بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المائده — Surah Maidah
آیت نمبر 5
کل آیات: 120
قرآن کریم المائده آیت 5
آیت نمبر: 5 — سورۃ المائده islamicurdubooks.com ↗
اَلۡیَوۡمَ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمۡ ۪ وَ طَعَامُکُمۡ حِلٌّ لَّہُمۡ ۫ وَ الۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَ الۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ اِذَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ مُحۡصِنِیۡنَ غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ وَ لَا مُتَّخِذِیۡۤ اَخۡدَانٍ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالۡاِیۡمَانِ فَقَدۡ حَبِطَ عَمَلُہٗ ۫ وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ٪﴿۵﴾
آج تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا اُن کے لیے اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں خواہ وہ اہل ایمان کے گروہ سے ہوں یا اُن قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی، بشر طیکہ تم اُن کے مہر ادا کر کے نکاح میں اُن کے محافظ بنو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو اور جو کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اس کا سارا کارنامہ زندگی ضائع ہو جائے گا اور وہ آخرت میں دیوالیہ ہوگا
کل پاکیزه چیزیں آج تمہارے لئے حلال کی گئیں اور اہل کتاب کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور پاک دامن مسلمان عورتیں اور جو لوگ تم سے پہلے کتاب دیئے گئے ہیں ان کی پاک دامن عورتیں بھی حلال ہیں جب کہ تم ان کے مہر ادا کرو، اس طرح کہ تم ان سے باقاعده نکاح کرو یہ نہیں کہ علانیہ زنا کرو یا پوشیده بدکاری کرو، منکرین ایمان کے اعمال ضائع اور اکارت ہیں اور آخرت میں وه ہارنے والوں میں سے ہیں
آج تمہارے لئے پاک چیزیں حلال ہوئیں، اور کتابیوں کا کھانا تمہارے لیے حلال ہوا، اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے، اور پارسا عورتیں مسلمان اور پارسا عورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی جب تم انہیں ان کے مہر دو قید میں لاتے ہوئے نہ مستی نکالتے اور نہ ناآشنا بناتے اور جو مسلمان سے کافر ہو اس کا کیا دھرا سب اکارت گیا اور وہ آخرت میں زیاں کار ہے
آج تمہارے لئے سب پاک و پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئی ہیں۔ اور اہل کتاب کا طعام (اناج) تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا طعام (اناج) ان کے لئے حلال ہے اور پاکدامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں (اہل کتاب) کی پاکدامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے۔ (وہ تمہارے لئے حلال ہیں) بشرطیکہ تم ان کی اجرتیں (حق مہر) دے دو۔ اور وہ بھی اپنی پاکدامنی کے تحفظ کی خاطر نہ کہ آزاد شہوت رانی کی خاطر اور نہ ہی چوری چھپے ناجائز تعلقات قائم کرنے کے لیے۔ اور جو ایمان کا انکار کرے (اور کفر اختیار کرے) تو اس کے سب عمل اکارت ہوگئے اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا۔
آج تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور ان لوگوں کا کھانا تمھارے لیے حلال ہے جنھیں کتاب دی گئی اور تمھارا کھانا ان کے لیے حلال ہے اور مومن عورتوں میں سے پاک دامن عورتیں اور ان لوگوں کی پاک دامن عورتیں جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی، جب تم انھیں ان کے مہر دے دو، اس حال میں کہ تم قید نکاح میں لانے والے ہو، بدکاری کرنے والے نہیں اور نہ چھپی آشنائیں بنانے والے اور جو ایمان سے انکار کرے تو یقینا اس کا عمل ضائع ہوگیا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں سے ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ذبیحہ کس نام اور کن ہاتھوں کا حلال ہے؟ ٭٭

حلال و حرام کے بیان کے بعد بطور خلاصہ فرمایا کہ ’ کل ستھری چیزیں حلال ہیں ‘، پھر یہود و نصاریٰ کے ذبح کئے ہوئے جانوروں کی حلت بیان فرمائی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، ابوامامہ، مجاہد، سعید بن جبیر، عکرمہ، عطاء، حسن، مکحول، ابراہیم، نخعی، سدی، مقاتل بن حیان رحمة الله علیہم یہ سب یہی کہتے ہیں کہ طعام سے مراد ان کا اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ہوا جانور ہے، جس کا کھانا مسلمانوں کو حلال ہے، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:573/9] ‏‏‏‏ علماء اسلام کا اس پر مکمل اتفاق ہے کہ ان کا ذبیحہ ہمارے لیے حلال ہے، کیونکہ وہ بھی غیر اللہ کیلئے ذبح کرنا ناجائز جانتے ہیں اور ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا دوسرے کا نام نہیں لیتے گو ان کے عقیدے ذات باری کی نسبت یکسر اور سراسر باطل ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ بلند و بالا اور پاک و منزہ ہے۔ صحیح حدیث میں سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { جنگ خیبر میں مجھے چربی کی بھری ہوئی ایک مشک مل گئی، میں نے اسے قبضہ میں کیا اور کہا اس میں سے تو آج میں کسی کو بھی حصہ نہ دونگا، اب جو ادھر ادھر نگاہ پھرائی تو دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہی کھڑے ہوئے تبسم فرما رہے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3153] ‏‏‏‏ اس حدیث سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ مال غنیمت میں سے کھانے پینے کی ضروری چیزیں تقسیم سے پہلے بھی لے لینی جائز ہیں اور یہ استدلال اس حدیث سے صاف ظاہر ہے، تینوں مذہب کے فقہاء نے مالکیوں پر اپنی سند پیش کی ہے اور کہا ہے کہ تم جو کہتے ہو کہ اہل کتاب کا وہی کھانا ہم پر حلال ہے جو خود ان کے ہاں بھی حلال ہو یہ غلط ہے کیونکہ چربی کو یہودی حرام جانتے ہیں لیکن مسلمان کیلئے حلال ہے لیکن یہ ایک شخص کا انفرادی واقعہ ہے۔ البتہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ وہ چربی ہو جسے خود یہودی بھی حلال جانتے تھے یعنی پشت کی چربی انتڑیوں سے لگی ہوئی چربی اور ہڈی سے ملی ہوئی چربی۔

اس سے بھی زیادہ دلالت والی تو وہ روایت ہے جس میں ہے کہ { خیبر والوں نے سالم بھنی ہوئی ایک بکری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں دی جس کے شانے کے گوشت کو انہوں نے زہر آلود کر رکھا تھا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شانے کا گوشت پسند ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا یہی گوشت لے کر منہ میں رکھ کر دانتوں سے توڑا تو فرمان باری سے اس شانے نے کہا، مجھ میں زہر ملا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت اسے تھوک دیا اور اس کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے دانتوں وغیرہ میں رہ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بشر بن براء بن معرور رضی اللہ عنہ بھی تھے، جو اسی کے اثر سے راہی بقاء ہوئے، جن کے قصاص میں زہر ملانے والی عورت کو بھی قتل کیا گیا، جس کا نام زینب تھا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4510،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ وجہ دلالت یہ ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مع اپنے ساتھیوں کے اس گوشت کے کھانے کا پختہ ارادہ کر لیا اور یہ نہ پوچھا کہ اس کی جس چربی کو تم حلال جانتے ہو اسے نکال بھی ڈالا ہے یا نہیں؟ اور حدیث میں ہے کہ { ایک یہودی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں جو کی روٹی اور پرانی سوکھی چربی پیش کی تھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2092] ‏‏‏‏ مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس چیز پر نام رب نہ لیا جائے اس کا کھانا حرام کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر رحم فرما کر منسوخ کر کے اہل کتاب کے ذبح کئے جانور حلال کر دئے یہ یاد رہے کہ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جس جانور پر بھی نام الٰہی نہ لیا جائے وہ حلال ہو؟ اس لیے کہ وہ اپنے ذبیحوں پر اللہ کا نام لیتے تھے بلکہ جس گوشت کو کھاتے تھے اسے ذبیحہ پر موقوف نہ رکھتے تھے بلکہ مردہ جانور بھی کھا لیتے تھے لیکن سامرہ اور صائبہ اور ابراہیم و شیث علیہم السلام وغیرہ پیغمبروں کے دین کے مدعی اس سے مستثنیٰ تھے۔

جیسے کہ علماء کے دو اقوال میں سے ایک قول ہے اور عرب کے نصرانی جیسے بنو تغلب، تنوخ بہرا، جذام لحم، عاملہ کے ایسے اور بھی ہیں کہ جمہور کے نزدیک ان کے ہاتھ کا کیا ہوا ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قبیلہ بنو تغلب کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور نہ کھاؤ، اس لیے کہ انہوں نے تو نصرانیت سے سوائے شراب نوشی کے اور کوئی چیز نہیں لی۔‏‏‏‏“ ہاں سعید بن مسیب اور حسن بنو تغلب کے نصاریٰ کے ہاتھوں ذبح کئے ہوئے جانور کے کھا لینے میں کوئی حرج نہیں جانتے تھے، باقی رہے مجوسی ان سے گو جزیہ لیا گیا ہے کیونکہ انہیں اس مسئلہ میں یہود و نصاریٰ میں ملا دیا گیا ہے اور ان کا ہی تابع کر دیا گیا ہے، لیکن ان کی عورتوں سے نکاح کرنا اور ان کے ذبح کئے ہوئے جانور کا کھانا ممنوع ہے۔ ہاں ابوثور ابراہیم بن خالد کلبی رحمہ اللہ جو شافعی اور احمد رحمہ اللہ علیہم کے ساتھیوں میں سے تھے، اس کے خلاف ہیں، جب انہوں نے اسے جائز کہا اور لوگوں میں اس کی شہرت ہوئی تو فقہاء نے اس قول کی زبردست تردید کی ہے۔ یہاں تک کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے تو فرمایا کہ ”ابوثور اس مسئلہ میں اپنے نام کی طرح ہی ہے یعنی بیل کا باپ۔‏‏‏‏“ ممکن ہے ابوثور نے ایک حدیث کے عموم کو سامنے رکھ کر یہ فتویٰ دیا ہو جس میں حکم ہے کہ { مجوسیوں کے ساتھ اہل کتاب کا سا طریقہ برتو }۔ ۱؎ [موطا:42:قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن اولاً تو یہ روایت ان الفاظ سے ثابت ہی نہیں دوسرے یہ روایت مرسل ہے، ہاں البتہ صحیح بخاری شریف میں صرف اتنا تو ہے کہ { ہجر کے مجوسیوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ لیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3156] ‏‏‏‏ علاوہ ان سب کے ہم کہتے ہیں کہ ابوثور کی پیش کردہ حدیث کو اگر ہم صحیح مان لیں، تو بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کے عموم سے بھی اس آیت میں حکم امتناعی کو دلیل بنا کر اہل کتاب کے سوا اور دین والوں کا ذبیحہ بھی ہمارے لیے حرام ثابت ہوتا ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ تمہارا ذبیحہ ان کیلئے حلال ہے ‘ یعنی تم انہیں اپنا ذبیحہ کھلا سکتے ہو۔ یہ اس امر کی خبر نہیں کہ ان کے دین میں ان کیلئے تمہارا ذبیحہ حلال ہے ہاں زیادہ سے زیادہ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ یہ اس بات کی خبر ہو کہ انہیں بھی ان کی کتاب میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جس جانور کا ذبیحہ اللہ کے نام پر ہوا ہو اسے وہ کھا سکتا ہے بلحاظ اس سے کہ ذبح کرنے والا انہیں میں سے ہو یا ان کے سوا کوئی اور ہو، لیکن زیادہ باوزن بات پہلی ہی ہے، یعنی یہ کہ تمہیں اجازت ہے کہ انہیں اپنا ذبیحہ کھلاؤ جیسے کہ ان کے ذبح کئے ہوئے جانور تم کھا لیتے ہو۔ یہ گویا اول بدل کے طور پر ہے، { جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کو اپنے خاص کرتے ہیں کفن دیا جس کی وجہ سے بعض حضرات نے یہ بیان کیا ہے کہ اس نے آپ کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو اپنا کرتا دیا تھا جب وہ مدینے میں آئے تھے } تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بدلہ چکا دیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1350] ‏‏‏‏ ہاں ایک حدیث میں ہے کہ { مومن کے سوا کسی اور کی ہم نشینی نہ کر اور اپنا کھانا بجز پرہیزگاروں کے اور کسی کو نہ کھلا۱ } ؎ [سنن ابوداود:4832،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اسے اس بدلے کے خلاف نہ سمجھنا چاہیئے، ہو سکتا ہے کہ حدیث کا یہ حکم بطور پسندیدگی اور افضیلت کے ہو، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ پاک دامن مومن عورتوں سے نکاح کرنا تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے ‘ یہ بطور تمہید کے ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ تم سے پہلے جنہیں کتاب دی گئی ہے ان کی عفیفہ عورتوں سے بھی نکاح تمہیں حلال ہے ‘۔ یہ قول بھی ہے کہ مراد «مُحْصَنَاتُ» سے آزاد عورتیں ہیں یعنی لونڈیاں نہ ہوں۔ یہ قول مجاہد رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے اور مجاہد رحمہ اللہ کے الفاظ یہ ہیں کہ ” «مُحْصَنَاتُ» سے آزاد مراد ہیں“ اور جب یہ ہے تو جہاں اس قول کا وہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ لونڈیاں اس سے خارج ہیں وہاں یہ معنی بھی لیے جا سکتے ہیں کہ پاک دامن عفت شعار، جیسے کہ انہی سے دوسری روایت ان ہی لفظوں میں موجود ہے۔ جمہور بھی کہتے ہیں اور یہ زیادہ ٹھیک بھی ہے۔ تاکہ ذمیہ ہونے کے ساتھ ہی غیر عفیفہ ہونا شامل ہو کر بالکل ہی باعث فساد نہ بن جائے اور اس کا خاوند صرف فضول بھرتی کے طور پر بری رائے پر نہ چل پڑے پس بظاہر یہی ٹھیک معلوم ہوتا ہے کہ «مُحْصَنَاتُ» سے مراد عفت مآب اور بدکاری سے بچاؤ والیاں ہی لی جائیں، جیسے دوسری آیت میں «وَالْمُحْصَنَاتُ» کے ساتھ ہی آیت «مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلَا مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ» ۱؎ [4-النساء:25] ‏‏‏‏ آیا ہے۔ علماء اور مفسرین کا اس میں بھی اختلاف ہے کہ کیا آیت ہر کتابیہ عفیفہ عورت پر مشتمل ہے؟ خواہ وہ آزاد ہو خواہ لونڈی ہو؟

ابن جریر میں سلف کی ایک جماعت سے اسے نقل کیا ہے جو کہتے ہیں کہ «مُحْصَنَاتُ» سے مراد پاک دامن ہے۔ ایک قول یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں مراد اہل کتاب سے اسرائیلی عورتیں ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ذمیہ عورتیں ہیں سوائے آزاد عورتوں کے اور دلیل یہ آیت ہے «قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ» ۱؎ [9-التوبة:29] ‏‏‏‏، یعنی ’ ان سے لڑو جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے ‘۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نصرانیہ عورتوں سے نکاح کرنا جائز نہیں جانتے تھے اور فرماتے تھے ”اس سے بڑا شرک کیا ہو گا؟ کہ وہ کہتی ہو کہ اس کا رب عیسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) ہے اور جب یہ مشرک ٹھہریں تو نص قرآنی موجود ہے کہ آیت «وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ وَلَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّلَوْ اَعْجَبَـتْكُمْ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوْا» ۱؎ [2-البقرۃ:221] ‏‏‏‏، یعنی ’ مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں ‘۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرنے کا حکم نازل ہوا تو صحابہ رضی اللہ عنہم ان سے رک گئے یہاں تک کہ اس کے بعد کی آیت اہل کتاب کی پاکدامن عورتوں سے نکاح کرنے کی رخصت نازل ہوئی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے اہل کتاب عورتوں سے نکاح کئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے ایسے نکاح اسی آیت کو دلیل بنا کر کرنے ثابت ہیں تو گویا پہلے سورۃ البقرہ کی آیت کی ممانعت میں یہ داخل تھیں لیکن دوسری آیت نے انہیں مخصوص کر دیا۔ یہ اس وقت جب یہ مان لیا جائے کہ ممانعت والی آیت کے حکم میں یہ بھی داخل تھیں ورنہ ان دونوں آیتوں میں کوئی معارض نہیں، اس لیے کہ اور بھی بہت سی آیتوں میں عام مشرکین سے انہیں الگ بیان کیا گیا ہے جیسے آیت «‏‏‏‏لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا» ۱؎ [98-البينة:1] ‏‏‏‏ اور «وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا» ‏‏‏‏ ۱؎ [3-آل عمران:20] ‏‏‏‏۔

پھر فرماتا ہے ’ جب تم انہیں ان کے مقررہ مہر دے دو وہ اپنے نفس کو بچانے والیاں ہوں اور تم ان کے مہر ادا کرنے والے ہو ‘۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ عامر شعبی ابراہیم نخعی حسن بصری رحمة الله علیہم کا فتویٰ ہے کہ جب کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور دخول سے پہلے اس نے بدکاری کی تو میاں بیوی میں تفریق کرا دی جائے گی اور جو مہر خاوند نے عورت کو دیا ہے اسے واپس دلوایا جائے گا۔ [ابن جریر] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے ’ تم بھی پاک دامن عفت مآب ہو اور علانیہ یا پوشیدہ بدکار نہ ہوؤ ‘۔ پس عورتوں میں جس طرح پاک دامن اور عفیفہ ہونے کی شرط لگائی تھی مردوں میں بھی یہی شرط لگائی اور ساتھ ہی فرمایا کہ وہ کھلے بدکار نہ ہوں کہ ادھر ادھر منہ مارتے پھرتے ہوں اور نہ ایسے ہوں کہ خاص تعلق سے حرام کاری کرتے ہوں۔ سورۃ نساء میں بھی اسی کے تماثل حکم گزر چکا ہے۔

حضرت امام احمد رحمہ اللہ اسی طرف گئے ہیں کہ ”زانیہ عورتوں سے توبہ سے پہلے ہرگز کسی بھلے آدمی کو نکاح کرنا جائز نہیں“، اور یہی حکم ان کے نزدیک مردوں کا بھی ہے کہ ”بدکار مردوں کا نکاح نیک کار عفت شعار عورتوں سے بھی نا جائز ہے جب تک وہ سچی توبہ نہ کریں اور اس رذیل فعل سے باز نہ آ جائیں۔‏‏‏‏“ ان کی دلیل ایک حدیث بھی ہے جس میں ہے { کوڑے لگایا ہوا زانی اپنے جیسی سے ہی نکاح کر سکتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2052،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ خلیفتہ المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ ”میں ارادہ کر رہا ہوں کہ جو مسلمان کوئی بدکاری کرے میں اسے ہرگز کسی مسلمان پاک دامن عورت سے نکاح نہ کرنے دوں۔‏‏‏‏“ اس پر سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ ”اے امیر المؤمنین شرک اس سے بہت بڑا ہے اس کے باوجود بھی اس کی توبہ قبول ہے۔‏‏‏‏“ اس مسئلے کو ہم آیت «اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً ۡ وَّالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَآ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [24-النور:3] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں پوری طرح بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ آیت کے خاتمہ پر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ کفار کے اعمال اکارت ہیں اور وہ آخرت میں نقصان یافتہ ہیں ‘۔

📖 احسن البیان

