بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
المائده
سورۃ المائده — 120 آیات — صفحہ 2 از 3
قرآن کریم Surah 5
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ مِنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ، یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے، یقیناً اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! تم یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو بھی ان میں کسی سے دوستی کرے وه بےشک انہی میں سے ہے، ﻇالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راه راست نہیں دکھاتا
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے بیشک اللہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو ان سے دوستی کرے گا وہ انہی میں سے شمار ہوگا۔ بے شک خدا ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بنائو، ان کے بعض بعض کے دوست ہیں اور تم میں سے جو انھیں دوست بنائے گا تو یقینا وہ ان میں سے ہے، بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دشمن اسلام سے دوستی منع ہے ٭٭

دشمنان اسلام یہود و نصاریٰ سے دوستیاں کرنے کی اللہ تبارک و تعالیٰ ممانعت فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ وہ تمہارے دوست ہرگز نہیں ہو سکتے کیونکہ تمہارے دین سے انہیں بغض و عداوت ہے۔ ہاں اپنے والوں سے ان کی دوستیاں اور محبتیں ہیں۔ میرے نزدیک تو جو بھی ان سے دلی محبت رکھے وہ ان ہی میں سے ہے ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو اس بات پر پوری تنبیہہ کی اور یہ آیت پڑھ سنائی۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1156/4:حسن] ‏‏‏‏ حضرت عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے فرمایا ”لوگو! تمہیں اس سے بچنا چاہیئے کہ تمہیں خود تو معلوم نہ ہو اور تم اللہ کے نزدیک یہود و نصرانی بن جاؤ“، ہم سمجھ گئے کہ آپ کی مراد اسی آیت کے مضمون سے ہے۔۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1156/4:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرب نصرانیوں کے ذبیحہ کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت کی۔ جس کے دل میں کھوٹ ہے وہ تو لپک لپک کر پوشیدہ طور پر ان سے ساز باز اور محبت و مودت کرتے ہیں اور بہانہ یہ بناتے ہیں کہ ہمیں خطرہ ہے اگر مسلمانوں پر یہ لوگ غالب آگئے تو پھر ہماری تباہی کردیں گے، اس لیے ہم ان سے بھی میل ملاپ رکھتے ہیں، ہم کیوں کسی سے بگاڑیں؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ ممکن ہے اللہ مسلمانوں کو صاف طور پر غالب کر دے، مکہ بھی ان کے ہاتھوں فتح ہو جائے، فیصلے اور حکم ان ہی کے چلنے لگیں، حکومت ان کے قدموں میں سر ڈال دے۔ یا اللہ تعالیٰ اور کوئی چیز اپنے پاس سے لائے یعنی یہود نصاریٰ کو مغلوب کر کے انہیں ذلیل کر کے ان سے جزیہ لینے کا حکم مسلمانوں کو دیدے پھر تو یہ منافقین جو آج لپک لپک کر ان سے گہری دوستی کرتے پھرتے ہیں، بڑے بھنانے لگیں گے اور اپنی اس چالاکی پر خون کے آنسو بہانے لگیں گے۔ ان کے پردے کھل جائیں گے اور یہ جیسے اندر تھے ویسے ہی باہر سے نظر آئیں گے۔ اس وقت مسلمان ان کی مکاریوں پر تعجب کریں گے اور کہیں گے اے لو یہی وہ لوگ ہیں، جو بڑی بڑی قسمیں کھا کھا کر ہمیں یقین دلاتے تھے کہ یہ ہمارے ساتھی ہیں۔ انہوں نے جو پایا تھا وہ کھو دیا تھا اور برباد ہو گئے ‘۔ «‏‏‏‏وَيَقُولُ» تو جمہور کی قرأت ہے۔ ایک قرأت بغیر واؤ کے بھی ہے اہل مدینہ کی یہی قرأت ہے۔ «يَقُولُ» تو مبتداء اور دوسری قرأت اس کی «يَقُوْلَ» ہے تو یہ «فَعَسَى» پر عطف ہو گا گویا «وَاَنْ يَقُوْلَ» ہے اہلِ مدینہ کے نزدیک۔

ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ جنگ احد کے بعد ایک شخص نے کہا کہ میں اس یہودی سے دوستی کرتا ہوں تاکہ موقع پر مجھے نفع پہنچے، دوسرے نے کہا، میں فلاں نصرانی کے پاس جاتا ہوں، اس سے دوستی کر کے اس کی مدد کروں گا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں ”ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ آیتیں اتریں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنو قریظہ کی طرف بھیجا تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا یعنی تم سب کو قتل کرا دیں گے۔‏‏‏‏“ ایک روایت میں ہے کہ یہ آیتیں عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں اتری ہیں۔ عبادہ بن صامت نے صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ بہت سے یہودیوں سے میری دوستی ہے مگر میں ان سب کی دوستیاں توڑتا ہوں، مجھے اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دوستی کافی ہے۔ اس پر اس منافق نے کہا میں دور اندیش ہوں، دور کی سوچنے کا عادی ہوں، مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا، نہ جانے کس وقت کیا موقعہ پڑ جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے عبداللہ تو عبادہ کے مقابلے میں بہت ہی گھاٹے میں رہا }، اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12162:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ ”جب بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی تو بعض مسلمانوں نے اپنے ملنے والے یہودیوں سے کہا کہ یہی تمہاری حالت ہو، اس سے پہلے ہی تم اس دین برحق کو قبول کر لو انہوں نے جواب دیا کہ چند قریشیوں پر جو لڑائی کے فنون سے بے بہرہ ہیں، فتح مندی حاصل کر کے کہیں تم مغرور نہ ہو جانا، ہم سے اگر پالا پڑا تو ہم تو تمہیں بتا دیں گے کہ لڑائی اسے کہتے ہیں۔ اس پر عبادہ اور عبداللہ بن ابی کا وہ مکالمہ ہوا جو اوپر بیان ہو چکا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12163:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏

جب یہودیوں کے اس قبیلہ سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی اور بفضل رب یہ غالب آگئے تو اب عبداللہ بن ابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے دوستوں کے معاملے میں مجھ پر احسان کیجئے، یہ لوگ خزرج کے ساتھی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اس نے پھر کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ موڑ لیا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے چپک گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ سے فرمایا کہ { چھوڑ دے }، اس نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نہ چھوڑوں گا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں احسان کریں، ان کی بڑی پوری جماعت ہے اور آج تک یہ لوگ میرے طرفدار رہے اور ایک ہی دن میں یہ سب فنا کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ مجھے تو آنے والی مصیبتوں کا کھٹکا ہے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جا وہ سب تیرے لیے ہیں }۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:174/3:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ جب بنو قینقاع کے یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی اور اللہ نے انہیں نیچا دکھایا تو عبداللہ بن ابی ان کی حمایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرنے لگا اور عبادہ بن صامت نے باوجودیکہ یہ بھی ان کے حلیف تھے لیکن انہوں نے ان سے صاف برأت ظاہر کی۔ اس پر یہ آیتیں «فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [5-المائدہ:56] ‏‏‏‏ تک اتریں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12164] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ اس منافق عبداللہ بن ابی کی عیادت کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے تو تجھے بارہا ان یہودیوں کی محبت سے روکا } } تو اس نے کہا سعد بن زرارہ تو ان سے دشمنی رکھتا تھا وہ بھی مر گیا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3094،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏
51۔ 1 اس میں یہود اور نصاریٰ سے موالات و محبت کا رشتہ قائم کرنے سے منع کیا گیا ہے جو اسلام کے اور مسلمانوں کے دشمن ہیں اور اس پر اتنی سخت وعید بیان فرمائی گئی جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انہیں میں سے سمجھا جائے گا۔ (مزید دیکھئے سورة آل عمران آیت 28 اور آیت 118 کا حاشیہ) 51۔ 2 قرآن کی اس بیان کردہ حقیقت کا مشاہدہ ہر شخص کرسکتا ہے کہ یہود اور نصاریٰ اگرچہ آپس میں عقائد کے لحاظ سے شدید اختلاف اور باہمی بغض وعناد ہے، لیکن اس کے باوجود یہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک دوسرے کے معاون بازو اور محافظ ہیں۔ 51۔ 3 ان آیات کی شان نزول میں بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت انصاری ؓ اور رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی دونوں ہی عہد جاہلیت سے یہود کے حلیف چلے آ رہے تھے۔ جب بدر میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی تو عبد اللہ بن ابی نے بھی اسلام کا اظہار کیا۔ ادھر بنو قینقاع کے یہودیوں نے تھوڑے ہی دنوں بعد فتنہ برپا کیا اور وہ کس لئے گئے، جس پر حضرت عبادہ ؓ نے تو اپنے یہودی حلیفوں سے اعلان براءت کردیا۔ لیکن عبد اللہ بن ابی نے اس کے برعکس یہودیوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ جس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
(آیت 51) {لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِيَآءَ ……: ” اَوْلِيَآءَ “} یہ{”وَلِيٌّ“} کی جمع ہے، مراد دلی دوست ہیں۔ اس آیت میں مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ کی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور یہ طے شدہ بات ہے کہ دشمن کا دوست بھی دشمن ہوتا ہے، تو جسے تم اپنا خیر خواہ سمجھ کر دوست بنا رہے ہو اس کی اپنے ہم مذہب لوگوں کے ساتھ بھی دوستی ہے جو تمھارے شدید دشمن ہیں، وہ آپس میں کتنا بھی اختلاف رکھتے ہوں تمھاری عداوت میں وہ ایک ہیں اور ایک دوسرے کے مدد گار ہیں، تو تمھاری یہود و نصاریٰ کے ساتھ دوستی کیسے ہو سکتی ہے؟ اس پر اتنی سختی فرمائی کہ فرمایا تم میں سے جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انھی میں سے ہے۔ رہا ان سے اچھا تعلق رکھنا، خوش اخلاقی، حسن سلوک اور احسان تو وہ ان لوگوں کے ساتھ کر سکتے ہو جنھوں نے دین کی وجہ سے تم سے جنگ نہیں کی، جن کا ذکر سورۂ ممتحنہ(۸) میں ہے۔ صرف یہود و نصاریٰ ہی سے نہیں تمام کفار کی دلی دوستی سے منع فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۲۳)، سورۂ مجادلہ(۲۲) اور آل عمران (۲۸، ۱۱۸)۔
فَتَرَی الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوۡنَ فِیۡہِمۡ یَقُوۡلُوۡنَ نَخۡشٰۤی اَنۡ تُصِیۡبَنَا دَآئِرَۃٌ ؕ فَعَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّاۡتِیَ بِالۡفَتۡحِ اَوۡ اَمۡرٍ مِّنۡ عِنۡدِہٖ فَیُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَاۤ اَسَرُّوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ نٰدِمِیۡنَ ﴿ؕ۵۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ اُنہی میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں کہتے ہیں "ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکر میں نہ پھنس جائیں" مگر بعید نہیں کہ اللہ جب تمہیں فیصلہ کن فتح بخشے گا یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کرے گا تو یہ لوگ اپنے اِس نفاق پر جسے یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں نادم ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ دیکھیں گے کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے وه دوڑ دوڑ کر ان میں گھس رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں خطره ہے، ایسا نہ ہو کہ کوئی حادﺛہ ہم پر پڑ جائے بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ فتح دے دے۔ یا اپنے پاس سے کوئی اور چیز ﻻئے پھر تو یہ اپنے دلوں میں چھپائی ہوئی باتوں پر (بے طرح) نادم ہونے لگیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اب تم انہیں دیکھو گے جن کے دلوں میں آزار ہے کہ یہود و نصاریٰ کی طرف دوڑتے ہیں کہتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ ہم پر کوئی گردش آجائے تو نزدیک ہے کہ اللہ فتح لائے یا اپنی طرف سے کوئی حکم پھر اس پر جو اپنے دلوں میں چھپایا تھا پچھتائے رہ جائیں
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) آپ دیکھیں گے کہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے۔ وہ دوڑ دوڑ کر ان (یہود و نصاریٰ) کی طرف جاتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں ہم پر کوئی گردش زمانہ نہ آجائے سو قریب ہے کہ اللہ (تمہیں) فتح سے ہمکنار کر دے یا (کامیابی کی) کوئی اور صورت اپنی طرف سے ظاہر کر دے، تو پھر وہ اس پر جو انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھا ہے نادم و پشیمان ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
پس تو ان لوگوں کو دیکھے گا جن کے دلوں میں ایک بیماری ہے کہ وہ دوڑ کر ان میں جاتے ہیں، کہتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ ہمیں کوئی چکر آ پہنچے، تو قریب ہے کہ اللہ فتح لے آئے، یا اپنے پاس سے کوئی اور معاملہ تو وہ اس پر جو انھوں نے اپنے دلوں میں چھپایا تھا، پشیمان ہو جائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دشمن اسلام سے دوستی منع ہے ٭٭

دشمنان اسلام یہود و نصاریٰ سے دوستیاں کرنے کی اللہ تبارک و تعالیٰ ممانعت فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ وہ تمہارے دوست ہرگز نہیں ہو سکتے کیونکہ تمہارے دین سے انہیں بغض و عداوت ہے۔ ہاں اپنے والوں سے ان کی دوستیاں اور محبتیں ہیں۔ میرے نزدیک تو جو بھی ان سے دلی محبت رکھے وہ ان ہی میں سے ہے ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو اس بات پر پوری تنبیہہ کی اور یہ آیت پڑھ سنائی۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1156/4:حسن] ‏‏‏‏ حضرت عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے فرمایا ”لوگو! تمہیں اس سے بچنا چاہیئے کہ تمہیں خود تو معلوم نہ ہو اور تم اللہ کے نزدیک یہود و نصرانی بن جاؤ“، ہم سمجھ گئے کہ آپ کی مراد اسی آیت کے مضمون سے ہے۔۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1156/4:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرب نصرانیوں کے ذبیحہ کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت کی۔ جس کے دل میں کھوٹ ہے وہ تو لپک لپک کر پوشیدہ طور پر ان سے ساز باز اور محبت و مودت کرتے ہیں اور بہانہ یہ بناتے ہیں کہ ہمیں خطرہ ہے اگر مسلمانوں پر یہ لوگ غالب آگئے تو پھر ہماری تباہی کردیں گے، اس لیے ہم ان سے بھی میل ملاپ رکھتے ہیں، ہم کیوں کسی سے بگاڑیں؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ ممکن ہے اللہ مسلمانوں کو صاف طور پر غالب کر دے، مکہ بھی ان کے ہاتھوں فتح ہو جائے، فیصلے اور حکم ان ہی کے چلنے لگیں، حکومت ان کے قدموں میں سر ڈال دے۔ یا اللہ تعالیٰ اور کوئی چیز اپنے پاس سے لائے یعنی یہود نصاریٰ کو مغلوب کر کے انہیں ذلیل کر کے ان سے جزیہ لینے کا حکم مسلمانوں کو دیدے پھر تو یہ منافقین جو آج لپک لپک کر ان سے گہری دوستی کرتے پھرتے ہیں، بڑے بھنانے لگیں گے اور اپنی اس چالاکی پر خون کے آنسو بہانے لگیں گے۔ ان کے پردے کھل جائیں گے اور یہ جیسے اندر تھے ویسے ہی باہر سے نظر آئیں گے۔ اس وقت مسلمان ان کی مکاریوں پر تعجب کریں گے اور کہیں گے اے لو یہی وہ لوگ ہیں، جو بڑی بڑی قسمیں کھا کھا کر ہمیں یقین دلاتے تھے کہ یہ ہمارے ساتھی ہیں۔ انہوں نے جو پایا تھا وہ کھو دیا تھا اور برباد ہو گئے ‘۔ «‏‏‏‏وَيَقُولُ» تو جمہور کی قرأت ہے۔ ایک قرأت بغیر واؤ کے بھی ہے اہل مدینہ کی یہی قرأت ہے۔ «يَقُولُ» تو مبتداء اور دوسری قرأت اس کی «يَقُوْلَ» ہے تو یہ «فَعَسَى» پر عطف ہو گا گویا «وَاَنْ يَقُوْلَ» ہے اہلِ مدینہ کے نزدیک۔

ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ جنگ احد کے بعد ایک شخص نے کہا کہ میں اس یہودی سے دوستی کرتا ہوں تاکہ موقع پر مجھے نفع پہنچے، دوسرے نے کہا، میں فلاں نصرانی کے پاس جاتا ہوں، اس سے دوستی کر کے اس کی مدد کروں گا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں ”ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ آیتیں اتریں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنو قریظہ کی طرف بھیجا تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا یعنی تم سب کو قتل کرا دیں گے۔‏‏‏‏“ ایک روایت میں ہے کہ یہ آیتیں عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں اتری ہیں۔ عبادہ بن صامت نے صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ بہت سے یہودیوں سے میری دوستی ہے مگر میں ان سب کی دوستیاں توڑتا ہوں، مجھے اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دوستی کافی ہے۔ اس پر اس منافق نے کہا میں دور اندیش ہوں، دور کی سوچنے کا عادی ہوں، مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا، نہ جانے کس وقت کیا موقعہ پڑ جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے عبداللہ تو عبادہ کے مقابلے میں بہت ہی گھاٹے میں رہا }، اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12162:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ ”جب بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی تو بعض مسلمانوں نے اپنے ملنے والے یہودیوں سے کہا کہ یہی تمہاری حالت ہو، اس سے پہلے ہی تم اس دین برحق کو قبول کر لو انہوں نے جواب دیا کہ چند قریشیوں پر جو لڑائی کے فنون سے بے بہرہ ہیں، فتح مندی حاصل کر کے کہیں تم مغرور نہ ہو جانا، ہم سے اگر پالا پڑا تو ہم تو تمہیں بتا دیں گے کہ لڑائی اسے کہتے ہیں۔ اس پر عبادہ اور عبداللہ بن ابی کا وہ مکالمہ ہوا جو اوپر بیان ہو چکا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12163:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏

جب یہودیوں کے اس قبیلہ سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی اور بفضل رب یہ غالب آگئے تو اب عبداللہ بن ابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے دوستوں کے معاملے میں مجھ پر احسان کیجئے، یہ لوگ خزرج کے ساتھی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اس نے پھر کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ موڑ لیا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے چپک گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ سے فرمایا کہ { چھوڑ دے }، اس نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نہ چھوڑوں گا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں احسان کریں، ان کی بڑی پوری جماعت ہے اور آج تک یہ لوگ میرے طرفدار رہے اور ایک ہی دن میں یہ سب فنا کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ مجھے تو آنے والی مصیبتوں کا کھٹکا ہے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جا وہ سب تیرے لیے ہیں }۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:174/3:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ جب بنو قینقاع کے یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی اور اللہ نے انہیں نیچا دکھایا تو عبداللہ بن ابی ان کی حمایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرنے لگا اور عبادہ بن صامت نے باوجودیکہ یہ بھی ان کے حلیف تھے لیکن انہوں نے ان سے صاف برأت ظاہر کی۔ اس پر یہ آیتیں «فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [5-المائدہ:56] ‏‏‏‏ تک اتریں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12164] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ اس منافق عبداللہ بن ابی کی عیادت کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے تو تجھے بارہا ان یہودیوں کی محبت سے روکا } } تو اس نے کہا سعد بن زرارہ تو ان سے دشمنی رکھتا تھا وہ بھی مر گیا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3094،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏
52۔ 1 اس سے مراد نفاق ہے۔ یعنی منافقین یہودیوں سے محبت اور دوستی میں جلدی کر رہے ہیں۔ 52۔ 2 یعنی مسلمانوں کو شکست ہوجائے اور اس کی وجہ سے ہمیں بھی کچھ نقصان اٹھانا پڑے۔ یہودیوں میں دوستی ہوگی تو ایسے موقع پر ہمارے بڑے کام آئے گی۔ 52۔ 3 یعنی مسلمانوں کو۔ 52۔ 4 یہود و نصاریٰ پر جزیہ عائد کر دے یہ اشارہ ہے جو بنو قریظ کے قتل اور ان کی اولاد کے قیدی بنانے اور بنو نضیر کی جلا وطنی وغیرہ کی طرف، جس کا وقوع مستقبل قریب میں ہی ہوا۔
(آيت 52) {فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ ……:} یعنی منافقین جو یہود و نصاریٰ کی طرف دوڑتے اور ان کے ساتھ دوستی کیے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں مسلمان زمانے کے کسی چکر میں آ کر مغلوب نہ ہو جائیں، پھر ہمارا کیا بنے گا، اس وقت ان کی دوستی ہمارے کام آئے گی، سو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے، بلکہ یقینا ہو گا (لفظ {”عَسٰي“} اﷲ اور رسول کے فرمان میں یقین کے معنی میں آتا ہے) کہ مسلمانوں کو فتح ہو گی، کافر مغلوب ہوں گے، پھر وہ قتل ہوں گے، یا جلاوطن ہوں گے، یا انھیں جزیہ دینا پڑے گا، پھر ان منافقین کو ندامت ہو گی کہ ہم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا، مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی، بنو قریظہ کے یہودی قتل ہوئے، بنو نضیر کو سر زمین مدینہ سے نکال دیا گیا اور یہ لوگ اپنے نفاق پر کفِ افسوس ملتے رہ گئے۔
وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَہٰۤؤُلَآءِ الَّذِیۡنَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ ۙ اِنَّہُمۡ لَمَعَکُمۡ ؕ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فَاَصۡبَحُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿۵۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُس وقت اہل ایمان کہیں گے "کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں؟" ان کے سب اعمال ضائع ہوگئے اور آخر کار یہ ناکام و نامراد ہو کر رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ایمان والے کہیں گے، کیا یہی وه لوگ ہیں جو بڑے مبالغہ سے اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کے اعمال غارت ہوئے اور یہ ناکام ہوگئے
احمد رضا خان بریلوی
اور ایمان والے کہتے ہیں کیا یہی ہیں جنہوں نے اللہ کی قسم کھائی تھی اپنے حلف میں پوری کوشش سے کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں ان کا کیا دھرا سب اکارت گیا تو رہ گئے نقصان میں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو ایمان والے ہیں۔ وہ (حیرت سے) کہیں گے کیا یہ وہ لوگ ہیں۔ جنہوں نے بڑی سخت قسمیں کھائی تھیں کہ بے شک وہ تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کے سب عمل ضائع ہوگئے اور وہ نقصان اٹھانے والے ہوگئے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جو ایمان لائے، کہتے ہیں کیا یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنی پختہ قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی تھی کہ وہ یقینا تمھارے ساتھ ہیں۔ ان کے اعمال ضائع ہوگئے، پس وہ خسارہ اٹھانے والے ہوگئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دشمن اسلام سے دوستی منع ہے ٭٭

دشمنان اسلام یہود و نصاریٰ سے دوستیاں کرنے کی اللہ تبارک و تعالیٰ ممانعت فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ وہ تمہارے دوست ہرگز نہیں ہو سکتے کیونکہ تمہارے دین سے انہیں بغض و عداوت ہے۔ ہاں اپنے والوں سے ان کی دوستیاں اور محبتیں ہیں۔ میرے نزدیک تو جو بھی ان سے دلی محبت رکھے وہ ان ہی میں سے ہے ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو اس بات پر پوری تنبیہہ کی اور یہ آیت پڑھ سنائی۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1156/4:حسن] ‏‏‏‏ حضرت عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے فرمایا ”لوگو! تمہیں اس سے بچنا چاہیئے کہ تمہیں خود تو معلوم نہ ہو اور تم اللہ کے نزدیک یہود و نصرانی بن جاؤ“، ہم سمجھ گئے کہ آپ کی مراد اسی آیت کے مضمون سے ہے۔۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1156/4:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرب نصرانیوں کے ذبیحہ کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت کی۔ جس کے دل میں کھوٹ ہے وہ تو لپک لپک کر پوشیدہ طور پر ان سے ساز باز اور محبت و مودت کرتے ہیں اور بہانہ یہ بناتے ہیں کہ ہمیں خطرہ ہے اگر مسلمانوں پر یہ لوگ غالب آگئے تو پھر ہماری تباہی کردیں گے، اس لیے ہم ان سے بھی میل ملاپ رکھتے ہیں، ہم کیوں کسی سے بگاڑیں؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ ممکن ہے اللہ مسلمانوں کو صاف طور پر غالب کر دے، مکہ بھی ان کے ہاتھوں فتح ہو جائے، فیصلے اور حکم ان ہی کے چلنے لگیں، حکومت ان کے قدموں میں سر ڈال دے۔ یا اللہ تعالیٰ اور کوئی چیز اپنے پاس سے لائے یعنی یہود نصاریٰ کو مغلوب کر کے انہیں ذلیل کر کے ان سے جزیہ لینے کا حکم مسلمانوں کو دیدے پھر تو یہ منافقین جو آج لپک لپک کر ان سے گہری دوستی کرتے پھرتے ہیں، بڑے بھنانے لگیں گے اور اپنی اس چالاکی پر خون کے آنسو بہانے لگیں گے۔ ان کے پردے کھل جائیں گے اور یہ جیسے اندر تھے ویسے ہی باہر سے نظر آئیں گے۔ اس وقت مسلمان ان کی مکاریوں پر تعجب کریں گے اور کہیں گے اے لو یہی وہ لوگ ہیں، جو بڑی بڑی قسمیں کھا کھا کر ہمیں یقین دلاتے تھے کہ یہ ہمارے ساتھی ہیں۔ انہوں نے جو پایا تھا وہ کھو دیا تھا اور برباد ہو گئے ‘۔ «‏‏‏‏وَيَقُولُ» تو جمہور کی قرأت ہے۔ ایک قرأت بغیر واؤ کے بھی ہے اہل مدینہ کی یہی قرأت ہے۔ «يَقُولُ» تو مبتداء اور دوسری قرأت اس کی «يَقُوْلَ» ہے تو یہ «فَعَسَى» پر عطف ہو گا گویا «وَاَنْ يَقُوْلَ» ہے اہلِ مدینہ کے نزدیک۔

ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ جنگ احد کے بعد ایک شخص نے کہا کہ میں اس یہودی سے دوستی کرتا ہوں تاکہ موقع پر مجھے نفع پہنچے، دوسرے نے کہا، میں فلاں نصرانی کے پاس جاتا ہوں، اس سے دوستی کر کے اس کی مدد کروں گا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں ”ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ آیتیں اتریں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنو قریظہ کی طرف بھیجا تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا یعنی تم سب کو قتل کرا دیں گے۔‏‏‏‏“ ایک روایت میں ہے کہ یہ آیتیں عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں اتری ہیں۔ عبادہ بن صامت نے صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ بہت سے یہودیوں سے میری دوستی ہے مگر میں ان سب کی دوستیاں توڑتا ہوں، مجھے اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دوستی کافی ہے۔ اس پر اس منافق نے کہا میں دور اندیش ہوں، دور کی سوچنے کا عادی ہوں، مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا، نہ جانے کس وقت کیا موقعہ پڑ جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے عبداللہ تو عبادہ کے مقابلے میں بہت ہی گھاٹے میں رہا }، اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12162:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ ”جب بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی تو بعض مسلمانوں نے اپنے ملنے والے یہودیوں سے کہا کہ یہی تمہاری حالت ہو، اس سے پہلے ہی تم اس دین برحق کو قبول کر لو انہوں نے جواب دیا کہ چند قریشیوں پر جو لڑائی کے فنون سے بے بہرہ ہیں، فتح مندی حاصل کر کے کہیں تم مغرور نہ ہو جانا، ہم سے اگر پالا پڑا تو ہم تو تمہیں بتا دیں گے کہ لڑائی اسے کہتے ہیں۔ اس پر عبادہ اور عبداللہ بن ابی کا وہ مکالمہ ہوا جو اوپر بیان ہو چکا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12163:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏

جب یہودیوں کے اس قبیلہ سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی اور بفضل رب یہ غالب آگئے تو اب عبداللہ بن ابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے دوستوں کے معاملے میں مجھ پر احسان کیجئے، یہ لوگ خزرج کے ساتھی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اس نے پھر کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ موڑ لیا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے چپک گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ سے فرمایا کہ { چھوڑ دے }، اس نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نہ چھوڑوں گا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں احسان کریں، ان کی بڑی پوری جماعت ہے اور آج تک یہ لوگ میرے طرفدار رہے اور ایک ہی دن میں یہ سب فنا کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ مجھے تو آنے والی مصیبتوں کا کھٹکا ہے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جا وہ سب تیرے لیے ہیں }۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:174/3:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ جب بنو قینقاع کے یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی اور اللہ نے انہیں نیچا دکھایا تو عبداللہ بن ابی ان کی حمایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرنے لگا اور عبادہ بن صامت نے باوجودیکہ یہ بھی ان کے حلیف تھے لیکن انہوں نے ان سے صاف برأت ظاہر کی۔ اس پر یہ آیتیں «فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [5-المائدہ:56] ‏‏‏‏ تک اتریں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12164] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ اس منافق عبداللہ بن ابی کی عیادت کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے تو تجھے بارہا ان یہودیوں کی محبت سے روکا } } تو اس نے کہا سعد بن زرارہ تو ان سے دشمنی رکھتا تھا وہ بھی مر گیا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3094،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 53) {وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا ……:} یعنی مسلمان جب جنگ کے وقت منافقین کو یہود و کفار کا ساتھ دیتے ہوئے دیکھتے ہیں تو تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے ہم سے پکی قسمیں کھا کر کہا تھا کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں اور کفار کے دشمن ہیں!! اب ان کی حقیقت کھل گئی۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ یَّرۡتَدَّ مِنۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَسَوۡفَ یَاۡتِی اللّٰہُ بِقَوۡمٍ یُّحِبُّہُمۡ وَ یُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ۫ یُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا یَخَافُوۡنَ لَوۡمَۃَ لَآئِمٍ ؕ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۵۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ اُن کو محبوب ہوگا، جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے، جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو ﻻئے گا جو اللہ کی محبوب ہوگی اور وه بھی اللہ سے محبت رکھتی ہوگی وه نرم دل ہوں گے مسلمانوں پر اور سخت اور تیز ہوں گے کفار پر، اللہ کی راه میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواه بھی نہ کریں گے، یہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل جسے چاہے دے، اللہ تعالیٰ بڑی وسعت واﻻ اور زبردست علم واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا تو عنقریب اللہ ایسے لوگ لائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت اللہ کی راہ میں لڑیں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! جو تم میں سے اپنے دین سے مرتد ہو جائے (پھر جائے) تو خدا کو کیا پروا؟ ﷲ عنقریب ایسے لوگوں کو لے آئے گا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے۔ وہ مؤمنوں پر نرم اور کافروں پر سخت ہوں گے وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے، عطا کرتا ہے اور اللہ بڑا وسعت والا بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ عنقریب ایسے لوگ لائے گا کہ وہ ان سے محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے، مومنوں پر بہت نرم ہوں گے، کافروں پر بہت سخت، اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ اسے دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوت اسلام اور مرتدین ٭٭

اللہ رب العزت جو قادر و غالب ہے خبر دیتا ہے کہ اگر کوئی اس پاک دین سے مرتد ہو جائے تو وہ اسلام کی قوت گھٹا نہیں دے گا، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بدلے ان لوگوں کو اس سچے دین کی خدمت پر مامور کرے گا، جو ان سے ہر حیثیت میں اچھے ہوں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم» ‏‏‏‏ ۱؎ [47-محمد:38] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ» ۱؎ [4-النساء:133] ‏‏‏‏ اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ» ۱؎ [14-إبراهيم:19] ‏‏‏‏، مطلب ان سب آیتوں کا وہی ہے جو بیان ہوا۔ ارتداد کہتے ہیں، حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف پھر جانے کو۔ محمد بن کعب رحمة الله فرماتے ہیں ”یہ آیت سرداران قریش کے بارے میں اتری ہے۔‏‏‏‏“ حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”خلافت صدیق رضی اللہ عنہ میں جو لوگ اسلام سے پھر گئے تھے، ان کا حکم اس آیت میں ہے۔ جس قوم کو ان کے بدلے لانے کا وعدہ دے رہا ہے وہ اہل قادسیہ ہیں یا قوم سبا ہے۔ یا اہل یمن ہیں جو کندہ اور سکون بیلہ کے ہیں۔‏‏‏‏“ ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ پچھلی بات بیان ہوئی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا { وہ اس کی قوم ہے } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:3368:صحیح] ‏‏‏‏

اب ان کامل ایمان والوں کی صفت بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ اپنے دوستوں یعنی مسلمانوں کے سامنے تو بچھ جانے والے، جھک جانے والے ہوتے ہیں اور کفار کے مقابلہ میں تن جانے والے، ان پر بھاری پڑنے والے اور ان پر تیز ہونے والے ہوتے ہیں ‘۔ جیسے فرمایا آیت «اَشِدَّاءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ» ۱؎ [48-الفتح:29] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خندہ مزاج بھی تھے اور قتال بھی یعنی دوستوں کے سامنے ہنس مکھ خندہ رو اور دشمنان دین کے مقابلہ میں سخت اور جنگجو۔ سچے مسلمان راہ حق کے جہاد سے نہ منہ موڑتے ہیں، نہ پیٹھ دکھاتے ہیں، نہ تھکتے ہیں، نہ بزدلی اور آرام طلبی کرتے ہیں، نہ کسی کی مروت میں آتے ہیں، نہ کسی کی ملامت کا خوف کرتے ہیں، وہ برابر اطاعت الٰہی میں اس کے دشمنوں سے جنگ کرنے میں بھلائی کا حکم کرنے میں اور برائیوں سے روکنے میں مشغول رہتے ہیں۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا ہے۔ مسکینوں سے محبت رکھنے، ان کے ساتھ بیٹھنے اٹھنے اور دنیوی امور میں اپنے سے کم درجے کے لوگوں کو دیکھنے اور اپنے سے بڑھے ہوؤں کو نہ دیکھنے، صلہ رحمی کرتے رہنے، گو دوسرے نہ کرتے ہوں اور کسی سے کچھ بھی نہ مانگنے، حق بات بیان کرنے کا گو وہ سب کو کڑوی لگے اور دین کے معاملات میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنے کا اور بہ کثرت «لاَحَولَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہِ» پڑھنے کا، کیونکہ یہ کلمہ عرش کے نیچے کا خزانہ ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:2166:صحیح] ‏‏‏‏

ایک روایت میں ہے { میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچ مرتبہ بیعت کی ہے اور سات باتوں کی آپصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یاددہانی کی ہے اور سات مرتبہ اپنے اوپر اللہ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں اللہ کے دین کے بارے میں کسی بدگو کی بدگوئی کی مطلق پرواہ نہیں کرتا۔ مجھے بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا مجھ سے جنت کے بدلے میں بیعت کرے گا؟ } میں نے منظور کر کے ہاتھ بڑھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرط کی کہ کسی سے کچھ بھی نہ مانگنا۔ میں نے کہا بہت اچھا، فرمایا: { اگرچہ کوڑا بھی ہو }۔ یعنی اگر وہ گر پڑے تو خود سواری سے اتر کر لے لینا }۔ ۱؎ [مسند احمد:172/5:ضعیف] ‏‏‏‏ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { لوگوں کی ہیبت میں آ کر حق گوئی سے نہ رکنا، یاد رکھو نہ تو کوئی موت کو قریب کر سکتا ہے، نہ رزق کو دور کر سکتا ہے } }۔ ملاحظہ ہو امام احمد رحمة الله کی مسند۔ ۱؎ [مسند احمد:87/3:ضعیف] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں { خلاف شرع امر دیکھ کر، سن کر اپنے تئیں کمزور جان کر، خاموش نہ ہو جانا۔ ورنہ اللہ کے ہاں اس کی بازپرس ہوگی، اس وقت انسان جواب دے گا کہ میں لوگوں کے ڈر سے چپکا ہو گیا تو جناب باری تعالیٰ فرمائے گا، ’ میں اس کا زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا ‘ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4008،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے قیامت کے دن ایک سوال یہ بھی کرے گا کہ ’ تو نے لوگوں کو خلاف شرع کام کرتے دیکھ کر اس سے روکا کیوں نہیں؟ ‘ پھر اللہ تعالیٰ خود ہی اسے جواب سمجھائے گا اور یہ کہے گا پروردگار میں نے تجھ پر بھروسہ کیا اور لوگوں سے ڈرا } [ابن ماجہ] ‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایک اور صحیح حدیث میں ہے { { مومن کو نہ چاہیئے کہ اپنے تئیں ذلت میں ڈالے }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا، یہ کس طرح؟ فرمایا: { ان بلاؤں کو اپنے اوپر لے لے، جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4016،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرمایا ’ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے ‘۔ یعنی کمال ایمان کی یہ صفتیں خاص اللہ کا عطیہ ہیں، اسی کی طرف سے ان کی توفیق ہوتی ہے، اس کا فضل بہت ہی وسیع ہے اور وہ کامل علم والا ہے، خوب جانتا ہے کہ اس بہت بڑی نعمت کا مستحق کون ہے؟

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ تمہارے دوست کفار نہیں بلکہ حقیقتاً تمہیں اللہ سے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں سے دوستیاں رکھنی چاہئیں ‘۔ مومن بھی وہ جن میں یہ صفتیں ہوں کہ وہ نماز کے پورے پابند ہوں، جو اسلام کا اعلیٰ اور بہترین رکن ہے اور صرف اللہ کا حق ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جو اللہ کے ضعیف مسکین بندوں کا حق ہے اور آخری جملہ جو ہے اس کی نسبت بعض لوگوں کو وہم سا ہو گیا ہے کہ یہ «وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ» سے حال واقع یعنی ’ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ‘۔ یہ بالکل غلط ہے، اگر اسے مان لیا جائے تو یہ تو نمایاں طور پر ثابت ہو جائے گا کہ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دینا افضل ہے حالانکہ کوئی عالم اس کا قائل ہی نہیں، ان وہمیوں نے یہاں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نماز کے رکوع میں تھے جو ایک سائل آ گیا تو آپ نے اپنی انگوٹھی اتار کر اسے دے دی، ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ «وَالَّذِينَ آمَنُوا» سے مراد بقول عتبہ جملہ مسلمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس پر یہ آیت اتری ہے۔

ایک مرفوع حدیث میں بھی انگوٹھی کا قصہ ہے اور بعض دیگر مفسرین نے بھی یہ تفسیر کی ہے لیکن سند ایک کی بھی صحیح نہیں، رجال ایک کے بھی ثقہ اور ثابت نہیں، پس یہ واقعہ بالکل غیر ثابت شدہ ہے اور صحیح نہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12219] ‏‏‏‏ ٹھیک وہی ہے جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ یہ سب آیتیں عبادہ بن صامت کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جبکہ انہوں نے کھلے لفظوں میں یہود کی دوستی توڑی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان دار لوگوں کی دوستی پر راضی ہوگئے، اسی لئے ان تمام آیتوں کے آخر میں فرمان ہوا کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور با ایمان لوگوں کی دوستی رکھے وہ اللہ کے لشکر میں داخل ہے اور یہی اللہ کا لشکر غالب ہے۔ جیسے فرمان باری ہے آیت «‏‏‏‏كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَـٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَـٰئِكَ حِزْبُ اللَّـهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّـهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» ۱؎ ‏‏‏‏ [58-المجادلة:21-22] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ تعالیٰ یہ دیکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی غالب رہیں گے اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھنے والوں کو تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے دوستی رکھنے والا کبھی پسند نہ آئے گا چاہے وہ باپ بیٹے بھائی اور کنبے قبیلے کے لوگوں میں سے ہی کیوں نہ ہو، یہی ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی روح سے ان کی تائید کی ہے، انہیں اللہ تعالیٰ ان جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، رب ان سے راضی ہے، یہ اللہ سے خوش ہیں، یہی اللہ کے لشکر ہیں اور اللہ ہی کا لشکر فلاح پانے والا ہے ‘۔ پس جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کی دوستیوں پر راضی اور رضامند ہو جائے، وہ دنیا میں فاتح ہے اور آخرت میں فلاح پانے والا ہے۔ اسی لیے اس آیت کو بھی اس جملے پر ختم کیا۔
54۔ 1 اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے مطابق فرمایا، جس کا واقعہ نبی کریم کی وفات کے فوراً بعد ہوا۔ اس فتنہ مرتد کے خاتمے کا شرف حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے رفقاء کو حاصل ہوا۔ 54۔ 2 مرتدین کے مقابلے میں جس قوم کو اللہ تعالیٰ کھڑا کرے گا ان کی چار نمایاں صفات بیان کی جا رہی ہیں، 1۔ اللہ سے محبت کرنا اور اس کا محبوب ہونا 2۔ اہل ایمان کے لئے نرم اور کفار پر سخت ہونا 3۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، 4۔ اور اللہ کے بارے میں کسی کی ملامت سے نہ ڈرنا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ان صفات اور خوبیوں کا مظہر اتم تھے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا وآخرت کی سعادتوں سے مشرف فرمایا اور دنیا میں ہی اپنی رضامندی کی سند سے نواز دیا۔ 54۔ 3 یہ ان اہل ایمان کی چوتھی صفت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں داری میں انہیں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ ہوگی۔ یہ بڑی اہم صفت ہے۔ معاشرے میں جن برائیوں کا چلن عام ہوجائے ان کے خلاف نیکی پر استقامت اور اللہ کے حکموں کی اطاعت اس صفت کے بغیر ممکن نہیں۔ ورنہ کتنے ہی لوگ ہیں جو برائی، معصیت الٰہی اور معاشرتی خرابیوں سے اپنا دامن بچانا چاہتے ہیں لیکن ملامت گروں کا مقابلہ کرنے کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتے۔ اسی لئے آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن کو مذکورہ صفات حاصل ہوجائیں تو یہ اللہ کا ان پر خاص فضل ہے۔
(آیت 54) {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ:} اﷲ تعالیٰ جو ماضی، حال اور مستقبل سب کچھ جانتا ہے، اسے پہلے ہی سے معلوم تھا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بہت سے عرب قبائل اسلام سے مرتد ہو جائیں گے، اس لیے اس نے آئندہ سے متعلق یہ آیت پہلے ہی نازل فرما دی۔ چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو تین مقامات مکہ، مدینہ اور بحرین کے علاوہ تمام علاقوں سے عرب قبائل کے مرتد ہونے کی خبریں آنے لگیں۔ وہ کہنے لگے کہ ہم نماز تو پڑھیں گے لیکن زکوٰۃ ادا نہیں کریں گے۔ اس وقت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان مرتدین سے جہاد کیا۔ اس فتنۂ ارتداد کا خاتمہ جن لوگوں کے ہاتھوں ہونا تھا اﷲ تعالیٰ نے ان کی پانچ صفات بیان کی ہیں۔ معلوم ہوا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی انصار و مہاجرین اور یمن سے آنے والے مجاہدین میں یہ پانچوں خوبیاں موجود تھیں۔ کتنے بے نصیب ہیں وہ لوگ جو ایسے لوگوں سے بغض رکھتے ہیں جن کے متعلق اﷲ تعالیٰ کی گواہی ہے:(1) اﷲ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اﷲ سے محبت کرتے ہیں۔ (2) مومنوں پر بہت نرم ہیں۔ (3) کافروں پر بہت سخت ہیں۔ (4) اﷲ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ (5) اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔ ان خوش نصیب لوگوں کے سردار اور خلیفہ ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر عرب دین سے پھرے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یمن سے مسلمان بلائے، ان سے جہاد کروایا کہ تمام عرب مسلمان ہوئے، یہ ان کے حق میں بشارت ہے۔ (موضح) ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت اتری تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس (ابو موسیٰ) کی قوم ہے۔“ (ابن ابی حاتم، ابن جریر) ”ھدایۃ المستنیر“ کے مصنف نے اس کو حسن قرار دیا ہے۔ الغرض ابو بکر رضی اللہ عنہ، ان کے ساتھی مہاجرین و انصار اور اہل یمن میں یہ خوبیاں موجود تھیں۔ صاحب الکشاف نے لکھا ہے کہ مرتد ہونے والوں کے بارہ (۱۲) فرقے تھے، ان میں سے تین فرقے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں مرتد ہو گئے تھے: (1) بنو مدلج جن کا رئیس اسود عنسی تھا، جس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اسے فیروز دیلمی نے قتل کیا۔ (کشاف کے محشی نے لکھا ہے کہ اسود عنسی بنو مدلج سے نہیں بلکہ بنو عنس سے تھا) (2) مسیلمہ کذاب کی قوم بنو حنیفہ، جس سے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جنگ کی اور وہ حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل وحشی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں قتل ہوا۔ (3) بنو اسد جن کا رئیس طلیحہ بن خویلد تھا، ان کی سر کوبی کے لیے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا۔ یہ شخص آخر میں مسلمان ہو گیا تھا۔
اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمۡ رٰکِعُوۡنَ ﴿۵۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور اللہ کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
(مسلمانو)! تمہارا دوست خود اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور ایمان والے ہیں جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں اور وه رکوع (خشوع وخضوع) کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تمہارے دوست نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے کہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! تمہارا حاکم و سرپرست اللہ ہے۔ اس کا رسول ہے اور وہ صاحبان ایمان ہیں۔ جو نماز پڑھتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
تمھارے دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، وہ جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ جھکنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوت اسلام اور مرتدین ٭٭

اللہ رب العزت جو قادر و غالب ہے خبر دیتا ہے کہ اگر کوئی اس پاک دین سے مرتد ہو جائے تو وہ اسلام کی قوت گھٹا نہیں دے گا، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بدلے ان لوگوں کو اس سچے دین کی خدمت پر مامور کرے گا، جو ان سے ہر حیثیت میں اچھے ہوں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم» ‏‏‏‏ ۱؎ [47-محمد:38] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ» ۱؎ [4-النساء:133] ‏‏‏‏ اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ» ۱؎ [14-إبراهيم:19] ‏‏‏‏، مطلب ان سب آیتوں کا وہی ہے جو بیان ہوا۔ ارتداد کہتے ہیں، حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف پھر جانے کو۔ محمد بن کعب رحمة الله فرماتے ہیں ”یہ آیت سرداران قریش کے بارے میں اتری ہے۔‏‏‏‏“ حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”خلافت صدیق رضی اللہ عنہ میں جو لوگ اسلام سے پھر گئے تھے، ان کا حکم اس آیت میں ہے۔ جس قوم کو ان کے بدلے لانے کا وعدہ دے رہا ہے وہ اہل قادسیہ ہیں یا قوم سبا ہے۔ یا اہل یمن ہیں جو کندہ اور سکون بیلہ کے ہیں۔‏‏‏‏“ ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ پچھلی بات بیان ہوئی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا { وہ اس کی قوم ہے } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:3368:صحیح] ‏‏‏‏

اب ان کامل ایمان والوں کی صفت بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ اپنے دوستوں یعنی مسلمانوں کے سامنے تو بچھ جانے والے، جھک جانے والے ہوتے ہیں اور کفار کے مقابلہ میں تن جانے والے، ان پر بھاری پڑنے والے اور ان پر تیز ہونے والے ہوتے ہیں ‘۔ جیسے فرمایا آیت «اَشِدَّاءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ» ۱؎ [48-الفتح:29] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خندہ مزاج بھی تھے اور قتال بھی یعنی دوستوں کے سامنے ہنس مکھ خندہ رو اور دشمنان دین کے مقابلہ میں سخت اور جنگجو۔ سچے مسلمان راہ حق کے جہاد سے نہ منہ موڑتے ہیں، نہ پیٹھ دکھاتے ہیں، نہ تھکتے ہیں، نہ بزدلی اور آرام طلبی کرتے ہیں، نہ کسی کی مروت میں آتے ہیں، نہ کسی کی ملامت کا خوف کرتے ہیں، وہ برابر اطاعت الٰہی میں اس کے دشمنوں سے جنگ کرنے میں بھلائی کا حکم کرنے میں اور برائیوں سے روکنے میں مشغول رہتے ہیں۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا ہے۔ مسکینوں سے محبت رکھنے، ان کے ساتھ بیٹھنے اٹھنے اور دنیوی امور میں اپنے سے کم درجے کے لوگوں کو دیکھنے اور اپنے سے بڑھے ہوؤں کو نہ دیکھنے، صلہ رحمی کرتے رہنے، گو دوسرے نہ کرتے ہوں اور کسی سے کچھ بھی نہ مانگنے، حق بات بیان کرنے کا گو وہ سب کو کڑوی لگے اور دین کے معاملات میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنے کا اور بہ کثرت «لاَحَولَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہِ» پڑھنے کا، کیونکہ یہ کلمہ عرش کے نیچے کا خزانہ ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:2166:صحیح] ‏‏‏‏

ایک روایت میں ہے { میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچ مرتبہ بیعت کی ہے اور سات باتوں کی آپصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یاددہانی کی ہے اور سات مرتبہ اپنے اوپر اللہ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں اللہ کے دین کے بارے میں کسی بدگو کی بدگوئی کی مطلق پرواہ نہیں کرتا۔ مجھے بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا مجھ سے جنت کے بدلے میں بیعت کرے گا؟ } میں نے منظور کر کے ہاتھ بڑھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرط کی کہ کسی سے کچھ بھی نہ مانگنا۔ میں نے کہا بہت اچھا، فرمایا: { اگرچہ کوڑا بھی ہو }۔ یعنی اگر وہ گر پڑے تو خود سواری سے اتر کر لے لینا }۔ ۱؎ [مسند احمد:172/5:ضعیف] ‏‏‏‏ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { لوگوں کی ہیبت میں آ کر حق گوئی سے نہ رکنا، یاد رکھو نہ تو کوئی موت کو قریب کر سکتا ہے، نہ رزق کو دور کر سکتا ہے } }۔ ملاحظہ ہو امام احمد رحمة الله کی مسند۔ ۱؎ [مسند احمد:87/3:ضعیف] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں { خلاف شرع امر دیکھ کر، سن کر اپنے تئیں کمزور جان کر، خاموش نہ ہو جانا۔ ورنہ اللہ کے ہاں اس کی بازپرس ہوگی، اس وقت انسان جواب دے گا کہ میں لوگوں کے ڈر سے چپکا ہو گیا تو جناب باری تعالیٰ فرمائے گا، ’ میں اس کا زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا ‘ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4008،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے قیامت کے دن ایک سوال یہ بھی کرے گا کہ ’ تو نے لوگوں کو خلاف شرع کام کرتے دیکھ کر اس سے روکا کیوں نہیں؟ ‘ پھر اللہ تعالیٰ خود ہی اسے جواب سمجھائے گا اور یہ کہے گا پروردگار میں نے تجھ پر بھروسہ کیا اور لوگوں سے ڈرا } [ابن ماجہ] ‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایک اور صحیح حدیث میں ہے { { مومن کو نہ چاہیئے کہ اپنے تئیں ذلت میں ڈالے }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا، یہ کس طرح؟ فرمایا: { ان بلاؤں کو اپنے اوپر لے لے، جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4016،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرمایا ’ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے ‘۔ یعنی کمال ایمان کی یہ صفتیں خاص اللہ کا عطیہ ہیں، اسی کی طرف سے ان کی توفیق ہوتی ہے، اس کا فضل بہت ہی وسیع ہے اور وہ کامل علم والا ہے، خوب جانتا ہے کہ اس بہت بڑی نعمت کا مستحق کون ہے؟

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ تمہارے دوست کفار نہیں بلکہ حقیقتاً تمہیں اللہ سے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں سے دوستیاں رکھنی چاہئیں ‘۔ مومن بھی وہ جن میں یہ صفتیں ہوں کہ وہ نماز کے پورے پابند ہوں، جو اسلام کا اعلیٰ اور بہترین رکن ہے اور صرف اللہ کا حق ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جو اللہ کے ضعیف مسکین بندوں کا حق ہے اور آخری جملہ جو ہے اس کی نسبت بعض لوگوں کو وہم سا ہو گیا ہے کہ یہ «وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ» سے حال واقع یعنی ’ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ‘۔ یہ بالکل غلط ہے، اگر اسے مان لیا جائے تو یہ تو نمایاں طور پر ثابت ہو جائے گا کہ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دینا افضل ہے حالانکہ کوئی عالم اس کا قائل ہی نہیں، ان وہمیوں نے یہاں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نماز کے رکوع میں تھے جو ایک سائل آ گیا تو آپ نے اپنی انگوٹھی اتار کر اسے دے دی، ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ «وَالَّذِينَ آمَنُوا» سے مراد بقول عتبہ جملہ مسلمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس پر یہ آیت اتری ہے۔

ایک مرفوع حدیث میں بھی انگوٹھی کا قصہ ہے اور بعض دیگر مفسرین نے بھی یہ تفسیر کی ہے لیکن سند ایک کی بھی صحیح نہیں، رجال ایک کے بھی ثقہ اور ثابت نہیں، پس یہ واقعہ بالکل غیر ثابت شدہ ہے اور صحیح نہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12219] ‏‏‏‏ ٹھیک وہی ہے جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ یہ سب آیتیں عبادہ بن صامت کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جبکہ انہوں نے کھلے لفظوں میں یہود کی دوستی توڑی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان دار لوگوں کی دوستی پر راضی ہوگئے، اسی لئے ان تمام آیتوں کے آخر میں فرمان ہوا کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور با ایمان لوگوں کی دوستی رکھے وہ اللہ کے لشکر میں داخل ہے اور یہی اللہ کا لشکر غالب ہے۔ جیسے فرمان باری ہے آیت «‏‏‏‏كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَـٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَـٰئِكَ حِزْبُ اللَّـهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّـهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» ۱؎ ‏‏‏‏ [58-المجادلة:21-22] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ تعالیٰ یہ دیکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی غالب رہیں گے اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھنے والوں کو تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے دوستی رکھنے والا کبھی پسند نہ آئے گا چاہے وہ باپ بیٹے بھائی اور کنبے قبیلے کے لوگوں میں سے ہی کیوں نہ ہو، یہی ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی روح سے ان کی تائید کی ہے، انہیں اللہ تعالیٰ ان جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، رب ان سے راضی ہے، یہ اللہ سے خوش ہیں، یہی اللہ کے لشکر ہیں اور اللہ ہی کا لشکر فلاح پانے والا ہے ‘۔ پس جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کی دوستیوں پر راضی اور رضامند ہو جائے، وہ دنیا میں فاتح ہے اور آخرت میں فلاح پانے والا ہے۔ اسی لیے اس آیت کو بھی اس جملے پر ختم کیا۔
55۔ 1 جب یہود و نصاریٰ کی دوستی سے منع فرمایا گیا تو اب سوال کا جواب دیا جا رہا ہے کہ پھر وہ دوستی کن سے کریں؟ فرمایا کہ اہل ایمان کے دوست سب سے پہلے اللہ اور اس کے رسول ہیں اور پھر ان کے ماننے والے اہل ایمان ہیں۔ آگے ان کی مزید صفات بیان کی جا رہی ہیں۔
(آیت 56,55) ➊ {اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ ……:} اوپر کی آیات میں کفار سے دوستی کرنے سے منع فرمایا گیا ہے، اب اس آیت میں {” اِنَّمَا “} کلمۂ حصر کے ساتھ بتایا کہ تمھارے دوست صرف اور صرف اﷲ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان ہیں، اس لیے یہود کو مددگار اور دوست نہ بناؤ، بلکہ صرف مومنین کو اپنا مددگار سمجھو۔ (ابن کثیر، کبیر) یہاں {”وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ “} کے معنی ہیں ”جھکنے والے، عاجزی کرنے والے۔“ چنانچہ قرآن مجید میں دوسرے مقام پر ہے: «وَ الَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ» ‏‏‏‏ [ المؤمنون: ۶۰ ] ”اور وہ کہ انھوں نے جو کچھ دیا اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں۔“ (کبیر، ثنائی) بعض لوگوں نے {” وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ “} کو {” يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ “} کے فاعل سے حال قرار دے کر یہ ترجمہ کیا ہے ”وہ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں“ اور بعض روایات سے ثابت کیا ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رکوع کی حالت میں انگوٹھی صدقہ کی تھی، اس پر ان کی تعریف میں یہ آیت نازل ہوئی، مگر یہ سب روایات بہت ضعیف اور کمزور ہیں۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ان روایات پر سخت تنقید کی ہے اور ان کو بے اصل قرار دیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ان روایات سے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ ادا کرنا زکوٰۃ دینے کی افضل ترین صورت ہے، مگر آج تک کسی عالم نے یہ فتویٰ نہیں دیا۔ (ابن کثیر، المنار) پس صحیح یہ ہے کہ آیت عام مومنین کے حق میں نازل ہوئی ہے اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء اس آیت کے اولین مصداق ہیں۔ ابو جعفر محمد بن علی بن حسین سے پوچھا گیا کہ {” وَلِيُّكُمُ “} سے مراد علی رضی اللہ عنہ ہیں؟ تو انھوں نے فرمایا کہ علی رضی اللہ عنہ بھی ان مومنوں میں سے ایک ہیں، یعنی یہ آیت سب مومنوں کے حق میں ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ یہاں جو صفات مذکور ہیں کہ ”وہ جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ جھکنے والے ہیں“ ان سے کیا مقصد ہے؟ تو ہم کہتے ہیں کہ اس سے منافقین پر طنز مقصود ہے جو ان صفات سے خالی تھے۔ (رازی) ➋ شیعہ حضرات ان دو آیات سے علی رضی اللہ عنہ کی امامت بلا فصل ثابت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسی وقت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے۔ ان کے استدلال کا مدار تو اس بات پر ہے کہ یہ آیت خاص کر علی رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی ہے، مگر ہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ آیت سب مومنوں کے حق میں نازل ہوئی ہے اور علی رضی اللہ عنہ بھی اس میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس آیت میں تمام صیغے جمع کے ہیں تو پھر صرف علی رضی اللہ عنہ کیسے مراد ہو سکتے ہیں؟ اور پھر جب آیت کے نزول کے ساتھ ہی علی رضی اللہ عنہ کی ولایت ثابت ہو گئی تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تک اس کو ملتوی رکھنا بے معنی ہے، نیز ولی کے معنی دوست اور مدد گار کے بھی آتے ہیں اور والی اور متصرف (حاکم) کے بھی۔ آیت کا سیاق و سباق (اس کے الفاظ اور اس سے پہلے والی آیات کے الفاظ) پہلے معنی کی تائید کرتے ہیں تو سیاق کے قرینہ کے خلاف دوسرے معنی لینے کے لیے کون سی وجہ جواز ہو سکتی ہے؟ امام رازی رحمہ اللہ نے آٹھ دلائل سے ثابت کیا ہے کہ آیت میں ولی کے پہلے معنی مراد ہیں، دوسرے معنی دلائل کے خلاف ہیں۔ (کبیر)
وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿٪۵۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اُسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے اور مسلمانوں سے دوستی کرے، وه یقین مانے کہ اللہ تعالیٰ کی جماعت ہی غالب رہے گی
احمد رضا خان بریلوی
اور جو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کو اپنا دوست بنائے تو بیشک اللہ ہی کا گروہ غالب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو تولاّ رکھے، اللہ سے، اس کے رسول سے اور صاحبانِ ایمان سے (وہ اللہ کا گروہ ہے) اور بے شک اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو کوئی اللہ کو اور اس کے رسول کو اور ان لوگوں کو دوست بنائے جو ایمان لائے ہیں تو یقینا اللہ کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو غالب ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوت اسلام اور مرتدین ٭٭

اللہ رب العزت جو قادر و غالب ہے خبر دیتا ہے کہ اگر کوئی اس پاک دین سے مرتد ہو جائے تو وہ اسلام کی قوت گھٹا نہیں دے گا، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بدلے ان لوگوں کو اس سچے دین کی خدمت پر مامور کرے گا، جو ان سے ہر حیثیت میں اچھے ہوں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم» ‏‏‏‏ ۱؎ [47-محمد:38] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ» ۱؎ [4-النساء:133] ‏‏‏‏ اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ» ۱؎ [14-إبراهيم:19] ‏‏‏‏، مطلب ان سب آیتوں کا وہی ہے جو بیان ہوا۔ ارتداد کہتے ہیں، حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف پھر جانے کو۔ محمد بن کعب رحمة الله فرماتے ہیں ”یہ آیت سرداران قریش کے بارے میں اتری ہے۔‏‏‏‏“ حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”خلافت صدیق رضی اللہ عنہ میں جو لوگ اسلام سے پھر گئے تھے، ان کا حکم اس آیت میں ہے۔ جس قوم کو ان کے بدلے لانے کا وعدہ دے رہا ہے وہ اہل قادسیہ ہیں یا قوم سبا ہے۔ یا اہل یمن ہیں جو کندہ اور سکون بیلہ کے ہیں۔‏‏‏‏“ ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ پچھلی بات بیان ہوئی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا { وہ اس کی قوم ہے } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:3368:صحیح] ‏‏‏‏

اب ان کامل ایمان والوں کی صفت بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ اپنے دوستوں یعنی مسلمانوں کے سامنے تو بچھ جانے والے، جھک جانے والے ہوتے ہیں اور کفار کے مقابلہ میں تن جانے والے، ان پر بھاری پڑنے والے اور ان پر تیز ہونے والے ہوتے ہیں ‘۔ جیسے فرمایا آیت «اَشِدَّاءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ» ۱؎ [48-الفتح:29] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خندہ مزاج بھی تھے اور قتال بھی یعنی دوستوں کے سامنے ہنس مکھ خندہ رو اور دشمنان دین کے مقابلہ میں سخت اور جنگجو۔ سچے مسلمان راہ حق کے جہاد سے نہ منہ موڑتے ہیں، نہ پیٹھ دکھاتے ہیں، نہ تھکتے ہیں، نہ بزدلی اور آرام طلبی کرتے ہیں، نہ کسی کی مروت میں آتے ہیں، نہ کسی کی ملامت کا خوف کرتے ہیں، وہ برابر اطاعت الٰہی میں اس کے دشمنوں سے جنگ کرنے میں بھلائی کا حکم کرنے میں اور برائیوں سے روکنے میں مشغول رہتے ہیں۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا ہے۔ مسکینوں سے محبت رکھنے، ان کے ساتھ بیٹھنے اٹھنے اور دنیوی امور میں اپنے سے کم درجے کے لوگوں کو دیکھنے اور اپنے سے بڑھے ہوؤں کو نہ دیکھنے، صلہ رحمی کرتے رہنے، گو دوسرے نہ کرتے ہوں اور کسی سے کچھ بھی نہ مانگنے، حق بات بیان کرنے کا گو وہ سب کو کڑوی لگے اور دین کے معاملات میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنے کا اور بہ کثرت «لاَحَولَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہِ» پڑھنے کا، کیونکہ یہ کلمہ عرش کے نیچے کا خزانہ ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:2166:صحیح] ‏‏‏‏

ایک روایت میں ہے { میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچ مرتبہ بیعت کی ہے اور سات باتوں کی آپصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یاددہانی کی ہے اور سات مرتبہ اپنے اوپر اللہ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں اللہ کے دین کے بارے میں کسی بدگو کی بدگوئی کی مطلق پرواہ نہیں کرتا۔ مجھے بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا مجھ سے جنت کے بدلے میں بیعت کرے گا؟ } میں نے منظور کر کے ہاتھ بڑھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرط کی کہ کسی سے کچھ بھی نہ مانگنا۔ میں نے کہا بہت اچھا، فرمایا: { اگرچہ کوڑا بھی ہو }۔ یعنی اگر وہ گر پڑے تو خود سواری سے اتر کر لے لینا }۔ ۱؎ [مسند احمد:172/5:ضعیف] ‏‏‏‏ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { لوگوں کی ہیبت میں آ کر حق گوئی سے نہ رکنا، یاد رکھو نہ تو کوئی موت کو قریب کر سکتا ہے، نہ رزق کو دور کر سکتا ہے } }۔ ملاحظہ ہو امام احمد رحمة الله کی مسند۔ ۱؎ [مسند احمد:87/3:ضعیف] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں { خلاف شرع امر دیکھ کر، سن کر اپنے تئیں کمزور جان کر، خاموش نہ ہو جانا۔ ورنہ اللہ کے ہاں اس کی بازپرس ہوگی، اس وقت انسان جواب دے گا کہ میں لوگوں کے ڈر سے چپکا ہو گیا تو جناب باری تعالیٰ فرمائے گا، ’ میں اس کا زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا ‘ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4008،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے قیامت کے دن ایک سوال یہ بھی کرے گا کہ ’ تو نے لوگوں کو خلاف شرع کام کرتے دیکھ کر اس سے روکا کیوں نہیں؟ ‘ پھر اللہ تعالیٰ خود ہی اسے جواب سمجھائے گا اور یہ کہے گا پروردگار میں نے تجھ پر بھروسہ کیا اور لوگوں سے ڈرا } [ابن ماجہ] ‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایک اور صحیح حدیث میں ہے { { مومن کو نہ چاہیئے کہ اپنے تئیں ذلت میں ڈالے }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا، یہ کس طرح؟ فرمایا: { ان بلاؤں کو اپنے اوپر لے لے، جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4016،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرمایا ’ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے ‘۔ یعنی کمال ایمان کی یہ صفتیں خاص اللہ کا عطیہ ہیں، اسی کی طرف سے ان کی توفیق ہوتی ہے، اس کا فضل بہت ہی وسیع ہے اور وہ کامل علم والا ہے، خوب جانتا ہے کہ اس بہت بڑی نعمت کا مستحق کون ہے؟

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ تمہارے دوست کفار نہیں بلکہ حقیقتاً تمہیں اللہ سے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں سے دوستیاں رکھنی چاہئیں ‘۔ مومن بھی وہ جن میں یہ صفتیں ہوں کہ وہ نماز کے پورے پابند ہوں، جو اسلام کا اعلیٰ اور بہترین رکن ہے اور صرف اللہ کا حق ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جو اللہ کے ضعیف مسکین بندوں کا حق ہے اور آخری جملہ جو ہے اس کی نسبت بعض لوگوں کو وہم سا ہو گیا ہے کہ یہ «وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ» سے حال واقع یعنی ’ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ‘۔ یہ بالکل غلط ہے، اگر اسے مان لیا جائے تو یہ تو نمایاں طور پر ثابت ہو جائے گا کہ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دینا افضل ہے حالانکہ کوئی عالم اس کا قائل ہی نہیں، ان وہمیوں نے یہاں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نماز کے رکوع میں تھے جو ایک سائل آ گیا تو آپ نے اپنی انگوٹھی اتار کر اسے دے دی، ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ «وَالَّذِينَ آمَنُوا» سے مراد بقول عتبہ جملہ مسلمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس پر یہ آیت اتری ہے۔

ایک مرفوع حدیث میں بھی انگوٹھی کا قصہ ہے اور بعض دیگر مفسرین نے بھی یہ تفسیر کی ہے لیکن سند ایک کی بھی صحیح نہیں، رجال ایک کے بھی ثقہ اور ثابت نہیں، پس یہ واقعہ بالکل غیر ثابت شدہ ہے اور صحیح نہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12219] ‏‏‏‏ ٹھیک وہی ہے جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ یہ سب آیتیں عبادہ بن صامت کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جبکہ انہوں نے کھلے لفظوں میں یہود کی دوستی توڑی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان دار لوگوں کی دوستی پر راضی ہوگئے، اسی لئے ان تمام آیتوں کے آخر میں فرمان ہوا کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور با ایمان لوگوں کی دوستی رکھے وہ اللہ کے لشکر میں داخل ہے اور یہی اللہ کا لشکر غالب ہے۔ جیسے فرمان باری ہے آیت «‏‏‏‏كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَـٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَـٰئِكَ حِزْبُ اللَّـهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّـهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» ۱؎ ‏‏‏‏ [58-المجادلة:21-22] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ تعالیٰ یہ دیکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی غالب رہیں گے اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھنے والوں کو تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے دوستی رکھنے والا کبھی پسند نہ آئے گا چاہے وہ باپ بیٹے بھائی اور کنبے قبیلے کے لوگوں میں سے ہی کیوں نہ ہو، یہی ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی روح سے ان کی تائید کی ہے، انہیں اللہ تعالیٰ ان جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، رب ان سے راضی ہے، یہ اللہ سے خوش ہیں، یہی اللہ کے لشکر ہیں اور اللہ ہی کا لشکر فلاح پانے والا ہے ‘۔ پس جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کی دوستیوں پر راضی اور رضامند ہو جائے، وہ دنیا میں فاتح ہے اور آخرت میں فلاح پانے والا ہے۔ اسی لیے اس آیت کو بھی اس جملے پر ختم کیا۔
56۔ 1 یہ حزب اللہ ہے (اللہ کی جماعت) کی نشاندہی اور اس کے غلبے کی نوید سنائی جا رہی ہیں۔ حزب اللہ وہی ہے جس کا تعلق صرف اللہ، رسول اور مومنین سے ہو اور کافروں، مشرکوں اور یہود و نصاریٰ سے چاہے وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہوں، وہ محبت و معاملات کا تعلق نہ رکھیں۔ جیسا کہ سورة مجادلہ کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ " تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والوں کو ایسا نہیں پاؤ گے کہ وہ ایسے لوگوں سے محبت رکھیں جو اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہوں، چاہے وہ ان کے باپ ہوں، ان کے بیٹے ہوں، ان کے بھائی ہوں یا ان کے خاندان اور قبیلے کے لوگ ہوں، پھر خوشخبری دی گئی کہ " یہ وہ لوگ ہیں، جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جنہیں اللہ کی مدد حاصل ہے، انہیں ہی اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمائے گا۔۔ اور یہی حزب اللہ ہے، کامیابی جس کا مقدر ہے
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَکُمۡ ہُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ الۡکُفَّارَ اَوۡلِیَآءَ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ا ے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے پیش رو اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے تمہارے دین کو مذاق اور تفریح کا سامان بنا لیا ہے، اُنہیں اور دوسرے کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بناؤ اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
مسلمانو! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنائے ہوئے ہیں (خواه) وه ان میں سے ہوں جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے یا کفار ہوں اگر تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنالیا ہے وہ جو تم سے پہلے کتاب دیے گئے اور کافر ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر ایمان رکھتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! وہ لوگ جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور انہوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنا رکھا ہے۔ ان کو اور دوسرے عام کفار کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرو، اگر تم مؤمن ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں کو جنھوں نے تمھارے دین کو مذاق اور کھیل بنا لیا، ان لوگوں میں سے جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور کفار کو دوست نہ بنائو اور اللہ سے ڈرو، اگر تم ایمان والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اذان اور دشمنان دین ٭٭

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو غیر مسلموں کی محبت سے نفرت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ کیا تم ان سے دوستیاں کرو گے جو تمہارے طاہر و مطہر دین کی ہنسی اڑاتے ہیں اور اسے ایک بازیچہ اطفال بنائے ہوئے ہیں ‘۔ «مِّنَ» ‏‏‏‏ بیان جنس کیلئے جیسے «مِنَ الْاَوْثَانِ» میں۔ ۱؎ [22-الحج:30] ‏‏‏‏ بعض نے «وَالْکُفَّارَ» پڑھا ہے اور عطف ڈالا ہے اور بعض نے «وَالْکُفَّارِ» پڑھا ہے اور «لاَ تَّتخِذُوْا» کا نیا معمول بنایا ہے تو تقدیر عبارت «وَالاَ الْکُفَّارَ اَوْلِیَآءَ» ہو گی، کفار سے مراد مشرکین ہیں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:430/10:] ‏‏‏‏ ’ اللہ سے ڈرو اور ان سے دوستیاں نہ کرو اگر تم سچے مومن ہو۔ یہ تو تمہارے دین کے، اللہ کی شریعت کے دشمن ہیں ‘۔ جیسے فرمایا آیت «لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ» [3۔ آل عمران:28] ‏‏‏‏، ’ مومن مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستیاں نہ کریں اور جو ایسا کرے وہ اللہ کے ہاں کسی بھلائی میں نہیں ‘۔ ہاں ان سے بچاؤ مقصود ہو تو اور بات ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اسی طرح یہ کفار اہل کتاب اور مشرک اس وقت بھی مذاق اڑاتے ہیں جب تم نمازوں کیلئے لوگوں کو پکارتے ہو حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی سب سے پیاری عبادت ہے، لیکن یہ بیوقوف اتنا بھی نہیں جانتے، اس لیے کہ یہ متبع شیطان ہیں، { اس کی یہ حالت ہے کہ اذان سنتے ہی بدبو چھوڑ کر دم دبائے بھاگتا ہے اور وہاں جا کر ٹھہرتا ہے، جہاں اذان کی آواز نہ سن پائے۔ اس کے بعد آ جاتا ہے پھر تکبیر سن کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے ختم ہوتے ہی آ کر اپنے بہکاوے میں لگ جاتا ہے، انسان کو ادھر ادھر کی بھولی بسری باتیں یاد دلاتا ہے یہاں تک کہ اسے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ نماز کی کتنی رکعت پڑھیں؟ جب ایسا ہو تو وہ سجدہ سہو کر لے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1231] ‏‏‏‏

امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اذان کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے پھر یہی آیت تلاوت کی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1164/4] ‏‏‏‏ ایک نصرانی مدینے میں تھا، اذان میں جب «‏‏‏‏اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ» سنتا تو کہتا کذاب جل جائے۔ ایک مرتبہ رات کو اس کی خادمہ گھر میں آگ لائی، کوئی پتنگا اڑا جس سے گھر میں آگ لگ گئی، وہ شخص اس کا گھربار سب جل کر ختم ہو گیا۔ فتح مکہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو کعبے میں اذان کہنے کا حکم دیا، قریب ہی ابوسفیان بن حرب، عتاب بن اسید، حارث بن ہشام بیٹھے ہوئے تھے، عتاب نے تو اذان سن کر کہا میرے باپ پر تو اللہ کا فضل ہوا کہ وہ اس غصہ دلانے والی آواز کے سننے سے پہلے ہی دنیا سے چل بسا۔ حارث کہنے لگا اگر میں اسے سچا جانتا تو مان ہی نہ لیتا۔ ابوسفیان نے کہا بھئی میں تو کچھ بھی زبان سے نہیں نکالتا، ڈر ہے کہ کہیں یہ کنکریاں اسے خبر نہ کر دیں انہوں نے باتیں ختم کی ہی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے اور فرمانے لگے { اس وقت تم نے یہ یہ باتیں کیں ہیں }، یہ سنتے ہی عتاب اور حارث تو بول پڑے کہ ہماری گواہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہاں تو کوئی چوتھا تھا ہی نہیں، ورنہ گمان کر سکتے تھے کہ اس نے جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہدیا ہوگا۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:78/5] ‏‏‏‏

حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ جب شام کے سفر کو جانے لگے تو ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے جن کی گود میں انہوں نے ایام یتیمی بسر کئے تھے، کہا آپ رضی اللہ عنہ کی اذان کے بارے میں مجھ سے وہاں کے لوگ ضرور سوال کریں گے تو آپ رضی اللہ عنہ اپنے واقعات تو مجھے بتا دیجئیے۔ فرمایا ہاں سنو { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس آ رہے تھے، راستے میں ہم لوگ ایک جگہ رکے، تو نماز کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے اذان کہی، ہم نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا، کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں بھی آوازیں پڑ گئیں۔ سپاہی آیا اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ { تم سب میں زیادہ اونچی آواز کس کی تھی؟ } سب نے میری طرف اشارہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا اور فرمایا: { اٹھو اذان کہو }۔ واللہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری سے زیادہ بری چیز میرے نزدیک کوئی نہ تھی لیکن بے بس تھا، کھڑا ہو گیا، اب خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان سکھائی اور جو سکھاتے رہے، میں کہتا رہا، پھر اذان پوری بیان کی، جب میں اذان سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک تھیلی دے، جس میں چاندی تھی، پھر اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور پیٹھ تک لائے، پھر فرمایا: { اللہ تجھ میں اور تجھ پر اپنی برکت نازل کرے }۔ اب تو اللہ کی قسم میرے دل سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت بالکل جاتی رہی، ایسی محبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دل میں پیدا ہوگئی، میں نے آرزو کی کہ مکے کا مؤذن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو بنادیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری یہ درخواست منظور فرمالی اور میں مکے میں چلا گیا اور وہاں کے گورنر عتاب بن اسید سے مل کر اذان پر مامور ہوگیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:389] ‏‏‏‏ ابو مخدورہ کا نام سمرہ بن مغیرہ بن لوذان تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چار مؤذنوں میں سے ایک آپ تھے اور لمبی مدت تک آپ اہل مکہ کے مؤذن رہے۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ۔
57۔ 1 اہل کتاب سے یہود و نصاریٰ اور کفار سے مشرکین مراد ہیں۔ یہاں پھر یہی تاکید کی گئی ہے کہ دین کو کھیل مذاق بنانے والے چونکہ اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں اس لئے ان کے ساتھ اہل ایمان کی دوستی نہیں ہونی چاہئے۔
(آیت 57) {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَكُمْ......:} اوپر کی آیات میں خاص طور پر یہود و نصاریٰ کی دوستی سے منع فرمایا، اب یہاں تمام کفار کی دوستی سے منع فرمایا ہے۔ اس آیت کی رو سے ان بے دین لوگوں اور اہل بدعت سے دلی دوستی رکھنا بھی جائز نہیں جنھوں نے دین کو ہنسی کھیل بنا رکھا ہے، کبھی داڑھی کا مذاق اڑاتے ہیں، کبھی مسنون لباس کا اور کبھی اﷲ تعالیٰ کی حدود کا۔ اسی طرح سنت کے مطابق نماز کا مذاق اڑاتے ہیں اور جو شخص پیدائش، نکاح اور موت کے وقت کفار خصوصاً ہندوؤں کی رسموں میں ان کا ساتھ نہ دے، اس کا مذاق اڑاتے ہیں تو جب ان میں بھی وہی وصف پایا جاتا ہے جو اہل کتاب اور کفار میں پایا جاتا ہے تو ان کا حکم بھی وہی ہونا چاہیے جو اہل کتاب اور کفار کا ہے۔
وَ اِذَا نَادَیۡتُمۡ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوۡہَا ہُزُوًا وَّ لَعِبًا ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۵۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب تم نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ اسے ہنسی کھیل ٹھرا لیتے ہیں۔ یہ اس واسطے کہ بےعقل ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب تم نماز کے لئے اذان دو تو اسے ہنسی کھیل بناتے ہیں یہ اس لئے کہ وہ نرے بے عقل لوگ ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب تم (اذان دے کر لوگوں کو) نماز کی طرف بلاتے ہو تو وہ اسے مذاق اور کھیل بناتے ہیں۔ یہ اس لئے ہے کہ وہ بے وقوف ہیں، عقل سے کام نہیں لیتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب تم نماز کی طرف آواز دیتے ہو تو وہ اسے مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اذان اور دشمنان دین ٭٭

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو غیر مسلموں کی محبت سے نفرت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ کیا تم ان سے دوستیاں کرو گے جو تمہارے طاہر و مطہر دین کی ہنسی اڑاتے ہیں اور اسے ایک بازیچہ اطفال بنائے ہوئے ہیں ‘۔ «مِّنَ» ‏‏‏‏ بیان جنس کیلئے جیسے «مِنَ الْاَوْثَانِ» میں۔ ۱؎ [22-الحج:30] ‏‏‏‏ بعض نے «وَالْکُفَّارَ» پڑھا ہے اور عطف ڈالا ہے اور بعض نے «وَالْکُفَّارِ» پڑھا ہے اور «لاَ تَّتخِذُوْا» کا نیا معمول بنایا ہے تو تقدیر عبارت «وَالاَ الْکُفَّارَ اَوْلِیَآءَ» ہو گی، کفار سے مراد مشرکین ہیں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:430/10:] ‏‏‏‏ ’ اللہ سے ڈرو اور ان سے دوستیاں نہ کرو اگر تم سچے مومن ہو۔ یہ تو تمہارے دین کے، اللہ کی شریعت کے دشمن ہیں ‘۔ جیسے فرمایا آیت «لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ» [3۔ آل عمران:28] ‏‏‏‏، ’ مومن مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستیاں نہ کریں اور جو ایسا کرے وہ اللہ کے ہاں کسی بھلائی میں نہیں ‘۔ ہاں ان سے بچاؤ مقصود ہو تو اور بات ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اسی طرح یہ کفار اہل کتاب اور مشرک اس وقت بھی مذاق اڑاتے ہیں جب تم نمازوں کیلئے لوگوں کو پکارتے ہو حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی سب سے پیاری عبادت ہے، لیکن یہ بیوقوف اتنا بھی نہیں جانتے، اس لیے کہ یہ متبع شیطان ہیں، { اس کی یہ حالت ہے کہ اذان سنتے ہی بدبو چھوڑ کر دم دبائے بھاگتا ہے اور وہاں جا کر ٹھہرتا ہے، جہاں اذان کی آواز نہ سن پائے۔ اس کے بعد آ جاتا ہے پھر تکبیر سن کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے ختم ہوتے ہی آ کر اپنے بہکاوے میں لگ جاتا ہے، انسان کو ادھر ادھر کی بھولی بسری باتیں یاد دلاتا ہے یہاں تک کہ اسے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ نماز کی کتنی رکعت پڑھیں؟ جب ایسا ہو تو وہ سجدہ سہو کر لے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1231] ‏‏‏‏

امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اذان کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے پھر یہی آیت تلاوت کی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1164/4] ‏‏‏‏ ایک نصرانی مدینے میں تھا، اذان میں جب «‏‏‏‏اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ» سنتا تو کہتا کذاب جل جائے۔ ایک مرتبہ رات کو اس کی خادمہ گھر میں آگ لائی، کوئی پتنگا اڑا جس سے گھر میں آگ لگ گئی، وہ شخص اس کا گھربار سب جل کر ختم ہو گیا۔ فتح مکہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو کعبے میں اذان کہنے کا حکم دیا، قریب ہی ابوسفیان بن حرب، عتاب بن اسید، حارث بن ہشام بیٹھے ہوئے تھے، عتاب نے تو اذان سن کر کہا میرے باپ پر تو اللہ کا فضل ہوا کہ وہ اس غصہ دلانے والی آواز کے سننے سے پہلے ہی دنیا سے چل بسا۔ حارث کہنے لگا اگر میں اسے سچا جانتا تو مان ہی نہ لیتا۔ ابوسفیان نے کہا بھئی میں تو کچھ بھی زبان سے نہیں نکالتا، ڈر ہے کہ کہیں یہ کنکریاں اسے خبر نہ کر دیں انہوں نے باتیں ختم کی ہی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے اور فرمانے لگے { اس وقت تم نے یہ یہ باتیں کیں ہیں }، یہ سنتے ہی عتاب اور حارث تو بول پڑے کہ ہماری گواہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہاں تو کوئی چوتھا تھا ہی نہیں، ورنہ گمان کر سکتے تھے کہ اس نے جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہدیا ہوگا۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:78/5] ‏‏‏‏

حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ جب شام کے سفر کو جانے لگے تو ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے جن کی گود میں انہوں نے ایام یتیمی بسر کئے تھے، کہا آپ رضی اللہ عنہ کی اذان کے بارے میں مجھ سے وہاں کے لوگ ضرور سوال کریں گے تو آپ رضی اللہ عنہ اپنے واقعات تو مجھے بتا دیجئیے۔ فرمایا ہاں سنو { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس آ رہے تھے، راستے میں ہم لوگ ایک جگہ رکے، تو نماز کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے اذان کہی، ہم نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا، کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں بھی آوازیں پڑ گئیں۔ سپاہی آیا اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ { تم سب میں زیادہ اونچی آواز کس کی تھی؟ } سب نے میری طرف اشارہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا اور فرمایا: { اٹھو اذان کہو }۔ واللہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری سے زیادہ بری چیز میرے نزدیک کوئی نہ تھی لیکن بے بس تھا، کھڑا ہو گیا، اب خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان سکھائی اور جو سکھاتے رہے، میں کہتا رہا، پھر اذان پوری بیان کی، جب میں اذان سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک تھیلی دے، جس میں چاندی تھی، پھر اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور پیٹھ تک لائے، پھر فرمایا: { اللہ تجھ میں اور تجھ پر اپنی برکت نازل کرے }۔ اب تو اللہ کی قسم میرے دل سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت بالکل جاتی رہی، ایسی محبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دل میں پیدا ہوگئی، میں نے آرزو کی کہ مکے کا مؤذن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو بنادیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری یہ درخواست منظور فرمالی اور میں مکے میں چلا گیا اور وہاں کے گورنر عتاب بن اسید سے مل کر اذان پر مامور ہوگیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:389] ‏‏‏‏ ابو مخدورہ کا نام سمرہ بن مغیرہ بن لوذان تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چار مؤذنوں میں سے ایک آپ تھے اور لمبی مدت تک آپ اہل مکہ کے مؤذن رہے۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ۔
58۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ جب شیطان اذان کی آواز سنتا ہے تو پاد مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے، جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر آجاتا ہے، تکبیر کے وقت پھر پیٹھ پھیر کر چل دیتا ہے، جب تکبیر ختم ہوتی ہے تو پھر آ کر نمازیوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کرتا ہے، شیطان ہی کی طرح شیطان کے پیروکاروں کو اذان کی آواز اچھی نہیں لگتی، اس لئے وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حدیث رسول بھی قرآن کی دین کا ماخذ اور اسی طرح حجت ہے۔ کیونکہ قرآن نے نماز کے لئے ' ندا ' کا تو ذکر کیا ہے لیکن یہ ' ندا ' کس طرح دی جائے گی؟ اس کے الفاظ کیا ہوں گے؟ یہ قرآن کریم میں کہیں نہیں ہے۔ یہ چیزیں حدیث سے ثابت ہیں، جو اس کی حجیت اور ماخذ دین ہونے پر دلیل ہیں۔ حجت حدیث کا مطلب: حدیث کے ماخذ دین اور حجت شرعیہ ہونے کا مطلب ہے، کہ جس طرح قرآن سے ثابت ہونے والے احکام و فرائض پر عمل کرنا ضروری ہے اور ان کا انکار کفر ہے۔ اس طرح حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونے والے احکام کا ماننا بھی فرض ہے، ان پر عمل کرنا ضروری اور ان کا انکار کفر ہے۔ صحیح حدیث چاہے متواتر ہو یا آحاد، قولی ہو، فعلی ہو یا تقریری۔ یہ سب قابل عمل ہیں۔ حدیث کا خبر واحد کی بنیاد پر یا قرآن سے زائد ہونے کی بنیاد پر یا ائمہ کے قیاس واجتہاد کی بنیاد پر یا راوی کی عدم فقاہت کے دعویٰ کی بنیاد پر یا عقلی استحالے کی بنیاد پر یا اسی قسم کے دیگر دعوؤں کی بنیاد پر، رد کرنا صحیح نہیں ہے۔ یہ سب حدیث سے اعراض کی مختلف صورتیں ہیں۔
(آیت 58) ➊ {وَ اِذَا نَادَيْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ:نَادَيْتُمْ “} کا معنی ہے جب تم آواز دیتے ہو، تو اس سے مراد نماز کے لیے اذان ہے یعنی اس کی نقلیں اتارتے ہیں، تمسخر سے اس کے الفاظ بدلتے ہیں اور اس پر آوازے کستے ہیں، شور و ہنگامہ برپا کرتے ہیں۔ (ابن کثیر، فتح القدیر) شیطان کو بھی اذان کی آواز برداشت نہیں، حدیث میں ہے: ”شیطان جب اذان کی آواز سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے (کہ اذان اس کے کانوں میں نہ پڑے)، پھر واپس آ جاتا ہے، اقامت کے وقت پھر پیٹھ پھیر کر چل دیتا ہے، جب تکبیر ختم ہوتی ہے تو آ جاتا ہے، یہاں تک کہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان پھرتا ہے، کہتا ہے فلاں بات یاد کرو، فلاں بات یاد کرو، جو باتیں اسے یاد نہیں تھیں، یہاں تک کہ آدمی کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے۔“ [ بخاری، الأذان، باب فضل التأذین: ۶۰۸ ] ➋ نماز کے لیے آواز دینے کا ذکر قرآن مجید میں دو جگہ آیا ہے، ایک اس آیت میں دوسرا سورۂ جمعہ میں۔ اسی ندا کو اذان کہتے ہیں، مگر پورے قرآن میں نہ اذان کا طریقہ بیان ہوا، نہ اس کے کلمات اور نہ اس کے اوقات۔ یہ آواز کیسے دی جائے، اس کے لیے حدیث رسول سے رہنمائی لینا ہو گی۔ معلوم ہوا حدیث کے بغیر قرآن پر عمل ممکن ہی نہیں۔ «اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ» ‏‏‏‏ [ النساء: ۵۹] اور «اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ» ‏‏‏‏ [ آل عمران: ۳۱ ] کے تحت قرآن کے ساتھ حدیث پر عمل بھی واجب ہے، اسی لیے اہل علم نے منکرین حدیث پر کفر کا فتویٰ صادر فرمایا ہے۔ ➌ {ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ:} یعنی اگر ان میں کچھ بھی عقل ہوتی تو اذان کی آواز سن کر ان کے دل نرم پڑ جاتے، وہ حق کی طرف متوجہ ہوتے، یا کم از کم مسلمانوں سے دینی اختلاف رکھنے کے باوجود اس قسم کی گھٹیا حرکتیں نہ کرتے۔
قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ ہَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ ۙ وَ اَنَّ اَکۡثَرَکُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۵۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن سے کہو، "اے اہل کتاب! تم جس بات پر ہم سے بگڑے ہو وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہم اللہ پر اور دین کی اُس تعلیم پر ایمان لے آئے ہیں جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور ہم سے پہلے بھی نازل ہوئی تھی، اور تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجیئے اے یہودیوں اور نصرانیو! تم ہم سے صرف اس وجہ سے دشمنیاں کر رہے ہو کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو کچھ ہماری جانب نازل کیا گیا ہے اور جو کچھ اس سے پہلے اتارا گیا ہے اس پر ایمان ﻻئے ہیں اور اس لئے بھی کہ تم میں اکثر فاسق ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ اے کتابیوں تمہیں ہمارا کیا برا لگا یہی نہ کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور اس پر جو پہلے اترا اور یہ کہ تم میں اکثر بے حکم ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) کہیے! اے اہل کتاب تم ہم پر کیا عیب لگاتے ہو؟ یہی کہ ہم اللہ پر، جو کچھ ہم پر اتارا گیا ہے۔ اس پر اور جو اس سے پہلے اتارا گیا، اس پر ایمان لائے ہیں (حقیقت یہ ہے کہ) تم میں سے زیادہ تر فاسق (نافرمان) ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اے اہل کتاب! تم ہم سے اس کے سوا کس چیز کا انتقام لیتے ہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو اس سے پہلے نازل کیا گیا اور یہ کہ تمھارے اکثر نافرمان ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بدترین گروہ اور اس کا انجام ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ ’ جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں ‘۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ» [85-البروج:8] ‏‏‏‏، یعنی ’ فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز و حمید کو مانتے تھے ‘۔ اور جیسے اور آیت میں «وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ» ۱؎ [9-التوبة:74] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مال دے کر غنی کر دیا ہے ‘۔

بخاری مسلم کی حدیث میں ہے { ابن جمیل اسی کا بدلہ لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کر دیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1468] ‏‏‏‏ اور یہ کہ تم میں سے اکثر صراط مستقیم سے الگ اور خارج ہو چکے ہیں، تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں سے بدلہ پانے میں کون بدتر ہے؟ اور وہ تم ہو کہ کیونکہ یہ خصلتیں تم میں ہی پائی جاتی ہیں۔ یعنی جسے اللہ نے لعنت کی ہو، اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہو، اس پر غصبناک ہوا ہو، ایسا جس کے بعد رضامند نہیں ہوگا اور جن میں سے بعض کی صورتیں بگاڑ دی ہوں، بندر اور سور بنا دیئے ہوں۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ میں گزر چکا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ یہ بندر و سور وہی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس قوم پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہوتا ہے، ان کی نسل ہی نہیں ہوتی، ان سے پہلے بھی سور اور بندر تھے } }۔ روایت مختلف الفاظ میں صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2663] ‏‏‏‏

مسند میں ہے کہ { جنوں کی ایک قوم سانپ بنا دی گئی تھی۔ جیسے کہ بندر اور سور بنا دیئے گئے }۔ ۱؎ [مسند احمد:348/1:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے، { انہی میں سے بعض کو غیر اللہ کے پرستار بنا دیئے }۔ ایک قرأت میں اضافت کے ساتھ طاغوت کی زیر سے بھی ہے۔ یعنی ’ انہیں بتوں کا غلام بنا دیا ‘۔ برید اسلمی رحمہ اللہ اسے «عَابِدُ الطَّاغُوْتِ» پڑھتے تھے۔ ابو جعفر قاری رحمہ اللہ سے «وَعْبِدَ الطَّاغُوْتُ» بھی منقول ہے جو بعید از معنی ہو جاتا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا مطلب یہ ہے کہ ’ تم ہی وہ ہو، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی ‘۔ الغرض اہل کتاب کو الزام دیا جاتا ہے کہ ہم پر تو عیب گیری کرتے ہو، حالانکہ ہم موحد ہیں، صرف ایک اللہ برحق کے ماننے والے ہیں اور تم تو وہ ہو کہ مذکورہ سب برائیاں تم میں پائی گئیں۔ اسی لیے خاتمے پر فرمایا کہ یہی لوگ باعتبار قدر و منزلت کے بہت برے ہیں اور باعتبار گمراہی کے انتہائی غلط راہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس افعل التفصیل میں دوسری جانب کچھ مشارکت نہیں اور یہاں تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ جیسے اس آیت میں «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24] ‏‏‏‏ پھر منافقوں کی ایک اور بدخصلت بیان کی جا رہی ہے کہ ’ ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں، تیری نصیحتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ بھلا یہ پردہ داری انہیں کیا کام آئے گی، جس سے ان کا معاملہ ہے، وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ وہاں جا کر پورا پورا بدلہ بھگتنا پڑے گا ‘۔

’ تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ گناہوں پر، حرام پر اور باطل کے ساتھ لوگوں کے مال پر کس طرح چڑھ دوڑتے ہیں؟ ان کے اعمال نہایت ہی خراب ہو چکے ہیں۔ ان کے اولیاء اللہ یعنی عابد و عالم اور ان کے علماء انہیں ان باتوں سے کیوں نہیں روکتے؟ دراصل ان کے علماء اور پیروں کے اعمال بدترین ہوگئے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”علماء اور فقراء کی ڈانٹ کیلئے اس سے زیادہ سخت آیت کوئی نہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمة الله سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”لوگو تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کر دیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے تو ان کے عالم اور اللہ والے خاموش رہتے تھے، جب یہ عادت ان میں پختہ ہو گئی تو اللہ نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں۔ پس تمہیں چاہیئے کہ بھلائی کا حکم کرو، برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آ جائیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے، یقین رکھو کہ اچھائی کا حکم برائی سے ممانعت نہ تو تمہارے روزی گھٹائے گا، نہ تمہارے موت قریب کر دے گا۔‏‏‏‏“ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { جس قوم میں کوئی اللہ کی نافرمانی کرے اور وہ لوگ باوجود روکنے کی قدرت اور غلبے کے اسے نہ مٹائیں تو اللہ تعالیٰ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:363/3:حسن] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے کہ { یہ عذاب ان کی موت سے پہلے ہی آئے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4339،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4009،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 59)➊ {وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ:} یعنی پہلی کتابوں پر، جیسے تورات، انجیل اور زبور وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ تم جانتے ہو کہ ہمارا ایمان انھی چیزوں پر ہے جنھیں تم بھی صحیح مانتے ہو، پھر تم ہم سے کس بات کا انتقام لیتے ہو اور ہمارا کیا عیب ہے جس کی وجہ سے تم ہم سے دشمنی رکھتے ہو؟ ➋ {وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ:} اصل بات یہ ہے کہ تم میں سے اکثر لوگ فاسق (نا فرمان) اور بدکار ہیں اور تمھاری ساری مذہبی اجارہ داری گروہی تعصب اور غلط قسم کی روایات پر قائم ہے، اس لیے تم اپنے سوا کسی دوسرے میں کوئی اچھی بات دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ فاسق کی تو روایت ہی قابل قبول نہیں، کیونکہ اسے جھوٹ سے کوئی پرہیز نہیں ہوتا، اس لیے اسلام کے خلاف تمھاری تمام روایات و حرکات بے وقعت ہیں۔ قرآن مجید کا انصاف ملاحظہ فرمائیے کہ شدید غضب کے باوجود ان سب کو نہیں بلکہ اکثر کو فاسق کہا ہے۔ کیونکہ ان میں کچھ لوگ فاسق نہیں تھے اور یہ وہ لوگ تھے جو اسلام کی دعوت سن کر ایمان لانے والے تھے۔
قُلۡ ہَلۡ اُنَبِّئُکُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِکَ مَثُوۡبَۃً عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ مَنۡ لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَ غَضِبَ عَلَیۡہِ وَ جَعَلَ مِنۡہُمُ الۡقِرَدَۃَ وَ الۡخَنَازِیۡرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوۡتَ ؕ اُولٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّ اَضَلُّ عَنۡ سَوَآءِ السَّبِیۡلِ ﴿۶۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر کہو "کیا میں اُن لوگوں کی نشاندہی کروں جن کا انجام خدا کے ہاں فاسقوں کے انجام سے بھی بدتر ہے؟ وہ جن پر خدا نے لعنت کی، جن پر اُس کا غضب ٹوٹا، جن میں سے بندر اور سور بنائے گئے، جنہوں نے طاغوت کی بندگی کی ان کا درجہ اور بھی زیادہ برا ہے اور وہ سَوَا٫ السّبیل سے بہت زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجیئے کہ کیا میں تمہیں بتاؤں؟ کہ اس سے بھی زیاده برے اجر پانے واﻻ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون ہے؟ وه جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی اور اس پر وه غصہ ہوا اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے معبودان باطل کی پرستش کی، یہی لوگ بدتر درجے والے ہیں اور یہی راه راست سے بہت زیاده بھٹکنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ کیا میں بتادوں جو اللہ کے یہاں اس سے بدتر درجہ میں ہیں وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پر غضب فرمایا اور ان میں سے کردیے بندر اور سور اور شیطان کے پجاری ان کا ٹھکانا زیادہ برا ہے اور یہ سیدھی راہ سے زیادہ بہکے،
علامہ محمد حسین نجفی
کہیئے! کیا میں بتاؤں؟ کہ اللہ کے نزدیک انجام کے اعتبار سے زیادہ بُرا کون ہے؟ وہ ہے جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر وہ غضبناک ہے۔ اور جس میں سے اس نے بعض کو بندر اور بعض کو سور بنایا ہے اور جس نے شیطان (معبود باطل) کی عبادت کی ہو یہی وہ لوگ ہیں جوکہ درجہ کے لحاظ سے بدترین ہیں اور راہِ راست سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے کیا میں تمھیں اللہ کے نزدیک جزا کے اعتبار سے اس سے زیادہ برے لوگ بتائوں، وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور جن پر غصے ہوا اور جن میں سے بندر اور خنزیر بنا دیے اور جنھوں نے طاغوت کی عبادت کی، یہ لوگ درجے میں زیادہ برے اور سیدھے راستے سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بدترین گروہ اور اس کا انجام ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ ’ جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں ‘۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ» [85-البروج:8] ‏‏‏‏، یعنی ’ فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز و حمید کو مانتے تھے ‘۔ اور جیسے اور آیت میں «وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ» ۱؎ [9-التوبة:74] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مال دے کر غنی کر دیا ہے ‘۔

بخاری مسلم کی حدیث میں ہے { ابن جمیل اسی کا بدلہ لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کر دیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1468] ‏‏‏‏ اور یہ کہ تم میں سے اکثر صراط مستقیم سے الگ اور خارج ہو چکے ہیں، تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں سے بدلہ پانے میں کون بدتر ہے؟ اور وہ تم ہو کہ کیونکہ یہ خصلتیں تم میں ہی پائی جاتی ہیں۔ یعنی جسے اللہ نے لعنت کی ہو، اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہو، اس پر غصبناک ہوا ہو، ایسا جس کے بعد رضامند نہیں ہوگا اور جن میں سے بعض کی صورتیں بگاڑ دی ہوں، بندر اور سور بنا دیئے ہوں۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ میں گزر چکا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ یہ بندر و سور وہی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس قوم پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہوتا ہے، ان کی نسل ہی نہیں ہوتی، ان سے پہلے بھی سور اور بندر تھے } }۔ روایت مختلف الفاظ میں صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2663] ‏‏‏‏

مسند میں ہے کہ { جنوں کی ایک قوم سانپ بنا دی گئی تھی۔ جیسے کہ بندر اور سور بنا دیئے گئے }۔ ۱؎ [مسند احمد:348/1:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے، { انہی میں سے بعض کو غیر اللہ کے پرستار بنا دیئے }۔ ایک قرأت میں اضافت کے ساتھ طاغوت کی زیر سے بھی ہے۔ یعنی ’ انہیں بتوں کا غلام بنا دیا ‘۔ برید اسلمی رحمہ اللہ اسے «عَابِدُ الطَّاغُوْتِ» پڑھتے تھے۔ ابو جعفر قاری رحمہ اللہ سے «وَعْبِدَ الطَّاغُوْتُ» بھی منقول ہے جو بعید از معنی ہو جاتا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا مطلب یہ ہے کہ ’ تم ہی وہ ہو، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی ‘۔ الغرض اہل کتاب کو الزام دیا جاتا ہے کہ ہم پر تو عیب گیری کرتے ہو، حالانکہ ہم موحد ہیں، صرف ایک اللہ برحق کے ماننے والے ہیں اور تم تو وہ ہو کہ مذکورہ سب برائیاں تم میں پائی گئیں۔ اسی لیے خاتمے پر فرمایا کہ یہی لوگ باعتبار قدر و منزلت کے بہت برے ہیں اور باعتبار گمراہی کے انتہائی غلط راہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس افعل التفصیل میں دوسری جانب کچھ مشارکت نہیں اور یہاں تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ جیسے اس آیت میں «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24] ‏‏‏‏ پھر منافقوں کی ایک اور بدخصلت بیان کی جا رہی ہے کہ ’ ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں، تیری نصیحتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ بھلا یہ پردہ داری انہیں کیا کام آئے گی، جس سے ان کا معاملہ ہے، وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ وہاں جا کر پورا پورا بدلہ بھگتنا پڑے گا ‘۔

’ تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ گناہوں پر، حرام پر اور باطل کے ساتھ لوگوں کے مال پر کس طرح چڑھ دوڑتے ہیں؟ ان کے اعمال نہایت ہی خراب ہو چکے ہیں۔ ان کے اولیاء اللہ یعنی عابد و عالم اور ان کے علماء انہیں ان باتوں سے کیوں نہیں روکتے؟ دراصل ان کے علماء اور پیروں کے اعمال بدترین ہوگئے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”علماء اور فقراء کی ڈانٹ کیلئے اس سے زیادہ سخت آیت کوئی نہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمة الله سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”لوگو تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کر دیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے تو ان کے عالم اور اللہ والے خاموش رہتے تھے، جب یہ عادت ان میں پختہ ہو گئی تو اللہ نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں۔ پس تمہیں چاہیئے کہ بھلائی کا حکم کرو، برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آ جائیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے، یقین رکھو کہ اچھائی کا حکم برائی سے ممانعت نہ تو تمہارے روزی گھٹائے گا، نہ تمہارے موت قریب کر دے گا۔‏‏‏‏“ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { جس قوم میں کوئی اللہ کی نافرمانی کرے اور وہ لوگ باوجود روکنے کی قدرت اور غلبے کے اسے نہ مٹائیں تو اللہ تعالیٰ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:363/3:حسن] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے کہ { یہ عذاب ان کی موت سے پہلے ہی آئے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4339،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4009،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
60۔ 1 یعنی تم تو (اے اہل کتاب!) ہم سے یوں ناراض ہو جب کہ ہمارا قصور اس کے سوا کوئی نہیں کہ ہم اللہ پر اور قرآن کریم اور اس سے قبل اتاری گئی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں، کیا یہ بھی کوئی قصور یا عیب ہے؟ یعنی یہ عیب اور مذمت والی بات نہیں جیسا کہ تم نے سمجھ لیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ استشناء منقطع ہے۔ البتہ ہم تمہیں بتلاتے ہیں کہ یہ بدترین لوگ ہیں اور گمراہ ترین لوگ، جو نفرت اور مذمت کے قابل ہیں، کون ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کا غضب ہوا جن میں سے بعض اللہ تعالیٰ نے بندر اور سور بنادیا اور جنہوں نے طاغوت کی پوجا کی۔ اور اس آئینے میں تم اپنا چہرا اور کردار دیکھ لو! کہ یہ کن کی تاریخ ہے اور کون لوگ ہیں؟ کیا یہ تم ہی نہیں ہو؟
(آیت 60)➊{ قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ:} یعنی تمھارے گمان میں ہم برے ہیں، اس لیے تم ہم پر عیب لگاتے ہو اور انتقام لینے کی کوشش کرتے ہو، لیکن ذرا اپنی تاریخ پر بھی غور کرو اور اپنے ان پہلوں کے بارے میں بھی کچھ کہنے کی جرأت کرو جن کا انجام اﷲ کے ہاں اس سے بھی کہیں بدتر ہوا اور ہونے والا ہے، جس کا تم ہمارے بارے میں دعویٰ کرتے ہو۔ یہ لوگ تمھارے ہی آباء و اجداد تھے جو دین کا مذاق اڑانے اور مختلف جرائم کے مرتکب ہونے کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ کی لعنت اور اس کے غضب میں مبتلا ہوئے، ان میں سے بہت سوں (اصحاب سبت) کی صورتیں مسخ کر کے انھیں بندر اور خنزیر بنا دیا گیا اور جو شیطان کی اطاعت میں اس حد تک نکل گئے کہ انھوں نے طاغوت کی عبادت شروع کر دی، جیسے سامری کا بنایا ہوا بچھڑا، جو دراصل شیطان ہی کی پوجا تھی۔ ➋ {اُولٰٓىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ:} یعنی تم ہمیں کتنا ہی گمراہ کہہ لو، لیکن یہ بات مانے بغیر چارہ نہیں کہ تمھارے باپ دادا یقینا گمراہ تھے اور ان کا انجام اﷲ کے ہاں بہت برا ہو گا۔
وَ اِذَا جَآءُوۡکُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَ قَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡکُفۡرِ وَ ہُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا کَانُوۡا یَکۡتُمُوۡنَ ﴿۶۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب یہ تم لوگوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، حالانکہ کفر لیے ہوئے آئے تھے اور کفر ہی لیے ہوئے واپس گئے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے حاﻻنکہ وه کفر لئے ہوئے ہی آئے تھے اور اسی کفر کے ساتھ ہی گئے بھی اور یہ جو کچھ چھپا رہے ہیں اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب تمہارے پاس آئیں ہم مسلمان ہیں اور وہ آتے وقت بھی کافر تھے اور جاتے وقت بھی کافر، اور اللہ خوب جانتا ہے جو چھپا رہے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ جب آپ لوگوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں حالانکہ وہ یہاں داخل ہوئے تو بھی کفر کے ساتھ اور یہاں سے نکلے تو بھی کفر کے ساتھ اور وہ لوگ جو (نفاق) چھپائے ہوئے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب وہ تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے، حالانکہ یقینا وہ کفر کے ساتھ داخل ہوئے اور یقینا اسی کے ساتھ وہ نکل گئے اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو وہ چھپاتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بدترین گروہ اور اس کا انجام ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ ’ جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں ‘۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ» [85-البروج:8] ‏‏‏‏، یعنی ’ فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز و حمید کو مانتے تھے ‘۔ اور جیسے اور آیت میں «وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ» ۱؎ [9-التوبة:74] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مال دے کر غنی کر دیا ہے ‘۔

بخاری مسلم کی حدیث میں ہے { ابن جمیل اسی کا بدلہ لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کر دیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1468] ‏‏‏‏ اور یہ کہ تم میں سے اکثر صراط مستقیم سے الگ اور خارج ہو چکے ہیں، تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں سے بدلہ پانے میں کون بدتر ہے؟ اور وہ تم ہو کہ کیونکہ یہ خصلتیں تم میں ہی پائی جاتی ہیں۔ یعنی جسے اللہ نے لعنت کی ہو، اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہو، اس پر غصبناک ہوا ہو، ایسا جس کے بعد رضامند نہیں ہوگا اور جن میں سے بعض کی صورتیں بگاڑ دی ہوں، بندر اور سور بنا دیئے ہوں۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ میں گزر چکا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ یہ بندر و سور وہی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس قوم پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہوتا ہے، ان کی نسل ہی نہیں ہوتی، ان سے پہلے بھی سور اور بندر تھے } }۔ روایت مختلف الفاظ میں صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2663] ‏‏‏‏

مسند میں ہے کہ { جنوں کی ایک قوم سانپ بنا دی گئی تھی۔ جیسے کہ بندر اور سور بنا دیئے گئے }۔ ۱؎ [مسند احمد:348/1:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے، { انہی میں سے بعض کو غیر اللہ کے پرستار بنا دیئے }۔ ایک قرأت میں اضافت کے ساتھ طاغوت کی زیر سے بھی ہے۔ یعنی ’ انہیں بتوں کا غلام بنا دیا ‘۔ برید اسلمی رحمہ اللہ اسے «عَابِدُ الطَّاغُوْتِ» پڑھتے تھے۔ ابو جعفر قاری رحمہ اللہ سے «وَعْبِدَ الطَّاغُوْتُ» بھی منقول ہے جو بعید از معنی ہو جاتا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا مطلب یہ ہے کہ ’ تم ہی وہ ہو، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی ‘۔ الغرض اہل کتاب کو الزام دیا جاتا ہے کہ ہم پر تو عیب گیری کرتے ہو، حالانکہ ہم موحد ہیں، صرف ایک اللہ برحق کے ماننے والے ہیں اور تم تو وہ ہو کہ مذکورہ سب برائیاں تم میں پائی گئیں۔ اسی لیے خاتمے پر فرمایا کہ یہی لوگ باعتبار قدر و منزلت کے بہت برے ہیں اور باعتبار گمراہی کے انتہائی غلط راہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس افعل التفصیل میں دوسری جانب کچھ مشارکت نہیں اور یہاں تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ جیسے اس آیت میں «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24] ‏‏‏‏ پھر منافقوں کی ایک اور بدخصلت بیان کی جا رہی ہے کہ ’ ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں، تیری نصیحتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ بھلا یہ پردہ داری انہیں کیا کام آئے گی، جس سے ان کا معاملہ ہے، وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ وہاں جا کر پورا پورا بدلہ بھگتنا پڑے گا ‘۔

’ تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ گناہوں پر، حرام پر اور باطل کے ساتھ لوگوں کے مال پر کس طرح چڑھ دوڑتے ہیں؟ ان کے اعمال نہایت ہی خراب ہو چکے ہیں۔ ان کے اولیاء اللہ یعنی عابد و عالم اور ان کے علماء انہیں ان باتوں سے کیوں نہیں روکتے؟ دراصل ان کے علماء اور پیروں کے اعمال بدترین ہوگئے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”علماء اور فقراء کی ڈانٹ کیلئے اس سے زیادہ سخت آیت کوئی نہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمة الله سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”لوگو تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کر دیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے تو ان کے عالم اور اللہ والے خاموش رہتے تھے، جب یہ عادت ان میں پختہ ہو گئی تو اللہ نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں۔ پس تمہیں چاہیئے کہ بھلائی کا حکم کرو، برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آ جائیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے، یقین رکھو کہ اچھائی کا حکم برائی سے ممانعت نہ تو تمہارے روزی گھٹائے گا، نہ تمہارے موت قریب کر دے گا۔‏‏‏‏“ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { جس قوم میں کوئی اللہ کی نافرمانی کرے اور وہ لوگ باوجود روکنے کی قدرت اور غلبے کے اسے نہ مٹائیں تو اللہ تعالیٰ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:363/3:حسن] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے کہ { یہ عذاب ان کی موت سے پہلے ہی آئے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4339،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4009،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
61۔ 1 یہ منافقین کا ذکر ہے جو نبی کی خدمت میں کفر کے ساتھ ہی آتے ہیں اور اسی کفر کے ساتھ واپس چلے جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور آپ کے واعظ و نصیحت کا کوئی اثر ان پر نہیں ہوتا۔ کیونکہ دل میں تو کفر چھپا ہوتا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری سے مقصد ہدایت کا حصول نہیں، بلکہ دھوکہ اور فریب دینا ہوتا ہے، تو پھر ایسی حاضری سے فائدہ بھی کیا ہوسکتا ہے؟
(آیت 61) ➊ {وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا ……:} اس سے یہود کے وہ منافق مراد ہیں جو مدینہ اور اس کے قرب و جوار میں رہتے تھے۔ (کبیر) ➋ {وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا يَكْتُمُوْنَ:} یعنی ان کے دلوں میں مسلمانوں کے متعلق بہت زیادہ بغض و حسد بھرا ہوا ہے۔ ورنہ اگر وہ تمھارے پاس دل میں کفر لے کر نہ آئے ہوتے تو ان پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اور مسلمانوں کی مجلس کا کچھ اثر تو ضرور ہوتا اور کفر میں کچھ کمی ہوتی، مگر وہ نکلتے وقت بھی اتنا یا اس سے کچھ زیادہ ہی کفر لے کر واپس گئے جتنا لے کر آئے تھے۔
وَ تَرٰی کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۶۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں بہت بری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر گناه کے کاموں کی طرف اور ﻇلم وزیادتی کی طرف اور مال حرام کھانے کی طرف لپک رہے ہیں، جو کچھ یہ کر رہے ہیں وه نہایت برے کام ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں تم بہتوں کو دیکھو گے کہ گناہ اور زیادتی اور حرام خوری پر دوڑتے ہیں بیشک بہت ہی برے کام کرتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
تم ان میں سے بہتوں کو دیکھوگے کہ وہ گناہ، ظلم و تعدی کرنے اور حرام خوری میں بڑی تیزی دکھاتے ہیں، کتنا برا ہے، وہ کام جو یہ کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور تو ان میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھے گا کہ وہ گناہ اور زیادتی اور اپنی حرام خوری میں دوڑ کر جاتے ہیں۔ یقینا برا ہے جو وہ عمل کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بدترین گروہ اور اس کا انجام ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ ’ جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں ‘۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ» [85-البروج:8] ‏‏‏‏، یعنی ’ فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز و حمید کو مانتے تھے ‘۔ اور جیسے اور آیت میں «وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ» ۱؎ [9-التوبة:74] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مال دے کر غنی کر دیا ہے ‘۔

بخاری مسلم کی حدیث میں ہے { ابن جمیل اسی کا بدلہ لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کر دیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1468] ‏‏‏‏ اور یہ کہ تم میں سے اکثر صراط مستقیم سے الگ اور خارج ہو چکے ہیں، تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں سے بدلہ پانے میں کون بدتر ہے؟ اور وہ تم ہو کہ کیونکہ یہ خصلتیں تم میں ہی پائی جاتی ہیں۔ یعنی جسے اللہ نے لعنت کی ہو، اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہو، اس پر غصبناک ہوا ہو، ایسا جس کے بعد رضامند نہیں ہوگا اور جن میں سے بعض کی صورتیں بگاڑ دی ہوں، بندر اور سور بنا دیئے ہوں۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ میں گزر چکا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ یہ بندر و سور وہی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس قوم پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہوتا ہے، ان کی نسل ہی نہیں ہوتی، ان سے پہلے بھی سور اور بندر تھے } }۔ روایت مختلف الفاظ میں صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2663] ‏‏‏‏

مسند میں ہے کہ { جنوں کی ایک قوم سانپ بنا دی گئی تھی۔ جیسے کہ بندر اور سور بنا دیئے گئے }۔ ۱؎ [مسند احمد:348/1:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے، { انہی میں سے بعض کو غیر اللہ کے پرستار بنا دیئے }۔ ایک قرأت میں اضافت کے ساتھ طاغوت کی زیر سے بھی ہے۔ یعنی ’ انہیں بتوں کا غلام بنا دیا ‘۔ برید اسلمی رحمہ اللہ اسے «عَابِدُ الطَّاغُوْتِ» پڑھتے تھے۔ ابو جعفر قاری رحمہ اللہ سے «وَعْبِدَ الطَّاغُوْتُ» بھی منقول ہے جو بعید از معنی ہو جاتا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا مطلب یہ ہے کہ ’ تم ہی وہ ہو، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی ‘۔ الغرض اہل کتاب کو الزام دیا جاتا ہے کہ ہم پر تو عیب گیری کرتے ہو، حالانکہ ہم موحد ہیں، صرف ایک اللہ برحق کے ماننے والے ہیں اور تم تو وہ ہو کہ مذکورہ سب برائیاں تم میں پائی گئیں۔ اسی لیے خاتمے پر فرمایا کہ یہی لوگ باعتبار قدر و منزلت کے بہت برے ہیں اور باعتبار گمراہی کے انتہائی غلط راہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس افعل التفصیل میں دوسری جانب کچھ مشارکت نہیں اور یہاں تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ جیسے اس آیت میں «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24] ‏‏‏‏ پھر منافقوں کی ایک اور بدخصلت بیان کی جا رہی ہے کہ ’ ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں، تیری نصیحتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ بھلا یہ پردہ داری انہیں کیا کام آئے گی، جس سے ان کا معاملہ ہے، وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ وہاں جا کر پورا پورا بدلہ بھگتنا پڑے گا ‘۔

’ تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ گناہوں پر، حرام پر اور باطل کے ساتھ لوگوں کے مال پر کس طرح چڑھ دوڑتے ہیں؟ ان کے اعمال نہایت ہی خراب ہو چکے ہیں۔ ان کے اولیاء اللہ یعنی عابد و عالم اور ان کے علماء انہیں ان باتوں سے کیوں نہیں روکتے؟ دراصل ان کے علماء اور پیروں کے اعمال بدترین ہوگئے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”علماء اور فقراء کی ڈانٹ کیلئے اس سے زیادہ سخت آیت کوئی نہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمة الله سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”لوگو تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کر دیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے تو ان کے عالم اور اللہ والے خاموش رہتے تھے، جب یہ عادت ان میں پختہ ہو گئی تو اللہ نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں۔ پس تمہیں چاہیئے کہ بھلائی کا حکم کرو، برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آ جائیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے، یقین رکھو کہ اچھائی کا حکم برائی سے ممانعت نہ تو تمہارے روزی گھٹائے گا، نہ تمہارے موت قریب کر دے گا۔‏‏‏‏“ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { جس قوم میں کوئی اللہ کی نافرمانی کرے اور وہ لوگ باوجود روکنے کی قدرت اور غلبے کے اسے نہ مٹائیں تو اللہ تعالیٰ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:363/3:حسن] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے کہ { یہ عذاب ان کی موت سے پہلے ہی آئے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4339،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4009،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 63,62) {لَوْ لَا يَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ:} یعنی جس طرح گناہ کرنا جرم ہے اسی طرح گناہ سے نہ روکنا بھی جرم ہے۔ جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”کوئی بھی شخص جو ایسی قوم میں ہو جن میں معاصی کا ارتکاب کیا جاتا ہو جو اسے روکنے کی قدرت رکھتے ہوں مگر اسے نہ روکیں تو اﷲ تعالیٰ ان کے مرنے سے پہلے ان پر کوئی عذاب بھیجے گا۔۔“ [ أبو داوٗد، الملاحم، باب الامر والنہی: ۴۳۳۹ وحسنہ الألبانی ] ان کے علماء اور مشائخ انھیں جھوٹ کہنے اور حرام کھانے سے کیوں منع نہیں کرتے، یقینا ان کے علماء و مشائخ بھی جو کرتے چلے آئے ہیں بہت برا ہے کہ انھیں منع کرنے کے بجائے وہ خود بھی جھوٹ کہہ کر اسلام سے روکتے اور سحت (رشوت اور حرام) کھاتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۳۴)۔
لَوۡ لَا یَنۡہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَ الۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِہِمُ الۡاِثۡمَ وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۶۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیوں اِن کے عُلما٫ اور مشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے نہیں روکتے؟ یقیناً بہت ہی برا کارنامہ زندگی ہے جو وہ تیار کر رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
انہیں ان کے عابد وعالم جھوٹ باتوں کے کہنے اور حرام چیزوں کے کھانے سے کیوں نہیں روکتے، بےشک برا کام ہے جو یہ کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
انہیں کیوں نہیں منع کرتے ان کے پادری اور درویش گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے، بیشک بہت ہی برے کام کررہے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
خدا والے فضلاء اور علماء ان کو گناہ کی بات کرنے (جھوٹ بولنے) اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے؟ کتنا برا ہے وہ کام جو یہ (علماء) کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
انھیں رب والے لوگ اور علماء ان کے جھوٹ کہنے اور ان کے حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے؟ یقینا برا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بدترین گروہ اور اس کا انجام ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ ’ جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں ‘۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ» [85-البروج:8] ‏‏‏‏، یعنی ’ فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز و حمید کو مانتے تھے ‘۔ اور جیسے اور آیت میں «وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ» ۱؎ [9-التوبة:74] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مال دے کر غنی کر دیا ہے ‘۔

بخاری مسلم کی حدیث میں ہے { ابن جمیل اسی کا بدلہ لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کر دیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1468] ‏‏‏‏ اور یہ کہ تم میں سے اکثر صراط مستقیم سے الگ اور خارج ہو چکے ہیں، تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں سے بدلہ پانے میں کون بدتر ہے؟ اور وہ تم ہو کہ کیونکہ یہ خصلتیں تم میں ہی پائی جاتی ہیں۔ یعنی جسے اللہ نے لعنت کی ہو، اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہو، اس پر غصبناک ہوا ہو، ایسا جس کے بعد رضامند نہیں ہوگا اور جن میں سے بعض کی صورتیں بگاڑ دی ہوں، بندر اور سور بنا دیئے ہوں۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ میں گزر چکا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ یہ بندر و سور وہی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس قوم پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہوتا ہے، ان کی نسل ہی نہیں ہوتی، ان سے پہلے بھی سور اور بندر تھے } }۔ روایت مختلف الفاظ میں صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2663] ‏‏‏‏

مسند میں ہے کہ { جنوں کی ایک قوم سانپ بنا دی گئی تھی۔ جیسے کہ بندر اور سور بنا دیئے گئے }۔ ۱؎ [مسند احمد:348/1:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے، { انہی میں سے بعض کو غیر اللہ کے پرستار بنا دیئے }۔ ایک قرأت میں اضافت کے ساتھ طاغوت کی زیر سے بھی ہے۔ یعنی ’ انہیں بتوں کا غلام بنا دیا ‘۔ برید اسلمی رحمہ اللہ اسے «عَابِدُ الطَّاغُوْتِ» پڑھتے تھے۔ ابو جعفر قاری رحمہ اللہ سے «وَعْبِدَ الطَّاغُوْتُ» بھی منقول ہے جو بعید از معنی ہو جاتا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا مطلب یہ ہے کہ ’ تم ہی وہ ہو، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی ‘۔ الغرض اہل کتاب کو الزام دیا جاتا ہے کہ ہم پر تو عیب گیری کرتے ہو، حالانکہ ہم موحد ہیں، صرف ایک اللہ برحق کے ماننے والے ہیں اور تم تو وہ ہو کہ مذکورہ سب برائیاں تم میں پائی گئیں۔ اسی لیے خاتمے پر فرمایا کہ یہی لوگ باعتبار قدر و منزلت کے بہت برے ہیں اور باعتبار گمراہی کے انتہائی غلط راہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس افعل التفصیل میں دوسری جانب کچھ مشارکت نہیں اور یہاں تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ جیسے اس آیت میں «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24] ‏‏‏‏ پھر منافقوں کی ایک اور بدخصلت بیان کی جا رہی ہے کہ ’ ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں، تیری نصیحتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ بھلا یہ پردہ داری انہیں کیا کام آئے گی، جس سے ان کا معاملہ ہے، وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ وہاں جا کر پورا پورا بدلہ بھگتنا پڑے گا ‘۔

’ تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ گناہوں پر، حرام پر اور باطل کے ساتھ لوگوں کے مال پر کس طرح چڑھ دوڑتے ہیں؟ ان کے اعمال نہایت ہی خراب ہو چکے ہیں۔ ان کے اولیاء اللہ یعنی عابد و عالم اور ان کے علماء انہیں ان باتوں سے کیوں نہیں روکتے؟ دراصل ان کے علماء اور پیروں کے اعمال بدترین ہوگئے ہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”علماء اور فقراء کی ڈانٹ کیلئے اس سے زیادہ سخت آیت کوئی نہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمة الله سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”لوگو تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کر دیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے تو ان کے عالم اور اللہ والے خاموش رہتے تھے، جب یہ عادت ان میں پختہ ہو گئی تو اللہ نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں۔ پس تمہیں چاہیئے کہ بھلائی کا حکم کرو، برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آ جائیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے، یقین رکھو کہ اچھائی کا حکم برائی سے ممانعت نہ تو تمہارے روزی گھٹائے گا، نہ تمہارے موت قریب کر دے گا۔‏‏‏‏“ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { جس قوم میں کوئی اللہ کی نافرمانی کرے اور وہ لوگ باوجود روکنے کی قدرت اور غلبے کے اسے نہ مٹائیں تو اللہ تعالیٰ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:363/3:حسن] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے کہ { یہ عذاب ان کی موت سے پہلے ہی آئے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4339،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4009،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
63۔ 1 یہ علماء و مشائخ دین اور عباد و زہاد پر نکیر ہے کہ عوام کی اکثریت تمہارے سامنے بدکاری اور حرام خوری کا ارتکاب کرتی ہے لیکن تم انہیں منع نہیں کرتے ایسے حالات میں تمہاری یہ خاموشی بہت بڑا جرم ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی کتنی اہمیت ہے اور اس کے ترک پر کتنی سخت وعید (سزا) کی گئی ہے۔ احادیث میں بھی یہ مضمون وضاحت اور کثرت سے بیان کیا گیا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ یَدُ اللّٰہِ مَغۡلُوۡلَۃٌ ؕ غُلَّتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ لُعِنُوۡا بِمَا قَالُوۡا ۘ بَلۡ یَدٰہُ مَبۡسُوۡطَتٰنِ ۙ یُنۡفِقُ کَیۡفَ یَشَآءُ ؕ وَ لَیَزِیۡدَنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا ؕ وَ اَلۡقَیۡنَا بَیۡنَہُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ؕ کُلَّمَاۤ اَوۡقَدُوۡا نَارًا لِّلۡحَرۡبِ اَطۡفَاَہَا اللّٰہُ ۙ وَ یَسۡعَوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَسَادًا ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۶۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہودی کہتے ہیں اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں باندھے گئے ان کے ہاتھ، اور لعنت پڑی اِن پر اُس بکواس کی بدولت جو یہ کرتے ہیں اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں، جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے حقیقت یہ ہے کہ جو کلام تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی و باطل پرستی میں الٹے اضافہ کا موجب بن گیا ہے، اور (اس کی پاداش میں) ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت اور دشمنی ڈال دی ہے جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اُس کو ٹھنڈا کر دیتا ہے یہ زمین میں فساد پھیلانے کی سعی کر رہے ہیں مگر اللہ فساد برپا کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہودیوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ انہی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور ان کے اس قول کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی، بلکہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اتارا جاتا ہے وه ان میں سے اکثر کو تو سرکشی اور کفر میں اور بڑھا دیتا ہے اور ہم نے ان میں آپس میں ہی قیامت تک کے لئے عداوت اور بغض ڈال دیا ہے، وه جب کبھی لڑائی کی آگ کو بھڑکانا چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے بجھا دیتا ہے، یہ ملک بھر میں شر وفساد مچاتے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فسادیوں سے محبت نہیں کرتا
احمد رضا خان بریلوی
اور یہودی بولے اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے ان کے ہاتھ باندھے جائیں اور ان پر اس کہنے سے لعنت ہے بلکہ اس کے ہاتھ کشادہ ہیں عطا فرماتا ہے جیسے چاہے اور اے محبوب! یہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اس سے ان میں بہتوں کو شرارت اور کفر میں ترقی ہوگی اور ان میں ہم نے قیامت تک آپس میں دشمنی اور بیر ڈال دیا جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے اور زمین میں فساد کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں، اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہودی کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ بندھا ہوا ہے (کچھ نہیں کر سکتا) ان کے ہاتھ بندھیں اور اس (بے ادبانہ) قول کی وجہ سے ان پر لعنت ہو۔ بلکہ اس کے ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔ وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے۔ وہ ان میں سے بہت سوں کی سرکشی اور کفر میں اضافہ کرتا ہے اور ہم نے ان کے درمیان قیامت تک دشمنی اور بغض و کینہ ڈال دیا ہے۔ وہ جب بھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں۔ تو اللہ اسے بجھا دیتا ہے اور یہ زمین میں فساد برپا کرنے کی سعی و کوشش کرتے ہیں اور اللہ فساد برپا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہود نے کہا اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے، ان کے ہاتھ باندھے گئے اور ان پر لعنت کی گئی، اس کی وجہ سے جو انھوں نے کہا، بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں، خرچ کرتا ہے جیسے چاہتا ہے، اور یقینا جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے وہ ان میں سے بہت سے لوگوں کو سرکشی اور کفر میں ضرور بڑھا دے گا، اور ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک دشمنی اور بغض ڈال دیا۔ جب کبھی وہ لڑائی کی کوئی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے اور وہ زمین میں فساد کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اللہ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بخل سے بچو اور فضول خرچی سے ہاتھ روکو ٭٭

اللہ تعالیٰ ملعون یہودیوں کا ایک خبیث قول بیان فرما رہا ہے کہ ’ یہ اللہ کو بخیل کہتے تھے، یہی لوگ اللہ کو فقیر بھی کہتے ہیں۔ اللہ کی ذات ان کے اس ناپاک مقولے سے بہت بلند و بالا ہے ‘۔ پس اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، مطلب ان کا یہ نہ تھا کہ ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں بلکہ مراد اس سے بخل تھا۔ یہی محاورہ قرآن میں اور جگہ بھی ہے فرماتا ہے آیت «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:29] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ بھی نہ لے اور نہ حد سے زیادہ پھیلا دے کہ پھر تھکان اور ندامت کے ساتھ بیٹھے رہنا پڑے ‘۔ پس بخل سے اور اسراف سے اللہ نے اس آیت میں روکا۔ پس ملعون یہودیوں کی بھی ہاتھ باندھا ہوا ہونے سے یہی مراد تھی۔ فخاص نامی یہودی نے یہ کہا تھا اور اسی ملعون کا وہ دوسرا قول بھی تھا کہ «إِنَّ اللَّـهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ» ۱؎ [3-آل عمران:181] ‏‏‏‏ ’ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ‘۔ جس پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اسے پیٹا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ شماس بن قیس نے یہی کہا تھا جس پر یہ آیت اتری۔ اور ارشاد ہوا کہ ’ بخیل اور کنجوس ذلیل اور بزدل یہ لوگ خود ہیں ‘۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَّا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ» ۱؎ [4-النساء:55] ‏‏‏‏ ’ اگر یہ بادشاہ بن جائیں تو کسی کو کچھ بھی نہ دیں۔ بلکہ یہ تو اوروں کی نعمتیں دیکھ کر جلتے ہیں۔ یہ ذلیل تر لوگ ہیں۔ بلکہ اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں وہ سب کچھ خرچ کرتا رہتا ہے اس کا فضل وسیع ہے، اس کی بخشش عام ہے، ہر چیز کے خزانے اس کے ہاتھوں میں ہیں۔ ہر نعمت اس کی طرف سے ہے۔ ساری مخلوق دن رات ہر وقت ہر جگہ اسی کی محتاج ہے ‘۔ فرماتا ہے آیت «وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ» ۱؎ [14-إبراهيم:34] ‏‏‏‏۔ ’ تم نے جو مانگا، اللہ نے دیا، اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کر سکتے، یقیناً انسان بڑا ہی ظالم بے حد ناشکرا ہے ‘۔ مسند میں حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ اوپر ہے، دن رات کا خرچ اس کے خزانے کو گھٹاتا نہیں، شروع سے لے کر آج تک جو کچھ بھی اس نے اپنی مخلوق کو عطا فرمایا، اس نے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی اس کا عرش پہلے پانی پر تھا، اسی کے ہاتھ میں فیض ہی فیض ہے، وہی بلند اور پست کرتا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو تم میری راہ میں خرچ کرو گے تم تو دیئے جاؤں گے }۔ بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7419] ‏‏‏‏۔

پھر فرمایا ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جس قدر اللہ کی نعمتیں تم پر زیادہ ہوں گی، اتنا ہی ان شیاطین کا کفر حسد اور جلاپا بڑھے گا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مومنوں کا ایمان اور ان کی تسلیم و اطاعت بڑھتی ہے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے، «قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاءٌ» ۱؎ [41-فصلت:44] ‏‏‏‏ ’ ایمان والوں کیلئے تو یہ ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمان اس سے اندھے بہرے ہوتے ہیں۔ یہی ہیں جو دروازے سے پکارے جاتے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» ۱؎ [17-الإسراء:82] ‏‏‏‏ ’ ہم نے وہ قرآن اتارا ہے جو مومنوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کا تو نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے ‘۔ پھر ارشاد ہوا کہ ’ ان کے دلوں میں سے خود آپس کا بغض و بیر بھی قیامت تک نہیں مٹے گا، ایک دوسرے کا آپس میں ہی خون پینے والے لوگ ہیں۔ ناممکن ہے کہ یہ حق پر جم جائیں، یہ اپنے ہی دین میں فرقہ فرقہ ہو رہے ہیں، ان کے جھگڑے اور عداوتیں آپس میں جاری ہیں اور جاری رہیں گی۔ یہ لوگ بسا اوقات لڑائی کے سامان کرتے ہیں، تیرے خلاف چاروں طرف ایک آگ بھڑکانا چاہتے ہیں لیکن ہر مرتبہ منہ کی کھاتے ہیں، ان کا مکر انہی پر لوٹ جاتا ہے، یہ مفسد لوگ ہیں اور اللہ کے دشمن ہیں، کسی مفسد کو اللہ اپنا دوست نہیں بناتا ‘۔

’ اگر یہ با ایمان اور پرہیزگار بن جائیں تو ہم ان سے تمام ڈر دور کر دیں اور اصل مقصد حیات سے انہیں ملا دیں۔ اگر یہ تورات و انجیل اور اس قرآن کو مان لیں ‘۔ کیونکہ توراۃ و انجیل کا ماننا، قرآن کے ماننے کو لازم کر دے گا، ان کتابوں کی صحیح تعلیم یہی ہے کہ یہ قرآن سچا ہے اس کی اور نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق پہلے کی کتابوں میں موجود ہے تو اگر یہ اپنی ان کتابوں کو بغیر تحریف و تبدیل اور تاویل و تفسیر کے مانیں تو وہ انہیں اسی اسلام کی ہدایت دیں گی، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بتاتے ہیں۔ ’ اس صورت میں اللہ انہیں دنیا کے کئی فائدے دے گا، آسمان سے پانی برسائے گا، زمین سے پیداوار اگائے گا، نیچے اوپر کی یعنی زمین و آسمان کی برکتیں انہیں مل جائیں گی ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:96] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر بستیوں والے ایمان لاتے ہیں اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتیں نازل فرماتے ‘۔ اور آیت میں «ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:41] ‏‏‏‏ ’ لوگوں کی برائیوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا ہے ‘، اور یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ ’ بغیر مشقت و مشکل کے ہم انہیں بکثرت بابرکت روزیاں دیتے ہیں ‘۔ بعض نے اس جملہ کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ ’ یہ لوگ ایسا کرتے تو بھلائیوں سے مستفید ہو جاتے ‘۔ لیکن یہ قول اقوال سلف کے خلاف ہے۔ ابن ابی حاتم نے اس جگہ ایک اثر وارد کیا ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قریب ہے کہ علم اٹھا لیا جائے }۔ یہ سن کر زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ علم اٹھ جائے، ہم نے قرآن سیکھا، اپنی اولادوں کو سکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { افسوس میں تو تمام مدینے والوں سے زیادہ تم کو سمجھدار جانتا تھا لیکن کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں بھی تورات و انجیل ہے۔ لیکن کس کام کی؟ جبکہ انہوں نے اللہ کے احکام چھوڑ دیئے } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت «وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ» [5-المائدة:65] ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:75/18:مرسل] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسند میں بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا بیان فرمایا کہ { یہ بات علم کے جاتے رہنے کے وقت ہوگی، اس پر ابن لبید رضی اللہ عنہ نے کہا علم کیسے جاتا رہے گا؟ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں، وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے، یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا جو اوپر بیان ہوا }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4048،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

پھر فرمایا ’ ان میں ایک جماعت میانہ رو بھی ہے مگر اکثر بداعمال ہے ‘۔ جیسے فرمان آیت «وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:159] ‏‏‏‏ ’ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) کی قوم میں سے ایک گروہ حق کی ہدایت کرنے والا اور اسی کے ساتھ عدل انصاف کرنے والا بھی تھا ‘۔ اور قوم عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے، «فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ» ۱؎ [57-الحدید:27] ‏‏‏‏ ’ ان میں سے با ایمان لوگوں کو ہم نے ان کے ثواب عنایت فرمائے ‘۔ یہ نکتہ خیال میں رہے کہ ان کا بہترین درجہ بیچ کا درجہ بیان فرمایا اور اس امت کا یہ درجہ دوسرا درجہ ہے، جس پر ایک تیسرا اونچا درجہ بھی ہے۔ جیسے فرمایا۔ آیت «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» ۱؎ [35-فاطر:32] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ پھر ہم نے کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا، ان میں سے بعض تو اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں، بعض میانہ رو ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں، یہی بہت بڑا فضل ہے ‘۔ تینوں قسمیں اس امت کی داخل جنت ہونے والی ہیں۔ ابن مردویہ میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { موسیٰ علیہ السلام کی امت کے اکہتر گروہ ہوگئے، جن میں سے ایک تو جنتی ہے، باقی ستر دوزخی۔ میری یہ امت دونوں سے بڑھ جائے گی۔ ان کا بھی ایک گروہ تو جنت میں جائے گا، باقی بہتر گروہ جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا، وہ کون ہیں؟ فرمایا: { جماعتیں جماعتیں } } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3992، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یعقوب بن یزید کہتے ہیں ”جب سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تو قرآن کی آیت۔ «وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ» [5-المائدہ:65] ‏‏‏‏، اور «وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:181] ‏‏‏‏ بھی پڑھتے اور فرماتے ہیں ”اس سے مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:3668: ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث ان لفظوں اور اس سند سے بے حد غریب ہے اور ستر سے اوپر اوپر فرقوں کی حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے، جسے ہم نے اور جگہ بیان کر دیا ہے «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
64۔ 1 یہ وہی بات ہے جو سورة آل عمران کی آیت 181 میں کہی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اپنی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب اور اسے اللہ کو قرض حسن دینے سے تعبیر کیا تو ان یہودیوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تو فقیر ہے ' لوگوں سے قرض مانگ رہا ہے اور وہ تعبیر کے اس حسن کو نہ سمجھ سکے جو اس میں پنہاں تھا۔ یعنی سب کچھ اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اور اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کردینا، کوئی قرض نہیں ہے۔ لیکن یہ اس کی کمال مہربانی ہے کہ وہ اس پر بھی خوب اجر عطا فرماتا ہے حتٰی کہ ایک ایک دانے کو سات سات سو دانے تک بڑاھا دیتا ہے۔ اور اسے قرض حسن سے اسی لیے تعبیر فرمایا کہ جتنا تم خرچ کرو گے، اللہ تعالیٰ اس سے کئی گنا تمہیں واپس لوٹائے گا۔ مغلولۃ کے معنی بخیلۃ (بخل والے کیے گئے۔ یعنی یہود کا مقصد یہ نہیں تھا کہ اللہ کے ہاتھ واقعتاً بندھے ہوئے ہیں۔ بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ اس نے اپنے ہاتھ خرچ کرنے سے روکے ہوئے ہیں۔ (ابن کثیر) اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ہاتھ تو انہی کے بندھے ہوئے ہیں یعنی بخیلی انہی کا شیوہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوتے ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے۔ خرچ کرتا ہے۔ وہ واسع الفضل اور جزیل العطاء ہے، تمام خزانے اسی کے پاس ہیں۔ نیز اس نے اپنی مخلوقات کے لیے تمام حاجات و ضروریات کا انتظام کیا ہوا ہے، ہمیں رات یا دن کو، سفر میں اور حضر میں اور دیگر تمام احوال میں جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے یا پڑ سکتی ہے، سب وہی مہیا کرتا ہے۔ (وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ) 14:34" تم نے جو کچھ اس سے مانگا وہ اس نے تمہیں دیا۔ اللہ کی نعمتیں اتنی ہیں کہ تم گن نہیں سکتے انسان ہی نادان اور نہایت نہ شکرا ہے، حدیث میں بھی ہے نبی نے فرمایا کہ اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، رات دن خرچ کرتا ہے لیکن کوئی کمی نہیں آتی، ذرا دیکھو تو، جب سے آسمان و زمین اس نے پیدا کئے ہیں وہ خرچ کر رہا ہے لیکن اس کے ہاتھ کے خزانے میں کمی نہیں آئی۔ 64۔ 2 یعنی یہ جب بھی آپ کے خلاف کوئی سازش کرتے ہیں یا لڑائی کے اسباب مہیا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو باطل کردیتا ہے اور ان کی سازش کو انہی پر الٹا دیتا ہے۔ اور ان کو " چاہ کن را چاہ درپیش " کی سی صورت حال سے دوچار کردیتا ہے " 64۔ 3 ان کی عادت ثانیہ ہے کہ ہمیشہ زمین میں فساد پھیلانے کی مذموم کوشش کرتے ہیں دراں حالیکہ اللہ تعالیٰ مفسدین کو پسند نہیں فرماتا
(آیت 64)➊ {وَ قَالَتِ الْيَهُوْدُ يَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ ……:} اﷲ تعالیٰ نے جب اپنی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب ان الفاظ میں دی کہ کون اﷲ کو قرض حسنہ دیتا ہے، حالانکہ وہ مال اﷲ تعالیٰ ہی کا تھا، اسی نے دیا تھا اور اسی کے دیے ہوئے میں سے انھوں نے دینا تھا، تو یہودی بجائے اس کے کہ اﷲ تعالیٰ کے انداز بیان اور اس کے فضل و کرم پر غور کرتے اور سمجھتے کہ اﷲ ہمیں کئی گناہ بڑھا کر دینے کے لیے صدقے کی ترغیب دے رہا ہے اور اسے قرض کہہ رہا ہے، کہنے لگے کہ اﷲ تو فقیر ہے اور ہم غنی ہیں، تبھی وہ ہم سے قرض مانگتا ہے۔ یہ یہودیوں کی انتہائی خست اور کمینگی تھی، وہی کمینگی اس آیت میں دوسرے الفاظ میں ذکر کی گئی ہے کہ یہودیوں نے کہا کہ اﷲ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے، یعنی وہ بخیل ہے، کچھ دیتا نہیں، بلکہ مانگتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاتھ تو انھی کے بندھے ہوئے ہیں اور بخیلی انھی کی صفت ہے اور انھی گستاخیوں اور کمینگیوں کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہیں، وہ بے انتہا فضل و کرم کا مالک اور بے حد و حساب عطا فرمانے والا ہے، تمام خزانے اسی کے پاس ہیں، جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے، تمام مخلوق کی ہر حاجت اور ضرورت جو پڑتی یا پڑ سکتی ہے، وہی پوری کرتا ہے، فرمایا: «وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ» [إبراہیم: ۳۴ ] ”اور اس نے تمھیں ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اﷲ کی نعمت شمار کرو تو اسے شمار نہ کر پاؤ گے، یقینا انسان بڑا ظالم بہت نا شکرا ہے۔“ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اﷲ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، کسی طرح کا خرچ کرنا اسے کم نہیں کرتا۔ کیا تم نے دیکھا کہ اس نے جب سے آسمان و زمین پیدا کیے کس قدر خرچ کیا ہے؟ تو اس سے اس میں کچھ کمی نہیں ہوئی جو اس کے دائیں ہاتھ میں ہے۔“ [ بخاری، التوحید، باب: { وكان عرشه علي الماء:} ۷۴۱۹ ] ایک حدیث میں فرمایا: ”اﷲ کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں۔“ [ مسلم، الامارۃ، باب فضیلۃ الأمیرالعادل……: ۱۸۲۷ ] ➋ اس آیت اور دوسری بہت سی آیات و احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے ہاتھ موجود ہیں۔ بعض لوگ اس کا ترجمہ قبضہ، قدرت وغیرہ کرتے ہیں اور ہاتھوں کا انکار کرتے ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر ہم اس کے ہاتھ مانیں تو وہ ہمارے جیسا ہو جائے گا، حالانکہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ ان لوگوں کی بات درست نہیں، کیونکہ یہ تو اس وقت ہو گا جب ہم کہیں کہ اس کے ہاتھ ہمارے ہاتھوں جیسے ہیں، جب ہم کہتے ہیں کہ اﷲ کے ہاتھ ہیں مگر ہمارے جیسے نہیں، بلکہ ایسے ہیں جیسے اس کی شان کے لائق ہیں تو اس سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی، جبکہ اس کے ہاتھوں کے انکار سے کئی احادیث اور قرآن کی آیات کا انکار لازم آتا ہے۔ اب ہم سنتے ہیں اور دیکھتے ہیں، اﷲ تعالیٰ بھی دیکھتا سنتا ہے تو کیا وہ ہمارے جیسا ہو گا؟ نہیں، بلکہ اس کا سننا اور دیکھنا ہماری طرح نہیں، بلکہ ایسا ہے جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔ اسی طرح اﷲ بھی موجود ہے ہم بھی موجود ہیں، تو کیا وہ بھی ہماری مثل ہو جائے گا؟ نتیجہ تو یہی نکلا کہ مشابہت ثابت ہونے کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ کے وجود کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ [ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ] نہیں، بلکہ وہ موجود ہے، سمیع و بصیر ہے، اس کا چہرہ، اس کی آنکھیں، اس کا سمع و بصر اور اس کا وجود سب کچھ قرآن سے ثابت ہے اور ماننا لازم ہے، مگر وہ وجود اور سمع و بصر اور ہاتھ ہمارے یا کسی مخلوق جیسے نہیں، بلکہ ایسے ہیں جیسے اس کے لائق ہیں۔ اﷲ کی ذات بھی بے مثل ہے، اس کی صفات بھی بے مثل ہیں۔ کئی ایسے بھی بے نصیب ہیں جو اسی شبہ کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ کے سننے، دیکھنے اور قیامت کے دن زمین پر آنے کا صاف انکار کر کے اپنے ڈھکوسلے سے بنایا ہوا کوئی معنی کر دیتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے۔ ➌ {وَ لَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا ……:} یعنی یہ لوگ اگر ہدایت کے طلب گار ہوتے تو آپ پر نازل ہونے والی ہر آیت و حدیث سے صحابہ کے ایمان کی طرح ان کے ایمان میں اضافہ اور ترقی ہوتی، مگر چونکہ ان کے دل بغض و عناد، ضد اور حسد سے بھرے ہوئے ہیں، اس لیے تیرے رب کی طرف سے جو کچھ بھی تجھ پر نازل ہو گا وہ ان میں سے بہت سے لوگوں کی سر کشی اور کفر ہی میں اضافہ کرے گا، اسی کا نتیجہ تھا کہ جیسے جیسے قرآن اترتا ان کی سرکشی اور کفر بڑھتا جاتا۔ ➍ {وَ اَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ ……:} یعنی ان پر اﷲ تعالیٰ کی لعنت کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے درمیان باہمی عداوت اور بغض اس حد تک پہنچ گیا کہ وہ قیامت تک آپس میں ایک نہیں ہو سکتے، بلکہ وہ بہت سے فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اور اسی لعنت کا اثر ہے کہ دنیا میں امن و سلامتی کی کوششوں کے بجائے وہ دنیا میں کہیں نہ کہیں لڑائی کی آگ بھڑکائے رکھتے ہیں، مگر وہ جب بھی یہ آگ بھڑکاتے ہیں تو اﷲ تعالیٰ اسے بجھا دیتا ہے۔ ان کی ساری تگ و دو دنیا میں فساد پھیلانے کی ہے، جبکہ اﷲ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتا۔ یہودیوں کی تاریخ اور ان کے موجودہ حالات جاننے والا ہر شخص جانتا ہے کہ کس طرح ہر لڑائی کے پیچھے یہودیوں کا خفیہ ہاتھ ہوتا ہے، یہ تو اﷲ کا فضل ہے کہ وہ ان کے منصوبے پورے نہیں ہونے دیتا۔ افسوس! اب مسلمانوں کے اکثر علماء و عوام کا بھی تقریباً یہی حال ہے کہ انھوں نے اﷲ کے دین پر عمل چھوڑ رکھا ہے، بلکہ جب بھی موقع ملتا ہے اسلام کے کسی نہ کسی حکم سے انکار یا اس کی گستاخی سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ یہ یہودیانہ خصلت ہے جس کی وجہ سے مسلمان ملکوں کے مالک ہو کر بھی کفار کے محکوم ہیں اور ان برکات سے محروم ہیں جو کتاب و سنت پر عمل کرنے اور برائیوں کو روکنے کے لیے جہاد کرنے کی صورت میں انھیں حاصل ہوتیں۔
وَ لَوۡ اَنَّ اَہۡلَ الۡکِتٰبِ اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا لَکَفَّرۡنَا عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ لَاَدۡخَلۡنٰہُمۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۶۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر (اِس سرکشی کے بجائے) یہ اہل کتاب ایمان لے آتے اور خدا ترسی کی روش اختیار کرتے تو ہم اِن کی برائیاں اِن سے دور کر دیتے اور ان کو نعمت بھری جنتوں میں پہنچاتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر یہ اہل کتاب ایمان ﻻتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان کی تمام برائیاں معاف فرما دیتے اور ضرور انہیں راحت و آرام کی جنتوں میں لے جاتے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر کتاب والے ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ضرور ہم ان کے گناہ اتار دیتے اور ضرور انہیں چین کے باغوں میں لے جاتے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے، تو ہم ان کی برائیاں دور کر دیتے اور انہیں نعمت و راحت والے بہشتوں میں داخل کرتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے اور ڈرتے تو ہم ضرور ان سے ان کے گناہ دور کر دیتے اور انھیں ضرور نعمت کے باغوں میں داخل کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بخل سے بچو اور فضول خرچی سے ہاتھ روکو ٭٭

