بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يونس — Surah Yunus
آیت نمبر 53
کل آیات: 109
قرآن کریم يونس آیت 53
آیت نمبر: 53 — سورۃ يونس islamicurdubooks.com ↗
وَ یَسۡتَنۡۢبِئُوۡنَکَ اَحَقٌّ ہُوَ ؕؔ قُلۡ اِیۡ وَ رَبِّیۡۤ اِنَّہٗ لَحَقٌّ ۚؕؔ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿٪۵۳﴾
پھر پُوچھتے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے جو تم کہہ رہے ہو؟ کہو “میرے رب کی قسم، یہ بالکل سچ ہے اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے ظہُور میں آنے سے روک دو"
اور وه آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا عذاب واقعی سچ ہے؟ آپ فرما دیجئے کہ ہاں قسم ہے میرے رب کی وه واقعی سچ ہے اور تم کسی طرح اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے
اور تم سے پوچھتے ہیں کیا وہ حق ہے، تم فرماؤ، ہاں! میرے رب کی قسم بیشک وہ ضرور حق ہے، اور تم کچھ تھکا نہ سکو گے
اور وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سچ ہے؟ (جو آپ کہتے ہیں؟) کہیے ہاں خدا کی قسم یہ بالکل سچ ہے اور تم (خدا کو) عاجز و بے بس نہیں بنا سکتے۔
اور وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا یہ سچ ہی ہے؟ تو کہہ ہاں! مجھے اپنے رب کی قسم! یقینا یہ ضرور سچ ہے اور تم ہر گز عاجز کرنے والے نہیں ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مٹی ہو نے کے بعد جینا کیسا ہے؟ ٭٭

’ پوچھتے ہیں کہ کیا مٹی ہو جانے اور سڑ گل جانے کے بعد جی اُٹھنا اور قیامت کا قائم ہونا حق ہی ہے؟ تو ان کا شبہ مٹا دے اور قسم کھا کر کہہ دے کہ یہ سراسر حق ہی ہے۔ جس اللہ نے تمہیں اس وقت پیدا کیا جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ وہ تمہیں دوبارہ جب کہ تم مٹی ہو جاؤ گے پیدا کرنے پر یقیناً قادر ہے وہ تو جو چاہتا ہے فرما دیتا ہے کہ «إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» ۱؎ [36-يس:82] ‏‏‏‏ ’ یوں ہو جا اسی وقت ہو جاتا ہے ‘ ‘۔ اسی مضمون کی اور دو آیتیں قرآن کریم میں ہیں۔ سورۃ سبا میں ہے «قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُم» ۱؎ [34-سبأ:3] ‏‏‏‏، سورۃ التغابن میں ہے «قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُم» ۱؎ [64-التغابن:7] ‏‏‏‏ ان دونوں میں بھی قیامت کے ہونے پر قسم کھا کر یقین دلایا گیا ہے۔ اس دن تو کفار زمین بھر کر سونا اپنے بدلے میں دے کر بھی چھٹکارا پانا پسند کریں گے۔ دلوں میں ندامت ہوگی، عذاب سامنے ہوں گے، حق کے ساتھ فیصلے ہو رہے ہوں گے، کسی پر ظلم ہرگز نہ ہوگا۔ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [52-الطور:13-16] ‏‏‏‏ ’ جس دن وه دھکے دیدے کر آتش جہنم کی طرف لائیں جائیں گے، یہی وه آتش دوزخ ہے جسے تم جھوٹ بتلاتے تھے، (‏‏‏‏اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں ہو، جاؤ دوزخ میں اب تمہارا صبر کرنا اور نہ کرنا تمہارے لیے یکساں ہے تمہیں فقط تمہارے کیے کا بدلہ دیا جائے گا ‘۔

📖 احسن البیان

53۔ 1 یعنی وہ پوچھتے ہیں کہ یہ قیامت اور انسانوں کے مٹی ہوجانے کے بعد ان کا دوبارہ جی اٹھا ایک برحق ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے پیغمبر! ان سے کہہ دیجئے کہ تمہارا مٹی ہو کر مٹی میں مل جانا، اللہ تعالیٰ کو دوبارہ زندہ کرنے سے عاجز نہیں کرسکتا۔ اس لئے یقینا یہ ہو کر رہے گا۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس آیت کی نظیر قرآن میں مذید صرف دو آیتیں ہیں کہ جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا ہے کہ وہ قسم کھا کر قیامت کے وقوع کا اعلان کریں۔ ایک سورة سبا، آیت 13 اور دوسرا سورة تغابن آیت۔ 7۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 53) ➊ {وَ يَسْتَنْۢبِـُٔوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ …: ” نَبَأٌ “} بہت بڑی اہمیت والی خبر کو کہتے ہیں۔ (راغب) {” يَسْتَنْبِـُٔوْنَ“نَبَأٌ“} کے باب استفعال سے طلب کے لیے ہے۔ جب کفار کو ان کے سوال {” مَتٰي هٰذَا الْوَعْدُ “} کا مذکورہ جواب دیا گیا تو انھوں نے اسی سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ سوال کیا {” اَحَقٌّ هُوَ “} کیا یہ سچ ہی ہے، یا محض ہمیں ڈرایا جا رہا ہے؟ چونکہ کفار اپنے قیامت کے انکار اور قرآن کے اس کے قیام پر واضح دلائل کی وجہ سے سخت قلق اور پریشانی کا شکار تھے کہ اسے مانیں یا نہ مانیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یقین دلانے کے لیے تاکید کے کئی الفاظ جمع کرکے فرمایا {” قُلْ “} آپ ان سے کہہ دیجیے:{اِيْ وَ رَبِّيْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّاِيْ“} کا معنی {” نَعَمْ “ } یعنی ہاں ہے، مگر یہ ہمیشہ قسم کے ساتھ آتا ہے، پھر{”إِنَّ“ } تاکید کا ہے، پھر لامِ تاکید ہے کہ ہاں، مجھے اپنے رب کی قسم ہے! یقینا یہ ضرور حق ہے۔ حافظ ابن کثیررحمہ اللہ نے فرمایا، قرآن مجید میں اس جیسی صرف دو اور آیتیں ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ نے آخرت کے منکروں کو قسم کھا کر کہنے کا حکم دیا، پہلی آیت: «{ وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِيْنَا السَّاعَةُ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُم}» [ سبا: ۳ ] دوسری آیت: «{ زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْاقُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ }» [التغابن: ۷ ] ➋ {وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ:} ”باء“ کی وجہ سے نفی کی تاکید کے لیے ترجمہ ”ہر گز“ کیا گیا ہے، یعنی نہ تم ہمارے عذاب سے بھاگ کر کہیں جا سکتے ہو کہ ہمیں پکڑنے سے عاجز کر دو اور نہ کسی طرح اسے روک سکتے ہو۔
← پچھلی آیت (52) پوری سورۃ اگلی آیت (54) →