اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بندشوں کی پوری پابندی کرو تمہارے لیے مویشی کی قسم کے سب جانور حلال کیے گئے، سوائے اُن کے جو آگے چل کر تم کو بتائے جائیں گے لیکن احرام کی حالت میں شکار کو اپنے لیے حلال نہ کر لو، بے شک اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! عہد و پیماں پورے کرو، تمہارے لئے مویشی چوپائے حلال کئے گئے ہیں بجز ان کے جن کے نام پڑھ کر سنا دیئے جائیں گے مگر حالت احرام میں شکار کو حلال جاننے والے نہ بننا، یقیناً اللہ جو چاہے حکم کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! اپنے قول پورے کرو تمہارے لئے حلال ہوئے بے زبان مویشی مگر وہ جو آگے سنایا جائے گا تم کو لیکن شکار حلال نہ سمجھو جب تم احرام میں ہو بیشک اللہ حکم فرماتا ہے جو چاہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! اپنے عہدوں کو پورا کرو تمہارے لئے چوپائے، مویشی حلال کر دیئے گئے ہیں۔ سوائے ان کے جن کا ذکر تمہیں پڑھ کر سنایا جائے گا۔ ہاں جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار کو حلال نہ سمجھو۔ بے شک اللہ جو چاہتا ہے وہ حکم دیتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! عہد پورے کرو۔ تمھارے لیے چرنے والے چوپائے حلال کیے گئے ہیں، سوائے ان کے جو تم پر پڑھے جائیں گے، اس حال میں کہ شکار کو حلال جاننے والے نہ ہو، جب کہ تم احرام والے ہو، بے شک اللہ فیصلہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک بےدلیل روایت اور وفائے عہد کی تاکید ٭٭
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا! آپ رضی اللہ عنہ مجھے خاص نصیحت کیجئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جب تو قرآن میں لفظ آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا» سن لے تو فوراً کان لگا کر دل سے متوجہ ہو جا، کیونکہ اس کے بعد کسی نہ کسی بھلائی کا حکم ہو گا یا کسی نہ کسی برائی سے ممانعت ہو گی۔“ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:196/1:ضعیف و منقطع] زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو کوئی حکم دیا ہے اس حکم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہیں۔“ خیثمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ توراۃ میں بجائے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا» کے «يَا أَيّهَا الْمَسَاكِين» ہے۔ ایک روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے نام سے بیان کی جاتی ہے کہ ”جہاں کہیں لفظ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا» ہے، ان تمام مواقع پر ان سب ایمان والوں کے سردار و شریف اور امیر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ہر ایک کو ڈانٹا گیا ہے بجز سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے کہ انہیں کسی امر میں نہیں ڈانٹا گیا“، یاد رہے کہ یہ اثر بالکل بے دلیل ہے۔ اس کے الفاظ منکر ہیں اور اس کی سند بھی صحیح نہیں۔
حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس کا راوی عیسیٰ بن راشد مجہول ہے، اس کی روایت منکر ہے۔ میں کہتا ہوں اسی طرح اس کا دوسرا راوی علی بن بذیمہ گو ثقہ ہے مگر اعلیٰ درجہ کا شیعہ ہے۔ پھر بھلا اس کی ایسی روایت جو اس کے اپنے خاص خیالات کی تائید میں ہو، کیسے قبول کی جا سکے گی؟ یقیناً وہ اس میں ناقابل قبول ٹھہرے گا۔ اس روایت میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو بجز سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ڈانٹا گیا، اس سے مراد ان کی وہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ نکالنے کا حکم دیا تھا، پس ایک سے زیادہ مفسرین نے کہا ہے کہ اس پر عمل صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی نے کیا اور پھر یہ فرمان اترا کہ آیت «ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ» ۱؎ [58-المجادلہ:13] ، لیکن یہ غلط ہے کہ اس آیت میں صحابہ رضی اللہ عنہم کو ڈانٹا گیا، بلکہ دراصل یہ حکم بطور واجب کے تھا ہی نہیں، اختیاری امر تھا۔ پھر اس پر عمل ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کر دیا۔ پس حقیقتاً کسی سے اس کے خلاف عمل سرزد ہی نہیں ہوا۔ پھر یہ بات بھی غلط ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کسی بات میں ڈانٹا نہیں گیا۔ سورۃ الأنفال کی آیت ملاحظہ ہو جس میں ان تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو ڈانٹا گیا ہے۔ جنہوں نے بدری قیدیوں سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دینے کا مشورہ دیا تھا، دراصل سوائے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا کے باقی تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا مشورہ یہی تھا پس یہ ڈانٹ بجز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے باقی سب کو ہے، جن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں، پس یہ تمام باتیں اس امر کی کھلی دلیل ہیں کہ یہ اثر بالکل ضعیف اور بودا ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن جریر میں محمد بن سلمہ فرماتے ہیں جو کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم کو لکھوا کر دی تھی جبکہ انہیں نجران بھیجا تھا، اس کتاب کو میں نے ابوبکر بن حزم کے پاس دیکھا تھا اور اسے پڑھا تھا، اس میں اللہ اور رسول کے بہت سے احکام تھے، اس میں آیت «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ» [5۔ المائدہ:1] سے آیت «يَسْـــَٔلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَهُمْ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ ۡ فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ» [5۔ المائدہ:4] تک بھی لکھا ہوا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10918]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ عمرو بن حزم کے پوتے ابوبکر بن محمد نے فرمایا ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کتاب ہے جسے آپ نے عمرو بن حزم کو لکھ کر دی تھی جبکہ انہیں یمن والوں کو دینی سمجھ اور حدیث سکھانے کے لیے اور ان سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے یمن بھیجا تھا، اس وقت یہ کتاب لکھ کر دی تھی، اس میں عہد و پیمان اور حکم احکام کا بیان یہ اس میں آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کے بعد لکھا ہے یہ کتاب ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے، ایمان والو وعدوں کو اور عہد و پیمان کو پورا کرو، یہ عہد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عمرو بن حزم کے لیے ہے جبکہ انہیں یمن بھیجا انہیں اپنے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کا حکم ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرتے رہیں اور جو احسان خلوص اور نیکی کریں۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی413/5:حسن] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں ”عقود سے مراد عہد ہیں۔“ ابن جریر اس پر اجماع بتاتے ہیں۔ خواہ قسمیہ عہد و پیمان ہو یا اور وعدے ہوں، سب کو پورا کرنا فرض ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”عہد کو پورا کرنے میں اللہ کے حلال کو حلال جاننا، اس کے حرام کو حرام جاننا، اس کے فرائض کی پابندی کرنا، اس کی حد بندی کی نگہداشت کرنا بھی ہے، کسی بات کا خلاف نہ کرو، حد کو نہ توڑو، کسی حرام کام کو نہ کرو، اس پر سختی بہت ہے پڑھو آیت «وَالَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَيَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْءُ الدَّارِ» [13-الرعد:25] تک۔“
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد یہ کہ اللہ کے حلال کو، اس کے حرام کو، اس کے وعدوں کو، جو ایمان کے بعد ہر مومن کے ذمہ آجاتے ہیں پورا کرنا اللہ کی طرف سے فرض ہے، فرائض کی پابندی، حلال حرام کی عقیدت مندی وغیرہ وغیرہ۔“ حضرت زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ چھ عہد ہیں، اللہ کا عہد، آپس کی یگانگت کا قسمیہ عہد، شرکت کا عہد، تجارت کا عہد، نکاح کا عہد اور قسمیہ وعدہ۔“ محمد بن کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں ”پانچ ہیں، جن میں جاہلیت کے زمانہ کی قسمیں ہیں اور شرکت تجارت کے عہد و پیمان ہیں، جو لوگ کہتے ہیں کہ خرید و فروخت پوری ہو چکنے کے بعد گو اب تک خریدا اور بیچنے والے ایک دوسرے سے جدا نہ ہوئے ہوں تاہم واپس لوٹانے کا اختیار نہیں وہ اپنی دلیل اس آیت کو بتلاتے ہیں۔“ امام ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہ اللہ علیہم کا یہی مذہب ہے۔
لیکن امام شافعی اور امام احمد رحمہ اللہ علیہم اس کے خلاف ہیں اور جمہور علماء کرام بھی اس کے مخالف ہیں، اور دلیل میں وہ صحیح حدیث پیش کرتے ہیں جو صحیح بخاری مسلم میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { خرید و فروخت کرنے والوں کو سودے کے واپس لینے دینے کا اختیار ہے جب تک کہ جدا جدا نہ ہو جائیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2109] صحیح بخاری شریف کی ایک روایت میں یوں بھی ہے کہ { جب وہ شخصوں نے خرید و فروخت کرلی تو ان میں سے ہر ایک کو دوسرے سے علیحدہ ہونے تک اختیار باقی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2111] یہ حدیث صاف اور صریح ہے کہ یہ اختیار خرید و فروخت پورے ہوچکنے کے بعد کا ہے۔ ہاں اسے بیع کے لازم ہو جانے کے خلاف نہ سمجھا جائے بلکہ یہ شرعی طور پر اسی کا مقتضی ہے، پس اسے نبھانا بھی اسی آیت کے ماتحت ضروری ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ مویشی چوپائے تمہارے لیے حلال کئے گئے ہیں ‘ یعنی اونٹ، گائے، بکری۔ ابوالحسن، قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عرب میں ان کے لغت کے مطابق بھی یہی ہے۔“ سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ بہت سے بزرگوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ ”جس حلال مادہ کو ذبح کیا جائے اور اس کے پیٹ میں سے بچہ نکلے گو وہ مردہ ہو پھر بھی حلال ہے۔“ ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اونٹنی، گائے، بکری ذبح کی جاتی ہے، ان کے پیٹ سے بچہ نکلتا ہے تو ہم اسے کھا لیں یا پھینک دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر چاہو کھا لو، اس کا ذبیحہ اس کی ماں کا ذیبحہ ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2827،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ ابوداؤد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { پیٹ کے اندر والے بچے کا ذبیحہ اس کی ماں کا ذبیحہ ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2828،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرماتا ہے ’ مگر وہ جن کا بیان تمہارے سامنے کیا جائے گا ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس سے مطلب مردار، خون اور خنزیر کا گوشت ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے از خود مرا ہوا جانور اور وہ جانور ہوئے جس کے ذبیحہ پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔“ پورا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے لیکن بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد اللہ کا فرمان آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوْذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيْحَةُ وَمَآ اَ كَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ وَاَنْ تَسْـتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدہ:3] ہے یعنی تم پر مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز جو اللہ کے سوا دوسرے کے نام پر منسوب و مشہور کی جائے اور جو گلا گھونٹنے سے مر جائے، کسی ضرب سے مر جائے، اونچی جگہ سے گر کر مر جائے اور کسی ٹکر لگنے سے مر جائے، جسے درندہ کھانے لگے پس یہ بھی گو مویشیوں چوپایوں میں سے ہیں لیکن ان وجوہ سے وہ حرام ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اس کے بعد فرمایا ’ لیکن جس کو ذبح کر ڈالو ‘۔ جو جانور پرستش گاہوں پر ذبح کیا جائے، وہ بھی حرام ہے اور ایسا حرام کہ اس میں سے کوئی چیز حلال نہیں، اسی لیے اس سے استدراک نہیں کیا گیا اور حلال کے ساتھ اس کا کوئی فرد ملایا نہیں گیا۔ پس یہاں یہی فرمایا جا رہا ہے کہ ’ چوپائے مویشی تم پر حلال ہیں لیکن وہ جن کا ذکر ابھی آئے گا ‘۔ بعض احوال میں حرام ہیں، اس کے بعد کا جملہ حالیت کی بناء پر منصوب ہے۔ مراد انعام سے عام ہے بعض تو وہ جو انسانوں میں رہتے پلتے ہیں، جیسے اونٹ، گائے، بکری اور بعض وہ جو جنگلی ہیں جیسے ہرن، نیل گائے اور جنگلی گدھے، پس پالتو جانوروں میں سے تو ان کو مخصوص کرلیا جو بیان ہوئے اور وحشی جانوروں میں سے احرام کی حالت میں کسی کو بھی شکار کرنا ممنوع قرار دیا، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے ’ ہم نے تمہارے لیے چوپائے جانور ہر حال میں حلال کئے ہیں پس تم احرام کی حالت میں شکار کھیلنے سے رک جاؤ اور اسے حرام جانو ‘۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے جس طرح اس کے تمام احکام سراسر حکمت سے پر ہیں، اسی طرح اس کی ہر ممانعت میں بھی حکمت ہے، اللہ وہ حکم فرماتا ہے جو ارادہ کرتا ہے۔
’ ایماندارو! رب کی نشانیوں کی توہین نہ کرو ‘، یعنی مناسک حج، صفا، مروہ، قربانی کے جانور، اونٹ اور اللہ کی حرام کردہ ہر چیز، حرمت والے مہینوں سمیت کسی کی توہین نہ کرو، ان کا ادب کرو، ان کا لحاظ رکھو، ان کی عظمت کو مانو اور ان میں خصوصیت کے ساتھ اللہ کی نافرمانیوں سے بچو اور ان مبارک اور محترم مہینوں میں اپنے دشمنوں سے از خود لڑائی نہ چھیڑو۔ جیسے ارشاد ہے آیت «يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ ۭ قُلْ قِتَالٌ فِيْهِ كَبِيْرٌ ۭ» ۱؎ [2-البقرۃ:217] ’ اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) لوگ تم سے حرمت والے مہینوں میں جنگ کرنے کا حکم پوچھتے ہیں تم ان سے کہو کہ ان میں لڑائی کرنا گناہ ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّـهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا» ۱؎ [9-التوبة:36] ’ مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ ہے ‘۔ صحیح بخاری شریف میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الودع میں فرمایا: { زمانہ گھوم گھام کر ٹھیک اسی طرز پر آگیا ہے جس پر وہ اس وقت تھا، جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ ماہ کا ہے، جن میں سے چار ماہ حرمت والے ہیں۔ تین تو یکے بعد دیگرے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا رجب، جسے قبیلہ مضر رجب کہتا ہے جو جمادی الاخر اور شعبان کے درمیان ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3197] اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان مہینوں کی حرمت تاقیامت ہے جیسے کہ سلف کی ایک جماعت کا مذہب ہے۔
آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ان ”مہینوں میں لڑائی کرنا حلال نہ کر لیا کرو۔“ لیکن جمہور کا مذہب یہ ہے کہ یہ حکم منسوخ ہے اور حرمت والے مہینوں میں بھی دشمنان اسلام سے جہاد کی ابتداء کرنا بھی جائز ہے۔ ان کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے آیت «فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ» ۱؎ [9-التوبة:5] یعنی ’ جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ ‘ اور مراد یہاں ان چار مہینوں کا گزر جانا ہے، جب وہ چار مہینے گزر چکے جو اس وقت تھے، تو اب ان کے بعد برابر جہاد جاری ہے اور قرآن نے پھر کوئی مہینہ خاص نہیں کیا، بلکہ امام ابو جعفر رحمہ اللہ تو اس پر اجماع نقل کرتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے جہاد کرنا، ہر وقت اور ہر مہینے میں جاری ہی رکھا ہے۔“ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس پر بھی اجماع ہے کہ اگر کوئی کافر حرم کے تمام درختوں کی چھال اپنے اوپر لپیٹ لے تب بھی اس کے لیے امن و امان نہ سمجھی جائے گی۔ اگر مسلمانوں نے از خود اس سے پہلے اسے امن نہ دیا ہو۔“ اس مسئلہ کی پوری بحث یہاں نہیں ہو سکتی۔ پھر فرمایا کہ ’ «ھَدْی» اور «قَلاَئِد» کی بے حرمتی بھی مت کرو ‘۔ یعنی بیت اللہ شریف کی طرف قربانیاں بھیجنا بند نہ کرو، کیونکہ اس میں اللہ کی نشانوں کی تعظیم ہے اور قربانی کے لیے جو اونٹ بیت الحرام کی طرف بھیجو، ان کے گلے میں بطور نشان پٹا ڈالنے سے بھی نہ رکو۔ تاکہ اس نشان سے ہر کوئی پہچان لے کہ یہ جانور اللہ کے لیے اللہ کی راہ کے لیے وقف ہو چکا ہے اب اسے کوئی برائی سے ہاتھ نہ لگائے گا بلکہ اسے دیکھ کر دوسروں کو بھی شوق پیدا ہوگا کہ ہم بھی اس طرح اللہ کے نام جانور بھیجیں اور اس صورت میں تمہیں اس کی نیکی پر بھی اجر ملے گا کیونکہ جو شخص دوسروں کو ہدایت کی طرف بلائے اسے بھی وہ اجر ملے گا، جو اس کی بات مان کر اس پر عمل کرنے والوں کو ملتا ہے۔ یہ بھی خیال رہے اللہ تعالیٰ ان کے اجر کو کم کر کے اسے نہیں دے گا بلکہ اسے اپنے پاس سے عطا فرمائے گا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب حج کے لیے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی عقیق یعنی ذوالحلیفہ میں رات گزاری، صبح اپنی نو بیویوں کے پاس گئے، پھر غسل کر کے خوشبو ملی اور دو رکعت نماز ادا کی اور اپنی قربانی کے جانور کے کوہان پر نشان کیا اور گلے میں پٹہ ڈالا اور حج اور عمرے کا احرام باندھا۔ قربانی کے لیے آپ نے بہت خوش رنگ مضبوط اور نوجوان اونٹ ساٹھ سے اوپر اوپر اپنے ساتھ لیے تھے، جیسے کہ قرآن کا فرمان ہے ’ جو شخص اللہ کے احکام کی تعظیم کرے اس کا دل تقوے والا ہے ‘۔ بعض سلف کا فرمان ہے کہ ”تعظیم یہ بھی ہے کہ قربانی کے جانوروں کو اچھی طرح رکھا جائے اور انہیں خوب کھلایا جائے اور مضبوط اور موٹا کیا جائے۔“ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم قربانی کے جانوروں کی آنکھیں اور کان دیکھ بھال کر خریدیں۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2804،قال الشيخ الألباني:صحیح] مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جاہلیت کے زمانے میں جب یہ لوگ اپنے وطن سے نکلتے تھے اور حرمت والے مہینے نہیں ہوتے تھے تو یہ اپنے اوپر بالوں اور اون کو لپیٹ لیتے تھے اور حرم میں رہنے والے مشرک لوگ حرم کے درختوں کی چھالیں اپنے جسم پر باندھ لیتے تھے، اس سے عام لوگ انہیں امن دیتے تھے اور ان کو مارتے پیٹتے نہ تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بروایت مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس سورت کی دو آیتیں منسوخ ہیں «وَلَا الْقَلَائِدَ وَلَا آمِّينَ» اور یہ آیت «فَاِنْ جَاءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا» ۱؎ [5-المائدہ:42] لیکن حسن رحمة الله سے جب سوال ہوتا ہے کہ ”کیا اس سورت میں سے کوئی آیت منسوخ ہوئی ہے؟“ تو آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”نہیں۔“ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”وہ لوگ حرم کے درختوں کی چھالیں لٹکا لیا کرتے تھے اور اس سے انہیں امن ملتا تھا، پس اللہ تعالیٰ نے حرم کے درختوں کو کاٹنا منع فرما دیا۔“ پھر فرماتا ہے ’ جو لوگ بیت اللہ کے ارادے سے نکلے ہوں، ان سے لڑائی مت لڑو ‘۔ یہاں جو آئے وہ امن میں پہنچ گیا، پس جو اس کے قصد سے چلا ہے اس کی نیت اللہ کے فضل کی تلاش اور اس کی رضا مندی کی جستجو ہے تو اب اسے ڈر خوف کے دباؤ میں نہ رکھو، اس کی عزت اور ادب کرو اور اسے بیت اللہ سے نہ روکو۔ بعض کا قول ہے کہ ”اللہ کا فضل تلاش کرنے سے مراد تجارت ہے۔“ جیسے اس آیت میں ہے «لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ» [2-البقرۃ:198] یعنی ’ زمانہ حج میں تجارت کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ‘۔ «رِضْوَانْ» سے مراد حج کرنے میں اللہ کی مرضی کو تلاش کرنا ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ آیت خطیم بن ہند بکری کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس شخص نے مدینہ کی چراگاہ پر دھاوا ڈالا تھا پھر اگلے سال یہ عمرے کے ارادے سے آ رہا تھا تو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کا ارادہ ہوا کہ اسے راستے میں روکیں، اس پر یہ فرمان نازل ہوا۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس مسئلہ پر اجماع نقل کیا ہے کہ ”جو مشرک مسلمانوں کی امان لیے ہوئے نہ ہو تو چاہے وہ بیت اللہ شریف کے ارادے سے جا رہا ہو یا بیت المقدس کے ارادے سے، اسے قتل کرنا جائز ہے یہ حکم ان کے حق میں منسوخ ہے۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
وہاں جو شخص وہاں الحاد پھیلانے کیلئے جا رہا ہے اور شرک و کفر کے ارادے کا قصد کرتا ہو تو اسے روکا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”پہلے مومن و مشرک سب حج کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی ممانعت تھی کہ کسی مومن کافر کو نہ روکو لیکن اس کے بعد یہ آیت اتری کہ «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا وَاِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖٓ اِنْ شَاءَ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ» ۱؎ [9-التوبة:28] یعنی ’ مشرکین سراسر نجس ہیں اور وہ اس سال کے بعد مسجد الحرام کے پاس بھی نہ آئیں گے ‘۔ اور فرمان ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ» ۱؎ [9-التوبة:17] یعنی ’ مشرکین اللہ کی مسجد کو آباد رکھنے کے ہرگز اہل نہیں ‘۔ فرمان ہے آیت «إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّـهَ فَعَسَىٰ أُولَـٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ» ۱؎ [9-التوبة:18] یعنی ’ اللہ کی مسجد کو تو صرف وہی آباد رکھ سکتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں ‘۔ پس مشرکین مسجدوں سے روک دیئے گئے۔“ قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں آیت «وَلَا الْقَلَائِدَ وَلَا آمِّينَ» الخ، منسوخ ہے، جاہلیت کے زمانہ میں جب کوئی شخص اپنے گھر سے حج کے ارادے سے نکلتا تو وہ درخت کی چھال وغیرہ باندھ لیتا تو راستے میں اسے کوئی نہ ستاتا، پھر لوٹتے وقت بالوں کا ہار ڈال لیتا اور محفوظ رہتا اس وقت تک مشرکین بیت اللہ سے روکے نہ جاتے تھے، اب مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ حرمت والے مہینوں میں نہ لڑیں اور نہ بیت اللہ کے پاس لڑیں، پھر اس حکم کو اس آیت نے منسوخ کر دیا کہ «فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ» ۱؎ [9-التوبة:5] ’ مشرکین سے لڑو جہاں کہیں انہیں پاؤ ‘۔
ابن جریر رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ” «قَلَائِدَ» سے مراد یہی ہے جو ہار وہ حرم سے گلے میں ڈال لیتے تھے اور اس کی وجہ سے امن میں رہتے تھے، عرب میں اس کی تعظیم برابر چلی آ رہی تھی اور جو اس کے خلاف کرتا تھا اسے بہت برا کہا جاتا تھا اور شاعر اس کو ہجو کرتے تھے۔“ پھر فرماتا ہے ’ جب تم احرام کھول ڈالو تو شکار کر سکتے ہو ‘۔ احرام میں شکار کی ممانعت تھی، اب احرام کے بعد پھر اس کی اباحت ہوگئی جو حکم ممانعت کے بعد ہو اس حکم سے وہی ثابت ہوتا ہے جو ممانعت سے پہلے اصل میں تھا۔ یعنی اگر وجوب اصلی تھا تو ممانعت کے بعد کا امر بھی وجوب کیلئے ہوگا، اور اسی طرح مستحب و مباح کے بارے میں۔ گو بعض نے کہا ہے کہ ایسا امر وجوب کیلئے ہی ہوتا ہے اور بعض نے کہا ہے، صرف مباح ہونے کیلئے ہی ہوتا ہے لیکن دونوں جماعتوں کے خلاف قرآن کی آیتیں موجود ہیں۔ پس صحیح مذہب جس سے تمام دلیلیں مل جائیں وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا اور بعض علماء اصول نے بھی اسے ہی اختیار کیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے ’ جس قوم نے تمہیں حدیبیہ والے سال مسجد الحرام سے روکا تھا تو تم ان سے دشمنی باندھ کر قصاص پر آمادہ ہو کر اللہ کے حکم سے آگے بڑھ کر ظلم و زیادتی پر نہ اتر آنا، بلکہ تمہیں کسی وقت بھی عدل کو ہاتھ سے نہ چھوڑنا چاہیئے ‘۔ اسی طرح کی وہ آیت بھی ہے جس میں فرمایا ہے «وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى» ۱؎ [5-المائدة:8] ’ تمہیں کسی قسم کی عداوت خلاف عدل کرنے پر آمادہ نہ کر دے۔ عدل کیا کرو، عدل ہی تقوے سے زیادہ قریب ہے ‘۔ بعض سلف کا قول ہے کہ ”گو کوئی تجھ سے تیرے بارے میں اللہ کی نافرمانی کرے لیکن تجھے چاہیئے کہ تو اس کے بارے میں اللہ کی فرمانبرداری ہی کرے، عدل ہی کی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم کو جبکہ مشرکین نے بیت اللہ کی زیارت سے روکا اور حدیبیہ سے آگے بڑھنے ہی نہ دیا، اسی رنج و غم میں صحابہ رضی اللہ عنہم واپس آ رہے تھے جو مشرقی مشرک مکہ جاتے ہوئے انہیں ملے تو ان کا ارادہ ہوا کہ جیسے ان کے گروہوں نے ہمیں روکا ہم بھی انہیں ان تک نہ جانے دیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:478/9:ضعیف و مرسل] اس پر یہ آیت اتری «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّـهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا» [5-المائدة:8] ۔ «شَنَآنُ» کے معنی بغض کے ہیں بعض عرب اسے «شَنَانْ» بھی کہتے ہیں لیکن کسی قاری کی یہ قرأت مروی نہیں، ہاں عربی شعروں میں «شَنَانْ» بھی آیا ہے۔ جیسے کہ شاعر کہتا ہے ؎ «ومَا الْعَيْشُ إِلَّا مَا تُحِبُّ وَتَشْتَهِي» «وَإِنْ لَامَ فِيهِ ذُو الشَّنَّانِ وفَنَّدَا»
پھر اللہ تعالیٰ اپنے ایمان والے بندوں کو نیکی کے کاموں پر ایک دوسرے کی تائید کرنے کو فرماتا ہے، «بِرِّ» کہتے ہیں نیکیاں کرنے کو اور «تَّقْوَىٰ» کہتے ہیں برائیوں کے چھوڑنے کو اور انہیں منع فرماتا ہے گناہوں اور حرام کاموں پر کسی کی مدد کرنے کو۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس کام کے کرنے کا اللہ کا حکم ہو اور انسان اسے نہ کرے، یہ «إِثْمِ» ہے اور دین میں جو حدیں اللہ نے مقرر کر دی ہیں جو فرائض اپنی جان یا دوسروں کے بارے میں جناب باری نے مقرر فرمائے ہیں، ان سے آگے
اے ایمان والو! عہد و پیمان پورے کرو (1) تمہارے لئے مویشی چوپائے حلال کئے گئے ہیں (2) بجز ان کے جن کے نام پڑھ کر سنا دیئے جائیں گے (3) مگر حالت احرام میں شکار کو حلال جاننے والے نہ بننا، یقیناً اللہ تعالیٰ جو چاہے حکم کرتا ہے۔
(آیت 1)➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا ……:} اس آیت میں پانچ احکام بیان ہوئے ہیں: (1) عقود اور عہود کا پورا کرنا۔ (2) چوپاؤں کا حلال ہونا۔ (3) کچھ چوپاؤں کا حرام ہونا، جن کا ذکر اس سورت کی دوسری اور تیسری آیت میں ہے۔(4) محرم کے لیے اور حرم میں شکار کا حرام ہونا۔ (5) غیر محرم کے لیے غیر حرم میں شکار کا حلال ہونا۔ ➋ {بِالْعُقُوْدِ:} یہ {” عَقْدٌ “} کی جمع ہے جس کا معنی گرہ لگانا ہے، عہد و پیمان کے معنی میں بھی آتا ہے، کیونکہ وہ بھی گرہ کی طرح پختہ کیا جاتا ہے، مراد شریعت کے احکام ہیں۔ دوسری جگہ عقد کو عہد سے بھی تعبیر کیا ہے، فرمایا: «وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِيْۤ» [البقرۃ: ۴۰ ] ”اور تم میرا عہد پورا کرو۔“ اس میں آپس کے عہد و پیمان بھی شامل ہیں۔ یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے، اس کے بعد نیچے اس کی تفصیل بیان ہو رہی ہے۔ (کبیر، ابن کثیر) ➌ {اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ: ”بَهِيْمَةُ“ } سے مراد درندوں کو چھوڑ کر باقی چوپائے ہیں، وہ سب حلال ہیں، خواہ پالتو ہوں یا وحشی، مثلاً ہرن، نیل گائے وغیرہ، سوائے ان کے جن کا نام لے کر قرآن یا حدیث میں حرام کہا گیا ہے، مثلاً گدھا وغیرہ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ(۱۷۳) { ”الْاَنْعَامِ“ } سے مراد اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری ہیں۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۴۲ تا ۱۴۴)۔ ➍ {اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ:} اس کی تفسیر اسی سورت کی آیت (۳) میں آ رہی ہے۔ ➎ {غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ: ”حُرُمٌ“} یہ {”حَرَامٌ “} کی جمع ہے، جس نے عمرہ یا حج کا احرام باندھا ہو، اسی طرح جو شخص مکہ کی حدود حرم میں ہو، خواہ احرام نہ باندھا ہو، اس حالت میں شکار بھی ممنوع ہے اور شکار کرنے والے کی کسی طریقے سے مدد کی بھی ممانعت آئی ہے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۹۵، ۹۶) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو بھی حرم قرار دیا، اس کی حدود میں بھی شکار منع ہے۔ [ بخاری، فضائل المدینۃ، باب حرم المدینۃ: ۱۸۶۸ ]
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خد ا پرستی کی نشانیوں کو بے حرمت نہ کرو نہ حرام مہینوں میں سے کسی کو حلال کر لو، نہ قربانی کے جانوروں پر دست درازی کرو، نہ اُن جانوروں پر ہاتھ ڈالو جن کی گردنوں میں نذر خداوندی کی علامت کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں، نہ اُن لوگوں کو چھیڑو جو اپنے رب کے فضل اور اس کی خوشنودی کی تلاش میں مکان محترم (کعبہ) کی طرف جا رہے ہوں ہاں جب احرام کی حالت ختم ہو جائے تو شکار تم کرسکتے ہو اور دیکھو، ایک گروہ نے جو تمہارے لیے مسجد حرام کا راستہ بند کر دیا ہے تواس پر تمہارا غصہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کر دے کہ تم بھی ان کے مقابلہ میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو نہیں! جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو اللہ سے ڈرو، اس کی سز ا بہت سخت ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کے شعائر کی بے حرمتی نہ کرو نہ ادب والے مہینوں کی نہ حرم میں قربان ہونے والے اور پٹے پہنائے گئے جانوروں کی جو کعبہ کو جا رہے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو بیت اللہ کے قصد سے اپنے رب تعالیٰ کے فضل اور اس کی رضاجوئی کی نیت سے جا رہے ہوں، ہاں جب تم احرام اتار ڈالو تو شکار کھیل سکتے ہو، جن لوگوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا تھا ان کی دشمنی تمہیں اس بات پر آماده نہ کرے کہ تم حد سے گزر جاؤ، نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گناه اور ﻇلم و زیادتی میں مدد نہ کرو، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، بےشک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! حلال نہ ٹھہرالو اللہ کے نشان اور نہ ادب والے مہینے اور نہ حرم کو بھیجی ہوئی قربانیاں اور نہ جن کے گلے میں علامتیں آویزاں اور نہ ان کا مال و آبرو جو عزت والے گھر کا قصد کرکے آئیں اپنے رب کا فضل اوراس کی خوشی چاہتے اور جب احرام سے نکلو تو شکار کرسکتے ہو اور تمہیں کسی قوم کی عداوت کہ انہوں نے تم کو مسجد حرام سے روکا تھا، زیادتی کرنے پر نہ ابھارے اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! خدا کی نشانیوں کی بے حرمتی نہ کرو۔ اور نہ حرمت والے مہینہ کی اور نہ قربانی والے جانور کی اور نہ گلے میں پٹے ڈالے ہوئے جانوروں کی اور نہ ان لوگوں کی (بے حرمتی کرو) جو اپنے پروردگار کا فضل و کرم اور اس کی رضامندی کے طلبگار بن کر بیت الحرام (مقدس گھر) کی طرف جا رہے ہیں اور جب احرام ختم ہو جائے (یا حرم سے باہر نکل جاؤ) تو شکار کر سکتے ہو۔ اور خبردار، تمہیں کسی قوم سے عداوت کہ اس نے تمہیں مسجد الحرام سے روک دیا تھا۔ اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم (اس پر) ظلم و زیادتی کرو۔ اور نیکی و پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ اور اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ اللہ کی نشانیوں کی بے حرمتی کرو اور نہ حرمت والے مہینے کی اور نہ حرم کی قربانی کی اور نہ پٹوں (والے جانوروں) کی اور نہ حرمت والے گھر کا قصد کرنے والوں کی، جو اپنے رب کا فضل اور خوشنودی تلاش کرتے ہیں، اور جب احرام کھول دو تو شکار کرو، اور کسی قوم کی دشمنی اس لیے کہ انھوں نے تمھیں مسجد حرام سے روکا، تمھیں اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ حد سے بڑھ جائو، اور نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بہت سخت سزا دینے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حلال و حرام کی وضاحتیں ٭٭
ان آیتوں میں اللہ ان کا بیان فرما رہا ہے جن کا کھانا اس نے حرام کیا ہے، یہ خبر ان چیزوں کے نہ کھانے کے حکم میں شامل ہے۔ «الْمَيْتَةُ» وہ ہے جو از خود اپنے آپ مر جائے، نہ تو اسے ذبح کیا جائے، نہ شکار کیا جائے۔ اس کا کھانا اس لیے حرام کیا گیا کہ اس کا وہ خون جو مضر ہے اسی میں وہ جاتا ہے، ذبح کرنے سے تو بہہ جاتا ہے اور یہ خون دین اور بدن کو مضر ہے، ہاں یہ یاد رہے ہر مردار حرام ہے مگر مچھلی نہیں۔ کیونکہ موطا مالک، مسند شافعی، مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور اسی طرح، ٹڈی بھی گو خود ہی مرگئی ہو، حلال ہے۔ اس کی دلیل کی حدیث آ رہی ہے۔
«دَّمُ» سے مراد «أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا» ۱؎ [6-الأنعام:145] یعنی ’ وہ خون ہے جو بوقت ذبح بہتا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال ہوتا ہے کہ آیا تلی کھا سکتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہاں“، لوگوں نے کہا وہ تو خون ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں صرف وہ خون حرام ہے جو بوقت ذبح بہا ہو۔“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی یہی فرماتی ہیں کہ ”صرف بہا ہوا خون حرام ہے۔“ امام شافعی حدیث لائے ہیں کہ { رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { ہمارے لیے دو قسم کے مردے اور دو خون حلال کئے گئے ہیں، مچھلی، ٹڈی، کلیجی اور تلی } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث مسند احمد، ابن ماجہ، دارقطنی اور بیہقی میں بھی بروایت عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ حافظ بیہقی فرماتے ہیں ”عبد الرحمان کے ساتھ ہی اسے اسماعیل بن ادریس اور عبداللہ بھی روایت کرتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں یہ دونوں بھی ضعیف ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کے ضعف میں کمی بیشی ہے۔ لیمان بن بلال نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور وہ ہیں بھی ثقہ لیکن اس روایت کو بعض نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ پر موقوف رکھا ہے۔
حافظ ابوزرعہ رازی فرماتے ہیں ”زیادہ صحیح اس کا موقوف ہونا ہی ہے۔“ ابن ابی حاتم میں سدی بن عجلان رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”مجھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کی طرف بھیجا کہ میں انہیں اللہ کی طرف بلاؤں اور احکام اسلام ان کے سامنے پیش کروں۔ میں وہاں پہنچ کر اپنے کام میں مشغول ہوگیا، اتفاقاً ایک روز وہ ایک پیالہ خون کا بھر کر میرے سامنے آ بیٹھے اور حلقہ باندھ کر کھانے کے ارادے سے بیٹھے اور مجھے سے کہنے لگے آؤ سدی تم بھی کھالو میں نے کہا۔ تم غضب کر رہے ہو میں تو ان کے پاس سے آ رہا ہوں جو اس کا کھانا ہم سب پر حرام کرتے ہیں، تب تو وہ سب کے سب میری طرف متوجہ ہو گئے اور کہا پوری بات کہو تو میں نے یہی آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ» الخ، پڑھ کر سنا دی۔“ ۱؎ [طبرانی کبیر:8074:ضعیف] یہ روایت ابن مردویہ میں بھی ہے اس میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ ”میں وہاں بہت دنوں تک رہا اور انہیں پیغام اسلام پہنچاتا رہا لیکن وہ ایمان نہ لائے، ایک دن جبکہ میں سخت پیاسا ہوا اور پانی بالکل نہ ملا تو میں نے ان سے پانی مانگا اور کہا کہ پیاس کے مارے میرا برا حال ہے، تھوڑا سا پانی پلا دو، لیکن کسی نے مجھے پانی نہ دیا، بلکہ کہا ہم تو تجھے یونہی پیاسا ہی تڑپا تڑپا کر مار ڈالیں گے، میں غمناک ہو کر دھوپ میں تپتے ہوئے انگاروں جیسے سنگریزوں پر اپنا کھردرا کمبل منہ پر ڈال کر اسی سخت گرمی میں میدان میں پڑا رہا، اتفاقاً میری آنکھ لگ گئی تو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک شخص بہترین جام لیے ہوئے اور اس میں بہترین خوش ذائقہ مزیدار پینے کی چیز لیے ہوئے میرے پاس آیا اور جام میرے ہاتھ میں دے دیا، میں نے خوب پیٹ بھر کر اس میں سے پیا، وہیں آنکھ کھل گئی تو اللہ کی قسم مجھے مطلق پیاس نہ تھی بلکہ اس کے بعد سے لے کر آج تک مجھے کبھی پیاس کی تکلیف ہی نہیں ہوئی، بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ پیاس ہی نہیں لگی۔“
”یہ لوگ میرے جاگنے کے بعد آپس میں کہنے لگے کہ آخر تو یہ تمہاری قوم کا سردار ہے، تمہارا مہمان بن کر آیا ہے، اتنی بے رخی بھی ٹھیک نہیں کہ ایک گھونٹ پانی بھی ہم اسے نہ دیں، چنانچہ اب یہ لوگ میرے پاس کچھ لے کر آئے، میں نے کہا اب تو مجھے کوئی حاجت نہیں، مجھے میرے رب نے کھلا پلا دیا، یہ کہہ کر میں نے انہیں اپنا بھرا ہوا پیٹ دکھا دیا، اس کرامت کو دیکھ کر وہ سب کے سب مسلمان ہوگئے۔“ ۱؎ [طبرانی کبیر:8074:ضعیف]
اعشی نے اپنے قصیدے میں کیا ہی خواب کہا ہے کہ «وَإِيَّاكَ وَالْمَيْتَاتِ لَا تَقْرَبَنَّهَا» «وَلَا تَأْخُذَنَّ عَظْمًا حَدِيدًا فَتَفْصِدَا» «وَذَا النُّصُبِ الْمَنْصُوبَ لَا تَأْتِيَنَّهُ» «وَلَا تَعْبُدِ الْأَصْنَامَ وَاللَّهَ فَاعْبُدَا» ”مردار کے قریب بھی نہ ہو اور کسی جانور کی رگ کاٹ کر خون نکال کر نہ پی اور پرستش گاہوں پر چڑھا ہوا نہ کھا اور اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کر، صرف اللہ ہی کی عبادت کیا کر۔“ «لَحْمُ الْخِنزِيرِ» حرام ہے خواہ وہ جنگلی ہو، لفظ «لَحْمُ» شامل ہے اس کے تمام اجزاء کو، جس میں چربی بھی داخل ہے پس ظاہر یہ کی طرح تکلفات کرنے کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ دوسری آیت میں سے «أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ» ۱؎ [6-الأنعام:145] لے کر ضمیر کا مرجع خنزیر کو بتلاتے ہیں تاکہ اس کے تمام اجزاء حرمت میں آ جائیں۔ درحقیقت یہ لغت سے بعید ہے مضاف الیہ کی طرف سے ایسے موقعوں پر ضمیر پھرتی ہی نہیں، صرف مضاف ہی ضمیر کا مرجع ہوتا ہے۔ صاف ظاہر بات یہی ہے کہ لفظ «لَحْمُ» شامل ہے تمام اجزاء کو۔ لغت عرب کا مفہوم اور عام عرف یہی ہے۔
صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق { شطرنج کھیلنے والا اپنے ھاتھوں کو سور کے گوشت و خون میں رنگنے والا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2260] خیال کیجئے کہ صرف چھونا بھی شرعاً کس قدر نفرت کے قابل ہے، تو پھر کھانے کیلئے بے حد برا ہونے میں کیا شک رہا؟ اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ لفظ لحم شامل ہے تمام اجزاء کو خواہ چربی ہو خواہ اور۔ بخاری و مسلم میں ہے { رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ نے شراب، مردار، خنزیر بتوں کی تجارت کی ممانعت کر دی ہے }، پوچھا گیا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردار کی چربی کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟“ وہ کشتیوں پر چڑھائی جاتی ہے، کھالوں پر لگائی جاتی ہے اور چراغ جلانے کے کام بھی آتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں! وہ حرام ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2236] صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ابوسفیان نے ہر قل سے کہا ”وہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمیں مردار سے اور خون سے روکتا ہے۔“ ۱؎ [مسند ابی عوانہ:6734] وہ جانور بھی حرام ہے جس کو ذبح کرنے کے وقت اللہ کے سوا دوسرے کا نام لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر اسے فرض کر دیا وہ اسی کا نام لے کر جانور کو ذبح کرے، پس اگر کوئی اس سے ہٹ جائے اور اس کے نام پاک کے بدلے کسی بت وغیرہ کا نام لے، خواہ وہ مخلوق میں سے کوئی بھی ہو تو یقیناً وہ جانور بالاجماع حرام ہو جائے گا، ہاں جس جانور کے ذبیحہ کے وقت بسم اللہ کہنا رہ جائے، خواہ جان بوجھ کر خواہ بھولے چوکے سے وہ حرام ہے یا حلال؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے جس کا بیان سورۂ انعام میں آئیگا۔ ابوالطفیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”حضرت آدم کے وقت سے لے کر آج تک یہ چاروں چیزیں حرام رہیں، کس وقت ان میں سے کوئی بھی حلال نہیں ہوئی (١) مردار (٢) خون (٣) سور کا گوشت (٤) اور اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی چیز۔ البتہ بنو اسرائیل کے گناہگاوں کے گناہوں کی وجہ سے بعض غیر حرام چیزیں بھی ان پر حرام کر دی گئی تھیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ وہ دوبارہ حلال کر دی گئیں، لیکن بنو اسرائیل نے آپ علیہ السلام کو سچا نہ جانا اور آپ علیہ السلام کی مخالفت کی۔ [ابن ابی حاتم] یہ اثر غریب ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب کوفے کے حاکم تھے اس وقت ابن نائل نامی قبیلہ بنو رباح کا ایک شخص جو شاعر تھا، فرزوق کے دادا غالب کے مقابل ہوا اور یہ شرط ٹھہری کہ دونوں آمنے سامنے ایک ایک سو اونٹوں کی کوچیں کاٹیں گے، چنانچہ کوفے کی پشت پر پانی کی جگہ پر جب ان کے اونٹ آئے تو یہ اپنی تلواریں لے کر کھڑے ہوگئے اور اونٹوں کی کوچیں کاٹنی شروع کیں اور دکھاوے، سناوے اور فخریہ ریاکاری کیلئے دونوں اس میں مشغول ہو گئے۔ کوفیوں کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ اپنے گدھوں اور خچروں پر سوار ہو کر گوشت لینے کیلئے آنا شروع ہوئے، اتنے میں جناب علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر پر سوار ہو کر یہ منادی کرتے ہوئے وہاں پہنچے کہ ”لوگو یہ گوشت نہ کھانا یہ جانور «مَا اُهِلَّ بِهِ لِغَیْرِ اللهِ» میں شامل ہیں۔“ [ابن ابی حاتم] یہ اثر بھی غریب ہے ہاں اس کی صحت کی شاہد وہ حدیث ہے جو ابوداؤد میں ہے کہ { رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراب کی طرف مقابلہ میں کوچیں کاٹنے سے ممانعت فرما دی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2820،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] پھر ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ محمد بن جعفر رحمہ اللہ نے اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ پر وقف کیا ہے۔ ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں شخصوں کا کھانا کھانا منع فرما دیا جو آپس میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانا اور ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا اور ریا کاری کرنا چاہتے ہوں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3754،قال الشيخ الألباني:صحیح] «مُنْخَنِقَةُ» جس کا گلا گھٹ جائے خواہ کسی نے عمداگلا گھونٹ کر گلا مروڑ کر اسے مار ڈالا ہو، خواہ از خود اس کا گلا گھٹ گیا ہو۔ مثلاً اپنے کھوٹنے میں بندھا ہوا ہے اور بھاگنے لگا، پھندا گلے میں پڑ گیا اور کھچ کھچاؤ کرتا ہوا مر گیا پس یہ حرام ہے۔ «مَوْقُوْدَةٌ» وہ ہے جس جانور کو کسی نے ضرب لگائی، لکڑی وغیرہ ایسی چیز سے جو دھاری دار نہیں لیکن اسی سے وہ مر گیا، تو وہ بھی حرام ہے، جاہلیت میں یہ بھی دستور تھا کہ جانور کولٹھ سے مار ڈالتے اور پھر کھاتے۔ لیکن قرآن نے ایسے جانور کو حرام بتایا۔
صحیح سند سے مروی ہے کہ { سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں معراض سے شکار کھیلتا ہوں تو کیا حکم ہے؟ فرمایا: { جب تو اسے پھینکے اور وہ جانور کو زخم لگائے تو کھا سکتا ہے اور اگر وہ چوڑائی کی طرف سے لگے تو وہ جانور لٹھ مارے ہوئے کے حکم میں ہے اسے نہ کھا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5476] پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں جسے دھار اور نوک سے شکار کیا ہو اور اس میں جسے چوڑائی کی جانب سے لگا ہو فرق کیا۔ اول کو حلال اور دوسرے کو حرام۔ فقہاء کے نزدیک بھی یہ مسئلہ متفق علیہ ہے۔ ہاں اختلاف اس میں ہے کہ جب کسی زخم کرنے والی چیز نے شکار کو صدمہ تو پہنچایا لیکن وہ مرا ہے اس کے بوجھ اور چوڑائی کی طرف سے تو آیا یہ جانور حلال ہے یا حرام۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے اس میں دونوں قول ہیں، ایک تو حرام ہونا اوپر والی حدیث کو سامنے رکھ کر۔ دوسرے حلال کرنا کتے کے شکار کی حلت کو مدنظر رکھ کر۔ اس مسئلہ کی پوری تفصیل ملاحظہ ہو۔
[فصل] علماء کرام کا اس میں اختلاف ہے کہ جب کسی شخص نے اپنا کتا شکار پر چھوڑا اور کتے نے اسے اپنی مار سے اور بوجھ سے مار ڈالا، زخمی نہیں کیا تو وہ حلال ہے یا نہیں؟ اس میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ یہ حلال ہے کیونکہ قرآن کے الفاظ عام ہیں «فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:4] یعنی ’ وہ جن جانوروں کو روک لیں تم انہیں کھا سکتے ہو ‘۔ اسی طرح سیدنا عدی رضی اللہ عنہ وغیرہ کی صحیح حدیثیں بھی عام ہی ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھیوں نے امام صاحب کا یہ قول نقل کیا ہے اور متاخرین نے اس کی صحت کی ہے، جیسے نووی اور رافعی رحمہ اللہ مگر میں کہتا ہوں کہ گو یوں کہا جاتا ہے لیکن امام صاحب کے کلام سے صاف طور پر یہ معلوم ہوتا۔ ملاحظہ ہو کتاب الام اور مختصر ان دونوں میں جو کلام ہے وہ دونوں معنی کا احتمال رکھتا ہے۔ پس دونوں فریقوں نے اس کی توجیہہ کر کے دونوں جانب علی الاطلاق ایک قول کہہ دیا۔ ہم تو بصد مشکل صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ اس بحث میں حلال ہونے کے قول کی حکایت کچھ قدرے قلیل زخم کا ہونا بھی ہے۔ گو ان دونوں میں سے کسی کی تصریح نہیں، اور وہ کسی کی مضبوط رائے، ابن الصباح نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے حلال ہونے کا قول نقل کیا ہے اور دوسرا کوئی قول ان سے نقل نہیں کیا اور امام ابن جریر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں اس قوت کو سلمان فارسی، ابوہریرہ، سعد بن وقاص اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے نقل کیا ہے لیکن یہ بہت غریب ہے اور دراصل ان بزرگوں سے صراحت کے ساتھ یہ اقوال نہیں پائے جاتے۔ یہ صرف اپنا تصرف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ حلال نہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قولوں میں سے ایک قول یہ ہے، مزنی نے روایت کیا ہے اور یہی مشہور ہے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اور یہی قول ٹھیک ہونے سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس لیے کہ اصولی قواعد اور احکام شرعی کے مطابق یہی جاری ہے۔
ابن الصباغ نے رافع بن خدیج کی حدیث سے دلیل پکڑی ہے کہ { انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کل دشمنوں سے بھڑنے والے ہیں اور ہمارے ساتھ چھریاں نہیں تو کیا ہم تیز بانس سے ذبح کر لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو چیز خون بہائے اور اس کے اوپر اللہ کا نام ذکر کیا جائے اسے کھا لیا کرو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5503] یہ حدیث گو ایک خاص موقعہ کیلئے ہے لیکن عام الفاظ کا حکم ہوگا۔ جیسے کہ جمہور علماء اصول و فروغ کا فرمان ہے، اس کی دلیل وہ حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ تبع جو شہد کی نبیذ سے ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہر وہ پینے کی چیز جو نشہ لائے حرام ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5585]
پس یہاں سوال ہے شہد کی نبیذ سے لیکن جو اب کے الفاظ عام ہیں اور مسئلہ بھی ان سے عام سمجھا گیا، اسی طرح اوپر والی حدیث ہے کہ گو سوال ایک خاص نوعیت میں ذبح کرنے کا ہے لیکن جواب کے الفاظ اسی اور اس کے سوا کی عام نوعیتوں پر مشتمل ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ایک خاص معجزہ ہے کہ الفاظ تھوڑے اور معافی بہت، اسے ذہن میں رکھنے کے بعد اب غور کیجئے کہ کتے کے صدمے سے جو شکار مر جائے یا اس کے بوجھ یا تھپڑ کی وجہ سے شکار کا دم نکل جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کا خون کسی چیز سے نہیں بہا، پس اس حدیث کے مفہوم کی بناء پر وہ حلال نہیں ہو سکتا۔ اس پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ اس حدیث کو کتے کے شکار کے مسئلہ سے دور کا تعلق بھی نہیں، اس لیے کہ سائل نے ذبح کرنے کے ایک آلے کی نسبت سوال کیا تھا۔ ان کا سوال اس چیز کی نسبت نہ تھا، جس سے ذبح کیا جائے، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دانت اور ناخن کو مستثنیٰ کر لیا اور فرمایا: { سوائے دانت اور ناخن کے اور میں تمہیں بتاؤں کہ انکے سوا کیوں؟ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5498] اور یہ قاعدہ ہے کہ مستثنیٰ کی دلالت جنس مستثنیٰ منہ پر ہوا کرتی ہے، ورنہ متصل نہیں مانا جا سکتا، پس ثابت ہوا کہ سوال آلہ ذبح کا ہی تھا تو اب کوئی دلالت تمہارے قول پر باقی نہیں رہی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے جملے کو دیکھو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ { جو چیز خون بہا دے اور اس پر نام اللہ بھی لیا گیا ہو، اسے کھا لو }۔ یہ نہیں فرمایا کہ اس کے ساتھ ذبح کر لو۔ پس اس جملہ سے دو حکم ایک ساتھ معلوم ہوتے ہیں، ذبح کرنے کے آلہ کا حکم بھی اور خود ذبیحہ کا حکم بھی اور یہ کہ اس جانور کا خون کسی آلہ سے بہانا ضروری ہے، جو دانت اور ناخن کے سوا ہو۔ ایک مسلک تو یہ ہے۔
دوسرا مسلک جو مزنی کا ہے وہ یہ کہ ”تیر کے بارے میں صاف لفظ آچکے کہ اگر وہ اپنی چوڑائی کی طرف سے لگا ہے اور جانور مرگیا ہے تو نہ کھاؤ اور اگر اس نے اپنی دھار اور انی سے زخم کیا ہے پھر مرا ہے تو کھا لو اور کتے کے بارے میں علی الاطلاق احکام ہیں۔“ پس چونکہ موجب یعنی شکار دونوں جگہ ایک ہی ہے تو مطلق کا حکم بھی مقید پر محمول ہو گا گو سبب الگ الگ ہوں۔ جیسے کہ ظہار کے وقت آزادگی گردن جو مطلق ہے محمول کی جاتی ہے قتل کی آزادگی گردن پر جو مقید ہے ایمان کے ساتھ۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ ضرورت شکار کے اس مسئلہ میں ہے یہ دلیل ان لوگوں پر یقیناً بہت بڑی حجت ہے جو اس قاعدہ کی اصل کو مانتے ہیں اور چونکہ ان لوگوں میں اس قاعدے کے مسلم ہونے میں کوئی اختلاف نہیں تو ضروری ہے کہ یا تو وہ اسے تسلیم کریں ورنہ کوئی پختہ جواب دیں۔ علاوہ ازیں فریق یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ چونکہ اس شکار کو کتے نے بوجہ اپنے ثقل کے مار ڈالا ہے اور یہ ثابت ہے کہ تیر جب اپنی چوڑائی سے لگ کر شکار کو مار ڈالے تو وہ حرام ہو جاتا ہے پس اس پر قیاس کر کے کتے کا یہ شکار بھی حرام ہو گیا کیونکہ دونوں میں یہ بات مشترک ہے کہ دونوں شکار کے آلات ہیں اور دونوں نے اپنے بوجھ اور زور سے شکار کی جان لی ہے اور آیت کا عموم اس کے معارض نہیں ہو سکتا کیونکہ عموم پر قیاس مقدم ہے جیسا کہ چاروں اماموں اور جمہور کا مذہب ہے۔ یہ مسلک بھی بہت اچھا ہے
دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان آیت «فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ» یعنی ’ شکار کتے جس جانور کو روک رکھیں اس کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے ‘۔ یہ عام نوعیت پر یعنی اسے بھی جسے زخم کیا ہو اور اس کے سوا کو بھی، لیکن جس صورت پر اس وقت بحث ہے وہ یا تو ٹکر لگا ہوا ہے یا اس کے حکم پر یا گلا گھونٹا ہوا ہے یا اس کے حکم میں، بہر صورت اس آیت کی تقدیم ان وجوہ پر ضرور ہو گی۔ اولاً تو یہ کہ شارع نے اس آیت کا حکم شکار کی حالت میں معتبر مانا ہے۔ کیونکہ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا { اگر وہ چوڑائی کی طرف سے لگا ہے تو وہ لٹھ مارا ہوا ہے اسے نہ کھاؤ }۔ جہاں تک ہمارا علم ہے ہم جانتے ہیں کہ کسی عالم نے یہ نہیں کہا کہ لٹھ سے اور مار سے مرا ہوا تو شکار کی حالت میں معتبر ہو اور سینگ اور ٹکر لگا ہوا معتبر نہ ہو۔ پس جس صورت میں اس وقت بحث ہو رہی ہے اس جانور کو حلال کہنا اجماع کو توڑنا ہوگا، جسے کوئی بھی جائز نہیں کہہ سکتا بلکہ اکثر علماء اسے ممنوع بتاتے ہیں۔
دوسرے یہ کہ آیت «فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ» اپنے عموم پر باقی نہیں اور اس پر اجتماع ہے، بلکہ آیت سے مراد صرف حلال حیوان ہیں۔ تو اس کے عام الفاظ سے وہ حیوان جن کا کھانا حرام ہے بالاتفاق نکل گئے اور یہ قاعدہ ہے کہ عموم محفوظ عموم غیر محفوظ پر مقدم ہوتا ہے۔ ایک تقریر اسی مسئلہ میں اور بھی گوش گزار کر لیجئے کہ اس طرح کا شکار میتہ کے حکم میں ہے، پس جس وجہ سے مردار حرام ہے، وہی وجہ یہاں بھی ہے تو یہ بھی اسی قیاس سے حلال نہیں۔ ایک اور وجہ بھی سنئے کہ حرمت کی آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ» [5-المائدہ:3] الخ، بالکل محکم ہے، اس میں کسی طرح نسخ کا دخل نہیں، نہ کوئی تخصیص ہوئی ہے، ٹھیک اسی طرح آیت تحلیل بھی محکم ہی ہونی چاہیئے۔ یعنی فرمان باری تعالیٰ آیت «يَسْـــَٔلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَهُمْ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ» ۱؎ [5-المائدہ:4] ’ لوگ تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ ان کیلئے حلال کیا ہے تو کہدے کہ تمام طیب چیزیں تمہارے لیے حلال ہیں ‘۔ جب دونوں آیتیں محکم اور غیر منسوخ ہیں تو یقیناً ان میں تعارض نہ ہونا چاہیئے لہٰذا حدیث کو اس کی وضاحت کیلئے سمجھنا چاہیئے اور تیر کا واقعہ اسی کی شہادت دیتا ہے، جس میں یہ بیان کیا ہے کہ اس آیت میں یہ صورت واضح طور پر شامل ہے کہ آنی اور دھار تیزی کی طرف سے زخم کرے تو جانور حلال ہو گا، کیونکہ وہ (طیبات) میں آگیا۔ ساتھ ہی حدیث میں یہ بھی بیان کر دیا گیا کہ آیت تحریم میں کون سی صورت شامل ہے۔ یعنی وہ صورت جس میں جانور کی موت تیر کی چوڑائی کی چوٹ سے ہوئی ہے، وہ حرام ہو گیا جسے کھایا نہیں جائے گا۔ اس لیے کہ وہ «وقیذ» ہے اور «وقیذ» آیت تحریم کا ایک فرد ہے، ٹھیک اسی طرح اگر شکاری کتے نے جانور کو اپنے دباؤ زور بوجہ اور سخت پکڑ کی وجہ سے مار ڈالا ہے تو وہ «نطیح» ہے یا «فطیح» یعنی ٹکر اور سینگ لگے ہوئے کے حکم میں ہے اور حلال نہیں، ہاں اگر اسے مجروح کیا ہے تو وہ آیت تحلیل کے حکم میں ہے اور یقیناً حلال ہے۔
اس پر اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اگر یہی مقصود ہوتا تو کتے کے شکار میں بھی تفصیل بیان کر دی جاتی اور فرما دیا جاتا کہ اگر وہ جانور کو چیرے پھاڑے، زخمی کرے تو حلال اور اگر زخم نہ لگائے تو حرام۔ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ کتے کا بغیر زخمی کئے قتل کرنا بہت ہی کم ہوتا ہے۔ اس کی عادت یہ نہیں بلکہ عادت تو یہ ہے کہ اپنے پنجوں یا کچلیوں سے ہی شکار کو مارے یا دونوں سے، بہت کم کبھی کبھی شاذو نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے دباؤ اور بوجھ سے شکار کو مار ڈالے، اس لیے اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ اس کا حکم بیان کیا جائے اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ جب آیت تحریم میں «مَيْتَةُ، مَوْقُوذَةُ، مُتَرَدِّيَةُ، لنَّطِيحَةُ» کی حرمت موجود ہے تو اس کے جاننے والے کے سامنے اس قسم کے شکار کا حکم بالکل ظاہر، تیر اور معراض میں اس حکم کو اس لیے الگ بیان کر دیا کہ وہ عموماً خطا کر جاتا ہے بالخصوص اس شخص کے ہاتھ سے جو قادر تیر انداز نہ ہو یا نشانے میں خطا کرتا ہو، اس لیے اس کے دونوں حکم تفصیل وار بیان فرما دیئے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ دیکھئیے چونکہ کتے کے شکار میں یہ احتمال تھا کہ ممکن ہے وہ اپنے کئے ہوئے شکار میں سے کچھ کھا لے، اس لیے یہ حکم صراحت کے ساتھ الگ بیان فرما دیا اور ارشاد ہوا کہ{ اگر وہ خود کھا لے تو تم اسے نہ کھاؤ، ممکن ہے کہ اس نے خود اپنے لیے ہی شکار کو روکا ہو}۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1929] یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے اور یہ صورت اکثر حضرات کے نزدیک آیت تحلیل کے عموم سے مخصوص ہے اور ان کا قول ہے کہ جس شکار کو کتا کھا لے اس کا کھانا حلال نہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہی روایت کیا جاتا ہے۔ حسن، شعبی اور نخعی رحمہ اللہ علیہم کا قول بھی یہی ہے اور اسی کی طرف ابوحنیفہ، ان کے دونوں اصحاب، احمد بن حنبل اور مشہور روایت میں شافعی رحمہ اللہ علیہم بھی گئے ہیں۔ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں سیدنا علی، سعد، سلمان، ابوہریرہ، ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے نقل کیا ہے کہ گو کتے نے شکار میں سے کچھ کھا لیا ہو تاہم اسے کھا لینا جائز ہے، بلکہ سعد، سلمان، ابوہریرہ رضی اللہ عنہم وغیرہ فرماتے ہیں گو کتا آدھا حصہ کھا گیا ہو تاہم اس شکار کا کھا لینا جائز ہے۔ امام مالک اور شافعی رحمہ اللہ علیہم بھی اپنے قدیم قول میں اسی طرف گئے ہیں اور قول جدید میں دونوں قولوں کی طرف اشارہ کیا ہے، جیسے کہ امام ابو منصور بن صباغ وغیرہ نے کہا ہے۔ ابوداؤد میں قوی سند سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {جب تو اپنے کتے کو چھوڑے اور اللہ کا نام تو نے لے لیا ہو تو کھا لے، گو اس نے بھی اس میں سے کھا لیا ہو اور کھا لے اس چیز کو جسے تیرا ہاتھ تیری طرف لوٹا لائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:حدیث2852،قال الشيخ الألباني:-منکر] نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔ تفسیر ابن جریر میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جب کسی شخص نے اپنا کتا شکار پر چھوڑا، اس نے شکار کو پکڑا اور اس کا کچھ گوشت کھا لیا تو اسے اختیار ہے کہ باقی جانور یہ اپنے کھانے کے کام میں لے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11214] اس میں اتنی علت ہے ک
2۔ 1 شعائر شعیرۃ کی جمع ہے اس سے مراد حرمات اللہ ہیں (جن کی تعظیم و حرمت اللہ نے مقرر فرمائی ہے) بعض نے اسے عام رکھا ہے اور بعض کے نزدیک یہاں حج و عمرے کے مناسک مراد ہیں یعنی ان کی بےحرمتی اور بےتوقیری نہ کرو۔ اسی طرح حج عمرے کی ادائیگی میں کسی کے درمیان رکاوٹ مت بنو، کہ یہ بےحرمتی ہے۔ 2۔ 2 (اشھر الحرام) مراد حرمت والے چاروں مہینے (رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم) کی حرمت برقرار رکھو اور ان میں قتال مت کرو بعض نے اس سے صرف ایک مہینہ مراد یعنی ماہ ذوالحجہ (حج کا مہینہ) مراد لیا ہے۔ بعض نے اس حکم کو فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم سے منسوخ مانا ہے مگر اس کی ضرورت نہیں دونوں احکام اپنے اپنے دائرے میں ہیں جن میں تعارض نہیں۔ 2۔ 3 ھَدی ' ایسے جانور کو کہا جاتا ہے جو حاجی حرم میں قربان کرنے کے لئے ساتھ لے جاتے تھے اور گلے میں پٹہ باندھتے تھے جو کے نشانی کے طور پر ہوتا تھا، مزید تاکید ہے کہ ان جانوروں کسی سے چھینا جائے نہ ان کے حرم تک پہنچنے میں کوئی رکاوٹ کھڑی کی جائے۔ 2۔ 4 یعی حج عمرے کی نیت سے یا تجارت و کاروبار کی غرض سے حرم جانے والوں کو مت روکو اور نہ انہیں تنگ کرو، بعض مفسرین کے نزدیک یہ احکام اس وقت کے ہیں جب مسلمان اور مشرک اکھٹے حج عمرہ کرتے تھے۔ لیکن جب یہ آیت انما المشرکون نجس الخ نازل ہوئی تو مشرکین کی حد تک یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ بعض کے نزدیک یہ آیت محکم یعنی غیر منسوخ ہے اور یہ حکم مسلمانوں کے بارے میں ہے۔ 2۔ 5 یہاں مراد اباحت یعنی جواز بتلانے کے لئے ہے۔ یعنی جب تم احرام کھول دو تو شکار کرنا تمہارے لئے جائز ہے۔ 2۔ 6 یعنی گو تمہیں ان مشرکین نے 6 ہجری میں مسجد حرام میں جانے سے روک دیا تھا لیکن تم ان کے روکنے کی وجہ سے ان کے ساتھ زیادتی والا رویہ اختیار مت کرنا۔ دشمن کے ساتھ بھی حلم اور عفو کا سبق دیا جا رہا ہے۔ 2۔ 7 یہ ایک نہایت اہم اصول بیان کردیا گیا ہے جو ایک مسلمان کے لئے قدم قدم پر رہنمائی مہیا کرسکتا ہے، کاش مسلمان اس اصول کو اپنا لیں۔
(آیت 2) ➊ {لَا تُحِلُّوْا شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ: ”شَعَآىِٕرَ“ } یہ {” شَعِيْرَةٌ“} کی جمع ہے جو {” فَعِيْلَةٌ “} بمعنی {” مُفْعَلَةٌ “} ہے، یعنی ہر وہ چیز جس پر نشان لگایا گیا ہو یا جو بطور علامت مقرر کی گئی ہو، مراد وہ چیزیں ہیں جن کا اﷲ تعالیٰ کے ساتھ خاص تعلق ہو اور اس خاص تعلق کی بنا پر ان کی تعظیم کی جاتی ہو۔ بعض نے اسے عام رکھا ہے کہ اس سے مراد اﷲ کے تمام اوامر و نواہی ہیں اور بعض نے حج و عمرہ کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیزیں مراد لی ہیں۔ { ”لَا تُحِلُّوْا“ } کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ترک نہ کرو اور ان کی بے حرمتی نہ کرو۔ ➋ {وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ:} ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”سال کے بارہ مہینے ہیں، جن میں سے چار حرمت والے ہیں، تین مسلسل ہیں، ذوالقعدہ، ذو الحجہ اور محرم اور ایک رجبِ مضر جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ: «إن عدة الشهور……» :۴۶۶۲ ] مطلب یہ ہے کہ ان مہینوں میں جنگ کر کے ان کی بے حرمتی نہ کرو۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ(۳۶)۔ ➌ {وَ لَا الْهَدْيَ وَ لَا الْقَلَآىِٕدَ:} { ”الْهَدْيَ“ } ایسے جانور کو کہا جاتا ہے جو حاجی حرم میں قربان کرنے کے لیے ساتھ لے جاتے تھے۔ اونٹوں کی کوہان کی دائیں طرف تھوڑا سا زخم کر کے مل دیتے، اسے اشعار کہتے ہیں اور گلے میں ایک جوتا یا پٹا ڈال دیتے۔ { ”الْقَلَآىِٕدَ“ } یہ {” قِلاَدَةٌ “} کی جمع ہے، جس سے مراد وہ پٹا یا رسی وغیرہ ہے جو پرو کر ہدی (قربانی) کے گلے میں بطور علامت باندھ دی جاتی تھی۔ چھوٹے جانوروں کا اشعار نہیں کرتے تھے۔ { ”الْقَلَآىِٕدَ“ } کا معنی اگرچہ پٹے ہیں مگر مراد وہ جانور ہیں جن کے گلے میں وہ پٹا ڈالا گیا ہو۔ ان سب چیزوں کا ذکر اگرچہ { ”شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ“ } کے ضمن میں آ چکا ہے مگر ان کے مزید احترام کی خاطر ان کو الگ بیان کیا ہے۔ ➍ {وَ لَاۤ آٰمِّيْنَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ ……:} یعنی وہ لوگ جو مسجد حرام کا قصد کر کے جا رہے ہیں۔ رب کے فضل سے مراد رزق ہے جو تجارت وغیرہ سے کمایا جاتا ہے اور اﷲ کی رضا مندی سے مراد حج یا عمرہ ہے جو طلبِ ثواب کے لیے کیا جاتا ہے۔ بعض نے فضل سے ثواب ہی مراد لیا ہے، یعنی وہ اﷲ تعالیٰ سے ثواب اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مکہ جا رہے ہیں۔ اگر اس کے تحت مشرک بھی داخل ہوں تو معنی یہ ہوں گے کہ وہ بھی اپنے گمان میں اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں، لہٰذا ان کو تکلیف مت دو۔ مگر یہ حکم سورۂ توبہ کی آیت (۲۸) سے منسوخ ہو گا۔ اب مشرکین کو حدود حرم میں داخلے کی اجازت نہیں۔ (ابن کثیر، قرطبی) ➎ {وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا:} یعنی احرام کھولنے کے بعد شکار کرو۔ یہ حکم بیانِ جواز کے لیے ہے، یعنی اب شکار جائز ہے، یہ معنی نہیں کہ اب ضرور ہی شکار کرو، کیونکہ وہ احرام سے پہلے بھی ضروری نہ تھا۔ (ابن کثیر) ➏ {وَ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ ……:} یعنی اگرچہ ان مشرکین نے تمھیں ۶ ہجری میں اور اس سے پہلے مسجد حرام میں جانے سے روک دیا تھا لیکن تم ان کے اس روکنے کی وجہ سے ان کی دشمنی کی بنا پر حد سے مت بڑھو۔ ➐ {وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ……:} ہر قسم کا نیک کام کرنے کا نام {” الْبِرِّ “} اور برائی کو ترک کرنے کا نام {”التَّقْوٰى“} ہے۔ ایک دوسرے سے تعاون کرنے اور نہ کرنے کے لیے ایک اصول مقرر فرما دیا ہے جس سے اسلامی معاشرے میں برائی کا سدباب ہو سکتا ہے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔“ ایک آدمی نے عرض کی: ”اے اﷲ کے رسول! جب وہ مظلوم ہو، میں اس کی مدد کروں گا لیکن اگر وہ ظالم ہو تو پھر اس کی مدد کس طرح کروں؟“ فرمایا: ”اس وقت اس کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکو۔“ [ بخاری، الإکراہ، باب یمین الرجل……: ۶۹۵۲۔ مسلم: ۲۵۸۴ ]
تم پر حرام کیا گیا مُردار، خون، سُور کا گوشت، وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، وہ جو گھلا گھٹ کر، یا چوٹ کھا کر، یا بلندی سے گر کر، یا ٹکر کھا کر مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو سوائے اس کے جسے تم نے زندہ پاکر ذبح کر لیا اور وہ جو کسی آستا نے پر ذبح کیا گیا ہو نیز یہ بھی تمہارے لیے ناجائز ہے کہ پانسوں کے ذریعہ سے اپنی قسمت معلوم کرو یہ سب افعال فسق ہیں آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے پوری مایوسی ہو چکی ہے لہٰذا تم اُن سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے (لہٰذا حرام و حلال کی جو قیود تم پر عائد کر دی گئی ہیں اُن کی پابند ی کرو) البتہ جو شخص بھوک سے مجبور ہو کر اُن میں سے کوئی چیز کھا لے، بغیر اس کے کہ گناہ کی طرف اس کا میلان ہو تو بیشک اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو اور جو کسی ضرب سے مر گیا ہو اور جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو اور جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ بھی کہ قرعہ کے تیروں کے ذریعے فال گیری کرو یہ سب بدترین گناه ہیں، آج کفار تمہارے دین سے ناامید ہوگئے، خبردار! تم ان سے نہ ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا، آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ پس جو شخص شدت کی بھوک میں بے قرار ہو جائے بشرطیکہ کسی گناه کی طرف اس کا میلان نہ ہو تو یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے واﻻ اور بہت بڑا مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم پر حرام ہے مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا اور جو گلا گھونٹنے سے مرے اور بے دھار کی چیز سے مارا ہوا اور جو گر کر مرا اور جسے کسی جانور نے سینگ مارا اور جسے کوئی درندہ کھا گیا مگر جنہیں تم ذبح کرلو، اور جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا اور پانسے ڈال کر بانٹا کرنا یہ گناہ کا کا م ہے، آج تمہارے دین کی طرف سے کافروں کی آس نوٹ گئی تو اُن سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو آج میں نے تمہارے لئے دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا تو جو بھوک پیاس کی شدت میں ناچار ہو یوں کہ گناہ کی طرف نہ جھکے تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تم پر حرام کیا گیا ہے۔ مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جس پر ذبح کے وقت غیر خدا کا نام لیا جائے۔ اور گلا گھوٹا ہوا، یا جو چوٹ لگنے سے یا بلندی سے گر کر، یا سینگ لگنے سے مر جائے یا جسے کسی درندہ نے کھایا ہو۔ سوائے اس کے جسے تم نے ذبح کر لیا ہو۔ اور وہ (بھی حرام ہے) جو قربان کیا جائے بتوں پر (یا کسی آستانے پر) نیز (وہ بھی حرام ہے) جو قرعہ کے تیروں سے تقسیم کیا جائے۔ یہ سب کام فسق (گناہ) ہیں۔ آج میں نے تمہارے لئے دین کو مکمل کر دیا ہے۔ اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند کر لیا ہے ہاں جو بھوک کی شدت سے مجبور ہو جائے (اور حرام چیزوں سے کوئی کھا لے) جبکہ گناہ کی طرف راغب نہ ہو تو اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تم پر مردار حرام کیا گیا ہے اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ جس پر غیراللہ کا نام پکارا جائے اور گلا گھٹنے والا جانور اور جسے چوٹ لگی ہو اور گرنے والا اور جسے سینگ لگا ہو اور جسے درندے نے کھایا ہو، مگر جو تم ذبح کر لو، اور جو تھانوں پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ کہ تم تیروں کے ساتھ قسمت معلوم کرو۔ یہ سراسر نافرمانی ہے۔ آج وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تمھارے دین سے مایوس ہوگئے، تو تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو، آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا، پھر جو شخص بھوک کی کسی صورت میں مجبور کر دیا جائے، اس حال میں کہ کسی گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو تو بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیخ ابوعلی افصاح رحمہ اللہ میں فرماتے ہیں ”جب ہم نے یہ طے کر لیا کہ اس شکار کا کھانا حرام ہے جس میں سے شکاری کتے نے کھا لیا ہو تو جس شکار میں سے شکاری پرند کھالے اس میں دو وجوہات ہیں۔“ لیکن قاضی ابو الطیب نے اس فرع کا اور اس ترتیب سے انکار کیا ہے۔ کیونکہ امام شافعی نے ان دونوں کو صاف لفظوں میں برابر رکھا ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔ «مُتَرَدِّیـةُ» وہ ہے جو پہاڑی یا کسی بلند جگہ سے گر کر مرگیا ہو تو وہ جانور بھی حرام ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ وہ ہے جو کنویں میں گر پڑے، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:498/9] «نَـطِیْحَـہ» وہ ہے جسے دوسرا جانور سینگ وغیرہ سے ٹکر لگائے اور وہ اس صدمہ سے مر جائے، گو اس سے زخم بھی ہوا ہو اور گو اس سے خون بھی نکلا ہو، بلکہ گو ٹھیک ذبح کرنے کی جگہ ہی لگا ہو اور خون بھی نکلا، یہ لفظ معنی میں مفعول یعنی منطوحہ کے ہے، یہ وزن عموماً کلام عرب میں بغیر تے کے آتا ہے جیسے «عَیْـنٌ کَحِـیْلٌ» اور «کَفٌّ خَضِیْبٌ» ان مواقع میں «کَحِیْلَـةٌ» اور «خَضِیبْـَةٌ» نہیں کہتے، اس جگہ تے اس لیے لایا گیا ہے کہ یہاں اس لفظ کا استعمال قائم مقام اسم کے ہے، جیسے عرب کا یہ کلام «طَرِیْقَةٌ طَوِیْلةٌ» ۔ بعض نحوی کہتے ہیں تاء تانیث یہاں اس لیے لایا گیا ہے کہ پہلی مرتبہ ہی تانیث پر دلالت ہو جائے بخلاف «کَحِـیْلٌ» اور «خَضِیبْـَ» کے کہ وہاں تانیث کلام کے ابتدائی لفظ سے معلوم ہوتی ہے۔ «مَاۤ اَکَلَ السَّـبُعُ» سے مراد وہ جانور ہے جس پر شیر، بھیڑیا، چیتا یا کتا وغیرہ درندہ حملہ کرے اور اس کا کوئی حصہ کھا جائے اور اس سبب سے مر جائے تو اس جانور کو کھانا بھی حرام ہے، اگرچہ اس سے خون بہا ہو بلکہ اگرچہ ذبح کرنے کی جگہ سے ہی خون نکلا ہو تاہم وہ جانور بالاجماع حرام ہے۔
اہل جاہلیت میں ایسے جانور کا بقیہ کھا لیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس سے منع فرمایا۔ پھر فرماتا ہے ’ مگر وہ جسے تم ذبح کرلو ‘، یعنی گلا گھونٹا ہوا، لٹھ مارا ہوا، اوپر سے گر پڑا ہوا، سینگ اور ٹکر لگا ہوا، درندوں کا کھایا ہوا، اگر اس حالت میں مل جائے کہ اس میں جان باقی ہو اور تم اس پر باقاعدہ اللہ کا نام لے کر چھری پھیر لو تو پھر یہ جانور تمہارے لئے حلال ہوجائیں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ، حسن اور سدی رحمة الله علیہم یہی فرماتے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”اگر تم ان کو اس حالت میں پالو کہ چھری پھیرتے ہوئے وہ دم رگڑیں یا پیر ہلائیں یا آنکھوں کے ڈھیلے پھرائیں تو بے شک ذبح کرکے کھا لو۔“ ابن جریر میں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جس جانور کو ضرب لگی ہو یا اوپر سے گر پڑا ہو یا ٹکر لگی ہو اور اس میں روح باقی ہو اور تمہیں وہ ہاتھ پیر رگڑتا مل جائے تو تم اسے ذبح کر کے کھا سکتے ہو۔“ طاؤس، حسن، قتادہ، عبید بن عمیر، ضحاک رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے حضرات سے مروی ہے کہ ”بوقت ذبح اگر کوئی حرکت بھی اس جانور کی ایسی ظاہر ہو جائے جس سے یہ معلوم ہو کہ اس میں حیات ہے تو وہ حلال ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:502/9] جمہور فقہاء کا یہی مذہب ہے حرکت بھی اس جانور کی ایسی ظاہر ہو جائے جس سے یہ معلوم ہو کہ اس میں حیات ہے تو وہ حلال ہے۔ جمہور فقہاء کا یہی مذہب ہے تینوں اماموں کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک رحمة الله اس بکری کے بارے میں جسے بھیڑیا پھاڑ ڈالے اور اس کی آنتیں نکل آئیں فرماتے ہیں ”میرا خیال ہے کہ اسے ذبح نہ کیا جائے اس میں سے کس چیز کا ذبیحہ ہو گا؟“ ایک مرتبہ آپ رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ درندہ اگر حملہ کرکے بکری کی پیٹھ توڑ دے تو کیا اس بکری کو جان نکلنے سے پہلے ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”اگر بالکل آخر تک پہنچ گیا ہے تو میری رائے میں نہ کھانی چاہیئے اور اگر اطراف میں یہ ہے تو کوئی حرج نہیں۔“ سائل نے کہا درندے نے اس پر حملہ کیا اور کود کر اسے پکڑ لیا، جس سے اس کی کمر ٹوٹ گئی ہے تو، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”مجھے اس کا کھانا پسند نہیں کیونکہ اتنی زبردست چوٹ کے بعد زندہ نہیں رہ سکتی۔“ آپ رحمہ اللہ سے پھر پوچھا گیا کہ اچھا اگر پیٹ پھاڑ ڈالا اور آنتیں نہیں نکلیں تو کیا حکم ہے؟ فرمایا ”میں تو یہی رائے رکھتا ہوں کہ نہ کھائی جائے۔“ یہ ہے امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب لیکن چونکہ آیت عام ہے اس لیے امام صاحب نے جن صورتوں کو مخصوص کیا ہے ان پر کوئی خاص دلیل چاہیئے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بخاری و مسلم میں سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم کل دشمن سے لڑائی میں باہم ٹکرانے والے ہیں اور ہمارے ساتھ چھریاں نہیں کیا ہم بانس سے ذبح کر لیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو چیز خون بہائے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے، اسے کھا لو، سوائے دانت اور ناخن کے، یہ اس لیے کہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں }} ۱؎ [صحیح بخاری:5498] مسند احمد اور سنن میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ”ذبیحہ صرف حلق اور نرخرے میں ہی ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تو نے اس کی ران میں بھی زخم لگا دیا تو کافی ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2825،قال الشيخ الألباني:-منکر و ضعیف] یہ حدیث ہے تو سہی لیکن یہ حکم اس وقت ہے جبکہ صحیح طور پر ذبح کرنے پر قادر نہ ہوں۔ «نُصُب» پر جو جانور ذبح کیے جائیں وہ بھی حرام ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ پرستش گاہیں کعبہ کے اردگرد تھیں،۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/9] ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ تین سو ساٹھ بت تھے، جاہلیت کے عرب ان کے سامنے اپنے جانور قربان کرتے تھے اور ان میں سے جو بیت اللہ کے بالکل متصل تھا، اس پر ان جانوروں کا خون چھڑکتے تھے اور گوشت ان بتوں پر بطور چڑھاوا چڑھاتے تھے“ ۱؎ [صحیح بخاری:1601] پس اللہ تعالیٰ نے یہ کام مومنوں پر حرام کیا اور ان جانوروں کا کھانا بھی حرام کر دیا۔ اگرچہ ان جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» بھی کہی گئی ہو کیونکہ یہ شرک ہے جسے اللہ تعالیٰ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا ہے، اور اسی لائق ہے، اس جملہ کا مطلب بھی یہی ہے کیونکہ اس سے پہلے ان کی حرمت بیان ہو چکی ہے جو اللہ کے سوا دوسروں کے نام پر چڑھائے جائیں۔
«اَزْلاَم» سے تقسیم کرنا حرام ہے، یہ جاہلیت کے عرب میں دستور تھا کہ انہوں نے تین تیر رکھ چھوڑے تھے، ایک پر لکھا ہوا تھا «افعل» یعنی کر، دوسرے پر لکھا ہوا تھا «لاتعفل» یعنی نہ کر، تیسرا خالی تھا۔ بعض کہتے ہیں ایک پر لکھا تھا مجھے میرے رب کا حکم ہے، دوسرے پر لکھا تھا مجھے میرے رب کی ممانعت ہے، تیسرا خالی تھا اس پر کچھ بھی لکھا ہوا نہ تھا۔ بطور قرعہ اندازی کے کسی کام کے کرنے نہ کرنے میں جب انہیں تردد ہوتا تو ان تیروں کو نکالتے، اگر حکم، کر، نکلا تو اس کام کو کرتے اگر ممانعت کا تیر نکلا تو باز آ جاتے اگر خالی تیر نکلا تو پھر نئے سرے سے قرعہ اندازی کرتے، «اَزْلاَم» جمع ہے «زَلْم» کی اور بعض «زَلَم» بھی کہتے ہیں۔ «استسقام» کے معنی ان تیروں سے تقسیم کی طلب ہے، قریشیوں کا سب سے بڑا بت ہبل خانہ کعبہ کے اندر کے کنوئیں پر نصب تھا، جس کنویں میں کعبہ کے ہدیے اور مال جمع رہا کرتے تھے، اس بت کے پاس سات تیر تھے، جن پر کچھ لکھا ہوا تھا جس کام میں اختلاف پڑتا یہ قریشی یہاں آ کر ان تیروں میں سے کسی تیر کو نکالتے اور اس پر جو لکھا پاتے اسی کے مطابق عمل کرتے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو وہاں ابراہیم اور اسماعیل علیہم السلام کے مجسمے گڑے ہوئے پائے، جن کے ہاتھوں میں تیر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ انہیں غارت کرے، انہیں خوب معلوم ہے کہ ان بزرگوں نے کبھی تیروں سے فال نہیں لی } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1601]
صحیح حدیث میں ہے کہ ”سراقہ بن مالک بن جعثم جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق کو ڈھونڈنے کیلئے نکلا کہ انہیں پکڑ کر کفار مکہ کے سپرد کرے اور آپ اس وقت ہجرت کر کے مکہ سے مدینے کو جا رہے تھے تو اس نے اسی طرح قرعہ اندازی کی اس کا بیان ہے کہ پہلی مرتبہ وہ تیر نکلا جو میری مرضی کے خلاف تھا میں نے پھر تیروں کو ملا جلا کر نکالا تو اب کی مرتبہ بھی یہی نکلا تو انہیں کوئی ضرر نہ پہنچا سکے گا، میں نے پھر نہ مانا تیسری مرتبہ فال لینے کیلئے تیر نکالا تو اب کی مرتبہ بھی یہی تیر نکلا لیکن میں ہمت کر کے ان کا کوئی لحاظ نہ کر کے انعام حاصل کرنے اور سرخرو ہونے کیلئے تیر نکالا تو اب کی مرتبہ بھی یہی تیر نکلا لیکن میں ہمت کر کے ان کا کوئی لحاظ نہ کر کے انعام حاصل کرنے اور سرخرو ہونے کیلئے آپ کی طلب میں نکل کھڑا ہوا۔ اس وقت تک سراقہ مسلمان نہیں ہوا تھا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ نہ بگاڑ سکا اور پھر بعد میں اسے اللہ نے اسلام سے مشرف فرمایا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:3906] ابن مردویہ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”وہ شخص جنت کے بلند درجوں کو نہیں پا سکتا جو کہانت کرے، یا تیر اندازی کرے یا کسی بدفالی کی وجہ سے سفر سے لوٹ آئے } ۱؎ [مجمع الزوائد:118/5:حسن بالشواهد] مجاہد رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ”عرب ان تیروں کے ذریعہ اور فارسی اور رومی پانسوں کے ذریعہ جوا کھیلا کرتے تھے جو مسلمانوں پر حرام ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:512/9]
ممکن ہے کہ اس قول کے مطابق ہم یوں کہیں کہ تھے تو یہ تیر استخارے کیلئے مگر ان سے جو ابھی گاہے بگاہے کھیل لیا کرتے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اسی سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے جوئے کو بھی حرام کیا ہے اور فرمایا، ’ ایمان والو! شراب، جواء، بت اور تیر نجس اور شیطانی کام ہیں، تم ان سے الگ رہو تاکہ تمہیں نجات ملے، شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ ان کے ذریعہ تمہارے درمیان عداوت و بغض ڈال دے ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہوتا ہے کہ ’ تیروں سے تقسیم طلب کرنا حرام ہے، اس کام کا کرنا فسق، گمراہی، جہالت اور شرک ہے ‘۔ اس کے بجائے مومنوں کو حکم ہوا کہ ’ جب تمہیں اپنے کسی کام میں تردد ہو تو تم اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرلو، اس کی عبادت کر کے اس سے بھلائی طلب کرو ‘۔ [مسند احمد] ۔
بخاری اور سنن میں مروی ہے {جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح قرآن کی سورتیں سکھاتے تھے، اسی طرح ہمارے کاموں میں استخارہ کرنا بھی تعلیم فرماتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ { جب تم سے کسی کو کوئی اہم کام آ پڑے تو اسے چاہیئے کہ دو رکعت نماز نفل پڑھ کر یہ دعا پڑھے «اللَّهُم إِني أَسْتَخِيرُكَ، وأستقدِرُكَ بقُدْرِتك، و وأَسْأَلُكَ مِنْ فضْلِكَ العَظِيم، فإِنَّكَ تَقْدِرُ ولا أَقْدِرُ، وتعْلَمُ ولا أَعْلَمُ، وَأَنتَ علاَّمُ الغُيُوبِ اللَّهُمَّ إِنْ كنْتَ تعْلَمُ أَنَّ هذا الأمرَ خَيْرٌ لي في دِيني وَمَعَاشي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فاقْدُرْهُ لي وَيَسِّرْهُ لي، ثمَّ بَارِكْ لي فِيهِ، وَإِن كُنْتَ تعْلمُ أَنَّ هذَا الأَمْرَ شرٌّ لي في دِيني وَمَعاشي وَعَاقبةِ أَمَرِي، فاصْرِفهُ عَني، وَاصْرفني عَنهُ، وَاقدُرْ لي الخَيْرَ حَيْثُ كانَ، ثُمَّ أرضني بِهِ» ۔ یعنی اے اللہ میں تجھ سے تیرے علم کے ذریعہ بھلائی طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے وسیلے سے تجھ سے قدرت طلب کرتا ہوں اور تجھ سے تیرے بڑے فضل کا طالب ہوں، یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے اور میں محض مجبور ہوں، تو تمام علم والا ہے اور میں مطلق بے علم ہوں، تو ہی تمام غیب کو بخوبی جاننے والا ہے، اے میرے اللہ اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے دین دنیا میں آغاز و انجام کے اعتبار سے بہتر ہی بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر کر دے اور اسے میرے لیے آسان بھی کر دے اور اس میں مجھے ہر طرح کی برکتیں عطا فرما اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے دین کی دنیا زندگی اور انجام کار کے لحاظ سے برا ہے تو اسے مجھ سے دور کر دے اور مجھے اس سے دور کر دے اور میرے لیے خیر و برکت جہاں کہیں ہو مقرر کر دے پھر مجھے اسی سے راضی و رضا مند کر دے }}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1162] دعا کے یہ الفاظ مسند احمد میں ہیں۔ «ھٰذَا الاَمْرَ» جہاں ہے وہاں اپنے کام کا نام لے مثلاً نکاح ہو تو «ھٰذَا النّکَاحَ» سفر میں ہو تو «ھٰذَا السَّـفَـرَ» بیوپار میں ہو تو «ھٰذَا التِّجَارَۃَ» وغیرہ۔ بعض روایتوں میں «خَيْرٌ لي في دِيني» سے «أَمْرِي» تک کے بجائے یہ الفاظ ہیں۔ دعا «خَیْرٌ لِّیْ فِیْ عَاجِلِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِہ» ۔ امام ترمذی اس حدیث کو حسن غریب بتلاتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے ’ آج کافر تمہارے دین سے مایوس ہوگئے ‘، یعنی ان کی یہ امیدیں خاک میں مل گئیں کہ وہ تمہارے دین میں کچھ خلط ملط کرسکیں یعنی اپنے دین کو تمہارے دین میں شامل کر لیں۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شیطان اس سے تو مایوس ہو چکا ہے کہ نمازی مسلمان جزیرہ عرب میں اس کی پرستش کریں، ہاں وہ اس کوشش میں رہے گا کہ مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف بھڑکاتا رہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2812] یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مشرکین مکہ اس سے مایوس ہو گئے کہ مسلمانوں سے مل جل کر رہیں، کیونکہ احکام اسلام نے ان دونوں جماعتوں میں بہت کچھ تفاوت ڈال دیا۔ اسی لیے حکم ربانی ہو رہا ہے کہ مومن صبر کریں، ثابت قدم رہیں اور سوائے اللہ کے کسی سے نہ ڈریں، کفار کی مخالفت کی کچھ پرواہ نہ کریں، اللہ ان کی مدد کرے گا اور انہیں اپنے مخالفین پر غلبہ دے گا اور ان کے ضرر سے ان کی محافظت کی کچھ پرواہ نہ کریں، اللہ ان کی مدد کرے گا اور انہیں اپنے مخالفین پر غلبہ دے گا اور ان کے ضرر سے ان کی محافظت کرے گا اور دنیا و آخرت میں انہیں بلند و بالا رکھے گا۔ پھر اپنی زبردست بہترین اعلیٰ اور افضل تر نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ ’ میں نے تمہارا دین ہر طرح اور ہر حیثیت سے کامل و مکمل کر دیا، تمہیں اس دین کے سوا کسی دین کی احتیاج نہیں ‘۔
’ نہ اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کسی نبی کی تمہیں حاجت ہے ‘، اللہ نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء کیا ہے، انہیں تمام جنوں اور انسانوں کی طرف بھیجا ہے، حلال وہی ہے جسے وہ حلال کہیں، حرام وہی ہے جسے وہ حرام کہیں، دین وہی ہے جسے یہ مقرر کریں، ان کی تمام باتیں حق و صداقت والی، جن میں کسی طرح کا جھوٹ اور تضاد نہی۔ جیسے فرمان باری ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا» ۱؎ [6-الأنعام:115] یعنی ’ تیرے رب کا کلمہ پورا ہوا، جو خبریں دینے میں سچا ہے اور حکم و منع میں عدل والا ہے ‘۔ دین کو کامل کرنا تم پر اپنی نعمت کو بھرپور کرنا ہے چونکہ میں خود تمہارے اس دین اسلام پر خوش ہوں، اس لیے تم بھی اسی پر راضی رہو، یہی دین اللہ کا پسندیدہ، اسی کو دے کر اس نے اپنی افضل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے اور اپنی اشرف کتاب نازل فرمائی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس دین اسلام کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کامل کر دیا ہے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کو اس کا کامل ہونا خود اپنے کلام میں فرما چکا ہے اب یہ رہتی دنیا تک کسی زیادتی کا محتاج نہیں، اسے اللہ نے پورا کیا ہے جو قیامت تک ناقص نہیں ہوگا۔ اس سے اللہ خوش ہے اور کبھی بھی ناخوش نہیں ہونے والا۔“ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت عرفہ کے دن نازل ہوئی، اس کے بعد حلال و حرام کا کوئی حکم نہیں اترا، اس حج سے لوٹ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا۔“ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس آخری حج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی تھی، ہم جا رہے تھے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام کی تجلی ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر جھک پڑے وحی اترنی شروع ہوئی، اونٹنی وحی کے بوجھ کی طاقت نہیں رکھتی تھی۔ میں نے اسی وقت اپنی چادر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اڑھادی۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11085:مرسل و ضعیف] ۔ ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”اس کے بعد اکیاسی دن تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیات رہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11086:مرسل و ضعیف] { حج اکبر والے دن جبکہ یہ آیت اتری تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب دریافت فرمایا تو جواب دیا کہ ہم دین کی تعمیل میں کچھ زیادہ ہی تھے، اب وہ کامل ہو گیا اور دستور یہ ہے کہ کمال کے بعد نقصان شروع ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سچ ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11087:ضعیف] اسی معنی کی شہادت اس ثابت شدہ حدیث سے ہوتی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ { اسلام غربت اور انجان پن سے شروع ہوا اور عنقریب پھر غریب انجان ہو جائے گا، پس غرباء کیلئے خوشخبری ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:145،146]
مسند احمد میں ہے کہ ایک یہودی نے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے کہا تم جو اس آیت «اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا» [5۔ المائدہ:3] الخ، کو پڑھتے ہو اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید منا لیتے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”واللہ مجھے علم ہے کہ آیت کس وقت اور کس دن نازل ہوئی، عرفے کے دن جمعہ کی شام کو نازل ہوئی ہے، ہم سب اس وقت میدان عرفہ میں تھے“ ۱؎ [صحیح بخاری:3017] تمام سیرت والے اس بات پر متفق ہیں کہ حجتہ الوادع والے سال عرفے کا دن جمعہ کو تھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ کعب نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا تھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ آیت ہمارے ہاں دوہری عید کے دن نازل ہوئی ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر بھی یہودیوں نے یہی کہا تھا کہ جس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہمارے ہاں تو یہ آیت دوہری عید کے دن اتری ہے، عید کا دن بھی تھا اور جمعہ کا دن بھی۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:3044،قال الشيخ الألباني:-صحیح] ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”یہ آیت عرفے کے دن شام کو اتری ہے۔“ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے منبر پر اس پوری آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ”جمعہ کے دن عرفے کو یہ اتری یہ ہے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:457/2:ضعیف] سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موقف میں کھڑے ہوئے تھے۔“ ۱؎ [طبرانی کبیر:6916:ضعیف] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیر والے دن پیدا ہوئے، پیر والے دن ہی مکہ سے نکلے اور پیر والے دن ہی مدینے میں تشریف لائے، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11113:ضعیف] مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیر والے دن پیدا ہوئے، پیر والے دن نبی بنائے گئے، پیر والے دن ہجرت کے ارادے سے نکلے، پیر کے روز ہی مدینے پہنچے اور پیر کے دن ہی فوت کئے گئے، حجر اسود بھی پیر کے دن واقع ہوا۔ ۱؎ [مسند احمد:277/1:ضعیف] اس میں سورۃ المائدہ کا پیر کے دن اترنا مذکور نہیں، میرا خیال یہ ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا ہوگا دو عیدوں کے دن یہ آیت اتری تو دو کیلئے بھی لفظ اثنین ہے، اور پیر کے دن کو بھی اثنین کہتے ہیں اس لیے راوی کو شبہ سا ہوگیا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دو قول اس میں اور بھی مروی ہیں ایک تو یہ کہ یہ دن لوگوں کو نامعلوم ہے دوسرا یہ کہ یہ آیت غدیر خم کے دن نازل ہوئی ہے جس دن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی کی نسبت فرمایا تھا کہ { جس کا مولیٰ میں ہوں، اس کا مولیٰ علی ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1750،] گویا ذی الحجہ کی اٹھارویں تاریخ ہوئی، ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:457/2:ضعیف] جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع سے واپس لوٹ رہے تھے لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں قول صحیح نہیں۔ بالکل صحیح اور بے شک و شبہ قول یہی ہے کہ یہ آیت عرفے کے دن جمعہ کو اتری ہے، امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب اور امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابوطالب اور امیر المؤمنین سیدنا امیر معاویہ بن سفیان اور ترجمان القرآن سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہم سے یہی مروی ہے اور اسی کو شعبی، قتادہ، شہیر وغیرہ ائمہ اور علماء رحمہ اللہ علیہم نے کہا ہے، یہی مختار قول ابن جریر اور طبری رحمہ اللہ علیہم کا ہے۔ پھر فرماتا ہے، ’ جو شخص ان حرام کردہ چیزوں میں سے کسی چیز کے استعمال کی طرف مجبور و بے بس ہو جائے تو وہ ایسے اضطرار کی حالت میں انہیں کام لا سکتا ہے۔ اللہ غفور و رحیم ہے ‘۔ وہ جانتا ہے کہ اس بندے نے اس کی حد نہیں توڑی لیکن بے بسی اور اضطرار کے موقعہ پر اس نے یہ کیا ہے تو اللہ سے معاف فرما دے گا۔ صحیح ابن حبان میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”اللہ تعالیٰ کو اپنی دی ہوئی رخصتوں پر بندوں کا عمل کرنا ایسا بھاتا ہے جیسے اپنی نافرمانی سے رک جانا۔“ ۱؎ [صحیح ابن حبان:2742:قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے { جو شخص اللہ کی دی ہوئی رخصت نہ قبول کرے، اس پر عرفات کے پہاڑ برابر گناہ ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1949:ضعیف] اسی لیے فقہاء کہتے ہیں کہ بعض صورتوں میں مردار کا کھانا واجب ہو جاتا ہے جیسے کہ ایک شخص کی بھوک کی حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اب مرا چاہتا ہے کہ کبھی جائز ہو جاتا ہے اور کبھی مباح، ہاں اس میں اختلاف ہے کہ بھوک کے وقت جبکہ حلال چیز میسر نہ ہو تو حرام صرف اتنا ہی کھا سکتا ہے کہ جان بچ جائے یا پیٹ بھر سکتا ہے بلکہ ساتھ بھی رکھ سکتا ہے، اس کے تفصیلی بیان کی جگہ احکام کی کتابیں ہیں۔ اس مسئلہ میں جب بھوکا شخص جس کے اوپر اضطرار کی حالت ہے، مردار اور دوسرے کا کھانا اور حالت احرام میں شکار تینوں چیزیں موجود پائے تو کیا وہ مردار کھا لے؟ یہ حالت احرام میں ہونے کے باوجود شکار کر لے اور اپنی آسانی کی حالت میں اس کی جزا یعنی فدیہ ادا کر دے یا دوسرے کی چیز بلا اجازت کھا لے اور اپنی آسانی کے وقت اسے وہ واپس کر دے، اس میں دو قول ہیں امام شافعی رحمہ اللہ سے دونوں مروی ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ مردار کھانے کی یہ شرط جو عوام میں مشہور ہے کہ جب تین دن کا فاقہ ہو جائے تو حلال ہوتا ہے یہ بالکل غلط ہے بلکہ جب اضطرار، بے قراری اور مجبوری حالت میں ہو، اس کیلئے مردار کھانا حلال ہو جاتا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم ایسی جگہ رہتے ہیں کہ آئے دن ہمیں فقر و فاقہ کی نوبت آ جاتی ہے، تو ہمارے لیے مردار کا کھا لینا کیا جائز ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جب صبح شام نہ ملے اور نہ کوئی سبزی ملے تو تمہیں اختیار ہے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:218/5:حسن بالشواهد] اس حدیث کی ایک سند میں ارسال بھی ہے، لیکن مسند والی مرفوع حدیث کی اسناد شرط شیخین پر صحیح ہے۔
ابن عون فرماتے ہیں حسن رحمہ اللہ کے پاس سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کی کتاب تھی، جسے میں ان کے سامنے پڑھتا تھا، اس میں یہ بھی تھا کہ صبح شام نہ ملنا اضطرار ہے، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11132:ضعیف] { ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ حرام کھانا کب حلال ہو جاتا ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جب تک کہ تو اپنے بچوں کو دودھ سے شکم سیر نہ کر سکے اور جب تک ان کا سامان نہ آ جائے } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11129:مرسل و ضعیف] { ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حلال حرام کا سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ { کل پاکیزہ چیزیں حلال اور کل خبیث چیزیں حرام ہاں جب کہ ان کی طرف محتاج ہو جائے تو انہیں کھا سکتا ہے جب تک کہ ان سے غنی نہ ہو جائے } اس نے پھر دریافت کیا کہ ”وہ محتاجی کون سی جس میں میرے لیے وہ حرام چیز حلال ہوئے اور وہ غنی ہونا کون سا جس می
3۔ 1 یہاں سے ان محرمات کا ذکر شروع ہو رہا ہے جن کا حوالہ سورت کے آغاز میں دیا گیا ہے۔ آیت کا اتنا حصہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ دیکھیے آیت نمبر 173۔ 3۔ 2 گلا کوئی شخص گھونٹ دے یا کسی چیز میں پھنس کر خود گلا گھٹ جائے۔ دونوں صورتوں میں مردہ جانور حرام ہے۔ 3۔ 3 کسی نے پتھر، لاٹھی یا کوئی اور چیز ماری جس سے وہ بغیر ذبح کیے مرگیا۔ زمانہ جاہلیت میں ایسے جانوروں کو کھالیا جاتا تھا۔ شریعت نے منع کردیا۔ بندوق کا شکار کیے ہوئے جانور کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ امام شوکانی نے ایک حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بندوق کے شکار کو حلال قرار دیا ہے۔ (فتح القدیر) یعنی اگر کوئی بسم اللہ پڑھ کر گولی چلائے اور شکار ذبح سے پہلے ہی مرگیا تو اس کا کھانا اس قول کے مطابق حلال ہے۔ 3۔ 4 چاہے خود گرا ہو یا کسی نے پہاڑ وغیرہ سے دھکا دے کر گرایا ہو۔ 3۔ 5 نظیحۃ منطوحۃ کے معنی میں ہے۔ یعنی کسی نے اسے ٹکر مار دی اور بغیر ذبح کیے وہ مرگیا۔ 3۔ 6 یعنی شیر چیتا اور بھیڑیا وغیرہ جیسے ذوناب کچلیوں سے شکار کرنے والے درندوں میں سے کسی نے اسے کھایا ہو اور وہ مرگیا ہو۔ زمانہ جاہلیت میں مرجانے کے باوجود ایسے جانور کو کھالیا جاتا تھا۔ 3۔ 7 جمہور مفسرین کے نزدیک یہ استثنا تمام مذکورہ جانوروں کے لیے ہے یعنی منخنقۃ، موقوذۃ، متردیۃ، نطیحۃ اور درندوں کا کھایا ہوا، اگر تم انہیں اس حال میں پالو کہ ان میں زندگی کے آثار موجود ہوں اور پھر تم انہییں شرعی طریقے سے ذبح کرلو تو تمہارے لیے ان کا کھانا حلال ہوگا۔ زندگی کی علامت یہ ہے کہ ذبح کرتے وقت جانور پھڑکے اور ٹانگیں مارے۔ اگر چھری پھیرتے وقت یہ اضطراب وحرکت نہ ہو تو سمجھ لو یہ مردہ ہے۔ ذبح کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ بسم اللہ پڑھ کر تیز دھار آلے سے اس کا گلا اس طرح کاٹا جائے کہ رگیں کٹ جائیں۔ ذبح کے علاوہ نحر بھی مشروع ہے۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ کھڑے جانور کے لبے پر چھری ماری جائے (اونٹ کو نحر کیا جاتا ہے) جس سے نرخرہ اور خون کی خاص رگیں کٹ جاتی ہے اور سارا خون بہہ جاتا ہے۔ 3۔ 8 مشرکین اپنے بتوں کے قریب پتھر یا کوئی چیز نصب کر کے ایک خاص جگہ بناتے تھے۔ جسے نصب تھان یا آستانہ کہتے تھے۔ اسی پر وہ بتوں کے نام نذر کیے گئے جانوروں کو ذبح کرتے تھے یعنی یہ وما اھل بہ لغیر اللہ ہی کی ایک شکل تھی اس سے معلوم ہوا کہ آستانوں، مقبروں اور درگاہوں پر جہاں لوگ طلب حاجات کے لیے جاتے ہیں اور وہاں مدفون افراد کی خوشنودی کے لیے جانور ذبح کرتے ہیں یا پکی ہوئی دیگیں تقسیم کرتے ہیں، ان کا کھانا حرام ہے یہ وماذبح علی النصب میں داخل ہیں۔ 3۔ 9 وان تستقسموا بالازلام کے دو معنی کیے گئے ہیں ایک تیروں کے ذریعے تقسیم کرنا دوسرے تیروں کے ذریعہ قسمت معلوم کرنا پہلے معنی کی بنا پر کہا جاتا ہے کہ جوئے وغیرہ میں ذبح شدہ جانور کی تقسیم کے لیے یہ تیر ہوتے تھے جس میں کسی کو کچھ مل جاتا، کوئی محروم رہ جاتا۔ دوسرے معنی کی رو سے کہا گیا ہے کہ ازلام سے تیر مراد ہیں جن سے وہ کسی کام کا آغاز کرتے وقت فال لیا کرتے تھے۔ انہوں نے تین قسم کے تیر بنا رکھتے تھے۔ ایک افعل (کر) دوسرے میں لاتفعل (نہ کر) اور تیسرے میں کچھ نہیں ہوتا تھا۔ افعل والا تیر نکل آتا تو وہ کام کرلیا جاتا، لاتفعل والا نکلتا تو نہ کرتے اور تیسرا تیر نکل آتا تو پھر دوبارہ فال نکالتے۔ یہ بھی گویا کہانت اور استمداد بغیر اللہ کی شکل ہے، اس لیے اسے بھی حرام کردیا گیا استقسام کے معنی طلب قسم تہیں یعنی تیروں سے قسمت طلب کرتے تھے۔ 3۔ 10 یہ بھوک کی اضطراری کیفیت میں مذکورہ محرمات کے کھانے کی اجازت ہے بشرطیکہ مقصد اللہ کی نافرمانی اور حد تجاوز کرنا نہ ہو، صرف جان بچانا مطلوب ہو۔