اللہ تعالیٰ ملعون یہودیوں کا ایک خبیث قول بیان فرما رہا ہے کہ ’ یہ اللہ کو بخیل کہتے تھے، یہی لوگ اللہ کو فقیر بھی کہتے ہیں۔ اللہ کی ذات ان کے اس ناپاک مقولے سے بہت بلند و بالا ہے ‘۔ پس اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، مطلب ان کا یہ نہ تھا کہ ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں بلکہ مراد اس سے بخل تھا۔ یہی محاورہ قرآن میں اور جگہ بھی ہے فرماتا ہے آیت «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:29] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ بھی نہ لے اور نہ حد سے زیادہ پھیلا دے کہ پھر تھکان اور ندامت کے ساتھ بیٹھے رہنا پڑے ‘۔ پس بخل سے اور اسراف سے اللہ نے اس آیت میں روکا۔ پس ملعون یہودیوں کی بھی ہاتھ باندھا ہوا ہونے سے یہی مراد تھی۔ فخاص نامی یہودی نے یہ کہا تھا اور اسی ملعون کا وہ دوسرا قول بھی تھا کہ «إِنَّ اللَّـهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ» ۱؎ [3-آل عمران:181] ‏‏‏‏ ’ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ‘۔ جس پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اسے پیٹا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ شماس بن قیس نے یہی کہا تھا جس پر یہ آیت اتری۔ اور ارشاد ہوا کہ ’ بخیل اور کنجوس ذلیل اور بزدل یہ لوگ خود ہیں ‘۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَّا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ» ۱؎ [4-النساء:55] ‏‏‏‏ ’ اگر یہ بادشاہ بن جائیں تو کسی کو کچھ بھی نہ دیں۔ بلکہ یہ تو اوروں کی نعمتیں دیکھ کر جلتے ہیں۔ یہ ذلیل تر لوگ ہیں۔ بلکہ اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں وہ سب کچھ خرچ کرتا رہتا ہے اس کا فضل وسیع ہے، اس کی بخشش عام ہے، ہر چیز کے خزانے اس کے ہاتھوں میں ہیں۔ ہر نعمت اس کی طرف سے ہے۔ ساری مخلوق دن رات ہر وقت ہر جگہ اسی کی محتاج ہے ‘۔ فرماتا ہے آیت «وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ» ۱؎ [14-إبراهيم:34] ‏‏‏‏۔ ’ تم نے جو مانگا، اللہ نے دیا، اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کر سکتے، یقیناً انسان بڑا ہی ظالم بے حد ناشکرا ہے ‘۔ مسند میں حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ اوپر ہے، دن رات کا خرچ اس کے خزانے کو گھٹاتا نہیں، شروع سے لے کر آج تک جو کچھ بھی اس نے اپنی مخلوق کو عطا فرمایا، اس نے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی اس کا عرش پہلے پانی پر تھا، اسی کے ہاتھ میں فیض ہی فیض ہے، وہی بلند اور پست کرتا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو تم میری راہ میں خرچ کرو گے تم تو دیئے جاؤں گے }۔ بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7419] ‏‏‏‏۔

پھر فرمایا ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جس قدر اللہ کی نعمتیں تم پر زیادہ ہوں گی، اتنا ہی ان شیاطین کا کفر حسد اور جلاپا بڑھے گا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مومنوں کا ایمان اور ان کی تسلیم و اطاعت بڑھتی ہے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے، «قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاءٌ» ۱؎ [41-فصلت:44] ‏‏‏‏ ’ ایمان والوں کیلئے تو یہ ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمان اس سے اندھے بہرے ہوتے ہیں۔ یہی ہیں جو دروازے سے پکارے جاتے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» ۱؎ [17-الإسراء:82] ‏‏‏‏ ’ ہم نے وہ قرآن اتارا ہے جو مومنوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کا تو نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے ‘۔ پھر ارشاد ہوا کہ ’ ان کے دلوں میں سے خود آپس کا بغض و بیر بھی قیامت تک نہیں مٹے گا، ایک دوسرے کا آپس میں ہی خون پینے والے لوگ ہیں۔ ناممکن ہے کہ یہ حق پر جم جائیں، یہ اپنے ہی دین میں فرقہ فرقہ ہو رہے ہیں، ان کے جھگڑے اور عداوتیں آپس میں جاری ہیں اور جاری رہیں گی۔ یہ لوگ بسا اوقات لڑائی کے سامان کرتے ہیں، تیرے خلاف چاروں طرف ایک آگ بھڑکانا چاہتے ہیں لیکن ہر مرتبہ منہ کی کھاتے ہیں، ان کا مکر انہی پر لوٹ جاتا ہے، یہ مفسد لوگ ہیں اور اللہ کے دشمن ہیں، کسی مفسد کو اللہ اپنا دوست نہیں بناتا ‘۔

’ اگر یہ با ایمان اور پرہیزگار بن جائیں تو ہم ان سے تمام ڈر دور کر دیں اور اصل مقصد حیات سے انہیں ملا دیں۔ اگر یہ تورات و انجیل اور اس قرآن کو مان لیں ‘۔ کیونکہ توراۃ و انجیل کا ماننا، قرآن کے ماننے کو لازم کر دے گا، ان کتابوں کی صحیح تعلیم یہی ہے کہ یہ قرآن سچا ہے اس کی اور نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق پہلے کی کتابوں میں موجود ہے تو اگر یہ اپنی ان کتابوں کو بغیر تحریف و تبدیل اور تاویل و تفسیر کے مانیں تو وہ انہیں اسی اسلام کی ہدایت دیں گی، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بتاتے ہیں۔ ’ اس صورت میں اللہ انہیں دنیا کے کئی فائدے دے گا، آسمان سے پانی برسائے گا، زمین سے پیداوار اگائے گا، نیچے اوپر کی یعنی زمین و آسمان کی برکتیں انہیں مل جائیں گی ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:96] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر بستیوں والے ایمان لاتے ہیں اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتیں نازل فرماتے ‘۔ اور آیت میں «ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:41] ‏‏‏‏ ’ لوگوں کی برائیوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا ہے ‘، اور یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ ’ بغیر مشقت و مشکل کے ہم انہیں بکثرت بابرکت روزیاں دیتے ہیں ‘۔ بعض نے اس جملہ کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ ’ یہ لوگ ایسا کرتے تو بھلائیوں سے مستفید ہو جاتے ‘۔ لیکن یہ قول اقوال سلف کے خلاف ہے۔ ابن ابی حاتم نے اس جگہ ایک اثر وارد کیا ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قریب ہے کہ علم اٹھا لیا جائے }۔ یہ سن کر زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ علم اٹھ جائے، ہم نے قرآن سیکھا، اپنی اولادوں کو سکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { افسوس میں تو تمام مدینے والوں سے زیادہ تم کو سمجھدار جانتا تھا لیکن کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں بھی تورات و انجیل ہے۔ لیکن کس کام کی؟ جبکہ انہوں نے اللہ کے احکام چھوڑ دیئے } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت «وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ» [5-المائدة:65] ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:75/18:مرسل] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسند میں بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا بیان فرمایا کہ { یہ بات علم کے جاتے رہنے کے وقت ہوگی، اس پر ابن لبید رضی اللہ عنہ نے کہا علم کیسے جاتا رہے گا؟ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں، وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے، یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا جو اوپر بیان ہوا }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4048،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

پھر فرمایا ’ ان میں ایک جماعت میانہ رو بھی ہے مگر اکثر بداعمال ہے ‘۔ جیسے فرمان آیت «وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:159] ‏‏‏‏ ’ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) کی قوم میں سے ایک گروہ حق کی ہدایت کرنے والا اور اسی کے ساتھ عدل انصاف کرنے والا بھی تھا ‘۔ اور قوم عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے، «فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ» ۱؎ [57-الحدید:27] ‏‏‏‏ ’ ان میں سے با ایمان لوگوں کو ہم نے ان کے ثواب عنایت فرمائے ‘۔ یہ نکتہ خیال میں رہے کہ ان کا بہترین درجہ بیچ کا درجہ بیان فرمایا اور اس امت کا یہ درجہ دوسرا درجہ ہے، جس پر ایک تیسرا اونچا درجہ بھی ہے۔ جیسے فرمایا۔ آیت «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» ۱؎ [35-فاطر:32] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ پھر ہم نے کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا، ان میں سے بعض تو اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں، بعض میانہ رو ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں، یہی بہت بڑا فضل ہے ‘۔ تینوں قسمیں اس امت کی داخل جنت ہونے والی ہیں۔ ابن مردویہ میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { موسیٰ علیہ السلام کی امت کے اکہتر گروہ ہوگئے، جن میں سے ایک تو جنتی ہے، باقی ستر دوزخی۔ میری یہ امت دونوں سے بڑھ جائے گی۔ ان کا بھی ایک گروہ تو جنت میں جائے گا، باقی بہتر گروہ جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا، وہ کون ہیں؟ فرمایا: { جماعتیں جماعتیں } } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3992، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یعقوب بن یزید کہتے ہیں ”جب سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تو قرآن کی آیت۔ «وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ» [5-المائدہ:65] ‏‏‏‏، اور «وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:181] ‏‏‏‏ بھی پڑھتے اور فرماتے ہیں ”اس سے مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:3668: ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث ان لفظوں اور اس سند سے بے حد غریب ہے اور ستر سے اوپر اوپر فرقوں کی حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے، جسے ہم نے اور جگہ بیان کر دیا ہے «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
65۔ 1 یعنی وہ ایمان، جس کا مطالبہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے، ان میں سب سے اہم محمد رسول اللہ کی رسالت پر ایمان لانا ہے، جیسا کہ ان پر نازل شدہ کتابوں میں بھی ان کو اس کا حکم دیا گیا ہے۔ واتقوا اور اللہ کی معاصی سے بچتے جن میں سب سے اہم وہ شرک ہے جس میں وہ مبتلا ہیں اور وہ جحود ہے جو آخری رسول کے ساتھ وہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اَقَامُوا التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِمۡ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ لَاَکَلُوۡا مِنۡ فَوۡقِہِمۡ وَ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِہِمۡ ؕ مِنۡہُمۡ اُمَّۃٌ مُّقۡتَصِدَۃٌ ؕ وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ سَآءَ مَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۶۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کاش انہوں نے توراۃ اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو اِن کے رب کی طرف سے اِن کے پاس بھیجی گئی تھیں ایسا کرتے تو اِن کے لیے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے ابلتا اگرچہ اِن میں کچھ لوگ راست رو بھی ہیں لیکن ان کی اکثریت سخت بد عمل ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر یہ لوگ تورات وانجیل اور ان کی جانب جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے، ان کے پورے پابند رہتے تو یہ لوگ اپنے اوپر سے اور نیچے سے روزیاں پاتے اور کھاتے، ایک جماعت تو ان میں سے درمیانہ روش کی ہے، باقی ان میں سے بہت سے لوگوں کے برے اعمال ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر وہ قائم رکھتے توریت اور انجیل اور جو کچھ ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے اترا تو انہیں رزق ملتا اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے ان میں کوئی گروہ اگر اعتدال پر ہے اور ان میں اکثر بہت ہی برے کام کررہے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر وہ (اہلِ کتاب) تورات، انجیل اور جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان کی طرف نازل کیا گیا تھا کو قائم رکھتے، تو وہ اپنے اوپر اور نیچے سے کھاتے پیتے۔ ان میں سے ایک گروہ تو میانہ رو ہے۔ مگر ان میں سے زیادہ لوگ ایسے ہیں جو بہت برا کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر وہ تورات اور انجیل کی پابندی کرتے اور اس کی جو ان کی طرف ان کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے تو یقینا وہ اپنے اوپر سے اور اپنے پائوں کے نیچے سے کھاتے۔ ان میں سے ایک جماعت درمیانے راستے والی ہے اور ان میں سے بہت سے لوگ، برا ہے جو کر رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بخل سے بچو اور فضول خرچی سے ہاتھ روکو ٭٭

اللہ تعالیٰ ملعون یہودیوں کا ایک خبیث قول بیان فرما رہا ہے کہ ’ یہ اللہ کو بخیل کہتے تھے، یہی لوگ اللہ کو فقیر بھی کہتے ہیں۔ اللہ کی ذات ان کے اس ناپاک مقولے سے بہت بلند و بالا ہے ‘۔ پس اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، مطلب ان کا یہ نہ تھا کہ ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں بلکہ مراد اس سے بخل تھا۔ یہی محاورہ قرآن میں اور جگہ بھی ہے فرماتا ہے آیت «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:29] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ بھی نہ لے اور نہ حد سے زیادہ پھیلا دے کہ پھر تھکان اور ندامت کے ساتھ بیٹھے رہنا پڑے ‘۔ پس بخل سے اور اسراف سے اللہ نے اس آیت میں روکا۔ پس ملعون یہودیوں کی بھی ہاتھ باندھا ہوا ہونے سے یہی مراد تھی۔ فخاص نامی یہودی نے یہ کہا تھا اور اسی ملعون کا وہ دوسرا قول بھی تھا کہ «إِنَّ اللَّـهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ» ۱؎ [3-آل عمران:181] ‏‏‏‏ ’ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ‘۔ جس پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اسے پیٹا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ شماس بن قیس نے یہی کہا تھا جس پر یہ آیت اتری۔ اور ارشاد ہوا کہ ’ بخیل اور کنجوس ذلیل اور بزدل یہ لوگ خود ہیں ‘۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَّا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ» ۱؎ [4-النساء:55] ‏‏‏‏ ’ اگر یہ بادشاہ بن جائیں تو کسی کو کچھ بھی نہ دیں۔ بلکہ یہ تو اوروں کی نعمتیں دیکھ کر جلتے ہیں۔ یہ ذلیل تر لوگ ہیں۔ بلکہ اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں وہ سب کچھ خرچ کرتا رہتا ہے اس کا فضل وسیع ہے، اس کی بخشش عام ہے، ہر چیز کے خزانے اس کے ہاتھوں میں ہیں۔ ہر نعمت اس کی طرف سے ہے۔ ساری مخلوق دن رات ہر وقت ہر جگہ اسی کی محتاج ہے ‘۔ فرماتا ہے آیت «وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ» ۱؎ [14-إبراهيم:34] ‏‏‏‏۔ ’ تم نے جو مانگا، اللہ نے دیا، اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کر سکتے، یقیناً انسان بڑا ہی ظالم بے حد ناشکرا ہے ‘۔ مسند میں حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ اوپر ہے، دن رات کا خرچ اس کے خزانے کو گھٹاتا نہیں، شروع سے لے کر آج تک جو کچھ بھی اس نے اپنی مخلوق کو عطا فرمایا، اس نے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی اس کا عرش پہلے پانی پر تھا، اسی کے ہاتھ میں فیض ہی فیض ہے، وہی بلند اور پست کرتا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو تم میری راہ میں خرچ کرو گے تم تو دیئے جاؤں گے }۔ بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7419] ‏‏‏‏۔

پھر فرمایا ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جس قدر اللہ کی نعمتیں تم پر زیادہ ہوں گی، اتنا ہی ان شیاطین کا کفر حسد اور جلاپا بڑھے گا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مومنوں کا ایمان اور ان کی تسلیم و اطاعت بڑھتی ہے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے، «قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاءٌ» ۱؎ [41-فصلت:44] ‏‏‏‏ ’ ایمان والوں کیلئے تو یہ ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمان اس سے اندھے بہرے ہوتے ہیں۔ یہی ہیں جو دروازے سے پکارے جاتے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» ۱؎ [17-الإسراء:82] ‏‏‏‏ ’ ہم نے وہ قرآن اتارا ہے جو مومنوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کا تو نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے ‘۔ پھر ارشاد ہوا کہ ’ ان کے دلوں میں سے خود آپس کا بغض و بیر بھی قیامت تک نہیں مٹے گا، ایک دوسرے کا آپس میں ہی خون پینے والے لوگ ہیں۔ ناممکن ہے کہ یہ حق پر جم جائیں، یہ اپنے ہی دین میں فرقہ فرقہ ہو رہے ہیں، ان کے جھگڑے اور عداوتیں آپس میں جاری ہیں اور جاری رہیں گی۔ یہ لوگ بسا اوقات لڑائی کے سامان کرتے ہیں، تیرے خلاف چاروں طرف ایک آگ بھڑکانا چاہتے ہیں لیکن ہر مرتبہ منہ کی کھاتے ہیں، ان کا مکر انہی پر لوٹ جاتا ہے، یہ مفسد لوگ ہیں اور اللہ کے دشمن ہیں، کسی مفسد کو اللہ اپنا دوست نہیں بناتا ‘۔

’ اگر یہ با ایمان اور پرہیزگار بن جائیں تو ہم ان سے تمام ڈر دور کر دیں اور اصل مقصد حیات سے انہیں ملا دیں۔ اگر یہ تورات و انجیل اور اس قرآن کو مان لیں ‘۔ کیونکہ توراۃ و انجیل کا ماننا، قرآن کے ماننے کو لازم کر دے گا، ان کتابوں کی صحیح تعلیم یہی ہے کہ یہ قرآن سچا ہے اس کی اور نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق پہلے کی کتابوں میں موجود ہے تو اگر یہ اپنی ان کتابوں کو بغیر تحریف و تبدیل اور تاویل و تفسیر کے مانیں تو وہ انہیں اسی اسلام کی ہدایت دیں گی، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بتاتے ہیں۔ ’ اس صورت میں اللہ انہیں دنیا کے کئی فائدے دے گا، آسمان سے پانی برسائے گا، زمین سے پیداوار اگائے گا، نیچے اوپر کی یعنی زمین و آسمان کی برکتیں انہیں مل جائیں گی ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:96] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر بستیوں والے ایمان لاتے ہیں اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتیں نازل فرماتے ‘۔ اور آیت میں «ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:41] ‏‏‏‏ ’ لوگوں کی برائیوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا ہے ‘، اور یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ ’ بغیر مشقت و مشکل کے ہم انہیں بکثرت بابرکت روزیاں دیتے ہیں ‘۔ بعض نے اس جملہ کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ ’ یہ لوگ ایسا کرتے تو بھلائیوں سے مستفید ہو جاتے ‘۔ لیکن یہ قول اقوال سلف کے خلاف ہے۔ ابن ابی حاتم نے اس جگہ ایک اثر وارد کیا ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قریب ہے کہ علم اٹھا لیا جائے }۔ یہ سن کر زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ علم اٹھ جائے، ہم نے قرآن سیکھا، اپنی اولادوں کو سکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { افسوس میں تو تمام مدینے والوں سے زیادہ تم کو سمجھدار جانتا تھا لیکن کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں بھی تورات و انجیل ہے۔ لیکن کس کام کی؟ جبکہ انہوں نے اللہ کے احکام چھوڑ دیئے } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت «وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ» [5-المائدة:65] ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:75/18:مرسل] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسند میں بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا بیان فرمایا کہ { یہ بات علم کے جاتے رہنے کے وقت ہوگی، اس پر ابن لبید رضی اللہ عنہ نے کہا علم کیسے جاتا رہے گا؟ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں، وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے، یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا جو اوپر بیان ہوا }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4048،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

پھر فرمایا ’ ان میں ایک جماعت میانہ رو بھی ہے مگر اکثر بداعمال ہے ‘۔ جیسے فرمان آیت «وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:159] ‏‏‏‏ ’ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) کی قوم میں سے ایک گروہ حق کی ہدایت کرنے والا اور اسی کے ساتھ عدل انصاف کرنے والا بھی تھا ‘۔ اور قوم عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے، «فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ» ۱؎ [57-الحدید:27] ‏‏‏‏ ’ ان میں سے با ایمان لوگوں کو ہم نے ان کے ثواب عنایت فرمائے ‘۔ یہ نکتہ خیال میں رہے کہ ان کا بہترین درجہ بیچ کا درجہ بیان فرمایا اور اس امت کا یہ درجہ دوسرا درجہ ہے، جس پر ایک تیسرا اونچا درجہ بھی ہے۔ جیسے فرمایا۔ آیت «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» ۱؎ [35-فاطر:32] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ پھر ہم نے کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا، ان میں سے بعض تو اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں، بعض میانہ رو ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں، یہی بہت بڑا فضل ہے ‘۔ تینوں قسمیں اس امت کی داخل جنت ہونے والی ہیں۔ ابن مردویہ میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { موسیٰ علیہ السلام کی امت کے اکہتر گروہ ہوگئے، جن میں سے ایک تو جنتی ہے، باقی ستر دوزخی۔ میری یہ امت دونوں سے بڑھ جائے گی۔ ان کا بھی ایک گروہ تو جنت میں جائے گا، باقی بہتر گروہ جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا، وہ کون ہیں؟ فرمایا: { جماعتیں جماعتیں } } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3992، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یعقوب بن یزید کہتے ہیں ”جب سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تو قرآن کی آیت۔ «وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ» [5-المائدہ:65] ‏‏‏‏، اور «وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:181] ‏‏‏‏ بھی پڑھتے اور فرماتے ہیں ”اس سے مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:3668: ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث ان لفظوں اور اس سند سے بے حد غریب ہے اور ستر سے اوپر اوپر فرقوں کی حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے، جسے ہم نے اور جگہ بیان کر دیا ہے «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
66۔ 1 تورات اور انجیل کے پابند رہنے کا مطلب، ان کے ان حکام کی پابندی ہے جو ان میں انہیں دئے گئے، اور انہی میں ایک حکم آخری نبی پر ایمان لانا بھی تھا۔ اور وَمَا اُنزِ لَ سے مراد تمام آسمانی کتب پر ایمان لانا ہے جن میں قرآن کریم بھی شامل ہے۔ مطلب یہ ہے یہ اسلام قبول کرلیتے۔ 66۔ 2 اوپر نیچے کا ذکر یا بطور مبالغہ ہے، یعنی کثرت سے اور انواع واقسام کے رزق اللہ تعالیٰ مہیا فرماتا ہے۔ یا اوپر سے مراد آسمان ہے یعنی حسب ضرورت خوب بارش برساتا ہے اور ' نیچے سے مراد ' زمین ہے۔ یعنی زمین اس بارش کو اپنے اندر جذب کر کے خوب پیداوار دیتی۔ نتیجتًا شادابی اور خوش حالی کا دور دورہ ہوجاتا اور فصلوں سے پیدوار حاصل ہوتی۔ جس طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا " اگر بستیوں والے ایمان لائے ہوتے اور انہوں نے تقوی اختیار کیا ہوتا تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکات کے دروازے کھول دیتے۔ 66۔ 3 لیکن ان کی اکثریت نے ایمان کا یہ راستہ اختیار نہیں کیا اور وہ اپنے کفر پر مصر اور رسالت محمدی سے انکار پر اڑے ہوئے ہیں۔ اسی اصرار اور انکار کو یہاں برے اعمال سے تعبیر کیا گیا ہے۔ درمیانہ روش کی ایک جماعت سے مراد عبد اللہ بن سلام جیسے 8۔ 9 افراد ہیں جو یہود مدینہ میں سے مسلمان ہوئے۔
(آیت 66)➊ {وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِيْلَ:} تورات و انجیل کی پابندی کرنے کا مطلب دوسرے احکام و حدود کی پابندی کے ساتھ ساتھ محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا بھی ہے، کیونکہ دونوں کتابوں میں اس کا حکم موجود ہے۔ {”وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ “} سے مراد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والا قرآن اور آپ کی سنت ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اہل کتاب میں سے ہو، اپنے نبی پر ایمان لایا ہو اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لائے تو اس کے لیے دگنا ثواب ہے۔“ [ بخاری، العلم، باب تعلیم الرجل أمتہ و أھلہ: ۹۷ ] ➋ {لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ:} یعنی آسمان بابرکت بارشیں برساتا، زمین سے کھیتی اور دوسرے خزانوں کی فراوانی ہو جاتی اور انھیں روزی کمانے کے سلسلے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا، جیسا کہ سورۂ اعراف میں صرف اہل کتاب ہی نہیں ہر قوم اور آبادی کے لیے ایمان اور تقویٰ کی صورت میں یہی بشارت دی گئی ہے، فرمایا: «وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ» ‏‏‏‏ [ الأعراف: ۹۶ ] ”اور اگر واقعی بستیوں والے ایمان لے آتے اور بچ کر چلتے تو ہم ضرور ان پر آسمان اور زمین سے بہت سی برکتیں کھول دیتے۔“ اب مسلمان بھی اگر یہ نعمت حاصل کرنا چاہیں تو اس کا طریقہ ایمان اور تقویٰ ہے، کفار سے بھیک مانگنا اور ان کے کفریہ طریقے اختیار کرنا نہیں۔ ➌ {مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ:} یعنی افراط و تفریط (زیادتی اور کمی) سے بچ کر در میانے راستے پر چلنے والے ہیں۔ ان سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو مسلمان ہو گئے تھے، جیسے عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی۔ ➍ {وَ كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا يَعْمَلُوْنَ:} اس سے مراد بقیہ یہودی ہیں جو ایمان نہیں لائے۔
یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۶۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے پیغمبرؐ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے یقین رکھو کہ وہ کافروں کو (تمہارے مقابلہ میں) کامیابی کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجیئے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی، اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچا لے گا بےشک اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
احمد رضا خان بریلوی
اے رسول پہنچا دو جو کچھ اترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ایسا نہ ہو تو تم نے اس کا کوئی پیام نہ پہنچایا اور اللہ تمہاری نگہبانی کرے گا لوگوں سے بیشک اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اے رسول! جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے۔ اسے (لوگوں تک) پہنچا دیجیے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو (پھر یہ سمجھا جائے گا کہ) آپ نے اس کا کوئی پیغام پہنچایا ہی نہیں۔ اور اللہ آپ کی لوگوں (کے شر) سے حفاظت کرے گا بے شک خدا کافروں کو ہدایت نہیں کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
اے رسول! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اگر تو نے نہ کیا تو توُ نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔ بے شک اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی کے کسی حکم کو چھپایا نہیں ٭٭

اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول کے پیارے خطاب سے آواز دے کر اللہ تعالیٰ حکم نے دیا ہے کہ ’ اللہ تعالیٰ کے کل احکام لوگوں کو پہنچا دو ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا۔ صحیح بخاری میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں جو تجھ سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کسی حکم کو چھپا لیا تو جان لو کہ وہ جھوٹا ہے، اللہ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا ہے پھر اس آیت کی تلاوت آپ رضی اللہ عنہا نے کی }۔ یہ حدیث یہاں مختصر ہے اور جگہ پر مطول بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4612] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے { اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے کسی فرمان کو چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپا لیتے۔ آیت «وَتُخْــفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰـىهُ» ۱؎ [33-الأحزاب:37] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ تو اپنے دل میں وہ چھپاتا تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور لوگوں سے جھینپ رہا تھا حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تو اس سے ڈرے ‘ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:177] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کہ لوگوں میں یہ چرچا ہو رہا ہے کہ تمہیں کچھ باتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بتائی ہیں جو اور لوگوں سے چھپائی جاتی تھیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدہ:67] ‏‏‏‏ پڑھی اور فرمایا ”قسم اللہ کی ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسی مخصوص چیز کا وارث نہیں بنایا۔‏‏‏‏“ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا کیا تمہارے پاس قرآن کے علاوہ کچھ اور وحی بھی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے دانے کو اگایا ہے اور جانوروں کو پیدا کیا ہے کہ کچھ نہیں بجز اس فہم و روایت کے جو اللہ کسی شخص کو دے اور جو کچھ اس صحیفے میں ہے، اس نے پوچھا صحیفے میں کیا ہے؟ فرمایا دیت کے مسائل ہیں، قیدیوں کو چھوڑ دینے کے احکام ہیں اور یہ ہے کہ مسلمان کافر کے بدلے قصاصاً قتل نہ کیا جائے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3047] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں زہری رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”اللہ کی طرف سے رسالت ہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے تبلیغ ہے اور ہمارے ذمہ قبول کرنا اور تابع فرمان ہونا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:753] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی سب باتیں پہنچا دیں، اس کی گواہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام امت ہے کہ فی الواقع آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کی پوری ادائیگی کی اور سب سے بڑی مجلس جو تھی، اس میں سب نے اس کا اقرار کیا یعنی حجتہ الوداع خطبے میں، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چالیس ہزار صحابہ کا گروہ عظیم تھا۔

صحیح مسلم میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطبے میں لوگوں سے فرمایا: «‏‏‏‏أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَسْؤُولُونَ عَنِّي، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟» ‏‏‏‏ تم میرے بارے میں اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے؟ } سب نے کہا ہماری گواہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کر دی اور حق رسالت ادا کر دیا اور ہماری پوری خیر خواہی کی، { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا: «اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟» ‏‏‏‏ اے اللہ! کیا میں نے تیرے تمام احکامات کو پہنچا دیا، اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1218] ‏‏‏‏

مسند احمد میں یہ بھی ہے کہ { { آپ نے اس خطبے میں پوچھا کہ لوگو یہ کون سا دن ہے؟ } سب نے کہا حرمت والا، پوچھا { یہ کون سا شہر ہے }، جواب دیا، حرمت والا۔ فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ جواب ملا، حرمت والا، فرمایا: { پس تمہارے مال اور خون و آبرو آپس میں ایک دوسرے پر ایسی ہی حرمت والے ہیں جیسے اس دن کی اس شہر میں اور اس مہینے میں حرمت ہے }۔ پھر باربار اسی کو دوہرایا۔ پھر اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا: { اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ } }۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت تھی۔ { پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دیکھو ہر حاضر شخص غیر حاضر کو یہ بات پہنچا دے۔ دیکھو میرے پیچھے کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1739] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمة الله نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اگر تو نے میرے فرمان میرے بندوں تک نہ پہنچائے تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا، پھر اس کی جو سزا ہے وہ ظاہر ہے، اگر ایک آیت بھی چھپا لی تو حق رسالت ادا نہ ہو ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:468/10] ‏‏‏‏ حضرت مجاہد رحمة الله فرماتے ہیں ”جب یہ حکم نازل ہوا کہ جو کچھ اترا ہے سب پہنچا دو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ میں اکیلا ہوں اور یہ سب مل کر مجھ پر چڑھ دوڑتے ہیں، میں کس طرح کروں }۔ تو دوسرا جملہ اترا کہ ’ اگر تو نے نہ کیا تو تو نے رسالت کا حق ادا نہیں کیا ‘۔ پھر فرمایا ’ تجھے لوگوں سے بچا لینا میرے ذمہ ہے۔ تیرا حافظ و ناصر میں ہوں، بے خطر رہئیے وہ کوئی تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ‘۔ اس آیت سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چوکنے رہتے تھے، لوگ نگہبانی پر مقرر رہتے تھے۔ چنانچہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ { ایک رات کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیدار تھے انہیں نیند نہیں آ رہی تھی میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آج کیا بات ہے؟ فرمایا { کاش کہ میرا کوئی نیک بخت صحابی رضی اللہ عنہ آج پہرہ دیتا }، یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ میرے کانوں میں ہتھیار کی آواز آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے؟ جواب ملا کہ میں سعد بن مالک ہوں، فرمایا: { کیسے آئے؟ } جواب دیا اس لیے کہ رات بھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چوکیداری کروں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باآرام سوگئے، یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2885] ‏‏‏‏

ایک روایت میں ہے کہ { یہ واقعہ سنہ٢ھ کا ہے۔ اس آیت کے نازل ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمے سے سر نکال کر چوکیداروں سے فرمایا: { جاؤ اب میں اللہ کی پناہ میں آگیا، تمہاری چوکیداری کی ضرورت نہیں رہی } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3046، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { ابوطالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی آدمی کو رکھتے، جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس چچا! اب میرے ساتھ کسی کے بھیجنے کی ضرورت نہیں، میں اللہ کے بچاؤ میں آ گیا ہوں } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11663:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ روایت غریب اور منکر ہے یہ واقعہ ہو تو مکہ کا ہو اور یہ آیت تو مدنی ہے، مدینہ کی بھی آخری مدت کی آیت ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مکے میں بھی اللہ کی حفاظت اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہی باوجود دشمن جاں ہونے کے اور ہر ہر اسباب اور سامان سے لیس ہونے کے سردار ان مکہ اور اہل مکہ آپ کا بال تک بیکا نہ کرسکے، ابتدائے رسالت کے زمانہ میں اپنے چچا ابوطالب کی وجہ سے جو کہ قریشیوں کے سردار اور بارسوخ شخص تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ہوتی رہی، ان کے دل میں اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عزت ڈال دی، یہ محبت اور عزت ڈال دی، یہ محبت طبعی تھی شرعی نہ تھی۔ اگر شرعی ہوتی تو قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی ان کی بھی جان کے خواہاں ہو جاتے۔ ان کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے انصار کے دلوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی محبت پیدا کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہی کے ہاں چلے گئے۔ اب تو مشرکین بھی اور یہود بھی مل ملا کر نکل کھڑے ہوئے، بڑے بڑے سازو سامان لشکر لے کر چڑھ دوڑے، لیکن باربار کی ناکامیوں نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اسی طرح خفیہ سازشیں بھی جتنی کیں، قدرت نے وہ بھی انہی پر الٹ دیں۔ ادھر وہ جادو کرتے ہیں، ادھر سورۃ معوذتین نازل ہوتی ہے اور ان کا جادو اتر جاتا ہے۔

ادھر ہزاروں جتن کرکے بکری کے شانے میں زہر ملا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھتے ہیں، ادھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی دھوکہ دہی سے آگاہ فرما دیتا ہے اور یہ ہاتھ کاٹتے رہ جاتے ہیں اور بھی ایسے واقعات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہت سارے نظر آتے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ { ایک سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت تلے، جو صحابہ رضی اللہ عنہم اپنی عادت کے مطابق ہر منزل میں تلاش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے چھوڑ دیتے تھے، دوپہر کے وقت قیولہ کر رہے تھے تو ایک اعرابی اچانک آنکلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار جو اسی درخت میں لٹک رہی تھی، اتار لی اور میان سے باہر نکال لی اور ڈانٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا، اب بتا کون ہے جو تجھے بچا لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ مجھے بچائے گا }، اسی وقت اس اعرابی کا ہاتھ کانپنے لگتا ہے اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر جاتی ہے اور وہ درخت سے ٹکراتا ہے، جس سے اس کا دماغ پاش پاش ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ آیت اتارتا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12281:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار سے غزوہ کیا ذات الرقاع کھجور کے باغ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کنوئیں میں پیر لٹکائے بیٹھے تھے، جو بنو نجار کے ایک شخص وارث نامی نے کہا دیکھو میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرتا ہوں۔ لوگوں نے کہا کیسے؟ کہا میں کسی حیلے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار لے لوں گا اور پھر ایک ہی وار کر کے پار کردوں گا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ادھر ادھر کی باتیں بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تلوار دیکھنے کو مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دے دی لیکن تلوار کے ہاتھ میں آتے ہی اس پر اس بلا کا لرزہ چڑھا کہ آخر تلوار سنبھل نہ سکی اور ہاتھ سے گر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تیرے اور تیرے بد ارادے کے درمیان اللہ حائل ہوگیا اور یہ آیت اتری } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2913 (‏‏‏‏نزول آیت کے ذکر کے بغیر یہ روایت صحیح ہے)‏‏‏‏‏‏‏‏ ] ‏‏‏‏ حویرث بن حارث کا بھی ایسا قصہ مشہور ہے۔ ابن مردویہ میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کی عادت تھی کہ سفر میں جس جگہ ٹھہرتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے گھنا سایہ دار بڑا درخت چھوڑ دیتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کے تلے آرام فرمائیں، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ایسے درخت تلے سوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اس درخت میں لٹک رہی تھی، ایک شخص آگیا اور تلوار ہاتھ میں لے کر کہنے لگا، اب بتا کہ میرے ہاتھ سے تجھے کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ بچائے گا، تلوار رکھ دے } اور وہ اس قدر ہیبت میں آگیا کہ تعمیل حکم کرنا ہی پڑی اور تلوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دی، اور اللہ نے یہ آیت اتاری کہ «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدہ:67] ‏‏‏‏}۔ ۱؎ [صحیح ابن حبان:1739:حسن] ‏‏‏‏

مسند میں ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موٹے آدمی کے پیٹ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: { اگر یہ اس کے سوا میں ہوتا تو تیرے لیے بہتر تھا }۔ ایک شخص کو صحابہ رضی اللہ عنہم پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کر رہا تھا، وہ کانپنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { گھبرا نہیں چاہے تو ارادہ کرے لیکن اللہ اسے پورا نہیں ہونے دے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:471/3:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ تیرے ذمہ صرف تبلیغ ہے، ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ کافروں کو ہدایت نہیں دے گا۔ تو پہنچا دے، حساب کا لینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے ‘۔
67۔ 1 اس حکم کا مفاد یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ہے، بلا کم وکاست اور بلا خوف ملامت۔ اور حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے ایک لاکھ یا ایک لاکھ چالیس ہزار کے جم غفیر میں فرمایا ـ' تم میرے بارے میں کیا کہو گے؟ انہوں نے کہا (ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے اللہ کا پیغام دیا اور ادا کردیا اور خیر خواہی فرما دی۔ آپ نے آسمان کی طرف انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اللّھُمّ ھَلْ بَلّغتُ (تین مرتبہ) یا اللّھُم ّفَاشْھَدُ (تین مرتبہ) صحیح مسلم کتاب حج ' یعنی اے اللہ! میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا، تو گواہ رہ، تو گواہ رہ، تو گواہ رہ۔ ' 67۔ 2 یہ حفاظت اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طریقہ پر بھی فرمائی اور دنیاوی اسباب کے تحت بھی دنیاوی اسباب کے تحت اس آیت کے نزول سے بہت قبل اللہ تعالیٰ نے پہلے آپ کے چچا ابو طالب کے دل میں آپ کی طبعی محبت ڈال دی اور وہ آپ کی حفاظت کرتے رہے، ان کا کفر پر قائم رہنا بھی شاید انہی اسباب کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ مسلمان ہوجاتے تو شاید سرداران قریش کے دل میں ان کی ہیبت و عظمت نہ رہتی جو ان کے ہم مذہب ہونے کی صورت میں آخر وقت تک رہی۔ پھر ان کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے بعض سرداران قریش کے ذریعے سے اللہ نے وقتًا فوقتًا یہودیوں کے مکر و کید سے مطلع فرما کر خاص خطرے کے مواقع پر بچایا اور گھمسان کی جنگوں میں کفار کے انتہائی پر خطرناک حملوں سے بھی آپ کو محفوظ رکھا۔
(آیت 67)➊ {وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ:} یعنی اﷲ تعالیٰ کے پیغام میں سے اگر کچھ بھی چھپا لیا، یا پہنچانے میں سستی کی تو گویا سرے سے اس کا پیغام پہنچایا ہی نہیں، خصوصاً یہود و نصاریٰ سے متعلق اعلانات۔ اس آیت میں ان لوگوں کی تردید ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہتے ہیں کہ آپ نے قرآن کی بعض آیات مسلمانوں تک نہیں پہنچائیں، بلکہ صرف علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کو بتائیں۔ خود علی رضی اللہ عنہ نے ان کے اس باطل عقیدے کی تردید فرمائی، چنانچہ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا آپ (اہل بیت) کے پاس کوئی اور کتاب ہے؟“ تو انھوں نے فرمایا: ”نہیں، مگر اﷲ کی کتاب یا کتاب اﷲ کی وہ سمجھ ہے جو کسی مسلمان آدمی کو عطا کی جائے، یا جو اس صحیفے میں ہے۔“ میں نے پوچھا: ”اس صحیفے میں کیا ہے؟“ فرمایا: ”دیت اور قیدیوں کو چھڑانے سے متعلق احادیث اور یہ کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔“ [بخاری، العلم، باب کتابۃ العلم:۱۱۱ ] عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جو شخص یہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کوئی چیز چھپا لی تھی جو اﷲ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمائی تو یقینا اس نے جھوٹ بولا، کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» ”اے رسول! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب: «‏‏‏‏یأیھا الرسول بلغ ما أنزل إلیک من ربک» : ۴۶۱۲ ] جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے دن) اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا: ” تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو کیا جواب دو گے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”ہم سب یہ گواہی دیں گے کہ بے شک آپ نے پیغامِ رسالت کو پہنچا دیا اور (پہنچانے کا) حق ادا کر دیا اور یہ کہ آپ نے خیر خواہی فرمائی۔“ اس پر آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے اور صحابہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اے اﷲ! تو گواہ ہو جا، اے اﷲ! تو گواہ ہو جا۔“ [ مسلم، الحج، باب حجۃ النبی: ۱۲۱۸۔ بخاری: ۱۷۴۱ ] ➋ {وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ:} اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص حفاظت میں لے لیا اور فرمایا کہ تم میرا پیغام پہنچاؤ، میں خود تمھیں لوگوں سے بچاؤں گا۔ اس آیت کے اترنے سے پہلے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرا دیا جاتا تھا، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سو نہیں رہے تھے، میں بھی آپ کے پاس ہی لیٹی ہوئی تھی، میں نے عرض کی: ”اے اﷲ کے رسول! کیا بات ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”کاش! کوئی نیک آدمی میرا پہرا دیتا۔“ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ میں نے ہتھیاروں کی جھنکار سنی۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون ہے؟“ آنے والے نے کہا: ”سعد بن ابی وقاص ہوں۔“ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیسے آنا ہوا؟“ انھوں نے کہا: ”اے اﷲ کے رسول! میں آیا ہوں کہ (آج رات) آپ کا پہرا دوں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”اس کے بعد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم آرام سے سو گئے، حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی۔“ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب الحراسۃ فی الغزو فی سبیل اﷲ: ۲۸۸۵۔ مسلم: ۲۴۱۰ ] عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پہرے کا انتظام کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ جب یہ آیت اتری: «وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» تو آپ نے خیمے سے سر نکال کر فرمایا: ” لوگو! تم چلے جاؤ، اﷲ تعالیٰ مجھے (دشمن سے) بچائے گا۔ “ [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ المائدۃ: ۳۰۴۶ ] اس کی ایک مثال وہ اعرابی بھی ہے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتے ہوئے آپ کی تلوار پکڑ کر کہا تھا کہ تمھیں مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”اﷲ!“ ➌ {اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ:} یعنی اﷲ تعالیٰ کفار کو ان کے ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ (کبیر) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں، یعنی اگرچہ وہ دشمن ہوں تم بے فکر یہ پیغام پہنچاؤ اور خطرہ نہ کرو۔ (موضح) یا مطلب یہ ہے کہ ہدایت و گمراہی اﷲ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو فکر نہ کرو۔ (ابن کثیر)
قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَسۡتُمۡ عَلٰی شَیۡءٍ حَتّٰی تُقِیۡمُوا التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ وَ لَیَزِیۡدَنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا ۚ فَلَا تَاۡسَ عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۶۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
صاف کہہ دو کہ "اے اہل کتاب! تم ہرگز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ توراۃ اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں" ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیا گیا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھا دے گا مگر انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجیئے کہ اے اہل کتاب! تم دراصل کسی چیز پر نہیں جب تک کہ تورات وانجیل کو اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی سے طرف اتارا گیا ہے قائم نہ کرو، جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے اترا ہے وه ان میں سے بہتوں کو شرارت اور انکار میں اور بھی بڑھائے گا ہی، تو آپ ان کافروں پر غمگین نہ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرمادو، اے کتابیو! تم کچھ بھی نہیں ہو جب تک نہ قائم کرو توریت اور انجیل اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اور بیشک اے محبوب! وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اس میں بہتوں کو شرارت اور کفر کی اور ترقی ہوگی تو تم کافروں کا کچھ غم نہ کھاؤ،
علامہ محمد حسین نجفی
اے اہلِ کتاب تم کسی راہ (حق) پر نہیں ہو جب تک کہ تورات، انجیل کو اور جو کچھ پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس کو قائم نہ رکھو اور جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے (قرآن) وہ ان میں سے بہت سوں کی سرکشی اور کفر میں اضافہ کرے گا آپ کافروں پر افسوس نہ کریں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اے اہل کتاب! تم کسی چیز پر نہیں ہو، یہاں تک کہ تم تورات اور انجیل کو قائم کرو اور اس کو جو تمھارے رب کی جانب سے تمھاری طرف نازل کیا گیا اور یقینا جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے وہ ان میں سے بہت سے لوگوں کو سرکشی اور کفر میں ضرور بڑھا دے گا، سو تو کافر لوگوں پرغم نہ کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آخری رسول پر ایمان اولین شرط ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ یہود و نصاریٰ کسی دین پر نہیں، جب تک کہ اپنی کتابوں پر اور اللہ کی اس کتاب پر ایمان لائیں لیکن ان کی حالت تو یہ ہے کہ جیسے جیسے قرآن اترتا ہے یہ لوگ سرکشی اور کفر میں بڑھتے جاتے ہیں۔ پس اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ان کافروں کیلئے حسرت و افسوس کر کے کیوں اپنی جان کو روگ لگاتا ہے ‘۔ صابی، نصرانیوں اور مجوسیوں کی بے دین جماعت کو کہتے ہیں اور صرف مجوسیوں کو بھی علاوہ ازیں ایک اور گروہ تھا، یہود اور نصاریٰ دونوں مثل مجوسیوں کے تھے۔ قتادہ رحمة الله کہتے ہیں ”یہ زبور پڑھتے تھے غیر قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے تھے اور فرشتوں کو پوجتے تھے۔‏‏‏‏“ وہب فرماتے ہیں ”اللہ کو پہچانتے تھے، اپنی شریعت کے حامل تھے، ان میں کفر کی ایجاد نہیں ہوئی تھی، یہ عراق کے متصل آباد تھے، یلوثا کہے جاتے تھے، نبیوں کو مانتے تھے، ہر سال میں تیس روزے رکھتے تھے اور یمن کی طرف منہ کر کے دن بھر میں پانچ نمازیں بھی پڑھتے تھے۔‏‏‏‏“ اس کے سوا اور قول بھی ہیں چونکہ پہلے دو جملوں کے بعد انکا ذکر آیا تھا، اس لیے رفع کے ساتھ عطف ڈالا۔ ان تمام لوگوں سے جناب باری فرماتا ہے کہ ’ امن و امان والے بے ڈر اور بے خوف وہ ہیں جو اللہ پر اور قیامت پر سچا ایمان رکھیں اور نیک اعمال کریں اور یہ ناممکن ہے، جب تک اس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ ہو جو کہ تمام جن و انس کی طرف اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں ‘۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے آنے والی زندگی کے خطرات سے بے خوف ہیں اور یہاں چھوڑ کر جانے والی چیزوں کو انہیں کوئی تمنا اور حسرت نہیں۔ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں اس جملے کے مفصل معنی بیان کر دیئے گئے ہیں۔
68۔ 1 یہ ہدایت اور گمراہی اس اصول کے مطابق ہے جو سنت اللہ رہی ہے۔ یعنی جس طرح بعض اعمال و اشیاء سے اہل ایمان کے ایمان و تصدیق، عمل صالح اور علم نافع میں اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح معاصی اور تمرد سے کفر و طغیان میں زیادتی ہوتی ہے۔ اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان فرمایا ہے ــ' فرما دیجئے یہ قرآن ایمان والوں کے لئے ہدایت اور شفا ہے اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں (بہرا پن) ہے اور یہ ان پر اندھا پن ہے۔ گرانی کے سبب ان کو (گویا) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے '" اور ہم قرآن کے ذریعے سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے " (القرآن)۔
(آیت 68) ➊ {قُلْ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَيْءٍ ……:} تورات و انجیل قائم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ان میں جو عہد ان سے لیے گئے ان کو پورا کریں اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر ایمان لانے کے جو دلائل ان کتابوں میں موجود ہیں ان کے مطابق آپ کی نبوت کا اقرار کریں اور تورات و انجیل کے احکام و حدود پر عمل پیرا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر پورے طور پر ان کتابوں پر عمل نہیں کرو گے تو نہ تمھاری کوئی حیثیت اور نہ تمھاری کوئی دین داری۔ (ابن کثیر) یہی بات مسلمانوں پر صادق آتی ہے کہ اگر وہ قرآن پر پوری طرح عمل نہیں کریں گے تو نہ ان کی کچھ حیثیت ہو گی نہ کوئی دین داری۔ ➋ {وَ لَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ:} دیکھیے اسی سورت کی آیت (۶۴،کا حاشیہ (۳)۔ ➌ {فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ:} اس لیے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، اس سے اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس کا وبال خود بھگت کر رہیں گے۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ الصّٰبِـُٔوۡنَ وَ النَّصٰرٰی مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۶۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(یقین جانو کہ یہاں اجارہ کسی کا بھی نہیں ہے) مسلمان ہو ں یا یہودی، صابی ہو ں یا عیسائی، جو بھی اللہ اور روز آخر پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا بے شک اس کے لیے نہ کسی خوف کا مقام ہے نہ رنج کا
مولانا محمد جوناگڑھی
مسلمان، یہودی، ستاره پرست اور نصرانی کوئی ہو، جو بھی اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ﻻئے اور نیک عمل کرے وه محض بےخوف رہے گا اور بالکل بے غم ہوجائے گا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور اسی طرح یہودی اور ستارہ پرت اور نصرانی ان میں جو کوئی سچے دل سے اللہ اور قیامت پر ایمان لائے اور اچھے کام کرے توان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جو لوگ مؤمن، یہودی، نصرانی اور صابی (ستارہ پرست) کہلاتے ہیں (غرض) جو کوئی بھی واقعی اللہ اور آخرت پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو ان (سب) کے لئے ان کے پروردگار کے پاس ان کا اجر و ثواب (محفوظ) ہے اور ان کے لئے نہ کوئی خوف ہے۔ اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی بنے اور صابی اور نصاریٰ، جو بھی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیا تو ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آخری رسول پر ایمان اولین شرط ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ یہود و نصاریٰ کسی دین پر نہیں، جب تک کہ اپنی کتابوں پر اور اللہ کی اس کتاب پر ایمان لائیں لیکن ان کی حالت تو یہ ہے کہ جیسے جیسے قرآن اترتا ہے یہ لوگ سرکشی اور کفر میں بڑھتے جاتے ہیں۔ پس اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ان کافروں کیلئے حسرت و افسوس کر کے کیوں اپنی جان کو روگ لگاتا ہے ‘۔ صابی، نصرانیوں اور مجوسیوں کی بے دین جماعت کو کہتے ہیں اور صرف مجوسیوں کو بھی علاوہ ازیں ایک اور گروہ تھا، یہود اور نصاریٰ دونوں مثل مجوسیوں کے تھے۔ قتادہ رحمة الله کہتے ہیں ”یہ زبور پڑھتے تھے غیر قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے تھے اور فرشتوں کو پوجتے تھے۔‏‏‏‏“ وہب فرماتے ہیں ”اللہ کو پہچانتے تھے، اپنی شریعت کے حامل تھے، ان میں کفر کی ایجاد نہیں ہوئی تھی، یہ عراق کے متصل آباد تھے، یلوثا کہے جاتے تھے، نبیوں کو مانتے تھے، ہر سال میں تیس روزے رکھتے تھے اور یمن کی طرف منہ کر کے دن بھر میں پانچ نمازیں بھی پڑھتے تھے۔‏‏‏‏“ اس کے سوا اور قول بھی ہیں چونکہ پہلے دو جملوں کے بعد انکا ذکر آیا تھا، اس لیے رفع کے ساتھ عطف ڈالا۔ ان تمام لوگوں سے جناب باری فرماتا ہے کہ ’ امن و امان والے بے ڈر اور بے خوف وہ ہیں جو اللہ پر اور قیامت پر سچا ایمان رکھیں اور نیک اعمال کریں اور یہ ناممکن ہے، جب تک اس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ ہو جو کہ تمام جن و انس کی طرف اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں ‘۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے آنے والی زندگی کے خطرات سے بے خوف ہیں اور یہاں چھوڑ کر جانے والی چیزوں کو انہیں کوئی تمنا اور حسرت نہیں۔ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں اس جملے کے مفصل معنی بیان کر دیئے گئے ہیں۔
69۔ 1 یہ وہی مضمون ہے جو سورة بقرہ کی آیت 62 میں بیان ہوا ہے، اسے دیکھ لیا جائے۔
(آیت 69) ➊ {اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ……:} اوپر کی آیات میں بتایا کہ اہل کتاب جب تک ایمان لا کر عمل صالح نہ کریں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اس میں فرمایا کہ صرف اہل کتاب ہی نہیں سب مسلم و غیر مسلم لوگوں کا یہی حکم ہے۔ ➋ اس آیت میں لفظ {” الصّٰبِـُٔوْنَ “} بظاہر تو منصوب ہونا چاہیے تھا مگر سیبویہ اور خلیل نے لکھا ہے کہ یہ {” مَرْفُوْعٌ بِالْاِبْتِدَاءِ عَلٰی نِيَّةِ التَّأْخِيْرِ“} ہے، یعنی یہ لفظ {” الصّٰبِـُٔوْنَ “} اصل میں {” وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ “} کے بعد ہونے کی نیت سے مبتدا ہے اور اس کی خبر {”كَذٰلِكَ “} ہے، یعنی {” الصّٰبِـُٔوْنَ “} کا بھی یہی حکم ہے۔ اس کے مؤخر لانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ دراصل یہ سب فرقوں سے زیادہ گمراہ فرقہ ہے۔ اس لیے ان کا علیحدہ بیان ہوا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان فرقوں میں سے جو بھی ایمان لا کر عمل صالح کرے گا اﷲ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائے گا، حتیٰ کہ اگر صابی بھی ایمان لے آئیں تو ان کو بھی یہ رعایت مل سکتی ہے۔ (کبیر) {” الصّٰبِـِٕيْنَ “} کی تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۶۲) کے حواشی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے کے بعد آپ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے، گویا اس آیت میں {” اٰمَنَ بِاللّٰهِ “} سے مراد مسلمان ہونا ہے، یا یہ کہ اپنے اپنے زمانے میں ان میں جو بھی آسمانی دین تھا اس پر ایمان لا کر عمل کرنے والے مراد ہیں، مگر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد کوئی شخص کتنا بھی اﷲ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے مطلع ہونے کے باوجود کلمہ نہیں پڑھتا تو وہ جہنمی ہے۔ {” اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} سے مراد یا تو وہ لوگ ہیں جو صرف زبان سے ایمان لائے دل سے نہیں، یعنی منافق، ان میں سے جو دل سے ایمان لا کر عمل صالح کرے گا، یا سب مسلمان مراد ہیں کہ اگر وہ ایمان کے ساتھ عمل صالح کریں گے تو خوف اور حزن سے بچیں گے۔ صرف کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں، عمل صالح بھی ضروری ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۶۲)۔
لَقَدۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ وَ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡہِمۡ رُسُلًا ؕ کُلَّمَا جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَہۡوٰۤی اَنۡفُسُہُمۡ ۙ فَرِیۡقًا کَذَّبُوۡا وَ فَرِیۡقًا یَّقۡتُلُوۡنَ ﴿٭۷۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور اُن کی طرف بہت سے رسول بھیجے، مگر جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول اُن کی خواہشات نفس کے خلاف کچھ لے کر آیا تو کسی کو انہوں نے جھٹلایا اور کسی کو قتل کر دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے بالیقین بنیاسرائیل سے عہد وپیمان لیا اور ان کی طرف رسولوں کو بھیجا، جب کبھی رسول ان کے پاس وه احکام لے کر آئے جو ان کی اپنی منشا کے خلاف تھے تو انہوں نے ان کی ایک جماعت کی تکذیب کی اور ایک جماعت کو قتل کردیا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کی طرف رسول بھیجے، جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول وہ بات لے کر آیا جو ان کے نفس کی خواہش نہ تھی ایک گروہ کو جھٹلایا اور ایک گروہ کو شہید کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا اور ان کی طرف کئی رسول بھیجے تھے جب بھی کوئی رسول ان کے پاس کوئی ایسی بات لے کر آتا جسے ان کے نفوس پسند نہیں کرتے تھے تو بعضوں کو جھٹلا دیتے تھے اور بعضوں کو قتل کر دیتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ان کی طرف کئی رسول بھیجے، جب کبھی کوئی رسول ان کے پاس وہ چیز لے کر آیا جسے ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو انھوں نے ایک گروہ کو جھٹلا دیا اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیاہ عمل یہود اور نصاریٰ ٭٭

اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے وعدے لیے تھے کہ وہ اللہ کے احکام کے عامل اور وحی کے پابند رہیں گے۔ لیکن انہوں نے وہ میثاق توڑ دیا۔ اپنی رائے اور خواہش کے پیچھے لگ گئے کتاب اللہ کی جو بات ان کی منشاء اور رائے کے مطابق تھی مان لی جس میں اختلاف نظر آیا ترک کر دی، نہ صرف اتنا ہی کیا بلکہ رسولوں کے مخالف ہو کر بہت سے رسولوں کو جھوٹا بتایا اور بہتیروں کو قتل بھی کر دیا کیونکہ ان کے لائے ہوئے احکام ان کی رائے اور قیاس کے خلاف تھے اتنے بڑے گناہ کے بعد بھی بے فکر ہو کر بیٹھے رہے اور سمجھ لیا کہ ہمیں کوئی سزا نہ ہوگی۔ لیکن انہیں زبردست روحانی سزا دی گئی یعنی وہ حق سے دور پھینک دیئے گئے اور اس سے اندھے اور بہرے بنا دیئے گئے نہ حق کو سنیں اور نہ ہدایت کو دیکھ سکیں لیکن پھر بھی اللہ نے ان پر مہربانی کی افسوس اس کے بعد بھی ان میں سے اکثر حق سے نابینا اور حق کے سننے سے محروم ہی ہو گئے اللہ ان کے اعمال سے باخبر ہے وہ جانتا ہے کہ کون کس چیز کا مستحق ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 70) {لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ ……:} اس سے مقصود بنی اسرائیل کی سرکشی اور وعدہ پورا نہ کرنے کا بیان ہے، گویا اس کا تعلق ابتدائے سورت {” اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ “} سے ہے، یعنی ہم نے ان سے عہد لیا کہ توحید و شریعت پر قائم رہیں گے اور جو رسول ان کی طرف بھیجے جائیں گے ان کی بات سنیں گے اور مانیں گے۔ اس میثاق کا ذکر اس سورت کی آیت (۱۲) اور سورۂ بقرہ کی آیت (۸۳ تا ۸۵) میں ہے۔
وَ حَسِبُوۡۤا اَلَّا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ فَعَمُوۡا وَ صَمُّوۡا ثُمَّ تَابَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ثُمَّ عَمُوۡا وَ صَمُّوۡا کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رونما نہ ہوگا، اس لیے اندھے اور بہرے بن گئے پھر اللہ نے اُنہیں معاف کیا تو اُن میں سے اکثر لوگ اور زیادہ اندھے اور بہرے بنتے چلے گئے اللہ اُن کی یہ سب حرکات دیکھتا رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور سمجھ بیٹھے کہ کوئی پکڑ نہ ہوگی، پس اندھے بہرے بن بیٹھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی، اس کے بعد بھی ان میں سے اکثر اندھے بہرے ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو بخوبی دیکھنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس گمان میں ہیں کہ کوئی سزا نہ ہوگی تو اندھے اور بہرے ہوگئے پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی پھر ان میں بہتیرے اندھے اور بہرے ہوگئے اور اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور خیال کرتے تھے کہ (انہیں) کوئی سزا نہیں ملے گی۔ اس لئے وہ اندھے اور بہرے ہوگئے پھر توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی (لیکن) اس کے بعد پھر ان میں سے بہت سے لوگ اندھے اور بہرے ہوگئے۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں۔ اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے سمجھا کہ کوئی فتنہ واقع نہ ہوگا تو وہ اندھے ہوگئے اور بہرے ہوگئے، پھر اللہ ان پر مہربان ہوگیا، پھر ان میں بہت سے اندھے ہو گئے اور بہرے ہوگئے اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیاہ عمل یہود اور نصاریٰ ٭٭

اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے وعدے لیے تھے کہ وہ اللہ کے احکام کے عامل اور وحی کے پابند رہیں گے۔ لیکن انہوں نے وہ میثاق توڑ دیا۔ اپنی رائے اور خواہش کے پیچھے لگ گئے کتاب اللہ کی جو بات ان کی منشاء اور رائے کے مطابق تھی مان لی جس میں اختلاف نظر آیا ترک کر دی، نہ صرف اتنا ہی کیا بلکہ رسولوں کے مخالف ہو کر بہت سے رسولوں کو جھوٹا بتایا اور بہتیروں کو قتل بھی کر دیا کیونکہ ان کے لائے ہوئے احکام ان کی رائے اور قیاس کے خلاف تھے اتنے بڑے گناہ کے بعد بھی بے فکر ہو کر بیٹھے رہے اور سمجھ لیا کہ ہمیں کوئی سزا نہ ہوگی۔ لیکن انہیں زبردست روحانی سزا دی گئی یعنی وہ حق سے دور پھینک دیئے گئے اور اس سے اندھے اور بہرے بنا دیئے گئے نہ حق کو سنیں اور نہ ہدایت کو دیکھ سکیں لیکن پھر بھی اللہ نے ان پر مہربانی کی افسوس اس کے بعد بھی ان میں سے اکثر حق سے نابینا اور حق کے سننے سے محروم ہی ہو گئے اللہ ان کے اعمال سے باخبر ہے وہ جانتا ہے کہ کون کس چیز کا مستحق ہے۔
71۔ 1 یعنی سمجھے تھے کہ کوئی سزا نہ ہوگی۔ لیکن مذکورہ اصول الٰہی کے مطابق یہ سزا ہوئی کہ یہ حق کے دیکھنے سے مزید اندھے اور حق کے سننے سے مزید بہرے ہوگئے اور توبہ کے بعد پھر یہی عمل انہوں نے دہرایا ہے تو اس کی وہی سزا بھی دوبارہ مرتب ہوئی۔
(آیت 71) ➊ {وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ:فِتْنَةٌ “} کے اصل معنی آزمائش کے ہیں، مطلب یہ کہ انھوں نے سمجھا کہ ہم کیسے ہی گناہ کر لیں، خواہ انبیاء تک کو قتل کریں، چونکہ ہم اﷲ کے بیٹے اور چہیتے ہیں، اس لیے دنیا میں کسی قسم کی بد بختی و نحوست یا غلبۂ دشمن قسم کی کوئی بلا ہم پر نازل نہیں ہو گی۔ (کبیر) ➋ {فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا:} مگر حق سے اندھے اور بہرے ہونے کی وجہ سے ان پر بلا نازل ہوئی۔ پہلی مرتبہ اﷲ تعالیٰ نے بخت نصر کو ان پر مسلط کر دیا جس نے ان کی مسجد اقصیٰ کو جلا ڈالا، ان کے اموال لوٹے اور ان کی اکثریت کو لونڈی و غلام بنا کر بابل لے گیا۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۴ تا ۸)۔ ➌ {ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ:} یعنی اﷲ تعالیٰ نے انھیں بخت نصر کی غلامی سے نجات دی اور انھوں نے اپنی حالت سدھاری اور کچھ عرصہ کے لیے ٹھیک رہے۔ ➍ {ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ ……:} یعنی پھر دوبارہ پہلے جیسی سرکشی پر اتر آئے، یہاں تک کہ انھوں نے زکریا اور یحییٰ علیہما السلام جیسے جلیل القدر انبیاء کو قتل کر ڈالا اور عیسیٰ علیہ السلام سے انتہائی توہین آمیز سلوک کیا، بلکہ انھیں بھی قتل کرنے کے درپے ہوئے۔ بعض نے گمراہی کے پہلے دور کو زکریا اور یحییٰ علیہما السلام کے زمانے کے ساتھ خاص کیا ہے اور دوسرے دور کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے ساتھ اور یہاں {” كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ “} میں اشارہ ہے کہ ان میں سے بعض حق پرست مسلمان ہو گئے تھے، جیسے عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء۔ اور ہو سکتا ہے کہ: «لَتُفْسِدُنَّ فِي الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ» [ بنی إسرائیل: ۴ ] (بے شک تم زمین میں ضرور دو بار فساد کرو گے) سے ان دونوں ادوار کی طرف اشارہ ہو۔ (کبیر) «وَ اللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ» اس سے مقصود انھیں اﷲ اور اس کے عذاب سے ڈرانا ہے۔
لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ ؕ وَ قَالَ الۡمَسِیۡحُ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ الۡجَنَّۃَ وَ مَاۡوٰىہُ النَّارُ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴿۷۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ "اے بنی اسرائیل! اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی" جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا اُس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اُس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بے شک وه لوگ کافر ہوگئے جن کا قول ہے کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے حاﻻنکہ خود مسیح نے ان سے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل! اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے، یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے واﻻ کوئی نہیں ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک کافر ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ اللہ وہی مسیح مریم کا بیٹا ہے اور مسیح نے تو یہ کہا تھا، اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب اور تمہارا رب، بیشک جو اللہ کا شریک ٹھہرائے تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
یقینا وہ لوگ کافر ہیں۔ جنہوں نے کہا کہ مسیح بن مریم ہی اللہ ہے حالانکہ خود عیسیٰ نے یہ کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل اللہ کی عبادت کرو۔ جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے۔ بے شک جو شخص کسی کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے گا۔ تو اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی یار و مددگار نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا بے شک اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے، اور مسیح نے کہا اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو، جو میرا رب اور تمھارا رب ہے۔ بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے ساتھ شریک بنائے سو یقینا اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے ٭٭

نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ ’ یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ «اِنِّیْ عَبْدُ الّلهِ» [19-مريم:30] ‏‏‏‏ ’ میں اللہ کا غلام ہوں ‘۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کرنے والے یہ جنت حرام ہے اور اس کیلئے جہنم واجب ہے ‘۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ» ۱؎ [4-النساء:48] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا ‘۔ «وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّـهُ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ» ۱؎ ‏‏‏‏ [7-الأعراف:50] ‏‏‏‏ ’ جہنمی جب جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے تو اہل جنت کا یہی جواب ہوگا کہ یہ دونوں چیزیں کفار پر حرام ہے ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ منادی کے مسلمانوں میں آواز لگوائی تھی کہ جنت میں فقط ایمان و اسلام والے ہی جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:114] ‏‏‏‏ سورۃ نساء کی آیت «اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:48] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں وہ حدیث بھی بیان کر دی گئی ہے جس میں ہے کہ { گناہ کے تین دیوان ہیں جس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ نے کبھی نہیں بخشا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کا ہے }۔ مسیح نے بھی اپنی قوم میں یہی وعظ بیان کیا اور فرما دیا کہ ”ایسے ناانصاف مشرکین کا کوئی مددگار بھی کھڑا نہ ہوگا۔‏‏‏‏“

اب ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ کو تین میں سے ایک مانتے تھے یہودی عزیر علیہ السلام کو اور نصرانی عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور اللہ تین میں کا ایک مانتے تھے پھر ان تینوں کے مقرر کرنے میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور حق تو یہ ہے کہ سبھی سب کافر تھے، حضرت مسیح علیہ السلام کو اور انکی ماں کو اور اللہ کو ملا کر اللہ مانتے تھے اسی کا بیان اس سورت کے آخر میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائے گا ’ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو بھی اللہ مانو، وہ اس سے صاف انکار کریں گے اور اپنی لاعلمی اور بےگناہی ظاہر کریں گے ‘۔ زیادہ ظاہر قول بھی یہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ دراصل لائق عبادت سوائے اس ذات واحد کے اور کوئی نہیں تمام کائنات اور کل موجودات کا معبود برحق وہی ہے۔ اگر یہ اپنے اس کافرانہ نظریہ سے باز نہ آئے تو یقیناً یہ المناک عذابوں کا شکار ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم وجود کو، بخشش و انعام اور لطف و رحمت کو بیان فرما رہا ہے اور باوجود ان کے اس قدر سخت جرم، اتنی اشد بے حیائی اور کذب و افتراء کے انہیں اپنی رحمت کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ اب بھی میری طرف جھک جاؤ ابھی سب معاف فرما دوں گا اور دامن رحمت تلے لے لوں گا۔ مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہی تھے، ان جیسے رسول ان سے پہلے بھی ہوئے ہیں ‘۔ جیسے فرمایا «‏‏‏‏إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ» ۱؎ [43-الزخرف:59] ‏‏‏‏، ’ وہ ہمارے ایک غلام ہی تھے ہاں ہم نے ان پر رحمت نازل فرمائی تھی اور بنی اسرائیل کیلئے قدرت کی ایک نشائی بنائی ‘۔

’ والدہ عیسیٰ علیہ السلام مومنہ اور سچ کہنے والی تھیں ‘، اس لیے معلوم ہوا کہ نبیہ نہ تھیں کیونکہ یہ مقام وصف ہے تو بہترین وصف جو آپ کا تھا وہ بیان کر دیا۔ اگر نبوت والی ہوتیں تو اس موقعہ پر اس کا بیان نہایت ضروری تھا۔ ابن حزم رحمة الله وغیرہ کا خیال ہے کہ ام اسحاق اور ام موسیٰ اور ام عیسیٰ رضی اللہ عنہا نبیہ تھیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ فرشتوں نے سارہ اور مریم سے خطاب اور کلام کیا اور والدہ موسیٰ رضی اللہ عنہا کی نسبت فرمان ہے آیت «وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْضِعِيهِ» ۱؎ [28-القصص:7] ‏‏‏‏ الخ، ’ ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ تو انہیں دودھ پلا ‘۔ لیکن جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نبوت مردوں میں ہی رہی۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» ۱؎ [12-يوسف:109] ‏‏‏‏، ’ تجھ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں سے مردوں ہی کی طرف رسالت انعام فرمائی ہے ‘۔ شیخ ابوالحسن اشعری نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ماں بیٹا تو دونوں کھانے پینے کے محتاج تھے ‘ اور ظاہر ہے کہ جو اندر جائے گا وہ باہر بھی آئے گا پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مثل اوروں کے بندے ہی تھے اللہ کی صفات ان میں نہ تھیں۔ ’ دیکھ تو ہم کس طرح کھول کھول کر ان کے سامنے اپنی حجتیں پیش کر رہے ہیں؟ پھر یہ بھی دیکھ کہ باوجود اس کے یہ کس طرح ادھر ادھر بھٹکتے اور بھاگتے پھرتے ہیں؟ کیسے گمراہ مذہب قبول کر رہے ہیں؟ اور کیسے ردی اور بے دلیل اقوال کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں؟‘
72۔ 1 یہی مضمون آیت نمبر 17 میں بھی گزر چکا ہے۔ یہاں اہل کتاب کی گمراہیوں کے ذکر میں اس کا پھر ذکر فرمایا۔ اس میں ان کے اس فرقے کے کفر کا اظہار ہے جو حضرت مسیح ؑ کے عین اللہ ہونے کے قائل ہیں۔ 72۔ 2 چناچہ حضرت عیسیٰ ؑ یعنی مسیح ابن مریم نے عالم شیر خوارگی میں سب سے پہلے اپنی زبان سے اپنی عبودیت ہی کا اظہار فرمایا، " انی عبد اللہ اٰتنی الکتاب وجعلنی نبیا " (میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں مجھے اس نے کتاب بھی عطا کی ہے) حضرت مسیح ؑ نے یہ نہیں کہا میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں۔ صرف یہ کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور عمر کہولت میں بھی انہوں نے یہی دعوت دی " ان اللہ ربی وربکم فاعبدوہ ھذا صراط مستقیم " یہ وہی الفاظ ہیں جو ماں کی گود میں بھی کہے تھے (ملاحظہ ہو سورة مریم، آیت 36) اور جب قیامت کے قریب ان کا آسمان سے نزول ہوگا، جس کی خبر صحیح احادیث میں دی گئی ہے اور جس پر اہل سنت کا اجماع ہے، تب بھی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق لوگوں کو اللہ کی توحید اور اس کی اطاعت کی طرف ہی بلائیں گے، نہ کہ اپنی عبادت کی طرف۔ 72۔ 3 حضرت مسیح ؑ نے اپنی بندگی اور رسالت کا اظہار اللہ کے حکم اور مشیت سے اس وقت بھی فرمایا تھا جب وہ ماں کی گود میں یعنی شیر خوارگی کی حالت میں تھے۔ پھر سن کہولت میں یہ اعلان فرمایا۔ اور ساتھ ہی شرک کی شناعت و قباحت بھی بیان فرما دی کہ مشرک پر جنت حرام ہے اور اس کا کوئی مددگار بھی نہیں ہوگا جو اسے جہنم سے نکال لائے جیسا کہ مشرکین سمجھتے ہیں۔
(آیت 72)➊ {لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ:} اس آیت کی وضاحت کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (۱۷)۔ یہود کے بعد اب نصاریٰ کی گمراہیوں کا بیان اور انھیں سزا سے ڈرانے کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ (کبیر) ان لوگوں سے نصرانیوں کاوہ فرقہ مراد ہے جنھوں نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ مسیح ابن مریم ہی تو ہے۔ اﷲ اور مسیح علیہ السلام کو ایک کہنے والوں کو اﷲ تعالیٰ نے نہایت تاکیدی الفاظ {” لَقَدْ “} (بلاشبہ، یقینا) کے ساتھ کافر قرار دیا۔ مسلمان کہلانے والوں میں بھی کئی لوگ یہ کہنے والے ہیں کہ ”احد“ اور ”احمد“ میں کوئی فرق نہیں، دونوں ایک ہیں، اﷲ تعالیٰ بشری جامہ پہن کر آ گیا، پھر کئی اپنے بزرگوں کے متعلق عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ عبادت کرتے کرتے اﷲ میں فنا ہو کر ایک ہو گئے اور بعض ان کے متعلق کہتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ ان میں اتر آیا۔ پہلا عقیدہ اتحاد اور دوسرا حلول کہلاتا ہے۔ اگر مسیح کو عین اﷲ تعالیٰ، یعنی مسیح علیہ السلام اور اﷲ تعالیٰ کو ایک کہنے والے کافر ہیں تو یہ نام نہاد مسلمان کیوں کافر نہیں؟ معلوم ہوا حلول اور اتحاد کا عقیدہ واضح کفر ہے، جسے بعض ملحد لوگوں نے تصوف کے پردے میں معرفت قرار دے رکھا ہے۔ ➋ {وَ قَالَ الْمَسِيْحُ يٰبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ:} حالانکہ مسیح علیہ السلام نے اپنے آپ کو ہمیشہ اﷲ کا بندہ کہا، جب پیدا ہوئے تو دنیا میں آنے کے بعد بچپن ہی میں ان کی زبان سے یہی نکلا: «اِنِّيْ عَبْدُ اللّٰهِ» [ مریم: ۳۰ ] ”یقینا میں اﷲ کا بندہ ہوں۔“ اور لوگوں کو بھی اسی وقت فرمایا: «وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ» [ مریم: ۳۶ ] ”یقینا اﷲ ہی میرا رب اور تمھارا رب ہے، سو اسی کی عبادت کرو۔“ جوانی میں بھی یہی فرمایا: «اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّيْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ» ‏‏‏‏ [ الزخرف: ۶۴ ] ”بے شک اﷲ ہی میرا رب اور تمھارا رب ہے، پس اس کی عبادت کرو۔“ نیز مسیح علیہ السلام کا یہ قول آج بھی انجیل یوحنا، باب (۷) میں موجود ہے: ”یہی ہمیشہ رہنے والی زندگی ہے کہ وہ تجھ حقیقی الٰہ کو اور اس یسوع مسیح کو پہچانیں جسے تونے رسول بنا کر بھیجا۔“ (المنار) ➌ {اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ ……:} یعنی اتحاد، حلول یا شرک کی کسی قسم کا عقیدہ و عمل رکھنے والوں پر جنت حرام اور جہنم واجب ہے۔ {” مِنْ اَنْصَارٍ “} میں {” اَنْصَارٍ “} جمع اس لیے لائے ہیں کہ مشرک لوگوں نے کئی ہستیوں کے متعلق گمان کر رکھا ہے کہ وہ ہمیں جہنم سے بچا لیں گی۔
لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ ۘ وَ مَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّاۤ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہُوۡا عَمَّا یَقُوۡلُوۡنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے، حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اگر یہ لوگ اپنی اِن باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے اُس کو درد ناک سزا دی جائے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
وه لوگ بھی قطعاً کافر ہوگئے جنہوں نے کہا، اللہ تین میں کا تیسرا ہے، دراصل سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی معبود نہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے اس قول سے باز نہ رہے تو ان میں سے جو کفر پر رہیں گے، انہیں المناک عذاب ضرور پہنچے گا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک کافر ہیں وہ جو کہتے ہیں اللہ تین خداؤں میں کا تیسرا ہے اور خدا تو نہیں مگر ایک خدا اور اگر اپنی بات سے باز نہ آئے تو جو ان میں کافر مریں گے ان کو ضرور دردناک عذاب پہنچے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
یقینا وہ لوگ (بھی) کافر ہو گئے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں سے تیسرا ہے حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ اور اگر یہ لوگ ان باتوں سے باز نہ آئے تو جو ان میں سے کفر پر برقرار رہیں گے تو انہیں ضرور دردناک عذاب پہنچے گا۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا بے شک اللہ تین میں سے تیسرا ہے، حالانکہ کوئی بھی معبود نہیں مگر ایک معبود، اور اگر وہ اس سے باز نہ آئے جو وہ کہتے ہیں تو یقینا ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا انھیں ضرور درد ناک عذاب پہنچے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے ٭٭

نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ ’ یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ «اِنِّیْ عَبْدُ الّلهِ» [19-مريم:30] ‏‏‏‏ ’ میں اللہ کا غلام ہوں ‘۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کرنے والے یہ جنت حرام ہے اور اس کیلئے جہنم واجب ہے ‘۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ» ۱؎ [4-النساء:48] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا ‘۔ «وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّـهُ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ» ۱؎ ‏‏‏‏ [7-الأعراف:50] ‏‏‏‏ ’ جہنمی جب جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے تو اہل جنت کا یہی جواب ہوگا کہ یہ دونوں چیزیں کفار پر حرام ہے ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ منادی کے مسلمانوں میں آواز لگوائی تھی کہ جنت میں فقط ایمان و اسلام والے ہی جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:114] ‏‏‏‏ سورۃ نساء کی آیت «اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:48] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں وہ حدیث بھی بیان کر دی گئی ہے جس میں ہے کہ { گناہ کے تین دیوان ہیں جس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ نے کبھی نہیں بخشا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کا ہے }۔ مسیح نے بھی اپنی قوم میں یہی وعظ بیان کیا اور فرما دیا کہ ”ایسے ناانصاف مشرکین کا کوئی مددگار بھی کھڑا نہ ہوگا۔‏‏‏‏“

اب ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ کو تین میں سے ایک مانتے تھے یہودی عزیر علیہ السلام کو اور نصرانی عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور اللہ تین میں کا ایک مانتے تھے پھر ان تینوں کے مقرر کرنے میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور حق تو یہ ہے کہ سبھی سب کافر تھے، حضرت مسیح علیہ السلام کو اور انکی ماں کو اور اللہ کو ملا کر اللہ مانتے تھے اسی کا بیان اس سورت کے آخر میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائے گا ’ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو بھی اللہ مانو، وہ اس سے صاف انکار کریں گے اور اپنی لاعلمی اور بےگناہی ظاہر کریں گے ‘۔ زیادہ ظاہر قول بھی یہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ دراصل لائق عبادت سوائے اس ذات واحد کے اور کوئی نہیں تمام کائنات اور کل موجودات کا معبود برحق وہی ہے۔ اگر یہ اپنے اس کافرانہ نظریہ سے باز نہ آئے تو یقیناً یہ المناک عذابوں کا شکار ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم وجود کو، بخشش و انعام اور لطف و رحمت کو بیان فرما رہا ہے اور باوجود ان کے اس قدر سخت جرم، اتنی اشد بے حیائی اور کذب و افتراء کے انہیں اپنی رحمت کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ اب بھی میری طرف جھک جاؤ ابھی سب معاف فرما دوں گا اور دامن رحمت تلے لے لوں گا۔ مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہی تھے، ان جیسے رسول ان سے پہلے بھی ہوئے ہیں ‘۔ جیسے فرمایا «‏‏‏‏إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ» ۱؎ [43-الزخرف:59] ‏‏‏‏، ’ وہ ہمارے ایک غلام ہی تھے ہاں ہم نے ان پر رحمت نازل فرمائی تھی اور بنی اسرائیل کیلئے قدرت کی ایک نشائی بنائی ‘۔

’ والدہ عیسیٰ علیہ السلام مومنہ اور سچ کہنے والی تھیں ‘، اس لیے معلوم ہوا کہ نبیہ نہ تھیں کیونکہ یہ مقام وصف ہے تو بہترین وصف جو آپ کا تھا وہ بیان کر دیا۔ اگر نبوت والی ہوتیں تو اس موقعہ پر اس کا بیان نہایت ضروری تھا۔ ابن حزم رحمة الله وغیرہ کا خیال ہے کہ ام اسحاق اور ام موسیٰ اور ام عیسیٰ رضی اللہ عنہا نبیہ تھیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ فرشتوں نے سارہ اور مریم سے خطاب اور کلام کیا اور والدہ موسیٰ رضی اللہ عنہا کی نسبت فرمان ہے آیت «وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْضِعِيهِ» ۱؎ [28-القصص:7] ‏‏‏‏ الخ، ’ ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ تو انہیں دودھ پلا ‘۔ لیکن جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نبوت مردوں میں ہی رہی۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» ۱؎ [12-يوسف:109] ‏‏‏‏، ’ تجھ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں سے مردوں ہی کی طرف رسالت انعام فرمائی ہے ‘۔ شیخ ابوالحسن اشعری نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ماں بیٹا تو دونوں کھانے پینے کے محتاج تھے ‘ اور ظاہر ہے کہ جو اندر جائے گا وہ باہر بھی آئے گا پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مثل اوروں کے بندے ہی تھے اللہ کی صفات ان میں نہ تھیں۔ ’ دیکھ تو ہم کس طرح کھول کھول کر ان کے سامنے اپنی حجتیں پیش کر رہے ہیں؟ پھر یہ بھی دیکھ کہ باوجود اس کے یہ کس طرح ادھر ادھر بھٹکتے اور بھاگتے پھرتے ہیں؟ کیسے گمراہ مذہب قبول کر رہے ہیں؟ اور کیسے ردی اور بے دلیل اقوال کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں؟‘
73۔ 1 یہ عیسائیوں کے دوسرے فرقے کا ذکر ہے جو تین خداؤں کا قائل ہے، جن کو وہ اقانیم ثلاثہ کہتے ہیں۔ ان کی تعبیر و تشریح میں اگرچہ خود ان کے مابین اختلاف ہے۔ تاہم صحیح بات یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ، انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کو بھی اللہ قرار دے لیا، جیسا کہ قرآن نے صراحت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن حضرت عیسیٰ ؑ سے پوچھے گا۔ " ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ " (کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو، اللہ کے سوا، معبود بنا لینا؟) (المائدۃ 112) اس سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ اور مریم (علیہما السلام) ان دونوں کو عیسائیوں نے اللہ بنایا، اور اللہ تیسرا اللہ ہوا، جو ثالث ثلاثہ (تین میں کا تیسرا) کہلایا پہلے عقیدے کی طرح اللہ تعالیٰ نے اسے بھی کفر سے تعبیر فرمایا۔
(آیت 73)➊ {لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ……:} یعنی اﷲ تعالیٰ کو تین میں سے تیسرا قرار دینے والے بھی کافر ہو گئے، جبکہ معبود تو ایک ہی ہے، اب خواہ وہ تین اقانیم، باپ، بیٹا اور روح القدس کو الگ الگ خدا قرار دیں یا کہیں کہ یہ تین الگ الگ نہیں بلکہ مل کر ایک ہی خدا ہیں، بہر حال یہ عقیدہ رکھنے والوں کو اﷲ تعالیٰ نے کافر قرار دیا۔ پھر نیکی کا لبادہ اوڑھ کر شرک پھیلانے والے وہ ظالم جو یہ کہیں کہ ہر چیز ہی خدا ہے اور اسے وحدت الوجود کا نام یا کوئی اور نام دیں، ان کے کافر ہونے میں بھی کیا شک ہے، بلکہ اس عقیدے سے تو قرآن و سنت اور اسلام کی ہر بات اور ہر حکم ہی باطل ٹھہرتا ہے کہ حکم دینے والا بھی وہی ہے اور جسے حکم دیا گیا وہ بھی وہی ہے، جنت و دوزخ بھی اور ان میں جانے والے بھی سب ایک ہی ہیں۔ غرض یہ عقیدہ اسلام کی جڑ اکھاڑ دینے کے لیے بنایا گیا ہے، پھر کیسی توحید اور کہاں کی نماز، غرض سب کچھ ایک ہے تو دین کی کون سی چیز باقی رہے گی۔ ➋ {وَ اِنْ لَّمْ يَنْتَهُوْا ……:} یعنی اگر وہ اﷲ تعالیٰ کو تین میں سے تیسرا قرار دینے سے باز نہ آئیں اور خالص توحید اختیار نہ کریں، جس کی طرف انبیاء دعوت دیتے رہے ہیں تو ان کی سزا یہ ہے۔
اَفَلَا یَتُوۡبُوۡنَ اِلَی اللّٰہِ وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۷۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر کیا یہ اللہ سے توبہ نہ کریں گے اور اس سے معافی نہ مانگیں گے؟ اللہ بہت درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ لوگ کیوں اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں استغفار نہیں کرتے؟ اللہ تعالیٰ تو بہت ہی بخشنے واﻻ اور بڑا ہی مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو کیوں نہیں رجوع کرتے اللہ کی طرف اور اس سے بخشش مانگتے، اور اللہ بخشنے والا مہربان،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ لوگ خدا کی بارگاہ میں توبہ کیوں نہیں کرتے اور اس سے (اپنے گناہوں کی) معافی کیوں نہیں مانگتے؟ درآنحالیکہ اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
توکیا وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے اور اس سے بخشش نہیں مانگتے، اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے ٭٭

نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ ’ یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ «اِنِّیْ عَبْدُ الّلهِ» [19-مريم:30] ‏‏‏‏ ’ میں اللہ کا غلام ہوں ‘۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کرنے والے یہ جنت حرام ہے اور اس کیلئے جہنم واجب ہے ‘۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ» ۱؎ [4-النساء:48] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا ‘۔ «وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّـهُ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ» ۱؎ ‏‏‏‏ [7-الأعراف:50] ‏‏‏‏ ’ جہنمی جب جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے تو اہل جنت کا یہی جواب ہوگا کہ یہ دونوں چیزیں کفار پر حرام ہے ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ منادی کے مسلمانوں میں آواز لگوائی تھی کہ جنت میں فقط ایمان و اسلام والے ہی جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:114] ‏‏‏‏ سورۃ نساء کی آیت «اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:48] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں وہ حدیث بھی بیان کر دی گئی ہے جس میں ہے کہ { گناہ کے تین دیوان ہیں جس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ نے کبھی نہیں بخشا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کا ہے }۔ مسیح نے بھی اپنی قوم میں یہی وعظ بیان کیا اور فرما دیا کہ ”ایسے ناانصاف مشرکین کا کوئی مددگار بھی کھڑا نہ ہوگا۔‏‏‏‏“

اب ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ کو تین میں سے ایک مانتے تھے یہودی عزیر علیہ السلام کو اور نصرانی عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور اللہ تین میں کا ایک مانتے تھے پھر ان تینوں کے مقرر کرنے میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور حق تو یہ ہے کہ سبھی سب کافر تھے، حضرت مسیح علیہ السلام کو اور انکی ماں کو اور اللہ کو ملا کر اللہ مانتے تھے اسی کا بیان اس سورت کے آخر میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائے گا ’ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو بھی اللہ مانو، وہ اس سے صاف انکار کریں گے اور اپنی لاعلمی اور بےگناہی ظاہر کریں گے ‘۔ زیادہ ظاہر قول بھی یہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ دراصل لائق عبادت سوائے اس ذات واحد کے اور کوئی نہیں تمام کائنات اور کل موجودات کا معبود برحق وہی ہے۔ اگر یہ اپنے اس کافرانہ نظریہ سے باز نہ آئے تو یقیناً یہ المناک عذابوں کا شکار ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم وجود کو، بخشش و انعام اور لطف و رحمت کو بیان فرما رہا ہے اور باوجود ان کے اس قدر سخت جرم، اتنی اشد بے حیائی اور کذب و افتراء کے انہیں اپنی رحمت کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ اب بھی میری طرف جھک جاؤ ابھی سب معاف فرما دوں گا اور دامن رحمت تلے لے لوں گا۔ مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہی تھے، ان جیسے رسول ان سے پہلے بھی ہوئے ہیں ‘۔ جیسے فرمایا «‏‏‏‏إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ» ۱؎ [43-الزخرف:59] ‏‏‏‏، ’ وہ ہمارے ایک غلام ہی تھے ہاں ہم نے ان پر رحمت نازل فرمائی تھی اور بنی اسرائیل کیلئے قدرت کی ایک نشائی بنائی ‘۔

’ والدہ عیسیٰ علیہ السلام مومنہ اور سچ کہنے والی تھیں ‘، اس لیے معلوم ہوا کہ نبیہ نہ تھیں کیونکہ یہ مقام وصف ہے تو بہترین وصف جو آپ کا تھا وہ بیان کر دیا۔ اگر نبوت والی ہوتیں تو اس موقعہ پر اس کا بیان نہایت ضروری تھا۔ ابن حزم رحمة الله وغیرہ کا خیال ہے کہ ام اسحاق اور ام موسیٰ اور ام عیسیٰ رضی اللہ عنہا نبیہ تھیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ فرشتوں نے سارہ اور مریم سے خطاب اور کلام کیا اور والدہ موسیٰ رضی اللہ عنہا کی نسبت فرمان ہے آیت «وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْضِعِيهِ» ۱؎ [28-القصص:7] ‏‏‏‏ الخ، ’ ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ تو انہیں دودھ پلا ‘۔ لیکن جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نبوت مردوں میں ہی رہی۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» ۱؎ [12-يوسف:109] ‏‏‏‏، ’ تجھ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں سے مردوں ہی کی طرف رسالت انعام فرمائی ہے ‘۔ شیخ ابوالحسن اشعری نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ماں بیٹا تو دونوں کھانے پینے کے محتاج تھے ‘ اور ظاہر ہے کہ جو اندر جائے گا وہ باہر بھی آئے گا پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مثل اوروں کے بندے ہی تھے اللہ کی صفات ان میں نہ تھیں۔ ’ دیکھ تو ہم کس طرح کھول کھول کر ان کے سامنے اپنی حجتیں پیش کر رہے ہیں؟ پھر یہ بھی دیکھ کہ باوجود اس کے یہ کس طرح ادھر ادھر بھٹکتے اور بھاگتے پھرتے ہیں؟ کیسے گمراہ مذہب قبول کر رہے ہیں؟ اور کیسے ردی اور بے دلیل اقوال کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں؟‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 74) {اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ ……:} یہ بظاہر سوال ہے مگر اصل میں امر (حکم دینے) کی ایک صورت ہے۔ (کبیر) یعنی ان کا یہ جرم انتہائی سنگین اور صریحاً شرک کی حد تک پہنچا ہوا ہے، تاہم اگر توبہ کر لیں تو ان کا یہ قصور معاف ہو سکتا ہے۔
مَا الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ وَ اُمُّہٗ صِدِّیۡقَۃٌ ؕ کَانَا یَاۡکُلٰنِ الطَّعَامَ ؕ اُنۡظُرۡ کَیۡفَ نُبَیِّنُ لَہُمُ الۡاٰیٰتِ ثُمَّ انۡظُرۡ اَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۷۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مسیح ابن مریمؑ اِس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا، اُس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے، اس کی ماں ایک راستباز عورت تھی، اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے، دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں، پھر دیکھو یہ کدھر الٹے پھر ے جاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
مسیح ابن مریم سوا پیغمبر ہونے کے اور کچھ بھی نہیں، اس سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہوچکے ہیں ان کی والده ایک راست باز عورت تھیں دونوں ماں بیٹے کھانا کھایا کرتے تھے، آپ دیکھیے کہ کس طرح ہم ان کے سامنے دلیلیں رکھتے ہیں پھر غور کیجیئے کہ کس طرح وه پھرے جاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
مسیح بن مریم نہیں مگر ایک رسول اس سے پہلے بہت رسول ہو گزرے اور اس کی ماں صدیقہ ہے دونوں کھانا کھاتے تھے دیکھو تو ہم کیسی صاف نشانیاں ان کے لئے بیان کرتے ہیں پھر دیکھو وہ کیسے اوندھے جاتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
مسیح گزر چکے ہیں ان کی ماں صدیقہ (راست باز خاتون) تھیں وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے واضح دلائل بیان کر رہے ہیں۔ پھر دیکھو یہ کدھر الٹے پھرے جا رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
نہیں ہے مسیح ابن مریم مگر ایک رسول، یقینا اس سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے اور اس کی ماں صدیقہ ہے، دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ دیکھ ان کے لیے ہم کس طرح کھول کر آیات بیان کرتے ہیں، پھر دیکھ کس طرح پھیرے جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے ٭٭

نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ ’ یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ «اِنِّیْ عَبْدُ الّلهِ» [19-مريم:30] ‏‏‏‏ ’ میں اللہ کا غلام ہوں ‘۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کرنے والے یہ جنت حرام ہے اور اس کیلئے جہنم واجب ہے ‘۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ» ۱؎ [4-النساء:48] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا ‘۔ «وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّـهُ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ» ۱؎ ‏‏‏‏ [7-الأعراف:50] ‏‏‏‏ ’ جہنمی جب جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے تو اہل جنت کا یہی جواب ہوگا کہ یہ دونوں چیزیں کفار پر حرام ہے ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ منادی کے مسلمانوں میں آواز لگوائی تھی کہ جنت میں فقط ایمان و اسلام والے ہی جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:114] ‏‏‏‏ سورۃ نساء کی آیت «اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:48] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں وہ حدیث بھی بیان کر دی گئی ہے جس میں ہے کہ { گناہ کے تین دیوان ہیں جس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ نے کبھی نہیں بخشا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کا ہے }۔ مسیح نے بھی اپنی قوم میں یہی وعظ بیان کیا اور فرما دیا کہ ”ایسے ناانصاف مشرکین کا کوئی مددگار بھی کھڑا نہ ہوگا۔‏‏‏‏“

اب ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ کو تین میں سے ایک مانتے تھے یہودی عزیر علیہ السلام کو اور نصرانی عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور اللہ تین میں کا ایک مانتے تھے پھر ان تینوں کے مقرر کرنے میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور حق تو یہ ہے کہ سبھی سب کافر تھے، حضرت مسیح علیہ السلام کو اور انکی ماں کو اور اللہ کو ملا کر اللہ مانتے تھے اسی کا بیان اس سورت کے آخر میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائے گا ’ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو بھی اللہ مانو، وہ اس سے صاف انکار کریں گے اور اپنی لاعلمی اور بےگناہی ظاہر کریں گے ‘۔ زیادہ ظاہر قول بھی یہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ دراصل لائق عبادت سوائے اس ذات واحد کے اور کوئی نہیں تمام کائنات اور کل موجودات کا معبود برحق وہی ہے۔ اگر یہ اپنے اس کافرانہ نظریہ سے باز نہ آئے تو یقیناً یہ المناک عذابوں کا شکار ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم وجود کو، بخشش و انعام اور لطف و رحمت کو بیان فرما رہا ہے اور باوجود ان کے اس قدر سخت جرم، اتنی اشد بے حیائی اور کذب و افتراء کے انہیں اپنی رحمت کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ اب بھی میری طرف جھک جاؤ ابھی سب معاف فرما دوں گا اور دامن رحمت تلے لے لوں گا۔ مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہی تھے، ان جیسے رسول ان سے پہلے بھی ہوئے ہیں ‘۔ جیسے فرمایا «‏‏‏‏إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ» ۱؎ [43-الزخرف:59] ‏‏‏‏، ’ وہ ہمارے ایک غلام ہی تھے ہاں ہم نے ان پر رحمت نازل فرمائی تھی اور بنی اسرائیل کیلئے قدرت کی ایک نشائی بنائی ‘۔

’ والدہ عیسیٰ علیہ السلام مومنہ اور سچ کہنے والی تھیں ‘، اس لیے معلوم ہوا کہ نبیہ نہ تھیں کیونکہ یہ مقام وصف ہے تو بہترین وصف جو آپ کا تھا وہ بیان کر دیا۔ اگر نبوت والی ہوتیں تو اس موقعہ پر اس کا بیان نہایت ضروری تھا۔ ابن حزم رحمة الله وغیرہ کا خیال ہے کہ ام اسحاق اور ام موسیٰ اور ام عیسیٰ رضی اللہ عنہا نبیہ تھیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ فرشتوں نے سارہ اور مریم سے خطاب اور کلام کیا اور والدہ موسیٰ رضی اللہ عنہا کی نسبت فرمان ہے آیت «وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْضِعِيهِ» ۱؎ [28-القصص:7] ‏‏‏‏ الخ، ’ ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ تو انہیں دودھ پلا ‘۔ لیکن جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نبوت مردوں میں ہی رہی۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» ۱؎ [12-يوسف:109] ‏‏‏‏، ’ تجھ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں سے مردوں ہی کی طرف رسالت انعام فرمائی ہے ‘۔ شیخ ابوالحسن اشعری نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ماں بیٹا تو دونوں کھانے پینے کے محتاج تھے ‘ اور ظاہر ہے کہ جو اندر جائے گا وہ باہر بھی آئے گا پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مثل اوروں کے بندے ہی تھے اللہ کی صفات ان میں نہ تھیں۔ ’ دیکھ تو ہم کس طرح کھول کھول کر ان کے سامنے اپنی حجتیں پیش کر رہے ہیں؟ پھر یہ بھی دیکھ کہ باوجود اس کے یہ کس طرح ادھر ادھر بھٹکتے اور بھاگتے پھرتے ہیں؟ کیسے گمراہ مذہب قبول کر رہے ہیں؟ اور کیسے ردی اور بے دلیل اقوال کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں؟‘
75۔ 1 صِدِّ یْقَۃُ کے معنی مومنہ اور ولیہ کے ہیں یعنی وہ بھی حضرت مسیح ؑ پر ایمان لانے والوں اور ان کی تصدیق کرنے والوں میں سے تھیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ (پیغمبر) نہیں تھیں۔ جیسا کہ بعض لوگوں کو وہم ہوا ہے اور انہوں نے حضرت مریم (علیہا السلام) سمیت، حضرت سارہ (ام اسحاق علیہ السلام) اور موسیٰ ؑ کی والدہ کو بھی پیغمبر قرار دیا ہے، قرآن نے صراحت کی ہے کہ ہم نے جتنے رسول بھیجے وہ مرد تھے (سورة یوسف۔ 19)۔ 75۔ 2 یہ حضرت مسیح ؑ اور حضرت مریم (علیہا السلام) دونوں کی الوہیت کی نفی اور بشریت کی دلیل ہے۔ کیونکہ کھانا پینا، یہ انسانی حوائج و ضروریات میں سے ہے۔ جو الٰہ ہو، وہ تو ان چیزوں سے ماوراء بلکہ وراء الوراء ہوتا ہے۔
(آیت75) ➊ {مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ ……:} مسیح علیہ السلام ایک رسول کے سوا کچھ نہیں، یعنی تم جو کچھ کہتے ہو خدا یا خدا کا بیٹا، وہ ہر گز نہیں، وہ تو صرف اﷲ کا رسول ہے۔ اسے قصرا ضافی کہتے ہیں۔ اس میں یہود کی تردید بھی ہو گئی جو معاذ اﷲ مریم اور مسیح علیہما السلام کے متعلق گستاخی کا ارتکاب کرتے رہتے تھے۔ ➋ {وَ اُمُّهٗ صِدِّيْقَةٌ:} یعنی بندگی کے اعلیٰ مقام پر فائز تھیں، جو نبوت کے بعد دوسرا درجہ ہے، یعنی نہایت سچی اور اﷲ اور اس کے رسولوں کی بہت تصدیق کرنے والی تھیں۔ دیکھیے سورۂ تحریم (۱۲) اور سورۂ نساء (۶۹) وہ نبی نہیں تھیں، جیسا کہ ابن حزم وغیرہ کا خیال ہے، کیونکہ انبیاء رجال (مردوں) ہی سے ہوئے ہیں۔ دیکھیے یوسف(۱۰۹)، نحل (۴۳) اور انبیاء (۷) ابو الحسن اشعری نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ (ابن کثیر) یعنی مریم علیھا السلام خدا تو کجا نبیہ بھی نہیں تھیں، یاں! صدیقہ ضرور تھیں۔ ➌ {كَانَا يَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ:} یعنی وہ دونوں عام انسانوں جیسے انسان تھے، ان میں وہ تمام بشری خصوصیتیں اور ضروریات پائی جاتی تھیں جو دوسرے انسانوں میں ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کا کلام نہایت ہی نفیس اور بلیغ ہے۔ کھانا کھانے کا لازمی نتیجہ قضائے حاجت ہے، مگر اﷲ تعالیٰ نے یہ لفظ استعمال نہیں کیا، صرف یہ کہہ دیا کہ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ اب کھانا کھانے سے جتنی چیزوں کا انسان محتاج ہوتا ہے ان کے ہوتے ہوئے اسے خدا یا اس کی بیوی یا اس کا بیٹا قرار دینا کتنی بڑی جہالت اور ظلم ہے۔ جو خود محتاج ہو وہ دوسروں کی حاجت کیا پوری کرے گا!؟ ➍ {اُنْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْاٰيٰتِ ……:} یعنی توحید کے اتنے صاف بیان اور تثلیث کی اتنی واضح تردید کے باوجود وہ اپنے گروہی تعصب کی بنا پر اپنے غلط عقیدے سے چمٹے رہیں تو چمٹے رہیں، ورنہ کوئی عقلی یا نقلی دلیل ان کے پاس نہیں ہے جس کے بودے پن کو ”دو اور دو چار“ کی طرح واضح نہ کردیا گیا ہو۔ (ابن کثیر)
قُلۡ اَتَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا نَفۡعًا ؕ وَ اللّٰہُ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۷۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن سے کہو، کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُس کی پرستش کرتے ہو جو نہ تمہارے لیے نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا؟ حالانکہ سب کی سننے والا اور سب کچھ جاننے والا تو اللہ ہی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجیئے کہ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے کسی نقصان کے مالک ہیں نہ کسی نفع کے، اللہ ہی خوب سننے اور پوری طرح جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ کیا اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہو جو تمہارے نقصان کا مالک نہ نفع کا اور اللہ ہی سنتا جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) ان سے کہیئے! کیا تم اللہ کو کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان (نہ سود نہ زیاں؟) اور اللہ وہ ہے جو ہر بات کا سننے والا ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہو جو تمھارے لیے نہ کسی نقصان کی مالک ہے اور نہ نفع کی، اور اللہ ہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معبودان باطل کی جو اللہ کے سوا ہیں عبادت کرنے سے ممانعت کی جاتی ہے کہ ان تمام لوگوں سے کہہ تو دو کہ جو تم سے ضرر کو دفع کرنے کی اور نفع کے پہنچانے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتے، آخر تم کیوں انہیں پوجے چلے جا رہے ہو؟ تمام باتوں کے سننے والے تمام چیزوں سے باخبر اللہ سے ہٹ کر بے سمع و بصر، بے ضرر و بے نفع و بے قدر اور بے قدرت چیزوں کے پیچھے پڑ جانا یہ کون سی عقلمندی ہے؟ اے اہل کتاب اتباع حق کی حدود سے آگے نہ بڑھو، جس کی توقیر کرنے کا جتنا حکم ہو اتنی ہی اس کی توقیر کرو۔ انسانوں کو جنہیں اللہ نے نبوت دی ہے نبوت کے درجے سے معبود تک نہ پہنچاؤ۔ جیسے کہ تم جناب مسیح کے بارے میں غلطی کر رہے ہو اور اس کی اور کوئی وجہ نہیں بجز اس کے کہ تم اپنے پیروں مرشدوں استادوں اور اماموں کے پیچھے لگ گئے ہو وہ تو خود ہی گمراہ ہیں بلکہ گمراہ کن ہیں۔ استقامت اور عدل کے راستے کو چھوڑے ہوئے انہیں زمانہ گزر گیا۔ ضلالت اور بدعتوں میں مبتلا ہوئے عرصہ ہو گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص ان میں بڑا پابند دین حق تھا ایک زمانہ کے بعد شیطان نے اسے بہکا دیا کہ جو اگلے کر گئے وہی تم بھی کر رہے ہو اس میں کیا رکھا ہے؟ اس کی وجہ سے نہ تو لوگوں میں تمہاری قدر ہو گی نہ شہرت تمہیں چاہیئے کہ کوئی نئی بات ایجاد کرو اسے لوگوں میں پھیلاؤ پھر دیکھو کہ کیسی شہرت ہوتی ہے؟ اور کس طرح جگہ بہ جگہ تمہارا ذکر ہونے لگتا ہے چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اس کی بدعتیں لوگوں میں پھیل گئیں اور زمانہ اس کی تقلید کرنے لگا۔ اب تو اسے بڑی ندامت ہوئی سلطنت و ملک چھوڑ دیا اور تنہائی میں اللہ کی عبادتوں میں مشغول ہو گیا لیکن اللہ کی طرف سے اسے جواب ملا کہ میری خطا ہی صرف کی ہوتی تو میں معاف کر دیتا لیکن تو نے عام لوگوں کو بگاڑ دیا اور انہیں گمراہ کر کے غلط راہ پر لگا دیا۔ جس راہ پر چلتے چلتے وہ مر گئے ان کا بوجھ تجھ پر سے کیسے ٹلے گا؟ میں تو تیری توبہ قبول نہیں فرماؤں گا پس ایسوں ہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔
76۔ 1 یہ مشرکوں کی کم عقلی کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ ایسوں کو انہوں نے معبود بنا رکھا ہے جو کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، بلکہ نقصان پہنچانا تو کجا، وہ تو کسی کی بات سننے اور کسی کا حال جاننے کی ہی قدرت نہیں رکھتے۔ یہ قدرت صرف اللہ ہی کے اندر ہے۔ اس لئے حاجت روا مشکل کشا بھی صرف وہی ہے۔
(آیت 76) {قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ……:} یہ نصاریٰ کے عقیدے کی تردید پر دوسری دلیل ہے، مطلب یہ ہے کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو ان میں الوہیت (معبود ہونے) کا کوئی وصف بھی نہیں ہے، ان کا دوسروں کو نفع پہنچانا یا نقصان سے بچانا تو کجا وہ تو خود اپنے سے دشمنوں کے ظلم کو دفع کرنے کے لیے اﷲ کے حضور گڑ گڑا کر دعا کرتے رہے کہ اے اﷲ! مجھ سے مصیبت کا یہ وقت ٹال دے۔ پھر اس کے بعد اگر اس سمیع و علیم کو چھوڑ کر عیسیٰ علیہ السلام کو اپنا معبود بناؤ تو اس سے بڑھ کر جہالت اور کیا ہو گی۔
قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ غَیۡرَ الۡحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوۡۤا اَہۡوَآءَ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ وَ اَضَلُّوۡا کَثِیۡرًا وَّ ضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِیۡلِ ﴿٪۷۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہو، اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو اور اُ ن لوگوں کے تخیلات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اور بہتوں کو گمراہ کیا، اور "سَوَا٫ السّبیل" سے بھٹک گئے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجیئے اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو اور زیادتی نہ کرو اور ان لوگوں کی نفسانی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جو پہلے سے بہک چکے ہیں اور بہتوں کو بہکا بھی چکے ہیں اور سیدھی راه سے ہٹ گئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ اے کتاب والو! اپنے دین میں ناحق زیادتی نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہش پر نہ چلو جو پہلے گمراہ ہوچکے اور بہتوں کو گمراہ کیا اور سیدھی راہ سے بہک گئے
علامہ محمد حسین نجفی
کہیئے! اے اہل کتاب اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو۔ اور ان لوگوں کی خواہشات اور ذاتی خیالات کی پیروی نہ کرو جو پہلے خود گمراہ ہو چکے ہیں۔ اور بہت سوں کو گمراہ کر چکے ہیں اور راہ راست سے بھٹک گئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق حد سے نہ بڑھو اور اس قوم کی خواہشوں کے پیچھے مت چلو جو اس سے پہلے گمراہ ہو چکے اور انھوں نے بہت سوں کو گمراہ کیا اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معبودان باطل کی جو اللہ کے سوا ہیں عبادت کرنے سے ممانعت کی جاتی ہے کہ ان تمام لوگوں سے کہہ تو دو کہ جو تم سے ضرر کو دفع کرنے کی اور نفع کے پہنچانے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتے، آخر تم کیوں انہیں پوجے چلے جا رہے ہو؟ تمام باتوں کے سننے والے تمام چیزوں سے باخبر اللہ سے ہٹ کر بے سمع و بصر، بے ضرر و بے نفع و بے قدر اور بے قدرت چیزوں کے پیچھے پڑ جانا یہ کون سی عقلمندی ہے؟ اے اہل کتاب اتباع حق کی حدود سے آگے نہ بڑھو، جس کی توقیر کرنے کا جتنا حکم ہو اتنی ہی اس کی توقیر کرو۔ انسانوں کو جنہیں اللہ نے نبوت دی ہے نبوت کے درجے سے معبود تک نہ پہنچاؤ۔ جیسے کہ تم جناب مسیح کے بارے میں غلطی کر رہے ہو اور اس کی اور کوئی وجہ نہیں بجز اس کے کہ تم اپنے پیروں مرشدوں استادوں اور اماموں کے پیچھے لگ گئے ہو وہ تو خود ہی گمراہ ہیں بلکہ گمراہ کن ہیں۔ استقامت اور عدل کے راستے کو چھوڑے ہوئے انہیں زمانہ گزر گیا۔ ضلالت اور بدعتوں میں مبتلا ہوئے عرصہ ہو گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص ان میں بڑا پابند دین حق تھا ایک زمانہ کے بعد شیطان نے اسے بہکا دیا کہ جو اگلے کر گئے وہی تم بھی کر رہے ہو اس میں کیا رکھا ہے؟ اس کی وجہ سے نہ تو لوگوں میں تمہاری قدر ہو گی نہ شہرت تمہیں چاہیئے کہ کوئی نئی بات ایجاد کرو اسے لوگوں میں پھیلاؤ پھر دیکھو کہ کیسی شہرت ہوتی ہے؟ اور کس طرح جگہ بہ جگہ تمہارا ذکر ہونے لگتا ہے چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اس کی بدعتیں لوگوں میں پھیل گئیں اور زمانہ اس کی تقلید کرنے لگا۔ اب تو اسے بڑی ندامت ہوئی سلطنت و ملک چھوڑ دیا اور تنہائی میں اللہ کی عبادتوں میں مشغول ہو گیا لیکن اللہ کی طرف سے اسے جواب ملا کہ میری خطا ہی صرف کی ہوتی تو میں معاف کر دیتا لیکن تو نے عام لوگوں کو بگاڑ دیا اور انہیں گمراہ کر کے غلط راہ پر لگا دیا۔ جس راہ پر چلتے چلتے وہ مر گئے ان کا بوجھ تجھ پر سے کیسے ٹلے گا؟ میں تو تیری توبہ قبول نہیں فرماؤں گا پس ایسوں ہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔
77۔ 1 یعنی اتباع حق میں حد سے تجاوز نہ کرو اور جن کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے، اس میں مبالغہ کر کے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الویت پر فائز مت کرو، جیسے حضرت مسیح ؑ کے معاملے میں تم نے کیا۔ غلو ہر دور میں شرک اور گمرہی کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ انسان کو جس سے عقیدت اور محبت ہوتی ہے، وہ اس کی شان میں خوب مبالغہ کرتا ہے۔ وہ امام اور دینی قائد ہے تو اس کو پیغمبر کی طرح معصوم سمجھنا اور پیغمبر کو خدائی صفات سے متصف ماننا عام بات ہے، بدقسمتی سے مسلمان بھی اس غلو سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ انہوں نے بعض ائمہ کی شان میں بھی غلو کیا اور ان کی رائے اور قول، حتٰی کہ ان کی طرف منسوب فتویٰ اور فقہ کو بھی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں ترجیح دے دی۔ 77۔ 2 یعنی اپنے سے پہلے لوگوں کے پیچھے مت لگو جو ایک نبی کو اللہ بنا کر خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔
(آیت 77) ➊ {قُلْ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ ……:} یہود و نصاریٰ کی الگ الگ تردید کے بعد اب دونوں کو مخاطب فرمایا ہے۔ (کبیر) نصاریٰ نے مسیح علیہ السلام کے معاملہ میں غلو کیا اور ایک بشر جسے اﷲ تعالیٰ نے نبوت بخشی تھی اور اسے اپنی قدرت کاملہ کی نشانی قرار دیا تھا [ديكهيے زخرف: ۵۹۔ مومنون: ۵۰] اسے معبود کے مقام پر کھڑا کر دیا۔ دوسری طرف یہودیوں نے انھیں جھوٹا قرار دیا، ان سے انتہائی توہین آمیز سلوک کیا، ان پر اور ان کی والدہ پر تہمت طرازی کی اور ان کے قتل کے درپے ہوئے، بلکہ بقول یہود و نصاریٰ یہود نے مسیح علیہ السلام کو سولی دے دی اور ان کی پسلیوں کو ریزہ ریزہ کر ڈالا۔ (کبیر، ابن کثیر) حقیقت یہ ہے کہ دین میں جو بھی خرابی آئی ہے وہ اسی غلو (راہ اعتدال کو چھوڑنے) کی وجہ سے آئی ہے، اسی لیے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بار بار نصیحت فرمائی: ”مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھانا جس طرح نصاریٰ نے مسیح ابن مریم (علیہما السلام) کو حد سے بڑھا دیا تھا، میں تو صرف اس کا بندہ ہوں، اس لیے تم مجھے اس کا بندہ اور رسول ہی کہو۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب: {واذكر في الكتاب مريم ……:} ۳۴۴۵ ] مگر مسلمانوں نے بھی اس قدر غلو کیا کہ اپنے ائمہ کو نبی کا درجہ دے کر ان کی بے دلیل بات پر عمل کو بھی واجب قرار دیا اور جو ایسا نہ کرے اسے لامذہب قرار دیا اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں اﷲ تعالیٰ والی صفات ہونے کا عقیدہ اپنا لیا کہ وہ بھی ہر بات سنتے اور جانتے ہیں اور کائنات میں ان کا حکم بھی چلتا ہے۔ بعض نے اﷲ اور رسول کو ایک ہی ذات قرار دیا، اگر کوئی ان کی تردید کرے تو کہتے ہیں کہ یہ اولیاء کو، نبی کو اور اﷲ تعالیٰ کو نہیں مانتے، حالانکہ ہم اﷲ کو اپنا معبود اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول اور اولیاء کو اﷲ کے مقرب بندے مانتے ہیں، مگر اولیاء کو نبی نہیں مانتے اور رسول کو اﷲ تعالیٰ نہیں مانتے۔ ➋ {قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ ……:} پہلے فرمایا: «‏‏‏‏قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ» (اس سے پہلے گمراہ ہو چکے) آخر میں پھر فرمایا: «وَضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ» ‏‏‏‏ (اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے) گو یہ دونوں جملے بظاہر ایک ہی ہیں، مگر علماء نے لکھا ہے کہ اول سے مراد یہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے اور دوسرے {” ضَلُّوْا “} سے مراد یہ ہے کہ وہ اب تک اس گمراہی پر جمے ہوئے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پہلی گمراہی سے مراد عقیدہ کی گمراہی اور دوسری سے مراد عمل کی گمراہی ہو۔ یعنی اپنے سے پہلے لوگوں کے پیچھے مت چلو جنھوں نے کسی نبی (مثلاً عزیر یا عیسیٰ علیہما السلام) کو الٰہ بنایا، کسی نبی (مثلاً داؤد، مسیح، ان کی والدہ اور لوط علیہم السلام) پر زنا وغیرہ کی تہمتیں لگائیں اور کسی کو قتل کر دیا، ان کاموں کے ساتھ وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا اور آخر وقت تک سیدھے راستے پر نہیں آئے۔ ”ان کے پیچھے مت چلو“ سے معلوم ہوا کہ یہ گمراہیاں ان میں پہلے لوگوں کی تقلید کی وجہ سے آئی تھیں، تم یہ کام مت کرنا۔
لُعِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّ کَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ ﴿۷۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اُن پر داؤدؑ اور عیسیٰ ابن مریمؑ کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
بنی اسرائیل کے کافروں پر (حضرت) داؤد (علیہ السلام) اور (حضرت) عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی زبانی لعنت کی گئی اس وجہ سے کہ وه نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
لعنت کیے گئے وہ جنہوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان پر یہ بدلہ ان کی نافرمانی اور سرکشی کا،
علامہ محمد حسین نجفی
بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی یہ اس لیے کہ انہوں نے برابر نافرمانی کی اور حد سے بڑھ جاتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جنھوں نے بنی اسرائیل میں سے کفر کیا، ان پر دائود اور مسیح ابن مریم کی زبان پر لعنت کی گئی۔ یہ اس لیے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے گزرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امر معروف سے گریز کا انجام ٭٭

ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پا چکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔ مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے انہیں الگ نہیں کیا بلکہ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے رہے، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں کے دلوں میں آپس میں ٹکرا دیا اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے دل بھڑا دیئے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی ان پر اپنی لعنت نازل فرمائی۔ کیونکہ وہ نافرمان اور ظالم تھے۔ اس کے بیان کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا { نہیں نہیں اللہ کی قسم تم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو خلاف شرع باتوں سے روکو اور انہیں شریعت کی پابندی پر لاؤ }۔ ۱؎ [مسند احمد:391/1:منقطع] ‏‏‏‏

ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ { سب سے پہلے برائی بنی اسرائیل میں داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، اسے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور اس برے کام کو چھوڑ دے یہ حرام ہے۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا بلکہ اس کا ہم نوالہ ہم پیالہ رہتا اور میل جول باقی رکھتا، اس وجہ سے سب میں ہی سنگدلی آ گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پوری آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: { واللہ تم پر فرض ہے کہ بھلی باتوں کا ہر ایک کو حکم کرو، برائیوں سے روکو، ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھو اور اسے تنگ کرو کہ حق پر آ جائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4336،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3047،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

ابو داؤد وغیرہ میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ { اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تمہارے دلوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا دے گا اور تم پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے گا جیسی ان پر نازل فرمائی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4337،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس بارے میں اور بہت سی حدیثیں ہیں کچھ سن بھی لیجئے جابر والی حدیث تو آیت «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:63] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں گزر چکی اور یا آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:105] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ اور ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی حدیثیں آئیں گی، ان شاءاللہ تعالیٰ۔ مسند اور ترمذی میں ہے کہ { یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2129،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے { اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4004،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ صحیح حدیث میں ہے { تم میں سے جو شخص خلاف شرع کام دیکھے، اس پر فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اور بہت ہی ضعیف ایمان والا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:49] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے { اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں کرتا لیکن اس وقت کہ برائیاں ان میں پھیل جائیں اور وہ باوجود قدرت کے انکار نہ کریں، اس وقت عام خاص سب کو اللہ تعالیٰ عذاب میں گھیر لیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:196/4:صحیح بالشواهد] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے کہ { جس جگہ اللہ کی نافرمانی ہونی شروع ہو وہاں جو بھی ہو، ان خلاف شرع امور سے ناراض ہو (‏‏‏‏ایک اور روایت میں ہے ان کا انکار کرتا ہو) وہ مثل اس کے ہے جو وہاں حاضر ہی نہ ہو اور جو ان خطاؤں سے راضی ہو گو وہاں موجود نہ ہو وہ ایسا ہے گویا ان میں حاضر ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4345،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے { لوگوں کے عذر جب تک ختم نہ ہو جائیں وہ ہلاک نہ ہوں گے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا: { خبردار کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت حق بات کہنے سے روک نہ دے }۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمانے لگے افسوس ہم نے ایسے موقعوں پر لوگوں کی ہیبت مان لی }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4007،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے { افضل جہاد کلمہ حق ظالم بادشاہ کے سامنے کہدینا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4344،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے کہ { جمرہ اولیٰ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ ثانیہ پر آئے تو اس نے پھر وہی سوال کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔ جب جمرہ عقبہ پر کنکر مار چکے اور سواری پر سوار ہونے کے ارادے سے رکاب میں پاؤں رکھے تو دریافت فرمایا کہ { وہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ } اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں فرمایا: { حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہہ دینا }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4012،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ماجہ میں ہے کہ { { تم میں سے کسی شخص کو اپنی بےعزتی نہ کرنی چاہیئے } لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے؟ فرمایا: { خلاف شرع کوئی امر دیکھے اور کچھ نہ کہے قیامت کے دن اس سے بازپرس ہوگی کہ فلاں موقعے پر تو کیوں خاموش رہا؟ یہ جواب دے گا کہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ میں سب سے زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے خوف کھائے ‘ } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4007،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { جب اسے اللہ تلقین حجت کرے گا تو یہ کہے گا کہ تجھ سے تو میں نے امید رکھی اور لوگوں سے خوف کھا گیا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { { مسلمانوں کو اپنے تئیں ذلیل نہ کرنا چاہیئے }۔ لوگوں نے پوچھا کیسے؟ فرمایا: { ان بلاؤں کو سر پر لینا جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2254،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑی جائے؟ فرمایا: { اس وقت جب تم میں بھی وہی خرابی ہو جائے جو تم سے اگلوں میں ظاہر ہوئی تھی } ہم نے پوچھا وہ کیا چیز ہے؟ فرمایا: { کمینے آدمیوں میں سلطنت کا چلا جانا۔ بڑے آدمیوں میں بدکاری کا آ جانا۔ رذیلوں میں علم کا آ جانا }۔ زید کہتے ہیں رذیلوں میں علم آجانے سے مراد فاسقوں میں علم کا آ جانا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4105، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی شاہد حدیثیں ابو ثعلبہ کی روایت سے آیت «‏‏‏‏لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ» ۱؎ [5-المائدة:105] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں آئیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اکثر منافقوں کو تو دیکھے گا کہ وہ کافروں سے دوستیاں گانٹتھے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے یعنی مسلمانوں سے دوستیاں چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے لیے برا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے ‘۔

اس کی پاداش میں ان کے دلوں میں نفاق پیدا ہو گیا ہے۔ اور اسی بناء پر اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور قیامت کے دن کیلئے دائمی عذاب بھی ان کیلئے آگے آ رہے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے { { اے مسلمانو! زناکاری سے بچو، اس سے چھ برائیاں آتی ہیں، تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ اس سے عزت و وقار، رونق و تازگی جاتی رہتی ہے۔ اس سے فقرو فاقہ آ جاتا ہے۔ اس سے عمر گھٹتی ہے اور قیامت کے دن تین برائیاں یہ ہیں اللہ کا غضب، حساب کی سختی اور برائی، اور جہنم کا خلود }۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:5475:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ یہ حدیث ضعیف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے ’ اگر یہ لوگ اللہ پر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن پر پورا ایمان رکھتے تو ہرگز کافروں سے دوستیاں نہ کرتے اور چھپ چھپا کر ان سے میل ملاپ جاری نہ رکھتے۔ نہ سچے مسلمانوں سے دشمنیاں رکھتے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے خارج ہو چکے ہیں اس کی وحی اور اس کے پاک کلام کی آیتوں کے مخالف بن بیٹھے ہیں ‘۔
78۔ 1 یعنی زبور میں جو حضرت داؤد ؑ پر اور انجیل میں جو حضرت عیسیٰ ؑ پر نازل ہوئی اور اب یہی لعنت قرآن کریم کے ذریعے سے ان پر کی جا رہی ہے جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔ لعنت کا مطلب اللہ کی رحمت اور خیر سے دوری ہے۔ 78۔ 2 یہ لعنت کے اسباب ہیں۔ 1۔ عصیان۔ یعنی واجبات کا ترک اور محرمات کا ارتکاب کر کے۔ انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی۔ 2۔ اور اعتداء، یعنی دین میں غلو اور بدعات ایجاد کر کے انہوں نے حد سے تجاوز کیا۔
(آیت 78) {لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ ……:} اسرائیلیوں کا یہ کفر اپنے اپنے پیغمبروں کے مقابلے میں تھا، چنانچہ داؤد علیہ السلام کے زمانے میں انھوں نے قانون ” سبت“ کو توڑا اور عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں معجزات دیکھنے کے باوجود ان کی نبوت سے انکار کر دیا۔ داؤد علیہ السلام کی زبانی لعنت کے لیے دیکھیے زبور (۷۸: ۲۱،۲۲،۲۳) اور مسیح علیہ السلام کی زبانی لعنت کے لیے دیکھیے انجیل متی (۲۳: ۳۱، ۳۲) لعنت کا معنی اﷲ کی رحمت اور بھلائی سے دوری ہے۔
کَانُوۡا لَا یَتَنَاہَوۡنَ عَنۡ مُّنۡکَرٍ فَعَلُوۡہُ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۷۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُنہوں نے ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا، برا طرز عمل تھا جو اُنہوں نے اختیار کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
آپس میں ایک دوسرے کو برے کاموں سے جو وه کرتے تھے روکتے نہ تھے جو کچھ بھی یہ کرتے تھے یقیناً وه بہت برا تھا
احمد رضا خان بریلوی
جو بری بات کرتے آپس میں ایک دوسرے کو نہ روکتے ضرور بہت ہی برے کام کرتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
جو برائی وہ کرتے تھے۔ اس سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ کیسا برا تھا۔ وہ کام جو وہ کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ ایک دوسرے کو کسی برائی سے، جو انھوں نے کی ہوتی، روکتے نہ تھے، بے شک برا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امر معروف سے گریز کا انجام ٭٭

ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پا چکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔ مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے انہیں الگ نہیں کیا بلکہ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے رہے، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں کے دلوں میں آپس میں ٹکرا دیا اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے دل بھڑا دیئے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی ان پر اپنی لعنت نازل فرمائی۔ کیونکہ وہ نافرمان اور ظالم تھے۔ اس کے بیان کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا { نہیں نہیں اللہ کی قسم تم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو خلاف شرع باتوں سے روکو اور انہیں شریعت کی پابندی پر لاؤ }۔ ۱؎ [مسند احمد:391/1:منقطع] ‏‏‏‏

ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ { سب سے پہلے برائی بنی اسرائیل میں داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، اسے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور اس برے کام کو چھوڑ دے یہ حرام ہے۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا بلکہ اس کا ہم نوالہ ہم پیالہ رہتا اور میل جول باقی رکھتا، اس وجہ سے سب میں ہی سنگدلی آ گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پوری آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: { واللہ تم پر فرض ہے کہ بھلی باتوں کا ہر ایک کو حکم کرو، برائیوں سے روکو، ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھو اور اسے تنگ کرو کہ حق پر آ جائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4336،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3047،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

ابو داؤد وغیرہ میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ { اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تمہارے دلوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا دے گا اور تم پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے گا جیسی ان پر نازل فرمائی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4337،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس بارے میں اور بہت سی حدیثیں ہیں کچھ سن بھی لیجئے جابر والی حدیث تو آیت «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:63] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں گزر چکی اور یا آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:105] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ اور ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی حدیثیں آئیں گی، ان شاءاللہ تعالیٰ۔ مسند اور ترمذی میں ہے کہ { یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2129،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے { اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4004،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ صحیح حدیث میں ہے { تم میں سے جو شخص خلاف شرع کام دیکھے، اس پر فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اور بہت ہی ضعیف ایمان والا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:49] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے { اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں کرتا لیکن اس وقت کہ برائیاں ان میں پھیل جائیں اور وہ باوجود قدرت کے انکار نہ کریں، اس وقت عام خاص سب کو اللہ تعالیٰ عذاب میں گھیر لیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:196/4:صحیح بالشواهد] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے کہ { جس جگہ اللہ کی نافرمانی ہونی شروع ہو وہاں جو بھی ہو، ان خلاف شرع امور سے ناراض ہو (‏‏‏‏ایک اور روایت میں ہے ان کا انکار کرتا ہو) وہ مثل اس کے ہے جو وہاں حاضر ہی نہ ہو اور جو ان خطاؤں سے راضی ہو گو وہاں موجود نہ ہو وہ ایسا ہے گویا ان میں حاضر ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4345،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے { لوگوں کے عذر جب تک ختم نہ ہو جائیں وہ ہلاک نہ ہوں گے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا: { خبردار کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت حق بات کہنے سے روک نہ دے }۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمانے لگے افسوس ہم نے ایسے موقعوں پر لوگوں کی ہیبت مان لی }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4007،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے { افضل جہاد کلمہ حق ظالم بادشاہ کے سامنے کہدینا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4344،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے کہ { جمرہ اولیٰ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ ثانیہ پر آئے تو اس نے پھر وہی سوال کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔ جب جمرہ عقبہ پر کنکر مار چکے اور سواری پر سوار ہونے کے ارادے سے رکاب میں پاؤں رکھے تو دریافت فرمایا کہ { وہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ } اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں فرمایا: { حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہہ دینا }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4012،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ماجہ میں ہے کہ { { تم میں سے کسی شخص کو اپنی بےعزتی نہ کرنی چاہیئے } لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے؟ فرمایا: { خلاف شرع کوئی امر دیکھے اور کچھ نہ کہے قیامت کے دن اس سے بازپرس ہوگی کہ فلاں موقعے پر تو کیوں خاموش رہا؟ یہ جواب دے گا کہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ میں سب سے زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے خوف کھائے ‘ } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4007،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { جب اسے اللہ تلقین حجت کرے گا تو یہ کہے گا کہ تجھ سے تو میں نے امید رکھی اور لوگوں سے خوف کھا گیا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { { مسلمانوں کو اپنے تئیں ذلیل نہ کرنا چاہیئے }۔ لوگوں نے پوچھا کیسے؟ فرمایا: { ان بلاؤں کو سر پر لینا جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2254،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑی جائے؟ فرمایا: { اس وقت جب تم میں بھی وہی خرابی ہو جائے جو تم سے اگلوں میں ظاہر ہوئی تھی } ہم نے پوچھا وہ کیا چیز ہے؟ فرمایا: { کمینے آدمیوں میں سلطنت کا چلا جانا۔ بڑے آدمیوں میں بدکاری کا آ جانا۔ رذیلوں میں علم کا آ جانا }۔ زید کہتے ہیں رذیلوں میں علم آجانے سے مراد فاسقوں میں علم کا آ جانا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4105، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی شاہد حدیثیں ابو ثعلبہ کی روایت سے آیت «‏‏‏‏لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ» ۱؎ [5-المائدة:105] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں آئیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اکثر منافقوں کو تو دیکھے گا کہ وہ کافروں سے دوستیاں گانٹتھے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے یعنی مسلمانوں سے دوستیاں چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے لیے برا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے ‘۔

اس کی پاداش میں ان کے دلوں میں نفاق پیدا ہو گیا ہے۔ اور اسی بناء پر اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور قیامت کے دن کیلئے دائمی عذاب بھی ان کیلئے آگے آ رہے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے { { اے مسلمانو! زناکاری سے بچو، اس سے چھ برائیاں آتی ہیں، تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ اس سے عزت و وقار، رونق و تازگی جاتی رہتی ہے۔ اس سے فقرو فاقہ آ جاتا ہے۔ اس سے عمر گھٹتی ہے اور قیامت کے دن تین برائیاں یہ ہیں اللہ کا غضب، حساب کی سختی اور برائی، اور جہنم کا خلود }۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:5475:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ یہ حدیث ضعیف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے ’ اگر یہ لوگ اللہ پر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن پر پورا ایمان رکھتے تو ہرگز کافروں سے دوستیاں نہ کرتے اور چھپ چھپا کر ان سے میل ملاپ جاری نہ رکھتے۔ نہ سچے مسلمانوں سے دشمنیاں رکھتے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے خارج ہو چکے ہیں اس کی وحی اور اس کے پاک کلام کی آیتوں کے مخالف بن بیٹھے ہیں ‘۔
79۔ 1 وہ ایک دوسرے کو برائی سے روکتے نہیں تھے جو بجائے خود ایک بہت بڑا جرم ہے۔ بعض مفسرین نے اسی ترک نہی کو عصیان اور اعتدا قرار دیا ہے جو لعنت کا سبب بنا۔ بہرحال دونوں صورتوں میں برائی کو دیکھتے ہوئے برائی سے نہ روکنا، بہت بڑا جرم اور لعنت غضب الہی کا سبب ہے۔ حدیث میں بھی اس جرم پر بڑی سخت وعیدیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " سب سے پہلا نقص جو بنی اسرائیل میں داخل ہوا یہ تھا کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو برائی کرتے ہوئے دیکھتا تو کہتا، اللہ سے ڈر اور یہ برائی چھوڑ دے، یہ تیرے لیے جائز نہیں۔ لیکن دوسرے روز پھر اسی کے ساتھ اسے کھانے پینے اور اٹھنے بیٹھنے میں کوئی عار یا شرم محسوس نہ ہوتی، (یعنی اس کا ہم نوالہ وہ ہم پیالہ وہم نشین بن جاتا) درآں حالیکہ ایمان کا تقاضا اس سے نفرت اور ترک تعلق تھا۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان آپس میں عداوت ڈال دی اور وہ لعنت الہی کے مستحق قرار پائے۔ پھر فرمایا کہ " اللہ کی قسم! تم ضرور لوگوں کو نیکی کا حکم دیا کرو اور برائی سے روکا کرو " ظالم کا ہاتھ پکڑ لیا کرو " (ورنہ تمہارا بھی یہی حال ہوگا۔ ایک دوسری روایت میں اس فریضے کے ترک پر یہ وعید سنائی گئی ہے کہ تم عذاب الہی کے مستحق بن جاؤ گے۔ پھر تم اللہ سے دعائیں بھی مانگو گے تو قبول نہیں ہوں گی۔ (مسند احمد جلد 5۔ ص 388)
(آیت 79) {كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ ……: ” لَا يَتَنَاهَوْنَ “} باب تفاعل سے ہے، اس کا معنی باز آنا بھی ہے اور ایک دوسرے کو منع کرنا بھی۔ یہاں پچھلی آیت میں مذکور ان کی نافرمانی اور حد سے گزرنے کی تفسیر ہے کہ ایک تو وہ جب کوئی برا کام کرتے اس پر ڈٹ جاتے، باز ہی نہیں آتے تھے، یعنی گناہ پر ندامت کے بجائے اس پر اصرار کرتے تھے۔ دوسرا یہ کہ وہ ایک دوسرے کو برائی سے منع نہیں کرتے تھے، ان کے نیک لوگ یہ سمجھنے لگے کہ اگر کچھ لوگ برے کام کر رہے ہیں تو کرتے رہیں، ان کا وبال خود ان پر ہو گا، ہم تو اپنی جگہ نیک ہیں، حالانکہ اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ ہو اور دل سے نفرت بھی نہ ہو تو ایمان کا آخری درجہ، یعنی کمزور ترین ایمان بھی نہیں رہتا۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص برائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے بدل دے، اگر یہ طاقت نہ رکھے تو اپنی زبان کے ساتھ، اگر یہ بھی نہ ہو تو دل کے ساتھ اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔“ [ مسلم، الإیمان، باب کون النہی عن المنکر عن الایمان……: ۴۹ ] حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے، یا پھر قریب ہے کہ اﷲ تعالیٰ تم پر اپنے ہاں سے عذاب بھیج دے، پھر تم اس سے دعا کرو گے تو وہ تمھاری دعا قبول نہیں کرے گا۔“ [ أحمد: 388/5، ح: ۲۳۳۶۳۔ ترمذی: ۲۱۶۹، وحسنہ الترمذی والألبانی ]
تَرٰی کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ یَتَوَلَّوۡنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَہُمۡ اَنۡفُسُہُمۡ اَنۡ سَخِطَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ وَ فِی الۡعَذَابِ ہُمۡ خٰلِدُوۡنَ ﴿۸۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آج تم اُن میں بکثرت ایسے لوگ دیکھتے ہو جو (اہل ایمان کے مقابلہ میں) کفار کی حمایت و رفاقت کرتے ہیں یقیناً بہت برا انجام ہے جس کی تیاری اُن کے نفسوں نے اُن کے لیے کی ہے، اللہ اُن پر غضب ناک ہو گیا ہے اور وہ دائمی عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان میں سے بہت سے لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ وه کافروں سے دوستیاں کرتے ہیں، جو کچھ انہوں نے اپنے لئے آگے بھیج رکھا ہے وه بہت برا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوا اور وه ہمیشہ عذاب میں رہیں گے
احمد رضا خان بریلوی
ان میں تم بہت کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں، کیا ہی بری چیز اپنے لیے خود آگے بھیجی یہ کہ اللہ کا ان پر غضب ہوا اور وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
آپ ان میں سے بہتوں کو دیکھیں گے کہ وہ اہلِ اسلام کے بالمقابل کافروں سے دوستی رکھتے ہیں بہت ہی برا ہے وہ (سامان) جو ان کے نفسوں نے ان کے لئے آگے بھیجا ہے۔ (جس سے) اللہ ان پر غضبناک ہوگیا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
تو ان میں سے بہت سوں کو دیکھے گا وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہیں جنھوں نے کفر کیا۔ یقینا برا ہے جو ان کے نفسوں نے ان کے لیے آگے بھیجا کہ اللہ ان پر غصے ہوگیا اور عذاب ہی میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امر معروف سے گریز کا انجام ٭٭

ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پا چکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔ مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے انہیں الگ نہیں کیا بلکہ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے رہے، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں کے دلوں میں آپس میں ٹکرا دیا اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے دل بھڑا دیئے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی ان پر اپنی لعنت نازل فرمائی۔ کیونکہ وہ نافرمان اور ظالم تھے۔ اس کے بیان کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا { نہیں نہیں اللہ کی قسم تم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو خلاف شرع باتوں سے روکو اور انہیں شریعت کی پابندی پر لاؤ }۔ ۱؎ [مسند احمد:391/1:منقطع] ‏‏‏‏

ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ { سب سے پہلے برائی بنی اسرائیل میں داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، اسے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور اس برے کام کو چھوڑ دے یہ حرام ہے۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا بلکہ اس کا ہم نوالہ ہم پیالہ رہتا اور میل جول باقی رکھتا، اس وجہ سے سب میں ہی سنگدلی آ گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پوری آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: { واللہ تم پر فرض ہے کہ بھلی باتوں کا ہر ایک کو حکم کرو، برائیوں سے روکو، ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھو اور اسے تنگ کرو کہ حق پر آ جائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4336،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3047،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

ابو داؤد وغیرہ میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ { اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تمہارے دلوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا دے گا اور تم پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے گا جیسی ان پر نازل فرمائی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4337،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس بارے میں اور بہت سی حدیثیں ہیں کچھ سن بھی لیجئے جابر والی حدیث تو آیت «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:63] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں گزر چکی اور یا آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:105] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ اور ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی حدیثیں آئیں گی، ان شاءاللہ تعالیٰ۔ مسند اور ترمذی میں ہے کہ { یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2129،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے { اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4004،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ صحیح حدیث میں ہے { تم میں سے جو شخص خلاف شرع کام دیکھے، اس پر فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اور بہت ہی ضعیف ایمان والا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:49] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے { اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں کرتا لیکن اس وقت کہ برائیاں ان میں پھیل جائیں اور وہ باوجود قدرت کے انکار نہ کریں، اس وقت عام خاص سب کو اللہ تعالیٰ عذاب میں گھیر لیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:196/4:صحیح بالشواهد] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے کہ { جس جگہ اللہ کی نافرمانی ہونی شروع ہو وہاں جو بھی ہو، ان خلاف شرع امور سے ناراض ہو (‏‏‏‏ایک اور روایت میں ہے ان کا انکار کرتا ہو) وہ مثل اس کے ہے جو وہاں حاضر ہی نہ ہو اور جو ان خطاؤں سے راضی ہو گو وہاں موجود نہ ہو وہ ایسا ہے گویا ان میں حاضر ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4345،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے { لوگوں کے عذر جب تک ختم نہ ہو جائیں وہ ہلاک نہ ہوں گے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا: { خبردار کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت حق بات کہنے سے روک نہ دے }۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمانے لگے افسوس ہم نے ایسے موقعوں پر لوگوں کی ہیبت مان لی }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4007،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے { افضل جہاد کلمہ حق ظالم بادشاہ کے سامنے کہدینا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4344،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے کہ { جمرہ اولیٰ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ ثانیہ پر آئے تو اس نے پھر وہی سوال کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔ جب جمرہ عقبہ پر کنکر مار چکے اور سواری پر سوار ہونے کے ارادے سے رکاب میں پاؤں رکھے تو دریافت فرمایا کہ { وہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ } اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں فرمایا: { حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہہ دینا }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4012،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ماجہ میں ہے کہ { { تم میں سے کسی شخص کو اپنی بےعزتی نہ کرنی چاہیئے } لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے؟ فرمایا: { خلاف شرع کوئی امر دیکھے اور کچھ نہ کہے قیامت کے دن اس سے بازپرس ہوگی کہ فلاں موقعے پر تو کیوں خاموش رہا؟ یہ جواب دے گا کہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ میں سب سے زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے خوف کھائے ‘ } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4007،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { جب اسے اللہ تلقین حجت کرے گا تو یہ کہے گا کہ تجھ سے تو میں نے امید رکھی اور لوگوں سے خوف کھا گیا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { { مسلمانوں کو اپنے تئیں ذلیل نہ کرنا چاہیئے }۔ لوگوں نے پوچھا کیسے؟ فرمایا: { ان بلاؤں کو سر پر لینا جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2254،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑی جائے؟ فرمایا: { اس وقت جب تم میں بھی وہی خرابی ہو جائے جو تم سے اگلوں میں ظاہر ہوئی تھی } ہم نے پوچھا وہ کیا چیز ہے؟ فرمایا: { کمینے آدمیوں میں سلطنت کا چلا جانا۔ بڑے آدمیوں میں بدکاری کا آ جانا۔ رذیلوں میں علم کا آ جانا }۔ زید کہتے ہیں رذیلوں میں علم آجانے سے مراد فاسقوں میں علم کا آ جانا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4105، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی شاہد حدیثیں ابو ثعلبہ کی روایت سے آیت «‏‏‏‏لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ» ۱؎ [5-المائدة:105] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں آئیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اکثر منافقوں کو تو دیکھے گا کہ وہ کافروں سے دوستیاں گانٹتھے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے یعنی مسلمانوں سے دوستیاں چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے لیے برا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے ‘۔

اس کی پاداش میں ان کے دلوں میں نفاق پیدا ہو گیا ہے۔ اور اسی بناء پر اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور قیامت کے دن کیلئے دائمی عذاب بھی ان کیلئے آگے آ رہے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے { { اے مسلمانو! زناکاری سے بچو، اس سے چھ برائیاں آتی ہیں، تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ اس سے عزت و وقار، رونق و تازگی جاتی رہتی ہے۔ اس سے فقرو فاقہ آ جاتا ہے۔ اس سے عمر گھٹتی ہے اور قیامت کے دن تین برائیاں یہ ہیں اللہ کا غضب، حساب کی سختی اور برائی، اور جہنم کا خلود }۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:5475:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ یہ حدیث ضعیف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے ’ اگر یہ لوگ اللہ پر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن پر پورا ایمان رکھتے تو ہرگز کافروں سے دوستیاں نہ کرتے اور چھپ چھپا کر ان سے میل ملاپ جاری نہ رکھتے۔ نہ سچے مسلمانوں سے دشمنیاں رکھتے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے خارج ہو چکے ہیں اس کی وحی اور اس کے پاک کلام کی آیتوں کے مخالف بن بیٹھے ہیں ‘۔
80۔ 1 یہ اہل کفر سے دوستانہ تعلق کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہوا اور اسی نارضگی کا نتیجہ جہنم کا دائمی عذاب ہے۔
(آیت 80) ➊ {تَرٰى كَثِيْرًا مِّنْهُمْ ……:} یعنی ان کے پہلے لوگوں کی وہ حالت تھی اور اب جو موجود ہیں ان کی یہ حالت ہے۔ (کبیر) جیسے کعب بن اشرف اور مدینہ کے یہودی قبائل کے دوسرے افراد، جو مسلمانوں کی دشمنی میں مکہ کے مشرکین اور مدینہ کے منافقین سے دوستی رکھتے تھے۔ ➋ {لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ ……:} یعنی کفار (مشرکین مکہ اور منافقین مدینہ) سے دوستی قائم کر کے اہل کتاب نے مسلمانوں کے خلاف جو تیاری کی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں ان پر اﷲ کا غضب ہوا اور آخرت میں بھی وہ دائمی عذاب کے مستحق قرار پائے۔
وَ لَوۡ کَانُوۡا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مَا اتَّخَذُوۡہُمۡ اَوۡلِیَآءَ وَ لٰکِنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۸۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر فی الواقع یہ لوگ اللہ اور پیغمبرؐ اور اُس چیز کے ماننے والے ہوتے جو پیغمبر پر نازل ہوئی تھی تو کبھی (اہل ایمان کے مقابلے میں) کافروں کو اپنا رفیق نہ بناتے مگر ان میں سے تو بیشتر لوگ خدا کی اطاعت سے نکل چکے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر انہیں اللہ تعالیٰ پر اور نبی پر اور جو نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان ہوتا تو یہ کفار سے دوستیاں نہ کرتے، لیکن ان میں کے اکثر لوگ فاسق ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر وہ ایمان لاتے اللہ اور ان نبی پر اور اس پر جو ان کی طرف اترا تو کافروں سے دوستی نہ کرتے مگر ان میں تو بہتیرے فاسق ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر وہ خدا پر، رسول(ص) پر اور جو کچھ اس (رسول(ص)) پر نازل کیا گیا ہے۔ اس پر ایمان لاتے، تو ان کافروں کو اپنا دوست نہ بناتے۔ لیکن (بات دراصل یہ ہے کہ) ان میں سے زیادہ تر لوگ فاسق و فاجر (نافرمان) ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر وہ اللہ اور نبی پر اور اس پر ایمان رکھتے ہوتے جو اس کی طرف نازل کیا گیا ہے تو انھیں دوست نہ بناتے اور لیکن ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امر معروف سے گریز کا انجام ٭٭

ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پا چکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔ مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے انہیں الگ نہیں کیا بلکہ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے رہے، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں کے دلوں میں آپس میں ٹکرا دیا اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے دل بھڑا دیئے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی ان پر اپنی لعنت نازل فرمائی۔ کیونکہ وہ نافرمان اور ظالم تھے۔ اس کے بیان کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا { نہیں نہیں اللہ کی قسم تم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو خلاف شرع باتوں سے روکو اور انہیں شریعت کی پابندی پر لاؤ }۔ ۱؎ [مسند احمد:391/1:منقطع] ‏‏‏‏

ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ { سب سے پہلے برائی بنی اسرائیل میں داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، اسے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور اس برے کام کو چھوڑ دے یہ حرام ہے۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا بلکہ اس کا ہم نوالہ ہم پیالہ رہتا اور میل جول باقی رکھتا، اس وجہ سے سب میں ہی سنگدلی آ گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پوری آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: { واللہ تم پر فرض ہے کہ بھلی باتوں کا ہر ایک کو حکم کرو، برائیوں سے روکو، ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھو اور اسے تنگ کرو کہ حق پر آ جائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4336،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3047،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

