بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المائده — Surah Maidah
آیت نمبر 47
کل آیات: 120
قرآن کریم المائده آیت 47
آیت نمبر: 47 — سورۃ المائده islamicurdubooks.com ↗
وَ لۡیَحۡکُمۡ اَہۡلُ الۡاِنۡجِیۡلِ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فِیۡہِ ؕ وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۴۷﴾
ہمارا حکم تھا کہ اہل انجیل اس قانون کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں
اور انجیل والوں کو بھی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ انجیل میں نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق حکم کریں اور جو اللہ تعالیٰ کے نازل کرده سے ہی حکم نہ کریں وه (بدکار) فاسق ہیں
اور چاہئے کہ انجیل والے حکم کریں اس پر جو اللہ نے اس میں اتارا اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کریں تو وہی لوگ فاسق ہیں،
چاہیے کہ انجیل والے (نصرانی) اس (قانون) کے مطابق فیصلہ کریں، جو اللہ نے اس (انجیل) میں نازل کیا ہے اور جو اللہ کے نازل کردہ (قانون) کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی فاسق (نافرمان) ہیں۔
اور لازم ہے کہ انجیل والے اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ نافرمان ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

باطل کے غلام لوگ ٭٭

’ انبیاء بنی اسرائیل کے پیچھے ہم عیسیٰ علیہ السلام نبی کو لائے جو توراۃ پر ایمان رکھتے تھے، اس کے احکام کے مطابق لوگوں میں فیصلے کرتے تھے، ہم نے انہیں بھی اپنی کتاب انجیل دی، جس میں حق کی ہدایت تھی اور شبہات اور مشکلات کی توضیح تھی اور پہلی الہامی کتابوں کی تصدیق تھی، ہاں چند مسائل جن میں یہودی اختلاف کرتے تھے، ان کے صاف فیصلے اس میں موجود تھے ‘۔ جیسے قرآن میں اور جگہ ہے کہ «وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ» ۱؎ [3-آل عمران:50] ‏‏‏‏ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، ’ میں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں حلال کروں گا جو تم پر حرام کردی گئی ہیں ‘۔ اسی لیے علماء کا مشہور مقولہ ہے کہ انجیل نے تورات کے بعض احکام منسوخ کر دیئے ہیں۔ انجیل سے پارسا لوگوں کی رہنمائی اور وعظ و پند ہوتی تھی کہ وہ نیکی کی طرف رغبت کریں اور برائی سے بچیں۔ «اَھْلَ اِْلانْجِیْلِ» بھی پڑھا گیا ہے اس صورت میں «وَاُلْيَحْكُمْ» میں لام «کَیْ» معنی میں ہو گا۔ مطلب یہ ہو گا کہ ’ ہم نے عیسیٰ کو انجیل اس لیے دی تھی کہ وہ اپنے زمانے کے اپنے ماننے والوں کو اسی کے مطابق چلائیں ‘ اور اس لام کو امر کا لام سمجھا جائے اور مشہور قراۃ «وَلْيَحْكُمْ» پڑھی جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ ’ انہیں چاہیئے کہ انجیل کے کل احکام پر ایمان لائیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کریں ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:68] ‏‏‏‏، یعنی ’ اے اہل کتاب جب تک تم تورات و انجیل پر اور جو کچھ اللہ کی طرف سے اترا ہے، اگر اس پر قائم ہو تو تم کسی چیز پر نہیں ہو ‘۔ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ» ۱؎ [7-الأعراف:157] ‏‏‏‏، ’ جو لوگ اس رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرتے ہیں، جس کی صفت اپنے ہاں توراۃ میں لکھی ہوئی پاتے ہیں وہ لوگ جو کتاب اللہ اور اپنے نبی کے فرمان کے مطابق حکم نہ کریں وہ اللہ کی اطاعت سے خارج، حق کے تارک اور باطل کے عامل ہیں ‘۔ یہ آیت نصرانیوں کے حق میں ہے۔ روش آیت سے بھی یہ ظاہر ہے اور پہلے بیان بھی گزر چکا ہے۔

📖 احسن البیان

47۔ 1 اہل انجیل کو یہ حکم اس وقت تھا جب تک حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت کا زمانہ تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ کا دور نبوت بھی ختم ہوگیا۔ اور انجیل کی پیروی کا حکم بھی۔ اب ایماندار وہی سمجھا جائے گا جو رسالت محمدیہ پر ایمان لائے گا اور قرآن کریم کی پیروی کرے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 47) {وَ لْيَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِيْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِيْهِ ……:} اہل انجیل کا اس کے مطابق جو اﷲ نے نازل کیا ہے، فیصلہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر لازم ہے کہ انجیل میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو پیش گوئیاں اور دلائل اﷲ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں وہ ان کو چھپانے یا ان کی غلط تاویلیں کرنے کی کوشش نہ کریں، بلکہ انجیل کے حکم کے مطابق مسلمان ہو جائیں اور قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ کریں اور جو اﷲ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہ نافرمان ہیں کہ انھوں نے اپنی کتاب میں اترا ہوا اﷲ کا حکم نہیں مانا۔
← پچھلی آیت (46) پوری سورۃ اگلی آیت (48) →