بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المائده — Surah Maidah
آیت نمبر 13
کل آیات: 120
قرآن کریم المائده آیت 13
آیت نمبر: 13 — سورۃ المائده islamicurdubooks.com ↗
فَبِمَا نَقۡضِہِمۡ مِّیۡثَاقَہُمۡ لَعَنّٰہُمۡ وَ جَعَلۡنَا قُلُوۡبَہُمۡ قٰسِیَۃً ۚ یُحَرِّفُوۡنَ الۡکَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِہٖ ۙ وَ نَسُوۡا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوۡا بِہٖ ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰی خَآئِنَۃٍ مِّنۡہُمۡ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡہُمۡ فَاعۡفُ عَنۡہُمۡ وَ اصۡفَحۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۳﴾
پھر یہ اُن کا اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کر دیے اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کر کے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں، جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اُس کا بڑا حصہ بھول چکے ہیں، اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں (پس جب یہ اِس حال کو پہنچ چکے ہیں تو جو شرارتیں بھی یہ کریں وہ ان سے عین متوقع ہیں) لہٰذا انہیں معاف کرو اور ان کی حرکات سے چشم پوشی کرتے رہو، اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش رکھتے ہیں
پھر ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر اپنی لعنت نازل فرمادی اور ان کے دل سخت کردیئے کہ وه کلام کو اس کی جگہ سے بدل ڈالتے ہیں اور جو کچھ نصیحت انہیں کی گئی تھی اس کا بہت بڑا حصہ بھلا بیٹھے، ان کی ایک نہ ایک خیانت پر تجھے اطلاع ملتی ہی رہے گی ہاں تھوڑے سے ایسے نہیں بھی ہیں پس توانہیں معاف کرتا جا اور درگزر کرتا ره، بےشک اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے
تو ان کی کیسی بد عہدیوں پر ہم نے انہیں لعنت کی اور ان کے دل سخت کردیئے اللہ کی باتوں کو ان کے ٹھکانوں سے بدلتے ہیں اور بُھلا بیٹھے بڑا حصہ ان نصیحتوں کا جو انہیں دی گئیں اور تم ہمیشہ ان کی ایک نہ ایک دغا پر مطلع ہوتے رہو گے سوا تھوڑوں کے تو انہیں معاف کردو اور ان سے درگزرو بیشک احسان والے ا لله کو محبوب ہیں،
ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی (اپنی رحمت سے دور کر دیا) اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا کہ وہ اب کلامِ (الٰہی) کو اس کی اصلی جگہ سے ہٹا دیتے ہیں (تحریف کرتے ہیں) اور جس چیز کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا بڑا حصہ بھلا بیٹھے ہیں (اے پیغمبر(ص)) ان کے معدودے چند آدمیوں کے سوا برابر ان کی کسی نہ کسی خیانت پر مطلع ہوتے رہیں گے لہٰذا انہیں معاف کر دیجیے اور ان سے درگزر کیجیے بے شک اللہ معاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
تو ان کے اپنے عہد کو توڑنے کی وجہ ہی سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا کہ وہ کلام کو اس کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں اور وہ اس میں سے ایک حصہ بھول گئے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی اور تو ہمیشہ ان کی کسی نہ کسی خیانت کی خبر پاتا رہے گا، سوائے ان کے تھوڑے سے لوگوں کے، سو انھیں معاف کردے اور ان سے درگزر کر۔ بے شک اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اب اس عہد و پیمان کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے یہودیوں سے لیا تھا کہ وہ نمازیں پڑھتے رہیں، زکوٰۃ دیتے رہیں، اللہ کے رسولوں کی تصدیق کریں، ان کی نصرت و اعانت کریں اور اللہ کی مرضی کے کاموں میں اپنا مال خرچ کریں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ کی مدد و نصرت ان کے ساتھ رہے گی، ان کے گناہ معاف ہونگے اور یہ جنتوں میں داخل کئے جائیں گے، مقصود حاصل ہوگا اور خوف زائل ہوگا۔ لیکن اگر وہ اس عہد و پیمان کے بعد پھرگئے اور اسے غیر معروف کر دیا تو یقیناً وہ حق سے دور ہو جائیں گے، بھٹک اور بہک جائیں گے۔ چنانچہ یہی ہوا کہ انہوں نے میثاق توڑ دیا، وعدہ خلافی کی تو ان پر اللہ کی لعنت نازل ہوئی، ہدایت سے دور ہوگئے، ان کے دل سخت ہوگئے اور وعظ و پند سے مستفید نہ ہو سکے، سمجھ بگڑ گئی، اللہ کی باتوں میں ہیر پھیر کرنے لگے، باطل تاویلیں گھڑنے لگے، جو مراد حقیقی تھی، اس سے کلام اللہ کو پھیر کر اور ہی مطلب سمجھنے سمجھانے لگے، اللہ کا نام لے کر وہ مسائل بیان کرنے لگے، جو اللہ کے بتائے ہوئے نہ تھے، یہاں تک کہ اللہ کی کتاب ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی، وہ اس سے بےعمل چھوٹ جانے کی توجہ سے نہ تو دل ٹھیک رہے، نہ فطرت اچھی رہی۔ نہ خلوص و اخلاص رہا، غداری اور مکاری کو اپنا شیوہ بنا لیا۔ نت نئے جال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب نبی کے خلاف بنتے رہے۔

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے چشم پوشی کیجئے ‘، یہی معاملہ ان کے ساتھ اچھا ہے، جیسے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جو تجھ سے اللہ کے فرمان کے خلاف سلوک کرے تو اس سے حکم الٰہی کی بجا آوری کے ماتحت سلوک کر۔‏‏‏‏“ اس میں ایک بڑی مصلحت یہ بھی ہے کہ ممکن ہے ان کے دل کھنچ آئیں، ہدایت نصیب ہو جائے اور حق کی طرف آ جائیں۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ یعنی دوسروں کی بدسلوکی سے چشم پوشی کر کے خود نیا سلوک کرنے والے اللہ کے محبوب ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”درگزر کرنے کا حکم جہاد کی آیت سے منسوخ ہے۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

13۔ 1 یعنی اتنے انتظامات عہد موعید کے باوجود بنو اسرائیل نے عہد شکنی کی کہ جس کی بنا پر کہ وہ لعنت الٰہی کے موجب بنے، اس لعنت کے دینوی نتائج یہ سامنے آئے کہ ایک، ان کے دل سخت کردیئے گئے جس سے ان کے دل اثر پزیری سے محروم ہوگئے اور انبیاء کے وعظ و نصیحت ان کے لیے بےکار ہوگئے، دوسرے یہ کہ وہ کلمات الٰہی میں تحریف کرنے لگ گئے۔ اسی طرح اپنی بدعلت، خود ساختہ مزعومات اور اپنے تاویلات باطلہ کے اثبات کے لیے کلام الٰہی میں تحریف کر ڈالتے ہیں۔ 13۔ 2 یہ تیسرا نتیجہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ احکام الٰہی پر عمل کرنے میں انہیں کوئی رغبت اور دلچسپی نہیں رہی بلکہ بےعملی اور بدعملی ان کا شعار بن گئی اور وہ پستی کے اس مقام پر پہنچ گئے کہ ان کے دل ٹھیک رہے اور نہ ان کی فطرت مستقیم۔ 13۔ 3 یعنی شذر خیانت اور مکر ان کے کردار جزو بن گیا ہے جس کے نمونے ہر وقت آپ کے سامنے آتے رہیں گے۔ 13۔ 4 یہ تھوڑے سے لوگ وہی ہیں جو یہودیوں میں سے مسلمان ہوگئے تھے اور ان کی تعداد دس سے بھی کم تھی۔ 13۔ 5 عفو و درگزر کا یہ حکم اس وقت دیا گیا جب لڑنے کی اجازت نہیں تھی۔ بعد میں اس کی جگہ حکم دیا گیا (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ) 9:29 ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان نہیں رکھتے ' بعض کے نزدیک عفو و درگزر کا یہ حکم منسوخ نہیں ہے۔ ' یہ بجائے خود ایک اہم حکم ہے، حالات کے مطابق اسے بھی اختیار کیا جاسکتا ہے اور اس کے بھی بعض دفعہ وہ نتائج حاصل ہوجاتے ہیں جن کے لئے قتال کا حکم ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 13) ➊ {فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ ……:} یعنی انھوں نے اپنے عہد و میثاق کی پاس داری کے بجائے سمع و طاعت کا وہ عہد توڑ دیا، نماز کو ضائع کرنا شروع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے۔