(آیت 3) ➊ {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ:} شروع کی آیت میں جن جانوروں کے حرام ہونے کے بیان کا وعدہ ” سوائے ان کے جو تم پر پڑھے جائیں گے “ کے ساتھ کیا گیا تھا اس آیت میں ان کا ذکر ہے۔ ➋ {الْمَيْتَةُ:} مردار میں سے مچھلی اور ٹڈی حلال ہیں، کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کر دیے گئے ہیں، مردار تو مچھلی اور ٹڈی ہیں (کیونکہ ان میں دم مسفوح نہیں ہوتا) اور خون جگر اور تلی ہیں۔“ [أحمد:97/2 ح: ۵۷۲۵۔ ابن ماجہ: ۳۳۱۴، و صححہ الألبانی فی الصحیحۃ: ۱۱۱۸ ] حرام خون اور لحم خنزیر کی تفصیل سورۂ انعام (۱۴۵) میں ہے۔ ➌ {وَ الْمُنْخَنِقَةُ:} گلا گھٹنے والا جانور، خواہ خود بخود رسی وغیرہ سے گھٹ کر مر جائے یا کوئی گلا گھونٹ کر مار دے۔ ➍ {وَ الْمَوْقُوْذَةُ:} جسے کسی لاٹھی یا پتھر وغیرہ کی چوٹ سے مارا جائے۔ ➎ {اِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ:} اس کا تعلق اس سے پہلے مذکور پانچ چیزوں کے ساتھ ہے کہ ان پانچوں چیزوں میں سے کسی کے اندر اگر جان باقی ہو اور مرنے سے پہلے اسے ذبح کر لو تو وہ حلال ہے۔ شرعی ذبح یہ ہے کہ حلال جانور کو {” بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَر“} کہہ کر کسی تیز دھار آلے سے اس کا گلا اس طرح کاٹا جائے کہ رگیں کٹ جائیں۔ ذبح کے علاوہ نحر بھی شرعی طریقہ ہے کہ کھڑے اونٹ کے حلق کے گڑھے میں چھری وغیرہ ماری جائے۔ ذبح اور نحر حلق یا لبہ (حلق کے گڑھے) ہی میں ہوتا ہے، البتہ اگر مجبوری ہو، مثلاً جانور قابو نہیں آ رہا، یا ایسی جگہ ہے جہاں پکڑ کر ذبح کرنا مشکل ہے تو {” بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ “} پڑھ کر جہاں سے بھی ہو سکے چھری یا نیزے سے خون بہا کر ذبح کیا جا سکتا ہے۔ اگر ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر نہیں بلکہ اتفاقاً گردن الگ ہو جائے تو وہ بھی حلال ہے۔ ➏ {وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ:} مشرکین اپنے جھوٹے معبودوں کے لیے جو جگہیں مقرر کرتے انھیں نصب کہا جاتا تھا، کیونکہ عموماً وہاں کوئی نشان نصب ہوتا، مثلاً بت، درخت، قبر یا دریا وغیرہ۔ پھر اس کے پاس ان کا قرب حاصل کرنے کے لیے جانور ذبح کرتے تھے۔ ایسی جگہوں کو استھان، تھان اور آستانہ وغیرہ کہا جاتا ہے۔ ایسے جانور بھی حرام ہیں خواہ ان پر {”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَر“} بھی پڑھا جائے، اگرچہ ان کا ذکر «وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» کے ضمن میں آ چکا تھا مگر مزید تاکید کے لیے ان کو الگ بھی ذکر فرمایا۔ ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ ”بوانہ“ مقام پر اونٹ نحر کرے گا، وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے ”بوانہ “ مقام پر ایک اونٹ نحر کرنے کی نذر مانی تھی۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہاں ایام جاہلیت کے (انصاب) استھانوں میں سے کوئی استھان تھا؟“ لوگوں نے کہا: ”نہیں! “ آپ نے مزید پوچھا: ”کیا وہاں مشرکین کی عیدوں (میلوں) میں سے کوئی عید تھی؟“ لوگوں نے کہا:” نہیں!“ آپ نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کرو۔“ [ أبو داوٗد، الأیمان والنذور، باب ما یؤمر بہ من وفاء النذر: ۳۳۱۳ ] ➐ {وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ:} {”اَزْلاَمٌ“} یہ {”زَلَمٌ “} کی جمع ہے، یہ وہ تیر تھے جو قسمت معلوم کرنے کے لیے ہبل بت کے پاس رکھے ہوئے تھے۔ خانہ کعبہ میں ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی تصویروں کے ہاتھوں میں بھی تھمائے ہوئے تھے، بلکہ لوگ اپنے ساتھ بھی قسمت آزمائی کے یہ تھیلے رکھ لیتے تھے، جیسا کہ سراقہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تعاقب کرتے ہوئے ان تیروں سے فال نکالی تھی۔ ان میں سے کسی پر {”اِفْعَلْ“} (کر لو) لکھا ہوتا، کسی پر {” لَا تَفْعَلْ “} (مت کرو) لکھا ہوتا اور کوئی خالی ہوتا۔ قسمت معلوم کرنے والا تیر نکالتا، جو حکم نکلتا اس پر عمل کرتا، اگر خالی تیر نکلتا تو دوبارہ تیر نکالتا۔ اس قسم کے تمام کام، خواہ انھیں فال نامہ کہا جائے یا استخارہ یا کسی نجومی سے پوچھا جائے حرام ہیں، شرک ہیں کیونکہ غیب تو اﷲ کے سوا کوئی جانتا ہی نہیں، مسنون استخارے میں اس چیز کا وجود ہی نہیں ہے۔ «وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ» کا ایک اور مطلب بھی ہے، یعنی جوئے کے تیروں کے ذریعے سے ذبح شدہ گوشت کے حصے تقسیم کرنا، اس میں کسی کا حصہ نکل آتا، کوئی محروم رہ جاتا، یہ وہی چیز ہے جسے آج کل لاٹری کہا جاتا ہے، یہ بھی حرام ہے۔ (قرطبی) ➑ {اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ……:} یعنی اب تمھاری طاقت اس قدر مستحکم ہو گئی ہے کہ تمھارے دشمنوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور وہ اس چیز سے قطعی مایوس ہو گئے ہیں کہ تمھارے دین کو نیچا دکھا سکیں۔ ➒ {اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ ……:} طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ اپنی کتاب میں ایک ایسی آیت پڑھتے ہیں کہ اگر ہم یہودیوں کی کتاب میں یہ آیت نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس کے نزول کے دن کو عید بنا لیتے۔“ آپ نے فرمایا: ”کون سی آیت؟“ اس نے یہ آیت پڑھی: «اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَ رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا» [ المائدۃ: ۳ ] یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم اس دن اور جگہ کو جانتے ہیں جب یہ (آیت) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی، آپ (۹ذوالحجہ کو) عرفہ میں تھے (پچھلے پہر کا وقت تھا) اور جمعۃ المبارک کا دن۔“ [ بخاری، الإیمان، باب زیادۃ الإیمان و نقصانہ: ۴۵ ] دین کو مکمل کر دینے سے مراد یہ ہے کہ اس کے تمام ارکان، فرائض، سنن، حدود اور احکام بیان کر دیے گئے ہیں اور کفر و شرک کا خاتمہ کر کے اس نعمت کو مکمل کر دیا گیا ہے۔ اب دین میں جو حرام ہونا تھا یا حلال ہونا تھا وہ ہو چکا، اب اگر کوئی اس میں تبدیلی یا اضافہ کرے گا، یا نئی چیز نکالے گا وہ دین نہیں ہو سکتی بلکہ دین میں بدعت ہے، جو سراسر گمراہی ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ أَحْدَثَ فِيْ أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ ] ”جو ہمارے اس امر(دین) میں کوئی نئی چیز شروع کرے گا جو اس میں نہیں تو وہ مردود ہے۔“ [ بخاری، الصلح، باب إذا اصطلحوا……: ۲۶۹۷ ] ➓ {فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ ……:} یعنی بھوک کی وجہ سے مجبور اور لاچار آدمی اگر حرام چیزوں میں سے کچھ کھالے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ حرام کھانے کا شوق نہ ہو اور اسے جائز نہ سمجھنے لگے اور دوسرا بقدر ضرورت کھائے، حد سے نہ گزرے۔ معلوم ہوا حرام کھانے کا تعلق بھوک اور حقیقی مجبوری سے ہے۔ زندگی کا معیار بلند کرنے کے لیے اضطرار کا بہانہ بنا کر سود کھانا شروع کر دے، یہ مراد نہیں۔
لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے، کہو تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھایا ہو جن کو خدا کے دیے ہوئے علم کی بنا پر تم شکار کی تعلیم دیا کرتے ہو وہ جس جانور کو تمہارے لیے پکڑ رکھیں اس کو بھی تم کھاسکتے ہو، البتہ اس پر اللہ کا نام لے لو اور اللہ کا قانون توڑنے سے ڈرو، اللہ کو حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ ان کے لئے کیا کچھ حلال ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ تمام پاک چیزیں تمہارے لئے حلال کی گئی ہیں، اور جن شکار کھیلنے والے جانوروں کو تم نے سدھا رکھا ہے یعنی جنہیں تم تھوڑا بہت وه سکھاتے ہو جس کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے تمہیں دے رکھی ہے پس جس شکار کو وه تمہارے لئے پکڑ کر روک رکھیں تو تم اس سے کھا لو اور اس پر اللہ تعالیٰ کے نام کا ذکر کر لیا کرو۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے محبوب! تم سے پوچھتے ہیں کہ اُن کے لئے کیا حلال ہوا تم فرمادو کہ حلال کی گئیں تمہارے لئے پاک چیزیں اور جو شکاری جانور تم نے سدھالیے انہیں شکار پر دوڑاتے جو علم تمہیں خدا نے دیا اس سے انہیں سکھاتے تو کھاؤ اس میں سے جو وہ مار کر تمہارے لیے رہنے دیں اور اس پر اللہ کا نام لو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کو حساب کرتے دیر نہیں لگتی،
علامہ محمد حسین نجفی
لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کون سی چیزیں حلال کی گئی ہیں؟ کہہ دیجیئے کہ تمہارے لئے سب پاک و پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھایا ہو جن کو خدا کے سکھائے ہوئے طریقہ کے مطابق (شکار پکڑنے کا) طریقہ سکھایا ہو تو جسے وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں۔ اس میں سے بھی کھا سکتے ہو۔ اور اس پر (شکار پر چھوڑتے وقت) خدا کا نام لے لو۔ اور اللہ سے (اس کی معصیت کاری سے) ڈرو۔ بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تجھ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے؟ کہہ دے تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں اور شکاری جانوروں میں سے جو تم نے سدھائے ہیں، (جنھیں تم) شکاری بنانے والے ہو، انھیں اس میں سے سکھاتے ہو جو اللہ نے تمھیں سکھایا ہے تو اس میں سے کھائو جو وہ تمھاری خاطر روک رکھیں اور اس پر اللہ کا نام ذکر کرو اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شکاری کتے اور شکار ٭٭
چونکہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے نقصان پہنچانے والی خبیث چیزوں کی حرمت کا بیان فرمایا خواہ نقصان جسمانی ہو یا دینی یا دونوں، پھر ضرورت کی حالت کے احکامات مخصوص کرائے گئے جیسے فرمان ہے آیت «وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَيْهِ» ۱؎ [6-الأنعام:119] یعنی ’ تمام حرام جانوروں کا بیان تفصیل سے تمہارے سامنے آ چکا ہے یہ اور بات ہے کہ تم حالات کی بناء پر بے بس اور بے قرار ہو جاؤ ‘۔ تو اس کے بعد ارشاد ہو رہا ہے کہ ’ حلال چیزوں کے دریافت کرنیوالوں سے کہہ دیجئیے کہ تمام پاک چیزیں تم پر حلال ہیں ‘۔ سورۃ الأعراف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ صفت بیان فرمائی گئی ہے کہ «وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ» ۱؎ [7-الأعراف:157] ’ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) طیب چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور خبیث چیزوں کو حرام کرتے ہیں ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ”قبیلہ طائی کے دو شخصوں عدی بن حاتم اور زید بن مہلہل رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ مردہ جانور تو حرام ہو چکا اب حلال کیا ہے؟ اس پر یہ آیت اتری۔ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی ذبح کئے ہوئے جانور حلال طیب ہیں۔“ ۱؎ [ضعیف: اس کی سند میں عبد الله بن لهيعة ضعیف ہے ]
مقاتل رحمة الله فرماتے ہیں ہر حلال رزق طیبات میں داخل ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ دوا کے طور پر پیشاب کا پینا کیسا ہے؟ جواب دیا کہ ”وہ طیبات میں داخل نہیں۔“ امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ اس مٹی کا بیچنا کیسا ہے جسے لوگ کھاتے ہیں؟ فرمایا ”وہ طیبات میں داخل نہیں۔“ ’ اور تمہارے لیے شکاری جانوروں کے ذریعہ کھیلا ہوا شکار بھی حلال کیا جاتا ہے ‘ مثلاً سدھائے ہوئے کتے اور شِکرے وغیرہ کے ذریعے۔ یہی مذہب ہے جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین ائمہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”شکاری سدھائے ہوئے کتے، باز، چیتے، شکرے وغیرہ ہر وہ پرندہ جو شکار کرنے کی تعلیم دیا جا سکتا ہو“ اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہی مروی ہے ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:548/9] کہ ”پھاڑنے والے جانوروں اور ایسے ہی پرندوں میں سے جو بھی تعلیم حاصل کر لے، ان کے ذریعہ شکار کھیلنا حلال ہے۔“ لیکن مجاہد رحمة الله سے مروی ہے کہ انہوں نے تمام شکاری پرندوں کا کیا ہوا شکار مکروہ کہا ہے اور دلیل میں آیت «وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ ۡ فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ» ۱؎ [5-المائدہ:4] پڑھا ہے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ ضحاک اور سدی رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ابن جریر میں مروی ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”باز وغیرہ پرند جو شکار پکڑیں اگر وہ تمہیں زندہ مل جائے تو تم ذبح کر کے کھا لو ورنہ نہ کھاؤ“، لیکن جمہور علماء اسلام کا فتویٰ یہ ہے کہ شکاری پرندوں کے ذریعہ جو شکار ہو، اس کا اور شکاری کتوں کے کئے ہوئے شکار کا ایک ہی حکم ہے، ان میں تفریق کرنے کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ چاروں اماموں رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا مذہب بھی یہی ہے۔
امام ابن جریر بھی اسی کو پسند کرتے ہیں اور اس کی دلیل میں اس حدیث کو لاتے ہیں کہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے باز کے کئے ہوئے شکار کا مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جس جانور کو وہ تیرے لیے روک رکھے تو اسے کھا لے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1467،قال الشيخ الألباني:منکر] امام احمد نے سیاہ کتے کا کیا ہوا شکار بھی مستثنیٰ کر لیا ہے، اس لیے کہ ان کے نزدیک اس کا قتل کرنا واجب ہے اور پالنا حرام ہے، کیونکہ صحیح مسلم میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نماز کو تین چیزیں توڑ دیتی ہیں، گدھا، عورت اور سیاہ کتا۔ اس پر ابی نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیاہ کتے کی خصوصیت کی کیا وجہ ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شیطان ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:510]
دوسری حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا پھر فرمایا: { انہیں کتوں سے کیا واسطہ؟ ان کتوں میں سے سخت سیاہ کتوں کو مار ڈالا کرو } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1573] شکاری حیوانات کو جوارح اس لیے کہا گیا کہ جرح کہتے ہیں کسب اور کمائی کو، جیسے عرب کہتے ہیں «فُلاَنٌ جَرَحَ اَهْلَهُ خَیْراً» یعنی فلاں شحص نے اپنی اہل کیلئے بھلائی حاصل کر لی اور عرب کہتے ہیں «فُلاَنٌ لَاَّ جَارِحَ لَهُ» شخص کا کوئی کماؤ نہیں، قرآن میں بھی لفظ جرح کسب اور کمائی اور حاصل کرنے کے معنی میں آیا ہے فرمان ہے آیت «وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ» ۱؎ [6-الأنعام:60] یعنی ’ دن کو جو بھلائی برائی تم حاصل کرتے ہو اور اسے بھی اللہ جانتا ہے ‘۔ اس آیت کریمہ کے اترنے کی وجہ ابن ابی حاتم میں یہ ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے قتل کرنے کا حکم دیا اور وہ قتل کئے جانے لگے تو لوگوں نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس امت کے قتل کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ان سے ہمارے لیے کیا فائدہ حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اس پر یہ آیت اتری۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جب کوئی شخص اپنے کتے کو شکار کے پیچھے چھوڑے اور «بِسْمِ اللَّـهِ» بھی کہے پھر وہ شکار پکڑ لے اور روک رکھے تو جب تک وہ نہ کھائے یہ کھا لے } }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:311/2:ضعیف]
ابن جریر میں ہے { جبرائیل علیہ السلام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی لیکن وہ پھر بھی اندر نہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے قاصد رب ہم تو تمہیں اجازت دے چکے پھر کیوں نہیں آتے؟ } اس پر فرشتے نے کہا! ”ہم اس گھر میں نہیں جاتے، جس میں کتا ہو۔“ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ { مدینے کے کل کتے مار ڈالے جائیں }، ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”میں گیا اور سب کتوں کو قتل کرنے لگا، ایک بڑھیا کے پاس کتا تھا، جو اس کے دامن میں لپٹنے لگا اور بطور فریاد اس کے سامنے بھونکنے لگا، مجھے رحم آگیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا اور آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ { اسے بھی باقی نہ چھوڑو }، ”میں پھر واپس گیا اور اسے بھی قتل کر دیا۔“ اب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جس امت کے قتل کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے، ان سے کوئی فائدہ ہمارے لیے حلال بھی ہے یا نہیں؟ اس پر آیت «يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ» الخ، نازل ہوئی }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:311/2:ضعیف]
ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ مدینے کے کتوں کو قتل کر کے پھر سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ آس پاس کی بستیوں میں پہنچے اور مسئلہ دریافت کرنیوالوں کے نام بھی اس میں ہیں یعنی عاصم بن عذی سعید بن خیثمہ عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہم۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11138:مرسل] محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آیت کا شان نزول کتوں کا قتل ہے «مُکَلِّبِیْنَ» کا لفظ ممکن ہے کہ «عَلَّمْـتُمْ» کی ضمیر یعنی فاعل کا حال ہو اور ممکن ہے کہ «جَوَارِح» یعنی مقتول کا حال ہو۔ یعنی جن شکار حاصل کرنے والے جانوروں کو تم نے سدھایا ہو اور حالانکہ وہ شکار کو اپنے پنجوں اور ناخنوں سے شکار کرتے ہوں، اس سے بھی یہ استدلال ہو سکتا ہے کہ شکاری جانور جب شکار کو اپنے صدمے سے ہی دبوچ کر مار ڈالے تو وہ حلال نہ ہو گا۔ جیسے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے دونوں قولوں میں سے ایک قول ہے اور علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے۔ اسی لیے فرمایا ’ تم نے انہیں اس سے کچھ سکھا دیا ہو جو اللہ نے تمہیں سکھا رکھا ہے ‘ یعنی جب تم چھوڑو، جائے، جب تم روک لو رک جائے اور شکار پکڑ کر تمہارے لیے روک رکھے۔ تاکہ تم جا کر اسے لے لو، اس نے خود اپنے لیے اسے شکار نہ کیا ہو۔ اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ جب شکاری جانور سدھایا ہوا ہو اور اس نے اپنے چھوڑنے والے کیلئے شکار کیا ہو اور اس نے بھی اس کے چھوڑنے کے وقت اللہ کا نام لیا ہو تو وہ شکار مسلمانوں کیلئے حلال ہے گو وہ شکار مر بھی گیا ہو، اس پر اجماع ہے۔
اس آیت کے مسئلہ کے مطابق ہی بخاری و مسلم کی یہ حدیث ہے کہ { سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اللہ کا نام لے کر اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جس جانور کو وہ پکڑ رکھے تو اسے کھا لے اگرچہ کتے نے اسے مار بھی ڈالا ہو، ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کے ساتھ شکار کرنے میں دوسرا کتا نہ ملا ہو اس لیے کہ تو نے اپنے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہے دوسرے کو «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھ کر نہیں چھوڑا }۔ میں نے کہا کہ میں نوکدار لکڑی سے شکار کھیلتا ہوں۔ فرمایا: { اگر وہ اپنی تیزی کی طرف سے زخمی کرے تو کھا لے اور اگر اپنی چوڑائی کی طرف سے لگا ہو تو نہ کھا کیونکہ وہ لٹھ مارا ہوا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5476] دوسری روایت میں یہ لفظ ہیں کہ { جب تو اپنے کتے کو چھوڑے تو اللہ کا نام پڑھ لیا کر پھر وہ شکار کو تیرے لیے پکڑ رکھے اور تیرے پہنچ جانے پر شکار زندہ مل جائے تو تو اسے ذبح کر ڈال اور اگر کتے نے ہی اسے مار ڈالا ہو اور اس میں سے کھایا نہ ہو تو تو اسے بھی کھا سکتا ہے اس لیے کہ کتے کا اسے شکار کر لینا ہی اس کا ذبیحہ ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5484] اور روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ { اگر اس نے کھا لیا ہو تو پھر اسے نہ کھا، مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں اس نے اپنے کھانے کیلئے شکار نہ پکڑا ہو؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:5487] یہی دلیل جمہور کی ہے اور حقیقتاً امام شافعی رحمہ اللہ کا صحیح مذہب بھی یہی ہے کہ جب کتا شکار کو کھا لے تو وہ مطلق حرام ہو جاتا ہے اس میں کوئی گنجاش نہیں جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ہاں سلف کی ایک جماعت کا یہ قول بھی ہے کہ مطلقاً حلال ہے۔
ان کے دلائل یہ ہیں۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تو کھا سکتا ہے اگرچہ کتے نے تہائی حصہ کھا لیا ہو۔“ سیدنا سعید بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”گو ایک ٹکڑا ہی باقی رہ گیا ہو پھر بھی کھا سکتے ہیں۔“ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”گو دو تہائیاں کتا کھا گیا ہو پھر بھی تو کھا سکتا ہے“، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی یہی فرمان ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب «بِسْمِ اللَّـهِ» کہہ کر تو نے اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑا ہو تو جس جانور کو اس نے تیرے لیے پکڑ رکھا ہے تو اسے کھا لے کتے نے اس میں سے کھایا ہو یا نہ کھایا ہو“، یہی مروی ہے سیدنا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے۔ عطاء اور حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے اس میں مختلف اقوال مروی ہیں، زہری ربیعہ اور مالک سے بھی یہی روایت کی گئی ہے۔ اسی کی طرف امام شافعی رحمة الله اپنے پہلے قول میں گئے ہیں اور نئے قول میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جب کوئی شخص اپنے کتے کو شکار پر چھوڑے پھر شکار کو اس حالت میں پائے کہ کتے نے اسے کھا لیا ہو تو جو باقی ہو اسے وہ کھا سکتا ہے } }۔ اس حدیث کی سند میں بقول ابن جریر نظر ہے اور سعید راوی کا سلمان سے سننامعلوم نہیں ہوا اور دوسرے ثقہ راوی اسے مرفوع نہیں کرتے بلکہ سلمان کا قول نقل کرتے ہیں یہ قول ہے تو صحیح لیکن اسی معنی کی اور مرفوع حدیثیں بھی مروی ہیں۔
ابو داؤد میں ہے { عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس شکاری کتے سدھائے ہوئے ہیں ان کے شکار کی نسبت کیا فتویٰ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو جانور وہ تیرے لیے پکڑیں وہ تجھ پر حلال ہے }، اس نے کہا ذبح کر سکوں جب بھی اور ذبح نہ کر سکوں تو بھی؟ اور اگرچہ کتے نے کھا لیا ہو تو بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں گو کھا بھی لیا ہو }۔ انہوں نے دوسرا سوال کیا کہ میں اپنے تیر کمان سے جو شکار کروں اس کا کیا فتویٰ ہے؟ فرمایا: { اسے بھی تو کھا سکتا ہے }، پوچھا اگر وہ زندہ ملے اور میں اسے ذبح کر سکوں تو بھی اور تیر لگتے ہی مر جائے تو بھی؟ فرمایا { بلکہ گو وہ تجھے نظر نہ پڑے اور ڈھونڈنے سے مل جائے تو بھی۔ بشرطیکہ اس میں کسی دوسرے شخص کے تیر کا نشان نہ ہو }، انہوں نے تیسرا سوال کیا کہ بوقت ضرورت مجوسیوں کے برتنوں کا استعمال کرنا ہمارے لیے کیسا ہے؟ فرمایا { تم انہیں دھو ڈالو پھر ان میں کھا پی سکتے ہو } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2857،قال الشيخ الألباني:حسن لكن قوله وإن أكل منه منكر] یہ حدیث نسائی میں بھی ہے
ابو داؤد کی دوسری حدیث میں ہے { جب تو نے اپنے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو تو تو اس کے شکار کو کھا سکتا ہے گو اس نے اس میں سے کھا بھی لیا ہو اور تیرا ہاتھ جس شکار کو تیرے لیے لایا ہو اسے بھی تو کھا سکتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2852،قال الشيخ الألباني:منکر] ان دونوں احادیث کی سندیں بہت ہی اعلیٰ اور عمدہ ہیں اور حدیث میں ہے کہ { تیرا سدھایا ہوا کتا جو شکار تیرے لیے کھیلے تو اسے کھا لے، سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے پوچھا اگرچہ اس نے اس میں سے کھا لیا ہو فرمایا: { ہاں پھر بھی } }۔ ان آثار اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ شکاری کتے نے شکار کو گو کھا لیا ہو تاہم بقیہ شکار شکاری کھا سکتا ہے۔ کتے وغیرہ کے کھائے ہوئے شکار کو حرام نہ کہنے والوں کے یہ دلائل ہیں۔ ایک اور جماعت ان دونوں جماعتوں کے درمیان ہے وہ کہتی ہے کہ اگر شکار پکڑتے ہی کھانے بیٹھ گیا تو بقیہ حرام اور اگر شکار پکڑ کر اپنے مالک کا انتظار کیا اور باوجود خاصی دیر گزر جانے کے اپنے مالک کو نہ پایا اور بھوک کی وجہ سے اسے کھا لیا تو بقیہ حلال۔ پہلی بات پر محمول ہے عدی والی حدیث اور دوسری پر محمول ہے ابو ثعلبہ والی حدیث میں۔ یہ فرق بھی بہت اچھا ہے اور اس سے دو صحیح حدیثیں بھی جمع ہو جاتی ہیں۔ استاذ ابو المعالی جوینی نے اپنی کتاب نہایہ میں یہ تمنا ظاہر کی تھی کہ کاش کوئی اس بارہ میں یہ وضاحت کرے تو «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» یہ وضاحت لوگوں نے کرلی۔
اس مسئلہ میں ایک چوتھا قول بھی ہے وہ یہ کہ کتے کا کھایا ہوا شکار تو حرام ہے جیسا کہ عدی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، اور شکرے وغیرہ کا کھایا ہوا شکار حرام نہیں اس لیے کہ وہ تو کھانے سے ہی تعلیم قبول کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اگر پرندہ اپنے مالک کے پاس لوٹ آیا اور مار سے نہیں پھر وہ پر نوچے اور گوشت کھائے تو کھا لے۔“ ابراہیم نخعی، شعبی، حماد بن سلیمان رحمہ اللہ علیہم یہی کہتے ہیں ان کی دلیل ابن ابی حاتم کی یہ روایت ہے کہ { عدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم لوگ کتوں اور باز سے شکار کھیلا کرتے ہیں تو ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو شکاری جانور یا شکار حاصل کرنے والے خود شکار کرنے والے اور سدھائے ہوئے تمہارے لیے شکار روک رکھیں اور تم نے ان پر اللہ کا نام لے لیا ہو اسے تم کھا لو }۔ پھر فرمایا: { جسے کتے کو تو نے اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو وہ جس جانور کو روک رکھے تو اسے کھا لے میں نے کہا گو اسے مار ڈالا ہو فرمایا گو مار ڈالا ہو لیکن یہ شرط ہے کہ کھایا نہ ہو } میں نے کہا اگر اس کتے کے ساتھ دوسرے کتے بھی مل گئے ہوں؟ تو؟ فرمایا: { پھر نہ کھا جب تک کہ تجھے اس بات کا پورا اطمینان نہ ہو کہ تیرے ہی کتے نے شکار کیا ہے }۔ میں نے کہا ہم لوگ تیر سے بھی شکار کیا کرتے ہیں اس میں سے کون سا حلال ہے؟ فرمایا { جو تیر زخمی کرے اور تو نے اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو اسے کھا لے } }۔ ۱؎ [ضعیف] وجہ دلالت یہ ہے کہ کتے میں نہ کھانے کی شرط آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی اور باز میں نہیں بتائی، پس ان دونوں میں فرق ثابت ہو گیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ ’ تم کھا لو جن حلال جانوروں کو تمہارے یہ شکاری جانور پکڑ لیں اور تم نے ان کے چھوڑنے کے وقت اللہ کا نام لے لیا ہو ‘۔ جیسے کہ عدی اور ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہم کی حدیث میں ہے ۱؎ [صحیح بخاری:5478] اسی لیے امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ اماموں نے یہ شرط ضروری بتلائی ہے کہ شکار کیلئے جانور کو چھوڑتے وقت اور تیر چلاتے وقت «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھنا شرط ہے۔ جمہور کا مشہور مذہب بھی یہی ہے کہ اس آیت اور اس حدیث سے مراد جانور کے چھوڑنے کا وقت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اپنے شکاری جانور کو بھیجتے وقت «بِسْمِ اللَّـهِ» کہہ لے ہاں اگر بھول جائے تو کوئی حرج نہیں۔“ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مراد کھانے کے وقت «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھنا ہے۔ جیسے کہ بخاری و مسلم میں عمر بن ابوسلمہ کے ربیبہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا مروی ہے کہ { اللہ کا نام لے اور اپنے داہنے ہاتھ سے اپنے سامنے سے کھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5376] صحیح بخاری شریف میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا لوگ ہمارے پاس جو لوگ گوشت لاتے ہیں وہ نو مسلم ہیں ہمیں اس کا علم نہیں ہوتا کہ انہوں نے اللہ کا نام لیا بھی ہے یا نہیں؟ تو کیا ہم اسے کھالیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم خود اللہ کا نام لے لو اور کھا لو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5507] مسند میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے کہ ایک اعرابی نے آ کر دو لقمے اس میں سے اٹھائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر یہ بسم اللہ کہہ لیتا تو یہ کھانا تم سب کو کافی ہو جاتا تم میں سے جب کوئی کھانے بیٹھے تو «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ لیا کرے اگر اول میں بھول گیا تو جب یاد آ جائے کہدے «بِسْمِ اللّٰہِ اَوَّلِہُ وَ اٰخِرِہُ» } }۔ ۱؎ [مسند احمد:143/6:حسن بالشواهد] یہی حدیث منقطع سند کے ساتھ ابن ماجہ میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3264،قال الشيخ الألباني:صحیح]
دوسری سند سے یہ حدیث ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور مسند احمد میں ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3767، قال الشيخ الألباني:صحیح] جابربن صبیح رحمہ اللہ فرماتے ہیں مثنی بن عبدالرحمٰن خزاعی رحمہ اللہ کے ساتھ میں نے واسط کا سفر کیا ان کی عادت یہ تھی کہ کھانا شروع کرتے وقت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کہہ لیتے اور آخری لقمہ کے وقت «بِسْمِ اللّٰہِ اَوَّلِہُ وَ اٰخِرِہُ» کہہ لیا کرتے میں نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے خالد بن امیہ بن مخشی رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کھاتے ہوئے دیکھا کہ اس نے «بِسْمِ اللَّـهِ» نہیں پڑھی، یہاں تک کہ جب آخر میں پہنچا تو بولا «بِسْمِ اللّٰہِ اَوَّلِہُ وَ اٰخِرِہُ» ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { واللہ شیطان اس شخص کے ساتھ کھانا کھاتا رہا جب تک اس نے «بِسْمِ اللَّـهِ» نہ کہہ لی، پھر تو شیطان نے قے کرکے سارا کھانا اپنے پیٹ سے نکال دیا } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3768،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کے راوی کو ابن معین اور نسائی رحمہ اللہ علیہم تو ثقہ کہتے ہیں لیکن ابو الفتح ازوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ دلیل لینے کے قابل راوی نہیں۔
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ ایک لڑکی گرتی پڑتی آئی، جیسے کوئی اسے دھکے دے رہا ہو اور آتے ہی اس نے لقمہ اٹھانا چاہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور ایک اعرابی بھی اسی طرح آیا اور پیالے میں ہاتھ ڈالا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ بھی اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور فرمایا: { جب کسی کھانے پر «بِسْمِ اللَّـهِ» نہ کہی جائے تو شیطان اسے اپنے لیے حلال کر لیتا ہے وہ پہلے تو اس لڑکی کے ساتھ آیا تاکہ ہمارا کھانا کھائے تو میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا پھر وہ اعرابی کے ساتھ میں نے اس کا بھی ہاتھ تھام لیا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2017]
مسلم، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ میں ہے کہ { جب انسان اپنے گھر میں جاتے ہوئے اور کھانا کھاتے ہوئے اللہ کا نام یاد کر لیا کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ اے شیطانوں نہ تو تمہارے لیے رات گزارنے کی جگہ ہے نہ رات کا کھانا اور جب وہ گھر میں جاتے ہوئے کھاتے ہوئے اللہ کا نام نہیں لیتا تو وہ پکار دیتا ہے کہ تم نے شب باشی کی اور کھانا کھانے کی جگہ پالی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2018] مسند، ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ہے کہ { ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی کہ ہم کھاتے ہیں اور ہمارا پیٹ نہیں بھرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شاید تم الگ الگ کھاتے ہو گے کھانا سب مل کر کھاؤ اور «بِسْمِ اللَّـهِ» کہہ لیا کرو اس میں اللہ کی طرف سے برکت دی جائے گی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3764،قال الشيخ الألباني:حسن]
4۔ 1 اس سے وہ تمام چیزیں مراد ہیں جو حلال ہیں۔ ہر حلال طیب ہے اور ہر حرام خبیث۔ 4۔ 2 جوارح جارح کی جمع ہے جو کا سب کے معنی میں ہے۔ مراد شکاری کتا، باز، چیتا، شکرا اور دیگر شکاری پرندے اور درندے ہیں۔ مکلبین کا مطلب ہے شکار پر چھوڑنے سے پہلے ان کو شکار کے لیے سدھایا گیا ہو۔ سکھانے کا مطلب ہے جب اسے شکار پر چھوڑا جائے۔ تو دوڑتا ہوا جائے۔ جب روک دیا جائے تو رک جائے اور بلایا جائے تو واپس آجائے۔ 4۔ 3 ایسے سدھارے ہوئے جانوروں کا شکار کیا ہوا جانور دو شرطوں کے ساتھ حلال ہے۔ ایک یہ کہ اسے شکار کے لئے چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھ لی گئی ہو۔ دوسری یہ کہ شکاری جانور شکار کر کے اپنے مالک کے لئے رکھ چھوڑے اور اسی کا انتظار کرے، خود نہ کھائے۔ حتیٰ کے اگر اس نے مار بھی ڈالا ہو، تب بھی مقتول شکار شدہ جانور حلال ہوگا بشرطیکہ اس کے شکار میں سدھائے اور چھوڑے ہوئے جانور کے علاوہ کسی اور جانور کی شرکت نہ ہو (صحیح بخاری کتاب الذبائح والصید مسلم، کتاب الصید)
(آیت 4) ➊ {يَسْـَٔلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ ……:} چوپاؤں کا حکم تو فرما دیا، پھر لوگوں نے اور چیزوں کے متعلق پوچھا تو اﷲ تعالیٰ نے دین کا ایک عظیم الشان اصول بیان فرما دیا، جسے فقہی زبان میں یوں ادا کیا جاتا ہے: ” ہر چیز کی اصل اباحت ہے۔“ یعنی کھانے پینے کی تمام طیبات یعنی ستھری چیزیں حلال ہیں، سو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چیزیں حرام فرمائیں معلوم ہوا وہ ستھری نہیں، جیسے کچلی والے درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے پرندے، یا جن کا نام لے کر حرام قرار دے دیا، باقی سب حلال ہیں۔ اس قاعدے سے حرام اشیاء کا دائرہ تنگ ہو گیا اور حلال اشیاء کا دائرہ وسیع ہو گیا۔ ➋ {وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ ……:} شکاری جانور سے ہر وہ درندہ اور پرندہ مراد ہے جسے شکار کے لیے رکھا اور سدھایا جاتا ہے، مثلاً کتا، چیتا، باز اور شکرا وغیرہ اور اس کے ”سدھائے ہوئے “ ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ شکار پر چھوڑا جائے تو اسے اپنے مالک کے لیے پکڑ کر رکھے، اگر وہ خود شکار پکڑ کر کھانے لگے تو وہ شکار کھانا درست نہیں اور یہی معنی {”مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ“} کے ہیں۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتے کو چھوڑو اور اﷲ کا نام لو تو جو شکار وہ تمھارے لیے پکڑے اسے کھا لو۔“ میں نے کہا: ”خواہ وہ اسے قتل کر دے؟“ فرمایا: ”خواہ وہ اسے قتل کر دے، بشرطیکہ قتل میں کوئی ایسا کتا شریک نہ ہو جو ان میں سے نہ ہو، کیونکہ تم نے اپنے کتے کو چھوڑتے وقت اﷲ کا نام لیا ہے، کسی دوسرے پر نہیں لیا۔“ [ بخاری، الذبائح والصید، باب صید المعراض: ۵۴۷۶۔ مسلم: 1929/1 ] عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم اپنا کتا چھوڑو اور وہ تمھارے لیے پکڑ کر رکھے اور اسے زندہ پا لو تو اسے ذبح کر لو اور اگر تم اسے پاؤ کہ اس نے قتل کر دیا ہے لیکن اسے خود نہیں کھایا تو پھر تم اسے کھا لو، کیونکہ کتے کا اسے پکڑنا ہی ذبح کرنا ہے۔“ [ بخاری، الذبائح والصید، باب التسمیۃ علی الصید: ۵۴۷۵۔ مسلم: 1929/6 ] ➌ {وَ اتَّقُوا اللّٰهَ:} یعنی اگر حلال ہونے کی کوئی شرط کم ہے تو شکار کھانے کے شوق میں اﷲ سے بے خوف ہو کر اسے مت کھاؤ۔
آج تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا اُن کے لیے اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں خواہ وہ اہل ایمان کے گروہ سے ہوں یا اُن قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی، بشر طیکہ تم اُن کے مہر ادا کر کے نکاح میں اُن کے محافظ بنو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو اور جو کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اس کا سارا کارنامہ زندگی ضائع ہو جائے گا اور وہ آخرت میں دیوالیہ ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
کل پاکیزه چیزیں آج تمہارے لئے حلال کی گئیں اور اہل کتاب کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور پاک دامن مسلمان عورتیں اور جو لوگ تم سے پہلے کتاب دیئے گئے ہیں ان کی پاک دامن عورتیں بھی حلال ہیں جب کہ تم ان کے مہر ادا کرو، اس طرح کہ تم ان سے باقاعده نکاح کرو یہ نہیں کہ علانیہ زنا کرو یا پوشیده بدکاری کرو، منکرین ایمان کے اعمال ضائع اور اکارت ہیں اور آخرت میں وه ہارنے والوں میں سے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
آج تمہارے لئے پاک چیزیں حلال ہوئیں، اور کتابیوں کا کھانا تمہارے لیے حلال ہوا، اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے، اور پارسا عورتیں مسلمان اور پارسا عورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی جب تم انہیں ان کے مہر دو قید میں لاتے ہوئے نہ مستی نکالتے اور نہ ناآشنا بناتے اور جو مسلمان سے کافر ہو اس کا کیا دھرا سب اکارت گیا اور وہ آخرت میں زیاں کار ہے
علامہ محمد حسین نجفی
آج تمہارے لئے سب پاک و پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئی ہیں۔ اور اہل کتاب کا طعام (اناج) تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا طعام (اناج) ان کے لئے حلال ہے اور پاکدامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں (اہل کتاب) کی پاکدامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے۔ (وہ تمہارے لئے حلال ہیں) بشرطیکہ تم ان کی اجرتیں (حق مہر) دے دو۔ اور وہ بھی اپنی پاکدامنی کے تحفظ کی خاطر نہ کہ آزاد شہوت رانی کی خاطر اور نہ ہی چوری چھپے ناجائز تعلقات قائم کرنے کے لیے۔ اور جو ایمان کا انکار کرے (اور کفر اختیار کرے) تو اس کے سب عمل اکارت ہوگئے اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
آج تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور ان لوگوں کا کھانا تمھارے لیے حلال ہے جنھیں کتاب دی گئی اور تمھارا کھانا ان کے لیے حلال ہے اور مومن عورتوں میں سے پاک دامن عورتیں اور ان لوگوں کی پاک دامن عورتیں جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی، جب تم انھیں ان کے مہر دے دو، اس حال میں کہ تم قید نکاح میں لانے والے ہو، بدکاری کرنے والے نہیں اور نہ چھپی آشنائیں بنانے والے اور جو ایمان سے انکار کرے تو یقینا اس کا عمل ضائع ہوگیا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذبیحہ کس نام اور کن ہاتھوں کا حلال ہے؟ ٭٭
حلال و حرام کے بیان کے بعد بطور خلاصہ فرمایا کہ ’ کل ستھری چیزیں حلال ہیں ‘، پھر یہود و نصاریٰ کے ذبح کئے ہوئے جانوروں کی حلت بیان فرمائی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، ابوامامہ، مجاہد، سعید بن جبیر، عکرمہ، عطاء، حسن، مکحول، ابراہیم، نخعی، سدی، مقاتل بن حیان رحمة الله علیہم یہ سب یہی کہتے ہیں کہ طعام سے مراد ان کا اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ہوا جانور ہے، جس کا کھانا مسلمانوں کو حلال ہے، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:573/9] علماء اسلام کا اس پر مکمل اتفاق ہے کہ ان کا ذبیحہ ہمارے لیے حلال ہے، کیونکہ وہ بھی غیر اللہ کیلئے ذبح کرنا ناجائز جانتے ہیں اور ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا دوسرے کا نام نہیں لیتے گو ان کے عقیدے ذات باری کی نسبت یکسر اور سراسر باطل ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ بلند و بالا اور پاک و منزہ ہے۔ صحیح حدیث میں سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { جنگ خیبر میں مجھے چربی کی بھری ہوئی ایک مشک مل گئی، میں نے اسے قبضہ میں کیا اور کہا اس میں سے تو آج میں کسی کو بھی حصہ نہ دونگا، اب جو ادھر ادھر نگاہ پھرائی تو دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہی کھڑے ہوئے تبسم فرما رہے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3153] اس حدیث سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ مال غنیمت میں سے کھانے پینے کی ضروری چیزیں تقسیم سے پہلے بھی لے لینی جائز ہیں اور یہ استدلال اس حدیث سے صاف ظاہر ہے، تینوں مذہب کے فقہاء نے مالکیوں پر اپنی سند پیش کی ہے اور کہا ہے کہ تم جو کہتے ہو کہ اہل کتاب کا وہی کھانا ہم پر حلال ہے جو خود ان کے ہاں بھی حلال ہو یہ غلط ہے کیونکہ چربی کو یہودی حرام جانتے ہیں لیکن مسلمان کیلئے حلال ہے لیکن یہ ایک شخص کا انفرادی واقعہ ہے۔ البتہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ وہ چربی ہو جسے خود یہودی بھی حلال جانتے تھے یعنی پشت کی چربی انتڑیوں سے لگی ہوئی چربی اور ہڈی سے ملی ہوئی چربی۔
اس سے بھی زیادہ دلالت والی تو وہ روایت ہے جس میں ہے کہ { خیبر والوں نے سالم بھنی ہوئی ایک بکری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں دی جس کے شانے کے گوشت کو انہوں نے زہر آلود کر رکھا تھا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شانے کا گوشت پسند ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا یہی گوشت لے کر منہ میں رکھ کر دانتوں سے توڑا تو فرمان باری سے اس شانے نے کہا، مجھ میں زہر ملا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت اسے تھوک دیا اور اس کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے دانتوں وغیرہ میں رہ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بشر بن براء بن معرور رضی اللہ عنہ بھی تھے، جو اسی کے اثر سے راہی بقاء ہوئے، جن کے قصاص میں زہر ملانے والی عورت کو بھی قتل کیا گیا، جس کا نام زینب تھا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4510،قال الشيخ الألباني:ضعیف] وجہ دلالت یہ ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مع اپنے ساتھیوں کے اس گوشت کے کھانے کا پختہ ارادہ کر لیا اور یہ نہ پوچھا کہ اس کی جس چربی کو تم حلال جانتے ہو اسے نکال بھی ڈالا ہے یا نہیں؟ اور حدیث میں ہے کہ { ایک یہودی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں جو کی روٹی اور پرانی سوکھی چربی پیش کی تھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2092] مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس چیز پر نام رب نہ لیا جائے اس کا کھانا حرام کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر رحم فرما کر منسوخ کر کے اہل کتاب کے ذبح کئے جانور حلال کر دئے یہ یاد رہے کہ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جس جانور پر بھی نام الٰہی نہ لیا جائے وہ حلال ہو؟ اس لیے کہ وہ اپنے ذبیحوں پر اللہ کا نام لیتے تھے بلکہ جس گوشت کو کھاتے تھے اسے ذبیحہ پر موقوف نہ رکھتے تھے بلکہ مردہ جانور بھی کھا لیتے تھے لیکن سامرہ اور صائبہ اور ابراہیم و شیث علیہم السلام وغیرہ پیغمبروں کے دین کے مدعی اس سے مستثنیٰ تھے۔
جیسے کہ علماء کے دو اقوال میں سے ایک قول ہے اور عرب کے نصرانی جیسے بنو تغلب، تنوخ بہرا، جذام لحم، عاملہ کے ایسے اور بھی ہیں کہ جمہور کے نزدیک ان کے ہاتھ کا کیا ہوا ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قبیلہ بنو تغلب کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور نہ کھاؤ، اس لیے کہ انہوں نے تو نصرانیت سے سوائے شراب نوشی کے اور کوئی چیز نہیں لی۔“ ہاں سعید بن مسیب اور حسن بنو تغلب کے نصاریٰ کے ہاتھوں ذبح کئے ہوئے جانور کے کھا لینے میں کوئی حرج نہیں جانتے تھے، باقی رہے مجوسی ان سے گو جزیہ لیا گیا ہے کیونکہ انہیں اس مسئلہ میں یہود و نصاریٰ میں ملا دیا گیا ہے اور ان کا ہی تابع کر دیا گیا ہے، لیکن ان کی عورتوں سے نکاح کرنا اور ان کے ذبح کئے ہوئے جانور کا کھانا ممنوع ہے۔ ہاں ابوثور ابراہیم بن خالد کلبی رحمہ اللہ جو شافعی اور احمد رحمہ اللہ علیہم کے ساتھیوں میں سے تھے، اس کے خلاف ہیں، جب انہوں نے اسے جائز کہا اور لوگوں میں اس کی شہرت ہوئی تو فقہاء نے اس قول کی زبردست تردید کی ہے۔ یہاں تک کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے تو فرمایا کہ ”ابوثور اس مسئلہ میں اپنے نام کی طرح ہی ہے یعنی بیل کا باپ۔“ ممکن ہے ابوثور نے ایک حدیث کے عموم کو سامنے رکھ کر یہ فتویٰ دیا ہو جس میں حکم ہے کہ { مجوسیوں کے ساتھ اہل کتاب کا سا طریقہ برتو }۔ ۱؎ [موطا:42:قال الشيخ الألباني:ضعیف] لیکن اولاً تو یہ روایت ان الفاظ سے ثابت ہی نہیں دوسرے یہ روایت مرسل ہے، ہاں البتہ صحیح بخاری شریف میں صرف اتنا تو ہے کہ { ہجر کے مجوسیوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ لیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3156] علاوہ ان سب کے ہم کہتے ہیں کہ ابوثور کی پیش کردہ حدیث کو اگر ہم صحیح مان لیں، تو بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کے عموم سے بھی اس آیت میں حکم امتناعی کو دلیل بنا کر اہل کتاب کے سوا اور دین والوں کا ذبیحہ بھی ہمارے لیے حرام ثابت ہوتا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ تمہارا ذبیحہ ان کیلئے حلال ہے ‘ یعنی تم انہیں اپنا ذبیحہ کھلا سکتے ہو۔ یہ اس امر کی خبر نہیں کہ ان کے دین میں ان کیلئے تمہارا ذبیحہ حلال ہے ہاں زیادہ سے زیادہ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ یہ اس بات کی خبر ہو کہ انہیں بھی ان کی کتاب میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جس جانور کا ذبیحہ اللہ کے نام پر ہوا ہو اسے وہ کھا سکتا ہے بلحاظ اس سے کہ ذبح کرنے والا انہیں میں سے ہو یا ان کے سوا کوئی اور ہو، لیکن زیادہ باوزن بات پہلی ہی ہے، یعنی یہ کہ تمہیں اجازت ہے کہ انہیں اپنا ذبیحہ کھلاؤ جیسے کہ ان کے ذبح کئے ہوئے جانور تم کھا لیتے ہو۔ یہ گویا اول بدل کے طور پر ہے، { جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کو اپنے خاص کرتے ہیں کفن دیا جس کی وجہ سے بعض حضرات نے یہ بیان کیا ہے کہ اس نے آپ کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو اپنا کرتا دیا تھا جب وہ مدینے میں آئے تھے } تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بدلہ چکا دیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1350] ہاں ایک حدیث میں ہے کہ { مومن کے سوا کسی اور کی ہم نشینی نہ کر اور اپنا کھانا بجز پرہیزگاروں کے اور کسی کو نہ کھلا۱ } ؎ [سنن ابوداود:4832،قال الشيخ الألباني:حسن] اسے اس بدلے کے خلاف نہ سمجھنا چاہیئے، ہو سکتا ہے کہ حدیث کا یہ حکم بطور پسندیدگی اور افضیلت کے ہو، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ پاک دامن مومن عورتوں سے نکاح کرنا تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے ‘ یہ بطور تمہید کے ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ تم سے پہلے جنہیں کتاب دی گئی ہے ان کی عفیفہ عورتوں سے بھی نکاح تمہیں حلال ہے ‘۔ یہ قول بھی ہے کہ مراد «مُحْصَنَاتُ» سے آزاد عورتیں ہیں یعنی لونڈیاں نہ ہوں۔ یہ قول مجاہد رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے اور مجاہد رحمہ اللہ کے الفاظ یہ ہیں کہ ” «مُحْصَنَاتُ» سے آزاد مراد ہیں“ اور جب یہ ہے تو جہاں اس قول کا وہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ لونڈیاں اس سے خارج ہیں وہاں یہ معنی بھی لیے جا سکتے ہیں کہ پاک دامن عفت شعار، جیسے کہ انہی سے دوسری روایت ان ہی لفظوں میں موجود ہے۔ جمہور بھی کہتے ہیں اور یہ زیادہ ٹھیک بھی ہے۔ تاکہ ذمیہ ہونے کے ساتھ ہی غیر عفیفہ ہونا شامل ہو کر بالکل ہی باعث فساد نہ بن جائے اور اس کا خاوند صرف فضول بھرتی کے طور پر بری رائے پر نہ چل پڑے پس بظاہر یہی ٹھیک معلوم ہوتا ہے کہ «مُحْصَنَاتُ» سے مراد عفت مآب اور بدکاری سے بچاؤ والیاں ہی لی جائیں، جیسے دوسری آیت میں «وَالْمُحْصَنَاتُ» کے ساتھ ہی آیت «مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلَا مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ» ۱؎ [4-النساء:25] آیا ہے۔ علماء اور مفسرین کا اس میں بھی اختلاف ہے کہ کیا آیت ہر کتابیہ عفیفہ عورت پر مشتمل ہے؟ خواہ وہ آزاد ہو خواہ لونڈی ہو؟
ابن جریر میں سلف کی ایک جماعت سے اسے نقل کیا ہے جو کہتے ہیں کہ «مُحْصَنَاتُ» سے مراد پاک دامن ہے۔ ایک قول یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں مراد اہل کتاب سے اسرائیلی عورتیں ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ذمیہ عورتیں ہیں سوائے آزاد عورتوں کے اور دلیل یہ آیت ہے «قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ» ۱؎ [9-التوبة:29] ، یعنی ’ ان سے لڑو جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے ‘۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نصرانیہ عورتوں سے نکاح کرنا جائز نہیں جانتے تھے اور فرماتے تھے ”اس سے بڑا شرک کیا ہو گا؟ کہ وہ کہتی ہو کہ اس کا رب عیسیٰ (علیہ السلام) ہے اور جب یہ مشرک ٹھہریں تو نص قرآنی موجود ہے کہ آیت «وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ وَلَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّلَوْ اَعْجَبَـتْكُمْ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوْا» ۱؎ [2-البقرۃ:221] ، یعنی ’ مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں ‘۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرنے کا حکم نازل ہوا تو صحابہ رضی اللہ عنہم ان سے رک گئے یہاں تک کہ اس کے بعد کی آیت اہل کتاب کی پاکدامن عورتوں سے نکاح کرنے کی رخصت نازل ہوئی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے اہل کتاب عورتوں سے نکاح کئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے ایسے نکاح اسی آیت کو دلیل بنا کر کرنے ثابت ہیں تو گویا پہلے سورۃ البقرہ کی آیت کی ممانعت میں یہ داخل تھیں لیکن دوسری آیت نے انہیں مخصوص کر دیا۔ یہ اس وقت جب یہ مان لیا جائے کہ ممانعت والی آیت کے حکم میں یہ بھی داخل تھیں ورنہ ان دونوں آیتوں میں کوئی معارض نہیں، اس لیے کہ اور بھی بہت سی آیتوں میں عام مشرکین سے انہیں الگ بیان کیا گیا ہے جیسے آیت «لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا» ۱؎ [98-البينة:1] اور «وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا» ۱؎ [3-آل عمران:20] ۔
پھر فرماتا ہے ’ جب تم انہیں ان کے مقررہ مہر دے دو وہ اپنے نفس کو بچانے والیاں ہوں اور تم ان کے مہر ادا کرنے والے ہو ‘۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ عامر شعبی ابراہیم نخعی حسن بصری رحمة الله علیہم کا فتویٰ ہے کہ جب کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور دخول سے پہلے اس نے بدکاری کی تو میاں بیوی میں تفریق کرا دی جائے گی اور جو مہر خاوند نے عورت کو دیا ہے اسے واپس دلوایا جائے گا۔ [ابن جریر]
پھر فرماتا ہے ’ تم بھی پاک دامن عفت مآب ہو اور علانیہ یا پوشیدہ بدکار نہ ہوؤ ‘۔ پس عورتوں میں جس طرح پاک دامن اور عفیفہ ہونے کی شرط لگائی تھی مردوں میں بھی یہی شرط لگائی اور ساتھ ہی فرمایا کہ وہ کھلے بدکار نہ ہوں کہ ادھر ادھر منہ مارتے پھرتے ہوں اور نہ ایسے ہوں کہ خاص تعلق سے حرام کاری کرتے ہوں۔ سورۃ نساء میں بھی اسی کے تماثل حکم گزر چکا ہے۔
حضرت امام احمد رحمہ اللہ اسی طرف گئے ہیں کہ ”زانیہ عورتوں سے توبہ سے پہلے ہرگز کسی بھلے آدمی کو نکاح کرنا جائز نہیں“، اور یہی حکم ان کے نزدیک مردوں کا بھی ہے کہ ”بدکار مردوں کا نکاح نیک کار عفت شعار عورتوں سے بھی نا جائز ہے جب تک وہ سچی توبہ نہ کریں اور اس رذیل فعل سے باز نہ آ جائیں۔“ ان کی دلیل ایک حدیث بھی ہے جس میں ہے { کوڑے لگایا ہوا زانی اپنے جیسی سے ہی نکاح کر سکتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2052،قال الشيخ الألباني:صحیح] خلیفتہ المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ ”میں ارادہ کر رہا ہوں کہ جو مسلمان کوئی بدکاری کرے میں اسے ہرگز کسی مسلمان پاک دامن عورت سے نکاح نہ کرنے دوں۔“ اس پر سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ ”اے امیر المؤمنین شرک اس سے بہت بڑا ہے اس کے باوجود بھی اس کی توبہ قبول ہے۔“ اس مسئلے کو ہم آیت «اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً ۡ وَّالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَآ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [24-النور:3] ، کی تفسیر میں پوری طرح بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ آیت کے خاتمہ پر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ کفار کے اعمال اکارت ہیں اور وہ آخرت میں نقصان یافتہ ہیں ‘۔
5۔ 1 اہل کتاب کا وہی ذبیحہ حلال ہوگا جس میں خون بہہ گیا ہو۔ یعنی ان کا مشینی ذبیحہ حلال نہیں ہی کیونکہ اس میں خون بہنے کی ایک بنیادی شرط مفقود ہے۔ 5۔ 2 اہل کتاب کی عورتوں کے ساتھ نکاح کی اجازت کے ساتھ ایک تو پاکدامن کی قید ہے، جو آج کل اکثر عورتوں میں عام ہے۔ دوسرے اس کے بعد فرمایا گیا جو ایمان کے ساتھ کفر کرے، اس کے عمل برباد ہوگئے اس سے یہ تنبیہ مقصود ہے کہ اگر ایسی عورت سے نکاح کرنے میں ایمان کی ضیاع کا اندیشہ ہو تو بہت ہی خسارے کا سودا ہوگا اور آج کل اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح میں ایمان کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں محتاج وضاحت نہیں۔ درآنحالانکہ ایمان کو بچانا فرض ہے، ایک جائز کے لئے فرض کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ اس لیے اس کا جواز بھی اس وقت تک ناقابل عمل رہے گا، جب تک دونوں مذکورہ چیزیں مفقود نہ ہوجائیں۔ علاوہ ازیں آج کل کے اہل کتاب ویسے بھی اپنے دین سے بالکل ہی بیگانہ بلکہ بیزار اور باغی ہیں۔ اس حالت میں کیا وہ واقعی اہل کتاب میں شمار بھی ہوسکتے ہیں؟ واللہ اعلم۔
(آیت 5)➊ {وَ طَعَامُ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ ……:} اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کا طعام، جس میں ذبیحہ بھی شامل ہے، مسلمانوں کے لیے حلال ہے، بشرطیکہ انھوں نے غیر اﷲ کے نام پر ذبح نہ کیا ہو اور واقعی ذبح کیا ہو۔ کسی چھری یا مشین سے سر کاٹ کر الگ کر دینا یا سخت گرم پانی میں جانور کو ڈال کر یا بجلی کے کرنٹ سے مار دینا ذبح نہیں، کیونکہ ان طریقوں سے جسم سے بہتا ہوا خون (دم مسفوح) پوری طرح باہر نہیں نکلتا جو حرام ہے، اس لیے ایسے جانور کا گوشت کھانا درست نہیں۔ اگر صحیح ذبح کیا ہو تو پھر ٹھیک ہے۔ اہل کتاب کا ذبیحہ کھانے سے متعلق حدیث ہے کہ خیبر کی فتح کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (ایک یہودی عورت کی طرف سے) بکری کے گوشت کا ہدیہ پیش کیا گیا جس میں زہر ملا ہوا تھا اور آپ نے اس میں سے کچھ کھایا۔ [ بخاری، المغازی، باب الشاۃ التی سمت للنبی صلی اللہ علیہ وسلم بخیبر: ۴۲۴۹ ] اسی طرح بعض صحابہ نے بھی وہ چربی کھائی جو خیبر میں یہودیوں سے حاصل ہوئی تھی۔ [ مسلم، الجہاد، باب جواز الأکل من طعام الغنیمۃ ……: ۱۷۷۲ ] مگر جو چیزیں ہماری شریعت میں حرام ہیں، جیسے مردار، خون، خنزیر کا گوشت وغیرہ، یہ چیزیں ان کے دسترخوان پر کھانا بھی حرام ہے، بلکہ ایسے دسترخوان پر بیٹھنا بھی جائز نہیں، نہ ان کے ایسے برتن استعمال کرنا جائز ہے، ہاں اگر اور برتن نہ ملیں اور مجبوری ہو تو انھیں خوب دھو کر اور صاف کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔ ➋ {وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ ……:} یعنی ان سے نکاح کرنا درست ہے، چاہے وہ اپنے دین پر قائم رہیں، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ پاک دامن ہوں نہ کہ آزاد منش اور آوارہ قسم کی، جو انسان کے ایمان کو بھی تباہ کر ڈالیں۔ جمہور کے نزدیک یہاں {”الْمُحْصَنٰتُ“} کے یہی معنی مراد ہیں، تاکہ کفر اور زنا کی دو آفات ان میں جمع نہ ہوں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۲۱)۔ ➌ {وَ مَنْ يَّكْفُرْ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ ……:} اس میں تنبیہ کی گئی ہے کہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح صرف جائز ہے، مستحسن نہیں اور جو شخص اس اجازت سے فائدہ اٹھائے اسے اپنے ایمان کی طرف سے ہوشیار رہنا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی غیر مسلم بیوی سے متاثر ہو کر اپنے ایمان و اخلاق سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نماز کے لیے اٹھو تو چاہیے کہ اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو، سروں پر ہاتھ پھیر لو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہو جاؤ اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کر کے آئے یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو، اور پانی نہ ملے، تو پاک مٹی سے کام لو، بس اُس پر ہاتھ مار کر اپنے منہ اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا، مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے، شاید کہ تم شکر گزار بنو
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے منھ کو، اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو، اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرلو، ہاں اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آیا ہو، یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو، اسے اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر مل لو اللہ تعالیٰ تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا اراده تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دینے کا ہے، تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو جب نماز کو کھڑے ہونا چاہو تو اپنا منہ دھوؤ اور کہنیوں تک ہاتھ اور سروں کا مسح کرو اور گٹوں تک پاؤ ں دھوؤ اور اگر تمہیں نہانے کی حاجت ہو تو خوب ستھرے ہولو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا یا تم نے عورتوں سے صحبت کی اور ان صورتوں میں پانی نہ پایا مٹی سے تیمم کرو تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرو، اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کچھ تنگی رکھے ہاں یہ چاہتا ہے کہ تمہیں خوب ستھرا کردے اور اپنی نعمت تم پر پوری کردے کہ کہیں تم احسان مانو،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! جب نماز کے لیے کھڑے ہونے لگو تو اپنے چہروں اور کہنیوں سمیت اپنے ہاتھوں کو دھوؤ۔ اور سروں کے بعض حصہ کا اور ٹخنوں تک پاؤں کا مسح کرو۔ اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو پھر غسل کرو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے آیا ہو۔ یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو۔ اور پھر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں پر اس سے مسح کر لو (مَل لو) اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی سختی کرے۔ وہ تو چاہتا ہے کہ تمہیں پاک صاف رکھے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پائوں ٹخنوں تک (دھو لو) اور اگر جنبی ہو تو غسل کر لو اور اگر تم بیمار ہو، یا کسی سفر پر، یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو، یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو، پھر کوئی پانی نہ پائو تو پاک مٹی کا قصد کرو، پس اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کر لو۔اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی کرے اور لیکن وہ چاہتا ہے کہ تمھیں پاک کرے اور تاکہ وہ اپنی نعمت تم پر پوری کرے، تاکہ تم شکر کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وضو اور غسل کے احکامات ٭٭
اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ حکم وضو اس وقت ہے جب کہ آدمی بے وضو ہو۔ ایک جماعت کہتی ہے جب تم کھڑے ہو یعنی نیند سے جاگو یہ دونوں قول تقریباً ایک ہی مطلب کے ہیں اور حضرات فرماتے ہیں آیت تو عام ہے اور اپنے عموم پر ہی رہے گی لیکن جو بے وضو ہو اس پر وضو کرنے کا حکم وجوباً ہے اور جو با وضو ہو اس پر استحباباً۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ ابتداء اسلام میں ہر صلٰوۃ کے وقت وضو کرنے کا حکم تھا پھر منسوخ ہو گیا۔ مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کیلئے تازہ وضو کیا کرتے تھے، فتح مکہ والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور جرابوں پر مسح کیا اور اسی ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کیں، یہ دیکھ کر سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کام کیا جو آج سے پہلے نہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں میں نے بھول کر ایسا نہیں کیا بلکہ جان بوجھ کر قصداً یہ کیا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:277] ابن ماجہ وغیرہ میں کہ { جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھا کرتے تھے ہاں پیشاب کریں یا وضو ٹوٹ جائے تو نیا وضو کر لیا کرتے اور وضو ہی کے بچے ہوئے پانی سے جرابوں پر مسح کر لیا کرتے۔ یہ دیکھ کر فضل بن مبشر نے سوال کیا کہ کیا آپ اسے اپنی رائے سے کرتے ہیں؟ فرمایا ”نہیں بلکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:511،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو ہر نماز کیلئے تازہ وضو کرتے دیکھ کر خواہ وضو ٹوٹا ہو یا نہ ٹوٹا ہو ان کے صاحبزادے عبیداللہ رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ اس کی کیا سند ہے؟ فرمایا اس سے سیدہ اسماء بنت زید بن خطاب رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ ان سے سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ نے جو فرشتوں کے غسل دئیے ہوئے کے صاحبزادے تھے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کیلئے تازہ وضو کرنے کا حکم دیا گیا تھا اس حالت میں وضو باقی ہو تو بھی اور نہ ہو تو بھی، لیکن اس میں قدرے مشقت معلوم ہوئی تو وضو کے حکم کے بدلے مسواک کا حکم رکھا گیا ہاں جب وضو ٹوٹے تو نماز کیلئے نیا وضو ضروری ہے اسے سامنے رکھ کر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ چونکہ انہیں قوت ہے اس لیے وہ ہر نماز کے وقت وضو کرتے ہیں۔ آخری دم تک آپ کا یہی حال رہا }۔ «رضی اللہ عنہ وعن والدہ» ۔ ۱؎ [مسند احمد:225/5:قال الشيخ الألباني:حسن] اس کے ایک راوی محمد بن اسحاق رحمہ اللہ ہیں لیکن چونکہ انہوں نے صراحت کے ساتھ «حدثنا» کہا ہے اس لیے تدلیس کا خوف بھی جاتا رہا۔ ہاں ابن عساکر کی روایت میں یہ لفظ نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے اس فعل اور اس پر ہمیشگی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مستحب ضرور ہے اور یہی مذہب جمہور کا ہے۔
ابن جریر میں ہے کہ خلفاء رضی اللہ عنہم ہر نماز کے وقت وضو کر لیا کرتے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یوم القیامہ ہر نماز کیلئے وضو کرتے اور دلیل میں یہ آیت تلاوت فرما دیتے ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز ادا کی پھر لوگوں کے مجمع میں تشریف فرما رہے تھے پھر پانی لایا گیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے منہ دھویا ہاتھ دھوئے پھر سر کا مسح کیا اور پھر پیر کا۔ اور فرمایا ”یہ وضو ہے اس کا جو بے وضو نہ ہوا ہو“، ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے خفیف وضو کر کے بھی یہی فرمایا تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضوان اللہ علیہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ ابوداؤد طیالسی میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا قول ہے کہ وضو ٹوٹے بغیر وضو کرنا زیادتی ہے۔ اولاً تو یہ فعل سنداً بہت غریب ہے، دوسرا یہ کہ مراد اس سے وہ شخص ہے جو اسے واجب جانتا ہو اور صرف مستحب سمجھ کر جو ایسا کرے وہ تو عامل بالحدیث ہے۔ بخاری سنن وغیرہ میں مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کیلئے نیا وضو کرتے تھے، ایک انصاری نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ سن کر کہا اور آپ لوگ کیا کرتے تھے؟ فرمایا ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھتے تھے جب تک وضو ٹوٹے نہیں } ۱؎ [صحیح بخاری:214] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ { جو شخص وضو پر وضو کرے اس کیلئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں }، ترمذی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے ۱؎ [سنن ترمذي:59،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور امام ترمذی نے اسے ضعیف کہا ہے۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ آیت سے صرف اتنا ہی مقصود ہے کہ کسی اور کام کے وقت وضو کرنا واجب نہیں صرف نماز کیلئے ہی اس کا وجوب ہے۔ یہ فرمان اس لیے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ وضو ٹوٹنے پر کوئی کام نہ کرتے تھے جب تک پھر وضو نہ کر لیں ابن ابی حاتم وغیرہ کی ایک ضعیف غریب روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کا ارادہ کرتے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بولتے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب نہ دیتے ہم سلام علیک کرتے پھر بھی جواب نہ دیتے یہاں تک کہ یہ آیت رخصت کی اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11342:ضعیف]
ابوداؤد میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے اور کھانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا تو ہم نے کہا اگر فرمائیں تو وضو کا پانی کا حاضر کریں فرمایا: { وضو کا حکم تو مجھے صرف نماز کیلئے کھڑا ہونے کے وقت ہی کیا گیا ہے } }۔ امام ترمذی اسے حسن بتاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3760،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھے کچھ نماز تھوڑا ہی پڑھنی ہے جو میں وضو کروں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:374] آیت کے ان الفاظ سے کہ ’ جب تم نماز کیلئے کھڑے ہو تو وضو کر لیا کرو ‘ علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ وضو میں نیت واجب ہے، مطلب کلام اللہ شریف کا یہ ہے کہ نماز کیلئے وضو کر لیا کرو۔ جیسے عرب میں کہا جاتا ہے، جب تو امیر کو دیکھے تو کھڑا ہو جا تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ امیر کیلئے کھڑا ہو جا۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کیلئے صرف وہی ہے جو وہ نیت کرے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1] اور منہ کے دھونے سے پہلے وضو میں «بِسْمِ اللَّـهِ» کہنا مستحب ہے۔ کیونکہ ایک پختہ اور بالکل صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس شخص کا وضو نہیں جو اپنے وضو میں «بِسْمِ اللَّـهِ» نہ کہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:101، قال الشيخ الألباني:صحیح] (حدیث کے ظاہری الفاظ تو نیت کی طرح «بِسْمِ اللَّـهِ» کہنے پر بھی وجوب کی دلالت کرتے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم) یہ بھی یاد رہے کہ وضو کے پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے کا ان کا دھو لینا مستحب ہے اور جب نیند سے اٹھا ہو تب تو سخت تاکید آتی ہے بخاری و مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ { تم میں سے کوئی نیند سے جاگ کر برتن میں ہاتھ نہ ڈالے جب تک کہ تین مرتبہ دھو نہ لے، اسے نہیں معلوم کہ اس کے ہاتھ رات کے وقت کہاں رہے ہوں؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:162]
منہ کی حد فقہاء کے نزدیک لمبائی میں سر کے بالوں کی اگنے کی جو جگہ عموماً ہے وہاں سے داڑھی کی ہڈی اور تھوڑی تک ہے اور چوڑائی میں ایک کان سے دوسرے کان تک۔ اس میں اختلاف ہے کہ دونوں جانب کی پیشانی کے اڑے ہوئے بالوں کی جگہ سر کے حکم میں ہے یا منہ کے؟ اور داڑھی کے لٹکتے ہوئے بالوں کا دھونا منہ کے دھونے کی فرضیت میں داخل ہے یا نہیں؟ اس میں دو قول ہیں، ایک تو یہ کہ ان پر پانی کا بہانا واجب ہے اس لیے کہ منہ سامنے کرنے کے وقت اس کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو داڑھی ڈھانپے ہوئے دیکھ کر فرمایا: { اسے کھول دے یہ بھی منہ میں داخل ہے } }۔ ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفه البانی:5754:ضعیف] مجاہد رحمة الله فرماتے ہیں ”عرب کا محاورہ بھی یہی ہے کہ جب بچے کے داڑھی نکلتی ہے تو وہ کہتے ہیں «طَلَعَ وَجْهُهُ» ۔“ پس معلوم ہوتا ہے کہ کلام عرب میں داڑھی منہ کے حکم میں ہے اور لفظ «وَجْهُهُ» میں داخل ہے۔ داڑھی گھنی اور بھری ہوئی ہو تو اس کا خلال کرنا بھی مستحب ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے راوی کہتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے منہ دھوتے وقت تین دفعہ داڑھی کا خلال کیا۔ پھر فرمایا ”جس طرح تم نے مجھے کرتے دیکھا اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے“ ۱؎ [سنن ترمذي:31،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس روایت کو امام بخاری اور امام ترمذی رحمة الله علیہم حسن بتاتے ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے وقت ایک چلو پانی لے کر اپنی تھوڑی تلے ڈال کر اپنی داڑھی مبارک کا خلال کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ { مجھے میرے رب عزوجل نے اسی طرح حکم فرمایا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:145،قال الشيخ الألباني:صحیح]
حضرت امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”داڑھی کا خلال کرنا سیدنا عمار، سیدہ عائشہ، سیدہ ام سلمہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہم سے مروی ہے، اور اس کے ترک کی رخصت ابن عمر، حسن بن علی رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمة الله علیہم کی ایک جماعت سے مروی ہے۔“ صحاح وغیرہ میں مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے بیٹھتے کلی کرتے اور ناک میں پانی دیتے }۔ ائمہ کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ دونوں وضو اور غسل میں میں واجب ہیں یا مستحب؟ امام احمد بن حنبل کا مذہب تو وجوب کا ہے اور امام شافعی اور امام مالک مستحب کہتے ہیں ان کی دلیل سنن کی وہ صحیح حدیث ہے جس میں جلدی جلدی نماز پڑھنے والے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا مروی ہے کہ { وضو کر جس طرح اللہ نے تجھے حکم دیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:857،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام حنیفہ رحمة الله کا مسلک یہ ہے کہ غسل میں واجب اور وضو میں نہیں، ایک روایت امام احمد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ناک میں پانی دینا تو واجب اور کلی کرنا مستحب، کیونکہ بخاری و مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { جو وضو کرے وہ ناک میں پانی ڈالے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:161] اور روایت میں ہے { تم میں سے جو وضو کرے وہ اپنے دونوں نتھنوں میں پانی ڈالے اور اچھی طرح وضو کرے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:162]
مسند احمد اور بخاری میں ہے { سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ وضو کرنے بیٹھے تو منہ دھویا ایک چلو پانی کا لے کر کلی کی اور ناک کو صاف کیا پھر ایک چلو لے کر داہنا ہاتھ دھویا پھر ایک چلو لے کر اسی سے بایاں ہاتھ دھویا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر پانی کا ایک چلو لے کر اپنے داہنے پاؤں پر ڈال کر اسے دھویا پھر ایک چلو سے بایاں پاؤں دھویا۔ پھر فرمایا میں نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:140] «إِلَى الْمَرَافِقِ» سے مراد «مَـعَ الْمَرَافِقِ» ہے، جیسے فرمان ہے آیت «وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَھُمْ اِلٰٓى اَمْوَالِكُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِيْرًا» ۱؎ [4-النساء:2] یعنی ’ یتیموں کے مالوں کو اپنے مالوں سمیت نہ کھا جایا کرو یہ بڑا ہی گناہ ہے ‘۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ہاتھوں کو کہنیوں تک نہیں، بلکہ کہنیوں سمیت دھونا چاہیئے۔ دارقطنی وغیرہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے ہوئے اپنی کہنیوں پر پانی بہاتے تھے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:2067:صحیح] لیکن اس کے دو راویوں میں کلام ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» وضو کرنے والے کیلئے مستحب ہے کہ کہنیوں سے آگے اپنے شانے کو بھی وضو میں دھوئے کیونکہ بخاری مسلم میں حدیث ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری امت وضو کے نشانوں کی وجہ سے قیامت کے دن چمکتے ہوئے اعضاؤں سے آئے گی پس تم میں سے جس سے وہ ہو سکے وہ اپنی چمک کو دور تک لے جائے}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:136] صحیح مسلم میں ہے { مومن کو وہاں تک زیور پہنائے جائیں گے جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:250]
«بِرُءُوسِكُمْ» میں جواب ہے اس کا الحاق یعنی ملا دینے کیلئے ہونا تو زیادہ غالب ہے اور تبعیض یعنی کچھ حصے کیلئے ہونا تامل طلب ہے۔ بعض اصولی حضرات فرماتے ہیں چونکہ آیت میں اجمال ہے اس لیے سنت نے جو اس کی تفصیل کی ہے وہی معتبر ہے اور اسی کی طرف لوٹنا پڑے گا۔ عبداللہ بن زید بن عاصم صحابی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے کہا ”آپ رضی اللہ عنہ وضو کر کے ہمیں بتلائیے۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھ دو دو دفعہ دھوئے، پھر تین بار کلی کی اور ناک میں پانی دیا، تین ہی دفعہ اپنا منہ دھویا، پھر کہنیوں سمیت اپنے دونوں ہاتھ دو مرتبہ دھوئے، پھر دونوں ہاتھ سے سر کا مسح کیا سر کے ابتدائی حصے سے گدی تک لے گئے، پھر وہاں سے یہیں تک واپس لائے، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:185] سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ اسی طرح منقول ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:49،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابوداؤد میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:121،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیثیں دلیل ہیں اس پر کہ پورے سر کا مسح فرض ہے۔
یہی مذہب امام مالک رحمة الله اور امام احمد رحمة الله کا ہے اور یہی مذہب ان تمام حضرات کا ہے جو آیت کو مجمل مانتے ہیں اور حدیث کو اس کی وضاحت جانتے ہیں۔ حنیفوں کا خیال ہے کہ چوتھائی سر کا مسح فرض ہے جو سر کا ابتدائی حصہ ہے اور ہمارے ساتھی کہتے ہیں کہ فرض صرف اتنا ہے جتنے پر مسح کا اطلاق ہو جائے، اس کی کوئی حد نہیں۔ سر کے چند بالوں پر بھی مسح ہو گیا تو فرضیت پوری ہو گئی۔ ان دونوں جماعتوں کی دلیل مغیرہ بن شعبہ والی حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے رہ گئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے رہ گیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کر چکے تو مجھ سے پانی طلب کیا میں لوٹا لے آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہنچے دھوئے پھر منہ دھویا پھر کلائیوں پر سے کپڑا ہٹایا اور پیشانی سے ملے ہوئے بالوں اور پگڑی پر مسح کیا اور دونوں جرابوں پر بھی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:274] اس کا جواب امام احمد رحمة الله اور ان کے ساتھی یہ دیتے ہیں کہ سر کے ابتدائی حصہ پر مسح کر کے باقی پگڑی پر پورا کر لیا اور اس کی بہت سی مثالیں احادیث میں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صافے پر اور جرابوں پر برابر مسح کیا کرتے تھے، پس یہی اولیٰ ہے اور اس میں ہرگز اس بات پر کوئی دلالت نہیں کہ سر کے بعض حصے پر یا صرف پیشانی کے بالوں پر ہی مسح کر لے اور اس کی تکمیل پگڑی پر نہ ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر اس میں بھی اختلاف ہے کہ سر کا مسح بھی تین بار ہو یا ایک ہی بار؟ امام شافعی رحمة الله کا مشہور مذہب اول ہے اور امام احمد رحمة الله اور ان کے متبعین کا دوم۔ دلائل یہ ہیں: { سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ وضو کرنے بیٹھتے ہیں اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالتے ہیں، انہیں دھو کر پھر کلی کرتے ہیں اور ناک میں پانی دیتے ہیں، پھر تین مرتبہ منہ دھوتے ہیں، پھر تین تین بار دونوں ہاتھو کہنیوں سمیت دھوتے ہیں، پہلے دایاں پھر بایاں۔ پھر اپنے سر کا مسح کرتے ہیں پھر دونوں پیر تین تین بار دھوتے ہیں پہلے داہنا پھر بایاں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا“ اور وضو کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جو شخص میرے اس وضو جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں دل سے باتیں نہ کرے تو اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:159] سنن ابی داؤد میں اسی روایت میں سر کے مسح کرنے کے ساتھ ہی یہ لفظ بھی ہیں کہ { سر کا مسح ایک مرتبہ کیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:108،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، ۱؎ [سنن ابوداود:111،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور جن لوگوں نے سر کے مسح کو بھی تین بار کہا ہے انہوں نے حدیث سے دلیل لی ہے۔ جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار اعضاء وضو کو دھویا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:230] سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے وضو کیا پھر اسی طرح روایت ہے اور اس میں کلی کرنی اور ناک میں پانی دینے کا ذکر نہیں اور اس میں ہے کہ پھر آپ نے تین مرتبہ سر کا مسح کیا اور تین مرتبہ اپنے دونوں پیر دھوئے۔ پھر فرمایا { میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا اور آپ نے فرمایا جو ایسا وضو کرے اسے کافی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:107،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے جو حدیثیں صحاح میں مروی ہیں ان سے تو سر کا مسح ایک بار ہی ثابت ہوتا ہے۔
«أَرْجُلَكُمْ» لام کی زبر سے عطف ہے جو «وُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم» پر ماتحت ہے دھونے کے حکم کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یونہی پڑھتے تھے اور یہی فرماتے تھے، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:55/10] سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت عروہ رضی اللہ عنہ، عطاء، عکرمہ، حسن، مجاہد، ابراہیم، ضحاک، سدی، مقاتل بن حیان، زہری، ابراہیم تیمی رحمة الله علیہم وغیرہ کا یہی قول ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:54/10] اور یہی قرأت ہے، اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ پاؤں دھونے چاہئیں، یہی سلف کا فرمان ہے اور یہیں سے جمہور نے وضو کی ترتیب کے وجوب پر استدلال کیا ہے۔ صرف ابوحنیفہ رحمة الله اس کے خلاف ہیں، وہ وضو میں ترتیب کو شرط نہیں جانتے۔ ان کے نزدیک اگر کوئی شخص پہلے پیروں کو دھوئے پھر سر کا مسح کرے پھر ہاتھ دھوئے پھر منہ دھوئے جب بھی جائز ہے اس لیے کہ آیت نے ان اعضاء کے دھونے کا حکم دیا ہے۔ واؤ کی دلالت ترتیب پر نہیں ہوتی۔ اس کے جواب جمہور نے کئی ایک دیئے ہیں، ایک تو یہ کہ ”ف“ ترتیب پر دلالت کرتی ہے، آیت کے الفاظ میں نماز پڑھنے والے کو منہ دھونے کا حکم لفظ «فَاغْسِلُوا» سے ہوتا ہے۔ تو کم از کم منہ کا اول اول دھونا تو لفظوں سے ثابت ہوگیا اب اس کے بعد کے اعضاء میں ترتیب اجماع سے ثابت ہے جس میں اختلاف نظر نہیں آتا۔ پھر جبکہ ”ف“ جو تعقیب کیلئے ہے اور جو ترتیب کی مقتضی ہے ایک پر داخل ہو چکی تو اس ایک کی ترتیب مانتے ہوئے دوسری کی ترتیب کا انکار کوئی نہیں کرتا بلکہ تو سب کی ترتیب کے قائل ہیں یا کسی ایک کی بھی ترتیب کے قائل نہیں۔ پس یہ آیت ان پر یقیناً حجت ہے جو سرے سے ترتیب کے منکر ہیں، دوسرا جواب یہ ہے کہ واؤ ترتیب پر دلالت نہیں کرتا اسے بھی ہم تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ ترتیب پر دلالت کرتا ہے جیسے کہ نحویوں کی ایک جماعت کا اور بعض فقہاء کا مذہب ہے پھر یہ چیز بھی قابل غور ہے کہ بالفرض لغتاً اس کی دلالت پر ترتیب پر نہ بھی ہو تاہم شرعاً تو جن چیزوں میں ترتیب ہو سکتی ہے ان میں اس کی دلالت ترتیب پر ہوتی ہے۔
چنانچہ صحیح مسلم شریف میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ شریف کا طواف کرکے باب صفا سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیت «اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَاىِٕرِاللّٰهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَـطَوَّعَ خَيْرًا فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِـرٌ عَلِــيْمٌ» ۱؎ [2-البقرۃ:158] کی تلاوت کر رہے تھے اور فرمایا { میں اسی سے شروع کروں گا جسے اللہ نے پہلے بیان فرمایا }، چنانچہ صفا سے سعی شروع کی } ۱؎ [صحیح مسلم:1218] ، نسائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم دینا بھی مروی ہے کہ { اس سے شروع کرو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا }۔ ۱؎ [سنن نسائی:2965،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس کی اسناد بھی صحیح ہے اور اس میں امر ہے۔ پس معلوم ہوا کہ جس کا ذکر پہلے ہو اسے پہلے کرنا اور اس کے بعد اسے جس کا ذکر بعد میں ہو کرنا واجب ہے۔ پس صاف ثابت ہو گیا کہ ایسے مواقع پر شرعاً ترتیب مراد ہوتی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» تیسری جماعت جواباً کہتی ہے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونے کے حکم اور پیروں کو دھونے کے حکم کے درمیان سر کے مسح کے حکم کو بیان کرنا اس امر کی صاف دلیل ہے کہ مراد ترتیب کو باقی رکھنا ہے، ورنہ نظم کلام کو یوں الٹ پلٹ نہ کیا جاتا۔ ایک جواب اس کا یہ بھی ہے کہ ابوداؤد وغیرہ میں صحیح سند سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھو کر وضو کیا پھر فرمایا یہ وضو ہے کہ جس کے بغیر اللہ تعالیٰ نے نماز کو قبول نہیں کرتا }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:419،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اب دو صورتیں ہیں یا تو اس وضو میں ترتیب تھی یا نہ تھی؟ اگر کہا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ وضو مرتب تھا یعنی باقاعدہ ایک کے پیچھے ایک عضو دھویا تھا تو معلوم ہوا کہ جس وضو میں تقدیم تاخیر ہو اور صحیح طور پر ترتیب نہ ہو وہ نماز نامقبول لہٰذا ترتیب واجب و فرض اور اگر یہ مان لیا جائے کہ اس وضو میں ترتیب نہ تھی بلکہ بے ترتیب تھا، پیر دھو لیے پھر کلی کر لی پھر مسح کر لیا پھر منہ دھو لیا وغیرہ تو عدم ترتیب واجب ہو جائے گی حالانکہ اس کا قائل امت میں سے ایک بھی نہیں پس ثابت ہو گیا کہ وضو میں ترتیب فرض ہے۔
آیت کے اس جملے کی ایک قرأت اور بھی ہے یعنی «وَاَرْجُـلِـکُمْ» لام کے زیر سے اور اسی سے شیعہ نے اپنے اس قول کی دلیل لی ہے کہ پیروں پر مسح کرنا واجب ہے کیونکہ ان کے نزدیک اس کا عطف سر کے مسح کرنے پر ہے۔ بعض سلف سے بھی کچھ ایسے اقوال مروی ہیں جن سے مسح کے قول کا وہم پڑتا ہے۔ چنانچہ ابن جریر میں ہے کہ موسیٰ بن انس نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے لوگوں کی موجودگی میں کہا کہ حجاج نے اہواز میں خطبہ دیتے ہوئے طہارت اور وضو کے احکام میں کہا کہ منہ ہاتھ دھوؤ اور سر کا مسح کرو اور پیروں کو دھویا کرو عموماً پیروں پر ہی گندگی لگتی ہے۔ پس تلوؤں کو اور پیروں کی پشت کو اور ایڑی کو خوب اچھی طرح دھویا کرو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا کہ اللہ سچا ہے اور حجاج جھوٹا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہےآیت «وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ» [المائدہ:6] اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ پیروں کا جب مسح کرتے انہیں بالکل بھگو لیا کرتے، آپ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ قرآن کریم میں پیروں پر مسح کرنے کا حکم ہے، ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پیروں کا دھونا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وضو میں دو چیزوں کا دھونا ہے اور دو پر مسح کرنا۔ قتادہ رحمة الله سے بھی یہی مروی ہے۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آیت میں پیروں پر مسح کرنے کا بیان ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ، علقمہ، ابو جعفر، محمد بن علی رحمة الله علیہم اور ایک روایت میں حسن اور جابر بن زید رحمة الله علیہم اور ایک روایت میں مجاہد رحمة الله سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حضرت عکرمہ رحمة الله اپنے پیروں پر مسح کر لیا کرتے تھے شعبی رحمة الله فرماتے ہیں کہ جبرائیل کی معرفت مسح کا حکم نازل ہوا ہے، آپ رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ جن چیزوں کے دھونے کا حکم تھا ان پر تو تیمم کے وقت مسح کا حکم رہا اور جن چیزوں پر مسح کا حکم تھا تیمم کے وقت انہیں چھوڑ دیا گیا۔“ عامر رحمة الله سے کسی نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں جبرائیل علیہ السلام پیروں کے دھونے کا حکم لائے ہیں آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”جبرائیل علیہ السلام مسح کے حکم کے ساتھ نازل ہوئے تھے۔“ پس یہ سب آثار بالکل غریب ہیں اور محمول ہیں اس امر پر کہ مراد مسح سے ان بزرگوں کی ہلکا دھونا ہے، کیونکہ سنت سے صاف ثابت ہے کہ پیروں کا دھونا واجب ہے۔ یاد رہے کہ زیر کی قرأت یا تو مجاورت اور تناسب کلام کی وجہ سے ہے جیسے عرب کا کلام «حُجْرُ ضَبِّ خربٍ» میں اور اللہ کے کلام آیت «عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ» ۱؎ [76-الإنسان:21] میں لغت میں عرب میں پاس ہونے کی وجہ سے دونوں لفظوں کو ایک ہی اعراب دے دینا یہ اکثر پایا گیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کی ایک توجیہہ یہ بھی بیان کی ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب پیروں پر جرابیں ہوں بعض کہتے ہیں مراد مسح سے ہلکا دھو لینا ہے ج
6۔ 1 منہ دھوؤ، یعنی ایک ایک دو دو یا تین تین مرتبہ دونوں ہتھیلیاں دھونے، کلی کرنے، ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنے کے بعد۔ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے۔ منہ دھونے کے بعد ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھویا جائے۔ 6۔ 2 مسح پورے سر کا کیا جائے۔ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے اپنے ہاتھ آگے سے پیچھے گدی تک لے جائے اور پھر وہاں سے آگے کو لائے جہاں سے شروع کیا تھا۔ اسی کے ساتھ کانوں کا مسح کرلے۔ 6۔ 3 ارجلکم کا عطف وجوھکم پر ہے یعنی اپنے پیر ٹخنوں تک دھوؤ! 6۔ 4 جنابت سے مراد وہ ناپاکی ہے جو احتلام یا بیوی سے ہم بستری کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے اور اسی حکم میں حیض اور نفاس بھی داخل ہے۔ جب حیض اور نفاس کا خون بند ہوجائے تو پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے طہارت یعنی غسل ضروری ہے۔ البتہ پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی اجازت ہے جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے (فتح القدیر) 6۔ 5 اس کی مختصر تشریح اور تیمم کا طریقہ سورة نساء کی آیت نمبر 23 میں گزر چکا ہے۔ صحیح بخاری میں اس کی شان نزول کی بابت آتا ہے کہ ایک سفر میں بیداء کے مقام پر حضرت عائشہ ؓ کا ہار گم ہوگیا جس کی وجہ سے وہاں پر رکنا یا رہنا پڑا۔ صبح کی نماز کے لئے لوگوں کے پاس پانی نہ تھا اور تلاش ہوئی تو پانی دستیاب بھی نہیں ہوا اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں تیمم کی اجازت دی گئی ہے۔ حضرت اسید بن حضیر ؓ نے آیت سن کر کہا اے آل ابی بکر! تمہاری وجہ سے اللہ نے لوگوں کے لئے برکتیں نازل فرمائی ہیں یہ تمہاری کوئی پہلی برکت نہیں ہے۔ (تم لوگوں کے لئے سراپا برکت ہو) (صحیح بخاری) 6۔ 6 اس لئے تیمم کی اجازت فرما دی ہے۔ 6۔ 7 اسی لئے حدیث میں وضو کرنے کے بعد دعا کرنے کی ترغیب ہے۔ دعاؤں کی کتابوں سے دعا یاد کرلی جائے
(آیت 6)➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ ……:} اوپر کی آیات میں { ”اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ“ } کے تحت حلال و حرام چیزیں بتائی گئی تھیں، اب اس آیت میں اسی کے تحت وضو اور تیمم کے احکام بیان فرمائے ہیں جو عقود میں شامل ہیں اور سہولت پر مشتمل ہونے کے اعتبار سے اتمام نعمت(نعمت پوری کرنا) بھی ہیں۔ (کبیر، قرطبی) غزوۂ مریسیع(۵ یا ۶ ہجری) میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہو گیا تھا، ہار کی تلاش میں صبح ہو گئی اور پانی موجود نہ تھا، لوگ فکر مند ہوئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [ بخاری، التیمم، باب: ۳۳۴ ] اس آیت سے چونکہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی رخصت ملی، اس لیے علماء نے اس آیت کو آیتِ وضو کے بجائے آیتِ تیمم بھی کہا ہے۔ (قرطبی) نماز سے پہلے وضو نہ ہو تو وضو فرض ہے ورنہ مستحب، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وضو کے ساتھ کئی نمازیں پڑھی ہیں۔ [ مسلم، الطہارۃ، باب جواز الصلوات کلہا بوضوء واحد: ۲۷۷ ] اس آیت میں وضو کا بیان ہے، وضو میں سب سے پہلے نیت ضروری ہے، کیونکہ حدیث میں ہے: [ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ] ”تمام اعمال(عبادات) کے لیے نیت ضروری ہے۔“ [ بخاری، بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی إلی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم : ۱ ] اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” اس میں ایمان، وضو، نماز، زکوٰۃ، حج، روزہ الغرض تمام اعمال داخل ہیں۔“ قرآن نے چار اعضا کا ذکر کیا ہے، مگر اس کا عملی طریقہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے مطابق ہونا چاہیے۔ ➋ {فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ:} منہ دھونے میں کلی کرنا اور ناک میں پانی داخل کرکے جھاڑنا اور داڑھی کا خلال بھی شامل ہے۔ [ ابن ماجہ، الطہارۃ، باب ما جاء فی تخلیل اللحیۃ: ۴۳۱ ] ”کہنیوں تک “ میں کہنیاں بھی شامل ہیں، انھیں بھی دھونا لازم ہے۔ نعیم مجمر فرماتے ہیں میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انھوں نے چہرہ دھویا اور مکمل وضو کیا، پھر اپنا دایاں ہاتھ دھویا یہاں تک کہ کہنی سے اوپر والے حصے تک لے گئے، پھر بایاں ہاتھ یہاں تک کہ کہنی سے اوپر تک لے گئے پھر اپنا دایاں پاؤں دھویا یہاں تک کہ پنڈلی تک پہنچا دیا، پھر بایاں پاؤں دھویا یہاں تک کہ پنڈلی تک لے گئے، پھر فرمایا: ”میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔“ [ مسلم، الطہارۃ، باب استحباب اطالۃ الغرۃ……: ۲۴۶ ] ➌ {وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ:} گو بہت سے علماء نے لکھا ہے کہ سارے سر کا مسح فرض نہیں بلکہ سر کے کچھ حصے کا مسح کر لیا جائے تو بھی کافی ہے، مگر قرآن کے ظاہر اور احادیث کی رو سے سارے سر کا مسح کرنا چاہیے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ بھی پگڑی کے بغیر سر کے کچھ حصے کا مسح ثابت نہیں، آپ دونوں ہاتھ آگے سے گدی تک لے جاتے، پھر واپس لے آتے، ہاں پگڑی ہونے کی صورت میں سر کے سامنے والے حصے کے بعد پگڑی پر مسح کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ صحیح مسلم (۸۱؍۲۷۴) میں ہے، پوری پگڑی پر بھی مسح کر سکتا ہے۔ [ أبو داوٗد: ۱۴۶ ] سر کے مسح کے ساتھ کانوں کا مسح حدیث سے ثابت ہے۔ [ نسائی: ۱۰۳۔ ابن ماجہ: ۴۳۹ ] سر کے مسح کے بعد گردن کا الگ مسح یا الٹے ہاتھوں مسح کرنے کا ثبوت نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے نہیں ملتا، لہٰذا یہ بدعت ہے۔ ➍ {وَ اَرْجُلَكُمْ:} اس میں ”لام“ کے زبر اور زیر کے ساتھ دو قراء تیں مروی ہیں۔ فتح والی قراء ت کی رو سے تو ظاہر ہے کہ { ”فَاغْسِلُوْا“ } کا مفعول ہونے کی بنا پر پاؤں دھونا ثابت ہے۔ زیر والی قراء ت میں قریب ہونے کی وجہ سے جر ہے، یعنی پہلا لفظ { ”بِرُءُوْسِكُمْ“ } مجرور ہونے کی موافقت کے لیے { ”وَ اَرْجُلَكُمْ“ } کو کسرہ دے دیا ورنہ { ”فَاغْسِلُوْا“ } کا مفعول ہونے کی وجہ سے دراصل منصوب ہے۔ تمام علمائے اہل سنت کا یہی مذہب ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سی احادیث میں ثابت ہے کہ آپ پاؤں دھویا کرتے تھے، ان پر مسح نہیں فرماتے تھے۔ عبد اﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے، پھر آپ نے ہمیں پا لیا، نماز کا وقت ہو گیا تھا، ہم وضو کر رہے تھے اور (جلدی میں) اپنے پاؤں پر گیلا ہاتھ پھیر رہے تھے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں تین مرتبہ فرمایا: ” ان ایڑیوں کے لیے آگ میں بڑی ہلاکت ہے۔“ [ بخاری، العلم، باب من رفع صوتہ بالعلم: ۶۰ ] اگر موزے یا جرابیں باوضو ہونے کی حالت میں پہنی ہوں تو ان پر صحیح احادیث کے مطابق مسح کیا جا سکتا ہے۔ وضو میں ترتیب بھی ضروری ہے، جیسا کہ {” فَاغْسِلُوْا “} کی ”فاء “ سے ثابت ہوتا ہے کہ چہرہ پہلے دھویا جائے گا، باقی اعضاء میں بھی ترتیب ہو گی، مسح راس کے بعد غسل رجلین کے ذکر میں بھی ترتیب کی طرف اشارہ ہے، یعنی {”فَاغْسِلُوْا“} کا مفعول بعد میں ذکر ہوا ہے اور ہمیشہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ترتیب سے وضو کیا ہے، کبھی اس کے خلاف نہیں کیا۔ اعضاء کو کم از کم ایک مرتبہ اور زیادہ سے زیادہ تین دفعہ دھونا ثابت ہے، اس سے زیادہ جائز نہیں۔ ➎ {فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۴۳)۔ ➏ {مَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ ……:} تنگی میں نہ ڈالنے کی وجہ سے اور پانی نہ ہونے کی صورت میں مٹی کے ساتھ مکمل طہارت ہی کے لیے اس نے تیمم کا حکم نازل فرمایا ہے، تاکہ تم پر نعمت تمام ہو اور تم شکر ادا کرو۔
اللہ نے تم کو جو نعمت عطا کی ہے اس کا خیال رکھو اور اُس پختہ عہد و پیمان کو نہ بھولو جو اُس نے تم سے لیا ہے، یعنی تمہارا یہ قول کہ، "ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی" اللہ سے ڈرو، اللہ دلوں کے راز تک جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم پر اللہ تعالیٰ کی جو نعمتیں نازل ہوئی ہیں انہیں یاد رکھو اور اس کے اس عہد کو بھی جس کا تم سے معاہده ہوا ہے جبکہ تم نے کہا ہم نے سنا اور مانا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ دلوں کی باتوں کا جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر اور وہ عہد جو اس نے تم سے لیا جبکہ تم نے کہا ہم نے سنا اور مانا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یاد کرو اللہ کا وہ احسان جو اس نے تم پر کیا۔ اور اس کے عہد و پیمان کو جو اس نے تم سے لیا۔ جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور مانا۔ اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ دلوں کے رازوں کو خوب جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو اور اس کا عہد جو اس نے تم سے مضبوط باندھا، جب تم نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سینوں کی بات کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
”اسلام“ زبان سے عہد اور ”ایمان“ عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار ٭٭
اس دین عظیم اور اس رسول اللہ کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کر لینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے۔ اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے الفاظ ہیں کہ { ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ”ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7056]
باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ ’ تم کیوں ایمان نہیں لاتے؟ حالانکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے ‘۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کے قول قرار ہو چکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ ’ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ ‘ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ سدی رحمة الله اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہیئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہو جاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔
بخاری و مسلم میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا { کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟ } جواب دیا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا }۔ چنانچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2586] پھر فرمایا ’ دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آ کر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہیئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے ‘۔ «هُوَ» کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کر دی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے «وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» ۱؎ [24-النور:28] یعنی ’ اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے ‘۔ پس یہاں «هُوَ» کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا۔ اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔
یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر «هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى» «أَفْعَلِ التَّفْضِيلِ» کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے، «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24] ۔ اور جیسے کہ کسی صحابیہ رضی اللہ عنہا کا عمر رضی اللہ عنہ سے کہنا کہ «اَنْتَ اَفَظُّ وَاَغْلَظُ مِنْ رَّسُوْلِ الّلهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3294] ’ اللہ سے ڈرو! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیر و شر کا پورا پورا بدلہ دے گا ‘۔ وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کر چکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چنانچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً بعد جواب دیا کہ { اللہ عزوجل }، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو آواز دی اور جب وہ آ گئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا۔ اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4135]
قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”کچھ لوگوں نے دھوکے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا }۔ ابن اسحاق رحمة الله وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کر لیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کر دینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے وہیں سے پلٹ گئے۔ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، ’ مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے ‘۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کر دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11560]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 7) {وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ ……:} اس آیت میں نعمت سے مراد اسلام ہے، میثاق اور اقرار سے مراد وہ عہد ہے جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہر آدمی سے مسلمان ہونے پر لیا کرتے تھے، چونکہ وہ اﷲ کے حکم سے تھا، اس لیے اﷲ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف منسوب فرمایا(منکرین حدیث کو غور کرنا چاہیے)۔ اس سے مراد وہ عہد بھی ہو سکتا ہے جو اﷲ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی اولاد سے لیا تھا، جو ان کی فطرت میں داخل ہے اور یہ بھی کہ یہود کو متنبہ فرمایا ہو کہ آخری نبی کی پیروی کا جو عہد تم سے لیا گیا ہے اسے پورا کرو، مگر پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ (ابن کثیر، قرطبی)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاؤ، راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ، کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل پر آماده نہ کردے، عدل کیا کرو جو پرہیز گاری کے زیاده قریب ہے، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والوں اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ انصاف کے ساتھ گواہی دیتے اور تم کو کسی قوم کی عداوت اس پر نہ اُبھارے کہ انصاف نہ کرو، انصاف کرو، وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ کو تمہارے کامو ں کی خبر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! اللہ کے لیے پوری پابندی کرنے والے اور راستی پر قائم رہنے والے۔ اور عدل و انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو (خبردار) کسی قوم سے دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ اور عدل سے پھر جاؤ۔ عدل کرو۔ کہ وہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اللہ سے ڈرو بے شک تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر خوب قائم رہنے والے، انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جائو اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں ہرگز اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ اس سے پوری طرح با خبر ہے جو تم کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
”اسلام“ زبان سے عہد اور ”ایمان“ عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار ٭٭
اس دین عظیم اور اس رسول اللہ کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کر لینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے۔ اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے الفاظ ہیں کہ { ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ”ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7056]
باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ ’ تم کیوں ایمان نہیں لاتے؟ حالانکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے ‘۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کے قول قرار ہو چکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ ’ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ ‘ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ سدی رحمة الله اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہیئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہو جاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔
بخاری و مسلم میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا { کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟ } جواب دیا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا }۔ چنانچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2586] پھر فرمایا ’ دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آ کر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہیئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے ‘۔ «هُوَ» کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کر دی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے «وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» ۱؎ [24-النور:28] یعنی ’ اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے ‘۔ پس یہاں «هُوَ» کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا۔ اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔
یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر «هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى» «أَفْعَلِ التَّفْضِيلِ» کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے، «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24] ۔ اور جیسے کہ کسی صحابیہ رضی اللہ عنہا کا عمر رضی اللہ عنہ سے کہنا کہ «اَنْتَ اَفَظُّ وَاَغْلَظُ مِنْ رَّسُوْلِ الّلهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3294] ’ اللہ سے ڈرو! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیر و شر کا پورا پورا بدلہ دے گا ‘۔ وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کر چکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چنانچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً بعد جواب دیا کہ { اللہ عزوجل }، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو آواز دی اور جب وہ آ گئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا۔ اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4135]
قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”کچھ لوگوں نے دھوکے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا }۔ ابن اسحاق رحمة الله وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کر لیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کر دینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے وہیں سے پلٹ گئے۔ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، ’ مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے ‘۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کر دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11560]
8۔ 1، 2 پہلے جملے کی تشریح سورة نساء آیت نمبر 135 میں دوسرے جملے کی سورة المائدۃ کے آغاز میں گزر چکی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک عادلانہ گواہی کی اہمیت ہے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے جو حدیث میں آتا ہے حضرت نعمان بن بشیر کہتے ہیں میرے باپ نے مجھے عطیہ دیا تو میری والدہ نے کہا، اس عطیے پر آپ جب تک اللہ کے رسول کو گواہ نہیں بنائیں گے میں راضی نہیں ہوں گی۔ چناچہ میرے والد انکی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو اس طرح کا عطیہ دیا ہے؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا ' اللہ سے ڈرو اور اولاد کے درمیان انصاف کرو ' اور فرمایا کہ میں ' ظلم پر گواہ نہیں بنوں گا ' (صحیح بخاری)
(آیت 8){ كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ:} اس کی تشریح سورۂ نساء (۱۳۵) میں گزر چکی ہے، اسی طرح «وَ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ …» کی تشریح سورۂ مائدہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اکثر کافروں نے مسلمانوں سے بڑی دشمنی کی تھی، جب وہ مسلمان ہوئے تو فرمایا کہ ان سے وہ دشمنی نہ نکالو اور ہر جگہ یہی حکم ہے، حق بات میں دوست اور دشمن برابر ہیں۔“ (موضح)
جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کی خطاؤں سے درگزر کیا جائے گا اور انہیں بڑا اجر ملے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ کا وعده ہے کہ جو ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں ان کے لئے وسیع مغفرت اور بہت بڑا اجر و ﺛواب ہے
احمد رضا خان بریلوی
ایمان والے نیکو کاروں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے وعدہ کیا ہے کہ ان کے لیے بخشش اور بڑا اجر و ثواب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے کہ بے شک ان کے لیے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
”اسلام“ زبان سے عہد اور ”ایمان“ عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار ٭٭
اس دین عظیم اور اس رسول اللہ کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کر لینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے۔ اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے الفاظ ہیں کہ { ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ”ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7056]
باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ ’ تم کیوں ایمان نہیں لاتے؟ حالانکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے ‘۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کے قول قرار ہو چکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ ’ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ ‘ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ سدی رحمة الله اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہیئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہو جاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔
بخاری و مسلم میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا { کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟ } جواب دیا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا }۔ چنانچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2586] پھر فرمایا ’ دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آ کر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہیئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے ‘۔ «هُوَ» کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کر دی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے «وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» ۱؎ [24-النور:28] یعنی ’ اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے ‘۔ پس یہاں «هُوَ» کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا۔ اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔
یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر «هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى» «أَفْعَلِ التَّفْضِيلِ» کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے، «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24] ۔ اور جیسے کہ کسی صحابیہ رضی اللہ عنہا کا عمر رضی اللہ عنہ سے کہنا کہ «اَنْتَ اَفَظُّ وَاَغْلَظُ مِنْ رَّسُوْلِ الّلهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3294] ’ اللہ سے ڈرو! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیر و شر کا پورا پورا بدلہ دے گا ‘۔ وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کر چکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چنانچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً بعد جواب دیا کہ { اللہ عزوجل }، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو آواز دی اور جب وہ آ گئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا۔ اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4135]
قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”کچھ لوگوں نے دھوکے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا }۔ ابن اسحاق رحمة الله وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کر لیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کر دینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے وہیں سے پلٹ گئے۔ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، ’ مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے ‘۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کر دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11560]
رہے وہ لوگ جو کفر کریں اور اللہ کی آیات کو جھٹلائیں، تو وہ دوزخ میں جانے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہمارے احکام کو جھٹلایا وه دوزخی ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وحی دوزخ والے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا یہی دوزخ والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہی بھڑکتی آگ والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
”اسلام“ زبان سے عہد اور ”ایمان“ عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار ٭٭
اس دین عظیم اور اس رسول اللہ کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کر لینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے۔ اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے الفاظ ہیں کہ { ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ”ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7056]
باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ ’ تم کیوں ایمان نہیں لاتے؟ حالانکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے ‘۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کے قول قرار ہو چکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ ’ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ ‘ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ سدی رحمة الله اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہیئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہو جاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔
بخاری و مسلم میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا { کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟ } جواب دیا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا }۔ چنانچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2586] پھر فرمایا ’ دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آ کر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہیئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے ‘۔ «هُوَ» کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کر دی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے «وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» ۱؎ [24-النور:28] یعنی ’ اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے ‘۔ پس یہاں «هُوَ» کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا۔ اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔
یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر «هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى» «أَفْعَلِ التَّفْضِيلِ» کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے، «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24] ۔ اور جیسے کہ کسی صحابیہ رضی اللہ عنہا کا عمر رضی اللہ عنہ سے کہنا کہ «اَنْتَ اَفَظُّ وَاَغْلَظُ مِنْ رَّسُوْلِ الّلهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3294] ’ اللہ سے ڈرو! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیر و شر کا پورا پورا بدلہ دے گا ‘۔ وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کر چکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چنانچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً بعد جواب دیا کہ { اللہ عزوجل }، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو آواز دی اور جب وہ آ گئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا۔ اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4135]
قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”کچھ لوگوں نے دھوکے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا }۔ ابن اسحاق رحمة الله وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کر لیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کر دینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے وہیں سے پلٹ گئے۔ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، ’ مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے ‘۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کر دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11560]
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے اُس احسان کو یاد کرو جو اُس نے (ابھی حال میں) تم پر کیا ہے، جبکہ ایک گروہ نے تم پر دست درازی کا ارادہ کر لیا تھا مگر اللہ نے اُن کے ہاتھ تم پر اٹھنے سے روک دیے اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، ایمان رکھنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو احسان تم پر کیا ہے اسے یاد کرو جب کہ ایک قوم نے تم پر دست درازی کرنی چاہی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں کو تم تک پہنچنے سے روک دیا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب ایک قوم نے چاہا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ تم پر سے روک دیئے اور اللہ سے ڈرو اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے اس وقت تم پر کیا جب ایک گروہ نے ارادہ کیا تھا کہ وہ تمہاری طرف دست درازی کرے مگر اللہ نے (اپنی قدرت کاملہ سے) ان کو تم سے روک دیا۔ اللہ سے ڈرو۔ اور اہل ایمان کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو۔ جب کچھ لوگوں نے ارادہ کیا کہ تمھاری طرف اپنے ہاتھ بڑھائیں تو اس نے ان کے ہاتھ تم سے روک دیے اور اللہ سے ڈرو اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
”اسلام“ زبان سے عہد اور ”ایمان“ عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار ٭٭
اس دین عظیم اور اس رسول اللہ کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کر لینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے۔ اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے الفاظ ہیں کہ { ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ”ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7056]
باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ ’ تم کیوں ایمان نہیں لاتے؟ حالانکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے ‘۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کے قول قرار ہو چکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ ’ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ ‘ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ سدی رحمة الله اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہیئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہو جاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔
بخاری و مسلم میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا { کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟ } جواب دیا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا }۔ چنانچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2586] پھر فرمایا ’ دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آ کر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہیئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے ‘۔ «هُوَ» کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کر دی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے «وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» ۱؎ [24-النور:28] یعنی ’ اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے ‘۔ پس یہاں «هُوَ» کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا۔ اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔
یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر «هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى» «أَفْعَلِ التَّفْضِيلِ» کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے، «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24] ۔ اور جیسے کہ کسی صحابیہ رضی اللہ عنہا کا عمر رضی اللہ عنہ سے کہنا کہ «اَنْتَ اَفَظُّ وَاَغْلَظُ مِنْ رَّسُوْلِ الّلهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3294] ’ اللہ سے ڈرو! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیر و شر کا پورا پورا بدلہ دے گا ‘۔ وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کر چکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چنانچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً بعد جواب دیا کہ { اللہ عزوجل }، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو آواز دی اور جب وہ آ گئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا۔ اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4135]
قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”کچھ لوگوں نے دھوکے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا }۔ ابن اسحاق رحمة الله وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کر لیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کر دینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے وہیں سے پلٹ گئے۔ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، ’ مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے ‘۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کر دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11560]
11۔ 1 اس کی شان نزول میں مفسرین نے متعدد واقعات بیان کئے ہیں۔ مثلًا اس اعرابی کا واقعہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپسی پر ایک درخت کے سائے میں آرام فرما تھے، تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی اس اعرابی نے تلوار پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سونت لی اور کہنے لگا۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا تامل فرمایا اللہ (یعنی اللہ بچائے گا) یہ کہنا تھا کہ تلوار ہاتھ سے گرگئی۔ بعض کہتے ہیں کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے خلاف جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف فرما تھے، دھوکا اور فریب سے نقصان پہنچانے کی سازش تیار کی تھی۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچایا۔ بعض کہتے ہیں کہ ایک مسلمان کے ہاتھوں غلط فہمی سے جو دو عامری شخص قتل ہوگئے تھے، ان کی دیت کی ادائیگی میں یہودیوں کے قبیلے بنو نفیر سے حسب وعدہ جو تعاون لینا تھا، اس کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رفقا سمیت تشریف لے گئے اور ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے یہ سازش تیار کی تھی کہ اوپر سے چکی کا پتھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر گرا دیا جائے، جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی مطلع فرما دیا۔ ممکن ہے سارے ہی واقعات کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کیونکہ ایک آیت کے نزول کے کئی اسباب و عوامل ہوسکتے ہیں (تفسیر ابن کثیر و فتح القدیر)
(آیت 11) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ:} عمومی انعامات کے بعد اب خصوصی انعام کا ذکر ہے۔ (رازی) ➋ {اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ يَّبْسُطُوْۤا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ ……:} جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نجد کی طرف رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں ساتھ تھے، جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے تو وہ بھی واپس لوٹے۔ دوپہر کے آرام کا وقت ایسی وادی میں آیا جہاں بہت سے خاردار درخت تھے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اتر پڑے اور لوگ درختوں کے سائے کے لیے درختوں (کی تلاش) میں بکھر گئے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کیکر کے درخت کے نیچے اترے اور اپنی تلوار اس کے ساتھ لٹکا دی۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم تھوڑی دیر ہی سوئے تھے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا، ہم آپ کے پاس آئے تو آپ کے پاس ایک بدوی بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے میری تلوار سونت لی، جب کہ میں سویا ہوا تھا، میں جاگ پڑا تو اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی، مجھ سے کہنے لگا، تمھیں مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا، اﷲ! تو دیکھو یہ بیٹھا ہے۔“ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ نہیں کہا۔ [ بخاری، المغازی، باب غزوۃ ذات الرقاع: ۴۱۳۵] ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک دیت کے سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ایک یہودی قبیلے بنو نضیر کے ہاں تشریف لے گئے، انھوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ایک دیوار کے سائے میں بٹھایا اور آپس میں پروگرام بنایا کہ ان کے اوپر چکی کا پاٹ گرا دیا جائے۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو خبردار کر دیا اور آپ وہاں سے اٹھ گئے۔ (ابن کثیر) ممکن ہے قرآن نے اس ایک آیت میں ان متعدد واقعات کی طرف اشارہ فرمایا ہو اور یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک آیت ایک واقعہ کے متعلق نازل ہوتی ہے، پھر یاددہانی کے لیے دوسرے واقعہ میں اس کی طرف اشارہ کر دیا جاتا ہے۔ (المنار، قرطبی)
اللہ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا اور ان میں بارہ نقیب مقرر کیے تھے اور ان سے کہا تھا کہ "میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ دی اور میرے رسولوں کو مانا اور ان کی مدد کی اور اپنے خدا کو اچھا قرض دیتے رہے تو یقین رکھو کہ میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، مگراس کے بعد جس نے تم میں سے کفر کی روش اختیار کی تو در حقیقت اُس نے سوا٫ السبیل گم کر دی"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد و پیمان لیا اور انہی میں سے باره سردار ہم نے مقرر فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ یقیناً میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نماز قائم رکھو گے اور زکوٰة دیتے رہو گے اور میرے رسولوں کو مانتے رہو گے اور ان کی مدد کرتے رہو گے اور اللہ تعالیٰ کو بہتر قرض دیتے رہو گے تو یقیناً میں تمہاری برائیاں تم سے دور رکھوں گا اور تمہیں ان جنتوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے چشمے بہہ رہے ہیں، اب اس عہد وپیمان کے بعد بھی تم میں سے جو انکاری ہو جائے وه یقیناً راه راست سے بھٹک گیا
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد کیا اور ہم نے ان میں بارہ سردار قائم کیے اور اللہ نے فرمایا بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں ضرور اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور میرے سوالوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو اور اللہ کو قرض حسن دو بیشک میں تمہارے گناہ اتار دوں گا اور ضرور تمہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں، پھر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے وہ ضرور سیدھی راہ سے بہکا
علامہ محمد حسین نجفی
اور بلاشبہ اللہ نے بنی اسرائیل سے عہدوپیمان لیا تھا اور ہم نے بھی بارہ نقیب (سردار) مقرر کئے تھے۔ اور اللہ نے (ان سے) کہا تھا کہ بے شک میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تو اگر تم نماز قائم رکھوگے، اور زکوٰۃ دیتے رہوگے اور میرے رسولوں پر ایمان لاتے رہوگے، اور ان کی مدد کرتے رہوگے اور اللہ کو قرضہ حسنہ دیتے رہوگے تو میں ضرور تمہارے گناہ تم سے دور کر دوں گا۔ (معاف کر دوں گا) اور تمہیں ان بہشتوں میں داخل کروں گا۔ جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی مگر تم میں سے جس نے اس کے بعد کفر اختیار کیا وہ ضرور سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا اللہ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ہم نے ان میں سے بارہ سردار مقرر کیے اور اللہ نے فرمایا بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، اگر تم نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور میرے رسولوں پر ایمان لائے اور انھیں قوت دی اور اللہ کو قرض دیا، اچھا قرض تو یقیناً میں تم سے تمھارے گناہ ضرور دور کروں گا اور یقیناً تمھیں ایسے باغوں میں ضرور داخل کروں گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، پھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا تو یقیناً وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عہد شکن لوگ اور امام مہدی کون؟ ٭٭
اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو عہد و پیمان کی وفاداری، حق پر مستقیم رہنے اور عدل کی شہادت دینے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی اپنی ظاہری و باطنی نعمتوں کو یاد دلایا تھا۔ تو اب ان آیتوں میں ان سے پہلے کے اہل کتاب سے جو عہد و میثاق لیا تھا، اس کی حقیقت و کیفیت کو بیان فرما رہا ہے، پھر جبکہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان توڑ ڈالے تو ان کا کیا حشر ہوا، اسے بیان فرما کر گویا مسلمانوں کو عہد شکنی سے روکتا ہے۔ ان کے بارہ سردار تھے۔ یعنی بارہ قبیلوں کے بارہ چودھری تھے جو ان سے ان کی بیعت کو پورا کراتے تھے کہ یہ اللہ اور رسول علیہ السلام کے تابع فرمان رہیں اور کتاب اللہ کی اتباع کرتے رہیں۔ موسیٰ علیہ السلام جب سرکشوں سے لڑنے کیلئے گئے تب ہر قبیلہ میں سے ایک ایک سردار منتخب کر گئے تھے۔ اوبیل قبیلے کا سردار شامون بن اکون تھا، شمعونیوں کا چودھری شافاط بن جدی، یہودا کا کالب بن یوحنا، فیخائیل کا ابن یوسف اور افرایم کا یوشع بن نون اور بنیامین کے قبیلے کا چودھری قنطمی بن وفون، زبولون کا جدی بن شوری، منشاء کاجدی بن سوسی، دان حملاسل کا ابن حمل، اشار کا ساطور، تفتای کا بحر اور یاسخر کالابل۔ توراۃ کے چوتھے جز میں بنو اسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں کے نام مذکور ہیں۔ جو ان ناموں سے قدرے مختلف ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
موجودہ تورات کے نام یہ ہیں۔ بنو ادبیل پر صونی بن سادون، بنی شمعون پر شموال بن صور، بنو یہود پر حشون بن عمیاذب، بنو یساخر پر شال بن صاعون، بنو زبولوں پر الیاب بن حالوب، بنو افرایم پر منشابن عنہور، بنو منشاء پر حمائیل بنو بیبا میں پر ابیدن، بنودان پر جعیذ ربنو اشاذ نحایل۔ بون کان پر سیف بن دعوابیل، بنو نفعالی پر اجذع۔ یاد رہے کہ لیلتہ العقبہ میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے بیعت لی اس وقت ان کے سردار بھی بارہ ہی تھے۔ تین قبیلہ اوس کے۔ حضرت اسید بن حضیر، سعد بنی خیشمہ اور رفاعہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہم اور نو سردار قبیلہ خزرج تھے۔ ابوامامہ، اسعد بن زرارہ، سعد بن ربیع، عبداللہ بن رواحہ، رافع بن مالک بن عجلان براء بن معرور عبادہ بن صامت، سعد بن عبادہ، عبداللہ بن عمرو بن حرام، منذربن عمرو بن حنیش رضی اللہ عنہم اجمعین۔ انہی سرداروں نے اپنی اپنی قوم کی طرف سے پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم سے فرامین سننے اور ماننے کی بیعت کی۔
حضرت مسروق رحمة الله فرماتے ہیں ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے، آپ رضی اللہ عنہ ہمیں اس وقت قرآن پڑھا رہے تھے تو ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی پوچھا ہے کہ اس امت کے کتنے خلیفہ ہوں گے؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں جب سے عراق آیا ہوں، اس سوال کو بجز تیرے کسی نے نہیں پوچھا، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تھا تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بارہ ہوں گے، جتنی گنتی بنو اسرائیل کے نقیبوں کی تھی } }۔ ۱؎ [مسند احمد:389/1:ضعیف] یہ روایت سنداً غریب ہے، لیکن مضمون حدیث بخاری اور مسلم کی روایت سے بھی ثابت ہے۔
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، { لوگوں کا کام چلتا رہے گا، جب تک ان کے والی بارہ شخص نہ ہولیں }، پھر ایک لفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن میں نہ سن سکا تو میں نے دوسروں سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اب کون سا لفظ فرمایا، انہوں نے جواب دیا یہ فرمایا کہ { یہ سب قریش ہوں گے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7223-7222] صحیح مسلم میں یہی لفظ ہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بارہ خلیفہ صالح نیک بخت ہونگے۔ جو حق کو قائم کریں گے اور لوگوں میں عدل کرینگے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ سب پے در پے یکے بعد دیگرے ہی ہوں۔
پس چار خلفاء تو پے در پے سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی رضی اللہ عنہم جن کی خلافت بطریق نبوت رہی۔ انہی بارہ میں سے پانچویں عمر بن عبدالعزیز رحمة الله ہیں۔ بنو عباس میں سے بھی بعض اسی طرح کے خلیفہ ہوئے ہیں اور قیامت سے پہلے پہلے ان بارہ کی تعداد پوری ہونی ضروری ہے اور انہی میں سے امام مہدی رحمة الله ہیں، جن کی بشارت احادیث میں آ چکی ہے ان کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ہو گا اور ان کے والد کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کا ہو گا، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے حالانکہ اس سے پہلے وہ ظلم و جبر سے پُر ہوگی ۱؎ [سنن ابوداود:4282،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن اس سے شیعوں کا امام منتظر مراد نہیں، اس کی تو دراصل کوئی حقیقت ہی نہیں، نہ سرے سے اس کا کوئی وجود ہے، بلکہ یہ تو صرف شیعہ کی وہم پرستی اور ان کا تخیل ہے، نہ اس حدیث سے شیعوں کے فرقے اثنا عشریہ کے ائمہ مراد ہیں۔ اس حدیث کو ان ائمہ پر محمول کرنا بھی شیعوں کے اس فرقہ کی بناوٹ ہے جو ان کی کم عقلی اور جہالت کا کرشمہ ہے۔
توراۃ میں سیدنا اسمعیل علیہ السلام کی بشارت کے ساتھ ہی مرقوم ہے کہ ان کی نسل میں سے بارہ بڑے شخص ہونگے، اسے مراد بھی یہی مسلمانوں کے بارہ قریشی بادشاہ ہیں لیکن جو یہودی مسلمان ہوئے تھے، وہ اپنے اسلام میں کچے اور جاہل بھی تھے، انہوں نے شیعوں کے کان میں کہیں یہ صور پھونک دیا اور وہ سمجھ بیٹھے کہ اس سے مراد ان کے بارہ امام ہیں، ورنہ حدیثیں اس کے واضح خلاف موجود ہیں۔
1۔ 12 جب اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو وہ عہد اور میثاق پورا کرنے کی تاکید کی جو اس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے لیا اور انہیں قیام حق اور شہادت عدل کا حکم دیا اور انہیں وہ انعامات یاد کرائے جو ان پر ظاہرا و باطنا ہوئے اور بالخصوص یہ بات کہ انہیں حق وثواب کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائی تو اب اس مقام پر اس عہد کا ذکر فرمایا جا رہا ہے جو بنی اسرائیل سے لیا گیا اور جس میں وہ ناکام رہے۔ یہ گویا بالواسطہ مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ تم بھی کہیں بنو اسرائیل کی طرح عہد ومیثاق کو پامال کرنا شروع نہ کردینا۔ 2۔ 12 اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ ؑ جبابرہ سے قتال کے لیے تیار ہوئے تو انہوں نے اپنی قوم کے بارہ قبیلوں بارہ نقیب مقرر فرما دیے تاکہ وہ انہیں جنگ کے لیے تیار بھی کریں، ان کی قیادت و راہنمائی بھی کریں اور دیگر معاملات کا انتظام بھی کریں۔
(آیت 12) {وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ ……:} پیچھے آیت (۷) میں گزرا ہے کہ مسلمانو! اپنے آپ پر اﷲ کی نعمت اور اپنے اس عہد کو یاد کرو جب تم نے سمع و طاعت کا پختہ عہد کیا تھا، اب فرمایا کہ یہ عہد صرف تم ہی سے نہیں لیا گیا بلکہ تم سے پہلے بنی اسرائیل سے بھی اسی قسم کا عہد لیا گیا تھا، مگر انھوں نے عہد توڑ دیا اور ذلت و مسکنت کا شکار ہوئے، لہٰذا تم ان جیسے مت بنو۔ (کبیر) بنی اسرائیل کے کل بارہ قبیلے تھے، اﷲ تعالیٰ نے انھی میں سے ان پر بارہ سردار مقرر کر دیے، تاکہ وہ ان کے حالات پر نظر رکھیں اور انھیں اپنے عہد پر قائم رہنے کی تلقین کرتے رہیں۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ نقیب (سردار) ان جبارین (زبردست لوگوں کی قوم) کی خبر لانے کے لیے مقرر کیے تھے جن کا ذکر آیت (۲۱ تا ۲۶) میں آ رہا ہے۔ (ابن کثیر) مگر ظاہر الفاظ سے پہلی بات صحیح معلوم ہوتی ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی لیلۃ العقبہ میں جب سمع و طاعت پر بیعت لی تھی تو ان پر بارہ نقیب ہی مقرر فرمائے تھے۔ (قرطبی)
پھر یہ اُن کا اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کر دیے اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کر کے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں، جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اُس کا بڑا حصہ بھول چکے ہیں، اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں (پس جب یہ اِس حال کو پہنچ چکے ہیں تو جو شرارتیں بھی یہ کریں وہ ان سے عین متوقع ہیں) لہٰذا انہیں معاف کرو اور ان کی حرکات سے چشم پوشی کرتے رہو، اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش رکھتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر اپنی لعنت نازل فرمادی اور ان کے دل سخت کردیئے کہ وه کلام کو اس کی جگہ سے بدل ڈالتے ہیں اور جو کچھ نصیحت انہیں کی گئی تھی اس کا بہت بڑا حصہ بھلا بیٹھے، ان کی ایک نہ ایک خیانت پر تجھے اطلاع ملتی ہی رہے گی ہاں تھوڑے سے ایسے نہیں بھی ہیں پس توانہیں معاف کرتا جا اور درگزر کرتا ره، بےشک اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو ان کی کیسی بد عہدیوں پر ہم نے انہیں لعنت کی اور ان کے دل سخت کردیئے اللہ کی باتوں کو ان کے ٹھکانوں سے بدلتے ہیں اور بُھلا بیٹھے بڑا حصہ ان نصیحتوں کا جو انہیں دی گئیں اور تم ہمیشہ ان کی ایک نہ ایک دغا پر مطلع ہوتے رہو گے سوا تھوڑوں کے تو انہیں معاف کردو اور ان سے درگزرو بیشک احسان والے ا لله کو محبوب ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی (اپنی رحمت سے دور کر دیا) اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا کہ وہ اب کلامِ (الٰہی) کو اس کی اصلی جگہ سے ہٹا دیتے ہیں (تحریف کرتے ہیں) اور جس چیز کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا بڑا حصہ بھلا بیٹھے ہیں (اے پیغمبر(ص)) ان کے معدودے چند آدمیوں کے سوا برابر ان کی کسی نہ کسی خیانت پر مطلع ہوتے رہیں گے لہٰذا انہیں معاف کر دیجیے اور ان سے درگزر کیجیے بے شک اللہ معاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو ان کے اپنے عہد کو توڑنے کی وجہ ہی سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا کہ وہ کلام کو اس کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں اور وہ اس میں سے ایک حصہ بھول گئے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی اور تو ہمیشہ ان کی کسی نہ کسی خیانت کی خبر پاتا رہے گا، سوائے ان کے تھوڑے سے لوگوں کے، سو انھیں معاف کردے اور ان سے درگزر کر۔ بے شک اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اب اس عہد و پیمان کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے یہودیوں سے لیا تھا کہ وہ نمازیں پڑھتے رہیں، زکوٰۃ دیتے رہیں، اللہ کے رسولوں کی تصدیق کریں، ان کی نصرت و اعانت کریں اور اللہ کی مرضی کے کاموں میں اپنا مال خرچ کریں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ کی مدد و نصرت ان کے ساتھ رہے گی، ان کے گناہ معاف ہونگے اور یہ جنتوں میں داخل کئے جائیں گے، مقصود حاصل ہوگا اور خوف زائل ہوگا۔ لیکن اگر وہ اس عہد و پیمان کے بعد پھرگئے اور اسے غیر معروف کر دیا تو یقیناً وہ حق سے دور ہو جائیں گے، بھٹک اور بہک جائیں گے۔ چنانچہ یہی ہوا کہ انہوں نے میثاق توڑ دیا، وعدہ خلافی کی تو ان پر اللہ کی لعنت نازل ہوئی، ہدایت سے دور ہوگئے، ان کے دل سخت ہوگئے اور وعظ و پند سے مستفید نہ ہو سکے، سمجھ بگڑ گئی، اللہ کی باتوں میں ہیر پھیر کرنے لگے، باطل تاویلیں گھڑنے لگے، جو مراد حقیقی تھی، اس سے کلام اللہ کو پھیر کر اور ہی مطلب سمجھنے سمجھانے لگے، اللہ کا نام لے کر وہ مسائل بیان کرنے لگے، جو اللہ کے بتائے ہوئے نہ تھے، یہاں تک کہ اللہ کی کتاب ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی، وہ اس سے بےعمل چھوٹ جانے کی توجہ سے نہ تو دل ٹھیک رہے، نہ فطرت اچھی رہی۔ نہ خلوص و اخلاص رہا، غداری اور مکاری کو اپنا شیوہ بنا لیا۔ نت نئے جال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب نبی کے خلاف بنتے رہے۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے چشم پوشی کیجئے ‘، یہی معاملہ ان کے ساتھ اچھا ہے، جیسے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جو تجھ سے اللہ کے فرمان کے خلاف سلوک کرے تو اس سے حکم الٰہی کی بجا آوری کے ماتحت سلوک کر۔“ اس میں ایک بڑی مصلحت یہ بھی ہے کہ ممکن ہے ان کے دل کھنچ آئیں، ہدایت نصیب ہو جائے اور حق کی طرف آ جائیں۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ یعنی دوسروں کی بدسلوکی سے چشم پوشی کر کے خود نیا سلوک کرنے والے اللہ کے محبوب ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”درگزر کرنے کا حکم جہاد کی آیت سے منسوخ ہے۔“
13۔ 1 یعنی اتنے انتظامات عہد موعید کے باوجود بنو اسرائیل نے عہد شکنی کی کہ جس کی بنا پر کہ وہ لعنت الٰہی کے موجب بنے، اس لعنت کے دینوی نتائج یہ سامنے آئے کہ ایک، ان کے دل سخت کردیئے گئے جس سے ان کے دل اثر پزیری سے محروم ہوگئے اور انبیاء کے وعظ و نصیحت ان کے لیے بےکار ہوگئے، دوسرے یہ کہ وہ کلمات الٰہی میں تحریف کرنے لگ گئے۔ اسی طرح اپنی بدعلت، خود ساختہ مزعومات اور اپنے تاویلات باطلہ کے اثبات کے لیے کلام الٰہی میں تحریف کر ڈالتے ہیں۔ 13۔ 2 یہ تیسرا نتیجہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ احکام الٰہی پر عمل کرنے میں انہیں کوئی رغبت اور دلچسپی نہیں رہی بلکہ بےعملی اور بدعملی ان کا شعار بن گئی اور وہ پستی کے اس مقام پر پہنچ گئے کہ ان کے دل ٹھیک رہے اور نہ ان کی فطرت مستقیم۔ 13۔ 3 یعنی شذر خیانت اور مکر ان کے کردار جزو بن گیا ہے جس کے نمونے ہر وقت آپ کے سامنے آتے رہیں گے۔ 13۔ 4 یہ تھوڑے سے لوگ وہی ہیں جو یہودیوں میں سے مسلمان ہوگئے تھے اور ان کی تعداد دس سے بھی کم تھی۔ 13۔ 5 عفو و درگزر کا یہ حکم اس وقت دیا گیا جب لڑنے کی اجازت نہیں تھی۔ بعد میں اس کی جگہ حکم دیا گیا (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ) 9:29 ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان نہیں رکھتے ' بعض کے نزدیک عفو و درگزر کا یہ حکم منسوخ نہیں ہے۔ ' یہ بجائے خود ایک اہم حکم ہے، حالات کے مطابق اسے بھی اختیار کیا جاسکتا ہے اور اس کے بھی بعض دفعہ وہ نتائج حاصل ہوجاتے ہیں جن کے لئے قتال کا حکم ہے۔
(آیت 13) ➊ {فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ ……:} یعنی انھوں نے اپنے عہد و میثاق کی پاس داری کے بجائے سمع و طاعت کا وہ عہد توڑ دیا، نماز کو ضائع کرنا شروع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے۔(دیکھیے مریم: ۵۹) زکوٰۃ اور قرض حسنہ (صدقہ وغیرہ) کے بجائے بخل اور کمینگی کی انتہا کو پہنچ گئے اور سود لینا شروع کر دیا، رسولوں اور ان کی کتابوں پر ایمان لانے اور جہاد کے ساتھ انھیں قوت دینے کے بجائے کتابوں میں تحریف کی اور جہاد میں جانے ہی سے صاف انکار کر دیا، تورات کے بہت سے حصے پر عمل ترک کر دیا، جس کے نتیجے میں اﷲ نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں میں نفاق بھر گیا۔ {” قَسِيَّةٌ “} یا {” قَاسِيَةٌ“} اصل میں اس سکے کو کہتے ہیں جس میں ملاوٹ ہو، یہ {”قَسْوَةٌ “} سے ہے جس کا معنی شدت اور سختی ہے۔ خالص سونا اور چاندی نرم ہوتے ہیں اور ان میں جتنی ملاوٹ زیادہ ہو اتنا ہی وہ زیادہ سخت ہو جاتے ہیں، اس تشبیہ کی رعایت سے انھیں {” قَاسِيَةٌ “} فرمایا۔ ➋ {يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ:} یعنی ایک لفظ کی جگہ دوسرا لفظ رکھ دیتے، یا اس کے اصل مفہوم کے بجائے کوئی غلط مفہوم نکال لیتے جسے تاویل باطل کہتے ہیں، اپنی اسی خست کی وجہ سے ہیرا پھیری کر کے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان صفات کو بدل ڈالا جو تورات میں مذکور تھیں۔ (قرطبی) ➌ {وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ:} یعنی انھوں نے تورات کے بہت سے حصے پر عمل ترک کر دیا، جیسا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا، زانی کو سنگسار کرنا، سود کو حرام سمجھنا وغیرہ۔ افسوس اہل کتاب کی طرح مسلمانوں کی اکثریت نے بھی سمع و طاعت کو چھوڑا، نمازیں ضائع کیں، سود کھانے لگے، جہاد چھوڑ بیٹھے، باہمی فرقوں میں بٹ کر اﷲ کی کتاب میں تحریف کی حد تک تاویلیں کرنے لگے، تو نتیجہ بھی وہی ہے جو پہلوں کا تھا، مگر امید افزا بات یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق امت مسلمہ میں ایسے لوگ قیامت تک رہیں گے جو حق پر قائم رہیں گے اور حق کی خاطر لڑتے رہیں گے، انھی کو {”عَلَي الْحَقِّ مَنْصُوْرِيْنَ“} کہا گیا ہے۔ [ مسلم، الإمارۃ، باب قولہ لا تزال طائفۃ……: ۱۰۳۷، بعد ح: ۱۹۲۳۔ ابن ماجہ: ۱۰ ] ➍ {” خَآىِٕنَةٍ “} مصدر ہے بر وزن {” عَافِيَةٌ “} بمعنی خیانت یعنی ان سے آئے دن کسی نہ کسی خیانت اور بد عہدی کا ظہور ہوتا رہے گا، یا اسم فاعل ہے کہ خیانت کرنے والی جماعت یا شخصیت یعنی ان میں ہمیشہ ایسے لوگ موجود رہیں گے جو خیانت اور بدعہدی کا ارتکاب کرتے رہیں گے اور آپ کو ہر گز ان کی طرف سے امن نصیب نہیں ہو گا۔ «اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ» یعنی ان میں سے چند لوگ ایسے ہیں جو کسی خیانت و بد عہدی کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ ان سے خاص کر عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی مراد ہیں، یا وہ لوگ جنھوں نے کفر کے باوجود کسی قسم کی خیانت اور بد عہدی نہیں کی۔ (کبیر) ➎ {فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ:} یعنی ان کی انفرادی خیانتوں اور بد عہدیوں سے درگزر کیجیے نہ کہ ان بد عہدیوں سے جو اجتماعی (یا اجتماعی کے حکم میں) ہوں، کیونکہ اس صورت میں تو وہ واضح حربی (جو حالت جنگ میں ہوں) قرار پائیں گے، جن کی سر کوبی بہرحال کی جائے گی۔ (المنار) یا یہ کہ جو ان میں سے خیانت کا ارتکاب نہیں کرتے اور اپنے عہد پر قائم ہیں، ان کی دوسری لغزشوں سے در گزر فرمائیں۔ (رازی) ان دونوں صورتوں میں یہ آیت محکم رہے گی، ورنہ اسے قتال (لڑائی) کے حکم والی آیت سے منسوخ سمجھا جائے گا۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۲۹)۔
اِسی طرح ہم نے اُن لوگوں سے بھی پختہ عہد لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم "نصاریٰ" ہیں، مگر ان کو بھی جو سبق یاد کرایا گیا تھا اس کا ایک بڑا حصہ اُنہوں نے فراموش کر دیا آخر کار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے دشمنی اور آپس کے بغض و عناد کا بیج بو دیا، اور ضرور ایک وقت آئے گا جب اللہ انہیں بتائے گا کہ وہ دنیا میں کیا بناتے رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو اپنے آپ کو نصرانی کہتے ہیں ہم نے ان سے بھی عہد وپیمان لیا، انہوں نے بھی اس کا بڑا حصہ فراموش کر دیا جو انہیں نصیحت کی گئی تھی، تو ہم نے بھی ان کے آپس میں بغض وعداوت ڈال دی جو تاقیامت رہے گی اور جو کچھ یہ کرتے تھے عنقریب اللہ تعالیٰ انہیں سب بتا دے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جنہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے عہد لیا تو وہ بھلا بیٹھے بڑا حصہ ان نصیحتوں کا جو انہیں دی گئیں تو ہم نے ان کے آپس میں قیامت کے دن تک بَیر اور بغض ڈال دیا اور عنقریب اللہ انہیں بتادے گا جو کچھ کرتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں ان سے بھی پختہ عہد لیا تھا۔ سو جو کچھ بھی انہیں نصیحت کی گئی تھی، جب وہ اس کا بڑا حصہ بھلا بیٹھے۔ تو ہم نے (بطورِ سزا) قیامت تک ان کے درمیان بغض و عناد ڈال دیا۔ اور عنقریب اللہ ان کو بتائے گا کہ وہ (دنیا میں کیا کرتے تھے)۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں سے جنھوں نے کہا بے شک ہم نصاریٰ ہیں، ہم نے ان کا پختہ عہد لیا، پھر وہ اس کا ایک حصہ بھول گئے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک دشمنی اور کینہ روی بھڑکا دی اور عنقریب اللہ انھیں اس کی خبر دے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ ان نصرانیوں سے بھی ہم نے وعدہ لیا تھا کہ جو رسول آئے گا، یہ اس پر ایمان لائیں گے، اس کی مدد کرینگے اور اس کی باتیں مانیں گے ‘۔ ’ لیکن انہوں نے بھی یہودیوں کی طرح بدعہدی کی، جس کی سزا میں ہم نے ان میں آپس میں عداوت ڈال دی جو قیامت تک جاری رہے گی ‘۔ ان میں فرقے فرقے بن گئے جو ایک دوسرے کو کافر و ملعون کہتے ہیں اور اپنے عبادت خانوں میں بھی نہیں آنے دیتے ملکیہ فرقہ یعقوبیہ فرقے کو، یعقوبیہ ملکیہ کو کھلے بندوں کافر کہتے ہیں، اسی طرح دوسرے تمام فرقے بھی، انہیں ان کے اعمال کی پوری تنبیہہ عنقریب ہوگی۔ انہوں نے بھی اللہ کی نصیحتوں کو بھلا دیا ہے اور اللہ پر تہمتیں لگائی ہیں اس پر بیوی اور اولاد والا ہونے کا بہتان باندھا ہے، یہ قیامت کے دن بری طرح پکڑے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ واحد و احد فرد «اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ» ہے۔
14۔ 1 نصاری نصرۃ مدد سے ہے یہ حضرت عیسیٰ ؑ کے سوال من انصاری الی اللہ) اللہ کے دین میں کون میرا مددگار ہے؟ کے جواب میں ان کے چند مخلص پیروکاروں نے جواب دیا تھا (نحن انصار اللہ) ہم اللہ کے مددگار ہیں اسی سے ماخوذ ہے۔ یہ بھی یہود کی طرح اہل کتاب ہیں۔ ان سے بھی اللہ تعالیٰ نے عہد لیا، لیکن انہوں نے بھی اس کی پرواہ نہیں کی، اس کے نتیجے میں ان کے دل بھی اثر پزیری سے خالی اور ان کے کردار کھوکھلے ہوگئے۔ 14۔ 2 یہ عہد الٰہی سے انحراف اور بےعملی کی وہ سزا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر قیامت تک کے لئے مسلط کردی گئی۔ چناچہ عیسائیوں کے کئی فرقے ہیں جو ایک دوسرے سے شدید نفرت وعناد رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی تکفیر (کافر سمجھتے) کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی عبادت گاہ میں عبادت نہیں کرتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ پر بھی یہ سزا مسلط کردی گئی ہے۔ یہ امت بھی کئی فرقوں میں بٹ گئی ہے، جن کے درمیان شدید اختلافات اور نفرت وعناد کی دیواریں حائل ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔
(آیت 14) ➊ {وَ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى ……:} یعنی ”اﷲ کے مدد گار“ چونکہ یہ لوگ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں، اس لیے اﷲ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے نصاریٰ سے اقرار لیا، بلکہ یہ فرمایا کہ ہم نے ان لوگوں سے اقرار لیا جو اپنے آپ کو ”نصاریٰ“ کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہود کی طرح نصاریٰ سے بھی ہم نے توحید اور نبی آخر الزماں پر ایمان لانے کا عہد لیا مگر انھوں نے بھی اس عہد کو توڑ ڈالا۔ (کبیر، قرطبی) ➋ {فَاَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ:} یعنی ہم نے اس وقت سے لے کر قیامت تک ان کے درمیان دشمنی اور کینہ وری بھڑکا دی، چنانچہ اس وقت بھی ان میں آپس میں مذہبی عداوت پائی جاتی ہے اور پھر خود نصرانیوں کے بھی بہت سے فرقے ہیں جو آپس میں ایک دوسرے کے دشمن اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ رہا مسلمانوں کے مقابلے میں ان کا ایک ہونا تو وہ مسلمانوں کے ترکِ جہاد اور کفار کا مسلمانوں کے ممالک سے اپنا اپنا حصہ لینے کے لیے ہے، ورنہ ظاہر میں ایک نظر آنے کے باوجود ان کی باہمی لڑائی ایک یقینی حقیقت ہے، جس کا مطالعہ کر کے مسلمان فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: «تَحْسَبُهُمْ جَمِيْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى» [ الحشر: ۱۴ ] ”تو خیال کرے گا کہ وہ اکٹھے ہیں، حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں۔“ مگر افسوس اب مسلمانوں میں ایسا اختلاف اور دشمنی پیدا ہو گئی کہ صرف مسلمان نام نے انھیں جمع کر رکھا ہے، باقی کفار ان کے افتراق سے فائدہ اٹھا کر ان پر حکومت کر رہے ہیں۔
اے اہل کتاب! ہمارا رسول تمہارے پاس آ گیا ہے جو کتاب الٰہی کی بہت سی اُن باتوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن پر تم پردہ ڈالا کرتے تھے، اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کر جاتا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آ گئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب
مولانا محمد جوناگڑھی
اے اہل کتاب! یقیناً تمہارے پاس ہمارا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) آچکا جو تمہارے سامنے کتاب اللہ کی بکثرت ایسی باتیں ﻇاہر کر رہا ہے جنہیں تم چھپا رہے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے، تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آچکی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے کتاب والو بیشک تمہارے پاس ہمارے یہ رسول تشریف لائے کہ تم پر ظاہر فرماتے ہیں بہت سی وہ چیزیں جو تم نے کتاب میں چھپا ڈالی تھیں اور بہت سی معاف فرماتے ہیں بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب
علامہ محمد حسین نجفی
اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارا وہ پیغمبر آگیا ہے جو بہت سی ان باتوں کو کھول کر بیان کر رہا ہے۔ جنہیں تم اس کتاب میں سے چھپاتے رہے ہو اور بہت سی باتوں کو نظر انداز بھی کر دیتا ہے۔ بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور (روشنی) اور واضح کتاب آگئی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے اہل کتاب! بے شک تمھارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، جو تمھارے لیے ان میں سے بہت سی باتیں کھول کر بیان کرتا ہے، جو تم کتاب میں سے چھپایا کرتے تھے اور بہت سی باتوں سے در گزر کرتا ہے۔ بے شک تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور واضح کتاب آئی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
علمی بددیانت ٭٭
فرماتا ہے کہ ’ رب الاعلیٰ نے اپنے عالی قدر رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تمام مخلوق کی طرف بھیج دیا ہے، معجزے اور روشن دلیلیں انہیں عطا فرمائی ہیں جو باتیں یہود و نصاریٰ نے بدل ڈالی تھیں، تاویلیں کرکے دوسرے مطلب بنا لیے تھے اور اللہ کی ذات پر بہتان باندھتے تھے، کتاب اللہ کے جو حصے اپنے نفس کے خلاف پاتے تھے، انہیں چھپا لیتے تھے، ان سب علمی بد دیانتیوں کو یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بے نقاب کرتے ہیں۔ ہاں جس کے بیان کی ضرورت ہی نہ ہو، بیان نہیں فرماتے ‘۔ مستدرک حاکم میں ہے ”جس نے رجم کے مسئلہ کا انکار کیا، اس نے بےعملی سے قرآن سے انکار کیا۔“ چنانچہ اس آیت میں اسی رجم کے چھپانے کا ذکر ہے۔ پھر قرآن عظیم کی بابت فرماتا ہے کہ ’ اسی نے اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی یہ کتاب اتاری ہے، جو جویائے حق کو سلامتی کی راہ بتاتی ہے، لوگوں کو ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتی ہے اور راہ مستقیم کی رہبر ہے اس کتاب کی وجہ سے اللہ کے انعاموں کو حاصل کر لینا اور اس کی سزاؤں سے بچ جانا بالکل آسان ہو گیا ہے یہ ضلالت کو مٹا دینے والی اور ہدایت کو واضح کر دینے والی ہے ‘۔
15۔ 1 یعنی انہوں نے تورات و انجیل میں جو تبدیلیاں اور تحریفات کیں، انہیں طشت ازبام کیا اور جن کو وہ چھپاتے تھے، ظاہر کیا، جیسے سزائے رجم۔ جیسا کہ احادیث میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ 15۔ 2 نور اور کِتَابُ مُّیْن دونوں سے مراد قرآن کریم ہے، ان کے درمیان واو مغایرت مصداق نہیں مغایرت معنی کے لیے ہے اور یہ عطف تفسیری ہے جس کی واضح دلیل قرآن کریم کی اگلی آیت ہے جس میں کہا جا رہا ہے اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہدایت فرماتا ہے اگر نور اور کتاب یہ الگ الگ چیزیں ہوتیں تو الفاظ (یَّھدِیبِھِمَا اللّٰہَ) ہوتے، یعنی اللہ تعالیٰ ان دونوں کے ذریعے سے ہدایت فرماتا ہے، قرآن کریم کی اس خاص آیات سے واضح ہوگیا کہ نور اور کتاب مبین دونوں سے مراد ایک یہ چیز یعنی قرآن کریم ہے۔ یہ نہیں ہے کہ نور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔ جیسا کہ وہ اہل بدعت باور کراتے ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت نور من نور اللہ کا عقیدہ گھڑ رکھا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا انکار کرتے ہیں۔ اسی طرح اس خانہ ساز عقیدے کے اثبات کے لیے ایک حدیث بھی بیان کرتے ہیں کہ اللہ نے سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نور پیدا کیا اور پھر اس نور سے ساری کائنات پیدا کی۔ حالانکہ یہ حدیث، حدیث کے کسی بھی مستند مجموعے میں موجود نہیں ہے علاوہ ازیں یہ اس صحیح حدیث کے بھی خلاف ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلے قلم پیدا فرمایا محدث البانی لکھتے ہیں " فالحدیث صحیح بلا ریب، وھو من الادلۃ الظاھرۃ علی بطلان الحدیث المشھور " اول ماخلق اللہ نور نبیک یا جابر " مشہور حدیث جابر کہ اللہ نے سب سے پہلے تیرے نبی کا نور پیدا کیا باطل ہے۔
(آیت 15) ➊ {يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا ……:} یہود و نصاریٰ کے عہد توڑنے اور حق سے منہ موڑنے کا ذکر کرنے کے بعد اب ان کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ (کبیر) اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صفتیں بیان کی گئی ہیں، ایک یہ کہ بہت سے احکام جو وہ چھپایا کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بیان کرتے ہیں، جیسے رجم کی آیت، سبت والوں کا قصہ جن کی صورتیں مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنا دیا گیا تھا، اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات سے متعلق آیات، الغرض! یہود ان تمام باتوں کو چھپایا کرتے تھے۔ عبد اﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور عورت کو لایا گیا، جنھوں نے زنا کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنی کتاب میں اس کے بارے میں کیا حکم پاتے ہو؟“ انھوں نے کہا: ”ہمارے علماء نے (اس کی سزا) چہرے کو سیاہ کرنا اور گدھے پر گشت کروانا تجویز کی ہوئی ہے۔“ عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: ” اے اﷲ کے رسول! ان (کے علماء) کو تورات سمیت بلائیے۔“ چنانچہ تورات لائی گئی تو ان میں سے ایک نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے سے پڑھنا شروع کر دیا، عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: ”اپنا ہاتھ اٹھاؤ۔“ اس نے ہاتھ اٹھایا تو اس کے نیچے سے رجم کی آیت نکلی۔ چنانچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ دونوں سنگسار کر دیے گئے۔ [ بخاری، الحدود، باب الرجم فی البلاط: ۶۸۱۹ ] ➋ {قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِيْنٌ:} نور سے مراد اﷲ تعالیٰ کی کتاب ہی ہے۔ واؤ عاطفہ دونوں کو الگ الگ بتانے کے لیے نہیں بلکہ تفسیر کے لیے ہے، یعنی کتاب مبین اس نور کی تفسیر ہے، جس کی واضح دلیل ایک تو اس سے بعد والی یہ آیت ہے: «يَهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ» یعنی جس کے ساتھ اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیچھے چلیں، سلامتی کے راستوں کی ہدایت دیتا ہے۔ اب اس آیت میں اگر نور اور کتاب مبین الگ الگ چیزیں ہوتیں تو الفاظ {” يَهْدِيْ بِهِمَا اللّٰهُ “} (اﷲ ان دونوں کے ساتھ ہدایت دیتا ہے) ہوتے۔ دوسری جگہ خود اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نور قرار دیا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا: «فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ» [الأعراف: ۱۵۷ ] ”سو وہ لوگ جو اس رسول پر ایمان لائے اور اسے قوت دی اور اس کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو اس کے ساتھ اتارا گیا، وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“ معلوم ہوا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اترنے والی کتاب ہی نور ہے۔ اسی طرح فرمایا: { «فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِيْۤ اَنْزَلْنَا» } [ التغابن: ۸ ] ”سو تم اﷲ اور اس کے رسول اور اس نور پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کیا۔“ قرآن مجید کے لیے نور کا لفظ سورۂ نساء اور دوسرے مقامات میں بھی آیا ہے، فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًا» [ النساء: ۱۷۴ ] ”اے لوگو! بلاشبہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آئی ہے اور ہم نے تمھاری طرف ایک واضح نور نازل کیا ہے۔“ بعض مفسرین نے نور سے مراد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور کتاب مبین سے مراد قرآن مجید لیا ہے۔ اس صورت میں بھی معنی یہ ہو گا کہ اﷲ کی طرف سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روشنی بن کر اور قرآن ایک کتاب مبین بن کر آئے ہیں، جس کے ساتھ اﷲ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے، یعنی آپ ایک تو ہدایت کا نور ہیں، دوسرا {” نُوْرٌ مِنَ اللهِ “} یعنی اﷲ کی طرف سے آنے والے نور ہیں جو اﷲ کی مخلوق ہیں نہ کہ {” نُوْرٌ مِنْ نُوْرِ اللهِ “} یعنی اﷲ کے نور میں سے نور کا ایک ٹکڑا ہیں کہ اﷲ کا حصہ ہوں یا خود ہی اﷲ ہوں۔ یہ تو وہی نصرانیوں والا عقیدہ ہے کہ انھوں نے مسیح علیہ السلام کو اﷲ کا بیٹا بنایا اور ان حضرات نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو اﷲ کا ٹکڑا بنا دیا۔ سورۂ اخلاص اس گندے اور شرکیہ عقیدے کی خوب تردید کرتی ہے۔
جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے اذن سے اُن کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے اور راہ راست کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ انہیں جو رضائے رب کے درپے ہوں سلامتی کی راہیں بتلاتا ہے اور اپنی توفیق سے اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف ﻻتا ہے اور راه راست کی طرف ان کی رہبری کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ اس سے ہدایت دیتا ہے اسے جو اللہ کی مرضی پر چلا سلامتی کے ساتھ اور انہیں اندھیریوں سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے اپنے حکم سے اور انہیں سیدھی راہ دکھاتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جس کے ذریعہ سے خدا ان لوگوں کو سلامتی کے راستوں پر چلاتا ہے جو اس کی رضا کی اتباع و پیروی کرتے ہیں اور ان کو تاریکیوں (گمراہی) سے اپنے اذن و توفیق سے نور (ہدایت) کی طرف لاتا ہے اور انہیں سیدھے راستہ پر لگاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جس کے ساتھ اللہ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیچھے چلیں، سلامتی کے راستوں کی ہدایت دیتا ہے اور انھیں اپنے حکم سے اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے اور انھیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
علمی بددیانت ٭٭
فرماتا ہے کہ ’ رب الاعلیٰ نے اپنے عالی قدر رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تمام مخلوق کی طرف بھیج دیا ہے، معجزے اور روشن دلیلیں انہیں عطا فرمائی ہیں جو باتیں یہود و نصاریٰ نے بدل ڈالی تھیں، تاویلیں کرکے دوسرے مطلب بنا لیے تھے اور اللہ کی ذات پر بہتان باندھتے تھے، کتاب اللہ کے جو حصے اپنے نفس کے خلاف پاتے تھے، انہیں چھپا لیتے تھے، ان سب علمی بد دیانتیوں کو یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بے نقاب کرتے ہیں۔ ہاں جس کے بیان کی ضرورت ہی نہ ہو، بیان نہیں فرماتے ‘۔ مستدرک حاکم میں ہے ”جس نے رجم کے مسئلہ کا انکار کیا، اس نے بےعملی سے قرآن سے انکار کیا۔“ چنانچہ اس آیت میں اسی رجم کے چھپانے کا ذکر ہے۔ پھر قرآن عظیم کی بابت فرماتا ہے کہ ’ اسی نے اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی یہ کتاب اتاری ہے، جو جویائے حق کو سلامتی کی راہ بتاتی ہے، لوگوں کو ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتی ہے اور راہ مستقیم کی رہبر ہے اس کتاب کی وجہ سے اللہ کے انعاموں کو حاصل کر لینا اور اس کی سزاؤں سے بچ جانا بالکل آسان ہو گیا ہے یہ ضلالت کو مٹا دینے والی اور ہدایت کو واضح کر دینے والی ہے ‘۔
یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا مسیح ابن مریم ہی خدا ہے اے محمدؐ! ان سے کہو کہ اگر خدا مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو ہلاک کر دینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اُس کو اِس ارادے سے باز رکھ سکے؟ اللہ تو زمین اور آسمانوں کا اور اُن سب چیزوں کا مالک ہے جو زمین اور آسمانوں کے درمیان پائی جاتی ہیں، جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً وه لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے، آپ ان سے کہہ دیجیئے کہ اگر اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم اور اس کی والده اور روئے زمین کے سب لوگوں کو ہلاک کر دینا چاہے تو کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر کچھ بھی اختیار رکھتا ہو؟ آسمانوں و زمین اور دونوں کے درمیان کا کل ملک اللہ تعالیٰ ہی کا ہے، وه جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک کافر ہوئے وہ جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح بن مریم ہی ہے تم فرما دو پھر اللہ کا کوئی کیا کرسکتا ہے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کردے مسیح بن مریم اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی جو چاہے پیدا کرتا ہے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یقینا وہ لوگ (نصرانی) کافر ہوگئے، جنہوں نے کہا کہ مسیح بن مریم ہی اللہ ہے۔ کہہ دیجیے کہ اگر اللہ مسیح مریم کو ان کی ماں اور تمام اہل زمین کو ہلاک کرنا چاہے۔ تو اس کے آگے کس کا ذرا بھی بس چل سکتا ہے (کہ اسے روک دے) آسمانوں پر، زمین پر اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ ان سب پر، اللہ ہی کی حکومت ہے۔ وہ جو چاہتا ہے، پیدا کرتا ہے اور اللہ تو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقیناً وہ لوگ کافر ہوگئے جنھوں نے کہا کہ بے شک اللہ مسیح ہی تو ہے، جو مریم کا بیٹا ہے، کہہ دے پھر کون اللہ سے کسی چیز کا مالک ہے، اگر وہ ارادہ کرے کہ مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں کو اور زمین میں جو لوگ ہیں سب کو ہلاک کر دے، اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس کی بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے۔ وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ وحدہ لا شریک ہے ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ عیسائیوں کے کفر کو بیان فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو الوہیت کا درجہ دے رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک سے پاک ہے، تمام چیزیں اس کی محکوم اور مقدور ہیں، ہر چیز پر اس کی حکومت اور ملکیت ہے۔ کوئی نہیں جو اسے کسی ارادے سے باز رکھ سکے، کوئی نہیں جو اس کی مرضی کے خلاف لب کشائی کی جرأت کر سکے۔ وہ اگر مسیح کو، ان کی والدہ کو اور روئے زمین کی تمام مخلوق کا موجد و خالق وہی ہے۔ سب کا مالک اور سب کا حکمراں وہی ہے۔ جو چاہے کر گزرے کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں، اس سے کوئی بازپرس نہیں کر سکتا، اس کی سلطنت و مملکت بہت وسیع ہے، اس کی عظمت، عزت بہت بلند ہے، وہ عادل و غالب ہے۔ جسے جس طرح چاہتا ہے بناتا بگاڑتا ہے، اس کی قدرتوں کی کوئی انتہاء نہیں ‘۔
نصرانیوں کی تردید کے بعد اب یہودیوں اور نصرانیوں دونوں کی تردید ہو رہی ہے کہ ’ انہوں نے اللہ پر ایک جھوٹ یہ باندھا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں، ہم انبیاء کی اولاد ہیں اور وہ اللہ کے لاڈلے فرزند ہیں ‘۔ اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسرائیل علیہ السلام کو کہا ہے «(أَنْتَ ابْنِي بِكْرِي)» پھر تاویلیں کر کے مطلب الٹ پلٹ کر کے کہتے کہ جب وہ اللہ کے بیٹے ہوئے تو ہم بھی اللہ کے بیٹے اور عزیز ہوئے حالانکہ خود ان ہی میں سے جو عقلمند اور صاحب دین تھے وہ انہیں سمجھاتے تھے کہ ان لفظوں سے صرف بزرگی ثابت ہوتی ہے، قرابت داری نہیں۔ اسی معنی کی آیت نصرانی اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا «(إِنِّي ذَاھِبٌ اِلـٰی اَبِیْ وَاَبِیْکُمْ)» اس سے مراد بھی سگا باپ نہ تھا بلکہ ان کے اپنے محاورے میں اللہ کیلئے یہ لفظ بھی آتا تھا۔ پس مطلب اس کا یہ ہے کہ میں اپنے اور تمہارے رب کی طرف جا رہا ہوں اور عبادت کا مفہوم واضح بتا رہا ہے کہ یہاں اس آیت میں جو نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے، وہی نسبت ان کی تمام امت کی طرف ہے لیکن وہ لوگ اپنے باطل عقیدے میں عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ سے جو نسبت دیتے ہیں، اس نسبت کا اپنے اپنے اوپر اطلاق نہیں مانتے۔ پس یہ لفظ صرف عزت و وقعت کیلئے تھا نہ کہ کچھ اور۔
اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے کہ ’ اگر یہ صحیح ہے تو پھر تمہارے کفر و کذب، بہتان و افتراء پر اللہ تمہیں سزا کیوں کرتا ہے؟ ‘۔ کسی صوفی نے کسی فقیہ سے دریافت فرمایا کہ ”کیا قرآن میں یہ بھی کہیں ہے کہ حبیب اپنے حبیب کو عذاب نہیں کرتا؟ اس سے کوئی جواب بن نہ پڑا تو صوفی نے یہی آیت تلاوت فرما دی۔“ یہ قول نہایت عمدہ ہے اور اسی کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ راہ سے گزر رہے تھے، ایک چھوٹا سا بچہ راستہ میں کھیل رہا تھا، اس کی ماں نے جب دیکھا کہ اسی جماعت کی جماعت اسی راہ آ رہی ہے تو اسے ڈر لگا کہ بچہ روندا نہ جائے میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی ہوئی آئی اور جھٹ سے بچے کو گود میں اٹھا لیا اس پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ عورت تو اپنے پیارے بچے کو کبھی بھی آگ میں نہیں ڈال سکتی“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { ٹھیک ہے، اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے بندوں کو ہرگز جہنم میں نہیں لے جائے گا }۔“ ۱؎ [مسند احمد:104/3:صحیح]
یہودیوں کے جواب میں فرماتا ہے کہ ’ تم بھی منجملہ اور مخلوق کے ایک انسان ہو تمہیں دوسروں پر کوئی فوقیت و فضیلت نہیں، اللہ سبحان و تعالیٰ اپنے بندوں پر حاکم ہے اور وہی ان میں سچے فیصلے کرنے والا ہے، وہ جسے چاہے بخشے جسے چاہے پکڑے، وہ جو چاہے کر گزرتا ہے، اس کا کوئی حاکم نہیں، اسے کوئی رد نہیں کر سکتا، وہ بہت جلد بندوں سے حساب لینے والا ہے۔ زمین و آسان اور ان کے درمیان کی مخلوق سب اس کی ملکیت ہے“ اس کے زیر اثر ہے، اس کی بادشاہت تلے ہے، سب کا لوٹنا اس کی طرف ہے، وہی بندوں کے فیصلے کرے گا، وہ ظالم نہیں عادل ہے، نیکوں کو نیکی اور بدوں کو بدی دے گا ‘۔ نعمان بن آصا، بحر بن عمرو، شاس بن عدی جو یہودیوں کے بڑے بھاری علماء تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا بجھایا، آخرت کے عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے سنئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ڈرا رہے ہیں، ہم تو اللہ کے بچے اور اس کے پیارے ہیں، یہی نصرانی بھی کہتے تھے پس یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11616:ضعیف] ان لوگوں نے ایک بات یہ بھی گھڑ کر مشہور کر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسرائیل علیہ السلام کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تیرا پہلونٹھا بیٹا میری اولاد میں سے ہے۔ اس کی اولاد چالیس دن تک جہنم میں رہے گی، اس مدت میں آگ انہیں پاک کر دے گی اور ان کی خطاؤں کو کھا جائے گی، پھر ایک فرشتہ منادی کرے گا کہ اسرائیل کی اولاد میں سے جو بھی ختنہ شدہ ہوں، وہ نکل آئیں، یہی معنی ہیں ان کے اس قول کے جو قرآن میں مروی ہے ’ وہ کہتے ہیں ہمیں گنتی کے چند ہی دن جہنم میں رہنا پڑے گا ‘۔
17۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور ملکیت تامہ کا بیان فرمایا ہے۔ مقصد عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح کا رد وابطال ہے۔ حضرت عیسیٰ کے عین اللہ ہونے کے قائل پہلے تو کچھ ہی لوگ تھے یعنی ایک ہی فرقہ۔ یعقوبیہ کا یہ عقیدہ تھا لیکن اب تمام عیسائی الوہیت مسیح کے کسی نہ کسی انداز سے قائل ہیں۔ اس لئے مسیحیت میں اب عقیدہ تثلیث یا اقانیم ثلاثہ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ بہرحال قرآن نے اس مقام پر تصریح کردی کہ کسی پیغمبر اور رسول کو الٰہی صفات سے متصف قرار دینا کفر صریح ہے۔ اس کفر کا ارتکاب عیسائیوں نے، حضرت مسیح کو اللہ قرار دے کر کیا، اگر کوئی اور گروہ یا فرقہ کسی اور پیغمبر کو بشریت و رسالت کے مقام سے اٹھا کر الوہیت کے مقام پر فائز کرے گا تو وہ بھی اسی کفر کا ارتکاب کرے گا،
(آیت 17) ➊ {لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا ……:} یعنی جنھوں نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ اور مسیح ایک ہی چیز ہیں اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ پرانے زمانے میں یہ صرف نصرانیوں کے ایک فرقے یعقوبیہ کا عقیدہ تھا، مگر اس زمانے میں نصرانیوں کے جو تین فرقے پروٹسٹنٹ، کیتھولک اور آرتھوڈکس پائے جاتے ہیں وہ سب کے سب اگرچہ تثلیث کے قائل ہیں لیکن ان کا اصل مقصد مسیح علیہ السلام کو الٰہ(خدا) ماننا ہے، گویا وہ سب کے سب خدا اور مسیح کے ایک چیز ہونے کے قائل ہیں۔ اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے ان سب پر کافر ہونے کا فتویٰ لگایا ہے۔ (المنار) مسلمانوں میں الحمد ﷲ توحید الٰہی پر قائم لوگ کثرت سے موجود ہیں، مگر کئی ایسے گمراہ بھی ہیں جنھوں نے صاف کہہ دیا: وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر یہ بعینہٖ اوپر مذکور شرکیہ عقیدہ ہے، اﷲ تعالیٰ سب مسلمانوں کو توحید الٰہی کا عقیدہ رکھنے کی ہدایت اور اس پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین! ➋ {قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَيْـًٔا ……:} یعنی وہ مالک کل اور مختار کل ہے اور سب چیزوں پر اسے قدرت اور برتری حاصل ہے، وہ چاہے تو سب کو آن کی آن میں فنا کر سکتا ہے، اگر مسیح علیہ السلام خدا ہوتے تو کم از کم خود کو اور اپنی والدہ کو تو بچا سکتے تھے، لیکن اﷲ تعالیٰ نے ان کی والدہ کو فوت کر لیا اور ان کو بھی مقرر وقت پر فوت کرے گا، وہ موت سے بچ نہیں سکیں گے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ نہ تو خدا ہیں اور نہ خدا کے بیٹے، بلکہ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ (کبیر،قرطبی) ➌ {يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ:} یعنی وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور جس کو جیسے چاہتا ہے بناتا ہے، آدم علیہ السلام کو اس نے ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا کیا تو عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کر دینا اس کے لیے کیا مشکل تھا، محض باپ کے بغیر پیدا ہونے سے کوئی بندہ خدا نہیں بن جاتا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کسی جگہ انبیاء کے حق میں ایسی بات فرماتے ہیں تاکہ ان کی امت والے ان کو بندگی کی حد سے زیادہ نہ چڑھائیں۔ (موضح)
یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ان سے پوچھو، پھر وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں سزا کیوں دیتا ہے؟ در حقیقت تم بھی ویسے ہی انسان ہو جیسے اور انسان خدا نے پیدا کیے ہیں وہ جسے چاہتا ہے معاف کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے زمین اور آسمان اور ان کی ساری موجودات اس کی مِلک ہیں، اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں، آپ کہہ دیجیئے کہ پھر تمہیں تمہارے گناہوں کے باعﺚ اللہ کیوں سزا دیتا ہے؟ نہیں بلکہ تم بھی اس کی مخلوق میں سے ایک انسان ہو وه جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے عذاب کرتا ہے، زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور اسی کی طرف لوٹنا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور یہودی اور نصرانی بولے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں تم فرما دو پھر تمہیں کیوں تمہارے گناہوں پر عذاب فرماتا ہے بلکہ تم آدمی ہو اس کی مخلوقات سے جسے چاہے بخشتا ہے اور جسے چاہے سزا دیتا ہے، اور اللہ ہی کے لئے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین اور اس کے درمیان کی، اور اسی کی طرف پھرنا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ ان سے کہو (پوچھو) پھر خدا تمہیں تمہارے گناہوں پر سزا کیوں دیتا ہے؟ (نہیں) بلکہ تم بھی اس کی مخلوقات میں سے محض بشر (انسان) ہو۔ وہ جسے چاہتا ہے، بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے۔ سزا دیتا ہے اور اللہ ہی کے لئے ہے، سلطنت آسمانوں کی، زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کی اور سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہود و نصاریٰ نے کہا ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں، کہہ دے پھر وہ تمھیں تمھارے گناہوں کی وجہ سے سزا کیوں دیتا ہے، بلکہ تم اس (مخلوق) میں سے ایک بشر ہو جو اس نے پیدا کی ہے، وہ جسے چاہتا ہے بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس کی بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ وحدہ لا شریک ہے ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ عیسائیوں کے کفر کو بیان فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو الوہیت کا درجہ دے رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک سے پاک ہے، تمام چیزیں اس کی محکوم اور مقدور ہیں، ہر چیز پر اس کی حکومت اور ملکیت ہے۔ کوئی نہیں جو اسے کسی ارادے سے باز رکھ سکے، کوئی نہیں جو اس کی مرضی کے خلاف لب کشائی کی جرأت کر سکے۔ وہ اگر مسیح کو، ان کی والدہ کو اور روئے زمین کی تمام مخلوق کا موجد و خالق وہی ہے۔ سب کا مالک اور سب کا حکمراں وہی ہے۔ جو چاہے کر گزرے کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں، اس سے کوئی بازپرس نہیں کر سکتا، اس کی سلطنت و مملکت بہت وسیع ہے، اس کی عظمت، عزت بہت بلند ہے، وہ عادل و غالب ہے۔ جسے جس طرح چاہتا ہے بناتا بگاڑتا ہے، اس کی قدرتوں کی کوئی انتہاء نہیں ‘۔
نصرانیوں کی تردید کے بعد اب یہودیوں اور نصرانیوں دونوں کی تردید ہو رہی ہے کہ ’ انہوں نے اللہ پر ایک جھوٹ یہ باندھا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں، ہم انبیاء کی اولاد ہیں اور وہ اللہ کے لاڈلے فرزند ہیں ‘۔ اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسرائیل علیہ السلام کو کہا ہے «(أَنْتَ ابْنِي بِكْرِي)» پھر تاویلیں کر کے مطلب الٹ پلٹ کر کے کہتے کہ جب وہ اللہ کے بیٹے ہوئے تو ہم بھی اللہ کے بیٹے اور عزیز ہوئے حالانکہ خود ان ہی میں سے جو عقلمند اور صاحب دین تھے وہ انہیں سمجھاتے تھے کہ ان لفظوں سے صرف بزرگی ثابت ہوتی ہے، قرابت داری نہیں۔ اسی معنی کی آیت نصرانی اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا «(إِنِّي ذَاھِبٌ اِلـٰی اَبِیْ وَاَبِیْکُمْ)» اس سے مراد بھی سگا باپ نہ تھا بلکہ ان کے اپنے محاورے میں اللہ کیلئے یہ لفظ بھی آتا تھا۔ پس مطلب اس کا یہ ہے کہ میں اپنے اور تمہارے رب کی طرف جا رہا ہوں اور عبادت کا مفہوم واضح بتا رہا ہے کہ یہاں اس آیت میں جو نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے، وہی نسبت ان کی تمام امت کی طرف ہے لیکن وہ لوگ اپنے باطل عقیدے میں عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ سے جو نسبت دیتے ہیں، اس نسبت کا اپنے اپنے اوپر اطلاق نہیں مانتے۔ پس یہ لفظ صرف عزت و وقعت کیلئے تھا نہ کہ کچھ اور۔
اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے کہ ’ اگر یہ صحیح ہے تو پھر تمہارے کفر و کذب، بہتان و افتراء پر اللہ تمہیں سزا کیوں کرتا ہے؟ ‘۔ کسی صوفی نے کسی فقیہ سے دریافت فرمایا کہ ”کیا قرآن میں یہ بھی کہیں ہے کہ حبیب اپنے حبیب کو عذاب نہیں کرتا؟ اس سے کوئی جواب بن نہ پڑا تو صوفی نے یہی آیت تلاوت فرما دی۔“ یہ قول نہایت عمدہ ہے اور اسی کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ راہ سے گزر رہے تھے، ایک چھوٹا سا بچہ راستہ میں کھیل رہا تھا، اس کی ماں نے جب دیکھا کہ اسی جماعت کی جماعت اسی راہ آ رہی ہے تو اسے ڈر لگا کہ بچہ روندا نہ جائے میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی ہوئی آئی اور جھٹ سے بچے کو گود میں اٹھا لیا اس پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ عورت تو اپنے پیارے بچے کو کبھی بھی آگ میں نہیں ڈال سکتی“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { ٹھیک ہے، اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے بندوں کو ہرگز جہنم میں نہیں لے جائے گا }۔“ ۱؎ [مسند احمد:104/3:صحیح]
یہودیوں کے جواب میں فرماتا ہے کہ ’ تم بھی منجملہ اور مخلوق کے ایک انسان ہو تمہیں دوسروں پر کوئی فوقیت و فضیلت نہیں، اللہ سبحان و تعالیٰ اپنے بندوں پر حاکم ہے اور وہی ان میں سچے فیصلے کرنے والا ہے، وہ جسے چاہے بخشے جسے چاہے پکڑے، وہ جو چاہے کر گزرتا ہے، اس کا کوئی حاکم نہیں، اسے کوئی رد نہیں کر سکتا، وہ بہت جلد بندوں سے حساب لینے والا ہے۔ زمین و آسان اور ان کے درمیان کی مخلوق سب اس کی ملکیت ہے“ اس کے زیر اثر ہے، اس کی بادشاہت تلے ہے، سب کا لوٹنا اس کی طرف ہے، وہی بندوں کے فیصلے کرے گا، وہ ظالم نہیں عادل ہے، نیکوں کو نیکی اور بدوں کو بدی دے گا ‘۔ نعمان بن آصا، بحر بن عمرو، شاس بن عدی جو یہودیوں کے بڑے بھاری علماء تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا بجھایا، آخرت کے عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے سنئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ڈرا رہے ہیں، ہم تو اللہ کے بچے اور اس کے پیارے ہیں، یہی نصرانی بھی کہتے تھے پس یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11616:ضعیف] ان لوگوں نے ایک بات یہ بھی گھڑ کر مشہور کر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسرائیل علیہ السلام کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تیرا پہلونٹھا بیٹا میری اولاد میں سے ہے۔ اس کی اولاد چالیس دن تک جہنم میں رہے گی، اس مدت میں آگ انہیں پاک کر دے گی اور ان کی خطاؤں کو کھا جائے گی، پھر ایک فرشتہ منادی کرے گا کہ اسرائیل کی اولاد میں سے جو بھی ختنہ شدہ ہوں، وہ نکل آئیں، یہی معنی ہیں ان کے اس قول کے جو قرآن میں مروی ہے ’ وہ کہتے ہیں ہمیں گنتی کے چند ہی دن جہنم میں رہنا پڑے گا ‘۔
18۔ 1 یہودیوں نے حضرت عزیر کو اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو ابن اللہ کہا اور اپنے آپ کو بھی ابناء اللہ (اللہ کے بیٹے) اور اس کا محبوب قرار دے لیا۔ بعض کہتے ہیں یہاں ایک لفظ محذوف ہے یعنی اتباع ابناء اللہ ہم اللہ کے بیٹوں (عزیر و مسیح) کے پیروکار ہیں (دونوں مفہوموں میں سے کوئی سا بھی مفہوم مراد لیا جائے۔ اس سے ان کے تفاخر اور اللہ کے بارے میں بےجا اعتماد اظہار ہوتا ہے۔ جس کی اللہ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں۔ 18۔ 2 اس میں ان کے مذکورہ تفاخر کا بےبنیاد ہونا واضح کردیا گیا ہے کہ اگر تم واقعی اللہ کے محبوب اور چہیتے ہوتے یا محبوب ہونے کا مطلب یہ ہے تم جو چاہو کرو اللہ تم سے باز پرس نہیں کرے گا تو پھر اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے گناہوں کی پادش میں سزا کیوں دیتا رہا ہے؟ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ اللہ کی بارگاہ میں دعو وں کی بنیاد پر نہیں ہوتا نہ قیامت والے دن ہوگا بلکہ وہ تو ایمان وتقویٰ اور عمل دیکھتا ہے اور دنیا میں بھی اسی کی روشنی میں فیصلہ فرماتا ہے اور قیامت والے دن بھی اسی اصول پر فیصلہ ہوگا۔ 18۔ 3 تاہم یہ عذاب یا مغفرت کا فیصلہ اسی سنت اللہ کے مطابق ہوگا، جس کی اس نے وضاحت فرما دی ہے کہ اہل ایمان کے لئے مغفرت اور اہل کفر و فسق کے لئے عذاب، تمام انسانوں کا فیصلہ اسی کے مطابق ہوگا۔ اے اہل کتاب! تم بھی اسی کی پیدا کردہ مخلوق یعنی انسان ہو۔ تمہاری بابت فیصلہ دیگر انسانی مخلوق سے مختلف کیونکر ہوگا۔
(آیت 18) {وَ قَالَتِ الْيَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ ……:} اس آیتِ کریمہ میں یہود و نصاریٰ کی ایک اور گمراہی بیان کی گئی ہے کہ ہم تو اﷲ تعالیٰ کے بیٹے اور محبوب لوگ ہیں، چنانچہ بائبل میں آج تک اس قسم کے حوالے موجود ہیں: ” خداوند نے یوں فرمایا ہے کہ اسرائیل میرا بیٹا بلکہ میرا پلوٹھا ہے۔“ (خروج: ۴:۲۲) ”تم خداوند اپنے خدا کے فرزند ہو۔“ (استثناء: ۱۴: ۲۲) اور انجیل میں ہے کہ مسیح علیہ السلام نے نصاریٰ سے کہا: ” میں اپنے اور تمھارے باپ کے پاس جاتا ہوں۔ “ اگرچہ بعض یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ بیٹے سے مراد پیارا اور محبوب ہے، مگر پھر بھی ان کا یہ فخر اور دوسروں پر برتری کا اظہار کہ ہم خاص حق کے مقرب اور اونچے طبقے کے لوگ ہیں، جیسے برہمن وغیرہ کہتے ہیں، بالکل غلط ہے، اﷲ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی اور کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر اﷲ تمھارے گناہوں کی وجہ سے تمھیں عذاب کیوں دے گا! کہیں کوئی محب اپنے حبیب کو عذاب دیتا ہے؟ حالانکہ تم خود اپنی زبان سے اعتراف کرتے ہو کہ ہمیں صرف گنتی کے دن آگ میں ڈالا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ تمھارا یہ گمان، جس کے سہارے تم جی رہے ہو، سراسر باطل ہے۔ تم تو انسان ہو، اﷲ کا تم سے تعلق بس وہی ہے جو خالق کا مخلوق سے اور مالک کا غلام سے ہوتا ہے، وہ جسے چاہے بخش دے، جسے چاہے عذاب دے۔ کوئی کتنا بھی مقرب ہو یا سید یا برہمن یا پیر و مرشد ہو، اگر اﷲ تعالیٰ نہ چاہے تو نہ خود عذاب سے بچ سکتا ہے نہ کسی کو بچا سکتا ہے۔ یہ سب تو خود اس کے حضور پیش ہوں گے اور لرز رہے ہوں گے کہ ہمارا کیا فیصلہ ہوتا ہے، تم اپنی جھوٹی امیدوں سے کیوں اپنی بربادی کر رہے ہو۔
اے اہل کتاب! ہمارا یہ رسول ایسے وقت تمہارے پاس آیا ہے اور دین کی واضح تعلیم تمہیں دے رہا ہے جبکہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ ایک مدت سے بند تھا، تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا سو دیکھو! اب وہ بشارت دینے اور ڈرانے والا آ گیا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے اہل کتاب! بالیقین ہمارا رسول تمہارے پاس رسولوں کی آمد کے ایک وقفے کے بعد آ پہنچا ہے۔ جو تمہارے لئے صاف صاف بیان کر رہا ہے تاکہ تمہاری یہ بات نہ ره جائے کہ ہمارے پاس تو کوئی بھلائی، برائی سنانے واﻻ آیا ہی نہیں، پس اب تو یقیناً خوشخبری سنانے واﻻ اور آگاه کرنے واﻻ آ پہنچا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے کتاب والو! بیشک تمہارے پاس ہمارے یہ رسول تشریف لائے کہ تم پر ہمارے احکام ظاہر فرماتے ہیں بعد اس کے کہ رسولوں کا آنا مدتوں بند رہا تھا کہ کبھی کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشی اور ڈر سنانے والا نہ آیا تو یہ خوشی اور ڈر سنانے والے تمہارے پاس تشریف لائے ہیں، اور اللہ کو سب قدرت ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے اہلِ کتاب، ہمارا رسول جو کھول کر (ہمارے احکام) بیان کرتا ہے۔ ایسے وقت تمہارے پاس آیا کہ جب کچھ عرصہ سے رسولوں کی آمد کا سلسلہ بند تھا، تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا، تو لو تمہارے پاس بشارت دینے والا اور ڈرانے والا آگیا ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے اہل کتاب! بے شک تمھارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، جو تمھارے لیے کھول کر بیان کرتا ہے، رسولوں کے ایک وقفے کے بعد، تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس نہ کوئی خوشخبری دینے والا آیا اور نہ ڈرانے والا، تو یقینا تمھارے پاس ایک خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا آچکا ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
محمد صلی اللہ علیہ وسلم مطلقاً خاتم الانبیاء ہیں! ٭٭
اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کو خطاب کرکے فرماتا ہے کہ ’ میں نے تم سب کی طرف اپنا رسول بھیج دیا ہے جو خاتم الانبیاء ہے، جس کے بعد کوئی نبی رسول آنے والا نہیں، یہ سب کے بعد ہیں، دیکھ لو عیسیٰ کے بعد سے لے کر اب تک کوئی رسول نہیں آیا، «عَلَى فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ» کہ اس لمبی مدت کے بعد یہ رسول آئے ‘۔ بعض کہتے ہیں یہ مدت چھ سو سال کی تھی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3947]
بعض کہتے ہیں ساڑھے پانچ سو برس کی، بعض کہتے ہیں پانچ سو چالیس برس کی۔ ۱؎ [عبد الرزاق فی المصنف:186/1:صحیح] کوئی کہتا ہے چار سو کچھ اوپر تیس برس کی۔ ابن عساکر میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کرنے کے درمیان نو سو تینتیس سال کا فاصلہ تھا۔ لیکن مشہور قول پہلا ہی ہے یعنی چھ سو سال کا، بعض کہتے ہیں چھ سو بیس سال کا فاصلہ تھا۔ ان دونوں قولوں میں اس طرح تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ پہلا قول شمسی حساب سے ہو اور دوسرا قمری حساب سے ہو اور اس گنتی میں ہر تین سو سال میں تقریباً آٹھ کا فرق پڑ جاتا ہے۔ اسی لیے اہل کہف کے قصے میں ہے، «وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا» ۱؎ [18-الکھف:25] ، ’ وہ لوگ اپنے غار میں تین سو سال تک رہے اور نو برس اور زیادہ کئے ‘۔
پس شمسی حساب سے اہل کتاب کو جو مدت ان کی غار کی معلوم تھی، وہ تین سو سال کی تھی، نو بڑھا کر قمری حساب پورا ہو گیا۔ آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لے کر جو بنی اسرائیل کے آخری نبی علیہ السلام تھے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک جو علی الا طلاق خاتم الانبیاء تھے، «فترۃ» کا زمانہ تھا یعنی درمیان میں کوئی نبی نہیں ہوا۔ چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ہے { حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { عیسیٰ علیہ السلام سے یہ بہ نسبت اور لوگوں کے میں زیادہ اولیٰ ہوں، اس لیے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3442] اس میں ان لوگوں کی بھی تردید ہے جو خیال کرتے ہیں کہ ان دونوں جلیل القدر پیغمبروں کے درمیان بھی ایک نبی گزرے ہیں، جن کا نام خالد بن سنان تھا۔ جیسے کہ قضاعی وغیرہ نے حکایت کی ہے۔
مقصود یہ ہے کہ خاتم الانبیاء حبیب اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں اس وقت تشریف لاتے ہیں جبکہ رسولوں کی تعلیم مٹ چکی ہے، ان کی راہیں بے نشان ہو چکی ہیں، دنیا توحید کو بھلا چکی ہے، دنیا توحید کو بھلا چکی ہے، جگہ جگہ مخلوق پرستی ہو رہی ہے، سورج چاند بت آگ کی پوجا جا رہی ہے، اللہ کا دین بدل چکا ہے، کفر کی تاریکی نور دین پر چھا چکی ہے، دنیا کا چپہ چپہ سرکشی اور طغیانی سے بھر گیا ہے، عدل و انصاف بلکہ انسانیت بھی فنا ہو چکی ہے، جہالت و قساوت کا دور دورہ ہے، بجز چند نفوس کے اللہ کا نام لیوا زمین پر نہیں رہا، پس معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت و عزت اللہ کے پاس بہت بڑی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو رسالت کی ذمہ داری ادا کی، وہ کوئی معمولی نہ تھی، صلی اللہ علیہ وسلم ۔
مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا { مجھے میرے رب کا حکم ہے کہ میں تمہیں وہ باتیں سکھاؤں، جن سے تم ناواقف ہو اور اللہ تعالیٰ نے مجھے آج بھی بتائی ہیں، فرمایا ہے ’ میں نے اپنے بندوں کو جو کچھ عنایت فرمایا ہے وہ ان کیلئے حلال ہے، میں نے اپنے سب بندوں کو موحد پیدا کیا ہے، لیکن پھر شیطان ان کے پاس آتا ہے اور انہیں بہکاتا ہے اور میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کرتا ہے اور انہیں کہتا ہے کہ وہ میرے ساتھ باوجود دلیل نہ ہونے کے شرک کریں ‘۔ { سنو اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کو دیکھا اور تمام عرب و عجم کو ناپسند فرمایا بجز ان چند بقایا بنی اسرائیل کے (جو توحید پر قائم ہیں) پھر (مجھ سے) فرمایا، ’ میں نے تجھے اسی لیے اپنا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ تیری آزمائش کروں اور تیری وجہ سے اوروں کی بھی آزمائش کر لوں۔ میں تجھ پر وہ کتاب نازل فرمائی ہے، جسے پانی دھو نہیں سکتا جسے تو سوتے جاگتے پڑھتا ہے ‘ }۔ { پھر مجھے میرے رب نے حکم دیا کہ ’ قریشیوں میں پیغام الٰہی پہنچاؤں ‘، میں نے کہا { یا رب یہ تو میرا سر کچل کر روٹی جیسا بنا دیں گے }، پروردگار نے فرمایا ’ تو انہیں نکال، جیسے انہوں نے تجھے نکالا تو ان سے جہاد کر، تیری امداد کی جائے گی ‘۔
’ تو ان پر خرچ کر، تجھ پر خرچ کیا جائے گا، تو ان کے مقابلے پر لشکر بھیج، ہم اس سے پانچ گنا لشکر اور بھیجیں گے اپنے فرمانبرداروں کو لے کر اپنے نافرمانوں سے جنگ کر، جنتی لوگ تین قسم کے ہیں، بادشاہ عادل، توفیق خیر والا، صدقہ خیرات کرنے والا اور باوجود مفلس ہونے کے حرام سے بچنے والا، حالانکہ اہل و عیال بھی ہے، اور جہنمی لوگ پانچ قسم کے ہیں وہ سفلے لوگ جو بے دین، خوشامد خورے اور ماتحت ہیں، جن کی آل اولاد دھن دولت ہے اور وہ حائن لوگ جن کے دانت چھوٹی سے چھوٹی چیز پر بھی ہوتے ہیں اور حقیر چیزوں میں بھی خیانت سے نہیں چوکتے اور وہ لوگ جو صبح شام لوگوں کو ان کے اہل و مال میں دھوکہ دیتے پھرتے ہیں اور بخیل ہیں ‘۔ فرمایا کذاب اور شنطیر یعنی بدگو }۔ یہ حدیث مسلم اور نسائی میں ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2865] مقصود یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت سچا دین دنیا میں نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے لوگوں کو اندھیروں سے اور گمراہیوں سے نکال کر اجالے میں اور راہ راست پر لاکھڑا کیا اور انہیں روشن و ظاہر شریعت عطا فرمائی۔ اس لیے کہ لوگوں کا عذر نہ رہے، انہیں یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی نبی نہیں آیا، ہمیں نہ تو کسی نے کوئی خوشخبری سنائی نہ دھمکایا ڈرایا۔ پس کامل قدرتوں والے اللہ نے اپنے برگزیدہ پیغمبروں علیہم السلام کو ساری دنیا کی ہدایت کیلئے بھیج دیا، وہ اپنے فرمانبرداروں کو ثواب دینے پر اور نافرمانوں کو عذاب کرنے پر قادر ہے۔
19۔ 1 حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت محمد رسول اللہ کے درمیان جو تقریباً 570 یا 60 سال کا فاصلہ ہے یہ زمانہ فترت کہلاتا ہے۔ اہل کتاب کو کہا جا رہا ہے کہ اس فترت کے بعد ہم نے اپنا آخری رسول بھیج دیا ہے اب تم یہ بھی نہ کہہ سکو گے کہ ہمارے پاس تو کوئی بشیر و نذیر پیغمبر ہی نہیں آیا۔