ابو داؤد وغیرہ میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ { اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تمہارے دلوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا دے گا اور تم پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے گا جیسی ان پر نازل فرمائی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4337،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس بارے میں اور بہت سی حدیثیں ہیں کچھ سن بھی لیجئے جابر والی حدیث تو آیت «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:63] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں گزر چکی اور یا آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:105] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ اور ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی حدیثیں آئیں گی، ان شاءاللہ تعالیٰ۔ مسند اور ترمذی میں ہے کہ { یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2129،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے { اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4004،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ صحیح حدیث میں ہے { تم میں سے جو شخص خلاف شرع کام دیکھے، اس پر فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اور بہت ہی ضعیف ایمان والا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:49] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے { اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں کرتا لیکن اس وقت کہ برائیاں ان میں پھیل جائیں اور وہ باوجود قدرت کے انکار نہ کریں، اس وقت عام خاص سب کو اللہ تعالیٰ عذاب میں گھیر لیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:196/4:صحیح بالشواهد] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے کہ { جس جگہ اللہ کی نافرمانی ہونی شروع ہو وہاں جو بھی ہو، ان خلاف شرع امور سے ناراض ہو (‏‏‏‏ایک اور روایت میں ہے ان کا انکار کرتا ہو) وہ مثل اس کے ہے جو وہاں حاضر ہی نہ ہو اور جو ان خطاؤں سے راضی ہو گو وہاں موجود نہ ہو وہ ایسا ہے گویا ان میں حاضر ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4345،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے { لوگوں کے عذر جب تک ختم نہ ہو جائیں وہ ہلاک نہ ہوں گے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا: { خبردار کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت حق بات کہنے سے روک نہ دے }۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمانے لگے افسوس ہم نے ایسے موقعوں پر لوگوں کی ہیبت مان لی }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4007،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے { افضل جہاد کلمہ حق ظالم بادشاہ کے سامنے کہدینا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4344،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے کہ { جمرہ اولیٰ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ ثانیہ پر آئے تو اس نے پھر وہی سوال کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔ جب جمرہ عقبہ پر کنکر مار چکے اور سواری پر سوار ہونے کے ارادے سے رکاب میں پاؤں رکھے تو دریافت فرمایا کہ { وہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ } اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں فرمایا: { حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہہ دینا }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4012،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ماجہ میں ہے کہ { { تم میں سے کسی شخص کو اپنی بےعزتی نہ کرنی چاہیئے } لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے؟ فرمایا: { خلاف شرع کوئی امر دیکھے اور کچھ نہ کہے قیامت کے دن اس سے بازپرس ہوگی کہ فلاں موقعے پر تو کیوں خاموش رہا؟ یہ جواب دے گا کہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ میں سب سے زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے خوف کھائے ‘ } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4007،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { جب اسے اللہ تلقین حجت کرے گا تو یہ کہے گا کہ تجھ سے تو میں نے امید رکھی اور لوگوں سے خوف کھا گیا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { { مسلمانوں کو اپنے تئیں ذلیل نہ کرنا چاہیئے }۔ لوگوں نے پوچھا کیسے؟ فرمایا: { ان بلاؤں کو سر پر لینا جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2254،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑی جائے؟ فرمایا: { اس وقت جب تم میں بھی وہی خرابی ہو جائے جو تم سے اگلوں میں ظاہر ہوئی تھی } ہم نے پوچھا وہ کیا چیز ہے؟ فرمایا: { کمینے آدمیوں میں سلطنت کا چلا جانا۔ بڑے آدمیوں میں بدکاری کا آ جانا۔ رذیلوں میں علم کا آ جانا }۔ زید کہتے ہیں رذیلوں میں علم آجانے سے مراد فاسقوں میں علم کا آ جانا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4105، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی شاہد حدیثیں ابو ثعلبہ کی روایت سے آیت «‏‏‏‏لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ» ۱؎ [5-المائدة:105] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں آئیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اکثر منافقوں کو تو دیکھے گا کہ وہ کافروں سے دوستیاں گانٹتھے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے یعنی مسلمانوں سے دوستیاں چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے لیے برا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے ‘۔

اس کی پاداش میں ان کے دلوں میں نفاق پیدا ہو گیا ہے۔ اور اسی بناء پر اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور قیامت کے دن کیلئے دائمی عذاب بھی ان کیلئے آگے آ رہے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے { { اے مسلمانو! زناکاری سے بچو، اس سے چھ برائیاں آتی ہیں، تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ اس سے عزت و وقار، رونق و تازگی جاتی رہتی ہے۔ اس سے فقرو فاقہ آ جاتا ہے۔ اس سے عمر گھٹتی ہے اور قیامت کے دن تین برائیاں یہ ہیں اللہ کا غضب، حساب کی سختی اور برائی، اور جہنم کا خلود }۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:5475:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ یہ حدیث ضعیف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے ’ اگر یہ لوگ اللہ پر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن پر پورا ایمان رکھتے تو ہرگز کافروں سے دوستیاں نہ کرتے اور چھپ چھپا کر ان سے میل ملاپ جاری نہ رکھتے۔ نہ سچے مسلمانوں سے دشمنیاں رکھتے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے خارج ہو چکے ہیں اس کی وحی اور اس کے پاک کلام کی آیتوں کے مخالف بن بیٹھے ہیں ‘۔
81۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے اندر صحیح معنوں میں ایمان ہوگا، وہ کافروں سے کبھی دوستی نہیں کرے گا۔
(آیت 81) {وَ لَوْ كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ……:} یعنی اگر وہ واقعی اﷲ تعالیٰ پر اور اپنے نبی (موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام) پر اور ان پر نازل شدہ کتاب (تورات و انجیل) پر ایمان رکھتے تو کبھی مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستی قائم نہ کرتے، کیونکہ تورات میں اس کام کو حرام کہا گیا ہے، یا یہ کہ اگر وہ کفار صدق دل سے ایمان لائے ہوتے، نفاق کے مریض نہ ہوتے تو پھر یہ کبھی ان سے دوستی پیدا نہ کرتے۔
لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الۡیَہُوۡدَ وَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَہُمۡ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰی ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنۡہُمۡ قِسِّیۡسِیۡنَ وَ رُہۡبَانًا وَّ اَنَّہُمۡ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۸۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے، اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تر اُن لوگوں کو پا ؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اِس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور اُن میں غرور نفس نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً آپ ایمان والوں کا سب سے زیاده دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے اور ایمان والوں سے سب سے زیاده دوستی کے قریب آپ یقیناً انہیں پائیں گے جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں، یہ اس لئے کہ ان میں علما اور عبادت کے لئے گوشہ نشین افراد پائے جاتے ہیں اور اس وجہ سے کہ وه تکبر نہیں کرتے
احمد رضا خان بریلوی
ضرور تم مسلمانوں کا سب سے بڑھ کر دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے اور ضرور تم مسلمانوں کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب ان کو پاؤ گے جو کہتے تھے ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لئے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں اور یہ غرور نہیں کرتے -
علامہ محمد حسین نجفی
اے پیغمبر(ص)! آپ اہل ایمان سے دشمنی کرنے میں سب لوگوں سے زیادہ سخت ترین دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے اور اہل ایمان سے دوستی کرنے میں آپ سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پائیں گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں یہ اس لئے ہے کہ ان میں پادری اور تارک الدنیا عابد پائے جاتے ہیں اور اس لیے کہ وہ تکبر نہیں کرتے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا تو ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں، سب لوگوں سے زیادہ سخت عداوت رکھنے والے یہود کو اور ان لوگوں کو پائے گا جنھوں نے شریک بنائے ہیں اور یقینا تو ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں، ان میں سے دوستی میں سب سے قریب ان کو پائے گا جنھوں نے کہا ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لیے کہ بے شک ان میں علماء اور راہب ہیں اور اس لیے کہ بے شک وہ تکبر نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودیوں کا تاریخی کردار ٭٭

یہ آیت اور اس کے بعد کی چار آیتیں نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہیں۔ جب ان کے سامنے حبشہ کے ملک میں جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم پڑھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں۔ یہ خیال رہے کہ یہ آیتیں مدینے میں اتری ہیں اور جعفر رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیتیں اس وفد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جسے نجاشی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملیں، حاضر خدمت ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات و صفات دیکھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنیں۔ جب یہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم سنا تو ان کے دل نرم ہو گئے بہت روئے دھوئے اور اسلام قبول کیا اور واپس جا کر نجاشی سے سب حال کہا نجاشی اپنی سلطنت چھوڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کر کے آنے لگے لیکن راستے میں ہی انتقال ہو گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12318:مرسل] ‏‏‏‏ یہاں بھی یہ خیال رہے کہ یہ بیان صرف سدی رحمة الله کا ہے اور صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ وہ حبشہ میں ہی سلطنت کرتے ہوئے فوت ہوئے { ان کے انتقال والے دن ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ان کے انتقال کی خبر دی اور ان کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1318] ‏‏‏‏

بعض تو کہتے ہیں اس وفد میں سات تو علماء تھے اور پانچ زاہد تھے یا پانچ علماء اور سات زاہد تھے۔ بعض کہتے ہیں یہ کل پچاس آدمی تھے اور کہا گیا ہے کہ ساٹھ سے کچھ اوپر تھے ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ستر تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جن کے اوصاف آیت میں بیان کئے گئے ہیں یہ اہل حبشہ ہیں۔ مسلمان مہاجرین حبشہ جب ان کے پاس پہنچے تو یہ سب مسلمان ہو گئے تھے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں ”پہلے یہ دین عیسوی پر قائم تھے لیکن جب انہوں نے مسلمانوں کو دیکھا اور قرآن کریم کو سنا تو فوراً سب مسلمان ہو گئے۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر رحمة الله کا فیصلہ ان سب اقوال کو ٹھیک کر دیتا ہے اور فرماتے ہیں کہ ”یہ آیتیں ان لوگوں کے بارے میں ہیں جن میں یہ اوصاف ہوں خواہ وہ حبشہ کے ہوں یا کہیں کے۔‏‏‏‏“ یہودیوں کو مسلمانوں سے جو سخت دشمنی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سرکشی اور انکار کا مادہ زیادہ ہے اور جان بوجھ کر کفر کرتے ہیں اور ضد سے ناحق پر اڑتے ہیں، حق کے مقابلہ میں بگڑ بیٹھتے ہیں حق والوں پر حقارت کی نظریں ڈالتے ہیں ان سے بغض و بیر رکھتے ہیں۔

علم سے کورے ہیں علماء کی تعداد ان میں بہت ہی کم ہے اور علم اور ذی علم لوگوں کی کوئی وقعت ان کے دل میں نہیں یہی تھے جنہوں نے بہت سے انبیاء علیہم السلام کو قتل کیا خود پیغمبر الزمان احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ بھی کیا اور ایک دفعہ نہیں بلکہ باربار۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا اور اپنے جیسے بدباطن لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کئے لیکن اللہ نے ہر مرتبہ انہیں نامراد اور ناکام کیا۔ ابن مردویہ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب کبھی کوئی یہودی کسی مسلمانوں کو تنہائی میں پاتا ہے اس کے دل میں اس کے قتل کا قصد پیدا ہوتا ہے } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4439:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن ہے بہت ہی غریب ہاں مسلمانوں سے دوستی میں زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے تئیں نصاریٰ کہتے ہیں مسیح کے تابعدار ہیں انجیل کے اصلی اور صحیح طریقے پر قائم ہیں ان میں ایک حد تک فی الجملہ مسلمانوں اور اسلام کی محبت ہے یہ اس لیے کہ ان میں نرم دلی ہے جیسے ارشاد باری آیت «وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً» ۱؎ [57-الحدید:27] ‏‏‏‏، یعنی ’ عیسیٰ علیہ السلام کے تابعداروں کے دلوں میں ہم نے نرمی اور رحم ڈال دیا ہے۔ ان کی کتاب میں حکم ہے کہ جو تیرے داہنے رخسار پر تھپڑ مارے تو اس کے سامنے بایاں رخسار بھی پیش کر دے ‘۔

ان کی شریعت میں لڑائی ہے ہی نہیں۔ یہاں ان کی اس دوستی کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ ان میں خطیب اور واعظ ہیں۔ «قِسِسِیْنٌ» اور «قِسٌ» کی جمع «‏‏‏‏قِسِّیْسِیْنَ» ہے «‏‏‏‏قُسُوْسٌ» بھی اس کی جمع آتی ہے «رُهْبَانٌ» جمع ہے راہب کی، راہب کہتے ہیں عابد کو۔ یہ لفظ مشتق ہے رہب سے اور رہبت کے معنی ہیں خوف اور ڈر کے۔ جیسے «رَاکِبٌ» کی جمع «رُکْبَانٌ» ہے اور «فُرْسَانٌ» ہے امام ابن جریر فرماتے ہیں کبھی «رُهْبَانٌ» واحد کیلئے بھی آتا ہے اور اس کی جمع «رَھَابِیْنَ» آتی ہے جیسے «قُرْبَانٌ» اور «قَرَابِیْنَ» اور «جوازن» اور «جوازین» اور کبھی اس کی جمع «رَهَابِنَه» بھی آتی ہے۔ عرب کے اشعار میں بھی لفظ «رُهْبَانٌ» واحد کیلئے آیا۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے ایک شخص «قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا» ‏‏‏‏ پڑھ کر اس کے معنی دریافت کرتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «‏‏‏‏قِسِسِیْنٌ» ‏‏‏‏کو خانقاہوں اور غیر آباد جگہوں میں چھوڑ مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «صدیقین وَرُهْبَانًا» ‏‏‏‏ پڑھایا ہے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6175:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ الغرض ان کے تین اوصاف یہاں بیان ہوئے ہیں ان میں عالموں کا ہونا، ان میں عابدوں کا ہونا، ان میں تواضع فروتنی اور عاجزی کا ہونا۔
82۔ 1 اس لئے کہ یہودیوں کے اندر عناد و جحود، حق سے اعراض و استکبار اور اہل علم و ایمان کی تنقیص کا جذبہ بہت پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نبیوں کا قتل اور ان کی تکذیب ان کا شعار رہا ہے۔ حتیٰ کہ انہوں نے رسول اللہ کے قتل کی بھی کئی مرتبہ سازش کی، آپ پر جادو بھی کیا اور ہر طرح نقصان پہنچانے کی مذموم سعی کی۔ اور اس معاملہ میں مشرکین کا حال بھی یہی ہے۔ 82۔ 2 رُھْبَانُ سے مراد نیک، عبادت گزار اور گوشہ نشین لوگ قَسِّیْسِیْنَ سے مراد علما وخطبا ہیں، یعنی ان عیسائیوں میں علم و تواضع ہے، اس لئے ان میں یہودیوں کی طرح حجود و استکبار نہیں ہے۔ علاوہ ازیں دین مسیح میں نرمی اور عفو و درگزر کی تعلیم کو امتیازی حیثیت حاصل ہے، حتیٰ کہ ان کی کتابوں میں لکھا ہے کہ کوئی تمہارے دائیں رخسار پر مارے تو بایاں رخسار بھی ان کو پیش کردو۔ یعنی لڑو مت۔ ان وجوہ سے یہ مسلمان کے، بہ نسبت یہودیوں کے زیادہ قریب ہیں۔ عیسائیوں کا وصف یہودیوں کے مقابلے میں ہے، تاہم جہاں تک اسلام دشمنی کا تعلق ہے، کم و بیش کے کچھ فرق کے ساتھ، اسلام کے خلاف یہ عناد عیسائیوں میں بھی موجود ہے، جیسا کہ صلیب و ہلال کی صدیوں پر محیط معرکہ آرائی سے واضح ہے اور جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اور اب تو اسلام کے خلاف یہودی اور عیسائی دونوں ہی مل کر سرگرم عمل ہیں۔ اسی لئے قرآن نے دونوں سے دوستی کرنے سے منع فرمایا ہے۔
(آیت 82) ➊ {لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً ……:} اس لیے کہ یہودیوں میں عناد و انکار، حق سے دشمنی، تکبر اور اہل علم و ایمان کی تنقیص کا جذبہ بہت پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نبیوں کو جھٹلانا بلکہ قتل کر دینا ان کا شعار رہا ہے، حتیٰ کہ انھوں نے کئی مرتبہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش کی، آپ پر جادو بھی کیا اور ہر طرح نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کی۔ اس معاملے میں مشرکین کا حال بھی یہی ہے۔ یہ واقعی ایک حقیقت ہے جس کا اس زمانے میں بھی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، آج بھی جو دشمنی یہودیوں اور مشرکوں (گائے اور بتوں کے پجاری ہندوؤں، دہریوں اور کمیونسٹوں) کو مسلمانوں سے ہے وہ بہرحال نصرانیوں کو نہیں ہے، ہاں جن نصرانیوں پر یہودیت غالب ہے وہ واقعی مسلمانوں کے سخت دشمن ہیں۔ ➋ {ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ ……:} یہود و نصاریٰ کی مسلم دشمنی میں جو فرق مذکور ہوا یہ اس کی علت ہے، جس طرح یہود کے عالم کو حبر کہا جاتا ہے، جس کی جمع احبار ہے، اسی طرح نصاریٰ کے رئیس اور عالم قسیس کہلاتے ہیں، یعنی جن لوگوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں، جو واقعی عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر چلنے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ مسلمانوں کے نسبتاً قریب ہیں، کیونکہ ان میں علم اور زہد یعنی دنیا سے بے رغبتی پائی جاتی ہے اور دین مسیحی میں نرمی اور عفوو درگزر کی تعلیم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ پھر ان میں علماء، عبادت گزار اور زاہد لوگ بھی ہوتے ہیں، جو تواضع اختیار کرتے ہیں، یہودیوں کی طرح کبر و غرور میں مبتلا نہیں ہوتے۔ نصرانیوں میں رہبانیت (دنیا سے کنارہ کشی) کی بدعت رائج تھی۔اللہ تعالیٰ نے فرمادیا، فرمایا: «وَ رَهْبَانِيَّةَ ا۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ» ‏‏‏‏ [الحديد: ۲۷ ] ”اور دنیا سے کنارہ کشی تو انھوں نے خود ہی ایجاد کر لی، ہم نے اسے ان پر نہیں لکھا تھا۔ “رہبانیت بے شک یہودیوں کی دنیا پرستی اور سخت دلی کے مقابلے میں قابل تعریف تھی، مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رہبانیت ہر لحاظ سے قابل تعریف اور اچھی چیز ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر یہود اور مشرکین کی نسبت نصرانیوں کو مسلمانوں کے زیادہ قریب قرار دیا۔ ورنہ جہاں تک خود اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کا تعلق ہے تو بغض و عناد نصرانیوں میں بھی موجود ہے، جیسا کہ صلیب و ہلال کی صدیوں پر محیط لڑائیوں سے واضح ہے اور جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے اور اب تو اسلام کے خلاف مشرکین کے ساتھ یہودی اور نصرانی دونوں اکٹھے ہو گئے ہیں، اسی لیے قرآن نے مسلمانوں کو مشرکین کے ساتھ ساتھ یہود و نصاریٰ کی دوستی سے بھی منع فرمایا ہے۔
وَ اِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَی الرَّسُوۡلِ تَرٰۤی اَعۡیُنَہُمۡ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ مِمَّا عَرَفُوۡا مِنَ الۡحَقِّ ۚ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاکۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۸۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے اُن کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو جاتی ہیں وہ بول اٹھتے ہیں کہ "پروردگار! ہم ایمان لائے، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب وه رسول کی طرف نازل کرده (کلام) کو سنتے ہیں تو آپ ان کی آنکھیں آنسو سے بہتی ہوئی دیکھتے ہیں اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا، وه کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے پس تو ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ لے جو تصدیق کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب سنتے ہیں وہ جو رسول کی طرف اترا تو ان کی آنکھیں دیکھو کہ آنسوؤں سے ابل رہی ہیں اس لیے کہ وہ حق کو پہچان گئے، کہتے ہیں اے رب ہمارے! ہم ایمان لائے تو ہمیں حق کے گواہوں میں لکھ لے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو (ہمارے) پیغمبر پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھوگے کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے چھلک رہی ہوتی ہیں اس لئے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ہے وہ کہتے ہیں پروردگار ہم ایمان لائے سو تو ہم کو (صداقتِ اسلام کی) گواہی دینے والوں میں درج فرما۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب وہ سنتے ہیں جو رسول کی طرف نازل کیا گیا ہے تو توُ دیکھتا ہے کہ ان کی آنکھیں آنسوئوں سے بہ رہی ہوتی ہیں، اس وجہ سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، سو ہمیں شہادت دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان والو کی پہچان ٭٭

اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لیے قرآن سنتے ہی دل موم ہو جاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ آیتیں نجاشی رحمة الله اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12330:مرسل] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”کچھ لوگ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بے تحاشا رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریاف فرمایا کہ { کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے؟ } انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12455:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”شاہدوں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی تبلیغ کی شہادت ہے۔‏‏‏‏“

پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ» [3-آل عمران:199] ‏‏‏‏ یعنی ’ اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں ‘۔ ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی ہے «اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ اُولٰىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» ‏‏‏‏ [28۔ القصص:52 - 55] ‏‏‏‏۔ کہ ’ یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی فرمایا کہ ’ وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے تروتازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکوکار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت83) ➊ {وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ …:} مفسرین کے بیان کے مطابق ان سے مراد نصاریٰ کے وہ لوگ ہیں جو مسلمان ہو گئے تھے، سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو میں نے کھانا تیار کیا اور اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلمان! یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”صدقہ ہے۔“ تو آپ نے اپنے اصحاب سے کہا کھاؤ اور خود نہیں کھایا۔ چنانچہ میں واپس آ گیا، پھر کچھ کھانا اکٹھا کیا اور اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: ”سلمان! یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”ہدیہ ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھایا اور کھایا اور (ساتھ ہی) اپنے ساتھیوں سے بھی فرمایا کہ کھاؤ۔ میں نے کہا: ”آپ مجھے نصاریٰ کے متعلق بتائیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ان میں کوئی خیر نہیں ہے۔“ میں بوجھل دل کے ساتھ اٹھ آیا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل کیں: «لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِتَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ» تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا اور مجھے فرمایا: ”سلمان! یہ (آنسوؤں والے) تیرے وہ ساتھی ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔“ [ المعجم الکبیر: 49/6، ح: ۶۱۲۱ ] سلیم الہلالی اور ان کے ساتھی نے اس حدیث کو ”کتاب الاستیعاب فی بیان الاسباب“ میں صحیح کہا ہے۔ ان لوگوں میں نجاشی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی بھی شامل ہیں کہ جب مکہ میں مسلمان ہونے والے صحابہ ہجرت کر کے نجاشی کے ملک حبشہ میں گئے اور انھیں کفار مکہ کے سفیروں کی شکایت پر بادشاہ کے دربار میں بلایا گیا تو جعفر رضی اللہ عنہ نے اس کے سامنے تقریر کی اور اس میں سورۂ مریم کی تلاوت کی، جس میں مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ کا ذکر ہے، تو نجاشی اور اس کے ساتھیوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور نجاشی (رضی اللہ عنہ) مسلمان ہو گئے، اگرچہ وہ مدینہ نہیں جا سکے مگر ان کی وفات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا غائبانہ جنازہ پڑھایا۔ اس کے علاوہ ایسے مسلمان ہونے والے نصاریٰ کا ذکر دوسر ے مقامات پر بھی فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۹۹) اور سورۂ قصص (۵۲ تا ۵۵) اہل کتاب میں سے مسلمان ہونے والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوہرے اجر کی بشارت دی۔ [ بخاری، العلم، باب تعلیم الرجل أمتہ وأھلہ: ۹۷ ] ➋ {فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ:} یعنی ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل فرما کر ان کی طرح شہادت دینے والوں میں شامل فرما۔ امت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی شہادت سے متعلق دیکھیں سورۂ بقرہ (۱۴۳) یا یہ کہ انبیاء اور مومنین جو توحید کی گواہی دیتے ہیں، ان کی جماعت میں شامل فرما۔
وَ مَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الۡحَقِّ ۙ وَ نَطۡمَعُ اَنۡ یُّدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۸۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہ کہتے ہیں کہ "آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اُسے کیوں نہ مان لیں جبکہ ہم اِس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہمارے پاس کون سا عذر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو حق ہم کو پہنچا ہے اس پر ایمان نہ ﻻئیں اور ہم اس بات کی امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو نیک لوگوں کی رفاقت میں داخل کردے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہمیں کیا ہوا کہ ہم ایمان نہ لائیں اللہ پر اور اس حق پر کہ ہمارے پاس آیا اور ہم طمع کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارا رب نیک لوگوں کے ساتھ داخل کرے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے ایمان نہ لائیں حالانکہ ہم خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا پروردگار ہمیں (اپنے) نیک بندوں میں شامل کرے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ (پر) اور اس چیز پر ایمان نہ لائیں جو حق میں سے ہمارے پاس آئی ہے اور یہ طمع نہ رکھیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ داخل کر لے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان والو کی پہچان ٭٭

اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لیے قرآن سنتے ہی دل موم ہو جاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ آیتیں نجاشی رحمة الله اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12330:مرسل] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”کچھ لوگ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بے تحاشا رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریاف فرمایا کہ { کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے؟ } انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12455:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”شاہدوں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی تبلیغ کی شہادت ہے۔‏‏‏‏“

پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ» [3-آل عمران:199] ‏‏‏‏ یعنی ’ اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں ‘۔ ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی ہے «اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ اُولٰىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» ‏‏‏‏ [28۔ القصص:52 - 55] ‏‏‏‏۔ کہ ’ یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی فرمایا کہ ’ وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے تروتازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکوکار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے ‘۔
84۔ 1 حبشے میں، جہاں مسلمان مکی زندگی میں دو مرتبہ ہجرت کر کے گئے۔ اصحمۃ نجاشی کی حکوت تھی، یہ عیسائی مملکت تھی، یہ آیات حبشے میں رہنے والے عیسائیوں کے بارے میں ہی نازل ہوئیں ہیں تاہم روایات کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمرو بن امیہ ضمری ؓ علیہ کو اپنا مکتوب دیکر نجاشی کے پاس بھیجا تھا، جو انہوں نے جاکر سنایا، نجاشی نے وہ مکتوب سن کر حبشے میں موجود مہاجرین اور حضرت جعفر بن ابی طالب کو اپنے پاس بلایا اور اپنے علماء اور عباد و زباد کو بھی جمع کرلیا پھر حضرت جعفر کو قرآن پڑھنے کا حکم دیا۔ حضرت جعفر نے سورة مریم پڑھی جس پر حضرت عیسیٰ ؑ کی اعجازی ولادت اور ان کی عبدیت و رسالت کا ذکر ہے جسے سن کر وہ بڑے متاثر ہوئے اور آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اور ایمان لے آئے۔ بعض کہتے ہیں کہ نجاشی نے اپنے کچھ علماء نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قرآن پڑھ کر سنایا تو بےاختیار ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ایمان لے آئے (فتح القدیر) آیات میں قرآن سن کر ان پر جو اثر ہوا اس کا نقشہ کھیینچا گیا ہے اور ان کے ایمان لانے کا تذکرہ ہے قرآن کریم میں بعض اور مقامات پر اس قسم کے عیسائیوں کا ذکر کیا گیا ہے مثلا (وان من اھل الکتاب لمن یومن باللہ وما انزل الیکم وما انزل الیھم خاشعین للہ (سورة آل عمران) یقینا اہل کتاب میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس کتاب پر جو تم پر نازل ہوئی اور اس پر جو ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کے آگے عاجزی کرتے ہیں وغیرھا من الآیات اور حدیث میں آتا ہے کہ جب نجاشی کی موت کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ حبشہ میں تمہارے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے اس کی نماز جنازہ پڑھو چناچہ ایک صحرا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ غائبانہ ادا فرائی (صحیح بخاری مناقب الانصار کتاب الجنائز۔ صحیح مسلم، کتاب الجنائز) ایک اور حدیث میں ایسے اہل کتاب کی بابت جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان لائے بتلایا گیا ہے کہ انہیں دو گنا اجر ملے گا بخاری۔ کتاب العلم و کتاب النکاح)
(آیت 84) {مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِيْنَ:} اور یہ طمع نہ رکھیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ داخل کرے گا، یعنی ہمارا حشر مسلمانوں کے ساتھ فرمائے گا۔ اس صورت میں {”وَ نَطْمَعُ “} کا عطف {”لَا نُؤْمِنُ “} پر ہو گا اور یہ بھی ہو سکتاہے کہ{ ” وَ نَطْمَعُ “} کا جملہ {” لَا نُؤْمِنُ “} کی ضمیر سے حال ہو اور مطلب یہ ہو کہ ہم کیوں ایمان نہ لائیں، حالانکہ ہم طمع رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں اپنے نیک بندوں کے ساتھ داخل کرے، یعنی ہمیں ضرور ایمان لانا چاہیے، ایمان لائے بغیر قیامت کے دن نیک بندوں کے ساتھ داخل ہونے کی توقع اور طمع سراسر جہالت اور حماقت ہے۔
فَاَثَابَہُمُ اللّٰہُ بِمَا قَالُوۡا جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۸۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُن کے اِس قول کی وجہ سے اللہ نے اُن کو ایسی جنتیں عطا کیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ جزا ہے نیک رویہ اختیار کرنے والوں کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس لئے ان کو اللہ تعالیٰ ان کے اس قول کی وجہ سے ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، یہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور نیک لوگوں کا یہی بدلہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو اللہ نے ان کے اس کہنے کے بدلے انہیں باغ دیے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہ بدلہ ہے نیکوں کا
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ نے ان کو ان کے اس قول کے صلہ میں ایسے بہشت عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ نیکوکاروں کا معاوضہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو اللہ نے اس کے بدلے میں جو انھوں نے کہا، انھیں ایسے باغات دیے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے اور یہی نیکی کرنے والوں کی جزا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان والو کی پہچان ٭٭

اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لیے قرآن سنتے ہی دل موم ہو جاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ آیتیں نجاشی رحمة الله اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12330:مرسل] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”کچھ لوگ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بے تحاشا رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریاف فرمایا کہ { کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے؟ } انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12455:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”شاہدوں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی تبلیغ کی شہادت ہے۔‏‏‏‏“

پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ» [3-آل عمران:199] ‏‏‏‏ یعنی ’ اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں ‘۔ ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی ہے «اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ اُولٰىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» ‏‏‏‏ [28۔ القصص:52 - 55] ‏‏‏‏۔ کہ ’ یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی فرمایا کہ ’ وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے تروتازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکوکار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ ﴿٪۸۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا اور انہیں جھٹلایا، تو وہ جہنم کے مستحق ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلاتے رہے وه لوگ دوزخ والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جنہوں کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ ہیں دوزخ والے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو وہی دوزخ والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا، وہی لوگ بھڑکتی آگ والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان والو کی پہچان ٭٭

اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لیے قرآن سنتے ہی دل موم ہو جاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ آیتیں نجاشی رحمة الله اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12330:مرسل] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”کچھ لوگ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بے تحاشا رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریاف فرمایا کہ { کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے؟ } انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12455:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”شاہدوں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی تبلیغ کی شہادت ہے۔‏‏‏‏“

پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ» [3-آل عمران:199] ‏‏‏‏ یعنی ’ اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں ‘۔ ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی ہے «اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ اُولٰىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» ‏‏‏‏ [28۔ القصص:52 - 55] ‏‏‏‏۔ کہ ’ یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی فرمایا کہ ’ وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے تروتازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکوکار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمۡ وَ لَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿۸۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کر لو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ کو زیادتی کرنے والے سخت ناپسند ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو پاکیزه چیزیں تمہارے واسطے حلال کی ہیں ان کو حرام مت کرو اور حد سے آگے مت نکلو، بےشک اللہ تعالیٰ حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! حرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لیے حلال کیں اور حد سے نہ بڑھو، بیشک حد سے بڑھنے والے اللہ کو ناپسند ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! (اپنے اوپر) حرام نہ کرو ان پاکیزہ چیزوں کو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں اور (حد سے) تجاوز نہ کرو بے شک اللہ (حد سے) تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! وہ پاکیزہ چیزیں حرام مت ٹھہرائو جو اللہ نے تمھارے لیے حلال کی ہیں اور حد سے نہ بڑھو، بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
راہبانیت (خانقاہ نشینی) اسلام میں ممنوع ہے ٭٭

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { چند صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا کہ ہم خصی ہو جائیں، دنیوی لذتوں کو ترک کر دیں، بستی چھوڑ کر جنگلوں میں جا کر تارک دنیا لوگوں کی طرح زندگی یاد الٰہی میں بسر کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی یہ باتیں معلوم ہوگئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یاد فرمایا اور ان سے پوچھا، انہوں نے اقرار کیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم دیکھ نہیں رہے؟ کہ میں نفلی روزے رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ رات کو نفلی نماز پڑھتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ میں نے نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو میرے طریقے پر ہو وہ تو میرا ہے اور جو میری سنتوں کو نہ لے وہ میرا نہیں } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12350] ‏‏‏‏ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ { لوگوں نے امہات المؤمنین سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کی نسبت سوال کیا پھر بعض نے کہا کہ ہم گوشت نہیں کھائیں گے بعض نے کہا ہم نکاح نہیں کریں گے بعض نے کہا ہم بستر پر سوئیں گے ہی نہیں۔ جب یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ان میں سے بعض یوں کہتے ہیں حالانکہ میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، سوتا بھی ہوں اور تہجد بھی پڑھتا ہوں، گوشت بھی کھاتا ہوں اور نکاح بھی کئے ہوئے ہوں جو میری سنت سے منہ موڑے وہ میرا نہیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5063] ‏‏‏‏ ترمذی وغیرہ میں ہے کہ { کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ گوشت کھانے سے میری قوت باہ بڑھ جاتی ہے اس لیے میں نے اپنے اوپر گوشت کو حرام کر لیا ہے اس پر یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3054، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سند سے بھی یہ روایت مرسلاً مروی ہے اور موقوفاً بھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بخاری و مسلم میں ہے { سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ماتحتی میں جہاد کرتے تھے اور ہمارے ساتھ ہماری بیویاں نہیں ہوتی تھیں تو ہم نے کہا اچھا ہوگا اگر ہم خصی ہوجائیں لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روکا اور مدت معینہ تک کیلئے کپڑے کے بدلے پر نکاح کرنے کی رخصت ہمیں عطا فرمائی پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہی آیت پڑھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4615] ‏‏‏‏ یہ یاد رہے کہ یہ نکاح کا واقعہ متعہ کی حرمت سے پہلے کا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ معقل بن مقرن نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو کہا کہ ”میں نے تو اپنا بستر اپنے اوپر حرام کر لیا ہے“، تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے کھانا لایا جاتا ہے تو ایک شخص اس مجمع سے الگ ہو جاتا ہے آپ رضی اللہ عنہ اسے بلاتے ہیں کہ ”آؤ ہمارے ساتھ کھا لو۔‏‏‏‏“ وہ کہتا ہے میں نے تو اس چیز کا کھانا اپنے اوپر حرام کر رکھا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”آؤ کھالو اپنی قسم کا کفارہ دے دینا“، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1187/4:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے گھر کوئی مہمان آئے آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے رات کو جب واپس گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ گھر والوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے انتظار میں اب تک مہمان کو بھی کھانا نہیں کھلایا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو بہت غصہ آیا اور فرمایا ”تم نے میری وجہ سے مہمان کو بھوکا رکھا، یہ کھانا مجھ پر حرام ہے۔‏‏‏‏“ بیوی صاحبہ بھی ناراض ہو کر یہی کہہ بیٹھیں۔ مہمان نے دیکھ کر اپنے اوپر بھی حرام کرلیا اب تو عبداللہ بہت گھبرائے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور سب سے کہا چلو بسم اللہ کرو۔ کھا پی لیا پھر جب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے سارا واقعہ کہہ سنایا پس یہ آیت اتری، لیکن اثر منقطع ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1187/4:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں اس جیسا ایک قصہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اپنے مہمانوں کے ساتھ کا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:602] ‏‏‏‏ اس سے امام شافعی رحمة الله وغیرہ علماء کا وہ قول ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص علاوہ عورتوں کے کسی اور کھانے پینے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو وہ اس پر حرام نہیں ہو جاتی اور نہ اس پر اس میں کوئی کفارہ ہے، دلیل یہ آیت اور دوسری وہ حدیث ہے جو اوپر گزر چکی کہ جس شخص نے اپنے اوپر گوشت حرام کر لیا تھا اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کفارے کا حکم نہیں فرمایا۔ لیکن امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے ہم خیال جماعت علماء کا خیال ہے کہ جو شخص کھانے پہننے وغیرہ کی کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے تو اس پر قسم کا کفارہ ہے۔ جیسے اس شخص پر جو کسی چیز کے ترک پر قسم کھالے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فتویٰ یہی ہے اور اس کی دلیل یہ آیت «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [66-التحریم:2-1] ‏‏‏‏ بھی ہے اور اس آیت کے بعد ہی کفارہ قسم کا ذکر بھی اسی امر کا مقتضی ہے کہ یہ حرمت قائم مقام قسم کے ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”بعض حضرات نے ترک دنیا کا، خصی ہو جانے کا اور ٹاٹ پہننے کا عزم مصمم کر لیا اس پر یہ آیتیں اتریں۔‏‏‏‏“ ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون، علی بن ابی طالب، عبداللہ بن مسعود، مقداد بن اسود، سالم مولی، ابی حذیفہ رضی اللہ عنہم وغیرہ ترک دنیا کا ارادہ کر کے گھروں میں بیٹھ رہے باہر آنا جانا ترک کر دیا عورتوں سے علیحدگی اختیار کرلی ٹاٹ پہننے لگے اچھا کھانا اور اچھا پہننا حرام کرلیا اور بنی اسرائیل کے عابدوں کی وضع کرلی بلکہ ارادہ کرلیا کہ خصی ہو جائیں تاکہ یہ طاقت ہی سلب ہو جائے اور یہ بھی نیت کرلی کہ تمام راتیں عبادت میں اور تمام دن روزے میں گزاریں گے اس پر یہ آیت اتری یعنی یہ خلاف سنت ہے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر فرمایا کہ { تمہاری جانوں کا تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے۔ نفل روزے رکھو اور کبھی کبھی چھوڑ بھی دو۔ نفل نماز رات کو پڑھو اور کچھ دیر سو بھی جاؤ جو ہماری سنت کو چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں }۔ اس پر ان بزرگوں نے فرمایا یا اللہ ہم نے سنا اور جو فرمان ہوا اس پر ہماری گردنیں خم ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12352:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ یہ واقعہ بہت سے تابعین سے مرسل سندوں سے مروی ہے۔ اس کی شاہد وہ مرفوع حدیث بھی ہے جو اوپر بیان ہو چکی۔ «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ» ۔

ابن جریر میں ہے کہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے وعظ کیا اور اس میں خوف اور ڈر کا ہی بیان تھا اسے سن کر دس صحابیوں نے جن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن مظعون وغیرہ تھے آپس میں کہا کہ ہمیں تو کوئی بڑے بڑے طریقے عبادت کے اختیار کرنا چاہئیں نصرانیوں کو دیکھو کہ انہوں نے اپنے نفس پر بہت سی چیزیں حرام کر رکھی ہیں اس پر کسی نے گوشت اور چربی وغیرہ کھانا اپنے اوپر حرام کیا، کسی نے دن کو کھانا بھی حرام کرلیا، کسی نے رات کی نیند اپنے اوپر حرام کرلی، کسی نے عورتوں سے مباشرت حرام کرلی۔ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے میل جول اسی بنا پر ترک کر دیا۔ میاں بیوی اپنے صحیح تعلقات سے الگ رہنے لگے۔ ایک دن یہ بیوی صاحبہ خولہ رضی اللہ عنہا، ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بھی تھیں انہیں پراگندہ حالت میں دیکھ کر سب نے پوچھا کہ تم نے اپنا یہ حلیہ کیا بنا رکھا ہے؟ نہ کنگھی نہ چوٹی کی خبر ہے نہ لباس ٹھیک ٹھاک ہے نہ صفائی اور خوبصورتی کا خیال ہے؟ کیا بات ہے؟ خولہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا مجھے اب اس بناؤ سنگار کی ضرورت ہی کیا رہی؟ اتنی مدت ہوئی جو میرے میاں مجھ سے ملے ہی نہیں نہ کبھی انہوں نے میرا کپڑا ہٹایا، یہ سن کر اور بیویاں ہنسنے لگیں اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دریاف فرمایا کہ { یہ ہنسی کیسی ہے؟ } سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سارا واقعہ بیان فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت آدمی بھیج کر عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور فرمایا { یہ کیا قصہ ہے؟ } عثمان رضی اللہ عنہ نے کل واقعہ بیان کرکے کہا کہ میں نے اسے اس لیے چھوڑ رکھا ہے کہ اللہ کی عبادت دلچسپی اور فارغ البالی سے کر سکوں بلکہ میرا ارادہ ہے کہ میں خصی ہو جاؤں تاکہ عورتوں کے قابل ہی نہ رہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں تجھے قسم دیتا ہوں جا اپنی بیوی سے میل کرلے اور اس سے بات چیت کر }۔ جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تو میں روزے سے ہوں۔ فرمایا: { جاؤ روزہ توڑ ڈالو }، چنانچہ انہوں نے حکم برداری کی، روزہ توڑ دیا اور بیوی سے بھی ملے۔ اب پھر جو سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا آئیں تو وہ اچھی ہئیت میں تھیں۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ہنس کر پوچھا ”کہو اب کیا حال ہے؟“ جواب دیا کہ ”اب عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنا عہد توڑ دیا ہے اور کل وہ مجھ سے ملے بھی۔‏‏‏‏“ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں فرمایا: { لوگو یہ تمہارا کیا حال ہے کہ کوئی بیویاں حرام کر رہا ہے، کوئی کھانا، کوئی سونا۔ تم نہیں دیکھتے کہ میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں، افطار بھی کرتا ہوں اور روزے سے بھی رہتا ہوں۔ عورتوں سے ملتا بھی ہوں نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو مجھ سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں ہے } }، اس پر یہ آیت اتری۔

”حد سے نہ گزرو“ سے مطلب یہ ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کو خصی نہیں ہونا چاہیئے۔ یہ حد سے گزر جانا ہے اور ان بزرگوں کو اپنی قسموں کا کفارہ ادا کرنے کا حکم ہوا اور فرمایا آیت «لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ» ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12349] ‏‏‏‏ پس «لَا تَعْتَدُوا» سے مراد یا تو یہ ہے کہ ’ اللہ نے جن چیزوں کو تمہارے لیے مباح کیا ہے تم انہیں اپنے اوپر حرام کرکے تنگی نہ کرو ‘ اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ’ حلال بقدر کفایت لے لو اور اس حد سے آگے نہ نکل جاؤ ‘۔ جیسے فرمایا «وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا» ۱؎ [7-الأعراف:31] ‏‏‏‏ ’ کھاؤ پیو لیکن حد سے نہ بڑھو ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:67] ‏‏‏‏ ’ ایمانداروں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ خرچ کرنے میں اسراف اور بخیلی کے درمیان درمیان رہتے ہیں ‘۔ پس افراط و تفریط اللہ کے نزدیک بری بات ہے اور درمیانی روش رب کو پسند ہے۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا ’ حد سے گزر جانے والوں کو اللہ ناپسند فرماتا ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ اللہ تعالیٰ جو حلال و طیب چیزیں تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ پیو اور اپنے تمام امور میں اللہ سے ڈرتے رہو اس کی اطاعت اور طلب رضا مندی میں رہا کرو۔ اس کی نافرمانی اور اس کی حرام کردہ چیزوں سے الگ رہو۔ اسی اللہ پر تم یقین رکھتے ہو، اسی پر تمہارا ایمان ہے پس ہر امر میں اس کا لحاظ رکھو ‘۔
87۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نبی کی خدمت میں حاضر ہوا اور آکر کہا کہ یارسول اللہ! جب میں گوشت کھاتا ہوں تو نفسانی شہوت کا غلبہ ہوجاتا ہے، اس لئے میں نے اپنے اوپر گوشت حرام کرلیا ہے، جس پر آیت نازل ہوئی، اس طرح سبب نزول کے علاوہ دیگر روایات سے ثابت ہے کہ بعض صحابہ زہد و عبادت کی غرض سے بعض حلال چیزوں سے (مثلًا عورت سے نکاح کرنے، رات کے وقت سونے، دن کے وقت کھانے پینے سے) اجتناب کرنا چاہتے تھے۔ نبی کے علم میں یہ بات آئی تو آپ نے انہیں منع فرمایا۔ حضرت عثمان بن مظعون نے بھی اپنی بیوی سے کنارہ کشی اختیار کی ہوئی تھی، ان کی بیوی کی شکایت پر آپ نے انہیں بھی روکا (کتب حدیث) بہرحال اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ کسی بھی چیز کو حرام کرلینا یا اس سے ویسے ہی پرہیز کرنا جائز نہیں ہے چاہے اس کا تعلق کھانے پینے یا مشروبات سے ہو یا لباس سے ہو یا مرغوبات و جائز خواہشات سے۔ مسئلہ:۔ اس طرح اگر کوئی شخص کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے گا تو وہ حرام نہیں ہوگی سوائے عورت کے البتہ اس صورت میں بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اسے قسم کا کفارہ ادا کرنا ہوگا اور بعض کے نزدیک کفارہ ضروری نہیں امام شوکانی کہتے ہیں کہ احادیث صحیحہ سے اسی بات کی تائید ہوتی ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھی کفارہ یمین ادا کرنے کا حکم نہیں دیا امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس آیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے قسم کا کفارہ بیان فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی حلال چیز کو حرام کرلینا یہ قسم کھانے کے مرتبے میں ہے جو تکفیر یعنی کفارہ ادا کرنے کا متقاضی ہے لیکن یہ استدلال احادیث صحیحہ کی موجودگی میں محل نظر ہے۔ فالصحیح ما قالہ الشوکانی
(آیت 87) {لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ …: } عہد توڑنے کے سلسلہ میں یہود و نصاریٰ سے مباحثہ کے بعد اب اصل موضوع کی طرف پھر توجہ کی ہے، یعنی {”اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ “} کی تشریح جو اس سورت کا بنیادی موضوع ہے۔ (قرطبی، رازی) نصاریٰ کے راہبوں کی تعریف کے بعد پاکیزہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے سے منع کرنا اس لیے بھی زیادہ مناسب تھا کہ انھوں نے ان باتوں کو نیکی میں داخل کر رکھا تھا، لہٰذا مومنین کو اس سے منع فرما دیا۔ اللہ تعالیٰ نے رہبانیت سے متعلق فرمایا: «وَ رَهْبَانِيَّةَ اِبْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ» ‏‏‏‏ [ الحدید: ۲۷ ] ” اور دنیا سے کنارہ کشی تو انھوں نے خود ہی ایجاد کر لی، ہم نے اسے ان پر نہیں لکھا تھا۔“ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو چیز شرع میں صاف حلال ہو اس سے پرہیز کرنا برا ہے، یہ دو طرح سے ہوتا ہے، ایک زہد سے، یہ رہبانیت ہے جو ہمارے دین میں پسندیدہ نہیں ہے، اس کے بجائے تقویٰ اختیار کیا جائے، یعنی ممنوع چیز کے قریب نہ جائے۔ دوم یہ کہ کسی مباح (جائز) کام کے نہ کرنے کی قسم کھا لے، یہ بھی بہتر نہیں، اسے چاہیے کہ قسم توڑے اور کفارہ ادا کرے۔“(موضح) انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تین آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے گھروں میں آئے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے متعلق دریافت کر رہے تھے، جب انھیں اس کے متعلق بتایا گیا تو جیسے انھوں نے اسے کم سمجھا اور کہنے لگے، ہماری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا نسبت؟ آپ کے تو پہلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے ہیں۔ان میں سے ایک نے کہا، میں تو ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں گا۔دوسرے نے کہا، میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، کبھی افطار نہیں کروں گا۔ تیسرے نے کہا، میں عورتوں سے علیحدہ رہوں گا، کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو فرمایا: ” تمھی لوگوں نے اس اس طرح کہا ہے؟ اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور اس سے بچنے والا ہوں، لیکن روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا اور نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح کرتا ہوں، تو جو میری سنت سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں۔“ [ مسلم، النکاح، باب استحباب النکاح لمن تاقت نفسہ…: ۱۴۰۱۔ بخاری: ۵۰۶۳ ] اس سلسلے میں اور بھی کئی روایات ہیں جن میں سے بعض میں یہ تصریح ہے کہ یہ آیت ایسے ہی کسی موقع پر نازل ہوئی۔ چنانچہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ کرتے تھے، ہمارے ساتھ بیویاں نہیں تھیں تو ہم نے عرض کیا، ہم خصی نہ ہو جائیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا، پھر ہمیں رخصت دے دی کہ ہم کپڑے کے ساتھ عورت سے نکاح کرلیں، پھر یہ آیت پڑھی: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ» [ بخاری، التفسیر، باب قولہ تعالٰی: {یأیہا الذین آمنوا …}: ۴۶۱۵ ] واضح رہے کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ ہمیشہ کے لیے حرام فرما دیا، چنانچہ سبرہ (بن معبد) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! میں نے تمھیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی تھی اور بے شک اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک حرام فرما دیا ہے تو جس شخص کے پاس ایسی عورتوں میں سے کوئی موجود ہو وہ اسے چھوڑ دے اور تم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے کوئی چیز واپس نہ لو۔“ [ مسلم، النکاح، باب نکاح المتعۃ وبیان أنہ …: 1406/21 ]
وَ کُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا ۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡۤ اَنۡتُمۡ بِہٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۸۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو کچھ حلال و طیب رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اُسے کھا ؤ پیو اور اُس خدا کی نافرمانی سے بچتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال مرغوب چیزیں کھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور کھاؤ جو کچھ تمہیں اللہ نے روزی دی حلال پاکیزہ او ر ڈرو اللہ سے جس پر تمہیں ایمان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ نے تمہیں جو حلال اور پاکیزہ چیزیں عطا کی ہیں ان میں سے کھاؤ۔ اور اسی اللہ سے ڈرو (اس کی نافرمانی سے بچو) جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ نے تمھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے حلال، طیب کھائو اور اس اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھنے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
راہبانیت (خانقاہ نشینی) اسلام میں ممنوع ہے ٭٭

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { چند صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا کہ ہم خصی ہو جائیں، دنیوی لذتوں کو ترک کر دیں، بستی چھوڑ کر جنگلوں میں جا کر تارک دنیا لوگوں کی طرح زندگی یاد الٰہی میں بسر کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی یہ باتیں معلوم ہوگئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یاد فرمایا اور ان سے پوچھا، انہوں نے اقرار کیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم دیکھ نہیں رہے؟ کہ میں نفلی روزے رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ رات کو نفلی نماز پڑھتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ میں نے نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو میرے طریقے پر ہو وہ تو میرا ہے اور جو میری سنتوں کو نہ لے وہ میرا نہیں } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12350] ‏‏‏‏ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ { لوگوں نے امہات المؤمنین سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کی نسبت سوال کیا پھر بعض نے کہا کہ ہم گوشت نہیں کھائیں گے بعض نے کہا ہم نکاح نہیں کریں گے بعض نے کہا ہم بستر پر سوئیں گے ہی نہیں۔ جب یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ان میں سے بعض یوں کہتے ہیں حالانکہ میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، سوتا بھی ہوں اور تہجد بھی پڑھتا ہوں، گوشت بھی کھاتا ہوں اور نکاح بھی کئے ہوئے ہوں جو میری سنت سے منہ موڑے وہ میرا نہیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5063] ‏‏‏‏ ترمذی وغیرہ میں ہے کہ { کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ گوشت کھانے سے میری قوت باہ بڑھ جاتی ہے اس لیے میں نے اپنے اوپر گوشت کو حرام کر لیا ہے اس پر یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3054، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سند سے بھی یہ روایت مرسلاً مروی ہے اور موقوفاً بھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بخاری و مسلم میں ہے { سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ماتحتی میں جہاد کرتے تھے اور ہمارے ساتھ ہماری بیویاں نہیں ہوتی تھیں تو ہم نے کہا اچھا ہوگا اگر ہم خصی ہوجائیں لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روکا اور مدت معینہ تک کیلئے کپڑے کے بدلے پر نکاح کرنے کی رخصت ہمیں عطا فرمائی پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہی آیت پڑھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4615] ‏‏‏‏ یہ یاد رہے کہ یہ نکاح کا واقعہ متعہ کی حرمت سے پہلے کا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ معقل بن مقرن نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو کہا کہ ”میں نے تو اپنا بستر اپنے اوپر حرام کر لیا ہے“، تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے کھانا لایا جاتا ہے تو ایک شخص اس مجمع سے الگ ہو جاتا ہے آپ رضی اللہ عنہ اسے بلاتے ہیں کہ ”آؤ ہمارے ساتھ کھا لو۔‏‏‏‏“ وہ کہتا ہے میں نے تو اس چیز کا کھانا اپنے اوپر حرام کر رکھا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”آؤ کھالو اپنی قسم کا کفارہ دے دینا“، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1187/4:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے گھر کوئی مہمان آئے آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے رات کو جب واپس گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ گھر والوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے انتظار میں اب تک مہمان کو بھی کھانا نہیں کھلایا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو بہت غصہ آیا اور فرمایا ”تم نے میری وجہ سے مہمان کو بھوکا رکھا، یہ کھانا مجھ پر حرام ہے۔‏‏‏‏“ بیوی صاحبہ بھی ناراض ہو کر یہی کہہ بیٹھیں۔ مہمان نے دیکھ کر اپنے اوپر بھی حرام کرلیا اب تو عبداللہ بہت گھبرائے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور سب سے کہا چلو بسم اللہ کرو۔ کھا پی لیا پھر جب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے سارا واقعہ کہہ سنایا پس یہ آیت اتری، لیکن اثر منقطع ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1187/4:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں اس جیسا ایک قصہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اپنے مہمانوں کے ساتھ کا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:602] ‏‏‏‏ اس سے امام شافعی رحمة الله وغیرہ علماء کا وہ قول ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص علاوہ عورتوں کے کسی اور کھانے پینے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو وہ اس پر حرام نہیں ہو جاتی اور نہ اس پر اس میں کوئی کفارہ ہے، دلیل یہ آیت اور دوسری وہ حدیث ہے جو اوپر گزر چکی کہ جس شخص نے اپنے اوپر گوشت حرام کر لیا تھا اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کفارے کا حکم نہیں فرمایا۔ لیکن امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے ہم خیال جماعت علماء کا خیال ہے کہ جو شخص کھانے پہننے وغیرہ کی کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے تو اس پر قسم کا کفارہ ہے۔ جیسے اس شخص پر جو کسی چیز کے ترک پر قسم کھالے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فتویٰ یہی ہے اور اس کی دلیل یہ آیت «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [66-التحریم:2-1] ‏‏‏‏ بھی ہے اور اس آیت کے بعد ہی کفارہ قسم کا ذکر بھی اسی امر کا مقتضی ہے کہ یہ حرمت قائم مقام قسم کے ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”بعض حضرات نے ترک دنیا کا، خصی ہو جانے کا اور ٹاٹ پہننے کا عزم مصمم کر لیا اس پر یہ آیتیں اتریں۔‏‏‏‏“ ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون، علی بن ابی طالب، عبداللہ بن مسعود، مقداد بن اسود، سالم مولی، ابی حذیفہ رضی اللہ عنہم وغیرہ ترک دنیا کا ارادہ کر کے گھروں میں بیٹھ رہے باہر آنا جانا ترک کر دیا عورتوں سے علیحدگی اختیار کرلی ٹاٹ پہننے لگے اچھا کھانا اور اچھا پہننا حرام کرلیا اور بنی اسرائیل کے عابدوں کی وضع کرلی بلکہ ارادہ کرلیا کہ خصی ہو جائیں تاکہ یہ طاقت ہی سلب ہو جائے اور یہ بھی نیت کرلی کہ تمام راتیں عبادت میں اور تمام دن روزے میں گزاریں گے اس پر یہ آیت اتری یعنی یہ خلاف سنت ہے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر فرمایا کہ { تمہاری جانوں کا تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے۔ نفل روزے رکھو اور کبھی کبھی چھوڑ بھی دو۔ نفل نماز رات کو پڑھو اور کچھ دیر سو بھی جاؤ جو ہماری سنت کو چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں }۔ اس پر ان بزرگوں نے فرمایا یا اللہ ہم نے سنا اور جو فرمان ہوا اس پر ہماری گردنیں خم ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12352:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ یہ واقعہ بہت سے تابعین سے مرسل سندوں سے مروی ہے۔ اس کی شاہد وہ مرفوع حدیث بھی ہے جو اوپر بیان ہو چکی۔ «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ» ۔

ابن جریر میں ہے کہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے وعظ کیا اور اس میں خوف اور ڈر کا ہی بیان تھا اسے سن کر دس صحابیوں نے جن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن مظعون وغیرہ تھے آپس میں کہا کہ ہمیں تو کوئی بڑے بڑے طریقے عبادت کے اختیار کرنا چاہئیں نصرانیوں کو دیکھو کہ انہوں نے اپنے نفس پر بہت سی چیزیں حرام کر رکھی ہیں اس پر کسی نے گوشت اور چربی وغیرہ کھانا اپنے اوپر حرام کیا، کسی نے دن کو کھانا بھی حرام کرلیا، کسی نے رات کی نیند اپنے اوپر حرام کرلی، کسی نے عورتوں سے مباشرت حرام کرلی۔ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے میل جول اسی بنا پر ترک کر دیا۔ میاں بیوی اپنے صحیح تعلقات سے الگ رہنے لگے۔ ایک دن یہ بیوی صاحبہ خولہ رضی اللہ عنہا، ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بھی تھیں انہیں پراگندہ حالت میں دیکھ کر سب نے پوچھا کہ تم نے اپنا یہ حلیہ کیا بنا رکھا ہے؟ نہ کنگھی نہ چوٹی کی خبر ہے نہ لباس ٹھیک ٹھاک ہے نہ صفائی اور خوبصورتی کا خیال ہے؟ کیا بات ہے؟ خولہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا مجھے اب اس بناؤ سنگار کی ضرورت ہی کیا رہی؟ اتنی مدت ہوئی جو میرے میاں مجھ سے ملے ہی نہیں نہ کبھی انہوں نے میرا کپڑا ہٹایا، یہ سن کر اور بیویاں ہنسنے لگیں اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دریاف فرمایا کہ { یہ ہنسی کیسی ہے؟ } سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سارا واقعہ بیان فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت آدمی بھیج کر عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور فرمایا { یہ کیا قصہ ہے؟ } عثمان رضی اللہ عنہ نے کل واقعہ بیان کرکے کہا کہ میں نے اسے اس لیے چھوڑ رکھا ہے کہ اللہ کی عبادت دلچسپی اور فارغ البالی سے کر سکوں بلکہ میرا ارادہ ہے کہ میں خصی ہو جاؤں تاکہ عورتوں کے قابل ہی نہ رہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں تجھے قسم دیتا ہوں جا اپنی بیوی سے میل کرلے اور اس سے بات چیت کر }۔ جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تو میں روزے سے ہوں۔ فرمایا: { جاؤ روزہ توڑ ڈالو }، چنانچہ انہوں نے حکم برداری کی، روزہ توڑ دیا اور بیوی سے بھی ملے۔ اب پھر جو سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا آئیں تو وہ اچھی ہئیت میں تھیں۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ہنس کر پوچھا ”کہو اب کیا حال ہے؟“ جواب دیا کہ ”اب عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنا عہد توڑ دیا ہے اور کل وہ مجھ سے ملے بھی۔‏‏‏‏“ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں فرمایا: { لوگو یہ تمہارا کیا حال ہے کہ کوئی بیویاں حرام کر رہا ہے، کوئی کھانا، کوئی سونا۔ تم نہیں دیکھتے کہ میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں، افطار بھی کرتا ہوں اور روزے سے بھی رہتا ہوں۔ عورتوں سے ملتا بھی ہوں نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو مجھ سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں ہے } }، اس پر یہ آیت اتری۔

”حد سے نہ گزرو“ سے مطلب یہ ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کو خصی نہیں ہونا چاہیئے۔ یہ حد سے گزر جانا ہے اور ان بزرگوں کو اپنی قسموں کا کفارہ ادا کرنے کا حکم ہوا اور فرمایا آیت «لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ» ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12349] ‏‏‏‏ پس «لَا تَعْتَدُوا» سے مراد یا تو یہ ہے کہ ’ اللہ نے جن چیزوں کو تمہارے لیے مباح کیا ہے تم انہیں اپنے اوپر حرام کرکے تنگی نہ کرو ‘ اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ’ حلال بقدر کفایت لے لو اور اس حد سے آگے نہ نکل جاؤ ‘۔ جیسے فرمایا «وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا» ۱؎ [7-الأعراف:31] ‏‏‏‏ ’ کھاؤ پیو لیکن حد سے نہ بڑھو ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:67] ‏‏‏‏ ’ ایمانداروں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ خرچ کرنے میں اسراف اور بخیلی کے درمیان درمیان رہتے ہیں ‘۔ پس افراط و تفریط اللہ کے نزدیک بری بات ہے اور درمیانی روش رب کو پسند ہے۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا ’ حد سے گزر جانے والوں کو اللہ ناپسند فرماتا ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ اللہ تعالیٰ جو حلال و طیب چیزیں تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ پیو اور اپنے تمام امور میں اللہ سے ڈرتے رہو اس کی اطاعت اور طلب رضا مندی میں رہا کرو۔ اس کی نافرمانی اور اس کی حرام کردہ چیزوں سے الگ رہو۔ اسی اللہ پر تم یقین رکھتے ہو، اسی پر تمہارا ایمان ہے پس ہر امر میں اس کا لحاظ رکھو ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 88) یعنی حلال کو حرام تو نہ ٹھہراؤ، ہاں ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تقویٰ اختیار کرو اور جو چیزیں حرام ہیں ان کے قریب نہ جاؤ۔
لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغۡوِ فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمۡ وَ لٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَیۡمَانَ ۚ فَکَفَّارَتُہٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَہۡلِیۡکُمۡ اَوۡ کِسۡوَتُہُمۡ اَوۡ تَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ ؕ فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ ؕ ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیۡمَانِکُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ ؕ وَ احۡفَظُوۡۤا اَیۡمَانَکُمۡ ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۸۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم لوگ جو مہمل قسمیں کھا لیتے ہو اُن پر اللہ گرفت نہیں کرتا، مگر جو قسمیں تم جان بوجھ کر کھاتے ہو اُن پر ضرور تم سے مواخذہ کرے گا (ایسی قسم توڑنے کا) کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو وہ اوسط درجے کا کھانا کھلاؤ جو تم اپنے بال بچوں کو کھلاتے ہو، یا انہیں کپڑے پہناؤ، یا ایک غلام آزاد کرو، اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جبکہ تم قسم کھا کر توڑ دو اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو اس طرح اللہ اپنے احکام تمہارے لیے واضح کرتا ہے شاید کہ تم شکر ادا کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو۔ اس کا کفاره دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے اور جس کو مقدور نہ ہو تو تین دن کے روزے ہیں یہ تمہاری قسموں کا کفاره ہے جب کہ تم قسم کھا لو اور اپنی قسموں کا خیال رکھو! اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے واسطے اپنے احکام بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو
احمد رضا خان بریلوی
اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتے ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے یا انہیں کپڑے دینا یا ایک بردہ آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا، جب قسم کھاؤ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو اسی طرح اللہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم احسان مانو،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ تم سے تمہاری لایعنی قَسموں پر مواخذہ (بازپرس) نہیں کرے گا۔ مگر جو قسمیں تم نے قصداً کھائی ہیں (اور اس طرح مضبوط کی ہیں) تو ان پر ضرور تم سے مواخذہ کرے گا۔ اور (ایسی قسم توڑنے کا) کفارہ یہ ہے: (۱)دس مسکینوں کو کھانا کھلانا اوسط درجے کا جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔ (۲) یا انہیں کپڑے پہناؤ۔ (۳) یا پھر ایک غلام آزاد کرو۔ اور جس کو اس کا مقدور نہ ہو تو وہ تین روزہ رکھے۔ یہ تمہاری قَسموں کا کفارہ ہے جب تم قَسم کھاؤ اور اپنی قَسموں کی حفاظت کرو (خیال رکھو) اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنے آیات و احکام کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم شکر گزار بنو۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ تم سے تمھاری قسموں میں لغو پر مؤاخذہ نہیں کرتا اور لیکن تم سے اس پر مؤاخذہ کرتا ہے جو تم نے پختہ ارادے سے قسمیں کھائیں۔ تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے، درمیانے درجے کا، جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا انھیں کپڑے پہنانا، یا ایک گردن آزاد کرنا، پھر جو نہ پائے تو تین دن کے روزے رکھنا ہے۔ یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے، جب تم قسم کھا لو اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اسی طرح اللہ تمھارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم شکر کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غیر ارادی قسمیں اور کفارہ ٭٭

لغو قسمیں کیا ہوتی ہیں؟ ان کے کیا احکام ہیں؟ یہ سب سورۃ البقرہ کی تفسیر ۱؎ [2-البقرة:225] ‏‏‏‏ میں بالتفصیل بیان کر چکے ہیں اس لیے یہاں ان کے دوہرانے کی ضرورت نہیں «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ» ۔ مقصد یہ ہے کہ روانی کلام میں انسان کے منہ سے بغیر قصد کے جو قسمیں عادتاً نکل جائیں وہ لغو قسمیں ہیں۔

امام شافعی کارحمہ اللہ یہی مذہب ہے، مذاق میں قسم کھا بیٹھنا، اللہ کی نافرمانی کے کرنے پر قسم کھا بیٹھنا، زیادتی گمان کی بنا پر قسم کھا بیٹھنا بھی اس کی تفسیر میں کہا گیا ہے۔ غصے اور عضب میں، نسیان اور بھول چوک سے کھانے پینے پہننے اوڑھنے کی چیزوں میں قسم کھا بیٹھنا مراد ہے، اس قول کی دلیل میں آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:87] ‏‏‏‏ کو پیش کیا جاتا ہے۔ بالکل صحیح بات یہ ہے کہ لغو قسموں سے مراد بغیر قصد کی قسمیں ہیں اور اس کی دلیل «وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [5-المائدہ:89] ‏‏‏‏ ہے یعنی ’ جو قسمیں بالقصد اور بالعزم ہوں ان پر گرفٹ ہے اور ان پر کفارہ ہے ‘۔ کفارہ دس مسکینوں کا کھانا جو محتاج فقیر ہوں جن کے پاس بقدر کفایت کے نہ ہو اوسط درجے کا کھانا جو عموماً گھر میں کھایا جاتا ہو وہی انہیں کھلا دینا۔ مثلاً دودھ روٹی، گھی روٹی، زیتون کا تیل روٹی۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ بعض لوگوں کی خوراک بہت اعلی ہوتی ہے بعض لوگ بہت ہی ہلکی غذا کھاتے ہیں تو نہ وہ ہو نہ یہ ہو، تکلف بھی نہ ہو اور بخل بھی نہ ہو، سختی اور فراخی کے درمیان ہو، مثلاً گوشت روٹی ہے، سرکہ اور روٹی ہے، روٹی اور کھجوریں ہیں۔ جیسی جس کی درمیانی حثییت، اسی طرح قلت اور کثرت کے درمیان ہو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ صبح شام کا کھانا، حسن رحمة الله اور محمد بن حنفیہ رحمة الله کا قول ہے کہ دس مسکینوں کو ایک ساتھ بٹھا کر روٹی گوشت کھلا دینا کافی ہے یا اپنی حیثیت کے مطابق روٹی کسی اور چیز سے کھلا دینا۔ بعض نے کہا ہے ہر مسکین کو آدھا صاع گہیوں کھجوریں وغیرہ دے دینا، امام ابوحنیفہ رحمة الله کا قول ہے کہ گہیوں تو آدھا صاع کافی ہے اور اس کے علاوہ ہر چیز کا پورا صاع دیدے۔

ابن مردویہ کی روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجوروں کا کفارے میں ایک ایک شخص کو دیا ہے اور لوگوں کو بھی یہی حکم فرمایا ہے۔ لیکن جس کی اتنی حثییت نہ ہو وہ آدھا صاع گہیوں کا دیدے }۔ یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2112،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن اس کا ایک راوی بالکل ضعیف ہے جس کے ضعف پر محدثین کا اتفاق ہے۔ در قطنی نے اسے متروک کہا ہے اس کا نام عمر بن عبداللہ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”ہر مسکین کو ایک مد گہیوں مع سالن کے دیدے“، امام شافعی رحمة الله بھی یہی فرماتے ہیں لیکن سالن کا ذکر نہیں ہے اور دلیل ان کی وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ { رمضان شریف کے دن میں اپنی بیوی سے جماع کرنے والے کو ایک کمتل (‏‏‏‏خاص پیمانہ) میں سے ساٹھ مسکینوں کو کھلانے کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1936] ‏‏‏‏ اس میں پندرہ صاع آتے ہیں تو ہر مسکین کے لیے ایک مد ہوا۔

ابن مردویہ کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کے کفارے میں گہیوں کا ایک مد مقرر کیا ہے } لیکن اس کی اسناد بھی ضعیف ہیں کیونکہ نضیر بن زرارہ کوفی کے بارے میں امام ابوحاتم رازی رحمة الله کا قول ہے کہ وہ مجہول ہے گو اس سے بہت سے لوگوں نے روایت کی ہے اور امام ابن حبان رحمة الله نے اسے ثقہ کہا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، پھر ان کے استاد عمری بھی ضعیف ہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ گہیوں کا ایک مد اور باقی اناج کے دو مد دے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (‏‏‏‏یہ یاد رہے کہ صاع انگریزی اسی روپے بھر کے سیر کے حساب سے تقریباً پونے تین سیر کا ہوتا ہے اور ایک صاع کے چار مد ہوتے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، مترجم) یا ان دس کو کپڑا پہنانا، امام شافعی رحمة الله کا قول ہے کہ ہر ایک کو خواہ کچھ ہی کپڑا دیدے جس پر کپڑے کا اطلاق ہوتا ہو کافی ہے، مثلاً کرتہ ہے، پاجامہ ہے، تہمد ہے، پگڑی ہے یا سر پر لپیٹنے کا رومال ہے۔ پھر امام صاحب کے شاگردوں میں سے بعض تو کہتے ہیں ٹوپی بھی کافی ہے۔

بعض کہتے ہیں یہ ناکافی ہے، کافی کہنے والے یہ دلیل دیتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے جب اس کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اگر کوئی وفد کسی امیر کے پاس آئے اور وہ انہیں ٹوپیاں دے تو عرب تو یہی کہیں گے کہ «قَدْ کُسُوْا» انہیں کپڑے پہنائے گئے۔‏‏‏‏“ لیکن اس کی اسناد بھی ضعیف ہیں کیونکہ محمد بن زبیر ضعیف ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1193/4:موقوف و ضعیف] ‏‏‏‏ موزے پہنانے کے بارے میں بھی اختلاف ہے، صحیح یہ ہے کہ جائز نہیں۔ امام مالک اور امام احمد رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ ”کم سے کم اتنا اور ایسا کپڑا ہو کہ اس میں نماز جائز ہو جائے مرد کو دیا ہے تو اس کی اور عورت کو دیا ہے تو اس کی۔‏‏‏‏“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”عبا ہو یا شملہ ہو۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمة الله فرماتے ہیں ”ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ایک کپڑا ہو اور اس سے زیادہ جو ہو۔‏‏‏‏“ غرض کفارہ قسم میں ہر چیز سوائے جانگئے کے جائز ہے۔ بہت سے مفسرین فرماتے ہیں ایک ایک کپڑا ایک ایک مسکین کو دیدے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے ”ایسا کپڑا جو پورا کار آمد ہو مثلاً لحاف چادر وغیرہ نہ کہ کرتہ دوپٹہ وغیرہ۔‏‏‏‏“ ابن سیرین اور حسن رحمة الله علیہم دو دو کپڑے کہتے ہیں، سعید بن مسیب کہتے ہیں ”عمامہ جسے سر پر باندھے اور عبا جسے بدن پر پہنے۔‏‏‏‏“ ابوموسیٰ قسم کھاتے ہیں پھر اسے توڑتے ہیں تو دو کپڑے بحرین کے دے دیتے ہیں۔ ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ہر مسکین کیلئے ایک عبا }۔ ۱؎ [میزان:8741:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث غریب ہے، یا ایک غلام کا آزاد کرنا، امام ابوحنیفہ رحمة الله تو فرماتے ہیں کہ یہ مطلق ہے کافر ہو یا مسلمان۔

امام شافعی رحمہ اللہ اور دوسرے بزرگان دین فرماتے ہیں ”اس کا مومن ہونا ضروری ہے کیونکہ قتل کے کفارے میں غلام کی آزادی کا حکم ہے اور وہ مقید ہے کہ وہ مسلمان ہونا چاہے“، دونوں کفاروں کا سبب چاہے جداگانہ ہے لیکن وجہ ایک ہی ہے اور اس کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جو مسلم وغیرہ میں ہے کہ { معاویہ بن حکم اسلمی رضی اللہ عنہ کے ذمے ایک گردن آزاد کرنا تھی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے ساتھ ایک لونڈی لیے ہوئے آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سیاہ فام لونڈی سے دریافت فرمایا کہ { اللہ کہاں ہے؟ } اس نے کہا آسمان میں پوچھا { ہم کون ہیں؟ } جواب دیا کہ آپ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے آزاد کرو یہ ایماندار عورت ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:537] ‏‏‏‏ پس ان تینوں کاموں میں سے جو بھی کر لے وہ قسم کا کفارہ ہو جائے گا اور کافی ہو گا اس پر سب کا اجماع ہے۔ قرآن کریم نے ان چیزوں کا بیان سب سے زیادہ آسان چیز سے شروع کیا ہے اور بتدریج اوپر کو پہنچایا ہے۔ پس سب سے سہل کھانا کھلانا ہے۔ پھر اس سے قدرے بھاری کپڑا پہنانا ہے اور اس سے بھی زیادہ بھاری غلام کو آزاد کرنا ہے۔ پس اس میں ادنٰی سے اعلٰی بہتر ہے۔ اب اگر کسی شخص کو ان تینون میں سے ایک کی بھی قدرت نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھ لے۔ سعید بن جبیر اور حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ ”جس کے پاس تین درہم ہوں وہ تو کھانا کھلا دے ورنہ روزے رکھ لے“، اور بعض متاخرین سے منقول ہے کہ ”یہ اس کے لیے ہے جس کے پاس ضروریات سے فاضل چیز نہ ہو معاش وغیرہ پونجی کے بعد جو فالتو ہو اس سے کفارہ ادا کرے۔‏‏‏‏“

