔ لیکن آل فرعون نے بھی اتباع حق سے تکبر کیا اور تھے بھی پکے مجرم اور قسمیں کھا کر کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [27-النمل:14] ‏‏‏‏ حالانکہ دل قائل تھے کہ یہ حق ہے لیکن صرف اپنی بڑھی چڑھی خود داری اور ظلم کی عادت سے مجبور تھے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ کے سچے دین کو جادو کہہ کر کیوں اپنی ہلاکت کو بلا رہے ہو؟ کہیں جادوگر بھی کامیاب ہوتے ہیں؟ ان پر اس نصیحت نے بھی اُلٹا اثر کیا اور دو اعتراض اور جڑ دئیے کہ تم تو ہمیں اپنے باپ دادا کی روش سے ہٹا رہے ہو۔ اور اس سے نیت تمہاری یہی ہے کہ اس ملک کے مالک بن جاؤ۔ سو بکتے رہو ہم تو تمہاری ماننے کے نہیں۔ اس قصے کو قرآن کریم میں باربار دہرایا گیا ہے، اس لیے کہ یہ عجیب و غریب قصہ ہے۔ فرعون موسیٰ علیہ السلام سے بہت ڈرتا بچتا رہا۔ لیکن قدرت نے موسیٰ علیہ السلام کو اسی کے ہاں پلوایا اور شاہزادوں کی طرح عزت کے گہوارے میں جھلایا۔ جب جوانی کی عمر کو پہنچے تو ایک ایسا سبب کھڑا کر دیا کہ یہاں سے آپ چلے گئے۔ پھر جناب باری نے ان سے خود کلام کیا۔ نبوت و رسالت دی اور اسی کے ہاں پھر بھیجا۔ فقط ایک ہارون علیہ السلام کو ساتھ دے کر آپ علیہ السلام نے یہاں آکے اس عظیم الشان سلطان کے رعب و دبدبے کی کوئی پرواہ نہ کر کے اسے دین حق کی دعوت دی۔ اس سرکش نے اس پر بہت برا منایا اور کمینہ پن پر اتر آیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں رسولوں کی خود ہی حفاظت کی وہ وہ معجزات اپنے نبی کے ہاتھوں میں ظاہر کئے کہ ان کے دل ان کی نبوت مان گئے۔ لیکن تاہم ان کا نفس ایمان پر آمادہ نہ ہوا اور یہ اپنے کفر سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوئے۔ «فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [6-الأنعام:45] ‏‏‏‏ ’ آخر اللہ کا عذاب آہی گیا اور ان کی جڑیں کاٹ دی گئیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ‘۔

📖 احسن البیان

78۔ 1 یہ منکرین کی دیگر حجتیں ہیں جو دلائل سے عاجز آکر، پیش کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ تم ہمارے آباء و اجداد کے راستے سے ہٹانا چاہتے ہو، دوسرے یہ کہ ہمیں جاہ و ریاست حاصل ہے، اسے ہم سے چھین کر خود اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہو اسلیے ہم تو کبھی بھی تم پر ایمان نہ لائیں گے۔ یعنی تنقید آباء پر اصرار اور دنیاوی وجہ کی خواہش نے انھیں ایمان لانے سے روکے رکھا۔ اس کے بعد آگے وہی قصہ ہے کہ فرعون نے ماہر جادوگروں کو بلایا اور حضرت موسیٰ ؑ اور جادوں گروں کا مقابلہ ہوا، جیسا کہ سورت اعراف میں گزرا اور سورت طہ میں بھی اس کی کچھ تفصیل آئے گی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 78) {قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا …: } فرعون اور اس کے ساتھی اپنے شرکیہ عقائد کی وجہ سے مذہبی برتری بھی جتاتے رہتے تھے اور سرزمین مصر کی حکومت پر قبضے کی وجہ سے تمام وسائل کے مالک بن کر سیاسی طور پر بھی سب سے بڑے بنے ہوئے تھے، اس لیے انھوں نے یہ دو الزام دھر دیے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اصلاح کی ہر تحریک، پرانی ہو یا نئی، وقت کے تمام فرعون اس پر یہی الزام رکھتے ہیں کہ ان لوگوں کا مقصد اصلاح نہیں، بلکہ ہماری مذہبی سیادت اور سیاسی برتری کو ختم کرنا اور اپنی حکومت قائم کرنا ہے، جیسا کہ نوح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں نے بھی کہا تھا کہ یہ شخص محض تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے، فرمایا: «{يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ }» [ المؤمنون: ۲۴ ] ”یہ چاہتا ہے کہ تم پر برتری حاصل کرلے۔“ حالانکہ انبیاء اور مصلحین محض اصلاح کے لیے آتے ہیں، اگر حکمران اسلام قبول کر لیں اور خود ہی اصلاح کا فریضہ سرانجام دیں تو ان کی حکومت سے تعرض نہیں کیا جاتا۔ مثلاً اس دور میں محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے ابن سعود کے ذریعے سے توحید و سنت کی دعوت کو پھیلایا، خود حکومت طلب نہیں کی، نہ ان کی اولاد میں سے کسی نے یہ خواہش یا کوشش کی۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے وقت کے حاکموں کو جہاد پر ابھار کر اور ان کا ساتھ دے کر تاتاریوں کو مار بھگایا، خود کوئی عہدہ نہ طلب کیا نہ قبول کیا۔ اس لیے ہرقل نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اگر چاہتے ہو کہ تمھاری حکومت قائم رہے تو اسلام قبول کر لو، مگر وہ بدنصیب نکلے اور ہرقل بھی ان کی بادشاہت کے طمع میں ایمان سے محروم رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان ہونے والے قبائل کے سرداروں کو اور مختلف علاقوں کے مسلمان ہونے والے بادشاہوں، مثلاً ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ وغیرہ کو ان کے عہدوں پر قائم رکھا۔ آخر میں فرعون کے ساتھیوں نے نہایت ڈھٹائی سے کہا کہ ہم تم دونوں کو ہر گز ماننے والے نہیں۔
← پچھلی آیت (77) پوری سورۃ اگلی آیت (79) →