بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المائده — Surah Maidah
آیت نمبر 51
کل آیات: 120
قرآن کریم المائده آیت 51
آیت نمبر: 51 — سورۃ المائده islamicurdubooks.com ↗
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ مِنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۱﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ، یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے، یقیناً اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے
اے ایمان والو! تم یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو بھی ان میں کسی سے دوستی کرے وه بےشک انہی میں سے ہے، ﻇالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راه راست نہیں دکھاتا
اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے بیشک اللہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا
اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو ان سے دوستی کرے گا وہ انہی میں سے شمار ہوگا۔ بے شک خدا ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بنائو، ان کے بعض بعض کے دوست ہیں اور تم میں سے جو انھیں دوست بنائے گا تو یقینا وہ ان میں سے ہے، بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

دشمن اسلام سے دوستی منع ہے ٭٭

دشمنان اسلام یہود و نصاریٰ سے دوستیاں کرنے کی اللہ تبارک و تعالیٰ ممانعت فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ وہ تمہارے دوست ہرگز نہیں ہو سکتے کیونکہ تمہارے دین سے انہیں بغض و عداوت ہے۔ ہاں اپنے والوں سے ان کی دوستیاں اور محبتیں ہیں۔ میرے نزدیک تو جو بھی ان سے دلی محبت رکھے وہ ان ہی میں سے ہے ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو اس بات پر پوری تنبیہہ کی اور یہ آیت پڑھ سنائی۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1156/4:حسن] ‏‏‏‏ حضرت عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے فرمایا ”لوگو! تمہیں اس سے بچنا چاہیئے کہ تمہیں خود تو معلوم نہ ہو اور تم اللہ کے نزدیک یہود و نصرانی بن جاؤ“، ہم سمجھ گئے کہ آپ کی مراد اسی آیت کے مضمون سے ہے۔۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1156/4:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرب نصرانیوں کے ذبیحہ کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت کی۔ جس کے دل میں کھوٹ ہے وہ تو لپک لپک کر پوشیدہ طور پر ان سے ساز باز اور محبت و مودت کرتے ہیں اور بہانہ یہ بناتے ہیں کہ ہمیں خطرہ ہے اگر مسلمانوں پر یہ لوگ غالب آگئے تو پھر ہماری تباہی کردیں گے، اس لیے ہم ان سے بھی میل ملاپ رکھتے ہیں، ہم کیوں کسی سے بگاڑیں؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ ممکن ہے اللہ مسلمانوں کو صاف طور پر غالب کر دے، مکہ بھی ان کے ہاتھوں فتح ہو جائے، فیصلے اور حکم ان ہی کے چلنے لگیں، حکومت ان کے قدموں میں سر ڈال دے۔ یا اللہ تعالیٰ اور کوئی چیز اپنے پاس سے لائے یعنی یہود نصاریٰ کو مغلوب کر کے انہیں ذلیل کر کے ان سے جزیہ لینے کا حکم مسلمانوں کو دیدے پھر تو یہ منافقین جو آج لپک لپک کر ان سے گہری دوستی کرتے پھرتے ہیں، بڑے بھنانے لگیں گے اور اپنی اس چالاکی پر خون کے آنسو بہانے لگیں گے۔ ان کے پردے کھل جائیں گے اور یہ جیسے اندر تھے ویسے ہی باہر سے نظر آئیں گے۔ اس وقت مسلمان ان کی مکاریوں پر تعجب کریں گے اور کہیں گے اے لو یہی وہ لوگ ہیں، جو بڑی بڑی قسمیں کھا کھا کر ہمیں یقین دلاتے تھے کہ یہ ہمارے ساتھی ہیں۔ انہوں نے جو پایا تھا وہ کھو دیا تھا اور برباد ہو گئے ‘۔ «‏‏‏‏وَيَقُولُ» تو جمہور کی قرأت ہے۔ ایک قرأت بغیر واؤ کے بھی ہے اہل مدینہ کی یہی قرأت ہے۔ «يَقُولُ» تو مبتداء اور دوسری قرأت اس کی «يَقُوْلَ» ہے تو یہ «فَعَسَى» پر عطف ہو گا گویا «وَاَنْ يَقُوْلَ» ہے اہلِ مدینہ کے نزدیک۔

ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ جنگ احد کے بعد ایک شخص نے کہا کہ میں اس یہودی سے دوستی کرتا ہوں تاکہ موقع پر مجھے نفع پہنچے، دوسرے نے کہا، میں فلاں نصرانی کے پاس جاتا ہوں، اس سے دوستی کر کے اس کی مدد کروں گا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں ”ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ آیتیں اتریں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنو قریظہ کی طرف بھیجا تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا یعنی تم سب کو قتل کرا دیں گے۔‏‏‏‏“ ایک روایت میں ہے کہ یہ آیتیں عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں اتری ہیں۔ عبادہ بن صامت نے صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ بہت سے یہودیوں سے میری دوستی ہے مگر میں ان سب کی دوستیاں توڑتا ہوں، مجھے اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دوستی کافی ہے۔ اس پر اس منافق نے کہا میں دور اندیش ہوں، دور کی سوچنے کا عادی ہوں، مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا، نہ جانے کس وقت کیا موقعہ پڑ جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے عبداللہ تو عبادہ کے مقابلے میں بہت ہی گھاٹے میں رہا }، اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12162:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ ”جب بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی تو بعض مسلمانوں نے اپنے ملنے والے یہودیوں سے کہا کہ یہی تمہاری حالت ہو، اس سے پہلے ہی تم اس دین برحق کو قبول کر لو انہوں نے جواب دیا کہ چند قریشیوں پر جو لڑائی کے فنون سے بے بہرہ ہیں، فتح مندی حاصل کر کے کہیں تم مغرور نہ ہو جانا، ہم سے اگر پالا پڑا تو ہم تو تمہیں بتا دیں گے کہ لڑائی اسے کہتے ہیں۔ اس پر عبادہ اور عبداللہ بن ابی کا وہ مکالمہ ہوا جو اوپر بیان ہو چکا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12163:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏

جب یہودیوں کے اس قبیلہ سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی اور بفضل رب یہ غالب آگئے تو اب عبداللہ بن ابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے دوستوں کے معاملے میں مجھ پر احسان کیجئے، یہ لوگ خزرج کے ساتھی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اس نے پھر کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ موڑ لیا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے چپک گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ سے فرمایا کہ { چھوڑ دے }، اس نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نہ چھوڑوں گا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں احسان کریں، ان کی بڑی پوری جماعت ہے اور آج تک یہ لوگ میرے طرفدار رہے اور ایک ہی دن میں یہ سب فنا کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ مجھے تو آنے والی مصیبتوں کا کھٹکا ہے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جا وہ سب تیرے لیے ہیں }۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:174/3:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ جب بنو قینقاع کے یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی اور اللہ نے انہیں نیچا دکھایا تو عبداللہ بن ابی ان کی حمایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرنے لگا اور عبادہ بن صامت نے باوجودیکہ یہ بھی ان کے حلیف تھے لیکن انہوں نے ان سے صاف برأت ظاہر کی۔ اس پر یہ آیتیں «فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [5-المائدہ:56] ‏‏‏‏ تک اتریں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12164] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ اس منافق عبداللہ بن ابی کی عیادت کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے تو تجھے بارہا ان یہودیوں کی محبت سے روکا } } تو اس نے کہا سعد بن زرارہ تو ان سے دشمنی رکھتا تھا وہ بھی مر گیا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3094،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

51۔ 1 اس میں یہود اور نصاریٰ سے موالات و محبت کا رشتہ قائم کرنے سے منع کیا گیا ہے جو اسلام کے اور مسلمانوں کے دشمن ہیں اور اس پر اتنی سخت وعید بیان فرمائی گئی جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انہیں میں سے سمجھا جائے گا۔ (مزید دیکھئے سورة آل عمران آیت 28 اور آیت 118 کا حاشیہ) 51۔ 2 قرآن کی اس بیان کردہ حقیقت کا مشاہدہ ہر شخص کرسکتا ہے کہ یہود اور نصاریٰ اگرچہ آپس میں عقائد کے لحاظ سے شدید اختلاف اور باہمی بغض وعناد ہے، لیکن اس کے باوجود یہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک دوسرے کے معاون بازو اور محافظ ہیں۔ 51۔ 3 ان آیات کی شان نزول میں بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت انصاری ؓ اور رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی دونوں ہی عہد جاہلیت سے یہود کے حلیف چلے آ رہے تھے۔ جب بدر میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی تو عبد اللہ بن ابی نے بھی اسلام کا اظہار کیا۔ ادھر بنو قینقاع کے یہودیوں نے تھوڑے ہی دنوں بعد فتنہ برپا کیا اور وہ کس لئے گئے، جس پر حضرت عبادہ ؓ نے تو اپنے یہودی حلیفوں سے اعلان براءت کردیا۔ لیکن عبد اللہ بن ابی نے اس کے برعکس یہودیوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ جس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 51) {لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِيَآءَ ……: ” اَوْلِيَآءَ “} یہ{”وَلِيٌّ“} کی جمع ہے، مراد دلی دوست ہیں۔ اس آیت میں مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ کی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور یہ طے شدہ بات ہے کہ دشمن کا دوست بھی دشمن ہوتا ہے، تو جسے تم اپنا خیر خواہ سمجھ کر دوست بنا رہے ہو اس کی اپنے ہم مذہب لوگوں کے ساتھ بھی دوستی ہے جو تمھارے شدید دشمن ہیں، وہ آپس میں کتنا بھی اختلاف رکھتے ہوں تمھاری عداوت میں وہ ایک ہیں اور ایک دوسرے کے مدد گار ہیں، تو تمھاری یہود و نصاریٰ کے ساتھ دوستی کیسے ہو سکتی ہے؟ اس پر اتنی سختی فرمائی کہ فرمایا تم میں سے جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انھی میں سے ہے۔ رہا ان سے اچھا تعلق رکھنا، خوش اخلاقی، حسن سلوک اور احسان تو وہ ان لوگوں کے ساتھ کر سکتے ہو جنھوں نے دین کی وجہ سے تم سے جنگ نہیں کی، جن کا ذکر سورۂ ممتحنہ(۸) میں ہے۔ صرف یہود و نصاریٰ ہی سے نہیں تمام کفار کی دلی دوستی سے منع فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۲۳)، سورۂ مجادلہ(۲۲) اور آل عمران (۲۸، ۱۱۸)۔
← پچھلی آیت (50) پوری سورۃ اگلی آیت (52) →