وضو اور غسل کے احکامات ٭٭
اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ حکم وضو اس وقت ہے جب کہ آدمی بے وضو ہو۔ ایک جماعت کہتی ہے جب تم کھڑے ہو یعنی نیند سے جاگو یہ دونوں قول تقریباً ایک ہی مطلب کے ہیں اور حضرات فرماتے ہیں آیت تو عام ہے اور اپنے عموم پر ہی رہے گی لیکن جو بے وضو ہو اس پر وضو کرنے کا حکم وجوباً ہے اور جو با وضو ہو اس پر استحباباً۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ ابتداء اسلام میں ہر صلٰوۃ کے وقت وضو کرنے کا حکم تھا پھر منسوخ ہو گیا۔ مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کیلئے تازہ وضو کیا کرتے تھے، فتح مکہ والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور جرابوں پر مسح کیا اور اسی ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کیں، یہ دیکھ کر سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کام کیا جو آج سے پہلے نہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں میں نے بھول کر ایسا نہیں کیا بلکہ جان بوجھ کر قصداً یہ کیا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:277] ابن ماجہ وغیرہ میں کہ { جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھا کرتے تھے ہاں پیشاب کریں یا وضو ٹوٹ جائے تو نیا وضو کر لیا کرتے اور وضو ہی کے بچے ہوئے پانی سے جرابوں پر مسح کر لیا کرتے۔ یہ دیکھ کر فضل بن مبشر نے سوال کیا کہ کیا آپ اسے اپنی رائے سے کرتے ہیں؟ فرمایا ”نہیں بلکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:511،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو ہر نماز کیلئے تازہ وضو کرتے دیکھ کر خواہ وضو ٹوٹا ہو یا نہ ٹوٹا ہو ان کے صاحبزادے عبیداللہ رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ اس کی کیا سند ہے؟ فرمایا اس سے سیدہ اسماء بنت زید بن خطاب رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ ان سے سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ نے جو فرشتوں کے غسل دئیے ہوئے کے صاحبزادے تھے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کیلئے تازہ وضو کرنے کا حکم دیا گیا تھا اس حالت میں وضو باقی ہو تو بھی اور نہ ہو تو بھی، لیکن اس میں قدرے مشقت معلوم ہوئی تو وضو کے حکم کے بدلے مسواک کا حکم رکھا گیا ہاں جب وضو ٹوٹے تو نماز کیلئے نیا وضو ضروری ہے اسے سامنے رکھ کر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ چونکہ انہیں قوت ہے اس لیے وہ ہر نماز کے وقت وضو کرتے ہیں۔ آخری دم تک آپ کا یہی حال رہا }۔ «رضی اللہ عنہ وعن والدہ» ۔ ۱؎ [مسند احمد:225/5:قال الشيخ الألباني:حسن] اس کے ایک راوی محمد بن اسحاق رحمہ اللہ ہیں لیکن چونکہ انہوں نے صراحت کے ساتھ «حدثنا» کہا ہے اس لیے تدلیس کا خوف بھی جاتا رہا۔ ہاں ابن عساکر کی روایت میں یہ لفظ نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے اس فعل اور اس پر ہمیشگی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مستحب ضرور ہے اور یہی مذہب جمہور کا ہے۔
ابن جریر میں ہے کہ خلفاء رضی اللہ عنہم ہر نماز کے وقت وضو کر لیا کرتے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یوم القیامہ ہر نماز کیلئے وضو کرتے اور دلیل میں یہ آیت تلاوت فرما دیتے ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز ادا کی پھر لوگوں کے مجمع میں تشریف فرما رہے تھے پھر پانی لایا گیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے منہ دھویا ہاتھ دھوئے پھر سر کا مسح کیا اور پھر پیر کا۔ اور فرمایا ”یہ وضو ہے اس کا جو بے وضو نہ ہوا ہو“، ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے خفیف وضو کر کے بھی یہی فرمایا تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضوان اللہ علیہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ ابوداؤد طیالسی میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا قول ہے کہ وضو ٹوٹے بغیر وضو کرنا زیادتی ہے۔ اولاً تو یہ فعل سنداً بہت غریب ہے، دوسرا یہ کہ مراد اس سے وہ شخص ہے جو اسے واجب جانتا ہو اور صرف مستحب سمجھ کر جو ایسا کرے وہ تو عامل بالحدیث ہے۔ بخاری سنن وغیرہ میں مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کیلئے نیا وضو کرتے تھے، ایک انصاری نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ سن کر کہا اور آپ لوگ کیا کرتے تھے؟ فرمایا ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھتے تھے جب تک وضو ٹوٹے نہیں } ۱؎ [صحیح بخاری:214] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ { جو شخص وضو پر وضو کرے اس کیلئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں }، ترمذی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے ۱؎ [سنن ترمذي:59،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور امام ترمذی نے اسے ضعیف کہا ہے۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ آیت سے صرف اتنا ہی مقصود ہے کہ کسی اور کام کے وقت وضو کرنا واجب نہیں صرف نماز کیلئے ہی اس کا وجوب ہے۔ یہ فرمان اس لیے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ وضو ٹوٹنے پر کوئی کام نہ کرتے تھے جب تک پھر وضو نہ کر لیں ابن ابی حاتم وغیرہ کی ایک ضعیف غریب روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کا ارادہ کرتے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بولتے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب نہ دیتے ہم سلام علیک کرتے پھر بھی جواب نہ دیتے یہاں تک کہ یہ آیت رخصت کی اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11342:ضعیف]
ابوداؤد میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے اور کھانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا تو ہم نے کہا اگر فرمائیں تو وضو کا پانی کا حاضر کریں فرمایا: { وضو کا حکم تو مجھے صرف نماز کیلئے کھڑا ہونے کے وقت ہی کیا گیا ہے } }۔ امام ترمذی اسے حسن بتاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3760،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھے کچھ نماز تھوڑا ہی پڑھنی ہے جو میں وضو کروں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:374] آیت کے ان الفاظ سے کہ ’ جب تم نماز کیلئے کھڑے ہو تو وضو کر لیا کرو ‘ علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ وضو میں نیت واجب ہے، مطلب کلام اللہ شریف کا یہ ہے کہ نماز کیلئے وضو کر لیا کرو۔ جیسے عرب میں کہا جاتا ہے، جب تو امیر کو دیکھے تو کھڑا ہو جا تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ امیر کیلئے کھڑا ہو جا۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کیلئے صرف وہی ہے جو وہ نیت کرے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1] اور منہ کے دھونے سے پہلے وضو میں «بِسْمِ اللَّـهِ» کہنا مستحب ہے۔ کیونکہ ایک پختہ اور بالکل صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس شخص کا وضو نہیں جو اپنے وضو میں «بِسْمِ اللَّـهِ» نہ کہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:101، قال الشيخ الألباني:صحیح] (حدیث کے ظاہری الفاظ تو نیت کی طرح «بِسْمِ اللَّـهِ» کہنے پر بھی وجوب کی دلالت کرتے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم) یہ بھی یاد رہے کہ وضو کے پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے کا ان کا دھو لینا مستحب ہے اور جب نیند سے اٹھا ہو تب تو سخت تاکید آتی ہے بخاری و مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ { تم میں سے کوئی نیند سے جاگ کر برتن میں ہاتھ نہ ڈالے جب تک کہ تین مرتبہ دھو نہ لے، اسے نہیں معلوم کہ اس کے ہاتھ رات کے وقت کہاں رہے ہوں؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:162]
منہ کی حد فقہاء کے نزدیک لمبائی میں سر کے بالوں کی اگنے کی جو جگہ عموماً ہے وہاں سے داڑھی کی ہڈی اور تھوڑی تک ہے اور چوڑائی میں ایک کان سے دوسرے کان تک۔ اس میں اختلاف ہے کہ دونوں جانب کی پیشانی کے اڑے ہوئے بالوں کی جگہ سر کے حکم میں ہے یا منہ کے؟ اور داڑھی کے لٹکتے ہوئے بالوں کا دھونا منہ کے دھونے کی فرضیت میں داخل ہے یا نہیں؟ اس میں دو قول ہیں، ایک تو یہ کہ ان پر پانی کا بہانا واجب ہے اس لیے کہ منہ سامنے کرنے کے وقت اس کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو داڑھی ڈھانپے ہوئے دیکھ کر فرمایا: { اسے کھول دے یہ بھی منہ میں داخل ہے } }۔ ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفه البانی:5754:ضعیف] مجاہد رحمة الله فرماتے ہیں ”عرب کا محاورہ بھی یہی ہے کہ جب بچے کے داڑھی نکلتی ہے تو وہ کہتے ہیں «طَلَعَ وَجْهُهُ» ۔“ پس معلوم ہوتا ہے کہ کلام عرب میں داڑھی منہ کے حکم میں ہے اور لفظ «وَجْهُهُ» میں داخل ہے۔ داڑھی گھنی اور بھری ہوئی ہو تو اس کا خلال کرنا بھی مستحب ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے راوی کہتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے منہ دھوتے وقت تین دفعہ داڑھی کا خلال کیا۔ پھر فرمایا ”جس طرح تم نے مجھے کرتے دیکھا اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے“ ۱؎ [سنن ترمذي:31،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس روایت کو امام بخاری اور امام ترمذی رحمة الله علیہم حسن بتاتے ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے وقت ایک چلو پانی لے کر اپنی تھوڑی تلے ڈال کر اپنی داڑھی مبارک کا خلال کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ { مجھے میرے رب عزوجل نے اسی طرح حکم فرمایا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:145،قال الشيخ الألباني:صحیح]
حضرت امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”داڑھی کا خلال کرنا سیدنا عمار، سیدہ عائشہ، سیدہ ام سلمہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہم سے مروی ہے، اور اس کے ترک کی رخصت ابن عمر، حسن بن علی رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمة الله علیہم کی ایک جماعت سے مروی ہے۔“ صحاح وغیرہ میں مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے بیٹھتے کلی کرتے اور ناک میں پانی دیتے }۔ ائمہ کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ دونوں وضو اور غسل میں میں واجب ہیں یا مستحب؟ امام احمد بن حنبل کا مذہب تو وجوب کا ہے اور امام شافعی اور امام مالک مستحب کہتے ہیں ان کی دلیل سنن کی وہ صحیح حدیث ہے جس میں جلدی جلدی نماز پڑھنے والے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا مروی ہے کہ { وضو کر جس طرح اللہ نے تجھے حکم دیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:857،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام حنیفہ رحمة الله کا مسلک یہ ہے کہ غسل میں واجب اور وضو میں نہیں، ایک روایت امام احمد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ناک میں پانی دینا تو واجب اور کلی کرنا مستحب، کیونکہ بخاری و مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { جو وضو کرے وہ ناک میں پانی ڈالے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:161] اور روایت میں ہے { تم میں سے جو وضو کرے وہ اپنے دونوں نتھنوں میں پانی ڈالے اور اچھی طرح وضو کرے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:162]
مسند احمد اور بخاری میں ہے { سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ وضو کرنے بیٹھے تو منہ دھویا ایک چلو پانی کا لے کر کلی کی اور ناک کو صاف کیا پھر ایک چلو لے کر داہنا ہاتھ دھویا پھر ایک چلو لے کر اسی سے بایاں ہاتھ دھویا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر پانی کا ایک چلو لے کر اپنے داہنے پاؤں پر ڈال کر اسے دھویا پھر ایک چلو سے بایاں پاؤں دھویا۔ پھر فرمایا میں نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:140] «إِلَى الْمَرَافِقِ» سے مراد «مَـعَ الْمَرَافِقِ» ہے، جیسے فرمان ہے آیت «وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَھُمْ اِلٰٓى اَمْوَالِكُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِيْرًا» ۱؎ [4-النساء:2] یعنی ’ یتیموں کے مالوں کو اپنے مالوں سمیت نہ کھا جایا کرو یہ بڑا ہی گناہ ہے ‘۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ہاتھوں کو کہنیوں تک نہیں، بلکہ کہنیوں سمیت دھونا چاہیئے۔ دارقطنی وغیرہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے ہوئے اپنی کہنیوں پر پانی بہاتے تھے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:2067:صحیح] لیکن اس کے دو راویوں میں کلام ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» وضو کرنے والے کیلئے مستحب ہے کہ کہنیوں سے آگے اپنے شانے کو بھی وضو میں دھوئے کیونکہ بخاری مسلم میں حدیث ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری امت وضو کے نشانوں کی وجہ سے قیامت کے دن چمکتے ہوئے اعضاؤں سے آئے گی پس تم میں سے جس سے وہ ہو سکے وہ اپنی چمک کو دور تک لے جائے}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:136] صحیح مسلم میں ہے { مومن کو وہاں تک زیور پہنائے جائیں گے جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:250]
«بِرُءُوسِكُمْ» میں جواب ہے اس کا الحاق یعنی ملا دینے کیلئے ہونا تو زیادہ غالب ہے اور تبعیض یعنی کچھ حصے کیلئے ہونا تامل طلب ہے۔ بعض اصولی حضرات فرماتے ہیں چونکہ آیت میں اجمال ہے اس لیے سنت نے جو اس کی تفصیل کی ہے وہی معتبر ہے اور اسی کی طرف لوٹنا پڑے گا۔ عبداللہ بن زید بن عاصم صحابی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے کہا ”آپ رضی اللہ عنہ وضو کر کے ہمیں بتلائیے۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھ دو دو دفعہ دھوئے، پھر تین بار کلی کی اور ناک میں پانی دیا، تین ہی دفعہ اپنا منہ دھویا، پھر کہنیوں سمیت اپنے دونوں ہاتھ دو مرتبہ دھوئے، پھر دونوں ہاتھ سے سر کا مسح کیا سر کے ابتدائی حصے سے گدی تک لے گئے، پھر وہاں سے یہیں تک واپس لائے، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:185] سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ اسی طرح منقول ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:49،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابوداؤد میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:121،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیثیں دلیل ہیں اس پر کہ پورے سر کا مسح فرض ہے۔