(آیت 19) ➊ {يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا ……:} یعنی ایک مدت سے رسولوں کی آمد کا یہ سلسلہ منقطع ہو چکا تھا، عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ابن مریم(علیہما السلام) کا تمام لوگوں سے زیادہ حق دار یا تمام لوگوں سے زیادہ قریب ہوں، انبیاء آپس میں علاتی بھائی ہیں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اﷲ تعالٰی: «واذكر في الكتاب مريم» : ۳۴۴۲ ] بقول سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ان کی بعثت پر بھی ۶۰۰سال گزر چکے تھے۔ [ بخاری، مناقب الأنصار، باب اسلام سلمان الأنصاری: ۳۹۴۸ ] اور کوئی نبی نہیں آیا تھا، پھر آخری نبی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔ اس آیت پر شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعد کوئی رسول نہیں آیا تھا، سو فرمایا کہ تم افسوس کرتے کہ ہم رسولوں کے وقت میں نہ ہوئے کہ تربیت ان کی پاتے، اب بعد مدت تم کو رسول کی صحبت میسر ہوئی، غنیمت جانو اور اﷲ قادر ہے، اگر تم قبول نہ کرو گے تو اور خلق کھڑی کر دے گا تم سے بہتر، جیسے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کی قوم نے جہاد کرنا پسند نہ کیا تو اﷲ تعالیٰ نے ان کو محروم کر دیا، اوروں کے ہاتھ سے ملک شام فتح کروا دیا۔ (موضح) ➋ {فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّ نَذِيْرٌ:} اس آیت میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا بنیادی مقصد بیان فرمایا ہے، یعنی عرصۂ دراز سے کسی اولو العزم پیغمبر کے نہ آنے کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ کے احکام میں تغیر و تبدل اور تحریف ہو چکی تھی اور حق و باطل میں امتیاز نہ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملت ابراہیم کو تغیر و تبدل اور تحریف سے پاک کر کے لوگوں کو حق سے روشناس کرایا تاکہ ان پر حجت پوری ہو جائے اور عذر کی گنجائش نہ رہے۔ (قرطبی)
یاد کرو جب موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ "اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی اُس نعمت کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کی تھی اُس نے تم میں نبی پیدا کیے، تم کو فرماں روا بنایا، اور تم کو وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یاد کرو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم کے لوگو! اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا ذکر کرو کہ اس نے تم میں سے پیغمبر بنائے اور تمہیں بادشاه بنا دیا اور تمہیں وه دیا جو تمام عالم میں کسی کو نہیں دیا
احمد رضا خان بریلوی
اور جب موسیٰ نے کہا اپنی قوم سے اے میری قوم اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو کہ تم میں سے پیغمبر کیے اور تمہیں بادشاہ کیا اور تمہیں وہ دیا جو آج سارے جہان میں کسی کو نہ دیا
علامہ محمد حسین نجفی
وہ وقت یاد کرو۔ جب جناب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! تم اللہ کا وہ احسان یاد کرو۔ جو اس نے تم پر کیا۔ اس نے تم میں نبی بنائے اور تمہیں فرمانروا اور خودمختار بنایا۔ اور تمہیں وہ کچھ دیا جو دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو، جب اس نے تم میں انبیاء بنائے اور تمھیں بادشاہ بنا دیا اور تمھیں وہ کچھ دیا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا ”لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی علیہ السلام تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔“ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء علیہم السلام تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء و الرسل محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واسطہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنا دیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھربار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیری بیوی ہے؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔
حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”سواری اور خادم ملک ہے۔“ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ رحمة الله خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا }۔ ۱؎ [ضعیف:اسکی سند میں ابن لبیعہ ضعیف ہے] ایک اور مرفوع حدیث میں ہے { جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11629:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے { جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن و امان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2346،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے۔ اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ» ۱؎ [45-الجاثية:16] ’ ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی ‘۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ ”اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔“ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» ۱؎ [3-آل عمران:110] ، اور فرمایا آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» ۱؎ [2-البقرۃ:143] ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے“ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من و سلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں۔“ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر بیان ہوتا ہے کہ ’ بیت المقدس دراصل ان کے دادا یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی ‘۔ اب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا۔“ لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے۔ مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے۔“ ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آرہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا۔ ”اللہ نے اسے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہو جاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑ جاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ علیہ السلام فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جا سکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”موسیٰ علیہ السلام جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔“
یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہو گئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جا کر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہو گیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کر دو۔ چنانچہ انہوں نے جا کر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے۔“ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ”ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہدیا۔ اب موسیٰ علیہ السلام نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا ”ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے۔“ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں [3333] تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیاء مانع ہے۔ پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3326] ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعا یہ مذکور ہے کہ «رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» ۱؎ [71-نوح:26] ’ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہیئے ‘، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی۔ قرآن فرماتا ہے «فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:119-120] ”ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کر دیا۔“ خود قرآن میں ہے کہ «لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ» ۱؎ [11-هود:43] ’ آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں ‘۔ تعجب سا تعجب ہے کہ نوح علیہ السلام کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بنی اسرائیل جب اپنے نبی کریم علیہ السلام کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بے ادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آ جائے۔ ایک قرأت میں «يَخَافُونَ» کے بدلے «یَـھَـابَـوْنَ» ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ”ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی۔ ایک کا نام یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا۔“ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول علیہ السلام کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کر دیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر یوشع اور کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کر دیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہو گیا اور بے طرح مخالفت رسول علیہ السلام پر تل گئے۔
ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حال کو دیکھئیے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا۔ ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا کہ { بتاؤ اب کیا کرنا چاہیئے؟ } اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے صدیق رضی اللہ عنہ نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔
لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے }، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لیے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ”شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے؟ سنئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کرکے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہو جایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر ان شاءاللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔“ یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں رضی اللہ عنہم۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1779]
ایک روایت میں ہے کہ { بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ ”اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:105/3:صحیح] مقداد انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ ۱؎ [مسند احمد:314/4:] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ”سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے اس قول سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4609] انہوں نے کہا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔“ ۱؎ [مسند احمد:389/1:صحیح] (کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر خوش کر سکتا)۔ ایک روایت میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11686:ضعیف] جبکہ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بیت اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں }، تو سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہم اصحاب موسیٰ علیہ السلام کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی کریم علیہ السلام سے کہدیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ کی مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔“ یہ سن کر اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کر دیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ ”رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما۔“ جناب باری تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ ’ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے ‘، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جا سکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من و سلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہو گئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سب مروی ہے۔ پھر ہارون علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ علیہ السلام کے خلیفہ یوشع بن نون علیہ السلام نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین «سَنَةً» پر وقف تام کرتے ہیں اور «أَرْبَعِينَ سَنَةً» کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل «تِيهُونَ فِي الْأَرْضِ» کو بتلاتے ہیں۔ اس چالیس سالہ مدت کے گزرجانے کے بعد جو بھی باقی تھے، انہیں لے کر یوشع بن نون علیہ السلام نکلے اور دوسرے پہاڑ سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہولیے اور آپ علیہ السلام نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔
جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آ پہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لیے اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ! اسے ذرا سی دیر روک دے۔“ چنانچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ علیہ السلام نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ ’ بنی اسرائیل کو کہدو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حِطَّةٌ» کہیں ‘ یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی «حَبَّةٌ فِیْ شَعْرَۃٍ» کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورۃ البقرۃ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی یوشع علیہ السلام نے فرمایا ”تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔“
چنانچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی کریم علیہ السلام کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ علیہ السلام نے فرمایا ”تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ۔“ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے۔ «أَرْبَعِينَ سَنَةً» میں «فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ» عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو کلیم اللہ علیہ السلام نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے موسیٰ علیہ السلام پر بد دعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لیے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ علیہ السلام کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ علیہ السلام نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مر گیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔
نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس کا تخت تین گز کا تھا۔“ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں ‘۔ اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول علیہ السلام کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر علیہ السلام ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں۔ نبی اللہ کی بے ادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے ساز و سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہو جاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گر گئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
20۔ 1 بیشتر انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہی ہوئے ہیں جن کا سلسلہ حضرت عیسیٰ ؑ پر ختم کردیا گیا اور آخری پیغمبر بنو اسماعیل سے ہوئے۔ اسی طرح متعدد بادشاہ بھی بنی اسرائیل میں ہوئے اور بعض نبیوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے ملوکیت (بادشاہت) سے نوازا، جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نبوت کی طرح ملوکیت (بادشاہت) بھی اللہ کا انعام ہے، جسے علی الاطلاق برا سمجھنا بہت بڑی غلطی ہے۔ اگر ملوکیت بری چیز ہوتی تو اللہ تعالیٰ کسی نبی کو بادشاہ بناتا نہ اس کا ذکر انعام کے طور پر فرماتا، جیسا کہ یہاں ہے آج کل مغربی جمہوریت کا کا بوس اس طرح ذہنوں پر مسلط ہے اور شاطران، مغرب نے اس کا افسوں اس طرح پھونکا ہے کہ مغربی افکار کے اسیر اہل سیاست ہی نہیں بلکہ اصحاب جبہ و دستار بھی ہیں۔ بہرحال ملوکیت یا شخصی حکومت، اگر بادشاہ اور حکمران عادل و متقی ہو تو جمہوریت سے ہزار درجے بہتر ہے۔ 20۔ 2 یہ اشارہ ہے ان انعامات اور معجزات کی طرف، جن سے بنی اسرائیل نوازے گئے، جیسے من وسلویٰ کا نزول، بادلوں کا سایہ، فرعون سے نجات کے لئے دریا سے راستہ بنادیا وغیرہ۔ اس لحاظ سے یہ قوم اپنے زمانے میں فضیلت اور اونچے مقام کی حامل تھی لیکن پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد کی رسالت و بعث کے بعد اب یہ مقام فضیلت امت محمدیہ کو حاصل ہوگیا ہے (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ) 3:110 تم بہترین امت ہو جسے نوع انسانی کے لئے بنایا گیا ہے لیکن یہ بھی مشروط ہے اس مقصد کی تکمیل کے ساتھ جو اسی آیت میں بیان کردیا گیا ہے کہ تم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے، برائی سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو، اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اس مقصد کے لئے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ وہ اپنے خیر امت ہونے کا اعزاز برقرار رکھ سکے۔
(آیت 20) ➊ {وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ:} اس آیت کا تعلق «وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ» [ المائدۃ: ۱۲ ] کے ساتھ ہے، یعنی ان سے عہد لیا اور موسیٰ علیہ السلام نے ان انعامات الٰہی کو یاد دلا کر ارض مقدس واپس لینے کے لیے جہاد کا حکم دیا۔ اس وقت وہاں عمالقہ (جبارین) کی حکومت تھی، لیکن بنی اسرائیل نے عہد شکنی کی اور عمالقہ کے ساتھ جنگ کرنے سے انکار کر دیا۔ (کبیر) ➋ {يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ ……:} اس میں اﷲ تعالیٰ نے اپنی تین نعمتوں کا ذکر خصوصیت سے کیا ہے، ایک یہ کہ ان میں جلیل القدر انبیاء مبعوث فرمائے، جیسے اسحاق، یعقوب، یوسف اور موسیٰ علیہم السلام۔ دوسری یہ کہ ان سب (بنی اسرائیل) کو بادشاہ بنا دیا، یعنی ان کو فرعون سے آزادی دی اور اپنی حکومت عطا فرمائی۔ معلوم ہوا کہ آزاد اور حاکم قوم کا ہر فرد ہی بادشاہ اور محکوم قوم کا ہر فرد غلام ہوتا ہے۔ تیسری یہ کہ انھیں توحید کا علم بردار بنایا، جبکہ دوسری تمام قومیں شرک میں مبتلا تھیں۔ اس تیسری نعمت میں وہ معجزات بھی شامل ہیں جو بنی اسرائیل کی مدد کے لیے وجود میں آئے، مثلاً سمندر کا پھٹنا، بادل کا سایہ، پتھر سے چشمے کا پھوٹنا، من و سلویٰ وغیرہ۔
اے برادران قوم! اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے، پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام و نامراد پلٹو گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اے میری قوم والو! اس مقدس زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نام لکھ دی ہے اور اپنی پشت کے بل روگردانی نہ کرو کہ پھر نقصان میں جا پڑو
احمد رضا خان بریلوی
اے قوم اس پاک زمین میں داخل ہو جو اللہ نے تمہارے لیے لکھی ہے اور پیچھے نہ پلٹو کہ نقصان پر پلٹو گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے میری قوم! اس مقدس زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے اور (مقابلہ کے وقت) پیٹھ دکھا کر نہ بھاگنا۔ ورنہ نقصان اٹھا کر لوٹو گے۔
عبدالسلام بن محمد
اے میری قوم! اس مقدس زمین میں داخل ہو جائو جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے اور اپنی پیٹھوں پر نہ پھر جائو، ورنہ خسارہ اٹھانے والے ہو کر لوٹو گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا ”لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی علیہ السلام تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔“ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء علیہم السلام تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء و الرسل محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واسطہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنا دیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھربار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیری بیوی ہے؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔
حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”سواری اور خادم ملک ہے۔“ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ رحمة الله خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا }۔ ۱؎ [ضعیف:اسکی سند میں ابن لبیعہ ضعیف ہے] ایک اور مرفوع حدیث میں ہے { جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11629:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے { جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن و امان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2346،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے۔ اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ» ۱؎ [45-الجاثية:16] ’ ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی ‘۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ ”اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔“ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» ۱؎ [3-آل عمران:110] ، اور فرمایا آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» ۱؎ [2-البقرۃ:143] ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے“ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من و سلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں۔“ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر بیان ہوتا ہے کہ ’ بیت المقدس دراصل ان کے دادا یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی ‘۔ اب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا۔“ لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے۔ مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے۔“ ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آرہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا۔ ”اللہ نے اسے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہو جاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑ جاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ علیہ السلام فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جا سکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”موسیٰ علیہ السلام جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔“
یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہو گئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جا کر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہو گیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کر دو۔ چنانچہ انہوں نے جا کر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے۔“ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ”ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہدیا۔ اب موسیٰ علیہ السلام نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا ”ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے۔“ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں [3333] تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیاء مانع ہے۔ پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3326] ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعا یہ مذکور ہے کہ «رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» ۱؎ [71-نوح:26] ’ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہیئے ‘، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی۔ قرآن فرماتا ہے «فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:119-120] ”ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کر دیا۔“ خود قرآن میں ہے کہ «لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ» ۱؎ [11-هود:43] ’ آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں ‘۔ تعجب سا تعجب ہے کہ نوح علیہ السلام کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بنی اسرائیل جب اپنے نبی کریم علیہ السلام کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بے ادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آ جائے۔ ایک قرأت میں «يَخَافُونَ» کے بدلے «یَـھَـابَـوْنَ» ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ”ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی۔ ایک کا نام یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا۔“ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول علیہ السلام کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کر دیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر یوشع اور کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کر دیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہو گیا اور بے طرح مخالفت رسول علیہ السلام پر تل گئے۔
ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حال کو دیکھئیے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا۔ ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا کہ { بتاؤ اب کیا کرنا چاہیئے؟ } اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے صدیق رضی اللہ عنہ نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔
لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے }، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لیے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ”شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے؟ سنئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کرکے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہو جایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر ان شاءاللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔“ یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں رضی اللہ عنہم۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1779]
ایک روایت میں ہے کہ { بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ ”اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:105/3:صحیح] مقداد انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ ۱؎ [مسند احمد:314/4:] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ”سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے اس قول سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4609] انہوں نے کہا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔“ ۱؎ [مسند احمد:389/1:صحیح] (کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر خوش کر سکتا)۔ ایک روایت میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11686:ضعیف] جبکہ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بیت اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں }، تو سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہم اصحاب موسیٰ علیہ السلام کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی کریم علیہ السلام سے کہدیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ کی مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔“ یہ سن کر اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کر دیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ ”رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما۔“ جناب باری تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ ’ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے ‘، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جا سکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من و سلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہو گئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سب مروی ہے۔ پھر ہارون علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ علیہ السلام کے خلیفہ یوشع بن نون علیہ السلام نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین «سَنَةً» پر وقف تام کرتے ہیں اور «أَرْبَعِينَ سَنَةً» کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل «تِيهُونَ فِي الْأَرْضِ» کو بتلاتے ہیں۔ اس چالیس سالہ مدت کے گزرجانے کے بعد جو بھی باقی تھے، انہیں لے کر یوشع بن نون علیہ السلام نکلے اور دوسرے پہاڑ سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہولیے اور آپ علیہ السلام نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔
جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آ پہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لیے اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ! اسے ذرا سی دیر روک دے۔“ چنانچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ علیہ السلام نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ ’ بنی اسرائیل کو کہدو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حِطَّةٌ» کہیں ‘ یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی «حَبَّةٌ فِیْ شَعْرَۃٍ» کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورۃ البقرۃ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی یوشع علیہ السلام نے فرمایا ”تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔“
چنانچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی کریم علیہ السلام کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ علیہ السلام نے فرمایا ”تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ۔“ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے۔ «أَرْبَعِينَ سَنَةً» میں «فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ» عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو کلیم اللہ علیہ السلام نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے موسیٰ علیہ السلام پر بد دعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لیے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ علیہ السلام کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ علیہ السلام نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مر گیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔
نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس کا تخت تین گز کا تھا۔“ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں ‘۔ اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول علیہ السلام کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر علیہ السلام ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں۔ نبی اللہ کی بے ادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے ساز و سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہو جاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گر گئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
21۔ 1 بنو اسرائیل کے مورث اعلیٰ حضرت یعقوب ؑ کا مسکن بیت المقدس تھا۔ لیکن حضرت یوسف ؑ کے امارات مصر کے زمانے میں یہ لوگ مصر جا کر آباد ہوگئے تھے اور پھر تب سے اس وقت مصر میں ہی رہے، جب تک کہ موسیٰ ؑ انہیں راتوں رات (فرعون سے چھپ کر) مصر سے نکال نہیں لے گئے۔ اس وقت بیت المقدس پر عمالقہ کی حکمرانی تھی جو ایک بہادر قوم تھی۔ جب حضرت موسیٰ ؑ نے پھر بیت المقدس جا کر آباد ہونے کا عزم کیا تو اس کے لئے وہاں قابض عمالقہ سے جہاد ضروری تھا۔ چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کو اس ارض مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور نصرت الٰہی کی بشارت بھی سنائی۔ لیکن اس کے باوجود بنو اسرائیل عمالقہ سے لڑنے پر تیار نہ ہوئے (ابن کثیر) 21۔ 2 اس سے مراد وہی فتح و نصرت ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کی صورت میں ان سے کر رکھا تھا۔ 21۔ 3 یعنی جہاد سے اعراض مت کرو۔
(آیت 21) ➊ {يٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ ……:} مراد شام ہے، فلسطین (کنعان) اسی کے ایک علاقے کا نام ہے، کیونکہ یہیں سے بنی اسرائیل مصر گئے تھے اور یہی ان کی آبائی میراث تھی جو اﷲ تعالیٰ نے ان کے لیے لکھ دی تھی۔ تورات میں اس وعدے کی صراحتیں موجود ہیں: ”دیکھو میں نے اس ملک کو تمھارے سامنے کر دیا ہے، پس جاؤ اور اس ملک کو اپنے قبضہ میں کر لو جس کی بابت خداوند نے تمھارے باپ دادا ابرہام، اور اضحاق اور یعقوب سے قسم کھا کر کہا تھا کہ وہ اسے ان کو اور ان کے بعد ان کی نسل کو دے گا۔“ (استثناء، باب: ۸) ➋ موسیٰ علیہ السلام کا بنی اسرائیل سے یہ خطاب اس موقع پر ہے جب وہ مصر سے نکلنے کے بعد جزیرہ نمائے سینا میں خیمہ زن تھے اور ان پر من و سلویٰ اتر رہا تھا۔ (ابن کثیر)
انہوں نے جواب دیا "اے موسیٰؑ! وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں، ہم وہاں ہرگز نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ہاں اگر وہ نکل گئے تو ہم داخل ہونے کے لیے تیار ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے جواب دیا کہ اے موسیٰ وہاں تو زور آور سرکش لوگ ہیں اور جب تک وه وہاں سے نکل نہ جائیں ہم تو ہرگز وہاں نہ جائیں گے ہاں اگر وه وہاں سے نکل جائیں پھر تو ہم (بخوشی) چلے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
بولے اے موسیٰ اس میں تو بڑے زبردست لوگ ہیں، اور ہم اس میں ہرگز داخل نہ ہوں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ہاں وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم وہاں جائیں،
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے (جواب میں) کہا: اے موسیٰ اس زمین میں تو بڑے زبردست (جابر) لوگ رہتے ہیں اور ہم وہاں ہرگز داخل نہیں ہوں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ ہاں البتہ اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو پھر ہم ضرور داخل ہو جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک بہت زبردست قوم ہے اور بے شک ہم ہرگز اس میں داخل نہ ہوں گے، یہاں تک کہ وہ اس سے نکل جائیں، پس اگر وہ اس سے نکل جائیں تو ہم ضرور داخل ہونے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا ”لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی علیہ السلام تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔“ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء علیہم السلام تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء و الرسل محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واسطہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنا دیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھربار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیری بیوی ہے؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔
حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”سواری اور خادم ملک ہے۔“ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ رحمة الله خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا }۔ ۱؎ [ضعیف:اسکی سند میں ابن لبیعہ ضعیف ہے] ایک اور مرفوع حدیث میں ہے { جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11629:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے { جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن و امان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2346،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے۔ اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ» ۱؎ [45-الجاثية:16] ’ ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی ‘۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ ”اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔“ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» ۱؎ [3-آل عمران:110] ، اور فرمایا آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» ۱؎ [2-البقرۃ:143] ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے“ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من و سلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں۔“ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر بیان ہوتا ہے کہ ’ بیت المقدس دراصل ان کے دادا یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی ‘۔ اب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا۔“ لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے۔ مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے۔“ ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آرہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا۔ ”اللہ نے اسے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہو جاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑ جاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ علیہ السلام فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جا سکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”موسیٰ علیہ السلام جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔“
یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہو گئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جا کر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہو گیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کر دو۔ چنانچہ انہوں نے جا کر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے۔“ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ”ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہدیا۔ اب موسیٰ علیہ السلام نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا ”ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے۔“ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں [3333] تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیاء مانع ہے۔ پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3326] ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعا یہ مذکور ہے کہ «رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» ۱؎ [71-نوح:26] ’ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہیئے ‘، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی۔ قرآن فرماتا ہے «فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:119-120] ”ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کر دیا۔“ خود قرآن میں ہے کہ «لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ» ۱؎ [11-هود:43] ’ آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں ‘۔ تعجب سا تعجب ہے کہ نوح علیہ السلام کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بنی اسرائیل جب اپنے نبی کریم علیہ السلام کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بے ادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آ جائے۔ ایک قرأت میں «يَخَافُونَ» کے بدلے «یَـھَـابَـوْنَ» ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ”ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی۔ ایک کا نام یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا۔“ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول علیہ السلام کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کر دیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر یوشع اور کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کر دیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہو گیا اور بے طرح مخالفت رسول علیہ السلام پر تل گئے۔
ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حال کو دیکھئیے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا۔ ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا کہ { بتاؤ اب کیا کرنا چاہیئے؟ } اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے صدیق رضی اللہ عنہ نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔
لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے }، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لیے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ”شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے؟ سنئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کرکے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہو جایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر ان شاءاللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔“ یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں رضی اللہ عنہم۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1779]
ایک روایت میں ہے کہ { بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ ”اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:105/3:صحیح] مقداد انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ ۱؎ [مسند احمد:314/4:] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ”سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے اس قول سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4609] انہوں نے کہا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔“ ۱؎ [مسند احمد:389/1:صحیح] (کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر خوش کر سکتا)۔ ایک روایت میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11686:ضعیف] جبکہ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بیت اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں }، تو سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہم اصحاب موسیٰ علیہ السلام کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی کریم علیہ السلام سے کہدیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ کی مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔“ یہ سن کر اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کر دیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ ”رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما۔“ جناب باری تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ ’ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے ‘، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جا سکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من و سلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہو گئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سب مروی ہے۔ پھر ہارون علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ علیہ السلام کے خلیفہ یوشع بن نون علیہ السلام نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین «سَنَةً» پر وقف تام کرتے ہیں اور «أَرْبَعِينَ سَنَةً» کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل «تِيهُونَ فِي الْأَرْضِ» کو بتلاتے ہیں۔ اس چالیس سالہ مدت کے گزرجانے کے بعد جو بھی باقی تھے، انہیں لے کر یوشع بن نون علیہ السلام نکلے اور دوسرے پہاڑ سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہولیے اور آپ علیہ السلام نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔
جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آ پہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لیے اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ! اسے ذرا سی دیر روک دے۔“ چنانچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ علیہ السلام نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ ’ بنی اسرائیل کو کہدو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حِطَّةٌ» کہیں ‘ یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی «حَبَّةٌ فِیْ شَعْرَۃٍ» کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورۃ البقرۃ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی یوشع علیہ السلام نے فرمایا ”تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔“
چنانچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی کریم علیہ السلام کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ علیہ السلام نے فرمایا ”تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ۔“ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے۔ «أَرْبَعِينَ سَنَةً» میں «فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ» عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو کلیم اللہ علیہ السلام نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے موسیٰ علیہ السلام پر بد دعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لیے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ علیہ السلام کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ علیہ السلام نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مر گیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔
نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس کا تخت تین گز کا تھا۔“ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں ‘۔ اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول علیہ السلام کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر علیہ السلام ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں۔ نبی اللہ کی بے ادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے ساز و سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہو جاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گر گئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
22۔ 1 بنو اسرائیل عمالقہ کی بہادری کی شہرت سے مرعوب ہوگئے تھے اور پہلے مرحلے پر ہی ہمت ہار بیٹھے۔ اور جہاد سے دست بردار ہوگئے۔ اللہ کے رسول حضرت موسیٰ ؑ کے حکم کی کوئی پروا کی اور نہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ نصرت پر یقین کیا وہاں جانے سے صاف انکار کردیا۔
(آیت 22) ➊ {قَالُوْا يٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِيْهَا قَوْمًا جَبَّارِيْنَ ……:} ایمان کمزور ہونے کی وجہ سے انھوں نے کہا کہ وہاں بڑے زبردست جنگ جو (جبارین) لوگ رہتے ہیں، جن کے مقابلے کی ہم میں طاقت نہیں۔ جب تک وہ لوگ آپ کے معجزے کی بدولت وہاں سے نہ نکل جائیں، ہم ہر گز وہاں داخل نہیں ہوں گے، اگر وہ خود بخود نکل جائیں تو پھر ہم ضرور داخل ہو جائیں گے۔ ➋ { ”جَبَّارِيْنَ“ } سے بڑے ڈیل ڈول والے، بہت اسلحے والے جنگ جو مراد ہیں، مگر جس انداز سے بعض تفسیروں میں ان لوگوں کا نقشہ پیش کیا گیا ہے وہ سب ایسی اسرائیلی روایات ہیں جنھیں ایک معمولی عقل کا انسان بھی تسلیم نہیں کر سکتا، خصوصاً عوج بن عنق کا افسانہ جس کے متعلق حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ سب من گھڑت افسانے ہیں، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام کا قد ساٹھ ہاتھ تھا، اس کے بعد سے برابر لوگ گھٹ رہے ہیں۔“ [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب خلق آدم و ذریتہ: ۳۳۲۶۔ مسلم: ۲۸۴۱ ] پھر عوج بن عنق کا قد تین ہزار تین سو تینتیس (۳۳۳۳) ہاتھ کیسے ہو سکتا ہے!؟ (ابن کثیر)
اُن ڈرنے والوں میں دو شخص ایسے بھی تھے جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا اُنہوں نے کہا کہ "ان جباروں کے مقابلہ میں دروازے کے اندر گھس جاؤ، جب تم اندر پہنچ جاؤ گے تو تم ہی غالب رہو گے اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
دو شخصوں نے جو خدا ترس لوگوں میں سے تھے، جن پر اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہا کہ تم ان کے پاس دروازے میں تو پہنچ جاؤ، دروازے میں قدم رکھتے ہی یقیناً تم غالب آجاؤ گے، اور تم اگر مومن ہو تو تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
احمد رضا خان بریلوی
دو مرد کہ اللہ سے ڈرنے والوں میں سے تھے ا لله نے انہیں نوازا بولے کہ زبردستی دروازے میں ان پر داخل ہو اگر تم دروازے میں داخل ہوگئے تو تمہارا ہی غلبہ ہے اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر تمہیں ایمان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اس وقت دو شخصوں نے جو (اللہ سے) ڈرنے والوں میں سے تھے۔ جنہیں اللہ نے (خصوصی) نعمت سے نوازا تھا۔ کہا۔ کہ تم ان (جباروں) پر چڑھائی کرکے دروازہ کے اندر گھس جاؤ اور جب تم اس کے اندر داخل ہوگے (تو وہ بھاگ کھڑے ہوں گے اور) تم غالب آجاؤگے اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم ایمان دار ہو۔
عبدالسلام بن محمد
دو آدمیوں نے کہا، جو ان لوگوں میں سے تھے جو ڈرتے تھے، ان دونوں پر اللہ نے انعام کیا تھا، تم ان پر دروازے میں داخل ہو جائو، پھر جب تم اس میں داخل ہوگئے تو یقینا تم غالب ہو اور اللہ ہی پر پس بھروسا کرو، اگر تم مومن ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا ”لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی علیہ السلام تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔“ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء علیہم السلام تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء و الرسل محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واسطہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنا دیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھربار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیری بیوی ہے؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔
حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”سواری اور خادم ملک ہے۔“ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ رحمة الله خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا }۔ ۱؎ [ضعیف:اسکی سند میں ابن لبیعہ ضعیف ہے] ایک اور مرفوع حدیث میں ہے { جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11629:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے { جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن و امان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2346،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے۔ اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ» ۱؎ [45-الجاثية:16] ’ ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی ‘۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ ”اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔“ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» ۱؎ [3-آل عمران:110] ، اور فرمایا آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» ۱؎ [2-البقرۃ:143] ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے“ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من و سلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں۔“ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر بیان ہوتا ہے کہ ’ بیت المقدس دراصل ان کے دادا یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی ‘۔ اب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا۔“ لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے۔ مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے۔“ ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آرہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا۔ ”اللہ نے اسے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہو جاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑ جاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ علیہ السلام فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جا سکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”موسیٰ علیہ السلام جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔“
یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہو گئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جا کر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہو گیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کر دو۔ چنانچہ انہوں نے جا کر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے۔“ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ”ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہدیا۔ اب موسیٰ علیہ السلام نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا ”ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے۔“ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں [3333] تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیاء مانع ہے۔ پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3326] ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعا یہ مذکور ہے کہ «رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» ۱؎ [71-نوح:26] ’ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہیئے ‘، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی۔ قرآن فرماتا ہے «فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:119-120] ”ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کر دیا۔“ خود قرآن میں ہے کہ «لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ» ۱؎ [11-هود:43] ’ آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں ‘۔ تعجب سا تعجب ہے کہ نوح علیہ السلام کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بنی اسرائیل جب اپنے نبی کریم علیہ السلام کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بے ادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آ جائے۔ ایک قرأت میں «يَخَافُونَ» کے بدلے «یَـھَـابَـوْنَ» ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ”ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی۔ ایک کا نام یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا۔“ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول علیہ السلام کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کر دیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر یوشع اور کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کر دیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہو گیا اور بے طرح مخالفت رسول علیہ السلام پر تل گئے۔
ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حال کو دیکھئیے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا۔ ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا کہ { بتاؤ اب کیا کرنا چاہیئے؟ } اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے صدیق رضی اللہ عنہ نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔
لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے }، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لیے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ”شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے؟ سنئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کرکے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہو جایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر ان شاءاللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔“ یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں رضی اللہ عنہم۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1779]
ایک روایت میں ہے کہ { بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ ”اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:105/3:صحیح] مقداد انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ ۱؎ [مسند احمد:314/4:] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ”سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے اس قول سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4609] انہوں نے کہا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔“ ۱؎ [مسند احمد:389/1:صحیح] (کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر خوش کر سکتا)۔ ایک روایت میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11686:ضعیف] جبکہ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بیت اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں }، تو سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہم اصحاب موسیٰ علیہ السلام کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی کریم علیہ السلام سے کہدیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ کی مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔“ یہ سن کر اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کر دیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ ”رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما۔“ جناب باری تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ ’ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے ‘، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جا سکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من و سلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہو گئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سب مروی ہے۔ پھر ہارون علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ علیہ السلام کے خلیفہ یوشع بن نون علیہ السلام نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین «سَنَةً» پر وقف تام کرتے ہیں اور «أَرْبَعِينَ سَنَةً» کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل «تِيهُونَ فِي الْأَرْضِ» کو بتلاتے ہیں۔ اس چالیس سالہ مدت کے گزرجانے کے بعد جو بھی باقی تھے، انہیں لے کر یوشع بن نون علیہ السلام نکلے اور دوسرے پہاڑ سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہولیے اور آپ علیہ السلام نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔
جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آ پہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لیے اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ! اسے ذرا سی دیر روک دے۔“ چنانچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ علیہ السلام نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ ’ بنی اسرائیل کو کہدو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حِطَّةٌ» کہیں ‘ یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی «حَبَّةٌ فِیْ شَعْرَۃٍ» کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورۃ البقرۃ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی یوشع علیہ السلام نے فرمایا ”تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔“
چنانچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی کریم علیہ السلام کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ علیہ السلام نے فرمایا ”تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ۔“ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے۔ «أَرْبَعِينَ سَنَةً» میں «فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ» عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو کلیم اللہ علیہ السلام نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے موسیٰ علیہ السلام پر بد دعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لیے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ علیہ السلام کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ علیہ السلام نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مر گیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔
نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس کا تخت تین گز کا تھا۔“ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں ‘۔ اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول علیہ السلام کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر علیہ السلام ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں۔ نبی اللہ کی بے ادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے ساز و سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہو جاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گر گئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
23۔ 1 قوم موسیٰ ؑ میں صرف یہ دو شخص صحیح معنوں میں ایماندار نکلے، جنہیں نصرت الٰہی پر یقین تھا انہوں نے قوم کو سمجھایا کہ تم ہمت تو کرو، پھر دیکھو کس طرح اللہ تمہیں غلبہ عطا فرماتا ہے۔
(آیت 23) {قَالَ رَجُلٰنِ:} اﷲ تعالیٰ نے ان دو آدمیوں کا ذکر بطور نکرہ فرمایا ہے اور کسی حدیث میں بھی ان کے ناموں کی صراحت نہیں آئی۔
لیکن اُنہوں نے پھر یہی کہا کہ "اے موسیٰؑ! ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں موجود ہیں بس تم اور تمہارا رب، دونوں جاؤ اور لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
قوم نے جواب دیا کہ اے موسیٰ! جب تک وه وہاں ہیں تب تک ہم ہرگز وہاں نہ جائیں گے، اس لئے تم اور تمہارا پروردگار جا کر دونوں ہی لڑ بھڑ لو، ہم یہیں بیٹھے ہوئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بولے اے موسیٰ ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں ہیں تو آپ جائیے اور آپ کا رب تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے کہا موسیٰ! ہم ہرگز اس میں داخل نہیں ہوں گے۔ جب تک وہ اس میں ہیں۔ لہٰذا آپ اور آپ کا خدا دونوں چلے جائیں اور جا کر لڑیں ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا اے موسیٰ! بے شک ہم ہرگز اس میں کبھی داخل نہ ہوں گے جب تک وہ اس میں موجود ہیں، سو تو اور تیرا رب جائو، پس دونوں لڑو، بے شک ہم یہیں بیٹھنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا ”لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی علیہ السلام تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔“ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء علیہم السلام تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء و الرسل محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واسطہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنا دیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھربار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیری بیوی ہے؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔
حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”سواری اور خادم ملک ہے۔“ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ رحمة الله خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا }۔ ۱؎ [ضعیف:اسکی سند میں ابن لبیعہ ضعیف ہے] ایک اور مرفوع حدیث میں ہے { جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11629:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے { جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن و امان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2346،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے۔ اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ» ۱؎ [45-الجاثية:16] ’ ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی ‘۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ ”اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔“ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» ۱؎ [3-آل عمران:110] ، اور فرمایا آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» ۱؎ [2-البقرۃ:143] ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے“ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من و سلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں۔“ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر بیان ہوتا ہے کہ ’ بیت المقدس دراصل ان کے دادا یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی ‘۔ اب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا۔“ لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے۔ مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے۔“ ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آرہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا۔ ”اللہ نے اسے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہو جاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑ جاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ علیہ السلام فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جا سکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”موسیٰ علیہ السلام جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔“
یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہو گئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جا کر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہو گیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کر دو۔ چنانچہ انہوں نے جا کر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے۔“ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ”ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہدیا۔ اب موسیٰ علیہ السلام نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا ”ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے۔“ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں [3333] تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیاء مانع ہے۔ پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3326] ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعا یہ مذکور ہے کہ «رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» ۱؎ [71-نوح:26] ’ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہیئے ‘، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی۔ قرآن فرماتا ہے «فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:119-120] ”ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کر دیا۔“ خود قرآن میں ہے کہ «لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ» ۱؎ [11-هود:43] ’ آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں ‘۔ تعجب سا تعجب ہے کہ نوح علیہ السلام کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بنی اسرائیل جب اپنے نبی کریم علیہ السلام کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بے ادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آ جائے۔ ایک قرأت میں «يَخَافُونَ» کے بدلے «یَـھَـابَـوْنَ» ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ”ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی۔ ایک کا نام یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا۔“ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول علیہ السلام کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کر دیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر یوشع اور کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کر دیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہو گیا اور بے طرح مخالفت رسول علیہ السلام پر تل گئے۔
ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حال کو دیکھئیے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا۔ ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا کہ { بتاؤ اب کیا کرنا چاہیئے؟ } اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے صدیق رضی اللہ عنہ نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔
لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے }، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لیے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ”شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے؟ سنئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کرکے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہو جایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر ان شاءاللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔“ یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں رضی اللہ عنہم۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1779]
ایک روایت میں ہے کہ { بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ ”اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:105/3:صحیح] مقداد انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ ۱؎ [مسند احمد:314/4:] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ”سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے اس قول سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4609] انہوں نے کہا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔“ ۱؎ [مسند احمد:389/1:صحیح] (کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر خوش کر سکتا)۔ ایک روایت میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11686:ضعیف] جبکہ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بیت اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں }، تو سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہم اصحاب موسیٰ علیہ السلام کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی کریم علیہ السلام سے کہدیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ کی مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔“ یہ سن کر اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کر دیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ ”رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما۔“ جناب باری تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ ’ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے ‘، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جا سکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من و سلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہو گئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سب مروی ہے۔ پھر ہارون علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ علیہ السلام کے خلیفہ یوشع بن نون علیہ السلام نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین «سَنَةً» پر وقف تام کرتے ہیں اور «أَرْبَعِينَ سَنَةً» کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل «تِيهُونَ فِي الْأَرْضِ» کو بتلاتے ہیں۔ اس چالیس سالہ مدت کے گزرجانے کے بعد جو بھی باقی تھے، انہیں لے کر یوشع بن نون علیہ السلام نکلے اور دوسرے پہاڑ سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہولیے اور آپ علیہ السلام نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔
جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آ پہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لیے اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ! اسے ذرا سی دیر روک دے۔“ چنانچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ علیہ السلام نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ ’ بنی اسرائیل کو کہدو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حِطَّةٌ» کہیں ‘ یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی «حَبَّةٌ فِیْ شَعْرَۃٍ» کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورۃ البقرۃ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی یوشع علیہ السلام نے فرمایا ”تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔“
چنانچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی کریم علیہ السلام کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ علیہ السلام نے فرمایا ”تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ۔“ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے۔ «أَرْبَعِينَ سَنَةً» میں «فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ» عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو کلیم اللہ علیہ السلام نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے موسیٰ علیہ السلام پر بد دعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لیے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ علیہ السلام کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ علیہ السلام نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مر گیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔
نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس کا تخت تین گز کا تھا۔“ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں ‘۔ اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول علیہ السلام کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر علیہ السلام ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں۔ نبی اللہ کی بے ادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے ساز و سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہو جاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گر گئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
24۔ 1 لیکن اس کے باوجود بنی اسرائیل نے بدترین بزدلی، سوء ادبی اور سرکشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تو اور تیرا رب جا کر لڑے۔ اس کے برعکس جب جنگ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا تو انہوں نے قلت تعداد و قلت وسائل کے باوجود جہاد میں حصہ لینے کے لئے بھرپور عزم کا اظہار کیا اور پھر یہ کہا کہ ' یارسول اللہ! ہم آپ کو اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح قوم موسیٰ نے موسیٰ ؑ کو کہا تھا ' (صحیح بخاری)
(آیت 24) {قَالُوْا يٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا ……:} ان دو آدمیوں نے کہا تھا کہ تم لوگ ان پر حملے کے لیے بس دروازے میں داخل ہو جاؤ، یعنی اﷲ کے وعدے اور بشارت کے مطابق تمھارے داخلے کی دیر ہے، دشمن بھاگ جائے گا لیکن انھوں نے حد سے بڑھا ہوا گستاخانہ جملہ کہا: ”جا تو اور تیرا رب لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔“ اس کے برعکس بدر کے موقع پر جنگ کے اچانک سامنے آنے کے باوجود اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال عزم و ہمت اور شجاعت و استقامت کا مظاہرہ کیا۔ عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے بدر کے دن عرض کیا: ”اے اﷲ کے رسول! ہم آپ سے اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا: «فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ» ہم تو عرض کرتے ہیں کہ آپ چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔“ یہ سن کر ایسے محسوس ہوا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب پریشانی دور ہو گئی۔ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ: «فاذهب أنت وربك فقاتلا» : ۴۶۰۹ ]
اس پر موسیٰؑ نے کہا "اے میرے رب، میرے اختیار میں کوئی نہیں مگر یا میری اپنی ذات یا میرا بھائی، پس تو ہمیں اِن نافرمان لوگوں سے الگ کر دے"
مولانا محمد جوناگڑھی
موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے الٰہی! مجھے تو بجز اپنے اور میرے بھائی کے کسی اور پر کوئی اختیار نہیں، پس تو ہم میں اور ان نافرمانوں میں جدائی کردے
احمد رضا خان بریلوی
موسیٰ نے عرض کی کہ اے رب! میرے مجھے اختیار نہیں مگر اپنا اور اپنے بھائی کا تو تو ہم کو ان بے حکموں سے جدا رکھ
علامہ محمد حسین نجفی
موسیٰ نے کہا پروردگار! میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر کوئی قابو (اختیار) نہیں رکھتا۔ پس تو ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان فیصلہ کر دے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اے میرے رب ! بیشک میں اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی چیز کا مالک نہیں، سو تو ہمارے درمیان اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان علیحدگی کر دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا ”لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی علیہ السلام تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔“ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء علیہم السلام تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء و الرسل محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واسطہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنا دیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھربار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیری بیوی ہے؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔
حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”سواری اور خادم ملک ہے۔“ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ رحمة الله خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا }۔ ۱؎ [ضعیف:اسکی سند میں ابن لبیعہ ضعیف ہے] ایک اور مرفوع حدیث میں ہے { جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11629:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے { جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن و امان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2346،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے۔ اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ» ۱؎ [45-الجاثية:16] ’ ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی ‘۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ ”اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔“ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» ۱؎ [3-آل عمران:110] ، اور فرمایا آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» ۱؎ [2-البقرۃ:143] ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے“ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من و سلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں۔“ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر بیان ہوتا ہے کہ ’ بیت المقدس دراصل ان کے دادا یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی ‘۔ اب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا۔“ لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے۔ مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے۔“ ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آرہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا۔ ”اللہ نے اسے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہو جاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑ جاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ علیہ السلام فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جا سکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”موسیٰ علیہ السلام جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔“
یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہو گئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جا کر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہو گیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کر دو۔ چنانچہ انہوں نے جا کر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے۔“ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ”ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہدیا۔ اب موسیٰ علیہ السلام نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا ”ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے۔“ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں [3333] تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیاء مانع ہے۔ پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3326] ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعا یہ مذکور ہے کہ «رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» ۱؎ [71-نوح:26] ’ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہیئے ‘، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی۔ قرآن فرماتا ہے «فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:119-120] ”ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کر دیا۔“ خود قرآن میں ہے کہ «لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ» ۱؎ [11-هود:43] ’ آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں ‘۔ تعجب سا تعجب ہے کہ نوح علیہ السلام کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بنی اسرائیل جب اپنے نبی کریم علیہ السلام کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بے ادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آ جائے۔ ایک قرأت میں «يَخَافُونَ» کے بدلے «یَـھَـابَـوْنَ» ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ”ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی۔ ایک کا نام یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا۔“ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول علیہ السلام کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کر دیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر یوشع اور کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کر دیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہو گیا اور بے طرح مخالفت رسول علیہ السلام پر تل گئے۔
ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حال کو دیکھئیے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا۔ ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا کہ { بتاؤ اب کیا کرنا چاہیئے؟ } اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے صدیق رضی اللہ عنہ نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔
لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے }، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لیے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ”شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے؟ سنئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کرکے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہو جایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر ان شاءاللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔“ یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں رضی اللہ عنہم۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1779]
ایک روایت میں ہے کہ { بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ ”اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:105/3:صحیح] مقداد انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ ۱؎ [مسند احمد:314/4:] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ”سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے اس قول سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4609] انہوں نے کہا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔“ ۱؎ [مسند احمد:389/1:صحیح] (کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر خوش کر سکتا)۔ ایک روایت میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11686:ضعیف] جبکہ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بیت اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں }، تو سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہم اصحاب موسیٰ علیہ السلام کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی کریم علیہ السلام سے کہدیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ کی مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔“ یہ سن کر اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کر دیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ ”رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما۔“ جناب باری تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ ’ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے ‘، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جا سکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من و سلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہو گئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سب مروی ہے۔ پھر ہارون علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ علیہ السلام کے خلیفہ یوشع بن نون علیہ السلام نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین «سَنَةً» پر وقف تام کرتے ہیں اور «أَرْبَعِينَ سَنَةً» کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل «تِيهُونَ فِي الْأَرْضِ» کو بتلاتے ہیں۔ اس چالیس سالہ مدت کے گزرجانے کے بعد جو بھی باقی تھے، انہیں لے کر یوشع بن نون علیہ السلام نکلے اور دوسرے پہاڑ سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہولیے اور آپ علیہ السلام نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔
جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آ پہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لیے اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ! اسے ذرا سی دیر روک دے۔“ چنانچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ علیہ السلام نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ ’ بنی اسرائیل کو کہدو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حِطَّةٌ» کہیں ‘ یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی «حَبَّةٌ فِیْ شَعْرَۃٍ» کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورۃ البقرۃ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی یوشع علیہ السلام نے فرمایا ”تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔“
چنانچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی کریم علیہ السلام کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ علیہ السلام نے فرمایا ”تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ۔“ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے۔ «أَرْبَعِينَ سَنَةً» میں «فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ» عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو کلیم اللہ علیہ السلام نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے موسیٰ علیہ السلام پر بد دعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لیے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ علیہ السلام کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ علیہ السلام نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مر گیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔
نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس کا تخت تین گز کا تھا۔“ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں ‘۔ اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول علیہ السلام کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر علیہ السلام ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں۔ نبی اللہ کی بے ادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے ساز و سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہو جاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گر گئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
25۔ 1 اس میں نافرمان قوم کے مقابلے میں اپنی بےبسی کا اظہار بھی ہے اور برات کا اعلان بھی۔
(آیت 25) {قَالَ رَبِّ اِنِّيْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِيْ وَ اَخِيْ ……:} اس پر موسیٰ علیہ السلام ایسے بد دل ہوئے کہ انھوں نے دعا کی کہ پروردگارا! میرے اختیار میں میری جان اور اپنے بھائی کے سوا کچھ نہیں، تو ہمیں ان لوگوں سے علیحدہ کر دے، ایسا نہ ہو کہ تیرا عذاب آئے اور ان کے ساتھ ہم بھی اس کی لپیٹ میں آ جائیں۔ (کبیر، ابن کثیر) معلوم ہوا کہ جب کوئی قوم سرکشی اور نافرمانی پر تل جائے تو بڑے بڑے جلیل القدر انبیاء اور مصلحین کی بھی وہاں کچھ پیش نہیں جاتی۔
اللہ نے جواب دیا "اچھا تو وہ ملک چالیس سال تک اِن پر حرام ہے، یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے، اِن نافرمانوں کی حالت پر ہرگز ترس نہ کھاؤ"
مولانا محمد جوناگڑھی
ارشاد ہوا کہ اب زمین ان پر چالیس سال تک حرام کر دی گئی ہے، یہ خانہ بدوش ادھر ادھر سرگرداں پھرتے رہیں گے اس لئے تم ان فاسقوں کے بارے میں غمگین نہ ہونا
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا تو وہ زمین ان پر حرام ہے چالیس برس تک بھٹکتے پھریں زمین میں تو تم ان بے حکموں کا افسوس نہ کھاؤ،
علامہ محمد حسین نجفی
ﷲ نے فرمایا! پھر اب وہ (زمین) چالیس سال تک حرام ہے وہ لق و دق صحراء میں سرگردان پھرتے رہیں گے پس آپ اس نافرمان قوم پر افسوس نہ کریں۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا پھر بے شک وہ ان پر چالیس سال حرام کی ہوئی ہے، زمین میں سر مارتے پھریں گے، پس تو ان نافرمان لوگوں پر غم نہ کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا ”لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی علیہ السلام تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔“ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء علیہم السلام تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء و الرسل محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واسطہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنا دیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھربار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیری بیوی ہے؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔
حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”سواری اور خادم ملک ہے۔“ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ رحمة الله خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا }۔ ۱؎ [ضعیف:اسکی سند میں ابن لبیعہ ضعیف ہے] ایک اور مرفوع حدیث میں ہے { جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11629:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے { جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن و امان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2346،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے۔ اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ» ۱؎ [45-الجاثية:16] ’ ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی ‘۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ ”اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔“ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» ۱؎ [3-آل عمران:110] ، اور فرمایا آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» ۱؎ [2-البقرۃ:143] ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے“ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من و سلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں۔“ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر بیان ہوتا ہے کہ ’ بیت المقدس دراصل ان کے دادا یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی ‘۔ اب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا۔“ لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے۔ مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے۔“ ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آرہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا۔ ”اللہ نے اسے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہو جاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑ جاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ علیہ السلام فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جا سکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”موسیٰ علیہ السلام جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔“
یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہو گئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جا کر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہو گیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کر دو۔ چنانچہ انہوں نے جا کر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے۔“ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ”ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہدیا۔ اب موسیٰ علیہ السلام نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا ”ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے۔“ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں [3333] تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیاء مانع ہے۔ پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3326] ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعا یہ مذکور ہے کہ «رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» ۱؎ [71-نوح:26] ’ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہیئے ‘، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی۔ قرآن فرماتا ہے «فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:119-120] ”ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کر دیا۔“ خود قرآن میں ہے کہ «لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ» ۱؎ [11-هود:43] ’ آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں ‘۔ تعجب سا تعجب ہے کہ نوح علیہ السلام کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بنی اسرائیل جب اپنے نبی کریم علیہ السلام کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بے ادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آ جائے۔ ایک قرأت میں «يَخَافُونَ» کے بدلے «یَـھَـابَـوْنَ» ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ”ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی۔ ایک کا نام یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا۔“ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول علیہ السلام کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کر دیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر یوشع اور کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کر دیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہو گیا اور بے طرح مخالفت رسول علیہ السلام پر تل گئے۔
ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حال کو دیکھئیے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا۔ ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا کہ { بتاؤ اب کیا کرنا چاہیئے؟ } اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے صدیق رضی اللہ عنہ نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔
لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے }، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لیے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ”شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے؟ سنئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کرکے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہو جایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر ان شاءاللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔“ یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں رضی اللہ عنہم۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1779]
