بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المائده — Surah Maidah
آیت نمبر 64
کل آیات: 120
قرآن کریم المائده آیت 64
آیت نمبر: 64 — سورۃ المائده islamicurdubooks.com ↗
وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ یَدُ اللّٰہِ مَغۡلُوۡلَۃٌ ؕ غُلَّتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ لُعِنُوۡا بِمَا قَالُوۡا ۘ بَلۡ یَدٰہُ مَبۡسُوۡطَتٰنِ ۙ یُنۡفِقُ کَیۡفَ یَشَآءُ ؕ وَ لَیَزِیۡدَنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا ؕ وَ اَلۡقَیۡنَا بَیۡنَہُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ؕ کُلَّمَاۤ اَوۡقَدُوۡا نَارًا لِّلۡحَرۡبِ اَطۡفَاَہَا اللّٰہُ ۙ وَ یَسۡعَوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَسَادًا ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۶۴﴾
یہودی کہتے ہیں اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں باندھے گئے ان کے ہاتھ، اور لعنت پڑی اِن پر اُس بکواس کی بدولت جو یہ کرتے ہیں اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں، جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے حقیقت یہ ہے کہ جو کلام تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی و باطل پرستی میں الٹے اضافہ کا موجب بن گیا ہے، اور (اس کی پاداش میں) ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت اور دشمنی ڈال دی ہے جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اُس کو ٹھنڈا کر دیتا ہے یہ زمین میں فساد پھیلانے کی سعی کر رہے ہیں مگر اللہ فساد برپا کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا
اور یہودیوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ انہی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور ان کے اس قول کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی، بلکہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اتارا جاتا ہے وه ان میں سے اکثر کو تو سرکشی اور کفر میں اور بڑھا دیتا ہے اور ہم نے ان میں آپس میں ہی قیامت تک کے لئے عداوت اور بغض ڈال دیا ہے، وه جب کبھی لڑائی کی آگ کو بھڑکانا چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے بجھا دیتا ہے، یہ ملک بھر میں شر وفساد مچاتے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فسادیوں سے محبت نہیں کرتا
اور یہودی بولے اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے ان کے ہاتھ باندھے جائیں اور ان پر اس کہنے سے لعنت ہے بلکہ اس کے ہاتھ کشادہ ہیں عطا فرماتا ہے جیسے چاہے اور اے محبوب! یہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اس سے ان میں بہتوں کو شرارت اور کفر میں ترقی ہوگی اور ان میں ہم نے قیامت تک آپس میں دشمنی اور بیر ڈال دیا جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے اور زمین میں فساد کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں، اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا،
یہودی کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ بندھا ہوا ہے (کچھ نہیں کر سکتا) ان کے ہاتھ بندھیں اور اس (بے ادبانہ) قول کی وجہ سے ان پر لعنت ہو۔ بلکہ اس کے ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔ وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے۔ وہ ان میں سے بہت سوں کی سرکشی اور کفر میں اضافہ کرتا ہے اور ہم نے ان کے درمیان قیامت تک دشمنی اور بغض و کینہ ڈال دیا ہے۔ وہ جب بھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں۔ تو اللہ اسے بجھا دیتا ہے اور یہ زمین میں فساد برپا کرنے کی سعی و کوشش کرتے ہیں اور اللہ فساد برپا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
اور یہود نے کہا اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے، ان کے ہاتھ باندھے گئے اور ان پر لعنت کی گئی، اس کی وجہ سے جو انھوں نے کہا، بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں، خرچ کرتا ہے جیسے چاہتا ہے، اور یقینا جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے وہ ان میں سے بہت سے لوگوں کو سرکشی اور کفر میں ضرور بڑھا دے گا، اور ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک دشمنی اور بغض ڈال دیا۔ جب کبھی وہ لڑائی کی کوئی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے اور وہ زمین میں فساد کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اللہ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بخل سے بچو اور فضول خرچی سے ہاتھ روکو ٭٭

اللہ تعالیٰ ملعون یہودیوں کا ایک خبیث قول بیان فرما رہا ہے کہ ’ یہ اللہ کو بخیل کہتے تھے، یہی لوگ اللہ کو فقیر بھی کہتے ہیں۔ اللہ کی ذات ان کے اس ناپاک مقولے سے بہت بلند و بالا ہے ‘۔ پس اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، مطلب ان کا یہ نہ تھا کہ ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں بلکہ مراد اس سے بخل تھا۔ یہی محاورہ قرآن میں اور جگہ بھی ہے فرماتا ہے آیت «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:29] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ بھی نہ لے اور نہ حد سے زیادہ پھیلا دے کہ پھر تھکان اور ندامت کے ساتھ بیٹھے رہنا پڑے ‘۔ پس بخل سے اور اسراف سے اللہ نے اس آیت میں روکا۔ پس ملعون یہودیوں کی بھی ہاتھ باندھا ہوا ہونے سے یہی مراد تھی۔ فخاص نامی یہودی نے یہ کہا تھا اور اسی ملعون کا وہ دوسرا قول بھی تھا کہ «إِنَّ اللَّـهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ» ۱؎ [3-آل عمران:181] ‏‏‏‏ ’ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ‘۔ جس پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اسے پیٹا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ شماس بن قیس نے یہی کہا تھا جس پر یہ آیت اتری۔ اور ارشاد ہوا کہ ’ بخیل اور کنجوس ذلیل اور بزدل یہ لوگ خود ہیں ‘۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَّا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ» ۱؎ [4-النساء:55] ‏‏‏‏ ’ اگر یہ بادشاہ بن جائیں تو کسی کو کچھ بھی نہ دیں۔ بلکہ یہ تو اوروں کی نعمتیں دیکھ کر جلتے ہیں۔ یہ ذلیل تر لوگ ہیں۔ بلکہ اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں وہ سب کچھ خرچ کرتا رہتا ہے اس کا فضل وسیع ہے، اس کی بخشش عام ہے، ہر چیز کے خزانے اس کے ہاتھوں میں ہیں۔ ہر نعمت اس کی طرف سے ہے۔ ساری مخلوق دن رات ہر وقت ہر جگہ اسی کی محتاج ہے ‘۔ فرماتا ہے آیت «وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ» ۱؎ [14-إبراهيم:34] ‏‏‏‏۔ ’ تم نے جو مانگا، اللہ نے دیا، اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کر سکتے، یقیناً انسان بڑا ہی ظالم بے حد ناشکرا ہے ‘۔ مسند میں حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ اوپر ہے، دن رات کا خرچ اس کے خزانے کو گھٹاتا نہیں، شروع سے لے کر آج تک جو کچھ بھی اس نے اپنی مخلوق کو عطا فرمایا، اس نے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی اس کا عرش پہلے پانی پر تھا، اسی کے ہاتھ میں فیض ہی فیض ہے، وہی بلند اور پست کرتا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو تم میری راہ میں خرچ کرو گے تم تو دیئے جاؤں گے }۔ بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7419] ‏‏‏‏۔

پھر فرمایا ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جس قدر اللہ کی نعمتیں تم پر زیادہ ہوں گی، اتنا ہی ان شیاطین کا کفر حسد اور جلاپا بڑھے گا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مومنوں کا ایمان اور ان کی تسلیم و اطاعت بڑھتی ہے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے، «قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاءٌ» ۱؎ [41-فصلت:44] ‏‏‏‏ ’ ایمان والوں کیلئے تو یہ ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمان اس سے اندھے بہرے ہوتے ہیں۔ یہی ہیں جو دروازے سے پکارے جاتے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» ۱؎ [17-الإسراء:82] ‏‏‏‏ ’ ہم نے وہ قرآن اتارا ہے جو مومنوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کا تو نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے ‘۔ پھر ارشاد ہوا کہ ’ ان کے دلوں میں سے خود آپس کا بغض و بیر بھی قیامت تک نہیں مٹے گا، ایک دوسرے کا آپس میں ہی خون پینے والے لوگ ہیں۔ ناممکن ہے کہ یہ حق پر جم جائیں، یہ اپنے ہی دین میں فرقہ فرقہ ہو رہے ہیں، ان کے جھگڑے اور عداوتیں آپس میں جاری ہیں اور جاری رہیں گی۔ یہ لوگ بسا اوقات لڑائی کے سامان کرتے ہیں، تیرے خلاف چاروں طرف ایک آگ بھڑکانا چاہتے ہیں لیکن ہر مرتبہ منہ کی کھاتے ہیں، ان کا مکر انہی پر لوٹ جاتا ہے، یہ مفسد لوگ ہیں اور اللہ کے دشمن ہیں، کسی مفسد کو اللہ اپنا دوست نہیں بناتا ‘۔

’ اگر یہ با ایمان اور پرہیزگار بن جائیں تو ہم ان سے تمام ڈر دور کر دیں اور اصل مقصد حیات سے انہیں ملا دیں۔ اگر یہ تورات و انجیل اور اس قرآن کو مان لیں ‘۔ کیونکہ توراۃ و انجیل کا ماننا، قرآن کے ماننے کو لازم کر دے گا، ان کتابوں کی صحیح تعلیم یہی ہے کہ یہ قرآن سچا ہے اس کی اور نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق پہلے کی کتابوں میں موجود ہے تو اگر یہ اپنی ان کتابوں کو بغیر تحریف و تبدیل اور تاویل و تفسیر کے مانیں تو وہ انہیں اسی اسلام کی ہدایت دیں گی، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بتاتے ہیں۔ ’ اس صورت میں اللہ انہیں دنیا کے کئی فائدے دے گا، آسمان سے پانی برسائے گا، زمین سے پیداوار اگائے گا، نیچے اوپر کی یعنی زمین و آسمان کی برکتیں انہیں مل جائیں گی ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:96] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر بستیوں والے ایمان لاتے ہیں اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتیں نازل فرماتے ‘۔ اور آیت میں «ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:41] ‏‏‏‏ ’ لوگوں کی برائیوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا ہے ‘، اور یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ ’ بغیر مشقت و مشکل کے ہم انہیں بکثرت بابرکت روزیاں دیتے ہیں ‘۔ بعض نے اس جملہ کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ ’ یہ لوگ ایسا کرتے تو بھلائیوں سے مستفید ہو جاتے ‘۔ لیکن یہ قول اقوال سلف کے خلاف ہے۔ ابن ابی حاتم نے اس جگہ ایک اثر وارد کیا ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قریب ہے کہ علم اٹھا لیا جائے }۔ یہ سن کر زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ علم اٹھ جائے، ہم نے قرآن سیکھا، اپنی اولادوں کو سکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { افسوس میں تو تمام مدینے والوں سے زیادہ تم کو سمجھدار جانتا تھا لیکن کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں بھی تورات و انجیل ہے۔ لیکن کس کام کی؟ جبکہ انہوں نے اللہ کے احکام چھوڑ دیئے } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت «وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ» [5-المائدة:65] ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:75/18:مرسل] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسند میں بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا بیان فرمایا کہ { یہ بات علم کے جاتے رہنے کے وقت ہوگی، اس پر ابن لبید رضی اللہ عنہ نے کہا علم کیسے جاتا رہے گا؟ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں، وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے، یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا جو اوپر بیان ہوا }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4048،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

پھر فرمایا ’ ان میں ایک جماعت میانہ رو بھی ہے مگر اکثر بداعمال ہے ‘۔ جیسے فرمان آیت «وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:159] ‏‏‏‏ ’ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) کی قوم میں سے ایک گروہ حق کی ہدایت کرنے والا اور اسی کے ساتھ عدل انصاف کرنے والا بھی تھا ‘۔ اور قوم عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے، «فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ» ۱؎ [57-الحدید:27] ‏‏‏‏ ’ ان میں سے با ایمان لوگوں کو ہم نے ان کے ثواب عنایت فرمائے ‘۔ یہ نکتہ خیال میں رہے کہ ان کا بہترین درجہ بیچ کا درجہ بیان فرمایا اور اس امت کا یہ درجہ دوسرا درجہ ہے، جس پر ایک تیسرا اونچا درجہ بھی ہے۔ جیسے فرمایا۔ آیت «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» ۱؎ [35-فاطر:32] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ پھر ہم نے کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا، ان میں سے بعض تو اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں، بعض میانہ رو ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں، یہی بہت بڑا فضل ہے ‘۔ تینوں قسمیں اس امت کی داخل جنت ہونے والی ہیں۔ ابن مردویہ میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { موسیٰ علیہ السلام کی امت کے اکہتر گروہ ہوگئے، جن میں سے ایک تو جنتی ہے، باقی ستر دوزخی۔ میری یہ امت دونوں سے بڑھ جائے گی۔ ان کا بھی ایک گروہ تو جنت میں جائے گا، باقی بہتر گروہ جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا، وہ کون ہیں؟ فرمایا: { جماعتیں جماعتیں } } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3992، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یعقوب بن یزید کہتے ہیں ”جب سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تو قرآن کی آیت۔ «وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ» [5-المائدہ:65] ‏‏‏‏، اور «وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:181] ‏‏‏‏ بھی پڑھتے اور فرماتے ہیں ”اس سے مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:3668: ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث ان لفظوں اور اس سند سے بے حد غریب ہے اور ستر سے اوپر اوپر فرقوں کی حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے، جسے ہم نے اور جگہ بیان کر دیا ہے «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

📖 احسن البیان

64۔ 1 یہ وہی بات ہے جو سورة آل عمران کی آیت 181 میں کہی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اپنی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب اور اسے اللہ کو قرض حسن دینے سے تعبیر کیا تو ان یہودیوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تو فقیر ہے ' لوگوں سے قرض مانگ رہا ہے اور وہ تعبیر کے اس حسن کو نہ سمجھ سکے جو اس میں پنہاں تھا۔ یعنی سب کچھ اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اور اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کردینا، کوئی قرض نہیں ہے۔ لیکن یہ اس کی کمال مہربانی ہے کہ وہ اس پر بھی خوب اجر عطا فرماتا ہے حتٰی کہ ایک ایک دانے کو سات سات سو دانے تک بڑاھا دیتا ہے۔ اور اسے قرض حسن سے اسی لیے تعبیر فرمایا کہ جتنا تم خرچ کرو گے، اللہ تعالیٰ اس سے کئی گنا تمہیں واپس لوٹائے گا۔ مغلولۃ کے معنی بخیلۃ (بخل والے کیے گئے۔ یعنی یہود کا مقصد یہ نہیں تھا کہ اللہ کے ہاتھ واقعتاً بندھے ہوئے ہیں۔ بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ اس نے اپنے ہاتھ خرچ کرنے سے روکے ہوئے ہیں۔ (ابن کثیر) اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ہاتھ تو انہی کے بندھے ہوئے ہیں یعنی بخیلی انہی کا شیوہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوتے ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے۔ خرچ کرتا ہے۔ وہ واسع الفضل اور جزیل العطاء ہے، تمام خزانے اسی کے پاس ہیں۔ نیز اس نے اپنی مخلوقات کے لیے تمام حاجات و ضروریات کا انتظام کیا ہوا ہے، ہمیں رات یا دن کو، سفر میں اور حضر میں اور دیگر تمام احوال میں جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے یا پڑ سکتی ہے، سب وہی مہیا کرتا ہے۔ (وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ) 14:34" تم نے جو کچھ اس سے مانگا وہ اس نے تمہیں دیا۔ اللہ کی نعمتیں اتنی ہیں کہ تم گن نہیں سکتے انسان ہی نادان اور نہایت نہ شکرا ہے، حدیث میں بھی ہے نبی نے فرمایا کہ اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، رات دن خرچ کرتا ہے لیکن کوئی کمی نہیں آتی، ذرا دیکھو تو، جب سے آسمان و زمین اس نے پیدا کئے ہیں وہ خرچ کر رہا ہے لیکن اس کے ہاتھ کے خزانے میں کمی نہیں آئی۔ 64۔ 2 یعنی یہ جب بھی آپ کے خلاف کوئی سازش کرتے ہیں یا لڑائی کے اسباب مہیا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو باطل کردیتا ہے اور ان کی سازش کو انہی پر الٹا دیتا ہے۔ اور ان کو " چاہ کن را چاہ درپیش " کی سی صورت حال سے دوچار کردیتا ہے " 64۔ 3 ان کی عادت ثانیہ ہے کہ ہمیشہ زمین میں فساد پھیلانے کی مذموم کوشش کرتے ہیں دراں حالیکہ اللہ تعالیٰ مفسدین کو پسند نہیں فرماتا

📖 القرآن الکریم

(آیت 64)➊ {وَ قَالَتِ الْيَهُوْدُ يَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ ……:} اﷲ تعالیٰ نے جب اپنی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب ان الفاظ میں دی کہ کون اﷲ کو قرض حسنہ دیتا ہے، حالانکہ وہ مال اﷲ تعالیٰ ہی کا تھا، اسی نے دیا تھا اور اسی کے دیے ہوئے میں سے انھوں نے دینا تھا، تو یہودی بجائے اس کے کہ اﷲ تعالیٰ کے انداز بیان اور اس کے فضل و کرم پر غور کرتے اور سمجھتے کہ اﷲ ہمیں کئی گناہ بڑھا کر دینے کے لیے صدقے کی ترغیب دے رہا ہے اور اسے قرض کہہ رہا ہے، کہنے لگے کہ اﷲ تو فقیر ہے اور ہم غنی ہیں، تبھی وہ ہم سے قرض مانگتا ہے۔ یہ یہودیوں کی انتہائی خست اور کمینگی تھی، وہی کمینگی اس آیت میں دوسرے الفاظ میں ذکر کی گئی ہے کہ یہودیوں نے کہا کہ اﷲ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے، یعنی وہ بخیل ہے، کچھ دیتا نہیں، بلکہ مانگتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاتھ تو انھی کے بندھے ہوئے ہیں اور بخیلی انھی کی صفت ہے اور انھی گستاخیوں اور کمینگیوں کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہیں، وہ بے انتہا فضل و کرم کا مالک اور بے حد و حساب عطا فرمانے والا ہے، تمام خزانے اسی کے پاس ہیں، جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے، تمام مخلوق کی ہر حاجت اور ضرورت جو پڑتی یا پڑ سکتی ہے، وہی پوری کرتا ہے، فرمایا: «وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ» [إبراہیم: ۳۴ ] ”اور اس نے تمھیں ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اﷲ کی نعمت شمار کرو تو اسے شمار نہ کر پاؤ گے، یقینا انسان بڑا ظالم بہت نا شکرا ہے۔“ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اﷲ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، کسی طرح کا خرچ کرنا اسے کم نہیں کرتا۔ کیا تم نے دیکھا کہ اس نے جب سے آسمان و زمین پیدا کیے کس قدر خرچ کیا ہے؟ تو اس سے اس میں کچھ کمی نہیں ہوئی جو اس کے دائیں ہاتھ میں ہے۔“ [ بخاری، التوحید، باب: { وكان عرشه علي الماء:} ۷۴۱۹ ] ایک حدیث میں فرمایا: ”اﷲ کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں۔“ [ مسلم، الامارۃ، باب فضیلۃ الأمیرالعادل……: ۱۸۲۷ ] ➋ اس آیت اور دوسری بہت سی آیات و احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے ہاتھ موجود ہیں۔ بعض لوگ اس کا ترجمہ قبضہ، قدرت وغیرہ کرتے ہیں اور ہاتھوں کا انکار کرتے ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر ہم اس کے ہاتھ مانیں تو وہ ہمارے جیسا ہو جائے گا، حالانکہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ ان لوگوں کی بات درست نہیں، کیونکہ یہ تو اس وقت ہو گا جب ہم کہیں کہ اس کے ہاتھ ہمارے ہاتھوں جیسے ہیں، جب ہم کہتے ہیں کہ اﷲ کے ہاتھ ہیں مگر ہمارے جیسے نہیں، بلکہ ایسے ہیں جیسے اس کی شان کے لائق ہیں تو اس سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی، جبکہ اس کے ہاتھوں کے انکار سے کئی احادیث اور قرآن کی آیات کا انکار لازم آتا ہے۔ اب ہم سنتے ہیں اور دیکھتے ہیں، اﷲ تعالیٰ بھی دیکھتا سنتا ہے تو کیا وہ ہمارے جیسا ہو گا؟ نہیں، بلکہ اس کا سننا اور دیکھنا ہماری طرح نہیں، بلکہ ایسا ہے جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔ اسی طرح اﷲ بھی موجود ہے ہم بھی موجود ہیں، تو کیا وہ بھی ہماری مثل ہو جائے گا؟ نتیجہ تو یہی نکلا کہ مشابہت ثابت ہونے کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ کے وجود کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ [ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ] نہیں، بلکہ وہ موجود ہے، سمیع و بصیر ہے، اس کا چہرہ، اس کی آنکھیں، اس کا سمع و بصر اور اس کا وجود سب کچھ قرآن سے ثابت ہے اور ماننا لازم ہے، مگر وہ وجود اور سمع و بصر اور ہاتھ ہمارے یا کسی مخلوق جیسے نہیں، بلکہ ایسے ہیں جیسے اس کے لائق ہیں۔ اﷲ کی ذات بھی بے مثل ہے، اس کی صفات بھی بے مثل ہیں۔ کئی ایسے بھی بے نصیب ہیں جو اسی شبہ کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ کے سننے، دیکھنے اور قیامت کے دن زمین پر آنے کا صاف انکار کر کے اپنے ڈھکوسلے سے بنایا ہوا کوئی معنی کر دیتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے۔ ➌ {وَ لَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا ……:} یعنی یہ لوگ اگر ہدایت کے طلب گار ہوتے تو آپ پر نازل ہونے والی ہر آیت و حدیث سے صحابہ کے ایمان کی طرح ان کے ایمان میں اضافہ اور ترقی ہوتی، مگر چونکہ ان کے دل بغض و عناد، ضد اور حسد سے بھرے ہوئے ہیں، اس لیے تیرے رب کی طرف سے جو کچھ بھی تجھ پر نازل ہو گا وہ ان میں سے بہت سے لوگوں کی سر کشی اور کفر ہی میں اضافہ کرے گا، اسی کا نتیجہ تھا کہ جیسے جیسے قرآن اترتا ان کی سرکشی اور کفر بڑھتا جاتا۔ ➍ {وَ اَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ ……:} یعنی ان پر اﷲ تعالیٰ کی لعنت کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے درمیان باہمی عداوت اور بغض اس حد تک پہنچ گیا کہ وہ قیامت تک آپس میں ایک نہیں ہو سکتے، بلکہ وہ بہت سے فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اور اسی لعنت کا اثر ہے کہ دنیا میں امن و سلامتی کی کوششوں کے بجائے وہ دنیا میں کہیں نہ کہیں لڑائی کی آگ بھڑکائے رکھتے ہیں، مگر وہ جب بھی یہ آگ بھڑکاتے ہیں تو اﷲ تعالیٰ اسے بجھا دیتا ہے۔ ان کی ساری تگ و دو دنیا میں فساد پھیلانے کی ہے، جبکہ اﷲ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتا۔ یہودیوں کی تاریخ اور ان کے موجودہ حالات جاننے والا ہر شخص جانتا ہے کہ کس طرح ہر لڑائی کے پیچھے یہودیوں کا خفیہ ہاتھ ہوتا ہے، یہ تو اﷲ کا فضل ہے کہ وہ ان کے منصوبے پورے نہیں ہونے دیتا۔ افسوس! اب مسلمانوں کے اکثر علماء و عوام کا بھی تقریباً یہی حال ہے کہ انھوں نے اﷲ کے دین پر عمل چھوڑ رکھا ہے، بلکہ جب بھی موقع ملتا ہے اسلام کے کسی نہ کسی حکم سے انکار یا اس کی گستاخی سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ یہ یہودیانہ خصلت ہے جس کی وجہ سے مسلمان ملکوں کے مالک ہو کر بھی کفار کے محکوم ہیں اور ان برکات سے محروم ہیں جو کتاب و سنت پر عمل کرنے اور برائیوں کو روکنے کے لیے جہاد کرنے کی صورت میں انھیں حاصل ہوتیں۔
← پچھلی آیت (63) پوری سورۃ اگلی آیت (65) →