بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المائده — Surah Maidah
آیت نمبر 91
کل آیات: 120
قرآن کریم المائده آیت 91
آیت نمبر: 91 — سورۃ المائده islamicurdubooks.com ↗
اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ فِی الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِ وَ یَصُدَّکُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ ﴿۹۱﴾
شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے؟
شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرا دے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے سو اب بھی باز آجاؤ
شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے،
شیطان تو بس یہی چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان شراب اور جوئے کے ذریعہ سے بغض و عداوت ڈالے۔ اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے باز رکھے (روکے)۔ کیا اب تم (ان چیزوں سے) باز آؤگے؟ ۔
شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمھارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمھیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے، تو کیا تم باز آنے والے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پانسہ بازی ، جوا اور شراب ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ بعض چیزوں سے روکتا ہے۔ شراب کی ممانعت فرمائی، پھر جوئے کی روک کی۔ امیر المونین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”شطرنج بھی جوئے میں داخل ہے۔‏‏‏‏“ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ عطاء، مجاہد اور طاؤس رحمہ اللہ علیہم سے یا ان میں سے دو سے مروی ہے کہ ”جوئے کی ہر چیز میسر میں داخل ہے گو بچوں کے کھیل کے طور پر ہو۔‏‏‏‏“ جاہلیت کے زمانے میں جوئے کا بھی عام رواج تھا جسے اسلام نے غارت کیا۔ ان کا ایک جوا یہ بھی تھا کہ گوشت کو بکری کے بدلے بیچتے تھے، پانسے پھینک کر مال یا پھل لینا بھی جوا ہے۔ قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو چیز ذکر اللہ اور نماز سے غافل کر دے وہ جوا ہے۔‏‏‏‏“ ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع غریب حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان پانسوں سے بچو جن سے لوگ کھیلا کرتے تھے، یہ بھی جوا ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1196/4:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح مسلم شریف میں ہے { پانسوں سے کھیلنے والا گویا اپنے ہاتھوں کو سور کے خون اور گوشت میں آلودہ کرنے والا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2260] ‏‏‏‏ سنن میں ہے کہ { وہ اللہ اور رسول کا نافرمان ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4938،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا قول بھی اسی طرح مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، مسند میں ہے { پانسوں سے کھیل کر نماز پڑھنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص قے اور گندگی سے اور سور کے خون سے وضو کر کے نماز ادا کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:370/5:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک شطرنج اس سے بھی بری ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے شطرنج کا جوئے میں سے ہونا پہلے بیان ہو چکا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ تو کھلم کھلا اسے حرام بتاتے ہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ بھی اسے مکروہ بتاتے ہیں۔

«أَنصَابُ» ان پتھروں کو کہتے ہیں جن پر مشرکین اپنے جانور چڑھایا کرتے تھے اور انہیں وہیں ذبح کرتے تھے۔ «اَزْلاَمُ» ان تیروں کو کہتے ہیں جن میں وہ فال لیا کرتے تھے۔ ان سب چیزوں کی نسبت فرمایا کہ ’ یہ اللہ کی ناراضگی کے اور شیطانی کام ہیں۔ یہ گناہ کے اور برائی کے کام ہیں تم ان شیطانی کاموں سے بچو انہیں چھوڑ دو تاکہ تم نجات پاؤ ‘۔ اس فقرے میں مسلمانوں کو ان کاموں سے روکنے کی ترغیب ہے۔ پھر رغبت آمیز دھمکی کے ساتھ مسلمانوں کو ان چیزوں سے روکا گیا ہے۔

📖 احسن البیان

91۔ 1 یہ شراب اور جوا کے مزید معاشرتی اور دینی نقصانات ہیں، جو محتاج وضاحت نہیں ہیں۔ اس لئے شراب کو ام الخبائث کہا جاتا ہے اور جوا بھی ایسی بری لت ہے کہ یہ انسان کو کسی کام کا نہیں چھوڑتی اور بسا اوقات رئیس زادوں اور خاندانی جاگیر داروں کو مفلس و قلاش بنا دیتی ہے اَ عَا ذَنَا اللّٰہُ مِنْھُمَا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 91) {اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ …: } جوئے اور شراب کی حرمت کا حکم دے کر اب ان کے دینی اور دنیاوی نقصانات بیان فرمائے ہیں، دینی نقصان تو یہ کہ شراب اور جوا نماز اور ذکر الٰہی سے روکنے اور غافل کرنے کا سبب بنتے ہیں اور دنیاوی نقصان یہ کہ آپس میں عداوت اور کینہ پیدا کرتے ہیں اور ان دونوں میں ان خرابیوں کا پایا جانا بالکل واضح ہے۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے پاس آیا تو انھوں نے کہا، آؤ تمھیں کھلائیں اور شراب پلائیں۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے کی بات ہے، چنانچہ میں ان کے پاس ایک باغ میں گیا، وہاں ان کے پاس اونٹ کی بھنی ہوئی سری اور شراب کا ایک مشکیزہ تھا۔ میں نے ان کے ساتھ کھایا اور پیا، ان کے پاس مہاجرین و انصار کا ذکر ہوا تو میں نے کہا، مہاجرین انصار سے بہتر ہیں، تو ایک آدمی نے سری کا ایک جبڑا پکڑا اور مجھے دے مارا، جس سے میری ناک زخمی ہو گئی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یہ بات بتائی تو اللہ تعالیٰ نے شراب کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: «اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ» ‏‏‏‏ [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب فی فضل سعد بن أبی وقاص، قبل ح: ۱۷۴۸ ]
← پچھلی آیت (90) پوری سورۃ اگلی آیت (92) →