ایک روایت میں ہے کہ { بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ ”اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:105/3:صحیح] مقداد انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ ۱؎ [مسند احمد:314/4:] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ”سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے اس قول سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4609] انہوں نے کہا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔“ ۱؎ [مسند احمد:389/1:صحیح] (کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر خوش کر سکتا)۔ ایک روایت میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11686:ضعیف] جبکہ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بیت اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں }، تو سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہم اصحاب موسیٰ علیہ السلام کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی کریم علیہ السلام سے کہدیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ کی مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔“ یہ سن کر اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کر دیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ ”رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما۔“ جناب باری تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ ’ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے ‘، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جا سکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من و سلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہو گئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سب مروی ہے۔ پھر ہارون علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ علیہ السلام کے خلیفہ یوشع بن نون علیہ السلام نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین «سَنَةً» پر وقف تام کرتے ہیں اور «أَرْبَعِينَ سَنَةً» کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل «تِيهُونَ فِي الْأَرْضِ» کو بتلاتے ہیں۔ اس چالیس سالہ مدت کے گزرجانے کے بعد جو بھی باقی تھے، انہیں لے کر یوشع بن نون علیہ السلام نکلے اور دوسرے پہاڑ سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہولیے اور آپ علیہ السلام نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔
جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آ پہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لیے اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ! اسے ذرا سی دیر روک دے۔“ چنانچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ علیہ السلام نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ ’ بنی اسرائیل کو کہدو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حِطَّةٌ» کہیں ‘ یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی «حَبَّةٌ فِیْ شَعْرَۃٍ» کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورۃ البقرۃ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی یوشع علیہ السلام نے فرمایا ”تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔“
چنانچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی کریم علیہ السلام کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ علیہ السلام نے فرمایا ”تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ۔“ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے۔ «أَرْبَعِينَ سَنَةً» میں «فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ» عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو کلیم اللہ علیہ السلام نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے موسیٰ علیہ السلام پر بد دعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لیے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ علیہ السلام کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ علیہ السلام نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مر گیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔
نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس کا تخت تین گز کا تھا۔“ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں ‘۔ اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول علیہ السلام کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر علیہ السلام ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں۔ نبی اللہ کی بے ادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے ساز و سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہو جاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گر گئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
26۔ 1 یہ میدان تیہ کہلاتا ہے جس میں چالیس سال یہ قوم اپنی نافرمانی اور جہاد سے اعراض کی وجہ سے سرگرداں رہی۔ اس میدان میں اس کے باوجود ان پر من وسلویٰ کا نزول ہوا جس سے اکتا کر انہوں نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ روز روز ایک ہی کھانا کھا کر ہمارا جی بھر گیا ہے۔ اپنے رب سے دعا کر کہ وہ مختلف قسم کی سبزیاں اور دالیں ہمارے لئے پیدا فرمائے۔ یہیں ان پر بادلوں کا سایہ ہوا، پتھر پر حضرت موسیٰ ؑ کی لاٹھی مارنے سے بارہ قبیلوں کے لئے بارہ چشمے جاری ہوئے اور اس طرح کے دیگر انعامات ہوتے رہے۔ چالیس سال بعد پھر ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ یہ بیت المقدس کے اندر داخل ہوئے۔ 26۔ 2 پیغمبر جب دیکھتا ہے دعوت و تبلیغ کے باوجود میری قوم سیدھا راستہ اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ جس میں اس کے لئے دین و دنیا کی سعادتیں اور بھلائیاں ہیں تو فطری طور پر اس کو سخت افسوس اور دلی صدمہ ہوتا ہے۔ یہی نبی کا بھی حال ہوتا تھا، جس کا ذکر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہ فرمایا لیکن آیت میں حضرت موسیٰ ؑ سے خطاب کر کے کہا جا رہا ہے کہ جب تو نے فریضہ تبلیغ ادا کردیا اور پیغام الہی لوگوں تک پہنچا دیا اور اپنی قوم کو ایک عظیم الشان کامیابی کے نقطہ آغاز پر لاکھڑا کیا۔ لیکن اب وہ اپنی دون ہمتی اور بد دماغی کے سبب تیری بات ماننے کو تیار نہیں تو تو اپنے فرض سے سبک دوش ہوگیا اور اب تجھے ان کے بارے میں غمگین ہونے کی ضرورت نہیں۔ ایسے موقع پر غمگینی تو ایک فطری چیز ہے۔ لیکن مراد اس تسلی سے یہ ہے کہ تبلیغ و دعوت کے بعد اب تم عند اللہ بری الذمہ ہو۔
(آیت 26){ قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ ……:} { ” يَتِيْهُوْنَ “} { ”تَاهَ يَتِيْهُ تَيْهًا“} بھٹکتے پھرنا۔ {”اَرْضٌ تِيْهٌ“} وہ زمین جس میں کوئی راستہ نہ ملے۔ (قاموس) اس کے بعد یہ لوگ چالیس سال تک بیابان میں بھٹکتے رہے اور اس کا نام ”صحرائے تیہ“ پڑ گیا۔ یہیں پہلے ہارون علیہ السلام کا انتقال ہوا، پھر موسیٰ علیہ السلام بھی وفات پا گئے۔ بعد میں کسی وقت بنی اسرائیل ارض مقدس میں داخل ہوئے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اہل کتاب کو قصہ سنایا، اس پر اگر تم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت نہ کرو گے تو یہ نعمت اوروں کو نصیب ہو گی۔ آگے اس پر قصہ سنایا ہابیل قابیل کا کہ حسد مت کرو، حسد والا مردود ہے۔ (موضح)
اور ذرا انہیں آدمؑ کے دو بیٹوں کا قصہ بھی بے کم و کاست سنا دو جب اُن دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی اُس نے کہا "میں تجھے مار ڈالوں گا" اس نے جواب دیا "اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کا کھرا کھرا حال بھی انہیں سنا دو، ان دونوں نے ایک نذرانہ پیش کیا، ان میں سے ایک کی نذر تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی مقبول نہ ہوئی تو وه کہنے لگا کہ میں تجھے مار ہی ڈالوں گا، اس نے کہا اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور انہیں پڑھ کر سناؤ آدم کے دو بیٹوں کی سچی خبر جب دونوں نے ایک ایک نیاز پیش کی تو ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی نہ قبول ہوئی بولا قسم ہے میں تجھے قتل کردوں گا کہا اللہ اسی سے قبول کرتا ہے، سے ڈر ہے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) آپ انہیں آدم کے دونوں بیٹوں کا سچا قصہ پڑھ کر سنائیے۔ جب کہ ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ایک کی تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی۔ اس (دوسرے) نے کہا میں تمہیں ضرور قتل کروں گا۔ پہلے نے کہا اللہ تو صرف متقیوں (پرہیزگاروں) کا عمل قبول کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان پر آدم کے دو بیٹوں کی خبر کی تلاوت حق کے ساتھ کر، جب ان دونوں نے کچھ قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قبول کر لی گئی اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی۔ اس نے کہا میں تجھے ضرور ہی قتل کر دوں گا۔ اس نے کہا بے شک اللہ متقی لوگوں ہی سے قبول کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حسد و بغض سے ممانعت ٭٭
اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہو گئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بے وجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بے کم و کاست قصہ سنا دو ‘۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لیے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے منع کیا۔
آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہو جائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا۔ مفسرین کے اقوال سنئے آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کر دیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہو جائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم علیہ السلام اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا ’ زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو؟ ‘ آپ علیہ السلام نے کہا نہیں حکم ہوا ’ مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ ‘۔ حضرت آدم علیہ السلام نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کر دیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ علیہ السلام جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔
چونکہ قابیل اب مایوس ہو چکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لیے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور؟ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بے دلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہو گئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہو گئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بے کار بے جان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔
اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائے گا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بے رحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔ قابیل نے اپنی تو امہ بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لیے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لیے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہو گیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہو جائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے۔ اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔“ راوی حدیث ابوعفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں؟ فرمایا ”وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔“ جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہو جائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہو سکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { { جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:31] سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ نے اس وقت جبکہ باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو گھیر رکھا تھا کہا کہ { میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { عنقریب فتنہ برپا ہو گا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا }۔ کسی نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر بھی تو آدم علیہ السلام کے بیٹے کی طرح ہو جا } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2194،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4257،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایوب سختیاتی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔“ { ایک مرتبہ ایک جانور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا؟ } میں نے کہا جو حکم رب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو۔ فرمایا: { صبر کرو }۔ پھر فرمایا: { جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا؟ } میں نے وہی جواب دیا تو،فرمایا کہ { اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کر لے }۔ کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں؟ فرمایا: { تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ }۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں؟ فرمایا: { پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہو جائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4261،قال الشيخ الألباني:صحیح] ربعی رحمة الله فرماتے ہیں ”ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کرکے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہدوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہو جاؤں گا۔“
میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے، یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی مجاہد رحمة الله سے مروی ہے کہ ”میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔“ لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کر لیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ { بے سبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے }۔ گو یہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آ جاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا، اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہو جائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑ جائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لیے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
امام ابن جریر رحمة الله فرماتے ہیں ”مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔“ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آ جائیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’ ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے ‘، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہو جائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آ کر اپنے بھائی کو قتل کر دیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کر لی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مر گیا۔ یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لیے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔
یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حواء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوا ہے؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔ اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم علیہ السلام آئے پوچھا کیا بات ہے؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3335] مجاہد رحمة الله کا قول ہے کہ ”قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے۔“ ابراہیم نخعی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے۔“
جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔“ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کر سکا۔ یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لیے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بے چین بھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ { روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3335]
لیکن حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال ہوا ہے۔“ لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے { تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11772:مرسل] یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم علیہ السلام بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی، زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہو گئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہو گئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ ”اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کر دیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11724:ضعیف] بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چنانچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہو گئیں «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» (یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم)
27۔ 1 آدم ؑ کے ان دو بیٹوں کے نام ہابیل اور قابیل تھے۔ 27۔ 2 یہ نذرانہ یا قربانی کس لئے پیش کی گئی؟ اس کے بارے میں کوئی صحیح روایت نہیں۔ البتہ مشہور یہ ہے کہ ابتداء میں حضرت آدم وحوا کے ملاپ سے بیک وقت لڑکا اور لڑکی پیدا ہوتی۔ دوسرے حمل سے پھر لڑکا اور لڑکی ہوتی، ایک حمل کے بہن بھائی کا نکاح دوسرے حمل کے بھائی بہن سے کردیا جاتا۔ ہابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن بدصورت تھی، جب کہ قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن خوبصورت تھی۔ اس وقت کے اصول کے مطابق ہابیل کا نکاح قابیل کی بہن کے ساتھ اور قابیل کا نکاح ہابیل کی بہن کے ساتھ ہونا تھا۔ لیکن قابیل چاہتا تھا کہ وہ ہابیل کی بہن کی بجائے اپنی ہی بہن کے ساتھ جو خوبصورت تھی نکاح کرے۔ آدم ؑ نے اسے سمجھایا، لیکن وہ نہ سمجھا بالا خر حضرت آدم ؑ نے دونوں کو بارگاہ الٰہی میں قربانیاں پیش کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جس کی قربانی قبول ہوجائے گی قابیل کی بہن کا نکاح اس کے ساتھ کردیا جائے گا، ہابیل کی قربانی قبول ہوگئی، یعنی آسمان سے آگ آئی اور اسے کھا گئی جو اس کے قبول ہونے کی دلیل تھی۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ ویسے ہی دونوں بھائیوں نے اپنے اپنے طور پر اللہ کی بارگاہ میں نذر پیش کی، ہابیل نے ایک عمدہ دنبہ کی قربانی اور قابیل نے گندم کی بالی قربانی میں پیش کی ہابیل کی قربانی قبول ہونے پر قابیل حسد کا شکار ہوگیا۔
(آیت 27) ➊ {وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ:} آدم علیہ السلام کے ان دو بیٹوں کا نام ہابیل اور قابیل مشہور ہے، اگرچہ قرآن یا حدیث میں یہ نام نہیں آئے۔ ➋ {وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ……:} یہ نذر یا قربانی کس لیے پیش کی گئی اس کے بارے میں کوئی صحیح روایت نہیں، البتہ مشہور یہ ہے کہ ابتدا میں آدم اور حوا علیہما السلام کے ملاپ سے بیک وقت لڑکا اور لڑکی پیدا ہوتے تھے، دوسرے حمل سے پھر لڑکا لڑکی ہوتے، ایک حمل کے بہن بھائی کا نکاح دوسرے حمل کے بہن بھائی سے کر دیا جاتا۔ ہابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن بد صورت تھی، جبکہ قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن خوبصورت تھی، اس وقت کے اصول کے مطابق ہابیل کا نکاح قابیل کی بہن کے ساتھ اور قابیل کا ہابیل کی بہن کے ساتھ ہونا تھا، لیکن قابیل چاہتا تھا کہ وہ ہابیل کی بہن کے بجائے اپنی ہی بہن کے ساتھ، جو خوب صورت تھی، نکاح کرے۔ آدم علیہ السلام نے اسے سمجھایا لیکن وہ نہ سمجھا۔ بالآخر آدم علیہ السلام نے دونوں کو بارگاہ الٰہی میں قربانیاں پیش کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جس کی قربانی قبول ہو جائے گی قابیل کی بہن کا نکاح اس سے کر دیا جائے گا۔ ہابیل کی قربانی قبول ہو گئی، یعنی آسمان سے آگ آئی اور اسے کھا گئی جو اس کے قبول ہونے کی دلیل تھی، لیکن جیسا کہ بتایا گیا ہے یہ بات ثابت نہیں ہے۔ ➌ اوپرکی آیات میں یہ بیان فرمایا تھا کہ مخالفین ہر طرح سے مسلمانوں پر مصائب و شدائد لانا چاہتے ہیں، جیسا کہ فرمایا «اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ يَّبْسُطُوْۤا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ» [ المائدۃ: ۱۱ ] ”جب کچھ لوگوں نے ارادہ کیا کہ تمھاری طرف اپنے ہاتھ بڑھائیں۔“ مگر اﷲ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کی حفاظت فرما رہا ہے۔ اس کے بعد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے کچھ واقعات بیان فرمائے، جن سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ جس شخص کو بھی اﷲ تعالیٰ نے دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازا ہے، لوگ اس سے ہمیشہ حسد و بغض سے پیش آتے رہے ہیں، چنانچہ یہود و نصاریٰ کی مخالفت بھی ان کی سر کشی اور بغض و حسد پر مبنی ہے، لہٰذا ان پر افسوس اور غم نہ کیجیے۔ اب یہاں آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا قصہ بیان کیا، جو اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، کیونکہ ایک بھائی کا دوسرے کو قتل کرنا حسد کی بنا پر تھا۔ الغرض ان تمام واقعات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا مقصود ہے اور ہو سکتا ہے کہ بتانا مقصود ہو کہ یہود اپنے گمان میں اﷲ تعالیٰ کے محبوب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، کہتے ہیں: «نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ» [ المائدۃ: ۱۸ ] اور انبیاء کی اولاد ہونے پر ان کو فخر ہے، مگر کفر اور حسد و عناد کے ساتھ یہ نسبی شرف ان کے لیے مفید نہیں ہو سکتا، آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا قصہ اس پر شاہد ہے۔ (کبیر، قرطبی) اس سے مقصد حسد سے بچنے کی تاکید ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں آدمی بنی اسرائیل سے تھے۔ یہود کا حسد بیان کرنے کے لیے اﷲ تعالیٰ نے بطور مثال یہ واقعہ بیان کیا ہے۔ اس کی دلیل اس قصے کے آخر میں آنے والی آیت ہے: «مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ» [ المائدۃ: ۳۲ ] یعنی اس قصے ہی کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا…… (کبیر۔ قرطبی) مگر صحیح بخاری اور مسلم کی ایک حدیث کی وجہ سے یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بھی ظلم سے قتل کیا جاتا ہے (قاتل کے ساتھ) اس کے خون ناحق کا بوجھ آدم (علیہ السلام) کے پہلے بیٹے پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ وہ پہلا شخص تھا جس نے قتل کا کام شروع کیا۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیا، باب خلق آدم صلوات اﷲ علیہ و ذریتہ: ۳۳۳۵۔ مسلم: ۱۶۷۷ ] ➍ {اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ:} یعنی تم بھی اگر اﷲ کی نافرمانی سے بچتے اور اﷲ سے ڈرتے تو تمھاری قربانی بھی قبول ہو جاتی۔
اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا، میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
گو تو میرے قتل کے لئے دست درازی کرے لیکن میں تیرے قتل کی طرف ہرگز اپنے ہاتھ نہ بڑھاؤں گا، میں تو اللہ تعالیٰ پروردگار عالم سے خوف کھاتا ہوں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اگر تو اپنا ہاتھ مجھ پر بڑھائے گا کہ مجھے قتل کرے تو میں اپنا ہاتھ تجھ پر نہ بڑھاؤں گا کہ تجھے قتل کروں میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو مالک ہے سارے جہاں کا،
علامہ محمد حسین نجفی
اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ بڑھائے گا۔ تو میں تمہیں قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔ (کیونکہ) میں تو ڈرتا ہوں اس اللہ سے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اگر تو نے اپنا ہاتھ میری طرف اس لیے بڑھایا کہ مجھے قتل کرے تو میں ہرگز اپنا ہاتھ تیری طرف اس لیے بڑھانے والا نہیں کہ تجھے قتل کروں، بے شک میںاللہ سے ڈرتا ہوں، جو سارے جہانوں کا رب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حسد و بغض سے ممانعت ٭٭
اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہو گئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بے وجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بے کم و کاست قصہ سنا دو ‘۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لیے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے منع کیا۔
آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہو جائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا۔ مفسرین کے اقوال سنئے آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کر دیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہو جائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم علیہ السلام اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا ’ زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو؟ ‘ آپ علیہ السلام نے کہا نہیں حکم ہوا ’ مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ ‘۔ حضرت آدم علیہ السلام نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کر دیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ علیہ السلام جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔
چونکہ قابیل اب مایوس ہو چکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لیے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور؟ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بے دلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہو گئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہو گئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بے کار بے جان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔
اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائے گا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بے رحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔ قابیل نے اپنی تو امہ بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لیے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لیے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہو گیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہو جائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے۔ اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔“ راوی حدیث ابوعفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں؟ فرمایا ”وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔“ جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہو جائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہو سکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { { جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:31] سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ نے اس وقت جبکہ باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو گھیر رکھا تھا کہا کہ { میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { عنقریب فتنہ برپا ہو گا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا }۔ کسی نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر بھی تو آدم علیہ السلام کے بیٹے کی طرح ہو جا } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2194،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4257،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایوب سختیاتی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔“ { ایک مرتبہ ایک جانور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا؟ } میں نے کہا جو حکم رب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو۔ فرمایا: { صبر کرو }۔ پھر فرمایا: { جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا؟ } میں نے وہی جواب دیا تو،فرمایا کہ { اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کر لے }۔ کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں؟ فرمایا: { تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ }۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں؟ فرمایا: { پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہو جائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4261،قال الشيخ الألباني:صحیح] ربعی رحمة الله فرماتے ہیں ”ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کرکے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہدوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہو جاؤں گا۔“
میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے، یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی مجاہد رحمة الله سے مروی ہے کہ ”میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔“ لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کر لیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ { بے سبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے }۔ گو یہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آ جاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا، اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہو جائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑ جائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لیے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
امام ابن جریر رحمة الله فرماتے ہیں ”مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔“ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آ جائیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’ ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے ‘، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہو جائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آ کر اپنے بھائی کو قتل کر دیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کر لی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مر گیا۔ یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لیے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔
یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حواء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوا ہے؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔ اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم علیہ السلام آئے پوچھا کیا بات ہے؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3335] مجاہد رحمة الله کا قول ہے کہ ”قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے۔“ ابراہیم نخعی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے۔“
جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔“ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کر سکا۔ یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لیے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بے چین بھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ { روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3335]
لیکن حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال ہوا ہے۔“ لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے { تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11772:مرسل] یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم علیہ السلام بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی، زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہو گئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہو گئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ ”اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کر دیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11724:ضعیف] بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چنانچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہو گئیں «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» (یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 28) {لَىِٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَيَّ يَدَكَ ……:} یعنی میں تمھیں قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ تمھاری طرف نہیں بڑھاؤں گا، اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھ اٹھاؤں تو الگ بات ہے، کیونکہ اپنا دفاع تو ضروری ہے اور اس پر امت مسلمہ کا بھی اجماع ہے۔ (قرطبی) اگر مقتول بھی اپنے قاتل کو قتل کرنے کے پیچھے لگا ہوا ہو تو ایسی صورت میں دونوں جہنمی ہیں، جیسا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔“ احنف بن قیس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ” اے اﷲ کے رسول! یہ تو قاتل ہے، مقتول کا کیا قصور ہے؟“ فرمایا: ”اس لیے کہ وہ بھی اپنے قاتل کے قتل پر حریص تھا۔“ [ بخاری، الإیمان، باب: «و ان طائفتان من المؤمنين……» :۳۱ ]
میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے اور دوزخی بن کر رہے ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا گناه اور اپنے گناه اپنے سر پر رکھ لے اور دوزخیوں میں شامل ہوجائے، ﻇالموں کا یہی بدلہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میرا اور تیرا گناہ دونوں تیرے ہی پلہ پڑے تو تو دوز خی ہوجائے، اور بے انصافوں کی یہی سزا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
میں تو یہ چاہتا ہوں کہ تو میرا گناہ اور اپنا گناہ سمیٹ لے جائے اور پھر دوزخیوں میں سے ہو جائے کہ ظالموں کی یہی سزا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
میں تو یہ چاہتا ہوں کہ تو میرا گناہ اور اپنا گناہ لے کر لوٹے، پھر تو آگ والوں میں سے ہو جائے اور یہی ظالموں کی جزا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حسد و بغض سے ممانعت ٭٭
اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہو گئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بے وجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بے کم و کاست قصہ سنا دو ‘۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لیے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے منع کیا۔
آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہو جائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا۔ مفسرین کے اقوال سنئے آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کر دیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہو جائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم علیہ السلام اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا ’ زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو؟ ‘ آپ علیہ السلام نے کہا نہیں حکم ہوا ’ مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ ‘۔ حضرت آدم علیہ السلام نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کر دیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ علیہ السلام جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔
چونکہ قابیل اب مایوس ہو چکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لیے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور؟ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بے دلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہو گئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہو گئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بے کار بے جان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔
اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائے گا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بے رحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔ قابیل نے اپنی تو امہ بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لیے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لیے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہو گیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہو جائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے۔ اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔“ راوی حدیث ابوعفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں؟ فرمایا ”وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔“ جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہو جائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہو سکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { { جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:31] سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ نے اس وقت جبکہ باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو گھیر رکھا تھا کہا کہ { میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { عنقریب فتنہ برپا ہو گا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا }۔ کسی نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر بھی تو آدم علیہ السلام کے بیٹے کی طرح ہو جا } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2194،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4257،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایوب سختیاتی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔“ { ایک مرتبہ ایک جانور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا؟ } میں نے کہا جو حکم رب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو۔ فرمایا: { صبر کرو }۔ پھر فرمایا: { جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا؟ } میں نے وہی جواب دیا تو،فرمایا کہ { اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کر لے }۔ کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں؟ فرمایا: { تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ }۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں؟ فرمایا: { پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہو جائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4261،قال الشيخ الألباني:صحیح] ربعی رحمة الله فرماتے ہیں ”ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کرکے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہدوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہو جاؤں گا۔“
میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے، یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی مجاہد رحمة الله سے مروی ہے کہ ”میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔“ لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کر لیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ { بے سبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے }۔ گو یہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آ جاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا، اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہو جائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑ جائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لیے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
امام ابن جریر رحمة الله فرماتے ہیں ”مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔“ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آ جائیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’ ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے ‘، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہو جائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آ کر اپنے بھائی کو قتل کر دیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کر لی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مر گیا۔ یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لیے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔
یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حواء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوا ہے؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔ اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم علیہ السلام آئے پوچھا کیا بات ہے؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3335] مجاہد رحمة الله کا قول ہے کہ ”قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے۔“ ابراہیم نخعی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے۔“
جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔“ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کر سکا۔ یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لیے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بے چین بھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ { روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3335]
لیکن حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال ہوا ہے۔“ لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے { تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11772:مرسل] یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم علیہ السلام بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی، زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہو گئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہو گئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ ”اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کر دیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11724:ضعیف] بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چنانچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہو گئیں «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» (یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم)
29۔ 1 میرے گناہ کا مطلب قتل کا وہ گناہ جو مجھے اس وقت ہوتا جب میں تجھے قتل کرتا۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے، قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔ صحابہ کرام نے پوچھا قاتل کا جہنم میں جانا تو سمجھ میں آتا ہے، مقتول جہنم میں کیوں جائے گا؟ آپ نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا حریص تھا (صحیح بخاری و مسلم کتاب الفتن)
(آیت 29) {اِنِّيْۤ اُرِيْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِيْ وَ اِثْمِكَ ……:} میرا گناہ، یعنی جو مجھے اس صورت میں ہوتا جب میں بھی تجھے قتل کرنے کے درپے ہوتا، جیسا کہ پیچھے حدیث میں گزرا ہے، یا یہ کہ میرے گناہوں کا بوجھ بھی تجھ پر ڈالا جائے گا، جیسا کہ ایک حدیث میں ہے:”اگر اس کے کوئی نیک عمل ہوئے تو ان میں سے اس کے ظلم کے برابر لیے جائیں گے اور اگر اس کی کوئی نیکیاں نہ ہوئیں تو اس کے ساتھی کے گناہوں میں سے لے کر اس پر ڈال دیے جائیں گے۔“ [بخاری، المظالم، باب من کانت لہ مظلمۃ عند الرجل……: ۲۴۴۹ ]
آخر کار اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لیے آسان کر دیا اور وہ اسے مار کر اُن لوگوں میں شامل ہو گیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اسے اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر آماده کر دیا اور اس نے اسے قتل کر ڈاﻻ، جس سے نقصان پانے والوں میں سے ہوگیا
احمد رضا خان بریلوی
تو اسکے نفس نے اسے بھائی کے قتل کا چاؤ دلایا تو اسے قتل کردیا تو رہ گیا نقصان میں
علامہ محمد حسین نجفی
تو (بالآخر) اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل کو اس کے لئے آسان بنا دیا۔ چنانچہ اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس کے لیے اس کے نفس نے اس کے بھائی کا قتل پسندیدہ بنا دیا، سو اس نے اسے قتل کر دیا، پس خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حسد و بغض سے ممانعت ٭٭
اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہو گئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بے وجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بے کم و کاست قصہ سنا دو ‘۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لیے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے منع کیا۔
آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہو جائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا۔ مفسرین کے اقوال سنئے آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کر دیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہو جائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم علیہ السلام اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا ’ زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو؟ ‘ آپ علیہ السلام نے کہا نہیں حکم ہوا ’ مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ ‘۔ حضرت آدم علیہ السلام نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کر دیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ علیہ السلام جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔
چونکہ قابیل اب مایوس ہو چکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لیے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور؟ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بے دلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہو گئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہو گئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بے کار بے جان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔
اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائے گا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بے رحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔ قابیل نے اپنی تو امہ بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لیے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لیے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہو گیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہو جائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے۔ اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔“ راوی حدیث ابوعفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں؟ فرمایا ”وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔“ جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہو جائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہو سکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { { جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:31] سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ نے اس وقت جبکہ باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو گھیر رکھا تھا کہا کہ { میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { عنقریب فتنہ برپا ہو گا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا }۔ کسی نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر بھی تو آدم علیہ السلام کے بیٹے کی طرح ہو جا } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2194،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4257،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایوب سختیاتی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔“ { ایک مرتبہ ایک جانور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا؟ } میں نے کہا جو حکم رب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو۔ فرمایا: { صبر کرو }۔ پھر فرمایا: { جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا؟ } میں نے وہی جواب دیا تو،فرمایا کہ { اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کر لے }۔ کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں؟ فرمایا: { تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ }۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں؟ فرمایا: { پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہو جائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4261،قال الشيخ الألباني:صحیح] ربعی رحمة الله فرماتے ہیں ”ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کرکے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہدوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہو جاؤں گا۔“
میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے، یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی مجاہد رحمة الله سے مروی ہے کہ ”میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔“ لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کر لیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ { بے سبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے }۔ گو یہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آ جاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا، اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہو جائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑ جائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لیے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
امام ابن جریر رحمة الله فرماتے ہیں ”مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔“ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آ جائیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’ ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے ‘، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہو جائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آ کر اپنے بھائی کو قتل کر دیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کر لی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مر گیا۔ یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لیے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔
یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حواء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوا ہے؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔ اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم علیہ السلام آئے پوچھا کیا بات ہے؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3335] مجاہد رحمة الله کا قول ہے کہ ”قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے۔“ ابراہیم نخعی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے۔“
جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔“ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کر سکا۔ یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لیے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بے چین بھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ { روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3335]
لیکن حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال ہوا ہے۔“ لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے { تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11772:مرسل] یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم علیہ السلام بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی، زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہو گئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہو گئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ ”اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کر دیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11724:ضعیف] بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چنانچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہو گئیں «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» (یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم)
30۔ 1 چناچہ حدیث میں آتا ہے (لَا تَقْتُلُ نَفْسً ظُلُمًَا اِلَّا کَانَ عَلٰی اِبْنِ آدَمْ کفل من دمہا، لانہ کان اول من سن القتل) (الصحیح بخاری) جو قتل بھی ظلمًا ہوتا ہے (قاتل کے ساتھ) اس کے خون ناحق کا بوجھ آدم کے اس پہلے بیٹے پر ہوتا ہے کیونکہ یہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کا کام کیا امام ابن کثیر فرماتے ہیں ' کہ ظاہر بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ قابیل کو ہابیل کے قتل ناحق کی سزا دنیا میں ہی فوری طور پردے دی گئی تھی۔ حدیث میں آتا ہے نبی نے فرمایا (ظلم و زیادتی) اور قطع رحمی یہ دونوں گناہ اس بات کے زیادہ لائق ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے کرنے والوں کو دنیا میں ہی جلد سزا دے دے، تاہم آخرت کی سزا اس کے علاوہ اس کے لئے الگ ہوگی جو انہیں وہاں بھگتنی ہوگی۔ قابیل میں یہ دونوں گناہ جمع ہوگئے تھے ' اِنْا للہِ وَ اِنِّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ) 2:156 (ابن کثیر)
(آیت 30) {فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ:} یعنی اس کی دنیا بھی برباد ہو گئی اور آخرت میں بھی سخت عذاب کا مستحق ٹھہرا، کیونکہ ہر بعد والے قتل کا گناہ اس کی گردن پر بھی ہو گا، جیسا کہ پیچھے حدیث میں گزرا ہے۔
پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اُسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے یہ دیکھ کر وہ بولا افسوس مجھ پر! میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کی تدبیر نکال لیتا اس کے بعد وہ اپنے کیے پر بہت پچھتا یا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کو بھیجا جو زمین کھود رہا تھا تاکہ اسے دکھائے کہ وه کس طرح اپنے بھائی کی نعش کو چھپا دے، وه کہنے لگا، ہائے افسوس! کیا میں ایسا کرنے سے بھی گیا گزرا ہوگیا کہ اس کوے کی طرح اپنے بھائی کی ﻻش کو دفنا دیتا؟ پھر تو (بڑا ہی) پشیمان اور شرمنده ہوگیا
احمد رضا خان بریلوی
تو اللہ نے ایک کوا بھیجا زمین کریدتا کہ اسے دکھائے کیونکر اپنے بھائی کی لاش چھپائے بولا ہائے خرابی میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ میں اپنے بھائی کی لاش چھپاتا تو پچتاتا رہ گیا
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودتا تھا تاکہ اسے دکھائے کہ وہ کیونکر اپنے بھائی کی لاش چھپائے اس پر اس نے کہا، ہائے افسوس! کیا میں اس کوے سے بھی زیادہ گیا گزرا ہوں؟ کہ اپنے بھائی کی لاش چھپاؤں اب وہ پشیمان ہونے والوں میں سے ہوگیا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا، جو زمین کریدتا تھا، تاکہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے، کہنے لگا ہائے میری بربادی! کیا میں اس سے بھی رہ گیا کہ اس کوے جیسا ہو جائوں تو اپنے بھائی کی لاش چھپا دوں۔ سو وہ پشیمان ہونے والوں میں سے ہوگیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حسد و بغض سے ممانعت ٭٭
اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہو گئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بے وجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بے کم و کاست قصہ سنا دو ‘۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لیے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے منع کیا۔
آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہو جائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا۔ مفسرین کے اقوال سنئے آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کر دیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہو جائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم علیہ السلام اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا ’ زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو؟ ‘ آپ علیہ السلام نے کہا نہیں حکم ہوا ’ مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ ‘۔ حضرت آدم علیہ السلام نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کر دیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ علیہ السلام جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔
چونکہ قابیل اب مایوس ہو چکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لیے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور؟ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بے دلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہو گئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہو گئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بے کار بے جان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔
اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائے گا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بے رحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔ قابیل نے اپنی تو امہ بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لیے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لیے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہو گیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہو جائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے۔ اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔“ راوی حدیث ابوعفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں؟ فرمایا ”وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔“ جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہو جائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہو سکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { { جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:31] سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ نے اس وقت جبکہ باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو گھیر رکھا تھا کہا کہ { میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { عنقریب فتنہ برپا ہو گا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا }۔ کسی نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر بھی تو آدم علیہ السلام کے بیٹے کی طرح ہو جا } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2194،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4257،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایوب سختیاتی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔“ { ایک مرتبہ ایک جانور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا؟ } میں نے کہا جو حکم رب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو۔ فرمایا: { صبر کرو }۔ پھر فرمایا: { جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا؟ } میں نے وہی جواب دیا تو،فرمایا کہ { اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کر لے }۔ کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں؟ فرمایا: { تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ }۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں؟ فرمایا: { پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہو جائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4261،قال الشيخ الألباني:صحیح] ربعی رحمة الله فرماتے ہیں ”ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کرکے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہدوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہو جاؤں گا۔“
میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے، یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی مجاہد رحمة الله سے مروی ہے کہ ”میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔“ لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کر لیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ { بے سبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے }۔ گو یہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آ جاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا، اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہو جائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑ جائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لیے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
امام ابن جریر رحمة الله فرماتے ہیں ”مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔“ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آ جائیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’ ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے ‘، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہو جائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آ کر اپنے بھائی کو قتل کر دیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کر لی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مر گیا۔ یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لیے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔
یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حواء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوا ہے؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔ اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم علیہ السلام آئے پوچھا کیا بات ہے؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3335] مجاہد رحمة الله کا قول ہے کہ ”قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے۔“ ابراہیم نخعی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے۔“
جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔“ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کر سکا۔ یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لیے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بے چین بھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ { روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3335]
لیکن حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال ہوا ہے۔“ لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے { تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11772:مرسل] یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم علیہ السلام بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی، زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہو گئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہو گئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ ”اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کر دیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11724:ضعیف] بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چنانچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہو گئیں «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» (یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 31) ➊ {فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبْحَثُ فِي الْاَرْضِ:} اور نقل میں یوں آیا ہے کہ ایک کوے نے زمین کھود کر دوسرے کوے کو دفن کیا، اس نے کوے کی خیر خواہی دوسرے کوے کے لیے دیکھی تو اپنے فعل پر پشیمان ہوا۔ (موضح) مگر یہ اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہے، قرآن کے ظاہر الفاظ سے جو چیز معلوم ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ اسے زمین کریدتے دیکھا تو اس نے سمجھ لیا کہ اسے دفن کر دینا چاہیے۔ (قرطبی) ➋ {فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِيْنَ:} یعنی بھائی کے مرنے پر، پھر اسے ٹھکانے لگانے کی بات جلد سمجھ میں نہ آنے پر پشیمان ہوا، کیونکہ اگر وہ اپنے فعل پر پشیمان ہوتا اور توبہ کرتا تو گناہ معاف ہو جاتا اور دنیا میں جو قتل ہوتے ہیں ان کا گناہ اس پر نہ ہوتا۔ (قرطبی)
اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی" مگر اُن کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے در پے ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وه کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے واﻻ ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا، اور جو شخص کسی ایک کی جان بچا لے، اس نے گویا تمام لوگوں کو زنده کردیا اور ان کے پاس ہمارے بہت سے رسول ﻇاہر دلیلیں لے کر آئے لیکن پھر اس کے بعد بھی ان میں کے اکثر لوگ زمین میں ﻇلم و زیادتی اور زبردستی کرنے والے ہی رہے
احمد رضا خان بریلوی
اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کیے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جِلا لیا اس نے گویا سب لوگوں کو جلالیا، اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے پھر بیشک ان میں بہت اس کے بعد زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کسی انسان کو قتل کیا بغیر اس کے کہ اس نے کسی کی جان لی ہو، یا زمین میں فساد برپا کیا ہو، تو وہ ایسا ہے جیسے کہ اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی ایک جان کو بچا لیا، تو وہ ایسا ہے جیسے کہ اس نے تمام انسانوں کو بچا لیا اور بے شک ان (بنی اسرائیل) کے پاس ہمارے رسول کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے۔ پھر بھی ان میں سے بہت سے لوگ اس کے بعد بھی زمین میں ظلم و تعدی کرنے والے ہی رہے۔
عبدالسلام بن محمد
اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ حقیقت یہ ہے کہ جس نے ایک جان کو کسی جان کے (بدلے کے) بغیر، یا زمین میں فساد کے بغیر قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے اسے زندگی بخشی تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخشی اور بلاشبہ ان کے پاس ہمارے رسول واضح دلائل لے کر آئے، پھر بے شک ان میں سے بہت سے لوگ اس کے بعد بھی زمین میں یقینا حد سے بڑھنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک بےگناہ شخص کا قتل تمام انسانوں کا قتل ٭٭
فرمان ہے کہ ’ حضرت آدم علیہ السلام کے اس لڑکے کے قتل بے جا کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل سے صاف فرما دیا ان کی کتاب میں لکھ دیا اور ان کیلئے اس حکم کو حکم شرعی کر دیا کہ ’ جو شخص کسی ایک کو بلا وجہ مار ڈالے نہ اس نے کسی کو قتل کیا تھا نہ اس نے زمین میں فساد پھیلایا تھا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا ‘، اس لیے کہ اللہ کے نزدیک ساری مخلوق یکساں ہے اور جو کسی بے قصور شخص کے قتل سے باز رہے اسے حرام جانے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندگی دی، اس لیے کہ یہ سب لوگ اس طرح سلامتی کے ساتھ رہیں گے۔“
امیرالمؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو جب باغی گھیر لیتے ہیں، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں میں ”آپ رضی اللہ عنہ کی طرف داری میں آپ رضی اللہ عنہ کے مخالفین سے لڑنے کیلئے آیا ہوں، آپ رضی اللہ عنہ ملاحظہ فرمایئے کہ اب پانی سر سے اونچا ہو گیا ہے۔“ یہ سن کر معصوم خلیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”کیا تم اس بات پر آمادہ ہو کہ سب لوگوں کو قتل کر دو، جن میں ایک میں بھی ہوں۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”نہیں نہیں۔“ فرمایا ”سنو ایک کو قتل کرنا ایسا برا ہے جیسے سب کو قتل کرنا۔ جاؤ واپس لوٹ جاؤ، میری یہی خواہش ہے اللہ تمہیں اجر دے اور گناہ نہ دے“، یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے اور نہ لڑے۔ مطلب یہ ہے کہ قتل کا اجر دنیا کی بربادی کا باعث ہے اور اس کی روک لوگوں کی زندگی کا سبب ہے۔ سعید بن جبیر رحمة الله فرماتے ہیں ”ایک مسلمان کا خون حلال کرنے والا تمام لوگوں کا قاتل ہے اور ایک مسلم کے خون کو بچانے والا تمام لوگوں کے خون کو گویا بچا رہا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور عادل مسلم بادشاہ کو قتل کرنے والے پر ساری دنیا کے انسانوں کے قتل کا گناہ ہے اور نبی اور امام عادل کے بازو کو مضبوط کرنا دنیا کو زندگی دینے کے مترادف ہے۔“ [ابن جریر]
ایک اور روایت میں ہے کہ ”ایک کو بے وجہ مار ڈالتے ہی جہنمی ہو جاتا ہے گویا سب کو مار ڈالا۔“ مجاہد رحمة الله فرماتے ہیں ”مومن کو بے وجہ شرعی مار ڈالنے والا جہنمی دشمن رب، ملعون اور مستحق سزا ہو جاتا ہے، پھر اگر وہ سب لوگوں کو بھی مار ڈالتا تو اس سے زیادہ عذاب اسے اور کیا ہوتا؟ جو قتل سے رک جائے گویا کہ اس کی طرف سے سب کی زندگی محفوظ ہے۔“ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ایک قتل کے بدلے ہی اس کا خون حلال ہو گیا، یہ نہیں کہ کئی ایک کو قتل کرے، جب ہی وہ قصاص کے قابل ہو، اور جو اسے زندگی دے یعنی قاتل کے ولی سے درگزر کرے اور اس نے گویا لوگوں کو زندگی دی۔“ اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جس نے انسان کی جان بچا لی مثلاً ڈوبتے کو نکال لیا، جلتے کو بچا لیا، کسی کو ہلاکت سے ہٹا لیا۔ مقصد لوگوں کو خون ناحق سے روکنا اور لوگوں کی خیر خواہی اور امن و امان پر آمادہ کرنا ہے۔ حسن رحمة الله سے پوچھا گیا کہ ”کیا بنی اسرائیل جس طرح اس حکم کے مکلف تھے، ہم بھی ہیں، فرمایا ہاں یقیناً اللہ کی قسم! بنو اسرائیل کے خون اللہ کے نزدیک ہمارے خون سے زیادہ باوقعت نہ تھے، پس ایک شخص کا بے سبب قتل سب کے قتل کا بوجھ ہے اور ایک کی جان کے بچاؤ کا ثواب سب کو بچا لینے کے برابر ہے۔“ { ایک مرتبہ حمزہ بن عبدالمطلب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی بات بتائیں کہ میری زندگی با آرام گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا کسی کو مار ڈالنا تمہیں پسند ہے یا کسی کو بچا لینا تمہیں محبوب ہے؟ } جواب دیا بچا لینا، فرمایا: { بس اب اپنی اصلاح میں لگے رہو } }۔ ۱؎ [مسند احمد:175/2:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ’ ان کے پاس ہمارے رسول واضح دلیلیں اور روشن احکام اور کھلے معجزات لے کر آئے لیکن اس کے بعد بھی اکثر لوگ اپنی سرکشی اور دراز دستی سے باز نہ رہے ‘۔ بنو قینقاع کے یہود و بنو قریظہ اور بنو نضیر وغیرہ کو دیکھ لیجئے کہ اوس اور خزرج کے ساتھ مل کر آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے تھے اور لڑائی کے بعد پھر قیدیوں کے فدیئے دے کر چھڑاتے تھے اور مقتول کی دیت ادا کرتے تھے۔ جس پر انہیں قرآن میں سمجھایا گیا کہ ’ تم سے عہد یہ لیا گیا تھا کہ نہ تو اپنے والوں کے خون بہاؤ، نہ انہیں دیس سے نکالو لیکن تم نے باوجود پختہ اقرار اور مضبوط عہد پیمان کے اس کے خلاف گو فدیئے ادا کئے لیکن نکالنا بھی تو حرام تھا ‘۔ ’ اس کے کیا معنی کہ کسی حکم کو مانو اور کسی سے انکار کر، ایسے لوگوں کو سزا یہی ہے کہ دنیا میں رسوا اور ذلیل ہوں اور آخرت میں سخت تر عذابوں کا شکار ہوں، اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ‘۔
«محاربہ» کے معنی حکم کے خلاف کرنا، برعکس کرنا، مخالفت پر تل جانا ہیں۔ مراد اس سے کفر، ڈاکہ زنی، زمین میں شورش و فساد اور طرح طرح کی بدامنی پیدا کرنا ہے۔ یہاں تک کہ سلف نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ”سکے کو توڑ دینا بھی زمین میں فساد مچانا ہے۔“ قرآن کی ایک اور آیت میں ہے «وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّـهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ» ۱؎ [2-البقرة:205] ’ جب وہ کسی اقتدار کے مالک ہو جاتے ہیں تو فساد پھیلا دیتے ہیں اور کھیت اور نسل کو ہلاک کرنے لگتے ہیں اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتا ‘۔ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس لیے کہ اس میں یہ بھی ہے کہ جب ایسا شخص ان کاموں کے بعد مسلمانوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہونے سے پہلے ہی توبہ تلا کر لے تو پھر اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں، برخلاف اس کے اگر مسلمان ان کاموں کو کرے اور بھاگ کر کفار میں جا ملے تو حد شرعی سے آزاد نہیں ہوتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ آیت مشرکوں کے بارے میں اتری ہے، پھر ان میں سے جو کئی مسلمان کے ہاتھ آ جانے سے پہلے توبہ کرلے تو جو حکم اس پر اس کے فعل کے باعث ثابت ہو چکا ہے وہ ٹل نہیں سکتا۔“
32۔ 1 اس قتل ناحق کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسانی جان کی قدر و قیمت کو واضح کرنے کے لئے بنو اسرائیل پر یہ حکم نازل فرمایا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ کے ہاں انسانی خون کی کتنی اہمیت اور تکریم ہے اور یہ اصول صرف بنی اسرائیل ہی کے لئے نہیں تھا، اسلام کی تعلیمات کے مطابق بھی یہ اصول ہمیشہ کے لئے ہے۔ سلیمان بن ربعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن (بصری) سے پوچھا یہ آیت ہمارے لئے بھی ہے جس طرح بنو اسرائیل کے لئے تھی، انہوں نے فرمایا، ہاں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ بنو اسرائیل کے خون اللہ کے ہاں ہمارے خونوں سے زیادہ قابل احترام نہیں تھے (تفسیر ابن کثیر) 32۔ 2 اس میں یہود کو تنبیہ اور ملامت ہے کہ ان کے پاس انبیاء دلائل لے کر آتے رہے۔ لیکن ان کا رویہ ہمیشہ حد سے تجاوز کرنے والا ہی رہا اس میں گویا نبی کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ آپ کو قتل کرنے اور نقصان پہنچانے کی جو سازش کرتے رہتے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں، ان کی ساری تاریخ ہی مکرو و فساد سے بھری ہوئی ہے۔ آپ بہرحال اللہ پر بھروسہ رکھیں جو خیرالماکرین ہے۔ تمام سازشوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔
(آیت 32) ➊ {مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ:} دیکھیے اس سے پہلے آیت (۲۷) کا حاشیہ (۳) حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل کے لیے نہیں ہے بلکہ سب لوگوں کے لیے ہے، کیونکہ بنی اسرائیل کے خون دوسرے مسلمانوں کے خون سے زیادہ قیمتی نہ تھے۔ (ابن کثیر) ➋ { وَ مَنْ اَحْيَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ......:} یعنی اگر ایک شخص کو مرنے سے بچا لے گا تو اس کا ثواب اتنا ہے گویا سب کو بچا لیا۔
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں اُن کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں، یہ ذلت و رسوائی تو اُن کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں اُن کے لیے اس سے بڑی سزا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دیے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردیے جائیں، یہ دنیا میں ان کی رسوائی ہے، اور آخرت میں ان کے لیے بڑا غداب،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جو لوگ خدا اور رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں، ان کی سزا یہ ہے کہ (۱) انہیں قتل کر دیا جائے۔ (۲) یا سولی پر چڑھا دیا جائے۔ (۳) یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں۔ (۴) یا جلا وطن کر دیئے جائیں۔ یہ تو ہوئی ان کی رسوائی دنیا میں اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ان لوگوں کی جزا جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد کی کوشش کرتے ہیں، یہی ہے کہ انھیں بری طرح قتل کیا جائے، یا انھیں بری طرح سولی دی جائے، یا ان کے ہاتھ اور پائوں مختلف سمتوں سے بری طرح کاٹے جائیں، یا انھیں اس سر زمین سے نکال دیا جائے۔ یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فساد اور قتل و غارت گری ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { اہل کتاب کے ایک گروہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاہدہ ہوگیا تھا لیکن انہوں نے اسے توڑ دیا اور فساد مچا دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو انہیں قتل کر دیں، چاہیں تو الٹے سیدھے ہاتھ پاؤں کٹوا دیں }۔ سعد رحمة الله فرماتے ہیں“ یہ حروریہ خوارج کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔“ صحیح یہ ہے کہ جو بھی اس فعل کا مرتکب ہو اس کیلئے یہ حکم ہے۔ چنانچہ بخاری مسلم میں ہے کہ { قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: { اگر تم چاہو تو ہمارے چرواہوں کے ساتھ چلے جاؤ اونٹوں کا دودھ اور پیشاب تمہیں ملے گا }۔ چنانچہ یہ گئے اور جب ان کی بیماری جاتی رہی تو انہوں نے ان چرواہوں کو مار ڈالا اور اونٹ لے کر چلتے بنے، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ان کے پیچھے دوڑایا کہ انہیں پکڑ لائیں، چنانچہ یہ گرفتار کئے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے۔ پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے اور آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں اور دھوپ میں پڑے ہوئے تڑپ تڑپ کر مر گئے } }۔ مسلم میں ہے { یا تو یہ لوگ عکل کے تھے یا عرینہ کے۔ یہ پانی مانگتے تھے مگر انہیں پانی نہ دیا گیا نہ ان کے زخم دھوئے گئے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:233] انہوں نے چوری بھی کی تھی، قتل بھی کیا تھا، ایمان کے بعد کفر بھی کیا تھا اور اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑتے بھی تھے۔ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں بھی پھیری تھیں، مدینے کی آب و ہوا اس وقت درست نہ تھی، سرسام کی بیماری تھی، حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے بیس انصاری گھوڑ سوار بھیجے تھے اور ایک کھوجی تھا، جو نشان قدم دیکھ کر رہبری کرتا جاتا تھا۔ موت کے وقت ان کی پیاس کے مارے یہ حالت تھی کہ زمین چاٹ رہے تھے، انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1845، قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک مرتبہ حجاج نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ سب سے بڑی اور سب سے سخت سزا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو دی ہو، تم بیان کرو تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ بیان فرمایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ بحرین سے آئے تھے، بیماری کی وجہ سے ان کے رنگ زرد پڑ گئے تھے اور پیٹ بڑھ گئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: { کہ جاؤ اونٹوں میں رہو اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو }۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”پھر میں نے دیکھا کہ حجاج نے تو اس روایت کو اپنے مظالم کی دلیل بنا لی تب تو مجھے سخت ندامت ہوئی کہ میں نے اس سے یہ حدیث کیوں بیان کی؟۔“ ۱؎ [اسناده ضعیف وله شواهد] اور روایت میں ہے کہ ان میں سے چار شخص تو عرینہ قبیلے کے تھے اور تین عکل کے تھے، یہ سب تندرست ہو گئے تو یہ مرتد بن گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11818] ایک اور روایت میں ہے کہ راستے بھی انہوں نے بند کر دیئے تھے اور زنا کار بھی تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11820] جب یہ آئے تو اب سب کے پاس بوجہ فقیری پہننے کے کپڑے تک نہ تھے، یہ قتل و غارت کر کے بھاگ کر اپنے شہر کو جا رہے تھے۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { یہ اپنی قوم کے پاس پہنچنے والے تھے جو ہم نے انہیں جا لیا۔ وہ پانی مانگتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے { اب تو پانی کے بدلے جہنم کی آگ ملے گی } }۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ آنکھوں میں سلائیاں پھیرنا اللہ کو ناپسند آیا، یہ حدیث ضعیف اور غریب ہے لیکن اس سے یہ معلوم ہوا کہ جو لشکر ان مرتدوں کے گرفتار کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا، ان کے سردار سیدنا جریر رضی اللہ عنہ تھے۔ ہاں اس روایت میں یہ فقرہ بالکل منکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیرنا مکروہ رکھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11815] اس لیے کہ صحیح مسلم میں یہ موجود ہے کہ { انہوں نے چرواہوں کے ساتھ بھی یہی کیا تھا، پس یہ اس کا بدلہ اور ان کا قصاص تھا جو انہوں نے ان کے ساتھ کیا تھا وہی ان کے ساتھ کیا گیا }۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور روایت میں ہے کہ یہ لوگ بنو فزارہ کے تھے، اس واقعہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سزا کسی کو نہیں دی۔ ۱؎ [عبد الرزاق:18541:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام تھا، جس کا نام یسار تھا چونکہ یہ بڑے اچھے نمازی تھے، اس لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا تھا اور اپنے اونٹوں میں انہیں بھیج دیا تھا کہ یہ ان کی نگرانی رکھیں، انہی کو ان مرتدوں نے قتل کیا اور ان کی آنکھوں میں کانٹے گاڑ کر اونٹ لے کر بھاگ گئے، جو لشکر انہیں گرفتار کر کے لایا تھا، ان میں ایک شاہ زور کرز بن جابر فہری تھے }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6223:ضعیف] حافظ ابوبکر بن مردویہ رحمة الله نے اس روایت کے تمام طریقوں کو جمع کر دیا اللہ انہیں جزائے خیر دے۔ ابوحمزہ عبد الکریم رحمة الله سے اونٹوں کے پیشاب کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ ان محاربین کا قصہ بیان فرماتے ہیں اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ منافقانہ طور پر ایمان لائے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینے کی آب و ہوا کی ناموافقت کی شکایت کی تھی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی دغا بازی اور قتل و غارت اور ارتداد کا علم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کرائی کہ { اللہ کے لشکریو اٹھ کھڑے ہو }۔ یہ آواز سنتے ہی مجاہدین کھڑے ہو گئے، بغیر اس کے کہ کوئی کسی کا انتظار کرے ان مرتد ڈاکوؤں اور باغیوں کے پیچھے دوڑے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو روانہ کر کے ان کے پیچھے چلے، وہ لوگ اپنی جائے امن میں پہنچنے ہی کو تھے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے انہیں گھیر لیا اور ان میں سے جتنے گرفتار ہو گئے، انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا اور یہ آیت اتری، ان کی جلا وطنی یہی تھی کہ انہیں حکومت اسلام کی حدود سے خارج کر دیا گیا۔ پھر ان کو عبرتناک سزائیں دی گئیں۔
اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے بھی اعضاء بدن سے جدا نہیں کرائے بلکہ آپ نے اس سے منع فرمایا ہے، جانوروں کو بھی اس طرح کرنا منع ہے۔ بعض روایتوں میں ہے کہ قتل کے بعد انہیں جلا دیا گیا، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11814:ضعیف] بعض کہتے ہیں یہ بنو سلیم کے لوگ تھے۔ بعض بزرگوں کا قول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سزا انہیں دی وہ اللہ کو پسند نہ آئیں اور اس آیت سے اسے منسوخ کردیا۔ ان کے نزدیک گویا اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سزا سے روکا گیا ہے۔ جیسے آیت «عَفَا اللَّـهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْكَاذِبِينَ» ۱؎ [9-التوبة:43] میں اور بعض کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مثلہ کرنے سے یعنی ہاتھ پاؤں کان ناک کاٹنے سے جو ممانعت فرمائی ہے، اس حدیث سے یہ سزا منسوخ ہو گئی۔ لیکن یہ ذرا غور طلب ہے پھر یہ بھی سوال طلب امر ہے کہ ناسخ کی تاخیر کی دلیل کیا ہے؟ بعض کہتے ہیں حدود اسلام مقرر ہوں اس سے پہلے کا یہ واقعہ ہے لیکن یہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا، بلکہ حدود کے تقرر کے بعد کا واقعہ معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ اس حدیث کے ایک راوی سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہیں اور ان کا اسلام سورۃ المائدہ کے نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے۔ بعض کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنی چاہی تھیں لیکن یہ آیت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ارادے سے باز رہے، لیکن یہ بھی درست نہیں۔ اس لیے کہ بخاری و مسلم میں یہ لفظ ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں سلائیں پھروائیں }۔
محمد بن عجلان رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سخت سزا انہیں دی، اس کے انکار میں یہ آیتیں اتری ہیں اور ان میں صحیح سزا بیان کی گئی ہے جو قتل کرنے اور ہاتھ پاؤں الٹی طرف سے کاٹنے اور وطن سے نکال دینے کے حکم پر شامل ہے چنانچہ دیکھ لیجئے کہ اس کے بعد پھر کسی کی آنکھوں میں سلائیاں پھیرنی ثابت نہیں۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11822:ضعیف] لیکن ”اوزاعی کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں کہ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈانٹا گیا ہو۔ بات یہ ہے کہ انہوں نے جو کیا تھا اس کا وہی بدلہ مل گیا۔ اب آیت نازل ہوئی جس نے ایک خاص حکم ایسے لوگوں کا بیان فرمایا اور اس میں آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنے کا حکم نہیں دیا۔“
اس آیت سے جمہور علماء نے دلیل پکڑی ہے کہ راستوں کی بندش کر کے لڑنا اور شہروں میں لڑنا دونوں برابر ہے کیونکہ لفظ «وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا» کے ہیں۔ مالک، اوزاعی، لیث، شافعی،، احمد رحمہم اللہ اجمعین کا یہی مذہب ہے کہ ”باغی لوگ خواہ شہر میں ایسا فتنہ مچائیں یا بیرون شہر، ان کی سزا یہی ہے۔“ بلکہ امام مالک رحمة الله تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ ”اگر کوئی شخص دوسرے کو اس کے گھر میں اس طرح دھوکہ دہی سے مار ڈالے تو اسے پکڑ لیا جائے اور اسے قتل کر دیا جائے اور خود امام وقت ان کاموں کو از خود کرے گا، نہ کہ مقتول کے اولیاء کے ہاتھ میں یہ کام ہوں بلکہ اگر وہ درگزر کرنا چاہیں تو بھی ان کے اختیار میں نہیں بلکہ یہ جرم، بے واسطہ حکومت اسلامیہ کا ہے۔“ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب یہ نہیں، وہ کہتے ہیں کہ ”مجاربہ اسی وقت مانا جائے گا جبکہ شہر کے باہر ایسے فساد کوئی کرے، کیونکہ شہر میں تو امداد کا پہنچنا ممکن ہے، راستوں میں یہ بات ناممکن سی ہے۔“ جو سزا ان محاربین کی بیان ہوئی ہے اس کے بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جو شخص مسلمانوں پر تلوار اٹھائے، راستوں کو پُر خطر بنا دے، امام المسلمین کو ان تینوں سزاؤں میں سے جو سزا دینا چاہے اس کا اختیار ہے۔“ یہی قول اور بھی بہت سوں کا ہے اور اس طرح کا اختیار ایسی ہی اور آیتوں کے احکام میں بھی موجود ہے جیسے محرم اگر شکار کھیلے تو اس کا بدلہ شکار کے برابر کی قربانی یا مساکین کا کھانا ہے یا اس کے برابر روزے رکھنا ہے، بیماری یا سر کی تکلیف کی وجہ سے حالت احرام میں سر منڈوانے اور خلاف احرام کام کرنے والے کے فدیئے میں بھی روزے یا صدقہ یا قربانی کا حکم ہے۔ قسم کے کفارے میں درمیانی درجہ کا کھانا دیں مسکینوں کا یا ان کا کپڑا یا ایک غلام کو آزاد کرنا ہے۔ تو جس طرح یہاں ان صورتوں میں سے کسی ایک کے پسند کر لینے کا اختیار ہے، اسی طرح ایسے محارب، مرتد لوگوں کی سزا بھی یا تو قتل ہے یا ہاتھ پاؤں الٹی طرح سے کاٹنا ہے یا جلا وطن کرنا۔ اور جمہور کا قول ہے کہ یہ آیت کئی احوال میں ہے، جب ڈاکو قتل و غارت دونوں کے مرتکب ہوتے ہوں تو قابل دار اور گردن وزنی ہیں اور جب صرف قتل سرزد ہوا ہو تو قتل کا بدلہ صرف قتل ہے اور اگر فقط مال لیا ہو تو ہاتھ پاؤں الٹے سیدھے کاٹ دیئے جائیں گے اور اگر راستے پُر خطر کر دیئے ہوں، لوگوں کو خوف زدہ کر دیا ہو اور کسی گناہ کے مرتکب نہ ہوئے ہوں اور گرفتار کر لیے جائیں تو صرف جلا وطنی ہے۔
اکثر سلف اور ائمہ کا یہی مذہب ہے پھر بزرگوں نے اس میں بھی اختلاف کیا ہے کہ آیا سولی پر لٹکا کر یونہی چھوڑ دیا جائے کہ بھوکا پیاسا مر جائے؟ یا نیزے وغیرہ سے قتل کر دیا جائے؟ یا پہلے قتل کر دیا جائے پھر سولی پر لٹکایا جائے تاکہ اور لوگوں کو عبرت حاصل ہو؟ اور کیا تین دن تک سولی پر رہنے دے کر پھر اتار لیا جائے؟ یا یونہی چھوڑ دیا جائے لیکن تفسیر کا یہ موضوع نہیں کہ ہم ایسے جزئی اختلافات میں پڑیں اور ہر ایک کی دلیلیں وغیرہ وارد کریں۔ ہاں ایک حدیث میں کچھ تفصیل سزا ہے، اگر اس کی سند صحیح ہو تو وہ یہ کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان محاربین کے بارے میں جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ”جنہوں نے مال چرایا اور راستوں کو خطرناک بنا دیا ان کے ہاتھ تو چوری کے بدلے کاٹ دیجئیے اور جس نے قتل اور دہشت گردی پھیلائی اور بدکاری کا ارتکاب کیا ہے، اسے سولی چڑھا دو“ }۔
فرمان ہے کہ ’ زمین سے الگ کر دیئے جائیں ‘ یعنی انہیں تلاش کر کے ان پر حد قائم کی جائے یا وہ دار الاسلام سے بھاگ کر کہیں چلے جائیں یا یہ کہ ایک شہر سے دوسرے شہر اور دوسرے سے تیسرے شہر انہیں بھیج دیا جاتا رہے یا یہ کہ اسلامی سلطنت سے بالکل ہی خارج کر دیا جائے۔ شعبی تو نکال ہی دیتے تھے اور عطا خراسانی کہتے ہیں ”ایک لشکر میں سے دوسرے لشکر میں پہنچا دیا جائے یونہی کئی سال تک مارا مارا پھرایا جائے لیکن دار الاسلام سے باہر نہ کیا جائے۔“ ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں ”اسے جیل خانے میں ڈال دیا جائے۔“ ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول یہ ہے کہ ”اسے اس کے شہر سے نکال کر کسی دوسرے شہر کے جیل خانے میں ڈال دیا جائے۔“ ”ایسے لوگ دنیا میں ذلیل و رذیل اور آخرت میں بڑے بھاری عذابوں میں گرفتار ہوں گے۔“ آیت کا یہ ٹکڑا تو ان لوگوں کی تائید کرتا ہے جو کہتے ہیں کہ یہ آیت مشرکوں کے بارے میں اتری ہے اور مسلمانوں کے بارے وہ صحیح حدیث ہے جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ویسے ہی عہد لیے جیسے عورتوں سے لیے تھے کہ ”ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، چوری نہ کریں، زنا نہ کریں، اپنی اولادوں کو قتل نہ کریں، ایک دوسرے کی نافرمانی نہ کریں جو اس وعدے کو نبھائے، اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جو ان میں سے کسی گناہ کے ساتھ آلودہ ہو جائے پھر اگر اسے سزا ہو گئی تو وہ سزا کفارہ بن جائے گی اور اگر اللہ تعالیٰ نے پردہ پوشی کر لی تو اس امر کا اللہ ہی مختار ہے اگر چاہے عذاب کرے، اگر چاہے چھوڑ دے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1709] اور حدیث میں ہے { جس کسی نے کوئی گناہ کیا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ڈھانپ لیا اور اس سے چشم پوشی کر لی تو اللہ کی ذات اور اس کا رحم و کرم اس سے بہت بلند و بالا ہے، معاف کئے ہوئے جرائم کو دوبارہ کرنے پہ اسے دنیوی سزا ملے گی، اگر بے توبہ مرگئے تو آخرت کی وہ سزائیں باقی ہیں جن کا اس وقت صحیح تصور بھی محال ہے ہاں توبہ نصیب ہو جائے تو اور بات ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2626،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر توبہ کرنے والوں کی نسبت جو فرمایا ہے اس کا اظہار اس صورت میں تو صاف ہے کہ اس آیت کو مشرکوں کے بارے میں نازل شدہ مانا جائے۔ لیکن جو مسلمان مغرور ہوں اور وہ قبضے میں آنے سے پہلے توبہ کر لیں تو ان سے قتل اور سولی اور پاؤں کاٹنا تو ہٹ جاتا ہے لیکن ہاتھ کا کٹنا بھی ہٹ جاتا ہے یا نہیں، اس میں علماء کے دو قول ہیں، آیت کے ظاہری الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ سب کچھ ہٹ جائے، صحابہ رضی اللہ عنہم کا عمل بھی اسی پر ہے۔ چنانچہ جاریہ بن بدر تیمی بصریٰ نے زمین میں فساد کیا، مسلمانوں سے لڑا، اس بارے میں چند قریشیوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سفارش کی، جن میں حسن بن علی، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم بھی تھے لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے اسے امن دینے سے انکار کر دیا۔ وہ سعید بن قیس ہمدانی کے پاس آیا، آپ نے اپنے گھر میں اسے ٹھہرایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا بتائیے تو ”جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑے اور زمین میں فساد کی سعی کرے“، پھر ان آیتوں کی «قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ» تک تلاوت کی تو، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں تو ایسے شخص کو امن لکھ دوں گا“، سعید نے فرمایا یہ جاریہ بن بدر ہے، چنانچہ جاریہ نے اس کے بعد ان کی مدح میں اشعار بھی کہے ہیں۔
قبیلہ مراد کا ایک شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس کوفہ کی مسجد میں جہاں کے یہ گورنر تھے، ایک فرض نماز کے بعد آیا اور کہنے لگا اے امیر کوفہ فلاں بن فلاں مرادی قبیلے کا ہوں، میں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی لڑی، زمین میں فساد کی کوشش کی لیکن آپ لوگ مجھ پر قدرت پائیں، اس سے پہلے میں تائب ہوگیا اب میں آپ سے پناہ حاصل کرنے والے کی جگہ پر کھڑا ہوں۔ اس پر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا ”اے لوگو! تم میں سے کوئی اب اس توبہ کے بعد اس سے کسی طرح کی لڑائی نہ کرے، اگر یہ سچا ہے تو الحمدللہ اور یہ جھوٹا ہے تو اس کے گناہ ہی اسے ہلاک کر دیں گے۔“ یہ شخص ایک مدت تک تو ٹھیک ٹھیک رہا لیکن پھر بغاوت کر گیا، اللہ نے بھی اس کے گناہوں کے بدلے اسے غارت کر دیا اور یہ مار ڈالا گیا۔ علی نامی ایک اسدی شخص نے بھی گزرگاہوں میں دہشت پھیلا دی، لوگوں کو قتل کیا، مال لوٹا، بادشاہ لشکر اور رعایا نے ہر چند اسے گرفتار کرنا چاہا، لیکن یہ ہاتھ نہ لگا۔ ایک مرتبہ یہ جنگل میں تھا، ایک شخص کو قرآن پڑھتے سنا اور وہ اس وقت یہ آیت تلاوت کر رہا تھا «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ» ۱؎ [39-الزمر:53] ، یہ اسے سن کر رک گیا اور اس سے کہا اے اللہ کے بندے یہ آیت مجھے دوبارہ سنا، اس نے پھر پڑھی اللہ کی اس آواز کو سن کر کہ وہ فرماتا ہے ’ اے میرے گنہگار بندو تم میری رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، میں سب گناہوں کو بخشنے پر قادر ہوں میں غفور و رحیم ہوں ‘، اس شخص نے جھٹ سے اپنی تلوار میان میں کرلی، اسی وقت سچے دل سے توبہ کی اور صبح کی نماز سے پہلے مدینے پہنچ گیا، غسل کیا اور مسجد نبوی میں نماز صبح جماعت کے ساتھ ادا کی اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جو لوگ بیٹھے تھے، ان ہی میں ایک طرف یہ بھی بیٹھ گیا۔ جب دن کا اجالا ہوا تو لوگوں نے اسے دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ تو سلطنت کا باغی، بہت بڑا مجرم اور مفرور شخص علی اسدی ہے، سب نے چاہا کہ اسے گرفتار کر لیں۔ اس نے کہا سنو بھائیو! تم مجھے گرفتار نہیں کرسکتے، اس لیے کہ مجھ پر تمہارے قابو پانے سے پہلے ہی میں تو توبہ کر چکا ہوں بلکہ توبہ کے بعد خود تمہارے پاس آ گیا ہوں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا! ”یہ سچ کہتا ہے“ اور اس کا ہاتھ پکڑ کر مروان بن حکم کے پاس لے چلے، یہ اس وقت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینے کے گورنر تھے، وہاں پہنچ کر فرمایا کہ ”یہ علی اسدی ہیں، یہ توبہ کر چکے ہیں، اس لیے اب تم انہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔“ چنانچہ کسی نے اس کے ساتھ کچھ نہ کیا، جب مجاہدین کی ایک جماعت رومیوں سے لڑنے کیلئے چلی تو ان مجاہدوں کے ساتھ یہ بھی ہو لیے، سمندر میں ان کی کشتی جا رہی تھی کہ سامنے سے چند کشتیاں رومیوں کی آگئیں، یہ اپنی کشتی میں سے رومیوں کی گردنیں مارنے کیلئے ان کی کشتی میں کود گئے، ان کی آبدار خارا شگاف تلوار کی چمک کی تاب رومی نہ لاسکے اور نامردی سے ایک طرف کو بھاگے، یہ بھی ان کے پیچھے اسی طرف چلے چونکہ سارا بوجھ ایک طرف ہو گیا، اس لیے کشتی الٹ گئی جس سے وہ سارے رومی کفار ہلاک ہوگئے اور علی اسدی بھی ڈوب کر شہید ہو گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:284/10] (اللہ ان پر اپنی رحمتیں ناز فرمائے)۔
33۔ 1 اس کی شان نزول کی بابت آتا ہے کہ عکل اور عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ مسلمان ہو کر مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ سے باہر، جہاں صدقے کے اونٹ تھے، بھیج دیا کہ ان کا دودھ اور پیشاب پیؤ، اللہ تعالیٰ شفا عطا فرمائے گا۔ چناچہ چند روز میں وہ ٹھیک ہوگئے لیکن اس کے بعد انہوں نے اونٹوں کے رکھوالے اور چروا ہے کو قتل کردیا اور اونٹ ہنکا کرلے گئے۔ جب نبی کو اس امر کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے جو انہیں اونٹوں سمیت پکڑ لائے۔ نبی نے ان کے ہاتھ پیر مخالف جانب سے کاٹ ڈالے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروائیں، (کیونکہ انہوں نے بھی چروا ہے کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا) پھر انہیں دھوپ میں ڈال دیا گیا حتّٰی کہ وہیں مرگئے۔ صحیح بخاری میں یہ بھی آتا ہے انہوں نے چوری بھی کی اور قتل بھی کیا، ایمان لانے کے بعد کفر بھی کیا اور اللہ و رسول کے ساتھ محاربہ بھی (صحیح بخاری) یہ آیت محاربہ کہلاتی ہے۔ اس کا حکم عام ہے یعنی مسلمانوں اور کافروں دونوں کو شامل ہے۔ محاربہ کا مطلب ہے۔ کسی منظم اور مسلح جتھے کا اسلامی حکومت کے دائرے میں یا اس کے قریب صحرا وغیرہ میں راہ چلتے قافلوں اور افراد اور گروہوں پر حملے کرنا، قتل و غارت گری کرنا، سلب ونہب، اغوا اور آبرو ریزی کرنا وغیرہ اس کی جو سزائیں بیان کی گئی ہیں۔ امام خلیفہ وقت کو اختیار ہے کہ ان میں سے جو سزا مناسب سمجھے دے۔ بعض لوگ کہتے ہیں اگر محاربین نے قتل وسلب کیا اور دہشت گردی کی تو انہیں قتل اور سولی کی سزا دی جائے گی اور جس نے صرف قتل کیا، مال نہیں لیا اسے قتل کیا جائے گا اور جس نے قتل کیا اور مال بھی چھینا اس کا ایک دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں یا بایاں ہاتھ اور دایاں پاؤں کاٹ دیا جائے گا۔ اور جس نے نہ قتل کیا نہ مال لیا، صرف دہشت گردی کی اسے جلا وطن کردیا جائے گا لیکن امام شوکانی فرماتے ہیں پہلی بات صحیح ہے کہ سزا دینے میں امام کو اختیار حاصل ہے۔ (فتح القدیر)
