بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الحج
سورۃ الحج — 78 آیات — صفحہ 2 از 2
قرآن کریم Surah 22
وَ الَّذِیۡنَ سَعَوۡا فِیۡۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیۡنَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ ﴿۵۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے وہ دوزخ کے یار ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ ہماری نشانیوں کو پست کرنے کے درپے رہتے ہیں وہی دوزخی ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو کوشش کرتے ہیں ہماری آیتوں میں ہار جیت کے ارادہ سے وہ جہنمی ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ ہماری آیتوں کے بارے میں (ہمیں) عاجز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہی لوگ (دوزخی) ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کے بارے میں کوشش کی، اس حال میں کہ نیچا دکھانے والے ہیں، وہی بھڑکتی آگ والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اطاعت الٰہی سے روکنے والوں کا حشر ٭٭

چونکہ کفار عذاب مانگا کرتے تھے اور ان کی جلدی مچاتے رہتے تھے ان کے جواب میں اعلان کرایا جا رہا ہے کہ ’ لوگو! میں تو اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ تمہیں رب کے عذابوں سے جو تمہارے آگے ہیں چوکنا کر دوں، تمہارا حساب میرے ذمے نہیں۔ عذاب اللہ کے بس میں ہے چاہے اب لائے چاہے دیر سے لائے۔ مجھے کیا معلوم کہ تم میں کس کی قسمت میں ہدایت ہے اور کون اللہ کی رحمت سے محروم رہنے والا ہے چاہت اللہ کی ہی پوری ہونی ہے حکومت اسی کے ہاتھ ہے مختار اور کرتا دھرتا وہی ہے «لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ» ۱؎ [13-الرعد:41] ‏‏‏‏ ’ کسی کو اس کے سامنے چوں چرا کی مجال نہیں وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے ‘۔ میری حیثیت تو صرف ایک آگاہ کرنے والے کی ہے ‘۔ جن کے دلوں میں یقین و ایمان ہے اور اس کی شہادت ان کے اعمال سے بھی ثابت ہے۔ ان کے کل گناہ معافی کے لائق ہیں اور ان کی کل نیکیاں قدردانی کے قابل ہیں۔ رزق کریم سے مراد جنت ہے۔ جو لوگ اوروں کو بھی اللہ کی راہ سے اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روکتے ہیں وہ جہنمی ہیں، سخت عذابوں اور تیز آگ کے ایندھن ہیں، اللہ ہمیں بچائے۔ اور آیت میں ہے کہ «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88] ‏‏‏‏ ’ ایسے کفار کو ان کے فساد کے بدلے عذاب پر عذاب ہیں ‘۔
51۔ 1 مُعٰجِزِیْنَ کا مطلب ہے یہ گمان کرتے ہوئے کہ ہمیں عاجز کردیں گے، تھکا دیں گے اور ہم ان کی گرفت کرنے پر قادر نہیں ہو سکیں گے۔ اس لئے کہ وہ بعث بعد الموت اور حساب کتاب کے منکر تھے۔
(آیت 51){ وَ الَّذِيْنَ سَعَوْا فِيْۤ اٰيٰتِنَا …: ” مُعٰجِزِيْنَ “ } باب مفاعلہ سے اسم فاعل ہے، مقابلے میں عاجز کر دینے والے، نیچا دکھانے والے۔ یہ نذارت یعنی ڈرانے کی آیت ہے، یعنی جن لوگوں کی کوشش ہے کہ ہماری آیات کا مقابلہ کرتے ہوئے ہمیں نیچا دکھا دیں یا عاجز کر دیں، کبھی انھیں جھوٹا کہتے ہیں، کبھی جادو کہتے ہیں، کبھی کہانت، کبھی شعر اور کبھی پہلے لوگوں کی فرضی کہانیاں، تاکہ لوگوں کو ان پر ایمان لانے سے روکیں، تو یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، حتیٰ کہ ان کا لقب ہی {” اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ “} (بھڑکتی ہوئی آگ والے لوگ) ہے۔
وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤی اَلۡقَی الشَّیۡطٰنُ فِیۡۤ اُمۡنِیَّتِہٖ ۚ فَیَنۡسَخُ اللّٰہُ مَا یُلۡقِی الشَّیۡطٰنُ ثُمَّ یُحۡکِمُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿ۙ۵۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اے محمدؐ، تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول ایسا بھیجا ہے نہ نبی (جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ پیش آیا ہو کہ) جب اُس نے تمنّا کی، شیطان اس کی تمنّا میں خلل انداز ہو گیا اِس طرح جو کچھ بھی شیطان خلل اندازیاں کرتا ہے اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کر دیتا ہے، اللہ علیم ہے اور حکیم
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے آپ سے پہلے جس رسول اور نبی کو بھیجا اس کے ساتھ یہ ہوا کہ جب وه اپنے دل میں کوئی آرزو کرنے لگا شیطان نے اس کی آرزو میں کچھ ملا دیا، پس شیطان کی ملاوٹ کو اللہ تعالیٰ دور کر دیتا ہے پھر اپنی باتیں پکی کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دانا اور باحکمت ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول یا نبی بھیجے سب پر کبھی یہ واقعہ گزرا ہے کہ جب انہوں نے پڑھا تو شیطان نے ان کے پڑھنے میں لوگوں پر کچھ اپنی طرف سے ملادیا تو مٹا دیتا ہے اللہ اس شیطان کے ڈالے ہوئے کو پھر اللہ اپنی آیتیں پکی کردیتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور کوئی نبی نہیںبھیجا مگر یہ کہ جب اس نے (اصلاح احوال کی) آرزو کی تو شیطان نے اس کی آرزو میں خلل اندازی کی۔ پس شیطان جو خلل اندازی کرتا ہے خدا اسے مٹا دیتا ہے اور اپنی نشانیوں کو زیادہ مضبوط کر دیتا ہے اور اللہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے تجھ سے پہلے نہ کوئی رسول بھیجا اور نہ کوئی نبی مگر جب اس نے کوئی تمنا کی شیطان نے اس کی تمنا میں (خلل) ڈالا تو اللہ اس (خلل) کو جو شیطان ڈالتا ہے، مٹادیتا ہے، پھر اللہ اپنی آیات کو پختہ کر دیتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطان کا تصرف غلط ہے ٭٭

یہاں پر اکثر مفسرین نے غرانیق کا قصہ نقل کیا ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کی وجہ سے اکثر مہاجرین حبش یہ سمجھ کر کہ مشرکین مکہ اب مسلمان ہو گئے واپس مکے آ گئے۔ لیکن یہ روایت ہر سند سے مرسل ہے۔ کسی صحیح سند سے مسند مروی نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ چنانچہ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ شریف میں سورۃ النجم کی تلاوت فرمائی جب یہ آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ رہے تھے آیت «أَفَرَأَيْتُمْ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاة الثَّالِثَة الْأُخْرَى» ۱؎ [53-النجم:19] ‏‏‏‏ تو شیطان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر یہ الفاظ ڈالے کہ (‏‏‏‏ «تِلْكَ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ تُرْتَجَى» ) پس مشرکین خوش ہو گئے کہ آج تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی جو اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں کی۔ چنانچہ ادھر حضور نے سجدہ کیا ادھر وہ سب بھی سجدے میں گر پڑے اس پر یہ آیت اتری «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ» } ۱؎ [22-الحج:52] ‏‏‏‏ الخ، اسے ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے بھی روایت کیا ہے یہ مرسل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:25331:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ مسند بزار میں بھی اس کے ذکر کے بعد ہے کہ صرف اسی سند سے ہی یہ متصلاً مروی ہے۔ صرف امیہ بن خالد ہی اسے وصل کرتے ہیں وہ مشہور ثقہ ہیں۔ یہ صرف طریق کلبی سے ہی مروی ہے۔ [ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم نے اسے دو سندوں سے لیا ہے لیکن دونوں مرسل ہیں، ابن جریر میں بھی مرسل ہے۔

قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آ گئی اور شیطان نے آپ کی زبان پر ڈالا (‏‏‏‏ «وَإِنَّ شَفَاعَتهَا لَتُرْتَجَى وَإِنَّهَا لَمَعَ الْغَرَانِيق الْعُلَى» ) نکلوادیا۔ مشرکین نے ان لفظوں کو پکڑ لیا اور شیطان نے یہ بات پھیلا دی۔ اس پر یہ آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ» ۱؎ [22-الحج:52] ‏‏‏‏ اتری اور اسے ذلیل ہونا پڑا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { سورۃ النجم نازل ہوئی اور مشرکین کہہ رہے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے معبودوں کا اچھے لفظوں میں ذکر کرے تو ہم اسے اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑیں مگر اس کا تو یہ حال ہے کہ یہود ونصاری اور جو لوگ اس کے مخالف ہیں اس سب سے زیادہ گالیوں اور برائی سے ہمارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم پر سخت مصائب توڑے جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ہدایت کی لالچ تھی جب سورۃ النجم کی تلاوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع کی اور «أَلَكُمُ الذَّكَرُ‌ وَلَهُ الْأُنثَىٰ» ۱؎ [53-النجم:21] ‏‏‏‏ تک پڑھا تو، شیطان نے بتوں کے ذکر کے وقت یہ کلمات ڈال دئیے (‏‏‏‏ «وَإِنَّهُنَّ لَهُنَّ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ لَهِيَ الَّتِي تُرْتَجَى» ) یہ شیطان کی مقفی عبارت تھی۔ ہر مشرک کے دل میں یہ کلمے بیٹھ گئے اور ایک ایک کو یاد ہو گئے یہاں تک کہ یہ مشہور ہو گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ کے خاتمے پر سجدہ کیا تو سارے مسلمان اور مشرکین بھی سجدے میں گر پڑے، ہاں ولید بن مغیرہ چونکہ بہت ہی بوڑھا تھا اس لیے اس نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر اونچی لے جا کر اس کو اپنے ماتھے سے لگا لیا۔ اب ہر ایک کو تعجب معلوم ہونے لگا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں فریق سجدے میں شامل تھے۔ مسلمانوں کو تعجب تھا کہ یہ لوگ ایمان تو لائے نہیں، یقین نہیں، پھر ہمارے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے پر سجدہ انہوں کیسے کیا؟ شیطان نے جو الفاظ مشرکوں کے کانوں میں پھونکے تھے وہ مسلمانوں نے سنے ہی نہ تھے ادھر ان کے دل خوش ہو رہے تھے کیونکہ شیطان نے اس طرح آواز میں آواز ملائی کہ مشرکین اس میں کوئی تمیز ہی نہ کر سکتے تھے }۔

وہ تو سب کو اسی یقین پر پکا کر چکا تھا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سورت کی ان دونوں آیتوں کو تلاوت فرمایا ہے۔ پس دراصل مشرکین کا سجدہ اپنے کو تھا۔ شیطان نے اس واقعہ کو اتنا پھیلا دیا کہ مہاجرین حبشہ کے کانوں میں بھی یہ بات پہنچی۔ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب سنا کہ اہل مکہ مسلمان ہو گئے ہیں بلکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور ولید بن مغیرہ سجدہ نہ کرسکا تو اس نے مٹی کی ایک مٹھی اٹھا کر اس پر سرٹکالیا۔ مسلمان اب پورے امن اور اطمینان سے ہیں تو انہوں نے وہاں سے واپسی کی ٹھانی اور خوشی خوشی مکے پہنچے۔ ان کے پہنچنے سے پہلے شیطان کے ان الفاظ کی قلعی کھل چکی تھی اللہ نے ان الفاظ کو ہٹا دیا تھا اور اپنا کلام محفوظ کر دیا تھا یہاں مشرکین کی آتش عداوت اور بھڑک اٹھی تھی اور انہوں نے مسلمانوں پر نئے مصائب کے بادل برسانے شروع کردئے تھے یہ روایت بھی مرسل ہے۔ بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی یہ روایت ہے امام محمد ابن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ بھی اسے اپنی سیرت میں لائے ہیں لیکن یہ سندیں مرسلات اور منقطعات ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

امام بغوی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں یہ سب کچھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کے کلام سے اسی طرح کی روایتیں وارد کی ہیں۔ پھر خود ہی ایک سوال وارد کیا ہے کہ ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچاؤ کا ذمہ دار محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے تو ایسی بات کیسے واقع ہوگئی۔‏‏‏‏“ پھر بہت سے جواب دئے ہیں جن میں ایک لطیف جواب یہ بھی ہے کہ شیطان نے یہ الفاظ لوگوں کے کانوں میں ڈالے اور انہیں وہم ڈالا کہ یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے ہیں حقیقت میں ایسا نہ تھا یہ صرف شیطانی حرکت تھی نہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز۔ ۱؎ [نصب المجانيق لنسف قصة الغرانيق الألباني:0000،قال الشيخ الألباني:باطل] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور بھی اسی قسم کے بہت سے جواب متکلمین نے دئے ہیں۔ قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ نے بھی شفاء میں اسے چھیڑا ہے اور ان کے جواب کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ کا اپنا فرمان اس بات کا ثبوت ہے کہ شیطان کا تصرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ناممکن ہے۔ مگر جب کہ وہ آرزو کرتا ہے الخ۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی فرمائی گئی ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر پریشان خاطر نہ ہوں اگلے نبیوں رسولوں علیہم السلام پر بھی ایسے اتفاقات آئے ‘۔ بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { اس کی آرزو میں جب نبی بات کرتا ہے تو شیطان اس کی بات میں بول شامل کر دیتا ہے پس شیطان کے ڈالے ہوئے کو باطل کر کے پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم کرتا ہے }۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کا معنی «قَالَ» کے ہیں «أُمْنِيَّتِهِ» کے معنی «قَرَائَتِهِ» کے ہیں «إِلَّا أَمَانِيَّ» کا مطلب یہ ہے کہ پڑھتے ہیں لکھتے نہیں۔ بغوی رحمتہ اللہ علیہ اور اکثر مفسیرین کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کے معنی «تَلَا» کے ہیں یعنی جب کتاب اللہ پڑھتا ہے تو شیطان اس کی تلاوت میں کچھ ڈال دیتا ہے۔ چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مدح میں شاعر نے کہا ہے۔ شعر «تَمَنَّى كِتَابَ اللَّهِ أَوَّلَ لَيْلَةٍ وَآخِرَهَا لَاقَى حِمَامَ الْمَقَادِرِ» ۔ یہاں بھی لفظ «تَمَنَّىٰ» ‏‏‏‏پڑھنے کے معنی میں ہے۔

ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں یہ قول بہت قریب کی تاویل والا ہے۔ نسخ کے حقیقی معنی لغتاً ازلہ اور رفع کے معنی ہٹانے اور مٹادینے کے ہیں یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ شیطان کے القا کو باطل کر دیتا ہے۔ جبرائیل علیہ السلام بحکم الٰہی شیطان کی زیادتی کو مٹا دیتے ہیں اور اللہ کی آیتیں مضبوط رہ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام کاموں کا جاننے والا ہے۔ کوئی مخفی بات بھی کوئی راز بھی اس پر پوشیدہ نہیں، وہ حکیم ہے اس کا کام الحکمت سے خالی نہیں۔ یہ اس لیے کہ جن کے دلوں میں شک، شرک، کفر اور نفاق ہے، ان کے لیے یہ فتنہ بن جائے۔ چنانچہ مشرکین نے اسے اللہ کی طرف سے مان لیا حالانکہ وہ الفاظ شیطانی تھے۔ لہٰذا بیمار دل والوں سے مراد منافق ہیں اور سخت دل والوں سے مراد مشرک ہیں۔ یہ بھی قول ہے کہ مراد یہود ہیں۔ ظالم حق سے بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ سیدھے راستے سے گم ہو گئے ہیں اور جنہیں صحیح علم دیا گیا ہے جس سے وہ حق و باطل میں تمیز کرلیتے ہیں انہیں اس بات کے بالکل حق ہونے کا اور منجانب اللہ ہونے کا صحیح یقین ہو جائے اور وہ کامل الایمان بن جائیں اور سمجھ لیں کہ بیشک یہ اللہ کا کلام ہے جبھی تو اس قدر اس کی حفاظت دیانت اور نگہداشت ہے۔ کہ کسی جانب سے کسی طریق سے اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہو سکتی۔ حکیم وحمید اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے پس ان کے دل تصدیق سے پر ہو جاتے ہیں، جھک کر رغبت سے متوجہ ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایمان داروں کی رہبری دنیا میں حق اور ہدایت کی طرف کرتا ہے صراط مستقیم سجھا دیتا ہے اور آخرت میں عذابوں سے بچا کر بلند درجوں میں پہنچاتا ہے اور نعمتیں نصیب فرماتا ہے۔
52۔ 1 تمنی کے ایک معنی ہیں آرزو کی یا دل میں خیال آیا۔ دوسرے معنی ہیں پڑھایا تلاوت کی۔ اسی اعتبار سے امنیۃ کا ترجمہ آرزو، خیال یا تلاوت ہوگا پہلے معنی کے اعتبار سے مفہوم ہوگا اس کی آرزو میں شیطان نے رکاوٹیں ڈالیں تاکہ وہ پوری نہ ہوں۔ اور رسول و نبی کی آرزو یہی ہوتی ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ ایمان لے آئیں، شیطان رکاوٹیں ڈال کر لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ایمان سے دور رکھنا چاہتا ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مفہوم ہوگا کہ جب بھی اللہ کا رسول یا نبی وحی شدہ کلام پڑھتا اور اس کی تلاوت کرتا ہے۔ تو شیطان اس کی قرأت و تلاوت میں اپنی باتیں ملانے کی کوشش کرتا ہے یا اس کی بابت لوگوں کے دلوں میں شبہ ڈالتا اور میں میخ نکالتا ہے۔ اللہ تعالیٰ شیطان کی رکاوٹوں کو دور فرما کر یا تلاوت میں ملاوٹ کی کوشش ناکام فرما کر شیطان کے پیدا کردہ شکوک و شبہات کا ازالہ فرما کر اپنی بات کو یا اپنی آیات کو محکم (پکا) فرما دیتا ہے۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ شیطان کی یہ کارستانیاں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی نہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو رسول اور نبی آئے، سب کے ساتھ یہی کچھ کرتا آیا ہے۔ تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائیں نہیں شیطان کی ان شرارتوں اور سازشوں سے جس طرح ہم پچھلے انبیاء (علیہم السلام) کو بچاتے رہے ہیں یقینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی محفوظ رہیں گے اور شیطان کے علی الرغم اللہ تعالیٰ اپنی بات کو پکا کرکے رہے گا۔ یہاں بعض مفسرین نے غرانیق علی کا قصہ بیان کیا ہے جو محققین کے نزدیک ثابت ہی نہیں ہے اس لیے اسے یہاں پیش کرنے کی ضرورت ہی سرے سے نہیں سمجھی کی گئی ہے۔
(آیت 52) ➊ { وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِيٍّ …:} لغت میں {”تَمَنّٰي يَتَمَنّٰي تَمَنِّيًا“} کا معنی تمنا، آرزو اور خواہش کرنا بھی ہے اور تلاوت کرنا اور پڑھنا بھی ہے، سورۂ بقرہ کی آیت (۷۸): «{ وَ مِنْهُمْ اُمِّيُّوْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِيَّ }» میں {”اَمَانِيَّ”أُمْنِيَّةٌ“} کی جمع ہے، جس کا معنی آرزو بھی ہے اور تلاوت کرنا بھی۔ پہلے معنی کی رو سے مطلب یہ ہے کہ آپ سے پہلے ہم نے جو بھی رسول یا نبی بھیجا شیطان اس کی ہر آرزو اور خواہش کے راستے میں رکاوٹیں ڈالتا رہا۔ ظاہر ہے پیغمبر کی آرزو لوگوں کے ایمان قبول کرنے اور دین حق کے غلبے کے سوا کیا ہو سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے انبیاء و رسل کی ہر کوشش کو شیطان ناکام کرنے کی کوشش کرتا رہا، مگر اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے آنے والی تمام رکاوٹوں کو دور کرکے اپنی آیات کو محکم اور اپنے دین کو غالب کرتا رہا، جیسا کہ فرمایا: «{ هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ }» [ التوبۃ: ۳۳ ] ”وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے۔“ دوسرے معنی کی رو سے مطلب یہ ہے کہ آپ سے پہلے بھی رسول یا نبی آیا، جب وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کرتا تو شیطان اس کے سننے میں رکاوٹ ڈالتا، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ }» [ حٰمٓ السجدۃ: ۲۶ ] ”اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، اس قرآن کو مت سنو اور اس میں شور کرو، تاکہ تم غالب رہو۔“ مگر اللہ تعالیٰ اس کی رکاوٹوں کو دور کرکے اپنی آیات کو محکم کر دیتا۔ یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ پیغمبروں کے آیات کی تلاوت کے وقت شیطان ان آیات کے معانی کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات ڈال دیتا جنھیں اللہ تعالیٰ بعد میں وضاحت کرکے دور کر دیتا، جیسا کہ سورۂ نحل کی آیت (۱۱۵): «{ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ }» میں شبہ ڈالا کہ دیکھو اپنا مارا ہوا حلال کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے مارے ہوئے کو حرام کہتے ہیں۔ سورۂ انبیاء کی آیت (۹۸): «{ اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ }» میں شبہ ڈالا کہ پھر تو مسیح علیہ السلام بھی نعوذ باللہ جہنم میں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کی وضاحت فرما کر شیطان کے ڈالے ہوئے شبہے کو دور فرما دیا اور اپنی آیات کو محکم کر دیا۔ ➋ { وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ ان سب شیاطین کو خوب جانتا ہے جو انبیاء کی تمناؤں کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں، یا انبیاء کے آیات کی تلاوت کے وقت لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات ڈالتے ہیں اور ان شکوک و شبہات کو اور ان کے دفاع کے طریقوں کو بھی خوب جانتا ہے اور وہ کمال حکمت والا بھی ہے جس کے پیش نظر اس نے شیاطین کو مہلت دے رکھی ہے کہ خود بھی گمراہ رہیں اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں۔ ➌ بعض مفسرین نے اس آیت کے شان نزول میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۂ نجم کی تلاوت کر رہے تھے، جب آپ آیت (۲۰): «{ وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى }» پر پہنچے تو لا شعوری کے عالم میں شیطان نے آپ کی زبان پر یہ کلمات جاری کر دیے، یا آپ کے لہجے اور آواز میں پڑھ دیے: {” تِلْكَ الْغَرَانِيْقُ الْعُلٰي وَ إِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجَي“} ”یہ عالی مقام دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے۔“ اس پر کفار قریش بہت خوش ہوئے کہ آج ہمارے بتوں کی بھی تعریف ہوئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت غم لاحق ہوا، چنانچہ سورۂ حج کی یہ آیت اتری اور آپ کو تسلی دی گئی کہ پہلے انبیاء کی وحی میں بھی شیطان اس قسم کی دخل اندازیاں کرتا رہا ہے، مگر شیطان کے یہ حربے کامیاب نہیں ہوتے وغیرہ۔ یہ قصہ ان آیات کے صریح متصادم ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ پیغمبروں کے چاروں طرف زبردست پہرا اس وقت تک رکھتا ہے جب تک وہ اللہ کے پیغامات لوگوں تک نہ پہنچا دیں (اتنے کڑے پہرے میں ممکن ہی نہیں کہ شیطان کسی طرح بھی اثر انداز ہو سکے)۔ دیکھیے سورۂ جن کی آخری آیات {” عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ “} سے آخر سورت تک۔ محقق علماء نے اس قصے کی پر زور تردید کی ہے۔ بیہقی رحمہ اللہ کہتے ہیں، یہ قصہ من گھڑت ہے۔ ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہ قصہ زنادقہ (ملحد و بے دین لوگوں) نے گھڑا ہے۔ قاضی عیاض نے ”الشفاء“ میں اس کی تردید کی ہے۔ رازی نے فرمایا کہ یہ قصہ باطل ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تین مرسل روایات کی بنا پر اس واقعے کا کچھ اصل ثابت کرنے اور اس کی توجیہ کی کوشش کی ہے مگر محدث البانی رحمہ اللہ نے اپنے رسالہ {”نَصْبُ الْمَجَانِيْقِ لِنَسْفِ قِصَّةِ الْغَرَانِيْقِ“} میں مضبوط علمی بحث کے ساتھ اس قصے کا بالکل بے اصل ہونا ثابت کیا ہے اور قدیم و جدید محدثین و فقہاء کا حوالہ دیا ہے، جنھوں نے اس واقعہ کی دلائل کے ساتھ تردید فرمائی۔
لِّیَجۡعَلَ مَا یُلۡقِی الشَّیۡطٰنُ فِتۡنَۃً لِّلَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ وَّ الۡقَاسِیَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ لَفِیۡ شِقَاقٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿ۙ۵۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(وہ اس لیے ایسا ہونے دیتا ہے) تاکہ شیطان کی ڈالی ہُوئی خرابی کو فتنہ بنا دے اُن لوگوں کے لیے جن کے دلوں کو (نفاق کا) روگ لگا ہُوا ہے اور جن کے دل کھوٹے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ عناد میں بہت دور نکل گئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اس لئے کہ شیطانی ملاوٹ کو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ بنا دے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں۔ بیشک ﻇالم لوگ گہری مخالفت میں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تاکہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو فتنہ کردے ان کے لیے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بیشک ستمگار دُھرکے (پرلے درجے کے) جھگڑالو ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(یہ سب اس لئے ہے) تاکہ اللہ شیطانوں کی خلل اندازی کو ان لوگوں کیلئے آزمائش کا ذریعہ بنائے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں بےشک ظالم لوگ بڑی گہری مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ وہ اس (خلل) کو جو شیطان ڈالتا ہے، ان لوگوں کے لیے آزمائش بنائے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بے شک ظالم لوگ یقینا دور کی مخالفت میں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطان کا تصرف غلط ہے ٭٭

یہاں پر اکثر مفسرین نے غرانیق کا قصہ نقل کیا ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کی وجہ سے اکثر مہاجرین حبش یہ سمجھ کر کہ مشرکین مکہ اب مسلمان ہو گئے واپس مکے آ گئے۔ لیکن یہ روایت ہر سند سے مرسل ہے۔ کسی صحیح سند سے مسند مروی نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ چنانچہ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ شریف میں سورۃ النجم کی تلاوت فرمائی جب یہ آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ رہے تھے آیت «أَفَرَأَيْتُمْ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاة الثَّالِثَة الْأُخْرَى» ۱؎ [53-النجم:19] ‏‏‏‏ تو شیطان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر یہ الفاظ ڈالے کہ (‏‏‏‏ «تِلْكَ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ تُرْتَجَى» ) پس مشرکین خوش ہو گئے کہ آج تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی جو اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں کی۔ چنانچہ ادھر حضور نے سجدہ کیا ادھر وہ سب بھی سجدے میں گر پڑے اس پر یہ آیت اتری «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ» } ۱؎ [22-الحج:52] ‏‏‏‏ الخ، اسے ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے بھی روایت کیا ہے یہ مرسل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:25331:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ مسند بزار میں بھی اس کے ذکر کے بعد ہے کہ صرف اسی سند سے ہی یہ متصلاً مروی ہے۔ صرف امیہ بن خالد ہی اسے وصل کرتے ہیں وہ مشہور ثقہ ہیں۔ یہ صرف طریق کلبی سے ہی مروی ہے۔ [ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم نے اسے دو سندوں سے لیا ہے لیکن دونوں مرسل ہیں، ابن جریر میں بھی مرسل ہے۔

قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آ گئی اور شیطان نے آپ کی زبان پر ڈالا (‏‏‏‏ «وَإِنَّ شَفَاعَتهَا لَتُرْتَجَى وَإِنَّهَا لَمَعَ الْغَرَانِيق الْعُلَى» ) نکلوادیا۔ مشرکین نے ان لفظوں کو پکڑ لیا اور شیطان نے یہ بات پھیلا دی۔ اس پر یہ آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ» ۱؎ [22-الحج:52] ‏‏‏‏ اتری اور اسے ذلیل ہونا پڑا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { سورۃ النجم نازل ہوئی اور مشرکین کہہ رہے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے معبودوں کا اچھے لفظوں میں ذکر کرے تو ہم اسے اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑیں مگر اس کا تو یہ حال ہے کہ یہود ونصاری اور جو لوگ اس کے مخالف ہیں اس سب سے زیادہ گالیوں اور برائی سے ہمارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم پر سخت مصائب توڑے جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ہدایت کی لالچ تھی جب سورۃ النجم کی تلاوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع کی اور «أَلَكُمُ الذَّكَرُ‌ وَلَهُ الْأُنثَىٰ» ۱؎ [53-النجم:21] ‏‏‏‏ تک پڑھا تو، شیطان نے بتوں کے ذکر کے وقت یہ کلمات ڈال دئیے (‏‏‏‏ «وَإِنَّهُنَّ لَهُنَّ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ لَهِيَ الَّتِي تُرْتَجَى» ) یہ شیطان کی مقفی عبارت تھی۔ ہر مشرک کے دل میں یہ کلمے بیٹھ گئے اور ایک ایک کو یاد ہو گئے یہاں تک کہ یہ مشہور ہو گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ کے خاتمے پر سجدہ کیا تو سارے مسلمان اور مشرکین بھی سجدے میں گر پڑے، ہاں ولید بن مغیرہ چونکہ بہت ہی بوڑھا تھا اس لیے اس نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر اونچی لے جا کر اس کو اپنے ماتھے سے لگا لیا۔ اب ہر ایک کو تعجب معلوم ہونے لگا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں فریق سجدے میں شامل تھے۔ مسلمانوں کو تعجب تھا کہ یہ لوگ ایمان تو لائے نہیں، یقین نہیں، پھر ہمارے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے پر سجدہ انہوں کیسے کیا؟ شیطان نے جو الفاظ مشرکوں کے کانوں میں پھونکے تھے وہ مسلمانوں نے سنے ہی نہ تھے ادھر ان کے دل خوش ہو رہے تھے کیونکہ شیطان نے اس طرح آواز میں آواز ملائی کہ مشرکین اس میں کوئی تمیز ہی نہ کر سکتے تھے }۔

وہ تو سب کو اسی یقین پر پکا کر چکا تھا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سورت کی ان دونوں آیتوں کو تلاوت فرمایا ہے۔ پس دراصل مشرکین کا سجدہ اپنے کو تھا۔ شیطان نے اس واقعہ کو اتنا پھیلا دیا کہ مہاجرین حبشہ کے کانوں میں بھی یہ بات پہنچی۔ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب سنا کہ اہل مکہ مسلمان ہو گئے ہیں بلکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور ولید بن مغیرہ سجدہ نہ کرسکا تو اس نے مٹی کی ایک مٹھی اٹھا کر اس پر سرٹکالیا۔ مسلمان اب پورے امن اور اطمینان سے ہیں تو انہوں نے وہاں سے واپسی کی ٹھانی اور خوشی خوشی مکے پہنچے۔ ان کے پہنچنے سے پہلے شیطان کے ان الفاظ کی قلعی کھل چکی تھی اللہ نے ان الفاظ کو ہٹا دیا تھا اور اپنا کلام محفوظ کر دیا تھا یہاں مشرکین کی آتش عداوت اور بھڑک اٹھی تھی اور انہوں نے مسلمانوں پر نئے مصائب کے بادل برسانے شروع کردئے تھے یہ روایت بھی مرسل ہے۔ بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی یہ روایت ہے امام محمد ابن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ بھی اسے اپنی سیرت میں لائے ہیں لیکن یہ سندیں مرسلات اور منقطعات ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

