بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يونس — Surah Yunus
آیت نمبر 93
کل آیات: 109
قرآن کریم يونس آیت 93
آیت نمبر: 93 — سورۃ يونس islamicurdubooks.com ↗
وَ لَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ وَّ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ۚ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا حَتّٰی جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ یَقۡضِیۡ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۹۳﴾
ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا دیا اور نہایت عمدہ وسائل زندگی انہیں عطا کیے پھر انہوں نے باہم اختلاف نہیں کیا مگراُس وقت جبکہ علم اُن کے پاس آ چکا تھا یقیناً تیرا رب قیامت کے روز اُن کے درمیان اُس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں
اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا رہنے کو دیا اور ہم نے انہیں پاکیزه چیزیں کھانے کو دیں۔ سو انہوں نے اختلاف نہیں کیا یہاں تک کہ ان کے پاس علم پہنچ گیا۔ یقینی بات ہے کہ آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن ان امور میں فیصلہ کرے گا جن میں وه اختلاف کرتے تھے
اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو عزت کی جگہ دی اور انہیں ستھری روزی عطا کی تو اختلاف میں نہ پڑے مگر علم آنے کے بعد بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑتے تھے
اور ہم نے (حسب الوعدہ) بنی اسرائیل کو (رہنے کے لئے) بہت اچھا ٹھکانا دیا اور پاکیزہ چیزوں سے ان کی روزی کا انتظام کیا پس جب تک ان کے پاس توراۃ وغیرہ کی شکل میں علم نہیں آگیا تب تک انہوں نے باہم اختلاف نہیں کیا۔ (پھر جان بوجھ کر اختلاف کیا)۔ یقینا آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا ان باتوں میں جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔
اور بلاشبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا دیا، باعزت ٹھکانا، اور انھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا، پھر انھوں نے آپس میں اختلاف نہیں کیا، یہاں تک کہ ان کے پاس علم آگیا، بے شک تیرا رب ان کے درمیان قیامت کے دن اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات ٭٭

اللہ نے جو نعمتیں بنی اسرائیل پر انعام فرمائیں ان کا ذکر ہو رہا ہے کہ شام اور ملک مصر میں بیت المقدس کے آپس پاس انہیں جگہ دی۔ تمام و کمال ملک مصر پر ان کی حکومت ہوگئ۔ فرعون کی ہلاکت کے بعد دولت موسویہ قائم ہوگئی۔ جیسے قرآن میں بیان ہے کہ ہم نے ان کمزور بنی اسرائیلیوں کے مشرق مغرب کے ملک کا مالک کر دیا۔ برکت والی زمین ان کے قبضے میں دے دی اور ان پر اپنی سچی بات کی سچائی کھول دی ان کے صبر کا پھل انہیں مل گیا۔ فرعون، فرعونی اور ان کے کاریگریاں سب نیست و نابود ہوئیں اور آیتوں میں ہے کہ ہم نے فرعونیوں کو باغوں سے دشمنوں سے، خزانوں سے بہترین مقامات اور مکانات سے نکال باہر کیا۔ «كَمْ تَرَكُوا مِن جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ» ‏‏‏‏۱؎ [44-الدخان:25] ‏‏‏‏ ’ وه بہت سے باغات اور چشمے چھوڑ گئے، اور بنی اسرائیل کے قبضے میں یہ سب کچھ کر دیا ‘۔ اور آیتوں میں ہے، باوجود اس کے خلیل الرحمن علیہ السلام کے شہر بیت المقدس کی محبت ان کے دل میں چٹکیاں لیتی رہی۔ وہاں عمالقہ کی قوم کا قبلہ تھا انہوں نے اپنے پیغمبر علیہ السلام سے درخواست کی، انہیں جہاد کا حکم ہوا یہ نامردی کرگئے جس کے بدلے انہیں چالیس سال تک میدان تیہ میں سرگرداں پھرنا پڑا۔ وہیں ہارون علیہ السلام کا انتقال ہوا پھر موسیٰ علیہ السلام کا۔ ان کے بعد یہ یوشع بن نون علیہ السلام کے ساتھ نکلے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں پر بیت المقدس کو فتح کیا۔ یہاں بخت نصر کے زمانے تک انہیں کا قبضہ رہا پھر کچھ مدت کے بعد دوبارہ انہوں نے اسے لے لیا پھر یونانی بادشاہوں نے وہاں قبضہ کیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے تک وہاں یونانیوں کا ہی قبضہ رہا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ضد میں ان ملعون یہودیوں نے شاہ یونان سے ساز باز کی اور عیسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری کے احکام انہیں باغی قرار دے کر نکلوا دیئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو تو اپنی طرف چڑھا لیا اور آپ علیہ السلام کے کسی حواری پر آپ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی انہوں نے آپ علیہ السلام کے دھوکے میں اسے قتل کر دیا اور سولی پر لٹکا دیا۔ یقیناً جناب روح اللہ علیہ الصلوۃ والسلام ان کے ہاتھوں قتل نہیں ہوئے۔ «وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا» ‏‏‏‏ [4-النساء:158] ‏‏‏‏ ’ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف بلند کر لیا۔ اللہ عزیز و حکیم ہے ‘۔ عیسٰی علیہ السلام کے تقریباً تین سو سال بعد قسطنطیس نامی یونانی بادشاہ عیسائی بن گیا۔ وہ بڑا پاجی اور مکار تھا۔ دین عیسوی میں یہ بادشاہ صرف سیاسی منصوبوں کے پورا کرنے اور اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے اور دین نصاری کو بدل ڈالنے کے لیے گھسا تھا۔ حیلہ اور مکر و فریب اور چال کے طور پر یہ مسیحی بنا تھا کہ مسیحیت کی جڑیں کھوکھلی کر دے۔ نصرانی علماء اور درویشوں کو جمع کر کے ان سے قوانین شریعت کے مجموعے کے نام سے نئی نئی تراشی ہوئی باتیں لکھوا کر ان بدعتوں کو نصرانیوں میں پھیلا دیا اور اصل کتاب و سنت سے انہیں ہٹا دیا۔ اس نے کلیسا، گرجے، خانقاہیں، ہیکلیں وغیرہ بنائیں اور بیسیوں قسم کے مجاہدے اور نفس کشی کے طریقے اور طرح طرح کی عبادتیں ریاضتیں نکال کر لوگوں میں اس نئے دین کی خوب اشاعت کی اور حکومت کے زور اور زر کے لالچ سے اسے دور تک پہنچا دیا۔ جو بیچارے موحد، متبع انجیل اور سچے تابعدار عیسیٰ علیہ السلام کے اصلی دین پر قائم رہے انہیں ان ظالموں نے شہر بدر کردیا۔

لوگ جنگلوں میں رہنے سہنے لگے اور یہ نئے دین والے جن کے ہاتھوں میں تبدیلی اور مسخ والا دین رہ گیا تھا اُٹھ کھڑے ہوئے اور تمام جزیرہ روم پر چھاگئے۔ قسطنطنیہ کی بنیادیں اس نے رکھیں۔ بیت لحم اور بیت المقدس کے کلیسا اور حواریوں کے شہر سب اسی کے بسائے ہوئے ہیں۔ بڑی بڑی شاندار، دیرپا اور مضبوط عمارتیں اس نے بنائیں۔ صلیب کی پرستش، مشرق کا قبلہ، کنیسوں کی تصویریں، سور کا کھانا وغیرہ یہ سب چیزیں نصرانیت میں اسی نے داخل کیں۔ فروع اصول سب بدل کر دین مسیح کو الٹ پلٹ کر دیا۔ امانت کبیرہ اسی کی ایجاد ہے اور دراصل ذلیل ترین خیانت ہے۔ لمبے چوڑے فقہی مسائل کی کتابیں اسی نے لکھوائیں۔ اب بیت المقدس انہیں کے ہاتھوں میں تھا یہاں تک کہ صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فتح کیا۔ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت میں یہ مقدس شہر اس مقدس جماعت کے قبضے میں آیا۔ الغرض یہ پاک جگہ انہیں ملی تھی اور پاک روزی اللہ نے دے رکھی تھی جو شرعا بھی حلال اور طبعا بھی طیب۔ افسوس باوجود اللہ کی کتاب ہاتھ میں ہونے کے انہوں نے خلاف بازی اور فرقہ بندی شروع کر دی۔ ایک دو نہیں بہتر (‏‏‏‏۷۲) فرقے قائم ہو گئے۔ اللہ اپنے رسول علیہ السلام پر درود سلام نازل فرمائے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس پھوٹ کا ذکر فرما کر فرمایا کہ { میری امت میں بھی یہی بیماری پھیلے گی اور ان کے تہتر فرقے ہو جائیں گے جس میں سے ایک جنتی باقی سب دوزخی ہوں گے }۔ پوچھا گیا کہ جنتی کون ہیں؟ فرمایا: { وہ جو اس پر ہوں جس پر میں اور میرے صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اللہ فرماتا ہے ’ ان کے اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن میں آپ ہی کروں گا ‘۔

