بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المائده — Surah Maidah
آیت نمبر 15
کل آیات: 120
قرآن کریم المائده آیت 15
آیت نمبر: 15 — سورۃ المائده islamicurdubooks.com ↗
یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ قَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمۡ کَثِیۡرًا مِّمَّا کُنۡتُمۡ تُخۡفُوۡنَ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ یَعۡفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ ۬ؕ قَدۡ جَآءَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ نُوۡرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۱۵﴾
اے اہل کتاب! ہمارا رسول تمہارے پاس آ گیا ہے جو کتاب الٰہی کی بہت سی اُن باتوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن پر تم پردہ ڈالا کرتے تھے، اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کر جاتا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آ گئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب
اے اہل کتاب! یقیناً تمہارے پاس ہمارا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) آچکا جو تمہارے سامنے کتاب اللہ کی بکثرت ایسی باتیں ﻇاہر کر رہا ہے جنہیں تم چھپا رہے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے، تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آچکی ہے
اے کتاب والو بیشک تمہارے پاس ہمارے یہ رسول تشریف لائے کہ تم پر ظاہر فرماتے ہیں بہت سی وہ چیزیں جو تم نے کتاب میں چھپا ڈالی تھیں اور بہت سی معاف فرماتے ہیں بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب
اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارا وہ پیغمبر آگیا ہے جو بہت سی ان باتوں کو کھول کر بیان کر رہا ہے۔ جنہیں تم اس کتاب میں سے چھپاتے رہے ہو اور بہت سی باتوں کو نظر انداز بھی کر دیتا ہے۔ بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور (روشنی) اور واضح کتاب آگئی ہے۔
اے اہل کتاب! بے شک تمھارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، جو تمھارے لیے ان میں سے بہت سی باتیں کھول کر بیان کرتا ہے، جو تم کتاب میں سے چھپایا کرتے تھے اور بہت سی باتوں سے در گزر کرتا ہے۔ بے شک تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور واضح کتاب آئی ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

علمی بددیانت ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ رب الاعلیٰ نے اپنے عالی قدر رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تمام مخلوق کی طرف بھیج دیا ہے، معجزے اور روشن دلیلیں انہیں عطا فرمائی ہیں جو باتیں یہود و نصاریٰ نے بدل ڈالی تھیں، تاویلیں کرکے دوسرے مطلب بنا لیے تھے اور اللہ کی ذات پر بہتان باندھتے تھے، کتاب اللہ کے جو حصے اپنے نفس کے خلاف پاتے تھے، انہیں چھپا لیتے تھے، ان سب علمی بد دیانتیوں کو یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بے نقاب کرتے ہیں۔ ہاں جس کے بیان کی ضرورت ہی نہ ہو، بیان نہیں فرماتے ‘۔ مستدرک حاکم میں ہے ”جس نے رجم کے مسئلہ کا انکار کیا، اس نے بےعملی سے قرآن سے انکار کیا۔‏‏‏‏“ چنانچہ اس آیت میں اسی رجم کے چھپانے کا ذکر ہے۔ پھر قرآن عظیم کی بابت فرماتا ہے کہ ’ اسی نے اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی یہ کتاب اتاری ہے، جو جویائے حق کو سلامتی کی راہ بتاتی ہے، لوگوں کو ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتی ہے اور راہ مستقیم کی رہبر ہے اس کتاب کی وجہ سے اللہ کے انعاموں کو حاصل کر لینا اور اس کی سزاؤں سے بچ جانا بالکل آسان ہو گیا ہے یہ ضلالت کو مٹا دینے والی اور ہدایت کو واضح کر دینے والی ہے ‘۔

📖 احسن البیان

15۔ 1 یعنی انہوں نے تورات و انجیل میں جو تبدیلیاں اور تحریفات کیں، انہیں طشت ازبام کیا اور جن کو وہ چھپاتے تھے، ظاہر کیا، جیسے سزائے رجم۔ جیسا کہ احادیث میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ 15۔ 2 نور اور کِتَابُ مُّیْن دونوں سے مراد قرآن کریم ہے، ان کے درمیان واو مغایرت مصداق نہیں مغایرت معنی کے لیے ہے اور یہ عطف تفسیری ہے جس کی واضح دلیل قرآن کریم کی اگلی آیت ہے جس میں کہا جا رہا ہے اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہدایت فرماتا ہے اگر نور اور کتاب یہ الگ الگ چیزیں ہوتیں تو الفاظ (یَّھدِیبِھِمَا اللّٰہَ) ہوتے، یعنی اللہ تعالیٰ ان دونوں کے ذریعے سے ہدایت فرماتا ہے، قرآن کریم کی اس خاص آیات سے واضح ہوگیا کہ نور اور کتاب مبین دونوں سے مراد ایک یہ چیز یعنی قرآن کریم ہے۔ یہ نہیں ہے کہ نور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔ جیسا کہ وہ اہل بدعت باور کراتے ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت نور من نور اللہ کا عقیدہ گھڑ رکھا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا انکار کرتے ہیں۔ اسی طرح اس خانہ ساز عقیدے کے اثبات کے لیے ایک حدیث بھی بیان کرتے ہیں کہ اللہ نے سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نور پیدا کیا اور پھر اس نور سے ساری کائنات پیدا کی۔ حالانکہ یہ حدیث، حدیث کے کسی بھی مستند مجموعے میں موجود نہیں ہے علاوہ ازیں یہ اس صحیح حدیث کے بھی خلاف ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلے قلم پیدا فرمایا محدث البانی لکھتے ہیں " فالحدیث صحیح بلا ریب، وھو من الادلۃ الظاھرۃ علی بطلان الحدیث المشھور " اول ماخلق اللہ نور نبیک یا جابر " مشہور حدیث جابر کہ اللہ نے سب سے پہلے تیرے نبی کا نور پیدا کیا باطل ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 15) ➊ {يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا ……:} یہود و نصاریٰ کے عہد توڑنے اور حق سے منہ موڑنے کا ذکر کرنے کے بعد اب ان کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ (کبیر) اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صفتیں بیان کی گئی ہیں، ایک یہ کہ بہت سے احکام جو وہ چھپایا کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بیان کرتے ہیں، جیسے رجم کی آیت، سبت والوں کا قصہ جن کی صورتیں مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنا دیا گیا تھا، اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات سے متعلق آیات، الغرض! یہود ان تمام باتوں کو چھپایا کرتے تھے۔ عبد اﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور عورت کو لایا گیا، جنھوں نے زنا کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنی کتاب میں اس کے بارے میں کیا حکم پاتے ہو؟“ انھوں نے کہا: ”ہمارے علماء نے (اس کی سزا) چہرے کو سیاہ کرنا اور گدھے پر گشت کروانا تجویز کی ہوئی ہے۔“ عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: ” اے اﷲ کے رسول! ان (کے علماء) کو تورات سمیت بلائیے۔“ چنانچہ تورات لائی گئی تو ان میں سے ایک نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے سے پڑھنا شروع کر دیا، عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: ”اپنا ہاتھ اٹھاؤ۔“ اس نے ہاتھ اٹھایا تو اس کے نیچے سے رجم کی آیت نکلی۔ چنانچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ دونوں سنگسار کر دیے گئے۔ [ بخاری، الحدود، باب الرجم فی البلاط: ۶۸۱۹ ] ➋ {قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِيْنٌ:} نور سے مراد اﷲ تعالیٰ کی کتاب ہی ہے۔ واؤ عاطفہ دونوں کو الگ الگ بتانے کے لیے نہیں بلکہ تفسیر کے لیے ہے، یعنی کتاب مبین اس نور کی تفسیر ہے، جس کی واضح دلیل ایک تو اس سے بعد والی یہ آیت ہے: «‏‏‏‏يَهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ» ‏‏‏‏ یعنی جس کے ساتھ اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیچھے چلیں، سلامتی کے راستوں کی ہدایت دیتا ہے۔ اب اس آیت میں اگر نور اور کتاب مبین الگ الگ چیزیں ہوتیں تو الفاظ {” يَهْدِيْ بِهِمَا اللّٰهُ “} (اﷲ ان دونوں کے ساتھ ہدایت دیتا ہے) ہوتے۔ دوسری جگہ خود اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نور قرار دیا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا: «فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ» [الأعراف: ۱۵۷ ] ”سو وہ لوگ جو اس رسول پر ایمان لائے اور اسے قوت دی اور اس کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو اس کے ساتھ اتارا گیا، وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“ معلوم ہوا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اترنے والی کتاب ہی نور ہے۔ اسی طرح فرمایا: { «فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِيْۤ اَنْزَلْنَا» ‏‏‏‏} [ التغابن: ۸ ] ”سو تم اﷲ اور اس کے رسول اور اس نور پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کیا۔“ قرآن مجید کے لیے نور کا لفظ سورۂ نساء اور دوسرے مقامات میں بھی آیا ہے، فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًا» ‏‏‏‏ [ النساء: ۱۷۴ ] ”اے لوگو! بلاشبہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آئی ہے اور ہم نے تمھاری طرف ایک واضح نور نازل کیا ہے۔“ بعض مفسرین نے نور سے مراد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور کتاب مبین سے مراد قرآن مجید لیا ہے۔ اس صورت میں بھی معنی یہ ہو گا کہ اﷲ کی طرف سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روشنی بن کر اور قرآن ایک کتاب مبین بن کر آئے ہیں، جس کے ساتھ اﷲ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے، یعنی آپ ایک تو ہدایت کا نور ہیں، دوسرا {” نُوْرٌ مِنَ اللهِ “} یعنی اﷲ کی طرف سے آنے والے نور ہیں جو اﷲ کی مخلوق ہیں نہ کہ {” نُوْرٌ مِنْ نُوْرِ اللهِ “} یعنی اﷲ کے نور میں سے نور کا ایک ٹکڑا ہیں کہ اﷲ کا حصہ ہوں یا خود ہی اﷲ ہوں۔ یہ تو وہی نصرانیوں والا عقیدہ ہے کہ انھوں نے مسیح علیہ السلام کو اﷲ کا بیٹا بنایا اور ان حضرات نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو اﷲ کا ٹکڑا بنا دیا۔ سورۂ اخلاص اس گندے اور شرکیہ عقیدے کی خوب تردید کرتی ہے۔
← پچھلی آیت (14) پوری سورۃ اگلی آیت (16) →