امام بغوی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں یہ سب کچھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کے کلام سے اسی طرح کی روایتیں وارد کی ہیں۔ پھر خود ہی ایک سوال وارد کیا ہے کہ ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچاؤ کا ذمہ دار محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے تو ایسی بات کیسے واقع ہوگئی۔‏‏‏‏“ پھر بہت سے جواب دئے ہیں جن میں ایک لطیف جواب یہ بھی ہے کہ شیطان نے یہ الفاظ لوگوں کے کانوں میں ڈالے اور انہیں وہم ڈالا کہ یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے ہیں حقیقت میں ایسا نہ تھا یہ صرف شیطانی حرکت تھی نہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز۔ ۱؎ [نصب المجانيق لنسف قصة الغرانيق الألباني:0000،قال الشيخ الألباني:باطل] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور بھی اسی قسم کے بہت سے جواب متکلمین نے دئے ہیں۔ قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ نے بھی شفاء میں اسے چھیڑا ہے اور ان کے جواب کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ کا اپنا فرمان اس بات کا ثبوت ہے کہ شیطان کا تصرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ناممکن ہے۔ مگر جب کہ وہ آرزو کرتا ہے الخ۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی فرمائی گئی ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر پریشان خاطر نہ ہوں اگلے نبیوں رسولوں علیہم السلام پر بھی ایسے اتفاقات آئے ‘۔ بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { اس کی آرزو میں جب نبی بات کرتا ہے تو شیطان اس کی بات میں بول شامل کر دیتا ہے پس شیطان کے ڈالے ہوئے کو باطل کر کے پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم کرتا ہے }۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کا معنی «قَالَ» کے ہیں «أُمْنِيَّتِهِ» کے معنی «قَرَائَتِهِ» کے ہیں «إِلَّا أَمَانِيَّ» کا مطلب یہ ہے کہ پڑھتے ہیں لکھتے نہیں۔ بغوی رحمتہ اللہ علیہ اور اکثر مفسیرین کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کے معنی «تَلَا» کے ہیں یعنی جب کتاب اللہ پڑھتا ہے تو شیطان اس کی تلاوت میں کچھ ڈال دیتا ہے۔ چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مدح میں شاعر نے کہا ہے۔ شعر «تَمَنَّى كِتَابَ اللَّهِ أَوَّلَ لَيْلَةٍ وَآخِرَهَا لَاقَى حِمَامَ الْمَقَادِرِ» ۔ یہاں بھی لفظ «تَمَنَّىٰ» ‏‏‏‏پڑھنے کے معنی میں ہے۔

ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں یہ قول بہت قریب کی تاویل والا ہے۔ نسخ کے حقیقی معنی لغتاً ازلہ اور رفع کے معنی ہٹانے اور مٹادینے کے ہیں یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ شیطان کے القا کو باطل کر دیتا ہے۔ جبرائیل علیہ السلام بحکم الٰہی شیطان کی زیادتی کو مٹا دیتے ہیں اور اللہ کی آیتیں مضبوط رہ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام کاموں کا جاننے والا ہے۔ کوئی مخفی بات بھی کوئی راز بھی اس پر پوشیدہ نہیں، وہ حکیم ہے اس کا کام الحکمت سے خالی نہیں۔ یہ اس لیے کہ جن کے دلوں میں شک، شرک، کفر اور نفاق ہے، ان کے لیے یہ فتنہ بن جائے۔ چنانچہ مشرکین نے اسے اللہ کی طرف سے مان لیا حالانکہ وہ الفاظ شیطانی تھے۔ لہٰذا بیمار دل والوں سے مراد منافق ہیں اور سخت دل والوں سے مراد مشرک ہیں۔ یہ بھی قول ہے کہ مراد یہود ہیں۔ ظالم حق سے بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ سیدھے راستے سے گم ہو گئے ہیں اور جنہیں صحیح علم دیا گیا ہے جس سے وہ حق و باطل میں تمیز کرلیتے ہیں انہیں اس بات کے بالکل حق ہونے کا اور منجانب اللہ ہونے کا صحیح یقین ہو جائے اور وہ کامل الایمان بن جائیں اور سمجھ لیں کہ بیشک یہ اللہ کا کلام ہے جبھی تو اس قدر اس کی حفاظت دیانت اور نگہداشت ہے۔ کہ کسی جانب سے کسی طریق سے اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہو سکتی۔ حکیم وحمید اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے پس ان کے دل تصدیق سے پر ہو جاتے ہیں، جھک کر رغبت سے متوجہ ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایمان داروں کی رہبری دنیا میں حق اور ہدایت کی طرف کرتا ہے صراط مستقیم سجھا دیتا ہے اور آخرت میں عذابوں سے بچا کر بلند درجوں میں پہنچاتا ہے اور نعمتیں نصیب فرماتا ہے۔
53۔ 1 یعنی شیطان یہ حرکتیں اس لئے کرتا ہے کہ لوگوں کو گمراہ کرے اور اس کے جال میں لوگ پھنس جاتے ہیں جن کے دلوں میں کفر و نفاق کا روگ ہوتا ہے گناہ کرکے ان کے دل سخت ہوچکے ہوتے ہیں۔
(آیت 54،53) ➊ { لِيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطٰنُ فِتْنَةً …: ” شِقَاقٍ“} باب مفاعلہ کا مصدر ہے، جیسے {”قِتَالٌ“} ہے، مراد آمنے سامنے مقابلہ ہے، جس میں ایک فریق ایک شق میں ہوتا ہے اور دوسرا فریق دوسری شق میں۔ اس آیت میں شیطان کو انبیاء کی دعوت اور آیاتِ الٰہی میں شکوک و شبہات ڈالنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی فرصت دینے کی حکمت بیان فرمائی ہے کہ شیاطین کو جو اس طرح کھل کھیلنے کا موقع دیا جاتا ہے تو اس سے مقصود ابتلا و آزمائش کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے، تاکہ اس کے نتیجے میں اہل باطل اپنا من بھاتا کھا جا پا کر اہل باطل کے علمبرداروں کے ساتھ ہو جائیں اور اہل حق باطل والوں کے تمام شور و غوغا کے باوجود راہ حق پر مزید پختہ ہو جائیں، کیونکہ حق کے مقابلے میں جتنا زیادہ جھگڑا کیا جائے اتنا ہی اس کے دلائل مزید نکھرتے اور واضح ہوتے ہیں اور جن لوگوں کو علم کی روشنی ملی ہوتی ہے ان کو یقین ہو جاتا ہے کہ آپ کو رب کی طرف سے ملنے والا علم کتاب بالکل حق ہے، پھر ان کا یہ یقین ان کے ایمان کو پختہ کرنے اور اس میں اضافے کا باعث بنتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کے دل اپنے رب کے لیے عاجزی اختیار کرتے ہیں اور پورے اطمینان کے ساتھ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ ➋ {” لِلَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ “} سے مراد منافقین ہیں اور {” وَ الْقَاسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ “} سے مراد پکے کافر ہیں کہ جن کے دل کفر و عناد کی وجہ سے سخت ہو چکے ہیں۔ ➌ { ” لِيَجْعَلَ “} کی ضمیر، {” فَيَنْسَخُ اللّٰهُ “} اور {” ثُمَّ يُحْكِمُ اللّٰهُ “} میں مذکور لفظ {” اللّٰهُ “} کی طرف جا رہی ہے۔ شیطان کی دخل اندازی اور شکوک و شبہات کو کفار و منافقین کے لیے فتنے کا باعث بنانے کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا ہے کہ وہ شیطان کے اس عمل کو کفار و منافقین کے لیے فتنہ بناتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ کی حکمت و مشیت کے مطابق ہو رہا ہے۔ کوئی مومن ہو یا کافر یا منافق ہر ایک کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور ان کے ہر فعل کا خالق بھی وہی ہے، اس لیے فتنہ بنانے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کر دی ہے۔ البتہ کفار و منافقین کو فتنے میں مبتلا کرنے کا باعث ان کے دلوں کے مرض نفاق کو اور ان کے دلوں کی سختی اور عناد کو قرار دیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ مَا يُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ }» [ البقرۃ: ۲۶ ] ”اور وہ اس کے ساتھ فاسقوں کے سوا کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔“ ➍ { وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ:} یعنی شیطان اور اس کے چیلے جتنے شکوک و شبہات پیدا کر لیں اور جتنے اعتراض کر لیں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی سیدھے راستے کی طرف ضرور ہی رہنمائی کر دیتا ہے، جس سے انھیں فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ فلاں بات فی الواقع وحی الٰہی ہے، وہ اس پر قائم ہو جاتے ہیں اور فلاں بات شیطان کا وسوسہ یا دھوکا ہے، سو وہ اس سے بچ جاتے ہیں۔ اس طرح انھیں دنیا و آخرت دونوں کی سعادت حاصل ہو جاتی ہے۔
وَّ لِیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ اَنَّہُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَیُؤۡمِنُوۡا بِہٖ فَتُخۡبِتَ لَہٗ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَہَادِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۵۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور علم سے بہرہ مند لوگ جان لیں کہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے اور وہ اس پر ایمان لے آئیں اور ان کے دل اس کے آگے جھک جائیں، یقیناً اللہ ایمان لانے والوں کو ہمیشہ سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس لئے بھی کہ جنہیں علم عطا فرمایا گیا ہے وه یقین کر لیں کہ یہ آپ کے رب ہی کی طرف سے سراسر حق ہی ہے پھر وه اس پر ایمان ﻻئیں اور ان کے دل اس کی طرف جھک جائیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ایمان داروں کو راه راست کی طرف رہبری کرنے واﻻ ہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس لیے کہ جان لیں وہ جن کو علم ملا ہے کہ وہ تمہارے رب کے پاس سے حق ہے تو اس پر ایمان لائیں تو جھک جائیں اس کے لیے ان کے دل، اور بیشک اللہ ایمان والوں کو سیدھی راہ چلانے والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس میں (یہ مصلحت بھی ہے) کہ وہ لوگ جنہیں علم عطا کیا گیا ہے۔ جان لیں کہ یہ (وحی) آپ کے پروردگار کی طرف سے حق ہے تاکہ وہ اس پر ایمان لائیں اور ان کے دلوں میں اس کیلئے عجز و نیاز پیدا ہو جائے۔ بےشک اللہ ایمان لانے والوں کو سیدھے راستہ تک پہنچانے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تاکہ وہ لوگ جنھیں علم دیاگیا ہے، جان لیں کہ وہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لے آئیں، پس ان کے دل اس کے لیے عاجز ہو جائیں اور بے شک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے یقینا سیدھے راستے کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطان کا تصرف غلط ہے ٭٭

یہاں پر اکثر مفسرین نے غرانیق کا قصہ نقل کیا ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کی وجہ سے اکثر مہاجرین حبش یہ سمجھ کر کہ مشرکین مکہ اب مسلمان ہو گئے واپس مکے آ گئے۔ لیکن یہ روایت ہر سند سے مرسل ہے۔ کسی صحیح سند سے مسند مروی نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ چنانچہ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ شریف میں سورۃ النجم کی تلاوت فرمائی جب یہ آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ رہے تھے آیت «أَفَرَأَيْتُمْ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاة الثَّالِثَة الْأُخْرَى» ۱؎ [53-النجم:19] ‏‏‏‏ تو شیطان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر یہ الفاظ ڈالے کہ (‏‏‏‏ «تِلْكَ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ تُرْتَجَى» ) پس مشرکین خوش ہو گئے کہ آج تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی جو اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں کی۔ چنانچہ ادھر حضور نے سجدہ کیا ادھر وہ سب بھی سجدے میں گر پڑے اس پر یہ آیت اتری «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ» } ۱؎ [22-الحج:52] ‏‏‏‏ الخ، اسے ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے بھی روایت کیا ہے یہ مرسل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:25331:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ مسند بزار میں بھی اس کے ذکر کے بعد ہے کہ صرف اسی سند سے ہی یہ متصلاً مروی ہے۔ صرف امیہ بن خالد ہی اسے وصل کرتے ہیں وہ مشہور ثقہ ہیں۔ یہ صرف طریق کلبی سے ہی مروی ہے۔ [ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم نے اسے دو سندوں سے لیا ہے لیکن دونوں مرسل ہیں، ابن جریر میں بھی مرسل ہے۔

قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آ گئی اور شیطان نے آپ کی زبان پر ڈالا (‏‏‏‏ «وَإِنَّ شَفَاعَتهَا لَتُرْتَجَى وَإِنَّهَا لَمَعَ الْغَرَانِيق الْعُلَى» ) نکلوادیا۔ مشرکین نے ان لفظوں کو پکڑ لیا اور شیطان نے یہ بات پھیلا دی۔ اس پر یہ آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ» ۱؎ [22-الحج:52] ‏‏‏‏ اتری اور اسے ذلیل ہونا پڑا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { سورۃ النجم نازل ہوئی اور مشرکین کہہ رہے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے معبودوں کا اچھے لفظوں میں ذکر کرے تو ہم اسے اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑیں مگر اس کا تو یہ حال ہے کہ یہود ونصاری اور جو لوگ اس کے مخالف ہیں اس سب سے زیادہ گالیوں اور برائی سے ہمارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم پر سخت مصائب توڑے جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ہدایت کی لالچ تھی جب سورۃ النجم کی تلاوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع کی اور «أَلَكُمُ الذَّكَرُ‌ وَلَهُ الْأُنثَىٰ» ۱؎ [53-النجم:21] ‏‏‏‏ تک پڑھا تو، شیطان نے بتوں کے ذکر کے وقت یہ کلمات ڈال دئیے (‏‏‏‏ «وَإِنَّهُنَّ لَهُنَّ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ لَهِيَ الَّتِي تُرْتَجَى» ) یہ شیطان کی مقفی عبارت تھی۔ ہر مشرک کے دل میں یہ کلمے بیٹھ گئے اور ایک ایک کو یاد ہو گئے یہاں تک کہ یہ مشہور ہو گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ کے خاتمے پر سجدہ کیا تو سارے مسلمان اور مشرکین بھی سجدے میں گر پڑے، ہاں ولید بن مغیرہ چونکہ بہت ہی بوڑھا تھا اس لیے اس نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر اونچی لے جا کر اس کو اپنے ماتھے سے لگا لیا۔ اب ہر ایک کو تعجب معلوم ہونے لگا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں فریق سجدے میں شامل تھے۔ مسلمانوں کو تعجب تھا کہ یہ لوگ ایمان تو لائے نہیں، یقین نہیں، پھر ہمارے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے پر سجدہ انہوں کیسے کیا؟ شیطان نے جو الفاظ مشرکوں کے کانوں میں پھونکے تھے وہ مسلمانوں نے سنے ہی نہ تھے ادھر ان کے دل خوش ہو رہے تھے کیونکہ شیطان نے اس طرح آواز میں آواز ملائی کہ مشرکین اس میں کوئی تمیز ہی نہ کر سکتے تھے }۔

وہ تو سب کو اسی یقین پر پکا کر چکا تھا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سورت کی ان دونوں آیتوں کو تلاوت فرمایا ہے۔ پس دراصل مشرکین کا سجدہ اپنے کو تھا۔ شیطان نے اس واقعہ کو اتنا پھیلا دیا کہ مہاجرین حبشہ کے کانوں میں بھی یہ بات پہنچی۔ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب سنا کہ اہل مکہ مسلمان ہو گئے ہیں بلکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور ولید بن مغیرہ سجدہ نہ کرسکا تو اس نے مٹی کی ایک مٹھی اٹھا کر اس پر سرٹکالیا۔ مسلمان اب پورے امن اور اطمینان سے ہیں تو انہوں نے وہاں سے واپسی کی ٹھانی اور خوشی خوشی مکے پہنچے۔ ان کے پہنچنے سے پہلے شیطان کے ان الفاظ کی قلعی کھل چکی تھی اللہ نے ان الفاظ کو ہٹا دیا تھا اور اپنا کلام محفوظ کر دیا تھا یہاں مشرکین کی آتش عداوت اور بھڑک اٹھی تھی اور انہوں نے مسلمانوں پر نئے مصائب کے بادل برسانے شروع کردئے تھے یہ روایت بھی مرسل ہے۔ بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی یہ روایت ہے امام محمد ابن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ بھی اسے اپنی سیرت میں لائے ہیں لیکن یہ سندیں مرسلات اور منقطعات ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

امام بغوی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں یہ سب کچھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کے کلام سے اسی طرح کی روایتیں وارد کی ہیں۔ پھر خود ہی ایک سوال وارد کیا ہے کہ ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچاؤ کا ذمہ دار محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے تو ایسی بات کیسے واقع ہوگئی۔‏‏‏‏“ پھر بہت سے جواب دئے ہیں جن میں ایک لطیف جواب یہ بھی ہے کہ شیطان نے یہ الفاظ لوگوں کے کانوں میں ڈالے اور انہیں وہم ڈالا کہ یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے ہیں حقیقت میں ایسا نہ تھا یہ صرف شیطانی حرکت تھی نہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز۔ ۱؎ [نصب المجانيق لنسف قصة الغرانيق الألباني:0000،قال الشيخ الألباني:باطل] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور بھی اسی قسم کے بہت سے جواب متکلمین نے دئے ہیں۔ قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ نے بھی شفاء میں اسے چھیڑا ہے اور ان کے جواب کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ کا اپنا فرمان اس بات کا ثبوت ہے کہ شیطان کا تصرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ناممکن ہے۔ مگر جب کہ وہ آرزو کرتا ہے الخ۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی فرمائی گئی ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر پریشان خاطر نہ ہوں اگلے نبیوں رسولوں علیہم السلام پر بھی ایسے اتفاقات آئے ‘۔ بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { اس کی آرزو میں جب نبی بات کرتا ہے تو شیطان اس کی بات میں بول شامل کر دیتا ہے پس شیطان کے ڈالے ہوئے کو باطل کر کے پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم کرتا ہے }۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کا معنی «قَالَ» کے ہیں «أُمْنِيَّتِهِ» کے معنی «قَرَائَتِهِ» کے ہیں «إِلَّا أَمَانِيَّ» کا مطلب یہ ہے کہ پڑھتے ہیں لکھتے نہیں۔ بغوی رحمتہ اللہ علیہ اور اکثر مفسیرین کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کے معنی «تَلَا» کے ہیں یعنی جب کتاب اللہ پڑھتا ہے تو شیطان اس کی تلاوت میں کچھ ڈال دیتا ہے۔ چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مدح میں شاعر نے کہا ہے۔ شعر «تَمَنَّى كِتَابَ اللَّهِ أَوَّلَ لَيْلَةٍ وَآخِرَهَا لَاقَى حِمَامَ الْمَقَادِرِ» ۔ یہاں بھی لفظ «تَمَنَّىٰ» ‏‏‏‏پڑھنے کے معنی میں ہے۔

ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں یہ قول بہت قریب کی تاویل والا ہے۔ نسخ کے حقیقی معنی لغتاً ازلہ اور رفع کے معنی ہٹانے اور مٹادینے کے ہیں یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ شیطان کے القا کو باطل کر دیتا ہے۔ جبرائیل علیہ السلام بحکم الٰہی شیطان کی زیادتی کو مٹا دیتے ہیں اور اللہ کی آیتیں مضبوط رہ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام کاموں کا جاننے والا ہے۔ کوئی مخفی بات بھی کوئی راز بھی اس پر پوشیدہ نہیں، وہ حکیم ہے اس کا کام الحکمت سے خالی نہیں۔ یہ اس لیے کہ جن کے دلوں میں شک، شرک، کفر اور نفاق ہے، ان کے لیے یہ فتنہ بن جائے۔ چنانچہ مشرکین نے اسے اللہ کی طرف سے مان لیا حالانکہ وہ الفاظ شیطانی تھے۔ لہٰذا بیمار دل والوں سے مراد منافق ہیں اور سخت دل والوں سے مراد مشرک ہیں۔ یہ بھی قول ہے کہ مراد یہود ہیں۔ ظالم حق سے بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ سیدھے راستے سے گم ہو گئے ہیں اور جنہیں صحیح علم دیا گیا ہے جس سے وہ حق و باطل میں تمیز کرلیتے ہیں انہیں اس بات کے بالکل حق ہونے کا اور منجانب اللہ ہونے کا صحیح یقین ہو جائے اور وہ کامل الایمان بن جائیں اور سمجھ لیں کہ بیشک یہ اللہ کا کلام ہے جبھی تو اس قدر اس کی حفاظت دیانت اور نگہداشت ہے۔ کہ کسی جانب سے کسی طریق سے اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہو سکتی۔ حکیم وحمید اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے پس ان کے دل تصدیق سے پر ہو جاتے ہیں، جھک کر رغبت سے متوجہ ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایمان داروں کی رہبری دنیا میں حق اور ہدایت کی طرف کرتا ہے صراط مستقیم سجھا دیتا ہے اور آخرت میں عذابوں سے بچا کر بلند درجوں میں پہنچاتا ہے اور نعمتیں نصیب فرماتا ہے۔
54۔ 1 یعنی یہ القائے شیطانی، جو دراصل اغوائے شیطانی ہے، اگر اہل مشرکین اور اہل کفر و شرک کے حق میں فتنے کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف جو علم معرفت کے حال ہیں، ان کے ایمان و یقین میں اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اللہ کی نازل کردہ بات یعنی قرآن حق ہے۔ جس سے ان کے دل بارگاہ الٰہی میں جھک جاتے ہیں۔ 3: دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دنیا میں اس طرح کی ان کی راہنمائی حق کی طرف کردیتا ہے اور اس کے قبول اور اتباع کی توفیق سے بھی نواز دیتا ہے باطل کی سمجھ بھی ان کو دے دیتا ہے اور اس سے انھیں بچا بھی لیتا ہے اور آخرت میں سیدھے راستے کی راہنمائی یہ ہے کہ انھیں جہنم کے عذاب الیم و عظیم سے بچا کر جنت میں داخل فرمائے گا اور وہاں اپنی نعمتوں اور دیدار سے انھیں نوازے گا۔ اللھم اجعلنا منہم
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ لَا یَزَالُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡہُ حَتّٰی تَاۡتِیَہُمُ السَّاعَۃُ بَغۡتَۃً اَوۡ یَاۡتِیَہُمۡ عَذَابُ یَوۡمٍ عَقِیۡمٍ ﴿۵۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انکار کرنے والے تو اس کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ یا تو اُن پر قیامت کی گھڑی اچانک آ جائے، یا ایک منحوس دن کا عذاب نازل ہو جائے
مولانا محمد جوناگڑھی
کافر اس وحی الٰہی میں ہمیشہ شک شبہ ہی کرتے رہیں گے حتیٰ کہ اچانک ان کے سروں پر قیامت آجائے یا ان کے پاس اس دن کا عذاب آجائے جو منحوس ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کافر اس سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر قیامت آجائے اچانک یا ان پر ایسے دن کا عذاب آئے جس کا پھل ان کے لیے کچھ اچھا نہ ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو کافر ہیں وہ تو ہمیشہ اس کی طرف سے شک میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ اچانک قیامت ان پر آجائے۔ یا پھر منحوس دن کا عذاب ان پر آجائے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہمیشہ اس کے بارے میں کسی شک میں رہیں گے، یہاں تک کہ ان کے پاس اچانک قیامت آجائے، یا ان کے پاس اس دن کا عذاب آجائے جو بانجھ (ہر خیر سے خالی) ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کے دل سے شک و شبہ نہیں جائے گا ٭٭

یعنی کافروں کو جو شک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا۔ شیطان یہ غلط گمان قیامت تک ان کے دلوں سے نہ نکلنے دے گا۔ قیامت اور اس کے عذاب ان کے پاس ناگہاں آ جائیں گے۔ اس وقت یہ محض بے شعور ہوں گے جو مہلت انہیں مل رہی ہے اس سے یہ مغرور ہو گئے۔ جس قوم کے پاس اللہ کے عذاب آئے اسی حالت میں آئے کہ وہ ان سے نڈر بلکہ بےپروا ہو گئے تھے اللہ کے عذابوں سے غافل وہی ہوتے ہیں جو پورے فاسق اور اعلانیہ مجرم ہوں۔ یا انہیں بے خبر دن عذاب پہنچے جو دن ان کے لیے منحوس ثابت ہو گا۔ بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد یوم بدر ہے اور بعض نے کہا ہے مراد اس سے قیامت کا دن ہے یہی قول صحیح ہے گو بدر کا دن بھی ان کے لیے عذاب اللہ کا دن تھا۔ اس دن صرف اللہ کی بادشاہت ہوگی۔ جیسے اور آیت میں ہے «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ۱؎ [1-الفاتحہ:4] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:26] ‏‏‏‏ ’ اس دن رحمن کا ہی ملک ہو گا اور وہ دن کافروں پر نہایت ہی گراں گزرے گا ‘۔ فیصلے خود اللہ کرے گا۔ جن کے دلوں میں اللہ پر ایمان رسول کی صداقت اور ایمان کے مطابق جن کے اعمال تھے جن کے دل اور عمل میں موافقت تھی۔ جن کی زبانیں دل کے مانند تھیں وہ جنت کی نعمتوں میں مالا مال ہوں گے جو نعمتیں نہ فنا ہوں نہ گھٹیں نہ بگڑیں نہ کم ہوں۔ جن کے دلوں میں حقانیت سے کفر تھا، جو حق کو جھٹلاتے تھے، نبیوں کے خلاف کرتے تھے، اتباع حق سے تکبر کرتے تھے ان کے تکبر کے بدلے انہیں ذلیل کرنے والے عذاب ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» ۱؎ [40-غافر:60] ‏‏‏‏ ’ جو لوگ میری عبادتوں سے سرکشی کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے ‘۔
55۔ 1 یَوْمِ عَقِیْمِ (بانجھ دن) سے مراد قیامت کا دن ہے۔ اسے عقیم اس لئے کہا گیا ہے کہ اس کے بعد کوئی دن نہیں ہوگا، جس طرح عقیم اس کو کہا جاتا ہے جس کی اولاد نہ ہو۔ یا اس لئے کہ کافروں کے لئے اس دن کوئی رحمت نہیں ہوگی، گویا ان کے لئے خیر سے خالی ہوگا۔ جس طرح باد تند کو، جو بطور عذاب کے آتی رہی ہے الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ کہا گیا ہے۔ (اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ) 51۔ الذاریات:41) جب ہم نے ان پر بانجھ ہوا بھیجی۔ یعنی ایسی ہوا جس میں کوئی خیر تھی نہ بارش کی نوید
(آیت 55) {وَ لَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ …:} یعنی کفار اس قرآن کے متعلق ہمیشہ کسی نہ کسی شک میں مبتلا رہیں گے، خواہ وہ شیطان کا پیدا کردہ ہو یا خود ان کے نفس کا اور اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک ان کے پاس قیامت کی گھڑی نہ آ جائے، یا یوم عقیم (بانجھ دن) کا عذاب نہ آ جائے۔ بانجھ دن سے مراد قیامت کا دن ہے، اسے عقیم اس لیے کہا گیا ہے کہ اس کے بعد کوئی دن نہیں ہو گا، جس طرح عقیم اسے کہا جاتا ہے جس کی اولاد نہ ہو، یا اس لیے کہ کفار کے لیے اس دن میں کوئی خیر نہیں ہو گی، جس طرح آندھی کو جو عذاب کے طور پر آئی {” الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ “} (ہر خیر سے خالی ہوا) کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ فِيْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ» [ الذاریات: ۴۱ ] ”اور عاد میں (بھی نشانی ہے) جب ہم نے ان پر بانجھ (خیر و برکت سے خالی) ہوا بھیجی۔“ اس یوم عقیم سے کیا مراد ہے؟ بعض مفسرین نے اس سے مراد یومِ بدر لیا ہے کہ اس میں کفار کے لیے کوئی خیر و برکت نہیں تھی۔ مگر یہ اس لیے درست نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کافر اس یوم عقیم کا عذاب آنے تک شک میں رہیں گے، گویا اس دن کے آنے کے بعد کافروں کو کوئی شک نہیں رہے گا اور ظاہر ہے کہ بدر کے بعد بھی کافر موجود ہیں اور ان کے شکوک و شبہات بھی موجود ہیں۔ علاوہ ازیں اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے خود اس دن کی تعیین فرما دی ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ» ‏‏‏‏ [ الحج: ۵۶ ] ”تمام بادشاہی اس دن اللہ کی ہو گی، وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔“ معلوم ہوا کہ اس یومِ عقیم سے مراد قیامت کا دن ہے اور مزید فرمایا: «وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ (17) ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ (18) يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْـًٔا وَ الْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ» ‏‏‏‏ [ الانفطار: ۱۷ تا ۱۹ ] ”اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ جزا کا دن کیا ہے؟ پھر تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ جزا کا دن کیا ہے؟ جس دن کوئی جان کسی جان کے لیے کسی چیز کا اختیار نہ رکھے گی اور اس دن سب حکم اللہ کا ہو گا۔“ اس پر یہ سوال ہے کہ اس سے تکرار لازم آتا ہے، کیونکہ {” السَّاعَةُ “} سے مراد بھی قیامت ہے۔ جواب یہ ہے کہ {” السَّاعَةُ “} میں قیامت کا ذکر ہے اور {” عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيْمٍ “} میں قیامت کے دن کے عذاب کا ذکر ہے۔ خلاصہ آیت کا یہ ہے کہ کفار اس وقت سے پہلے ایمان نہیں لائیں گے جب ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
اَلۡمُلۡکُ یَوۡمَئِذٍ لِّلّٰہِ ؕ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۵۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس روز بادشاہی اللہ کی ہو گی، اور وہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا جو ایمان رکھنے والے اور عمل صالح کرنے والے ہوں گے وہ نعمت بھری جنتوں میں جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہوگی وہی ان میں فیصلے فرمائے گا۔ ایمان اور نیک عمل والے تو نعمتوں سے بھری جنتوں میں ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
بادشاہی اس دن اللہ ہی کی ہے، وہ ان میں فیصلہ کردے گا، تو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ چین کے باغوں میں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اس دن بادشاہی صرف اللہ ہی کی ہوگی (لہٰذا) وہی لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ پس جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ نعمتوں والے بہشتوں میں ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
تمام بادشاہی اس دن اللہ کی ہوگی، وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا، پھر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کے دل سے شک و شبہ نہیں جائے گا ٭٭

یعنی کافروں کو جو شک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا۔ شیطان یہ غلط گمان قیامت تک ان کے دلوں سے نہ نکلنے دے گا۔ قیامت اور اس کے عذاب ان کے پاس ناگہاں آ جائیں گے۔ اس وقت یہ محض بے شعور ہوں گے جو مہلت انہیں مل رہی ہے اس سے یہ مغرور ہو گئے۔ جس قوم کے پاس اللہ کے عذاب آئے اسی حالت میں آئے کہ وہ ان سے نڈر بلکہ بےپروا ہو گئے تھے اللہ کے عذابوں سے غافل وہی ہوتے ہیں جو پورے فاسق اور اعلانیہ مجرم ہوں۔ یا انہیں بے خبر دن عذاب پہنچے جو دن ان کے لیے منحوس ثابت ہو گا۔ بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد یوم بدر ہے اور بعض نے کہا ہے مراد اس سے قیامت کا دن ہے یہی قول صحیح ہے گو بدر کا دن بھی ان کے لیے عذاب اللہ کا دن تھا۔ اس دن صرف اللہ کی بادشاہت ہوگی۔ جیسے اور آیت میں ہے «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ۱؎ [1-الفاتحہ:4] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:26] ‏‏‏‏ ’ اس دن رحمن کا ہی ملک ہو گا اور وہ دن کافروں پر نہایت ہی گراں گزرے گا ‘۔ فیصلے خود اللہ کرے گا۔ جن کے دلوں میں اللہ پر ایمان رسول کی صداقت اور ایمان کے مطابق جن کے اعمال تھے جن کے دل اور عمل میں موافقت تھی۔ جن کی زبانیں دل کے مانند تھیں وہ جنت کی نعمتوں میں مالا مال ہوں گے جو نعمتیں نہ فنا ہوں نہ گھٹیں نہ بگڑیں نہ کم ہوں۔ جن کے دلوں میں حقانیت سے کفر تھا، جو حق کو جھٹلاتے تھے، نبیوں کے خلاف کرتے تھے، اتباع حق سے تکبر کرتے تھے ان کے تکبر کے بدلے انہیں ذلیل کرنے والے عذاب ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» ۱؎ [40-غافر:60] ‏‏‏‏ ’ جو لوگ میری عبادتوں سے سرکشی کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے ‘۔
56۔ 1 یعنی دنیا میں تو عارضی طور پر بطور انعام یا بطور امتحان لوگوں کو بھی بادشاہتیں اور اختیار و اقتدار مل جاتا ہے لیکن آخرت میں کسی کے پاس بھی کوئی بادشاہت اور اختیار نہیں ہوگا۔ صرف ایک اللہ کی بادشاہی اور اس کی فرمان روائی ہوگی، اسی کا مکمل اختیار اور غلبہ ہوگا (اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ۭ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا) 25۔ الفرقان:26) ' بادشاہی اس دن ثابت ہے واسطے رحمان کے اور یہ دن کافروں پر سخت بھاری ہوگا، اللہ تعالیٰ پوچھے گا ' آج کس کی بادشاہی ہے؟ ' پھر خود ہی جواب دے گا ' ایک اللہ غالب کی '۔
(آیت 56) ➊ {اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ:اَلْمُلْكُ “} کے الف لام کی وجہ سے ”تمام بادشاہی“ ترجمہ کیا ہے، یعنی دنیا میں تو عارضی طور پر لوگوں کو بھی بادشاہت مل جاتی ہے مگر اس دن کسی اور کی بادشاہی نہیں ہو گی، فرمایا: «‏‏‏‏لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [ المؤمن: ۱۶ ] ”آج کس کی بادشاہی ہے؟ اللہ ہی کی جو ایک ہے، بہت دبدبے والا ہے۔“ ➋ {يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ …:} دنیا میں ہر شخص، کافر ہو یا منافق یا مسلم، یہی سمجھ رہا ہے کہ وہ حق پر ہے، دوسرے سب غلط ہیں، اس کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کرے گا۔ دیکھیے سورۂ زمر (۴۶) اس فیصلے کے نتیجے میں ایمان اور عمل صالح والے نعمت والے باغوں میں ہوں گے۔ ایمان اور عمل صالح اللہ کی آیات اور اس کے رسول کی تکریم تھی، بدلے میں {” جَنّٰتِ النَّعِيْمِ “} میں رہنے کی تکریم ملی۔
وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿٪۵۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جنہوں نے کفر کیا ہو گا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہوگا اُن کے لیے رسوا کن عذاب ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کے لئے ذلیل کرنے والے عذاب ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کیلئے رسوا کن عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا تو وہی ہیں جن کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کے دل سے شک و شبہ نہیں جائے گا ٭٭