📖 احسن البیان

93۔ 1 یعنی ایک تو اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے، آپس میں اختلاف شروع کردیا، پھر یہ اختلاف بھی لا علمی اور جہالت کی وجہ سے نہیں کیا، بلکہ علم آجانے کے بعد کیا، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ اختلاف محض عناد اور تکبر کی بنیاد پر تھا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 93) ➊ {وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ …: ” مُبَوَّاَ “} (ٹھکانا)کی{” صِدْقٍ “} کی طرف اضافت کا مطلب اس کی تعریف ہے، یعنی بہترین باعزت ٹھکانا۔ اہل عرب جس چیز کی تعریف کرنا چاہیں اسے {”صِدْقٌ“ } کی طرف مضاف کر دیتے ہیں، جیسے کہتے ہیں: {”رَجُلُ صِدْقٍ“} ”سچ مچ کا آدمی۔“ فرمایا: «{ اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ }» [ یونس:۲ ] اور فرمایا: «{ وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ }» [ بنی إسرائیل: ۸۰ ] یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو نہایت باعزت ٹھکانا، حکومت اور وافر صاف ستھری چیزیں کھانے کے لیے عطا فرمائیں۔ ان بنی اسرائیل سے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی مراد لینا تو مشکل ہے، کیونکہ وہ تو موسیٰ علیہ السلام کے حکم پر جہاد کے لیے نکلنے سے صاف انکار کی پاداش میں چالیس سال صحرائے سینا ہی میں بھٹکتے رہے تھے، البتہ ان کے بعد یوشع بن نون علیہ السلام کی قیادت میں نئی نسل نے فلسطین اور شام اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق فتح کیے، وعدہ یہ تھا: «{ يٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِيْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ }» [ المائدۃ: ۲۱ ] ”اے میری قوم! اس مقدس زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے۔“ پھر مصر پر بھی بنی اسرائیل کی حکومت قائم ہو گئی، جیسا کہ فرمایا: «{ كَذٰلِكَ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ }» [ الشعراء: ۵۹ ] ”ایسے ہی ہوا اور ہم نے ان کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا۔“ پھر بنی اسرائیل پر حکومت اور غلامی کے کئی دور آئے، کبھی داؤد اور سلیمان علیہما السلام جیسے عظیم الشان حکمران آئے اور کبھی بخت نصر اور دوسرے کفار کے ہاتھوں ان کی پامالی ہوئی اور اس پامالی کا سبب ہمیشہ ان کا اختلاف بنا، جس کا باعث ان کی لاعلمی نہ تھا بلکہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے وہ احبار و رہبان کو رب بنا کر مختلف سیاسی اور دینی فرقوں میں بٹ گئے تھے۔ احادیث میں ان کے بہتر (۷۲) فرقوں کا ذکر ہے، ان میں صحیح کون تھا اور غلط کون! یہ فیصلہ اب قیامت کے دن رب تعالیٰ ہی فرمائیں گے۔ ➋ {” فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ “} کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اللہ کی کتاب تورات کی صاف پیش گوئی کے مطابق بنی اسرائیل کا اتفاق تھا کہ خاتم النّبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے ہیں، کسی کا بھی اختلاف نہ تھا اور کوئی اس سے لا علم نہ تھا، بلکہ سب آپ کے آنے کے منتظر تھے اور آپ کے آنے کی دعا کرتے تھے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ۠ عَلَى الَّذِيْنَ كَفَرُوْا }» [ البقرۃ: ۸۹ ] ”حالانکہ وہ اس سے پہلے ان لوگوں پر فتح طلب کیا کرتے تھے جنھوں نے کفر کیا۔“ مگر جب آپ تشریف لے آئے تو آپ کو پہچان لینے کے بعد محض ضد اور حسد کی وجہ سے ان کا اتفاق اختلاف میں بدل گیا۔ کسی نے کہا، وہ ہیں ہی نہیں جن کے آنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ کسی نے کہا یہ ہمارے نہیں بلکہ صرف امیوں کے رسول ہیں۔ بعض خوش نصیبوں نے ایمان قبول بھی کر لیا، بہرحال علم کے بعد اختلاف کا فیصلہ اب رب تعالیٰ ہی فرمائیں گے۔
← پچھلی آیت (92) پوری سورۃ اگلی آیت (94) →