امام ابن جریررحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس کے پاس اس دن کے اپنے اور اپنے بال بچوں کے کھانے سے کچھ بچے اس میں سے کفارہ ادا کرے۔‏‏‏‏“ قسم کے توڑنے کے کفارے کے روزے پے در پے رکھنے واجب ہیں یا مستحب ہیں اس میں دو قول ہیں ایک یہ کہ واجب نہیں، امام شافعی رحمة الله نے باب الایمان میں اسے صاف لفظوں میں کہا ہے۔ امام مالک رحمة الله کا قول بھی یہی ہے کیونکہ قرآن کریم میں روزوں کا حکم مطلق ہے تو خواہ پے در پے ہوں خواہ الگ الگ ہوں تو سب پر یہ صادق آتا ہے جیسے کہ رمضان کے روزوں کی قضاء کے بارے میں آیت «فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ» ۱؎ [2-البقرة:184] ‏‏‏‏ فرمایا گیا ہے وہاں بھی پے در پے کی یا علیحدہ علیحدہ کی قید نہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام میں ایک جگہ صراحت سے کہا ہے کہ قسم کے کفارے کے روزے پے در پے رکھنے چاہیئں یہی قول حنیفہ اور حنابلہ کا ہے۔ اس لیے کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ ان کی قرأت آیت «فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُّتَتَابِعَاتٍ» ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی یہی قرأت مروی ہے، اس صورت میں اگرچہ اس کا متواتر قرأت ہونا ثابت نہ ہو۔ تاہم خبر واحد یا تفسیر صحابہ رضی اللہ عنہم سے کم درجے کی تو یہ قرأت نہیں پس حکماً یہ بھی مرفوع ہے۔ ابن مردویہ کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے کہ { سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اختیار ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں، تو اختیار پر ہے خواہ گردن آزاد کر خواہ کپڑا پہنا دے خواہ کھانا کھلا دے اور جو نہ پائے وہ پے در پے تین روزے رکھ لے } }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:555/2:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ تم جب قسم کھا کر توڑ دو تو یہ کفارہ ہے لیکن تمہیں اپنی قسموں کی حفاظت کرنی چاہیئے انہیں بغیر کفارے کے نہ چھوڑنا چاہیئے اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے اپنی آیتیں واضح طور پر بیان فرما رہا ہے تاکہ تم شکر گزاری کرو ‘۔
89۔ 1 قَسَمٌ جس کو عربی میں حَلْفٌ یا یَمِیْنٌ کہتے ہیں جن کی جمع اَحْلَافٌ اور ایمان ہے۔ تین قسم کی ہیں۔ 1۔ لَغْوٌغَمُوْسٌ، 3۔ مُعَقَّدَۃٌ . لَغْوٌ: وہ قسم ہے جو انسان بات بات میں عادتًا بغیر ارادے اور نیت کے کھاتا رہتا ہے۔ اس پر کوئی مواخذہ نہیں . غَمُوْسٌ: وہ جھوٹی قسم ہے جو انسان دھوکہ اور فریب دینے کے لئے کھائے۔ یہ کبیرہ گناہ بلکہ اکبر الکبائر ہے۔ لیکن اس پر کفارہ نہیں . مُعَقَّدَۃٌ: وہ قسم ہے جو انسان اپنی بات میں تاکید اور پختگی کے لئے اراداۃً نیۃً کھائے، ایسی قسم اگر توڑے گا تو اس کا وہ کفارہ ہے جو آگے آیت میں بیان کیا جا رہا ہے۔ 89۔ 2 اس کھانے کی مقدار میں کوئی صحیح روایت نہیں اس لئے اختلاف ہے۔ البتہ امام شافعی نے اس حدیث سے استدال کرتے ہوئے، جس میں رمضان میں روزے کی حالت میں بیوی سے ہمبستری کرنے والے کے کفارہ کا ذکر ہے، ایک مد (تقریبًا 0 1 چھٹانک) فی مسکین خوراک قرار دی ہے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کفارہ جماع ادا کرنے کے لئے 15 صاع کھجوریں دی تھیں، جنہیں ساٹھ مسکینوں میں تقسیم کرنا تھا، ایک صاع میں 4 من ہوتے ہیں، اس اعتبار سے بغیر سالن کے دس مسکینوں کے لئے دس مد (یعنی سوا سیر یا چھ کلو) خوراک کفارہ ہوگی۔ (ابن کثیر) 89۔ 3 لباس کے بارے میں اختلاف ہے۔ بظاہر مراد جوڑا ہے جس میں انسان نماز پڑھ سکے۔ بعض علماء خوراک اور لباس دونوں کے لئے عرف کو معتبر قرار دیتے ہیں (حاشیہ ابن کثیر، تحت آیت زیر بحث) 89۔ 4 بعض علماء قتل خطا کی دیت پر قیاس کرتے ہوئے لونڈی، غلام کے لئے ایمان کی شرط عائد کرتے ہیں۔ امام شوکانی کہتے ہیں، آیت میں عموم ہے مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے۔ 89۔ 5 یعنی جس کو مذکورہ تینوں چیزوں میں سے کسی کی طاقت نہ ہو تو وہ تین روزے رکھے، یہ روزے اس کی قسم کا کفارہ ہوجائیں گے۔ بعض علماء پے درپے روزے رکھنے کے قائل ہیں۔ اور بعض کے نزدیک دونوں طرح جائز ہیں۔
(آیت 89) ➊ {” الْأَيْمَانَ “} یہ {”يَمِيْنٌ“} کی جمع ہے، بمعنی قسم۔ اس مقام پر یہ دوسرا حکم ہے کہ اگر کوئی طیبات (پاکیزہ چیزیں) چھوڑنے کی قسم کھا لے تو اس کا کیا حکم ہے۔ قسم کی تین قسمیں ہیں: (1) یمین لغو، جو بے ساختہ عادت کے طور پر زبان سے یوں ہی نکل جاتی ہے، جیسے {”لَاوَاللهِ وَبَلٰي وَاللهِ“} (نہیں! اللہ کی قسم، یا کیوں نہیں! اللہ کی قسم) ایسی قسموں پر نہ کفارہ ہے نہ سزا۔ (2) یمین غموس، یعنی جھوٹی قسم، جو انسان نیت اور ارادہ کے ساتھ دھوکا و فریب دینے کے لیے جھوٹ بول کر قسم کھائے کہ ایسا ہوا ہے یا نہیں ہوا، حالانکہ اس کی قسم واقعہ کے خلاف ہو۔ یہ کبیرہ گناہ ہے، اس کا کوئی کفارہ نہیں، اس کا علاج یہی ہے کہ سچے دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرے، کیونکہ اس نے بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ (3) منعقد ہونے والی قسم، یعنی ارادے اور نیت کے ساتھ قسم کھائے کہ میں ایسا کروں گا یا نہیں کروں گا، پھر اگر وہ قسم پوری نہ کر سکے تو اس آیت میں اس کا کفارہ بیان ہوا ہے۔ جو یہ ہے کہ تین کاموں میں سے جو چاہے اختیار کر لے، یعنی دس مسکینوں کو اوسط (درمیانے) درجے کا کھانا کھلانا، یا انھیں کپڑے پہنانا، یا ایک گردن آزاد کرنا، اگر ان تینوں ہی کی طاقت نہ ہو تو تین روزے رکھے۔ بعض اہل علم نے اوسط کا معنی افضل لکھا ہے، لغت میں یہ معنی بھی موجود ہے، فرمایا: «جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۴۳] اور آیت: «حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى» [البقرۃ: ۲۳۸] یہ تین روزے خواہ پے درپے رکھے یا الگ الگ، دونوں طرح درست ہے۔ ➋ {وَ احْفَظُوْۤا اَيْمَانَكُمْ:} یعنی قسم توڑنے سے پرہیز کرو، لیکن اگر اسے توڑ دو تو اس کا کفارہ ادا کرو۔ ہاں، اگر وہ قسم کوئی ناجائز کام کرنے کی ہے تو وہ ہر گز پوری نہ کرو بلکہ توڑ دو، اس کا کفارہ ہے یا نہیں، اہل علم کا اس میں اختلاف ہے، بہتر ہے کہ ادا کر دو اور اگر یہ قسم کسی جائز کام کے چھوڑنے کی ہے تو اسے توڑ کر کفارہ ادا کر دو۔ عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی کام پر قسم کھاؤ اور اس کے علاوہ دوسرے کام کو بہتر سمجھو تو بہتر کام کر لو اور قسم کا کفارہ ادا کر دو۔“ [ بخاری، الأیمان والنذور، باب قول اللہ تعالٰی: «لا یؤاخذکم اللہ…» : ۶۶۲۲ ] ➌ اگر کسی نے کوئی نذر مانی ہو اور اسے پورا نہ کر سکے تو اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا ہے۔ [ مسلم، النذر، باب فی کفارۃ النذر: ۱۶۴۵، عن کعب بن عجرۃ رضی اللہ عنہ ]
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۹۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہ شراب اور جوا اور یہ آستانے اور پانسے، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر، یہ سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! شراب، جوا، بت (یا آستانے، اور پانسے) سب گندے اور شیطانی کام ہیں ان سے اجتناب کرو۔ تاکہ تم فلاح پاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور شرک کے لیے نصب کردہ چیزیں اور فال کے تیر سراسر گندے ہیں، شیطان کے کام سے ہیں، سو اس سے بچو، تاکہ تم فلاح پائو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پانسہ بازی ، جوا اور شراب ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ بعض چیزوں سے روکتا ہے۔ شراب کی ممانعت فرمائی، پھر جوئے کی روک کی۔ امیر المونین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”شطرنج بھی جوئے میں داخل ہے۔‏‏‏‏“ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ عطاء، مجاہد اور طاؤس رحمہ اللہ علیہم سے یا ان میں سے دو سے مروی ہے کہ ”جوئے کی ہر چیز میسر میں داخل ہے گو بچوں کے کھیل کے طور پر ہو۔‏‏‏‏“ جاہلیت کے زمانے میں جوئے کا بھی عام رواج تھا جسے اسلام نے غارت کیا۔ ان کا ایک جوا یہ بھی تھا کہ گوشت کو بکری کے بدلے بیچتے تھے، پانسے پھینک کر مال یا پھل لینا بھی جوا ہے۔ قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو چیز ذکر اللہ اور نماز سے غافل کر دے وہ جوا ہے۔‏‏‏‏“ ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع غریب حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان پانسوں سے بچو جن سے لوگ کھیلا کرتے تھے، یہ بھی جوا ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1196/4:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح مسلم شریف میں ہے { پانسوں سے کھیلنے والا گویا اپنے ہاتھوں کو سور کے خون اور گوشت میں آلودہ کرنے والا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2260] ‏‏‏‏ سنن میں ہے کہ { وہ اللہ اور رسول کا نافرمان ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4938،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا قول بھی اسی طرح مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، مسند میں ہے { پانسوں سے کھیل کر نماز پڑھنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص قے اور گندگی سے اور سور کے خون سے وضو کر کے نماز ادا کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:370/5:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک شطرنج اس سے بھی بری ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے شطرنج کا جوئے میں سے ہونا پہلے بیان ہو چکا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ تو کھلم کھلا اسے حرام بتاتے ہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ بھی اسے مکروہ بتاتے ہیں۔

«أَنصَابُ» ان پتھروں کو کہتے ہیں جن پر مشرکین اپنے جانور چڑھایا کرتے تھے اور انہیں وہیں ذبح کرتے تھے۔ «اَزْلاَمُ» ان تیروں کو کہتے ہیں جن میں وہ فال لیا کرتے تھے۔ ان سب چیزوں کی نسبت فرمایا کہ ’ یہ اللہ کی ناراضگی کے اور شیطانی کام ہیں۔ یہ گناہ کے اور برائی کے کام ہیں تم ان شیطانی کاموں سے بچو انہیں چھوڑ دو تاکہ تم نجات پاؤ ‘۔ اس فقرے میں مسلمانوں کو ان کاموں سے روکنے کی ترغیب ہے۔ پھر رغبت آمیز دھمکی کے ساتھ مسلمانوں کو ان چیزوں سے روکا گیا ہے۔
90۔ 1 یہ شراب کے بارے میں تیسرا حکم ہے۔ پہلے اور دوسرے حکم میں صاف طور پر ممانعت نہیں فرمائی گئی۔ لیکن یہاں اسے اور اس کے ساتھ جوا پرستش گاہوں یا تھانوں اور فال کے تیروں کو رجس (پلید) اور شیطانی کام قرار دے کر صاف لفظوں میں ان سے اجتناب کا حکم دے دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اس آیت میں شراب اور جوا کے مزید نقصانات بیان کرکے سوال کیا گیا ہے کہ اب بھی باز آجاؤ گے یا نہیں؟ جس مقصود اہل ایمان کی آزمائش ہے۔ چنانچہ، جو اہل ایمان تھے وہ تو منشائے الٰہی سمجھ گئے اور اس کی قطعی حرمت کے قائل ہوگئے اور کہا اُنْتَھَیْنَا رَبَّنَا! اے رب ہم باز آگئے، لیکن آجکل کے بعض " دانشور " کہتے ہیں کہ اللہ نے شراب کو حرام کہاں قرار دیا ہے؟ (برین عقل و دانش بباید گریست)۔ یعنی شراب کو رجس (پلیدی) اور شیطانی عمل قرار دے کر اس سے اجتناب کا حکم دینا نیز اس اجتناب کو باعث فلاح قرار دینا ان مجتہدین کے نزدیک حرمت کے لئے کافی نہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ کے نزدیک پلید کام بھی جائز ہے شیطانی کام بھی جائز ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ اجتناب کا حکم دے وہ بھی جائز ہے اور جس کی بابت کہے کہ اس کا ارتکاب عدم فلاح اور اس کا ترک فلاح کا باعث ہے وہ بھی جائز ہے (اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ 156؁ۭ) 2:156
(آیت 90) ➊ {اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ …:} یہ شراب کے سلسلے میں تیسرا اور آخری حکم ہے، جس کے بعد وہ قطعی حرام قرار دے دی گئی، اس سے پہلے دو حکم آ چکے تھے، پہلا حکم سورۂ بقرہ (۲۱۹) میں اور دوسرا سورۂ نساء (۴۳) میں، مگر ان دونوں آیتوں میں قطعی حرمت کا ذکر نہیں تھا، اس لیے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سورۂ بقرہ اور سورۂ نساء کی آیات نازل ہونے کے بعد کہا: ”یا اللہ! ہمارے لیے شراب کے بارے میں واضح حکم فرما۔“ آخر صریح حرمت کی یہ آیت تین مزید چیزوں کی حرمت کے ساتھ اتری۔ [ نسائی، الأشربۃ، باب تحریم الخمر: ۵۵۴۲ ] ➋ {” الْخَمْرُ “} کی تفسیر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی، چنانچہ صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ] ”ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور حرام ہے (خواہ کسی بھی چیز سے بنی ہو)۔“ [ مسلم، الأشربۃ، باب بیان أن کل مسکر خمر…: ۲۰۰۳ ] خلافت اسلامیہ کو برباد کرنے کے اسباب میں سے یہ بھی ایک بڑا سبب ہے کہ بعض علماء نے صرف انگور اور کھجور کی شراب پینے پر حد لازم قرار دی، باقی ہر نشہ آور چیز پینے پر حد ختم کر دی، خواہ وہ کسی چیز سے بنی ہو اور خواہ اس سے نشہ کیوں نہ آ جائے۔ اب جن اسلامی خلافتوں میں ام الخبائث کی کئی قسمیں پینے پر حد معاف ہو وہاں رعایا، لشکر اور خلفاء کا کیا حال ہو گا؟ ➌ اس آیت اور اس سے اگلی آیت سے شراب اور جوئے کی حرمت سات وجہوں سے ثابت ہوتی ہے، اسی لیے اسے ”ام الخبائث“ قرار دیا گیا ہے: (1) {” رِجْسٌ “} گندی چیز ہے۔ (2) عمل شیطان ہے۔ (3) {” فَاجْتَنِبُوْهُ “} امر کا صیغہ فرض کے لیے ہوتا ہے، چنانچہ اس سے اجتناب فرض ہے، لہٰذا پینا حرام ہے۔ (4) {” لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ “} اس کے ترک سے فلاح کی امید ہے، ورنہ نہیں۔ (5) شیطان اس کے ذریعے سے تمھارے درمیان عداوت اور بغض ڈالنا چاہتا ہے اور عداوت اور بغض پیدا کرنے والا ہر کام حرام ہے۔ (6) اور تمھیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روکنا چاہتا ہے۔ یہ بھی اس کی حرمت کی ایک وجہ ہے۔ (7) ”تو کیا تم باز آنے والے ہو؟“ یہ سوال کی صورت میں امر ہے اور امر فرض کے لیے ہوتا ہے۔ لہٰذا صحابہ رضی اللہ عنہم نے سن کر کہا {”اِنْتَهَيْنَا اِنْتَهَيْنَا“} یعنی ہم باز آگئے، ہم باز آگئے۔ چنانچہ صحابہ نے شراب کے مٹکے توڑ دیے اور شراب گلیوں میں بہنے لگ گئی۔ اتنی صراحتوں کے باوجود کفار کے نمائندے کئی لوگ کہتے ہیں کہ قرآن میں شراب کہاں حرام ہے؟ ➍ {” الْمَيْسِرُ “} علماء نے لکھا ہے کہ جس چیز میں بھی ہار جیت پر شرط لگائی جائے وہ جوا ہے، لاٹری، قسمت کی پڑی، انعامی بانڈ، انعامی معمے، انعامی سکیمیں سب جوئے کی قسمیں ہیں۔ کئی ظالم جوئے والی سکیموں پر عمرے یا حج کا انعام رکھ کر لوگوں کو پھنساتے ہیں، یاد رکھیں حرام مال اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا نہ حرام کے ساتھ کی ہوئی عبادت قبول ہے۔ انشورنش (بیمہ) سود اور جوئے کا بدترین مرکب ہے، بولی والی کمیٹی سراسر سود ہے اور شطرنج وغیرہ میں گو شرط نہ بھی لگائی جائے، پھر بھی یہ حرام ہے، کیونکہ یہ نماز سے غفلت کا سبب بنتی ہے۔
اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ فِی الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِ وَ یَصُدَّکُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ ﴿۹۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرا دے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے سو اب بھی باز آجاؤ
احمد رضا خان بریلوی
شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے،
علامہ محمد حسین نجفی
شیطان تو بس یہی چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان شراب اور جوئے کے ذریعہ سے بغض و عداوت ڈالے۔ اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے باز رکھے (روکے)۔ کیا اب تم (ان چیزوں سے) باز آؤگے؟ ۔
عبدالسلام بن محمد
شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمھارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمھیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے، تو کیا تم باز آنے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پانسہ بازی ، جوا اور شراب ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ بعض چیزوں سے روکتا ہے۔ شراب کی ممانعت فرمائی، پھر جوئے کی روک کی۔ امیر المونین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”شطرنج بھی جوئے میں داخل ہے۔‏‏‏‏“ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ عطاء، مجاہد اور طاؤس رحمہ اللہ علیہم سے یا ان میں سے دو سے مروی ہے کہ ”جوئے کی ہر چیز میسر میں داخل ہے گو بچوں کے کھیل کے طور پر ہو۔‏‏‏‏“ جاہلیت کے زمانے میں جوئے کا بھی عام رواج تھا جسے اسلام نے غارت کیا۔ ان کا ایک جوا یہ بھی تھا کہ گوشت کو بکری کے بدلے بیچتے تھے، پانسے پھینک کر مال یا پھل لینا بھی جوا ہے۔ قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو چیز ذکر اللہ اور نماز سے غافل کر دے وہ جوا ہے۔‏‏‏‏“ ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع غریب حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان پانسوں سے بچو جن سے لوگ کھیلا کرتے تھے، یہ بھی جوا ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1196/4:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح مسلم شریف میں ہے { پانسوں سے کھیلنے والا گویا اپنے ہاتھوں کو سور کے خون اور گوشت میں آلودہ کرنے والا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2260] ‏‏‏‏ سنن میں ہے کہ { وہ اللہ اور رسول کا نافرمان ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4938،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا قول بھی اسی طرح مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، مسند میں ہے { پانسوں سے کھیل کر نماز پڑھنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص قے اور گندگی سے اور سور کے خون سے وضو کر کے نماز ادا کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:370/5:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک شطرنج اس سے بھی بری ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے شطرنج کا جوئے میں سے ہونا پہلے بیان ہو چکا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ تو کھلم کھلا اسے حرام بتاتے ہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ بھی اسے مکروہ بتاتے ہیں۔

«أَنصَابُ» ان پتھروں کو کہتے ہیں جن پر مشرکین اپنے جانور چڑھایا کرتے تھے اور انہیں وہیں ذبح کرتے تھے۔ «اَزْلاَمُ» ان تیروں کو کہتے ہیں جن میں وہ فال لیا کرتے تھے۔ ان سب چیزوں کی نسبت فرمایا کہ ’ یہ اللہ کی ناراضگی کے اور شیطانی کام ہیں۔ یہ گناہ کے اور برائی کے کام ہیں تم ان شیطانی کاموں سے بچو انہیں چھوڑ دو تاکہ تم نجات پاؤ ‘۔ اس فقرے میں مسلمانوں کو ان کاموں سے روکنے کی ترغیب ہے۔ پھر رغبت آمیز دھمکی کے ساتھ مسلمانوں کو ان چیزوں سے روکا گیا ہے۔
91۔ 1 یہ شراب اور جوا کے مزید معاشرتی اور دینی نقصانات ہیں، جو محتاج وضاحت نہیں ہیں۔ اس لئے شراب کو ام الخبائث کہا جاتا ہے اور جوا بھی ایسی بری لت ہے کہ یہ انسان کو کسی کام کا نہیں چھوڑتی اور بسا اوقات رئیس زادوں اور خاندانی جاگیر داروں کو مفلس و قلاش بنا دیتی ہے اَ عَا ذَنَا اللّٰہُ مِنْھُمَا۔
(آیت 91) {اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ …: } جوئے اور شراب کی حرمت کا حکم دے کر اب ان کے دینی اور دنیاوی نقصانات بیان فرمائے ہیں، دینی نقصان تو یہ کہ شراب اور جوا نماز اور ذکر الٰہی سے روکنے اور غافل کرنے کا سبب بنتے ہیں اور دنیاوی نقصان یہ کہ آپس میں عداوت اور کینہ پیدا کرتے ہیں اور ان دونوں میں ان خرابیوں کا پایا جانا بالکل واضح ہے۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے پاس آیا تو انھوں نے کہا، آؤ تمھیں کھلائیں اور شراب پلائیں۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے کی بات ہے، چنانچہ میں ان کے پاس ایک باغ میں گیا، وہاں ان کے پاس اونٹ کی بھنی ہوئی سری اور شراب کا ایک مشکیزہ تھا۔ میں نے ان کے ساتھ کھایا اور پیا، ان کے پاس مہاجرین و انصار کا ذکر ہوا تو میں نے کہا، مہاجرین انصار سے بہتر ہیں، تو ایک آدمی نے سری کا ایک جبڑا پکڑا اور مجھے دے مارا، جس سے میری ناک زخمی ہو گئی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یہ بات بتائی تو اللہ تعالیٰ نے شراب کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: «اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ» ‏‏‏‏ [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب فی فضل سعد بن أبی وقاص، قبل ح: ۱۷۴۸ ]
وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ احۡذَرُوۡا ۚ فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۹۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ اور اُس کے رسول کی بات مانو اور باز آ جاؤ، لیکن اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہو اور رسول کی اطاعت کرتے رہو اور احتیاط رکھو۔ اگر اعراض کرو گے تو یہ جان رکھو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ہوشیار رہو، پھر اگر تم پھر جاؤ تو جان لو کہ ہمارے رسول کا ذمہ صرف واضح طور پر حکم پہنچادینا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور (نافرمانی سے) بچتے رہو اور اگر تم نے روگردانی کی تو پھر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے رسول کے ذمہ تو صرف واضح طور پر (ہمارا پیغام) پہنچا دینا ہے اور بس۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور بچ جاؤ، پھر اگر تم پھر جائو تو جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمے تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حرمت شراب کی مزید وضاحت ٭٭

اب ہم یہاں پر حرمت شراب کی مزید احادیث وارد کرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں شراب تین مرتبہ حرام ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے شریف میں آئے تو لوگ جواری شرابی تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال ہوا اور آیت «يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيْهِمَآ اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّمَنَافِعُ للنَّاسِ ۡ وَاِثْـمُهُمَآ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا» ۱؎ [2-البقرۃ:219] ‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ اس پر لوگوں نے کہا یہ دونوں چیزیں ہم پر حرام نہیں کی گئیں بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ ’ ان میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کیلئے کچھ فوائد بھی ہیں ‘۔ چنانچہ شراب پیتے رہے۔ ایک دن ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کو مغرب کی نماز پڑھانے کیلئے کھڑے ہوئے تو قرأت خط ملط ہو گئی اس پر آیت «‏‏‏‏يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا» ۱؎ [4-النسآء:43] ‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ یہ بہ نسبت پہلی آیت کے زیادہ سخت تھی اب لوگوں نے نمازوں کے وقت شراب چھوڑ دی لیکن عادت برابر جاری رہی۔ اس پر اس سے بھی زیادہ سخت اور صریح آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:90] ‏‏‏‏ نازل ہوئی اسے سن کر سارے صحابہ رضی اللہ عنہم بول اٹھے «اِنْتَهَیْنَا رَبَّنَا» ”اے اللہ ہم اب باز رہے، ہم رک گئے۔‏‏‏‏“ پھر لوگوں نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت فرمایا جو شراب اور جوئے کی حرمت کے نازل ہونے سے پیشتر اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے تھے اس کے جواب میں اس کے بعد کی آیت «لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوا وَّآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوا وَّأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ» ۱؎ [5-المائدہ:93] ‏‏‏‏، نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر ان کی زندگی میں یہ حکم اترا ہوتا تو وہ بھی تمہاری طرح اسے مان لیتے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:351/2:ضعیف] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تحریم شراب کے نازل ہونے پر فرمایا یا اللہ ہمارے سامنے اور کھول کر بیان فرما پس سورۃ البقرہ کی آیت «فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ» ‏‏‏‏ [2-البقرہ:219] ‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بلوایا گیا اور ان کے سامنے اس کی تلاوت کی گئی پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اے اللہ تو ہمیں اور واضح لفظوں میں فرما!۔‏‏‏‏“ پس سورۃ نساء کی آیت «لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ» ۱؎ [4-النساء:43] ‏‏‏‏ نازل ہوئی اور مؤذن جب «حی علی الصلوۃ» کہتا تو ساتھ ہی کہہ دیتا کہ نشہ باز ہرگز ہرگز نماز کے قریب بھی نہ آئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا گیا اور یہ آیت بھی انہیں سنائی گئی لیکن پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا کہ ”اے اللہ اس بارے میں صفائی سے بیان فرما۔‏‏‏‏“ پس سورۃ المائدہ کی آیت اتری آپ رضی اللہ عنہ کو بلوایا گیا اور یہ آیت «إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ» [5-المائدہ:91] ‏‏‏‏ سنائی گئی جب «فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ» تک سنا تو فرمانے لگے «‏‏‏‏ اِنْتَهَیْنَا اِنْتَهَیْنَا» ہم رک گئے ہم رک گئے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3670، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے کہ ”سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے منبرنبوی پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ”شراب کی حرمت جب نازل ہوئی اس وقت شراب پانچ چیزوں کی بنائی جاتی تھی، انگور، شہد، کھجور، گہیوں اور جو۔ ہر وہ چیز جو عقل پر غالب آ جائے خمر ہے۔ یعنی شراب کے حکم میں ہے اور حرام ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4619] ‏‏‏‏

صحیح بخاری میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”شراب کی حرمت کی آیت کے نزول کے موقع پر مدینے شریف میں پانچ قسم کی شرابیں تھیں ان میں انگور کی شراب نہ تھی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4616] ‏‏‏‏ ابوداؤد طیالسی میں ہے { سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”شراب کے بارے میں تین آیتیں اتریں۔ اول تو آیت «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ» ۱؎ [2-البقرۃ:219] ‏‏‏‏ والی آیت اتری تو کہا گیا کہ شراب حرام ہوگئی۔ اس پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس سے نفع اٹھانے دیجئیے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ پھر آیت «لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ» ۱؎ [4-النساء:43] ‏‏‏‏ والی آیت اتری اور کہا گیا کہ شراب حرام ہوگئی۔ لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا رسول اللہ ہم بوقت نماز نہ پئیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر چپ رہے پھر یہ دونوں آیتیں اتری اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا کہ { اب شراب حرام ہوگئی } }۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:5570:ضعیف] ‏‏‏‏ مسلم وغیرہ میں ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دوست تھا قبیلہ ثقیف میں سے یا قبیلہ دوس میں سے۔ فتح مکہ والے دن وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور ایک مشک شراب کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفتاً دینے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام کر دیا ہے }۔ اب اس شخص نے اپنے غلام سے کہا کہ جا اسے بیچ ڈال، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا کہا؟ } اس نے جواب دیا کہ بیچنے کو کہہ رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جس اللہ نے اس کا پینا حرام کیا ہے اسی نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا ہے }۔ اس نے اسی وقت کہا جاؤ اسے لے جاؤ اور بطحاء کے میدان میں بہا آؤ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1579] ‏‏‏‏ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ { سیدنا تمیم دارمی رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دینے کیلئے ایک مشک شراب کی لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ کر ہنس دیئے اور فرمایا: { یہ تو تمہارے جانے کے بعد حرام ہو گئی ہے }۔ کہا خیر یا رسول اللہ میں اسے واپس لے جاتا ہوں اور بیچ کر قیمت وصول کر لوں گا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہودیوں پر اللہ کی لنعٹ ہوئی کہ ان پر جب گائے بکری کی چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کیا، اللہ تعالیٰ نے شراب کو اور اس کی قیمت کو حرام کر دیا ہے } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:1275:ضعیف] ‏‏‏‏

مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے، اس میں ہے کہ { ہر سال دارمی ایک مشک ہدیہ کرتے تھے، اس کے آخر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دو مرتبہ یہ فرمانا ہے کہ { شراب بھی حرام اور اس کی قیمت بھی حرام } }۔ ۱؎ [مسند احمد:227/4:صحیح] ‏‏‏‏ ایک حدیث مسند احمد میں اور ہے اس میں ہے کہ { کیسان رضی اللہ عنہ شراب کے تاجر تھے جس سال شراب حرام ہوئی اس سال یہ شام کے ملک سے بہت سی شراب تجارت کیلئے لائے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب تو حرام ہوگئی }۔ پوچھا پھر میں اسے بیچ ڈالوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ بھی حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے }۔ چنانچہ کیسان رضی اللہ عنہ نے وہ ساری شراب بہا دی }۔ ۱؎ [مسند احمد:335/4:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں ابوعبیدہ بن جراح ابی بن کعب، سہل بن بیضاء اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کو شراب پلا رہا تھا دور چل رہا تھا سب لذت اندوز ہو رہے تھے قریب تھا کہ نشے کا پارہ بڑھ جائے، اتنے میں کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے آکر خبر دی کہ کیا تمہیں علم نہیں شراب تو حرام ہو گئی؟ انہیں نے کہا بس کرو جو باقی بچی ہے اسے لنڈھا دو اللہ کی قسم اس کے بعد ایک قطرہ بھی ان میں سے کسی کے حلق میں نہیں گیا۔ یہ شراب کھجور کی تھی اور عموماً اسی کی شراب بنا کرتی تھی }۔ یہ روایت بخاری مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5582] ‏‏‏‏

اور روایت میں ہے کہ شراب خوری کی یہ مجلس سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے مکان پر تھی، ناگاہ منادی کی آواز پڑی مجھ سے کہا گیا باہر جاؤ دیکھو کیا منادی ہو رہی ہے؟ میں نے جا کر سنا منادی ندا دے رہا ہے کہ شراب تم پر حرام کی گئی ہے، میں نے آکر خبر دی تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اٹھو جتنی شراب ہے سب بہادو میں نے بہادی اور میں نے دیکھا کہ مدینے کے گلی کوچوں میں شراب بہہ رہی ہے۔ بعض اصحاب رضی اللہ عنہم نے کہا ”ان کا کیا حال ہوگا جن کے پیٹ میں شراب تھی اور وہ قتل کر دیئے گئے؟“ اس پر اس کے بعد کی آیت «لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوا وَّآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوا وَّأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ» ‏‏‏‏ [5-المائدہ:93] ‏‏‏‏، نازل ہوئی یعنی ان پر کوئی حرج نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2464] ‏‏‏‏ ابن جریر کی روایت میں اس مجلس والوں کے ناموں میں ابودجانہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم کا نام بھی ہے اور یہ بھی ہے کہ ندا سنتے ہی ہم نے شراب بہا دی، مٹکے اور پیپے توڑ ڈالے۔ کسی نے وضو کر لیا، کسی نے غسل کر لیا اور ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں سے خوشبو منگوا کر لگائی اور مسجد پہنچے تو دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت پڑھ رہے تھے، ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے جو لوگ فوت ہو گئے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ پس اس کے بعد آیت اتری۔ کسی نے قتادہ رحمة الله سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث خود سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ فرمایا ”ہاں ہم جھوٹ نہیں بولتے بلکہ ہم تو جانتے بھی نہیں کہ جھوٹ کسے کہتے ہیں؟“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12531:صحیح بالشواهد] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے شراب اور پانسے اور بربط کا باجا حرام کر دیا ہے، شراب سے بچو «غُبَیْرَا» نام کی شراب عام ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:422/3:ضعیف] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو شخص مجھ سے وہ بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو وہ اپنی جگہ جہنم میں بنالے }۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ شراب جوا پانسے اور غبیرا سب حرام ہیں اور ہر نشے والی چیز حرام ہے } ۱؎ [مسند احمد:171/2:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { شراب کے بارے میں دس لعنتیں ہیں خود شراب پر، اس کے پینے والے پر، اس کے پلانے والے پر، اس کے بیچنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر اس کے نچوڑنے والے پر، اس کے بنانے والے پر، اس کے اٹھانے والے پر اور اس پر بھی جس کے پاس یہ اٹھا کر لے جایا جائے اور اس کی قیمت کھانے والے پر }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3674،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند میں ہے { سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باڑے کی طرف نکلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں جانب چل رہا تھا جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے میں ہٹ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ چلنے لگے تھوڑی دیر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آگئے میں ہٹ گیا آپ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف ہوگئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باڑے میں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں پر چند مشکیں شراب کی رکھی ہوئی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: { چھری لاؤ }۔ جب میں لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ یہ مشکیں کاٹ دی جائیں، پھر فرمایا: { شراب پر، اس کے پینے والے پر، پلانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدار پر، اٹھانے والے پر، اٹھوانے والے پر، بنانے والے پر، بنوانے والے پر، قیمت لینے والے پر سب پر لعنت ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:71/2:صحیح] ‏‏‏‏

مسند احمد کی اور روایت میں ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مشکیں کٹوا دیں پھر مجھے اور میرے ساتھیوں کو چھری دے کر فرمایا جاؤ جتنی مشکیں شراب کی جہاں پاؤ سب کاٹ کر بہا دو، پس ہم گئے اور سارے بازار میں ایک مشک بھی نہ چھوڑی }۔ ۱؎ [مسند احمد:132/2:صحیح] ‏‏‏‏ بیہقی کی حدیث میں ہے کہ { ایک شخص شراب بیچتے تھے اور بہت خیرات کیا کرتے تھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے شراب فروشی کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے، اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر تمہاری کتاب کے بعد کوئی کتاب اترنے والی ہوتی اور اگر تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی اور آنے والا ہوتا، جس طرح اگلوں کی رسوائیاں اور ان کی برائیاں تمہاری کتاب میں اتریں تمہاری خرابیاں ان پر نازل ہوتیں لیکن تمہارے افعال کا اظہار قیامت کے دن پر مؤخر رکھا گیا ہے اور یہ بہت بھاری اور بڑا ہے۔‏‏‏‏“ پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا ”سنو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گوٹھ لگائے ہوئے بیٹھے تھے فرمانے لگے { جس کے پاس جتنی شراب ہو وہ ہمارے پاس لائے }۔ لوگوں نے لانی شروع کی، جس کے پاس جتنی تھی حاضر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جاؤ اسے بقیع کے میدان میں فلاں فلاں جگہ رکھو۔ جب سب جمع ہوجائے مجھے خبر کرو }۔ جب جمع ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے جانب تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر ٹیک لگائے چل رہے تھے۔

{ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہٹا دیا اپنے بائیں کردیا اور میری جگہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے لے لی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقت ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور پیچھے ہٹا دیا اور جناب فاروق رضی اللہ عنہ کو اپنے بائیں لے لیا اور وہاں پہنچے لوگوں سے فرمایا: { جانتے ہو یہ کیا ہے؟ } سب نے کہا ہاں جانتے ہیں یہ شراب ہے۔ فرمایا: { سنو اس پر اس کے بنانے والے پر، بنوانے والے پر، پینے والے پر، پلانے والے پر، اٹھانے والے پر، اٹھوانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدنے والے پر، قیمت لینے والے پر اللہ کی پھٹکار ہے }۔ پھر چھری منگوائی اور فرمایا: { اسے تیز کرلو }۔ پھر اپنے ہاتھ سے مشکیں پھاڑنی اور مٹکے توڑنے شروع کئے لوگوں نے کہا بھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مشکوں اور مٹکوں کو رہنے دیجئیے اور کام آئیں گی۔ فرمایا: { ٹھیک ہے لیکن میں تو اب ان سب کو توڑ کر ہی رہوں گا یہ غضب و غصہ اللہ کیلئے ہے کیونکہ ان تمام چیزوں سے رب ناراض ہے }۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود کیوں تکلیف کرتے ہیں ہم حاضر ہیں۔ فرمایا: { نہیں میں اپنے ہاتھ سے انہیں نیست و نابود کروں گا}۔ ۱؎ [بیھقی:287/8:صحیح] ‏‏‏‏

بیہقی کی حدیث میں ہے کہ ”شراب کے بارے میں چار آیتیں اتری ہیں۔ پھر حدیث بیان فرما کر کہا کہ ایک انصاری نے دعوت کی ہم دعوت میں جمع ہوئے خوب شرابیں پیں۔ نشے میں جھومتے ہوئے اپنے نام و نسب پر فخر کرنے لگے، ہم افضل ہیں۔ قریشی نے کہا ہم افضل ہیں۔ ایک انصاری نے اونٹ کے جبڑا لے کرسیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو مارا اور ہاتھا پائی ہونے لگی پھر شراب کی حرمت کی آیت اتری۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح مسلم:1748] ‏‏‏‏ بیہقی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ شراب پی کر بدمست ہو گئے اور آپس میں لاف زنی ہونے لگی جب نشے اترے تو دیکھتے ہیں اس کی ناک پر زخم ہے اس کے چہرے پر زخم ہے اس کی داڑھی نچی ہوئی ہے اور اسے چوٹ لگی ہوئی ہے، کہنے لگے مجھے فلاں نے مارا میری بے حرمتی فلاں نے کی اگر اس کا دل میری طرف سے صاف ہوتا تو میرے ساتھ یہ حرکت نہ کرتا دلوں میں نفرت اور دشمنی بڑھنے لگی پس یہ آیت اتری۔ اس پر بعض لوگوں نے کہا جب یہ گندگی ہے تو فلاں فلاں صحابہ رضی اللہ عنہم تو اسے پیتے ہوئے ہی رحلت کر گئے ہیں ان کا کیا حال ہو گا؟ ان میں سے بعض احد کے میدان میں شہید ہوئے ہیں اس کے جواب میں اگلی آیت «لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» ۱؎ [5-المائدة:93] ‏‏‏‏ الخ اتری۔ ۱؎ [بیہقی السنن الکبری:285/8:حسن] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے ”ابوبریدہ رضی اللہ عنہ کے والد کہتے ہیں کہ ہم چار شخص ریت کے ایک ٹیلے پر بیٹھے شراب پی رہے تھے دور چل رہا تھا جام گردش میں تھا ناگہاں میں کھڑا ہوا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سلام کیا وہیں حرمت شراب کی یہ آیت نازل ہوئی۔ میں پچھلے پیروں اپنی اسی مجلس میں آیا اور اپنے ساتھیوں کو یہ آیت پڑھ کر سنائی، بعض وہ بھی تھے، جن کے منہ سے جام لگا ہوا تھا لیکن واللہ انہوں نے اسی وقت اسے الگ کر دیا اور جتنا پیا تھا اسے قے کر کے نکال دیا اور کہنے لگے یا اللہ ہم رک گئے ہم باز آ گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12527:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ”جنگ احد کی صبح بعض لوگوں نے شرابیں پی تھیں اور میدان میں اسی روز اللہ کی راہ میں شہید کر دیئے گئے اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4618] ‏‏‏‏ بزار میں یہ ذیادتی بھی ہے کہ اسی پر بعض یہودیوں نے اعتراض کیا اور جواب میں آیت «لَيْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:93] ‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ { ایک شخص خیبر سے شراب لا کر مدینے میں فروخت کیا کرتا تھا ایک دن وہ لا رہا تھا ایک صحابی رضی اللہ عنہ راستے میں ہی اسے مل گئے اور فرمایا شراب تو اب حرام ہو گئی وہ واپس مڑگیا اور ایک ٹیلے تلے اسے کپڑے سے ڈھانپ کر آگیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کیا یہ سچ ہے کہ شراب حرام ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں سچ ہے }۔ کہا پھر مجھے اجازت دیجئیے کہ جس سے لی ہے اسے واپس کر دوں۔ فرمایا: { اس کا لوٹانا بھی جائز نہیں }، کہا پھر اجازت دیجئیے کہ میں اسے ایسے شخص کو تحفہ دوں جو اس کا معاوضہ مجھے دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ بھی ٹھیک نہیں }۔ کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس میں یتیموں کا مال بھی لگا ہوا ہے۔ فرمایا: { دیکھو جب ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا اس سے ہم تمہارے یتیموں کی مدد کریں گے }۔ پھر مدینہ میں منا دی ہوگئی۔ ایک شخص نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم شراب کے برتنوں سے نفع حاصل کرنے کی اجازت دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جاؤ مشکوں کو کھول ڈالو اور شراب بہا دو اس قدر شراب بہی کہ میدان بھر گئے } }۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1884:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میرے ہاں جو یتیم بچے پل رہے ہیں ان کے ورثے میں انہیں شراب ملی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جاؤ اس بہا دو }۔ عرض کیا اگر اجازت ہو تو اس کا سرکہ بنا لوں؟ فرمایا: { نہیں } }۔ یہ حدیث مسلم ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1983] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ”عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جیسے یہ آیت قرآن میں ہے تورات میں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق کو نازل فرمایا تاکہ اس کی وجہ سے باطل کو دور کر دے اور اس سے کھیل تماشے باجے گاجے بربط دف طنبورہ راگ راگنیاں فنا کر دے۔ شرابی کیلئے شراب نقصان دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ ’ جو اسے حرمت کے بعد پئے گا اسے میں قیامت کے دن پیاسا رکھوں گا اور حرمت کے بعد جوا سے چھوڑے گا میں اسے جنت کے پاکیزہ چشمے سے پلاؤں گا ‘۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1196/4:موقوف] ‏‏‏‏ حدیث شریف میں ہے { جس شخص نے نشہ کی وجہ سے ایک وقت کی نماز چھوڑی وہ ایسا ہے جیسے کہ سے روئے زمین کی سلطنت جھن گئی اور جس شخص نے چار بار کی نماز نشے میں چھوڑ دی اللہ تعالیٰ اسے «طِينَةِ الْخَبَالِ» پلائے گا۔ پوچھا گیا کہ یہ «طِينَةِ الْخَبَالِ» کیا ہے؟ فرمایا: { جہنمیوں کا لہو پیپ پسینہ پیشاب وغیرہ }۔ ۱؎ [مسند احمد:178/2:حسن] ‏‏‏‏

ابو داؤد میں ہے کہ { { ہر عقل کو ڈھانپنے والی چیز خمر ہے اور ہر نشہ والی چیز حرام ہے اور جو شخص نشے والی چیز پئے گا اس کی چالیس دن کی نمازیں ناقبول ہیں۔ اگر وہ توبہ کرے گا تو توبہ قبول ہو گی اگر اس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور «طِينَةِ الْخَبَالِ» پلائے گا } پوچھا گیا وہ کیا ہے؟ فرمایا { جہنمیوں کا نچوڑ اور ان کی پیپ اور جو شخص اسے کسی بچہ کو پلائے گا جو حلال حرام کی تمیز نہ رکھتا ہو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اسے بھی جہنمیوں کا پیپ پلائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3680،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ بخاری مسلم وغیرہ میں ہے { دنیا میں جو شراب پیئے گا اور توبہ نہ کرے گا وہ جنت کی شراب سے محروم رہے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5575] ‏‏‏‏

صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر نشے والی چیز خمر ہے اور ہر نشے والی چیز حرام ہے اور جس شخص نے شراب کی عادت ڈالی اور بے توبہ مر گیا وہ جنت کی شراب سے محروم رہے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2003] ‏‏‏‏ نسائی وغیرہ میں ہے { تین شخصوں کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر رحمت سے نہ دیکھے گا، ماں باپ کا نافرمان، شراب کی عادت والا اور اللہ کی راہ میں دے کر احسان جتلانے والا }۔ ۱؎ [سنن نسائی:2563،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { دے کر احسان جتانے والا، ماں باپ کا نافرمان اور شرابی جنت میں نہیں جائے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:27/3:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں اس کے ساتھ ہی ہے کہ { زنا کی اولاد بھی }۔ ۱؎ [مسند احمد:203/2:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”شراب سے پرہیز کرو وہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ سنو اگلے لوگوں میں ایک ولی اللہ تھا جو بڑا عبادت گزر تھا اور تارک دنیا تھا۔ بستی سے الگ تھلگ ایک عبادت خانے میں شب و روز عبادت الٰہی میں مشغول رہا کرتا تھا، ایک بدکار عورت اس کے پیچھے لگ گئی، اس نے اپنی لونڈی کو بھیج کر اسے اپنے ہاں ایک شہادت کے بہانے بلوایا، یہ چلے گئے لونڈی اپنے گھر میں انہیں لے گئی جس دروازے کے اندر یہ پہنچ جاتے پیچھے سے لونڈی اسے بند کرتی جاتی۔ آخری کمرے میں جب گئے تو دیکھا کہ ایک بہت ہی خوبصورت عورت بیٹھی ہے، اس کے پاس ایک بچہ ہے اور ایک جام شراب لبالب بھرا رکھا ہے۔ اس عورت نے اس سے کہا سنئے جناب میں نے آپ کو درحقیقت کسی گواہی کیلئے نہیں بلوایا فی الواقع اس لیے بلوایا ہے کہ یا تو آپ میرے ساتھ بدکاری کریں یا اس بچے کو قتل کر دیں یا شراب کو پی لیں درویش نے سوچ کر تینوں کاموں میں ہلکا کام شراب کا پینا جان کر جام کو منہ سے لگا لیا، سارا پی گیا۔ کہنے لگا اور لاؤ اور لاؤ، خوب پیا، جب نشے میں مدہوش ہو گیا تو اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر بیٹھا اور اس لڑکے کو بھی قتل کر دیا۔ پس اے لوگو! تم شراب سے بچو سمجھ لو کہ شراب اور ایمان جمع نہیں ہوتے ایک کا آنا دوسرے کا جانا ہے۔‏‏‏‏“ [بیہقی] ‏‏‏‏ امام ابوبکر بن ابی الدنیا رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ذم المسکر میں بھی اسے وارد کیا ہے اور اس میں مرفوع ہے لیکن زیادہ صحیح اس کا موقوف ہونا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» اس کی شاہد بخاری و مسلم کی مرفوع حدیث بھی ہے جس میں ہے کہ { زانی زنا کے وقت، چور چوری کے وقت، شرابی شراب خوری کے وقت مومن نہیں رہتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5578] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب شراب حرام ہوئی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ اس کی حرمت سے پہلے جو لوگ انتقال کر چکے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت «‏‏‏‏لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُ
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 92) ➊ {وَ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ:} یعنی جوئے اور شراب سے باز رہنا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت سے بچ جاؤ۔ (رازی، قرطبی) یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مراد قرآن و سنت کی پیروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَلاَ اِنِّيْ أُوْتِيْتُ الْكِتَابَ وَ مِثْلَهُ مَعَهُ ] ”مجھے کتاب یعنی قرآن دیا گیا ہے اور اس جیسی ایک اور چیز (حدیث) بھی۔“ [أبو داوٗد، السنۃ، باب فی لزوم السنۃ:۴۶۰۴ وصححہ الألبانی ] ➋ {فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ …:} اس میں ان لوگوں کے لیے وعید ہے جو اس حکم قطعی کے باوجود شراب نوشی اور جوئے سے باز نہیں آتے۔ (کبیر)
لَیۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیۡمَا طَعِمُوۡۤا اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اَحۡسَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا تھا اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی بشرطیکہ وہ آئندہ اُن چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں، پھر جس جس چیز سے روکا جائے اس سے رکیں اور جو فرمان الٰہی ہو اُسے مانیں، پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویہ رکھیں اللہ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ایسے لوگوں پر جو کہ ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں اس چیز میں کوئی گناه نہیں جس کو وه کھاتے پیتے ہوں جبکہ وه لوگ تقویٰ رکھتے ہوں اور ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں پھر پرہیزگاری کرتے ہوں اور ایمان رکھتے ہوں پھر پرہیزگاری کرتے ہوں اور خوب نیک عمل کرتے ہوں، اللہ ایسے نیکوکاروں سے محبت رکھتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان پر کچھ گناہ نہیں جو کچھ انہوں نے چکھا جب کہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیک رہیں، اور اللہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان پر اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ جو وہ (پہلے) کھا پی چکے ہوں۔ جبکہ (اب) پرہیز کریں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔ اور پھر اس ایمان و پرہیز پر قائم و ثابت قدم بھی رہیں اور پھر تمام برے کاموں سے پرہیز کرتے رہیں اور نیکیاں کرتے رہیں اور اللہ نیک عمل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو وہ کھا چکے، جب کہ وہ متقی بنے اور ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، پھر وہ متقی بنے اور ایمان لائے، پھر وہ متقی بنے اور انھوں نے نیکی کی اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حرمت شراب کی مزید وضاحت ٭٭

اب ہم یہاں پر حرمت شراب کی مزید احادیث وارد کرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں شراب تین مرتبہ حرام ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے شریف میں آئے تو لوگ جواری شرابی تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال ہوا اور آیت «يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيْهِمَآ اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّمَنَافِعُ للنَّاسِ ۡ وَاِثْـمُهُمَآ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا» ۱؎ [2-البقرۃ:219] ‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ اس پر لوگوں نے کہا یہ دونوں چیزیں ہم پر حرام نہیں کی گئیں بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ ’ ان میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کیلئے کچھ فوائد بھی ہیں ‘۔ چنانچہ شراب پیتے رہے۔ ایک دن ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کو مغرب کی نماز پڑھانے کیلئے کھڑے ہوئے تو قرأت خط ملط ہو گئی اس پر آیت «‏‏‏‏يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا» ۱؎ [4-النسآء:43] ‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ یہ بہ نسبت پہلی آیت کے زیادہ سخت تھی اب لوگوں نے نمازوں کے وقت شراب چھوڑ دی لیکن عادت برابر جاری رہی۔ اس پر اس سے بھی زیادہ سخت اور صریح آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:90] ‏‏‏‏ نازل ہوئی اسے سن کر سارے صحابہ رضی اللہ عنہم بول اٹھے «اِنْتَهَیْنَا رَبَّنَا» ”اے اللہ ہم اب باز رہے، ہم رک گئے۔‏‏‏‏“ پھر لوگوں نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت فرمایا جو شراب اور جوئے کی حرمت کے نازل ہونے سے پیشتر اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے تھے اس کے جواب میں اس کے بعد کی آیت «لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوا وَّآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوا وَّأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ» ۱؎ [5-المائدہ:93] ‏‏‏‏، نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر ان کی زندگی میں یہ حکم اترا ہوتا تو وہ بھی تمہاری طرح اسے مان لیتے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:351/2:ضعیف] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تحریم شراب کے نازل ہونے پر فرمایا یا اللہ ہمارے سامنے اور کھول کر بیان فرما پس سورۃ البقرہ کی آیت «فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ» ‏‏‏‏ [2-البقرہ:219] ‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بلوایا گیا اور ان کے سامنے اس کی تلاوت کی گئی پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اے اللہ تو ہمیں اور واضح لفظوں میں فرما!۔‏‏‏‏“ پس سورۃ نساء کی آیت «لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ» ۱؎ [4-النساء:43] ‏‏‏‏ نازل ہوئی اور مؤذن جب «حی علی الصلوۃ» کہتا تو ساتھ ہی کہہ دیتا کہ نشہ باز ہرگز ہرگز نماز کے قریب بھی نہ آئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا گیا اور یہ آیت بھی انہیں سنائی گئی لیکن پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا کہ ”اے اللہ اس بارے میں صفائی سے بیان فرما۔‏‏‏‏“ پس سورۃ المائدہ کی آیت اتری آپ رضی اللہ عنہ کو بلوایا گیا اور یہ آیت «إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ» [5-المائدہ:91] ‏‏‏‏ سنائی گئی جب «فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ» تک سنا تو فرمانے لگے «‏‏‏‏ اِنْتَهَیْنَا اِنْتَهَیْنَا» ہم رک گئے ہم رک گئے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3670، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے کہ ”سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے منبرنبوی پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ”شراب کی حرمت جب نازل ہوئی اس وقت شراب پانچ چیزوں کی بنائی جاتی تھی، انگور، شہد، کھجور، گہیوں اور جو۔ ہر وہ چیز جو عقل پر غالب آ جائے خمر ہے۔ یعنی شراب کے حکم میں ہے اور حرام ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4619] ‏‏‏‏

صحیح بخاری میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”شراب کی حرمت کی آیت کے نزول کے موقع پر مدینے شریف میں پانچ قسم کی شرابیں تھیں ان میں انگور کی شراب نہ تھی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4616] ‏‏‏‏ ابوداؤد طیالسی میں ہے { سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”شراب کے بارے میں تین آیتیں اتریں۔ اول تو آیت «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ» ۱؎ [2-البقرۃ:219] ‏‏‏‏ والی آیت اتری تو کہا گیا کہ شراب حرام ہوگئی۔ اس پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس سے نفع اٹھانے دیجئیے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ پھر آیت «لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ» ۱؎ [4-النساء:43] ‏‏‏‏ والی آیت اتری اور کہا گیا کہ شراب حرام ہوگئی۔ لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا رسول اللہ ہم بوقت نماز نہ پئیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر چپ رہے پھر یہ دونوں آیتیں اتری اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا کہ { اب شراب حرام ہوگئی } }۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:5570:ضعیف] ‏‏‏‏ مسلم وغیرہ میں ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دوست تھا قبیلہ ثقیف میں سے یا قبیلہ دوس میں سے۔ فتح مکہ والے دن وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور ایک مشک شراب کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفتاً دینے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام کر دیا ہے }۔ اب اس شخص نے اپنے غلام سے کہا کہ جا اسے بیچ ڈال، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا کہا؟ } اس نے جواب دیا کہ بیچنے کو کہہ رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جس اللہ نے اس کا پینا حرام کیا ہے اسی نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا ہے }۔ اس نے اسی وقت کہا جاؤ اسے لے جاؤ اور بطحاء کے میدان میں بہا آؤ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1579] ‏‏‏‏ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ { سیدنا تمیم دارمی رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دینے کیلئے ایک مشک شراب کی لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ کر ہنس دیئے اور فرمایا: { یہ تو تمہارے جانے کے بعد حرام ہو گئی ہے }۔ کہا خیر یا رسول اللہ میں اسے واپس لے جاتا ہوں اور بیچ کر قیمت وصول کر لوں گا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہودیوں پر اللہ کی لنعٹ ہوئی کہ ان پر جب گائے بکری کی چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کیا، اللہ تعالیٰ نے شراب کو اور اس کی قیمت کو حرام کر دیا ہے } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:1275:ضعیف] ‏‏‏‏

مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے، اس میں ہے کہ { ہر سال دارمی ایک مشک ہدیہ کرتے تھے، اس کے آخر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دو مرتبہ یہ فرمانا ہے کہ { شراب بھی حرام اور اس کی قیمت بھی حرام } }۔ ۱؎ [مسند احمد:227/4:صحیح] ‏‏‏‏ ایک حدیث مسند احمد میں اور ہے اس میں ہے کہ { کیسان رضی اللہ عنہ شراب کے تاجر تھے جس سال شراب حرام ہوئی اس سال یہ شام کے ملک سے بہت سی شراب تجارت کیلئے لائے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب تو حرام ہوگئی }۔ پوچھا پھر میں اسے بیچ ڈالوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ بھی حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے }۔ چنانچہ کیسان رضی اللہ عنہ نے وہ ساری شراب بہا دی }۔ ۱؎ [مسند احمد:335/4:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں ابوعبیدہ بن جراح ابی بن کعب، سہل بن بیضاء اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کو شراب پلا رہا تھا دور چل رہا تھا سب لذت اندوز ہو رہے تھے قریب تھا کہ نشے کا پارہ بڑھ جائے، اتنے میں کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے آکر خبر دی کہ کیا تمہیں علم نہیں شراب تو حرام ہو گئی؟ انہیں نے کہا بس کرو جو باقی بچی ہے اسے لنڈھا دو اللہ کی قسم اس کے بعد ایک قطرہ بھی ان میں سے کسی کے حلق میں نہیں گیا۔ یہ شراب کھجور کی تھی اور عموماً اسی کی شراب بنا کرتی تھی }۔ یہ روایت بخاری مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5582] ‏‏‏‏

اور روایت میں ہے کہ شراب خوری کی یہ مجلس سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے مکان پر تھی، ناگاہ منادی کی آواز پڑی مجھ سے کہا گیا باہر جاؤ دیکھو کیا منادی ہو رہی ہے؟ میں نے جا کر سنا منادی ندا دے رہا ہے کہ شراب تم پر حرام کی گئی ہے، میں نے آکر خبر دی تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اٹھو جتنی شراب ہے سب بہادو میں نے بہادی اور میں نے دیکھا کہ مدینے کے گلی کوچوں میں شراب بہہ رہی ہے۔ بعض اصحاب رضی اللہ عنہم نے کہا ”ان کا کیا حال ہوگا جن کے پیٹ میں شراب تھی اور وہ قتل کر دیئے گئے؟“ اس پر اس کے بعد کی آیت «لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوا وَّآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوا وَّأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ» ‏‏‏‏ [5-المائدہ:93] ‏‏‏‏، نازل ہوئی یعنی ان پر کوئی حرج نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2464] ‏‏‏‏ ابن جریر کی روایت میں اس مجلس والوں کے ناموں میں ابودجانہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم کا نام بھی ہے اور یہ بھی ہے کہ ندا سنتے ہی ہم نے شراب بہا دی، مٹکے اور پیپے توڑ ڈالے۔ کسی نے وضو کر لیا، کسی نے غسل کر لیا اور ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں سے خوشبو منگوا کر لگائی اور مسجد پہنچے تو دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت پڑھ رہے تھے، ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے جو لوگ فوت ہو گئے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ پس اس کے بعد آیت اتری۔ کسی نے قتادہ رحمة الله سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث خود سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ فرمایا ”ہاں ہم جھوٹ نہیں بولتے بلکہ ہم تو جانتے بھی نہیں کہ جھوٹ کسے کہتے ہیں؟“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12531:صحیح بالشواهد] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے شراب اور پانسے اور بربط کا باجا حرام کر دیا ہے، شراب سے بچو «غُبَیْرَا» نام کی شراب عام ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:422/3:ضعیف] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو شخص مجھ سے وہ بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو وہ اپنی جگہ جہنم میں بنالے }۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ شراب جوا پانسے اور غبیرا سب حرام ہیں اور ہر نشے والی چیز حرام ہے } ۱؎ [مسند احمد:171/2:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { شراب کے بارے میں دس لعنتیں ہیں خود شراب پر، اس کے پینے والے پر، اس کے پلانے والے پر، اس کے بیچنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر اس کے نچوڑنے والے پر، اس کے بنانے والے پر، اس کے اٹھانے والے پر اور اس پر بھی جس کے پاس یہ اٹھا کر لے جایا جائے اور اس کی قیمت کھانے والے پر }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3674،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند میں ہے { سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باڑے کی طرف نکلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں جانب چل رہا تھا جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے میں ہٹ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ چلنے لگے تھوڑی دیر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آگئے میں ہٹ گیا آپ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف ہوگئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باڑے میں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں پر چند مشکیں شراب کی رکھی ہوئی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: { چھری لاؤ }۔ جب میں لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ یہ مشکیں کاٹ دی جائیں، پھر فرمایا: { شراب پر، اس کے پینے والے پر، پلانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدار پر، اٹھانے والے پر، اٹھوانے والے پر، بنانے والے پر، بنوانے والے پر، قیمت لینے والے پر سب پر لعنت ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:71/2:صحیح] ‏‏‏‏

مسند احمد کی اور روایت میں ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مشکیں کٹوا دیں پھر مجھے اور میرے ساتھیوں کو چھری دے کر فرمایا جاؤ جتنی مشکیں شراب کی جہاں پاؤ سب کاٹ کر بہا دو، پس ہم گئے اور سارے بازار میں ایک مشک بھی نہ چھوڑی }۔ ۱؎ [مسند احمد:132/2:صحیح] ‏‏‏‏ بیہقی کی حدیث میں ہے کہ { ایک شخص شراب بیچتے تھے اور بہت خیرات کیا کرتے تھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے شراب فروشی کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے، اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر تمہاری کتاب کے بعد کوئی کتاب اترنے والی ہوتی اور اگر تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی اور آنے والا ہوتا، جس طرح اگلوں کی رسوائیاں اور ان کی برائیاں تمہاری کتاب میں اتریں تمہاری خرابیاں ان پر نازل ہوتیں لیکن تمہارے افعال کا اظہار قیامت کے دن پر مؤخر رکھا گیا ہے اور یہ بہت بھاری اور بڑا ہے۔‏‏‏‏“ پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا ”سنو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گوٹھ لگائے ہوئے بیٹھے تھے فرمانے لگے { جس کے پاس جتنی شراب ہو وہ ہمارے پاس لائے }۔ لوگوں نے لانی شروع کی، جس کے پاس جتنی تھی حاضر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جاؤ اسے بقیع کے میدان میں فلاں فلاں جگہ رکھو۔ جب سب جمع ہوجائے مجھے خبر کرو }۔ جب جمع ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے جانب تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر ٹیک لگائے چل رہے تھے۔

{ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہٹا دیا اپنے بائیں کردیا اور میری جگہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے لے لی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقت ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور پیچھے ہٹا دیا اور جناب فاروق رضی اللہ عنہ کو اپنے بائیں لے لیا اور وہاں پہنچے لوگوں سے فرمایا: { جانتے ہو یہ کیا ہے؟ } سب نے کہا ہاں جانتے ہیں یہ شراب ہے۔ فرمایا: { سنو اس پر اس کے بنانے والے پر، بنوانے والے پر، پینے والے پر، پلانے والے پر، اٹھانے والے پر، اٹھوانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدنے والے پر، قیمت لینے والے پر اللہ کی پھٹکار ہے }۔ پھر چھری منگوائی اور فرمایا: { اسے تیز کرلو }۔ پھر اپنے ہاتھ سے مشکیں پھاڑنی اور مٹکے توڑنے شروع کئے لوگوں نے کہا بھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مشکوں اور مٹکوں کو رہنے دیجئیے اور کام آئیں گی۔ فرمایا: { ٹھیک ہے لیکن میں تو اب ان سب کو توڑ کر ہی رہوں گا یہ غضب و غصہ اللہ کیلئے ہے کیونکہ ان تمام چیزوں سے رب ناراض ہے }۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود کیوں تکلیف کرتے ہیں ہم حاضر ہیں۔ فرمایا: { نہیں میں اپنے ہاتھ سے انہیں نیست و نابود کروں گا}۔ ۱؎ [بیھقی:287/8:صحیح] ‏‏‏‏

بیہقی کی حدیث میں ہے کہ ”شراب کے بارے میں چار آیتیں اتری ہیں۔ پھر حدیث بیان فرما کر کہا کہ ایک انصاری نے دعوت کی ہم دعوت میں جمع ہوئے خوب شرابیں پیں۔ نشے میں جھومتے ہوئے اپنے نام و نسب پر فخر کرنے لگے، ہم افضل ہیں۔ قریشی نے کہا ہم افضل ہیں۔ ایک انصاری نے اونٹ کے جبڑا لے کرسیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو مارا اور ہاتھا پائی ہونے لگی پھر شراب کی حرمت کی آیت اتری۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح مسلم:1748] ‏‏‏‏ بیہقی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ شراب پی کر بدمست ہو گئے اور آپس میں لاف زنی ہونے لگی جب نشے اترے تو دیکھتے ہیں اس کی ناک پر زخم ہے اس کے چہرے پر زخم ہے اس کی داڑھی نچی ہوئی ہے اور اسے چوٹ لگی ہوئی ہے، کہنے لگے مجھے فلاں نے مارا میری بے حرمتی فلاں نے کی اگر اس کا دل میری طرف سے صاف ہوتا تو میرے ساتھ یہ حرکت نہ کرتا دلوں میں نفرت اور دشمنی بڑھنے لگی پس یہ آیت اتری۔ اس پر بعض لوگوں نے کہا جب یہ گندگی ہے تو فلاں فلاں صحابہ رضی اللہ عنہم تو اسے پیتے ہوئے ہی رحلت کر گئے ہیں ان کا کیا حال ہو گا؟ ان میں سے بعض احد کے میدان میں شہید ہوئے ہیں اس کے جواب میں اگلی آیت «لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» ۱؎ [5-المائدة:93] ‏‏‏‏ الخ اتری۔ ۱؎ [بیہقی السنن الکبری:285/8:حسن] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے ”ابوبریدہ رضی اللہ عنہ کے والد کہتے ہیں کہ ہم چار شخص ریت کے ایک ٹیلے پر بیٹھے شراب پی رہے تھے دور چل رہا تھا جام گردش میں تھا ناگہاں میں کھڑا ہوا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سلام کیا وہیں حرمت شراب کی یہ آیت نازل ہوئی۔ میں پچھلے پیروں اپنی اسی مجلس میں آیا اور اپنے ساتھیوں کو یہ آیت پڑھ کر سنائی، بعض وہ بھی تھے، جن کے منہ سے جام لگا ہوا تھا لیکن واللہ انہوں نے اسی وقت اسے الگ کر دیا اور جتنا پیا تھا اسے قے کر کے نکال دیا اور کہنے لگے یا اللہ ہم رک گئے ہم باز آ گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12527:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ”جنگ احد کی صبح بعض لوگوں نے شرابیں پی تھیں اور میدان میں اسی روز اللہ کی راہ میں شہید کر دیئے گئے اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4618] ‏‏‏‏ بزار میں یہ ذیادتی بھی ہے کہ اسی پر بعض یہودیوں نے اعتراض کیا اور جواب میں آیت «لَيْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:93] ‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ { ایک شخص خیبر سے شراب لا کر مدینے میں فروخت کیا کرتا تھا ایک دن وہ لا رہا تھا ایک صحابی رضی اللہ عنہ راستے میں ہی اسے مل گئے اور فرمایا شراب تو اب حرام ہو گئی وہ واپس مڑگیا اور ایک ٹیلے تلے اسے کپڑے سے ڈھانپ کر آگیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کیا یہ سچ ہے کہ شراب حرام ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں سچ ہے }۔ کہا پھر مجھے اجازت دیجئیے کہ جس سے لی ہے اسے واپس کر دوں۔ فرمایا: { اس کا لوٹانا بھی جائز نہیں }، کہا پھر اجازت دیجئیے کہ میں اسے ایسے شخص کو تحفہ دوں جو اس کا معاوضہ مجھے دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ بھی ٹھیک نہیں }۔ کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس میں یتیموں کا مال بھی لگا ہوا ہے۔ فرمایا: { دیکھو جب ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا اس سے ہم تمہارے یتیموں کی مدد کریں گے }۔ پھر مدینہ میں منا دی ہوگئی۔ ایک شخص نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم شراب کے برتنوں سے نفع حاصل کرنے کی اجازت دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جاؤ مشکوں کو کھول ڈالو اور شراب بہا دو اس قدر شراب بہی کہ میدان بھر گئے } }۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1884:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میرے ہاں جو یتیم بچے پل رہے ہیں ان کے ورثے میں انہیں شراب ملی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جاؤ اس بہا دو }۔ عرض کیا اگر اجازت ہو تو اس کا سرکہ بنا لوں؟ فرمایا: { نہیں } }۔ یہ حدیث مسلم ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1983] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ”عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جیسے یہ آیت قرآن میں ہے تورات میں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق کو نازل فرمایا تاکہ اس کی وجہ سے باطل کو دور کر دے اور اس سے کھیل تماشے باجے گاجے بربط دف طنبورہ راگ راگنیاں فنا کر دے۔ شرابی کیلئے شراب نقصان دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ ’ جو اسے حرمت کے بعد پئے گا اسے میں قیامت کے دن پیاسا رکھوں گا اور حرمت کے بعد جوا سے چھوڑے گا میں اسے جنت کے پاکیزہ چشمے سے پلاؤں گا ‘۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1196/4:موقوف] ‏‏‏‏ حدیث شریف میں ہے { جس شخص نے نشہ کی وجہ سے ایک وقت کی نماز چھوڑی وہ ایسا ہے جیسے کہ سے روئے زمین کی سلطنت جھن گئی اور جس شخص نے چار بار کی نماز نشے میں چھوڑ دی اللہ تعالیٰ اسے «طِينَةِ الْخَبَالِ» پلائے گا۔ پوچھا گیا کہ یہ «طِينَةِ الْخَبَالِ» کیا ہے؟ فرمایا: { جہنمیوں کا لہو پیپ پسینہ پیشاب وغیرہ }۔ ۱؎ [مسند احمد:178/2:حسن] ‏‏‏‏

ابو داؤد میں ہے کہ { { ہر عقل کو ڈھانپنے والی چیز خمر ہے اور ہر نشہ والی چیز حرام ہے اور جو شخص نشے والی چیز پئے گا اس کی چالیس دن کی نمازیں ناقبول ہیں۔ اگر وہ توبہ کرے گا تو توبہ قبول ہو گی اگر اس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور «طِينَةِ الْخَبَالِ» پلائے گا } پوچھا گیا وہ کیا ہے؟ فرمایا { جہنمیوں کا نچوڑ اور ان کی پیپ اور جو شخص اسے کسی بچہ کو پلائے گا جو حلال حرام کی تمیز نہ رکھتا ہو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اسے بھی جہنمیوں کا پیپ پلائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3680،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ بخاری مسلم وغیرہ میں ہے { دنیا میں جو شراب پیئے گا اور توبہ نہ کرے گا وہ جنت کی شراب سے محروم رہے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5575] ‏‏‏‏

صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر نشے والی چیز خمر ہے اور ہر نشے والی چیز حرام ہے اور جس شخص نے شراب کی عادت ڈالی اور بے توبہ مر گیا وہ جنت کی شراب سے محروم رہے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2003] ‏‏‏‏ نسائی وغیرہ میں ہے { تین شخصوں کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر رحمت سے نہ دیکھے گا، ماں باپ کا نافرمان، شراب کی عادت والا اور اللہ کی راہ میں دے کر احسان جتلانے والا }۔ ۱؎ [سنن نسائی:2563،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { دے کر احسان جتانے والا، ماں باپ کا نافرمان اور شرابی جنت میں نہیں جائے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:27/3:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں اس کے ساتھ ہی ہے کہ { زنا کی اولاد بھی }۔ ۱؎ [مسند احمد:203/2:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”شراب سے پرہیز کرو وہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ سنو اگلے لوگوں میں ایک ولی اللہ تھا جو بڑا عبادت گزر تھا اور تارک دنیا تھا۔ بستی سے الگ تھلگ ایک عبادت خانے میں شب و روز عبادت الٰہی میں مشغول رہا کرتا تھا، ایک بدکار عورت اس کے پیچھے لگ گئی، اس نے اپنی لونڈی کو بھیج کر اسے اپنے ہاں ایک شہادت کے بہانے بلوایا، یہ چلے گئے لونڈی اپنے گھر میں انہیں لے گئی جس دروازے کے اندر یہ پہنچ جاتے پیچھے سے لونڈی اسے بند کرتی جاتی۔ آخری کمرے میں جب گئے تو دیکھا کہ ایک بہت ہی خوبصورت عورت بیٹھی ہے، اس کے پاس ایک بچہ ہے اور ایک جام شراب لبالب بھرا رکھا ہے۔ اس عورت نے اس سے کہا سنئے جناب میں نے آپ کو درحقیقت کسی گواہی کیلئے نہیں بلوایا فی الواقع اس لیے بلوایا ہے کہ یا تو آپ میرے ساتھ بدکاری کریں یا اس بچے کو قتل کر دیں یا شراب کو پی لیں درویش نے سوچ کر تینوں کاموں میں ہلکا کام شراب کا پینا جان کر جام کو منہ سے لگا لیا، سارا پی گیا۔ کہنے لگا اور لاؤ اور لاؤ، خوب پیا، جب نشے میں مدہوش ہو گیا تو اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر بیٹھا اور اس لڑکے کو بھی قتل کر دیا۔ پس اے لوگو! تم شراب سے بچو سمجھ لو کہ شراب اور ایمان جمع نہیں ہوتے ایک کا آنا دوسرے کا جانا ہے۔‏‏‏‏“ [بیہقی] ‏‏‏‏ امام ابوبکر بن ابی الدنیا رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ذم المسکر میں بھی اسے وارد کیا ہے اور اس میں مرفوع ہے لیکن زیادہ صحیح اس کا موقوف ہونا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» اس کی شاہد بخاری و مسلم کی مرفوع حدیث بھی ہے جس میں ہے کہ { زانی زنا کے وقت، چور چوری کے وقت، شرابی شراب خوری کے وقت مومن نہیں رہتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5578] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب شراب حرام ہوئی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ اس کی حرمت سے پہلے جو لوگ انتقال کر چکے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت «‏‏‏‏لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُ
93۔ 1 حرمت شراب کے بعد بعض صحابہ ؓ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ ہمارے کئی ساتھی جنگوں میں شہید یا ویسے ہی فوت ہوگئے۔ جب کہ وہ شراب پیتے رہے ہیں۔ تو اس آیت میں اس شبہ کا ازالہ کردیا گیا کہ ان کا خاتمہ ایمان وتقویٰ پر ہی ہوا ہے کیونکہ شراب اس وقت تک حرام نہیں ہوئی تھی۔
(آیت 93) ➊ {لَيْسَ عَلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …:} یعنی اس کی حرمت سے پہلے ایمان اور عمل صالح والے جو لوگ شراب پیتے رہے اور جوا کھیلتے رہے، ان پر اس سے کوئی مؤاخذہ نہیں ہو گا۔ یہ آیت اس وقت اتری جب شراب کی حرمت نازل ہونے کے بعد بعض صحابہ یہ کہنے لگے کہ ہمارے ان بھائیوں کا کیا حال ہو گا جو شراب پیتے اور جوا کھیلتے تھے اور ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کیا بدلہ ملے گا جو جنگ احد میں شہید ہو گئے، حالانکہ شراب ان کے پیٹوں میں تھی۔ (کبیر، ابن کثیر) ➋ {اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا …:} یہاں تقویٰ کا حکم تین دفعہ دینے سے مراد یا تو تاکید ہے یا پہلے {”اتَّقَوْا “} سے مراد شرک سے بچے، دوسرے تقویٰ سے مراد شراب سے بچے اور تیسرے تقویٰ سے مراد سب بری باتوں سے بچے یا تقویٰ پر قائم رہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ پہلے {” اتَّقَوْا “} سے مراد شرک سے بچے، دوسرے سے مراد گناہوں سے بچے اور تیسرے سے مراد صغیرہ گناہوں سے بچے۔ اسی طرح {”اٰمَنُوْا “} میں پہلے ایمان سے مراد اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ہے اور دوسرے سے مراد ایمان پر ثابت رہنا ہے۔ تیسری مرتبہ {” اٰمَنُوْا “} کے بجائے {”اَحْسَنُوْا “} فرمایا یعنی لوگوں کے ساتھ احسان کریں اور عبادت میں احسان حاصل کریں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، پھر اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَیَبۡلُوَنَّکُمُ اللّٰہُ بِشَیۡءٍ مِّنَ الصَّیۡدِ تَنَالُہٗۤ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ رِمَاحُکُمۡ لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ مَنۡ یَّخَافُہٗ بِالۡغَیۡبِ ۚ فَمَنِ اعۡتَدٰی بَعۡدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۹۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ تمہیں اُس شکار کے ذریعہ سے سخت آزمائش میں ڈالے گا جو بالکل تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہوگا، یہ دیکھنے کے لیے کہ تم میں سے کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے، پھر جس نے اس تنبیہ کے بعد اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے تجاوز کیا اُس کے لیے درد ناک سزا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ قدرے شکار سے تمہارا امتحان کرے گا جن تک تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہنچ سکیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ معلوم کرلے کہ کون شخص اس سے بن دیکھے ڈرتا ہے سو جو شخص اس کے بعد حد سے نکلے گا اس کے واسطے دردناک سزا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والوں ضرور اللہ تمہیں آزمائے گا ایسے بعض شکار سے جس تک تمہارا ہاتھ اور نیزے پہنچیں کہ اللہ پہچان کرادے ان کی جو اس سے بن دیکھے ڈرتے ہیں، پھر اس کے بعد جو حد سے بڑھے اس کے لئے دردناک عذاب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! خدا تمہیں ضرور اس شکار کے ذریعہ سے آزمائے گا جسے تمہارے یہ ہاتھ اور نیزے پا جائیں (تمہاری زد میں ہو) تاکہ وہ (حسب ظاہر) یہ دیکھے کہ غائبانہ طور پر کون اس سے ڈرتا ہے؟ اور جس نے تنبیہ کے بعد بھی حد سے تجاوز کیا تو اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یقینا اللہ تمھیں شکار میں سے کسی چیز کے ساتھ ضرور آزمائے گا، جس پر تمھارے ہاتھ اور نیزے پہنچتے ہوں گے، تاکہ اللہ جان لے کون اس سے بن دیکھے ڈرتا ہے، پھر جو اس کے بعد حد سے بڑھے تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احرام میں شکار کے مسائل کی تفصیلات ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چھوٹے چھوٹے شکار اور کمزور شکار اور ان کے بچے جنہیں انسان اپنے ہاتھ سے پکڑلے اور اپنے نیزے کی نوک پر رکھ لے اس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرے گا۔ یعنی انہیں منع فرمایا ہے کہ تم باوجود اس کے بھی ان کا شکار حالت احرام میں نہ کرو خواہ چھوٹے ہوں خواہ بڑے خواہ آسانی سے شکار ہو سکتا ہو خواہ سختی سے۔ چنانچہ عمرہ حدیبیہ کے موقعہ پر یہی ہوا کہ قسم قسم کے شکار اس قدر بکثرت آپڑے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے خیموں میں گھسنے لگے ادھر اللہ کی طرف سے ممانعت ہوگئی تاکہ پوری آزمائش ہو جائے ادھر شکار گویا ہنڈیا میں ہے ادھر ممانعت ہے ہتھیار تو کہاں یونہی اگر چاہیں تو ہاتھ سے پکڑ سکتے ہیں اور پوشیدہ طور سے شکار قبضہ میں کر سکتے ہیں۔ یہ صرف اس لیے تھا کہ فرمانبردار اور نافرمان کا امتحان ہو جائے پوشیدگی میں بھی اللہ کا ڈر رکھنے والے غیروں سے ممتاز ہو جائیں۔ چنانچہ فرمان ہے کہ ’ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے غائبانہ ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بڑی بھاری مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔ اب جو شخص اس حکم کے آنے کے بعد بھی حالت احرام میں شکار کھیلے گا شریعت کی مخالفت کرے گا ‘۔

پھر فرمایا ’ ایماندارو حالت احرام میں شکار نہ کھیلو ‘۔ یہ حکم اپنے معنی کی حیثیت سے تو حلال جانوروں اور ان سے جو چیزیں حاصل ہوتی ہیں کیلئے ہے، لیکن جو خشکی کے حرام جانور ہیں ان کا شکار کھیلنا امام شافعی رحمة الله کے نزدیک تو جائز ہے اور جمہور کے نزدیک حرام ہے، ہاں اس عام الحکم سے صرف وہ چیزیں مخصوص ہیں جن کا ذکر بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پانچ جانور فاسق ہیں وہ حرام میں قتل کر دیئے جائیں اور غیر حرم میں بھی، کوا، چیل بچھو، چوہا اور کانٹے والا کالا کتا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3314] ‏‏‏‏ اور روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ { ان پانچ جانوروں کے قتل میں احرام والے پر بھی کوئی گناہ نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1862] ‏‏‏‏ اس روایت کو سن کر حضرت ایوب رحمہ اللہ اپنے استاد نافع رحمہ اللہ سے پوچھتے ہیں کہ سانپ کا کیا حکم ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”وہ اس میں شامل ہے یہ بھی قتل کر دیا جائے۔‏‏‏‏“ اس میں کسی کو اختلاف نہیں بعض علماء نے جیسے امام احمد،امام مالک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ نے کتے کے حکم پر درندوں کو بھی رکھا ہے جیسے بھیڑیا شیر وغیرہ۔ اس لیے کہ یہ کتے سے بہت زیادہ ضرر والے ہیں۔ زید بن اسلم اور سفیان بن عیینہ رحمة الله علیہم فرماتے ہیں کہ ہر حملہ کرنے والے درندے کا حکم ہے دیکھئیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ بن ابولہب کے حق میں جب دعا کی تو فرمایا: { اے اللہ اس پر شام میں اپنا کوئی کتا مقرر کر دے }، پاس جب وہ زرقا میں پہنچا وہاں اسے بھیڑئیے نے پھاڑ ڈالا۔ ہاں اگر محرم نے حالت احرام میں کوے کو یا لومڑی وغیرہ کو مار ڈالا تو اسے بدلہ دینا پڑے گا۔ اسی طرح ان پانچوں قسم کے جانوروں کے بچے اور حملہ کرنے والے درندوں کے بچے بھی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔

امام شافعی رحمة الله فرماتے ہیں ”ہر وہ جانور جو کھایا نہیں جاتا اس کے قتل میں اور اس کے بچوں کے قتل میں محرم پر کوئی حرج نہیں، وجہ یہ ہے کہ ان کا گوشت کھایا نہیں جاتا۔‏‏‏‏“ امام ابوحنیفہ رحمة الله فرماتے ہیں ”کالا کتا حملہ کرنے والا اور بھیڑیا تو محرم قتل کرسکتا ہے اس لیے کہ بھیڑیا بھی جنگلی کتا ہے ان کے سوا جس جانور کا شکار کھیلے گا فدیہ دنیا پڑے گا۔ ہاں اگر کوئی شیر وغیرہ جنگی درندہ اس پر حملہ کرے اور یہ اسے مار ڈالے تو اس صورت میں فدیہ نہیں۔‏‏‏‏“ آپ رحمہ اللہ کے شاگرد زفر رحمة الله کہتے ہیں یہ حملہ کرنے کی صورت میں بھی اگر مار ڈالے گا تو فدیہ دینا پڑے گا۔ بعض احادیث میں «الْغُرَابُ الْأَبْقَعُ» کا لفظ آیا ہے ۱؎ [صحیح مسلم:1198] ‏‏‏‏ یہ وہ کوا ہے جس کے پیٹ اور پیٹھ پر سفیدی ہوتی ہے۔ مطلق سیاہ اور بالکل سفید کوے کو غراب ابقع نہیں کہتے لیکن جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ہر قسم کے کوے کا یہی حکم ہے کیونکہ بخاری و مسلم کی حدیث میں مطلق کوے کا ذکر ہے۔ امام ملک رحمة الله فرماتے ہیں کوے کو بھی اس حال میں مار سکتا ہے کہ وہ اس پر حملہ کرے یا اسے ایذاء دے مجاہد رحمة الله وغیرہ کا قول ہے کہ اس حالت میں بھی مار نہ ڈالے بلکہ اسے پتھر وغیرہ پھینک کر ہٹا دے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ محرم کس کس جانور کو قتل کر دے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سانپ، بچھو اور چوہا اور کوے کو کنکر مارے اسے مار نہ ڈالے اور کالا کتا اور چیل اور حملہ کرنے والا درندہ } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1198،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے کہ ’ جو شخص جان بوجھ کر حالت احرام میں شکار کرے اس پر فدیہ ہے ‘۔ حضرت طاؤس رحمة الله کا فرمان ہے کہ ”خطا سے قتل کرنے والے پر کچھ نہیں۔‏‏‏‏“ لیکن یہ مذہب غریب ہے اور آیت کے ظاہری الفاظ سے یہی مشتق ہے۔ مجاہد بن جیبر رحمة الله سے مروی ہے کہ ”مراد وہ شخص ہے جو شکار تو قصداً کرتا ہے لیکن اپنی حالت احرام کی یاد اسے نہیں رہی۔ لیکن جو شخص باوجود احرام کی یاد کے عمداً شکار کرے وہ تو کفارے کی حد سے نکل گیا اس کا احرام باطل ہوگیا۔‏‏‏‏“ یہ قول بھی غریب ہے۔ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ قصداً شکار کرنے والا اور بھول کر کرنے والا دونوں کفارے میں برابر ہیں امام زہری رحمة الله فرماتے ہیں ”قرآن سے تو قصداً شکار کھیلنے والے پر کفارہ ثابت ہوا اور حدیث نے یہی حکم بھولنے والے کا بھی بیان فرمایا۔‏‏‏‏“ مطلب اس قول کا یہ ہے کہ قصداً شکار کھیلنے والے پر کفارہ قرآن کریم سے ثابت ہے اور اس کا گنہگار ہونا بھی۔ کیونکہ اس کے بعد آیت «لِّيَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِهٖ» ۱؎ [5-المائدہ:95] ‏‏‏‏ میں فرمایا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم سے خطا میں بھی یہی حکم ثابت ہے اور اس لیے بھی کہ شکار کو قتل کرنا اس کا تلف کرنا ہے اور ہر تلف کرنے کا بدلہ ضروری ہے خواہ وہ بالقصد ہو یا انجان پنے سے ہو۔ ہاں قصداً کرنے والا گنہگار بھی ہے اور بلا قصد جس سے سرزد ہو جائے وہ قابل ملامت نہیں۔

پھر فرمایا ’ اس کا بدلہ یہ ہے کہ اسی کے مثل چوپایہ جانور راہ للہ قربان کرے ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «فَجَزَاۤؤُهُ» ہے ان دونوں قرأتوں میں مالک، شافعی، احمد رحمة الله علیہم اور جمہور کی دلیل ہے کہ جب شکار چوپایوں کی مانند ہو تو وہی اس کے بدلے میں دینا ہوگا۔ امام ابوحنیفہ رحمة الله اس کے خلاف کہتے ہیں کہ خواہ شکار کے کسی جانور کی مثل ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں قیمت دینی پڑے گی ہاں اس محرم شکاری کو اختیار ہے کہ خواہ اس قیمت کو صدقہ کردے خواہ اس سے قربانی کا کوئی جانور خرید لے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ امام صاحب کے اس قول سے صحابہ رضی اللہ عنہم کا فیصلہ ہمارے لیے زیادہ قابل عمل ہے انہوں نے شترمرغ کے شکار کے بدلے اونٹ مقرر کیا ہے اور جنگلی گائے کے بدلے پالتو گائے مقرر فرمائی ہے اور ہرن کے بدلے بکری۔ یہ فیصلے ان بزرگ صحابیوں کی سندوں سمیت احکام کی کتابوں میں موجود ہیں جہاں شکار جیسا اور کوئی پالتو چوپایہ نہ ہو اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فیصلہ قیمت کا ہے جو مکہ شریف پہنچائی جائے۔ [بیہقی] ‏‏‏‏

پھر فرمایا کہ ’ اس کا فیصلہ دو عادل مسلمان کردیں ‘ کہ کیا قیمت ہے یا کون سا جانور بدلے میں دیا جائے۔ فقہاء نے اس بارے میں اختلاف کیا کہ فیصلہ کرنے والے دو میں ایک خود قاتل ہو سکتا ہے یا نہیں؟ تو امام مالک رحمة الله وغیرہ نے تو انکار کیا ہے کیونکہ اسی کا معاملہ ہو اور وہی حکم کرنے والا ہو اور امام شافعی امام احمد رحمة الله علیہم وغیرہ نے آیت کے عموم کو سامنے رکھ کر فرمایا ہے کہ ”یہ بھی ہو سکتا ہے۔‏‏‏‏“ پہلے مذہب کی دلیل تو یہ ہے کہ خود حاکم اپنے اوپر اپنا ہی حکم کرکے اسی حکم میں اپنا منصف آپ نہیں بن سکتا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک اعرابی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا میں نے ایک شکار کو احرام کی حالت میں قتل کر دیا ہے اب آپ رضی اللہ عنہ فرمائیے کہ اس میں مجھ پر بدلہ کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ کر ان سے دریافت فرمایا کہ ”آپ رضی اللہ عنہ فرمائیے کیا حکم ہے؟“ اس پر اعرابی نے کہا سبحان اللہ میں آپ رضی اللہ عنہ سے دریافت کرنے آیا ہوں آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کسی سے دریافت فرما رہے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس میں تیرا کیا بگڑا؟“ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ دو عادل جو فیصلہ کر دیں اس لیے میں نے اپنے ساتھی سے دریافت کیا۔ جب ہم دونوں کسی بات پر اتفاق کر لیں گے تو تجھ سے کہہ دیں گے۔ اس کی سند تو بہت مضبوط ہے لیکن اس میں میمون اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے۔ یہاں یہی چاہیئے تھا صدیق رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ اعرابی جاہل ہے اور جہل کی دوا تعلیم ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے نرمی اور محبت سے سمجھا دیا اور جبکہ اعتراض کرنے والا خود مدعی علم ہو پھر وہاں یہ صورت نہیں رہتی۔ چنانچہ ابن جریر میں ہے قبیصہ بن جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم حج کیلئے چلے ہماری عادت تھی کہ صبح کی نماز پڑھتے ہی ہم سواریوں سے اتر پڑتے اور انہیں چلاتے ہوئے باتیں کرتے ہوئے پیدل چل پڑتے۔ ایک دن اسی طرح جا رہے تھے کہ ایک ہرن ہماری نگاہ میں پڑا ہم میں سے ایک شخص نے اسے پتھر مارا جو اسے پوری طرح لگا اور وہ مر کر گرگیا وہ شخص اسے مردہ چھوڑ کر اپنی سواری پر سوار ہو گیا۔ ہمیں یہ کام بڑا برا معلوم ہوا اور ہم نے اسے بہت کچھ کہا سنا مکہ شریف پہنچ کر میں اسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا اس نے سارا واقعہ خود بیان کیا۔

اس وقت جناب فاروق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں ایک صاحب کھڑے تھے جن کا چہرہ چاندی کی طرح جگمگا رہا تھا یہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر کچھ باتیں کیں پھر میرے ساتھی سے فرمایا کہ ”تو نے اسے جان بوجھ کر مار ڈالا یا بھول چوک سے۔‏‏‏‏“ اس نے کہا میں نے پتھر اسی پر پھینکا اور قصداً پھینکا لیکن اسے مار ڈالنے کی میری نیت نہ تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”پھر تو خطا اور عمد کے درمیان درمیان ہے۔ جا تو ایک بکری ذبح کر دے اس کا گوشت صدقہ کر دے اور اس کی کھال اپنے کام میں لا۔‏‏‏‏“ یہ سن کر ہم وہاں سے چلے آئے میں نے اپنے ساتھی سے کہا دیکھ تو نے بڑا قصور کیا ہے اللہ جل شانہ کی نشانیوں کی تجھے عظمت کرنی چاہیئے اور ایک بات یہ بھی ہے کہ خود امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کو تو یہ مسئلہ معلوم نہ تھا انہوں نے اپنے ساتھی سے دریافت کیا میرے خیال سے تو اپنی اونٹنی اللہ کے نام سے قربان کر دے شاید اس سے تیرا جرم معاف ہو جائے۔ افسوس کہ اس وقت مجھے یہ آیت یاد ہی نہ رہی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تو اس حکم پر عمل کیا ہے کہ دو عادل شخص باہم اتفاق سے جو فیصلہ کریں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی میرا یہ فتوی دینا معلوم ہو گیا اچانک آپ رضی اللہ عنہ کوڑہ لیے ہوئے آگئے۔ اول تو میرے ساتھی پر کوڑا اٹھا کر فرمایا ”تو نے ایک تو جرم میں قتل کیا دوسرے حکم کی تعمیل میں بیوقوفی کر رہا ہے۔‏‏‏‏“ اب میری طرف متوجہ ہوئے میں نے کہا امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ اگر آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے تکلیف پہنچائی تو میں آپ رضی اللہ عنہ کو آج کی تکلیف ہرگز معاف نہیں کروں گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نرم پڑ گئے اور مجھ سے فرمانے لگے ”اے قبصیہ میرے خیال سے تو تو جوانی کی عمر والا کشادہ سینے والا اور چلتی زبان والا ہے۔ یاد رکھ نوجوانوں میں اگر نو خصلتیں اچھی ہوں اور ایک بری ہو تو وہ ایک بری خصلت نو بھلی خصلتوں کو مات کر دیتی ہے۔ سن جوانی کی لغزشوں سے بچا رہ۔‏‏‏‏“ ابن جریر میں ہے کہ سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے احرام کی حالت میں ایک ہرن کا شکار کر لیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جاؤ اپنے دو رشتے داروں کو لے آؤ وہی فیصلہ کریں گے“ میں جا کر عبدالرحمٰن کو اور سعد رضی اللہ عنہم کو بلا لایا۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ میں ایک موٹا تازہ بکرا فدیہ دوں۔

حضرت طارق رحمة الله فرماتے ہیں ”ایک شخص نے ایک ہرن کو تیر مارا وہ مر گیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس نے مسئلہ پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے خود اس کو بھی مشورے میں شریک کرلیا دونوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ گھر کی پالتو بکری راہ للہ قربان کرو اس میں یہ دلیل ہے کہ خود قاتل بھی دو حکم کرنے والوں میں ایک بن سکتا ہے۔ جیسے کہ امام شافعی رحمة الله اور امام احمد رحمة الله کا مذہب ہے۔ پھر آیا ہر معاملہ میں اب بھی موجودہ لوگوں میں سے دو حکم فیصلہ کریں گے یا صحابہ رضی اللہ عنہم کے فیصلے کافی ہیں؟ اس میں بھی اختلاف ہے امام مالک اور امام ابوحنیفہ رحمة الله علیہم فرماتے ہیں ہر فیصلہ اس وقت کے موجود دو عقلمند لوگوں سے کرایا جائے گو اس میں پہلے کا کوئی فیصلہ ہو یا نہ ہو۔

پھر فرماتا ہے ’ یہ فدیئے کی قربانی حرم میں پہنچے ‘ یعنی وہیں ذبح ہو اور وہیں اس کا گوشت مسکینوں میں تقسیم ہو اس پر سب کا اتفاق ہے پھر فرمایا کفارہ ہے مسکینوں کا کھانا کھلانا یا اس کے برابر کے روزے، یعنی جب محرم اپنے قتل کئے ہوئے شکار کے مانند کوئی جانور نہ پائے یا خود شکار ایسا ہوا ہی نہیں جس کے مثل کوئی جانور پالتو ہو یہاں پر لفظ «او» اختیار کے ثابت کرنے کیلئے ہے یعنی بدلے کے جانور میں کھانا کھالانے میں اور روزے رکھنے میں اختیار ہے جیسے کہ امام مالک، امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد بن حسن اور امام شافعی رحمة الله علیہم کے دو قولوں میں سے ایک قول اور امام احمد رحمة الله کا مشہور قول ہے اور آیت کے ظاہر الفاظ بھی یہی ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ترتیب وار ہیں، یعنی پہلے تو بدلہ پس مالک، ابوحنیفہ رحمہ اللہ ان کے ساتھی، حماد اور ابراہیم رحمة الله علیہم کا تو قول ہے کہ خود شکار کی قیمت لگائی جائے گی اور امام شافعی رحمة الله فرماتے ہیں شکار کے برابر کے جانور کی قیمت لگائی جائے گی اگر وہ موجود ہو پھر اس کا اناج خریدا جائے گا اور اس میں سے ایک ایک مد ایک ایک مسکین کو دیا جائے گا مالک اور فقہاء حجاز کا قول بھی یہی ہے، امام ابوحنیفہ رحمة الله اور ان کے ساتھی کہتے ہیں ہر مسکین کو دو مد دیئے جائیں گے مجاہد رحمة الله کا قول یہی ہے، امام احمد رحمة الله فرماتے ہیں گیہوں ہوں تو ایک مد اور اس کے سوا کچھ ہو تو دو مد، پس اگر نہ پائے یا اختیار اس آیت سے ثابت ہو جائے تو ہر مسکین کے کھانے کے عوض ایک روزہ رکھ لے، بعض کہتے ہیں جتنا اناج ہو اس کے ہر ایک صاع کے بدلے ایک روزہ رکھے جیسے کہ اس شخص کے لیے یہ حکم ہے جو خوشبو وغیرہ لگائے۔ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ایک فرق کو چھ شخصوں کے درمیان تقسیم کر دیں یا تین دن کے روزے رکھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1815] ‏‏‏‏ فرق تین صاع کا ہوتا ہے اب کھانا پہنچانے کی جگہ میں بھی اختلاف ہے، امام شافعی رحمة الله کا فرمان ہے کہ اس کی جگہ حرم ہے، عطاء کا قول بھی یہی ہے، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جہاں شکار کیا ہے وہیں کھلوا دے، یا اس سے بہت زیادہ کی قریب کی جگہ میں، امام ابوحنیفہ رحمة الله فرماتے ہیں خواہ حرم میں خواہ غیر حرم میں اختیار ہے۔

سلف کی اس آیت کے متعلق اقوال ملاحظہ ہوں، ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب محرم شکار کھیل لے اس پر اس کے بدلے کے چوپائے کا فیصلہ کیا جائے گا اگر نہ ملے تو دیکھا جائے گا کہ وہ کس قیمت کا ہے، پھر اس نقدی کے اناج کا اندازہ کیا جائے گا پھر جتنا اناج ہو گا اسی کے ناپ سے ہر نصف صاع کے بدلے ایک روزہ رکھنا ہو گا پھر جب طعام پایا جائے گا جزا پالی گئی۔‏‏‏‏“ اور روایت میں ہے جب محرم نے ہرن کو مار ڈالا تو اس پر ایک بکری ہے جو مکے میں ذبح کی جائے گی اگر نہ پائے تو چھ مسکین کا کھانا ہے اگر نہ پائے تو تین روزے ہیں اگر کسی نے اونٹ کو قتل کیا تو اس کے ذمہ ایک گائے ہے اگر نہ پائے تو بیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو بیس روزے، اگر شتر مرغ یا گورخر وغیرہ مارا ہے تو اس پر ایک اونٹنی ہے اگر نہ ملے تو تیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو تین روزے ہیں۔ اگر کسی نے اونٹ کو قتل کیا تو اس کے ذمہ ایک گائے ہے اگر نہ پائے تو بیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو بیس روزے، اگر شتر مرغ یا گورخر غیرہ مارا ہے تو اس پر ایک اونٹنی ہے اگر نہ ملے تو تیس مسکینوں کا کھانا ہے اگر نہ پائے تو تیس دن کے روزے۔ ابن جریر کی اسی روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ طعام ایک ایک مد ہو جو ان کا پیٹ بھر دے، دوسرے بہت سے تابعین نے بھی طعام کی مقدار بتلائی ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب چیزیں ترتیب وار ہیں اور بزرگ فرماتے ہیں کہ تینوں باتوں میں اختیار ہے، امام ابن جریر رحمة الله کا مختار قول بھی یہی ہے۔

پھر فرمان ہے کہ ’ یہ کفارہ ہم نے اس لیے واجب کیا ہے کہ وہ اپنے کرتوت کی سزا کو پہنچ جائے، زمانہ جاہلیت میں جو کچھ کسی نے خطا کی ہے وہ اسلام کی اچھائی کی وجہ سے معاف ہے، اب اسلام میں ان احکام کی موجودگی میں بھی پھر سے اگر کوئی شخص یہ گناہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا ‘۔ گو اس میں حد نہیں امام وقت اس پر کوئی سزا نہیں دے سکتا یہ گناہ اللہ اور بندے کے درمیان ہے ہاں اسے فدیہ ضرور دینا پڑے گا یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فدیہ ہی انتقام ہے۔ یہ یاد رہے کہ جب کبھی محرم حالت احرام میں شکار کو مارے گا اس پر بدلہ واجب ہو گا خواہ کئی دفعہ اس سے یہ حرکت ہو جائے اور خواہ عمداً ہو خواہ خطا ہو ایک دفعہ شکار کے بعد اگر دوبارہ شکار کیا تو اسے کہہ دیا جائے کہ اللہ تجھ سے بدلہ لے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت یہ بھی مروی ہے کہ پہلی دفعہ کے شکار پر فدیہ کا حکم ہو گا دوبارہ کے شکار پر خود اللہ اس سے انتقام لے گا اس پر فیصلہ فدیہ کا نہ ہو گا لیکن امام ابن جریر کا مختار مذہب پہلا قول ہی ہے، امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک شخص نے محرم ہو کر شکار کیا اس پر فدائے کا فیصلہ کیا گیا اس نے پھر شکار کیا تو آسمان سے آگ آ گئی اور اسے جلا کر بھسم کر دیا یہی معنی ہیں اللہ کے فرمان آیت «‏‏‏‏فَيَنتَقِمُ اللَّهُ مِنْهُ» [5-المائدہ:95] ‏‏‏‏ کے۔ اللہ اپنی سلطنت میں غالب ہے اسے کوئی مغلوب نہیں کر سکتا کوئی اسے انتقام سے روک نہیں سکتا اس کا عذاب جس پر آ جائے کوئی نہیں جو اسے ٹال دے، مخلوق سب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے حکم اس کا سب پر نافذ ہے عزت اور غلبہ اسی کیلئے ہے، وہ اپنے نافرمانوں سے زبردست انتقام لیتا ہے۔
94۔ 1 شکار عربوں کی معاش کا ایک اہم عنصر تھا، اس لئے حالت احرام میں اس کی ممانعت کر کے ان کا امتحان لیا گیا۔ خاص طور پر حدیبیہ میں قیام کے دوران کثرت سے شکار صحابہ کے قریب آتے، لیکن انہی ایام میں 4 آیات کا نزول ہوا جن کے متعلقہ احکام بیان فرمائے گئے۔ 94۔ 2 قریب کا شکار یا چھوٹے جانور عام طور پر ہاتھ ہی سے پکڑ لئے جاتے تھے دور کے یا بڑے جانوروں کے لئے تیر اور نیزے استعمال ہوتے تھے۔ اس لئے صرف ان دونوں کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن مراد یہ ہے کہ جس طرح بھی اور جس چیز سے بھی شکار کیا جائے، احرام کی حالت میں ممنوع ہے۔
(آیت 94) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ …:} اس سے پہلے آیت: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ» ‏‏‏‏ [ المائدۃ: ۸۷ ] میں حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانے سے منع کیا تھا، اب اس آیت میں وہ حلال چیزیں ذکرکی ہیں جو کچھ وقت کے لیے بطور امتحان حرام فرمائی ہیں، یعنی احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا منع کر دیا، تاکہ فرماں برداروں اور نافرمانوں کی آزمائش ہو جائے کہ بن دیکھے اللہ سے کون ڈرتا ہے۔ ➋ {تَنَالُهٗۤ اَيْدِيْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ:} یعنی چھوٹے جانور یا جانوروں کے بچے جنھیں تم ہاتھ سے پکڑ سکتے ہو، یا بڑے جانور جن کا تم نیزوں سے شکار کر سکتے ہو۔ ➌ {فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ …:} یعنی اب جبکہ احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار منع کر دیا گیا ہے۔ (قرطبی) ➍ یہ اور اگلی آیات اس وقت نازل ہوئیں جب مسلمان حدیبیہ میں احرام باندھے ہوئے تھے اور خلاف معمول چھوٹے بڑے جنگلی جانور ان کے خیموں میں گھس آئے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ان کے شکار سے منع فرما دیا۔ (ابن کثیر)
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡتُلُوا الصَّیۡدَ وَ اَنۡتُمۡ حُرُمٌ ؕ وَ مَنۡ قَتَلَہٗ مِنۡکُمۡ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثۡلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحۡکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنۡکُمۡ ہَدۡیًۢا بٰلِغَ الۡکَعۡبَۃِ اَوۡ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیۡنَ اَوۡ عَدۡلُ ذٰلِکَ صِیَامًا لِّیَذُوۡقَ وَبَالَ اَمۡرِہٖ ؕ عَفَا اللّٰہُ عَمَّا سَلَفَ ؕ وَ مَنۡ عَادَ فَیَنۡتَقِمُ اللّٰہُ مِنۡہُ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴿۹۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! احرام کی حالت میں شکار نہ مارو، اور اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کر گزرے تو جو جانور اس نے مارا ہو اُسی کے ہم پلہ ایک جانور اُسے مویشیوں میں سے نذر دینا ہوگا جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے، اور یہ نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے گا، یا نہیں تو اِس گناہ کے کفارہ میں چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا، یااس کے بقدر روزے رکھنے ہوں گے، تاکہ وہ اپنے کیے کا مزہ چکھے پہلے جو ہو چکا اُسے اللہ نے معاف کر دیا، لیکن اب اگر کسی نے اس حرکت کا اعادہ کیا تو اس سے اللہ بدلہ لے گا، اللہ سب پر غالب ہے اور بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! (وحشی) شکار کو قتل مت کرو جب کہ تم حالت احرام میں ہو۔ اور جو شخص تم میں سے اس کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تو اس پر فدیہ واجب ہوگا جو کہ مساوی ہوگا اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا ہے جس کا فیصلہ تم میں سے دو معتبر شخص کردیں خواه وه فدیہ خاص چوپایوں میں سے ہو جو نیاز کے طور پر کعبہ تک پہنچایا جائے اور خواه کفاره مساکین کو دے دیا جائے اور خواه اس کے برابر روزے رکھ لئے جائیں تاکہ اپنے کئے شامت کا مزه چکھے، اللہ تعالیٰ نے گذشتہ کو معاف کردیا اور جو شخص پھر ایسی ہی حرکت کرے گا تو اللہ انتقام لے گا اور اللہ زبردست ہے انتقام لینے واﻻ
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! شکار نہ مارو جب تم احرام میں ہو اور تم میں جو اسے قصداً قتل کرے تو اس کا بدلہ یہ ہے کہ ویسا ہی جانور مویشی سے دے تم میں کہ دو ثقہ آدمی اس کا حکم کریں یہ قربانی ہو کہ کعبہ کو پہنچتی یا کفار ہ دے چند مسکینوں کا کھانا یا اس کے برابر روزے کہ اپنے کام کا وبال چکھے اللہ نے معاف کیا جو ہو گزرا اور جو اب کرے گا اس سے بدلہ لے گا، اور اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! شکار کو نہ مارو جبکہ تم احرام باندھے ہوئے ہو اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے گا تو اس کا جرمانہ مویشیوں سے کوئی جانور ہوگا۔ جو اس جانور کا ہم پلہ ہو جو اس نے مارا ہے جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل شخص کریں گے اور یہ جرمانہ بطور قربانی و نذرانہ خانہ کعبہ پہنچایا جائے گا۔ اس کا کفارہ چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا یا پھر اس کے برابر روزے رکھے جائیں گے۔ تاکہ وہ اپنے کئے کی سزا کا مزہ چکھے۔ تو پہلے جو ہو چکا اسے تو اللہ نے معاف کر دیا۔ اور جو پھر ایسا کرے گا تو اس سے اللہ انتقام (بدلہ) لے گا۔ اور اللہ غالب ہے (زبردست ہے) اور بدلہ لینے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! شکار کو مت قتل کرو، اس حال میں کہ تم احرام والے ہو اور تم میں سے جو اسے جان بوجھ کر قتل کرے تو چوپاؤں میں سے اس کی مثل بدلہ ہے جو اس نے قتل کیا، جس کا فیصلہ تم میں سے دو انصاف والے کریں، بطور قربانی جو کعبہ میں پہنچنے والی ہے، یا کفارہ ہے مسکینوں کو کھانا کھلانا، یا اس کے برابر روزے رکھنا ، تا کہ وہ اپنے کام کا وبال چکھے۔ اللہ نے معاف کر دیا جو گزر چکا اور جو دوبارہ کرے تو اللہ اس سے انتقام لے گا اور اللہ سب پر غالب، بڑے انتقام والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احرام میں شکار کے مسائل کی تفصیلات ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چھوٹے چھوٹے شکار اور کمزور شکار اور ان کے بچے جنہیں انسان اپنے ہاتھ سے پکڑلے اور اپنے نیزے کی نوک پر رکھ لے اس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرے گا۔ یعنی انہیں منع فرمایا ہے کہ تم باوجود اس کے بھی ان کا شکار حالت احرام میں نہ کرو خواہ چھوٹے ہوں خواہ بڑے خواہ آسانی سے شکار ہو سکتا ہو خواہ سختی سے۔ چنانچہ عمرہ حدیبیہ کے موقعہ پر یہی ہوا کہ قسم قسم کے شکار اس قدر بکثرت آپڑے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے خیموں میں گھسنے لگے ادھر اللہ کی طرف سے ممانعت ہوگئی تاکہ پوری آزمائش ہو جائے ادھر شکار گویا ہنڈیا میں ہے ادھر ممانعت ہے ہتھیار تو کہاں یونہی اگر چاہیں تو ہاتھ سے پکڑ سکتے ہیں اور پوشیدہ طور سے شکار قبضہ میں کر سکتے ہیں۔ یہ صرف اس لیے تھا کہ فرمانبردار اور نافرمان کا امتحان ہو جائے پوشیدگی میں بھی اللہ کا ڈر رکھنے والے غیروں سے ممتاز ہو جائیں۔ چنانچہ فرمان ہے کہ ’ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے غائبانہ ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بڑی بھاری مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔ اب جو شخص اس حکم کے آنے کے بعد بھی حالت احرام میں شکار کھیلے گا شریعت کی مخالفت کرے گا ‘۔

پھر فرمایا ’ ایماندارو حالت احرام میں شکار نہ کھیلو ‘۔ یہ حکم اپنے معنی کی حیثیت سے تو حلال جانوروں اور ان سے جو چیزیں حاصل ہوتی ہیں کیلئے ہے، لیکن جو خشکی کے حرام جانور ہیں ان کا شکار کھیلنا امام شافعی رحمة الله کے نزدیک تو جائز ہے اور جمہور کے نزدیک حرام ہے، ہاں اس عام الحکم سے صرف وہ چیزیں مخصوص ہیں جن کا ذکر بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پانچ جانور فاسق ہیں وہ حرام میں قتل کر دیئے جائیں اور غیر حرم میں بھی، کوا، چیل بچھو، چوہا اور کانٹے والا کالا کتا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3314] ‏‏‏‏ اور روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ { ان پانچ جانوروں کے قتل میں احرام والے پر بھی کوئی گناہ نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1862] ‏‏‏‏ اس روایت کو سن کر حضرت ایوب رحمہ اللہ اپنے استاد نافع رحمہ اللہ سے پوچھتے ہیں کہ سانپ کا کیا حکم ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”وہ اس میں شامل ہے یہ بھی قتل کر دیا جائے۔‏‏‏‏“ اس میں کسی کو اختلاف نہیں بعض علماء نے جیسے امام احمد،امام مالک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ نے کتے کے حکم پر درندوں کو بھی رکھا ہے جیسے بھیڑیا شیر وغیرہ۔ اس لیے کہ یہ کتے سے بہت زیادہ ضرر والے ہیں۔ زید بن اسلم اور سفیان بن عیینہ رحمة الله علیہم فرماتے ہیں کہ ہر حملہ کرنے والے درندے کا حکم ہے دیکھئیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ بن ابولہب کے حق میں جب دعا کی تو فرمایا: { اے اللہ اس پر شام میں اپنا کوئی کتا مقرر کر دے }، پاس جب وہ زرقا میں پہنچا وہاں اسے بھیڑئیے نے پھاڑ ڈالا۔ ہاں اگر محرم نے حالت احرام میں کوے کو یا لومڑی وغیرہ کو مار ڈالا تو اسے بدلہ دینا پڑے گا۔ اسی طرح ان پانچوں قسم کے جانوروں کے بچے اور حملہ کرنے والے درندوں کے بچے بھی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔

امام شافعی رحمة الله فرماتے ہیں ”ہر وہ جانور جو کھایا نہیں جاتا اس کے قتل میں اور اس کے بچوں کے قتل میں محرم پر کوئی حرج نہیں، وجہ یہ ہے کہ ان کا گوشت کھایا نہیں جاتا۔‏‏‏‏“ امام ابوحنیفہ رحمة الله فرماتے ہیں ”کالا کتا حملہ کرنے والا اور بھیڑیا تو محرم قتل کرسکتا ہے اس لیے کہ بھیڑیا بھی جنگلی کتا ہے ان کے سوا جس جانور کا شکار کھیلے گا فدیہ دنیا پڑے گا۔ ہاں اگر کوئی شیر وغیرہ جنگی درندہ اس پر حملہ کرے اور یہ اسے مار ڈالے تو اس صورت میں فدیہ نہیں۔‏‏‏‏“ آپ رحمہ اللہ کے شاگرد زفر رحمة الله کہتے ہیں یہ حملہ کرنے کی صورت میں بھی اگر مار ڈالے گا تو فدیہ دینا پڑے گا۔ بعض احادیث میں «الْغُرَابُ الْأَبْقَعُ» کا لفظ آیا ہے ۱؎ [صحیح مسلم:1198] ‏‏‏‏ یہ وہ کوا ہے جس کے پیٹ اور پیٹھ پر سفیدی ہوتی ہے۔ مطلق سیاہ اور بالکل سفید کوے کو غراب ابقع نہیں کہتے لیکن جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ہر قسم کے کوے کا یہی حکم ہے کیونکہ بخاری و مسلم کی حدیث میں مطلق کوے کا ذکر ہے۔ امام ملک رحمة الله فرماتے ہیں کوے کو بھی اس حال میں مار سکتا ہے کہ وہ اس پر حملہ کرے یا اسے ایذاء دے مجاہد رحمة الله وغیرہ کا قول ہے کہ اس حالت میں بھی مار نہ ڈالے بلکہ اسے پتھر وغیرہ پھینک کر ہٹا دے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ محرم کس کس جانور کو قتل کر دے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سانپ، بچھو اور چوہا اور کوے کو کنکر مارے اسے مار نہ ڈالے اور کالا کتا اور چیل اور حملہ کرنے والا درندہ } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1198،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے کہ ’ جو شخص جان بوجھ کر حالت احرام میں شکار کرے اس پر فدیہ ہے ‘۔ حضرت طاؤس رحمة الله کا فرمان ہے کہ ”خطا سے قتل کرنے والے پر کچھ نہیں۔‏‏‏‏“ لیکن یہ مذہب غریب ہے اور آیت کے ظاہری الفاظ سے یہی مشتق ہے۔ مجاہد بن جیبر رحمة الله سے مروی ہے کہ ”مراد وہ شخص ہے جو شکار تو قصداً کرتا ہے لیکن اپنی حالت احرام کی یاد اسے نہیں رہی۔ لیکن جو شخص باوجود احرام کی یاد کے عمداً شکار کرے وہ تو کفارے کی حد سے نکل گیا اس کا احرام باطل ہوگیا۔‏‏‏‏“ یہ قول بھی غریب ہے۔ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ قصداً شکار کرنے والا اور بھول کر کرنے والا دونوں کفارے میں برابر ہیں امام زہری رحمة الله فرماتے ہیں ”قرآن سے تو قصداً شکار کھیلنے والے پر کفارہ ثابت ہوا اور حدیث نے یہی حکم بھولنے والے کا بھی بیان فرمایا۔‏‏‏‏“ مطلب اس قول کا یہ ہے کہ قصداً شکار کھیلنے والے پر کفارہ قرآن کریم سے ثابت ہے اور اس کا گنہگار ہونا بھی۔ کیونکہ اس کے بعد آیت «لِّيَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِهٖ» ۱؎ [5-المائدہ:95] ‏‏‏‏ میں فرمایا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم سے خطا میں بھی یہی حکم ثابت ہے اور اس لیے بھی کہ شکار کو قتل کرنا اس کا تلف کرنا ہے اور ہر تلف کرنے کا بدلہ ضروری ہے خواہ وہ بالقصد ہو یا انجان پنے سے ہو۔ ہاں قصداً کرنے والا گنہگار بھی ہے اور بلا قصد جس سے سرزد ہو جائے وہ قابل ملامت نہیں۔

پھر فرمایا ’ اس کا بدلہ یہ ہے کہ اسی کے مثل چوپایہ جانور راہ للہ قربان کرے ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «فَجَزَاۤؤُهُ» ہے ان دونوں قرأتوں میں مالک، شافعی، احمد رحمة الله علیہم اور جمہور کی دلیل ہے کہ جب شکار چوپایوں کی مانند ہو تو وہی اس کے بدلے میں دینا ہوگا۔ امام ابوحنیفہ رحمة الله اس کے خلاف کہتے ہیں کہ خواہ شکار کے کسی جانور کی مثل ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں قیمت دینی پڑے گی ہاں اس محرم شکاری کو اختیار ہے کہ خواہ اس قیمت کو صدقہ کردے خواہ اس سے قربانی کا کوئی جانور خرید لے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ امام صاحب کے اس قول سے صحابہ رضی اللہ عنہم کا فیصلہ ہمارے لیے زیادہ قابل عمل ہے انہوں نے شترمرغ کے شکار کے بدلے اونٹ مقرر کیا ہے اور جنگلی گائے کے بدلے پالتو گائے مقرر فرمائی ہے اور ہرن کے بدلے بکری۔ یہ فیصلے ان بزرگ صحابیوں کی سندوں سمیت احکام کی کتابوں میں موجود ہیں جہاں شکار جیسا اور کوئی پالتو چوپایہ نہ ہو اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فیصلہ قیمت کا ہے جو مکہ شریف پہنچائی جائے۔ [بیہقی] ‏‏‏‏

پھر فرمایا کہ ’ اس کا فیصلہ دو عادل مسلمان کردیں ‘ کہ کیا قیمت ہے یا کون سا جانور بدلے میں دیا جائے۔ فقہاء نے اس بارے میں اختلاف کیا کہ فیصلہ کرنے والے دو میں ایک خود قاتل ہو سکتا ہے یا نہیں؟ تو امام مالک رحمة الله وغیرہ نے تو انکار کیا ہے کیونکہ اسی کا معاملہ ہو اور وہی حکم کرنے والا ہو اور امام شافعی امام احمد رحمة الله علیہم وغیرہ نے آیت کے عموم کو سامنے رکھ کر فرمایا ہے کہ ”یہ بھی ہو سکتا ہے۔‏‏‏‏“ پہلے مذہب کی دلیل تو یہ ہے کہ خود حاکم اپنے اوپر اپنا ہی حکم کرکے اسی حکم میں اپنا منصف آپ نہیں بن سکتا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک اعرابی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا میں نے ایک شکار کو احرام کی حالت میں قتل کر دیا ہے اب آپ رضی اللہ عنہ فرمائیے کہ اس میں مجھ پر بدلہ کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ کر ان سے دریافت فرمایا کہ ”آپ رضی اللہ عنہ فرمائیے کیا حکم ہے؟“ اس پر اعرابی نے کہا سبحان اللہ میں آپ رضی اللہ عنہ سے دریافت کرنے آیا ہوں آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کسی سے دریافت فرما رہے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس میں تیرا کیا بگڑا؟“ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ دو عادل جو فیصلہ کر دیں اس لیے میں نے اپنے ساتھی سے دریافت کیا۔ جب ہم دونوں کسی بات پر اتفاق کر لیں گے تو تجھ سے کہہ دیں گے۔ اس کی سند تو بہت مضبوط ہے لیکن اس میں میمون اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے۔ یہاں یہی چاہیئے تھا صدیق رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ اعرابی جاہل ہے اور جہل کی دوا تعلیم ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے نرمی اور محبت سے سمجھا دیا اور جبکہ اعتراض کرنے والا خود مدعی علم ہو پھر وہاں یہ صورت نہیں رہتی۔ چنانچہ ابن جریر میں ہے قبیصہ بن جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم حج کیلئے چلے ہماری عادت تھی کہ صبح کی نماز پڑھتے ہی ہم سواریوں سے اتر پڑتے اور انہیں چلاتے ہوئے باتیں کرتے ہوئے پیدل چل پڑتے۔ ایک دن اسی طرح جا رہے تھے کہ ایک ہرن ہماری نگاہ میں پڑا ہم میں سے ایک شخص نے اسے پتھر مارا جو اسے پوری طرح لگا اور وہ مر کر گرگیا وہ شخص اسے مردہ چھوڑ کر اپنی سواری پر سوار ہو گیا۔ ہمیں یہ کام بڑا برا معلوم ہوا اور ہم نے اسے بہت کچھ کہا سنا مکہ شریف پہنچ کر میں اسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا اس نے سارا واقعہ خود بیان کیا۔

اس وقت جناب فاروق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں ایک صاحب کھڑے تھے جن کا چہرہ چاندی کی طرح جگمگا رہا تھا یہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر کچھ باتیں کیں پھر میرے ساتھی سے فرمایا کہ ”تو نے اسے جان بوجھ کر مار ڈالا یا بھول چوک سے۔‏‏‏‏“ اس نے کہا میں نے پتھر اسی پر پھینکا اور قصداً پھینکا لیکن اسے مار ڈالنے کی میری نیت نہ تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”پھر تو خطا اور عمد کے درمیان درمیان ہے۔ جا تو ایک بکری ذبح کر دے اس کا گوشت صدقہ کر دے اور اس کی کھال اپنے کام میں لا۔‏‏‏‏“ یہ سن کر ہم وہاں سے چلے آئے میں نے اپنے ساتھی سے کہا دیکھ تو نے بڑا قصور کیا ہے اللہ جل شانہ کی نشانیوں کی تجھے عظمت کرنی چاہیئے اور ایک بات یہ بھی ہے کہ خود امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کو تو یہ مسئلہ معلوم نہ تھا انہوں نے اپنے ساتھی سے دریافت کیا میرے خیال سے تو اپنی اونٹنی اللہ کے نام سے قربان کر دے شاید اس سے تیرا جرم معاف ہو جائے۔ افسوس کہ اس وقت مجھے یہ آیت یاد ہی نہ رہی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تو اس حکم پر عمل کیا ہے کہ دو عادل شخص باہم اتفاق سے جو فیصلہ کریں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی میرا یہ فتوی دینا معلوم ہو گیا اچانک آپ رضی اللہ عنہ کوڑہ لیے ہوئے آگئے۔ اول تو میرے ساتھی پر کوڑا اٹھا کر فرمایا ”تو نے ایک تو جرم میں قتل کیا دوسرے حکم کی تعمیل میں بیوقوفی کر رہا ہے۔‏‏‏‏“ اب میری طرف متوجہ ہوئے میں نے کہا امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ اگر آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے تکلیف پہنچائی تو میں آپ رضی اللہ عنہ کو آج کی تکلیف ہرگز معاف نہیں کروں گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نرم پڑ گئے اور مجھ سے فرمانے لگے ”اے قبصیہ میرے خیال سے تو تو جوانی کی عمر والا کشادہ سینے والا اور چلتی زبان والا ہے۔ یاد رکھ نوجوانوں میں اگر نو خصلتیں اچھی ہوں اور ایک بری ہو تو وہ ایک بری خصلت نو بھلی خصلتوں کو مات کر دیتی ہے۔ سن جوانی کی لغزشوں سے بچا رہ۔‏‏‏‏“ ابن جریر میں ہے کہ سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے احرام کی حالت میں ایک ہرن کا شکار کر لیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جاؤ اپنے دو رشتے داروں کو لے آؤ وہی فیصلہ کریں گے“ میں جا کر عبدالرحمٰن کو اور سعد رضی اللہ عنہم کو بلا لایا۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ میں ایک موٹا تازہ بکرا فدیہ دوں۔

حضرت طارق رحمة الله فرماتے ہیں ”ایک شخص نے ایک ہرن کو تیر مارا وہ مر گیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس نے مسئلہ پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے خود اس کو بھی مشورے میں شریک کرلیا دونوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ گھر کی پالتو بکری راہ للہ قربان کرو اس میں یہ دلیل ہے کہ خود قاتل بھی دو حکم کرنے والوں میں ایک بن سکتا ہے۔ جیسے کہ امام شافعی رحمة الله اور امام احمد رحمة الله کا مذہب ہے۔ پھر آیا ہر معاملہ میں اب بھی موجودہ لوگوں میں سے دو حکم فیصلہ کریں گے یا صحابہ رضی اللہ عنہم کے فیصلے کافی ہیں؟ اس میں بھی اختلاف ہے امام مالک اور امام ابوحنیفہ رحمة الله علیہم فرماتے ہیں ہر فیصلہ اس وقت کے موجود دو عقلمند لوگوں سے کرایا جائے گو اس میں پہلے کا کوئی فیصلہ ہو یا نہ ہو۔

پھر فرماتا ہے ’ یہ فدیئے کی قربانی حرم میں پہنچے ‘ یعنی وہیں ذبح ہو اور وہیں اس کا گوشت مسکینوں میں تقسیم ہو اس پر سب کا اتفاق ہے پھر فرمایا کفارہ ہے مسکینوں کا کھانا کھلانا یا اس کے برابر کے روزے، یعنی جب محرم اپنے قتل کئے ہوئے شکار کے مانند کوئی جانور نہ پائے یا خود شکار ایسا ہوا ہی نہیں جس کے مثل کوئی جانور پالتو ہو یہاں پر لفظ «او» اختیار کے ثابت کرنے کیلئے ہے یعنی بدلے کے جانور میں کھانا کھالانے میں اور روزے رکھنے میں اختیار ہے جیسے کہ امام مالک، امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد بن حسن اور امام شافعی رحمة الله علیہم کے دو قولوں میں سے ایک قول اور امام احمد رحمة الله کا مشہور قول ہے اور آیت کے ظاہر الفاظ بھی یہی ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ترتیب وار ہیں، یعنی پہلے تو بدلہ پس مالک، ابوحنیفہ رحمہ اللہ ان کے ساتھی، حماد اور ابراہیم رحمة الله علیہم کا تو قول ہے کہ خود شکار کی قیمت لگائی جائے گی اور امام شافعی رحمة الله فرماتے ہیں شکار کے برابر کے جانور کی قیمت لگائی جائے گی اگر وہ موجود ہو پھر اس کا اناج خریدا جائے گا اور اس میں سے ایک ایک مد ایک ایک مسکین کو دیا جائے گا مالک اور فقہاء حجاز کا قول بھی یہی ہے، امام ابوحنیفہ رحمة الله اور ان کے ساتھی کہتے ہیں ہر مسکین کو دو مد دیئے جائیں گے مجاہد رحمة الله کا قول یہی ہے، امام احمد رحمة الله فرماتے ہیں گیہوں ہوں تو ایک مد اور اس کے سوا کچھ ہو تو دو مد، پس اگر نہ پائے یا اختیار اس آیت سے ثابت ہو جائے تو ہر مسکین کے کھانے کے عوض ایک روزہ رکھ لے، بعض کہتے ہیں جتنا اناج ہو اس کے ہر ایک صاع کے بدلے ایک روزہ رکھے جیسے کہ اس شخص کے لیے یہ حکم ہے جو خوشبو وغیرہ لگائے۔ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ایک فرق کو چھ شخصوں کے درمیان تقسیم کر دیں یا تین دن کے روزے رکھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1815] ‏‏‏‏ فرق تین صاع کا ہوتا ہے اب کھانا پہنچانے کی جگہ میں بھی اختلاف ہے، امام شافعی رحمة الله کا فرمان ہے کہ اس کی جگہ حرم ہے، عطاء کا قول بھی یہی ہے، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جہاں شکار کیا ہے وہیں کھلوا دے، یا اس سے بہت زیادہ کی قریب کی جگہ میں، امام ابوحنیفہ رحمة الله فرماتے ہیں خواہ حرم میں خواہ غیر حرم میں اختیار ہے۔

سلف کی اس آیت کے متعلق اقوال ملاحظہ ہوں، ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب محرم شکار کھیل لے اس پر اس کے بدلے کے چوپائے کا فیصلہ کیا جائے گا اگر نہ ملے تو دیکھا جائے گا کہ وہ کس قیمت کا ہے، پھر اس نقدی کے اناج کا اندازہ کیا جائے گا پھر جتنا اناج ہو گا اسی کے ناپ سے ہر نصف صاع کے بدلے ایک روزہ رکھنا ہو گا پھر جب طعام پایا جائے گا جزا پالی گئی۔‏‏‏‏“ اور روایت میں ہے جب محرم نے ہرن کو مار ڈالا تو اس پر ایک بکری ہے جو مکے میں ذبح کی جائے گی اگر نہ پائے تو چھ مسکین کا کھانا ہے اگر نہ پائے تو تین روزے ہیں اگر کسی نے اونٹ کو قتل کیا تو اس کے ذمہ ایک گائے ہے اگر نہ پائے تو بیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو بیس روزے، اگر شتر مرغ یا گورخر وغیرہ مارا ہے تو اس پر ایک اونٹنی ہے اگر نہ ملے تو تیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو تین روزے ہیں۔ اگر کسی نے اونٹ کو قتل کیا تو اس کے ذمہ ایک گائے ہے اگر نہ پائے تو بیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو بیس روزے، اگر شتر مرغ یا گورخر غیرہ مارا ہے تو اس پر ایک اونٹنی ہے اگر نہ ملے تو تیس مسکینوں کا کھانا ہے اگر نہ پائے تو تیس دن کے روزے۔ ابن جریر کی اسی روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ طعام ایک ایک مد ہو جو ان کا پیٹ بھر دے، دوسرے بہت سے تابعین نے بھی طعام کی مقدار بتلائی ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب چیزیں ترتیب وار ہیں اور بزرگ فرماتے ہیں کہ تینوں باتوں میں اختیار ہے، امام ابن جریر رحمة الله کا مختار قول بھی یہی ہے۔

پھر فرمان ہے کہ ’ یہ کفارہ ہم نے اس لیے واجب کیا ہے کہ وہ اپنے کرتوت کی سزا کو پہنچ جائے، زمانہ جاہلیت میں جو کچھ کسی نے خطا کی ہے وہ اسلام کی اچھائی کی وجہ سے معاف ہے، اب اسلام میں ان احکام کی موجودگی میں بھی پھر سے اگر کوئی شخص یہ گناہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا ‘۔ گو اس میں حد نہیں امام وقت اس پر کوئی سزا نہیں دے سکتا یہ گناہ اللہ اور بندے کے درمیان ہے ہاں اسے فدیہ ضرور دینا پڑے گا یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فدیہ ہی انتقام ہے۔ یہ یاد رہے کہ جب کبھی محرم حالت احرام میں شکار کو مارے گا اس پر بدلہ واجب ہو گا خواہ کئی دفعہ اس سے یہ حرکت ہو جائے اور خواہ عمداً ہو خواہ خطا ہو ایک دفعہ شکار کے بعد اگر دوبارہ شکار کیا تو اسے کہہ دیا جائے کہ اللہ تجھ سے بدلہ لے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت یہ بھی مروی ہے کہ پہلی دفعہ کے شکار پر فدیہ کا حکم ہو گا دوبارہ کے شکار پر خود اللہ اس سے انتقام لے گا اس پر فیصلہ فدیہ کا نہ ہو گا لیکن امام ابن جریر کا مختار مذہب پہلا قول ہی ہے، امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک شخص نے محرم ہو کر شکار کیا اس پر فدائے کا فیصلہ کیا گیا اس نے پھر شکار کیا تو آسمان سے آگ آ گئی اور اسے جلا کر بھسم کر دیا یہی معنی ہیں اللہ کے فرمان آیت «‏‏‏‏فَيَنتَقِمُ اللَّهُ مِنْهُ» [5-المائدہ:95] ‏‏‏‏ کے۔ اللہ اپنی سلطنت میں غالب ہے اسے کوئی مغلوب نہیں کر سکتا کوئی اسے انتقام سے روک نہیں سکتا اس کا عذاب جس پر آ جائے کوئی نہیں جو اسے ٹال دے، مخلوق سب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے حکم اس کا سب پر نافذ ہے عزت اور غلبہ اسی کیلئے ہے، وہ اپنے نافرمانوں سے زبردست انتقام لیتا ہے۔
95۔ 1 امام شافعی نے اس سے مراد، صرف ان جانوروں کا قتل لیا ہے جو ماکول اللحم ہیں یعنی جو کھانے کے کام آتے ہیں۔ دوسرے برے جانوروں کا قتل وہ جائز قرار دیتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر علماء کے نزدیک اس میں کوئی تفریق نہیں۔ البتہ ان موذی جانوروں کا قتل جائز ہے جن کا ذکر احادیث میں آیا ہے اور وہ پانچ ہیں کوا، چیل، بچھو، چوہا اور باؤلا کتا (صحیح مسلم) حضرت نافع سے سانپ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اس کے قتل میں تو کوئی اختلاف ہی نہیں ہے۔ (ابن کثیر) اور امام احمد اور امام مالک اور دیگر علماء نے بھیڑیئے، درندے، چیتے اور شیر کو کلب عقور میں شامل کر کے حالت احرام میں ان کے قتل کی بھی اجازت دی ہے۔ (ابن کثیر) 95۔ 2. " جان بوجھ کر " کے الفاظ سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ بغیر ارادہ کے معنی بھول کر قتل کر دے تو اس کے لئے فدیہ نہیں ہے۔ لیکن زیادہ علماء کے نزدیک بھول کر، یا غلطی سے بھی قتل ہوجائے تو فدیہ واجب ہوگا۔ مُتَعَمِّدًا کی قید غالب احوال کے اعتبار سے ہے بطور شرط نہیں ہے۔ 95۔ 3 مساوی جانور (یا اس جیسے جانور) سے مراد خلقت قدو قامت میں مساوی ہونا ہے۔ قیمت میں مساوی ہونا نہیں ہے۔ مثلًا اگر ہرن کو قتل کیا گیا تو اس کی شکل (مساوی) بکری ہے، گائے کی مثل نیل گائے ہے وغیرہ۔ البتہ جس جانور کا مثل نہ مل سکتا ہو، وہاں اس کی قیمت بطور فدیہ لے کر مکہ پہنچا دی جائے۔ 95۔ 4 کہ مقتول جانور کی مثل (مساوی) فلاں جانور ہے اور اگر وہ غیر مثلی ہے یا مثل دستیاب نہیں ہے تو اس کی اتنی قیمت ہے۔ اس قیمت سے غلہ خرید کر مکہ کے مساکین میں فی مسکین ایک مد کے حساب سے تقسیم کردیا جائے گا۔ احناف کے نزدیک فی مسکین دو مد ہیں۔ 95۔ 5 یہ فدیہ، جانور یا اس کی قیمت، کعبہ پہنچائی جائے گی اور کعبہ سے مراد حرم ہے۔ (فتح القدیر) یعنی ان کی تقسیم حرم مکہ کی حدود میں رہنے والے مساکین پر ہوگی۔ 95۔ 6 اور یا تخییر کے لئے ہے۔ یعنی کفارہ، اطعام مساکین ہو یا اس کے برابر روزے۔ دونوں میں سے کسی ایک پر عمل کرنا جائز ہے۔ مقتول جانور کے حساب سے طعام میں جس طرح کی کمی بیشی ہوگی، روزوں میں بھی کمی بیشی ہوگی مثلًا محرم (احرام والے) نے ہرن قتل کیا ہے تو اس کی مسل بکری ہے، یہ فدیہ حرم مکہ میں ذبح کیا جائے گا، اگر یہ نہ ملے تو ابن عباس کے ایک قول کے مطابق چھ مساکین کو کھانا یا تین دن کے روزے رکھنے ہونگے، اگر بارہ سنگھا ہے یا اس جیسا کوئی جانور قتل کیا ہے تو اس کی مثل گائے ہے، اگر یہ دستیاب نہ ہو یا اس کی طاقت نہ ہو تو تیس مساکین کو کھانا یا تیس روزے رکھنے ہونگے (ابن کثیر)
(آیت 95)➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ:} محرم نہ شکار کرے نہ شکار میں کسی طرح مدد کرے، فرمایا: «وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ» ‏‏‏‏ [ المائدۃ: ۲ ] ”اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔“ ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور فاسق ہیں، انھیں حرم میں بھی قتل کیا جاتا ہے، یعنی چوہا، بچھو، چیل، کوا اور کاٹنے والا کتا۔“ [بخاری، بدء الخلق، باب إذا وقع الذباب أحدکم…: ۳۳۱۴ ] اہل علم نے فواسق، یعنی خواہ مخواہ ایذا دینے والے جانوروں میں {”اَلْكَلْبُ الْعَقُوْرُ“} شامل ہونے کی بنا پر سانپ، بھیڑیے، چیتے اور شیر وغیرہ کو مارنے کی اجازت اخذ کی ہے۔ ➋ {وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا …:} یعنی احرام کی حالت میں جیسا شکار مارے اسی کی ”مثل“ کا فدیہ دے۔ مثل سے مراد یہ ہے کہ تن و توش، قد و قامت اور شکل و صورت میں اس سے ملتا جلتا ہو، جیسے ہرن کی جگہ بکرا۔ ➌ {يَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ …:} یعنی دو عادل مسلمان مل کر فیصلہ کریں کہ اس شکار کی مثل کون سا جانور ہو سکتا ہے۔ ➍ {هَدْيًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ:} یعنی اس جانور کو مکہ معظمہ میں لے جا کر ذبح کیا جائے اور وہیں اس کا گوشت مسکینوں میں تقسیم کیا جائے، اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں۔ ➎ {اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِيْنَ …:} اس آیت میں {” اَوْ “} اختیار کے لیے ہے، یعنی شکار کرنے والے کو اختیار ہے کہ ان تینوں میں سے جو کفارہ چاہے ادا کر دے، شکار کردہ جانور کی مثل جانور کعبہ، یعنی حرم میں لے جا کر قربان کیا جائے، یا اس کی مثل کے مساوی قیمت کا غلہ بطور کفارہ مسکینوں میں تقسیم کیا جائے، یا اس کے برابر روزے رکھے جائیں۔ قاموس اور دوسری کتب لغت میں {”مُد“} کی تعریف یہ لکھی ہے کہ ایک معتدل قد والا آدمی دونوں ہتھیلیوں کو پھیلا کر کوئی چیز اٹھائے تو وہ ایک مد ہے۔ صاحب قاموس کہتے ہیں میں نے تجربہ کرکے دیکھا تو اسے درست پایا۔ صاع چار مد کا ہوتا ہے، آپ خود تجربہ کرکے دیکھ لیں، ایک مد میں گندم آدھ کلو سے زیادہ نہیں آتی، ظاہر ہے دوسری اجناس کا وزن مختلف ہو گا۔ یعنی ہر دو مد غلے (یعنی ایک کلو) کے بدلے میں ایک روزہ رکھے۔ جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت (۱۹۶) میں مذکور کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، جو صحیح بخاری (۴۵۱۷، ۴۱۹۱، ۵۹۱۶) میں آئی ہے۔ ➏ {عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ:} یعنی زمانۂ جاہلیت میں یا اس حکم کے آنے سے پہلے احرام کی حالت میں جو شکار تم کر چکے ہو اسے اللہ تعالیٰ نے معاف فرمادیا، اب اس کا بدلہ دینا ضروری نہیں۔
اُحِلَّ لَکُمۡ صَیۡدُ الۡبَحۡرِ وَ طَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّکُمۡ وَ لِلسَّیَّارَۃِ ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیۡکُمۡ صَیۡدُ الۡبَرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمًا ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۹۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا، جہاں تم ٹھیرو وہاں بھی اُسے کھا سکتے ہو اور قافلے کے لیے زاد راہ بھی بناسکتے ہو البتہ خشکی کا شکار جب تک احرام کی حالت میں ہو، تم پر حرام کیا گیا ہے پس بچو اُس خدا کی نافرمانی سے جس کی پیشی میں تم سب کو گھیر کر حاضر کیا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہارے لئے دریا کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے۔ تمہارے فائده کے واسطے اور مسافروں کے واسطے اور خشکی کا شکار پکڑنا تمہارے لئے حرام کیا گیا ہے جب تک تم حالت احرام میں رہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس کے پاس جمع کئے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
حلال ہے تمہارے لیے دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے اور مسافروں کے فائدے کو اور تم پرحرام ہے خشکی کا شکار جب تک تم احرام میں ہو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تمہیں اٹھنا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تمہارے لئے سمندری شکار (تری والا) اور اس کا کھانا اور قافلہ والوں (مسافروں) کے فائدہ کے لئے حلال قرار دیا گیا ہے اور جب تک تم حالت احرام میں ہو خشکی کا شکار تم پر حرام کیا گیا ہے اور اللہ کی نافرمانی سے ڈرتے رہو۔ جس کے پاس تم جمع کئے جاؤ گے۔
عبدالسلام بن محمد
تمھارے لیے سمندر کا شکار حلال کر دیا گیا اور اس کا کھانا بھی، اس حال میں کہ تمھارے لیے سامان زندگی ہے اور قافلے کے لیے اور تم پر خشکی کا شکار حرام کر دیا گیا ہے، جب تک تم احرام والے رہو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات ٭٭

دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق، زید بن ثابت، عبداللہ بن عمرو، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہم اجمعین، عکرمہ، ابوسلمہ، ابراہیم نخعی، حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔ خلیفۃ بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”پانی میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب طعام ہیں۔‏‏‏‏“ [ابن ابی حاتم وغیرہ] ‏‏‏‏ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو چیز سمندر پھینک دے وہ طعام ہے۔‏‏‏‏“ [ابن جریر] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے ایک روایت میں ہے کہ جو مردہ جانور پانی نکال دے۔ سعید بن مسیب رحمة الله سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ جس زندہ آبی جانور کو پانی کنارے پر ڈال دے یا پانی اس سے ہٹ جائے یا وہ باہر مردہ ملے [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”سمندر نے بہت سی مردہ مچھلیاں کنارے پر پھینک دی ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں؟ ہم انہیں کھا سکتے ہیں یا نہیں؟“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”نہیں نہ کھاؤ“، جب واپس آئے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کھول کر تلاوت کی اور سورۃ المائدہ کی اس آیت پر نظر پڑی تو ایک آدمی کو دوڑایا اور کہا ”جاؤ کہہ دو کہ وہ اسے کھالیں یہی بحری طعام ہے۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر رحمة الله کے نزدیک بھی قول مختار یہی ہے کہ مراد طعام سے وہ آبی جانور ہیں جو پانی میں ہی مر جائیں، فرماتے ہیں اس بارے میں ایک روایت مروی ہے گو بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:96] ‏‏‏‏ پڑھ کر فرمایا: { اس کا طعام وہ ہے جسے وہ پھینک دے اور وہ مرا ہوا ہو }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12733:موقوف] ‏‏‏‏ بعض لوگوں نے اسے بقول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موقوف روایت کیا ہے۔

پھر فرماتا ہے ’ یہ منفعت ہے تمہارے لیے اور راہ رو مسافروں کے لیے ‘، یعنی جو سمندر کے کنارے رہتے ہوں اور جو وہاں وارد ہوئے ہوں، پس کنارے رہنے والے تو تازہ شکار خود کھیلتے ہیں پانی جسے دھکے دے کر باہر پھینک دے اور مر جائے اسے کھا لیتے ہیں اور نمکین ہو کر دور دراز والوں کو سوکھا ہوا پہنچتا ہے۔ الغرض جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ پانی کا جانور خواہ مردہ ہی ہو حلال ہے۔ اس کی دلیل علاوہ اس آیت کے امام مالک رحمة الله کی روایت کردہ وہ حدیث بھی ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے کنارے پر ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا جس کا سردار ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، یہ لوگ کوئی تین سو تھے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بھی ان میں سے تھا ہم ابھی راستے میں ہی تھے جو ہمارے توشے تھے ختم ہو گئے، امیر لشکر کو جب یہ علم ہوا تو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو میرے پاس لاؤ چنانچہ سب جمع کر لیا اب حصہ رسدی کے طور پر ایک مقررہ مقدار ہر ایک کو بانٹ دیتے تھے یہاں تک کہ آخر میں ہمیں ہر دن ایک ایک کھجور ملنے لگی آخر میں یہ بھی ختم ہو گئی۔ اب سمندر کے کنارے پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ کنارے پر ایک بڑی مچھلی ایک ٹیلے کی طرح پڑی ہوئی ہے، سارے لشکر نے اٹھارہ راتوں تک اسے کھایا، وہ اتنی بڑی تھی کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو اس کے نیچے سے ایک شتر سوار نکل گیا اور اس کا سر اس پسلی کی ہڈی تک نہ پہنچا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2483] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ اس کا نام عنبر تھا ایک روایت میں ہے کہ یہ مردہ ملی تھی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس وقت سخت دقت اور تکلیف میں ہیں اسے کھا لو ہم تین سو آدمی ایک مہینے تک وہیں رہے اور اسی کو کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے تازے اور تیار ہو گئے اس کی آنکھ کے سوراخ میں سے ہم چربی ہاتھوں میں بھربھر کر نکالتے تھے تیرہ شخص اس کی آنکھ کی گہرائی میں بیٹھ گئے تھے، اس کی پسلی کی ہڈی کے درمیان سے سانڈنی سوار گزر جاتا تھا، ہم نے اس کے گوشت اور چربی سے مٹکے بھر لیے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ اللہ کی طرف سے روزی تھی جو اللہ جل مجدہ نے تمہیں دی کیا اس کا گوشت اب بھی تمہارے پاس ہے؟ اگر ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ، ہمارے پاس تو تھا ہی ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1935] ‏‏‏‏ مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ { اس واقعہ میں خود پیغمبر اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے } اس وجہ سے بعض محدثین کہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ دو واقعے ہوں اور بعض کہتے ہیں واقعہ تو ایک ہی ہے، شروع میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مختصر جماعت کو بہ ماتحتی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے روانہ فرمایا تھا اور انہیں یہ واقعہ پیش آیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سمندر کے سفر کو جاتے ہیں ہمارے ساتھ پانی بہت کم ہوتا ہے اگر اسی سے وضو کرتے ہیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہمیں سمندر کے پانی سے وضو کر لینے کی اجازت ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ امام شافعی، امام احمد رحمة الله علیہم اور سنن اربعہ والوں نے اسے روایت کیا ہے امام بخاری امام ترمذی امام ابن خزیمہ امام ابن حبان رحمة الله علیہم وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں تھے اتفاق سے ٹڈیوں کا دل کا دل آ پہنچا ہم نے انہیں مارنا اور پکڑنا شروع کیا لیکن پھر خیال آیا کہ ہم تو احرام کی حالت میں ہیں انہیں کیا کریں گے؟ چنانچہ ہم نے جا کر حضور علیہ السلام سے مسئلہ پوچھا تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ { دریائی جانوروں کے شکار میں کوئی حرج نہیں } } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1854، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا ایک راوی ابو المہزم ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ابن ماجہ میں ہے کہ { جب ٹڈیاں نکل آتیں اور نقصان پہنچاتیں تو رسول اللہ علیہ افضل الصلوۃ و التسلیم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ { اے اللہ ان سب کو خواہ چھوٹی ہوں خواہ بڑی ہلاک کر ان کے انڈے تباہ کر ان کا سلسلہ کاٹ دے اور ہماری معاش سے ان کے منہ بند کر دیے یا اللہ ہمیں روزیاں دے یقیناً تو دعاؤں کا سننے والا ہے }، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان کے سلسلہ کے کٹ جانے کی دعا کرتے ہیں حالانکہ وہ بھی ایک قسم کی مخلوق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی پیدائش کی اصل مچھلی سے ہے } }، زیاد رحمة الله کا قول ہے کہ جس نے انہیں مچھلی سے ظاہر ہوتے دیکھا تھا خود اسی نے مجھ سے بیان کیا ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3221، قال الشيخ الألباني:۔ موضوع] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حرم میں ٹڈی کے شکار سے بھی منع کیا ہے جن فقہاء کرام کا یہ مذہب ہے کہ سمندر میں جو کچھ ہے سب حلال ہے ان کا استدلال اسی آیت سے ہے وہ کسی آبی جانور کو حرام نہیں کہتے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ قول بیان ہو چکا ہے کہ طعام سے مراد پانی میں رہنے والی ہر ایک چیز ہے، بعض حضرات نے صرف مینڈک کو اس حکم سے الگ کر لیا ہے اور مینڈک کے سوا پانی کے تمام جانوروں کو وہ مباح کہتے ہیں کیونکہ مسند وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا ہے } ۱؎ [سنن ابوداود:3871،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور فرمایا ہے کہ { اس کی آواز اللہ کی تسبیح ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4788:ضعیف] ‏‏‏‏ بعض اور کہتے ہیں سمندر کے شکار سے مچھلی کھائی جائے گی اور مینڈک نہیں کھایا جائے گا اور باقی کی چیزوں میں اختلاف ہے کچھ تو کہتے ہیں کہ باقی سب حلال ہے اور کچھ کہتے ہیں باقی سب نہ کھایا جائے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ خشکی کے جو جانور حلال ہیں ان جیسے جو جانور پانی کے ہوں وہ بھی حلال ہیں اور خشکی کے جو جانور حرام ہیں ان کی مشابہت کے جو جانور تری کے ہوں وہ بھی حرام، یہ سب وجوہ مذہب شافعی میں ہیں حنفی مذہب یہ ہے کہ سمندر میں مر جائے اس کا کھانا حلال نہیں جیسے کہ خشکی میں از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں کیونکہ قرآن نے اپنی موت آپ مرے ہوئے جانور کو آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» ۔ الخ [5-المائدہ:3] ‏‏‏‏ میں حرام کر ذیا ہے اور یہ عام ہے۔