یعنی کافروں کو جو شک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا۔ شیطان یہ غلط گمان قیامت تک ان کے دلوں سے نہ نکلنے دے گا۔ قیامت اور اس کے عذاب ان کے پاس ناگہاں آ جائیں گے۔ اس وقت یہ محض بے شعور ہوں گے جو مہلت انہیں مل رہی ہے اس سے یہ مغرور ہو گئے۔ جس قوم کے پاس اللہ کے عذاب آئے اسی حالت میں آئے کہ وہ ان سے نڈر بلکہ بےپروا ہو گئے تھے اللہ کے عذابوں سے غافل وہی ہوتے ہیں جو پورے فاسق اور اعلانیہ مجرم ہوں۔ یا انہیں بے خبر دن عذاب پہنچے جو دن ان کے لیے منحوس ثابت ہو گا۔ بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد یوم بدر ہے اور بعض نے کہا ہے مراد اس سے قیامت کا دن ہے یہی قول صحیح ہے گو بدر کا دن بھی ان کے لیے عذاب اللہ کا دن تھا۔ اس دن صرف اللہ کی بادشاہت ہوگی۔ جیسے اور آیت میں ہے «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ۱؎ [1-الفاتحہ:4] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:26] ‏‏‏‏ ’ اس دن رحمن کا ہی ملک ہو گا اور وہ دن کافروں پر نہایت ہی گراں گزرے گا ‘۔ فیصلے خود اللہ کرے گا۔ جن کے دلوں میں اللہ پر ایمان رسول کی صداقت اور ایمان کے مطابق جن کے اعمال تھے جن کے دل اور عمل میں موافقت تھی۔ جن کی زبانیں دل کے مانند تھیں وہ جنت کی نعمتوں میں مالا مال ہوں گے جو نعمتیں نہ فنا ہوں نہ گھٹیں نہ بگڑیں نہ کم ہوں۔ جن کے دلوں میں حقانیت سے کفر تھا، جو حق کو جھٹلاتے تھے، نبیوں کے خلاف کرتے تھے، اتباع حق سے تکبر کرتے تھے ان کے تکبر کے بدلے انہیں ذلیل کرنے والے عذاب ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» ۱؎ [40-غافر:60] ‏‏‏‏ ’ جو لوگ میری عبادتوں سے سرکشی کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 57){ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا …: ” فَاُولٰٓىِٕكَ “} کی ”فاء“ کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے لیے رسوا کن عذاب کا سبب ان لوگوں کا کفر اور اللہ کی آیات کو جھٹلانا تھا۔ انھوں نے اللہ کی آیات اور اس کے رسولوں کی اہانت کی، بدلہ عذابِ مہین کی صورت میں ملا، جیسا عمل ویسا نتیجہ۔
وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ثُمَّ قُتِلُوۡۤا اَوۡ مَاتُوۡا لَیَرۡزُقَنَّہُمُ اللّٰہُ رِزۡقًا حَسَنًا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۵۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی، پھر قتل کر دیے گئے یا مر گئے، اللہ ان کو اچھّا رزق دے گا اور یقیناً اللہ ہی بہترین رازق ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جن لوگوں نے راه خدا میں ترک وطن کیا پھر وه شہید کر دیئے گئے یا اپنی موت مر گئے اللہ تعالیٰ انہیں بہترین رزق عطا فرمائے گا۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ روزی دینے والوں میں سب سے بہتر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے گھر بار چھوڑے پھر مارے گئے یا مرگئے تواللہ ضرور انہیں اچھی روزی دے گا اور بیشک اللہ کی روزی سب سے بہتر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر قتل کر دیئے گئے۔ یا اپنی موت مر گئے (دونوں صورتوں میں) اللہ ضرور انہیں اچھی روزی عطا فرمائے گا (کیونکہ) وہ بہترین روزی عطا کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جن لوگوں نے اللہ کے راستے میں وطن چھوڑا، پھر قتل کر دیے گئے، یا مر گئے یقینا اللہ انھیں ضرور رزق دے گا اچھا رزق اور بے شک اللہ ہی یقینا سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کا بہترین رزق پانے والے لوگ ٭٭

یعنی جو شخص اپنا وطن اپنے اہل و عیال اپنے دوست احباب چھوڑ کر اللہ کی رضا مندی کے لیے اس کی راہ میں ہجرت کر جائے اس کے رسول کی اور اس کے دین کی مدد کے لیے پہنچے پھر وہ میدان جہاد میں دشمن کے ہاتھوں شہید کیا جائے یا بے لڑے بھڑے اپنی قضاء کے ساتھ اپنے بستر پر موت آ جائے اور اسے بہت بڑا اجر اور زبردست ثواب اللہ کی طرف سے ہے۔ جیسے ارشاد ہے آیت «وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:100] ‏‏‏‏ یعنی ’ جو شخص اپنے گھر اور دیس کو چھوڑ کر اللہ رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے پھر اسے موت آ جائے تو اسے اس کا اجر اللہ کے ذمے طے ہو چکا۔ ان پر اللہ کا فضل ہو گا، انہیں جنت کی روزیاں ملیں گی جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہترین رازق ہے ‘۔ انہیں پروردگار جنت میں پہنچائے گا۔ جہاں یہ خوش خوش ہونگے جسے فرمان ہے کہ «فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ» ۱؎ [56-الواقعہ:88،89] ‏‏‏‏ ’ جو ہمارے مقربوں میں سے ہے اس کے لیے راحت اور خوشبودار پھول اور نعمتوں بھرے باغات ہیں ایسے لوگوں کو راحت ورزق اور جنت ملے گی ‘۔ اپنی راہ کے سچے مہاجروں کو اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو اپنی نعمتوں کے مستحق لوگوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ وہ بڑے حکم والا ہے بندوں کے گناہ معاف فرماتا ہے ان کی خطاؤں سے درگزر فرماتا ہے ان کی ہجرت قبول کرتا ہے ان کے توکل کو خوب جانتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوں مہاجر ہوں یا نہ ہوں وہ رب کے پاس زندگی اور روزی پاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:169] ‏‏‏‏، ’ خدا کی راہ کے شہیدوں کو مردہ نہ سمجھو وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزیاں دیے جاتے ہیں ‘۔ اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں جو بیان ہوچکیں۔ پس فی سبیل اللہ شہید ہونے والوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہے اس آیت سے اور اسی بارے کی احادیث سے بھی۔

حضرت شرجیل بن سمط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { روم کے ایک قلعے کے محاصرے پر ہمیں مدت گزر چکی اتفاق سے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو فرمانے لگے ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص راہ اللہ کی تیاری میں مرجائے تو اس کا اجر اور رزق برابر اللہ کی طرف سے ہمیشہ اس پر جاری رہتا ہے اور وہ اتنے میں ڈالنے والوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت «وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْٓا اَوْ مَاتُوْا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًاَ» ۱؎ [22-الحج:58] ‏‏‏‏ پڑھ لو }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:136/17:] ‏‏‏‏ ابو قبیل اور ربیع بن سیف مغافری کہتے ہیں ہم رودس کے جہاد میں تھے ہمارے ساتھ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ دو جنازے ہمارے پاس سے گزرے جن میں ایک شہید تھا دوسرا اپنی موت مرا تھا لوگ شہید کے جنازے میں ٹوٹ پڑے۔ فضالہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا یہ شہید ہیں اور یہ دوسرے شہادت سے محروم ہیں۔ آپ نے فرمایا واللہ مجھے تو دونوں باتیں برابر ہیں، خواہ اس کی قبر میں سے اٹھوں خواہ اس کی میں سے۔ سنو کتاب اللہ میں ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ مرے ہوئے کی قبر پر ہی ٹہھرے رہے اور فرمایا تمہیں اور کیا چاہیئے جنت، جگہ اور عمدہ روزی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ اس وقت امیر تھے۔ یہ آخری آیت صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس چھوٹے سے لشکر کے بارے میں اتری ہے جن سے مشرکین کے ایک لشکر نے باوجود ان کے رک جانے کی حرمت کے مہینے میں لڑائی کی اللہ نے مسلمانوں کی امداد فرمائی اور مخالفین کو نیچا دکھایا اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
58۔ 1 یعنی اسی ہجرت کی حالت میں موت آگئی یا شہید ہوگئے۔ 58۔ 2 یعنی جنت کی نعمتیں جو ختم نہ ہونگیں نہ فنا۔ 58۔ 3 کیونکہ وہ بغیر حساب کے، بغیر استحقاق کے اور بغیر سوال کے دیتا ہے۔ علاوہ ازیں انسان بھی جو ایک دوسرے کو دیتے ہیں تو اسی کے دیئے ہوئے میں سے دیتے ہیں۔ اس لئے اصل رازق وہی ہے۔
(آیت 58) ➊ { وَ الَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ …:} اس سے پہلے {” فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ “} کے ساتھ عام مومنوں کا ذکر فرمایا تھا، اب ان میں سے خاص لوگوں کا ذکر فرمایا جنھوں نے اللہ کی خاطر اپنے وطن، گھر بار اور خویش و اقارب کو چھوڑا۔ مقصد ہجرت کی شان اور اس کی فضیلت بیان کرنا ہے کہ یہ اتنا عظیم عمل ہے کہ ہجرت کرنے والے جہاد فی سبیل اللہ میں قتل ہوں یا لڑائی کے بغیر فوت ہو جائیں، دار الکفر سے ہجرت کے بعد آخرت کے درجات میں برابر ہیں۔ (ابن عاشور) پہلی آیات سے اس کی ایک اور مناسبت یہ ہے کہ چونکہ مشرکین ان شیطانی شبہات اور رکاوٹوں کے ساتھ، جن کا اوپر ذکر ہوا، بہت سے لوگوں کو ایمان لانے سے روکتے تھے اور وہ روک صرف انھی کو سکتے تھے جو ان کے قابو میں ہوں، اس لیے اللہ سبحانہ نے ہجرت کی ترغیب دلائی اور اس کی فضیلت بیان فرمائی۔ (بقاعی) ➋ { لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا:} لام تاکید اور نون ثقیلہ کے ساتھ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انھیں برزخ میں اور جنت میں رزق حسن ہر صورت دے گا۔ شہداء کے متعلق دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۶۹) اور ہجرت کے بعد فوت ہونے کے متعلق دیکھیے سورۂ نساء (۱۰۰)۔ ➌ { وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ:} اللہ تعالیٰ خیر الرازقین ہے، اس لیے کہ (1) وہ کسی استحقاق کے بغیر رزق دیتا ہے۔ (2) مانگے بغیر دیتا ہے۔ (3) بے حساب دیتا ہے۔ (4) کسی سے فائدے کی امید یا کسی سے خوف کے بغیر دیتا ہے۔ (5) اور صرف وہی ہے جو اپنے پاس سے دیتا ہے، اس کے سوا کوئی دوسرا اگر دیتا ہے تو اسی کا دیا دیتا ہے، سو حقیقت میں دینے والا وہی ہے۔ سب دینے والوں سے بہتر ان لوگوں کے لحاظ سے فرمایا جو دنیا میں ایک دوسرے کو کچھ دے دیتے ہیں، مگر ان میں {” خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ “} کی صفات میں سے ایک صفت بھی نہیں جو اوپر گزری ہیں۔
لَیُدۡخِلَنَّہُمۡ مُّدۡخَلًا یَّرۡضَوۡنَہٗ ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَعَلِیۡمٌ حَلِیۡمٌ ﴿۵۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ انہیں ایسی جگہ پہنچائے گاجس سے وہ خوش ہو جائیں گے بے شک اللہ علیم اور حلیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
انہیں اللہ تعالیٰ ایسی جگہ پہنچائے گا کہ وه اس سے راضی ہو جائیں گے، بیشک اللہ تعالیٰ علم اور بردباری واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
ضرور انہیں ایسی جگہ لے جائے گا جسے وہ پسند کریں گے اور بیشک اللہ علم اور حلم والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اور) وہ ضرور انہیں ایسی جگہ داخل کرے گا جسے وہ پسند کریں گے۔ بےشک وہ بڑا جاننے والا، بڑا بردبار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا وہ انھیں ایسے مقام میں ضرور داخل کرے گا جس پر وہ خوش ہوں گے اور بے شک اللہ ضرور سب کچھ جاننے والا، بے حد بردبار ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کا بہترین رزق پانے والے لوگ ٭٭

یعنی جو شخص اپنا وطن اپنے اہل و عیال اپنے دوست احباب چھوڑ کر اللہ کی رضا مندی کے لیے اس کی راہ میں ہجرت کر جائے اس کے رسول کی اور اس کے دین کی مدد کے لیے پہنچے پھر وہ میدان جہاد میں دشمن کے ہاتھوں شہید کیا جائے یا بے لڑے بھڑے اپنی قضاء کے ساتھ اپنے بستر پر موت آ جائے اور اسے بہت بڑا اجر اور زبردست ثواب اللہ کی طرف سے ہے۔ جیسے ارشاد ہے آیت «وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:100] ‏‏‏‏ یعنی ’ جو شخص اپنے گھر اور دیس کو چھوڑ کر اللہ رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے پھر اسے موت آ جائے تو اسے اس کا اجر اللہ کے ذمے طے ہو چکا۔ ان پر اللہ کا فضل ہو گا، انہیں جنت کی روزیاں ملیں گی جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہترین رازق ہے ‘۔ انہیں پروردگار جنت میں پہنچائے گا۔ جہاں یہ خوش خوش ہونگے جسے فرمان ہے کہ «فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ» ۱؎ [56-الواقعہ:88،89] ‏‏‏‏ ’ جو ہمارے مقربوں میں سے ہے اس کے لیے راحت اور خوشبودار پھول اور نعمتوں بھرے باغات ہیں ایسے لوگوں کو راحت ورزق اور جنت ملے گی ‘۔ اپنی راہ کے سچے مہاجروں کو اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو اپنی نعمتوں کے مستحق لوگوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ وہ بڑے حکم والا ہے بندوں کے گناہ معاف فرماتا ہے ان کی خطاؤں سے درگزر فرماتا ہے ان کی ہجرت قبول کرتا ہے ان کے توکل کو خوب جانتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوں مہاجر ہوں یا نہ ہوں وہ رب کے پاس زندگی اور روزی پاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:169] ‏‏‏‏، ’ خدا کی راہ کے شہیدوں کو مردہ نہ سمجھو وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزیاں دیے جاتے ہیں ‘۔ اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں جو بیان ہوچکیں۔ پس فی سبیل اللہ شہید ہونے والوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہے اس آیت سے اور اسی بارے کی احادیث سے بھی۔

حضرت شرجیل بن سمط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { روم کے ایک قلعے کے محاصرے پر ہمیں مدت گزر چکی اتفاق سے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو فرمانے لگے ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص راہ اللہ کی تیاری میں مرجائے تو اس کا اجر اور رزق برابر اللہ کی طرف سے ہمیشہ اس پر جاری رہتا ہے اور وہ اتنے میں ڈالنے والوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت «وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْٓا اَوْ مَاتُوْا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًاَ» ۱؎ [22-الحج:58] ‏‏‏‏ پڑھ لو }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:136/17:] ‏‏‏‏ ابو قبیل اور ربیع بن سیف مغافری کہتے ہیں ہم رودس کے جہاد میں تھے ہمارے ساتھ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ دو جنازے ہمارے پاس سے گزرے جن میں ایک شہید تھا دوسرا اپنی موت مرا تھا لوگ شہید کے جنازے میں ٹوٹ پڑے۔ فضالہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا یہ شہید ہیں اور یہ دوسرے شہادت سے محروم ہیں۔ آپ نے فرمایا واللہ مجھے تو دونوں باتیں برابر ہیں، خواہ اس کی قبر میں سے اٹھوں خواہ اس کی میں سے۔ سنو کتاب اللہ میں ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ مرے ہوئے کی قبر پر ہی ٹہھرے رہے اور فرمایا تمہیں اور کیا چاہیئے جنت، جگہ اور عمدہ روزی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ اس وقت امیر تھے۔ یہ آخری آیت صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس چھوٹے سے لشکر کے بارے میں اتری ہے جن سے مشرکین کے ایک لشکر نے باوجود ان کے رک جانے کی حرمت کے مہینے میں لڑائی کی اللہ نے مسلمانوں کی امداد فرمائی اور مخالفین کو نیچا دکھایا اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
59۔ 1 کیونکہ جنت کی نعمتیں ایسی ہونگیں، جنہیں آج تک نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا۔ اور دیکھنا سننا تو کجا، کسی انسان کے دل میں ان کا وہم و گمان بھی نہیں گزرا، بھلا ایسی نعمتوں سے بہرا یاب ہو کر کون خوش نہیں ہوگا؟ 59۔ 2 عَلِیْم وہ نیک عمل کرنے والوں کے درجات اور ان کے مراتب استحقاق کو جانتا ہے۔ کفر و شرک کرنے والوں کی گستاخیوں اور نافرمانیوں کو دیکھتا ہے۔ لیکن ان کا فوری مؤاخذہ نہیں کرتا۔
(آیت 59) ➊ { لَيُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا يَّرْضَوْنَهٗ:} مراد جنت ہے جسے دیکھ کر وہ خوش ہوں گے اور اس میں اپنی ہر خواہش موجود پائیں گے۔ پسندیدہ رہائش بھی رزق حسن میں شامل ہے، اس کا الگ ذکر اس لیے فرمایا کہ خوبصورت اور بہترین گھر کا اہتمام لوگ کھانے پینے سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔ ➋ {وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِيْمٌ حَلِيْمٌ:} صفت {”عَلِيْمٌ“} کی مناسبت اس مقام کے ساتھ دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ہجرت کرنے والوں کے اعمال اور ان کی نیتوں کو خوب جاننے والا ہے، وہ ہر ایک کو ان کے مطابق جزا دے گا اور اسی طرح ہجرت پر مجبور کرنے والے کفار کے اعمال اور نیتوں سے بھی خوب واقف ہے، انھیں بھی ان کے مطابق سزا دے گا۔ اسی طرح {”حَلِيْمٌ “} کی مناسبت بھی دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ ان مہاجرین سے جو کوتاہیاں ہوئیں اللہ تعالیٰ اپنے بے انتہا حلم کی وجہ سے ان سے چشم پوشی فرما کر انھیں رزق حسن اور پسندیدہ منزل عطا فرمائے گا۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ جن کفار نے انھیں نکالا، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے کمال حلم کی وجہ سے اتنے بڑے جرم کے باوجود مہلت دی اور فوراً گرفت نہیں فرمائی، جس کے نتیجے میں تقریباً وہ تمام لوگ جنھوں نے مہاجرین کو مکہ سے نکالا تھا مسلمان ہو گئے۔
ذٰلِکَ ۚ وَ مَنۡ عَاقَبَ بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبَ بِہٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیۡہِ لَیَنۡصُرَنَّہُ اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ ﴿۶۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ تو ہے اُن کا حال، اور جو کوئی بدلہ لے، ویسا ہی جیسا اس کے ساتھ کیا گیا، اور پھر اس پر زیادتی بھی کی گئی ہو، تو اللہ اس کی مدد ضرور کرے گا اللہ معاف کرنے والا اور درگزر کرنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بات یہی ہے، اور جس نے بدلہ لیا اسی کے برابر جو اس کے ساتھ کیا گیا تھا پھر اگر اس سے زیادتی کی جائے تو یقیناً اللہ تعالیٰ خود اس کی مدد فرمائے گا۔ بیشک اللہ درگزر کرنے واﻻ بخشنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بات یہ ہے اور جو بدلہ لے جیسی تکلیف پہنچائی گئی تھی پھر اس پر زیادتی کی جائے تو بیشک اللہ اس کی مدد فرمائے گا بیشک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ بات تو ہو چکی۔ اور جو شخص ویسی ہی سزا دے جیسی اسے سزا ملی ہے پھر اس پر زیادتی کی جائے تو اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا۔ بےشک اللہ بڑا معاف کرنے والا، بڑا بخشنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اور جو شخص اس کی مثل بدلہ لے جو اسے تکلیف دی گئی، پھر اس پر زیادتی کی جائے تو اللہ ضرور ہی اس کی مدد کرے گا، یقینا اللہ ضرور نہایت درگزر کرنے والا، بے حد بخشنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کا بہترین رزق پانے والے لوگ ٭٭

یعنی جو شخص اپنا وطن اپنے اہل و عیال اپنے دوست احباب چھوڑ کر اللہ کی رضا مندی کے لیے اس کی راہ میں ہجرت کر جائے اس کے رسول کی اور اس کے دین کی مدد کے لیے پہنچے پھر وہ میدان جہاد میں دشمن کے ہاتھوں شہید کیا جائے یا بے لڑے بھڑے اپنی قضاء کے ساتھ اپنے بستر پر موت آ جائے اور اسے بہت بڑا اجر اور زبردست ثواب اللہ کی طرف سے ہے۔ جیسے ارشاد ہے آیت «وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:100] ‏‏‏‏ یعنی ’ جو شخص اپنے گھر اور دیس کو چھوڑ کر اللہ رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے پھر اسے موت آ جائے تو اسے اس کا اجر اللہ کے ذمے طے ہو چکا۔ ان پر اللہ کا فضل ہو گا، انہیں جنت کی روزیاں ملیں گی جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہترین رازق ہے ‘۔ انہیں پروردگار جنت میں پہنچائے گا۔ جہاں یہ خوش خوش ہونگے جسے فرمان ہے کہ «فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ» ۱؎ [56-الواقعہ:88،89] ‏‏‏‏ ’ جو ہمارے مقربوں میں سے ہے اس کے لیے راحت اور خوشبودار پھول اور نعمتوں بھرے باغات ہیں ایسے لوگوں کو راحت ورزق اور جنت ملے گی ‘۔ اپنی راہ کے سچے مہاجروں کو اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو اپنی نعمتوں کے مستحق لوگوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ وہ بڑے حکم والا ہے بندوں کے گناہ معاف فرماتا ہے ان کی خطاؤں سے درگزر فرماتا ہے ان کی ہجرت قبول کرتا ہے ان کے توکل کو خوب جانتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوں مہاجر ہوں یا نہ ہوں وہ رب کے پاس زندگی اور روزی پاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:169] ‏‏‏‏، ’ خدا کی راہ کے شہیدوں کو مردہ نہ سمجھو وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزیاں دیے جاتے ہیں ‘۔ اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں جو بیان ہوچکیں۔ پس فی سبیل اللہ شہید ہونے والوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہے اس آیت سے اور اسی بارے کی احادیث سے بھی۔

