بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحج — Surah Hajj
آیت نمبر 51
کل آیات: 78
قرآن کریم الحج آیت 51
آیت نمبر: 51 — سورۃ الحج islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡنَ سَعَوۡا فِیۡۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیۡنَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ ﴿۵۱﴾
اور جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے وہ دوزخ کے یار ہیں
اور جو لوگ ہماری نشانیوں کو پست کرنے کے درپے رہتے ہیں وہی دوزخی ہیں
اور وہ جو کوشش کرتے ہیں ہماری آیتوں میں ہار جیت کے ارادہ سے وہ جہنمی ہیں،
اور جو لوگ ہماری آیتوں کے بارے میں (ہمیں) عاجز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہی لوگ (دوزخی) ہیں۔
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کے بارے میں کوشش کی، اس حال میں کہ نیچا دکھانے والے ہیں، وہی بھڑکتی آگ والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اطاعت الٰہی سے روکنے والوں کا حشر ٭٭

چونکہ کفار عذاب مانگا کرتے تھے اور ان کی جلدی مچاتے رہتے تھے ان کے جواب میں اعلان کرایا جا رہا ہے کہ ’ لوگو! میں تو اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ تمہیں رب کے عذابوں سے جو تمہارے آگے ہیں چوکنا کر دوں، تمہارا حساب میرے ذمے نہیں۔ عذاب اللہ کے بس میں ہے چاہے اب لائے چاہے دیر سے لائے۔ مجھے کیا معلوم کہ تم میں کس کی قسمت میں ہدایت ہے اور کون اللہ کی رحمت سے محروم رہنے والا ہے چاہت اللہ کی ہی پوری ہونی ہے حکومت اسی کے ہاتھ ہے مختار اور کرتا دھرتا وہی ہے «لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ» ۱؎ [13-الرعد:41] ‏‏‏‏ ’ کسی کو اس کے سامنے چوں چرا کی مجال نہیں وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے ‘۔ میری حیثیت تو صرف ایک آگاہ کرنے والے کی ہے ‘۔ جن کے دلوں میں یقین و ایمان ہے اور اس کی شہادت ان کے اعمال سے بھی ثابت ہے۔ ان کے کل گناہ معافی کے لائق ہیں اور ان کی کل نیکیاں قدردانی کے قابل ہیں۔ رزق کریم سے مراد جنت ہے۔ جو لوگ اوروں کو بھی اللہ کی راہ سے اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روکتے ہیں وہ جہنمی ہیں، سخت عذابوں اور تیز آگ کے ایندھن ہیں، اللہ ہمیں بچائے۔ اور آیت میں ہے کہ «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88] ‏‏‏‏ ’ ایسے کفار کو ان کے فساد کے بدلے عذاب پر عذاب ہیں ‘۔

📖 احسن البیان

51۔ 1 مُعٰجِزِیْنَ کا مطلب ہے یہ گمان کرتے ہوئے کہ ہمیں عاجز کردیں گے، تھکا دیں گے اور ہم ان کی گرفت کرنے پر قادر نہیں ہو سکیں گے۔ اس لئے کہ وہ بعث بعد الموت اور حساب کتاب کے منکر تھے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 51){ وَ الَّذِيْنَ سَعَوْا فِيْۤ اٰيٰتِنَا …: ” مُعٰجِزِيْنَ “ } باب مفاعلہ سے اسم فاعل ہے، مقابلے میں عاجز کر دینے والے، نیچا دکھانے والے۔ یہ نذارت یعنی ڈرانے کی آیت ہے، یعنی جن لوگوں کی کوشش ہے کہ ہماری آیات کا مقابلہ کرتے ہوئے ہمیں نیچا دکھا دیں یا عاجز کر دیں، کبھی انھیں جھوٹا کہتے ہیں، کبھی جادو کہتے ہیں، کبھی کہانت، کبھی شعر اور کبھی پہلے لوگوں کی فرضی کہانیاں، تاکہ لوگوں کو ان پر ایمان لانے سے روکیں، تو یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، حتیٰ کہ ان کا لقب ہی {” اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ “} (بھڑکتی ہوئی آگ والے لوگ) ہے۔
← پچھلی آیت (50) پوری سورۃ اگلی آیت (52) →