(آیت 33) ➊ {اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِيْنَ ……:} یہ آیت محاربہ کہلاتی ہے، مراد وہ لوگ ہیں جو اس حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہیں جو اﷲ اور اس کے رسول کے احکام نافذ کرنے والی ہے اور اسلام کی سرزمین میں ڈاکا ڈالتے، لوٹ مار کرتے، فساد پھیلانے کی کوشش کرتے اور قتل و غارت کا بازار گرم کرتے ہیں۔ حاکم وقت ان چار سزاؤں میں سے کوئی بھی سزا انھیں دے سکتا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ صرف اسی کو قتل کیا جائے گا جس نے قتل کیا ہو اور اتنی ہی سزا دی جائے گی جتنا اس کا جرم ہو گا، مگر آیت کے صریح الفاظ اس کی موافقت نہیں کرتے، بلکہ ان لوگوں کا حکم حربیوں (جنگ کرنے والوں) کا ہے، حاکم وقت ان سزاؤں میں سے جو چاہے سزا دے سکتا ہے، عام اس سے کہ مشرک ہوں یا یہودی یا باغی مسلمان ہوں۔ ➋ {اَنْ يُّقَتَّلُوْۤا:} باب تفعیل کی وجہ سے معنی میں زیادتی کے اظہار کے لیے ترجمہ میں ”بری طرح“ کا اضافہ کیا گیا ہے، اسی طرح { ”اَوْ يُصَلَّبُوْۤا“ } اور {”اَوْ تُقَطَّعَ اَيْدِيْهِمْ“} میں بھی باب کا خیال رکھا گیا ہے۔ ➌ اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیت عکل اور عرینہ کے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کا قصہ انس رضی اللہ عنہ نے یوں بیان کیا ہے کہ یہ لوگ مسلمان ہو کر مدینہ منورہ آئے، لیکن وہاں کی آب و ہوا انھیں موافق نہ آئی اور وہ بیمار ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مدینہ سے باہر صدقہ کے اونٹوں میں رہنے کا حکم دیا کہ ان کا دودھ اور پیشاب (ملا کر) پییں۔ یہ لوگ وہاں چلے گئے، تندرست ہونے کے بعد وہ اسلام سے پھر گئے اور چرواہے (یسارنوبی) کو قتل کر کے اونٹ ہانک کر لے گئے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے تعاقب میں سوار بھیجے جو انھیں پکڑ کر مدینہ منورہ لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے جائیں اور ان کی آنکھوں میں لوہے کی گرم سلائیاں پھیری جائیں، پھر انھیں دھوپ میں پھینک دیا گیا، یہاں تک کہ سب مر گئے۔ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب إذا حرق المشرک المسلم ھل یحرق: ۳۰۱۸۔ مسلم: ۱۶۷۱ ] مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے گرم سلائیاں پھیرنے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ انھوں نے چرواہے کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا۔ [ مسلم، القسامۃ والمحاربین، باب حکم المحاربین و المرتدین: 1671/14]
مگر جو لوگ توبہ کر لیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں جو لوگ اس سے پہلے توبہ کر لیں کہ تم ان پر قابو پالو تو یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بخشش اور رحم و کرم واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
مگر وہ جنہوں نے توبہ کرلی اس سے پہلے کہ تم ان پر قابو پاؤ تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
مگر وہ لوگ جو توبہ کر لیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ۔ تو جان لو کہ اللہ بڑا بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
مگر جو لوگ اس سے پہلے توبہ کر لیں کہ تم ان پر قابو پائو تو جان لو کہ اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فساد اور قتل و غارت گری ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { اہل کتاب کے ایک گروہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاہدہ ہوگیا تھا لیکن انہوں نے اسے توڑ دیا اور فساد مچا دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو انہیں قتل کر دیں، چاہیں تو الٹے سیدھے ہاتھ پاؤں کٹوا دیں }۔ سعد رحمة الله فرماتے ہیں“ یہ حروریہ خوارج کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔“ صحیح یہ ہے کہ جو بھی اس فعل کا مرتکب ہو اس کیلئے یہ حکم ہے۔ چنانچہ بخاری مسلم میں ہے کہ { قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: { اگر تم چاہو تو ہمارے چرواہوں کے ساتھ چلے جاؤ اونٹوں کا دودھ اور پیشاب تمہیں ملے گا }۔ چنانچہ یہ گئے اور جب ان کی بیماری جاتی رہی تو انہوں نے ان چرواہوں کو مار ڈالا اور اونٹ لے کر چلتے بنے، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ان کے پیچھے دوڑایا کہ انہیں پکڑ لائیں، چنانچہ یہ گرفتار کئے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے۔ پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے اور آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں اور دھوپ میں پڑے ہوئے تڑپ تڑپ کر مر گئے } }۔ مسلم میں ہے { یا تو یہ لوگ عکل کے تھے یا عرینہ کے۔ یہ پانی مانگتے تھے مگر انہیں پانی نہ دیا گیا نہ ان کے زخم دھوئے گئے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:233] انہوں نے چوری بھی کی تھی، قتل بھی کیا تھا، ایمان کے بعد کفر بھی کیا تھا اور اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑتے بھی تھے۔ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں بھی پھیری تھیں، مدینے کی آب و ہوا اس وقت درست نہ تھی، سرسام کی بیماری تھی، حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے بیس انصاری گھوڑ سوار بھیجے تھے اور ایک کھوجی تھا، جو نشان قدم دیکھ کر رہبری کرتا جاتا تھا۔ موت کے وقت ان کی پیاس کے مارے یہ حالت تھی کہ زمین چاٹ رہے تھے، انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1845، قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک مرتبہ حجاج نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ سب سے بڑی اور سب سے سخت سزا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو دی ہو، تم بیان کرو تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ بیان فرمایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ بحرین سے آئے تھے، بیماری کی وجہ سے ان کے رنگ زرد پڑ گئے تھے اور پیٹ بڑھ گئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: { کہ جاؤ اونٹوں میں رہو اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو }۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”پھر میں نے دیکھا کہ حجاج نے تو اس روایت کو اپنے مظالم کی دلیل بنا لی تب تو مجھے سخت ندامت ہوئی کہ میں نے اس سے یہ حدیث کیوں بیان کی؟۔“ ۱؎ [اسناده ضعیف وله شواهد] اور روایت میں ہے کہ ان میں سے چار شخص تو عرینہ قبیلے کے تھے اور تین عکل کے تھے، یہ سب تندرست ہو گئے تو یہ مرتد بن گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11818] ایک اور روایت میں ہے کہ راستے بھی انہوں نے بند کر دیئے تھے اور زنا کار بھی تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11820] جب یہ آئے تو اب سب کے پاس بوجہ فقیری پہننے کے کپڑے تک نہ تھے، یہ قتل و غارت کر کے بھاگ کر اپنے شہر کو جا رہے تھے۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { یہ اپنی قوم کے پاس پہنچنے والے تھے جو ہم نے انہیں جا لیا۔ وہ پانی مانگتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے { اب تو پانی کے بدلے جہنم کی آگ ملے گی } }۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ آنکھوں میں سلائیاں پھیرنا اللہ کو ناپسند آیا، یہ حدیث ضعیف اور غریب ہے لیکن اس سے یہ معلوم ہوا کہ جو لشکر ان مرتدوں کے گرفتار کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا، ان کے سردار سیدنا جریر رضی اللہ عنہ تھے۔ ہاں اس روایت میں یہ فقرہ بالکل منکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیرنا مکروہ رکھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11815] اس لیے کہ صحیح مسلم میں یہ موجود ہے کہ { انہوں نے چرواہوں کے ساتھ بھی یہی کیا تھا، پس یہ اس کا بدلہ اور ان کا قصاص تھا جو انہوں نے ان کے ساتھ کیا تھا وہی ان کے ساتھ کیا گیا }۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور روایت میں ہے کہ یہ لوگ بنو فزارہ کے تھے، اس واقعہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سزا کسی کو نہیں دی۔ ۱؎ [عبد الرزاق:18541:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام تھا، جس کا نام یسار تھا چونکہ یہ بڑے اچھے نمازی تھے، اس لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا تھا اور اپنے اونٹوں میں انہیں بھیج دیا تھا کہ یہ ان کی نگرانی رکھیں، انہی کو ان مرتدوں نے قتل کیا اور ان کی آنکھوں میں کانٹے گاڑ کر اونٹ لے کر بھاگ گئے، جو لشکر انہیں گرفتار کر کے لایا تھا، ان میں ایک شاہ زور کرز بن جابر فہری تھے }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6223:ضعیف] حافظ ابوبکر بن مردویہ رحمة الله نے اس روایت کے تمام طریقوں کو جمع کر دیا اللہ انہیں جزائے خیر دے۔ ابوحمزہ عبد الکریم رحمة الله سے اونٹوں کے پیشاب کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ ان محاربین کا قصہ بیان فرماتے ہیں اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ منافقانہ طور پر ایمان لائے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینے کی آب و ہوا کی ناموافقت کی شکایت کی تھی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی دغا بازی اور قتل و غارت اور ارتداد کا علم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کرائی کہ { اللہ کے لشکریو اٹھ کھڑے ہو }۔ یہ آواز سنتے ہی مجاہدین کھڑے ہو گئے، بغیر اس کے کہ کوئی کسی کا انتظار کرے ان مرتد ڈاکوؤں اور باغیوں کے پیچھے دوڑے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو روانہ کر کے ان کے پیچھے چلے، وہ لوگ اپنی جائے امن میں پہنچنے ہی کو تھے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے انہیں گھیر لیا اور ان میں سے جتنے گرفتار ہو گئے، انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا اور یہ آیت اتری، ان کی جلا وطنی یہی تھی کہ انہیں حکومت اسلام کی حدود سے خارج کر دیا گیا۔ پھر ان کو عبرتناک سزائیں دی گئیں۔
اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے بھی اعضاء بدن سے جدا نہیں کرائے بلکہ آپ نے اس سے منع فرمایا ہے، جانوروں کو بھی اس طرح کرنا منع ہے۔ بعض روایتوں میں ہے کہ قتل کے بعد انہیں جلا دیا گیا، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11814:ضعیف] بعض کہتے ہیں یہ بنو سلیم کے لوگ تھے۔ بعض بزرگوں کا قول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سزا انہیں دی وہ اللہ کو پسند نہ آئیں اور اس آیت سے اسے منسوخ کردیا۔ ان کے نزدیک گویا اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سزا سے روکا گیا ہے۔ جیسے آیت «عَفَا اللَّـهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْكَاذِبِينَ» ۱؎ [9-التوبة:43] میں اور بعض کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مثلہ کرنے سے یعنی ہاتھ پاؤں کان ناک کاٹنے سے جو ممانعت فرمائی ہے، اس حدیث سے یہ سزا منسوخ ہو گئی۔ لیکن یہ ذرا غور طلب ہے پھر یہ بھی سوال طلب امر ہے کہ ناسخ کی تاخیر کی دلیل کیا ہے؟ بعض کہتے ہیں حدود اسلام مقرر ہوں اس سے پہلے کا یہ واقعہ ہے لیکن یہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا، بلکہ حدود کے تقرر کے بعد کا واقعہ معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ اس حدیث کے ایک راوی سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہیں اور ان کا اسلام سورۃ المائدہ کے نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے۔ بعض کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنی چاہی تھیں لیکن یہ آیت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ارادے سے باز رہے، لیکن یہ بھی درست نہیں۔ اس لیے کہ بخاری و مسلم میں یہ لفظ ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں سلائیں پھروائیں }۔
محمد بن عجلان رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سخت سزا انہیں دی، اس کے انکار میں یہ آیتیں اتری ہیں اور ان میں صحیح سزا بیان کی گئی ہے جو قتل کرنے اور ہاتھ پاؤں الٹی طرف سے کاٹنے اور وطن سے نکال دینے کے حکم پر شامل ہے چنانچہ دیکھ لیجئے کہ اس کے بعد پھر کسی کی آنکھوں میں سلائیاں پھیرنی ثابت نہیں۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11822:ضعیف] لیکن ”اوزاعی کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں کہ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈانٹا گیا ہو۔ بات یہ ہے کہ انہوں نے جو کیا تھا اس کا وہی بدلہ مل گیا۔ اب آیت نازل ہوئی جس نے ایک خاص حکم ایسے لوگوں کا بیان فرمایا اور اس میں آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنے کا حکم نہیں دیا۔“
اس آیت سے جمہور علماء نے دلیل پکڑی ہے کہ راستوں کی بندش کر کے لڑنا اور شہروں میں لڑنا دونوں برابر ہے کیونکہ لفظ «وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا» کے ہیں۔ مالک، اوزاعی، لیث، شافعی،، احمد رحمہم اللہ اجمعین کا یہی مذہب ہے کہ ”باغی لوگ خواہ شہر میں ایسا فتنہ مچائیں یا بیرون شہر، ان کی سزا یہی ہے۔“ بلکہ امام مالک رحمة الله تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ ”اگر کوئی شخص دوسرے کو اس کے گھر میں اس طرح دھوکہ دہی سے مار ڈالے تو اسے پکڑ لیا جائے اور اسے قتل کر دیا جائے اور خود امام وقت ان کاموں کو از خود کرے گا، نہ کہ مقتول کے اولیاء کے ہاتھ میں یہ کام ہوں بلکہ اگر وہ درگزر کرنا چاہیں تو بھی ان کے اختیار میں نہیں بلکہ یہ جرم، بے واسطہ حکومت اسلامیہ کا ہے۔“ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب یہ نہیں، وہ کہتے ہیں کہ ”مجاربہ اسی وقت مانا جائے گا جبکہ شہر کے باہر ایسے فساد کوئی کرے، کیونکہ شہر میں تو امداد کا پہنچنا ممکن ہے، راستوں میں یہ بات ناممکن سی ہے۔“ جو سزا ان محاربین کی بیان ہوئی ہے اس کے بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جو شخص مسلمانوں پر تلوار اٹھائے، راستوں کو پُر خطر بنا دے، امام المسلمین کو ان تینوں سزاؤں میں سے جو سزا دینا چاہے اس کا اختیار ہے۔“ یہی قول اور بھی بہت سوں کا ہے اور اس طرح کا اختیار ایسی ہی اور آیتوں کے احکام میں بھی موجود ہے جیسے محرم اگر شکار کھیلے تو اس کا بدلہ شکار کے برابر کی قربانی یا مساکین کا کھانا ہے یا اس کے برابر روزے رکھنا ہے، بیماری یا سر کی تکلیف کی وجہ سے حالت احرام میں سر منڈوانے اور خلاف احرام کام کرنے والے کے فدیئے میں بھی روزے یا صدقہ یا قربانی کا حکم ہے۔ قسم کے کفارے میں درمیانی درجہ کا کھانا دیں مسکینوں کا یا ان کا کپڑا یا ایک غلام کو آزاد کرنا ہے۔ تو جس طرح یہاں ان صورتوں میں سے کسی ایک کے پسند کر لینے کا اختیار ہے، اسی طرح ایسے محارب، مرتد لوگوں کی سزا بھی یا تو قتل ہے یا ہاتھ پاؤں الٹی طرح سے کاٹنا ہے یا جلا وطن کرنا۔ اور جمہور کا قول ہے کہ یہ آیت کئی احوال میں ہے، جب ڈاکو قتل و غارت دونوں کے مرتکب ہوتے ہوں تو قابل دار اور گردن وزنی ہیں اور جب صرف قتل سرزد ہوا ہو تو قتل کا بدلہ صرف قتل ہے اور اگر فقط مال لیا ہو تو ہاتھ پاؤں الٹے سیدھے کاٹ دیئے جائیں گے اور اگر راستے پُر خطر کر دیئے ہوں، لوگوں کو خوف زدہ کر دیا ہو اور کسی گناہ کے مرتکب نہ ہوئے ہوں اور گرفتار کر لیے جائیں تو صرف جلا وطنی ہے۔
اکثر سلف اور ائمہ کا یہی مذہب ہے پھر بزرگوں نے اس میں بھی اختلاف کیا ہے کہ آیا سولی پر لٹکا کر یونہی چھوڑ دیا جائے کہ بھوکا پیاسا مر جائے؟ یا نیزے وغیرہ سے قتل کر دیا جائے؟ یا پہلے قتل کر دیا جائے پھر سولی پر لٹکایا جائے تاکہ اور لوگوں کو عبرت حاصل ہو؟ اور کیا تین دن تک سولی پر رہنے دے کر پھر اتار لیا جائے؟ یا یونہی چھوڑ دیا جائے لیکن تفسیر کا یہ موضوع نہیں کہ ہم ایسے جزئی اختلافات میں پڑیں اور ہر ایک کی دلیلیں وغیرہ وارد کریں۔ ہاں ایک حدیث میں کچھ تفصیل سزا ہے، اگر اس کی سند صحیح ہو تو وہ یہ کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان محاربین کے بارے میں جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ”جنہوں نے مال چرایا اور راستوں کو خطرناک بنا دیا ان کے ہاتھ تو چوری کے بدلے کاٹ دیجئیے اور جس نے قتل اور دہشت گردی پھیلائی اور بدکاری کا ارتکاب کیا ہے، اسے سولی چڑھا دو“ }۔
فرمان ہے کہ ’ زمین سے الگ کر دیئے جائیں ‘ یعنی انہیں تلاش کر کے ان پر حد قائم کی جائے یا وہ دار الاسلام سے بھاگ کر کہیں چلے جائیں یا یہ کہ ایک شہر سے دوسرے شہر اور دوسرے سے تیسرے شہر انہیں بھیج دیا جاتا رہے یا یہ کہ اسلامی سلطنت سے بالکل ہی خارج کر دیا جائے۔ شعبی تو نکال ہی دیتے تھے اور عطا خراسانی کہتے ہیں ”ایک لشکر میں سے دوسرے لشکر میں پہنچا دیا جائے یونہی کئی سال تک مارا مارا پھرایا جائے لیکن دار الاسلام سے باہر نہ کیا جائے۔“ ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں ”اسے جیل خانے میں ڈال دیا جائے۔“ ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول یہ ہے کہ ”اسے اس کے شہر سے نکال کر کسی دوسرے شہر کے جیل خانے میں ڈال دیا جائے۔“ ”ایسے لوگ دنیا میں ذلیل و رذیل اور آخرت میں بڑے بھاری عذابوں میں گرفتار ہوں گے۔“ آیت کا یہ ٹکڑا تو ان لوگوں کی تائید کرتا ہے جو کہتے ہیں کہ یہ آیت مشرکوں کے بارے میں اتری ہے اور مسلمانوں کے بارے وہ صحیح حدیث ہے جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ویسے ہی عہد لیے جیسے عورتوں سے لیے تھے کہ ”ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، چوری نہ کریں، زنا نہ کریں، اپنی اولادوں کو قتل نہ کریں، ایک دوسرے کی نافرمانی نہ کریں جو اس وعدے کو نبھائے، اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جو ان میں سے کسی گناہ کے ساتھ آلودہ ہو جائے پھر اگر اسے سزا ہو گئی تو وہ سزا کفارہ بن جائے گی اور اگر اللہ تعالیٰ نے پردہ پوشی کر لی تو اس امر کا اللہ ہی مختار ہے اگر چاہے عذاب کرے، اگر چاہے چھوڑ دے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1709] اور حدیث میں ہے { جس کسی نے کوئی گناہ کیا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ڈھانپ لیا اور اس سے چشم پوشی کر لی تو اللہ کی ذات اور اس کا رحم و کرم اس سے بہت بلند و بالا ہے، معاف کئے ہوئے جرائم کو دوبارہ کرنے پہ اسے دنیوی سزا ملے گی، اگر بے توبہ مرگئے تو آخرت کی وہ سزائیں باقی ہیں جن کا اس وقت صحیح تصور بھی محال ہے ہاں توبہ نصیب ہو جائے تو اور بات ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2626،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر توبہ کرنے والوں کی نسبت جو فرمایا ہے اس کا اظہار اس صورت میں تو صاف ہے کہ اس آیت کو مشرکوں کے بارے میں نازل شدہ مانا جائے۔ لیکن جو مسلمان مغرور ہوں اور وہ قبضے میں آنے سے پہلے توبہ کر لیں تو ان سے قتل اور سولی اور پاؤں کاٹنا تو ہٹ جاتا ہے لیکن ہاتھ کا کٹنا بھی ہٹ جاتا ہے یا نہیں، اس میں علماء کے دو قول ہیں، آیت کے ظاہری الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ سب کچھ ہٹ جائے، صحابہ رضی اللہ عنہم کا عمل بھی اسی پر ہے۔ چنانچہ جاریہ بن بدر تیمی بصریٰ نے زمین میں فساد کیا، مسلمانوں سے لڑا، اس بارے میں چند قریشیوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سفارش کی، جن میں حسن بن علی، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم بھی تھے لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے اسے امن دینے سے انکار کر دیا۔ وہ سعید بن قیس ہمدانی کے پاس آیا، آپ نے اپنے گھر میں اسے ٹھہرایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا بتائیے تو ”جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑے اور زمین میں فساد کی سعی کرے“، پھر ان آیتوں کی «قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ» تک تلاوت کی تو، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں تو ایسے شخص کو امن لکھ دوں گا“، سعید نے فرمایا یہ جاریہ بن بدر ہے، چنانچہ جاریہ نے اس کے بعد ان کی مدح میں اشعار بھی کہے ہیں۔
قبیلہ مراد کا ایک شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس کوفہ کی مسجد میں جہاں کے یہ گورنر تھے، ایک فرض نماز کے بعد آیا اور کہنے لگا اے امیر کوفہ فلاں بن فلاں مرادی قبیلے کا ہوں، میں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی لڑی، زمین میں فساد کی کوشش کی لیکن آپ لوگ مجھ پر قدرت پائیں، اس سے پہلے میں تائب ہوگیا اب میں آپ سے پناہ حاصل کرنے والے کی جگہ پر کھڑا ہوں۔ اس پر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا ”اے لوگو! تم میں سے کوئی اب اس توبہ کے بعد اس سے کسی طرح کی لڑائی نہ کرے، اگر یہ سچا ہے تو الحمدللہ اور یہ جھوٹا ہے تو اس کے گناہ ہی اسے ہلاک کر دیں گے۔“ یہ شخص ایک مدت تک تو ٹھیک ٹھیک رہا لیکن پھر بغاوت کر گیا، اللہ نے بھی اس کے گناہوں کے بدلے اسے غارت کر دیا اور یہ مار ڈالا گیا۔ علی نامی ایک اسدی شخص نے بھی گزرگاہوں میں دہشت پھیلا دی، لوگوں کو قتل کیا، مال لوٹا، بادشاہ لشکر اور رعایا نے ہر چند اسے گرفتار کرنا چاہا، لیکن یہ ہاتھ نہ لگا۔ ایک مرتبہ یہ جنگل میں تھا، ایک شخص کو قرآن پڑھتے سنا اور وہ اس وقت یہ آیت تلاوت کر رہا تھا «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ» ۱؎ [39-الزمر:53] ، یہ اسے سن کر رک گیا اور اس سے کہا اے اللہ کے بندے یہ آیت مجھے دوبارہ سنا، اس نے پھر پڑھی اللہ کی اس آواز کو سن کر کہ وہ فرماتا ہے ’ اے میرے گنہگار بندو تم میری رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، میں سب گناہوں کو بخشنے پر قادر ہوں میں غفور و رحیم ہوں ‘، اس شخص نے جھٹ سے اپنی تلوار میان میں کرلی، اسی وقت سچے دل سے توبہ کی اور صبح کی نماز سے پہلے مدینے پہنچ گیا، غسل کیا اور مسجد نبوی میں نماز صبح جماعت کے ساتھ ادا کی اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جو لوگ بیٹھے تھے، ان ہی میں ایک طرف یہ بھی بیٹھ گیا۔ جب دن کا اجالا ہوا تو لوگوں نے اسے دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ تو سلطنت کا باغی، بہت بڑا مجرم اور مفرور شخص علی اسدی ہے، سب نے چاہا کہ اسے گرفتار کر لیں۔ اس نے کہا سنو بھائیو! تم مجھے گرفتار نہیں کرسکتے، اس لیے کہ مجھ پر تمہارے قابو پانے سے پہلے ہی میں تو توبہ کر چکا ہوں بلکہ توبہ کے بعد خود تمہارے پاس آ گیا ہوں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا! ”یہ سچ کہتا ہے“ اور اس کا ہاتھ پکڑ کر مروان بن حکم کے پاس لے چلے، یہ اس وقت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینے کے گورنر تھے، وہاں پہنچ کر فرمایا کہ ”یہ علی اسدی ہیں، یہ توبہ کر چکے ہیں، اس لیے اب تم انہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔“ چنانچہ کسی نے اس کے ساتھ کچھ نہ کیا، جب مجاہدین کی ایک جماعت رومیوں سے لڑنے کیلئے چلی تو ان مجاہدوں کے ساتھ یہ بھی ہو لیے، سمندر میں ان کی کشتی جا رہی تھی کہ سامنے سے چند کشتیاں رومیوں کی آگئیں، یہ اپنی کشتی میں سے رومیوں کی گردنیں مارنے کیلئے ان کی کشتی میں کود گئے، ان کی آبدار خارا شگاف تلوار کی چمک کی تاب رومی نہ لاسکے اور نامردی سے ایک طرف کو بھاگے، یہ بھی ان کے پیچھے اسی طرف چلے چونکہ سارا بوجھ ایک طرف ہو گیا، اس لیے کشتی الٹ گئی جس سے وہ سارے رومی کفار ہلاک ہوگئے اور علی اسدی بھی ڈوب کر شہید ہو گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:284/10] (اللہ ان پر اپنی رحمتیں ناز فرمائے)۔
34۔ 1 یعنی گرفتار ہونے سے پہلے اسلامی حکومت کی اطاعت کا اعلان کردیں تو پھر انہیں معاف کردیا جائے، مذکورہ سزائیں نہیں دی جائیں گی۔ لیکن پھر اس امر میں اختلاف ہے کہ سزاؤں کی معافی کے ساتھ انہوں نے قتل کر کے یا مال لوٹ کر یا ابرو ریزی کر کے بندوں پر جو دست درازی کی یہ جرائم بھی معاف ہوجائیں گے یا ان کا بدلہ لیا جائے گا، بعض علماء کے نزدیک معاف نہیں ہوں گے بلکہ ان کا قصاص لیا جائے گا۔ (امام شوکانی اور امام ابن کثیر کا رجحان اس طرف ہے کہ مطلقاً انہیں معاف کردیا جائے گا اور اسی کو ظاہر آیت کا مقتضی بتلایا ہے۔ البتہ گرفتاری کے بعد توبہ سے جرائم معاف نہیں ہوں گے۔ وہ مستحق سزا ہوں گے۔
(آیت 34) {اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا ……:} یعنی ایسے لوگوں کا قصور معاف کر دیا جائے گا اور انھیں مذکورہ سزائیں نہیں دی جائیں گی، کیونکہ ان کا گرفتار ہونے سے پہلے از خود اپنے آپ کو حوالے کر دینا یہ معنی رکھتا ہے کہ انھوں نے اپنے جرائم سے توبہ کر لی ہے، لیکن پھر اس بات میں اختلاف ہے کہ سزاؤں کی معافی کے ساتھ انھوں نے قتل کر کے یا مال لوٹ کر یا آبروریزی کر کے بندوں پر جو دست درازی کی ہے یہ جرائم بھی معاف ہو جائیں گے یا ان کا بدلہ لیا جائے گا؟ بعض علماء کے نزدیک یہ معاف نہیں ہوں گے، ان کا قصاص لیا جائے گا۔ ابن کثیر اور شوکانی رحمہما اللہ کا رجحان اس طرف ہے کہ مطلقاً انھیں معاف کر دیا جائے گا، انھوں نے آیت کے ظاہر الفاظ کا تقاضا یہی بتایا ہے، البتہ گرفتاری کے بعد توبہ سے جرائم معاف نہیں ہوں گے، وہ مستحق سزا ہوں گے۔ (فتح القدیر، ابن کثیر)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور اُس کی جناب میں بار یابی کا ذریعہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو، شاید کہ تمہیں کامیابی نصیب ہو جائے
مولانا محمد جوناگڑھی
مسلمانو! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب تلاش کرو اور اس کی راه میں جہاد کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو اللہ سے ڈرو! اور اس تک پہنچنے کے لیے وسیلہ تلاش کرو۔ اور اس کی راہ میں جہاد کرو۔ تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف قرب تلاش کرو اور اس کے راستے میں جہاد کرو، تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تقویٰ قربت الٰہی کی بنیاد ہے ٭٭
تقوے کا حکم ہو رہا ہے اور وہ بھی اطاعت سے ملا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے منع کردہ کاموں سے جو شخص رکا رہے، اس کی طرف قربت یعنی نزدیکی تلاش کرے۔ وسیلے کے یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں۔ مجاہد، وائل، حسن، ابن زید رحمة الله علیہم اور بہت سے مفسرین سے بھی مروی ہے۔ قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں ”اللہ کی اطاعت اور اس کی مرضی کے اعمال کرنے سے اس سے قریب ہوتے جاؤ۔“ ابن زید نے یہ آیت بھی پڑھی «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا» ۱؎ [17-الاسراء:57] ’ جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ تو خود ہی اپنے رب کی نزدیکی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ‘۔ ان ائمہ نے وسیلے کے جو معنی اس آیت میں کئے ہیں اس پر سب مفسرین کا اجماع ہے، اس میں کسی ایک کو بھی اختلاف نہیں۔ امام جریر رحمة الله نے اس پر ایک عربی شعر بھی وارد کیا ہے ؎ «(إِذَا غَفَلَ الْوَاشُونَ عُدْنَا لِوصْلِنَا وَعَادَ التَّصَافِي بَيْنَنَا وَالْوَسَائِلُ)» ، جس میں وسیلہ معنی قربت اور نزدیک کے مستعمل ہوا ہے۔ وسیلے کے معنی اس چیز کے ہیں جس سے مقصود کے حاصل کرنے کی طرف پہنچا جائے اور وسیلہ جنت کی اس اعلیٰ اور بہترین منزل کا نام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ ہے۔ عرش سے بہت زیادہ قریب یہی درجہ ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الاسراء:79] ’ قریب ہے کہ خدا تم کو مقام محمود میں داخل کرے ‘۔
صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے { جو شخص اذان سن کر دعا «اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدَتْهُ، إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ، پڑھے اس کیلئے میری شفاعت حلال ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:614] مسلم کی حدیث میں ہے { جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہہ رہا ہو، وہی تم بھی کہو، پھر مجھ پر درود بھیجو، ایک درود کے بدلے تم پر اللہ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔ پھر میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو، وہ جنت کا ایک درجہ ہے، جسے صرف ایک ہی بندہ پائے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں۔ پس جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا، اس کیلئے میری شفاعت واجب ہو گئی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:384] مسند احمد میں ہے { { جب تم مجھ پر درود پڑھو تو میرے لیے وسیلہ مانگو }، پوچھا گیا کہ وسیلہ کیا ہے؟ فرمایا: { جنت کا سب سے بلند درجہ جسے صرف ایک شخص ہی پائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہوں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3612،قال الشيخ الألباني:صحیح]
طبرانی میں ہے { تم اللہ سے دعا کرو کہ اللہ مجھے وسیلہ عطا فرمائے جو شخص دنیا میں میرے لیے یہ دعا کرے گا، میں اس پر گواہ یا اس کا سفارشی قیامت کے دن بن جاؤں گا }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:637:حسن] اور حدیث میں ہے { وسیلے سے بڑا درجہ جنت میں کوئی نہیں، لہٰذا تم اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کے ملنے کی دعا کرو }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:3571:صحیح] ایک غریب اور منکر حدیث میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ { لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وسیلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور کون ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا نام لیا }۔ ۱؎ [ضعیف جدا] ایک اور بہت غریب روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے منبر پر فرمایا کہ ”جنت میں دو موتی ہیں، ایک سفید ایک زرد، زرد تو عرش تلے ہے اور مقام محمود سفید موتی کا ہے، جس میں ستر ہزار بالاخانے ہیں، جن میں سے ہر ہر گھر تین میل کا ہے۔ اس کے دریچے دروازہ تخت وغیرہ سب کے سب گویا ایک ہی جڑ سے ہیں۔ اسی کا نام وسیلہ ہے، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت کیلئے ہے۔“ ۱؎ [میزان:3118:موقوف ضعیف] تقویٰ کا یعنی ممنوعات سے رکنے کا اور حکم احکام کے بجا لانے کا حکم دے کر پھر فرمایا کہ ’ اس کی راہ میں جہاد کرو، مشرکین و کفار کو جو اس کے دشمن ہیں اس کے دین سے الگ ہیں، اس کی سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں، انہیں قتل کرو۔ ایسے مجاہدین بامراد ہیں، فلاح و صلاح سعادت و شرافت انہی کیلئے ہیں، جنت کے بلند بالاخانے اور اللہ کی بےشمار نعمتیں انہی کیلئے ہیں، یہ اس جنت میں پہنچائے جائیں گے، جہاں موت و فوت نہیں، جہاں کمی اور نقصان نہیں، جہاں ہمیشگی کی جوانی اور ابدی صحت اور دوامی عیش و عشرت ہے ‘۔
اپنے دوستوں کا نیک انجام بیان فرما کر اب اپنے دشمنوں کا برا نتیجہ ظاہر فرماتا ہے کہ ’ ایسے سخت اور بڑے عذاب انہیں ہو رہے ہوں گے کہ اگر اس وقت روئے زمین کے مالک ہوں بلکہ اتنا ہی اور بھی ہو تو ان عذابوں سے بچنے کیلئے بطور بدلے کے سب دے ڈالیں لیکن اگر ایسا ہو بھی جائے تو بھی ان سے اب فدیہ قبول نہیں بلکہ جو عذاب ان پر ہیں، وہ دائمی اور ابدی اور دوامی ہیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ» ۱؎ [22-الحج:22] ’ جہنمی جب جہنم میں سے نکلنا چاہئیں گے تو پھر دوبارہ اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں کے ساتھ اوپر آ جائیں گے کہ داروغے انہیں لوہے کے ہتھوڑے مار مار کر پھر قعر جہنم میں گرا دیں گے۔ غرض ان دائمی عذابوں سے چھٹکارا محال ہے ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ایک جہنمی کو لایا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم کہو تمہاری جگہ کیسی ہے؟ وہ کہے گا بدترین اور سخت ترین۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ اس سے چھوٹنے کیلئے تو کیا کچھ خرچ کر دینے پر راضی ہے؟ وہ کہے گا ساری زمین بھر کا سونا دے کر بھی میں یہاں سے چھوٹوں تو بھی سستا چھوٹا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ جھوٹا ہے میں نے تو تجھ سے اس سے بہت ہی کم مانگا تھا لیکن تو نے کچھ بھی نہ کیا ‘۔ پھر حکم دیا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا } ۱؎ [صحیح بخاری:6538]
ایک مرتبہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا کہ { ایک قوم جہنم میں سے نکال کر جنت میں پہنچائی جائے گی }۔ اس پر ان کے شاگرد یزید فقیر رحمہ اللہ نے پوچھا کہ پھر اس آیت قرآنی کا کیا مطلب ہے؟ کہ «يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا ۡ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدہ:37] ، یعنی ’ وہ جہنم سے آزاد ہونا چاہیں گے لیکن وہ آزاد ہونے والے نہیں ‘۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس سے پہلے کی آیت «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [5-المائدہ:36] ، پڑھو جس سے صاف ہو جاتا ہے کہ یہ کافر لوگ ہیں یہ کبھی نہ نکلیں گے۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:191] دوسری روایت میں ہے کہ یزید رحمة الله کا خیال یہی تھا کہ جہنم میں سے کوئی بھی نہ نکلے گا اس لیے یہ سن کر انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے اور لوگوں پر تو افسوس نہیں ہاں آپ صحابیوں رضی اللہ عنہم پر افسوس ہے کہ آپ بھی قرآن کے الٹ کہتے ہیں اس وقت مجھے بھی غصہ آگیا تھا۔ اس پر ان کے ساتھیوں نے مجھے ڈانٹا لیکن سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بہت ہی حلیم الطبع تھے انہوں نے سب کو روک دیا اور مجھے سمجھایا کہ ”قرآن میں جن کا جہنم سے نہ نکلنے کا ذکر ہے وہ کفار ہیں۔ تم نے قرآن نہیں پڑھا؟“ میں نے کہا ہاں مجھے سارا قرآن یاد ہے؟ کہا ”پھر کیا یہ آیت قرآن میں نہیں ہے؟ «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الاسراء:79] ، اس میں مقام محمود کا ذکر ہے یہی مقام شفاعت ہے اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو جہنم میں ان کی خطاؤں کی وجہ سے ڈالے گا اور جب تک چاہے انہیں جہنم میں ہی رکھے گا پھر جب چاہے گا انہیں اس سے آزاد کر دے گا۔“ یزید رحمة الله فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے میرا خیال ٹھیک ہوگیا۔ ۱؎ [ضعیف] ۔
طلق بن حبیب رحمة الله کہتے ہیں میں بھی منکر شفاعت تھا یہاں تک کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ملا اور اپنے دعوے کے ثبوت میں جن جن آیتوں میں جہنم کے ہمیشہ رہنے والوں کا ذکر ہے سب پڑھ ڈالیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے سن کر فرمایا! ”اے طلق کیا تم اپنے تئیں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں مجھ سے افضل جانتے ہو؟ سنو جتنی آیتیں تم نے پڑھی ہیں وہ سب اہل جہنم کے بارے میں ہیں یعنی مشرکوں کیلئے۔ لیکن وہ لوگ نکلیں گے یہ وہ لوگ ہیں جو مشرک نہ تھے لیکن گہنگار تھے گناہوں کے بدلے سزا بھگت لی پھر جہنم سے نکال دیئے گئے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ سب فرما کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ”یہ دونوں بہرے ہو جائیں اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہو کہ { جہنم میں داخل ہونے بعد بھی لوگ اس میں سے نکالے جائیں گے اور وہ جہنم سے آزاد کر دیئے جائیں گے }، قرآن کی یہ آیتیں جس طرح تم پڑھتے ہو ہم بھی پڑھتے ہی ہیں۔“ ۱؎ [الادب المفرد:818:ضعیف]
35۔ 1 وسیلہ کے معنی ایسی چیز کے ہیں جو کسی مقصود کے حصول یا اس کے قرب کا ذریعہ ہو۔ ' اللہ تعالیٰ کی طرف وسیلہ تلاش کرو ' کا مطلب ہوگا ایسے اعمال اختیار کرو جس سے تمہیں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل ہوجائے۔ امام شوکانی فرماتے ہیں ' وسیلہ جو قربت کے معنی میں ہے تقویٰ اور دیگر خصال خیر پر صادق آتا ہے جن کے ذریعے سے بندے اپنے رب کا قرب حاصل کرتے ہیں، اسی طرح جن باتوں سے روکا گیا ہو ان کا ترک بھی قرب الٰہی کا وسیلہ ہے۔ البتہ حدیث میں اس مقام محمود کو بھی وسیلہ کہا گیا ہے جو جنت میں نبی کو عطا فرمایا جائے گا۔ اسی لئے آپ نے فرمایا جو اذان کے بعد میرے لئے یہ دعائے وسیلہ کرے گا وہ میری شفاعت کا مستحق ہوگا۔ (صحیح بخاری)
(آیت 35) ➊{ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ ……:} یعنی رسول کی اطاعت میں جو نیکی کرو وہ قبول ہے (کیونکہ اﷲ کے قرب کے حصول کے لیے اب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے سوا کوئی وسیلہ نہیں) اور بغیر اس کے عقل سے کرو سو (وہ) قبول نہیں۔ (موضح) لفظ {” الْوَسِيْلَةَ “} یہ {” تَوَسَّلْتُ إِلَيْهِ “} سے {” فَعِيْلَةٌ “} کے وزن پر ہے۔ اس کی جمع {”وَسَائِلُ “} آتی ہے، اس کا لفظی معنی قرب ہے، مراد ہر وہ چیز ہے جس سے اﷲ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو۔ اس آیت میں اﷲ کے تقوے کا اور اس کا قرب حاصل کرنے کا حکم دینے کے بعد جہاد کا حکم دیا، معلوم ہوا کہ اﷲ کا تقویٰ اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ اس کی راہ میں جہاد (سرتوڑ کوشش خصوصاً قتال) ہے۔ اس مقصد کے لیے کسی زندہ شخص سے دعا کروانا بھی جائز ہے، مگر کسی زندہ یا مردہ کا نام لے کر کہنا کہ یا اﷲ! فلاں کے وسیلے یا طفیل ہماری دعا قبول فرما، نہ قرآن سے ثابت ہے نہ صحیح حدیث سے، ہاں اﷲ تعالیٰ کی ذات و صفات کا واسطہ دے کر یا اپنا کوئی خالص عمل پیش کر کے دعا کر سکتا ہے، یہ قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ وسیلہ ایک مقام کا نام بھی ہے، اس میں بھی قرب کا معنی ہی ملحوظ ہے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جس طرح وہ کہتا ہے، پھر مجھ پر درود بھیجو، جس نے مجھ پر ایک بار درود پڑھا اﷲ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت نازل فرمائے گا، پھر میرے لیے وسیلے کی دعا کرو، وسیلہ جنت کا وہ مقام ہے جو اﷲ کے بندوں میں سے صرف ایک ہی کو نصیب ہو گا اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں گا، لہٰذا جس نے میرے لیے وسیلے کی دعا کی تو اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جائے گی۔“ [ مسلم، الصلاۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن……: ۳۸۴] اﷲ کا قرب (وسیلہ) اتنی بڑی نعمت ہے کہ جو شخص اﷲ تعالیٰ کے جتنا قریب ہے اس سے مزید قرب کی دعا اور کوشش کرتا ہے۔ دیکھیے بنی اسرائیل (۵۷)۔ ➋ {لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ:} یہود کو اپنے نسب پر فخر تھا اور وہ اسی خوش فہمی میں ہر قسم کے جرائم کا ارتکاب کرتے رہتے تھے اور اپنے آپ کو اﷲ کا محبوب سمجھتے تھے، جیسا کہ اوپر کی آیات میں گزر چکا ہے۔ اب اس آیت میں مسلمانوں کو تعلیم دی ہے کہ تم اگرچہ بہتر امت ہو اور تمھارا نبی بھی سب سے افضل ہے، مگر تمھیں چاہیے کہ نیک اعمال کے ذریعے سے اﷲ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اﷲ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو، تاکہ آخرت میں فلاح حاصل کر سکو، یعنی یہود کی طرح بد عمل نہ بنو۔ (کبیر)
خوب جان لو کہ جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے، اگر اُن کے قبضہ میں ساری زمین کی دولت ہو اور اتنی ہی اور اس کے ساتھ، اور وہ چاہیں کہ اسے فدیہ میں دے کر روز قیامت کے عذاب سے بچ جائیں، تب بھی وہ ان سے قبول نہ کی جائے گی اور انہیں درد ناک سزا مل کر رہے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
یقین مانو کہ کافروں کے لئے اگر وه سب کچھ ہو جو ساری زمین میں ہے بلکہ اسی کے مثل اور بھی ہو اور وه اس سب کو قیامت کے دن کے عذاب کے بدلے فدیے میں دینا چاہیں تو بھی ناممکن ہے کہ ان کا فدیہ قبول کرلیا جائے، ان کے لئے تو درد ناک عذاب ہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جو کافر ہوئے جو کچھ زمین میں ہے سب اور اس کی برابر اور اگر ان کی ملک ہو کہ اسے دے کر قیامت کے عذاب سے اپنی جان چھڑائیں تو ان سے نہ لیا جائے گا اور ان کے لئے دکھ کا عذاب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اتنا اور بھی ہو، تاکہ اسے بطور فدیہ دیں اور قیامت کے دن عذاب سے بچ جائیں، تو وہ بھی ان سے قبول نہ کیا جائے گا۔ اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا، اگر ان کے پاس زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی ہو، تاکہ وہ اس کے ساتھ قیامت کے دن کے عذاب سے فدیہ دے دیں تو ان سے قبول نہ کیا جائے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تقویٰ قربت الٰہی کی بنیاد ہے ٭٭
تقوے کا حکم ہو رہا ہے اور وہ بھی اطاعت سے ملا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے منع کردہ کاموں سے جو شخص رکا رہے، اس کی طرف قربت یعنی نزدیکی تلاش کرے۔ وسیلے کے یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں۔ مجاہد، وائل، حسن، ابن زید رحمة الله علیہم اور بہت سے مفسرین سے بھی مروی ہے۔ قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں ”اللہ کی اطاعت اور اس کی مرضی کے اعمال کرنے سے اس سے قریب ہوتے جاؤ۔“ ابن زید نے یہ آیت بھی پڑھی «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا» ۱؎ [17-الاسراء:57] ’ جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ تو خود ہی اپنے رب کی نزدیکی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ‘۔ ان ائمہ نے وسیلے کے جو معنی اس آیت میں کئے ہیں اس پر سب مفسرین کا اجماع ہے، اس میں کسی ایک کو بھی اختلاف نہیں۔ امام جریر رحمة الله نے اس پر ایک عربی شعر بھی وارد کیا ہے ؎ «(إِذَا غَفَلَ الْوَاشُونَ عُدْنَا لِوصْلِنَا وَعَادَ التَّصَافِي بَيْنَنَا وَالْوَسَائِلُ)» ، جس میں وسیلہ معنی قربت اور نزدیک کے مستعمل ہوا ہے۔ وسیلے کے معنی اس چیز کے ہیں جس سے مقصود کے حاصل کرنے کی طرف پہنچا جائے اور وسیلہ جنت کی اس اعلیٰ اور بہترین منزل کا نام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ ہے۔ عرش سے بہت زیادہ قریب یہی درجہ ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الاسراء:79] ’ قریب ہے کہ خدا تم کو مقام محمود میں داخل کرے ‘۔
صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے { جو شخص اذان سن کر دعا «اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدَتْهُ، إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ، پڑھے اس کیلئے میری شفاعت حلال ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:614] مسلم کی حدیث میں ہے { جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہہ رہا ہو، وہی تم بھی کہو، پھر مجھ پر درود بھیجو، ایک درود کے بدلے تم پر اللہ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔ پھر میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو، وہ جنت کا ایک درجہ ہے، جسے صرف ایک ہی بندہ پائے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں۔ پس جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا، اس کیلئے میری شفاعت واجب ہو گئی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:384] مسند احمد میں ہے { { جب تم مجھ پر درود پڑھو تو میرے لیے وسیلہ مانگو }، پوچھا گیا کہ وسیلہ کیا ہے؟ فرمایا: { جنت کا سب سے بلند درجہ جسے صرف ایک شخص ہی پائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہوں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3612،قال الشيخ الألباني:صحیح]
طبرانی میں ہے { تم اللہ سے دعا کرو کہ اللہ مجھے وسیلہ عطا فرمائے جو شخص دنیا میں میرے لیے یہ دعا کرے گا، میں اس پر گواہ یا اس کا سفارشی قیامت کے دن بن جاؤں گا }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:637:حسن] اور حدیث میں ہے { وسیلے سے بڑا درجہ جنت میں کوئی نہیں، لہٰذا تم اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کے ملنے کی دعا کرو }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:3571:صحیح] ایک غریب اور منکر حدیث میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ { لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وسیلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور کون ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا نام لیا }۔ ۱؎ [ضعیف جدا] ایک اور بہت غریب روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے منبر پر فرمایا کہ ”جنت میں دو موتی ہیں، ایک سفید ایک زرد، زرد تو عرش تلے ہے اور مقام محمود سفید موتی کا ہے، جس میں ستر ہزار بالاخانے ہیں، جن میں سے ہر ہر گھر تین میل کا ہے۔ اس کے دریچے دروازہ تخت وغیرہ سب کے سب گویا ایک ہی جڑ سے ہیں۔ اسی کا نام وسیلہ ہے، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت کیلئے ہے۔“ ۱؎ [میزان:3118:موقوف ضعیف] تقویٰ کا یعنی ممنوعات سے رکنے کا اور حکم احکام کے بجا لانے کا حکم دے کر پھر فرمایا کہ ’ اس کی راہ میں جہاد کرو، مشرکین و کفار کو جو اس کے دشمن ہیں اس کے دین سے الگ ہیں، اس کی سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں، انہیں قتل کرو۔ ایسے مجاہدین بامراد ہیں، فلاح و صلاح سعادت و شرافت انہی کیلئے ہیں، جنت کے بلند بالاخانے اور اللہ کی بےشمار نعمتیں انہی کیلئے ہیں، یہ اس جنت میں پہنچائے جائیں گے، جہاں موت و فوت نہیں، جہاں کمی اور نقصان نہیں، جہاں ہمیشگی کی جوانی اور ابدی صحت اور دوامی عیش و عشرت ہے ‘۔
اپنے دوستوں کا نیک انجام بیان فرما کر اب اپنے دشمنوں کا برا نتیجہ ظاہر فرماتا ہے کہ ’ ایسے سخت اور بڑے عذاب انہیں ہو رہے ہوں گے کہ اگر اس وقت روئے زمین کے مالک ہوں بلکہ اتنا ہی اور بھی ہو تو ان عذابوں سے بچنے کیلئے بطور بدلے کے سب دے ڈالیں لیکن اگر ایسا ہو بھی جائے تو بھی ان سے اب فدیہ قبول نہیں بلکہ جو عذاب ان پر ہیں، وہ دائمی اور ابدی اور دوامی ہیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ» ۱؎ [22-الحج:22] ’ جہنمی جب جہنم میں سے نکلنا چاہئیں گے تو پھر دوبارہ اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں کے ساتھ اوپر آ جائیں گے کہ داروغے انہیں لوہے کے ہتھوڑے مار مار کر پھر قعر جہنم میں گرا دیں گے۔ غرض ان دائمی عذابوں سے چھٹکارا محال ہے ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ایک جہنمی کو لایا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم کہو تمہاری جگہ کیسی ہے؟ وہ کہے گا بدترین اور سخت ترین۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ اس سے چھوٹنے کیلئے تو کیا کچھ خرچ کر دینے پر راضی ہے؟ وہ کہے گا ساری زمین بھر کا سونا دے کر بھی میں یہاں سے چھوٹوں تو بھی سستا چھوٹا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ جھوٹا ہے میں نے تو تجھ سے اس سے بہت ہی کم مانگا تھا لیکن تو نے کچھ بھی نہ کیا ‘۔ پھر حکم دیا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا } ۱؎ [صحیح بخاری:6538]
ایک مرتبہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا کہ { ایک قوم جہنم میں سے نکال کر جنت میں پہنچائی جائے گی }۔ اس پر ان کے شاگرد یزید فقیر رحمہ اللہ نے پوچھا کہ پھر اس آیت قرآنی کا کیا مطلب ہے؟ کہ «يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا ۡ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدہ:37] ، یعنی ’ وہ جہنم سے آزاد ہونا چاہیں گے لیکن وہ آزاد ہونے والے نہیں ‘۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس سے پہلے کی آیت «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [5-المائدہ:36] ، پڑھو جس سے صاف ہو جاتا ہے کہ یہ کافر لوگ ہیں یہ کبھی نہ نکلیں گے۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:191] دوسری روایت میں ہے کہ یزید رحمة الله کا خیال یہی تھا کہ جہنم میں سے کوئی بھی نہ نکلے گا اس لیے یہ سن کر انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے اور لوگوں پر تو افسوس نہیں ہاں آپ صحابیوں رضی اللہ عنہم پر افسوس ہے کہ آپ بھی قرآن کے الٹ کہتے ہیں اس وقت مجھے بھی غصہ آگیا تھا۔ اس پر ان کے ساتھیوں نے مجھے ڈانٹا لیکن سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بہت ہی حلیم الطبع تھے انہوں نے سب کو روک دیا اور مجھے سمجھایا کہ ”قرآن میں جن کا جہنم سے نہ نکلنے کا ذکر ہے وہ کفار ہیں۔ تم نے قرآن نہیں پڑھا؟“ میں نے کہا ہاں مجھے سارا قرآن یاد ہے؟ کہا ”پھر کیا یہ آیت قرآن میں نہیں ہے؟ «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الاسراء:79] ، اس میں مقام محمود کا ذکر ہے یہی مقام شفاعت ہے اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو جہنم میں ان کی خطاؤں کی وجہ سے ڈالے گا اور جب تک چاہے انہیں جہنم میں ہی رکھے گا پھر جب چاہے گا انہیں اس سے آزاد کر دے گا۔“ یزید رحمة الله فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے میرا خیال ٹھیک ہوگیا۔ ۱؎ [ضعیف] ۔
طلق بن حبیب رحمة الله کہتے ہیں میں بھی منکر شفاعت تھا یہاں تک کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ملا اور اپنے دعوے کے ثبوت میں جن جن آیتوں میں جہنم کے ہمیشہ رہنے والوں کا ذکر ہے سب پڑھ ڈالیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے سن کر فرمایا! ”اے طلق کیا تم اپنے تئیں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں مجھ سے افضل جانتے ہو؟ سنو جتنی آیتیں تم نے پڑھی ہیں وہ سب اہل جہنم کے بارے میں ہیں یعنی مشرکوں کیلئے۔ لیکن وہ لوگ نکلیں گے یہ وہ لوگ ہیں جو مشرک نہ تھے لیکن گہنگار تھے گناہوں کے بدلے سزا بھگت لی پھر جہنم سے نکال دیئے گئے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ سب فرما کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ”یہ دونوں بہرے ہو جائیں اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہو کہ { جہنم میں داخل ہونے بعد بھی لوگ اس میں سے نکالے جائیں گے اور وہ جہنم سے آزاد کر دیئے جائیں گے }، قرآن کی یہ آیتیں جس طرح تم پڑھتے ہو ہم بھی پڑھتے ہی ہیں۔“ ۱؎ [الادب المفرد:818:ضعیف]
36۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ ایک جہنمی کو جہنم سے نکال کر اللہ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا ' تو نے اپنی آرام گاہ کیسے پائی '؟ وہ کہے گا ' بدترین آرام گاہ ' اللہ تعالیٰ فرمائے گا " کیا تو زمین بھر سونا فدیہ دے کر اس سے چھٹکارا حاصل کرن پسند کرے گا؟ " وہ اثبات میں جواب دے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تو دنیا میں اس سے بھی بہت کم کا تجھ سے مطالبہ کیا تھا تو نے وہاں کی پروا نہیں کی اور اسے دوبارہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا (صحیح مسلم)
(آیت 36) {اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ ……:} سورۂ آل عمران کی آیت (۹۱) اس کی ہم معنی ہے، انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ اس شخص سے کہے گا جسے آگ والوں میں سے سب سے ہلکا عذاب ہو گا: ”اگر زمین میں جو بھی چیز ہے تمھاری ہو تو کیا تم اپنی جان چھڑانے کے لیے وہ دے دو گے؟“ وہ کہے گا: ”ہاں!“ تو اﷲ تعالیٰ فرمائے گا: ”میں نے تم سے اس سے کہیں زیادہ آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا جب تو آدم کی پشت میں تھا کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنانا، مگر تو میرے ساتھ شریک بنائے بغیر مانا ہی نہیں۔“ [ بخاری، الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار: ۶۵۵۷ ]
وہ چاہیں گے کہ دوزخ کی آگ سے نکل بھاگیں مگر نہ نکل سکیں گے اور انہیں قائم رہنے والا عذاب دیا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ چاہیں گے کہ دوزخ میں سے نکل جائیں لیکن یہ ہرگز اس میں سے نہ نکل سکیں گے، ان کے لئے تو دوامی عذاب ہیں
احمد رضا خان بریلوی
دوزخ سے نکلنا چاہیں گے اور وہ اس سے نہ نکلیں گے اور ان کو دوامی سزا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں، مگر وہ اس سے کبھی نہیں نکل پائیں گے۔ اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں، حالانکہ وہ اس سے ہرگز نکلنے والے نہیں اور ان کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تقویٰ قربت الٰہی کی بنیاد ہے ٭٭
تقوے کا حکم ہو رہا ہے اور وہ بھی اطاعت سے ملا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے منع کردہ کاموں سے جو شخص رکا رہے، اس کی طرف قربت یعنی نزدیکی تلاش کرے۔ وسیلے کے یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں۔ مجاہد، وائل، حسن، ابن زید رحمة الله علیہم اور بہت سے مفسرین سے بھی مروی ہے۔ قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں ”اللہ کی اطاعت اور اس کی مرضی کے اعمال کرنے سے اس سے قریب ہوتے جاؤ۔“ ابن زید نے یہ آیت بھی پڑھی «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا» ۱؎ [17-الاسراء:57] ’ جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ تو خود ہی اپنے رب کی نزدیکی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ‘۔ ان ائمہ نے وسیلے کے جو معنی اس آیت میں کئے ہیں اس پر سب مفسرین کا اجماع ہے، اس میں کسی ایک کو بھی اختلاف نہیں۔ امام جریر رحمة الله نے اس پر ایک عربی شعر بھی وارد کیا ہے ؎ «(إِذَا غَفَلَ الْوَاشُونَ عُدْنَا لِوصْلِنَا وَعَادَ التَّصَافِي بَيْنَنَا وَالْوَسَائِلُ)» ، جس میں وسیلہ معنی قربت اور نزدیک کے مستعمل ہوا ہے۔ وسیلے کے معنی اس چیز کے ہیں جس سے مقصود کے حاصل کرنے کی طرف پہنچا جائے اور وسیلہ جنت کی اس اعلیٰ اور بہترین منزل کا نام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ ہے۔ عرش سے بہت زیادہ قریب یہی درجہ ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الاسراء:79] ’ قریب ہے کہ خدا تم کو مقام محمود میں داخل کرے ‘۔
صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے { جو شخص اذان سن کر دعا «اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدَتْهُ، إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ، پڑھے اس کیلئے میری شفاعت حلال ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:614] مسلم کی حدیث میں ہے { جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہہ رہا ہو، وہی تم بھی کہو، پھر مجھ پر درود بھیجو، ایک درود کے بدلے تم پر اللہ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔ پھر میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو، وہ جنت کا ایک درجہ ہے، جسے صرف ایک ہی بندہ پائے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں۔ پس جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا، اس کیلئے میری شفاعت واجب ہو گئی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:384] مسند احمد میں ہے { { جب تم مجھ پر درود پڑھو تو میرے لیے وسیلہ مانگو }، پوچھا گیا کہ وسیلہ کیا ہے؟ فرمایا: { جنت کا سب سے بلند درجہ جسے صرف ایک شخص ہی پائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہوں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3612،قال الشيخ الألباني:صحیح]
طبرانی میں ہے { تم اللہ سے دعا کرو کہ اللہ مجھے وسیلہ عطا فرمائے جو شخص دنیا میں میرے لیے یہ دعا کرے گا، میں اس پر گواہ یا اس کا سفارشی قیامت کے دن بن جاؤں گا }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:637:حسن] اور حدیث میں ہے { وسیلے سے بڑا درجہ جنت میں کوئی نہیں، لہٰذا تم اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کے ملنے کی دعا کرو }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:3571:صحیح] ایک غریب اور منکر حدیث میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ { لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وسیلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور کون ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا نام لیا }۔ ۱؎ [ضعیف جدا] ایک اور بہت غریب روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے منبر پر فرمایا کہ ”جنت میں دو موتی ہیں، ایک سفید ایک زرد، زرد تو عرش تلے ہے اور مقام محمود سفید موتی کا ہے، جس میں ستر ہزار بالاخانے ہیں، جن میں سے ہر ہر گھر تین میل کا ہے۔ اس کے دریچے دروازہ تخت وغیرہ سب کے سب گویا ایک ہی جڑ سے ہیں۔ اسی کا نام وسیلہ ہے، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت کیلئے ہے۔“ ۱؎ [میزان:3118:موقوف ضعیف] تقویٰ کا یعنی ممنوعات سے رکنے کا اور حکم احکام کے بجا لانے کا حکم دے کر پھر فرمایا کہ ’ اس کی راہ میں جہاد کرو، مشرکین و کفار کو جو اس کے دشمن ہیں اس کے دین سے الگ ہیں، اس کی سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں، انہیں قتل کرو۔ ایسے مجاہدین بامراد ہیں، فلاح و صلاح سعادت و شرافت انہی کیلئے ہیں، جنت کے بلند بالاخانے اور اللہ کی بےشمار نعمتیں انہی کیلئے ہیں، یہ اس جنت میں پہنچائے جائیں گے، جہاں موت و فوت نہیں، جہاں کمی اور نقصان نہیں، جہاں ہمیشگی کی جوانی اور ابدی صحت اور دوامی عیش و عشرت ہے ‘۔
اپنے دوستوں کا نیک انجام بیان فرما کر اب اپنے دشمنوں کا برا نتیجہ ظاہر فرماتا ہے کہ ’ ایسے سخت اور بڑے عذاب انہیں ہو رہے ہوں گے کہ اگر اس وقت روئے زمین کے مالک ہوں بلکہ اتنا ہی اور بھی ہو تو ان عذابوں سے بچنے کیلئے بطور بدلے کے سب دے ڈالیں لیکن اگر ایسا ہو بھی جائے تو بھی ان سے اب فدیہ قبول نہیں بلکہ جو عذاب ان پر ہیں، وہ دائمی اور ابدی اور دوامی ہیں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ» ۱؎ [22-الحج:22] ’ جہنمی جب جہنم میں سے نکلنا چاہئیں گے تو پھر دوبارہ اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں کے ساتھ اوپر آ جائیں گے کہ داروغے انہیں لوہے کے ہتھوڑے مار مار کر پھر قعر جہنم میں گرا دیں گے۔ غرض ان دائمی عذابوں سے چھٹکارا محال ہے ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ایک جہنمی کو لایا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم کہو تمہاری جگہ کیسی ہے؟ وہ کہے گا بدترین اور سخت ترین۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ اس سے چھوٹنے کیلئے تو کیا کچھ خرچ کر دینے پر راضی ہے؟ وہ کہے گا ساری زمین بھر کا سونا دے کر بھی میں یہاں سے چھوٹوں تو بھی سستا چھوٹا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ جھوٹا ہے میں نے تو تجھ سے اس سے بہت ہی کم مانگا تھا لیکن تو نے کچھ بھی نہ کیا ‘۔ پھر حکم دیا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا } ۱؎ [صحیح بخاری:6538]
ایک مرتبہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا کہ { ایک قوم جہنم میں سے نکال کر جنت میں پہنچائی جائے گی }۔ اس پر ان کے شاگرد یزید فقیر رحمہ اللہ نے پوچھا کہ پھر اس آیت قرآنی کا کیا مطلب ہے؟ کہ «يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا ۡ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدہ:37] ، یعنی ’ وہ جہنم سے آزاد ہونا چاہیں گے لیکن وہ آزاد ہونے والے نہیں ‘۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس سے پہلے کی آیت «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [5-المائدہ:36] ، پڑھو جس سے صاف ہو جاتا ہے کہ یہ کافر لوگ ہیں یہ کبھی نہ نکلیں گے۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:191] دوسری روایت میں ہے کہ یزید رحمة الله کا خیال یہی تھا کہ جہنم میں سے کوئی بھی نہ نکلے گا اس لیے یہ سن کر انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے اور لوگوں پر تو افسوس نہیں ہاں آپ صحابیوں رضی اللہ عنہم پر افسوس ہے کہ آپ بھی قرآن کے الٹ کہتے ہیں اس وقت مجھے بھی غصہ آگیا تھا۔ اس پر ان کے ساتھیوں نے مجھے ڈانٹا لیکن سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بہت ہی حلیم الطبع تھے انہوں نے سب کو روک دیا اور مجھے سمجھایا کہ ”قرآن میں جن کا جہنم سے نہ نکلنے کا ذکر ہے وہ کفار ہیں۔ تم نے قرآن نہیں پڑھا؟“ میں نے کہا ہاں مجھے سارا قرآن یاد ہے؟ کہا ”پھر کیا یہ آیت قرآن میں نہیں ہے؟ «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الاسراء:79] ، اس میں مقام محمود کا ذکر ہے یہی مقام شفاعت ہے اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو جہنم میں ان کی خطاؤں کی وجہ سے ڈالے گا اور جب تک چاہے انہیں جہنم میں ہی رکھے گا پھر جب چاہے گا انہیں اس سے آزاد کر دے گا۔“ یزید رحمة الله فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے میرا خیال ٹھیک ہوگیا۔ ۱؎ [ضعیف] ۔
طلق بن حبیب رحمة الله کہتے ہیں میں بھی منکر شفاعت تھا یہاں تک کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ملا اور اپنے دعوے کے ثبوت میں جن جن آیتوں میں جہنم کے ہمیشہ رہنے والوں کا ذکر ہے سب پڑھ ڈالیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے سن کر فرمایا! ”اے طلق کیا تم اپنے تئیں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں مجھ سے افضل جانتے ہو؟ سنو جتنی آیتیں تم نے پڑھی ہیں وہ سب اہل جہنم کے بارے میں ہیں یعنی مشرکوں کیلئے۔ لیکن وہ لوگ نکلیں گے یہ وہ لوگ ہیں جو مشرک نہ تھے لیکن گہنگار تھے گناہوں کے بدلے سزا بھگت لی پھر جہنم سے نکال دیئے گئے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ سب فرما کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ”یہ دونوں بہرے ہو جائیں اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہو کہ { جہنم میں داخل ہونے بعد بھی لوگ اس میں سے نکالے جائیں گے اور وہ جہنم سے آزاد کر دیئے جائیں گے }، قرآن کی یہ آیتیں جس طرح تم پڑھتے ہو ہم بھی پڑھتے ہی ہیں۔“ ۱؎ [الادب المفرد:818:ضعیف]
37۔ 1 یہ آیت کافروں کے حق میں ہے، کیونکہ مومنوں کو بالاخر سزا کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔
(آیت 37) {يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا:} یہ آیت کفار کے بارے میں ہے، جیسا کہ اوپر کی آیت میں ان کا صاف ذکر کیا گیا ہے، رہے گناہ گار مسلمان تو صحیح احادیث میں ہے کہ انھیں گناہوں کی سزا بھگت لینے کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ سورۂ حج کی آیت (۲۲) اس کی ہم معنی ہے۔
اور چور، خواہ عورت ہو یا مرد، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، یہ اُن کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا اللہ کی قدرت سب پر غالب ہے اور وہ دانا و بینا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹ دیا کرو۔ یہ بدلہ ہے اس کا جو انہوں نے کیا۔ عذاب، اللہ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ قوت وحکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جو مرد یا عورت چور ہو تو ان کا ہاتھ کاٹو ان کے کیے کا بدلہ اللہ کی طرف سے سزا، اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور چور مرد ہو یا چور عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔ ان کے کرتوتوں کے عوض میں اللہ کی طرف سے بطور عبرتناک سزا کے اللہ زبردست ہے، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو چوری کرنے والا اور جو چوری کرنے والی ہے سو دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، اس کی جزا کے لیے جو ان دونوں نے کمایا، اللہ کی طرف سے عبرت کے لیے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احکام جرم و سزا ٭٭
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْمَانَهُمَا» ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے گو عمل اسی پر ہے لیکن وہ عمل اس قرأت کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسرے دلائل کی بناء پر ہے۔ چور کے ہاتھ کاٹنے کا طریقہ اسلام سے پہلے بھی تھا اسلام نے اسے تفصیل وار اور منظم کر دیا اسی طرح قسامت دیت فرائض کے مسائل بھی پہلے تھے لیکن غیر منظم اور ادھورے۔ اسلام نے انہیں ٹھیک ٹھاک کر دیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے دویک نامی ایک خزاعی شخص کے ہاتھ چوری کے الزام میں قریش نے کاٹے تھے اس نے کعبے کا غلام چرایا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چوروں نے اس کے پاس رکھ دیا تھا۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ چوری کی چیز کی کوئی حد نہیں تھوڑی ہو یا بہت محفوظ جگہ سے لی ہو یا غیر محفوظ جگہ سے بہر صورت ہاتھ کاٹا جائے گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ آیت عام ہے تو ممکن ہے اس قول کا یہی مطلب ہو اور دوسرے مطالب بھی ممکن ہیں۔ ایک دلیل ان حضرات کی یہ حدیث بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے کہ انڈا چراتا ہے اور ہاتھ کٹواتا ہے رسی چرائی ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے } } ۱؎ [صحیح بخاری:6783] جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ چوری کے مال کی حد مقرر ہے۔ گو اس کے تقرر میں اختلاف ہے۔ امام مالک کہتے ہیں تین درہم سکے والے خالص یا ان کی قیمت یا زیادہ کی کوئی چیز۔
چنانچہ صحیح بخاری مسلم میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹنا مروی ہے اور اس کی قیمت اتنی ہی تھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6795] سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اترنج کے چور کے ہاتھ کاٹے تھے جبکہ وہ تین درہم کی قیمت کا تھا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا فعل گویا صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع سکوتی ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پھل کے چور کے ہاتھ بھی کاٹے جائیں گے۔ حنفیہ اسے نہیں مانتے اور ان کے نزدیک چوری کے مال کا دس درہم کی قیمت کا ہونا ضروری ہے۔ اس میں شافعیہ کا اختلاف ہے پاؤ یا دینار کے تقرر میں۔ امام شافعی رحمة الله کا فرمان ہے کہ ”پاؤ دینار کی قیمت کی چیز ہو یا اس سے زیادہ۔“ ان کی دلیل بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { چور کا ہاتھ پاؤ دینار میں پھر جو اس سے اوپر ہو اس میں کاٹنا چاہیئے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6789] مسلم کی ایک حدیث میں ہے { چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر پاؤ دینار پھر اس سے اوپر میں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1684] پس یہ حدیث اس مسئلے کا صاف فیصلہ کر دیتی ہے اور جس حدیث میں تین درہم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہاتھ کاٹنے کو فرمانا مروی ہے وہ اس کے خلاف نہیں اس لیے کہ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا۔ پس اصل چوتھائی دینار ہے نہ کہ تین درہم۔ عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم بھی یہی فرماتے ہیں۔ عمر بن عبدالعزیز لیث بن سعد اوزاعی شافعی اسحاق بن راہویہ ابوثور داؤد بن علی ظاہری رحمة الله علیہم کا بھی یہی قول ہے۔ ایک روایت میں امام اسحٰق بن راہویہ اور امام احمد بن حنبل سے مروی ہے کہ خواہ ربع دینار ہو خواہ تین درہم دونوں ہی ہاتھ کاٹنے کا نصاب ہے۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹ دو اس سے کم میں نہیں }۔ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا تو چوتھائی دینار تین درہم کا ہوا۔ ۱؎ [مسند احمد:80/6:صحیح] نسائی میں ہے { چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم میں نہ کاٹا جائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا ڈھال کی قیمت کیا ہے؟ فرمایا پاؤ دینار }۔ ۱؎ [سنن نسائی:4939،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیره] پس ان تمام احادیث سے صاف صاف ثابت ہو رہا ہے کہ دس درہم شرط لگانی کھلی غلطی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
امام ابوحنیفہ رحمة الله اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ جس ڈھال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چور کا ہاتھ کاٹا گیا اس کی قیمت نو درہم تھی چنانچہ ابوبکر بن شیبہ میں یہ موجود ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:944،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ مخالفت کرتے رہے ہیں اور حدود کے بارے میں اختیار پر عمل کرنا چاہیئے اور احتیاط زیادتی میں ہے اس لیے دس درہم نصاب ہم نے مقرر کیا ہے۔ بعض سلف کہتے ہیں کہ دس درہم یا ایک دینار حد ہے سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم، ابراہیم نخعی ابو جعفر باقر رحمة الله علیہم سے یہی مروی ہے۔
سعید بن جیر رحمة الله فرماتے ہیں پانچوں نہ کاٹی جائیں مگر پانچ دینار پچاس درہم کی قیمت کے برابر کے مال کی چوری میں۔ ظاہریہ کا مذہب ہے کہ ہر تھوڑی بہت چیز کی چوری پر ہاتھ کٹے گا انہیں جمہور نے یہ جواب دیا ہے کہ اولاً تو یہ اطلاق منسوخ ہے لیکن یہ جواب ٹھیک نہیں اس لیے تاریخ نسخ کا کوئی یقینی عمل نہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ انڈے سے مراد لوہے کا انڈا ہے اور رسی سے مراد کشتیوں کے قیمتی رسے ہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1687] تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ فرمان باعتبار نتیجے کے ہے یعنی ان چھوٹی چھوٹی معمولی سی چیزوں سے چوری شروع کرتا ہے آخر قیمتی چیزیں چرانے لگتا ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بطور افسوس کے اوپر چور کو نادم کرنے کے فرما رہے ہیں کہ { کیسا رذیل اور بے خوف انسان ہے کہ معمولی چیز کیلئے ہاتھ جیسی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے }۔ مذکور ہے کہ ابو العلام معری جب بغداد میں آیا تو اس نے اس بارے میں بڑے اعتراض شروع کئے اور اس کے جی میں یہ خیال بیٹھ گیا کہ میرے اس اعتراض کا جواب کسی سے نہیں ہو سکتا تو اس نے ایک شعر کہا کہ اگر ہاتھ کاٹ ڈالا جائے تو دیت میں پانچ سو دلوائیں اور پھر اسی ہاتھ کو پاؤ دینار کی چوری پر کٹوا دیں یہ ایسا تناقض ہے کہ ہماری سمجھ میں تو آتا ہی نہیں خاموش ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مولا ہمیں جہنم سے بچائے۔ لیکن جب اس کی یہ بکواس مشہور ہوئی تو علماء کرام نے اسے جواب دینا چاہا تو یہ بھاگ گیا پھر جواب بھی مشہور کر دیئے گئے۔
قاضی عبدالوہاب نے جواب دیا تھا کہ ”جب تک ہاتھ امین تھا تب تک ثمین یعنی قیمتی تھا اور جب یہ خائن ہوگیا اس نے چوری کرلی تو اس کی قیمت گھٹ گئی۔“ بعض بزرگوں نے اسے قدرے تفصیل سے جواب دیا تھا کہ ”اس سے شریعت کی کامل حکمت ظاہر ہوتی ہے اور دنیا کا امن و امان قائم ہوتا ہے، جو کسی کا ہاتھ بے وجہ کاٹ دینے کا حکم دیا تاکہ چوری کا دروازہ اس خوف سے بند ہو جائے۔“ پس یہ تو عین حکمت ہے اگر چوری میں بھی اتنی رقم کی قید لگائی جاتی تو چوریوں کا انسداد نہ ہوتا۔ یہ بدلہ ہے ان کے کرتوت کا۔ مناسب مقام یہی ہے کہ جس عضو سے اس نے دوسرے کو نقصان پہنچایا ہے، اسی عضو پر سزا ہو۔ تاکہ انہیں کافی عبرت حاصل ہو اور دوسروں کو بھی تنبیہہ ہو جائے۔ اللہ اپنے انتقام میں غالب ہے اور اپنے احکام میں حکیم ہے۔ جو شخص اپنے گناہ کے بعد توبہ کرلے اور اللہ کی طرف جھک جائے، اللہ اسے اپنا گناہ معاف فرما دیا کرتا ہے۔ ہاں جو مال چوری میں کسی کا لے لیا ہے چونکہ وہ اس شخص کا حق ہے، لہٰذا صرف توبہ کرنے سے وہ معاف نہیں ہوتا تاوقتیکہ وہ مال جس کا ہے اسے نہ پہنچائے یا اس کے بدلے پوری پوری قیمت ادا کرے۔ جمہور ائمہ کا یہی قول ہے، صرف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب چوری پر ہاتھ کٹ گیا اور مال تلف ہو چکا ہے تو اس کا بدلہ دینا اس پر ضروری نہیں۔“ دارقطنی وغیرہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { ایک چور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا، جس نے چادر چرائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: { میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہوگی }، انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے چوری کی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو }۔ جب ہاتھ کٹ چکا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { توبہ کرو }، انہوں نے توبہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی }۔ ۱؎ [دارقطنی:102/3:ضعیف] رضی اللہ عنہ۔
ابن ماجہ میں ہے کہ { عمر بن سمرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہتے ہیں کہ مجھ سے چوری ہو گئی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پاک کیجئے، فلاں قبیلے والوں کا اونٹ میں نے چرا لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبیلے والوں کے پاس آدمی بھیج کر دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا اونٹ تو ضرور گم ہوگیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا وہ ہاتھ کٹنے پر کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے میرے جسم سے الگ کر دیا، تو نے میرے سارے جسم کو جہنم میں لے جانا چاہا تھا }۔ رضی اللہ عنہ۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن جریر میں ہے کہ { ایک عورت نے کچھ زیور چرا لیے، ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسے پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا داہنا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، جب کٹ چکا تو اس عورت نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میری توبہ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم تو ایسی پاک صاف ہوگئیں کہ گویا آج ہی پیدا ہوئی }۔ اس پر آیت «فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [5-المائدہ:39] نازل ہوئی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11922:ضعیف] مسند میں اتنا اور بھی ہے کہ { اس وقت اس عورت والوں نے کہا ہم اس کا فدیہ دینے کو تیار ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہ فرمایا اور ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا }۔ ۱؎ [مسند احمد:2/177:ضعیف] یہ عورت مخزوم قبیلے کی تھی اور اس کا یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ چونکہ یہ بڑی گھرانے کی عورت تھی، لوگوں میں بڑی تشویش پھیلی اور ارادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کچھ کہیں سنیں، یہ واقعہ غزوہ فتح میں ہوا تھا، بالاخر یہ طے ہوا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت پیارے ہیں، وہ ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کریں۔
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے جب اس کی سفارش کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ناگوار گزرا اور غصے سے فرمایا { اسامہ تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہا ہے؟ } اب تو اسامہ بہت گھبرائے اور کہنے لگے مجھ سے بڑی خطا ہوئی، میرے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم استفغار کیجئے۔ { شام کے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کی پوری حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ { تم سے پہلے کے لوگ اسی خصلت پر تباہ و برباد ہو گئے کہ ان میں سے جب کوئی شریف شخص بڑا آدمی چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی معمولی آدمی ہوتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی چوری کریں تو میں ان کے بھی ہاتھ کاٹ دوں }۔ پھر حکم دیا اور اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر اس بیوی صاحبہ نے توبہ کی اور پوری اور پختہ توبہ کی اور نکاح کرلیا، پھر وہ میرے پاس اپنے کسی کام کاج کیلئے آتی تھیں اور میں اس کی حاجت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر دیا کرتی تھی }۔ (رضی اللہ عنہما) ۱؎ [صحیح بخاری:3732] مسلم میں ہے { ایک عورت لوگوں سے اسباب ادھار لیتی تھی، پھر انکار کر جایا کرتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا } ۱؎ [صحیح مسلم:1688] اور روایت میں ہے یہ زیور ادھار لیتی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو ہوا تھا۔ ۱؎ [سنن نسائی:4893، قال الشيخ الألباني:صحیح] کتاب الاحکام میں ایسی بہت سی حدیثیں وارد ہیں جو چوری سے تعلق رکھتی ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ جمیع مملوک کا مالک ساری کائنات کا حقیقی بادشاہ، سچا حاکم، اللہ ہی ہے۔ جس کے کسی حکم کو کوئی روک نہیں سکتا۔ جس کے کسی ارادے کو کوئی بدل نہیں سکتا، جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے۔ ہر ہر چیز پر وہ قادر ہے اس کی قدرت کامل اور اس کا قبضہ سچا ہے۔
38۔ 1 بعض فقہا ظاہری کے نزدیک سرقہ کا یہ حکم عام ہے چوری تھوڑی سی چیز کی ہو یا زیادہ کی۔ اسی طرح محفوظ جگہ میں رکھی ہو یا غیر محفوظ۔ ہر صورت میں چوری کی سزا دی جائے گی۔ جب کہ دوسرے فقہا اس کے لئے حرز اور نصاب کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ پھر نصاب کے تعین میں ان کے مابین اختلاف ہے۔ محدثین کے نزدیک نصاب رابع دینار یا تین درہم (یا ان کے مساوی قیمت کی چیز) ہے اس سے کم چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اسی طرح ہاتھ رسغ (پہنچوں) سے کاٹے جائیں گے۔ کہنی یا کندھے سے نہیں۔ جیسا کہ بعض کا خیال ہے (تفصیل کے لئے دیکھئے کتب حدیث و فقہ اور تفاسیر کا مطالعہ کیا جائے)۔
(آیت 38) ➊ {وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَيْدِيَهُمَا ……:} اوپر کی آیت میں محاربین (جو لوٹ مار کرتے اور فساد پھیلاتے ہیں) کی سزا بیان ہوئی تھی، اب اس آیت میں چوری کی حد (قانونی سزا) بیان فرمائی کہ مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔ حدیث میں اس کی تفصیل ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر دینار کے ایک چوتھائی یا زیادہ میں۔“ [ مسلم، الحدود، باب حد السرقۃ و نصابھا: ۲؍۱۶۸۴ ] ➋ چور کو حاکم کے پاس لے جانے سے پہلے معاف کیا جا سکتا ہے، بعد میں نہیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا جس نے ایک چادر چرائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ چادر کے مالک صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اﷲ کے رسول! میرا ارادہ یہ نہیں تھا (کہ اس کا ہاتھ کٹوا دوں) میری چادر اس پر صدقہ ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تو نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں (یہ صدقہ) نہ کیا؟“ [ ابن ماجہ، الحدود، باب من سرق من الحرز: ۲۵۹۵ قال الألبانی صحیح ] بعض لوگوں نے چوری کی حد باطل کرنے کے لیے بہت سے حیلے ایجاد کیے ہیں، ان میں سے دو حیلے ایسے ہیں جن کی موجودگی میں کسی چور کا ہاتھ کاٹا ہی نہیں جا سکتا۔ ایک یہ کہ عدالت میں جانے کے بعد مال مسروقہ کا مالک چور کو چرائی ہوئی چیز ہبہ کردے، یا اس کے ہاتھ بیچ دے تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا حالانکہ یہ صحیح حدیث کے صریح خلاف ہے۔ دوسرا یہ کہ چور پر شہادتوں کے ساتھ چوری کا جرم ثابت ہو جائے تو چور دعویٰ کر دے کہ مال مسروقہ میرا مال ہے، تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، خواہ وہ اپنی ملکیت کی کوئی دلیل پیش نہ کرے۔ یہ حیلہ لکھنے والے نے اس پر لکھا ہے کہ مخالف کی طرف سے اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ اس طرح تو کوئی چور بھی جھوٹا دعویٰ کرنے سے عاجز نہیں، ہر چور ہی مالک ہونے کا دعویٰ کر دے گا اور چوری کی حد سرے سے ختم ہو جائے گی۔ اس کا جواب اس نے یہ دیا ہے کہ یہ بات صرف علماء کو معلوم ہے، چوروں کو معلوم نہیں، اس لیے حد ختم ہونے کی کوئی فکر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے حیلوں کی وجہ سے بھی مسلم حکومتوں میں حدود اﷲ ختم ہوئیں جس کے نتیجے میں ظلم و ستم حد سے بڑھے، پھر اغیار مسلمانوں پر مسلط ہو گئے، اس کا علاج دوبارہ حدود اﷲ کا صحیح نفاذ ہے۔ ➌ {جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ:} یہ اس کے گناہ کی سزا بھی ہے اور اﷲ تعالیٰ کی طرف سے عبرت بھی کہ وہ تمام عمر لوگوں کے لیے چوری سے رکنے کا باعث اور یاددہانی بنا رہے گا کہ چور کے متعلق اﷲ تعالیٰ کا یہ حکم ہے۔ اگر اسے قتل بھی کر دیا جاتا تو یہ عبرت حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔
پھر جو ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کر لے تو اللہ کی نظر عنایت پھر اس پر مائل ہو جائے گی، اللہ بہت درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو شخص اپنے گناه کے بعد توبہ کرلے اور اصلاح کرلے تو اللہ تعالیٰ رحمت کے ساتھ اس کی طرف لوٹتا ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ معاف فرمانے واﻻ مہربانی کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو جو اپنے ظلم کے بعد توبہ کرے اور سنور جائے تو اللہ اپنی مہر سے اس پر رجوع فرمائے گا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر جو شخص توبہ کرلے اپنے ظلم سے اور (اپنی) اصلاح کر لے، تو یقینا اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جو اپنے ظلم کے بعد توبہ کر لے اور اصلاح کرے تو یقینا اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا۔ بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احکام جرم و سزا ٭٭
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْمَانَهُمَا» ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے گو عمل اسی پر ہے لیکن وہ عمل اس قرأت کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسرے دلائل کی بناء پر ہے۔ چور کے ہاتھ کاٹنے کا طریقہ اسلام سے پہلے بھی تھا اسلام نے اسے تفصیل وار اور منظم کر دیا اسی طرح قسامت دیت فرائض کے مسائل بھی پہلے تھے لیکن غیر منظم اور ادھورے۔ اسلام نے انہیں ٹھیک ٹھاک کر دیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے دویک نامی ایک خزاعی شخص کے ہاتھ چوری کے الزام میں قریش نے کاٹے تھے اس نے کعبے کا غلام چرایا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چوروں نے اس کے پاس رکھ دیا تھا۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ چوری کی چیز کی کوئی حد نہیں تھوڑی ہو یا بہت محفوظ جگہ سے لی ہو یا غیر محفوظ جگہ سے بہر صورت ہاتھ کاٹا جائے گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ آیت عام ہے تو ممکن ہے اس قول کا یہی مطلب ہو اور دوسرے مطالب بھی ممکن ہیں۔ ایک دلیل ان حضرات کی یہ حدیث بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے کہ انڈا چراتا ہے اور ہاتھ کٹواتا ہے رسی چرائی ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے } } ۱؎ [صحیح بخاری:6783] جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ چوری کے مال کی حد مقرر ہے۔ گو اس کے تقرر میں اختلاف ہے۔ امام مالک کہتے ہیں تین درہم سکے والے خالص یا ان کی قیمت یا زیادہ کی کوئی چیز۔
چنانچہ صحیح بخاری مسلم میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹنا مروی ہے اور اس کی قیمت اتنی ہی تھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6795] سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اترنج کے چور کے ہاتھ کاٹے تھے جبکہ وہ تین درہم کی قیمت کا تھا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا فعل گویا صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع سکوتی ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پھل کے چور کے ہاتھ بھی کاٹے جائیں گے۔ حنفیہ اسے نہیں مانتے اور ان کے نزدیک چوری کے مال کا دس درہم کی قیمت کا ہونا ضروری ہے۔ اس میں شافعیہ کا اختلاف ہے پاؤ یا دینار کے تقرر میں۔ امام شافعی رحمة الله کا فرمان ہے کہ ”پاؤ دینار کی قیمت کی چیز ہو یا اس سے زیادہ۔“ ان کی دلیل بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { چور کا ہاتھ پاؤ دینار میں پھر جو اس سے اوپر ہو اس میں کاٹنا چاہیئے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6789] مسلم کی ایک حدیث میں ہے { چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر پاؤ دینار پھر اس سے اوپر میں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1684] پس یہ حدیث اس مسئلے کا صاف فیصلہ کر دیتی ہے اور جس حدیث میں تین درہم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہاتھ کاٹنے کو فرمانا مروی ہے وہ اس کے خلاف نہیں اس لیے کہ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا۔ پس اصل چوتھائی دینار ہے نہ کہ تین درہم۔ عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم بھی یہی فرماتے ہیں۔ عمر بن عبدالعزیز لیث بن سعد اوزاعی شافعی اسحاق بن راہویہ ابوثور داؤد بن علی ظاہری رحمة الله علیہم کا بھی یہی قول ہے۔ ایک روایت میں امام اسحٰق بن راہویہ اور امام احمد بن حنبل سے مروی ہے کہ خواہ ربع دینار ہو خواہ تین درہم دونوں ہی ہاتھ کاٹنے کا نصاب ہے۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹ دو اس سے کم میں نہیں }۔ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا تو چوتھائی دینار تین درہم کا ہوا۔ ۱؎ [مسند احمد:80/6:صحیح] نسائی میں ہے { چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم میں نہ کاٹا جائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا ڈھال کی قیمت کیا ہے؟ فرمایا پاؤ دینار }۔ ۱؎ [سنن نسائی:4939،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیره] پس ان تمام احادیث سے صاف صاف ثابت ہو رہا ہے کہ دس درہم شرط لگانی کھلی غلطی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
امام ابوحنیفہ رحمة الله اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ جس ڈھال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چور کا ہاتھ کاٹا گیا اس کی قیمت نو درہم تھی چنانچہ ابوبکر بن شیبہ میں یہ موجود ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:944،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ مخالفت کرتے رہے ہیں اور حدود کے بارے میں اختیار پر عمل کرنا چاہیئے اور احتیاط زیادتی میں ہے اس لیے دس درہم نصاب ہم نے مقرر کیا ہے۔ بعض سلف کہتے ہیں کہ دس درہم یا ایک دینار حد ہے سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم، ابراہیم نخعی ابو جعفر باقر رحمة الله علیہم سے یہی مروی ہے۔
سعید بن جیر رحمة الله فرماتے ہیں پانچوں نہ کاٹی جائیں مگر پانچ دینار پچاس درہم کی قیمت کے برابر کے مال کی چوری میں۔ ظاہریہ کا مذہب ہے کہ ہر تھوڑی بہت چیز کی چوری پر ہاتھ کٹے گا انہیں جمہور نے یہ جواب دیا ہے کہ اولاً تو یہ اطلاق منسوخ ہے لیکن یہ جواب ٹھیک نہیں اس لیے تاریخ نسخ کا کوئی یقینی عمل نہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ انڈے سے مراد لوہے کا انڈا ہے اور رسی سے مراد کشتیوں کے قیمتی رسے ہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1687] تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ فرمان باعتبار نتیجے کے ہے یعنی ان چھوٹی چھوٹی معمولی سی چیزوں سے چوری شروع کرتا ہے آخر قیمتی چیزیں چرانے لگتا ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بطور افسوس کے اوپر چور کو نادم کرنے کے فرما رہے ہیں کہ { کیسا رذیل اور بے خوف انسان ہے کہ معمولی چیز کیلئے ہاتھ جیسی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے }۔ مذکور ہے کہ ابو العلام معری جب بغداد میں آیا تو اس نے اس بارے میں بڑے اعتراض شروع کئے اور اس کے جی میں یہ خیال بیٹھ گیا کہ میرے اس اعتراض کا جواب کسی سے نہیں ہو سکتا تو اس نے ایک شعر کہا کہ اگر ہاتھ کاٹ ڈالا جائے تو دیت میں پانچ سو دلوائیں اور پھر اسی ہاتھ کو پاؤ دینار کی چوری پر کٹوا دیں یہ ایسا تناقض ہے کہ ہماری سمجھ میں تو آتا ہی نہیں خاموش ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مولا ہمیں جہنم سے بچائے۔ لیکن جب اس کی یہ بکواس مشہور ہوئی تو علماء کرام نے اسے جواب دینا چاہا تو یہ بھاگ گیا پھر جواب بھی مشہور کر دیئے گئے۔
قاضی عبدالوہاب نے جواب دیا تھا کہ ”جب تک ہاتھ امین تھا تب تک ثمین یعنی قیمتی تھا اور جب یہ خائن ہوگیا اس نے چوری کرلی تو اس کی قیمت گھٹ گئی۔“ بعض بزرگوں نے اسے قدرے تفصیل سے جواب دیا تھا کہ ”اس سے شریعت کی کامل حکمت ظاہر ہوتی ہے اور دنیا کا امن و امان قائم ہوتا ہے، جو کسی کا ہاتھ بے وجہ کاٹ دینے کا حکم دیا تاکہ چوری کا دروازہ اس خوف سے بند ہو جائے۔“ پس یہ تو عین حکمت ہے اگر چوری میں بھی اتنی رقم کی قید لگائی جاتی تو چوریوں کا انسداد نہ ہوتا۔ یہ بدلہ ہے ان کے کرتوت کا۔ مناسب مقام یہی ہے کہ جس عضو سے اس نے دوسرے کو نقصان پہنچایا ہے، اسی عضو پر سزا ہو۔ تاکہ انہیں کافی عبرت حاصل ہو اور دوسروں کو بھی تنبیہہ ہو جائے۔ اللہ اپنے انتقام میں غالب ہے اور اپنے احکام میں حکیم ہے۔ جو شخص اپنے گناہ کے بعد توبہ کرلے اور اللہ کی طرف جھک جائے، اللہ اسے اپنا گناہ معاف فرما دیا کرتا ہے۔ ہاں جو مال چوری میں کسی کا لے لیا ہے چونکہ وہ اس شخص کا حق ہے، لہٰذا صرف توبہ کرنے سے وہ معاف نہیں ہوتا تاوقتیکہ وہ مال جس کا ہے اسے نہ پہنچائے یا اس کے بدلے پوری پوری قیمت ادا کرے۔ جمہور ائمہ کا یہی قول ہے، صرف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب چوری پر ہاتھ کٹ گیا اور مال تلف ہو چکا ہے تو اس کا بدلہ دینا اس پر ضروری نہیں۔“ دارقطنی وغیرہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { ایک چور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا، جس نے چادر چرائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: { میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہوگی }، انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے چوری کی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو }۔ جب ہاتھ کٹ چکا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { توبہ کرو }، انہوں نے توبہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی }۔ ۱؎ [دارقطنی:102/3:ضعیف] رضی اللہ عنہ۔
ابن ماجہ میں ہے کہ { عمر بن سمرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہتے ہیں کہ مجھ سے چوری ہو گئی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پاک کیجئے، فلاں قبیلے والوں کا اونٹ میں نے چرا لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبیلے والوں کے پاس آدمی بھیج کر دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا اونٹ تو ضرور گم ہوگیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا وہ ہاتھ کٹنے پر کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے میرے جسم سے الگ کر دیا، تو نے میرے سارے جسم کو جہنم میں لے جانا چاہا تھا }۔ رضی اللہ عنہ۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن جریر میں ہے کہ { ایک عورت نے کچھ زیور چرا لیے، ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسے پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا داہنا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، جب کٹ چکا تو اس عورت نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میری توبہ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم تو ایسی پاک صاف ہوگئیں کہ گویا آج ہی پیدا ہوئی }۔ اس پر آیت «فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [5-المائدہ:39] نازل ہوئی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11922:ضعیف] مسند میں اتنا اور بھی ہے کہ { اس وقت اس عورت والوں نے کہا ہم اس کا فدیہ دینے کو تیار ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہ فرمایا اور ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا }۔ ۱؎ [مسند احمد:2/177:ضعیف] یہ عورت مخزوم قبیلے کی تھی اور اس کا یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ چونکہ یہ بڑی گھرانے کی عورت تھی، لوگوں میں بڑی تشویش پھیلی اور ارادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کچھ کہیں سنیں، یہ واقعہ غزوہ فتح میں ہوا تھا، بالاخر یہ طے ہوا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت پیارے ہیں، وہ ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کریں۔
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے جب اس کی سفارش کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ناگوار گزرا اور غصے سے فرمایا { اسامہ تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہا ہے؟ } اب تو اسامہ بہت گھبرائے اور کہنے لگے مجھ سے بڑی خطا ہوئی، میرے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم استفغار کیجئے۔ { شام کے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کی پوری حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ { تم سے پہلے کے لوگ اسی خصلت پر تباہ و برباد ہو گئے کہ ان میں سے جب کوئی شریف شخص بڑا آدمی چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی معمولی آدمی ہوتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی چوری کریں تو میں ان کے بھی ہاتھ کاٹ دوں }۔ پھر حکم دیا اور اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر اس بیوی صاحبہ نے توبہ کی اور پوری اور پختہ توبہ کی اور نکاح کرلیا، پھر وہ میرے پاس اپنے کسی کام کاج کیلئے آتی تھیں اور میں اس کی حاجت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر دیا کرتی تھی }۔ (رضی اللہ عنہما) ۱؎ [صحیح بخاری:3732] مسلم میں ہے { ایک عورت لوگوں سے اسباب ادھار لیتی تھی، پھر انکار کر جایا کرتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا } ۱؎ [صحیح مسلم:1688] اور روایت میں ہے یہ زیور ادھار لیتی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو ہوا تھا۔ ۱؎ [سنن نسائی:4893، قال الشيخ الألباني:صحیح] کتاب الاحکام میں ایسی بہت سی حدیثیں وارد ہیں جو چوری سے تعلق رکھتی ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ جمیع مملوک کا مالک ساری کائنات کا حقیقی بادشاہ، سچا حاکم، اللہ ہی ہے۔ جس کے کسی حکم کو کوئی روک نہیں سکتا۔ جس کے کسی ارادے کو کوئی بدل نہیں سکتا، جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے۔ ہر ہر چیز پر وہ قادر ہے اس کی قدرت کامل اور اس کا قبضہ سچا ہے۔
39۔ 1 اس توبہ سے مراد عند اللہ قبول توبہ ہے۔ یہ نہیں کہ توبہ چوری یا کسی اور قابل حد جرم کی سزا معاف ہوجائے گی حدود، توبہ سے معاف نہیں ہوں گی۔
(آیت 39) {فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ ……:} یہاں ظلم سے مراد چوری ہے، یعنی جس نے چوری کے بعد توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لی اﷲ تعالیٰ اس کا گناہ معاف فرما دے گا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ توبہ کر لینے سے چوری کی حد اس سے ساقط ہو جائے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چور کے متعلق فرمایا: ”اسے لے جاؤ، اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر اسے داغ دو، پھر میرے پاس لاؤ۔“ الغرض! اس کا ہاتھ کاٹا گیا، پھر وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے اس سے فرمایا: ”اﷲ سے توبہ کرو۔“ اس نے کہا: ”میں اﷲ سے توبہ کرتا ہوں۔“ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اﷲ تیری توبہ قبول کرے۔“ [ مستدرک حاکم: 381/4، ح: ۸۱۵۰ و صححہ و قال صاحب نیل الأوطار سندہ صحیح ] یہ تو بالکل صحیح ہے کہ حدود صرف گناہ سے روکنے کے لیے نہیں بلکہ اس گناہ کا کفارہ بھی ہیں، ان سے وہ گناہ معاف ہو جاتا ہے مگر ساتھ توبہ بھی ضروری ہے، تاکہ آئندہ وہ یہ حرکت نہ کرے۔ ہاں کوئی شخص چوری کرے اور اس کا کسی کو پتا نہ چلے، یا چوری کے مال کا مالک اسے عدالت میں نہ لے جائے تو اس کے لیے توبہ و استغفار ہی کافی ہے۔
کیا تم جانتے نہیں ہو کہ اللہ زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک ہے؟ جسے چاہے سزا دے اور جسے چاہے معاف کر دے، وہ ہر چیز کا اختیار رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے زمین و آسمان کی بادشاہت ہے؟ جسے چاہے سزا دے اور جسے چاہے معاف کردے، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، سزا دیتا ہے جسے چاہے اور بخشتا ہے جسے چاہے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ کے لئے آسمانوں اور زمین کی حکومت ہے۔ جسے چاہتا ہے، سزا دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے نہیں جانا کہ اللہ ہی ہے جس کے پاس آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے، عذاب دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور بخش دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احکام جرم و سزا ٭٭