حضرت شرجیل بن سمط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { روم کے ایک قلعے کے محاصرے پر ہمیں مدت گزر چکی اتفاق سے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو فرمانے لگے ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص راہ اللہ کی تیاری میں مرجائے تو اس کا اجر اور رزق برابر اللہ کی طرف سے ہمیشہ اس پر جاری رہتا ہے اور وہ اتنے میں ڈالنے والوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت «وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْٓا اَوْ مَاتُوْا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًاَ» ۱؎ [22-الحج:58] ‏‏‏‏ پڑھ لو }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:136/17:] ‏‏‏‏ ابو قبیل اور ربیع بن سیف مغافری کہتے ہیں ہم رودس کے جہاد میں تھے ہمارے ساتھ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ دو جنازے ہمارے پاس سے گزرے جن میں ایک شہید تھا دوسرا اپنی موت مرا تھا لوگ شہید کے جنازے میں ٹوٹ پڑے۔ فضالہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا یہ شہید ہیں اور یہ دوسرے شہادت سے محروم ہیں۔ آپ نے فرمایا واللہ مجھے تو دونوں باتیں برابر ہیں، خواہ اس کی قبر میں سے اٹھوں خواہ اس کی میں سے۔ سنو کتاب اللہ میں ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ مرے ہوئے کی قبر پر ہی ٹہھرے رہے اور فرمایا تمہیں اور کیا چاہیئے جنت، جگہ اور عمدہ روزی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ اس وقت امیر تھے۔ یہ آخری آیت صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس چھوٹے سے لشکر کے بارے میں اتری ہے جن سے مشرکین کے ایک لشکر نے باوجود ان کے رک جانے کی حرمت کے مہینے میں لڑائی کی اللہ نے مسلمانوں کی امداد فرمائی اور مخالفین کو نیچا دکھایا اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
60۔ 1 یعنی یہ کہ مہاجرین بطور خاص شہادت یا طبعی موت پر ہم نے جو وعدہ کیا ہے، وہ ضرور پورا ہوگا۔ 60۔ 2 کسی نے اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے تو جس سے زیادتی کی گئی ہے، اسے بقدر زیادتی بدلہ لینے کا حق ہے۔ لیکن اگر بدلہ لینے کے بعد، جب کہ ظالم اور مظلوم دونوں برابر سربرا ہوچکے ہوں، ظالم، مظلوم پھر زیادتی کرے تو اللہ تعالیٰ اس مظلوم کی ضرور مدد فرماتا ہے۔ یعنی یہ شبہ نہ ہو کہ مظلوم نے معاف کردینے کی بجائے بدلہ لے کر غلط کام کیا ہے، نہیں، بلکہ اس کی بھی اجازت اللہ ہی نے دی ہے، اس لئے آئندہ بھی اللہ کی مدد کا مستحق رہے گا۔ 60۔ 3 اس میں پھر معاف کردینے کی ترغیب دی گئی ہے کہ اللہ درگزر کرنے والا ہے۔ تم بھی درگزر سے کام لو۔ ایک دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ بدلہ لینے میں۔ جو بقدر ظلم ظالم ہوگا۔ جتنا ظلم کیا جائے گا، اس کی اجازت چونکہ اللہ کی طرف سے ہے، اس لئے اس پر مؤاخذہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ معاف ہے۔ بلکہ اسے ظلم اور سیئہ بطور مشاکلت کے کہا جاتا ہے، ورنہ انتقام یا بدلہ سرے سے ظلم یا سیئہ ہی نہیں ہے۔
(آیت 60) ➊ {ذٰلِكَ وَ مَنْ عَاقَبَ …: ” ذٰلِكَ “} کا لفظ دو کلاموں کے درمیان فاصلے کے لیے ہوتا ہے، یعنی یہ تو ہوا، اب اگلی بات سنو کہ جو شخص اتنا ہی بدلہ لے جتنی اسے ایذا دی گئی ہے، پھر اس پر زیادتی کی جائے تو اللہ اس کی ضرور ہی مدد کرے گا۔ اس میں جہاد کی ترغیب ہے اور {” اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا “} اور {” وَ لَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ “} کا مضمون دہرایا گیا ہے۔ عطف اس کا {” وَ الَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ …“} پر ہے، جس میں ان مظلوموں کا ذکر تھا جو بدلہ نہیں لے سکے، اب ان مظلوموں کا ذکر ہے جو ظالموں کے مقابلے میں قوت استعمال کریں۔ انھیں تاکید ہے کہ وہ اتنا ہی بدلہ لیں جتنی ان پر زیادتی ہوئی ہے، اگر اتنا بدلہ لینے کے بعد پھر ان پر زیادتی کی جائے تو اللہ تعالیٰ ان کی ضرور ہی مدد کرے گا۔ مشرکین مکہ نے مسلمانوں کو بے شمار ایذائیں دیں، انھیں دین سے مرتد کرنے کے لیے مسلسل عذاب سے دو چار رکھا، جو قتل سے بھی بڑھ کر تکلیف دہ تھا۔ انھیں ان کے گھروں سے نکالا، اس کے بعد بھی لڑائی کے لیے چڑھ کر آتے رہے۔ ان کی ایذا کے برابر بدلے کے لیے ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ (190) وَ اقْتُلُوْهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ۠ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوْكُمْ فِيْهِ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِيْنَ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۹۰، ۱۹۱ ] ”اور اللہ کے راستے میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی مت کرو، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ اور انھیں قتل کرو جہاں انھیں پاؤ اور انھیں وہاں سے نکالو جہاں سے انھوں نے تمھیں نکالا ہے اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو، یہاں تک کہ وہ اس میں تم سے لڑیں، پھر اگر وہ تم سے لڑیں تو انھیں قتل کرو، ایسے ہی کافروں کی جزا ہے۔“ اسی طرح حکم دیا: «وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ اِنَّهُمْ لَاۤ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ (12) اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَيْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ اَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ» ‏‏‏‏ [ التوبۃ: ۱۲، ۱۳ ] ”اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمھارے دین میں طعن کریں تو کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔ بے شک یہ لوگ، ان کی کوئی قسمیں نہیں ہیں، تاکہ وہ باز آجائیں۔ کیا تم ان لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور انھوں نے ہی پہلی بار تم سے ابتدا کی؟کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ تو اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔“ ➋ { اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ:} یہاں ان صفات کے تذکرے کا مطلب یہ نہیں کہ کفار کو معاف کر دو، کیونکہ ان کے متعلق تو حکم ہے: «قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَ يُخْزِهِمْ وَ يَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَ يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُؤْمِنِيْنَ» ‏‏‏‏ [ التوبۃ: ۱۴ ] ”ان سے لڑو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انھیں رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمھاری مدد کرے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا دے گا۔“ عفو و درگزر مسلمانوں کے باہمی معاملات میں ہے، کفار کے ساتھ نہیں، فرمایا: «‏‏‏‏وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ» ‏‏‏‏ [ الفتح: ۲۹ ] ”اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں، کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں۔“ یہاں ان صفات کی مناسبت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اتنا ہی بدلہ لینے کا جو حکم دیا ہے کہ جتنی ایذا دی جائے، یہ اس کے عفو و مغفرت کی وجہ سے ہے کہ اس نے کفار پر بھی حد سے بڑھ کر زیادتی کی اجازت نہیں دی، جس سے وہ مظلوم ٹھہریں، کیونکہ مظلوم کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لے رکھا ہے، خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اِتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُوْمِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللّٰهِ حِجَابٌ ] [ بخاري، المظالم، باب الاتقاء و الحذر من دعوۃ المظلوم: ۲۴۴۸، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ] ”مظلوم کی بددعا سے بچ، کیونکہ اس کے درمیان اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں۔“ دوسری مناسبت یہ ہے کہ بدلہ لینے میں سو فیصد برابری تو انسان کے بس ہی میں نہیں، اس لیے فرمایا کہ کچھ کمی بیشی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ وَ اَنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۶۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ اس لیے کہ رات سے دن اور دن سے رات نکالنے والا اللہ ہی ہے اور وہ سمیع و بصیر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اس لئے کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اور بیشک اللہ سننے واﻻ دیکھنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ رات کو ڈالتا ہے دن کے حصہ میں اور دن کو لاتا ہے رات کے حصہ میں اور اس لیے کہ اللہ سنتا دیکھتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ اس لئے ہے کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور بےشک اللہ بڑا سننے والا، بڑا دیکھنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اس لیے کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس پر کوئی حاکم نہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ خالق اور متصرف صرف وہی ہے، اپنی ساری مخلوق میں جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ فرمان ہے آیت «قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَن تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ» ۱؎ [3-آل عمران:27،26] ‏‏‏‏ ’ الٰہی تو ہی مالک الملک ہے جسے چاہے ملک دے جس سے چاہے لے لے جسے چاہے عزت کا جھولا جھلائے، جسے چاہے دردر سے ذلیل منگائے، ساری بھلائیاں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تو ہی ہر چیز پر قادر ہے۔ دن کو رات، رات کو دن میں تو ہی لے جاتا ہے۔ زندے کو مردے سے مردے کو زندے سے تو ہی نکالتا ہے جسے چاہتا ہے بے حساب روزیاں پہنچاتا ہے ‘۔ پس کبھی دن بڑے راتیں چھوٹی کبھی راتیں بڑی دن چھوٹے جیسے گرمیوں اور جاڑوں میں ہوتا ہے۔ بندوں کی تمام باتیں اللہ سنتا ہے ان کی تمام حرکات وسکنات دیکھتا ہے کوئی حال اس پر پوشیدہ نہیں۔ اس کا کوئی حاکم نہیں بلکہ کوئی چوں چرا بھی اس کے سامنے نہیں کر سکتا۔ وہی سچا معبود ہے۔ عبادتوں کے لائق اس کے سوا کوئی اور نہیں۔ «وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» ۱؎ [2-البقرة:255] ‏‏‏‏ ’ زبردست غلبے والا ‘، بڑی شان والا وہی ہے، جو چاہتا ہے ہوتا ہے، جو نہیں چاہتا ناممکن ہے کہ وہ ہو جائے۔ ہر شخص اس کے سامنے فقیر، ہر ایک اس کے آگے عاجز۔ اس کے سوا جسے لوگ پوجیں وہ باطل، کوئی نفع نقصان کسی کے ہاتھ نہیں، «الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ» ۱؎ [13-الرعد:9] ‏‏‏‏ ’ وہ بلندیوں والا، عظمتوں والا ہے ‘۔ ہر چیز اس کے ماتحت، اس کے زیر حکم۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہ اس کے سوا کوئی رب، نہ اس سے کوئی بڑا، نہ اس پر کوئی غالب۔ وہ تقدس والا، وہ عزت وجلال والا، ظالموں کی کہی ہوئی تمام فضول باتوں پاک، سب خوبیوں والا تمام نقصانات سے دور۔
61۔ 1 یعنی جو اللہ اس طرح کام کرنے پر قادر ہے، وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ اس کے جن بندوں پر ظلم کیا جائے ان کا بدلہ وہ ظالموں سے لے۔
(آیت 61) ➊ { ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ …:} یعنی اللہ تعالیٰ جو مظلوم اور بے نوا کی مدد کرتا ہے وہ اس لیے ہے کہ یہ اس کے لیے کچھ مشکل نہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے، رات کو دن میں داخل کرکے دن کو رات پر غالب کر دیتا ہے اور دن بڑا ہو جاتا ہے اور دن کو رات میں داخل کر کے رات کو دن پر غالب کر دیتا ہے اور رات بڑی ہو جاتی ہے۔ تو اس کے لیے مظلوموں کو ظالموں پر غالب کرنا کیا مشکل ہے؟ ➋ { وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ کے مظلوم کی مدد کی دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ ہر ایک کے حال سے پوری طرح باخبر ہے، سب کچھ سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے، سنتے اور دیکھتے ہوئے وہ ظلم کو کس طرح برداشت کرے گا؟
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ ہُوَ الۡبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡکَبِیۡرُ ﴿۶۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہ سب باطل ہیں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں اور اللہ ہی بالادست اور بزرگ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ سب اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے بھی یہ پکارتے ہیں وه باطل ہے اور بیشک اللہ ہی بلندی واﻻ کبریائی واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے پوجتے ہیں وہی باطل ہے اور اس لیے کہ اللہ ہی بلندی بڑائی والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ ہی حق ہے۔ اور اس کے علاوہ جسے وہ پکارتے ہیں وہ باطل ہے۔ اور بےشک اللہ ہی بلند (مرتبہ والا) بزرگ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اس لیے کہ اللہ ہی ہے جو حق ہے اور (اس لیے) کہ اس کے سوا وہ جسے بھی پکارتے ہیں وہی باطل ہے اور (اس لیے)کہ اللہ ہی بے حد بلند ہے، بہت بڑا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس پر کوئی حاکم نہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ خالق اور متصرف صرف وہی ہے، اپنی ساری مخلوق میں جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ فرمان ہے آیت «قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَن تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ» ۱؎ [3-آل عمران:27،26] ‏‏‏‏ ’ الٰہی تو ہی مالک الملک ہے جسے چاہے ملک دے جس سے چاہے لے لے جسے چاہے عزت کا جھولا جھلائے، جسے چاہے دردر سے ذلیل منگائے، ساری بھلائیاں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تو ہی ہر چیز پر قادر ہے۔ دن کو رات، رات کو دن میں تو ہی لے جاتا ہے۔ زندے کو مردے سے مردے کو زندے سے تو ہی نکالتا ہے جسے چاہتا ہے بے حساب روزیاں پہنچاتا ہے ‘۔ پس کبھی دن بڑے راتیں چھوٹی کبھی راتیں بڑی دن چھوٹے جیسے گرمیوں اور جاڑوں میں ہوتا ہے۔ بندوں کی تمام باتیں اللہ سنتا ہے ان کی تمام حرکات وسکنات دیکھتا ہے کوئی حال اس پر پوشیدہ نہیں۔ اس کا کوئی حاکم نہیں بلکہ کوئی چوں چرا بھی اس کے سامنے نہیں کر سکتا۔ وہی سچا معبود ہے۔ عبادتوں کے لائق اس کے سوا کوئی اور نہیں۔ «وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» ۱؎ [2-البقرة:255] ‏‏‏‏ ’ زبردست غلبے والا ‘، بڑی شان والا وہی ہے، جو چاہتا ہے ہوتا ہے، جو نہیں چاہتا ناممکن ہے کہ وہ ہو جائے۔ ہر شخص اس کے سامنے فقیر، ہر ایک اس کے آگے عاجز۔ اس کے سوا جسے لوگ پوجیں وہ باطل، کوئی نفع نقصان کسی کے ہاتھ نہیں، «الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ» ۱؎ [13-الرعد:9] ‏‏‏‏ ’ وہ بلندیوں والا، عظمتوں والا ہے ‘۔ ہر چیز اس کے ماتحت، اس کے زیر حکم۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہ اس کے سوا کوئی رب، نہ اس سے کوئی بڑا، نہ اس پر کوئی غالب۔ وہ تقدس والا، وہ عزت وجلال والا، ظالموں کی کہی ہوئی تمام فضول باتوں پاک، سب خوبیوں والا تمام نقصانات سے دور۔
62۔ 1 اس لئے اس کا دین حق ہے، اس کی عبادت حق ہے اس کے وعدے حق ہیں، اس کا اپنے اولیاء کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کرنا حق ہے، وہ اللہ عزوجل اپنی ذات میں، اپنی صفات میں اور اپنے افعال میں حق ہے۔
(آیت 62) ➊ {ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ …:} یہ مظلوم مسلمانوں کی مدد کے وعدے کو پورا کرنے کی تیسری وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی سچا اور حق رب ہے۔ جس چیز کا وہ ارادہ کرے اسے کر گزرتا ہے، سو وہ اپنے دوستوں کی ضرور مدد کرے گا اور اس کے سوا جس کو بھی لوگ پکارتے ہیں وہ ناحق اور باطل ہے، وہ خود اپنی مدد نہیں کر سکتا تو ان کی مدد کیا کرے گا؟ اور اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کے مقابلے میں اپنے دشمنوں کی مدد کیوں کرے گا؟ ➋ {وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ:} چوتھی وجہ اس بات کی کہ ”اللہ تعالیٰ مظلوم مسلمانوں کی مدد ضرور کرے گا“ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی سب سے اونچا ہے، باقی سب نیچے ہیں اور وہی بے حد بڑا ہے، باقی سب چھوٹے ہیں اور کوئی اس کا مدمقابل نہیں۔
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ۫ فَتُصۡبِحُ الۡاَرۡضُ مُخۡضَرَّۃً ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَطِیۡفٌ خَبِیۡرٌ ﴿ۚ۶۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور اس کی بدولت زمین سرسبز ہو جاتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ لطیف و خبیر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برساتا ہے، پس زمین سرسبز ہو جاتی ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ مہربان اور باخبر ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا تو صبح کو زمین ہریالی ہوگئی، بیشک اللہ پاک خبردار ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا آسمان سے پانی برساتا ہے تو (خشک) زمین سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے۔ بےشک اللہ بڑا لطف و کرم کرنے والا (اور) بڑا خبر رکھنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو زمین سرسبز ہو جاتی ہے۔ بے شک اللہ نہایت باریک بین، ہر چیز سے باخبر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قدرت اور غلبہ الٰہی کا اظہار ٭٭

اپنی عظیم الشان قدرت اور زبردست غلبے کو بیان فرما رہا ہے کہ «فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ» ۱؎ [22-الحج:5] ‏‏‏‏ ’ سوکھی غیر آباد مردہ زمین پر اس کے حکم سے ہوائیں بادل لاتی ہیں جو پانی برساتے ہیں اور زمین لہلہاتی ہوئی سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے گویا جی اٹھتی ہے ‘۔ یہاں پر (‏‏‏‏ف)‏‏‏‏‏‏‏‏ تعقیب کے لیے ہے ہر چیز کی تعقیب اسی کے انداز سے ہوتی ہے۔ «ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا» ۱؎ [23-المؤمنون:14] ‏‏‏‏ نطفے کا ملقہ ہونا پھر ملقے کا مضغہ ہونا جہاں بیان فرمایا ہے وہاں بھی (‏‏‏‏ف)‏‏‏‏‏‏‏‏ آئی ہے اور ہر دو صورت میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ حجاز کی بعض زمینیں ایسی بھی ہیں کہ بارش کے ہوتے ہی معا سرخ وسبز ہو جاتی ہیں «فَاللہُ اَعْلَمُ» ۔ زمین کے گوشوں میں اور اس کے اندر جو کچھ ہے، سب اللہ کے علم میں ہے۔ ایک ایک دانہ اس کی دانست میں ہے۔ پانی وہیں پہنچتا ہے اور وہ اگ آتا ہے۔ جیسے لقمان رحمتہ اللہ علیہ کے قول میں ہے کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ‏‏‏‏ ’ اے بچے! اگرچہ کوئی چیز رائی کے دانے برابر ہوچاہے کسی چٹان میں ہو یا آسمان میں یا زمین میں اللہ اسے ضرور لائے گا اللہ تعالیٰ پاکیزہ اور باخبر ہے ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» ۱؎ [27-النمل:25] ‏‏‏‏ ’ زمین و آسمان کی ہر چیز کو اللہ ظاہر کر دے گا ‘۔ ایک آیت میں ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [6-الأنعام:59] ‏‏‏‏، ’ ہرپتے کے جھڑنے کا، ہر دانے کا جو زمین کے اندھیروں میں ہو ہر تر وخشک چیز کا اللہ کو علم ہے اور وہ کھلی کتاب میں ہے ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ» ۱؎ [10-یونس:61] ‏‏‏‏ ’ کوئی ذرہ آسمان و زمیں میں اللہ سے پوشیدہ نہیں، کوئی چھوٹی بڑی چیز ایسی نہیں جو ظاہر کتاب میں نہ ہو ‘۔ امیہ بن ابو صلت یا زید بن عمر و بن نفیل کے قصیدے میں ہے شعر «وَقُولَا لَهُ مَنْ يُنْبِت الْحَبّ فِي الثَّرَى» «فَيُصْبِح مِنْهُ الْبَقْل يَهْتَزّ رَابِيًا» «وَيُخْرِج مِنْهُ حَبّه فِي رُءُوسه» «فَفِي ذَلِكَ آيَات لِمَنْ كَانَ وَاعِيًا» ”اے میرے دونوں پیغمبرو! تم اس سے کہو کہ مٹی میں سے دانے کون نکالتا ہے کہ درخت پھوٹ کر جھومنے لگتا ہے اور اس کے سرے پر بال نکل آتی ہے؟ عقلمند کے لیے تو اس میں قدرت کی ایک چھوڑ کئی نشانیاں موجود ہیں۔‏‏‏‏“

تمام کائنات کا مالک وہی ہے۔ وہ ہر ایک سے بے نیاز ہے۔ ہر ایک اس کے سامنے فقیر اور اس کی بارگاہ عالی کا محتاج ہے۔ سب انسان اس کے غلام ہیں۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ کل حیوانات، جمادات، کھیتیاں، باغات اس نے تمہارے فائدے کے لیے، تمہاری ماتحتی میں دے رکھے ہیں آسمان و زمین کی چیزیں تمہارے لیے سرگرداں ہیں۔ اس کا احسان وفضل و کرم ہے کہ اسی کے حکم سے کشتیاں تمہیں ادھر سے ادھر لے جاتی ہیں۔ تمہارے مال ومتاع ان کے ذریعے یہاں سے وہاں پہنچتے ہیں۔ پانی کو چیرتی ہوئیں، موجوں کو کاٹتی ہوئیں بحکم الٰہی ہواؤں کے ساتھ تمہارے نفع کے لیے چل رہی ہیں۔ یہاں کی ضرورت کی چیزیں وہاں سے وہاں کی یہاں برابر پہنچتی رہتی ہیں۔ وہ خود آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر نہ گر پڑے ورنہ ابھی وہ حکم دے تو یہ زمین پر آ رہے اور تم سب ہلاک ہو جاؤ۔

انسانوں کے گناہوں کے باوجود اللہ ان پر رأفت و شفقت، بندہ نوازی اور غلام پروری کر رہا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [13-الرعد:6] ‏‏‏‏، ’ لوگوں کے گناہوں کے باوجود اللہ تعالیٰ ان پر صاحب مغفرت ہے۔ ہاں بے شک وہ سخت عذابوں والا بھی ہے ‘۔ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے، وہی تمہیں فناکرے گا، وہی پھر دوبارہ پیدا کرے گا۔ جیسے فرمایا آیت «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:28] ‏‏‏‏ ’ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حالانکہ تم مردہ تھے، اسی نے تمہیں زندہ کیا پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا، پھر دوبارہ زندہ کر دے گا۔ پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:26] ‏‏‏‏ ’ اللہ ہی تمہیں دوبارہ زندہ کرتا ہے پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر تمہیں قیامت والے دن، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں جمع کرے گا ‘۔ اور جگہ فرمایا «قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ» ۱؎ [40-غافر:11] ‏‏‏‏ ’ وہ کہیں گے کہ اے اللہ تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا ‘۔ پس کلام کا مطلب یہ ہے کہ ایسے اللہ کے ساتھ تم دوسروں کو شریک کیوں ٹھیراتے ہو؟ دوسروں کی عبادت اس کے ساتھ کیسے کرتے ہو؟ پیدا کرنے والا فقط وہی، روزی دینے والا وہی، مالک ومختار فقط وہی، تم کچھ نہ تھے اس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہاری موت کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا یعنی قیامت کے دن انسان بڑا ہی ناشکرا اور بے قدرا ہے۔
63۔ 1 لَطِیْف (باریک بین) ہے، اس کا علم ہر چھوٹی بڑی چیز کو محیط ہے یا لطف کرنے والا یعنی اپنے بندوں کو روزی پہنچانے میں لطف و کرم سے کام لیتا ہے۔ خَیْر وہ ان باتوں سے باخبر ہے جن میں اس کے بندوں کے معاملات کی تدبیر اور اصلاح ہے۔ یا ان کی ضروریات و حاجات سے آگاہ ہے۔
(آیت 63) ➊ {اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً …:} اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے کی نعمت کا ذکر فرما کر اپنے حق ہونے اور دوسرے تمام معبودوں کے باطل ہونے کا اور اپنی صفات {” سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ“} اور{” الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ “} کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد اپنے ہر چیز پر قادر ہونے کی دلیل کے طور پر اپنی چھ نعمتیں شمار فرمائیں، جن میں سے پہلی نعمت اس آیت میں بیان فرمائی ہے۔ ➋ { ” اَلَمْ تَرَ “} کا لفظی معنی ہے ”کیا تو نے نہیں دیکھا۔“ یہاں یہ معنی بھی مراد ہو سکتا ہے، کیونکہ بارش برسنا اور زمین کا سر سبز ہونا ہر دیکھنے والے کو نظر آتا ہے۔ مگر عام طور پر قرآن مجید میں {” اَلَمْ تَرَ “} کا لفظ {”أَلَمْ تَعْلَمْ“} کے معنی میں آیا ہے، یعنی ”کیا تمھیں معلوم نہیں۔“ دیکھیے سورۂ فیل کی آیت (۱): «‏‏‏‏اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ» کی تفسیر۔ یہاں بھی یہی دوسرا معنی زیادہ مناسب ہے، کیونکہ دیکھنے سے مقصود علم ہی ہے اور جس دیکھنے سے علم حاصل نہ ہو وہ کالعدم ہے۔ ➌ { ” مَآءً “} کی تنوینِ تقلیل کی وجہ سے ”کچھ پانی“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو ”زمین سرسبز ہوگئی “ کے بجائے فرمایا ”زمین سرسبز ہو جاتی ہے۔“ یعنی ماضی کے بجائے مضارع کا لفظ استعمال فرمایا، کیونکہ بارش کا نزول ایک دفعہ ہوتا ہے تو زمین ایک لمبا عرصہ سرسبز رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت دیکھیے کہ زمین مردہ اور پتھر کی طرح سخت تھی، اس کے نیچے خشک بیج مدت سے دفن تھے، رحمت کی بارش برسی تو زمین پھولی اور ابھری، خشک بیج میں زندگی پیدا ہوئی اور نرم و نازک کونپل زمین کا سینہ چیر کر باہر نکلی۔ دیکھتے ہی دیکھتے زمین کا سارا تختہ آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سرور پہنچانے والا سبز رنگ اختیار کر گیا، جو عقل والوں کے لیے دلیل ہے کہ جس اللہ تعالیٰ نے بارش کے ذریعے سے بنجر زمین میں دفن خشک بیج سے پودا پیدا فرمایا وہی قیامت کو اس زمین سے مردہ انسانوں کو ان کی {” عَجْبُ الذَّنَبِ “} (دم کی ہڈی) سے دوبارہ زندہ کر سکتا ہے اور کرے گا۔ [ بخاري، التفسیر، باب «یوم ینفخ فی الصور فتأتون أفواجا» ‏‏‏‏: ۴۹۳۵ ] بعض مفسرین نے اس میں اس اشارے کا ذکر بھی فرمایا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو بارش کے ذریعے سے زندگی بخشتا ہے، اسی طرح وہ مردہ دلوں کو وحی الٰہی کے ذریعے سے ایمان کی زندگی عطا فرماتا ہے۔ ➍ زمین سے پیدا ہونے والے پودوں کے پتے، پھول، پھل اور دانے، غرض ہر چیز انسان کے لیے خوراک، لباس اور دوسری ضروریات کے کام آتی ہے اور سبھی اللہ کی نعمتیں ہیں مگر یہاں زمین کے سر سبز ہونے کو خاص طور پر ذکر فرمایا کہ اس سبزے سے آنکھوں کو جو تازگی اور دل کو جو خوشی حاصل ہوتی ہے وہ بجائے خود ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ دوسری نعمتوں کا ذکر چھوڑ دیا کہ انسان خود سوچ لے۔ ➎ { اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ:} لفظ {” لَطِيْفٌ “} میں دو مفہوم شامل ہیں، ایک ”باریک چیزوں کو دیکھنے والا “ اور دوسرا ”نہایت مہربانی والا۔“ {” اِنَّ “} عموماً پہلے جملے کی وجہ بیان کرنے کے لیے آتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتار کر زمین کو سرسبز اس لیے کیا کہ وہ نہایت مہربان بھی ہے، باریک بین بھی اور ہر چیز کی پوری خبر رکھنے والا بھی۔ اسے خوب معلوم ہے کہ زمین کے سینے میں کس جگہ کون سا انسان یا حیوان یا کسی پودے کا باریک سے باریک بیج دفن ہے اور اسی کے لطف و کرم سے یہ سب کچھ دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اس سے اپنے بندوں کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی مادی یا اخلاقی ضرورت پوشیدہ نہیں ہے، وہ اپنی کمال مہربانی اور باریک طریقوں سے ایسے انتظام فرماتا ہے کہ ہر بندے کی بلکہ ہر مخلوق کی ضرورت، جو اس کے حسب حال ہے، پوری ہو۔
لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿٪۶۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے بے شک وہی غنی و حمید ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے اور یقیناً اللہ وہی ہے بے نیاز تعریفوں واﻻ
احمد رضا خان بریلوی
اسی کا مال ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور بیشک اللہ ہی بے نیاز سب خوبیوں سراہا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور بےشک اللہ سب سے بے نیاز (اور) ہر تعریف کا حقدار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور بلاشبہ اللہ ہی یقینا بڑا بے پروا، تمام تعریفوں والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قدرت اور غلبہ الٰہی کا اظہار ٭٭

اپنی عظیم الشان قدرت اور زبردست غلبے کو بیان فرما رہا ہے کہ «فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ» ۱؎ [22-الحج:5] ‏‏‏‏ ’ سوکھی غیر آباد مردہ زمین پر اس کے حکم سے ہوائیں بادل لاتی ہیں جو پانی برساتے ہیں اور زمین لہلہاتی ہوئی سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے گویا جی اٹھتی ہے ‘۔ یہاں پر (‏‏‏‏ف)‏‏‏‏‏‏‏‏ تعقیب کے لیے ہے ہر چیز کی تعقیب اسی کے انداز سے ہوتی ہے۔ «ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا» ۱؎ [23-المؤمنون:14] ‏‏‏‏ نطفے کا ملقہ ہونا پھر ملقے کا مضغہ ہونا جہاں بیان فرمایا ہے وہاں بھی (‏‏‏‏ف)‏‏‏‏‏‏‏‏ آئی ہے اور ہر دو صورت میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ حجاز کی بعض زمینیں ایسی بھی ہیں کہ بارش کے ہوتے ہی معا سرخ وسبز ہو جاتی ہیں «فَاللہُ اَعْلَمُ» ۔ زمین کے گوشوں میں اور اس کے اندر جو کچھ ہے، سب اللہ کے علم میں ہے۔ ایک ایک دانہ اس کی دانست میں ہے۔ پانی وہیں پہنچتا ہے اور وہ اگ آتا ہے۔ جیسے لقمان رحمتہ اللہ علیہ کے قول میں ہے کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ‏‏‏‏ ’ اے بچے! اگرچہ کوئی چیز رائی کے دانے برابر ہوچاہے کسی چٹان میں ہو یا آسمان میں یا زمین میں اللہ اسے ضرور لائے گا اللہ تعالیٰ پاکیزہ اور باخبر ہے ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» ۱؎ [27-النمل:25] ‏‏‏‏ ’ زمین و آسمان کی ہر چیز کو اللہ ظاہر کر دے گا ‘۔ ایک آیت میں ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [6-الأنعام:59] ‏‏‏‏، ’ ہرپتے کے جھڑنے کا، ہر دانے کا جو زمین کے اندھیروں میں ہو ہر تر وخشک چیز کا اللہ کو علم ہے اور وہ کھلی کتاب میں ہے ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ» ۱؎ [10-یونس:61] ‏‏‏‏ ’ کوئی ذرہ آسمان و زمیں میں اللہ سے پوشیدہ نہیں، کوئی چھوٹی بڑی چیز ایسی نہیں جو ظاہر کتاب میں نہ ہو ‘۔ امیہ بن ابو صلت یا زید بن عمر و بن نفیل کے قصیدے میں ہے شعر «وَقُولَا لَهُ مَنْ يُنْبِت الْحَبّ فِي الثَّرَى» «فَيُصْبِح مِنْهُ الْبَقْل يَهْتَزّ رَابِيًا» «وَيُخْرِج مِنْهُ حَبّه فِي رُءُوسه» «فَفِي ذَلِكَ آيَات لِمَنْ كَانَ وَاعِيًا» ”اے میرے دونوں پیغمبرو! تم اس سے کہو کہ مٹی میں سے دانے کون نکالتا ہے کہ درخت پھوٹ کر جھومنے لگتا ہے اور اس کے سرے پر بال نکل آتی ہے؟ عقلمند کے لیے تو اس میں قدرت کی ایک چھوڑ کئی نشانیاں موجود ہیں۔‏‏‏‏“

تمام کائنات کا مالک وہی ہے۔ وہ ہر ایک سے بے نیاز ہے۔ ہر ایک اس کے سامنے فقیر اور اس کی بارگاہ عالی کا محتاج ہے۔ سب انسان اس کے غلام ہیں۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ کل حیوانات، جمادات، کھیتیاں، باغات اس نے تمہارے فائدے کے لیے، تمہاری ماتحتی میں دے رکھے ہیں آسمان و زمین کی چیزیں تمہارے لیے سرگرداں ہیں۔ اس کا احسان وفضل و کرم ہے کہ اسی کے حکم سے کشتیاں تمہیں ادھر سے ادھر لے جاتی ہیں۔ تمہارے مال ومتاع ان کے ذریعے یہاں سے وہاں پہنچتے ہیں۔ پانی کو چیرتی ہوئیں، موجوں کو کاٹتی ہوئیں بحکم الٰہی ہواؤں کے ساتھ تمہارے نفع کے لیے چل رہی ہیں۔ یہاں کی ضرورت کی چیزیں وہاں سے وہاں کی یہاں برابر پہنچتی رہتی ہیں۔ وہ خود آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر نہ گر پڑے ورنہ ابھی وہ حکم دے تو یہ زمین پر آ رہے اور تم سب ہلاک ہو جاؤ۔

انسانوں کے گناہوں کے باوجود اللہ ان پر رأفت و شفقت، بندہ نوازی اور غلام پروری کر رہا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [13-الرعد:6] ‏‏‏‏، ’ لوگوں کے گناہوں کے باوجود اللہ تعالیٰ ان پر صاحب مغفرت ہے۔ ہاں بے شک وہ سخت عذابوں والا بھی ہے ‘۔ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے، وہی تمہیں فناکرے گا، وہی پھر دوبارہ پیدا کرے گا۔ جیسے فرمایا آیت «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:28] ‏‏‏‏ ’ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حالانکہ تم مردہ تھے، اسی نے تمہیں زندہ کیا پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا، پھر دوبارہ زندہ کر دے گا۔ پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:26] ‏‏‏‏ ’ اللہ ہی تمہیں دوبارہ زندہ کرتا ہے پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر تمہیں قیامت والے دن، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں جمع کرے گا ‘۔ اور جگہ فرمایا «قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ» ۱؎ [40-غافر:11] ‏‏‏‏ ’ وہ کہیں گے کہ اے اللہ تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا ‘۔ پس کلام کا مطلب یہ ہے کہ ایسے اللہ کے ساتھ تم دوسروں کو شریک کیوں ٹھیراتے ہو؟ دوسروں کی عبادت اس کے ساتھ کیسے کرتے ہو؟ پیدا کرنے والا فقط وہی، روزی دینے والا وہی، مالک ومختار فقط وہی، تم کچھ نہ تھے اس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہاری موت کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا یعنی قیامت کے دن انسان بڑا ہی ناشکرا اور بے قدرا ہے۔
64۔ 1 پیدائش کے لحاظ سے بھی، ملکیت کے اعتبار سے بھی اور تصرف کرنے کے اعتبار سے بھی۔ اس لئے سب مخلوق اس کی محتاج ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ کیونکہ وہ غنی بےنیاز ہے۔ اور جو ذات سارے کمالات اور اختیارات کا منبع ہے، ہر حال میں تعریف کی مستحق بھی وہی ہے۔
(آیت 64) ➊ {لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ:} یہ دوسری دلیل ہے، یعنی وہ صرف آسمان سے بارش برسانے اور زمین سے سبزہ اگانے ہی کا مالک نہیں بلکہ آسمانوں میں جو کچھ ہے اور زمین میں جو کچھ ہے سب کا وہ اکیلا مالک ہے، بارش برسانا اور سبزہ اگانا تو اس کے اختیار کا معمولی سا حصہ ہے۔ {” لَهٗ “} کو پہلے لانے سے قصر کا مفہوم پیدا ہوا۔ تو جب ہر چیز کا مالک وہی ہے تو عبادت کسی اور کی کیوں ہو؟ ➋ { وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ:} یہ عام مشاہدہ ہے کہ انسان جن چیزوں کا مالک ہوتا ہے ان کا محتاج بھی ہوتا ہے، کیونکہ وہ اس کی ضرورت ہوتی ہیں، اس لیے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہونے کے ذکر کے ساتھ وضاحت فرمائی کہ وہ آسمان و زمین اور ان میں موجود کسی چیز کا محتاج نہیں، بلکہ سب سے بے پروا اور غنی ہے، حتیٰ کہ حمد کرنے والوں کی حمد سے بھی غنی ہے۔ اس وصف کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ حمید یعنی تمام تعریفوں والا ہے، ہر حمد اور تعریف خواہ کسی کی ہو، دراصل وہ اس اکیلے ہی کی ہے، کیونکہ مخلوق میں تعریف کے لائق جو خوبی بھی ہے اسی کی عطا کردہ ہے۔ جب سب اسی کے محتاج ہیں تو پھر مخلوق کی عبادت کیوں ہو جو خود اپنے وجود میں بھی اس کی محتاج ہے۔ ➌ {” اِنَّ “ } کے اسم {” اللّٰهَ “} اور اس کی خبر{ ” الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ “ } کے درمیان ضمیر فصل {” هُوَ “} لانے سے اور {” اِنَّ “} کی خبر {” الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ “} پر الف لام لانے سے کلام میں دو وجہوں سے حصر پیدا ہو گیا، جس سے ترجمہ یہ ہو گا کہ بلاشبہ اللہ ہی یقینا بڑا بے پروا، تمام تعریفوں والا ہے۔
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ وَ الۡفُلۡکَ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ یُمۡسِکُ السَّمَآءَ اَنۡ تَقَعَ عَلَی الۡاَرۡضِ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۶۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اُس نے وہ سب کچھ تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے جو زمین میں ہے، اور اسی نے کشتی کو قاعدے کا پابند بنایا ہے کہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے، اور وہی آسمان کو اس طرح تھامے ہوئے کہ اس کے اِذن کے بغیر وہ زمین پر نہیں گر سکتا؟ واقعہ یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے حق میں بڑا شفیق اور رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی نے زمین کی تمام چیزیں تمہارے لئے مسخر کر دی ہیں اور اس کے فرمان سے پانی میں چلتی ہوئی کشتیاں بھی۔ وہی آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر اس کی اجازت کے بغیر نہ گر پڑے، بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر شفقت ونرمی کرنے واﻻ اور مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے تمہارے بس میں کردیا جو کچھ زمین میں ہے اور کشتی کہ دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہے اور وہ روکے ہوئے ہے آسمان کو کہ زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے حکم سے، بیشک اللہ آدمیوں پر بڑی مہر والا مہربان ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نہیں دیکھتے کہ جو کچھ زمین میں ہے۔ اللہ نے وہ سب کچھ تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے اور کشتی کو بھی جو سمندر میں اس کے حکم سے چلتی ہے۔ اور وہی آسمان کو روکے ہوئے ہے کہ اس کے حکم کے بغیر زمین پر نہ گر پڑے۔ بےشک اللہ لوگوں پر بڑا شفقت والا، بڑا رحمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے تمھاری خاطر مسخر کر دیا ہے جو کچھ زمین میں ہے اور ان کشتیوں کو بھی جو سمندر میں اس کے حکم سے چلتی ہیں اور وہ آسمان کو تھام کر رکھتا ہے اس سے کہ زمین پر گر پڑے مگر اس کے اذن سے۔ بے شک اللہ یقینا لوگوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قدرت اور غلبہ الٰہی کا اظہار ٭٭