(دیکھیے مریم: ۵۹) زکوٰۃ اور قرض حسنہ (صدقہ وغیرہ) کے بجائے بخل اور کمینگی کی انتہا کو پہنچ گئے اور سود لینا شروع کر دیا، رسولوں اور ان کی کتابوں پر ایمان لانے اور جہاد کے ساتھ انھیں قوت دینے کے بجائے کتابوں میں تحریف کی اور جہاد میں جانے ہی سے صاف انکار کر دیا، تورات کے بہت سے حصے پر عمل ترک کر دیا، جس کے نتیجے میں اﷲ نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں میں نفاق بھر گیا۔ {” قَسِيَّةٌ “} یا {” قَاسِيَةٌ“} اصل میں اس سکے کو کہتے ہیں جس میں ملاوٹ ہو، یہ {”قَسْوَةٌ “} سے ہے جس کا معنی شدت اور سختی ہے۔ خالص سونا اور چاندی نرم ہوتے ہیں اور ان میں جتنی ملاوٹ زیادہ ہو اتنا ہی وہ زیادہ سخت ہو جاتے ہیں، اس تشبیہ کی رعایت سے انھیں {” قَاسِيَةٌ “} فرمایا۔ ➋ {يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ:} یعنی ایک لفظ کی جگہ دوسرا لفظ رکھ دیتے، یا اس کے اصل مفہوم کے بجائے کوئی غلط مفہوم نکال لیتے جسے تاویل باطل کہتے ہیں، اپنی اسی خست کی وجہ سے ہیرا پھیری کر کے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان صفات کو بدل ڈالا جو تورات میں مذکور تھیں۔ (قرطبی) ➌ {وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ:} یعنی انھوں نے تورات کے بہت سے حصے پر عمل ترک کر دیا، جیسا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا، زانی کو سنگسار کرنا، سود کو حرام سمجھنا وغیرہ۔ افسوس اہل کتاب کی طرح مسلمانوں کی اکثریت نے بھی سمع و طاعت کو چھوڑا، نمازیں ضائع کیں، سود کھانے لگے، جہاد چھوڑ بیٹھے، باہمی فرقوں میں بٹ کر اﷲ کی کتاب میں تحریف کی حد تک تاویلیں کرنے لگے، تو نتیجہ بھی وہی ہے جو پہلوں کا تھا، مگر امید افزا بات یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق امت مسلمہ میں ایسے لوگ قیامت تک رہیں گے جو حق پر قائم رہیں گے اور حق کی خاطر لڑتے رہیں گے، انھی کو {”عَلَي الْحَقِّ مَنْصُوْرِيْنَ“} کہا گیا ہے۔ [ مسلم، الإمارۃ، باب قولہ لا تزال طائفۃ……: ۱۰۳۷، بعد ح: ۱۹۲۳۔ ابن ماجہ: ۱۰ ] ➍ {” خَآىِٕنَةٍ “} مصدر ہے بر وزن {” عَافِيَةٌ “} بمعنی خیانت یعنی ان سے آئے دن کسی نہ کسی خیانت اور بد عہدی کا ظہور ہوتا رہے گا، یا اسم فاعل ہے کہ خیانت کرنے والی جماعت یا شخصیت یعنی ان میں ہمیشہ ایسے لوگ موجود رہیں گے جو خیانت اور بدعہدی کا ارتکاب کرتے رہیں گے اور آپ کو ہر گز ان کی طرف سے امن نصیب نہیں ہو گا۔ «‏‏‏‏اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ» یعنی ان میں سے چند لوگ ایسے ہیں جو کسی خیانت و بد عہدی کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ ان سے خاص کر عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی مراد ہیں، یا وہ لوگ جنھوں نے کفر کے باوجود کسی قسم کی خیانت اور بد عہدی نہیں کی۔ (کبیر) ➎ {فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ:} یعنی ان کی انفرادی خیانتوں اور بد عہدیوں سے درگزر کیجیے نہ کہ ان بد عہدیوں سے جو اجتماعی (یا اجتماعی کے حکم میں) ہوں، کیونکہ اس صورت میں تو وہ واضح حربی (جو حالت جنگ میں ہوں) قرار پائیں گے، جن کی سر کوبی بہرحال کی جائے گی۔ (المنار) یا یہ کہ جو ان میں سے خیانت کا ارتکاب نہیں کرتے اور اپنے عہد پر قائم ہیں، ان کی دوسری لغزشوں سے در گزر فرمائیں۔ (رازی) ان دونوں صورتوں میں یہ آیت محکم رہے گی، ورنہ اسے قتال (لڑائی) کے حکم والی آیت سے منسوخ سمجھا جائے گا۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۲۹)۔
← پچھلی آیت (12) پوری سورۃ اگلی آیت (14) →