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْمَانَهُمَا» ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے گو عمل اسی پر ہے لیکن وہ عمل اس قرأت کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسرے دلائل کی بناء پر ہے۔ چور کے ہاتھ کاٹنے کا طریقہ اسلام سے پہلے بھی تھا اسلام نے اسے تفصیل وار اور منظم کر دیا اسی طرح قسامت دیت فرائض کے مسائل بھی پہلے تھے لیکن غیر منظم اور ادھورے۔ اسلام نے انہیں ٹھیک ٹھاک کر دیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے دویک نامی ایک خزاعی شخص کے ہاتھ چوری کے الزام میں قریش نے کاٹے تھے اس نے کعبے کا غلام چرایا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چوروں نے اس کے پاس رکھ دیا تھا۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ چوری کی چیز کی کوئی حد نہیں تھوڑی ہو یا بہت محفوظ جگہ سے لی ہو یا غیر محفوظ جگہ سے بہر صورت ہاتھ کاٹا جائے گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ آیت عام ہے تو ممکن ہے اس قول کا یہی مطلب ہو اور دوسرے مطالب بھی ممکن ہیں۔ ایک دلیل ان حضرات کی یہ حدیث بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے کہ انڈا چراتا ہے اور ہاتھ کٹواتا ہے رسی چرائی ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے } } ۱؎ [صحیح بخاری:6783] جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ چوری کے مال کی حد مقرر ہے۔ گو اس کے تقرر میں اختلاف ہے۔ امام مالک کہتے ہیں تین درہم سکے والے خالص یا ان کی قیمت یا زیادہ کی کوئی چیز۔
چنانچہ صحیح بخاری مسلم میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹنا مروی ہے اور اس کی قیمت اتنی ہی تھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6795] سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اترنج کے چور کے ہاتھ کاٹے تھے جبکہ وہ تین درہم کی قیمت کا تھا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا فعل گویا صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع سکوتی ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پھل کے چور کے ہاتھ بھی کاٹے جائیں گے۔ حنفیہ اسے نہیں مانتے اور ان کے نزدیک چوری کے مال کا دس درہم کی قیمت کا ہونا ضروری ہے۔ اس میں شافعیہ کا اختلاف ہے پاؤ یا دینار کے تقرر میں۔ امام شافعی رحمة الله کا فرمان ہے کہ ”پاؤ دینار کی قیمت کی چیز ہو یا اس سے زیادہ۔“ ان کی دلیل بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { چور کا ہاتھ پاؤ دینار میں پھر جو اس سے اوپر ہو اس میں کاٹنا چاہیئے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6789] مسلم کی ایک حدیث میں ہے { چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر پاؤ دینار پھر اس سے اوپر میں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1684] پس یہ حدیث اس مسئلے کا صاف فیصلہ کر دیتی ہے اور جس حدیث میں تین درہم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہاتھ کاٹنے کو فرمانا مروی ہے وہ اس کے خلاف نہیں اس لیے کہ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا۔ پس اصل چوتھائی دینار ہے نہ کہ تین درہم۔ عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم بھی یہی فرماتے ہیں۔ عمر بن عبدالعزیز لیث بن سعد اوزاعی شافعی اسحاق بن راہویہ ابوثور داؤد بن علی ظاہری رحمة الله علیہم کا بھی یہی قول ہے۔ ایک روایت میں امام اسحٰق بن راہویہ اور امام احمد بن حنبل سے مروی ہے کہ خواہ ربع دینار ہو خواہ تین درہم دونوں ہی ہاتھ کاٹنے کا نصاب ہے۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹ دو اس سے کم میں نہیں }۔ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا تو چوتھائی دینار تین درہم کا ہوا۔ ۱؎ [مسند احمد:80/6:صحیح] نسائی میں ہے { چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم میں نہ کاٹا جائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا ڈھال کی قیمت کیا ہے؟ فرمایا پاؤ دینار }۔ ۱؎ [سنن نسائی:4939،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیره] پس ان تمام احادیث سے صاف صاف ثابت ہو رہا ہے کہ دس درہم شرط لگانی کھلی غلطی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
امام ابوحنیفہ رحمة الله اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ جس ڈھال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چور کا ہاتھ کاٹا گیا اس کی قیمت نو درہم تھی چنانچہ ابوبکر بن شیبہ میں یہ موجود ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:944،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ مخالفت کرتے رہے ہیں اور حدود کے بارے میں اختیار پر عمل کرنا چاہیئے اور احتیاط زیادتی میں ہے اس لیے دس درہم نصاب ہم نے مقرر کیا ہے۔ بعض سلف کہتے ہیں کہ دس درہم یا ایک دینار حد ہے سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم، ابراہیم نخعی ابو جعفر باقر رحمة الله علیہم سے یہی مروی ہے۔
سعید بن جیر رحمة الله فرماتے ہیں پانچوں نہ کاٹی جائیں مگر پانچ دینار پچاس درہم کی قیمت کے برابر کے مال کی چوری میں۔ ظاہریہ کا مذہب ہے کہ ہر تھوڑی بہت چیز کی چوری پر ہاتھ کٹے گا انہیں جمہور نے یہ جواب دیا ہے کہ اولاً تو یہ اطلاق منسوخ ہے لیکن یہ جواب ٹھیک نہیں اس لیے تاریخ نسخ کا کوئی یقینی عمل نہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ انڈے سے مراد لوہے کا انڈا ہے اور رسی سے مراد کشتیوں کے قیمتی رسے ہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1687] تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ فرمان باعتبار نتیجے کے ہے یعنی ان چھوٹی چھوٹی معمولی سی چیزوں سے چوری شروع کرتا ہے آخر قیمتی چیزیں چرانے لگتا ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بطور افسوس کے اوپر چور کو نادم کرنے کے فرما رہے ہیں کہ { کیسا رذیل اور بے خوف انسان ہے کہ معمولی چیز کیلئے ہاتھ جیسی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے }۔ مذکور ہے کہ ابو العلام معری جب بغداد میں آیا تو اس نے اس بارے میں بڑے اعتراض شروع کئے اور اس کے جی میں یہ خیال بیٹھ گیا کہ میرے اس اعتراض کا جواب کسی سے نہیں ہو سکتا تو اس نے ایک شعر کہا کہ اگر ہاتھ کاٹ ڈالا جائے تو دیت میں پانچ سو دلوائیں اور پھر اسی ہاتھ کو پاؤ دینار کی چوری پر کٹوا دیں یہ ایسا تناقض ہے کہ ہماری سمجھ میں تو آتا ہی نہیں خاموش ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مولا ہمیں جہنم سے بچائے۔ لیکن جب اس کی یہ بکواس مشہور ہوئی تو علماء کرام نے اسے جواب دینا چاہا تو یہ بھاگ گیا پھر جواب بھی مشہور کر دیئے گئے۔
قاضی عبدالوہاب نے جواب دیا تھا کہ ”جب تک ہاتھ امین تھا تب تک ثمین یعنی قیمتی تھا اور جب یہ خائن ہوگیا اس نے چوری کرلی تو اس کی قیمت گھٹ گئی۔“ بعض بزرگوں نے اسے قدرے تفصیل سے جواب دیا تھا کہ ”اس سے شریعت کی کامل حکمت ظاہر ہوتی ہے اور دنیا کا امن و امان قائم ہوتا ہے، جو کسی کا ہاتھ بے وجہ کاٹ دینے کا حکم دیا تاکہ چوری کا دروازہ اس خوف سے بند ہو جائے۔“ پس یہ تو عین حکمت ہے اگر چوری میں بھی اتنی رقم کی قید لگائی جاتی تو چوریوں کا انسداد نہ ہوتا۔ یہ بدلہ ہے ان کے کرتوت کا۔ مناسب مقام یہی ہے کہ جس عضو سے اس نے دوسرے کو نقصان پہنچایا ہے، اسی عضو پر سزا ہو۔ تاکہ انہیں کافی عبرت حاصل ہو اور دوسروں کو بھی تنبیہہ ہو جائے۔ اللہ اپنے انتقام میں غالب ہے اور اپنے احکام میں حکیم ہے۔ جو شخص اپنے گناہ کے بعد توبہ کرلے اور اللہ کی طرف جھک جائے، اللہ اسے اپنا گناہ معاف فرما دیا کرتا ہے۔ ہاں جو مال چوری میں کسی کا لے لیا ہے چونکہ وہ اس شخص کا حق ہے، لہٰذا صرف توبہ کرنے سے وہ معاف نہیں ہوتا تاوقتیکہ وہ مال جس کا ہے اسے نہ پہنچائے یا اس کے بدلے پوری پوری قیمت ادا کرے۔ جمہور ائمہ کا یہی قول ہے، صرف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب چوری پر ہاتھ کٹ گیا اور مال تلف ہو چکا ہے تو اس کا بدلہ دینا اس پر ضروری نہیں۔“ دارقطنی وغیرہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { ایک چور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا، جس نے چادر چرائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: { میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہوگی }، انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے چوری کی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو }۔ جب ہاتھ کٹ چکا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { توبہ کرو }، انہوں نے توبہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی }۔ ۱؎ [دارقطنی:102/3:ضعیف] رضی اللہ عنہ۔
ابن ماجہ میں ہے کہ { عمر بن سمرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہتے ہیں کہ مجھ سے چوری ہو گئی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پاک کیجئے، فلاں قبیلے والوں کا اونٹ میں نے چرا لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبیلے والوں کے پاس آدمی بھیج کر دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا اونٹ تو ضرور گم ہوگیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا وہ ہاتھ کٹنے پر کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے میرے جسم سے الگ کر دیا، تو نے میرے سارے جسم کو جہنم میں لے جانا چاہا تھا }۔ رضی اللہ عنہ۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن جریر میں ہے کہ { ایک عورت نے کچھ زیور چرا لیے، ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسے پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا داہنا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، جب کٹ چکا تو اس عورت نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میری توبہ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم تو ایسی پاک صاف ہوگئیں کہ گویا آج ہی پیدا ہوئی }۔ اس پر آیت «فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [5-المائدہ:39] نازل ہوئی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11922:ضعیف] مسند میں اتنا اور بھی ہے کہ { اس وقت اس عورت والوں نے کہا ہم اس کا فدیہ دینے کو تیار ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہ فرمایا اور ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا }۔ ۱؎ [مسند احمد:2/177:ضعیف] یہ عورت مخزوم قبیلے کی تھی اور اس کا یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ چونکہ یہ بڑی گھرانے کی عورت تھی، لوگوں میں بڑی تشویش پھیلی اور ارادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کچھ کہیں سنیں، یہ واقعہ غزوہ فتح میں ہوا تھا، بالاخر یہ طے ہوا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت پیارے ہیں، وہ ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کریں۔
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے جب اس کی سفارش کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ناگوار گزرا اور غصے سے فرمایا { اسامہ تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہا ہے؟ } اب تو اسامہ بہت گھبرائے اور کہنے لگے مجھ سے بڑی خطا ہوئی، میرے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم استفغار کیجئے۔ { شام کے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کی پوری حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ { تم سے پہلے کے لوگ اسی خصلت پر تباہ و برباد ہو گئے کہ ان میں سے جب کوئی شریف شخص بڑا آدمی چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی معمولی آدمی ہوتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی چوری کریں تو میں ان کے بھی ہاتھ کاٹ دوں }۔ پھر حکم دیا اور اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر اس بیوی صاحبہ نے توبہ کی اور پوری اور پختہ توبہ کی اور نکاح کرلیا، پھر وہ میرے پاس اپنے کسی کام کاج کیلئے آتی تھیں اور میں اس کی حاجت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر دیا کرتی تھی }۔ (رضی اللہ عنہما) ۱؎ [صحیح بخاری:3732] مسلم میں ہے { ایک عورت لوگوں سے اسباب ادھار لیتی تھی، پھر انکار کر جایا کرتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا } ۱؎ [صحیح مسلم:1688] اور روایت میں ہے یہ زیور ادھار لیتی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو ہوا تھا۔ ۱؎ [سنن نسائی:4893، قال الشيخ الألباني:صحیح] کتاب الاحکام میں ایسی بہت سی حدیثیں وارد ہیں جو چوری سے تعلق رکھتی ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ جمیع مملوک کا مالک ساری کائنات کا حقیقی بادشاہ، سچا حاکم، اللہ ہی ہے۔ جس کے کسی حکم کو کوئی روک نہیں سکتا۔ جس کے کسی ارادے کو کوئی بدل نہیں سکتا، جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے۔ ہر ہر چیز پر وہ قادر ہے اس کی قدرت کامل اور اس کا قبضہ سچا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 40) {اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ……:} یہ اس لیے فرمایا کہ کوئی تعجب نہ کرے کہ چور کو تھوڑی خطا پر بڑی سزا فرمائی۔ (موضح) اس آیت کا خطاب تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن مراد تمام لوگ ہیں، یا ہر شخص سے خطاب ہے۔ (فتح البیان) یعنی اﷲ تعالیٰ کے ہاں سے کسی کو رعایت نہیں مل سکتی، جو بھی جرم کرے گا اسے سزا ملے گی، اس معاملے میں کسی بڑے مرتبے والے کو چھوٹے پر فوقیت نہیں، یا یہ کہ اﷲ تعالیٰ جس جرم پر جو سزا چاہے مقرر فرما دے، اسے مخلوق پر کل اختیار ہے۔ (قرطبی) ایک ملحد شاعر ابو العلاء معری نے اﷲ تعالیٰ کے اس حکم پر اعتراض کیا کہ دیکھیے ایک ہاتھ جس کی دیت پچاس اونٹ تھی، وہ چوتھائی دینار کی حقیر مالیت پر کاٹ دیا گیا، یہ عجیب تناقض ہے، پھر قرآن پر اعتراض کی وجہ سے گرفتاری سے بچنے کے لیے بھاگ گیا۔ چنانچہ بہت سے علماء نے اس کا جواب لکھا، قاضی عبد الوہاب نے کہا: {”لَمَّا كَانَتْ اَمِيْنَةً كَانَتْ ثَمِيْنَةً فَلَمَّا خَانَتْ هَانَتْ“} ”جب تک ہاتھ امین تھا قیمتی تھا جب خیانت کی تو بے قدر ہو گیا۔“ (ابن کثیر) سزاؤں کا ایک مقصد گناہوں سے روکنا بھی ہے، ہاتھ کاٹنے سے روکنے کے لیے ہاتھ کی دیت زیادہ رکھنا ضروری تھا، تاکہ لوگ کسی کا ہاتھ کاٹنے سے بچیں اور چوری سے روکنے کے لیے ہاتھ کاٹنے کا نصاب کم مقرر کرنا ضروری تھا، تاکہ لوگ چوری سے بچیں۔
اے پیغمبرؐ! تمہارے لیے باعث رنج نہ ہوں وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی تیز گامی دکھا رہے ہیں خواہ وہ اُن میں سے ہوں جو منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے مگر دل اُن کے ایمان نہیں لائے، یا اُن میں سے ہوں جو یہودی بن گئے ہیں، جن کا حال یہ ہے کہ جھوٹ کے لیے کان لگاتے ہیں، اور دوسرے لوگوں کی خاطر، جو تمہارے پاس کبھی نہیں آئے، سن گن لیتے پھرتے ہیں، کتاب اللہ کے الفاظ کو اُن کا صحیح محل متعین ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں، اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو نہیں تو نہ مانو جسے اللہ ہی نے فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ کر لیا ہو تو اس کو اللہ کی گرفت سے بچانے کے لیے تم کچھ نہیں کرسکتے، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہ چاہا، ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں سخت سزا
مولانا محمد جوناگڑھی
اے رسول! آپ ان لوگوں کے پیچھے نہ کُڑھیے جو کفر میں سبقت کر رہے ہیں خواه وه ان (منافقوں) میں سے ہوں جو زبانی تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن حقیقتاً ان کے دل باایمان نہیں اور یہودیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو غلط باتیں سننے کے عادی ہیں اور ان لوگوں کے جاسوس ہیں جو اب تک آپ کے پاس نہیں آئے، وه کلمات کے اصلی موقعہ کو چھوڑ کر انہیں متغیر کردیا کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اگر تم یہی حکم دیئے جاؤ تو قبول کرلینا اور اگر یہ حکم نہ دیئے جاؤ تو الگ تھلگ رہنا اور جس کا خراب کرنا اللہ کو منظور ہو تو آپ اس کے لئے خدائی ہدایت میں سے کسی چیز کے مختار نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا اراده ان کے دلوں کو پاک کرنے کا نہیں، ان کے لئے دنیا میں بھی بڑی ذلت اور رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لئے بڑی سخت سزا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے رسول! تمہیں غمگین نہ کریں وہ جو کفر پڑ دوڑتے ہیں جو کچھ وہ اپنے منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور ان کے دل مسلمان نہیں اور کچھ یہودی جھوٹ خوب سنتے ہیں اور لوگوں کی خوب سنتے ہیں جو تمہارے پاس حاضر نہ ہوئے اللہ کی باتوں کو ان کے ٹھکانوں کے بعد بدل دیتے ہیں، کہتے ہیں یہ حکم تمہیں ملے تو مانو اور یہ نہ ملے تو بچو اور جسے اللہ گمراہ کرنا چاہے تو ہرگز تو اللہ سے اس کا کچھ بنا نہ سکے گا، وہ ہیں کہ اللہ نے ان کا دل پاک کرنا نہ چاہا، انہیں دنیا میں رسوائی ہے، اور انہیں آخرت میں بڑا عذاب،
علامہ محمد حسین نجفی
اے رسول! وہ لوگ آپ کو غمگین نہ کریں جو کفر کی طرف تیزگامی سے بڑھ رہے ہوں۔ خواہ یہ ان لوگوں میں سے ہوں جو منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، مگر ان کے دل ایمان نہیں لائے اور یا ان میں سے ہوں جو یہودی ہیں جھوٹ کے بڑے سننے والے ہیں اور سن گن لیتے ہیں دوسرے لوگوں کے لئے جو آپ کے پاس نہیں آئے۔ وہ (کتاب خدا کے) کلمات کو ان کے صحیح موقعوں سے ہٹا دیتے ہیں اور (تحریف کرنے کے بعد) کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو قبول کرو۔ اور اگر یہ نہ دیا جائے تو پرہیز کرو۔ اور اللہ جسے عذاب کرنا چاہے، تو آپ اس کے لئے کچھ نہیں کر سکتے۔ اللہ کے ہاں یہ وہ ہیں کہ اللہ نے (زبردستی) ان کے دلوں کو پاک کرنے کا ارادہ ہی نہیں کیا۔ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے رسول! تجھے وہ لوگ غمگین نہ کریں جو کفر میں دوڑ کر جاتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنھوں نے اپنے مونہوں سے کہا ہم ایمان لائے، حالانکہ ان کے دل ایمان نہیں لائے اور ان لوگوں میں سے جو یہودی بنے۔ بہت سننے والے ہیں جھوٹ کو، بہت سننے والے ہیں دوسرے لوگوں کے لیے جو تیرے پاس نہیں آئے، وہ کلام کو اس کی جگہوں کے بعد پھیر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اگر تمھیں یہ دیا جائے تو لے لو اور اگر تمھیں یہ نہ دیا جائے تو بچ جائو۔ اور وہ شخص کہ اللہ اسے فتنے میں ڈالنے کا ارادہ کرلے اس کے لیے تو اللہ سے ہرگز کسی چیز کا مالک نہیں ہوگا۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے نہیں چاہا کہ ان کے دلوں کو پاک کرے، ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ ٭٭
ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔ منافقوں کی یہی حالت ہے کہ زبان کے کھرے، دل کے کھوٹے اور یہی خصلت یہودیوں کی ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ جھوٹ کو مزے مزے سے سنتے ہیں اور دل کھول کر قبول کرتے ہیں۔ لیکن سچ سے بھاگتے ہیں، بلکہ نفرت کرتے ہیں اور جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں نہیں آتے یہ یہاں کی وہاں پہنچاتے ہیں۔ ان کی طرف سے جاسوسی کرنے کو آتے ہیں۔ پھر نالائقی یہ کرتے ہیں کہ یہ بات کو بدل ڈالا کرتے ہیں مطلب کچھ ہو، لے کر کچھ اڑتے ہیں، ارادے یہی ہیں کہ اگر تمہاری خواہش کے مطابق کہے تو مان لو، طبیعت کے خلاف ہو تو دور رہو۔ کہا کیا گیا ہے کہ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں اتری تھی جن میں ایک کو دوسرے نے قتل کر دیا تھا، اب کہنے لگے چلو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیت جرمانے کا حکم دیں تو منظور کر لیں گے اور اگر قصاص بدلے کو فرمائیں تو نہیں مانیں گے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک زنا کار کو لے کر آئے تھے۔ ان کی کتاب توراۃ میں دراصل حکم تو یہ تھا کہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کیا جائے۔
لیکن انہوں نے اسے بدل ڈالا تھا اور سو کوڑے مار کر، منہ کالا کر کے، الٹا گدھا سوار کر کے رسوائی کر کے چھوڑ دیتے تھے۔ جب ہجرت کے بعد ان میں سے کوئی زناکاری کے جرم میں پکڑا گیا تو یہ کہنے لگے آؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کریں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہی فرمائیں جو ہم کرتے ہیں تو اسے قبول کریں گے اور اللہ کے ہاں بھی یہ ہماری سند ہو جائے گی اور اگر رجم کو فرمائیں گے تو نہیں مانیں گے۔ چنانچہ یہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ ہمارے ایک مرد عورت نے بدکاری کی ہے، ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمہارے ہاں توراۃ میں کیا حکم ہے؟ } انہوں نے کہا ہم تو اسے رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مار کر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سن کر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جھوٹ کہتے ہیں، تورات میں سنگسار کا حکم ہے۔ اور آیت میں ہے «قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:93] یعنی ’ اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (یعنی دلیل پیش کرو) ‘، انہوں نے تورات کھولی لیکن آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے کی سب عبارت پڑھ سنائی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اپنے ہاتھ کو تو ہٹا“، ہاتھ ہٹایا تو سنگسار کرنے کی آیت موجود تھی، اب تو انہیں بھی اقرار کرنا پڑا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے زانیوں کو سنگسار کر دیا گیا، عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے دیکھا کہ وہ زانی اس عورت کو پتھروں سے بچانے کیلئے اس کے آڑے آجاتا تھا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:6841]
اور سند سے مروی ہے کہ یہودیوں نے کہا ”ہم تو اسے کالا منہ کر کے کچھ مار پیٹ کر چھوڑ دیتے ہیں۔“ اور آیت کے ظاہر ہونے کے بعد انہوں نے کہا، ہے تو یہی حکم لیکن ہم نے تو اسے چھپایا تھا، جو پڑھ رہا تھا اسی نے رجم کی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا، جب اس کا ہاتھ اٹھوایا تو آیت پر اچٹتی ہوئی نظر پڑ گئی۔ ان دونوں کے رجم کرنے والوں میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے اپنے آدمی بھیج کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا تھا، اپنے مدرسے میں گدی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بٹھایا تھا اور جو اب تورات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھ رہا تھا، وہ ان کا بہت بڑا عالم تھا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4449،قال الشيخ الألباني:حسن] ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قسم دے کر پوچھا تھا کہ تم تورات میں شادی شدہ زانی کی کیا سزا پاتے ہو؟ } تو انہوں نے یہی جواب دیا تھا لیکن ایک نوجوان کچھ نہ بولا، خاموش ہی کھڑا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر خاص اسے دوبارہ قسم دی اور جواب مانگا، اس نے کہا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قسمیں دے رہے ہیں تو میں جھوٹ نہ بولوں گا، واقعی تورات میں ان لوگوں کی سزا سنگساری ہے۔ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اچھا پھر یہ بھی سچ سچ بتاؤ کہ پہلے پہل اس رجم کو تم نے کیوں اور کس پر سے اڑایا؟ } } اس نے کہا ہمارے کسی بادشاہ کے رشتے دار، بڑے آدمی نے زناکاری کی۔ اس کی عظمت اور بادشاہ کی ہیبت کے مارے اسے رجم کرو ورنہ اسے بھی چھوڑو۔ آخر ہم نے مل ملا کر یہ طے کیا کہ بجائے رجم کے اس قسم کی کوئی سزا مقرر کر دی جائے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توراۃ کے حکم کو جاری کیا اور اسی بارے میں آیت «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ» ۱؎ [5-المائدہ:44] ، اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان احکام کے جاری کرنے والوں میں سے ہیں ۱؎ [سنن ابوداود:4450،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص کو یہودی کالا منہ کئے لے جا رہے تھے اور اسے کوڑے بھی مار رکھے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا کر ان سے ماجرا پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { کیا زانی کی یہی سزا تمہارے ہاں ہے؟ } کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ایک عالم کو بلا کر اسے سخت قسم دے کر پوچھا تو اس نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قسم نہ دیتے تو میں ہرگز نہ بتاتا، بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں دراصل زناکاری کی سزا سنگساری ہے لیکن چونکہ امیر امراء اور شرفاء لوگوں میں یہ بدکاری بڑھ گئی تھی اور انہیں اس قسم کی سزا دینی ہم نے مناسب نہ جانی، اس لیے انہیں تو چھوڑ دیتے تھے اور اللہ کا حکم مارا نہ جائے اس لیے غریب غرباء، کم حیثیت لوگوں کو رجم کرا دیتے تھے پھر ہم نے رائے زنی کی کہ آؤ کوئی ایسی سزا تجویز کرو کہ شریف و غیر شریف، امیر غریب پر سب پر یکساں جاری ہو سکے چنانچہ ہمارا سب کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ منہ کالے کر دیں اور کوڑے لگائیں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان دونوں کو سنگسار کرو چنانچہ انہیں رجم کر دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اللہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے ایک مردہ حکم کو زندہ کیا }۔ اس پر آیت «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:41] سے «وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:44] تک نازل ہوئی۔ انہی یہودیوں کے بارے میں اور آیت میں ہے کہ ’ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے ظالم ہیں ‘ اور آیت میں ہے ’ فاسق ہیں ‘۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1700]
اور روایت میں ہے واقعہ زنا فدک میں ہوا تھا اور وہاں کے یہودیوں نے مدینے شریف کے یہودیوں کو لکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھوایا تھا جو عالم ان کا آیا اس کا نام ابن صوریا تھا، یہ آنکھ کا بھینگا تھا، اور اس کے ساتھ دوسرا عالم بھی تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں قسم دی تو دونوں نے قبول دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہا تھا، { تمہیں اس اللہ کی قسم جس نے بنو اسرائیل کیلئے پانی میں راہ کر دی تھی اور ابر کا سایہ ان پر کیا تھا اور فرعونیوں سے بچا لیا تھا اور من و سلویٰ اتارا تھا }۔ اس قسم سے وہ چونک گئے اور آپس میں کہنے لگے بڑی زبردست قسم ہے، اس موقع پر جھوٹ بولنا ٹھیک نہیں تو کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تورات میں یہ ہے کہ بری نظر سے دیکھنا بھی مثل زنا کے ہے اور گلے لگانا بھی اور بوسہ لینا بھی، پھر اگر چار گواہ اس بات کے ہوں کہ انہوں نے دخول خروج دیکھا ہے جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں جاتی آتی ہے تو رجم واجب ہو جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہی مسئلہ ہے پھر حکم دیا اور انہیں رجم کرا دیا گیا}۔ اس پر آیت «فَاِنْ جَاءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا وَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:42] ، اتری۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4452، قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک روایت میں جو دو عالم سامنے لائے گئے تھے، یہ دونوں صوریا کے لڑکے تھے۔ ترک حد کا سبب اس روایت میں یہودیوں کی طرف سے یہ بیان ہوا ہے کہ جب ہم میں سلطنت نہ رہی تو ہم نے اپنے آدمیوں کی جان لینی مناسب نہ سمجھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلوا کر گواہی لی جنہوں نے بیان دیا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے انہیں اس برائی میں دیکھا ہے، جس طرح سرمہ دانی میں سلائی ہوتی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4452،قال الشيخ الألباني:صحیح] دراصل توراۃ وغیرہ کا منگوانا ان کے عالموں کو بلوانا، یہ سب انہیں الزام دینے کیلئے نہ تھا، نہ اس لیے تھا کہ وہ اسی کے ماننے کے مکلف ہیں، نہیں بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان واجب العمل ہے، اس سے مقصد ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا اظہار تھا کہ اللہ کی وحی سے آپ نے یہ معلوم کر لیا کہ ان کی تورات میں بھی حکم رجم موجود ہے اور یہی نکلا، دوسرے ان کی رسوائی کہ انہیں پہلے کے انکار کے بعد اقرار کرنا پڑا اور دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ یہ لوگ فرمان الٰہی کو چھپا لینے والے اور اپنی رائے قیاس پر عمل کرنے والے ہیں۔
اور اس لیے بھی کہ یہ لوگ سچے دل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس لیے نہیں آئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری کریں بلکہ محض اس لیے آئے تھے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے اجماع کے موافق پائیں گے تو اتحاد کر لیں گے ورنہ ہرگز قبول نہ کریں گے۔ اسی لیے فرمان ہے کہ ’ جنہیں اللہ گمراہ کر دے تو ان کو کسی قسم سے راہ راست آنے کا اختیار نہیں ہے ان کے گندے دلوں کو پاک کرنے کا اللہ کا ارادہ نہیں، یہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں داخل نار ہوں گے۔ یہ باطل کو کان لگا کر مزے لے کر سننے والے ہیں اور رشوت جیسی حرام چیز کو دن دہاڑے کھانے والے ہیں، بھلا ان کے نجس دل کیسے پاک ہوں گے؟ اور ان کی دعائیں اللہ کیسے سنے گا؟ اگر یہ تیرے پاس آئیں تو تجھے اختیار ہے کہ ان کے فیصلے کر یا نہ کر اگر تو ان سے منہ پھیر لے جب بھی یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ ان کا قصد اتباع حق نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کی پیروی ہے ‘۔ بعض بزرگ کہتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے اس آیت سے «وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكَ» ۱؎ [5-المائدہ:49] پھر فرمایا ’ اگر تو ان میں فیصلے کرے تو عدل و انصاف کے ساتھ کر، گو یہ خود ظالم ہیں اور عدل سے ہٹے ہوئے ہیں اور مان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل لوگوں سے محبت رکھتا ہے ‘۔ پھر ان کی خباثت بدباطنی اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ ’ ایک طرف تو اس کتاب اللہ کو چھوڑ رکھا ہے، جس کی تابعداری اور حقانیت کے خود قائل ہیں، دوسری طرف اس جانب جھک رہے ہیں، جسے نہیں مانتے اور جسے جھوٹ مشہور کر رکھا ہے، پھر اس میں بھی نیت بد ہے کہ اگر وہاں سے ہماری خواہش ہے مطابق حکم ملے گا تو لے لیں گے، ورنہ چھوڑ چھاڑ دیں گے ‘۔
تو فرمایا کہ ’ یہ کیسے تیری فرماں برداری کریں گے؟ انہوں نے تو تورات کو بھی چھوڑ رکھا ہے، جس میں اللہ کے احکامات ہونے کا اقرار انہیں بھی ہے لیکن پھر بھی بے ایمانی کر کے اس سے پھر جاتے ہیں ‘۔ پھر اس تورات کی مدحت و تعریف بیان فرمائی جو اس نے اپنے برگزیدہ رسول موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر نازل فرمائی تھی کہ اس میں ہدایت و نورانیت تھی۔ انبیاء علیہ السلام جو اللہ کے زیر فرمان تھے، اسی پر فیصلے کرتے رہے، یہودیوں میں اسی کے احکام جاری کرتے رہے، تبدیلی اور تحریف سے بچے رہے، ربانی یعنی عابد، علماء اور احبار یعنی ذی علم لوگ بھی اسی روش پر رہے۔ کیونکہ انہیں یہ پاک کتاب سونپی گئی تھی اور اس کے اظہار کا اور اس پر عمل کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ و شاہد تھے۔ ’ اب تمہیں چاہیئے کہ بجز اللہ کے کسی اور سے نہ ڈرو۔ ہاں قدم قدم اور لمحہ لمحہ پر خوف رکھو اور میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول فروخت نہ کیا کرو۔ جان لو کہ اللہ کی وحی کا حکم جو نہ مانے وہ کافر ہے ‘۔ اس میں دو قول ہیں جو ابھی بیان ہوں گے ان شاءاللہ۔ ان آیتوں کا ایک شان نزول بھی سن لیجئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”ایسے لوگوں کو اس آیت میں تو کافر کہا دوسری میں ظالم تیسری میں فاسق۔ بات یہ ہے کہ یہودیوں کے دو گروہ تھے، ایک غالب تھا، دوسرا مغلوب۔ ان کی آپس میں اس بات پر صلح ہوئی تھی کہ غالب، ذی عزت فرقے کا کوئی شخص اگر مغلوب ذلیل فرقے کے کسی شخص کو قتل کر ڈالے تو پچاس وسق دیت دے اور ذلیل لوگوں میں سے کوئی عزیز کو قتل کر دے تو ایک سو وسق دیت دے۔ یہی رواج ان میں چلا آ رہا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے، اس کے بعد ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ان نیچے والے یہودیوں میں سے کسی نے کسی اونچے یہودی کو مار ڈالا۔
یہاں سے آدمی گیا کہ لاؤ سو وسق دلاؤ دلواؤ، وہاں سے جواب ملا کہ یہ صریح ناانصافی ہے کہ ہم دونوں ایک ہی قبیلے کے، ایک ہی دین کے، ایک ہی نسب کے، ایک ہی شہر کے پھر ہماری دیت کم اور تمہارا زیادہ؟ ہم چونکہ اب تک تمہارے دبے ہوئے تھے، اس ناانصافی کو بادل ناخواستہ برداشت کرتے رہے لیکن اب جب کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عادل بادشاہ یہاں آگئے ہیں ہم تمہیں اتنی ہی دیت دیں گے جتنی تم ہمیں دو۔ اس بات پر ادھر ادھر سے آستینیں چڑھ گئیں، پھر آپس میں یہ بات طے ہوئی کہ اچھا اس جھگڑے کا فیصلہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے۔ لیکن اونچی قوم کے لوگوں نے آپس میں جب مشورہ کیا تو ان کے سمجھداروں نے کہا دیکھو اس سے ہاتھ دھو رکھو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ناانصافی پہ مبنی حکم کریں۔ یہ تو صریح زیادتی ہے کہ ہم آدھی دیں اور پوری لیں اور فی الواقع ان لوگوں نے دب کر اسے منظور کیا تھا جو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اور ثالث مقرر کیا ہے تو یقیناً تمہارا یہ حق مارا جائے گا کسی نے رائے دی کہ اچھا یوں کرو، کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چپکے سے بھیج دو، وہ معلوم کر آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کیا کریں گے؟ اگر ہماری حمایت میں ہوا تب تو بہت اچھا چلو اور ان سے حق حاصل کر آؤ اور اگر خلاف ہوا تو پھر الگ تھلگ ہی اچھے ہیں۔ چنانچہ مدینہ کے چند منافقوں کو انہوں نے جاسوس بنا کر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس سے پہلے کہ وہ یہاں پہنچیں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتار کر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں فرقوں کے بد ارادوں سے مطلع فرما دیا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3576،قال الشيخ الألباني:حسن] ایک روایت میں ہے کہ یہ دونوں قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ تھے۔ بنو نضیر کی پوری دیت تھی اور بنو قریظہ کی آدھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی دیت یکساں دینے کا فیصلہ صادر فرمایا۔
ایک روایت ہے کہ قرظی اگر کسی نضری کو قتل کر ڈالے تو اس سے قصاص لیتے تھے لیکن اس کے خلاف میں قصاص تھا ہی نہیں سو وسق دیت تھی۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3591،قال الشيخ الألباني:حسن] یہ بہت ممکن ہے کہ ادھر یہ واقعہ ہوا، ادھر زنا کا قصہ واقع ہوا، جس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے ان دونوں پر یہ آیتیں نازل ہوئیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ہاں ایک بات اور ہے جس سے اس دوسری شان نزول کی تقویت ہوتی ہے وہ یہ کہ اس کے بعد ہی فرمایا ہے آیت «وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:45] ، یعنی ’ ہم نے یہودیوں پر تورات میں یہ حکم فرض کر دیا تھا کہ جان کے عوض جان، آنکھ کے عوض آنکھ ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر انہیں کافی کہا گیا جو اللہ کی شریعت اور اس کی اتاری ہوئی وحی کے مطابق فیصلے اور حکم نہ کریں گو یہ آیت شان نزول کے اعتبار سے بقول مفسرین اہل کتاب کے بارے میں ہے لیکن حکم کے اعتبار سے ہر شخص کو شامل ہے۔ بنو اسرائیل کے بارے میں اتری اور اس امت کا بھی یہی حکم ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”رشوت حرام ہے اور رشوت ستانی کے بعد کسی شرعی مسئلہ کے خلاف فتویٰ دینا کفر ہے۔“ سدی رحمة الله فرماتے ہیں ”جس نے وحی الٰہی کے خلاف عمداً فتویٰ دیا جاننے کے باوجود اس کے خلاف کیا وہ کافر ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے اللہ کے فرمان سے انکار کیا، اس کا یہ حکم ہے اور جس نے انکار تو نہ کیا لیکن اس کے مطابق نہ کہا وہ ظالم اور فاسق ہے۔ خواہ اہل کتاب ہو خواہ کوئی اور۔“ شعبی رحمة الله فرماتے ہیں ”مسلمانوں میں جس نے کتاب کے خلاف فتویٰ دیا وہ کافر ہے اور یہودیوں میں دیا ہو تو ظالم ہے اور نصرانیوں میں دیا ہو تو فاسق ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس آیت کے ساتھ ہے۔“ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس کے کفر جیسا نہیں جو سرے سے اللہ کے رسول قرآن اور فرشتوں کا منکر ہو۔“ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «کتم» (چھپانا) کفر سے کم ہے اسی طرح ظلم و فسق کے بھی ادنیٰ اعلیٰ درجے ہیں۔ اس کفر سے وہ ملت اسلام سے پھر جانے والا جاتا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد وہ کفر نہیں جس کی طرف تم جا رہے ہو۔“
41۔ 1 نبی کریم کو اہل کفر و شرک کے ایمان نہ لانے اور ہدایت کا راستہ نہ اپنانے پر جو قلق اور افسوس ہوتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو زیادہ غم نہ کرنے کی ہدایت فرما رہے ہیں تاکہ اس اعتبار سے آپ کو تسلی رہے کہ ایسے لوگوں کی بابت عند اللہ مجھ سے باز پرس نہیں ہوگی۔ 41۔ 2 آیت نمر 41 تا 44 کی شان نزول میں دو واقعات بیان کئے جاتے ہیں۔ ایک تو دو شادی شدہ یہودی زانیوں (مرد عورت) کا۔ انہوں نے اپنی کتاب تورات میں تو رد وبدل کر ڈالا تھا، علاوہ ازیں اس کی کئی باتوں پر عمل بھی نہیں کرتے تھے۔ انہیں میں سے ایک حکم رجم بھی تھا جو ان کی کتاب میں شادی شدہ زانیوں کے لئے تھا اور اب بھی وہ موجود ہے لیکن وہ چونکہ اس سزا سے بچنا چاہتے تھے اس لئے آپس میں فیصلہ کیا کہ محمد کے پاس چلتے ہیں اگر انہوں نے ہمارے ایجاد کردہ طریقہ کے مطابق کوڑے مارنے اور منہ کالا کرنے کی سزا کا کہا تو مان لیں گے اور اگر رجم کا فیصلہ دیا تو نہیں مانیں گے۔ چناچہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تورات میں رجم کی بابت کیا ہے؟ انہوں نے تورات میں زنا کی سزا کوڑے مارنا اور رسوا کرنا ہے عبد اللہ بن سلام ؓ نے کہا تم جھوٹ کہتے ہو، تورات میں رجم کا حکم موجود ہے، جاؤ تورات لاؤ تورات لا کر وہ پڑھنے لگے تو آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے سے پڑھنے لگ گئے حضرت عبد اللہ بن السلام نے کہا یہاں سے ہاتھ ہٹاؤ تو وہ آیت وہاں موجود تھی۔ بالاخر انہیں اعتراف کرنا پڑا۔ چناچہ دونوں زانیوں کو سنگسار کردیا (ابن کثیر)۔ ایک دوسرا واقعہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ یہود کا ایک قبیلہ اپنے آپ کو دوسرے یہودی قبیلے سے زیادہ معزز اور محترم سمجھتا تھا اور اسی کے مطابق اپنے مقتول کی دیت سو وسق اور دوسرے قبیلے کے مقتول کی پچاس وسق مقرر کر رکھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہود کے دوسرے قبیلے کو کچھ حوصلہ ہوا جس کے مقتول کی دیت نصف تھی اور اس نے دیت سو وسق دینے سے انکار کردیا۔ قریب تھا کہ ان کے درمیان اس مسئلے پر لڑائی چھڑ جاتی، لیکن ان کے سمجھدار لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فیصلہ کرانے پر رضامند ہوگئے اس موقعے پر یہ آیات نازل ہوئیں جن میں سے ایک آیت میں قصاص میں برابری کا حکم دیا گیا ہے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں ممکن ہے دونوں سبب ایک ہی وقت میں جمع ہوگئے ہوں اور ان سب کے لیے ان آیات کا نزول ہوا ہو۔ (ابن کثیر)
(آیت 41) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ ……:} رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے تو صرف مشرکین سے واسطہ تھا، مدینہ میں آئے تو منافقین اور یہود کی سازشیں بھی ساتھ مل گئیں، اس پر تسلی دینے کے لیے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کی وجہ سے غمگین نہ ہوں جو کفر میں دوڑ کر جاتے ہیں، یعنی جب بھی انھیں کوئی موقع ہاتھ آتا ہے فوراً کفر کی طرف پلٹ جاتے ہیں، کافروں سے مل جاتے ہیں۔ اس کا تعلق منافقین سے ہے۔ (رازی) ➋ {وَ مِنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا ……:} یعنی کفر میں دوڑ کر جانے والے یہودی بھی آپ کو غمگین نہ کریں۔ { ”سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ“ } جو جھوٹی باتیں بہت سنتے ہیں۔ یعنی جو کچھ ان کو ان کے مذہبی پیشوا تورات میں تحریف کر کے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر طعن کے طور پر کہتے ہیں اسے خوب سنتے اور قبول کرتے ہیں، {”سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِيْنَ“} یعنی پھر یہ ان لوگوں کے جاسوس بن کر مسلمانوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں جا کر خوب سنتے ہیں، جو تکبر کی وجہ سے ان مجلسوں میں شریک ہونا پسند نہیں کرتے۔ (کبیر) ➌ {يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ:} کتب تفاسیر و احادیث میں لکھا ہے کہ یہود میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کا ارتکاب کیا، ان کے علماء نے باہم مشورہ کر کے طے کیا کہ اس مقدمے کا فیصلہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے کروا لیتے ہیں، کیونکہ وہ نرم شریعت لے کر آئے ہیں، اگر انھوں نے کوڑے مارنے کا حکم دیا تو ہماری مراد بر آئے گی اور اگر انھوں نے سنگ سار کرنے کا حکم دیا تو ہم ان کا فیصلہ ٹھکرا دیں گے۔ چنانچہ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [مسلم، الحدود، باب رجم الیہود أہل الذمۃ فی الزنٰی: ۱۶۹۹ ] مفصل واقعہ کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (۱۵) کا حاشیہ (۱)۔
یہ جھوٹ سننے والے اور حرام کے مال کھانے والے ہیں، لہٰذا اگر یہ تمہارے پاس (اپنے مقدمات لے کر) آئیں تو تمہیں اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہو ان کا فیصلہ کرو ورنہ انکار کر دو انکار کر دو تو یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے، اور فیصلہ کرو تو پھر ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ کان لگا لگا کر جھوٹ کے سننے والے اور جی بھر بھر کر حرام کے کھانے والے ہیں، اگر یہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے خواه ان کے آپس کا فیصلہ کرو خواه ان کو ٹال دو، اگر تم ان سے منھ بھی پھیرو گے تو بھی یہ تم کو ہرگز کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے، اور اگر تم فیصلہ کرو تو ان میں عدل وانصاف کے ساتھ فیصلہ کرو، یقیناً عدل والوں کے ساتھ اللہ محبت رکھتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بڑے جھوٹ سننے والے بڑے حرام خور تو اگر تمہارے حضور حاضر ہوں تو ان میں فیصلہ فرماؤ یا ان سے منہ پھیرلو اور اگر تم ان سے منہ پھیرلو گے تو وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے اور اگر ان میں فیصلہ فرماؤ تو انصاف سے فیصلہ کرو، بیشک انصاف والے اللہ کو پسند ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جھوٹ کے بڑے سننے والے ہیں، حرام مال کے بڑے کھانے والے ہیں اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو (آپ کو اختیار ہے) خواہ ان کا فیصلہ کریں یا ان سے روگردانی کریں اور اگر آپ ان سے روگردانی کریں۔ تو وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اگر فیصلہ کریں تو پھر انصاف کے ساتھ کریں کیونکہ اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بہت سننے والے ہیں جھوٹ کو، بہت کھانے والے ہیں حرام کو، پھر اگر وہ تیرے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کر یا ان سے منہ پھیر لے اور اگر تو ان سے منہ پھیر لے تو ہرگز تجھے کچھ نقصان نہ پہنچائیں گے اور اگر تو فیصلہ کرے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر ، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ ٭٭
ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔ منافقوں کی یہی حالت ہے کہ زبان کے کھرے، دل کے کھوٹے اور یہی خصلت یہودیوں کی ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ جھوٹ کو مزے مزے سے سنتے ہیں اور دل کھول کر قبول کرتے ہیں۔ لیکن سچ سے بھاگتے ہیں، بلکہ نفرت کرتے ہیں اور جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں نہیں آتے یہ یہاں کی وہاں پہنچاتے ہیں۔ ان کی طرف سے جاسوسی کرنے کو آتے ہیں۔ پھر نالائقی یہ کرتے ہیں کہ یہ بات کو بدل ڈالا کرتے ہیں مطلب کچھ ہو، لے کر کچھ اڑتے ہیں، ارادے یہی ہیں کہ اگر تمہاری خواہش کے مطابق کہے تو مان لو، طبیعت کے خلاف ہو تو دور رہو۔ کہا کیا گیا ہے کہ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں اتری تھی جن میں ایک کو دوسرے نے قتل کر دیا تھا، اب کہنے لگے چلو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیت جرمانے کا حکم دیں تو منظور کر لیں گے اور اگر قصاص بدلے کو فرمائیں تو نہیں مانیں گے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک زنا کار کو لے کر آئے تھے۔ ان کی کتاب توراۃ میں دراصل حکم تو یہ تھا کہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کیا جائے۔
لیکن انہوں نے اسے بدل ڈالا تھا اور سو کوڑے مار کر، منہ کالا کر کے، الٹا گدھا سوار کر کے رسوائی کر کے چھوڑ دیتے تھے۔ جب ہجرت کے بعد ان میں سے کوئی زناکاری کے جرم میں پکڑا گیا تو یہ کہنے لگے آؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کریں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہی فرمائیں جو ہم کرتے ہیں تو اسے قبول کریں گے اور اللہ کے ہاں بھی یہ ہماری سند ہو جائے گی اور اگر رجم کو فرمائیں گے تو نہیں مانیں گے۔ چنانچہ یہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ ہمارے ایک مرد عورت نے بدکاری کی ہے، ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمہارے ہاں توراۃ میں کیا حکم ہے؟ } انہوں نے کہا ہم تو اسے رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مار کر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سن کر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جھوٹ کہتے ہیں، تورات میں سنگسار کا حکم ہے۔ اور آیت میں ہے «قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:93] یعنی ’ اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (یعنی دلیل پیش کرو) ‘، انہوں نے تورات کھولی لیکن آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے کی سب عبارت پڑھ سنائی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اپنے ہاتھ کو تو ہٹا“، ہاتھ ہٹایا تو سنگسار کرنے کی آیت موجود تھی، اب تو انہیں بھی اقرار کرنا پڑا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے زانیوں کو سنگسار کر دیا گیا، عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے دیکھا کہ وہ زانی اس عورت کو پتھروں سے بچانے کیلئے اس کے آڑے آجاتا تھا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:6841]
اور سند سے مروی ہے کہ یہودیوں نے کہا ”ہم تو اسے کالا منہ کر کے کچھ مار پیٹ کر چھوڑ دیتے ہیں۔“ اور آیت کے ظاہر ہونے کے بعد انہوں نے کہا، ہے تو یہی حکم لیکن ہم نے تو اسے چھپایا تھا، جو پڑھ رہا تھا اسی نے رجم کی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا، جب اس کا ہاتھ اٹھوایا تو آیت پر اچٹتی ہوئی نظر پڑ گئی۔ ان دونوں کے رجم کرنے والوں میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے اپنے آدمی بھیج کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا تھا، اپنے مدرسے میں گدی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بٹھایا تھا اور جو اب تورات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھ رہا تھا، وہ ان کا بہت بڑا عالم تھا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4449،قال الشيخ الألباني:حسن] ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قسم دے کر پوچھا تھا کہ تم تورات میں شادی شدہ زانی کی کیا سزا پاتے ہو؟ } تو انہوں نے یہی جواب دیا تھا لیکن ایک نوجوان کچھ نہ بولا، خاموش ہی کھڑا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر خاص اسے دوبارہ قسم دی اور جواب مانگا، اس نے کہا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قسمیں دے رہے ہیں تو میں جھوٹ نہ بولوں گا، واقعی تورات میں ان لوگوں کی سزا سنگساری ہے۔ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اچھا پھر یہ بھی سچ سچ بتاؤ کہ پہلے پہل اس رجم کو تم نے کیوں اور کس پر سے اڑایا؟ } } اس نے کہا ہمارے کسی بادشاہ کے رشتے دار، بڑے آدمی نے زناکاری کی۔ اس کی عظمت اور بادشاہ کی ہیبت کے مارے اسے رجم کرو ورنہ اسے بھی چھوڑو۔ آخر ہم نے مل ملا کر یہ طے کیا کہ بجائے رجم کے اس قسم کی کوئی سزا مقرر کر دی جائے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توراۃ کے حکم کو جاری کیا اور اسی بارے میں آیت «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ» ۱؎ [5-المائدہ:44] ، اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان احکام کے جاری کرنے والوں میں سے ہیں ۱؎ [سنن ابوداود:4450،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص کو یہودی کالا منہ کئے لے جا رہے تھے اور اسے کوڑے بھی مار رکھے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا کر ان سے ماجرا پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { کیا زانی کی یہی سزا تمہارے ہاں ہے؟ } کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ایک عالم کو بلا کر اسے سخت قسم دے کر پوچھا تو اس نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قسم نہ دیتے تو میں ہرگز نہ بتاتا، بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں دراصل زناکاری کی سزا سنگساری ہے لیکن چونکہ امیر امراء اور شرفاء لوگوں میں یہ بدکاری بڑھ گئی تھی اور انہیں اس قسم کی سزا دینی ہم نے مناسب نہ جانی، اس لیے انہیں تو چھوڑ دیتے تھے اور اللہ کا حکم مارا نہ جائے اس لیے غریب غرباء، کم حیثیت لوگوں کو رجم کرا دیتے تھے پھر ہم نے رائے زنی کی کہ آؤ کوئی ایسی سزا تجویز کرو کہ شریف و غیر شریف، امیر غریب پر سب پر یکساں جاری ہو سکے چنانچہ ہمارا سب کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ منہ کالے کر دیں اور کوڑے لگائیں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان دونوں کو سنگسار کرو چنانچہ انہیں رجم کر دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اللہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے ایک مردہ حکم کو زندہ کیا }۔ اس پر آیت «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:41] سے «وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:44] تک نازل ہوئی۔ انہی یہودیوں کے بارے میں اور آیت میں ہے کہ ’ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے ظالم ہیں ‘ اور آیت میں ہے ’ فاسق ہیں ‘۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1700]
اور روایت میں ہے واقعہ زنا فدک میں ہوا تھا اور وہاں کے یہودیوں نے مدینے شریف کے یہودیوں کو لکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھوایا تھا جو عالم ان کا آیا اس کا نام ابن صوریا تھا، یہ آنکھ کا بھینگا تھا، اور اس کے ساتھ دوسرا عالم بھی تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں قسم دی تو دونوں نے قبول دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہا تھا، { تمہیں اس اللہ کی قسم جس نے بنو اسرائیل کیلئے پانی میں راہ کر دی تھی اور ابر کا سایہ ان پر کیا تھا اور فرعونیوں سے بچا لیا تھا اور من و سلویٰ اتارا تھا }۔ اس قسم سے وہ چونک گئے اور آپس میں کہنے لگے بڑی زبردست قسم ہے، اس موقع پر جھوٹ بولنا ٹھیک نہیں تو کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تورات میں یہ ہے کہ بری نظر سے دیکھنا بھی مثل زنا کے ہے اور گلے لگانا بھی اور بوسہ لینا بھی، پھر اگر چار گواہ اس بات کے ہوں کہ انہوں نے دخول خروج دیکھا ہے جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں جاتی آتی ہے تو رجم واجب ہو جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہی مسئلہ ہے پھر حکم دیا اور انہیں رجم کرا دیا گیا}۔ اس پر آیت «فَاِنْ جَاءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا وَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:42] ، اتری۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4452، قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک روایت میں جو دو عالم سامنے لائے گئے تھے، یہ دونوں صوریا کے لڑکے تھے۔ ترک حد کا سبب اس روایت میں یہودیوں کی طرف سے یہ بیان ہوا ہے کہ جب ہم میں سلطنت نہ رہی تو ہم نے اپنے آدمیوں کی جان لینی مناسب نہ سمجھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلوا کر گواہی لی جنہوں نے بیان دیا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے انہیں اس برائی میں دیکھا ہے، جس طرح سرمہ دانی میں سلائی ہوتی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4452،قال الشيخ الألباني:صحیح] دراصل توراۃ وغیرہ کا منگوانا ان کے عالموں کو بلوانا، یہ سب انہیں الزام دینے کیلئے نہ تھا، نہ اس لیے تھا کہ وہ اسی کے ماننے کے مکلف ہیں، نہیں بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان واجب العمل ہے، اس سے مقصد ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا اظہار تھا کہ اللہ کی وحی سے آپ نے یہ معلوم کر لیا کہ ان کی تورات میں بھی حکم رجم موجود ہے اور یہی نکلا، دوسرے ان کی رسوائی کہ انہیں پہلے کے انکار کے بعد اقرار کرنا پڑا اور دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ یہ لوگ فرمان الٰہی کو چھپا لینے والے اور اپنی رائے قیاس پر عمل کرنے والے ہیں۔
اور اس لیے بھی کہ یہ لوگ سچے دل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس لیے نہیں آئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری کریں بلکہ محض اس لیے آئے تھے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے اجماع کے موافق پائیں گے تو اتحاد کر لیں گے ورنہ ہرگز قبول نہ کریں گے۔ اسی لیے فرمان ہے کہ ’ جنہیں اللہ گمراہ کر دے تو ان کو کسی قسم سے راہ راست آنے کا اختیار نہیں ہے ان کے گندے دلوں کو پاک کرنے کا اللہ کا ارادہ نہیں، یہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں داخل نار ہوں گے۔ یہ باطل کو کان لگا کر مزے لے کر سننے والے ہیں اور رشوت جیسی حرام چیز کو دن دہاڑے کھانے والے ہیں، بھلا ان کے نجس دل کیسے پاک ہوں گے؟ اور ان کی دعائیں اللہ کیسے سنے گا؟ اگر یہ تیرے پاس آئیں تو تجھے اختیار ہے کہ ان کے فیصلے کر یا نہ کر اگر تو ان سے منہ پھیر لے جب بھی یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ ان کا قصد اتباع حق نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کی پیروی ہے ‘۔ بعض بزرگ کہتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے اس آیت سے «وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكَ» ۱؎ [5-المائدہ:49] پھر فرمایا ’ اگر تو ان میں فیصلے کرے تو عدل و انصاف کے ساتھ کر، گو یہ خود ظالم ہیں اور عدل سے ہٹے ہوئے ہیں اور مان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل لوگوں سے محبت رکھتا ہے ‘۔ پھر ان کی خباثت بدباطنی اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ ’ ایک طرف تو اس کتاب اللہ کو چھوڑ رکھا ہے، جس کی تابعداری اور حقانیت کے خود قائل ہیں، دوسری طرف اس جانب جھک رہے ہیں، جسے نہیں مانتے اور جسے جھوٹ مشہور کر رکھا ہے، پھر اس میں بھی نیت بد ہے کہ اگر وہاں سے ہماری خواہش ہے مطابق حکم ملے گا تو لے لیں گے، ورنہ چھوڑ چھاڑ دیں گے ‘۔
تو فرمایا کہ ’ یہ کیسے تیری فرماں برداری کریں گے؟ انہوں نے تو تورات کو بھی چھوڑ رکھا ہے، جس میں اللہ کے احکامات ہونے کا اقرار انہیں بھی ہے لیکن پھر بھی بے ایمانی کر کے اس سے پھر جاتے ہیں ‘۔ پھر اس تورات کی مدحت و تعریف بیان فرمائی جو اس نے اپنے برگزیدہ رسول موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر نازل فرمائی تھی کہ اس میں ہدایت و نورانیت تھی۔ انبیاء علیہ السلام جو اللہ کے زیر فرمان تھے، اسی پر فیصلے کرتے رہے، یہودیوں میں اسی کے احکام جاری کرتے رہے، تبدیلی اور تحریف سے بچے رہے، ربانی یعنی عابد، علماء اور احبار یعنی ذی علم لوگ بھی اسی روش پر رہے۔ کیونکہ انہیں یہ پاک کتاب سونپی گئی تھی اور اس کے اظہار کا اور اس پر عمل کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ و شاہد تھے۔ ’ اب تمہیں چاہیئے کہ بجز اللہ کے کسی اور سے نہ ڈرو۔ ہاں قدم قدم اور لمحہ لمحہ پر خوف رکھو اور میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول فروخت نہ کیا کرو۔ جان لو کہ اللہ کی وحی کا حکم جو نہ مانے وہ کافر ہے ‘۔ اس میں دو قول ہیں جو ابھی بیان ہوں گے ان شاءاللہ۔ ان آیتوں کا ایک شان نزول بھی سن لیجئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”ایسے لوگوں کو اس آیت میں تو کافر کہا دوسری میں ظالم تیسری میں فاسق۔ بات یہ ہے کہ یہودیوں کے دو گروہ تھے، ایک غالب تھا، دوسرا مغلوب۔ ان کی آپس میں اس بات پر صلح ہوئی تھی کہ غالب، ذی عزت فرقے کا کوئی شخص اگر مغلوب ذلیل فرقے کے کسی شخص کو قتل کر ڈالے تو پچاس وسق دیت دے اور ذلیل لوگوں میں سے کوئی عزیز کو قتل کر دے تو ایک سو وسق دیت دے۔ یہی رواج ان میں چلا آ رہا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے، اس کے بعد ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ان نیچے والے یہودیوں میں سے کسی نے کسی اونچے یہودی کو مار ڈالا۔
یہاں سے آدمی گیا کہ لاؤ سو وسق دلاؤ دلواؤ، وہاں سے جواب ملا کہ یہ صریح ناانصافی ہے کہ ہم دونوں ایک ہی قبیلے کے، ایک ہی دین کے، ایک ہی نسب کے، ایک ہی شہر کے پھر ہماری دیت کم اور تمہارا زیادہ؟ ہم چونکہ اب تک تمہارے دبے ہوئے تھے، اس ناانصافی کو بادل ناخواستہ برداشت کرتے رہے لیکن اب جب کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عادل بادشاہ یہاں آگئے ہیں ہم تمہیں اتنی ہی دیت دیں گے جتنی تم ہمیں دو۔ اس بات پر ادھر ادھر سے آستینیں چڑھ گئیں، پھر آپس میں یہ بات طے ہوئی کہ اچھا اس جھگڑے کا فیصلہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے۔ لیکن اونچی قوم کے لوگوں نے آپس میں جب مشورہ کیا تو ان کے سمجھداروں نے کہا دیکھو اس سے ہاتھ دھو رکھو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ناانصافی پہ مبنی حکم کریں۔ یہ تو صریح زیادتی ہے کہ ہم آدھی دیں اور پوری لیں اور فی الواقع ان لوگوں نے دب کر اسے منظور کیا تھا جو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اور ثالث مقرر کیا ہے تو یقیناً تمہارا یہ حق مارا جائے گا کسی نے رائے دی کہ اچھا یوں کرو، کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چپکے سے بھیج دو، وہ معلوم کر آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کیا کریں گے؟ اگر ہماری حمایت میں ہوا تب تو بہت اچھا چلو اور ان سے حق حاصل کر آؤ اور اگر خلاف ہوا تو پھر الگ تھلگ ہی اچھے ہیں۔ چنانچہ مدینہ کے چند منافقوں کو انہوں نے جاسوس بنا کر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس سے پہلے کہ وہ یہاں پہنچیں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتار کر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں فرقوں کے بد ارادوں سے مطلع فرما دیا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3576،قال الشيخ الألباني:حسن] ایک روایت میں ہے کہ یہ دونوں قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ تھے۔ بنو نضیر کی پوری دیت تھی اور بنو قریظہ کی آدھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی دیت یکساں دینے کا فیصلہ صادر فرمایا۔
ایک روایت ہے کہ قرظی اگر کسی نضری کو قتل کر ڈالے تو اس سے قصاص لیتے تھے لیکن اس کے خلاف میں قصاص تھا ہی نہیں سو وسق دیت تھی۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3591،قال الشيخ الألباني:حسن] یہ بہت ممکن ہے کہ ادھر یہ واقعہ ہوا، ادھر زنا کا قصہ واقع ہوا، جس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے ان دونوں پر یہ آیتیں نازل ہوئیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ہاں ایک بات اور ہے جس سے اس دوسری شان نزول کی تقویت ہوتی ہے وہ یہ کہ اس کے بعد ہی فرمایا ہے آیت «وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:45] ، یعنی ’ ہم نے یہودیوں پر تورات میں یہ حکم فرض کر دیا تھا کہ جان کے عوض جان، آنکھ کے عوض آنکھ ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر انہیں کافی کہا گیا جو اللہ کی شریعت اور اس کی اتاری ہوئی وحی کے مطابق فیصلے اور حکم نہ کریں گو یہ آیت شان نزول کے اعتبار سے بقول مفسرین اہل کتاب کے بارے میں ہے لیکن حکم کے اعتبار سے ہر شخص کو شامل ہے۔ بنو اسرائیل کے بارے میں اتری اور اس امت کا بھی یہی حکم ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”رشوت حرام ہے اور رشوت ستانی کے بعد کسی شرعی مسئلہ کے خلاف فتویٰ دینا کفر ہے۔“ سدی رحمة الله فرماتے ہیں ”جس نے وحی الٰہی کے خلاف عمداً فتویٰ دیا جاننے کے باوجود اس کے خلاف کیا وہ کافر ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے اللہ کے فرمان سے انکار کیا، اس کا یہ حکم ہے اور جس نے انکار تو نہ کیا لیکن اس کے مطابق نہ کہا وہ ظالم اور فاسق ہے۔ خواہ اہل کتاب ہو خواہ کوئی اور۔“ شعبی رحمة الله فرماتے ہیں ”مسلمانوں میں جس نے کتاب کے خلاف فتویٰ دیا وہ کافر ہے اور یہودیوں میں دیا ہو تو ظالم ہے اور نصرانیوں میں دیا ہو تو فاسق ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس آیت کے ساتھ ہے۔“ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس کے کفر جیسا نہیں جو سرے سے اللہ کے رسول قرآن اور فرشتوں کا منکر ہو۔“ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «کتم» (چھپانا) کفر سے کم ہے اسی طرح ظلم و فسق کے بھی ادنیٰ اعلیٰ درجے ہیں۔ اس کفر سے وہ ملت اسلام سے پھر جانے والا جاتا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد وہ کفر نہیں جس کی طرف تم جا رہے ہو۔“
42۔ 1 سَمَّاعُوْن کے معنی ہیں بہت سننے والا اس کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں، جاسوسی کرنے کے لئے زیادہ باتیں سننا یا دوسروں کی باتیں ماننے اور قبول کرنے کے لئے سننا، بعض مفسرینن نے پہلے معنی مراد لئے ہیں اور بعض نے دوسرے۔
(آیت 42) ➊ {سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ:} اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، جاسوسی کرنے کے لیے زیادہ باتیں سننا یا دوسروں کی باتیں ماننے اور قبول کرنے کے لیے سننا۔ یہاں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں، جیساکہ آیت (۴۱) کے حاشیہ (۲) میں دونوں قسم کے گروہوں کا بیان ہوا ہے۔ ➋ {لِلسُّحْتِ:} اس کے لفظی معنی مٹانے اور ہلاک کرنے کے ہیں، گویا حرام مال وہ چیز ہے جو انسان کی نیکیوں کو اکارت کر دیتا ہے اور ہر اس خسیس مال پر {”سُحْتٌ“} کا لفظ بولا جاتا ہے جس کے لینے میں عار ہو اور خفیہ طور پر لیا جائے، اس میں رشوت بھی شامل ہے اور احادیث میں زانیہ کی اجرت، کتے، شراب اور مردار کی قیمت کو{”سُحْتٌ“} کہا گیا ہے۔ سود، چوری کا مال اور جوئے سے کمایا ہوا مال بھی {”سُحْتٌ“} میں داخل ہے۔ (کبیر، قرطبی) ➌ جس زمانے میں یہ آیت نازل ہوئی یہودیوں کی حیثیت محض ایک معاہد قوم کی تھی جس کے ساتھ صلح سے رہنے کا معاہدہ تھا اور وہ ذمی، یعنی اسلامی حکومت کی رعایا نہ تھے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت کو اختیار دیا گیا کہ چاہیں تو ان کے مقدمات کا فیصلہ کریں اور چاہیں تو انکار کر دیں اور یہی اختیار اسلامی حکومت کو کسی غیر مسلم معاہد قوم کے افراد کے درمیان فیصلہ کرنے کا ہے۔ رہے ذمی لوگ سو اگر وہ اپنے مقدمات اسلامی عدالت میں لائیں تو ان کے مقدمات کا فیصلہ کرنا ضروری ہو گا۔ (المنار) یہی تفصیل امام شافعی رحمہ اللہ سے منقول ہے، پس اس اختیار کا تعلق معاہد قوم سے ہے۔ (کبیر) مگر دوسرے علماء کا خیال ہے کہ یہ اختیار منسوخ ہے، اب اگر وہ فیصلہ لائیں تو فیصلہ کرنا ہو گا۔ ان علماء میں عمر بن عبد العزیز اور امام نخعی رحمھما اللہ شامل ہیں۔ نحاس نے بھی ناسخ و منسوخ میں یہی لکھا ہے کہ آیت: «فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ» [ المائدۃ: ۴۸ ] سے یہ آیت منسوخ ہے، جس کے معنی ہیں کہ آپ اﷲ کے نازل کردہ کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کریں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا زیادہ صحیح قول بھی یہی ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” شروع سے یہ طریقہ چلا آیا ہے کہ باہمی حقوق اور وراثت میں اہل کتاب کا فیصلہ ان کے دین کے مطابق کیا جائے، ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے اسلامی قانون کے مطابق فیصلے کے خواہش مند ہوں تو پھر اسی کے مطابق کر دیا جائے۔“ اس تفصیل سے ثابت ہوتا ہے کہ گو بعض جزئیات میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم ان کی اکثریت نسخ ہی کی قائل ہے۔ (قرطبی)
اور یہ تمہیں کیسے حَکم بناتے ہیں جبکہ ان کے پاس توراۃ موجود ہے جس میں اللہ کا حکم لکھا ہوا ہے اور پھر یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے
مولانا محمد جوناگڑھی
(تعجب کی بات ہے کہ) وه کیسے اپنے پاس تورات ہوتے ہوئے جس میں احکام الٰہی ہیں تم کو منصف بناتے ہیں پھر اس کے بعد بھی پھر جاتے ہیں، دراصل یہ ایمان ویقین والے ہیں ہی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ تم سے کیونکر فیصلہ چاہیں گے، حالانکہ ان کے پاس توریت ہے جس میں اللہ کا حکم موجود ہے بایں ہمہ اسی سے منہ پھیرتے ہیں اور وہ ایمان لانے والے نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ لوگ آپ کو کس طرح حَکَم (ثالث) بناتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس توراۃ موجود ہے جس میں اللہ کا حکم لکھا ہوا ہے اور پھر یہ (آپ کے فیصلہ کے) بعد اس سے منہ موڑ لیتے ہیں (بات دراصل یہ ہے کہ) یہ مؤمن ہی نہیں ہیں (ہرگز ماننے والے نہیں ہیں)۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ تجھے کیسے منصف بنائیں گے، جبکہ ان کے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم ہے، پھر وہ اس کے بعد پھر جاتے ہیں اور یہ لوگ ہرگز مومن نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ ٭٭
ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔ منافقوں کی یہی حالت ہے کہ زبان کے کھرے، دل کے کھوٹے اور یہی خصلت یہودیوں کی ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ جھوٹ کو مزے مزے سے سنتے ہیں اور دل کھول کر قبول کرتے ہیں۔ لیکن سچ سے بھاگتے ہیں، بلکہ نفرت کرتے ہیں اور جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں نہیں آتے یہ یہاں کی وہاں پہنچاتے ہیں۔ ان کی طرف سے جاسوسی کرنے کو آتے ہیں۔ پھر نالائقی یہ کرتے ہیں کہ یہ بات کو بدل ڈالا کرتے ہیں مطلب کچھ ہو، لے کر کچھ اڑتے ہیں، ارادے یہی ہیں کہ اگر تمہاری خواہش کے مطابق کہے تو مان لو، طبیعت کے خلاف ہو تو دور رہو۔ کہا کیا گیا ہے کہ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں اتری تھی جن میں ایک کو دوسرے نے قتل کر دیا تھا، اب کہنے لگے چلو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیت جرمانے کا حکم دیں تو منظور کر لیں گے اور اگر قصاص بدلے کو فرمائیں تو نہیں مانیں گے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک زنا کار کو لے کر آئے تھے۔ ان کی کتاب توراۃ میں دراصل حکم تو یہ تھا کہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کیا جائے۔
لیکن انہوں نے اسے بدل ڈالا تھا اور سو کوڑے مار کر، منہ کالا کر کے، الٹا گدھا سوار کر کے رسوائی کر کے چھوڑ دیتے تھے۔ جب ہجرت کے بعد ان میں سے کوئی زناکاری کے جرم میں پکڑا گیا تو یہ کہنے لگے آؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کریں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہی فرمائیں جو ہم کرتے ہیں تو اسے قبول کریں گے اور اللہ کے ہاں بھی یہ ہماری سند ہو جائے گی اور اگر رجم کو فرمائیں گے تو نہیں مانیں گے۔ چنانچہ یہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ ہمارے ایک مرد عورت نے بدکاری کی ہے، ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمہارے ہاں توراۃ میں کیا حکم ہے؟ } انہوں نے کہا ہم تو اسے رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مار کر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سن کر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جھوٹ کہتے ہیں، تورات میں سنگسار کا حکم ہے۔ اور آیت میں ہے «قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:93] یعنی ’ اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (یعنی دلیل پیش کرو) ‘، انہوں نے تورات کھولی لیکن آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے کی سب عبارت پڑھ سنائی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اپنے ہاتھ کو تو ہٹا“، ہاتھ ہٹایا تو سنگسار کرنے کی آیت موجود تھی، اب تو انہیں بھی اقرار کرنا پڑا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے زانیوں کو سنگسار کر دیا گیا، عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے دیکھا کہ وہ زانی اس عورت کو پتھروں سے بچانے کیلئے اس کے آڑے آجاتا تھا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:6841]
اور سند سے مروی ہے کہ یہودیوں نے کہا ”ہم تو اسے کالا منہ کر کے کچھ مار پیٹ کر چھوڑ دیتے ہیں۔“ اور آیت کے ظاہر ہونے کے بعد انہوں نے کہا، ہے تو یہی حکم لیکن ہم نے تو اسے چھپایا تھا، جو پڑھ رہا تھا اسی نے رجم کی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا، جب اس کا ہاتھ اٹھوایا تو آیت پر اچٹتی ہوئی نظر پڑ گئی۔ ان دونوں کے رجم کرنے والوں میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے اپنے آدمی بھیج کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا تھا، اپنے مدرسے میں گدی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بٹھایا تھا اور جو اب تورات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھ رہا تھا، وہ ان کا بہت بڑا عالم تھا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4449،قال الشيخ الألباني:حسن] ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قسم دے کر پوچھا تھا کہ تم تورات میں شادی شدہ زانی کی کیا سزا پاتے ہو؟ } تو انہوں نے یہی جواب دیا تھا لیکن ایک نوجوان کچھ نہ بولا، خاموش ہی کھڑا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر خاص اسے دوبارہ قسم دی اور جواب مانگا، اس نے کہا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قسمیں دے رہے ہیں تو میں جھوٹ نہ بولوں گا، واقعی تورات میں ان لوگوں کی سزا سنگساری ہے۔ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اچھا پھر یہ بھی سچ سچ بتاؤ کہ پہلے پہل اس رجم کو تم نے کیوں اور کس پر سے اڑایا؟ } } اس نے کہا ہمارے کسی بادشاہ کے رشتے دار، بڑے آدمی نے زناکاری کی۔ اس کی عظمت اور بادشاہ کی ہیبت کے مارے اسے رجم کرو ورنہ اسے بھی چھوڑو۔ آخر ہم نے مل ملا کر یہ طے کیا کہ بجائے رجم کے اس قسم کی کوئی سزا مقرر کر دی جائے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توراۃ کے حکم کو جاری کیا اور اسی بارے میں آیت «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ» ۱؎ [5-المائدہ:44] ، اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان احکام کے جاری کرنے والوں میں سے ہیں ۱؎ [سنن ابوداود:4450،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص کو یہودی کالا منہ کئے لے جا رہے تھے اور اسے کوڑے بھی مار رکھے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا کر ان سے ماجرا پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { کیا زانی کی یہی سزا تمہارے ہاں ہے؟ } کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ایک عالم کو بلا کر اسے سخت قسم دے کر پوچھا تو اس نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قسم نہ دیتے تو میں ہرگز نہ بتاتا، بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں دراصل زناکاری کی سزا سنگساری ہے لیکن چونکہ امیر امراء اور شرفاء لوگوں میں یہ بدکاری بڑھ گئی تھی اور انہیں اس قسم کی سزا دینی ہم نے مناسب نہ جانی، اس لیے انہیں تو چھوڑ دیتے تھے اور اللہ کا حکم مارا نہ جائے اس لیے غریب غرباء، کم حیثیت لوگوں کو رجم کرا دیتے تھے پھر ہم نے رائے زنی کی کہ آؤ کوئی ایسی سزا تجویز کرو کہ شریف و غیر شریف، امیر غریب پر سب پر یکساں جاری ہو سکے چنانچہ ہمارا سب کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ منہ کالے کر دیں اور کوڑے لگائیں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان دونوں کو سنگسار کرو چنانچہ انہیں رجم کر دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اللہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے ایک مردہ حکم کو زندہ کیا }۔ اس پر آیت «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:41] سے «وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:44] تک نازل ہوئی۔ انہی یہودیوں کے بارے میں اور آیت میں ہے کہ ’ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے ظالم ہیں ‘ اور آیت میں ہے ’ فاسق ہیں ‘۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1700]
اور روایت میں ہے واقعہ زنا فدک میں ہوا تھا اور وہاں کے یہودیوں نے مدینے شریف کے یہودیوں کو لکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھوایا تھا جو عالم ان کا آیا اس کا نام ابن صوریا تھا، یہ آنکھ کا بھینگا تھا، اور اس کے ساتھ دوسرا عالم بھی تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں قسم دی تو دونوں نے قبول دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہا تھا، { تمہیں اس اللہ کی قسم جس نے بنو اسرائیل کیلئے پانی میں راہ کر دی تھی اور ابر کا سایہ ان پر کیا تھا اور فرعونیوں سے بچا لیا تھا اور من و سلویٰ اتارا تھا }۔ اس قسم سے وہ چونک گئے اور آپس میں کہنے لگے بڑی زبردست قسم ہے، اس موقع پر جھوٹ بولنا ٹھیک نہیں تو کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تورات میں یہ ہے کہ بری نظر سے دیکھنا بھی مثل زنا کے ہے اور گلے لگانا بھی اور بوسہ لینا بھی، پھر اگر چار گواہ اس بات کے ہوں کہ انہوں نے دخول خروج دیکھا ہے جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں جاتی آتی ہے تو رجم واجب ہو جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہی مسئلہ ہے پھر حکم دیا اور انہیں رجم کرا دیا گیا}۔ اس پر آیت «فَاِنْ جَاءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا وَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:42] ، اتری۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4452، قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک روایت میں جو دو عالم سامنے لائے گئے تھے، یہ دونوں صوریا کے لڑکے تھے۔ ترک حد کا سبب اس روایت میں یہودیوں کی طرف سے یہ بیان ہوا ہے کہ جب ہم میں سلطنت نہ رہی تو ہم نے اپنے آدمیوں کی جان لینی مناسب نہ سمجھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلوا کر گواہی لی جنہوں نے بیان دیا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے انہیں اس برائی میں دیکھا ہے، جس طرح سرمہ دانی میں سلائی ہوتی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4452،قال الشيخ الألباني:صحیح] دراصل توراۃ وغیرہ کا منگوانا ان کے عالموں کو بلوانا، یہ سب انہیں الزام دینے کیلئے نہ تھا، نہ اس لیے تھا کہ وہ اسی کے ماننے کے مکلف ہیں، نہیں بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان واجب العمل ہے، اس سے مقصد ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا اظہار تھا کہ اللہ کی وحی سے آپ نے یہ معلوم کر لیا کہ ان کی تورات میں بھی حکم رجم موجود ہے اور یہی نکلا، دوسرے ان کی رسوائی کہ انہیں پہلے کے انکار کے بعد اقرار کرنا پڑا اور دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ یہ لوگ فرمان الٰہی کو چھپا لینے والے اور اپنی رائے قیاس پر عمل کرنے والے ہیں۔
اور اس لیے بھی کہ یہ لوگ سچے دل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس لیے نہیں آئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری کریں بلکہ محض اس لیے آئے تھے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے اجماع کے موافق پائیں گے تو اتحاد کر لیں گے ورنہ ہرگز قبول نہ کریں گے۔ اسی لیے فرمان ہے کہ ’ جنہیں اللہ گمراہ کر دے تو ان کو کسی قسم سے راہ راست آنے کا اختیار نہیں ہے ان کے گندے دلوں کو پاک کرنے کا اللہ کا ارادہ نہیں، یہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں داخل نار ہوں گے۔ یہ باطل کو کان لگا کر مزے لے کر سننے والے ہیں اور رشوت جیسی حرام چیز کو دن دہاڑے کھانے والے ہیں، بھلا ان کے نجس دل کیسے پاک ہوں گے؟ اور ان کی دعائیں اللہ کیسے سنے گا؟ اگر یہ تیرے پاس آئیں تو تجھے اختیار ہے کہ ان کے فیصلے کر یا نہ کر اگر تو ان سے منہ پھیر لے جب بھی یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ ان کا قصد اتباع حق نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کی پیروی ہے ‘۔ بعض بزرگ کہتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے اس آیت سے «وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكَ» ۱؎ [5-المائدہ:49] پھر فرمایا ’ اگر تو ان میں فیصلے کرے تو عدل و انصاف کے ساتھ کر، گو یہ خود ظالم ہیں اور عدل سے ہٹے ہوئے ہیں اور مان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل لوگوں سے محبت رکھتا ہے ‘۔ پھر ان کی خباثت بدباطنی اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ ’ ایک طرف تو اس کتاب اللہ کو چھوڑ رکھا ہے، جس کی تابعداری اور حقانیت کے خود قائل ہیں، دوسری طرف اس جانب جھک رہے ہیں، جسے نہیں مانتے اور جسے جھوٹ مشہور کر رکھا ہے، پھر اس میں بھی نیت بد ہے کہ اگر وہاں سے ہماری خواہش ہے مطابق حکم ملے گا تو لے لیں گے، ورنہ چھوڑ چھاڑ دیں گے ‘۔
تو فرمایا کہ ’ یہ کیسے تیری فرماں برداری کریں گے؟ انہوں نے تو تورات کو بھی چھوڑ رکھا ہے، جس میں اللہ کے احکامات ہونے کا اقرار انہیں بھی ہے لیکن پھر بھی بے ایمانی کر کے اس سے پھر جاتے ہیں ‘۔ پھر اس تورات کی مدحت و تعریف بیان فرمائی جو اس نے اپنے برگزیدہ رسول موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر نازل فرمائی تھی کہ اس میں ہدایت و نورانیت تھی۔ انبیاء علیہ السلام جو اللہ کے زیر فرمان تھے، اسی پر فیصلے کرتے رہے، یہودیوں میں اسی کے احکام جاری کرتے رہے، تبدیلی اور تحریف سے بچے رہے، ربانی یعنی عابد، علماء اور احبار یعنی ذی علم لوگ بھی اسی روش پر رہے۔ کیونکہ انہیں یہ پاک کتاب سونپی گئی تھی اور اس کے اظہار کا اور اس پر عمل کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ و شاہد تھے۔ ’ اب تمہیں چاہیئے کہ بجز اللہ کے کسی اور سے نہ ڈرو۔ ہاں قدم قدم اور لمحہ لمحہ پر خوف رکھو اور میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول فروخت نہ کیا کرو۔ جان لو کہ اللہ کی وحی کا حکم جو نہ مانے وہ کافر ہے ‘۔ اس میں دو قول ہیں جو ابھی بیان ہوں گے ان شاءاللہ۔ ان آیتوں کا ایک شان نزول بھی سن لیجئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”ایسے لوگوں کو اس آیت میں تو کافر کہا دوسری میں ظالم تیسری میں فاسق۔ بات یہ ہے کہ یہودیوں کے دو گروہ تھے، ایک غالب تھا، دوسرا مغلوب۔ ان کی آپس میں اس بات پر صلح ہوئی تھی کہ غالب، ذی عزت فرقے کا کوئی شخص اگر مغلوب ذلیل فرقے کے کسی شخص کو قتل کر ڈالے تو پچاس وسق دیت دے اور ذلیل لوگوں میں سے کوئی عزیز کو قتل کر دے تو ایک سو وسق دیت دے۔ یہی رواج ان میں چلا آ رہا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے، اس کے بعد ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ان نیچے والے یہودیوں میں سے کسی نے کسی اونچے یہودی کو مار ڈالا۔
یہاں سے آدمی گیا کہ لاؤ سو وسق دلاؤ دلواؤ، وہاں سے جواب ملا کہ یہ صریح ناانصافی ہے کہ ہم دونوں ایک ہی قبیلے کے، ایک ہی دین کے، ایک ہی نسب کے، ایک ہی شہر کے پھر ہماری دیت کم اور تمہارا زیادہ؟ ہم چونکہ اب تک تمہارے دبے ہوئے تھے، اس ناانصافی کو بادل ناخواستہ برداشت کرتے رہے لیکن اب جب کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عادل بادشاہ یہاں آگئے ہیں ہم تمہیں اتنی ہی دیت دیں گے جتنی تم ہمیں دو۔ اس بات پر ادھر ادھر سے آستینیں چڑھ گئیں، پھر آپس میں یہ بات طے ہوئی کہ اچھا اس جھگڑے کا فیصلہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے۔ لیکن اونچی قوم کے لوگوں نے آپس میں جب مشورہ کیا تو ان کے سمجھداروں نے کہا دیکھو اس سے ہاتھ دھو رکھو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ناانصافی پہ مبنی حکم کریں۔ یہ تو صریح زیادتی ہے کہ ہم آدھی دیں اور پوری لیں اور فی الواقع ان لوگوں نے دب کر اسے منظور کیا تھا جو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اور ثالث مقرر کیا ہے تو یقیناً تمہارا یہ حق مارا جائے گا کسی نے رائے دی کہ اچھا یوں کرو، کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چپکے سے بھیج دو، وہ معلوم کر آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کیا کریں گے؟ اگر ہماری حمایت میں ہوا تب تو بہت اچھا چلو اور ان سے حق حاصل کر آؤ اور اگر خلاف ہوا تو پھر الگ تھلگ ہی اچھے ہیں۔ چنانچہ مدینہ کے چند منافقوں کو انہوں نے جاسوس بنا کر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس سے پہلے کہ وہ یہاں پہنچیں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتار کر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں فرقوں کے بد ارادوں سے مطلع فرما دیا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3576،قال الشيخ الألباني:حسن] ایک روایت میں ہے کہ یہ دونوں قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ تھے۔ بنو نضیر کی پوری دیت تھی اور بنو قریظہ کی آدھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی دیت یکساں دینے کا فیصلہ صادر فرمایا۔
ایک روایت ہے کہ قرظی اگر کسی نضری کو قتل کر ڈالے تو اس سے قصاص لیتے تھے لیکن اس کے خلاف میں قصاص تھا ہی نہیں سو وسق دیت تھی۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3591،قال الشيخ الألباني:حسن] یہ بہت ممکن ہے کہ ادھر یہ واقعہ ہوا، ادھر زنا کا قصہ واقع ہوا، جس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے ان دونوں پر یہ آیتیں نازل ہوئیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ہاں ایک بات اور ہے جس سے اس دوسری شان نزول کی تقویت ہوتی ہے وہ یہ کہ اس کے بعد ہی فرمایا ہے آیت «وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:45] ، یعنی ’ ہم نے یہودیوں پر تورات میں یہ حکم فرض کر دیا تھا کہ جان کے عوض جان، آنکھ کے عوض آنکھ ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر انہیں کافی کہا گیا جو اللہ کی شریعت اور اس کی اتاری ہوئی وحی کے مطابق فیصلے اور حکم نہ کریں گو یہ آیت شان نزول کے اعتبار سے بقول مفسرین اہل کتاب کے بارے میں ہے لیکن حکم کے اعتبار سے ہر شخص کو شامل ہے۔ بنو اسرائیل کے بارے میں اتری اور اس امت کا بھی یہی حکم ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”رشوت حرام ہے اور رشوت ستانی کے بعد کسی شرعی مسئلہ کے خلاف فتویٰ دینا کفر ہے۔“ سدی رحمة الله فرماتے ہیں ”جس نے وحی الٰہی کے خلاف عمداً فتویٰ دیا جاننے کے باوجود اس کے خلاف کیا وہ کافر ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے اللہ کے فرمان سے انکار کیا، اس کا یہ حکم ہے اور جس نے انکار تو نہ کیا لیکن اس کے مطابق نہ کہا وہ ظالم اور فاسق ہے۔ خواہ اہل کتاب ہو خواہ کوئی اور۔“ شعبی رحمة الله فرماتے ہیں ”مسلمانوں میں جس نے کتاب کے خلاف فتویٰ دیا وہ کافر ہے اور یہودیوں میں دیا ہو تو ظالم ہے اور نصرانیوں میں دیا ہو تو فاسق ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس آیت کے ساتھ ہے۔“ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس کے کفر جیسا نہیں جو سرے سے اللہ کے رسول قرآن اور فرشتوں کا منکر ہو۔“ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «کتم» (چھپانا) کفر سے کم ہے اسی طرح ظلم و فسق کے بھی ادنیٰ اعلیٰ درجے ہیں۔ اس کفر سے وہ ملت اسلام سے پھر جانے والا جاتا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد وہ کفر نہیں جس کی طرف تم جا رہے ہو۔“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 43)➊ {وَ كَيْفَ يُحَكِّمُوْنَكَ:} یہاں ان کی جہالت و عناد کا بیان ہے، یعنی وہ جانتے ہیں کہ جو مقدمہ وہ آپ کے پاس لا رہے ہیں، اس کا فیصلہ تورات میں موجود ہے، تاہم آپ کے پاس اس لیے مقدمہ لاتے ہیں کہ شاید آپ کا فیصلہ تورات کی بہ نسبت کچھ ہلکا ہو، لیکن جب آپ کا فیصلہ بھی وہی ہوتا ہے جو تورات کا ہوتا ہے تو وہ اسے ماننے سے انکار کر دیتے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ تو وہ تورات پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ آپ پر۔ اصل میں یہ اپنی اغراض کے بندے ہیں اور ان کا مقصدِ حیات ہی دنیوی مصالح کا حاصل کرنا ہے۔ (کبیر) ➋ {وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِيْهَا حُكْمُ اللّٰهِ:} اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے تورات میں موجود رجم کے فیصلے کو اﷲ کا فیصلہ قرار دیا ہے، جو لوگ رجم کے منکر ہیں اگرچہ بہت سی صحیح احادیث بھی ان کا رد کرتی ہیں، مگر یہ آیت پختہ ترین مضبوط دلیل ہے کہ قرآن نے تورات میں موجود رجم کے حکم کو اﷲ کا حکم قرار دیا ہے، پھر نہ اس کی تردید کی ہے نہ منسوخ کہا ہے، بلکہ اﷲ کے اس حکم کو یہود اور مسلمان دونوں پر نافذ فرمایا۔ معلوم ہوا قرآن میں بھی رجم کا ذکر موجود ہے۔
ہم نے توراۃ نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی سارے نبی، جو مسلم تھے، اُسی کے مطابق اِن یہودی بن جانے والوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے، اور اِسی طرح ربانی اور احبار بھی (اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے) کیونکہ انہیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے پس (اے گروہ یہود!) تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑ دو جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے تورات نازل فرمائی ہے جس میں ہدایت ونور ہے، یہودیوں میں اسی تورات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ماننے والے انبیا (علیہم السلام) اور اہل اللہ اور علما فیصلے کرتے تھے کیونکہ انہیں اللہ کی اس کتاب کی حفاﻇت کا حکم دیا گیا تھا۔ اور وه اس پر اقراری گواه تھے اب تمہیں چاہیئے کہ لوگوں سے نہ ڈرو اور صرف میرا ڈر رکھو، میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول پر نہ بیچو، جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلے نہ کریں وه (پورے اور پختہ) کافر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے توریت اتاری اس میں ہدایت اور نور ہے، اس کے مطابق یہود کو حکم دیتے تھے ہمارے فرمانبردار نبی اور عالم اور فقیہہ کہ ان سے کتاب اللہ کی حفاظت چاہی گئی تھی اور وہ اس پر گواہ تھے تو لوگوں سے خوف نہ کرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کے بدلے ذلیل قیمت نہ لو اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے وہی لوگ کافر ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے توراۃ نازل کی جس میں ہدایت اور نور (روشنی) تھی اس کے مطابق یہودیوں کے لئے فیصلے کرتے تھے۔ وہ تمام نبی جو اللہ کے مطیع و فرمانبردار تھے اللہ والے علماء و احبار بھی اس کے مطابق فیصلے کرتے تھے جس کی حفاظت کے وہ ذمہ دار بنائے گئے تھے اور جس کے وہ گواہ تھے۔ پس تم لوگوں سے نہ ڈرو۔ بلکہ مجھ سے ڈرو۔ اور میری آیات کو تھوڑی سی قیمت کے عوض فروخت نہ کرو اور جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ کافر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم نے تورات اتاری، جس میں ہدایت اور روشنی تھی، اس کے مطابق فیصلہ کرتے تھے انبیاء جو فرماں بردار تھے، ان لوگوں کے لیے جو یہودی بنے اور رب والے اور علماء، اس لیے کہ وہ اللہ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے تھے اور وہ اس پر گواہ تھے۔ تو تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیات کے بدلے تھوڑی قیمت نہ لو اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ کافر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ ٭٭
ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔ منافقوں کی یہی حالت ہے کہ زبان کے کھرے، دل کے کھوٹے اور یہی خصلت یہودیوں کی ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ جھوٹ کو مزے مزے سے سنتے ہیں اور دل کھول کر قبول کرتے ہیں۔ لیکن سچ سے بھاگتے ہیں، بلکہ نفرت کرتے ہیں اور جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں نہیں آتے یہ یہاں کی وہاں پہنچاتے ہیں۔ ان کی طرف سے جاسوسی کرنے کو آتے ہیں۔ پھر نالائقی یہ کرتے ہیں کہ یہ بات کو بدل ڈالا کرتے ہیں مطلب کچھ ہو، لے کر کچھ اڑتے ہیں، ارادے یہی ہیں کہ اگر تمہاری خواہش کے مطابق کہے تو مان لو، طبیعت کے خلاف ہو تو دور رہو۔ کہا کیا گیا ہے کہ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں اتری تھی جن میں ایک کو دوسرے نے قتل کر دیا تھا، اب کہنے لگے چلو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیت جرمانے کا حکم دیں تو منظور کر لیں گے اور اگر قصاص بدلے کو فرمائیں تو نہیں مانیں گے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک زنا کار کو لے کر آئے تھے۔ ان کی کتاب توراۃ میں دراصل حکم تو یہ تھا کہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کیا جائے۔
لیکن انہوں نے اسے بدل ڈالا تھا اور سو کوڑے مار کر، منہ کالا کر کے، الٹا گدھا سوار کر کے رسوائی کر کے چھوڑ دیتے تھے۔ جب ہجرت کے بعد ان میں سے کوئی زناکاری کے جرم میں پکڑا گیا تو یہ کہنے لگے آؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کریں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہی فرمائیں جو ہم کرتے ہیں تو اسے قبول کریں گے اور اللہ کے ہاں بھی یہ ہماری سند ہو جائے گی اور اگر رجم کو فرمائیں گے تو نہیں مانیں گے۔ چنانچہ یہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ ہمارے ایک مرد عورت نے بدکاری کی ہے، ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمہارے ہاں توراۃ میں کیا حکم ہے؟ } انہوں نے کہا ہم تو اسے رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مار کر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سن کر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جھوٹ کہتے ہیں، تورات میں سنگسار کا حکم ہے۔ اور آیت میں ہے «قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:93] یعنی ’ اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (یعنی دلیل پیش کرو) ‘، انہوں نے تورات کھولی لیکن آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے کی سب عبارت پڑھ سنائی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اپنے ہاتھ کو تو ہٹا“، ہاتھ ہٹایا تو سنگسار کرنے کی آیت موجود تھی، اب تو انہیں بھی اقرار کرنا پڑا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے زانیوں کو سنگسار کر دیا گیا، عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے دیکھا کہ وہ زانی اس عورت کو پتھروں سے بچانے کیلئے اس کے آڑے آجاتا تھا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:6841]
اور سند سے مروی ہے کہ یہودیوں نے کہا ”ہم تو اسے کالا منہ کر کے کچھ مار پیٹ کر چھوڑ دیتے ہیں۔“ اور آیت کے ظاہر ہونے کے بعد انہوں نے کہا، ہے تو یہی حکم لیکن ہم نے تو اسے چھپایا تھا، جو پڑھ رہا تھا اسی نے رجم کی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا، جب اس کا ہاتھ اٹھوایا تو آیت پر اچٹتی ہوئی نظر پڑ گئی۔ ان دونوں کے رجم کرنے والوں میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے اپنے آدمی بھیج کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا تھا، اپنے مدرسے میں گدی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بٹھایا تھا اور جو اب تورات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھ رہا تھا، وہ ان کا بہت بڑا عالم تھا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4449،قال الشيخ الألباني:حسن] ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قسم دے کر پوچھا تھا کہ تم تورات میں شادی شدہ زانی کی کیا سزا پاتے ہو؟ } تو انہوں نے یہی جواب دیا تھا لیکن ایک نوجوان کچھ نہ بولا، خاموش ہی کھڑا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر خاص اسے دوبارہ قسم دی اور جواب مانگا، اس نے کہا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قسمیں دے رہے ہیں تو میں جھوٹ نہ بولوں گا، واقعی تورات میں ان لوگوں کی سزا سنگساری ہے۔ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اچھا پھر یہ بھی سچ سچ بتاؤ کہ پہلے پہل اس رجم کو تم نے کیوں اور کس پر سے اڑایا؟ } } اس نے کہا ہمارے کسی بادشاہ کے رشتے دار، بڑے آدمی نے زناکاری کی۔ اس کی عظمت اور بادشاہ کی ہیبت کے مارے اسے رجم کرو ورنہ اسے بھی چھوڑو۔ آخر ہم نے مل ملا کر یہ طے کیا کہ بجائے رجم کے اس قسم کی کوئی سزا مقرر کر دی جائے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توراۃ کے حکم کو جاری کیا اور اسی بارے میں آیت «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ» ۱؎ [5-المائدہ:44] ، اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان احکام کے جاری کرنے والوں میں سے ہیں ۱؎ [سنن ابوداود:4450،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص کو یہودی کالا منہ کئے لے جا رہے تھے اور اسے کوڑے بھی مار رکھے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا کر ان سے ماجرا پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { کیا زانی کی یہی سزا تمہارے ہاں ہے؟ } کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ایک عالم کو بلا کر اسے سخت قسم دے کر پوچھا تو اس نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قسم نہ دیتے تو میں ہرگز نہ بتاتا، بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں دراصل زناکاری کی سزا سنگساری ہے لیکن چونکہ امیر امراء اور شرفاء لوگوں میں یہ بدکاری بڑھ گئی تھی اور انہیں اس قسم کی سزا دینی ہم نے مناسب نہ جانی، اس لیے انہیں تو چھوڑ دیتے تھے اور اللہ کا حکم مارا نہ جائے اس لیے غریب غرباء، کم حیثیت لوگوں کو رجم کرا دیتے تھے پھر ہم نے رائے زنی کی کہ آؤ کوئی ایسی سزا تجویز کرو کہ شریف و غیر شریف، امیر غریب پر سب پر یکساں جاری ہو سکے چنانچہ ہمارا سب کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ منہ کالے کر دیں اور کوڑے لگائیں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان دونوں کو سنگسار کرو چنانچہ انہیں رجم کر دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اللہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے ایک مردہ حکم کو زندہ کیا }۔ اس پر آیت «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:41] سے «وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:44] تک نازل ہوئی۔ انہی یہودیوں کے بارے میں اور آیت میں ہے کہ ’ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے ظالم ہیں ‘ اور آیت میں ہے ’ فاسق ہیں ‘۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1700]