ابن مردویہ میں حدیث ہے کہ { جو تم شکار کر لو اور وہ زندہ ہو پھر مر جائے تو اسے کھا لو اور جسے پانی آپ ہی پھینک دے اور وہ مرا ہوا الٹا پڑا ہوا ہو اسے نہ کھاؤ } ۱؎ [سنن ابوداود:3815، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث مسند کی رو سے منکر ہے صحیح نہیں۔ مالکیوں شافعیوں اور حنبلیوں کی دلیل ایک تو ہی عنبر والی حدیث ہے جو پہلے گزر چکی دوسری دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ { سمندر کا پانی پاک اور اس کا مردہ حلال کئے گئے ہیں دو مردے مچھلی اور ٹڈی اور دو خون کلیجی اور تلی } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسند احمد ابن ماجہ دارقطنی اور بیہقی میں بھی ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں اور یہی روایت موقوفاً بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ تم پر احرام کی حالت میں شکار کھیلنا حرام ہے ‘۔ پس اگر کسی احرام والے نے شکار کر لیا اور اگر قصداً کیا ہے تو اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا اور گنہگار بھی ہو گا اور اگر خطا اور غلطی سے شکار کر لیا ہے تو اسے کفارہ دینا پڑے گا اور اس کا کھانا اس پر حرام ہے خواہ وہ احرام والے ہوں یا نہ ہوں۔ عطا قاسم سالم ابو یوسف محمد بن حسن رحمة الله علیہم وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں، پھر اگر اسے کھا لیا تو عطا وغیرہ کا قول ہے کہ اس پر دو کفارے لازم ہیں لیکن امام مالک رحمة الله وغیرہ فرماتے ہیں کہ کھانے میں کوئی کفارہ نہیں، جمہور بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں، ابوعمر نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح زانی کے کئی زنا پر حد ایک ہی ہوتی ہے۔ ابوحنیفہ رحمة الله کا قول ہے کہ ”شکار کر کے کھانے والے کو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی۔‏‏‏‏“ ابوثور رحمة الله کہتے ہیں کہ ”محرم نے جب کوئی شکار مارا تو اس پر جزا ہے، ہاں اس شکار کا کھانا اس کیلئے حلال ہے لیکن میں اسے اچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ فرمان رسول ہے کہ { خشکی کے شکار کو کھانا تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم آپ شکار نہ کرو اور جب تک کہ خاص تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کا تفصیلی بیان آگے آ رہا ہے، ان کا یہ قول غریب ہے، ہاں شکاری کے سوا اور لوگ بھی اسے کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، بعض تو منع کرتے ہیں جیسے پہلے گزر چکا اور بعض جائز بتاتے ہیں ان کی دلدل وہی حدیث ہے جو اوپر ابوثور کے قول کے بیان میں گزری، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، اگر کسی ایسے شخص نے شکار کیا جو احرام باندھے ہوئے نہیں پھر اس نے کسی احرام والے کو وہ جانور ہدیئے میں دیا تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ مطلقاً حلال ہے خواہ اسی کی نیت سے شکار کیا ہو خواہ اس کے لیے شکار نہ کیا ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر کعب احبار رضی اللہ عنہ، مجاہد، عطا، سعید بن جیر رحمة الله علیہم اور کوفیوں کا یہی خیال ہے۔

چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ غیر محرم کے شکار کو محرم کھا سکتا ہے؟ تو آپ نے جواز کا فتوی دیا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر تو اس کے خلاف فتوی دیتا تو میں تیری سزا کرتا۔‏‏‏‏“ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی محرم کو اس کا کھانا درست نہیں، ان کی دلیل اس آیت کے کا عموم ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین تابعین اور ائمہ دین رحمة الله علیہم اس طرف گئے ہیں۔ تیسری جماعت نے اس کی تفصیل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی غیر محرم نے کسی محرم کے ارادے سے شکار کیا ہے تو اس محرم کو اس کا کھانا جائز نہیں، ورنہ جائز ہے ان کی دلیل سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ { انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوا کے میدان میں یا ودان کے میدان میں ایک گورخر شکار کردہ بطور ہدئیے کے دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کردیا جس سے صحابی رضی اللہ عنہم اجمعین رنجیدہ ہوئے، آثار رنج ان کے چہرے پر دیکھ کر رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اور کچھ خیال نہ کرو ہم نے بوجہ احرام میں ہونے کے ہی اسے واپس کیا ہے } } ۱؎ [صحیح بخاری:1825] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے۔ تو یہ لوٹانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی وجہ سے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا تھا کہ اس نے یہ شکار خاص میرے لیے ہی کیا ہے اور جب شکار محرم کیلئے ہی نہ ہو تو پھر اسے قبول کرنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ابوقتادہ رحمة الله کی حدیث میں ہے کہ { انہوں نے بھی جبکہ وہ احرام کی حالت میں نہ تھے ایک گورخر شکار کیا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین جو احرام میں تھے انہوں نے اس کے کھانے میں توقف کیا اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { کیا تم میں سے کسی نے اسے اشارہ کیا تھا؟ یا اسے کوئی مدد دی تھی؟ } سب نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر کھا لو اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا } }۔ یہ واقعہ بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے ۱؎ [صحیح بخاری:1824] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جنگلی شکار کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اس حالت میں بھی کہ تم احرام میں ہو جب تک کہ خود تم نے شکار نہ کیا ہو اور جب تک کہ خود تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابوداؤد ترمذی نسائی میں بھی یہ حدیث موجود ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی مطلب کا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔ ربیعہ فرماتے ہی کہ عرج میں جناب خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، آپ رضی اللہ عنہ احرام کی حالت میں تھے جاڑوں کے دن تھے ایک چادر سے آپ رضی اللہ عنہ منہ ڈھکے ہوئے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے شکار کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ”تم کھا لو۔‏‏‏‏“ انہوں نے کہا اور آپ رضی اللہ عنہ کیوں نہیں کھاتے؟ فرمایا ”مجھ میں تم میں فرق ہے یہ شکار میرے ہی لیے کیا گیا ہے اس لیے میں نہیں کھاؤں گا تمہارے لیے نہیں گیا اس لیے تم کھا سکتے ہو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [موطا:354/1:حسن] ‏‏‏‏
96۔ 1 صَیْدُ، سے مراد زندہ جانور اور۔ طعَامُہُ سے مراد وہ مردہ (مچھلی وغیرہ) جسے سمندر یا دریا باہر پھینک دے یا پانی کے اوپر آجائے۔ جس طرح کے حدیث میں وضاحت ہے کہ سمندر کا مردار حلال ہے۔ (تفصیل ملاحظہ ہو ابن کثیر)
(آیت 96)➊ {اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ …:} {” الْبَحْرِ “} سے مراد پانی ہے، اس میں سمندر اور غیر سمندر سب پانی برابر ہیں اور اس میں وہ تمام جانور شامل ہیں جو پانی سے باہر زندہ نہیں رہ سکتے، وہ مچھلی ہو یا کوئی اور جانور۔ زندہ بھی پکڑے جائیں تو ذبح کی ضرورت ہی نہیں۔ قرآن و حدیث میں پانی کے شکار کو حلال کہا گیا ہے اور کسی صحیح حدیث میں یہ نہیں کہ مچھلی کے سوا سب حرام ہیں۔ {” صَيْدُ الْبَحْرِ “} سے مراد پانی کا ہر وہ جانور ہے جو زندہ پکڑا جائے اور {” طَعَامُ “} سے مراد پانی کا وہ جانور ہے جو وہیں مر جائے اور سمندر یا دریا اسے باہر پھینک دے، یا مر کر پانی کے اوپر آ جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ تفسیر آئی ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: [طَعَامُهُ مَا لَفَظَهُ الْبَحْرُ مَيْتًا ] یعنی اس آیت میں {” طَعَامُ “} سے مراد وہ جانور ہے جسے سمندر مردہ حالت میں کنارے پر پھینک دے۔ ”ہدایۃ المستنیر“ کے مصنف نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ ابن جریر نے بہت سے صحابہ سے یہی معنی نقل فرمایا ہے۔ بعض لوگوں نے صرف مچھلی کو حلال اور پانی کے دوسرے تمام جانوروں کو حرام کہہ دیا ہے اور وہ بھی صرف وہ جو زندہ پکڑی جائے، اگر مر کر پانی کے اوپر آجائے تو اسے حرام کہتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں درست نہیں، کیونکہ وہ اس آیت کے خلاف ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: [ هُوَ الطَّهُوْرُ مَاؤُهُ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ ] ”سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔“ [ الموطأ، الطہارۃ، باب الطھور للوضوء: ۱۲۔ أبوداوٗد: ۸۳۔ ترمذی: ۶۹، صححہ الألبانی ] اسی طرح کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم پر بھیجا، ان کے پاس کھانے کی چیزیں ختم ہو گئیں تو انھوں نے ٹیلے جیسی ایک بہت بڑی مچھلی دیکھی، جسے سمندر کا پانی کنارے پر چھوڑ کر ہٹ چکا تھا۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ امیر تھے، انھوں نے اسے کھانے کی اجازت دے دی، ایک ماہ تک تین سو آدمی اسے کھاتے رہے اور خشک کر کے ساتھ بھی لے آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھارے پاس اس کا کچھ گوشت ہے تو ہمیں بھی دو۔“ چنانچہ صحابہ نے کچھ گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا تو آپ نے تناول فرمایا۔ [مسلم، الصید والذبائح،باب إباحۃ میتات البحر: ۱۹۳۵ ] ➋ {مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّيَّارَةِ:} اس سے یہ اشارہ فرمایا کہ یہ رخصت تمھارے فائدے کے لیے ہے، تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ حج کے طفیل حلال ہوئی ہے، یعنی سمندر کا جانور محرم و غیر محرم سب کے لیے حلال ہے۔
جَعَلَ اللّٰہُ الۡکَعۡبَۃَ الۡبَیۡتَ الۡحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّہۡرَ الۡحَرَامَ وَ الۡہَدۡیَ وَ الۡقَلَآئِدَ ؕ ذٰلِکَ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ وَ اَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۹۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ نے مکان محترم، کعبہ کو لوگوں کے لیے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قلادوں کو بھی (اِس کام میں معاون بنا دیا) تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ آسمانوں او ر زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اُسے ہر چیز کا علم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ نے کعبہ کو جو ادب کا مکان ہے لوگوں کے قائم رہنے کا سبب قرار دے دیا اور عزت والے مہینہ کو بھی اور حرم میں قربانی ہونے والے جانور کو بھی اور ان جانوروں کو بھی جن کے گلے میں پٹے ہوں یہ اس لئے تاکہ تم اس بات کا یقین کر لو کہ بےشک اللہ تمام آسمانوں اور زمین کے اندر کی چیزوں کا علم رکھتا ہے اور بےشک اللہ سب چیزوں کو خوب جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ نے ادب والے گھر کعبہ کو لوگوں کے قیام کا باعث کیا اور حرمت والے مہینہ اور حرم کی قربانی اور گلے میں علامت آویزاں جانوروں کو یہ اس لیے کہ تم یقین کرو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور یہ کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
خدا نے کعبہ کو جو حرمت والا گھر ہے۔ حرمت والے مہینوں کو اور قربانی کے جانوروں کو اور گلے میں پٹہ بندھے جانوروں کو لوگوں کی بقاء و فلاح کا سبب اور مرکز بنایا ہے تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور یہ کہ اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ نے کعبہ کو، جو حرمت والا گھر ہے، لوگوں کے قیام کا باعث بنایا ہے اور حرمت والے مہینے کو اور قربانی کے جانوروں کو اور پٹوں (والے جانوروں) کو۔یہ اس لیے کہ تم جان لو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور یہ کہ اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات ٭٭

دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق، زید بن ثابت، عبداللہ بن عمرو، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہم اجمعین، عکرمہ، ابوسلمہ، ابراہیم نخعی، حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔ خلیفۃ بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”پانی میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب طعام ہیں۔‏‏‏‏“ [ابن ابی حاتم وغیرہ] ‏‏‏‏ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو چیز سمندر پھینک دے وہ طعام ہے۔‏‏‏‏“ [ابن جریر] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے ایک روایت میں ہے کہ جو مردہ جانور پانی نکال دے۔ سعید بن مسیب رحمة الله سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ جس زندہ آبی جانور کو پانی کنارے پر ڈال دے یا پانی اس سے ہٹ جائے یا وہ باہر مردہ ملے [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”سمندر نے بہت سی مردہ مچھلیاں کنارے پر پھینک دی ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں؟ ہم انہیں کھا سکتے ہیں یا نہیں؟“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”نہیں نہ کھاؤ“، جب واپس آئے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کھول کر تلاوت کی اور سورۃ المائدہ کی اس آیت پر نظر پڑی تو ایک آدمی کو دوڑایا اور کہا ”جاؤ کہہ دو کہ وہ اسے کھالیں یہی بحری طعام ہے۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر رحمة الله کے نزدیک بھی قول مختار یہی ہے کہ مراد طعام سے وہ آبی جانور ہیں جو پانی میں ہی مر جائیں، فرماتے ہیں اس بارے میں ایک روایت مروی ہے گو بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:96] ‏‏‏‏ پڑھ کر فرمایا: { اس کا طعام وہ ہے جسے وہ پھینک دے اور وہ مرا ہوا ہو }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12733:موقوف] ‏‏‏‏ بعض لوگوں نے اسے بقول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موقوف روایت کیا ہے۔

پھر فرماتا ہے ’ یہ منفعت ہے تمہارے لیے اور راہ رو مسافروں کے لیے ‘، یعنی جو سمندر کے کنارے رہتے ہوں اور جو وہاں وارد ہوئے ہوں، پس کنارے رہنے والے تو تازہ شکار خود کھیلتے ہیں پانی جسے دھکے دے کر باہر پھینک دے اور مر جائے اسے کھا لیتے ہیں اور نمکین ہو کر دور دراز والوں کو سوکھا ہوا پہنچتا ہے۔ الغرض جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ پانی کا جانور خواہ مردہ ہی ہو حلال ہے۔ اس کی دلیل علاوہ اس آیت کے امام مالک رحمة الله کی روایت کردہ وہ حدیث بھی ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے کنارے پر ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا جس کا سردار ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، یہ لوگ کوئی تین سو تھے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بھی ان میں سے تھا ہم ابھی راستے میں ہی تھے جو ہمارے توشے تھے ختم ہو گئے، امیر لشکر کو جب یہ علم ہوا تو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو میرے پاس لاؤ چنانچہ سب جمع کر لیا اب حصہ رسدی کے طور پر ایک مقررہ مقدار ہر ایک کو بانٹ دیتے تھے یہاں تک کہ آخر میں ہمیں ہر دن ایک ایک کھجور ملنے لگی آخر میں یہ بھی ختم ہو گئی۔ اب سمندر کے کنارے پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ کنارے پر ایک بڑی مچھلی ایک ٹیلے کی طرح پڑی ہوئی ہے، سارے لشکر نے اٹھارہ راتوں تک اسے کھایا، وہ اتنی بڑی تھی کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو اس کے نیچے سے ایک شتر سوار نکل گیا اور اس کا سر اس پسلی کی ہڈی تک نہ پہنچا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2483] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ اس کا نام عنبر تھا ایک روایت میں ہے کہ یہ مردہ ملی تھی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس وقت سخت دقت اور تکلیف میں ہیں اسے کھا لو ہم تین سو آدمی ایک مہینے تک وہیں رہے اور اسی کو کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے تازے اور تیار ہو گئے اس کی آنکھ کے سوراخ میں سے ہم چربی ہاتھوں میں بھربھر کر نکالتے تھے تیرہ شخص اس کی آنکھ کی گہرائی میں بیٹھ گئے تھے، اس کی پسلی کی ہڈی کے درمیان سے سانڈنی سوار گزر جاتا تھا، ہم نے اس کے گوشت اور چربی سے مٹکے بھر لیے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ اللہ کی طرف سے روزی تھی جو اللہ جل مجدہ نے تمہیں دی کیا اس کا گوشت اب بھی تمہارے پاس ہے؟ اگر ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ، ہمارے پاس تو تھا ہی ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1935] ‏‏‏‏ مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ { اس واقعہ میں خود پیغمبر اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے } اس وجہ سے بعض محدثین کہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ دو واقعے ہوں اور بعض کہتے ہیں واقعہ تو ایک ہی ہے، شروع میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مختصر جماعت کو بہ ماتحتی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے روانہ فرمایا تھا اور انہیں یہ واقعہ پیش آیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سمندر کے سفر کو جاتے ہیں ہمارے ساتھ پانی بہت کم ہوتا ہے اگر اسی سے وضو کرتے ہیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہمیں سمندر کے پانی سے وضو کر لینے کی اجازت ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ امام شافعی، امام احمد رحمة الله علیہم اور سنن اربعہ والوں نے اسے روایت کیا ہے امام بخاری امام ترمذی امام ابن خزیمہ امام ابن حبان رحمة الله علیہم وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں تھے اتفاق سے ٹڈیوں کا دل کا دل آ پہنچا ہم نے انہیں مارنا اور پکڑنا شروع کیا لیکن پھر خیال آیا کہ ہم تو احرام کی حالت میں ہیں انہیں کیا کریں گے؟ چنانچہ ہم نے جا کر حضور علیہ السلام سے مسئلہ پوچھا تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ { دریائی جانوروں کے شکار میں کوئی حرج نہیں } } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1854، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا ایک راوی ابو المہزم ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ابن ماجہ میں ہے کہ { جب ٹڈیاں نکل آتیں اور نقصان پہنچاتیں تو رسول اللہ علیہ افضل الصلوۃ و التسلیم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ { اے اللہ ان سب کو خواہ چھوٹی ہوں خواہ بڑی ہلاک کر ان کے انڈے تباہ کر ان کا سلسلہ کاٹ دے اور ہماری معاش سے ان کے منہ بند کر دیے یا اللہ ہمیں روزیاں دے یقیناً تو دعاؤں کا سننے والا ہے }، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان کے سلسلہ کے کٹ جانے کی دعا کرتے ہیں حالانکہ وہ بھی ایک قسم کی مخلوق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی پیدائش کی اصل مچھلی سے ہے } }، زیاد رحمة الله کا قول ہے کہ جس نے انہیں مچھلی سے ظاہر ہوتے دیکھا تھا خود اسی نے مجھ سے بیان کیا ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3221، قال الشيخ الألباني:۔ موضوع] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حرم میں ٹڈی کے شکار سے بھی منع کیا ہے جن فقہاء کرام کا یہ مذہب ہے کہ سمندر میں جو کچھ ہے سب حلال ہے ان کا استدلال اسی آیت سے ہے وہ کسی آبی جانور کو حرام نہیں کہتے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ قول بیان ہو چکا ہے کہ طعام سے مراد پانی میں رہنے والی ہر ایک چیز ہے، بعض حضرات نے صرف مینڈک کو اس حکم سے الگ کر لیا ہے اور مینڈک کے سوا پانی کے تمام جانوروں کو وہ مباح کہتے ہیں کیونکہ مسند وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا ہے } ۱؎ [سنن ابوداود:3871،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور فرمایا ہے کہ { اس کی آواز اللہ کی تسبیح ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4788:ضعیف] ‏‏‏‏ بعض اور کہتے ہیں سمندر کے شکار سے مچھلی کھائی جائے گی اور مینڈک نہیں کھایا جائے گا اور باقی کی چیزوں میں اختلاف ہے کچھ تو کہتے ہیں کہ باقی سب حلال ہے اور کچھ کہتے ہیں باقی سب نہ کھایا جائے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ خشکی کے جو جانور حلال ہیں ان جیسے جو جانور پانی کے ہوں وہ بھی حلال ہیں اور خشکی کے جو جانور حرام ہیں ان کی مشابہت کے جو جانور تری کے ہوں وہ بھی حرام، یہ سب وجوہ مذہب شافعی میں ہیں حنفی مذہب یہ ہے کہ سمندر میں مر جائے اس کا کھانا حلال نہیں جیسے کہ خشکی میں از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں کیونکہ قرآن نے اپنی موت آپ مرے ہوئے جانور کو آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» ۔ الخ [5-المائدہ:3] ‏‏‏‏ میں حرام کر ذیا ہے اور یہ عام ہے۔

ابن مردویہ میں حدیث ہے کہ { جو تم شکار کر لو اور وہ زندہ ہو پھر مر جائے تو اسے کھا لو اور جسے پانی آپ ہی پھینک دے اور وہ مرا ہوا الٹا پڑا ہوا ہو اسے نہ کھاؤ } ۱؎ [سنن ابوداود:3815، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث مسند کی رو سے منکر ہے صحیح نہیں۔ مالکیوں شافعیوں اور حنبلیوں کی دلیل ایک تو ہی عنبر والی حدیث ہے جو پہلے گزر چکی دوسری دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ { سمندر کا پانی پاک اور اس کا مردہ حلال کئے گئے ہیں دو مردے مچھلی اور ٹڈی اور دو خون کلیجی اور تلی } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسند احمد ابن ماجہ دارقطنی اور بیہقی میں بھی ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں اور یہی روایت موقوفاً بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ تم پر احرام کی حالت میں شکار کھیلنا حرام ہے ‘۔ پس اگر کسی احرام والے نے شکار کر لیا اور اگر قصداً کیا ہے تو اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا اور گنہگار بھی ہو گا اور اگر خطا اور غلطی سے شکار کر لیا ہے تو اسے کفارہ دینا پڑے گا اور اس کا کھانا اس پر حرام ہے خواہ وہ احرام والے ہوں یا نہ ہوں۔ عطا قاسم سالم ابو یوسف محمد بن حسن رحمة الله علیہم وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں، پھر اگر اسے کھا لیا تو عطا وغیرہ کا قول ہے کہ اس پر دو کفارے لازم ہیں لیکن امام مالک رحمة الله وغیرہ فرماتے ہیں کہ کھانے میں کوئی کفارہ نہیں، جمہور بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں، ابوعمر نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح زانی کے کئی زنا پر حد ایک ہی ہوتی ہے۔ ابوحنیفہ رحمة الله کا قول ہے کہ ”شکار کر کے کھانے والے کو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی۔‏‏‏‏“ ابوثور رحمة الله کہتے ہیں کہ ”محرم نے جب کوئی شکار مارا تو اس پر جزا ہے، ہاں اس شکار کا کھانا اس کیلئے حلال ہے لیکن میں اسے اچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ فرمان رسول ہے کہ { خشکی کے شکار کو کھانا تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم آپ شکار نہ کرو اور جب تک کہ خاص تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کا تفصیلی بیان آگے آ رہا ہے، ان کا یہ قول غریب ہے، ہاں شکاری کے سوا اور لوگ بھی اسے کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، بعض تو منع کرتے ہیں جیسے پہلے گزر چکا اور بعض جائز بتاتے ہیں ان کی دلدل وہی حدیث ہے جو اوپر ابوثور کے قول کے بیان میں گزری، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، اگر کسی ایسے شخص نے شکار کیا جو احرام باندھے ہوئے نہیں پھر اس نے کسی احرام والے کو وہ جانور ہدیئے میں دیا تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ مطلقاً حلال ہے خواہ اسی کی نیت سے شکار کیا ہو خواہ اس کے لیے شکار نہ کیا ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر کعب احبار رضی اللہ عنہ، مجاہد، عطا، سعید بن جیر رحمة الله علیہم اور کوفیوں کا یہی خیال ہے۔

چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ غیر محرم کے شکار کو محرم کھا سکتا ہے؟ تو آپ نے جواز کا فتوی دیا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر تو اس کے خلاف فتوی دیتا تو میں تیری سزا کرتا۔‏‏‏‏“ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی محرم کو اس کا کھانا درست نہیں، ان کی دلیل اس آیت کے کا عموم ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین تابعین اور ائمہ دین رحمة الله علیہم اس طرف گئے ہیں۔ تیسری جماعت نے اس کی تفصیل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی غیر محرم نے کسی محرم کے ارادے سے شکار کیا ہے تو اس محرم کو اس کا کھانا جائز نہیں، ورنہ جائز ہے ان کی دلیل سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ { انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوا کے میدان میں یا ودان کے میدان میں ایک گورخر شکار کردہ بطور ہدئیے کے دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کردیا جس سے صحابی رضی اللہ عنہم اجمعین رنجیدہ ہوئے، آثار رنج ان کے چہرے پر دیکھ کر رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اور کچھ خیال نہ کرو ہم نے بوجہ احرام میں ہونے کے ہی اسے واپس کیا ہے } } ۱؎ [صحیح بخاری:1825] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے۔ تو یہ لوٹانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی وجہ سے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا تھا کہ اس نے یہ شکار خاص میرے لیے ہی کیا ہے اور جب شکار محرم کیلئے ہی نہ ہو تو پھر اسے قبول کرنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ابوقتادہ رحمة الله کی حدیث میں ہے کہ { انہوں نے بھی جبکہ وہ احرام کی حالت میں نہ تھے ایک گورخر شکار کیا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین جو احرام میں تھے انہوں نے اس کے کھانے میں توقف کیا اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { کیا تم میں سے کسی نے اسے اشارہ کیا تھا؟ یا اسے کوئی مدد دی تھی؟ } سب نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر کھا لو اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا } }۔ یہ واقعہ بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے ۱؎ [صحیح بخاری:1824] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جنگلی شکار کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اس حالت میں بھی کہ تم احرام میں ہو جب تک کہ خود تم نے شکار نہ کیا ہو اور جب تک کہ خود تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابوداؤد ترمذی نسائی میں بھی یہ حدیث موجود ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی مطلب کا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔ ربیعہ فرماتے ہی کہ عرج میں جناب خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، آپ رضی اللہ عنہ احرام کی حالت میں تھے جاڑوں کے دن تھے ایک چادر سے آپ رضی اللہ عنہ منہ ڈھکے ہوئے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے شکار کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ”تم کھا لو۔‏‏‏‏“ انہوں نے کہا اور آپ رضی اللہ عنہ کیوں نہیں کھاتے؟ فرمایا ”مجھ میں تم میں فرق ہے یہ شکار میرے ہی لیے کیا گیا ہے اس لیے میں نہیں کھاؤں گا تمہارے لیے نہیں گیا اس لیے تم کھا سکتے ہو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [موطا:354/1:حسن] ‏‏‏‏
97۔ 1 کعبہ کو البیت الحرام اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کی حدود میں شکار کرنا، درخت کاٹنا وغیرہ حرام ہیں۔ اسی طرح اس میں اگر باپ کے قاتل سے بھی سامنا ہوجاتا تو اس سے بھی تعرض نہیں کیا جاتا تھا۔ اسے قیاما للناس (لوگوں کے قیام اور گزران کا باعث) قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس کے ذریعے سے اہل مکہ کا نظم و انصرام بھی صحیح ہے اور ان کی ضروریات کی فراہمی کا ذریعہ بھی۔ اسی طرح حرمت والے مہینے (رجب، ذوالحجہ اور محرم) اور حرم میں جانے والے جانور ہیں کہ تمام چیزوں سے بھی اہل مکہ مزکورہ فوائد حاصل ہوتے تھے۔
(آیت 97) ➊ {جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ …:} اوپر کی آیت میں محرم کے لیے شکار کو حرام قرار دیا، اب اس آیت میں بتایا کہ جس طرح حرم کو اللہ تعالیٰ نے وحشی جانوروں اور پرندوں کے لیے سبب امن قرار دیا ہے اسی طرح اسے لوگوں کے لیے بھی جائے امن بنا دیا ہے اور دنیوی اور اخروی سعادتیں حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ (کبیر) دیکھیے سورۂ آل عمران (۹۷)، سورۂ قصص (۵۷) اور سورۂ بقرہ (۱۲۵) یعنی اہل مکہ کی معاش (روزی) کا مدار اسی پر ہے کہ لوگ دور دراز سے حج اور تجارت کے ارادے سے یہاں پہنچتے ہیں اور ہر قسم کی ضروریات ساتھ لاتے ہیں، جس سے اہل مکہ رزق حاصل کرتے ہیں اور لوگ یہاں پہنچ کر امن و امان پاتے ہیں، حتیٰ کہ زمانۂ جاہلیت میں بھی حرم کے اندر کوئی شخص اپنے باپ یا بیٹے کے قاتل تک کو کچھ نہیں کہتا تھا اور عبادت و ثواب کے اعتبار سے یہ بہترین جگہ ہے۔ الغرض! یہ تمام چیزیں لوگوں کے قیام کا باعث ہیں۔ (کبیر، فتح القدیر) کعبۃ اللہ لوگوں کے قائم رہنے کا ایک ذریعہ ہے، کیونکہ قیامت کے قریب جب ایک حبشی کعبۃ اللہ کو گرا دے گا تو اس کے بعد بہت جلد قیامت آ جائے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کعبہ کو دو پتلی پنڈلیوں والا حبشی گرائے گا۔“ [ بخاری، الحج، باب ہدم الکعبۃ: ۱۵۹۶۔ مسلم: ۲۹۰۹ ] ➋ {وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ:} حرمت والے مہینے چار ہیں، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب۔ ان چار مہینوں میں لوگ امن سے سفر اور تجارت کرتے اور سال بھر کی ضروریات جمع کر لیتے تھے، اس اعتبار سے یہ مہینے بھی گویا لوگوں کی زندگی قائم رہنے کا ذریعہ ہیں۔ ➌ {وَ الْهَدْيَ وَ الْقَلَآىِٕدَ:} ان کا لوگوں کے لیے قیام کا سبب ہونا اس اعتبار سے ہے کہ ہدی (قربانی) کا گوشت مکہ کے فقراء میں تقسیم ہوتا اور ہدی اور قلادہ والے جانور کوئی شخص لے کر چلتا تو اس کا تمام عرب احترام کرتے۔ مقصد کعبہ کی عظمت کو بیان کرنا تھا، اس کے ساتھ ان چیزوں کا بھی ذکر کر دیا، کیونکہ ان کا تعلق بھی بیت اللہ سے ہے۔ (کبیر) ➍ {ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ …:} {” ذٰلِكَ “} (یہ) یعنی اللہ تعالیٰ کا ان چیزوں کو لوگوں کے قیام کا باعث بنانا اس لیے ہے کہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمام معاملات کی تفصیل جانتا ہے اور اس نے اپنے علم کے مطابق لوگوں کے قیام اور فائدے کے لیے یہ احکام جاری فرمائے ہیں۔ «وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» ‏‏‏‏ یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی تمام تفصیلات جانتا ہے اور اسے خوب معلوم ہے کہ تمھاری دینی اور معاشی بہتری کس چیز میں ہے اور کس چیز میں نہیں۔
اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿ؕ۹۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
خبردار ہو جاؤ! اللہ سزا دینے میں بھی سخت ہے اور اس کے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ سزا بھی سخت دینے واﻻ ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت اور بڑی رحمت واﻻ بھی ہے
احمد رضا خان بریلوی
جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان،
علامہ محمد حسین نجفی
جان لو کہ اللہ (مقامِ عقاب میں) سخت سزا دینے والا بھی ہے اور مقامِ عفو و صفح میں بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا بھی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جان لو! اللہ بہت سخت عذاب والا ہے اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات ٭٭

دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق، زید بن ثابت، عبداللہ بن عمرو، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہم اجمعین، عکرمہ، ابوسلمہ، ابراہیم نخعی، حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔ خلیفۃ بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”پانی میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب طعام ہیں۔‏‏‏‏“ [ابن ابی حاتم وغیرہ] ‏‏‏‏ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو چیز سمندر پھینک دے وہ طعام ہے۔‏‏‏‏“ [ابن جریر] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے ایک روایت میں ہے کہ جو مردہ جانور پانی نکال دے۔ سعید بن مسیب رحمة الله سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ جس زندہ آبی جانور کو پانی کنارے پر ڈال دے یا پانی اس سے ہٹ جائے یا وہ باہر مردہ ملے [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”سمندر نے بہت سی مردہ مچھلیاں کنارے پر پھینک دی ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں؟ ہم انہیں کھا سکتے ہیں یا نہیں؟“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”نہیں نہ کھاؤ“، جب واپس آئے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کھول کر تلاوت کی اور سورۃ المائدہ کی اس آیت پر نظر پڑی تو ایک آدمی کو دوڑایا اور کہا ”جاؤ کہہ دو کہ وہ اسے کھالیں یہی بحری طعام ہے۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر رحمة الله کے نزدیک بھی قول مختار یہی ہے کہ مراد طعام سے وہ آبی جانور ہیں جو پانی میں ہی مر جائیں، فرماتے ہیں اس بارے میں ایک روایت مروی ہے گو بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:96] ‏‏‏‏ پڑھ کر فرمایا: { اس کا طعام وہ ہے جسے وہ پھینک دے اور وہ مرا ہوا ہو }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12733:موقوف] ‏‏‏‏ بعض لوگوں نے اسے بقول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موقوف روایت کیا ہے۔

پھر فرماتا ہے ’ یہ منفعت ہے تمہارے لیے اور راہ رو مسافروں کے لیے ‘، یعنی جو سمندر کے کنارے رہتے ہوں اور جو وہاں وارد ہوئے ہوں، پس کنارے رہنے والے تو تازہ شکار خود کھیلتے ہیں پانی جسے دھکے دے کر باہر پھینک دے اور مر جائے اسے کھا لیتے ہیں اور نمکین ہو کر دور دراز والوں کو سوکھا ہوا پہنچتا ہے۔ الغرض جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ پانی کا جانور خواہ مردہ ہی ہو حلال ہے۔ اس کی دلیل علاوہ اس آیت کے امام مالک رحمة الله کی روایت کردہ وہ حدیث بھی ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے کنارے پر ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا جس کا سردار ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، یہ لوگ کوئی تین سو تھے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بھی ان میں سے تھا ہم ابھی راستے میں ہی تھے جو ہمارے توشے تھے ختم ہو گئے، امیر لشکر کو جب یہ علم ہوا تو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو میرے پاس لاؤ چنانچہ سب جمع کر لیا اب حصہ رسدی کے طور پر ایک مقررہ مقدار ہر ایک کو بانٹ دیتے تھے یہاں تک کہ آخر میں ہمیں ہر دن ایک ایک کھجور ملنے لگی آخر میں یہ بھی ختم ہو گئی۔ اب سمندر کے کنارے پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ کنارے پر ایک بڑی مچھلی ایک ٹیلے کی طرح پڑی ہوئی ہے، سارے لشکر نے اٹھارہ راتوں تک اسے کھایا، وہ اتنی بڑی تھی کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو اس کے نیچے سے ایک شتر سوار نکل گیا اور اس کا سر اس پسلی کی ہڈی تک نہ پہنچا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2483] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ اس کا نام عنبر تھا ایک روایت میں ہے کہ یہ مردہ ملی تھی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس وقت سخت دقت اور تکلیف میں ہیں اسے کھا لو ہم تین سو آدمی ایک مہینے تک وہیں رہے اور اسی کو کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے تازے اور تیار ہو گئے اس کی آنکھ کے سوراخ میں سے ہم چربی ہاتھوں میں بھربھر کر نکالتے تھے تیرہ شخص اس کی آنکھ کی گہرائی میں بیٹھ گئے تھے، اس کی پسلی کی ہڈی کے درمیان سے سانڈنی سوار گزر جاتا تھا، ہم نے اس کے گوشت اور چربی سے مٹکے بھر لیے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ اللہ کی طرف سے روزی تھی جو اللہ جل مجدہ نے تمہیں دی کیا اس کا گوشت اب بھی تمہارے پاس ہے؟ اگر ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ، ہمارے پاس تو تھا ہی ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1935] ‏‏‏‏ مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ { اس واقعہ میں خود پیغمبر اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے } اس وجہ سے بعض محدثین کہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ دو واقعے ہوں اور بعض کہتے ہیں واقعہ تو ایک ہی ہے، شروع میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مختصر جماعت کو بہ ماتحتی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے روانہ فرمایا تھا اور انہیں یہ واقعہ پیش آیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سمندر کے سفر کو جاتے ہیں ہمارے ساتھ پانی بہت کم ہوتا ہے اگر اسی سے وضو کرتے ہیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہمیں سمندر کے پانی سے وضو کر لینے کی اجازت ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ امام شافعی، امام احمد رحمة الله علیہم اور سنن اربعہ والوں نے اسے روایت کیا ہے امام بخاری امام ترمذی امام ابن خزیمہ امام ابن حبان رحمة الله علیہم وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں تھے اتفاق سے ٹڈیوں کا دل کا دل آ پہنچا ہم نے انہیں مارنا اور پکڑنا شروع کیا لیکن پھر خیال آیا کہ ہم تو احرام کی حالت میں ہیں انہیں کیا کریں گے؟ چنانچہ ہم نے جا کر حضور علیہ السلام سے مسئلہ پوچھا تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ { دریائی جانوروں کے شکار میں کوئی حرج نہیں } } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1854، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا ایک راوی ابو المہزم ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ابن ماجہ میں ہے کہ { جب ٹڈیاں نکل آتیں اور نقصان پہنچاتیں تو رسول اللہ علیہ افضل الصلوۃ و التسلیم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ { اے اللہ ان سب کو خواہ چھوٹی ہوں خواہ بڑی ہلاک کر ان کے انڈے تباہ کر ان کا سلسلہ کاٹ دے اور ہماری معاش سے ان کے منہ بند کر دیے یا اللہ ہمیں روزیاں دے یقیناً تو دعاؤں کا سننے والا ہے }، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان کے سلسلہ کے کٹ جانے کی دعا کرتے ہیں حالانکہ وہ بھی ایک قسم کی مخلوق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی پیدائش کی اصل مچھلی سے ہے } }، زیاد رحمة الله کا قول ہے کہ جس نے انہیں مچھلی سے ظاہر ہوتے دیکھا تھا خود اسی نے مجھ سے بیان کیا ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3221، قال الشيخ الألباني:۔ موضوع] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حرم میں ٹڈی کے شکار سے بھی منع کیا ہے جن فقہاء کرام کا یہ مذہب ہے کہ سمندر میں جو کچھ ہے سب حلال ہے ان کا استدلال اسی آیت سے ہے وہ کسی آبی جانور کو حرام نہیں کہتے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ قول بیان ہو چکا ہے کہ طعام سے مراد پانی میں رہنے والی ہر ایک چیز ہے، بعض حضرات نے صرف مینڈک کو اس حکم سے الگ کر لیا ہے اور مینڈک کے سوا پانی کے تمام جانوروں کو وہ مباح کہتے ہیں کیونکہ مسند وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا ہے } ۱؎ [سنن ابوداود:3871،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور فرمایا ہے کہ { اس کی آواز اللہ کی تسبیح ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4788:ضعیف] ‏‏‏‏ بعض اور کہتے ہیں سمندر کے شکار سے مچھلی کھائی جائے گی اور مینڈک نہیں کھایا جائے گا اور باقی کی چیزوں میں اختلاف ہے کچھ تو کہتے ہیں کہ باقی سب حلال ہے اور کچھ کہتے ہیں باقی سب نہ کھایا جائے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ خشکی کے جو جانور حلال ہیں ان جیسے جو جانور پانی کے ہوں وہ بھی حلال ہیں اور خشکی کے جو جانور حرام ہیں ان کی مشابہت کے جو جانور تری کے ہوں وہ بھی حرام، یہ سب وجوہ مذہب شافعی میں ہیں حنفی مذہب یہ ہے کہ سمندر میں مر جائے اس کا کھانا حلال نہیں جیسے کہ خشکی میں از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں کیونکہ قرآن نے اپنی موت آپ مرے ہوئے جانور کو آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» ۔ الخ [5-المائدہ:3] ‏‏‏‏ میں حرام کر ذیا ہے اور یہ عام ہے۔

ابن مردویہ میں حدیث ہے کہ { جو تم شکار کر لو اور وہ زندہ ہو پھر مر جائے تو اسے کھا لو اور جسے پانی آپ ہی پھینک دے اور وہ مرا ہوا الٹا پڑا ہوا ہو اسے نہ کھاؤ } ۱؎ [سنن ابوداود:3815، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث مسند کی رو سے منکر ہے صحیح نہیں۔ مالکیوں شافعیوں اور حنبلیوں کی دلیل ایک تو ہی عنبر والی حدیث ہے جو پہلے گزر چکی دوسری دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ { سمندر کا پانی پاک اور اس کا مردہ حلال کئے گئے ہیں دو مردے مچھلی اور ٹڈی اور دو خون کلیجی اور تلی } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسند احمد ابن ماجہ دارقطنی اور بیہقی میں بھی ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں اور یہی روایت موقوفاً بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ تم پر احرام کی حالت میں شکار کھیلنا حرام ہے ‘۔ پس اگر کسی احرام والے نے شکار کر لیا اور اگر قصداً کیا ہے تو اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا اور گنہگار بھی ہو گا اور اگر خطا اور غلطی سے شکار کر لیا ہے تو اسے کفارہ دینا پڑے گا اور اس کا کھانا اس پر حرام ہے خواہ وہ احرام والے ہوں یا نہ ہوں۔ عطا قاسم سالم ابو یوسف محمد بن حسن رحمة الله علیہم وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں، پھر اگر اسے کھا لیا تو عطا وغیرہ کا قول ہے کہ اس پر دو کفارے لازم ہیں لیکن امام مالک رحمة الله وغیرہ فرماتے ہیں کہ کھانے میں کوئی کفارہ نہیں، جمہور بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں، ابوعمر نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح زانی کے کئی زنا پر حد ایک ہی ہوتی ہے۔ ابوحنیفہ رحمة الله کا قول ہے کہ ”شکار کر کے کھانے والے کو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی۔‏‏‏‏“ ابوثور رحمة الله کہتے ہیں کہ ”محرم نے جب کوئی شکار مارا تو اس پر جزا ہے، ہاں اس شکار کا کھانا اس کیلئے حلال ہے لیکن میں اسے اچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ فرمان رسول ہے کہ { خشکی کے شکار کو کھانا تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم آپ شکار نہ کرو اور جب تک کہ خاص تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کا تفصیلی بیان آگے آ رہا ہے، ان کا یہ قول غریب ہے، ہاں شکاری کے سوا اور لوگ بھی اسے کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، بعض تو منع کرتے ہیں جیسے پہلے گزر چکا اور بعض جائز بتاتے ہیں ان کی دلدل وہی حدیث ہے جو اوپر ابوثور کے قول کے بیان میں گزری، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، اگر کسی ایسے شخص نے شکار کیا جو احرام باندھے ہوئے نہیں پھر اس نے کسی احرام والے کو وہ جانور ہدیئے میں دیا تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ مطلقاً حلال ہے خواہ اسی کی نیت سے شکار کیا ہو خواہ اس کے لیے شکار نہ کیا ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر کعب احبار رضی اللہ عنہ، مجاہد، عطا، سعید بن جیر رحمة الله علیہم اور کوفیوں کا یہی خیال ہے۔

چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ غیر محرم کے شکار کو محرم کھا سکتا ہے؟ تو آپ نے جواز کا فتوی دیا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر تو اس کے خلاف فتوی دیتا تو میں تیری سزا کرتا۔‏‏‏‏“ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی محرم کو اس کا کھانا درست نہیں، ان کی دلیل اس آیت کے کا عموم ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین تابعین اور ائمہ دین رحمة الله علیہم اس طرف گئے ہیں۔ تیسری جماعت نے اس کی تفصیل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی غیر محرم نے کسی محرم کے ارادے سے شکار کیا ہے تو اس محرم کو اس کا کھانا جائز نہیں، ورنہ جائز ہے ان کی دلیل سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ { انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوا کے میدان میں یا ودان کے میدان میں ایک گورخر شکار کردہ بطور ہدئیے کے دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کردیا جس سے صحابی رضی اللہ عنہم اجمعین رنجیدہ ہوئے، آثار رنج ان کے چہرے پر دیکھ کر رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اور کچھ خیال نہ کرو ہم نے بوجہ احرام میں ہونے کے ہی اسے واپس کیا ہے } } ۱؎ [صحیح بخاری:1825] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے۔ تو یہ لوٹانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی وجہ سے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا تھا کہ اس نے یہ شکار خاص میرے لیے ہی کیا ہے اور جب شکار محرم کیلئے ہی نہ ہو تو پھر اسے قبول کرنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ابوقتادہ رحمة الله کی حدیث میں ہے کہ { انہوں نے بھی جبکہ وہ احرام کی حالت میں نہ تھے ایک گورخر شکار کیا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین جو احرام میں تھے انہوں نے اس کے کھانے میں توقف کیا اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { کیا تم میں سے کسی نے اسے اشارہ کیا تھا؟ یا اسے کوئی مدد دی تھی؟ } سب نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر کھا لو اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا } }۔ یہ واقعہ بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے ۱؎ [صحیح بخاری:1824] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جنگلی شکار کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اس حالت میں بھی کہ تم احرام میں ہو جب تک کہ خود تم نے شکار نہ کیا ہو اور جب تک کہ خود تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابوداؤد ترمذی نسائی میں بھی یہ حدیث موجود ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی مطلب کا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔ ربیعہ فرماتے ہی کہ عرج میں جناب خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، آپ رضی اللہ عنہ احرام کی حالت میں تھے جاڑوں کے دن تھے ایک چادر سے آپ رضی اللہ عنہ منہ ڈھکے ہوئے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے شکار کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ”تم کھا لو۔‏‏‏‏“ انہوں نے کہا اور آپ رضی اللہ عنہ کیوں نہیں کھاتے؟ فرمایا ”مجھ میں تم میں فرق ہے یہ شکار میرے ہی لیے کیا گیا ہے اس لیے میں نہیں کھاؤں گا تمہارے لیے نہیں گیا اس لیے تم کھا سکتے ہو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [موطا:354/1:حسن] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 98) {اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ …:} لہٰذا تم ایک طرف اس کے عذاب سے بھی پناہ مانگتے رہو اور دوسری طرف اس کی رحمت کے بھی امید وار رہو۔ اصل ایمان یہ ہے کہ بندے پر خوف و رجا(ڈر اور امید) کی حالت طاری رہے، فرمایا: «وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا» [ الأعراف: ۵۶ ] ”اور اسے خوف اور طمع سے پکارو۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر مومن کو اللہ تعالیٰ کی تیار کردہ سزا (عذاب) کا علم ہو جائے تو کوئی جنت کی طمع نہ کرے اور اگر کافر کو اللہ تعالیٰ کی رحمت (کی وسعت) کا علم ہو جائے تو کوئی اس کی جنت سے مایوس نہ ہو۔“ [مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ …: ۲۷۵۵ ]
مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَ مَا تَکۡتُمُوۡنَ ﴿۹۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
رسول پر تو صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے، آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا اللہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
رسول کے ذمہ تو صرف پہنچانا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے جو کچھ تم ﻇاہر کرتے ہو اور جو کچھ پوشیده رکھتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
رسول پر نہیں مگر حکم پہنچانا اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
پیغمبر کی ذمہ داری صرف پیغام پہنچانا ہے اور بس۔ اور اللہ اسے بھی جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور اسے بھی جسے تم چھپاتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
رسول پر پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات ٭٭

دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق، زید بن ثابت، عبداللہ بن عمرو، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہم اجمعین، عکرمہ، ابوسلمہ، ابراہیم نخعی، حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔ خلیفۃ بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”پانی میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب طعام ہیں۔‏‏‏‏“ [ابن ابی حاتم وغیرہ] ‏‏‏‏ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو چیز سمندر پھینک دے وہ طعام ہے۔‏‏‏‏“ [ابن جریر] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے ایک روایت میں ہے کہ جو مردہ جانور پانی نکال دے۔ سعید بن مسیب رحمة الله سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ جس زندہ آبی جانور کو پانی کنارے پر ڈال دے یا پانی اس سے ہٹ جائے یا وہ باہر مردہ ملے [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”سمندر نے بہت سی مردہ مچھلیاں کنارے پر پھینک دی ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں؟ ہم انہیں کھا سکتے ہیں یا نہیں؟“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”نہیں نہ کھاؤ“، جب واپس آئے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کھول کر تلاوت کی اور سورۃ المائدہ کی اس آیت پر نظر پڑی تو ایک آدمی کو دوڑایا اور کہا ”جاؤ کہہ دو کہ وہ اسے کھالیں یہی بحری طعام ہے۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر رحمة الله کے نزدیک بھی قول مختار یہی ہے کہ مراد طعام سے وہ آبی جانور ہیں جو پانی میں ہی مر جائیں، فرماتے ہیں اس بارے میں ایک روایت مروی ہے گو بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:96] ‏‏‏‏ پڑھ کر فرمایا: { اس کا طعام وہ ہے جسے وہ پھینک دے اور وہ مرا ہوا ہو }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12733:موقوف] ‏‏‏‏ بعض لوگوں نے اسے بقول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موقوف روایت کیا ہے۔

پھر فرماتا ہے ’ یہ منفعت ہے تمہارے لیے اور راہ رو مسافروں کے لیے ‘، یعنی جو سمندر کے کنارے رہتے ہوں اور جو وہاں وارد ہوئے ہوں، پس کنارے رہنے والے تو تازہ شکار خود کھیلتے ہیں پانی جسے دھکے دے کر باہر پھینک دے اور مر جائے اسے کھا لیتے ہیں اور نمکین ہو کر دور دراز والوں کو سوکھا ہوا پہنچتا ہے۔ الغرض جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ پانی کا جانور خواہ مردہ ہی ہو حلال ہے۔ اس کی دلیل علاوہ اس آیت کے امام مالک رحمة الله کی روایت کردہ وہ حدیث بھی ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے کنارے پر ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا جس کا سردار ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، یہ لوگ کوئی تین سو تھے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بھی ان میں سے تھا ہم ابھی راستے میں ہی تھے جو ہمارے توشے تھے ختم ہو گئے، امیر لشکر کو جب یہ علم ہوا تو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو میرے پاس لاؤ چنانچہ سب جمع کر لیا اب حصہ رسدی کے طور پر ایک مقررہ مقدار ہر ایک کو بانٹ دیتے تھے یہاں تک کہ آخر میں ہمیں ہر دن ایک ایک کھجور ملنے لگی آخر میں یہ بھی ختم ہو گئی۔ اب سمندر کے کنارے پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ کنارے پر ایک بڑی مچھلی ایک ٹیلے کی طرح پڑی ہوئی ہے، سارے لشکر نے اٹھارہ راتوں تک اسے کھایا، وہ اتنی بڑی تھی کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو اس کے نیچے سے ایک شتر سوار نکل گیا اور اس کا سر اس پسلی کی ہڈی تک نہ پہنچا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2483] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ اس کا نام عنبر تھا ایک روایت میں ہے کہ یہ مردہ ملی تھی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس وقت سخت دقت اور تکلیف میں ہیں اسے کھا لو ہم تین سو آدمی ایک مہینے تک وہیں رہے اور اسی کو کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے تازے اور تیار ہو گئے اس کی آنکھ کے سوراخ میں سے ہم چربی ہاتھوں میں بھربھر کر نکالتے تھے تیرہ شخص اس کی آنکھ کی گہرائی میں بیٹھ گئے تھے، اس کی پسلی کی ہڈی کے درمیان سے سانڈنی سوار گزر جاتا تھا، ہم نے اس کے گوشت اور چربی سے مٹکے بھر لیے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ اللہ کی طرف سے روزی تھی جو اللہ جل مجدہ نے تمہیں دی کیا اس کا گوشت اب بھی تمہارے پاس ہے؟ اگر ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ، ہمارے پاس تو تھا ہی ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1935] ‏‏‏‏ مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ { اس واقعہ میں خود پیغمبر اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے } اس وجہ سے بعض محدثین کہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ دو واقعے ہوں اور بعض کہتے ہیں واقعہ تو ایک ہی ہے، شروع میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مختصر جماعت کو بہ ماتحتی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے روانہ فرمایا تھا اور انہیں یہ واقعہ پیش آیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سمندر کے سفر کو جاتے ہیں ہمارے ساتھ پانی بہت کم ہوتا ہے اگر اسی سے وضو کرتے ہیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہمیں سمندر کے پانی سے وضو کر لینے کی اجازت ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ امام شافعی، امام احمد رحمة الله علیہم اور سنن اربعہ والوں نے اسے روایت کیا ہے امام بخاری امام ترمذی امام ابن خزیمہ امام ابن حبان رحمة الله علیہم وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں تھے اتفاق سے ٹڈیوں کا دل کا دل آ پہنچا ہم نے انہیں مارنا اور پکڑنا شروع کیا لیکن پھر خیال آیا کہ ہم تو احرام کی حالت میں ہیں انہیں کیا کریں گے؟ چنانچہ ہم نے جا کر حضور علیہ السلام سے مسئلہ پوچھا تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ { دریائی جانوروں کے شکار میں کوئی حرج نہیں } } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1854، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا ایک راوی ابو المہزم ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ابن ماجہ میں ہے کہ { جب ٹڈیاں نکل آتیں اور نقصان پہنچاتیں تو رسول اللہ علیہ افضل الصلوۃ و التسلیم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ { اے اللہ ان سب کو خواہ چھوٹی ہوں خواہ بڑی ہلاک کر ان کے انڈے تباہ کر ان کا سلسلہ کاٹ دے اور ہماری معاش سے ان کے منہ بند کر دیے یا اللہ ہمیں روزیاں دے یقیناً تو دعاؤں کا سننے والا ہے }، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان کے سلسلہ کے کٹ جانے کی دعا کرتے ہیں حالانکہ وہ بھی ایک قسم کی مخلوق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی پیدائش کی اصل مچھلی سے ہے } }، زیاد رحمة الله کا قول ہے کہ جس نے انہیں مچھلی سے ظاہر ہوتے دیکھا تھا خود اسی نے مجھ سے بیان کیا ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3221، قال الشيخ الألباني:۔ موضوع] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حرم میں ٹڈی کے شکار سے بھی منع کیا ہے جن فقہاء کرام کا یہ مذہب ہے کہ سمندر میں جو کچھ ہے سب حلال ہے ان کا استدلال اسی آیت سے ہے وہ کسی آبی جانور کو حرام نہیں کہتے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ قول بیان ہو چکا ہے کہ طعام سے مراد پانی میں رہنے والی ہر ایک چیز ہے، بعض حضرات نے صرف مینڈک کو اس حکم سے الگ کر لیا ہے اور مینڈک کے سوا پانی کے تمام جانوروں کو وہ مباح کہتے ہیں کیونکہ مسند وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا ہے } ۱؎ [سنن ابوداود:3871،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور فرمایا ہے کہ { اس کی آواز اللہ کی تسبیح ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4788:ضعیف] ‏‏‏‏ بعض اور کہتے ہیں سمندر کے شکار سے مچھلی کھائی جائے گی اور مینڈک نہیں کھایا جائے گا اور باقی کی چیزوں میں اختلاف ہے کچھ تو کہتے ہیں کہ باقی سب حلال ہے اور کچھ کہتے ہیں باقی سب نہ کھایا جائے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ خشکی کے جو جانور حلال ہیں ان جیسے جو جانور پانی کے ہوں وہ بھی حلال ہیں اور خشکی کے جو جانور حرام ہیں ان کی مشابہت کے جو جانور تری کے ہوں وہ بھی حرام، یہ سب وجوہ مذہب شافعی میں ہیں حنفی مذہب یہ ہے کہ سمندر میں مر جائے اس کا کھانا حلال نہیں جیسے کہ خشکی میں از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں کیونکہ قرآن نے اپنی موت آپ مرے ہوئے جانور کو آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» ۔ الخ [5-المائدہ:3] ‏‏‏‏ میں حرام کر ذیا ہے اور یہ عام ہے۔

ابن مردویہ میں حدیث ہے کہ { جو تم شکار کر لو اور وہ زندہ ہو پھر مر جائے تو اسے کھا لو اور جسے پانی آپ ہی پھینک دے اور وہ مرا ہوا الٹا پڑا ہوا ہو اسے نہ کھاؤ } ۱؎ [سنن ابوداود:3815، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث مسند کی رو سے منکر ہے صحیح نہیں۔ مالکیوں شافعیوں اور حنبلیوں کی دلیل ایک تو ہی عنبر والی حدیث ہے جو پہلے گزر چکی دوسری دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ { سمندر کا پانی پاک اور اس کا مردہ حلال کئے گئے ہیں دو مردے مچھلی اور ٹڈی اور دو خون کلیجی اور تلی } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسند احمد ابن ماجہ دارقطنی اور بیہقی میں بھی ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں اور یہی روایت موقوفاً بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ تم پر احرام کی حالت میں شکار کھیلنا حرام ہے ‘۔ پس اگر کسی احرام والے نے شکار کر لیا اور اگر قصداً کیا ہے تو اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا اور گنہگار بھی ہو گا اور اگر خطا اور غلطی سے شکار کر لیا ہے تو اسے کفارہ دینا پڑے گا اور اس کا کھانا اس پر حرام ہے خواہ وہ احرام والے ہوں یا نہ ہوں۔ عطا قاسم سالم ابو یوسف محمد بن حسن رحمة الله علیہم وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں، پھر اگر اسے کھا لیا تو عطا وغیرہ کا قول ہے کہ اس پر دو کفارے لازم ہیں لیکن امام مالک رحمة الله وغیرہ فرماتے ہیں کہ کھانے میں کوئی کفارہ نہیں، جمہور بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں، ابوعمر نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح زانی کے کئی زنا پر حد ایک ہی ہوتی ہے۔ ابوحنیفہ رحمة الله کا قول ہے کہ ”شکار کر کے کھانے والے کو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی۔‏‏‏‏“ ابوثور رحمة الله کہتے ہیں کہ ”محرم نے جب کوئی شکار مارا تو اس پر جزا ہے، ہاں اس شکار کا کھانا اس کیلئے حلال ہے لیکن میں اسے اچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ فرمان رسول ہے کہ { خشکی کے شکار کو کھانا تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم آپ شکار نہ کرو اور جب تک کہ خاص تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کا تفصیلی بیان آگے آ رہا ہے، ان کا یہ قول غریب ہے، ہاں شکاری کے سوا اور لوگ بھی اسے کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، بعض تو منع کرتے ہیں جیسے پہلے گزر چکا اور بعض جائز بتاتے ہیں ان کی دلدل وہی حدیث ہے جو اوپر ابوثور کے قول کے بیان میں گزری، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، اگر کسی ایسے شخص نے شکار کیا جو احرام باندھے ہوئے نہیں پھر اس نے کسی احرام والے کو وہ جانور ہدیئے میں دیا تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ مطلقاً حلال ہے خواہ اسی کی نیت سے شکار کیا ہو خواہ اس کے لیے شکار نہ کیا ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر کعب احبار رضی اللہ عنہ، مجاہد، عطا، سعید بن جیر رحمة الله علیہم اور کوفیوں کا یہی خیال ہے۔

چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ غیر محرم کے شکار کو محرم کھا سکتا ہے؟ تو آپ نے جواز کا فتوی دیا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر تو اس کے خلاف فتوی دیتا تو میں تیری سزا کرتا۔‏‏‏‏“ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی محرم کو اس کا کھانا درست نہیں، ان کی دلیل اس آیت کے کا عموم ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین تابعین اور ائمہ دین رحمة الله علیہم اس طرف گئے ہیں۔ تیسری جماعت نے اس کی تفصیل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی غیر محرم نے کسی محرم کے ارادے سے شکار کیا ہے تو اس محرم کو اس کا کھانا جائز نہیں، ورنہ جائز ہے ان کی دلیل سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ { انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوا کے میدان میں یا ودان کے میدان میں ایک گورخر شکار کردہ بطور ہدئیے کے دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کردیا جس سے صحابی رضی اللہ عنہم اجمعین رنجیدہ ہوئے، آثار رنج ان کے چہرے پر دیکھ کر رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اور کچھ خیال نہ کرو ہم نے بوجہ احرام میں ہونے کے ہی اسے واپس کیا ہے } } ۱؎ [صحیح بخاری:1825] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے۔ تو یہ لوٹانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی وجہ سے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا تھا کہ اس نے یہ شکار خاص میرے لیے ہی کیا ہے اور جب شکار محرم کیلئے ہی نہ ہو تو پھر اسے قبول کرنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ابوقتادہ رحمة الله کی حدیث میں ہے کہ { انہوں نے بھی جبکہ وہ احرام کی حالت میں نہ تھے ایک گورخر شکار کیا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین جو احرام میں تھے انہوں نے اس کے کھانے میں توقف کیا اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { کیا تم میں سے کسی نے اسے اشارہ کیا تھا؟ یا اسے کوئی مدد دی تھی؟ } سب نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر کھا لو اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا } }۔ یہ واقعہ بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے ۱؎ [صحیح بخاری:1824] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جنگلی شکار کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اس حالت میں بھی کہ تم احرام میں ہو جب تک کہ خود تم نے شکار نہ کیا ہو اور جب تک کہ خود تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابوداؤد ترمذی نسائی میں بھی یہ حدیث موجود ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی مطلب کا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔ ربیعہ فرماتے ہی کہ عرج میں جناب خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، آپ رضی اللہ عنہ احرام کی حالت میں تھے جاڑوں کے دن تھے ایک چادر سے آپ رضی اللہ عنہ منہ ڈھکے ہوئے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے شکار کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ”تم کھا لو۔‏‏‏‏“ انہوں نے کہا اور آپ رضی اللہ عنہ کیوں نہیں کھاتے؟ فرمایا ”مجھ میں تم میں فرق ہے یہ شکار میرے ہی لیے کیا گیا ہے اس لیے میں نہیں کھاؤں گا تمہارے لیے نہیں گیا اس لیے تم کھا سکتے ہو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [موطا:354/1:حسن] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 99) {مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغ:} یعنی جب انھوں نے یہ حکم پہنچا دیا تو اپنا فریضہ ادا کر دیا اور تم پر حجت قائم ہو گئی، اب کسی شخص کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہو گا۔ (ابن کثیر)
قُلۡ لَّا یَسۡتَوِی الۡخَبِیۡثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوۡ اَعۡجَبَکَ کَثۡرَۃُ الۡخَبِیۡثِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ یٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے پیغمبرؐ! اِن سے کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہر حال یکساں نہیں ہیں خواہ ناپاک کی بہتا ت تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی ہو، پس اے لوگو جو عقل رکھتے ہو! اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ فرما دیجیئے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں گو آپ کو ناپاک کی کثرت بھلی لگتی ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اے عقل مندو! تاکہ تم کامیاب ہو
احمد رضا خان بریلوی
تم فرمادو کہ گندہ اور ستھرا برابر نہیں اگرچہ تجھے گندے کی کثرت بھائے، تو اللہ سے ڈرتے رہو اے عقل والو! کہ تم فلاح پاؤ،
علامہ محمد حسین نجفی
کہہ دیجیے کہ خبیث (ناپاک) اور طیب (پاک) برابر نہیں ہو سکتے اگرچہ خبیث (ناپاک) کی کثرت اور بہتات تمہیں تعجب میں بھی ڈال دے (تمہیں بھلی لگے) اے عقل والو! خدا کی نافرمانی سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے ناپاک اور پاک برابر نہیں، خواہ ناپاک کی کثرت تجھے تعجب میں ڈالے۔ پس اللہ سے ڈرو اے عقلوں والو! تاکہ تم فلاح پاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رزق حلال کم ہو تو برکت حرام زیادہ بھی ہو تو بےبرکت اور کثرت سوالات ٭٭

مقصد یہ ہے کہ حلال گو تھوڑا ہو وہ بہتر ہے حرام سے گو بہت سارا ہو جیسے وارد ہے کہ جو کم ہو اور کفایت کرے وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:1053:حسن] ‏‏‏‏ { ابن حاطب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کم مال جس کا شکریہ تو ادا کرے یہ بہتر ہے اس زیادہ سے جس کی تو طاقت نہ رکھے } } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4081: ضعیف] ‏‏‏‏ ’ اے عقلمند لوگو اللہ سے ڈرو حرام سے بچو حلال پر اکتفا کرو قناعت کیا کرو تاکہ دین و دنیا میں کامیاب ہو جاؤ ‘۔

پھر اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ادب سکھاتا ہے کہ ’ بے فائدہ سوالات مت کیا کرو، کرید میں نہ پڑو، ایسے نہ ہو کہ پھر ان کا جواب اور ان امور کا اظہار تم پر شاق گزرے ‘۔ صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { مجھے کوئی کسی کی برائی کی بات نہ پہنچائے، میں چاہتا ہوں کہ تمہاری طرف اس حالت میں آؤں کہ میرے دل میں کسی کی طرف سے کوئی برائی نہ ہو } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4860، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سنایا، ایسا بے مثل کہ ہم نے کبھی ایسا خطبہ نہ سنا تھا اسی میں فرمایا کہ { اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے }، یہ سن کر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم منہ ڈھانپ کر رونے لگے اسی اثناء میں ایک شخص آپ سے پوچھ بیٹھا کہ میرا باپ کون ہے؟ { آپ نے فرمایا فلاں }، اس پر یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4621] ‏‏‏‏ بخاری مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ کثرت سوالات شروع کر دیئے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر آ گئے اور فرمایا { آؤ اب جس کسی کو جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو جو پوچھو گے جواب پاؤ گے }۔ صحابہ رضی اللہ عنہ کانپ اٹھے کہ ایسا نہ ہو اس کے پیچھے کوئی اہم امر ظاہر ہو جتنے بھی تھے سب اپنے اپنے چہرے کپڑوں سے ڈھانپ کر رونے لگے، ایک شخص تھے جن سے مذاق کیا جاتا تھا اور جنہیں لوگ ان کے باپ کے سوا دوسرے کی طرف نسبت کرکے بلاتے تھے اس نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { خزافہ }، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال ہونے پر راضی ہوگئے، ہم تمام فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { آج کی طرح میں نے بھلائی برائی کبھی نہیں دیکھی جنت دوزخ میرے سامنے اس دیوار کے پیچھے بطور نقشے کے پیش کردی گئی تھی } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6362] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے یہ سوال کرنے والے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ان سے ان کی والدہ نے کہا تجھ سے بڑھ کر ماں باپ کا نافرمان میں نے نہیں دیکھا۔ تجھے کیا خبر تھی جاہلیت میں کس چیز کا پرہیز تھا۔ فرض کرو اگر میں بھی کسی معصیت میں اس وقت آلودہ ہوگئی ہوتی تو آج اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی میری رسوائی ہوتی اور سب کے سامنے بےآبروئی ہوتی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سنو ماں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی مجھے معلوم ہوتا کہ فلاں حبشی غلام کا میں بیٹا ہوں تو واللہ میں اسی سے مل جاتا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:7294] ‏‏‏‏

ابن جریر میں ہے کہ { ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے کی حالت میں آئے منبر پر بیٹھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک اس وقت سرخ ہو رہا تھا ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا میں کہاں جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { جہنم میں }۔ دوسرے نے پوچھا میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا { حذافہ }۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر، قرآن کے امام ہونے پر راضی ہیں یا رسول اللہ جاہلیت اور شرک میں ہم ابھی ابھی آپ کی طرف آئے ہیں، اللہ ہی جانتا ہے کہ میرے آباؤ اجداد کون ہیں؟ اس سے آپ کا غصہ کم ہوا اور یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12806:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا: { جو چاہو پوچھو، جو پوچھو گے، بتاؤں گا }، یہ شخص جس نے اپنے باپ کا نام پوچھا تھا یہ قریش کے قبیلے بنو سہم میں سے تھا۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم چوم کر یہ عرض کیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے درگزر فرمائیے اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درگزر فرمائے، اسی دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قاعدہ مقرر فرمایا تھا کہ { اولاد اسے ملے گی جس کی بیوی یا لونڈی ہو اور زانی کو پتھر ملیں گے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12805] ‏‏‏‏ بخاری شریف میں ہے کہ { بعض لوگ از روئے مذاق حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ کا نام اور اپنی گمشدہ اونٹینیوں کی جگہ وغیرہ دریافت کرتے تھے جس پر یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4622] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { جب آیت «وَلِلّٰهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا» ۱؎ [3-آل عمران:97] ‏‏‏‏ نازل ہوئی یعنی ’ صاحب مقدور لوگوں پر حج بیت اللہ فرض ہے ‘، تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے انہوں نے پھر دوبارہ یہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سکوت فرمایا انہوں نے تیسری دفعہ پھر یہی پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہر سال نہیں اور اگر میں ہاں کہ دیتا تو ہر سال واجب ہو جاتا اور تم ادا نہ کر سکتے } }۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:814، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمة الله فرماتے ہیں یہ روایت اس سند سے غریب ہے اور میں نے امام بخاری رحمة الله سے سنا ہے کہ اس کے راوی ابو الخجزی نے سیدنا علی ابن طالب رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی۔

ابن جریر کی اس روایت میں یہ بھی ہے کہ { میری ہاں کے بعد اگر تم اسے چھوڑ دیتے تو یقیناً کافر ہو جاتے }، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ پوچھنے والے محصن اسدی رضی اللہ عنہ تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12808:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ان کا نام عکاشہ بن محصن مروی ہے، یہی زیادہ ٹھیک ہے، اور روایت میں ہے کہ سائل ایک اعرابی تھے اس میں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم سے اگلے لوگ ائمہ حرج کے ایسے ہی سوالوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے واللہ تمہاری حالت تو یہ ہے کہ اگر میں ساری زمین تمہارے لیے حلال کردوں اور صرف ایک موزے کے برابر کی جگہ حرام کردوں تو تم اسی حرمت والی زمین پر گرو گے } }، اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12811:ضعیف] ‏‏‏‏ ظاہر آیت کے الفاظ کا مطلب تو صاف ہے یعنی ان باتوں کا پوچھنا منع ہے جن کا ظاہر ہونا برا ہو، پس اولیٰ یہ ہے کہ ایسے سوالات ترک کر دیئے جائیں اور ان سے اعراض کرلیا جائے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرما دیا { دیکھو مجھے کسی کی کوئی برائی نہ پہنچائے میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ لے کر آؤں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3896،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے کہ ’ جن چیزوں کے سوال سے تمہیں روکا جا رہا ہے اگر تم نے ان کی بابت پوچھ گچھ کی اور تم دیکھ رہے ہو کہ وحی نازل ہو رہی ہے تو تمہارے سوالات کا جواب آ جائے گا اور جس چیز کا ظاہر ہونا تمہیں برا معلوم ہوتا تھا وہ ظاہر ہو جائے گی، اس سے پہلے کے ایسے سوالات سے تو اللہ تعالیٰ نے درگزر فرما لیا۔ اللہ ہے ہی بخشش والا اور حلم و بردباری والا ‘۔ مطلب یہ ہے کہ سوالات ترک کر دو ایسا نہ ہو کہ تمہارے سوال کی وجہ سے کوئی آسانی سختی میں بدل جائے۔ حدیث شریف میں ہے { مسلمانوں میں سب سے بڑا گنہگار وہ ہے جس نے کسی چیز کی نسبت دریافت کیا جو حرام نہ تھی پھر اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام ہو گئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7289] ‏‏‏‏ یہ بات اور ہے کہ قرآن شریف میں کوئی حکم آئے اس میں اجمال ہو اس کی تفصیل دریافت کی جائے، اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا ذکر اپنی پاک کتاب میں نہیں کیا اس سے خود اس نے درگزر فرما لیا ہے، پس تمہیں بھی اس سے خاموشی اختیار کرنی چاہیئے جیسے کہ خود اللہ تعالیٰ نے کی ہے۔ صحیح حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑ رکھو، یاد رکھو کہ تم سے اگلے لوگوں کی حالت کی وجہ صرف کثرت سوال اور انبیاء پر اختلاف ہی ہوئی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7288] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ نے فرائض مقرر کر دیئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو حدیں باندھ دی ہیں انہیں نہ توڑو، جو چیزیں حرام کر دی ہیں ان کی حرمت کو سنبھالو جن چیزوں سے خاموشی کی ہے صرف تم پر رحم کھا کر نہ کہ بھول کر تم بھی اس کو پوچھ گچھ نہ کرو }۔ ۱؎ [دارقطنی:183/4:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے ’ ایسے ہی مسائل تم سے اگلے لوگوں نے بھی دریافت کئے انہیں بتائے گئے پھر وہ ان پر ایمان نہ لائے بلکہ ان کے باعث کافر بن گئے ان پر وہ باتیں بیان کی گئیں ان سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا کیونکہ ان کے سوال ہی سرکشی پر تھے نہ کہ سمجھنے اور ماننے کیلئے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کیا پھر فرمایا کہ { اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کر دیا ہے }، بنو اسد قبیلے کا ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ کیا ہر سال؟ آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: { قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہو جاتا اور اگر ایسا ہوتا تو اس پر عمل تمہاری طاقت سے باہر تھا اور جب عمل نہ کرتے تو کافر ہو جاتے پس جب تک میں نہ کہوں تم بھی نہ پوچھو میں خود جب تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ }۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو ممانعت کردی کہ کہیں وہ بھی نصرانیوں کی طرح آسمانی دستر خوان طلب نہ کریں جس کے طلب کرنے کے بعد اور آنے کے بعد پھر وہ کافر ہوگئے پس منع کردیا اور صاف فرما دیا کہ ایسی باتیں نہ پوچھو کہ اگر قرآن میں ان کی بابت سخت احکام نازل ہوں تو تمہیں برے لگیں بلکہ تم منتظر رہو قرآن اتر رہا ہے جو پوچھنا چاہتے ہو سب کا بیان اس میں پاؤ گے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12812:ضعیف] ‏‏‏‏ بہ روایت مجاہد رحمة الله، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے وہ جانور ہیں جن کا ذکر اس آیت کے بعد ہی ہے۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں مراد معجزات کی طلبی ہے جیسے کہ قریشیوں نے کہا تھا کہ عرب میں نہریں جاری ہو جائیں اور صفا پہاڑ سونے کا ہو جائے وغیرہ اور جیسے یہود نے کہا تھا کہ خود ان پر آسمان سے کتاب اترے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ» ۱؎ [17-الإسراء:59] ‏‏‏‏ یعنی ’ معجزوں کے ظاہر کرنے سے مانع تو کچھ بھی نہیں مگر یہ کہ اگلے لوگوں نے بھی اسے جھٹلایا ہم نے ثمود کو اونٹنی کا نشان دیا تھا جس پر انہوں نے ظلم کیا ہم تو نشانات صرف دھمکانے کیلئے بھیجتے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاءَتْهُمْ اٰيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ اَنَّهَآ اِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» ۱؎ ۱؎ [6-الأنعام:111-109] ‏‏‏‏ ’ بڑی زور دار قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر کوئی معجزہ آ گیا تو ضرور ایمان لائیں گے تو جواب دے کہ یہ تو اللہ کے قبضے کی چیز ہے ہو سکتا ہے کہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ہم ان کے دلوں کو اور آنکھوں کو الٹ دیں گے جیسے کہ پہلی دفعہ قرآن پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں ہی پڑے رہنے دیں گے بھٹکتے پھریں اگر ہم ان پر آسمان سے فرشتے بھی اتارتے اور مردے بھی ان سے باتیں کرنے لگتے اور تمام چیزیں یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے تب بھی تو اللہ کی چاہت کے بغیر انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ان میں سے اکثر ہیں ہی بے علم ‘۔
10۔ 1 خَبِیْثُ (ناپاک) سے مراد حرام، یا کافر یا گناہ گار یا ردی۔ طیب (پاک) سے مراد حلال، یا مومن یا فرماں بردار اور عمدہ چیز ہے یا یہ سارے ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے جس چیز میں خبث (ناپاکی) ہوگی وہ کفر ہو، فسق و فجور ہو، اشیا و اقوال ہوں، کثرت کے باوجود وہ ان چیزوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے جن میں پاکیزگی ہو۔ یہ دونوں کسی صورت میں برابر نہیں ہوسکتے۔ اس لئے پلیدی کی وجہ سے اس چیز کی قیمت اور برکت ختم ہوجاتی ہے جب کہ جس چیز میں پاکیزگی ہوگی اس سے اس کی منفعت اور برکت میں اضافہ ہوگا۔
(آیت 100) {قُلْ لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيْثُ وَ الطَّيِّبُ …:} یعنی حرام اور حلال یا کافر اور مومن برابر نہیں ہو سکتے۔ حرام رزق کی فراوانی اور اس پر عیش و عشرت گو بظاہر کتنی ہی خوش کن کیوں نہ ہو، انسان پر لازم ہے کہ وہ رزق حلال پر قناعت کرے، خواہ وہ ظاہر میں کتنا ہی حقیر ہو۔ اسی طرح کافر کتنا بھی اچھا نظر آئے مومن کے برابر نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ رزق حلال اور مومن طیب ہیں اور رزق حرام اور کافر خبیث ہیں، خبث نے ان کی اچھائی کو ختم کر دیا ہے۔