یہی مذہب امام مالک رحمة الله اور امام احمد رحمة الله کا ہے اور یہی مذہب ان تمام حضرات کا ہے جو آیت کو مجمل مانتے ہیں اور حدیث کو اس کی وضاحت جانتے ہیں۔ حنیفوں کا خیال ہے کہ چوتھائی سر کا مسح فرض ہے جو سر کا ابتدائی حصہ ہے اور ہمارے ساتھی کہتے ہیں کہ فرض صرف اتنا ہے جتنے پر مسح کا اطلاق ہو جائے، اس کی کوئی حد نہیں۔ سر کے چند بالوں پر بھی مسح ہو گیا تو فرضیت پوری ہو گئی۔ ان دونوں جماعتوں کی دلیل مغیرہ بن شعبہ والی حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے رہ گئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے رہ گیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کر چکے تو مجھ سے پانی طلب کیا میں لوٹا لے آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہنچے دھوئے پھر منہ دھویا پھر کلائیوں پر سے کپڑا ہٹایا اور پیشانی سے ملے ہوئے بالوں اور پگڑی پر مسح کیا اور دونوں جرابوں پر بھی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:274] اس کا جواب امام احمد رحمة الله اور ان کے ساتھی یہ دیتے ہیں کہ سر کے ابتدائی حصہ پر مسح کر کے باقی پگڑی پر پورا کر لیا اور اس کی بہت سی مثالیں احادیث میں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صافے پر اور جرابوں پر برابر مسح کیا کرتے تھے، پس یہی اولیٰ ہے اور اس میں ہرگز اس بات پر کوئی دلالت نہیں کہ سر کے بعض حصے پر یا صرف پیشانی کے بالوں پر ہی مسح کر لے اور اس کی تکمیل پگڑی پر نہ ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر اس میں بھی اختلاف ہے کہ سر کا مسح بھی تین بار ہو یا ایک ہی بار؟ امام شافعی رحمة الله کا مشہور مذہب اول ہے اور امام احمد رحمة الله اور ان کے متبعین کا دوم۔ دلائل یہ ہیں: { سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ وضو کرنے بیٹھتے ہیں اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالتے ہیں، انہیں دھو کر پھر کلی کرتے ہیں اور ناک میں پانی دیتے ہیں، پھر تین مرتبہ منہ دھوتے ہیں، پھر تین تین بار دونوں ہاتھو کہنیوں سمیت دھوتے ہیں، پہلے دایاں پھر بایاں۔ پھر اپنے سر کا مسح کرتے ہیں پھر دونوں پیر تین تین بار دھوتے ہیں پہلے داہنا پھر بایاں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا“ اور وضو کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جو شخص میرے اس وضو جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں دل سے باتیں نہ کرے تو اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:159] سنن ابی داؤد میں اسی روایت میں سر کے مسح کرنے کے ساتھ ہی یہ لفظ بھی ہیں کہ { سر کا مسح ایک مرتبہ کیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:108،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، ۱؎ [سنن ابوداود:111،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور جن لوگوں نے سر کے مسح کو بھی تین بار کہا ہے انہوں نے حدیث سے دلیل لی ہے۔ جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار اعضاء وضو کو دھویا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:230] سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے وضو کیا پھر اسی طرح روایت ہے اور اس میں کلی کرنی اور ناک میں پانی دینے کا ذکر نہیں اور اس میں ہے کہ پھر آپ نے تین مرتبہ سر کا مسح کیا اور تین مرتبہ اپنے دونوں پیر دھوئے۔ پھر فرمایا { میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا اور آپ نے فرمایا جو ایسا وضو کرے اسے کافی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:107،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے جو حدیثیں صحاح میں مروی ہیں ان سے تو سر کا مسح ایک بار ہی ثابت ہوتا ہے۔