اور روایت میں ہے واقعہ زنا فدک میں ہوا تھا اور وہاں کے یہودیوں نے مدینے شریف کے یہودیوں کو لکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھوایا تھا جو عالم ان کا آیا اس کا نام ابن صوریا تھا، یہ آنکھ کا بھینگا تھا، اور اس کے ساتھ دوسرا عالم بھی تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں قسم دی تو دونوں نے قبول دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہا تھا، { تمہیں اس اللہ کی قسم جس نے بنو اسرائیل کیلئے پانی میں راہ کر دی تھی اور ابر کا سایہ ان پر کیا تھا اور فرعونیوں سے بچا لیا تھا اور من و سلویٰ اتارا تھا }۔ اس قسم سے وہ چونک گئے اور آپس میں کہنے لگے بڑی زبردست قسم ہے، اس موقع پر جھوٹ بولنا ٹھیک نہیں تو کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تورات میں یہ ہے کہ بری نظر سے دیکھنا بھی مثل زنا کے ہے اور گلے لگانا بھی اور بوسہ لینا بھی، پھر اگر چار گواہ اس بات کے ہوں کہ انہوں نے دخول خروج دیکھا ہے جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں جاتی آتی ہے تو رجم واجب ہو جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہی مسئلہ ہے پھر حکم دیا اور انہیں رجم کرا دیا گیا}۔ اس پر آیت «فَاِنْ جَاءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا وَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:42] ، اتری۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4452، قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک روایت میں جو دو عالم سامنے لائے گئے تھے، یہ دونوں صوریا کے لڑکے تھے۔ ترک حد کا سبب اس روایت میں یہودیوں کی طرف سے یہ بیان ہوا ہے کہ جب ہم میں سلطنت نہ رہی تو ہم نے اپنے آدمیوں کی جان لینی مناسب نہ سمجھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلوا کر گواہی لی جنہوں نے بیان دیا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے انہیں اس برائی میں دیکھا ہے، جس طرح سرمہ دانی میں سلائی ہوتی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4452،قال الشيخ الألباني:صحیح] دراصل توراۃ وغیرہ کا منگوانا ان کے عالموں کو بلوانا، یہ سب انہیں الزام دینے کیلئے نہ تھا، نہ اس لیے تھا کہ وہ اسی کے ماننے کے مکلف ہیں، نہیں بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان واجب العمل ہے، اس سے مقصد ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا اظہار تھا کہ اللہ کی وحی سے آپ نے یہ معلوم کر لیا کہ ان کی تورات میں بھی حکم رجم موجود ہے اور یہی نکلا، دوسرے ان کی رسوائی کہ انہیں پہلے کے انکار کے بعد اقرار کرنا پڑا اور دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ یہ لوگ فرمان الٰہی کو چھپا لینے والے اور اپنی رائے قیاس پر عمل کرنے والے ہیں۔
اور اس لیے بھی کہ یہ لوگ سچے دل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس لیے نہیں آئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری کریں بلکہ محض اس لیے آئے تھے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے اجماع کے موافق پائیں گے تو اتحاد کر لیں گے ورنہ ہرگز قبول نہ کریں گے۔ اسی لیے فرمان ہے کہ ’ جنہیں اللہ گمراہ کر دے تو ان کو کسی قسم سے راہ راست آنے کا اختیار نہیں ہے ان کے گندے دلوں کو پاک کرنے کا اللہ کا ارادہ نہیں، یہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں داخل نار ہوں گے۔ یہ باطل کو کان لگا کر مزے لے کر سننے والے ہیں اور رشوت جیسی حرام چیز کو دن دہاڑے کھانے والے ہیں، بھلا ان کے نجس دل کیسے پاک ہوں گے؟ اور ان کی دعائیں اللہ کیسے سنے گا؟ اگر یہ تیرے پاس آئیں تو تجھے اختیار ہے کہ ان کے فیصلے کر یا نہ کر اگر تو ان سے منہ پھیر لے جب بھی یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ ان کا قصد اتباع حق نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کی پیروی ہے ‘۔ بعض بزرگ کہتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے اس آیت سے «وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكَ» ۱؎ [5-المائدہ:49] پھر فرمایا ’ اگر تو ان میں فیصلے کرے تو عدل و انصاف کے ساتھ کر، گو یہ خود ظالم ہیں اور عدل سے ہٹے ہوئے ہیں اور مان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل لوگوں سے محبت رکھتا ہے ‘۔ پھر ان کی خباثت بدباطنی اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ ’ ایک طرف تو اس کتاب اللہ کو چھوڑ رکھا ہے، جس کی تابعداری اور حقانیت کے خود قائل ہیں، دوسری طرف اس جانب جھک رہے ہیں، جسے نہیں مانتے اور جسے جھوٹ مشہور کر رکھا ہے، پھر اس میں بھی نیت بد ہے کہ اگر وہاں سے ہماری خواہش ہے مطابق حکم ملے گا تو لے لیں گے، ورنہ چھوڑ چھاڑ دیں گے ‘۔
تو فرمایا کہ ’ یہ کیسے تیری فرماں برداری کریں گے؟ انہوں نے تو تورات کو بھی چھوڑ رکھا ہے، جس میں اللہ کے احکامات ہونے کا اقرار انہیں بھی ہے لیکن پھر بھی بے ایمانی کر کے اس سے پھر جاتے ہیں ‘۔ پھر اس تورات کی مدحت و تعریف بیان فرمائی جو اس نے اپنے برگزیدہ رسول موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر نازل فرمائی تھی کہ اس میں ہدایت و نورانیت تھی۔ انبیاء علیہ السلام جو اللہ کے زیر فرمان تھے، اسی پر فیصلے کرتے رہے، یہودیوں میں اسی کے احکام جاری کرتے رہے، تبدیلی اور تحریف سے بچے رہے، ربانی یعنی عابد، علماء اور احبار یعنی ذی علم لوگ بھی اسی روش پر رہے۔ کیونکہ انہیں یہ پاک کتاب سونپی گئی تھی اور اس کے اظہار کا اور اس پر عمل کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ و شاہد تھے۔ ’ اب تمہیں چاہیئے کہ بجز اللہ کے کسی اور سے نہ ڈرو۔ ہاں قدم قدم اور لمحہ لمحہ پر خوف رکھو اور میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول فروخت نہ کیا کرو۔ جان لو کہ اللہ کی وحی کا حکم جو نہ مانے وہ کافر ہے ‘۔ اس میں دو قول ہیں جو ابھی بیان ہوں گے ان شاءاللہ۔ ان آیتوں کا ایک شان نزول بھی سن لیجئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”ایسے لوگوں کو اس آیت میں تو کافر کہا دوسری میں ظالم تیسری میں فاسق۔ بات یہ ہے کہ یہودیوں کے دو گروہ تھے، ایک غالب تھا، دوسرا مغلوب۔ ان کی آپس میں اس بات پر صلح ہوئی تھی کہ غالب، ذی عزت فرقے کا کوئی شخص اگر مغلوب ذلیل فرقے کے کسی شخص کو قتل کر ڈالے تو پچاس وسق دیت دے اور ذلیل لوگوں میں سے کوئی عزیز کو قتل کر دے تو ایک سو وسق دیت دے۔ یہی رواج ان میں چلا آ رہا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے، اس کے بعد ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ان نیچے والے یہودیوں میں سے کسی نے کسی اونچے یہودی کو مار ڈالا۔
یہاں سے آدمی گیا کہ لاؤ سو وسق دلاؤ دلواؤ، وہاں سے جواب ملا کہ یہ صریح ناانصافی ہے کہ ہم دونوں ایک ہی قبیلے کے، ایک ہی دین کے، ایک ہی نسب کے، ایک ہی شہر کے پھر ہماری دیت کم اور تمہارا زیادہ؟ ہم چونکہ اب تک تمہارے دبے ہوئے تھے، اس ناانصافی کو بادل ناخواستہ برداشت کرتے رہے لیکن اب جب کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عادل بادشاہ یہاں آگئے ہیں ہم تمہیں اتنی ہی دیت دیں گے جتنی تم ہمیں دو۔ اس بات پر ادھر ادھر سے آستینیں چڑھ گئیں، پھر آپس میں یہ بات طے ہوئی کہ اچھا اس جھگڑے کا فیصلہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے۔ لیکن اونچی قوم کے لوگوں نے آپس میں جب مشورہ کیا تو ان کے سمجھداروں نے کہا دیکھو اس سے ہاتھ دھو رکھو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ناانصافی پہ مبنی حکم کریں۔ یہ تو صریح زیادتی ہے کہ ہم آدھی دیں اور پوری لیں اور فی الواقع ان لوگوں نے دب کر اسے منظور کیا تھا جو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اور ثالث مقرر کیا ہے تو یقیناً تمہارا یہ حق مارا جائے گا کسی نے رائے دی کہ اچھا یوں کرو، کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چپکے سے بھیج دو، وہ معلوم کر آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کیا کریں گے؟ اگر ہماری حمایت میں ہوا تب تو بہت اچھا چلو اور ان سے حق حاصل کر آؤ اور اگر خلاف ہوا تو پھر الگ تھلگ ہی اچھے ہیں۔ چنانچہ مدینہ کے چند منافقوں کو انہوں نے جاسوس بنا کر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس سے پہلے کہ وہ یہاں پہنچیں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتار کر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں فرقوں کے بد ارادوں سے مطلع فرما دیا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3576،قال الشيخ الألباني:حسن] ایک روایت میں ہے کہ یہ دونوں قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ تھے۔ بنو نضیر کی پوری دیت تھی اور بنو قریظہ کی آدھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی دیت یکساں دینے کا فیصلہ صادر فرمایا۔
ایک روایت ہے کہ قرظی اگر کسی نضری کو قتل کر ڈالے تو اس سے قصاص لیتے تھے لیکن اس کے خلاف میں قصاص تھا ہی نہیں سو وسق دیت تھی۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3591،قال الشيخ الألباني:حسن] یہ بہت ممکن ہے کہ ادھر یہ واقعہ ہوا، ادھر زنا کا قصہ واقع ہوا، جس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے ان دونوں پر یہ آیتیں نازل ہوئیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ہاں ایک بات اور ہے جس سے اس دوسری شان نزول کی تقویت ہوتی ہے وہ یہ کہ اس کے بعد ہی فرمایا ہے آیت «وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:45] ، یعنی ’ ہم نے یہودیوں پر تورات میں یہ حکم فرض کر دیا تھا کہ جان کے عوض جان، آنکھ کے عوض آنکھ ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر انہیں کافی کہا گیا جو اللہ کی شریعت اور اس کی اتاری ہوئی وحی کے مطابق فیصلے اور حکم نہ کریں گو یہ آیت شان نزول کے اعتبار سے بقول مفسرین اہل کتاب کے بارے میں ہے لیکن حکم کے اعتبار سے ہر شخص کو شامل ہے۔ بنو اسرائیل کے بارے میں اتری اور اس امت کا بھی یہی حکم ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”رشوت حرام ہے اور رشوت ستانی کے بعد کسی شرعی مسئلہ کے خلاف فتویٰ دینا کفر ہے۔“ سدی رحمة الله فرماتے ہیں ”جس نے وحی الٰہی کے خلاف عمداً فتویٰ دیا جاننے کے باوجود اس کے خلاف کیا وہ کافر ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے اللہ کے فرمان سے انکار کیا، اس کا یہ حکم ہے اور جس نے انکار تو نہ کیا لیکن اس کے مطابق نہ کہا وہ ظالم اور فاسق ہے۔ خواہ اہل کتاب ہو خواہ کوئی اور۔“ شعبی رحمة الله فرماتے ہیں ”مسلمانوں میں جس نے کتاب کے خلاف فتویٰ دیا وہ کافر ہے اور یہودیوں میں دیا ہو تو ظالم ہے اور نصرانیوں میں دیا ہو تو فاسق ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس آیت کے ساتھ ہے۔“ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس کے کفر جیسا نہیں جو سرے سے اللہ کے رسول قرآن اور فرشتوں کا منکر ہو۔“ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «کتم» (چھپانا) کفر سے کم ہے اسی طرح ظلم و فسق کے بھی ادنیٰ اعلیٰ درجے ہیں۔ اس کفر سے وہ ملت اسلام سے پھر جانے والا جاتا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد وہ کفر نہیں جس کی طرف تم جا رہے ہو۔“
44۔ 1 (لِلَّذیْنَ ھَادوْ ا) اس کا تعلق یَحُکْمُ سے ہے۔ یعنی یہودیوں سے متعلق فیصلے کرتے تھے۔ 44۔ 2 اَ سْلَمُوْا یہ نبِیِّنّّ کی صفت بیان کی گئی ہے کہ سارے انبیاء دین اسلام ہی کے پیروکار تھے جس کی طرف محمد دعوت دے رہے ہیں۔ یعنی تمام پغمبروں کا دین ایک ہی رہا ہے۔ اسلام جس کی بنیادی دعوت یہ تھی کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ ہر نبی نے سب سے پہلے اپنی قوم کو یہی دعوت توحید و اخلاص پیش کی۔ (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ) 21:25 ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے، سب کو یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، پس تم سب میری ہی عبادت کرو "۔ اسی کو قرآن میں الدین بھی کہا گیا ہے۔ جیسا کہ سورة شوریٰ کی آیت (شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا) 42:13 میں کہا گیا ہے جس میں اسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے کہ آپ کے لیے ہم نے وہی دین مقرر کیا ہے جو آپ سے قبل دیگر انبیا کے لیے کیا تھا۔ 44۔ 3 چناچہ انہوں نے تورات میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کیا، جس طرح بعد میں لوگوں نے کیا۔ 44۔ 4 کہ یہ کتاب کمی بیشی سے محفوظ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ 44۔ 5 یعنی لوگوں سے ڈر کر تورات کے اصل احکام پر پردہ مت ڈالو نہ دنیا کے تھوڑے سے مفادات کے لئے ان میں رد وبدل کرو۔ 44۔ 6 پھر تم کیسے ایمان کے بدلے کفر پر راضی ہوگئے ہو؟
(آیت 44) ➊ {اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ ……:} اس میں یہود کو تنبیہ ہے جو حد رجم (سنگ ساری) کا انکار کرتے تھے اور ان کے لیے ترغیب ہے کہ وہ اپنے اسلاف، انبیاء، احبار اور علمائے ربانیین کا مسلک اختیار کریں۔ (کبیر) بنی اسرائیل میں بھی موسیٰ علیہ السلام کے بعد عیسیٰ علیہ السلام تک بہت سے پیغمبر ایسے گزرے ہیں جن پر کوئی نئی کتاب نازل نہیں کی گئی اور وہ اپنے زمانے میں لوگوں کو تورات ہی پر عمل کرنے کی نصیحت کرتے اور ان کے درمیان اسی کے احکام کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ خود عیسیٰ علیہ السلام کو کوئی نئی شریعت نہیں دی گئی، بلکہ ان کی بعثت کا مقصد تورات ہی کی شریعت کو زندہ کرنا تھا۔ { ”الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا“ } یہ صفت مدح ہے اور ان انبیاء کے فرماں بردار ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ دین ابراہیم کے تابع تھے، یا اﷲ تعالیٰ کے فرماں بردار تھے۔ (قرطبی، کبیر) ➋ {بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ:} {” بِمَا “} کی باء کا تعلق {”الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ“} سے ہے، مطلب یہ ہے کہ جس زمانے میں کوئی نبی نہیں ہوتا تھا تو یہ درویش اور تعلیم یافتہ لوگ یہودیوں کے مابین تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے، کیونکہ انبیاء نے انھی کو اﷲ تعالیٰ کی کتاب تورات کا محافظ مقرر کیا تھا اور {” شُهَدَآءَ “} کے معنی یہ ہیں کہ وہ تورات کے اﷲ کی طرف سے ہونے پر گواہ تھے۔ بعض علماء نے {” بِمَا اسْتُحْفِظُوْا “} کی ”باء“ کا تعلق {” يَحْكُمْ “} سے بیان کیا ہے کہ اﷲ کی کتاب کی جو امانت ان کے سپرد کی گئی تھی وہ اس کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ (قرطبی، کبیر) ➌ تورات کی حفاظت کے ذمے دار اور اس کے محافظ تو علماء اور رب والے لوگ بنائے گئے تھے مگر قرآن مجید اور شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا ذمہ اﷲ تعالیٰ نے خود اٹھایا، فرمایا: «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» [ الحجر: ۹ ] ”بے شک ہم نے ہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔“ اگرچہ قرآن کی حفاظت کا کام بھی اﷲ تعالیٰ نے علماء اور ربانیین ہی سے لیا مگر اس کا ذمہ خود اٹھانے کی وجہ سے تورات اور قرآن کے محفوظ رہنے میں جو فرق ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ➍ {فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ:} یعنی تم بھی اپنے انبیاء اور بزرگوں کے نقش قدم پر چلو اور تورات میں کوئی تحریف نہ کرو، نہ اسے چھپا کر نہ غلط مسئلہ بتا کر دنیا کا فائدہ اٹھاؤ، کیونکہ دنیا جتنی بھی ہو قلیل ہے اور حق بات کہنے میں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جو حالات اس میں مذکور ہیں ان کے بیان کرنے میں لوگوں کی پروا مت کرو، نہ ان سے ڈرو، بلکہ صرف میرے انتقام اور عذاب کا ڈر اپنے دلوں میں رکھو۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”حکام پر اﷲ تعالیٰ نے تین چیزیں لازم کی ہیں: (1) خواہش کی پیروی نہ کریں: «وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» [صٓ: ۲۶] اور فرمایا: «يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا» [ المائدۃ: ۴۴ ] (2) صحیح فیصلہ کرنے میں لوگوں سے نہ ڈریں: «فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ» [ المائدۃ: ۴۴ ] (3) اور رشوت لے کر غلط فیصلہ نہ کریں: «وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَمَنًا قَلِيْلًا» [ المائدۃ: ۴۴ ] [بخاري، الأحكام، باب متي يستوجب الرجل القضاء، قبل ح: ۷۱۶۳] یہ تینوں باتیں اس آیت میں مذکور ہیں۔ ➎ {وَ مَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ:} یہ خطاب یہود سے ہے، یعنی جب وہ جان بوجھ کر تورات کے فیصلے کو چھپاتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرنا چاہتے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ باوجود زبانی دعویٰ کرنے کے یہ کافر ہیں۔ مسلم حاکم پر کفر کا فتویٰ اسی وقت لگا سکتے ہیں جب وہ قرآن و حدیث کا انکار کر کے ان کے خلاف فیصلہ صادر کرے، ایسے شخص کے کافر ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
توراۃ میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ پھر جو قصاص کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے، پھر جو شخص اس کو معاف کردے تو وه اس کے لئے کفاره ہے، اور جو لوگ اللہ کے نازل کئے ہوئے کے مطابق حکم نہ کریں، وہی لوگ ﻇالم ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے توریت میں ان پر واجب کیا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے پھر جو دل کی خوشی سے بدلہ کراوے تو وہ اس کا گناہ اتار دے گا اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے اس (توراۃ) میں ان (یہودیوں) پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کا بدلہ جان ہے اور آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بھی برابر کا بدلہ ہے۔ پھر جو (قصاص) معاف کر دے، تو وہ اس کے لئے کفارہ ہوگا اور جو قانونِ خدا کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ ظالم ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اس میں ان پر لکھ دیا کہ جان کے بدلے جان ہے اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں میں برابر بدلہ ہے، پھر جو اس (قصاص) کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قتل کے بدلے تقاضائے عدل ہے ٭٭
یہودیوں کو اور سرزنش کی جا رہی ہے کہ ’ ان کی کتاب میں صاف لفظوں میں جو حکم تھا یہ کھلم کھلا اس کا بھی خلاف کر رہے ہیں اور سرکشی اور بے پرواہی سے اسے بھی چھوڑ رہے ہیں ‘۔ نضری یہودیوں کو تو قرظی یہودیوں کے بدلے قتل کرتے ہیں لیکن قریظہ کے یہود کو بنو نضیر کے یہود کے عوض قتل نہیں کرتے بلکہ دیت لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے شادی شدہ زانی کی سنگساری کے حکم کو بدل دیا ہے اور صرف کالا منہ کر کے رسوا کر کے مار پیٹ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی لیے وہاں تو انہیں کافر کہا یہاں انصاف نہ کرنے کی وجہ سے انہیں ظالم کہا۔ ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا «وَالْعَيْنُ» پڑھنا بھی مروی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3976،قال الشيخ الألباني:ضعیف] علماء کرام کا قول ہے کہ اگلی شریعت چاہے ہمارے سامنے بطور تقرر بیان کی جائے اور منسوخ نہ ہو تو وہ ہمارے لیے بھی شریعت ہے۔ جیسے یہ احکام سب کے سب ہماری شریعت میں بھی اسی طرح ہیں۔
امام نووی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس مسئلے میں تین مسلک ہیں ایک تو وہی جو بیان ہوا، ایک اس کے بالکل برعکس ایک یہ کہ صرف ابراہیمی شریعت جاری اور باقی ہے اور کوئی نہیں۔ اس آیت کے عموم سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ مرد عورت کے بدلے بھی قتل کیا جائے گا کیونکہ یہاں لفظ نفس ہے جو مرد عورت دونوں کو شامل ہے۔“ چنانچہ حدیث شریف میں بھی ہے کہ { مرد عورت کے خون کے بدلے قتل کیا جائے گا }۔ ۱؎ [سنن نسائی:4857،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { مسلمانوں کے خون آپس میں مساوی ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2751،قال الشيخ الألباني:صحیح] بعض بزرگوں سے مروی ہے کہ ”مرد جب کسی عورت کو قتل کر دے تو اسے اس کے بدلے قتل نہ کیا جائے گا بلکہ صرف دیت لی جائے گی۔“ لیکن یہ قول جمہور کے خلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمة الله تو فرماتے ہیں کہ ”ذمی کافر کے قتل کے بدلے بھی مسلمان قتل کر دیا جائے گا اور غلام کے قتل کے بدلے آزاد بھی قتل کر دیا جائے گا۔“ لیکن یہ مذہب جمہور کے خلاف ہے۔ بخاری مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مسلمان کافر کے بدلے قتل کیا نہ کیا جائے گا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:111] اور سلف کے بہت سے آثار اس بارے میں موجود ہیں کہ وہ غلام کا قصاص آزاد سے نہیں لیتے تھے اور آزاد غلام کے بدلے قتل نہ کیا جائے گا۔ حدیثیں بھی اس بارے میں مروی ہیں لیکن صحت کو نہیں پہنچیں۔ امام شافعی رحمة الله تو فرماتے ہیں ”اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ رحمة الله کے خلاف اجماع ہے۔“ لیکن ان باتوں سے اس قول کا بطلان لازم نہیں آتا تاوقتیکہ آیت کے عموم کو خاص کرنے والی کوئی زبردست صاف ثابت دلیل نہ ہو۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ { حضرت انس رضی اللہ عنہ بن نضر کی پھوپھی ربیع نے ایک لونڈی کے دانت توڑ دیئے، اب لوگوں نے اس سے معافی چاہی لیکن وہ نہ مانی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معاملہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدلہ لینے کا حکم دے دیا، اس پر انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا اس عورت کے سامنے کے دانت توڑ دیئے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں اے انس! اللہ کی کتاب میں قصاص کا حکم موجود ہے }۔ یہ سن کر فرمایا نہیں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اس کے دانت ہرگز نہ توڑے جائیں گے، چنانچہ ہوا بھی یہی کہ لوگ راضی رضامند ہوگئے اور قصاص چھوڑ دیا بلکہ معاف کر دیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بعض بندگان رب ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ پر کوئی قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ اسے پوری ہی کر دے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2703] دوسری روایت میں ہے کہ ”پہلے انہوں نے نہ تو معافی دی نہ دیت لینی منظور کی۔“ نسائی وغیرہ میں ہے، { ایک غریب جماعت کے غلام نے کسی مالدار جماعت کے غلام کے کان کاٹ دیئے، ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر عرض کیا کہ ہم لوگ فقیر مسکین ہیں، مال ہمارے پاس نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کوئی جرمانہ نہ رکھا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4590، قال الشيخ الألباني:صحیح] ہو سکتا ہے کہ یہ غلام بالغ نہ ہو اور ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت اپنے پاس سے دے دی ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان سے سفارش کرکے معاف کرا لیا ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جان جان کے بدلے ماری جائے گی، آنکھ پھوڑ دینے والے کی آنکھ پھوڑ دی جائے گی، ناک کاٹنے والے کا ناک کاٹ دیا جائے گا، دانت توڑنے والے کا دانت توڑ دیا جائے گا اور زخم کا بھی بدلہ لیا جائے گا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:360/10] اس میں آزاد مسلمان سب کے سب برابر ہیں۔ مرد عورت ایک ہی حکم میں۔ جبکہ یہ کام قصداً کئے گئے ہوں۔ اس میں غلام بھی آپس میں برابر ہیں، ان کے مرد بھی اور عورتیں بھی۔ (قاعدہ:) اعضاء کا کٹنا تو جوڑ سے ہوتا ہے اس میں تو قصاص واجب ہے۔ جیسے ہاتھ، پیر، قدم، ہتھیلی وغیرہ۔ لیکن جو زخم جوڑ پر نہ ہوں بلکہ ہڈی پر آئے ہوں، ان کی بابت امام مالک رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”ان میں بھی قصاص ہے مگر ران میں اور اس جیسے اعضاء میں اس لیے کہ وہ خوف و خطر کی جگہ ہے۔“ ان کے برخلاف ابوحنیفہ رحمة الله اور ان کے دونوں ساتھیوں کا مذہب ہے کہ ”کسی ہڈی میں قصاص نہیں، بجز دانت کے اور امام شافعی رحمة الله کے نزدیک مطلق کسی ہڈی کا قصاص نہیں۔“ یہی مروی ہے سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی اور یہی کہتے ہیں عطاء، شبعی، حسن بصری، زہری، ابراہیم، نخعی اور عمر بن عبدالعزیز رحمة الله علیہم بھی اور اسی کی طرف گئے ہیں سفیان ثوری اور لیث بن سعد رحمة الله علیہم بھی۔ امام احمد رحمہ اللہ سے بھی یہی قول زیادہ مشہور ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمة الله کی دلیل وہی انس رضی اللہ عنہ والی روایت ہے جس میں ربیع سے دانت کا قصاص دلوانے کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمودہ ہے۔ لیکن دراصل اس روایت سے یہ مذہب ثابت نہیں ہوتا۔
کیونکہ اس میں یہ لفظ ہیں کہ اس کے سامنے کے دانت اس نے توڑ دیئے تھے اور ہو سکتا ہے کہ بغیر ٹوٹنے کے جھڑ گئے ہوں۔ اس حالت میں قصاص اجماع سے واجب ہے۔ ان کی دلیل کا پورا حصہ وہ ہے جو ابن ماجہ میں ہے کہ { ایک شخص نے دوسرے کے بازو کو کہنی سے نیچے نیچے ایک تلوار مار دی، جس سے اس کی کلائی کٹ گئی، صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ دیت ادا کرو اس نے کہا میں قصاص چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسی کو لے لے اللہ تجھے اسی میں برکت دے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کو نہیں فرمایا } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2636،قال الشيخ الألباني:ضعیف] لیکن یہ حدیث بالکل ضعیف اور گری ہوئی ہے، اس کے ایک راوی ہشم بن عکلی اعرابی ضعیف ہیں، ان کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاتی، دوسرے راوی غران بن جاریہ اعرابی بھی ضعیف ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ زخموں کا قصاص ان کے درست ہو جانے اور بھر جانے سے پہلے لینا جائز نہیں اور اگر پہلے لے لیا گیا پھر زخم بڑھ گیا تو کوئی بدلہ دلوایا نہ جائے گا۔ اس کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ { ایک شخص نے دوسرے کے گھٹنے میں چوٹ مار دی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا مجھے بدلہ دلوایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دلوا دیا، اس کے بعد وہ پھر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تو لنگڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے تجھے منع کیا تھا لیکن تو نہ مانا، اب تیرے اس لنگڑے پن کا بدلہ کچھ نہیں }۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زخموں کے بھر جانے سے پہلے بدلہ لینے کو منع فرما دیا }۔ ۱؎ [مسند احمد:217/2:صحیح بالشواهد]
مسئلہ ٭٭
اگر کسی نے دوسرے کو زخمی کیا اور بدلہ اس سے لے لیا گیا، اس میں یہ مر گیا تو اس پر کچھ نہیں۔ مالک، شافعی، احمد رحمہ اللہ علیہم اور جمہوری صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔ ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس پر دیت واجب ہے، اسی کے مال میں سے۔“ بعض اور بزرگ فرماتے ہیں ”اس کے ماں باپ کی طرف کے رشتہ داروں کے مال پر وہ دیت واجب ہے۔“ بعض اور حضرات کہتے ہیں ”بقدر اس کے بدلے کے تو ساقط ہے باقی اسی کے مال میں سے واجب ہے۔“ پھر فرماتا ہے ’ جو شخص قصاص سے درگزر کرے اور بطور صدقے کے اپنے بدلے کو معاف کر دے تو زخمی کرنے والے کا کفارہ ہو گیا اور جو زخمی ہوا ہے، اسے ثواب ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے ‘۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ”وہ زخمی کیلئے کفارہ ہے یعنی اس کے گناہ اسی زخم کی مقدار سے اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔“ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ”وہ زخمی کیلئے کفارہ ہے یعنی اس کے گناہ اسی زخم کی مقدار سے اللہ تعالیٰ بخش دیتا ہے۔“ ایک مرفوع حدیث میں یہ آیا ہے کہ { اگر چوتھائی دیت کے برابر کی چیز ہے اور اس نے درگزر کر لیا تو اس کے چوتھائی گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ ثلث ہے تو تہائی گناہ، آدھی ہے تو آدھے گناہ اور پوری ہے تو پورے گناہ }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:510/2:ضعیف]
ایک قریشی نے ایک انصاری کو زور سے دھکا دے دیا جس سے اس کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس مقدمہ گیا اور جب وہ بہت سر ہوگیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”اچھا جا تجھے اختیار ہے۔“ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ وہیں تھے فرمانے لگے ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { جس مسلمان کے جسم میں کوئی ایذاء پہنچائی جائے اور وہ صبر کر لے، بدلہ نہ لے تو اللہ اس کے درجے بڑھاتا ہے اور اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے }۔ اس انصاری نے یہ سن کر کہا، کیا سچ مچ آپ رضی اللہ عنہ نے خود ہی اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں میرے ان کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد کیا ہے، اس نے کہا پھر گواہ رہو کہ میں نے اپنے مجرم کو معاف کر دیا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور اسے انعام دیا۔“۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1393،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ترمذی میں بھی یہ روایت ہے لیکن امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث غریب ہےابو سفر راوی کا سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:448/6:صحیح لغیره مرفوعا وهذا اسناد ضعیف] اور روایت میں ہے کہ تین گنی دیت وہ دینا چاہتا تھا لیکن یہ راضی نہیں ہوا تھا، اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ { جو شخص خون یا اس سے کم کو معاف کر دے، وہ اس کی پیدائش سے لے کر موت تک کا کفارہ ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:368/10:ضعیف و منقطع] مسند میں ہے کہ { جس کے جسم میں کوئی زخم لگے اور وہ معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے اتنے ہی گناہ معاف فرما دیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/316:صحیح] مسند میں یہ بھی حدیث ہے { اللہ کے حکم کے مطابق حکم نہ کرنے والے ظالم ہیں }۔ پہلے گزر چکا ہے کہ کفر کفر سے کم ہے، ظلم میں بھی تفاوت ہے اور فسق بھی درجے ہیں۔
45۔ 1 جب تورات میں جان کے بدلے جان اور زخموں میں قصاص کا حکم دیا گیا تو پھر یہودیوں کے ایک قبیلے (بنو نفیر) کا دوسرے قبیلے (بنو قرظہ) کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ کرنا اور اپنے مقتول کی دیت دوسرے قبیلے کے مقتول کی بنسبت دوگنا رکھنے کا کیا جواز ہے؟ جیسا کہ اس کی تفصیل پچھلے صفحات میں گزری۔ 45۔ 2 یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جس قبیلے میں مذکورہ فیصلہ کیا تھا، یہ اللہ کے نازل کردہ حکم کے خلاف تھا اور اس طرح انہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا۔ گویا انسان اس بات کا مکلف ہے کہ وہ احکامات الہی کو اپنائے اسی کے مطابق فیصلے کرے اور زندگی کے تمام معاملات میں اس سے رہنمائی حاصل کرے، اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو بارگاہ الہی میں ظالم متصور ہوگا فاسق متصور ہوگا اور کافر متصور ہوگا۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے تینوں لفظ استعمال کر کے اپنے غضب اور ناراضگی کا بھرپور اظہار فرما دیا۔ اس کے بعد بھی انسان اپنے ہی خود ساختہ قوانین یا اپنی خواہشات ہی کو اہمیت دے تو اس سے زیادہ بدقسمتی کیا ہوگی؟
(آیت 45) ➊ {وَ كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ:} اس آیت میں بھی یہود کو ڈانٹ ہے، یعنی انھوں نے جس طرح رجم (سنگ ساری) کے حکم کو تبدیل کر دیا تھا اسی طرح ان پر نفوس (جانوں) اور جروح (زخموں) میں برابری رکھی گئی تھی، جو اب بھی تورات کی کتاب خروج، باب (۲۱) فقرہ (۲۳۔ ۲۵) میں موجود ہے، مگر انھوں نے اس کو تبدیل کر کے معطل کر ڈالا۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہودی قبائل میں سے بنو نضیر طاقتور اور بنو قریظہ کمزور تھے، اس لیے یہودی بنو نضیر کا قصاص تو بنو قریظہ سے لے لیتے لیکن بنو قریظہ کا قصاص بنو نضیر سے نہیں لیتے تھے، بلکہ ان کے مقتول کی دیت ادا کر دیتے۔ (ابن جریر) ”ھدایۃ المستنیر“ کے مصنف نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ اس آیت میں مذکور مسائل کے حجت ہونے پر اجماع ہے، پس عورت کے بدلے قاتل مرد ہی قتل کیا جائے گا، خواہ چھوٹے قبیلے کا ہو یا بڑے کا، قصاص میں سب برابر ہیں، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْمُسْلِمُوْنَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ ] ”مسلمانوں کے خون برابر ہیں۔“ [ أبو داوٗد، الجہاد، باب فی السریۃ ترد علی أھل العسکر:۲۷۵۱۔ أحمد: 123/1۔ نسائی: ۲۷۵۰۔ ح: ۹۹۵ ابن ماجہ: ۲۶۸۳، وقال الألبانی حسن صحیح ] بعض لوگوں نے اس آیت (جان کے بدلے جان) سے نکالا ہے کہ کافر کے بدلے مسلمان کو قتل کیا جائے گا، مگر صحیح بخاری (۶۹۱۵) میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ صریح فرمان موجود ہے: [ وَاَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ] ”کافر کے بدلے مسلمان کو قتل نہ کیا جائے۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ کافر مومن کا کفو (برابر) نہیں ہو سکتا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے ان بعض لوگوں کے خلاف امت کا اجماع نقل فرمایا ہے جو کافر کے بدلے مسلمان کو قتل کرنے کے قائل ہیں۔ (ابن کثیر) ➋ اس وقت مسلمانوں کے زوال کے اسباب میں سے ایک بہت بڑا سبب یہ بھی ہے کہ بعض لوگوں نے قرآن و سنت کے صریح خلاف ایسے احکام ایجاد کر لیے جن کی موجودگی میں قصاص تقریباً نا ممکن ہے۔ انھوں نے یہ قاعدہ بنا دیا کہ تیز دھار آلے کے ساتھ قتل کرے یا آگ سے جلائے تو قصاص ہے ورنہ نہیں۔ چنانچہ خواہ جان بوجھ کر قتل کے ارادے سے بھاری سے بھاری پتھر مار مار کر قتل کر دے تو قصاص نہیں ہو گا بلکہ دیت ہو گی، حالانکہ یہ بات قرآن و حدیث سے ثابت نہیں، جبکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کا سر پتھروں سے اسی طرح کچلا تھا جس طرح اس نے ایک بچی کا سر کچلا تھا۔ [ بخاری، الدیات، باب سؤال القاتل حتی یقرّ……: ۶۸۷۶ ] لہٰذا قرآن و حدیث کے مطابق قتل کے ارادے سے اگر جان بوجھ کر قتل کرنا ثابت ہو جائے تو پھر قصاص ہے، خواہ کسی طرح بھی قتل کرے۔ مگر ان بعض لوگوں نے کہا کہ اگر کوئی کسی کو ڈبو کر مار دے، یا بھوکا رکھ کر مار دے، یا برف کے بلاک میں رکھ کر مار دے، غرض بہت سی صورتیں بیان کر کے کہتے ہیں کہ ان میں قصاص نہیں، کیونکہ آلہ تیز دھار نہیں۔ ظاہر ہے جن عدالتوں میں ان لوگوں کا حکم چلتا ہو، وہاں قصا ص کا نشانہ صرف وہی لوگ بنتے ہوں گے جو ان حیلوں کو نہیں جانتے ہوں گے، پھر جب قانون ہی میں انصاف نہ رہے تو کوئی قوم اﷲ کی نصرت کے وعدے کی حق دار کیسے رہ سکتی ہے؟ ➌ {فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ:} عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے جسم پر کوئی زخم لگایا جائے، پھر وہ اسے معاف کر دے تو جتنا اس نے معاف کیا اﷲ تعالیٰ اتنا ہی اس کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دے گا۔“ [ أحمد: 316/5، ح: ۲۲۷۶۷۔ السنن الکبریٰ للنسائی، التفسیر: ۱۱۱۴۶] ➍ {وَ مَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ ……:} یعنی اگر قرآن و حدیث کا انکار تو نہیں کرتا مگر اس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے تو یہ ظالم ہے۔
پھر ہم نے ان پیغمبروں کے بعد مریمؑ کے بیٹے عیسیٰؑ کو بھیجا توراۃ میں سے جو کچھ اس کے سامنے موجود تھا وہ اس کی تصدیق کرنے والا تھا اور ہم نے اس کو انجیل عطا کی جس میں رہنمائی اور روشنی تھی اور وہ بھی توراۃ میں سے جو کچھ اُس وقت موجود تھا اُس کی تصدیق کرنے والی تھی اور خدا ترس لوگوں کے لیے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے ان کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والے تھے اور ہم نے انہیں انجیل عطا فرمائی جس میں نور اور ہدایت تھی اور وه اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتی تھی اور وه سراسر ہدایت ونصیحت تھی پارسا لوگوں کے لئے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم ان نبیوں کے پیچھے ان کے نشانِ قدم پر عیسیٰ بن مریم کو لائے تصدیق کرتا ہوا توریت کی جو اس سے پہلے تھی اور ہم نے اسے انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تصدیق فرماتی ہے توریت کی کہ اس سے پہلی تھی اور ہدایت اور نصیحت پرہیزگاروں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے ان (انبیاء) کے نقش قدم پر عیسیٰ کو بھیجا اپنے سے پہلے موجود کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی۔ جس میں ہدایت ہے اور نور بھی جو تصدیق کرنے والی تھی۔ اپنے سے پہلے موجود کتاب یعنی تورات کی اور یہ (انجیل) صحیح رہنمائی اور نصیحت تھی پرہیزگاروں کے لیے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ان کے پیچھے ان کے قدموں کے نشانوں پر عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا، جو اس سے پہلے تورات کی تصدیق کرنے والا تھا اور ہم نے اسے انجیل دی جس میں ہدایت اور روشنی تھی اور اس کی تصدیق کرنے والی جو اس سے پہلے تورات تھی اور متقی لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
باطل کے غلام لوگ ٭٭
’ انبیاء بنی اسرائیل کے پیچھے ہم عیسیٰ علیہ السلام نبی کو لائے جو توراۃ پر ایمان رکھتے تھے، اس کے احکام کے مطابق لوگوں میں فیصلے کرتے تھے، ہم نے انہیں بھی اپنی کتاب انجیل دی، جس میں حق کی ہدایت تھی اور شبہات اور مشکلات کی توضیح تھی اور پہلی الہامی کتابوں کی تصدیق تھی، ہاں چند مسائل جن میں یہودی اختلاف کرتے تھے، ان کے صاف فیصلے اس میں موجود تھے ‘۔ جیسے قرآن میں اور جگہ ہے کہ «وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ» ۱؎ [3-آل عمران:50] حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، ’ میں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں حلال کروں گا جو تم پر حرام کردی گئی ہیں ‘۔ اسی لیے علماء کا مشہور مقولہ ہے کہ انجیل نے تورات کے بعض احکام منسوخ کر دیئے ہیں۔ انجیل سے پارسا لوگوں کی رہنمائی اور وعظ و پند ہوتی تھی کہ وہ نیکی کی طرف رغبت کریں اور برائی سے بچیں۔ «اَھْلَ اِْلانْجِیْلِ» بھی پڑھا گیا ہے اس صورت میں «وَاُلْيَحْكُمْ» میں لام «کَیْ» معنی میں ہو گا۔ مطلب یہ ہو گا کہ ’ ہم نے عیسیٰ کو انجیل اس لیے دی تھی کہ وہ اپنے زمانے کے اپنے ماننے والوں کو اسی کے مطابق چلائیں ‘ اور اس لام کو امر کا لام سمجھا جائے اور مشہور قراۃ «وَلْيَحْكُمْ» پڑھی جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ ’ انہیں چاہیئے کہ انجیل کے کل احکام پر ایمان لائیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کریں ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:68] ، یعنی ’ اے اہل کتاب جب تک تم تورات و انجیل پر اور جو کچھ اللہ کی طرف سے اترا ہے، اگر اس پر قائم ہو تو تم کسی چیز پر نہیں ہو ‘۔ اور آیت میں ہے «اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ» ۱؎ [7-الأعراف:157] ، ’ جو لوگ اس رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرتے ہیں، جس کی صفت اپنے ہاں توراۃ میں لکھی ہوئی پاتے ہیں وہ لوگ جو کتاب اللہ اور اپنے نبی کے فرمان کے مطابق حکم نہ کریں وہ اللہ کی اطاعت سے خارج، حق کے تارک اور باطل کے عامل ہیں ‘۔ یہ آیت نصرانیوں کے حق میں ہے۔ روش آیت سے بھی یہ ظاہر ہے اور پہلے بیان بھی گزر چکا ہے۔
46۔ 1 یعنی انبیائے سابقین کے فوراً بعد، متصل ہی حضرت عیسیٰ ؑ کو بھیجا جو اپنے سے پہلے نازل شدہ کتاب تورات کی تصدیق کرنے والے تھے، نہ کہ اس کو جھٹلانے والے تھے، جو اس بات کی دلیل تھی کہ حضرت عیسیٰ ؑ بھی اللہ کے سچے رسول ہیں اور اسی اللہ کے فرستادہ ہیں جس نے تورات حضرت موسیٰ ؑ پر نازل فرمائی تھی، تو اس کے باوجود یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کی تکذیب (جھٹلایا) کی بلکہ ان کی تکفیر اور تنقیص و اہانت کی (کفر کا فتویٰ دے کر رسوا کیا) 46۔ 2 یعنی جس طرح تورات اپنے وقت میں لوگوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ تھی۔ اسی طرح انجیل کے نزول کے بعد اب یہی حیثیت انجیل کو حاصل ہوگئی اور پھر قرآن کریم کے نزول کے بعد تورات و انجیل اور دیگر کتب آسمانی پر عمل منسوخ ہوگیا اور ہدایت و نجات کا ذریعہ قرآن کریم رہ گیا اور اسی پر اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابوں کا سلسلہ ختم فرما دیا، یہ گویا اس بات کا اعلان ہے کہ قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کی فلاح اور کامیابی اسی قرآن سے وابستہ ہے۔ جو اس سے جڑ گیا سرخرو رہے گا جو کٹ گیا ناکامی ونامرادی اس کا مقدر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ " وحدت ادیان " کا فلسفہ یکسر غلط ہے، حق ہر دور میں ایک ہی رہا ہے، متعدد نہیں۔ حق کے سوا دوسری چیزیں باطل ہیں۔ تورات اپنے دور کا حق تھی۔ اس کے بعد انجیل اپنے دور کا حق تھی انجیل کے نزول کے بعد تورات پر عمل کرنا جائز نہیں تھا۔ اور جب قرآن نازل ہوگیا تو انجیل منسوخ ہوگئی۔ انجیل پر عمل کرنا بالکل جائز نہیں رہا اور صرف قرآن ہی واحد نظام عمل اور نجات کے لیے قابل عمل رہ گیا۔ اس پر ایمان لائے بغیر یعنی نبوت محمد علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کو تسلیم کئے بغیر نجات ممکن نہیں۔ مزید ملاحظہ ہو سورة بقرہ آیت 26 کا حاشیہ۔
(آیت 46) {وَ قَفَّيْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ……:} عیسیٰ علیہ السلام کوئی نئی شریعت یا نیا دین لے کر نہیں آئے تھے، بلکہ وہ خود بھی اسی شریعت پر چلتے تھے اور انجیل بھی اسی شریعت پر چلنے کا حکم دیتی تھی۔ انجیل میں ہے: ”یہ نہ سمجھو کہ میں تورات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں، منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں، کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین نہ ٹل جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ تورات سے ہر گز نہ ٹلے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے۔“ (انجیل متی: 5: 18،17) تورات، انجیل اور پھر قرآن کریم کے متعلق {” هُدًى وَّ نُوْرٌ “} کے اوصاف بیان ہوئے ہیں، ان نازل شدہ کتابوں کا ہدایت ہونا تو اس اعتبار سے ہے کہ یہ دنیا اور آخرت کے حقائق کے بیان پر مشتمل ہیں اور نور (روشنی) اس لحاظ سے کہ انسان کے لیے عملی زندگی میں رہنمائی کا کام دیتی ہیں۔ (کبیر)
ہمارا حکم تھا کہ اہل انجیل اس قانون کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور انجیل والوں کو بھی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ انجیل میں نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق حکم کریں اور جو اللہ تعالیٰ کے نازل کرده سے ہی حکم نہ کریں وه (بدکار) فاسق ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور چاہئے کہ انجیل والے حکم کریں اس پر جو اللہ نے اس میں اتارا اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کریں تو وہی لوگ فاسق ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
چاہیے کہ انجیل والے (نصرانی) اس (قانون) کے مطابق فیصلہ کریں، جو اللہ نے اس (انجیل) میں نازل کیا ہے اور جو اللہ کے نازل کردہ (قانون) کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی فاسق (نافرمان) ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور لازم ہے کہ انجیل والے اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ نافرمان ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
باطل کے غلام لوگ ٭٭
’ انبیاء بنی اسرائیل کے پیچھے ہم عیسیٰ علیہ السلام نبی کو لائے جو توراۃ پر ایمان رکھتے تھے، اس کے احکام کے مطابق لوگوں میں فیصلے کرتے تھے، ہم نے انہیں بھی اپنی کتاب انجیل دی، جس میں حق کی ہدایت تھی اور شبہات اور مشکلات کی توضیح تھی اور پہلی الہامی کتابوں کی تصدیق تھی، ہاں چند مسائل جن میں یہودی اختلاف کرتے تھے، ان کے صاف فیصلے اس میں موجود تھے ‘۔ جیسے قرآن میں اور جگہ ہے کہ «وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ» ۱؎ [3-آل عمران:50] حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، ’ میں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں حلال کروں گا جو تم پر حرام کردی گئی ہیں ‘۔ اسی لیے علماء کا مشہور مقولہ ہے کہ انجیل نے تورات کے بعض احکام منسوخ کر دیئے ہیں۔ انجیل سے پارسا لوگوں کی رہنمائی اور وعظ و پند ہوتی تھی کہ وہ نیکی کی طرف رغبت کریں اور برائی سے بچیں۔ «اَھْلَ اِْلانْجِیْلِ» بھی پڑھا گیا ہے اس صورت میں «وَاُلْيَحْكُمْ» میں لام «کَیْ» معنی میں ہو گا۔ مطلب یہ ہو گا کہ ’ ہم نے عیسیٰ کو انجیل اس لیے دی تھی کہ وہ اپنے زمانے کے اپنے ماننے والوں کو اسی کے مطابق چلائیں ‘ اور اس لام کو امر کا لام سمجھا جائے اور مشہور قراۃ «وَلْيَحْكُمْ» پڑھی جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ ’ انہیں چاہیئے کہ انجیل کے کل احکام پر ایمان لائیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کریں ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:68] ، یعنی ’ اے اہل کتاب جب تک تم تورات و انجیل پر اور جو کچھ اللہ کی طرف سے اترا ہے، اگر اس پر قائم ہو تو تم کسی چیز پر نہیں ہو ‘۔ اور آیت میں ہے «اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ» ۱؎ [7-الأعراف:157] ، ’ جو لوگ اس رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرتے ہیں، جس کی صفت اپنے ہاں توراۃ میں لکھی ہوئی پاتے ہیں وہ لوگ جو کتاب اللہ اور اپنے نبی کے فرمان کے مطابق حکم نہ کریں وہ اللہ کی اطاعت سے خارج، حق کے تارک اور باطل کے عامل ہیں ‘۔ یہ آیت نصرانیوں کے حق میں ہے۔ روش آیت سے بھی یہ ظاہر ہے اور پہلے بیان بھی گزر چکا ہے۔
47۔ 1 اہل انجیل کو یہ حکم اس وقت تھا جب تک حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت کا زمانہ تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ کا دور نبوت بھی ختم ہوگیا۔ اور انجیل کی پیروی کا حکم بھی۔ اب ایماندار وہی سمجھا جائے گا جو رسالت محمدیہ پر ایمان لائے گا اور قرآن کریم کی پیروی کرے گا۔
(آیت 47) {وَ لْيَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِيْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِيْهِ ……:} اہل انجیل کا اس کے مطابق جو اﷲ نے نازل کیا ہے، فیصلہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر لازم ہے کہ انجیل میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو پیش گوئیاں اور دلائل اﷲ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں وہ ان کو چھپانے یا ان کی غلط تاویلیں کرنے کی کوشش نہ کریں، بلکہ انجیل کے حکم کے مطابق مسلمان ہو جائیں اور قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ کریں اور جو اﷲ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہ نافرمان ہیں کہ انھوں نے اپنی کتاب میں اترا ہوا اﷲ کا حکم نہیں مانا۔
پھر اے محمدؐ! ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اُس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ و نگہبان ہے لہٰذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اُس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی اگرچہ تمہارا خدا چاہتا تو تم سب کو ایک امت بھی بنا سکتا تھا، لیکن اُس نے یہ اِس لیے کیا کہ جو کچھ اُس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے لہٰذا بھلائیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافﻆ ہے۔ اس لئے آپ ان کے آپس کے معاملات میں اسی اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کے ساتھ حکم کیجیئے، اس حق سے ہٹ کر ان کی خواہشوں کے پیچھے نہ جائیے تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے ایک دستور اور راه مقرر کردی ہے۔ اگر منظور مولیٰ ہوتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن اس کی چاہت ہے کہ جو تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے، تم نیکیوں کی طرف جلدی کرو، تم سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے، پھر وه تمہیں ہر وه چیز بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی اور ان پر محافظ و گواہ تو ان میں فیصلہ کرو اللہ کے اتارے سے اور اسے سننے والے ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اپنے پاس آیا ہوا حق چھوڑ کر، ہم نے تم سب کے لیے ایک ایک شریعت اور راستہ رکھا اور اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت کردیتا مگر منظور یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں دیا اس میں تمہیں آزمائے تو بھلائیوں کی طرف سبقت چاہو، تم سب کا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے تو وہ تمہیں بتادے گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے رسول(ص)) ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے۔ جو تصدیق کرتی ہے۔ ان (آسمانی) کتابوں کی جو اس سے پہلے موجود ہیں اور ان کی محافظ و نگہبان ہے۔ لہٰذا آپ ان کے درمیان وہی فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے اور اس حق سے منہ موڑ کر جو آپ کے پاس آگیا ہے۔ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں، ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک راہ مقرر کی ہے اور اگر خدا (زبردستی) چاہتا، تو تم سب کو ایک ہی (شریعت) کی ایک ہی امت بنا دیتا۔ مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں آزمائے (ان احکام میں) جو (مختلف اوقات میں) تمہیں دیتا رہا ہے بس تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرو۔ تم سب کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے، پھر وہ تمہیں آگاہ کرے گا۔ ان باتوں سے جن میں تم اختلاف کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ بھیجی، اس حال میں کہ اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو کتابوں میں سے اس سے پہلے ہے اور اس پر محافظ ہے۔ پس ان کے درمیان اس کے ساتھ فیصلہ کر جو اللہ نے نازل کیا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کر، اس سے ہٹ کر جو حق میں سے تیرے پاس آیا ہے۔ تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک راستہ اور ایک طریقہ مقرر کیا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تمھیں ایک امت بنا دیتا اور لیکن تاکہ وہ تمھیں اس میں آزمائے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔ پس نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو، اللہ ہی کی طرف تم سب کا لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمھیں بتائے گا جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن ایک مستقل شریعت ہے ٭٭
تورات و انجیل کی ثنا و صفت اور تعریف و مدحت کے بعد اب قرآن عظیم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ ’ ہم نے اسے حق و صداقت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یہ بالیقین اللہ واحد کی طرف سے ہے اور اس کا کلام ہے۔ یہ تمام پہلی الٰہی کتابوں کو سچا مانتا ہے اور ان کتابوں میں بھی اس کی صفت و ثنا موجود ہے اور یہ بھی بیان ان میں ہے کہ یہ پاک اور آخری کتاب آخری اور افضل رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اترے گی، پس ہر دانا شخص اس پر یقین رکھتا ہے اور اسے مانتا ہے ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» ۱؎ [17-الاسراء:108-107] ، ’ جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا تھا، جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبانی اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے رب کا وعدہ سچا ہے اور وہ سچا ثابت ہو چکا ‘۔ اس نے اگلے رسولوں کی زبانی جو خبر دی تھی وہ پوری ہوئی اور آخری رسول رسولوں کے سرتاج رسول آ ہی گئے اور یہ کتاب ان پہلی کتابوں کی امین ہے۔ یعنی اس میں جو کچھ ہے، وہی پہلی کتابوں میں بھی تھا، اب اس کے خلاف کوئی کہے کہ فلاں پہلی کتاب میں یوں ہے تو یہ غلط ہے۔ یہ ان کی سچی گواہ اور انہیں گھیر لینے والی اور سمیٹ لینے والی ہے۔ جو جو اچھائیاں پہلے کی تمام کتابوں میں جمع تھیں، وہ سب اس آخری کتاب میں یکجا موجود ہیں، اسی لیے یہ سب پر حاکم اور سب پر مقدم ہے اور اس کی حفاظت کا کفیل خود اللہ تعالیٰ ہے۔ جیسے فرمایا «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» ۱؎ [15-الحجر:9] بعض نے کہا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کتاب پر امین ہیں۔“ واقع میں تو یہ قول بہت صحیح ہے لیکن اس آیت کی تفسیر یہ کرنی ٹھیک نہیں بلکہ عربی زبان کے اعتبار سے بھی یہ غور طلب امر ہے۔ صحیح تفسیر پہلی ہی ہے۔ امام ابن جریر رحمة الله نے بھی مجاہد رحمة الله سے اس قول کو نقل کر کے فرمایا ہے ”یہ بہت دور کی بات ہے بلکہ ٹھیک نہیں ہے اس لیے «مُهَيْمِنً» کا عطف مصدق پر ہے، پس یہ بھی اسی چیز کی صفت ہے جس کی صفت مصدق کا لفظ تھا۔“ اگر مجاہد رحمہ اللہ کے معنی صحیح مان لیے جائیں تو عبارت بغیر عطف کے ہونی چاہیئے تھی۔
خواہ عرب ہوں، خواہ عجم ہوں، خواہ لکھے پڑھے ہوں، خواہ ان پڑھ ہوں، اللہ کی طرف سے نازل کردہ سے مراد وحی اللہ ہے۔ خواہ وہ اس کتاب کی صورت میں ہو، خواہ جو پہلے احکام اللہ نے مقرر کر رکھے ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس آیت سے پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آزادی دی گئی تھی، اگر چاہیں ان میں فیصلے کریں چاہیں نہ کریں، لیکن اس آیت نے حکم دیا کہ وحی الٰہی کے ساتھ ان میں فیصلے کرنے ضروری ہیں۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:332/10] ’ ان بدنصیب جاہلوں نے اپنی طرف سے جو احکام گھڑ لیے ہیں اور ان کی وجہ سے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا ہے، خبردار اے نبی کریم! صلی اللہ علیہ وسلم تو ان کی چاہتوں کے پیچھے لگ کر حق کو نہ چھوڑ بیٹھنا۔ ان میں سے ہر ایک کیلئے ہم نے راستہ اور طریقہ بنا دیا ہے ‘۔ کسی چیز کی طرف ابتداء کرنے کو «شِرْعَةً» کہتے ہیں، منہاج لغت میں کہتے ہیں واضح اور آسان راستے کو۔ پس ان دونوں لفظوں کی یہی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ پہلی تمام شریعتیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھیں، وہ سب توحید پر متفق تھیں، البتہ چھوٹے موٹے احکام میں قدرے ہیر پھیر تھا۔ جیسے حدیث شریف میں ہے { ہم سب انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، ہم سب کا دین ایک ہی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3443] ہر نبی علیہ السلام توحید کے ساتھ بھیجا جاتا رہا اور ہر آسمانی کتاب میں توحید کا بیان اس کا ثبوت اور اسی کی طرف دعوت دی جاتی رہی۔
جیسے قرآن فرماتا ہے کہ «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25] ’ تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے، ان سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو ‘۔ اور آیت میں «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» [16-النحل:36] ، ’ ہم نے ہر امت کو بزبان رسول کہلوادیا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو ‘۔ ہاں احکام کا اختلاف ضرور، کوئی چیز کسی زمانے میں حرام تھی پھر حلال ہوگئی یا اس کے برعکس۔ یا کسی حکم میں تخفیف تھی اب تاکید ہوگئی یا اس کے خلاف اور یہ بھی حکمت اور مصلحت اور حجت ربانی کے ساتھ مثلاً توراۃ ایک شریعت ہے، انجیل ایک شریعت ہے، قرآن ایک مستقل شریعت ہے تاکہ ہر زمانے کے فرمانبرداروں اور نافرمانوں کا امتحان ہو جایا کرے۔ البتہ توحید سب زمانوں میں یکساں رہی اور معنی اس جملہ کے یہ ہیں کہ ’ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم میں سے ہر شخص کیلئے ہم نے اپنی اس کتاب قرآن کریم کو شریعت اور طریقہ بنایا ہے، تم سب کو اس کی اقتدأ اور تابعداری کرنی چاہیئے ‘۔ اس صورت میں «جَعَلْنَا» کے بعد ضمیر «ہ» کی محذوف ماننی پڑے گی۔ پس بہترین مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ اور طریقہ صرف قرآن کریم ہی ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کے بعد ہی فرمان ہوا ہے کہ ’ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت کر دیتا ‘۔ پس معلوم ہوا کہ اگلا خطاب صرف اس امت سے ہی نہیں بلکہ سب امتوں سے ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی اور کامل قدرت کا بیان ہے کہ اگر وہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی شریعت اور دین پر کر دیتا کوئی تبدیلی کسی وقت نہ ہوتی۔
لیکن رب کی حکمت کاملہ کا تقاضا یہ ہوا کہ علیحدہ علیحدہ شریعتیں مقرر کرے، ایک کے بعد دوسرا نبی علیہ السلام بھیجے اور بعض احکام اگلے نبی کے پچھلے نبی سے بدلوا دے، یہاں تک کہ اگلے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے منسوخ ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام روئے زمین کی طرف بھیجے گئے اور خاتم الانبیاء بنا کر بھیجے گئے۔ یہ مختلف شریعتیں صرف تمہاری آزمائش کیلئے ہوئیں تاکہ تابعداروں کو جزاء اور نافرمانوں کو سزا ملے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمہیں آزمائے، اس چیز میں جو تمہیں اس نے دی ہے یعنی کتاب۔ پس تمہیں خیرات اور نیکیوں کی طرف سبقت اور دوڑ کرنی چاہیئے۔ اللہ کی اطاعت، اس کی شریعت کی فرمانبرداری کی طرف آگے بڑھنا چاہیئے اور اس آخری شریعت، آخری کتاب اور آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بہ دل و جاں فرماں برداری کرنی چاہیئے۔ لوگو! تم سب کا مرجع و ماویٰ اور لوٹنا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے، وہاں وہ تمہیں تمہارے اختلاف کی اصلیت بتا دے گا۔ سچوں کو ان کی سچائی کا اچھا پھل دے گا اور بروں کو ان کی کج بحثی، سرکشی اور خواہش نفس کی پیروی کی سزا دے گا۔
’ جو حق کو ماننا تو ایک طرف بلکہ حق سے چڑتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں ‘۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے، مگر اول ہی اولیٰ ہے۔ پھر پہلی بات کی اور تاکید ہو رہی ہے اور اس کے خلاف سے روکا جاتا ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ ’ دیکھو کہیں اس خائن، مکار، کذاب، کفار یہود کی باتوں میں آکر اللہ کے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ ہو جانا۔ اگر وہ تیرے احکام سے روگردانی کریں اور شریعت کے خلاف کریں تو تو سمجھ لے کہ ان کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے اللہ کا کوئی عذاب ان پر آنے والا ہے۔ اسی لیے توفیق خیر ان سے چھین لی گئی ہے۔ اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اطاعت حق سے خارج۔ اللہ کے دین کے مخالف، ہدایت سے دور ہیں ‘۔ جیسے فرمایا آیت «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [12-یوسف:103] یعنی ’ گو تو حرص کر کے چاہے لیکن اکثر لوگ مومن نہیں ہیں ‘۔ اور فرمایا آیت «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:116] ’ اگر تو زمین والوں کی اکثریت کی مانے گا تو وہ تجھے بھی راہ حق سے بہکا دیں گے ‘۔ یہودیوں کے چند بڑے بڑے رئیسوں اور عالموں نے آپس میں ایک میٹنگ کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیں تو تمام یہود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کر لیں گے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے کیلئے تیار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اتنا کیجئے کہ ہم میں اور ہماری قوم میں ایک جھگڑا ہے، اس کا فیصلہ ہمارے مطابق کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا اور اسی پر یہ آیتیں اتریں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12156:ضعیف]
اس کے بعد جناب باری تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو اللہ کے حکم سے ہٹ جائیں، جس میں تمام بھلائیاں موجود اور تمام برائیاں دور ہیں۔ ایسے پاک حکم سے ہٹ کر رائے قیاس کی طرف، خواہش نفسانی کی طرف اور ان احکام کی طرف جھکے جو لوگوں نے از خود اپنی طرف سے بغیر دلیل شرعی کے گھڑ لیے ہیں جیسے کہ اہل جاہلیت اپنی جہالت و ضلالت اور اپنی رائے اور اپنی مرضی کے مطابق حکم احکام جاری کر لیا کرتے تھے اور جیسے کہ تاتاری ملکی معاملات میں چنگیز خان کے احکام کی پیروی کرتے تھے جو الیاسق نے گھڑ دیئے تھے۔ وہ بہت سے احکام کے مجموعے اور دفاتر تھے جو مختلف شریعتوں اور مذہبوں سے چھانٹے گئے تھے۔ یہودیت، نصرانیت، اسلامیت وغیرہ سب کے احکام کا وہ مجموعہ تھا اور پھر اس میں بہت سے احکام وہ بھی تھے، جو صرف اپنی عقلی اور مصلحت وقت کے پیش نظر ایجاد کئے گئے تھے، جن میں اپنی خواہش کی ملاوٹ بھی تھی۔ پس وہی مجموعے ان کی اولاد میں قابل عمل ٹھہر گئے اور اسی کو کتاب و سنت پر فوقیت اور تقدیم دے لی۔ درحقیقت ایسا کرنے والے کافر ہیں اور ان سے جہاد واجب ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی طرف آ جائیں اور کسی چھوٹے یا بڑے اہم یا غیر اہم معاملہ میں سوائے کتاب و سنت کے کوئی حکم کسی کا نہ لیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ یہ جاہلیت کے احکام کا ارادہ کرتے ہیں اور حکم رب سے سرک رہے ہیں؟ یقین والوں کیلئے اللہ سے بہتر حکمران اور کار فرما کون ہوگا؟ اللہ سے زیادہ عدل و انصاف والے احکام کس کے ہوں گے؟ ‘ ایماندار اور یقین کامل والے بخوبی جانتے اور مانتے ہیں کہ اس احکم الحاکمین اور الرحم الراحمین سے زیادہ اچھے، صاف، سہل اور عمدہ احکام و قواعد مسائل و ضوابط کسی کے بھی نہیں ہو سکتے۔ وہ اپنی مخلوق پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنی اولاد پر ہوتی ہے، وہ پورے اور پختہ علم والا کامل اور عظیم الشان قدرت والا اور عدل و انصاف والا ہے۔ حسن رحمة الله فرماتے ہیں ”اللہ کے فیصلے کے بغیر جو فتویٰ دے اس کا فتویٰ جاہلیت کا حکم ہے۔“ ایک شخص نے طاؤس رحمہ اللہ سے پوچھا کیا میں اپنی اولاد میں سے ایک کو زیادہ اور ایک کو کم دے سکتا ہوں؟ تو آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت پڑھی۔ طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے بڑا اللہ کا دشمن وہ ہے جو اسلام میں جاہلیت کا طریقہ اور حیلہ تلاش کرے اور بے وجہ کسی کی گردن مارنے کے درپے ہو جائے } }۔ یہ حدیث بخاری میں بھی قدرے الفاظ کی زیادتی کے ساتھ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6882]
48۔ 1 ہر آسمانی کتاب اپنے سے ما قبل کتاب کی مصدق رہی ہے جس طرح قرآن پچھلی تمام کتابوں کا مصدق ہے اور تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ یہ ساری کتابیں فی الواقع اللہ کی نازل کردہ ہیں۔ لیکن قرآن مصدق ہونے کے ساتھ ساتھ مُھَیْمِنْ (محافظ، امین، شاہد اور حاکم) بھی ہے۔ یعنی پچھلی کتابوں میں چونکہ تحریف اور تغیر (یعنی کاٹ چھانٹ اور تبدیلی) بھی ہوئی ہے اس لئے قرآن کا فیصلہ ناطق ہوگا، جس کو صحیح قرار دے گا وہی صحیح ہے۔ باقی باطل ہے۔ 48۔ 2 اس سے پہلے آیت نمبر 42 میں نبی کو اختیار دیا گیا تھا کہ آپ ان کے معاملات کے فیصلے کریں یا نہ کریں۔ آپ کی مرضی ہے۔ لیکن اب اس کی جگہ یہ حکم دیا جا رہا ہے، کہ ان کے آپس کے معاملات میں بھی قرآن کریم کے مطابق فیصلے فرمائیں۔ 48۔ 3 یہ دراصل امت کو تعلیم دی جا رہی ہے کہ اللہ کی نازل کردہ کتاب سے ہٹ کر لوگوں کی خواہشات اور آرا یا ان کی خود ساختہ مزعومات و افکار کے مطابق فیصلے کرنا گمراہی ہے، جس کی اجازت جب پیغمبر کو نہیں ہے تو کسی اور کو کس طرح حاصل ہوسکتی ہے۔ 48۔ 4 اس سے مراد پچھلی شریعتیں ہیں جن کے بعض احکامات ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ ایک شریعت میں بعض چیزیں حرام تو دوسری میں حلال تھیں، بعض میں کسی مسئلے میں تشدید تھی اور دوسرے میں تخفیف، لیکن دین سب کا ایک یعنی توحید پر مبنی تھا۔ اس لئے سب کی دعوت ایک ہی تھی۔ اس مضمون کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے " نحن معاشر الانبیاء اخوۃ لعلات، دیننا واحد " ہم انبیاء کی جماعت علاتی بھائی ہیں۔ ہمارا دین ایک ہے " علاتی بھائی وہ ہوتے ہیں جن کی مائیں تو مختلف ہوں باپ ایک ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا دین ایک ہی تھا اور شریعتیں مختلف تھیں۔ لیکن شریعت محمدیہ کے بعد اب ساری شریعتیں بھی منسوخ ہوگئیں ہیں اور اب دین بھی ایک ہے اور شریعت بھی ایک۔ 48۔ 5 یعنی نزول قرآن کے بعد اب نجات تو اگرچہ اسی سے وابستہ ہے۔ لیکن اس راہ نجات کو اختیار کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر جبر نہیں کیا ہے۔ ورنہ وہ چاہتا تو ایسا کرسکتا تھا، لیکن اس طرح تمہاری آزمائش ممکن نہ ہوتی، جب کہ وہ تمہیں آزمانا چاہتا ہے۔
(آیت 48)➊ {وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ ……:} اوپر کی آیات میں تورات اور انجیل کے اوصاف بیان کیے اور اہل کتاب کو ان پر عامل نہ ہونے کی وجہ سے کافر، ظالم اور فاسق قرار دیا۔ اب اس آیت میں قرآن کی توصیف بیان کی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ قرآن کے مطابق فیصلے کرو۔ {” مُهَيْمِنًا “} کے معنی محافظ، نگہبان اور شاہد کے آتے ہیں۔ قرآن پاک سابقہ کتابوں کا محافظ ہے، یعنی ہدایت کے جو علوم، معانی اور مضامین پہلی کتابوں میں تھے وہ سب کمال امانت کے ساتھ بیان کرتا ہے اور یہود کی تحریفات اور غلط تاویلات کو بیان کرتا ہے۔ یہ معنی بھی ہیں کہ تورات اور انجیل کے ہر حکم کو قرآن کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھا جائے گا، صحیح اترنے کی صورت میں قبول کر لیا جائے گا ورنہ رد کر دیا جائے گا۔ ➋ {فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ ……:} اس سے پہلے آیت (۴۲) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا گیا تھا کہ آپ ان کے معاملات کے فیصلے کریں یا نہ کریں آپ کی مرضی ہے، لیکن اب اس کی جگہ یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ ان کے آپس کے معاملات میں بھی قرآن کے مطابق فیصلے فرمائیں۔ ➌ {لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا:} اس کے مخاطب یہود و نصاریٰ اور مسلمان ہیں، یعنی گو تمام انبیاء کا دین ایک ہے مگر اپنے اپنے وقت میں ہر امت کی شریعت (احکام فرعیہ) اور طریقے مختلف رہے ہیں، ہر بعد میں آنے والے نبی کی شریعت میں پہلی شریعت سے مختلف احکام پائے جاتے ہیں، اب نبی آخر الزماں کی شریعت ہر لحاظ سے مکمل اور قیامت تک کے لیے ہے۔ ایک حدیث میں ہے: ”انبیاء علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اﷲ: «واذكر في الكتاب مريم……» : ۳۴۴۳ ] یعنی سب کا دین اور اصول تو ایک ہیں، اختلاف جو کچھ بھی ہے وہ صرف فروعی احکام کی حد تک ہے۔ اب آخری نبی کے بعد نہ کسی پہلے نبی کے احکام و مسائل پر عمل ہو گا اور نہ اس امت کے کسی امام و مجتہد کے قول، رائے اور فتویٰ پر۔ ➍ {وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ:} یعنی اگر اﷲ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو جبراً ایک ہی امت بنا دیتا مگر یہ اختلاف اس لیے ہے کہ اﷲ تعالیٰ تمھارا امتحان کرنا چاہتا ہے کہ تم اس عقل اور ان اختیارات کو کیسے استعمال کرتے ہو جو اس نے تمھیں دیے ہیں، تاکہ اس پر جزا و سزا ہو سکے۔ ➎ {فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ:} یعنی خواہ مخواہ کی کج بحثیوں کو چھوڑ کر ان نیکیوں کو اختیار کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھو جن کا اب تمھیں آخری شریعت میں حکم دیا جا رہا ہے۔
پس اے محمدؐ! تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق اِن لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اُس ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو خدا نے تمہاری طرف نازل کی ہے پھر اگر یہ اس سے منہ موڑیں تو جان لو کہ اللہ نے اِن کے بعض گناہوں کی پاداش میں ان کو مبتلائے مصیبت کرنے کا ارادہ ہی کر لیا ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ اِن لوگوں میں سے اکثر فاسق ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ ان کے معاملات میں خدا کی نازل کرده وحی کے مطابق ہی حکم کیا کیجیئے، ان کی خواہشوں کی تابعداری نہ کیجیئے اور ان سے ہوشیار رہیئے کہ کہیں یہ آپ کو اللہ کے اتارے ہوئے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ کریں، اگر یہ لوگ منھ پھیر لیں تو یقین کریں کہ اللہ کا اراده یہی ہے کہ انہیں ان کے بعض گناہوں کی سزا دے ہی ڈالے اور اکثر لوگ نا فرمان ہی ہوتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور یہ کہ اے مسلمان! اللہ کے اتارے پر حکم کر اور ان کی خواہشوں پر نہ چل اور ان سے بچتا رہ کہ کہیں تجھے لغزش نہ دے دیں کسی حکم میں جو تیری طرف اترا پھر اگر وہ منہ پھیریں تو جان لو کہ اللہ ان کے بعض گناہوں کی سزا ان کو پہنچایا چاہتا ہے اور بیشک بہت آدمی بے حکم ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں، جو اللہ نے تم پر نازل کیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں اور ان سے ہوشیار رہیں کہ کہیں وہ آپ کو اللہ کے نازل کردہ کسی حکم سے بھٹکا نہ دیں اور اگر وہ روگردانی کریں، تو جان لیجیے کہ اللہ بس یہ چاہتا ہے کہ وہ انہیں ان کے بعض گناہوں کی سزا دے۔ بے شک زیادہ تر لوگ فاسق (نافرمان ہیں)۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہ کہ ان کے درمیان اس کے ساتھ فیصلہ کر جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کر اور ان سے بچ کہ وہ تجھے کسی ایسے حکم سے بہکا دیں جو اللہ نے تیری طرف نازل کیا ہے، پھر اگر وہ پھر جائیں تو جان لے کہ اللہ یہی چاہتا ہے کہ انھیں ان کے کچھ گناہوں کی سزا پہنچائے اور بے شک بہت سے لوگ یقینا نافرمان ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن ایک مستقل شریعت ہے ٭٭
تورات و انجیل کی ثنا و صفت اور تعریف و مدحت کے بعد اب قرآن عظیم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ ’ ہم نے اسے حق و صداقت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یہ بالیقین اللہ واحد کی طرف سے ہے اور اس کا کلام ہے۔ یہ تمام پہلی الٰہی کتابوں کو سچا مانتا ہے اور ان کتابوں میں بھی اس کی صفت و ثنا موجود ہے اور یہ بھی بیان ان میں ہے کہ یہ پاک اور آخری کتاب آخری اور افضل رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اترے گی، پس ہر دانا شخص اس پر یقین رکھتا ہے اور اسے مانتا ہے ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» ۱؎ [17-الاسراء:108-107] ، ’ جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا تھا، جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبانی اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے رب کا وعدہ سچا ہے اور وہ سچا ثابت ہو چکا ‘۔ اس نے اگلے رسولوں کی زبانی جو خبر دی تھی وہ پوری ہوئی اور آخری رسول رسولوں کے سرتاج رسول آ ہی گئے اور یہ کتاب ان پہلی کتابوں کی امین ہے۔ یعنی اس میں جو کچھ ہے، وہی پہلی کتابوں میں بھی تھا، اب اس کے خلاف کوئی کہے کہ فلاں پہلی کتاب میں یوں ہے تو یہ غلط ہے۔ یہ ان کی سچی گواہ اور انہیں گھیر لینے والی اور سمیٹ لینے والی ہے۔ جو جو اچھائیاں پہلے کی تمام کتابوں میں جمع تھیں، وہ سب اس آخری کتاب میں یکجا موجود ہیں، اسی لیے یہ سب پر حاکم اور سب پر مقدم ہے اور اس کی حفاظت کا کفیل خود اللہ تعالیٰ ہے۔ جیسے فرمایا «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» ۱؎ [15-الحجر:9] بعض نے کہا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کتاب پر امین ہیں۔“ واقع میں تو یہ قول بہت صحیح ہے لیکن اس آیت کی تفسیر یہ کرنی ٹھیک نہیں بلکہ عربی زبان کے اعتبار سے بھی یہ غور طلب امر ہے۔ صحیح تفسیر پہلی ہی ہے۔ امام ابن جریر رحمة الله نے بھی مجاہد رحمة الله سے اس قول کو نقل کر کے فرمایا ہے ”یہ بہت دور کی بات ہے بلکہ ٹھیک نہیں ہے اس لیے «مُهَيْمِنً» کا عطف مصدق پر ہے، پس یہ بھی اسی چیز کی صفت ہے جس کی صفت مصدق کا لفظ تھا۔“ اگر مجاہد رحمہ اللہ کے معنی صحیح مان لیے جائیں تو عبارت بغیر عطف کے ہونی چاہیئے تھی۔
خواہ عرب ہوں، خواہ عجم ہوں، خواہ لکھے پڑھے ہوں، خواہ ان پڑھ ہوں، اللہ کی طرف سے نازل کردہ سے مراد وحی اللہ ہے۔ خواہ وہ اس کتاب کی صورت میں ہو، خواہ جو پہلے احکام اللہ نے مقرر کر رکھے ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس آیت سے پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آزادی دی گئی تھی، اگر چاہیں ان میں فیصلے کریں چاہیں نہ کریں، لیکن اس آیت نے حکم دیا کہ وحی الٰہی کے ساتھ ان میں فیصلے کرنے ضروری ہیں۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:332/10] ’ ان بدنصیب جاہلوں نے اپنی طرف سے جو احکام گھڑ لیے ہیں اور ان کی وجہ سے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا ہے، خبردار اے نبی کریم! صلی اللہ علیہ وسلم تو ان کی چاہتوں کے پیچھے لگ کر حق کو نہ چھوڑ بیٹھنا۔ ان میں سے ہر ایک کیلئے ہم نے راستہ اور طریقہ بنا دیا ہے ‘۔ کسی چیز کی طرف ابتداء کرنے کو «شِرْعَةً» کہتے ہیں، منہاج لغت میں کہتے ہیں واضح اور آسان راستے کو۔ پس ان دونوں لفظوں کی یہی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ پہلی تمام شریعتیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھیں، وہ سب توحید پر متفق تھیں، البتہ چھوٹے موٹے احکام میں قدرے ہیر پھیر تھا۔ جیسے حدیث شریف میں ہے { ہم سب انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، ہم سب کا دین ایک ہی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3443] ہر نبی علیہ السلام توحید کے ساتھ بھیجا جاتا رہا اور ہر آسمانی کتاب میں توحید کا بیان اس کا ثبوت اور اسی کی طرف دعوت دی جاتی رہی۔
جیسے قرآن فرماتا ہے کہ «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25] ’ تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے، ان سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو ‘۔ اور آیت میں «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» [16-النحل:36] ، ’ ہم نے ہر امت کو بزبان رسول کہلوادیا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو ‘۔ ہاں احکام کا اختلاف ضرور، کوئی چیز کسی زمانے میں حرام تھی پھر حلال ہوگئی یا اس کے برعکس۔ یا کسی حکم میں تخفیف تھی اب تاکید ہوگئی یا اس کے خلاف اور یہ بھی حکمت اور مصلحت اور حجت ربانی کے ساتھ مثلاً توراۃ ایک شریعت ہے، انجیل ایک شریعت ہے، قرآن ایک مستقل شریعت ہے تاکہ ہر زمانے کے فرمانبرداروں اور نافرمانوں کا امتحان ہو جایا کرے۔ البتہ توحید سب زمانوں میں یکساں رہی اور معنی اس جملہ کے یہ ہیں کہ ’ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم میں سے ہر شخص کیلئے ہم نے اپنی اس کتاب قرآن کریم کو شریعت اور طریقہ بنایا ہے، تم سب کو اس کی اقتدأ اور تابعداری کرنی چاہیئے ‘۔ اس صورت میں «جَعَلْنَا» کے بعد ضمیر «ہ» کی محذوف ماننی پڑے گی۔ پس بہترین مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ اور طریقہ صرف قرآن کریم ہی ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کے بعد ہی فرمان ہوا ہے کہ ’ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت کر دیتا ‘۔ پس معلوم ہوا کہ اگلا خطاب صرف اس امت سے ہی نہیں بلکہ سب امتوں سے ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی اور کامل قدرت کا بیان ہے کہ اگر وہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی شریعت اور دین پر کر دیتا کوئی تبدیلی کسی وقت نہ ہوتی۔
لیکن رب کی حکمت کاملہ کا تقاضا یہ ہوا کہ علیحدہ علیحدہ شریعتیں مقرر کرے، ایک کے بعد دوسرا نبی علیہ السلام بھیجے اور بعض احکام اگلے نبی کے پچھلے نبی سے بدلوا دے، یہاں تک کہ اگلے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے منسوخ ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام روئے زمین کی طرف بھیجے گئے اور خاتم الانبیاء بنا کر بھیجے گئے۔ یہ مختلف شریعتیں صرف تمہاری آزمائش کیلئے ہوئیں تاکہ تابعداروں کو جزاء اور نافرمانوں کو سزا ملے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمہیں آزمائے، اس چیز میں جو تمہیں اس نے دی ہے یعنی کتاب۔ پس تمہیں خیرات اور نیکیوں کی طرف سبقت اور دوڑ کرنی چاہیئے۔ اللہ کی اطاعت، اس کی شریعت کی فرمانبرداری کی طرف آگے بڑھنا چاہیئے اور اس آخری شریعت، آخری کتاب اور آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بہ دل و جاں فرماں برداری کرنی چاہیئے۔ لوگو! تم سب کا مرجع و ماویٰ اور لوٹنا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے، وہاں وہ تمہیں تمہارے اختلاف کی اصلیت بتا دے گا۔ سچوں کو ان کی سچائی کا اچھا پھل دے گا اور بروں کو ان کی کج بحثی، سرکشی اور خواہش نفس کی پیروی کی سزا دے گا۔
’ جو حق کو ماننا تو ایک طرف بلکہ حق سے چڑتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں ‘۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے، مگر اول ہی اولیٰ ہے۔ پھر پہلی بات کی اور تاکید ہو رہی ہے اور اس کے خلاف سے روکا جاتا ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ ’ دیکھو کہیں اس خائن، مکار، کذاب، کفار یہود کی باتوں میں آکر اللہ کے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ ہو جانا۔ اگر وہ تیرے احکام سے روگردانی کریں اور شریعت کے خلاف کریں تو تو سمجھ لے کہ ان کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے اللہ کا کوئی عذاب ان پر آنے والا ہے۔ اسی لیے توفیق خیر ان سے چھین لی گئی ہے۔ اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اطاعت حق سے خارج۔ اللہ کے دین کے مخالف، ہدایت سے دور ہیں ‘۔ جیسے فرمایا آیت «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [12-یوسف:103] یعنی ’ گو تو حرص کر کے چاہے لیکن اکثر لوگ مومن نہیں ہیں ‘۔ اور فرمایا آیت «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:116] ’ اگر تو زمین والوں کی اکثریت کی مانے گا تو وہ تجھے بھی راہ حق سے بہکا دیں گے ‘۔ یہودیوں کے چند بڑے بڑے رئیسوں اور عالموں نے آپس میں ایک میٹنگ کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیں تو تمام یہود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کر لیں گے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے کیلئے تیار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اتنا کیجئے کہ ہم میں اور ہماری قوم میں ایک جھگڑا ہے، اس کا فیصلہ ہمارے مطابق کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا اور اسی پر یہ آیتیں اتریں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12156:ضعیف]
اس کے بعد جناب باری تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو اللہ کے حکم سے ہٹ جائیں، جس میں تمام بھلائیاں موجود اور تمام برائیاں دور ہیں۔ ایسے پاک حکم سے ہٹ کر رائے قیاس کی طرف، خواہش نفسانی کی طرف اور ان احکام کی طرف جھکے جو لوگوں نے از خود اپنی طرف سے بغیر دلیل شرعی کے گھڑ لیے ہیں جیسے کہ اہل جاہلیت اپنی جہالت و ضلالت اور اپنی رائے اور اپنی مرضی کے مطابق حکم احکام جاری کر لیا کرتے تھے اور جیسے کہ تاتاری ملکی معاملات میں چنگیز خان کے احکام کی پیروی کرتے تھے جو الیاسق نے گھڑ دیئے تھے۔ وہ بہت سے احکام کے مجموعے اور دفاتر تھے جو مختلف شریعتوں اور مذہبوں سے چھانٹے گئے تھے۔ یہودیت، نصرانیت، اسلامیت وغیرہ سب کے احکام کا وہ مجموعہ تھا اور پھر اس میں بہت سے احکام وہ بھی تھے، جو صرف اپنی عقلی اور مصلحت وقت کے پیش نظر ایجاد کئے گئے تھے، جن میں اپنی خواہش کی ملاوٹ بھی تھی۔ پس وہی مجموعے ان کی اولاد میں قابل عمل ٹھہر گئے اور اسی کو کتاب و سنت پر فوقیت اور تقدیم دے لی۔ درحقیقت ایسا کرنے والے کافر ہیں اور ان سے جہاد واجب ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی طرف آ جائیں اور کسی چھوٹے یا بڑے اہم یا غیر اہم معاملہ میں سوائے کتاب و سنت کے کوئی حکم کسی کا نہ لیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ یہ جاہلیت کے احکام کا ارادہ کرتے ہیں اور حکم رب سے سرک رہے ہیں؟ یقین والوں کیلئے اللہ سے بہتر حکمران اور کار فرما کون ہوگا؟ اللہ سے زیادہ عدل و انصاف والے احکام کس کے ہوں گے؟ ‘ ایماندار اور یقین کامل والے بخوبی جانتے اور مانتے ہیں کہ اس احکم الحاکمین اور الرحم الراحمین سے زیادہ اچھے، صاف، سہل اور عمدہ احکام و قواعد مسائل و ضوابط کسی کے بھی نہیں ہو سکتے۔ وہ اپنی مخلوق پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنی اولاد پر ہوتی ہے، وہ پورے اور پختہ علم والا کامل اور عظیم الشان قدرت والا اور عدل و انصاف والا ہے۔ حسن رحمة الله فرماتے ہیں ”اللہ کے فیصلے کے بغیر جو فتویٰ دے اس کا فتویٰ جاہلیت کا حکم ہے۔“ ایک شخص نے طاؤس رحمہ اللہ سے پوچھا کیا میں اپنی اولاد میں سے ایک کو زیادہ اور ایک کو کم دے سکتا ہوں؟ تو آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت پڑھی۔ طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے بڑا اللہ کا دشمن وہ ہے جو اسلام میں جاہلیت کا طریقہ اور حیلہ تلاش کرے اور بے وجہ کسی کی گردن مارنے کے درپے ہو جائے } }۔ یہ حدیث بخاری میں بھی قدرے الفاظ کی زیادتی کے ساتھ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6882]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 49) ➊ {وَ اَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ ……:} یعنی یہ اہل کتاب اگرچہ آپس میں دست و گریباں رہیں، مگر آپ ان کے باہمی اختلاف سے متاثر نہ ہوں، آپ اﷲ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں اور ان سے ہوشیار رہیں، ایسا نہ ہو کہ ان کے کسی گروہ کو خوش کرنے یا ان سے مصالحت کی کوئی خواہش آپ کو اﷲ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام سے ہٹا دے۔ مزید دیکھیے سورۂ نساء (۱۱۳)، سورۂ بنی اسرائیل (۷۳ تا ۷۵) اور سورۂ قلم (۸، ۹)۔ ➋ {فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّصِيْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ:} یعنی اﷲ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ ان کو ایمان کی توفیق سے محروم رکھ کر اس دنیا میں ان کو جلاوطنی، جزیہ یا قتل کی سزا دے، کیونکہ ان میں انصاف پسند اور حق پر چلنے والے بہت تھوڑے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ انسان کو اس کے گناہوں کی شامت کیا کیا نقصان پہنچاتی ہے، اس لیے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ میں کہا کرتے تھے: [ وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّاٰتِ اَعْمَالِنَا ] [ ابن ماجہ، النکاح، باب خطبۃ النکاح: ۱۸۹۲ ] ”ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں سے اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اﷲ کی پناہ چاہتے ہیں۔“
(اگر یہ خدا کے قانون سے منہ موڑتے ہیں) تو کیا پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ لوگ پھر سے جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے واﻻ کون ہوسکتا ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور اللہ سے بہتر کس کا حکم یقین والوں کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ دورِ جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں؟ حالانکہ یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہے؟
عبدالسلام بن محمد
پھر کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں اور اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہے، ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن ایک مستقل شریعت ہے ٭٭
تورات و انجیل کی ثنا و صفت اور تعریف و مدحت کے بعد اب قرآن عظیم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ ’ ہم نے اسے حق و صداقت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یہ بالیقین اللہ واحد کی طرف سے ہے اور اس کا کلام ہے۔ یہ تمام پہلی الٰہی کتابوں کو سچا مانتا ہے اور ان کتابوں میں بھی اس کی صفت و ثنا موجود ہے اور یہ بھی بیان ان میں ہے کہ یہ پاک اور آخری کتاب آخری اور افضل رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اترے گی، پس ہر دانا شخص اس پر یقین رکھتا ہے اور اسے مانتا ہے ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» ۱؎ [17-الاسراء:108-107] ، ’ جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا تھا، جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبانی اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے رب کا وعدہ سچا ہے اور وہ سچا ثابت ہو چکا ‘۔ اس نے اگلے رسولوں کی زبانی جو خبر دی تھی وہ پوری ہوئی اور آخری رسول رسولوں کے سرتاج رسول آ ہی گئے اور یہ کتاب ان پہلی کتابوں کی امین ہے۔ یعنی اس میں جو کچھ ہے، وہی پہلی کتابوں میں بھی تھا، اب اس کے خلاف کوئی کہے کہ فلاں پہلی کتاب میں یوں ہے تو یہ غلط ہے۔ یہ ان کی سچی گواہ اور انہیں گھیر لینے والی اور سمیٹ لینے والی ہے۔ جو جو اچھائیاں پہلے کی تمام کتابوں میں جمع تھیں، وہ سب اس آخری کتاب میں یکجا موجود ہیں، اسی لیے یہ سب پر حاکم اور سب پر مقدم ہے اور اس کی حفاظت کا کفیل خود اللہ تعالیٰ ہے۔ جیسے فرمایا «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» ۱؎ [15-الحجر:9] بعض نے کہا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کتاب پر امین ہیں۔“ واقع میں تو یہ قول بہت صحیح ہے لیکن اس آیت کی تفسیر یہ کرنی ٹھیک نہیں بلکہ عربی زبان کے اعتبار سے بھی یہ غور طلب امر ہے۔ صحیح تفسیر پہلی ہی ہے۔ امام ابن جریر رحمة الله نے بھی مجاہد رحمة الله سے اس قول کو نقل کر کے فرمایا ہے ”یہ بہت دور کی بات ہے بلکہ ٹھیک نہیں ہے اس لیے «مُهَيْمِنً» کا عطف مصدق پر ہے، پس یہ بھی اسی چیز کی صفت ہے جس کی صفت مصدق کا لفظ تھا۔“ اگر مجاہد رحمہ اللہ کے معنی صحیح مان لیے جائیں تو عبارت بغیر عطف کے ہونی چاہیئے تھی۔
خواہ عرب ہوں، خواہ عجم ہوں، خواہ لکھے پڑھے ہوں، خواہ ان پڑھ ہوں، اللہ کی طرف سے نازل کردہ سے مراد وحی اللہ ہے۔ خواہ وہ اس کتاب کی صورت میں ہو، خواہ جو پہلے احکام اللہ نے مقرر کر رکھے ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس آیت سے پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آزادی دی گئی تھی، اگر چاہیں ان میں فیصلے کریں چاہیں نہ کریں، لیکن اس آیت نے حکم دیا کہ وحی الٰہی کے ساتھ ان میں فیصلے کرنے ضروری ہیں۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:332/10] ’ ان بدنصیب جاہلوں نے اپنی طرف سے جو احکام گھڑ لیے ہیں اور ان کی وجہ سے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا ہے، خبردار اے نبی کریم! صلی اللہ علیہ وسلم تو ان کی چاہتوں کے پیچھے لگ کر حق کو نہ چھوڑ بیٹھنا۔ ان میں سے ہر ایک کیلئے ہم نے راستہ اور طریقہ بنا دیا ہے ‘۔ کسی چیز کی طرف ابتداء کرنے کو «شِرْعَةً» کہتے ہیں، منہاج لغت میں کہتے ہیں واضح اور آسان راستے کو۔ پس ان دونوں لفظوں کی یہی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ پہلی تمام شریعتیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھیں، وہ سب توحید پر متفق تھیں، البتہ چھوٹے موٹے احکام میں قدرے ہیر پھیر تھا۔ جیسے حدیث شریف میں ہے { ہم سب انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، ہم سب کا دین ایک ہی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3443] ہر نبی علیہ السلام توحید کے ساتھ بھیجا جاتا رہا اور ہر آسمانی کتاب میں توحید کا بیان اس کا ثبوت اور اسی کی طرف دعوت دی جاتی رہی۔
جیسے قرآن فرماتا ہے کہ «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25] ’ تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے، ان سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو ‘۔ اور آیت میں «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» [16-النحل:36] ، ’ ہم نے ہر امت کو بزبان رسول کہلوادیا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو ‘۔ ہاں احکام کا اختلاف ضرور، کوئی چیز کسی زمانے میں حرام تھی پھر حلال ہوگئی یا اس کے برعکس۔ یا کسی حکم میں تخفیف تھی اب تاکید ہوگئی یا اس کے خلاف اور یہ بھی حکمت اور مصلحت اور حجت ربانی کے ساتھ مثلاً توراۃ ایک شریعت ہے، انجیل ایک شریعت ہے، قرآن ایک مستقل شریعت ہے تاکہ ہر زمانے کے فرمانبرداروں اور نافرمانوں کا امتحان ہو جایا کرے۔ البتہ توحید سب زمانوں میں یکساں رہی اور معنی اس جملہ کے یہ ہیں کہ ’ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم میں سے ہر شخص کیلئے ہم نے اپنی اس کتاب قرآن کریم کو شریعت اور طریقہ بنایا ہے، تم سب کو اس کی اقتدأ اور تابعداری کرنی چاہیئے ‘۔ اس صورت میں «جَعَلْنَا» کے بعد ضمیر «ہ» کی محذوف ماننی پڑے گی۔ پس بہترین مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ اور طریقہ صرف قرآن کریم ہی ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کے بعد ہی فرمان ہوا ہے کہ ’ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت کر دیتا ‘۔ پس معلوم ہوا کہ اگلا خطاب صرف اس امت سے ہی نہیں بلکہ سب امتوں سے ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی اور کامل قدرت کا بیان ہے کہ اگر وہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی شریعت اور دین پر کر دیتا کوئی تبدیلی کسی وقت نہ ہوتی۔
لیکن رب کی حکمت کاملہ کا تقاضا یہ ہوا کہ علیحدہ علیحدہ شریعتیں مقرر کرے، ایک کے بعد دوسرا نبی علیہ السلام بھیجے اور بعض احکام اگلے نبی کے پچھلے نبی سے بدلوا دے، یہاں تک کہ اگلے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے منسوخ ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام روئے زمین کی طرف بھیجے گئے اور خاتم الانبیاء بنا کر بھیجے گئے۔ یہ مختلف شریعتیں صرف تمہاری آزمائش کیلئے ہوئیں تاکہ تابعداروں کو جزاء اور نافرمانوں کو سزا ملے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمہیں آزمائے، اس چیز میں جو تمہیں اس نے دی ہے یعنی کتاب۔ پس تمہیں خیرات اور نیکیوں کی طرف سبقت اور دوڑ کرنی چاہیئے۔ اللہ کی اطاعت، اس کی شریعت کی فرمانبرداری کی طرف آگے بڑھنا چاہیئے اور اس آخری شریعت، آخری کتاب اور آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بہ دل و جاں فرماں برداری کرنی چاہیئے۔ لوگو! تم سب کا مرجع و ماویٰ اور لوٹنا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے، وہاں وہ تمہیں تمہارے اختلاف کی اصلیت بتا دے گا۔ سچوں کو ان کی سچائی کا اچھا پھل دے گا اور بروں کو ان کی کج بحثی، سرکشی اور خواہش نفس کی پیروی کی سزا دے گا۔
’ جو حق کو ماننا تو ایک طرف بلکہ حق سے چڑتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں ‘۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے، مگر اول ہی اولیٰ ہے۔ پھر پہلی بات کی اور تاکید ہو رہی ہے اور اس کے خلاف سے روکا جاتا ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ ’ دیکھو کہیں اس خائن، مکار، کذاب، کفار یہود کی باتوں میں آکر اللہ کے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ ہو جانا۔ اگر وہ تیرے احکام سے روگردانی کریں اور شریعت کے خلاف کریں تو تو سمجھ لے کہ ان کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے اللہ کا کوئی عذاب ان پر آنے والا ہے۔ اسی لیے توفیق خیر ان سے چھین لی گئی ہے۔ اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اطاعت حق سے خارج۔ اللہ کے دین کے مخالف، ہدایت سے دور ہیں ‘۔ جیسے فرمایا آیت «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [12-یوسف:103] یعنی ’ گو تو حرص کر کے چاہے لیکن اکثر لوگ مومن نہیں ہیں ‘۔ اور فرمایا آیت «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:116] ’ اگر تو زمین والوں کی اکثریت کی مانے گا تو وہ تجھے بھی راہ حق سے بہکا دیں گے ‘۔ یہودیوں کے چند بڑے بڑے رئیسوں اور عالموں نے آپس میں ایک میٹنگ کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیں تو تمام یہود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کر لیں گے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے کیلئے تیار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اتنا کیجئے کہ ہم میں اور ہماری قوم میں ایک جھگڑا ہے، اس کا فیصلہ ہمارے مطابق کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا اور اسی پر یہ آیتیں اتریں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12156:ضعیف]
اس کے بعد جناب باری تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو اللہ کے حکم سے ہٹ جائیں، جس میں تمام بھلائیاں موجود اور تمام برائیاں دور ہیں۔ ایسے پاک حکم سے ہٹ کر رائے قیاس کی طرف، خواہش نفسانی کی طرف اور ان احکام کی طرف جھکے جو لوگوں نے از خود اپنی طرف سے بغیر دلیل شرعی کے گھڑ لیے ہیں جیسے کہ اہل جاہلیت اپنی جہالت و ضلالت اور اپنی رائے اور اپنی مرضی کے مطابق حکم احکام جاری کر لیا کرتے تھے اور جیسے کہ تاتاری ملکی معاملات میں چنگیز خان کے احکام کی پیروی کرتے تھے جو الیاسق نے گھڑ دیئے تھے۔ وہ بہت سے احکام کے مجموعے اور دفاتر تھے جو مختلف شریعتوں اور مذہبوں سے چھانٹے گئے تھے۔ یہودیت، نصرانیت، اسلامیت وغیرہ سب کے احکام کا وہ مجموعہ تھا اور پھر اس میں بہت سے احکام وہ بھی تھے، جو صرف اپنی عقلی اور مصلحت وقت کے پیش نظر ایجاد کئے گئے تھے، جن میں اپنی خواہش کی ملاوٹ بھی تھی۔ پس وہی مجموعے ان کی اولاد میں قابل عمل ٹھہر گئے اور اسی کو کتاب و سنت پر فوقیت اور تقدیم دے لی۔ درحقیقت ایسا کرنے والے کافر ہیں اور ان سے جہاد واجب ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی طرف آ جائیں اور کسی چھوٹے یا بڑے اہم یا غیر اہم معاملہ میں سوائے کتاب و سنت کے کوئی حکم کسی کا نہ لیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ یہ جاہلیت کے احکام کا ارادہ کرتے ہیں اور حکم رب سے سرک رہے ہیں؟ یقین والوں کیلئے اللہ سے بہتر حکمران اور کار فرما کون ہوگا؟ اللہ سے زیادہ عدل و انصاف والے احکام کس کے ہوں گے؟ ‘ ایماندار اور یقین کامل والے بخوبی جانتے اور مانتے ہیں کہ اس احکم الحاکمین اور الرحم الراحمین سے زیادہ اچھے، صاف، سہل اور عمدہ احکام و قواعد مسائل و ضوابط کسی کے بھی نہیں ہو سکتے۔ وہ اپنی مخلوق پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنی اولاد پر ہوتی ہے، وہ پورے اور پختہ علم والا کامل اور عظیم الشان قدرت والا اور عدل و انصاف والا ہے۔ حسن رحمة الله فرماتے ہیں ”اللہ کے فیصلے کے بغیر جو فتویٰ دے اس کا فتویٰ جاہلیت کا حکم ہے۔“ ایک شخص نے طاؤس رحمہ اللہ سے پوچھا کیا میں اپنی اولاد میں سے ایک کو زیادہ اور ایک کو کم دے سکتا ہوں؟ تو آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت پڑھی۔ طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے بڑا اللہ کا دشمن وہ ہے جو اسلام میں جاہلیت کا طریقہ اور حیلہ تلاش کرے اور بے وجہ کسی کی گردن مارنے کے درپے ہو جائے } }۔ یہ حدیث بخاری میں بھی قدرے الفاظ کی زیادتی کے ساتھ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6882]
50۔ 1 اب قرآن اور اسلام کے سوا، سب جاہلیت ہے، کیا یہ اب بھی روشنی اور ہدایت (اسلام) کو چھوڑ کر جاہلیت ہی کے متلاشی اور اور طالب ہیں؟ یہ استفہام، انکار اور توبیخ کے لئے ہے اور ' فا ' لفظ مقدر پر عطف ہے اور معنی ہیں (یعرضون من حکمک بما انزل اللہ علیک ویتولون عنہ، یبتغون حکم الجاہلیۃ) تیرے اس فیصلے سے جو اللہ نے تجھ پر نازل کیا ہے یہ اعراض کرتے اور پیٹھ پھیرتے ہیں اور جاہلیت کے طریقوں کے متلاشی ہیں (فتح القدیر) 50۔ 2 حدیث میں آتا ہے نبی نے فرمایا ' اللہ کہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو اسلام میں جاہلیت کے طریقے کا متلاشی ہو اور ناحق کسی کا خون بہانے کا طالب ہو۔
(آیت 50) {اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ ……:} کیا یہ اﷲ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق کیے ہوئے فیصلے کو چھوڑ کر کفر و جاہلیت کے زمانے کا فیصلہ پسند کرتے ہیں جس کی بنیاد ذاتی خواہشات پر ہوتی تھی اور جن میں کمزور کے مقابلے میں طاقت ور کی طرف داری کی جاتی تھی، اسی کا نام یہودیت ہے کہ وہ چھوٹے درجے کے آدمی کے مقابلے میں بڑے کی رعایت کرتے، کمزوروں پر حدود قائم کرتے اور مال دار طبقہ کی رعایت کرتے۔ (کبیر، قرطبی) افسوس بعض مسلم حکام کے زمانے کے علماء نے ایسے احکام اور حیلے ایجاد کیے کہ اﷲ تعالیٰ کی حدود کا نفاذ تقریباً ناممکن ہو گیا، مثلاًانھوں نے شراب کی ایک دو قسمیں چھوڑ کر باقی نشہ آور چیزیں حلال کر دیں۔ اجرت پر لائی ہوئی عورت کے ساتھ زنا پر حد ختم کر دی۔ قصاص کو جیسا کہ اوپر گزرا تقریباً باطل کر دیا۔ سود کی کئی صورتوں کو حلال کر دیا۔ چور کو عدالت میں پیش ہونے کے بعد بھی صاحب مال کو معاف کرنے کا اختیار دے دیا۔ شواہد کے ساتھ چور کا جرم ثابت ہونے کے بعد چور کے صرف اس دعوے سے کہ یہ میرا مال تھا، اس کی حد معاف کر دی، خواہ وہ اپنی ملکیت کا کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے۔ اس امام (حاکم) کو جس سے اوپر کوئی امام نہ ہو ایک دو چیزوں کے سوا تمام حدود معاف کر دیں اور جاہلیت کے ان احکام کو شرع اسلام قرار دے کر مسلمان ملکوں میں نافذ کر دیا، تو کیا اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمان: ” پھر کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں“ جس طرح یہود و نصاریٰ میں شریعت بدلنے والوں کے لیے تھا، اسی طرح ایسے مسلمانوں کے لیے نہیں ہو گا جو قرآن و حدیث کے صریح احکام کے مقابلے میں اپنے من گھڑت احکام نافذ کرنے کے خواہش مند ہیں۔ اس کا نتیجہ بھی دنیا پر غلبے سے محرومی اور کفار کی بدترین غلامی کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ اب بھی مسلمانوں کے اکثر حکام نے طرز حکومت اور ملکی قانون کفار کے طریقے کے مطابق بنایا ہوا ہے اور وہ ایسی علماء کونسلیں بناتے رہتے ہیں جو قدیم جاہلیت کے ساتھ ساتھ نئی سے نئی جاہلیت کے نفاذ کے لیے قانون بنائیں اور اس کا نام اسلامی کونسل رکھتے ہیں۔ [ إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ]