بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المائده — Surah Maidah
آیت نمبر 52
کل آیات: 120
قرآن کریم المائده آیت 52
آیت نمبر: 52 — سورۃ المائده islamicurdubooks.com ↗
فَتَرَی الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوۡنَ فِیۡہِمۡ یَقُوۡلُوۡنَ نَخۡشٰۤی اَنۡ تُصِیۡبَنَا دَآئِرَۃٌ ؕ فَعَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّاۡتِیَ بِالۡفَتۡحِ اَوۡ اَمۡرٍ مِّنۡ عِنۡدِہٖ فَیُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَاۤ اَسَرُّوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ نٰدِمِیۡنَ ﴿ؕ۵۲﴾
تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ اُنہی میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں کہتے ہیں "ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکر میں نہ پھنس جائیں" مگر بعید نہیں کہ اللہ جب تمہیں فیصلہ کن فتح بخشے گا یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کرے گا تو یہ لوگ اپنے اِس نفاق پر جسے یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں نادم ہوں گے
آپ دیکھیں گے کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے وه دوڑ دوڑ کر ان میں گھس رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں خطره ہے، ایسا نہ ہو کہ کوئی حادﺛہ ہم پر پڑ جائے بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ فتح دے دے۔ یا اپنے پاس سے کوئی اور چیز ﻻئے پھر تو یہ اپنے دلوں میں چھپائی ہوئی باتوں پر (بے طرح) نادم ہونے لگیں گے
اب تم انہیں دیکھو گے جن کے دلوں میں آزار ہے کہ یہود و نصاریٰ کی طرف دوڑتے ہیں کہتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ ہم پر کوئی گردش آجائے تو نزدیک ہے کہ اللہ فتح لائے یا اپنی طرف سے کوئی حکم پھر اس پر جو اپنے دلوں میں چھپایا تھا پچھتائے رہ جائیں
(اے رسول(ص)) آپ دیکھیں گے کہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے۔ وہ دوڑ دوڑ کر ان (یہود و نصاریٰ) کی طرف جاتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں ہم پر کوئی گردش زمانہ نہ آجائے سو قریب ہے کہ اللہ (تمہیں) فتح سے ہمکنار کر دے یا (کامیابی کی) کوئی اور صورت اپنی طرف سے ظاہر کر دے، تو پھر وہ اس پر جو انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھا ہے نادم و پشیمان ہوں گے۔
پس تو ان لوگوں کو دیکھے گا جن کے دلوں میں ایک بیماری ہے کہ وہ دوڑ کر ان میں جاتے ہیں، کہتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ ہمیں کوئی چکر آ پہنچے، تو قریب ہے کہ اللہ فتح لے آئے، یا اپنے پاس سے کوئی اور معاملہ تو وہ اس پر جو انھوں نے اپنے دلوں میں چھپایا تھا، پشیمان ہو جائیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

