بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المائده — Surah Maidah
آیت نمبر 84
کل آیات: 120
قرآن کریم المائده آیت 84
آیت نمبر: 84 — سورۃ المائده islamicurdubooks.com ↗
وَ مَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الۡحَقِّ ۙ وَ نَطۡمَعُ اَنۡ یُّدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۸۴﴾
اور وہ کہتے ہیں کہ "آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اُسے کیوں نہ مان لیں جبکہ ہم اِس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے؟"
اور ہمارے پاس کون سا عذر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو حق ہم کو پہنچا ہے اس پر ایمان نہ ﻻئیں اور ہم اس بات کی امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو نیک لوگوں کی رفاقت میں داخل کردے گا
اور ہمیں کیا ہوا کہ ہم ایمان نہ لائیں اللہ پر اور اس حق پر کہ ہمارے پاس آیا اور ہم طمع کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارا رب نیک لوگوں کے ساتھ داخل کرے
اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے ایمان نہ لائیں حالانکہ ہم خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا پروردگار ہمیں (اپنے) نیک بندوں میں شامل کرے۔
اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ (پر) اور اس چیز پر ایمان نہ لائیں جو حق میں سے ہمارے پاس آئی ہے اور یہ طمع نہ رکھیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ داخل کر لے گا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ایمان والو کی پہچان ٭٭

اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لیے قرآن سنتے ہی دل موم ہو جاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ آیتیں نجاشی رحمة الله اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12330:مرسل] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”کچھ لوگ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بے تحاشا رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریاف فرمایا کہ { کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے؟ } انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12455:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”شاہدوں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی تبلیغ کی شہادت ہے۔‏‏‏‏“

پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ» [3-آل عمران:199] ‏‏‏‏ یعنی ’ اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں ‘۔ ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی ہے «اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ اُولٰىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» ‏‏‏‏ [28۔ القصص:52 - 55] ‏‏‏‏۔ کہ ’ یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی فرمایا کہ ’ وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے تروتازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکوکار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے ‘۔

📖 احسن البیان

84۔ 1 حبشے میں، جہاں مسلمان مکی زندگی میں دو مرتبہ ہجرت کر کے گئے۔ اصحمۃ نجاشی کی حکوت تھی، یہ عیسائی مملکت تھی، یہ آیات حبشے میں رہنے والے عیسائیوں کے بارے میں ہی نازل ہوئیں ہیں تاہم روایات کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمرو بن امیہ ضمری ؓ علیہ کو اپنا مکتوب دیکر نجاشی کے پاس بھیجا تھا، جو انہوں نے جاکر سنایا، نجاشی نے وہ مکتوب سن کر حبشے میں موجود مہاجرین اور حضرت جعفر بن ابی طالب کو اپنے پاس بلایا اور اپنے علماء اور عباد و زباد کو بھی جمع کرلیا پھر حضرت جعفر کو قرآن پڑھنے کا حکم دیا۔ حضرت جعفر نے سورة مریم پڑھی جس پر حضرت عیسیٰ ؑ کی اعجازی ولادت اور ان کی عبدیت و رسالت کا ذکر ہے جسے سن کر وہ بڑے متاثر ہوئے اور آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اور ایمان لے آئے۔ بعض کہتے ہیں کہ نجاشی نے اپنے کچھ علماء نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قرآن پڑھ کر سنایا تو بےاختیار ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ایمان لے آئے (فتح القدیر) آیات میں قرآن سن کر ان پر جو اثر ہوا اس کا نقشہ کھیینچا گیا ہے اور ان کے ایمان لانے کا تذکرہ ہے قرآن کریم میں بعض اور مقامات پر اس قسم کے عیسائیوں کا ذکر کیا گیا ہے مثلا (وان من اھل الکتاب لمن یومن باللہ وما انزل الیکم وما انزل الیھم خاشعین للہ (سورة آل عمران) یقینا اہل کتاب میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس کتاب پر جو تم پر نازل ہوئی اور اس پر جو ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کے آگے عاجزی کرتے ہیں وغیرھا من الآیات اور حدیث میں آتا ہے کہ جب نجاشی کی موت کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ حبشہ میں تمہارے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے اس کی نماز جنازہ پڑھو چناچہ ایک صحرا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ غائبانہ ادا فرائی (صحیح بخاری مناقب الانصار کتاب الجنائز۔ صحیح مسلم، کتاب الجنائز) ایک اور حدیث میں ایسے اہل کتاب کی بابت جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان لائے بتلایا گیا ہے کہ انہیں دو گنا اجر ملے گا بخاری۔ کتاب العلم و کتاب النکاح)

📖 القرآن الکریم

(آیت 84) {مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِيْنَ:} اور یہ طمع نہ رکھیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ داخل کرے گا، یعنی ہمارا حشر مسلمانوں کے ساتھ فرمائے گا۔ اس صورت میں {”وَ نَطْمَعُ “} کا عطف {”لَا نُؤْمِنُ “} پر ہو گا اور یہ بھی ہو سکتاہے کہ{ ” وَ نَطْمَعُ “} کا جملہ {” لَا نُؤْمِنُ “} کی ضمیر سے حال ہو اور مطلب یہ ہو کہ ہم کیوں ایمان نہ لائیں، حالانکہ ہم طمع رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں اپنے نیک بندوں کے ساتھ داخل کرے، یعنی ہمیں ضرور ایمان لانا چاہیے، ایمان لائے بغیر قیامت کے دن نیک بندوں کے ساتھ داخل ہونے کی توقع اور طمع سراسر جہالت اور حماقت ہے۔
← پچھلی آیت (83) پوری سورۃ اگلی آیت (85) →