5۔ 1 اہل کتاب کا وہی ذبیحہ حلال ہوگا جس میں خون بہہ گیا ہو۔ یعنی ان کا مشینی ذبیحہ حلال نہیں ہی کیونکہ اس میں خون بہنے کی ایک بنیادی شرط مفقود ہے۔ 5۔ 2 اہل کتاب کی عورتوں کے ساتھ نکاح کی اجازت کے ساتھ ایک تو پاکدامن کی قید ہے، جو آج کل اکثر عورتوں میں عام ہے۔ دوسرے اس کے بعد فرمایا گیا جو ایمان کے ساتھ کفر کرے، اس کے عمل برباد ہوگئے اس سے یہ تنبیہ مقصود ہے کہ اگر ایسی عورت سے نکاح کرنے میں ایمان کی ضیاع کا اندیشہ ہو تو بہت ہی خسارے کا سودا ہوگا اور آج کل اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح میں ایمان کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں محتاج وضاحت نہیں۔ درآنحالانکہ ایمان کو بچانا فرض ہے، ایک جائز کے لئے فرض کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ اس لیے اس کا جواز بھی اس وقت تک ناقابل عمل رہے گا، جب تک دونوں مذکورہ چیزیں مفقود نہ ہوجائیں۔ علاوہ ازیں آج کل کے اہل کتاب ویسے بھی اپنے دین سے بالکل ہی بیگانہ بلکہ بیزار اور باغی ہیں۔ اس حالت میں کیا وہ واقعی اہل کتاب میں شمار بھی ہوسکتے ہیں؟ واللہ اعلم۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 5)➊ {وَ طَعَامُ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ ……:} اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کا طعام، جس میں ذبیحہ بھی شامل ہے، مسلمانوں کے لیے حلال ہے، بشرطیکہ انھوں نے غیر اﷲ کے نام پر ذبح نہ کیا ہو اور واقعی ذبح کیا ہو۔ کسی چھری یا مشین سے سر کاٹ کر الگ کر دینا یا سخت گرم پانی میں جانور کو ڈال کر یا بجلی کے کرنٹ سے مار دینا ذبح نہیں، کیونکہ ان طریقوں سے جسم سے بہتا ہوا خون (دم مسفوح) پوری طرح باہر نہیں نکلتا جو حرام ہے، اس لیے ایسے جانور کا گوشت کھانا درست نہیں۔ اگر صحیح ذبح کیا ہو تو پھر ٹھیک ہے۔ اہل کتاب کا ذبیحہ کھانے سے متعلق حدیث ہے کہ خیبر کی فتح کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (ایک یہودی عورت کی طرف سے) بکری کے گوشت کا ہدیہ پیش کیا گیا جس میں زہر ملا ہوا تھا اور آپ نے اس میں سے کچھ کھایا۔ [ بخاری، المغازی، باب الشاۃ التی سمت للنبی صلی اللہ علیہ وسلم بخیبر: ۴۲۴۹ ] اسی طرح بعض صحابہ نے بھی وہ چربی کھائی جو خیبر میں یہودیوں سے حاصل ہوئی تھی۔ [ مسلم، الجہاد، باب جواز الأکل من طعام الغنیمۃ ……: ۱۷۷۲ ] مگر جو چیزیں ہماری شریعت میں حرام ہیں، جیسے مردار، خون، خنزیر کا گوشت وغیرہ، یہ چیزیں ان کے دسترخوان پر کھانا بھی حرام ہے، بلکہ ایسے دسترخوان پر بیٹھنا بھی جائز نہیں، نہ ان کے ایسے برتن استعمال کرنا جائز ہے، ہاں اگر اور برتن نہ ملیں اور مجبوری ہو تو انھیں خوب دھو کر اور صاف کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔ ➋ {وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ ……:} یعنی ان سے نکاح کرنا درست ہے، چاہے وہ اپنے دین پر قائم رہیں، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ پاک دامن ہوں نہ کہ آزاد منش اور آوارہ قسم کی، جو انسان کے ایمان کو بھی تباہ کر ڈالیں۔ جمہور کے نزدیک یہاں {”الْمُحْصَنٰتُ“} کے یہی معنی مراد ہیں، تاکہ کفر اور زنا کی دو آفات ان میں جمع نہ ہوں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۲۱)۔ ➌ {وَ مَنْ يَّكْفُرْ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ ……:} اس میں تنبیہ کی گئی ہے کہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح صرف جائز ہے، مستحسن نہیں اور جو شخص اس اجازت سے فائدہ اٹھائے اسے اپنے ایمان کی طرف سے ہوشیار رہنا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی غیر مسلم بیوی سے متاثر ہو کر اپنے ایمان و اخلاق سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
← پچھلی آیت (4) پوری سورۃ اگلی آیت (6) →