«أَرْجُلَكُمْ» لام کی زبر سے عطف ہے جو «وُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم» پر ماتحت ہے دھونے کے حکم کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یونہی پڑھتے تھے اور یہی فرماتے تھے، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:55/10] سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت عروہ رضی اللہ عنہ، عطاء، عکرمہ، حسن، مجاہد، ابراہیم، ضحاک، سدی، مقاتل بن حیان، زہری، ابراہیم تیمی رحمة الله علیہم وغیرہ کا یہی قول ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:54/10] اور یہی قرأت ہے، اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ پاؤں دھونے چاہئیں، یہی سلف کا فرمان ہے اور یہیں سے جمہور نے وضو کی ترتیب کے وجوب پر استدلال کیا ہے۔ صرف ابوحنیفہ رحمة الله اس کے خلاف ہیں، وہ وضو میں ترتیب کو شرط نہیں جانتے۔ ان کے نزدیک اگر کوئی شخص پہلے پیروں کو دھوئے پھر سر کا مسح کرے پھر ہاتھ دھوئے پھر منہ دھوئے جب بھی جائز ہے اس لیے کہ آیت نے ان اعضاء کے دھونے کا حکم دیا ہے۔ واؤ کی دلالت ترتیب پر نہیں ہوتی۔ اس کے جواب جمہور نے کئی ایک دیئے ہیں، ایک تو یہ کہ ”ف“ ترتیب پر دلالت کرتی ہے، آیت کے الفاظ میں نماز پڑھنے والے کو منہ دھونے کا حکم لفظ «فَاغْسِلُوا» سے ہوتا ہے۔ تو کم از کم منہ کا اول اول دھونا تو لفظوں سے ثابت ہوگیا اب اس کے بعد کے اعضاء میں ترتیب اجماع سے ثابت ہے جس میں اختلاف نظر نہیں آتا۔ پھر جبکہ ”ف“ جو تعقیب کیلئے ہے اور جو ترتیب کی مقتضی ہے ایک پر داخل ہو چکی تو اس ایک کی ترتیب مانتے ہوئے دوسری کی ترتیب کا انکار کوئی نہیں کرتا بلکہ تو سب کی ترتیب کے قائل ہیں یا کسی ایک کی بھی ترتیب کے قائل نہیں۔ پس یہ آیت ان پر یقیناً حجت ہے جو سرے سے ترتیب کے منکر ہیں، دوسرا جواب یہ ہے کہ واؤ ترتیب پر دلالت نہیں کرتا اسے بھی ہم تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ ترتیب پر دلالت کرتا ہے جیسے کہ نحویوں کی ایک جماعت کا اور بعض فقہاء کا مذہب ہے پھر یہ چیز بھی قابل غور ہے کہ بالفرض لغتاً اس کی دلالت پر ترتیب پر نہ بھی ہو تاہم شرعاً تو جن چیزوں میں ترتیب ہو سکتی ہے ان میں اس کی دلالت ترتیب پر ہوتی ہے۔
چنانچہ صحیح مسلم شریف میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ شریف کا طواف کرکے باب صفا سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیت «اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَاىِٕرِاللّٰهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَـطَوَّعَ خَيْرًا فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِـرٌ عَلِــيْمٌ» ۱؎ [2-البقرۃ:158] کی تلاوت کر رہے تھے اور فرمایا { میں اسی سے شروع کروں گا جسے اللہ نے پہلے بیان فرمایا }، چنانچہ صفا سے سعی شروع کی } ۱؎ [صحیح مسلم:1218] ، نسائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم دینا بھی مروی ہے کہ { اس سے شروع کرو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا }۔ ۱؎ [سنن نسائی:2965،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس کی اسناد بھی صحیح ہے اور اس میں امر ہے۔ پس معلوم ہوا کہ جس کا ذکر پہلے ہو اسے پہلے کرنا اور اس کے بعد اسے جس کا ذکر بعد میں ہو کرنا واجب ہے۔ پس صاف ثابت ہو گیا کہ ایسے مواقع پر شرعاً ترتیب مراد ہوتی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» تیسری جماعت جواباً کہتی ہے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونے کے حکم اور پیروں کو دھونے کے حکم کے درمیان سر کے مسح کے حکم کو بیان کرنا اس امر کی صاف دلیل ہے کہ مراد ترتیب کو باقی رکھنا ہے، ورنہ نظم کلام کو یوں الٹ پلٹ نہ کیا جاتا۔ ایک جواب اس کا یہ بھی ہے کہ ابوداؤد وغیرہ میں صحیح سند سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھو کر وضو کیا پھر فرمایا یہ وضو ہے کہ جس کے بغیر اللہ تعالیٰ نے نماز کو قبول نہیں کرتا }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:419،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اب دو صورتیں ہیں یا تو اس وضو میں ترتیب تھی یا نہ تھی؟ اگر کہا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ وضو مرتب تھا یعنی باقاعدہ ایک کے پیچھے ایک عضو دھویا تھا تو معلوم ہوا کہ جس وضو میں تقدیم تاخیر ہو اور صحیح طور پر ترتیب نہ ہو وہ نماز نامقبول لہٰذا ترتیب واجب و فرض اور اگر یہ مان لیا جائے کہ اس وضو میں ترتیب نہ تھی بلکہ بے ترتیب تھا، پیر دھو لیے پھر کلی کر لی پھر مسح کر لیا پھر منہ دھو لیا وغیرہ تو عدم ترتیب واجب ہو جائے گی حالانکہ اس کا قائل امت میں سے ایک بھی نہیں پس ثابت ہو گیا کہ وضو میں ترتیب فرض ہے۔
