بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المائده — Surah Maidah
آیت نمبر 83
کل آیات: 120
قرآن کریم المائده آیت 83
آیت نمبر: 83 — سورۃ المائده islamicurdubooks.com ↗
وَ اِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَی الرَّسُوۡلِ تَرٰۤی اَعۡیُنَہُمۡ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ مِمَّا عَرَفُوۡا مِنَ الۡحَقِّ ۚ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاکۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۸۳﴾
جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے اُن کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو جاتی ہیں وہ بول اٹھتے ہیں کہ "پروردگار! ہم ایمان لائے، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے"
اور جب وه رسول کی طرف نازل کرده (کلام) کو سنتے ہیں تو آپ ان کی آنکھیں آنسو سے بہتی ہوئی دیکھتے ہیں اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا، وه کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے پس تو ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ لے جو تصدیق کرتے ہیں
اور جب سنتے ہیں وہ جو رسول کی طرف اترا تو ان کی آنکھیں دیکھو کہ آنسوؤں سے ابل رہی ہیں اس لیے کہ وہ حق کو پہچان گئے، کہتے ہیں اے رب ہمارے! ہم ایمان لائے تو ہمیں حق کے گواہوں میں لکھ لے
اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو (ہمارے) پیغمبر پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھوگے کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے چھلک رہی ہوتی ہیں اس لئے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ہے وہ کہتے ہیں پروردگار ہم ایمان لائے سو تو ہم کو (صداقتِ اسلام کی) گواہی دینے والوں میں درج فرما۔
اور جب وہ سنتے ہیں جو رسول کی طرف نازل کیا گیا ہے تو توُ دیکھتا ہے کہ ان کی آنکھیں آنسوئوں سے بہ رہی ہوتی ہیں، اس وجہ سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، سو ہمیں شہادت دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ایمان والو کی پہچان ٭٭

اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لیے قرآن سنتے ہی دل موم ہو جاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ آیتیں نجاشی رحمة الله اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12330:مرسل] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”کچھ لوگ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بے تحاشا رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریاف فرمایا کہ { کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے؟ } انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12455:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”شاہدوں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی تبلیغ کی شہادت ہے۔‏‏‏‏“

پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ» [3-آل عمران:199] ‏‏‏‏ یعنی ’ اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں ‘۔ ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی ہے «اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ اُولٰىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» ‏‏‏‏ [28۔ القصص:52 - 55] ‏‏‏‏۔ کہ ’ یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی فرمایا کہ ’ وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے تروتازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکوکار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت83) ➊ {وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ …:} مفسرین کے بیان کے مطابق ان سے مراد نصاریٰ کے وہ لوگ ہیں جو مسلمان ہو گئے تھے، سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو میں نے کھانا تیار کیا اور اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلمان! یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”صدقہ ہے۔“ تو آپ نے اپنے اصحاب سے کہا کھاؤ اور خود نہیں کھایا۔ چنانچہ میں واپس آ گیا، پھر کچھ کھانا اکٹھا کیا اور اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: ”سلمان! یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”ہدیہ ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھایا اور کھایا اور (ساتھ ہی) اپنے ساتھیوں سے بھی فرمایا کہ کھاؤ۔ میں نے کہا: ”آپ مجھے نصاریٰ کے متعلق بتائیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ان میں کوئی خیر نہیں ہے۔“ میں بوجھل دل کے ساتھ اٹھ آیا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل کیں: «لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِتَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ» تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا اور مجھے فرمایا: ”سلمان! یہ (آنسوؤں والے) تیرے وہ ساتھی ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔“ [ المعجم الکبیر: 49/6، ح: ۶۱۲۱ ] سلیم الہلالی اور ان کے ساتھی نے اس حدیث کو ”کتاب الاستیعاب فی بیان الاسباب“ میں صحیح کہا ہے۔ ان لوگوں میں نجاشی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی بھی شامل ہیں کہ جب مکہ میں مسلمان ہونے والے صحابہ ہجرت کر کے نجاشی کے ملک حبشہ میں گئے اور انھیں کفار مکہ کے سفیروں کی شکایت پر بادشاہ کے دربار میں بلایا گیا تو جعفر رضی اللہ عنہ نے اس کے سامنے تقریر کی اور اس میں سورۂ مریم کی تلاوت کی، جس میں مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ کا ذکر ہے، تو نجاشی اور اس کے ساتھیوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور نجاشی (رضی اللہ عنہ) مسلمان ہو گئے، اگرچہ وہ مدینہ نہیں جا سکے مگر ان کی وفات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا غائبانہ جنازہ پڑھایا۔ اس کے علاوہ ایسے مسلمان ہونے والے نصاریٰ کا ذکر دوسر ے مقامات پر بھی فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۹۹) اور سورۂ قصص (۵۲ تا ۵۵) اہل کتاب میں سے مسلمان ہونے والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوہرے اجر کی بشارت دی۔ [ بخاری، العلم، باب تعلیم الرجل أمتہ وأھلہ: ۹۷ ] ➋ {فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ:} یعنی ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل فرما کر ان کی طرح شہادت دینے والوں میں شامل فرما۔ امت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی شہادت سے متعلق دیکھیں سورۂ بقرہ (۱۴۳) یا یہ کہ انبیاء اور مومنین جو توحید کی گواہی دیتے ہیں، ان کی جماعت میں شامل فرما۔
← پچھلی آیت (82) پوری سورۃ اگلی آیت (84) →