اپنی عظیم الشان قدرت اور زبردست غلبے کو بیان فرما رہا ہے کہ «فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ» ۱؎ [22-الحج:5] ‏‏‏‏ ’ سوکھی غیر آباد مردہ زمین پر اس کے حکم سے ہوائیں بادل لاتی ہیں جو پانی برساتے ہیں اور زمین لہلہاتی ہوئی سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے گویا جی اٹھتی ہے ‘۔ یہاں پر (‏‏‏‏ف)‏‏‏‏‏‏‏‏ تعقیب کے لیے ہے ہر چیز کی تعقیب اسی کے انداز سے ہوتی ہے۔ «ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا» ۱؎ [23-المؤمنون:14] ‏‏‏‏ نطفے کا ملقہ ہونا پھر ملقے کا مضغہ ہونا جہاں بیان فرمایا ہے وہاں بھی (‏‏‏‏ف)‏‏‏‏‏‏‏‏ آئی ہے اور ہر دو صورت میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ حجاز کی بعض زمینیں ایسی بھی ہیں کہ بارش کے ہوتے ہی معا سرخ وسبز ہو جاتی ہیں «فَاللہُ اَعْلَمُ» ۔ زمین کے گوشوں میں اور اس کے اندر جو کچھ ہے، سب اللہ کے علم میں ہے۔ ایک ایک دانہ اس کی دانست میں ہے۔ پانی وہیں پہنچتا ہے اور وہ اگ آتا ہے۔ جیسے لقمان رحمتہ اللہ علیہ کے قول میں ہے کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ‏‏‏‏ ’ اے بچے! اگرچہ کوئی چیز رائی کے دانے برابر ہوچاہے کسی چٹان میں ہو یا آسمان میں یا زمین میں اللہ اسے ضرور لائے گا اللہ تعالیٰ پاکیزہ اور باخبر ہے ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» ۱؎ [27-النمل:25] ‏‏‏‏ ’ زمین و آسمان کی ہر چیز کو اللہ ظاہر کر دے گا ‘۔ ایک آیت میں ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [6-الأنعام:59] ‏‏‏‏، ’ ہرپتے کے جھڑنے کا، ہر دانے کا جو زمین کے اندھیروں میں ہو ہر تر وخشک چیز کا اللہ کو علم ہے اور وہ کھلی کتاب میں ہے ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ» ۱؎ [10-یونس:61] ‏‏‏‏ ’ کوئی ذرہ آسمان و زمیں میں اللہ سے پوشیدہ نہیں، کوئی چھوٹی بڑی چیز ایسی نہیں جو ظاہر کتاب میں نہ ہو ‘۔ امیہ بن ابو صلت یا زید بن عمر و بن نفیل کے قصیدے میں ہے شعر «وَقُولَا لَهُ مَنْ يُنْبِت الْحَبّ فِي الثَّرَى» «فَيُصْبِح مِنْهُ الْبَقْل يَهْتَزّ رَابِيًا» «وَيُخْرِج مِنْهُ حَبّه فِي رُءُوسه» «فَفِي ذَلِكَ آيَات لِمَنْ كَانَ وَاعِيًا» ”اے میرے دونوں پیغمبرو! تم اس سے کہو کہ مٹی میں سے دانے کون نکالتا ہے کہ درخت پھوٹ کر جھومنے لگتا ہے اور اس کے سرے پر بال نکل آتی ہے؟ عقلمند کے لیے تو اس میں قدرت کی ایک چھوڑ کئی نشانیاں موجود ہیں۔‏‏‏‏“

تمام کائنات کا مالک وہی ہے۔ وہ ہر ایک سے بے نیاز ہے۔ ہر ایک اس کے سامنے فقیر اور اس کی بارگاہ عالی کا محتاج ہے۔ سب انسان اس کے غلام ہیں۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ کل حیوانات، جمادات، کھیتیاں، باغات اس نے تمہارے فائدے کے لیے، تمہاری ماتحتی میں دے رکھے ہیں آسمان و زمین کی چیزیں تمہارے لیے سرگرداں ہیں۔ اس کا احسان وفضل و کرم ہے کہ اسی کے حکم سے کشتیاں تمہیں ادھر سے ادھر لے جاتی ہیں۔ تمہارے مال ومتاع ان کے ذریعے یہاں سے وہاں پہنچتے ہیں۔ پانی کو چیرتی ہوئیں، موجوں کو کاٹتی ہوئیں بحکم الٰہی ہواؤں کے ساتھ تمہارے نفع کے لیے چل رہی ہیں۔ یہاں کی ضرورت کی چیزیں وہاں سے وہاں کی یہاں برابر پہنچتی رہتی ہیں۔ وہ خود آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر نہ گر پڑے ورنہ ابھی وہ حکم دے تو یہ زمین پر آ رہے اور تم سب ہلاک ہو جاؤ۔

انسانوں کے گناہوں کے باوجود اللہ ان پر رأفت و شفقت، بندہ نوازی اور غلام پروری کر رہا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [13-الرعد:6] ‏‏‏‏، ’ لوگوں کے گناہوں کے باوجود اللہ تعالیٰ ان پر صاحب مغفرت ہے۔ ہاں بے شک وہ سخت عذابوں والا بھی ہے ‘۔ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے، وہی تمہیں فناکرے گا، وہی پھر دوبارہ پیدا کرے گا۔ جیسے فرمایا آیت «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:28] ‏‏‏‏ ’ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حالانکہ تم مردہ تھے، اسی نے تمہیں زندہ کیا پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا، پھر دوبارہ زندہ کر دے گا۔ پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:26] ‏‏‏‏ ’ اللہ ہی تمہیں دوبارہ زندہ کرتا ہے پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر تمہیں قیامت والے دن، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں جمع کرے گا ‘۔ اور جگہ فرمایا «قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ» ۱؎ [40-غافر:11] ‏‏‏‏ ’ وہ کہیں گے کہ اے اللہ تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا ‘۔ پس کلام کا مطلب یہ ہے کہ ایسے اللہ کے ساتھ تم دوسروں کو شریک کیوں ٹھیراتے ہو؟ دوسروں کی عبادت اس کے ساتھ کیسے کرتے ہو؟ پیدا کرنے والا فقط وہی، روزی دینے والا وہی، مالک ومختار فقط وہی، تم کچھ نہ تھے اس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہاری موت کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا یعنی قیامت کے دن انسان بڑا ہی ناشکرا اور بے قدرا ہے۔
65۔ 1 مثلًا جانور، نہریں، درخت اور دیگر بیشمار چیزیں، جن کے منافع سے انسان بہرہ ور اور لذت یاب ہوتا ہے۔ 65۔ 2 یعنی اگر وہ چاہے تو آسمان زمین پر گرپڑے، جس سے زمین پر ہر چیز تباہ ہوجائے۔ ہاں قیامت والے دن اس کی مشیت سے آسمان بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گا۔ 65۔ 3 اس لئے اس نے مذکورہ چیزوں کو انسان کے تابع کردیا ہے اور آسمان کو بھی ان پر گرنے نہیں دیتا۔ تابع (مسخر) کرنے کا مطلب ہے کہ ان چیزوں سے فائدہ اٹھانا اس کے لئے ممکن یا آسان کردیا گیا ہے۔
(آیت 65) ➊ { اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ:} یہ تیسری دلیل ہے۔ زمین کی ہر چیز کو انسان کے لیے مسخر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے اس طرح بنایا ہے کہ آدمی اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ سورج اور چاند اس رفتار سے چل رہے ہیں جو انسان کے لیے مفید ہے۔ ہوا، پانی، آگ، بجلی، ایٹم، غرض کتنی ہی منہ زور قوتیں ہیں جن سے انسان فائدہ اٹھا رہا ہے۔ پالتو جانور ہیں تو ان پر سواری کرتا ہے، ان کا دودھ پیتا، گوشت کھاتا اور کئی ضروریات پوری کرتا ہے، غرض وہ ہر طرح سے انسان کے تابع کر دیے گئے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اونٹ، گائے، بھینس اور گھوڑے کو انسان کے تابع نہ کرتا تو انسان کبھی انھیں پالتو نہ بنا سکتا، فرمایا: «‏‏‏‏وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا يَاْكُلُوْنَ» [ یٰسٓ: ۷۲ ] ”اور ہم نے انھیں ان کے تابع کر دیا تو ان میں سے کچھ ان کی سواری ہیں اور ان میں سے بعض کو وہ کھاتے ہیں۔“ رہے جنگلی جانور، تو ان کا شکار کرکے انھیں زندہ یا مردہ اپنے قابو میں لے آتا ہے۔ ➋ { وَ الْفُلْكَ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ:} یہ چوتھی دلیل ہے، اگرچہ سمندر میں چلنے والے جہاز بھی زمین کی ان چیزوں میں شامل ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے مسخر کر رکھا ہے، مگر ان کا معاملہ دوسری چیزوں سے زیادہ عجیب ہے کہ پانی، جو ہر وزن والی چیز کو اپنے اندر غرق کر لیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے اس طرح انسان کے فائدے کے لیے مسخر کر دیا ہے کہ وہ اللہ کی مقرر کردہ ایک خاص وضع پر بنائے ہوئے ہزاروں ٹن کے پہاڑوں جیسے وزنی اور لمبے چوڑے اور اونچے بحری جہازوں کو اپنے سینے پر اٹھائے رکھتا ہے، غرق نہیں کرتا۔ یہ جہاز انسان کی ضرورت کی ہزاروں اشیاء اٹھا کر سیکڑوں ہزاروں میل کا سفر کرتے ہیں اور ان میں بیٹھے ہوئے لوگ اس طرح آرام سے بیٹھے ہوتے ہیں گویا وہ اپنے گھر میں آرام کر رہے ہیں۔ {” بِاَمْرِهٖ “} یعنی یہ سب کچھ اس کے تکوینی حکم سے ممکن ہوا کہ اس نے سمندر کو اس طرح بنایا ہے کہ جہاز اس پر چل سکیں۔ اگر اس کا حکم نہ ہوتا تو سمندر انھیں ایک لمحے میں ڈبو کر اپنی آغوش میں لے لیتا، یا انھیں اپنے سینے پر چلنے نہ دیتا اور وہ ایک جگہ کھڑے کھڑے ہی تباہ ہو جاتے۔ ➌ { وَ يُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ:} یہ پانچویں دلیل ہے۔ آسمان کو زمین پر گرنے سے روک کر رکھنا سمندر میں جہازوں کے چلنے سے بھی عجیب ہے کہ جہازوں کے نیچے کم از کم پانی تو ہے جسے اللہ نے انھیں غرق کرنے سے منع کر دیا ہے، بلکہ اسے جہازوں کا ٹھکانا اور سہارا بنا دیا ہے مگر آسمان کو اتنی بلندی پر نیچے کسی بھی چیز کے سہارے کے بغیر تھام کر رکھنا اس بے انتہا قوتوں والے مالک ہی کا کام ہے۔ ایسے مالک کے ہوتے ہوئے بے بس مخلوق کی بندگی کرنے سے بڑی بے انصافی کیا ہو سکتی ہے؟ ➍ {اِلَّا بِاِذْنِهٖ:} یہ اس لیے فرمایا کہ جب اس کا اذن ہو گا تو آسمان پھٹ جائے گا اور اسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے سے کوئی چیز نہیں روک سکے گی۔ ➎ {اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ: ”رَؤفٌ“} اور {” رَحِيْمٌ “ } دونوں مبالغے کے صیغے ہیں۔ صفت {”رَأْفَةٌ“ } میں نقصان سے بچانے کا اور صفت {”رَحْمَةٌ“} میں نفع پہنچانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کی جگہ بھی آ جاتے ہیں۔ اکٹھے آنے میں نقصان سے بچانے اور نفع پہنچانے کے دونوں مفہوم جمع ہو گئے۔ (ابن عاشور) {”رَءُوْفٌ“} اور {” رَحِيْمٌ “} بجائے خود مبالغے کے صیغے ہیں، ان پر مزید تنوینِ تعظیم آنے کے بعد اس کی رافت و رحمت کا کیا اندازہ ہو سکتا ہے؟ ➏ { اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر جو یہ احسانات فرمائے ہیں اور تمھاری زندگی کے لیے جو یہ اسباب فراہم کیے ہیں یہ اس وجہ سے نہیں کہ وہ تمھارا حاجت مند ہے، بلکہ یہ سراسر اس کی شفقت و مہربانی کا کرشمہ ہے، تمھارا اس پر کوئی زور نہ تھا کہ وہ چاہتا یا نہ چاہتا تم اس سے یہ اسباب حاصل کر لیتے۔
وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَحۡیَاکُمۡ ۫ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمۡ ثُمَّ یُحۡیِیۡکُمۡ ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَکَفُوۡرٌ ﴿۶۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی ہے، وہی تم کو موت دیتا ہے اور وہی پھر تم کو زندہ کرے گا سچ یہ ہے کہ انسان بڑا ہی منکرِ حق ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی نے تمہیں زندگی بخشی، پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر وہی تمہیں زنده کرے گا، بے شک انسان البتہ ناشکرا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی ہے جس نے تمہیں زندہ کیا اور پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا بیشک آدمی بڑا ناشکرا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ وہی ہے جس نے تمہیں زندگی عطا کی ہے پھر وہی تمہیں موت دے گا۔ اور پھر (دوبارہ) زندہ کرے گا۔ بےشک انسان بڑا ناشکرا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی ہے جس نے تمھیں زندگی بخشی، پھر تمھیں مارے گا، پھر تمھیں زندہ کرے گا۔ بے شک انسان یقینا بہت ناشکرا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قدرت اور غلبہ الٰہی کا اظہار ٭٭

اپنی عظیم الشان قدرت اور زبردست غلبے کو بیان فرما رہا ہے کہ «فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ» ۱؎ [22-الحج:5] ‏‏‏‏ ’ سوکھی غیر آباد مردہ زمین پر اس کے حکم سے ہوائیں بادل لاتی ہیں جو پانی برساتے ہیں اور زمین لہلہاتی ہوئی سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے گویا جی اٹھتی ہے ‘۔ یہاں پر (‏‏‏‏ف)‏‏‏‏‏‏‏‏ تعقیب کے لیے ہے ہر چیز کی تعقیب اسی کے انداز سے ہوتی ہے۔ «ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا» ۱؎ [23-المؤمنون:14] ‏‏‏‏ نطفے کا ملقہ ہونا پھر ملقے کا مضغہ ہونا جہاں بیان فرمایا ہے وہاں بھی (‏‏‏‏ف)‏‏‏‏‏‏‏‏ آئی ہے اور ہر دو صورت میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ حجاز کی بعض زمینیں ایسی بھی ہیں کہ بارش کے ہوتے ہی معا سرخ وسبز ہو جاتی ہیں «فَاللہُ اَعْلَمُ» ۔ زمین کے گوشوں میں اور اس کے اندر جو کچھ ہے، سب اللہ کے علم میں ہے۔ ایک ایک دانہ اس کی دانست میں ہے۔ پانی وہیں پہنچتا ہے اور وہ اگ آتا ہے۔ جیسے لقمان رحمتہ اللہ علیہ کے قول میں ہے کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ‏‏‏‏ ’ اے بچے! اگرچہ کوئی چیز رائی کے دانے برابر ہوچاہے کسی چٹان میں ہو یا آسمان میں یا زمین میں اللہ اسے ضرور لائے گا اللہ تعالیٰ پاکیزہ اور باخبر ہے ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» ۱؎ [27-النمل:25] ‏‏‏‏ ’ زمین و آسمان کی ہر چیز کو اللہ ظاہر کر دے گا ‘۔ ایک آیت میں ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [6-الأنعام:59] ‏‏‏‏، ’ ہرپتے کے جھڑنے کا، ہر دانے کا جو زمین کے اندھیروں میں ہو ہر تر وخشک چیز کا اللہ کو علم ہے اور وہ کھلی کتاب میں ہے ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ» ۱؎ [10-یونس:61] ‏‏‏‏ ’ کوئی ذرہ آسمان و زمیں میں اللہ سے پوشیدہ نہیں، کوئی چھوٹی بڑی چیز ایسی نہیں جو ظاہر کتاب میں نہ ہو ‘۔ امیہ بن ابو صلت یا زید بن عمر و بن نفیل کے قصیدے میں ہے شعر «وَقُولَا لَهُ مَنْ يُنْبِت الْحَبّ فِي الثَّرَى» «فَيُصْبِح مِنْهُ الْبَقْل يَهْتَزّ رَابِيًا» «وَيُخْرِج مِنْهُ حَبّه فِي رُءُوسه» «فَفِي ذَلِكَ آيَات لِمَنْ كَانَ وَاعِيًا» ”اے میرے دونوں پیغمبرو! تم اس سے کہو کہ مٹی میں سے دانے کون نکالتا ہے کہ درخت پھوٹ کر جھومنے لگتا ہے اور اس کے سرے پر بال نکل آتی ہے؟ عقلمند کے لیے تو اس میں قدرت کی ایک چھوڑ کئی نشانیاں موجود ہیں۔‏‏‏‏“

تمام کائنات کا مالک وہی ہے۔ وہ ہر ایک سے بے نیاز ہے۔ ہر ایک اس کے سامنے فقیر اور اس کی بارگاہ عالی کا محتاج ہے۔ سب انسان اس کے غلام ہیں۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ کل حیوانات، جمادات، کھیتیاں، باغات اس نے تمہارے فائدے کے لیے، تمہاری ماتحتی میں دے رکھے ہیں آسمان و زمین کی چیزیں تمہارے لیے سرگرداں ہیں۔ اس کا احسان وفضل و کرم ہے کہ اسی کے حکم سے کشتیاں تمہیں ادھر سے ادھر لے جاتی ہیں۔ تمہارے مال ومتاع ان کے ذریعے یہاں سے وہاں پہنچتے ہیں۔ پانی کو چیرتی ہوئیں، موجوں کو کاٹتی ہوئیں بحکم الٰہی ہواؤں کے ساتھ تمہارے نفع کے لیے چل رہی ہیں۔ یہاں کی ضرورت کی چیزیں وہاں سے وہاں کی یہاں برابر پہنچتی رہتی ہیں۔ وہ خود آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر نہ گر پڑے ورنہ ابھی وہ حکم دے تو یہ زمین پر آ رہے اور تم سب ہلاک ہو جاؤ۔

انسانوں کے گناہوں کے باوجود اللہ ان پر رأفت و شفقت، بندہ نوازی اور غلام پروری کر رہا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [13-الرعد:6] ‏‏‏‏، ’ لوگوں کے گناہوں کے باوجود اللہ تعالیٰ ان پر صاحب مغفرت ہے۔ ہاں بے شک وہ سخت عذابوں والا بھی ہے ‘۔ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے، وہی تمہیں فناکرے گا، وہی پھر دوبارہ پیدا کرے گا۔ جیسے فرمایا آیت «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:28] ‏‏‏‏ ’ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حالانکہ تم مردہ تھے، اسی نے تمہیں زندہ کیا پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا، پھر دوبارہ زندہ کر دے گا۔ پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:26] ‏‏‏‏ ’ اللہ ہی تمہیں دوبارہ زندہ کرتا ہے پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر تمہیں قیامت والے دن، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں جمع کرے گا ‘۔ اور جگہ فرمایا «قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ» ۱؎ [40-غافر:11] ‏‏‏‏ ’ وہ کہیں گے کہ اے اللہ تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا ‘۔ پس کلام کا مطلب یہ ہے کہ ایسے اللہ کے ساتھ تم دوسروں کو شریک کیوں ٹھیراتے ہو؟ دوسروں کی عبادت اس کے ساتھ کیسے کرتے ہو؟ پیدا کرنے والا فقط وہی، روزی دینے والا وہی، مالک ومختار فقط وہی، تم کچھ نہ تھے اس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہاری موت کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا یعنی قیامت کے دن انسان بڑا ہی ناشکرا اور بے قدرا ہے۔
66۔ 1 یہ بحیثیت جنس کے ہے۔ بعض افراد کا اس ناشکری سے نکل جانا اس کے منافی نہیں، کیونکہ انسانوں کی اکثریت میں یہ کفر و جحود پایا جاتا ہے۔
(آیت 66) ➊ {وَ هُوَ الَّذِيْۤ اَحْيَاكُمْ …:} یہ چھٹی نعمت ہے اور پہلے ذکر کی گئی تمام نعمتوں کی اصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں پیدا فرمایا، اگر پیدا ہی نہ کرتا تو دوسری تمام نعمتیں تمھارے کس کام کی تھیں؟ اس بات کو ہر ملحد شخص بھی مانتا ہے کہ ہم پہلے نہیں تھے، بعد میں پیدا ہوئے۔ {” ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ “} پھر وہ تمھیں موت دے گا، یہ حقیقت بھی ہر شخص تسلیم کرتا ہے۔ {” ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ “} جو شخص پہلی دونوں باتیں مانتا ہے اسے یہ بھی ماننا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ مرنے کے بعد زندہ بھی کرے گا۔ ➋ بظاہر ان تینوں میں سے نعمت صرف پہلی دفعہ پیدا کرنا ہے، کیونکہ پھر مارنا اور زندہ کرنا تو محاسبے کے لیے ہے، لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ بھی نعمتیں ہیں، کیونکہ ان دونوں کے بغیر جنت اور دیدار الٰہی کبھی حاصل نہیں ہو سکتے اور جو چیز جنت کی ہمیشہ کی زندگی اور مالک کے دیدار کا ذریعہ ہو اس کے نعمت ہونے میں کیا شک ہے؟ ➌ { اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ:لَكَفُوْرٌ”كَافِرٌ“} میں مبالغہ ہے اور کفر سے مراد کفر نعمت یعنی نعمتوں کی ناشکری یا ان کا انکار ہے، یعنی ابن آدم ان نعمتوں کی قدر نہیں کرتا جو اوپر کی آیات میں مذکور ہیں، نہ ان کا شکر ادا کرتا ہے، یعنی اس دعوت کو نہیں مانتا جو اس کی طرف سے اس کے رسول پیش کرتے ہیں۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ }» [ إبراہیم: ۳۴ ] ”اور اگر تم اللہ کی نعمت شمار کرو تو اسے شمار نہ کر پاؤ گے، بلاشبہ انسان یقینا بڑا ظالم، بہت ناشکرا ہے۔“
لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلۡنَا مَنۡسَکًا ہُمۡ نَاسِکُوۡہُ فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِی الۡاَمۡرِ وَ ادۡعُ اِلٰی رَبِّکَ ؕ اِنَّکَ لَعَلٰی ہُدًی مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۶۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہر امت کے لیے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے، پس اے محمدؐ، وہ اِس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں تم اپنے رب کی طرف دعوت دو، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
ہر امت کے لئے ہم نے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کر دیا ہے، جسے وه بجا ﻻنے والے ہیں پس انہیں اس امر میں آپ سے جھگڑا نہ کرنا چاہئے آپ اپنے پروردگار کی طرف لوگوں کو بلائیے۔ یقیناً آپ ٹھیک ہدایت پر ہی ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ہر امت کے لیے ہم نے عبادت کے قاعدے بنادیے کہ وہ ان پر چلے تو ہرگز وہ تم سے اس معاملہ میں جھگڑا نہ کریں اور اپنے رب کی طرف بلاؤ بیشک تم سیدھی راہ پر ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) ہم نے ہر قوم کیلئے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کر دیا ہے جس کے مطابق وہ عبادت کر رہی ہے۔ اس لئے انہیں آپ سے جھگڑا نہیں کرنا چاہیے اور آپ اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہیے! یقیناً آپ ہدایت کے سیدھے راستہ پر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ہر امت کے لیے ہی ہم نے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے جس کے مطابق وہ عبادت کرنے والے ہیں، سو وہ تجھ سے اس معاملے میں ہرگز جھگڑا نہ کریں اور تو اپنے رب کی طرف دعوت دے، بے شک تو یقینا سیدھے راستے پر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مناسک کے معنی ٭٭

اصل میں عربی زبان میں «مَنسَكً» کا لفظی ترجمہ وہ جگہ ہے، جہاں انسان جانے آنے کی عادت ڈال لے۔ احکام حج کی بجا آوری کو اس لیے «مَنَاسِکَ» کہا جاتا ہے کہ لوگ باربار وہاں جاتے ہیں اور ٹھہرتے ہیں۔ منقول ہے کہ یہاں مراد یہ ہے کہ ہر امت کے پیغمبر کے لیے ہم نے شریعت مقرر کی ہے، اس امر میں لوگ نہ لڑے، سے مراد یہ مشرک لوگ ہیں۔ اور اگر مراد ہر امت کے بطور قدرت کے ان کے افعال کا تقرر کرنا ہے۔ جیسے سورۃ البقرہ میں فرمان ہے کہ «وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا» ۱؎ [2-البقرۃ:148] ‏‏‏‏ ’ ہر ایک لیے ایک سمت ہے جدھر وہ متوجہ ہوتا ہے ‘ یہاں بھی ہے کہ ’ وہ اس کے بجا لانے والے ہیں ‘ تو ضمیر کا اعادہ بھی خود ان پر ہی ہے یعنی یہ ’ اللہ کی قدرت اور ارادے سے کر رہے ہیں ان کے جھگڑنے سے تو بددل نہ ہو اور حق سے نہ ہٹ۔ اپنے رب کی طرف بلاتا رہ اور اپنی ہدایت واستقامت پر مکمل یقین رکھ۔ یہی راستہ حق سے ملانے والا ہے، کامیابی سے ہمکنار کرنے والا ہے ‘۔ جیسے فرمایا ہے «وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَيْكَ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» ۱؎ [28-القص:87] ‏‏‏‏ ’ خبردار کہیں تجھے اللہ کی آیتوں کے تیرے پاس پہنچ جانے پر بھی ان سے روک نہ دیں، اپنے رب کے راستے کی دعوت عام برابر دیتا رہ ‘۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی حق قبول کرنے سے جائے تو اس سے کنارہ اختیار کیجئے اور کہہ دیجئیے اللہ تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے۔ جیسے کئی جگہ اسی مضمون کو دہرایا ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [10-یونس:41] ‏‏‏‏ ’ اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو ان سے کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو، میں تمہارے کرتوت سے بیزار ہوں ‘۔ پس یہاں بھی ان کے کان کھول دیئے کہ «هُوَ أَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِ كَفَىٰ بِهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ» ۱؎ [46-الاحقاف:8] ‏‏‏‏ ’ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے وہ تمہاری ادنیٰ سی ادنیٰ حرکت کو بھی جانتا ہے اور وہی ہے تم میں کافی شاہد ہے قیامت کے دن ہم تم میں فیصلہ اللہ خود کر دے گا، اور اس وقت سارے اختلافات مٹ جائیں گے ‘۔ جیسے فرمان ہے «فَلِذَٰلِكَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَقُلْ آمَنتُ بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ مِن كِتَابٍ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ اللَّـهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ اللَّـهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ» ۱؎ [42-الشورى:15] ‏‏‏‏ ’ تو اسی کی دعوت دیتا رہ اور ہمارے حکم پر ثابت قدم رہ اور کسی کی خواہش کے پیچھے نہ لگ اور صاف اعلان کر دے کہ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب پر میرا ایمان ہے ‘۔
67۔ 1 یعنی ہر زمانے میں ہم نے لوگوں کے لئے ایک شریعت مقرر کی، جو بعض چیزوں میں سے ایک دوسرے سے مختلف بھی ہوتی، جس طرح تورات، امت موسیٰ ؑ کے لئے، انجیل امت عیسیٰ ؑ کے لئے شریعت تھی اور اب قرآن امت محمدیہ کے لئے شریعت اور ضابطہ حیات ہے۔ 67۔ 2 یعنی اللہ نے آپ کو جو دین اور شریعت عطا کی ہے، یہ بھی مذکورہ اصول کے مطابق ہی ہے، ان سابقہ شریعت والوں کو چاہیے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر ایمان لے آئیں، نہ کہ اس معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھگڑیں۔ 67۔ 3 یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جھگڑے کی پرواہ نہ کریں، بلکہ ان کو اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہیں، کیونکہ اب صراط مستقیم پر صرف آپ ہی گامزن ہیں، یعنی پچھلی شریعتیں منسوخ ہوگئی ہیں۔
(آیت 67) ➊ { لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ:مَنْسَكًا “ ” نَسَكَ يَنْسُكُ “} (ن، ک) سے مصدر میمی ہے، عبادت، قربانی، عبادت کا طریقہ یا قربانی کا طریقہ، یا یہ ظرف ہے، یعنی عبادت یا قربانی کی جگہ۔ {”نَسْكٌ“} اور {”نُسُكٌ“} عبادت، ذبیحہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کی نماز پڑھائی، پھر لوگوں کی طرف رخ کرکے فرمایا: [ إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِنَا فِيْ يَوْمِنَا هٰذَا أَنْ نَّبْدَأَ بِالصَّلَاةِ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ ] [ بخاري، العیدین، باب استقبال الإمام الناس في خطبۃ العید: ۹۷۶، عن البراء رضی اللہ عنہ ] ”ہمارے آج کے دن میں ہماری پہلی عبادت یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں، پھر واپس جائیں اور قربانی کریں۔“ یہاں نماز کو {” نُسُكٌ “} کہا گیا ہے۔ {” لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا “} کا جملہ اس سے پہلے آیت (۳۴) میں بھی گزرا ہے، وہاں اس کا معنی قربانی کا طریقہ کیا گیا ہے، کیونکہ وہاں آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ پالتو مویشیوں پر اللہ کا نام لینے یعنی ذبح کرنے کا ذکر ہے۔ ➋ آیات کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب حج کے بعض مناسک میں تبدیلی کی، اسی طرح جیسے پہلی امتوں کے لیے مقرر کر دہ بعض احکام منسوخ بھی کیے اور بعض میں تبدیلی فرمائی تو کفار مکہ نے، جو دین ابراہیم کے پیروکار ہونے کے دعوے دار تھے اور یہود و نصاریٰ سب نے جھگڑنا شروع کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اصل دین ایک ہے جو توحید ہے، مگر ہم نے ہر زمانے کے لوگوں کے لیے اس زمانے کے احوال و ضروریات کے مطابق عبادت کا ایک طریقہ مقرر فرمایا، جس کے مطابق وہ عبادت کرتے تھے۔ جس میں بعض چیزیں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی تھیں، جس طرح موسیٰ علیہ السلام کی امت کے لیے تورات اور عیسیٰ علیہ السلام کی امت کے لیے تورات کے ساتھ انجیل تھی۔ اب قیامت تک دنیا کے تمام لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں اور ان کا ضابطۂ حیات قرآن مجید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا: «‏‏‏‏لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا» ‏‏‏‏ [ المائدۃ: ۴۸ ] ”تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک راستہ اور ایک طریقہ مقرر کیا ہے۔“ ➌ { فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْاَمْرِ …:} یعنی اللہ تعالیٰ اگر بعد میں آنے والے نبی کے زمانے میں کسی عبادت کے طریقے میں کوئی تبدیلی کر دے تو بندوں کا کام یہ ہے کہ وہ دل و جان سے اسے قبول کریں نہ کہ اس معاملے میں پیغمبر سے جھگڑا شروع کر دیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ یہ لوگ ہر گز آپ سے اس معاملے میں جھگڑا نہ کریں، یعنی آپ بھی ان سے جھگڑا نہ کریں اور نہ انھیں جھگڑے کا موقع دیں اور آپ اپنے رب کی طرف دعوت دیتے چلے جائیں اور یقین رکھیں کہ آپ بالکل سیدھے راستہ پر ہیں۔ سورۂ جاثیہ میں فرمایا: «ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِيْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الجاثیۃ: ۱۸ ] ”پھر ہم نے تجھے (دین کے) معاملے میں ایک واضح راستے پر لگا دیا، سو اسی پر چل اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چل جو نہیں جانتے۔“
وَ اِنۡ جٰدَلُوۡکَ فَقُلِ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۶۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اگر وہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ "جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ کو خوب معلوم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر بھی اگر یہ لوگ آپ سے الجھنے لگیں تو آپ کہہ دیں کہ تمہارے اعمال سے اللہ بخوبی واقف ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر وہ تم سے جھگڑیں تو فرمادو کہ اللہ خوب جانتا ہے تمہارے کوتک (تمہاری کرتوت)
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر وہ لوگ (خواہ مخواہ) آپ سے بحث کریں تو آپ کہہ دیجئے! کہ اللہ بہتر جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر وہ تجھ سے جھگڑیں تو کہہ دے اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو تم کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مناسک کے معنی ٭٭

اصل میں عربی زبان میں «مَنسَكً» کا لفظی ترجمہ وہ جگہ ہے، جہاں انسان جانے آنے کی عادت ڈال لے۔ احکام حج کی بجا آوری کو اس لیے «مَنَاسِکَ» کہا جاتا ہے کہ لوگ باربار وہاں جاتے ہیں اور ٹھہرتے ہیں۔ منقول ہے کہ یہاں مراد یہ ہے کہ ہر امت کے پیغمبر کے لیے ہم نے شریعت مقرر کی ہے، اس امر میں لوگ نہ لڑے، سے مراد یہ مشرک لوگ ہیں۔ اور اگر مراد ہر امت کے بطور قدرت کے ان کے افعال کا تقرر کرنا ہے۔ جیسے سورۃ البقرہ میں فرمان ہے کہ «وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا» ۱؎ [2-البقرۃ:148] ‏‏‏‏ ’ ہر ایک لیے ایک سمت ہے جدھر وہ متوجہ ہوتا ہے ‘ یہاں بھی ہے کہ ’ وہ اس کے بجا لانے والے ہیں ‘ تو ضمیر کا اعادہ بھی خود ان پر ہی ہے یعنی یہ ’ اللہ کی قدرت اور ارادے سے کر رہے ہیں ان کے جھگڑنے سے تو بددل نہ ہو اور حق سے نہ ہٹ۔ اپنے رب کی طرف بلاتا رہ اور اپنی ہدایت واستقامت پر مکمل یقین رکھ۔ یہی راستہ حق سے ملانے والا ہے، کامیابی سے ہمکنار کرنے والا ہے ‘۔ جیسے فرمایا ہے «وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَيْكَ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» ۱؎ [28-القص:87] ‏‏‏‏ ’ خبردار کہیں تجھے اللہ کی آیتوں کے تیرے پاس پہنچ جانے پر بھی ان سے روک نہ دیں، اپنے رب کے راستے کی دعوت عام برابر دیتا رہ ‘۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی حق قبول کرنے سے جائے تو اس سے کنارہ اختیار کیجئے اور کہہ دیجئیے اللہ تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے۔ جیسے کئی جگہ اسی مضمون کو دہرایا ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [10-یونس:41] ‏‏‏‏ ’ اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو ان سے کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو، میں تمہارے کرتوت سے بیزار ہوں ‘۔ پس یہاں بھی ان کے کان کھول دیئے کہ «هُوَ أَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِ كَفَىٰ بِهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ» ۱؎ [46-الاحقاف:8] ‏‏‏‏ ’ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے وہ تمہاری ادنیٰ سی ادنیٰ حرکت کو بھی جانتا ہے اور وہی ہے تم میں کافی شاہد ہے قیامت کے دن ہم تم میں فیصلہ اللہ خود کر دے گا، اور اس وقت سارے اختلافات مٹ جائیں گے ‘۔ جیسے فرمان ہے «فَلِذَٰلِكَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَقُلْ آمَنتُ بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ مِن كِتَابٍ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ اللَّـهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ اللَّـهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ» ۱؎ [42-الشورى:15] ‏‏‏‏ ’ تو اسی کی دعوت دیتا رہ اور ہمارے حکم پر ثابت قدم رہ اور کسی کی خواہش کے پیچھے نہ لگ اور صاف اعلان کر دے کہ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب پر میرا ایمان ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 69،68){ وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ …:} یعنی اگر دین حق کی پوری وضاحت کے بعد بھی کفار جھگڑے سے باز نہ آئیں تو آپ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیں اور ان سے کہہ دیں کہ تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے، وہ تمھیں اس کا بدلہ ضرور دے گا اور دین کی جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے ان کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے دن کرے گا۔
اَللّٰہُ یَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۶۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ قیامت کے روز تمہارے درمیان ان سب باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک تمہارے سب کے اختلاف کا فیصلہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ آپ کرے گا
احمد رضا خان بریلوی
اللہ تم پر فیصلہ کردے گا قیامت کے دن جس بات میں اختلاف کرتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
قیامت کے دن اللہ تمہارے درمیان ان باتوں کے بارے میں فیصلہ کر دے گا جن میں تم باہم اختلاف کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ قیامت کے دن تمھارے درمیان اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مناسک کے معنی ٭٭

اصل میں عربی زبان میں «مَنسَكً» کا لفظی ترجمہ وہ جگہ ہے، جہاں انسان جانے آنے کی عادت ڈال لے۔ احکام حج کی بجا آوری کو اس لیے «مَنَاسِکَ» کہا جاتا ہے کہ لوگ باربار وہاں جاتے ہیں اور ٹھہرتے ہیں۔ منقول ہے کہ یہاں مراد یہ ہے کہ ہر امت کے پیغمبر کے لیے ہم نے شریعت مقرر کی ہے، اس امر میں لوگ نہ لڑے، سے مراد یہ مشرک لوگ ہیں۔ اور اگر مراد ہر امت کے بطور قدرت کے ان کے افعال کا تقرر کرنا ہے۔ جیسے سورۃ البقرہ میں فرمان ہے کہ «وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا» ۱؎ [2-البقرۃ:148] ‏‏‏‏ ’ ہر ایک لیے ایک سمت ہے جدھر وہ متوجہ ہوتا ہے ‘ یہاں بھی ہے کہ ’ وہ اس کے بجا لانے والے ہیں ‘ تو ضمیر کا اعادہ بھی خود ان پر ہی ہے یعنی یہ ’ اللہ کی قدرت اور ارادے سے کر رہے ہیں ان کے جھگڑنے سے تو بددل نہ ہو اور حق سے نہ ہٹ۔ اپنے رب کی طرف بلاتا رہ اور اپنی ہدایت واستقامت پر مکمل یقین رکھ۔ یہی راستہ حق سے ملانے والا ہے، کامیابی سے ہمکنار کرنے والا ہے ‘۔ جیسے فرمایا ہے «وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَيْكَ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» ۱؎ [28-القص:87] ‏‏‏‏ ’ خبردار کہیں تجھے اللہ کی آیتوں کے تیرے پاس پہنچ جانے پر بھی ان سے روک نہ دیں، اپنے رب کے راستے کی دعوت عام برابر دیتا رہ ‘۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی حق قبول کرنے سے جائے تو اس سے کنارہ اختیار کیجئے اور کہہ دیجئیے اللہ تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے۔ جیسے کئی جگہ اسی مضمون کو دہرایا ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [10-یونس:41] ‏‏‏‏ ’ اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو ان سے کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو، میں تمہارے کرتوت سے بیزار ہوں ‘۔ پس یہاں بھی ان کے کان کھول دیئے کہ «هُوَ أَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِ كَفَىٰ بِهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ» ۱؎ [46-الاحقاف:8] ‏‏‏‏ ’ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے وہ تمہاری ادنیٰ سی ادنیٰ حرکت کو بھی جانتا ہے اور وہی ہے تم میں کافی شاہد ہے قیامت کے دن ہم تم میں فیصلہ اللہ خود کر دے گا، اور اس وقت سارے اختلافات مٹ جائیں گے ‘۔ جیسے فرمان ہے «فَلِذَٰلِكَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَقُلْ آمَنتُ بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ مِن كِتَابٍ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ اللَّـهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ اللَّـهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ» ۱؎ [42-الشورى:15] ‏‏‏‏ ’ تو اسی کی دعوت دیتا رہ اور ہمارے حکم پر ثابت قدم رہ اور کسی کی خواہش کے پیچھے نہ لگ اور صاف اعلان کر دے کہ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب پر میرا ایمان ہے ‘۔
69۔ 1 یعنی بیان اور اظہار حجت کے بعد بھی اگر یہ جھگڑے سے باز نہ آئیں تو ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں کہ اللہ تعالیٰ ہی تمہارے اختلافات کا فیصلہ قیامت والے دن فرمائے گا، پس اس دن واضح ہوجائے گا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے؟ کیونکہ وہ اس کے مطابق سب کو جزا دے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ فِیۡ کِتٰبٍ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿۷۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے؟ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے اللہ کے لیے یہ کچھ بھی مشکل نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا آپ نے نہیں جانا کہ آسمان وزمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے۔ یہ سب لکھی ہوئی کتاب میں محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ پر تو یہ امر بالکل آسان ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا تو نے نہ جانا کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بیشک یہ سب ایک کتاب میں ہے بیشک یہ اللہ پر آسان ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں ہے۔ بےشک یہ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے۔ اور یہ بات اللہ پر آسان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تونے نہیں جانا کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے۔ بے شک یہ ایک کتاب میں درج ہے، بے شک یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کمال علم رب کی شان ٭٭

رب کے کمال علم کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کے علم کے احاطہٰ میں ہے ایک ذرہ بھی اس سے باہر نہیں کائنات کے وجود سے پہلے ہی کائنات کا علم اسے تھا بلکہ اس نے لوح محفوظ میں لکھوا دیا تھا ‘۔ صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے جب کہ اس کا عرش پانی پر تھا مخلوق کی تقدیر لکھی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2653] ‏‏‏‏ سنن کی حدیث میں ہے کہ { سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فلک کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا ’ لکھ ‘ اس نے دریافت کیا کہ کیا لکھوں؟ فرمایا ’ جو کچھ ہونے والا ہے ‘ پس قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا اسے قلم نے قلم بند کر دیا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2154،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”سو سال کی راہ میں اللہ نے لوح محفوظ کو پیدا کیا اور مخلوق کی پیدائش سے پہلے جب کہ اللہ تعالیٰ عرش پر تھا قلم کو لکھنے کا حکم دیا اس نے پوچھا کیا لکھوں فرمایا ’ میرا علم جو مخلوق کے متعلق قیامت کا ہے ‘۔ پس قلم چل پڑا اور قیامت تک کے ہونے والے امور جو علم الٰہی میں ہے اس نے لکھ لیے۔‏‏‏‏“ پس اسی کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں فرما رہا ہے کہ ’ کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان و زمین کی ہر ایک چیز کا میں عالم ہوں ‘۔ پس یہ اس کا کمال علم ہے کہ چیز کے وجود سے پہلے اسے معلوم ہے بلکہ لکھ بھی لیا ہے اور وہ سب یوں ہی واقع میں ہونے والا ہے۔ اللہ کو بندوں کے تمام اعمال کا علم ان کے عمل سے پہلے ہے۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اس کرنے سے پہلے اللہ جانتا تھا، ہر فرماں بردار اور نافرمان اس کے علم میں تھا اور اس کی کتاب میں لکھا ہوا تھا اور ہر چیز اس کے علمی احاطے کے اندر ہی اندر اور یہ امر اللہ پر مشکل بھی نہ تھا سب کتاب میں تھا اور رب پر بہت ہی آسان۔
70۔ 1 اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال علم اور مخلوقات کے احاطے کا ذکر فرمایا ہے۔ یعنی اس کی مخلوقات کو جو جو کچھ کرنا تھا، اس کو علم پہلے سے ہی تھا، وہ ان کو جانتا تھا۔ چناچہ اس نے اپنے علم سے یہ باتیں پہلے ہی لکھ دیں۔ اور لوگوں کو یہ بات چاہے، کتنی ہی مشکل معلوم ہو، اللہ کے لئے بالکل آسان ہے۔ یہ وہی تقدیر کا مسئلہ ہے، اس پر ایمان رکھنا ضروری ہے، جسے حدیث میں اس طرح بیان فرمایا گیا ' اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے، جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا، مخلوقات کی تقدیریں لکھ دی تھیں (صحیح مسلم) اور سنن کی روایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم پیدا فرمایا، اور اس کو کہا ' لکھ ' اس نے کہا، کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جو کچھ ہونے والا ہے، سب لکھ دے۔ چناچہ اس نے اللہ کے حکم سے قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا، سب لکھ دیا۔ (ابوداؤد کتاب السنۃ)
(آیت 70){ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ …:} یعنی کیا تمھیں واضح بات بھی معلوم نہیں کہ آسمان و زمین میں جو کچھ بھی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اور کوئی بھی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں؟ نہ اس کے مخلص اور فرماں بردار بندوں کی فرماں برداری اس سے مخفی ہے اور نہ اس کے منکروں اور نافرمانوں کی شرارتیں اور فساد اس سے اوجھل ہے۔ اس لیے اس علم کے ساتھ وہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح فرما دیا کہ ہر شخص جو کچھ کر رہا ہے وہ پورے اہتمام کے ساتھ ایک کتاب میں محفوظ ہے، اس لیے کوئی اس خام خیالی میں نہ رہے کہ یہ محض ہوائی باتیں ہیں، اتنی مخلوق کے ہر عمل کا ریکارڈ کیسے رکھا جا سکتا ہے اور ان کے درمیان فیصلہ کیسے ہو گا؟ فرمایا بے شک یہ تمھارے لیے ایک مشکل بلکہ ناممکن کام ہے مگر اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کچھ بھی مشکل نہیں، کیونکہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
وَ یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا وَّ مَا لَیۡسَ لَہُمۡ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ نَّصِیۡرٍ ﴿۷۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کر رہے ہیں جن کے لیے نہ تو اس نے کوئی سند نازل کی ہے اور نہ یہ خود اُن کے بارے میں کوئی علم رکھتے ہیں اِن ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کر رہے ہیں جس کی کوئی خدائی دلیل نازل نہیں ہوئی نہ وه خود ہی اس کا کوئی علم رکھتے ہیں۔ ﻇالموں کا کوئی مددگار نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جن کی کوئی سند اس نے نہ اتاری اور ایسوں کو جن کا خود انہیں کچھ علم نہیں اور ستمگاروں کا کوئی مددگار نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کی عبادت کرتے ہیں جن کیلئے نہ تو اللہ نے کوئی دلیل (سند) نازل کی ہے اور نہ ہی انہیں ان کے بارے میں کوئی علم ہے اور (ان) ظالموں کیلئے کوئی مددگار نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی دلیل نازل نہیں کی اور جس کا انھیں کچھ علم نہیں اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطان کی تقلید ٭٭

بلاسند، بغیر دلیل کے اللہ کے سوا دوسرے کی پوجا پاٹ عبادت وبندگی کرنے والوں کا جہل وکفر بیان فرماتا ہے کہ شیطانی تقلید اور باپ دادا کی دیکھا دیکھی کے سوا نہ کوئی نقلی دلیل ان کے پاس ہے نہ عقلی۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ» ۱؎ [23-المؤمنون:117] ‏‏‏‏ ’ جو بھی اللہ کے ساتھ دوسرے معبود کو بے دلیل پکارے اس سے اللہ خود ہی بازپرس کر لے گا۔ ناممکن ہے کہ ایسے ظالم چھٹکارا پاجائیں ‘۔ یہاں بھی فرمایا کہ ’ ان ظالموں کا کوئی مددگار نہیں کہ اللہ کے کسی عذاب سے انہیں بچالے ‘۔ ان پر اللہ کے پاک کلام کی آیتیں، صحیح دلیلیں، واضح حجتیں جب پیش کی جاتی ہیں تو ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ اللہ کی توحید، رسولوں کی اتباع کو صاف طور پر بیان کیا تو انہیں سخت غصہ آیا، ان کی شکلیں بدل گئیں، تیوریوں پر بل پڑنے لگے آستینیں چڑھنے لگیں اگر بس چلے تو زبان کھینچ لیں، ایک لفظ حقانیت کا زمین پر نہ آنے دیں۔ اسی وقت گلا گھونٹ دیں، ان سچے خیرخواہوں کی اللہ کے دین کے مبلغوں کی برائیاں کرنے لگتے ہیں۔ زبانیں ان کے خلاف چلنے لگتی ہیں اور ممکن ہو تو ہاتھ بھی ان کے خلاف اٹھنے میں نہیں رکتے۔ فرمان ہوتا ہے کہ ’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دو کہ ایک طرف تو تم جو دکھ ان اللہ کے متوالوں کو پہنچانا چاہتے ہو اسے وزن کرو دوسری طرف اس دکھ کا وزن کر لو جو تمہیں یقیناً تمہارے کفر و انکار کی وجہ سے پہنچنے والا ہے پھر دیکھو کہ بدترین چیز کون سی ہے؟ وہ آتش دوزخ اور وہاں کے طرح طرح کے عذاب؟ یا جو تکلیف تم ان سچے موحدوں کو پہنچانا چاہتے ہو؟ گو یہ بھی تمہارے ارادے ہی ارادے ہیں اب تم ہی سمجھ لو کہ جہنم کیسی بری جگہ ہے؟ کس قدر ہولناک ہے؟ کس قدرایذاء دہندہ ہے؟ اور کتنی مشکل والی جگہ ہے؟ ‘ «إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:66] ‏‏‏‏ ’ یقیناً وہ نہایت ہی بدترین جگہ اور بہت ہی خوفناک مقام ہے ‘، جہاں راحت و آرام کا نام بھی نہیں۔
71۔ 1 یعنی ان کے پاس نہ کوئی نقلی دلیل ہے، جسے آسمانی کتاب سے یہ دکھا سکیں، نہ عقلی دلیل ہے جسے غیر اللہ کی عبادت کے اثبات میں پیش کرسکیں۔
(آیت 71) ➊ { وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی کتاب میں نہیں فرمایا کہ میں نے فلاں فلاں ہستی کو فلاں فلاں اختیارات دے رکھے ہیں، لہٰذا ان کاموں کے لیے اپنی حاجات ان سے طلب کرو اور نہ اس بات کی کوئی علمی یا عقلی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو بھی کائنات میں اپنی مرضی چلانے کا اختیار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس سے مرادیں مانگی جائیں۔ دیکھیے سورۂ احقاف (۴، ۵) اور فاطر (۴۰) جب شرک کی نہ کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ نقلی، تو معلوم ہوا کہ لوگوں نے جو غیر اللہ کے آستانے بنا رکھے ہیں، یا زندہ یا فوت شدہ بزرگوں کو خدائی اختیارات کا مالک سمجھ کر ان کی نذریں نیازیں چڑھا رہے ہیں اور ان کی قبروں کا یا ان کے بتوں کا طواف یا ان کے سامنے قیام، رکوع یا سجود کر رہے ہیں، یا ان کے مجاور بن کر ان کا اعتکاف کر رہے ہیں، یا انھیں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر ان سے فریادیں کر رہے ہیں تو ان کے پاس اوہام پرستی اور باپ دادا کی اندھی تقلید کے سوا کچھ نہیں، جس کا رد قرآن مجید میں کئی مقامات پر کیا گیا ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۰) اور مائدہ (۱۰۴)۔ ➋ { وَ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ:} عبارت کی ترتیب کے مطابق یہ الفاظ کافی تھے کہ {”وَمَا لَهُمْ مِنْ نَّصِيْرٍ“} یعنی ان کا کوئی مددگار نہیں، اس کے بجائے فرمایا {” وَ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ “} یعنی ظالموں کا کوئی مددگار نہیں، یعنی اللہ کی نصرت سے ان کی محرومی کا باعث ان کا ظلم (شرک) ہے کہ اللہ کا حق بندوں کو دے دیا۔ یہ احمق سمجھ رہے ہیں کہ ان کے خود ساختہ معبود، حاجت روا اور مشکل کشا دنیا اور آخرت میں ان کی مدد کریں گے، حالانکہ ان کی مدد کوئی نہیں کرے گا، کیونکہ ان ظالموں نے اللہ کے لیے شریک بنا کر اسے ناراض کر لیا، سو وہ تو ان کی مدد کو آئے گا ہی نہیں اور دوسرے معبودوں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں میں طاقت ہی نہیں کہ ان کی مدد کر سکیں۔
وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعۡرِفُ فِیۡ وُجُوۡہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا الۡمُنۡکَرَ ؕ یَکَادُوۡنَ یَسۡطُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ یَتۡلُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا ؕ قُلۡ اَفَاُنَبِّئُکُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِکُمۡ ؕ اَلنَّارُ ؕ وَعَدَہَا اللّٰہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿٪۷۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب ان کو ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں تو تم دیکھتے ہو کہ منکرین حق کے چہرے بگڑنے لگتے ہیں اور ایسا محسُوس ہوتا ہے کہ ابھی وہ اُن لوگوں پر ٹوٹ پڑیں گے جو انہیں ہماری آیات سناتے ہیں ان سے کہو "میں بتاؤں تمہیں کہ اس سے بدتر چیز کیا ہے؟ آگ، اللہ نے اُسی کا وعدہ اُن لوگوں کے حق میں کر رکھا ہے جو قبول حق سے انکار کریں، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
جب ان کے سامنے ہمارے کلام کی کھلی ہوئی آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو آپ کافروں کے چہروں پر ناخوشی کے صاف آﺛار پہچان لیتے ہیں۔ وه تو قریب ہوتے ہیں کہ ہماری آیتیں سنانے والوں پر حملہ کر بیٹھیں، کہہ دیجئے کہ کیا میں تمہیں اس سے بھی زیاده بدتر خبر دوں۔ وه آگ ہے، جس کا وعده اللہ نے کافروں سے کر رکھا ہے، اور وه بہت ہی بری جگہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جائیں تو تم ان کے چہروں پر بگڑنے کے آثار دیکھو گے جنہوں نے کفر کیا، قریب ہے کہ لپٹ پڑیں ان کو جو ہماری آیتیں ان پر پڑھتے ہیں، تم فرمادو کیا میں تمہیں بتادوں جو تمہارے اس حال سے بھی بدتر ہے وہ آگ ہے، اللہ نے اس کا وعدہ دیا ہے کافروں کو، اور کیا ہی بری پلٹنے کی جگہ،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو تم کافروں کے چہروں پر ناگواری کے آثار واضح محسوس کرتے ہو۔ قریب ہے وہ ان پر حملہ کر دیں جو ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں۔ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ اس سے بڑھ کر ناگوار چیز کیا ہے؟ وہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس کا اللہ نے کافروں سے وعدہ کر رکھا ہے۔ اور وہ بڑا برا ٹھکانہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات کی تلاوت کی جائے تو توُ ان لوگوں کے چہروں میں جنھوں نے کفر کیا، صاف انکار پہچان لے گا، قریب ہوں گے کہ ان لوگوں پر حملہ کر دیں جو ان پر ہماری آیات کی تلاوت کریں۔ کہہ دے تو کیا میں تمھیں اس سے بری چیز بتاؤں؟ وہ آگ ہے جس کا اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جنھوں نے کفر کیا اور وہ برا ٹھکانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطان کی تقلید ٭٭

بلاسند، بغیر دلیل کے اللہ کے سوا دوسرے کی پوجا پاٹ عبادت وبندگی کرنے والوں کا جہل وکفر بیان فرماتا ہے کہ شیطانی تقلید اور باپ دادا کی دیکھا دیکھی کے سوا نہ کوئی نقلی دلیل ان کے پاس ہے نہ عقلی۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ» ۱؎ [23-المؤمنون:117] ‏‏‏‏ ’ جو بھی اللہ کے ساتھ دوسرے معبود کو بے دلیل پکارے اس سے اللہ خود ہی بازپرس کر لے گا۔ ناممکن ہے کہ ایسے ظالم چھٹکارا پاجائیں ‘۔ یہاں بھی فرمایا کہ ’ ان ظالموں کا کوئی مددگار نہیں کہ اللہ کے کسی عذاب سے انہیں بچالے ‘۔ ان پر اللہ کے پاک کلام کی آیتیں، صحیح دلیلیں، واضح حجتیں جب پیش کی جاتی ہیں تو ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ اللہ کی توحید، رسولوں کی اتباع کو صاف طور پر بیان کیا تو انہیں سخت غصہ آیا، ان کی شکلیں بدل گئیں، تیوریوں پر بل پڑنے لگے آستینیں چڑھنے لگیں اگر بس چلے تو زبان کھینچ لیں، ایک لفظ حقانیت کا زمین پر نہ آنے دیں۔ اسی وقت گلا گھونٹ دیں، ان سچے خیرخواہوں کی اللہ کے دین کے مبلغوں کی برائیاں کرنے لگتے ہیں۔ زبانیں ان کے خلاف چلنے لگتی ہیں اور ممکن ہو تو ہاتھ بھی ان کے خلاف اٹھنے میں نہیں رکتے۔ فرمان ہوتا ہے کہ ’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دو کہ ایک طرف تو تم جو دکھ ان اللہ کے متوالوں کو پہنچانا چاہتے ہو اسے وزن کرو دوسری طرف اس دکھ کا وزن کر لو جو تمہیں یقیناً تمہارے کفر و انکار کی وجہ سے پہنچنے والا ہے پھر دیکھو کہ بدترین چیز کون سی ہے؟ وہ آتش دوزخ اور وہاں کے طرح طرح کے عذاب؟ یا جو تکلیف تم ان سچے موحدوں کو پہنچانا چاہتے ہو؟ گو یہ بھی تمہارے ارادے ہی ارادے ہیں اب تم ہی سمجھ لو کہ جہنم کیسی بری جگہ ہے؟ کس قدر ہولناک ہے؟ کس قدرایذاء دہندہ ہے؟ اور کتنی مشکل والی جگہ ہے؟ ‘ «إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:66] ‏‏‏‏ ’ یقیناً وہ نہایت ہی بدترین جگہ اور بہت ہی خوفناک مقام ہے ‘، جہاں راحت و آرام کا نام بھی نہیں۔
72۔ 1 اپنے ہاتھوں سے دست درازی کرکے یا بد زبانی کے ذریعے سے۔ یعنی مشرکین اور اہل ضلالت کے لئے اللہ کی توحید اور رسالت و قیامت کا بیان ناقابل برداشت ہوتا ہے، جس کا اظہار، ان کے چہرے سے اور بعض دفعہ ہاتھوں اور زبانوں سے ہوتا ہے۔ یہی حال آج کے اہل بدعت اور گمراہ فرقوں کا ہے، جب ان کی گمراہی، قرآن و حدیث کے دلائل سے واضح کی جاتی ہے تو ان کا رویہ بھی آیات قرآنی اور دلائل کے مقابلے میں ایسا ہی ہوتا ہے، جس کی وضاحت اس آیت میں کی گئی ہے (فتح القدیر) 72۔ 2 یعنی ابھی تو آیات الٰہی سن کر صرف تمہارے چہرے ہی حیران ہوتے ہیں۔ ایک وقت آئے گا، اگر تم نے اپنے اس روئیے سے توبہ نہیں کی، کہ اس سے کہیں زیادہ بدتر حالات سے تمہیں دو چار ہونا پڑے گا، اور وہ ہے جہنم کی آگ میں جلنا، جس کا وعدہ اللہ نے اہل کفر و شرک سے کر رکھا ہے۔
(آیت 72) ➊ {وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا …: ” الْمُنْكَرَ “} مصدر میمی ہے یعنی انکار، یا اسم مفعول ہے یعنی ایسی حالت جو مانوس اور پہچانی ہوئی نہیں بلکہ انوکھی اور بُری ہے۔ {” يَسْطُوْنَ”سَطَا يَسْطُوْ سَطْوَةً“} سخت پکڑنا یا حملہ کر دینا، یعنی ان باطل کے پجاری مشرکوں کا اپنے بے حقیقت اور بے بنیاد داتاؤں اور جھوٹے خداؤں کی حمیت کا یہ حال ہے کہ جب ان پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں یعنی ان کے سامنے کوئی بھی ہماری آیات پڑھ دیتا ہے، جو ہماری توحید و صفات اور آخرت وغیرہ کے بیان میں بالکل واضح ہیں اور جو اتنی پرحکمت اور بلیغ ہیں کہ ان کا ہمارا کلام ہونا بالکل واضح ہے، تو ان کافروں کے چہروں ہی سے ان کا صاف انکار پہچانا جاتا ہے۔ ان کی حالت بری ہو جاتی ہے جو نظر آ رہی ہوتی ہے۔ ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے، رگیں پھول جاتی ہیں، چہرے بگڑ جاتے ہیں، بھویں تن جاتی ہیں اور آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں، قریب ہوتا ہے کہ وہ اپنے سامنے ہماری آیات پڑھنے والوں پر حملہ ہی کر دیں۔ شوکانی نے فرمایا کہ اہل بدعت کا بھی قرآن و سنت کے دلائل سن کر یہی حال ہوتا ہے۔ توحید سے مشرکوں کی نفرت کا بیان سورۂ زمرکی آیت (۴۵) {” وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ “} میں بھی ملاحظہ فرمائیں۔ ➋ { قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ اَلنَّارُ …:} یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ پھر کیا میں تمھیں تمھارے انکار، غیظ و غضب کی آگ اور چہروں کے بگڑ جانے کی حالت سے کہیں زیادہ تمھارے لیے بری اور ناگوار چیز بتاؤں؟ وہ جہنم کی آگ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات سے کفر کرنے والوں کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے اور جو بڑا ہی برا ٹھکانا ہے۔ سو تم لوگ اہل حق اور آیات الٰہی سے چڑنے اور غیظ و غضب کی آگ میں جلنے کے بجائے جہنم کی اس ہولناک آگ سے بچنے کی فکر کرو۔ ایسا نہ ہو کہ توبہ کی فرصت تمھارے ہاتھ سے نکل جائے۔
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسۡتَمِعُوۡا لَہٗ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَنۡ یَّخۡلُقُوۡا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجۡتَمَعُوۡا لَہٗ ؕ وَ اِنۡ یَّسۡلُبۡہُمُ الذُّبَابُ شَیۡئًا لَّا یَسۡتَنۡقِذُوۡہُ مِنۡہُ ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الۡمَطۡلُوۡبُ ﴿۷۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لوگو، ایک مثال دی جاتی ہے، غور سے سنو جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مِل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور
مولانا محمد جوناگڑھی
لوگو! ایک مثال بیان کی جا رہی ہے، ذرا کان لگا کر سن لو! اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارتے رہے ہو وه ایک مکھی بھی تو پیدا نہیں کر سکتے، گو سارے کے سارے ہی جمع ہو جائیں، بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے بھاگے تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے، بڑا بودا ہے طلب کرنے واﻻ اور بڑا بودا ہے وه جس سے طلب کیا جا رہا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے لوگو! ایک کہاوت فرمائی جاتی ہے اسے کان لگا کر سنو وہ جنہیں اللہ کے سوا تم پوجتے ہو ایک مکھی نہ بناسکیں گے اگرچہ سب اس پر اکٹھے ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین کرلے جائے تو اس سے چھڑا نہ سکیں کتنا کمزور چاہنے والا اور وہ جس کو چاہا
علامہ محمد حسین نجفی
اے لوگو! ایک مثال دی جاتی ہے اسے غور سے سنو۔ اللہ کو چھوڑ کر تم جن معبودوں کو پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے۔ اگرچہ وہ سب کے سب اس کام کے لئے اکٹھے ہو جائیں۔ اور اگر ایک مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ اسے اس (مکھی) سے چھڑا نہیں سکتے۔ طالب و مطلوب دونوں ہی کمزور و ناتواں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو! ایک مثال بیان کی گئی ہے، سو اسے غور سے سنو! بے شک وہ لوگ جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، ہرگز ایک مکھی پیدا نہیں کریں گے، خواہ وہ اس کے لیے جمع ہو جائیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے وہ اسے اس سے ہرگز چھڑا نہ پائیں گے۔ کمزور ہے مانگنے والا اور وہ بھی جس سے مانگا گیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کم عقل پجاری ٭٭

اللہ کے ماسوا جن کے عبادت کی جاتی ہے ان کی کمزوری اور ان کے پجاریوں کی کم عقلی بیان ہو رہی ہے کہ ’ اے لوگو! یہ جاہل جس جس کی بھی اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں، رب کے ساتھ یہ جو شرک کرتے ہیں، ان کی ایک مثال نہایت عمدہ اور بالکل واقعہ کے مطابق بیان ہو رہی ہے ذرا توجہ سے سنو۔ کہ ان کے تمام کے تمام بت، بزرگ وغیرہ جنہیں یہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں، جمع ہو جائیں اور ایک مکھی بنانا چاہیں تو سارے عاجز آ جائیں گے اور ایک مکھی بھی پیدا نہ کر سکیں گے ‘۔ مسند احمد کی حدیث قدسی میں فرمان الٰہی ہے { اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو میری طرح کسی کو بنانا چاہتا ہے۔ اگر واقعی میں کسی کو یہ قدرت حاصل ہے تو ایک ذرہ، ایک مکھی یا ایک دانہ اناج کا ہی خود بنادیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:391/2:صحیح] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں الفاظ یوں ہیں کہ ’ وہ ایک ذرہ یا ایک جو ہی بنادیں ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5953] ‏‏‏‏ اچھا اور بھی ان کے معبودان باطل کی کمزوری اور ناتوانی سنو کہ ’ یہ ایک مکھی کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے وہ ان کا حق ان کی چیز ان سے چھینے چلی جا رہی ہے، یہ بے بس ہیں، یہ بھی تو نہیں کر سکتے کہ اس سے اپنی چیز ہی واپس لے لیں بھلا مکھی جیسی حقیر اور کمزور مخلوق سے بھی جو اپنا حق نہ لے سکے اس سے بھی زیادہ کمزور، بودا ضعیف ناتوان بے بس اور گرا پڑا کوئی اور ہوسکتا ہے؟ ‘ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”طالب“ سے مراد بت اور ”مطلوب“ سے مراد مکھی ہے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں اور ظاہر لفظوں سے بھی یہی ظاہر ہے۔ دوسرا مطلب یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ طالب سے مراد عابد اور مطلوب سے مراد اللہ کے سوا اور معبود۔ اللہ کی قدروعظمت ہی ان کے دلوں میں نہیں رچی اگر ایسا ہوتا تو اتنے بڑے توانا اللہ کے ساتھ ایسی ذلیل مخلوق کو کیوں شریک کر لیتے۔ جو مکھی اڑانے کی بھی قدرت نہیں رکھتی جیسے مشرکین قریش کے بت تھے۔ اللہ اپنی قدرت وقوت میں یکتا ہے تمام چیزیں بے نمونہ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ ’ سب سے پہلی پیدائش میں اس نے پیدا کر دی ہیں کسی ایک سے بھی مدد لیے بغیر پھر سب کو ہلاک کر کے دوبارہ اس سے بھی زیادہ آسانی سے پیدا کرنے پر قادر ہے ‘۔ «إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ إِنَّهُ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ» ۱؎ [85-البروج:13-12] ‏‏‏‏ ’ وہ بڑی مضبوط پکڑ والا، ابتداء اور اعادہ کرنے والا ‘، «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ» ۱؎ [51-الذاريات:58] ‏‏‏‏ ’ رزق دینے والا، اور بے انداز قوت رکھنے والا ہے ‘، ’ سب کچھ اس کے سامنے پست ہے، کوئی اس کے ارادے کو بدلنے والا، اس کے فرمان کو ٹالنے والا اس کی عظمت اور سلطنت کا مقابلہ کرنے والا نہیں، وہ واحد قہار ہے ‘۔
73۔ 1 یعنی یہ معبودان باطل، جن کو تم، اللہ کو چھوڑ کر، مدد کے لئے پکارتے ہو، یہ سارے کے سارے جمع ہو کر ایک نہایت حقیر سی مخلوق مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں، تو نہیں کرسکتے۔ اس کے باوجود بھی تم انہی کو حاجت روا سمجھو، تو تمہاری عقل قابل ماتم ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی رہی ہے، وہ صرف پتھر کی بےجان مورتیاں ہیں جو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتیں ہیں۔ 73۔ 2 طالب سے مراد، خود ساختہ معبود اور مطلوب سے مراد مکھی یا بعض کے نزدیک طالب سے، پجاری اور مطلوب سے اس کا معبود مراد ہے، حدیث قدسی میں معبود ان باطل کی بےبسی کا تذکرہ ان الفاظ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو میری طرح پیدا کرنا چاہتا ہے اگر کسی میں واقع یہ قدرت ہے تو وہ ایک ذرہ یا ایک جو ہی پیدا کر کے دکھا دے ' (صحیح بخاری)
(آیت 74،73) ➊ { يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ:} اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ مشرکین کی اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کی کوئی نقلی دلیل ہے نہ عقلی۔ اس سورت کی ابتدا {” يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ “} سے ہوئی تھی، اختتام کے قریب بھی {” يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ “} کے ساتھ خطاب ہے۔ {” يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ “} سے مراد یہاں مشرکین ہیں، کیونکہ اللہ کے سوا دوسروں کو وہی پکارتے ہیں، سب لوگ ایسا نہیں کرتے۔ یا سب لوگوں ہی کو خطاب ہے، جیسے کسی قبیلے کا ایک آدمی کوئی کام کرے تو کہہ دیا جاتا ہے، قبیلے والو! تم نے یہ کام کیا ہے۔ (روح المعانی) فرمایا، لوگو! ایک مثال بیان کی گئی ہے، اسے کان لگا کر سنو۔ یہاں مثال بیان کرنے والے کا ذکر نہیں فرمایا، تاکہ پوری طرح توجہ مثال کی طرف رہے جو اصل مقصود ہے، بیان کرنے والے کا ذکر مقصود نہیں۔ (بقاعی) ➋ { اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ يَّخْلُقُوْا …:} اللہ کے سوا تم جن کو بھی پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کریں گے، خواہ وہ سب اس کام کے لیے جمع ہو جائیں۔ مثال میں مستقبل میں حرف {” لَنْ “} کی تاکید کے ساتھ ایک مکھی پیدا کرنے کی نفی فرمائی ہے، یعنی نہ وہ اس سے پہلے یہ کام کر سکے، نہ اب کر رہے ہیں اور نہ آئندہ ایسا کریں گے۔ اللہ کی ایک چھوٹی سی مخلوق پیدا کرنا، جو لوگوں کی نگاہ میں بالکل حقیر ہے، جب تمھارے داتاؤں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کے اختیار میں نہیں تو وہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی بے شمار عظیم الشان مخلوقات کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ قَالَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِيْ فَلْيَخْلُقُوْا ذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوْا حَبَّةً أَوْ شَعِيْرَةً ] [ بخاري، التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: «واللہ خلقکم وما تعملون» ‏‏‏‏ …: ۷۵۵۹۔ مسلم: ۲۱۱۱، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو میرے پیدا کرنے کی طرح پیدا کرنے چلا ہے؟ سو وہ ایک ذرہ پیدا کریں، یا ایک دانہ یا ایک جو پیدا کریں۔“ ➌ بعض لوگ جو فوت شدہ بزرگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہیں وہ {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} سے مراد صرف بت لیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انبیاء و اولیاء {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} نہیں۔ اس پر خود بخود سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} (اللہ کے سوا نہیں) تو پھر وہ خود خدا ٹھہرے۔ اگر تمھارا یہ عقیدہ ہے تو اس کائنات میں تم سے بڑا کافر کوئی نہیں کہ تم نے اللہ کی پیدا کردہ مخلوق کو رب بنا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ انبیاء ہوں، اولیاء ہوں یا فرشتے سب اللہ کی مخلوق ہیں اور {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} ہیں، خود اللہ نہیں۔ دلیل اس کی یہی آیت ہے کہ صرف بت ہی نہیں تمام زندہ یا فوت شدہ انبیاء و اولیاء اور تمھارے بنائے ہوئے مشکل کشا، داتا اور دستگیر جمع ہو کر بھی ایک مکھی نہیں بنا سکتے۔ اگر کوئی بنا سکتا ہے یا کسی نے بنائی ہے تو اس کا نام لو۔ اللہ تعالیٰ نے کیا خوب فرمایا: «‏‏‏‏قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَ الْبَصِيْرُ اَمْ هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُاَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» ‏‏‏‏ [ الرعد: ۱۶ ] ”کہہ دے کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوتے ہیں؟ یا کیا اندھیرے اور روشنی برابر ہوتے ہیں؟ یا انھوں نے اللہ کے لیے کچھ شریک بنا لیے ہیں جنھوں نے اس کے پیدا کرنے کی طرح پیدا کیا ہے، تو پیدائش ان پر گڈمڈ ہوگئی ہے؟ کہہ دے اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی ایک ہے، نہایت زبردست ہے۔“ {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} کی مزید وضاحت کے لیے سورۂ نحل (۲۰، ۲۱) ملاحظہ فرمائیں۔ ➍ {وَ اِنْ يَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْـًٔا لَّا يَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ:} یہ {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} کی بے بسی کی ایک اور مثال ہے کہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ اس سے ہر گز چھڑا نہیں پائیں گے۔ اکثر مفسرین لکھتے ہیں کہ اس سے مراد بت ہیں جن پر ان کو پوجنے والے زعفران اور شہد وغیرہ لگاتے ہیں، یا ان کے سامنے کھانے کی اشیاء لا کر رکھتے ہیں، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کی قوم کرتی تھی۔ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے جائے تو وہ اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ یہ تفسیر بھی ٹھیک ہے، مگر اللہ کے سوا وہ سب ہستیاں بھی اس میں شامل ہیں جنھیں پکارا جاتا ہے، اگر نہ مانو تو اس ہستی کا نام لو جس نے مکھی سے چھینی ہوئی چیز چھڑائی ہو۔ مفسر آلوسی نے فرمایا: {” وَالْآيَةُ وَ إِنْ كَانَتْ نَازِلَةً فِي الْأَصْنَامِ… إِلَّا أَنَّ الْحُكْمَ عَامٌّ لِسَائِرِ الْمَعْبُوْدَاتِ الْبَاطِلَةِ “} ”آیت اگرچہ بتوں کے بارے میں اتری ہے… مگر اس کا حکم تمام باطل معبودوں کے لیے عام ہے۔“ (روح المعانی) چھیننے میں وجۂ شبہ مکھی کا ڈھیٹ پن ہے۔ اگر یہ ڈھیٹ پن شیر میں ہوتا تو شاید ہی کوئی اس سے بچتا مگر یہ اللہ کی حکمت ہے کہ شیر کی قوت کے ساتھ لوگوں سے دور رہنا رکھ دیا اور مکھی کے ضعف کے ساتھ ڈھیٹ پن رکھ دیا۔ (بقاعی) ➎ { ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ:} اس بات سے کہ جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ مکھی سے چھینی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتے۔ مکھی کی قوت کی طرف ذہن جا سکتا تھا، اس لیے وضاحت کر دی کہ مکھی بھی کمزور، جس سے چھین کر لے جا رہی ہے وہ بھی کمزور اور جو اسے پوجتے اور پکارتے ہیں وہ بھی کمزور۔ ➏ { مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ:} نتیجہ اس ساری مثال کا یہ ہے کہ مشرک اللہ تعالیٰ سے بالکل جاہل ہے، تبھی وہ اللہ کا حق کہ صرف اسے پکارا جائے، کسی دوسرے کو دیتا ہے، خواہ کوئی بھی ہو۔ پھر اس سے بڑھ کر بے قدری کیا ہو گی کہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق ان ہسیتوں کو دے دے جو حقیر ترین چیز مکھی بھی نہ پیدا کر سکتے ہیں اور نہ اس سے چھینی ہوئی چیز واپس لے سکتے ہیں۔ ➐ { اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ:} یہاں سوال پیدا ہوا کہ پھر اس کی قدر کا حق کیا ہے؟ جواب میں فرمایا، بے شک اللہ یقینا بہت قوت والا ہے۔ جو چیز پیدا کرنا چاہے کر سکتا ہے اور کرتا ہے، جسے فنا کرنا چاہے کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔ وہ سب پر غالب ہے اور کوئی اس پر غالب نہیں، جبکہ کسی دوسرے میں نہ یہ قوت ہے اور نہ غلبہ۔ ➑ مکھی کی حقارت اگر ضرب المثل ہے تو اس کی جرأت بھی بے مثال ہے۔ بڑے بڑے جابر بادشاہ اس کے آگے بے بس ہو جاتے ہیں، اسے چہرے سے اڑاتے ہیں، یہ پھر آ بیٹھتی ہے، حتیٰ کہ زچ ہو کر بعض اوقات کہہ اٹھتے ہیں کہ معلوم نہیں اللہ تعالیٰ نے اسے کیوں پیدا کیا ہے؟ اس پر انھیں یہ سننا پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جبار لوگوں کو ذلیل کرنے کے لیے پیدا فرمایا ہے۔
مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿۷۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ پہچانی جیسا کہ اس کے پہچاننے کا حق ہے واقعہ یہ ہے کہ قوت اور عزت والا تو اللہ ہی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے اللہ کے مرتبہ کے مطابق اس کی قدر جانی ہی نہیں، اللہ تعالیٰ بڑا ہی زور وقوت واﻻ اور غالب وزبردست ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کی قدر نہ جانی جیسی چاہیے تھی بیشک اللہ قوت والا غالب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(آہ) ان لوگوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جس طرح قدر کرنی چاہیے۔ بےشک اللہ بڑا طاقتور ہے (اور) سب پر غالب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق تھا۔ بے شک اللہ یقینا بہت قوت والا ہے، سب پر غالب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کم عقل پجاری ٭٭

اللہ کے ماسوا جن کے عبادت کی جاتی ہے ان کی کمزوری اور ان کے پجاریوں کی کم عقلی بیان ہو رہی ہے کہ ’ اے لوگو! یہ جاہل جس جس کی بھی اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں، رب کے ساتھ یہ جو شرک کرتے ہیں، ان کی ایک مثال نہایت عمدہ اور بالکل واقعہ کے مطابق بیان ہو رہی ہے ذرا توجہ سے سنو۔ کہ ان کے تمام کے تمام بت، بزرگ وغیرہ جنہیں یہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں، جمع ہو جائیں اور ایک مکھی بنانا چاہیں تو سارے عاجز آ جائیں گے اور ایک مکھی بھی پیدا نہ کر سکیں گے ‘۔ مسند احمد کی حدیث قدسی میں فرمان الٰہی ہے { اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو میری طرح کسی کو بنانا چاہتا ہے۔ اگر واقعی میں کسی کو یہ قدرت حاصل ہے تو ایک ذرہ، ایک مکھی یا ایک دانہ اناج کا ہی خود بنادیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:391/2:صحیح] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں الفاظ یوں ہیں کہ ’ وہ ایک ذرہ یا ایک جو ہی بنادیں ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5953] ‏‏‏‏ اچھا اور بھی ان کے معبودان باطل کی کمزوری اور ناتوانی سنو کہ ’ یہ ایک مکھی کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے وہ ان کا حق ان کی چیز ان سے چھینے چلی جا رہی ہے، یہ بے بس ہیں، یہ بھی تو نہیں کر سکتے کہ اس سے اپنی چیز ہی واپس لے لیں بھلا مکھی جیسی حقیر اور کمزور مخلوق سے بھی جو اپنا حق نہ لے سکے اس سے بھی زیادہ کمزور، بودا ضعیف ناتوان بے بس اور گرا پڑا کوئی اور ہوسکتا ہے؟ ‘ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”طالب“ سے مراد بت اور ”مطلوب“ سے مراد مکھی ہے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں اور ظاہر لفظوں سے بھی یہی ظاہر ہے۔ دوسرا مطلب یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ طالب سے مراد عابد اور مطلوب سے مراد اللہ کے سوا اور معبود۔ اللہ کی قدروعظمت ہی ان کے دلوں میں نہیں رچی اگر ایسا ہوتا تو اتنے بڑے توانا اللہ کے ساتھ ایسی ذلیل مخلوق کو کیوں شریک کر لیتے۔ جو مکھی اڑانے کی بھی قدرت نہیں رکھتی جیسے مشرکین قریش کے بت تھے۔ اللہ اپنی قدرت وقوت میں یکتا ہے تمام چیزیں بے نمونہ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ ’ سب سے پہلی پیدائش میں اس نے پیدا کر دی ہیں کسی ایک سے بھی مدد لیے بغیر پھر سب کو ہلاک کر کے دوبارہ اس سے بھی زیادہ آسانی سے پیدا کرنے پر قادر ہے ‘۔ «إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ إِنَّهُ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ» ۱؎ [85-البروج:13-12] ‏‏‏‏ ’ وہ بڑی مضبوط پکڑ والا، ابتداء اور اعادہ کرنے والا ‘، «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ» ۱؎ [51-الذاريات:58] ‏‏‏‏ ’ رزق دینے والا، اور بے انداز قوت رکھنے والا ہے ‘، ’ سب کچھ اس کے سامنے پست ہے، کوئی اس کے ارادے کو بدلنے والا، اس کے فرمان کو ٹالنے والا اس کی عظمت اور سلطنت کا مقابلہ کرنے والا نہیں، وہ واحد قہار ہے ‘۔
74۔ 1 یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کی بےبس مخلوق کو اس کا ہمسر اور شریک قرار دے لیتے ہیں۔ اگر ان کو اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت، اس کی قدرت و طاقت اور اس کی بےپناہی کا صحیح صحیح اندازہ اور علم ہو تو وہ کبھی اس کی خدائی میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَللّٰہُ یَصۡطَفِیۡ مِنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿ۚ۷۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
حقیقت یہ ہے کہ اللہ (اپنے فرامین کی ترسیل کے لیے) ملائکہ میں سے بھی پیغام رساں منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی وہ سمیع اور بصیر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے پیغام پہونچانے والوں کو اللہ ہی چھانٹ لیتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ سننے واﻻ دیکھنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ چن لیتا ہے فرشتوں میں سے رسول اور آدمیوں میں سے بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ پیغام پہنچانے والے فرشتوں میں سے منتخب کر لیتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ بیشک اللہ بڑا سننے والا، بڑا دیکھنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا ہے اور لوگوں سے بھی، بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منصب نبوت کا حقدار کون؟ ٭٭

اپنی مقرر کردہ تقدیر کے جاری کرنے اور اپنی مقرر کردہ شریعت کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ جس فرشتے کو چاہتا ہے، مقرر کر لیتا ہے اسی طرح لوگوں میں سے بھی پیغمبری کی خلعت سے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے۔ بندوں کے سب اقوال سنتا ہے ایک ایک بندہ اور اس کے اعمال اس کی نگاہ میں ہیں وہ بخوبی جانتا ہے کہ منصب نبوت کا مستحق کون ہے؟ جیسے فرمایا آیت «اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:124] ‏‏‏‏ ’ رب ہی کو علم ہے کہ منصب رسالت کا صحیح طور اہل کون ہے؟ رسولوں کے آگے پیچھے کا اللہ کو علم ہے، کیا اس تک پہنچا، کیا اس نے پہنچایا، سب اس پر ظاہر و باہر ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا» ۱؎ [72-الجن:28-26] ‏‏‏‏، یعنی ’ وہ غیب کا جاننے والا ہے اپنے غیب کا کسی پر اظہار نہیں کرتا۔ ہاں جس پیغمبر کو وہ پسند فرمائے اس کے آگے پیچھے پہرے مقرر کر دیتا ہے، تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچادئے اور اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کا احاطہٰ کئے ہوئے ہے جو ان کے پاس ہے اور ہر چیز کی گنتی تک اس کے پاس شمار ہو چکی ہے ‘۔ پس اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے رسولوں کا نگہبان ہے جو انہیں کہا سنا جاتا ہے اس پر خود گواہ ہے خود ہی ان کا حافظ ہے اور ان کا مددگار بھی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏يَا أَيُّهَا الرَّ‌سُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّ‌بِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ» ۱؎ [5-المائدة:67] ‏‏‏‏، ’ اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ تیرے پاس تیرے رب کے طرف سے اترا ہے، پہنچا دے اگر ایسا نہ کیا تو حق رسالت ادا نہ ہو گا تیرا بچاؤ اللہ کے ذمے ہے ‘، الخ۔
75۔ 1 رسل رسول (فرستادہ، بھیجا ہوا قاصد) کی جمع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے بھی رسالت کا یعنی پیغام رسانی کا کام لیا ہے، جیسے حضرت جبرائیل ؑ کو اپنی وحی کے لئے منتخب کیا کہ وہ رسولوں کے پاس وحی پہنچائیں۔ یا عذاب لے کر قوموں کے پاس جائیں اور لوگوں میں سے بھی، جنہیں چاہا، رسالت کے لئے چن لیا اور انھیں لوگوں کی ہدایت و راہنمائی پر مامور فرمایا۔ یہ سب اللہ کے بندے تھے، گو منتخب اور چنیدہ تھے لیکن کسی کے لئے؟ خدائی اختیارات میں شرکت کے لئے؟ جس طرح کے بعض لوگوں نے انھیں اللہ کا شریک گردان لیا۔ نہیں، بلکہ صرف اللہ کا پیغام پہنچانے کے لئے۔ 75۔ 2 وہ بندوں کے اقوال سننے والا ہے اور بصیر ہے۔ یعنی یہ جانتا ہے کہ رسالت کا مستحق کون ہے؟ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ) 6۔ الانعام:124) ' ' ' اس موقع کو اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ کہاں وہ اپنی پیغمبری رکھے '
(آیت 75) ➊ { اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ:} یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سب سے بہتر مخلوق مقرب فرشتے اور انبیاء مکھی بھی نہیں بنا سکتے تو ان کی عظمت کیا ہوئی؟ جواب یہ ہے کہ ان کی عظمت یہ نہیں کہ وہ خالق بن کر اللہ کے شریک بن گئے ہوں، ان کی عظمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں میں سے ان فرشتوں کو اور تمام انسانوں میں سے ان انسانوں کو اپنا پیغام پہنچانے کے لیے منتخب فرمایا ہے، اس سے بڑھ کر مخلوق کی عظمت کیا ہو گی؟ ➋ { اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا اورسنتا ہے، اسے معلوم ہے کہ کس منصب کے لائق کون ہے؟ لہٰذا اس کے انتخاب میں غلطی نہیں ہو سکتی اور نہ اس سے بہتر انتخاب کسی کا ہو سکتا ہے۔
یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿۷۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو کچھ اُن کے سامنے ہے اُسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اوجھل ہے اس سے بھی وہ واقف ہے، اور سارے معاملات اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
وه بخوبی جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے، اور اللہ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور سب کاموں کی رجوع اللہ کی طرف ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور سب معاملات کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور اللہ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منصب نبوت کا حقدار کون؟ ٭٭

اپنی مقرر کردہ تقدیر کے جاری کرنے اور اپنی مقرر کردہ شریعت کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ جس فرشتے کو چاہتا ہے، مقرر کر لیتا ہے اسی طرح لوگوں میں سے بھی پیغمبری کی خلعت سے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے۔ بندوں کے سب اقوال سنتا ہے ایک ایک بندہ اور اس کے اعمال اس کی نگاہ میں ہیں وہ بخوبی جانتا ہے کہ منصب نبوت کا مستحق کون ہے؟ جیسے فرمایا آیت «اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:124] ‏‏‏‏ ’ رب ہی کو علم ہے کہ منصب رسالت کا صحیح طور اہل کون ہے؟ رسولوں کے آگے پیچھے کا اللہ کو علم ہے، کیا اس تک پہنچا، کیا اس نے پہنچایا، سب اس پر ظاہر و باہر ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا» ۱؎ [72-الجن:28-26] ‏‏‏‏، یعنی ’ وہ غیب کا جاننے والا ہے اپنے غیب کا کسی پر اظہار نہیں کرتا۔ ہاں جس پیغمبر کو وہ پسند فرمائے اس کے آگے پیچھے پہرے مقرر کر دیتا ہے، تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچادئے اور اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کا احاطہٰ کئے ہوئے ہے جو ان کے پاس ہے اور ہر چیز کی گنتی تک اس کے پاس شمار ہو چکی ہے ‘۔ پس اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے رسولوں کا نگہبان ہے جو انہیں کہا سنا جاتا ہے اس پر خود گواہ ہے خود ہی ان کا حافظ ہے اور ان کا مددگار بھی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏يَا أَيُّهَا الرَّ‌سُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّ‌بِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ» ۱؎ [5-المائدة:67] ‏‏‏‏، ’ اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ تیرے پاس تیرے رب کے طرف سے اترا ہے، پہنچا دے اگر ایسا نہ کیا تو حق رسالت ادا نہ ہو گا تیرا بچاؤ اللہ کے ذمے ہے ‘، الخ۔
76۔ 1 جب تمام معاملات کا مرجع اللہ ہی ہے تو پھر انسان اس کی نافرمانی کرکے کہاں جاسکتا ہے اور اس کے عذاب سے کیونکر بچ سکتا ہے؟ کیا اس کے لئے یہ بہتر نہیں ہے کہ وہ اس کی اطاعت اور فرماں برداری کا راستہ اختیار کر کے اس کی رضا حاصل کرے؟ چناچہ اگلی آیت میں اس کی صراحت کی جا رہی ہے۔
(آیت 76) ➊ { يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ:} یہ جملہ قرآن مجید میں چار مقامات پر آیا ہے، سورۂ بقرہ(۲۵۵)، سورۂ طٰہٰ (۱۱۰)، سورۂ انبیاء (۲۸) اور یہاں سورۂ حج میں۔ ہر مقام پر اس جملے سے پہلے یا بعد میں سفارش یا معبودانِ باطلہ کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ فرشتوں اور انبیاء و اولیاء کو اگر بذات خود حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر نہیں بلکہ اللہ کے ہاں سفارشی سمجھ کر پکارتے ہو تو یہ بھی غلط ہے، کیونکہ سب کچھ دیکھنے اور سننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر شخص کے ظاہر اور مخفی حالات وہی جانتا ہے، دنیا کی کھلی اور چھپی ضرورتیں اور مصلحتیں بھی وہی جانتا ہے، فرشتوں اور نبیوں سمیت کسی مخلوق کو بھی پوری طرح معلوم نہیں کہ کس وقت کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے زیادہ مقرب بندوں کو بھی یہ حق نہیں دیا کہ وہ اس کے اذن کے بغیر جو سفارش چاہیں کر بیٹھیں اور ان کی سفارش قبول بھی ہو۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۲۵۵) «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» کی تفسیر۔ ➋ { وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ:} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یعنی وہ (پیغمبر خود) کوئی اختیار نہیں رکھتے، اختیار ہر چیز میں اللہ کا ہے۔“ (موضح)
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ارۡکَعُوۡا وَ اسۡجُدُوۡا وَ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمۡ وَ افۡعَلُوا الۡخَیۡرَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿ۚٛ۷۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، رکوع اور سجدہ کرو، اپنے رب کی بندگی کرو، اور نیک کام کرو، شاید کہ تم کو فلاح نصیب ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! رکوع سجده کرتے رہو اور اپنے پروردگار کی عبادت میں لگے رہو اور نیک کام کرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! رکوع اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی بندگی کرو اور بھلے کام کرو اس امید پر کہ تمہیں چھٹکارا ہو، (السجدة) عندالشافعیؒ،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! رکوع و سجود کرو۔ اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ اور نیک کام کرو۔ تاکہ تم فلاح پاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور نیکی کرو، تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سورہ حج کو دو سجدوں کی فضلیت حاصل ہے ٭٭

اس دوسرے سجدے کے بارے میں دو قول ہیں۔ پہلے سجدے کی آیت کے موقعہ پر ہم نے وہ حدیث بیان کر دی ہے جس میں ہے کہ { رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «فُضِّلَتْ سُورَة الْحَجّ بِسَجْدَتَيْنِ فَمَنْ لَمْ يَسْجُدهُمَا فَلَا يَقْرَأهُمَا» سورۃ الحج کو دو سجدوں سے فضیلت دی گئی جو یہ سجدے نہ کرے وہ یہ پڑھے ہی نہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:578،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ پس رکوع سجدہ عبادت اور بھلائی کا حکم کرکے فرماتا ہے۔
77۔ 1 یعنی اس نماز کی پابندی کرو جو شریعت میں مقرر کی گئی ہے۔ آگے عبادت کا بھی حکم آرہا ہے۔ جس میں نماز بھی شامل تھی، لیکن اس کی اہمیت و افضلیت کے پیش نظر اس کا خصوصی حکم دیا۔ 77۔ 2 یعنی فلاح (کامیابی) اللہ کی عبادت اور اطاعت یعنی افعال خیر اختیار کرنے میں ہے، نہ کہ اللہ کی عبادت و اطاعت سے گریز کرکے محض مادی اسباب و وسائل کی فراہمی اور فراوانی میں، جیسا کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں۔
(آیت 77) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا …:} یہ ساری سورت قیامت اور توحید کے حق ہونے کے دلائل اور انکارِ قیامت اور شرک کی تردید اور مذمت کے دلائل پر مشتمل ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو خطاب فرمایا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے ہیں کہ ایمان لائے ہو تو اس کا ثبوت بھی پیش کرو۔ سب سے پہلا کام جو ایمان لانے کے بعد سب سے اہم اور ضروری ہے اور کافر و مسلم کی پہچان ہے، وہ نماز ہے، سو نماز ادا کرو۔ ”نماز ادا کرو“ کے بجائے ”رکوع کرو اور سجدہ کرو“ کے الفاظ استعمال فرمائے، کیونکہ یہ دونوں آدمی کی عام حالت مثلاً قیام و قعود وغیرہ سے مختلف ہیں اور ان سے اللہ تعالیٰ کے سامنے انتہائی عاجزی کا اظہا رہوتا ہے، اسی لیے کئی متکبر لوگوں نے اس لیے اسلام لانے سے انکار کر دیا کہ انھیں اللہ کے سامنے عاجزی کی آخری حد تک جانا پڑتا ہے۔ ➋ { وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ:} ایک خاص عبادت نماز کی تاکید کے بعد رب تعالیٰ کی تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادات کا حکم دیا کہ ”اپنے رب کی عبادت کرو“ اس میں دوسری عبادات کے ساتھ نماز بھی شامل ہے۔ ➌ { وَ افْعَلُوا الْخَيْرَ:} عبادت کے حکم کے بعد ہر خیر یعنی ہر اچھے کام کا حکم دیا۔ خیر میں نماز اور تمام عبادات بھی شامل ہیں اور وہ اچھے اعمال بھی کہ نیت ہو تو عبادت ہوتے ہیں، نیت نہ ہو تو عبادت نہیں ہوتے، مثلاً صلہ رحمی، مہمان نوازی، بیماری پرسی اور دوسرے اخلاق عالیہ۔ مقصد یہ ہے کہ خیر کے خاص اور عام کام کرتے رہو، تاکہ وہ تمھاری عادت بن جائیں اور ان کی ادائیگی میں تمھیں کوئی تکلیف محسوس نہ ہو۔ ابوحیان نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے پہلے خاص چیزوں کا ذکر فرمایا پھر عام کا۔“ (بقاعی) ➍ { لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ:} تاکہ تمھیں دنیا اور آخرت کی کامیابی نصیب ہو۔
وَ جَاہِدُوۡا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِہَادِہٖ ؕ ہُوَ اجۡتَبٰىکُمۡ وَ مَا جَعَلَ عَلَیۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ مِنۡ حَرَجٍ ؕ مِلَّۃَ اَبِیۡکُمۡ اِبۡرٰہِیۡمَ ؕ ہُوَ سَمّٰىکُمُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ۬ۙ مِنۡ قَبۡلُ وَ فِیۡ ہٰذَا لِیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ شَہِیۡدًا عَلَیۡکُمۡ وَ تَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ۚۖ فَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ اعۡتَصِمُوۡا بِاللّٰہِ ؕ ہُوَ مَوۡلٰىکُمۡ ۚ فَنِعۡمَ الۡمَوۡلٰی وَ نِعۡمَ النَّصِیۡرُ ﴿٪۷۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے اُس نے تمہیں اپنے کام کے لیے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی قائم ہو جاؤ اپنے باپ ابراہیمؑ کی ملت پر اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام "مسلم" رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ پس نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہو جاؤ وہ ہے تمہارا مولیٰ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ کی راه میں ویسا ہی جہاد کرو جیسا جہاد کا حق ہے۔ اسی نے تمہیں برگزیده بنایا ہے اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی، دین اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا قائم رکھو، اسی اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔ اس قرآن سے پہلے اور اس میں بھی تاکہ پیغمبر تم پر گواه ہو جائے اور تم تمام لوگوں کے گواه بن جاؤ۔ پس تمہیں چاہئے کہ نمازیں قائم رکھو اور زکوٰة ادا کرتے رہو اور اللہ کو مضبوط تھام لو، وہی تمہارا ولی اور مالک ہے۔ پس کیا ہی اچھا مالک ہے اور کتنا ہی بہتر مددگار ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا حق ہے جہاد کرنے کا اس نے تمہیں پسند کیا اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی تمہارے باپ ابراہیم کا دین اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اگلی کتابوں میں اور اس قرآن میں تاکہ رسول تمہارا نگہبان و گواہ ہو اور تم اور لوگوں پر گواہی دو تو نماز برپا رکھو اور زکوٰة دو اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو وہ تمہارا مولیٰ ہے تو کیا ہی اچھا مولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ جیساکہ جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں منتخب کیا ہے۔ اور دین کے معاملہ میں اس نے تمہارے لئے کوئی تنگی روا نہیں رکھی۔ اپنے باپ (مورث اعلیٰ) ابراہیم (ع) کی ملت کی پیروی کرو۔ اسی (اللہ) نے اس سے پہلے بھی تمہارا نام مسلمان رکھا اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ پیغمبر تم پر گواہ ہوں۔ اور تم لوگوں پر گواہ ہو۔ پس تم نماز قائم کرو۔ اور زکوٰۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہو جاؤ۔ وہی تمہارا مولا ہے سو کیسا اچھا مولا ہے اور کیسا اچھا مددگار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ کے بارے میں جہاد کرو جیسا اس کے جہاد کا حق ہے۔ اسی نے تمھیں چنا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی، اپنے باپ ابراہیم کی ملت کے مطابق۔ اسی نے تمھارا نام مسلمین رکھا، اس سے پہلے اور اس (کتاب) میں بھی، تاکہ رسول تم پر شہادت دینے والا بنے اور تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو۔ سو نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو مضبوطی سے تھام لو، وہی تمھارا مالک ہے، سو اچھا مالک ہے اور اچھا مددگار ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امت مسلمہ کو سابقہ امتوں پر فضیلت ٭٭