دشمن اسلام سے دوستی منع ہے ٭٭

دشمنان اسلام یہود و نصاریٰ سے دوستیاں کرنے کی اللہ تبارک و تعالیٰ ممانعت فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ وہ تمہارے دوست ہرگز نہیں ہو سکتے کیونکہ تمہارے دین سے انہیں بغض و عداوت ہے۔ ہاں اپنے والوں سے ان کی دوستیاں اور محبتیں ہیں۔ میرے نزدیک تو جو بھی ان سے دلی محبت رکھے وہ ان ہی میں سے ہے ‘۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو اس بات پر پوری تنبیہہ کی اور یہ آیت پڑھ سنائی۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1156/4:حسن] ‏‏‏‏ حضرت عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے فرمایا ”لوگو! تمہیں اس سے بچنا چاہیئے کہ تمہیں خود تو معلوم نہ ہو اور تم اللہ کے نزدیک یہود و نصرانی بن جاؤ“، ہم سمجھ گئے کہ آپ کی مراد اسی آیت کے مضمون سے ہے۔۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1156/4:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرب نصرانیوں کے ذبیحہ کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت کی۔ جس کے دل میں کھوٹ ہے وہ تو لپک لپک کر پوشیدہ طور پر ان سے ساز باز اور محبت و مودت کرتے ہیں اور بہانہ یہ بناتے ہیں کہ ہمیں خطرہ ہے اگر مسلمانوں پر یہ لوگ غالب آگئے تو پھر ہماری تباہی کردیں گے، اس لیے ہم ان سے بھی میل ملاپ رکھتے ہیں، ہم کیوں کسی سے بگاڑیں؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ ممکن ہے اللہ مسلمانوں کو صاف طور پر غالب کر دے، مکہ بھی ان کے ہاتھوں فتح ہو جائے، فیصلے اور حکم ان ہی کے چلنے لگیں، حکومت ان کے قدموں میں سر ڈال دے۔ یا اللہ تعالیٰ اور کوئی چیز اپنے پاس سے لائے یعنی یہود نصاریٰ کو مغلوب کر کے انہیں ذلیل کر کے ان سے جزیہ لینے کا حکم مسلمانوں کو دیدے پھر تو یہ منافقین جو آج لپک لپک کر ان سے گہری دوستی کرتے پھرتے ہیں، بڑے بھنانے لگیں گے اور اپنی اس چالاکی پر خون کے آنسو بہانے لگیں گے۔ ان کے پردے کھل جائیں گے اور یہ جیسے اندر تھے ویسے ہی باہر سے نظر آئیں گے۔ اس وقت مسلمان ان کی مکاریوں پر تعجب کریں گے اور کہیں گے اے لو یہی وہ لوگ ہیں، جو بڑی بڑی قسمیں کھا کھا کر ہمیں یقین دلاتے تھے کہ یہ ہمارے ساتھی ہیں۔ انہوں نے جو پایا تھا وہ کھو دیا تھا اور برباد ہو گئے ‘۔ «‏‏‏‏وَيَقُولُ» تو جمہور کی قرأت ہے۔ ایک قرأت بغیر واؤ کے بھی ہے اہل مدینہ کی یہی قرأت ہے۔ «يَقُولُ» تو مبتداء اور دوسری قرأت اس کی «يَقُوْلَ» ہے تو یہ «فَعَسَى» پر عطف ہو گا گویا «وَاَنْ يَقُوْلَ» ہے اہلِ مدینہ کے نزدیک۔

ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ جنگ احد کے بعد ایک شخص نے کہا کہ میں اس یہودی سے دوستی کرتا ہوں تاکہ موقع پر مجھے نفع پہنچے، دوسرے نے کہا، میں فلاں نصرانی کے پاس جاتا ہوں، اس سے دوستی کر کے اس کی مدد کروں گا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں ”ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ آیتیں اتریں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنو قریظہ کی طرف بھیجا تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا یعنی تم سب کو قتل کرا دیں گے۔‏‏‏‏“ ایک روایت میں ہے کہ یہ آیتیں عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں اتری ہیں۔ عبادہ بن صامت نے صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ بہت سے یہودیوں سے میری دوستی ہے مگر میں ان سب کی دوستیاں توڑتا ہوں، مجھے اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دوستی کافی ہے۔ اس پر اس منافق نے کہا میں دور اندیش ہوں، دور کی سوچنے کا عادی ہوں، مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا، نہ جانے کس وقت کیا موقعہ پڑ جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے عبداللہ تو عبادہ کے مقابلے میں بہت ہی گھاٹے میں رہا }، اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12162:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ ”جب بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی تو بعض مسلمانوں نے اپنے ملنے والے یہودیوں سے کہا کہ یہی تمہاری حالت ہو، اس سے پہلے ہی تم اس دین برحق کو قبول کر لو انہوں نے جواب دیا کہ چند قریشیوں پر جو لڑائی کے فنون سے بے بہرہ ہیں، فتح مندی حاصل کر کے کہیں تم مغرور نہ ہو جانا، ہم سے اگر پالا پڑا تو ہم تو تمہیں بتا دیں گے کہ لڑائی اسے کہتے ہیں۔ اس پر عبادہ اور عبداللہ بن ابی کا وہ مکالمہ ہوا جو اوپر بیان ہو چکا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12163:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏

جب یہودیوں کے اس قبیلہ سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی اور بفضل رب یہ غالب آگئے تو اب عبداللہ بن ابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے دوستوں کے معاملے میں مجھ پر احسان کیجئے، یہ لوگ خزرج کے ساتھی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اس نے پھر کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ موڑ لیا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے چپک گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ سے فرمایا کہ { چھوڑ دے }، اس نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نہ چھوڑوں گا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں احسان کریں، ان کی بڑی پوری جماعت ہے اور آج تک یہ لوگ میرے طرفدار رہے اور ایک ہی دن میں یہ سب فنا کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ مجھے تو آنے والی مصیبتوں کا کھٹکا ہے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جا وہ سب تیرے لیے ہیں }۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:174/3:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ جب بنو قینقاع کے یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی اور اللہ نے انہیں نیچا دکھایا تو عبداللہ بن ابی ان کی حمایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرنے لگا اور عبادہ بن صامت نے باوجودیکہ یہ بھی ان کے حلیف تھے لیکن انہوں نے ان سے صاف برأت ظاہر کی۔ اس پر یہ آیتیں «فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [5-المائدہ:56] ‏‏‏‏ تک اتریں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12164] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ اس منافق عبداللہ بن ابی کی عیادت کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے تو تجھے بارہا ان یہودیوں کی محبت سے روکا } } تو اس نے کہا سعد بن زرارہ تو ان سے دشمنی رکھتا تھا وہ بھی مر گیا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3094،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

52۔ 1 اس سے مراد نفاق ہے۔ یعنی منافقین یہودیوں سے محبت اور دوستی میں جلدی کر رہے ہیں۔ 52۔ 2 یعنی مسلمانوں کو شکست ہوجائے اور اس کی وجہ سے ہمیں بھی کچھ نقصان اٹھانا پڑے۔ یہودیوں میں دوستی ہوگی تو ایسے موقع پر ہمارے بڑے کام آئے گی۔ 52۔ 3 یعنی مسلمانوں کو۔ 52۔ 4 یہود و نصاریٰ پر جزیہ عائد کر دے یہ اشارہ ہے جو بنو قریظ کے قتل اور ان کی اولاد کے قیدی بنانے اور بنو نضیر کی جلا وطنی وغیرہ کی طرف، جس کا وقوع مستقبل قریب میں ہی ہوا۔

📖 القرآن الکریم

(آيت 52) {فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ ……:} یعنی منافقین جو یہود و نصاریٰ کی طرف دوڑتے اور ان کے ساتھ دوستی کیے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں مسلمان زمانے کے کسی چکر میں آ کر مغلوب نہ ہو جائیں، پھر ہمارا کیا بنے گا، اس وقت ان کی دوستی ہمارے کام آئے گی، سو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے، بلکہ یقینا ہو گا (لفظ {”عَسٰي“} اﷲ اور رسول کے فرمان میں یقین کے معنی میں آتا ہے) کہ مسلمانوں کو فتح ہو گی، کافر مغلوب ہوں گے، پھر وہ قتل ہوں گے، یا جلاوطن ہوں گے، یا انھیں جزیہ دینا پڑے گا، پھر ان منافقین کو ندامت ہو گی کہ ہم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا، مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی، بنو قریظہ کے یہودی قتل ہوئے، بنو نضیر کو سر زمین مدینہ سے نکال دیا گیا اور یہ لوگ اپنے نفاق پر کفِ افسوس ملتے رہ گئے۔
← پچھلی آیت (51) پوری سورۃ اگلی آیت (53) →