آیت کے اس جملے کی ایک قرأت اور بھی ہے یعنی «وَاَرْجُـلِـکُمْ» لام کے زیر سے اور اسی سے شیعہ نے اپنے اس قول کی دلیل لی ہے کہ پیروں پر مسح کرنا واجب ہے کیونکہ ان کے نزدیک اس کا عطف سر کے مسح کرنے پر ہے۔ بعض سلف سے بھی کچھ ایسے اقوال مروی ہیں جن سے مسح کے قول کا وہم پڑتا ہے۔ چنانچہ ابن جریر میں ہے کہ موسیٰ بن انس نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے لوگوں کی موجودگی میں کہا کہ حجاج نے اہواز میں خطبہ دیتے ہوئے طہارت اور وضو کے احکام میں کہا کہ منہ ہاتھ دھوؤ اور سر کا مسح کرو اور پیروں کو دھویا کرو عموماً پیروں پر ہی گندگی لگتی ہے۔ پس تلوؤں کو اور پیروں کی پشت کو اور ایڑی کو خوب اچھی طرح دھویا کرو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا کہ اللہ سچا ہے اور حجاج جھوٹا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہےآیت «وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ» [المائدہ:6] اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ پیروں کا جب مسح کرتے انہیں بالکل بھگو لیا کرتے، آپ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ قرآن کریم میں پیروں پر مسح کرنے کا حکم ہے، ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پیروں کا دھونا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وضو میں دو چیزوں کا دھونا ہے اور دو پر مسح کرنا۔ قتادہ رحمة الله سے بھی یہی مروی ہے۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آیت میں پیروں پر مسح کرنے کا بیان ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ، علقمہ، ابو جعفر، محمد بن علی رحمة الله علیہم اور ایک روایت میں حسن اور جابر بن زید رحمة الله علیہم اور ایک روایت میں مجاہد رحمة الله سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حضرت عکرمہ رحمة الله اپنے پیروں پر مسح کر لیا کرتے تھے شعبی رحمة الله فرماتے ہیں کہ جبرائیل کی معرفت مسح کا حکم نازل ہوا ہے، آپ رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ جن چیزوں کے دھونے کا حکم تھا ان پر تو تیمم کے وقت مسح کا حکم رہا اور جن چیزوں پر مسح کا حکم تھا تیمم کے وقت انہیں چھوڑ دیا گیا۔“ عامر رحمة الله سے کسی نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں جبرائیل علیہ السلام پیروں کے دھونے کا حکم لائے ہیں آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”جبرائیل علیہ السلام مسح کے حکم کے ساتھ نازل ہوئے تھے۔“ پس یہ سب آثار بالکل غریب ہیں اور محمول ہیں اس امر پر کہ مراد مسح سے ان بزرگوں کی ہلکا دھونا ہے، کیونکہ سنت سے صاف ثابت ہے کہ پیروں کا دھونا واجب ہے۔ یاد رہے کہ زیر کی قرأت یا تو مجاورت اور تناسب کلام کی وجہ سے ہے جیسے عرب کا کلام «حُجْرُ ضَبِّ خربٍ» میں اور اللہ کے کلام آیت «عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ» ۱؎ [76-الإنسان:21] میں لغت میں عرب میں پاس ہونے کی وجہ سے دونوں لفظوں کو ایک ہی اعراب دے دینا یہ اکثر پایا گیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کی ایک توجیہہ یہ بھی بیان کی ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب پیروں پر جرابیں ہوں بعض کہتے ہیں مراد مسح سے ہلکا دھو لینا ہے ج