’ اپنے مال، جان اور اپنی زبان سے راہ اللہ میں جہاد کرو اور حق جہاد ادا کرو ‘۔ جیسے حکم دیا ہے کہ «اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ» ۱؎ [3-آل عمران:102] ‏‏‏‏ ’ اللہ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنے کا حق ہے ‘، اسی نے تمہیں برگزیدہ اور پسندیدہ کر لیا ہے۔ اور امتوں پر تمہیں شرافت وکرامت عزت وبزرگی عطا فرمائی۔ کامل رسول اور کامل شریعت سے تمہیں سربرآوردہ کیا، تمہیں آسان، سہل اور عمدہ دین دیا۔ وہ احکام تم پر نہ رکھے وہ سختی تم پر نہ کی وہ بوجھ تم پر نہ ڈالے جو تمہارے بس کے نہ ہوں جو تم پر گراں گزریں۔ جنہیں تم بجا نہ لاسکو۔ اسلام کے بعد سب سے اعلیٰ اور سب سے زیادہ تاکید والا، رکن نماز ہے۔ اسے دیکھئیے گھر میں آرام سے بیٹھے ہوئے ہوں تو چار رکعت فرض اور پھر اگر سفر ہو تو وہ بھی دو ہی رہ جائیں۔ اور خوف میں تو حدیث کے مطابق صرف ایک ہی رکعت وہ بھی سواری پر ہو تو اور پیدل ہو تو، روبہ قلبہ ہو تو اور دوسری طرف توجہ ہو تو، اسی طرح یہی حکم سفر کی نفل نماز کا ہے کہ جس طرف سواری کا منہ ہو پڑھ سکتے ہیں۔

پھر نماز کا قیام بھی بوجہ بیماری کے ساقط ہو جاتا ہے۔ مریض بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے، اس کی بھی طاقت نہ ہو تو لیٹے لیٹے ادا کر لے۔ اسی طرح اور فرائض اور واجبات کو دیکھو کہ کس قدر ان میں اللہ تعالیٰ نے آسانیاں رکھی ہیں۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے { میں یک طرفہ اور بالکل آسانی والا دین دے کر بھیجا گیا ہوں }۔ ۱؎ [مسند احمد:266/5:اسنادہ ضعیف] ‏‏‏‏ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہم کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا تو فرمایا تھا { تو خوشخبری سنانا، نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا، سختی نہ کرنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3038] ‏‏‏‏ اور بھی اس مضمون کی بہت سی حدیثیں ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر کرتے ہیں کہ ’ تمہارے دین میں کوئی تنگی و سختی نہیں ‘۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں «مِلَّة» کا نصب بہ نزع خفض ہے گویا اصل میں (‏‏‏‏ «كَمِلَّةِ أَبِيكُمْ» ) تھا۔ اور ہوسکتا ہے کہ «الْزَمُوا» کو محذوف مانا جائے اور «مِّلَّةَ» کو اس کا مفعول قرار دیا جائے۔ اس صورت میں یہ اسی آیت کی طرح ہو جائے گا «دِينًا قِيَمًا» الخ، ’ اس نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے، ابراہیم علیہ السلام سے پہلے۔ کیونکہ ان کی دعا تھی کہ ”ہم دونوں باپ بیٹوں کو اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو مسلمان بنا دے۔‏‏‏‏“ لیکن امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ قول کچھ جچتا نہیں کہ پہلے سے مراد ابراہیم علیہ السلام کے پہلے سے ہو اس لیے کہ یہ تو ظاہر ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اس امت کا نام اس قرآن میں مسلم نہیں رکھا۔ ”پہلے سے“ کے لفظ کے معنی یہ ہیں کہ پہلی کتابوں میں ذکر میں اور اس پاک اور آخری کتاب میں۔ یہی قول مجاہد رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کا ہے اور یہی درست ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے اس امت کی بزرگی اور فضیلت کا بیان ہے ان کے دین کے آسان ہونے کا ذکر ہے۔

پھر انہیں دین کی مزید رغبت دلانے کے لیے بتایا جا رہا ہے کہ ’ یہ دین وہ ہے جو ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام لے کر آئے تھے ‘، پھر اس امت کی بزرگی کے لیے اور انہیں مائل کرنے کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ ’ تمہارا ذکر میری سابقہ کتابوں میں بھی ہے۔ مدتوں سے انبیاء کی آسمانی کتابوں میں تمہارے چرچے چلے آ رہے ہیں۔ سابقہ کتابوں کے پڑھنے والے تم سے خوب آگاہ ہیں پس اس قرآن سے پہلے اور اس قرآن میں تمہارا نام مسلم ہے اور خود اللہ کا رکھا ہوا ہے ‘۔ نسائی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جو شخص جاہلیت کے دعوے اب بھی کرے (‏‏‏‏یعنی باپ دادوں پر حسب نسب پر فخر کرے دوسرے مسلمانوں کو کمینہ اور ہلکا خیال کرے) وہ جہنم کا ایندھن ہے }۔ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ وہ روزے رکھتا ہو؟ اور نمازیں بھی پڑھتا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { ہاں ہاں اگرچہ وہ روزے دار اور نمازی ہو }۔ یعنی مسلمین، مومنین اور عباد اللہ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2873،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سورۃ البقرہ کی آیت «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ» ۱؎ [2-البقرة:21] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں ہم اس حدیث کو بیان کر چکے ہیں۔

پھر فرماتا ہے ’ ہم نے تمہیں عادل عمدہ بہتر امت اسلئے بنایا ہے اور اس لیے تمام امتوں میں تمہاری عدالت کی شہرت کر دی ہے کہ تم قیامت کے دن اور لوگوں پر شہادت دو ‘۔ تمام اگلی امتیں امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضیلت کا اقرار کریں گی۔ کہ اس امت کو اور تمام امتوں پر سرداری حاصل ہے اس لیے ان کی گواہی اس پر معتبر مانی جائے گی۔ اس بارے میں کہ اس کے رسولوں نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچایا ہے، وہ تبلیغ کا فرض ادا کر چکے ہیں اور خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم امت پر شہادت دیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دین پہنچا دیا اور حق رسالت ادا کر دیا۔ اس بابت جتنی حدیثیں ہیں اور اس بارے کی جتنی تفسیر ہے وہ ہم سب کی سب سورۃ البقرہ کے سترھویں رکوع کی آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» ۱؎ [2-البقرة:143] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں لکھ آئے ہیں۔ اس لیے یہاں اسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں وہیں دیکھ لی جائے۔ وہیں نوح علیہ السلام اور ان کی امت کا واقعہ بھی بیان کر دیا ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ اتنی بڑی عظیم الشان نعمت کا شکریہ تمہیں ضرور ادا کرنا چاہیئے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ جو اللہ کے فرائض تم پر ہیں انہیں شوق خوشی سے بجا لاؤ خصوصاً نماز اور زکوٰۃ کا پورا خیال رکھو۔ جو کچھ اللہ نے واجب کیا ہے اسے دلی محبت سے بجالاؤ اور جو چیزیں حرام کر دیں ہیں اس کے پاس بھی نہ پھٹکو ‘۔ پس نماز جو خالص رب کی ہے اور زکوٰۃ جس میں رب کی عبادت کے علاوہ مخلوق کے ساتھ احسان بھی ہے کہ امیر لوگ اپنے مال کا ایک حصہ فقیروں کو خوشی خوشی دیتے ہیں، ان کا کام چلتا ہے دل خوش ہو جاتا ہے۔ اس میں بھی ہے کہ اللہ کی طرف سے بہت آسانی ہے حصہ کم بھی ہے اور سال بھر میں ایک ہی مرتبہ۔ زکوٰۃ کے کل احکام سورۃ التوبہ کی آیت زکوٰ «اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ» ۱؎ [9-التوبہ:60] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں ہم نے بیان کر دئے ہیں وہیں دیکھ لیے جائیں۔

پھر حکم ہوتا ہے کہ ’ اللہ پر پورا بھروسہ رکھو، اسی پر توکل کرو، اپنے تمام کاموں میں اس کی امداد طلب کیا کرو، ہر وقت اعتماد اس پر رکھو، اسی کی تائید پر نظریں رکھو۔ وہ تمہارا مولیٰ ہے، تمہارا حافظ ہے ناصر ہے، تمہیں تمہارے دشمنوں پر کامیابی عطا فرمانے والا ہے، وہ جس کا ولی بن گیا اسے کسی اور کی ولایت کی ضرورت نہیں، سب سے بہتر والی وہی ہے سب سے بہتر مددگار وہی ہے، تمام دنیا گو دشمن ہو جائے لیکن وہ سب قادر ہے اور سب سے زیادہ قوی ہے ‘۔ ابن ابی حاتم میں وہیب بن ورد سے مروی ہے کہ ”اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے ’ اے ابن آدم اپنے غصے کے وقت تو مجھے یاد کر لیا کر۔ میں بھی اپنے غضب کے وقت تجھے معافی فرما دیا کروں گا، اور جن پر میرا عذاب نازل ہو گا میں تجھے ان میں سے بچا لونگا۔ برباد ہونے والوں کے ساتھ تجھے برباد نہ کروں گا۔ اے ابن آدم جب تجھ پر ظلم کیا جائے تو صبروضبط سے کام لے، مجھ پر نگاہیں رکھ، میری مدد پر بھروسہ رکھ میری امداد پر راضی رہ، یاد رکھ میں تیری مدد کروں یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ تو آپ اپنی مدد کرے ‘۔ (‏‏‏‏اللہ تعالیٰ ہمیں بھلائیوں کی توفیق دے اپنی امداد نصیب فرمائے آمین) «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
78۔ 1 اس جہاد سے مراد بعض نے وہ جہاد اکبر لیا ہے جو اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے کفار و مشرکین سے کیا جاتا ہے اور بعض نے ادائے امر الٰہی کی بجاآوری، کہ اس میں بھی نفس امارہ اور شیطان کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اور بعض نے ہر وہ کوشش مراد لی ہے جو حق اور صداقت کے غلبے اور باطل کی سرکوبی۔ 78۔ 2 یعنی ایسا حکم نہیں دیا گیا جس کا متحمل نفس انسانی نہ ہو بلکہ پچھلی شریعتوں کے بعض سخت احکام بھی اس نے منسوخ کردیئے علاوہ ازیں بہت سی آسانیاں مسلمانوں کو عطا کردیں جو پچھلی شریعتوں میں نہیں تھیں۔ 78۔ 3 عرب حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد سے تھے، اس اعتبار سے حضرت ابراہیم ؑ عربوں کے باپ تھے اور غیر عرب بھی حضرت ابراہیم ؑ کو ایک بزرگ شخصیت کے طور پر اسی طرح احترام کرتے تھے، جس طرح بیٹے باپ کا احترام کرتے ہیں، اس لئے وہ تمام ہی لوگوں کے باپ تھے، علاوہ ازیں پیغمبر اسلام کے (عرب ہونے کے ناطے سے) حضرت ابراہیم ؑ باپ تھے، اس لئے امت محمدیہ کے بھی باپ ہوئے، اس لئے کہا گیا، یہ دین اسلام، جسے اللہ نے تمہارے لئے پسند کیا ہے، تمہارے باپ ابراہیم ؑ کا دین ہے، اسی کی پیروی کرو۔ 78۔ 4 مسلم کا مرجع بعض کے نزدیک حضرت ابراہیم ؑ ہیں یعنی نزول قرآن سے پہلے تمہارا نام مسلم بھی حضرت ابراہیم ؑ ہی نے رکھا ہے اور بعض کے نزدیک، مرجع اللہ تعالیٰ ہے۔ یعنی اس نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے۔ 78۔ 5 یہ گواہی، قیامت والے دن ہوگی، جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ملاحظہ ہو سورة بقرہ، آیت 143 کا حاشیہ۔
(آیت 78) ➊ {وَ جَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ:جِهَادِ“ ”جَهَدَ يَجْهَدُ“} (ف) میں سے باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔ اس کا معنی ہے کسی کے مقابلے میں اپنی پوری کوشش صرف کرنا۔ یہ لفظ اصل میں اللہ کے راستے میں لڑائی کے متعلق بولا جاتا ہے، یہاں یہی مراد ہے، کیونکہ یہی سورۂ مبارکہ ہے جس میں سب سے پہلے کفار سے لڑنے کی اجازت دی گئی اور لڑنے والوں کو اللہ کی نصرت کی خوش خبری دی گئی۔ دیکھیے اس سورت کی آیت (۳۹) {” اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا۔“} اب اس آیت میں اِذن سے بڑھ کر جہاد کا حکم دے دیا ہے۔ (ابن عاشور) ویسے جہاد کا لفظ ہر اس کوشش پر بھی بولا جاتا ہے جو کفار کے مقابلے میں اسلام کی سربلندی کے لیے جان، مال، زبان یا قلم کے ساتھ کی جائے، بلکہ نفس کی ناجائز خواہشوں کے مقابلے پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں فرمایا: [ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِالْمُؤْمِنِ؟ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلٰی أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِّسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِيْ طَاعَةِ اللّٰهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوْبَ ] [ مسند أحمد: 21/6، ح: ۲۴۰۱۳ ] ”کیا میں تمھیں مومن کے بارے میں بتاؤں؟ مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں اور مالوں کے بارے میں بے خوف ہوں اور مسلم وہ ہے کہ لوگ اس کی زبان اور ہاتھ سے سلامت رہیں اور مجاہد وہ ہے جو اللہ کی فرماں برداری میں اپنے نفس سے جہاد کرے اور مہاجر وہ ہے جو خطائیں اور گناہ چھوڑ دے۔“ علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ صحیحہ (۲ /۸۱) میں لکھا ہے: ”اسے امام احمد نے اپنی مسند (۶ /۲۱) میں روایت کیا ہے۔ سند صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔“ امام المفسرین طبری نے فرمایا، اہلِ تاویل کا اللہ کے فرمان {” وَ جَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ “} کے متعلق اختلاف ہے، ان میں سے بعض نے فرمایا کہ اس کا معنی ہے کہ مشرکین سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو، جیسا اس کے جہاد کا حق ہے۔ پھر طبری نے اپنی سند سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ذکر فرمایا: {” «‏‏‏‏وَ جَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ» ‏‏‏‏ كَمَا جَاهَدْتُّمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ “} ”یعنی اس آیت ”اللہ کے بارے میں جہاد کرو جیسا اس کے جہاد کا حق ہے“ کا مطلب ہے، جیسا کہ تم نے پہلی مرتبہ جہاد کیا تھا۔“ اور بعض نے فرمایا کہ اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے مت ڈرو، یہی جہاد کا حق ہے۔ پھر طبری نے یہ قول بھی ابن عباس رضی اللہ عنھما سے اپنی سند سے بیان فرمایا۔ کچھ اور نے فرمایا، اس کا معنی ہے کہ حق پر عمل کرو، جیسا کہ اس پر عمل کا حق ہے۔ طبری فرماتے ہیں، یہ قول ضحاک سے بعض ایسے راویوں نے ذکر کیا ہے جن کی روایت میں نظر ہے۔ آخر میں امام طبری اپنا فیصلہ بیان فرماتے ہیں: {” وَالصَّوَابُ مِنَ الْقَوْلِ فِيْ ذٰلِكَ قَوْلُ مَنْ قَالَ عُنِيَ بِهِ الْجِهَادَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لِأَنَّ الْمَعْرُوْفَ مِنَ الْجِهَادِ ذٰلِكَ، وَهُوَ الْأَغْلَبُ عَلٰي قَوْلِ الْقَائِلِ جَاهَدْتُّ فِي اللّٰهِ“} ”اس آیت کی تفسیر میں درست بات اس کی ہے جس نے کہا کہ اس سے مراد جہاد فی سبیل اللہ ہے، کیونکہ جہاد کا معروف معنی یہی ہے اور جب کوئی کہے کہ میں نے اللہ (کے راستے) میں جہاد کیا تو اس کا اغلب معنی یہی ہے۔“ امام طبری نے یہ بہت عمدہ بات فرمائی ہے، کیونکہ اگر ہر گناہ چھوڑنے والا مہاجر کہلا سکتا ہے تو انصار و مہاجرین کا فرق ختم ہو جاتا ہے اور اگر ہر دین پڑھانے والا، قرآن کا قاری، کسی دینی رسالے یا ادارے کا مدیر یا اپنے نفس سے جہاد کرنے والا مجاہد کہلا سکتا ہے تو کفار کے مقابلے میں جان و مال سب کچھ قربان کر دینے والے اور کسی مفتی و مدرس اور اپنے نفس سے جہاد کرنے والے کسی مسلم کے درمیان مجاہد کہلانے میں کوئی فرق نہیں رہے گا، بلکہ سارے مسلمان ہی مجاہد کہلائیں گے، جب کہ مجاہد صرف مجاہد ہی کو کہتے ہیں، کسی مدرس، مبلغ، مفتی، مصنف یا نفس سے جہاد کرنے والے کو کوئی مجاہد نہیں کہتا۔ رہی حدیث کہ مجاہد وہ ہے جو اللہ کی فرماں برداری میں اپنے نفس سے جہاد کرے، تو اس میں مجاہدین کو نصیحت ہے کہ صرف کفار سے لڑنے کو کافی نہ سمجھنا، اصل مجاہد تم اس وقت بنو گے جب اللہ کی فرماں برداری میں اپنے نفس سے جہاد کرو گے اور مہاجرین کو نصیحت ہے کہ صرف ترک وطن کو کافی نہ سمجھنا، اصل مہاجر تم اس وقت بنو گے جب خطائیں اور گناہ چھوڑ دو گے۔ ➋ بعض لوگ کفار سے جہاد کی اہمیت کم کرنے کے لیے ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک سے واپسی پر فرمایا: [ رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَی الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ ] ”ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہیں۔“ گویا کفار سے لڑائی چھوٹا جہاد ہے، حالانکہ یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر گز ثابت نہیں۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے [سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة ۲۴۶۰] میں اس پر مفصل بحث کی ہے اور اسے منکر قرار دیا ہے۔ اسی سلسلے میں انھوں نے مجموع الفتاویٰ (۱۱؍۱۹۷) سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کلام نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: ”اس کی کوئی اصل نہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کا علم رکھنے والوں میں سے کسی نے اسے روایت کیا ہے۔ کفار سے جہاد سب سے زیادہ عظمت والے اعمال میں سے ہے، بلکہ انسان اپنی خوشی سے جو عمل کرتا ہے ان سب سے افضل ہے۔“ پھر کچھ آیات و احادیث نقل فرمائیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاد افضل اعمال میں سے ہے۔ ➌ { هُوَ اجْتَبٰىكُمْ:} اس خطاب کے اولین مخاطب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں اپنا دین قبول کرنے، اسے پھیلانے اور اسے نہ ماننے والوں کے ساتھ جہاد کے لیے چن لیا ہے۔ اور یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ یہ صحابہ ہی تھے جنھوں نے دعوت و جہاد کے ساتھ چند سالوںمیں مشرق ومغرب تک اسلام پہنچا دیا۔ پھر ان کے بعد جو لوگ بھی ان کے نقش قدم پر چل کر دعوت و جہاد کے ساتھ کفر کو مغلوب اور اسلام کو غالب کرتے رہے وہ بھی اس کے مخاطب ہیں۔ یہ آیت صحابہ اور ان کے پیروکاروں کی فضیلت کی زبردست دلیل ہے۔ وہ لوگ بہت بڑی غلطی پر ہیں جو اللہ کے ان چنے ہوئے پیاروں سے بغض رکھتے ہیں اور ان پر زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ یا پوری امت اس کی مخاطب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں تمام امتوں میں سے چن لیا ہے۔ دونوں صورتوں میں اس آیت کا اور {” كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ “} کا مفہوم ایک ہی ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۱۰) کی تفسیر۔ ➍ { وَ مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ:} امت کے چنیدہ ہونے کے ساتھ ہی اس کی افضلیت کی وجہ بھی بیان فرما دی کہ اس دین میں کوئی تنگی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ الدِّيْنَ يُسْرٌ ] [ بخاري، الإیمان، باب الدین یسر: ۳۹، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”یہ دین آسان ہے۔“ اور فرمایا: [ أَحَبُّ الدِّيْنِ إِلَی اللّٰهِ الْحَنِيْفِيَّةُ السَّمْحَةُ ] [ بخاري، قبل ح: ۳۹ ] ”تمام دینوں میں سے اللہ کو سب سے پسند ابراہیم حنیف کی ملت ہے جو سادہ اور آسان ہے۔“ بخاری رحمہ اللہ نے پہلی حدیث سند کے ساتھ اور دوسری معلق بیان فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا: «‏‏‏‏يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَ لَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۸۵ ] ”اللہ تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اور تمھارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔“ {” وَ جَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ “} سے اس جملے کا تعلق یہ ہے کہ اگر تم میں جہاد کی طاقت نہیں تو تمھیں رخصت ہے، فرمایا: «‏‏‏‏لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِيْضِ حَرَجٌ» ‏‏‏‏ [ الفتح: ۱۷ ] ”نہیں ہے اندھے پر کوئی تنگی اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی اور نہ مریض پر کوئی تنگی۔“ اسی طرح عورتوں بوڑھوں، کمزوروں اور نادانوں کو جہاد معاف کر دیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۹۱ تا ۹۳)۔ دین میں کسی مشکل کے نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان جو جی میں آئے کرتا پھرے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین کے احکام ایسے رکھے ہیں جو انسانی طاقت کے اندر ہیں، اسی لیے فرمایا: «لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۲۸۶ ] ”اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق۔“ پھر کمزوری یا بڑھاپے یا کسی اور عذر کی بنا پر انجام نہ دے سکنے کی صورت میں رخصت اور تخفیف کا قاعدہ مقرر کیا ہے (جیسے سفر میں قصر نماز، سفر اور بیماری میں روزہ افطار کرنے کی اجازت، پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی اجازت، ساری زمین میں جہاں وقت ہو جائے نماز کی اجازت وغیرہ) پھر گناہوں کے ارتکاب کی صورت میں توبہ کا دروازہ کھلا رکھا جسے پچھلی امتوں کے فقیہوں نے اپنی موشگافیوں سے ختم کر ڈالا تھا۔ اسی طرح پہلی امتوں کے بعض سخت احکام منسوخ کر دیے اور وہ رسوم و رواج بھی ختم کر دیے جو لوگوں نے خود یا ان کے فقیہوں نے ان پر لازم کر رکھے تھے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۵۷)۔ ➎ { مِلَّةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ: ”أَيْ مُتَّبِعِيْنَ مِلَّةَ أَبِيْكُمْ إِبْرَاهِيْمَ“} یعنی اس حال میں کہ تم اپنے باپ ابراہیم کی پیروی کرنے والے ہو۔ {” اَبِيْكُمْ “ } سے اگر مخاطب عرب سمجھے جائیں تو ابراہیم علیہ السلام کو ان کا باپ اس لیے فرمایا کہ وہ اکثر ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے تھے اور اگر پوری امت مسلمہ مخاطب ہو تو ابراہیم علیہ السلام پوری امتِ مسلمہ کے اس لیے باپ ہیں کہ وہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ ہیں۔ ➏ {هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِيْ هٰذَا: ”أَيْ مِنْ قَبْلِ الْقُرْآنِ وَ فِيْ هٰذَا الْقُرْآنِ“} عام طور اس کی تفسیر یہ کی جاتی ہے کہ اس نے یعنی ابراہیم علیہ السلام نے قرآن سے پہلے اور اس قرآن میں تمھارا نام مسلمین رکھا۔ مگر امام طبری نے دو صحیح سندوں کے ساتھ نقل فرمایا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے {” هُوَ سَمّٰىكُمْ “} کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے (تمھارا نام مسلم رکھا ہے)۔ یعنی یہ نام ابراہیم علیہ السلام نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ابن کثیر نے فرمایا کہ مجاہد، قتادہ، ضحاک، سدی اور مقاتل بن حیان نے بھی یہی فرمایا۔ اس کے بعد ابن کثیر نے طبری سے عبد الرحمان بن زید بن اسلم کا قول نقل فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے تمھارا نام مسلمین رکھا اور اس پر ابن جریر کا تبصرہ نقل فرمایا کہ یہ کسی طرح صحیح نہیں، کیونکہ معلوم ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے قرآن میں اس امت کا نام مسلمین نہیں رکھا، جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے تمھارا نام اس سے پہلے اور اس میں مسلمین رکھا۔ مجاہد نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھارا نام مسلمین رکھا، اس سے پہلے گزشتہ کتابوںمیں اور اس ذکر (قرآن) میں بھی۔ مجاہد کے علاوہ بھی کئی مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہی بات درست ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے فرمایا: «‏‏‏‏هُوَ اجْتَبٰىكُمْ» ‏‏‏‏ یعنی اس (اللہ) نے تمھیں چنا۔ پھر انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی ترغیب یہ کہہ کر دلائی کہ یہ تمھارے باپ ابراہیم کی ملت ہے، پھر اس امت پر احسان جتلایا کہ اس نے پہلی تمام کتابوں میں اور اس قرآن میں تمھارا نام مسلمین رکھا ہے۔ آئندہ فائدے میں ایک حدیث آ رہی ہے جس میں صراحت ہے کہ ہمارا نام اللہ تعالیٰ نے مسلمین، مومنین اور عباد اللہ رکھا ہے۔ قرآن میں مسلمین نام کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۶۴) اور سورۂ زمر (۱۲)۔ ➐ کچھ سال پہلے ایک صاحب نے کہا کہ جو شخص ”مسلم“ کے سوا کوئی اور نام اختیار کرے وہ کافر ہے، خارج از اسلام ہے۔ اگرچہ ان کے فوت ہونے کے بعد وہ زور نہیں رہا مگر اب بھی ان کے کئی متاثرین کافر گری کا یہ شغل جاری رکھے ہوئے ہیں، اگرچہ وہ خود بھی کئی گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے پر فتوے لگا رہے ہیں۔ حالانکہ کوئی مسلم اگر اسلام کی کسی صفت کو بطور نام استعمال کرلے تو وہ ملت اسلام سے کیسے خارج ہو گیا؟ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِيْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِيْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِيْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِيْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِيْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىِٕمِيْنَ وَ الصّٰٓىِٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِيْمًا» ‏‏‏‏ [الأحزاب: ۳۵ ] ”بے شک مسلم مرد اور مسلم عورتیں اور مومن مرد اورمومن عورتیں اور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرداور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کا بہت ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، ان کے لیے اللہ نے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔“ اور حارث اشعری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنِ ادَّعٰی دَعْوَی الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ جُثَا جَهَنَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَإِنْ صَلّٰی وَصَامَ فَقَالَ وَإِنْ صَلّٰی وَصَامَ فَادْعُوْا بِدَعْوَی اللّٰهِ الَّذِيْ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ عِبَادَ اللّٰهِ ] [ ترمذي الأدب، باب ماجاء في مثل الصلاۃ…: ۲۸۶۳۔ مسند أحمد: 344/5، ح: ۲۲۹۷۶ ] ”جو شخص جاہلیت کی دعوت کی آواز دے وہ جہنم کی ڈھیریوں میں سے ہے۔“ ایک آدمی نے کہا: ”یارسول اللہ! خواہ وہ نماز پڑھے اور روزے رکھے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” خواہ وہ نماز پڑھے اور روزے رکھے۔ سو تم اللہ کی دعوت کی طرف بلاؤ جس نے تمھارا نام ”مسلمین“، ”مومنین“ اور ”عباد اللہ“ رکھا ہے۔“ اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ مسلمین کے علاوہ صفاتی نام (مثلاً مومنین، عباد اللہ) لینے میں کوئی حرج نہیں۔ ➑ { لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۴۳) یہاں رسول کا ذکر پہلے ہے اور سورۂ بقرہ میں امت کا پہلے ہے۔ کیونکہ وہاں امت کی تعریف ہو رہی ہے جبکہ یہاں ملت ابراہیم کی پیروی کی تاکید ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں، اس لیے یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر پہلے ہے۔ (ابن عاشور) ➒ { فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ:} یہ {” هُوَ اجْتَبٰىكُمْ “} اور {” هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ “} پر عطف ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے تم پر اتنے انعام کیے ہیں تو تم اس کا شکر ادا کرنے کے لیے ہمیشہ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ ان دو اعمال کی تاکید اس لیے فرمائی کہ کسی اسلام لانے والے کے ایمان کا ثبوت اقرار کے بعد ان دونوں عملوں سے ملتا ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۵، ۱۱)۔ ➓ { وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ:} اور اللہ تعالیٰ کو مضبوطی سے تھام لو، یعنی اس کے تمام احکام کو مضبوطی سے تھام لو، اسی طرح ہر مشکل اور مصیبت بلکہ اپنے ہر کام میں اسی کے سہارے کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور کسی غیر کی طرف نظر مت اٹھاؤ۔ ⓫ {هُوَ مَوْلٰىكُمْ:} یہ اللہ کو مضبوطی سے تھامنے کی وجہ بیان ہوئی ہے کہ تمھارا مالک اور تمھارے تمام کاموں کا ذمہ اٹھانے والا وہی ہے۔ ⓬ {فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِيْرُ:} وہ اچھا مالک اور اچھا مددگار ہے، کیونکہ وہ کسی کا ذمہ اٹھا لے تو اسے ہر فکر سے کافی ہو جاتا ہے اور جب کسی کی مدد کر دے تو اسے اس کے تمام دشمنوں پر غالب کر دیتا ہے۔ دعائے قنوت میں ہے: [ إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَّالَيْتَ وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ ] [ أبوداوٗد، الوتر، باب القنوت في الوتر: ۱۴۲۵ ] ”حقیقت یہ ہے کہ جس کا تو دوست بن جائے وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا اور جس کا تو دشمن ہو جائے وہ کبھی عزت نہیں پاتا۔“