بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الحج
سورۃ الحج — 78 آیات — صفحہ 1 از 2
قرآن کریم Surah 22
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ ۚ اِنَّ زَلۡزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیۡءٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لوگو، اپنے رب کے غضب سے بچو، حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا زلزلہ بڑی (ہولناک) چیز ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو! بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بہت ہی بڑی چیز ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے لوگو! اپنے پروردگار (کی ناراضی) سے ڈرو۔ بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی شے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دعوت تقویٰ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تقوے کا حکم فرماتا ہے اور آنے والے دہشت ناک امور سے ڈرا رہا ہے خصوصاً قیامت کے زلزلے سے۔ اس سے مراد یا تو وہ زلزلہ ہے جو قیامت کے قائم ہونے کے درمیان آئے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا» ۱؎ [99-الزلزلة:2،1] ‏‏‏‏، ’ زمین خوب اچھی طرح جھنجھوڑ دی جائے گی ‘۔ اور فرمایا آیت «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» ۱؎ [69-الحاقة:15،14] ‏‏‏‏ یعنی ’ زمین اور پہاڑ اٹھا کر باہم ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے کر دئے جائیں گے‘۔ اور فرمان ہے آیت «إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا فَكَانَتْ هَبَاءً مُّنبَثًّا» ۱؎ [56-الواقعة:6-4] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب کہ زمین بڑے زور سے ہلنے لگے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے ‘۔ صور کی حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ جب آسمان و زمین کو پیدا کر چکا تو صور کو پیدا کیا اسے اسرافیل علیہ السلام کو دیا وہ اسے منہ میں لیے ہوئے آنکھیں اوپر کو اٹھائے ہوئے عرش کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ کب حکم الٰہی ہو اور وہ صور پھونک دیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! صور کیا چیز ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایک پھونکنے کی چیز ہے بہت بری جس میں تین مرتبہ پھونکا جائے گا پہلا نفخہ گھبراہٹ کا ہو گا دوسرا بے ہوشی کا تیسرا اللہ کے سامنے کھڑا ہونے کا۔ اسرافیل علیہ السلام کو حکم ہو گا وہ پھونکیں گے جس سے کل زمین و آسمان والے گھبرا اٹھیں گے سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے۔ بغیر رکے، بغیر سانس لیے بہت دیرتک برابر اسے پھونکتے رہیں گے } }۔

اسی پہلے صور کا ذکر آیت «وَمَا يَنظُرُ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ» ۱؎ [38-ص:15] ‏‏‏‏ میں ہے اس سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے زمین کپکپانے لگے گی۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ» ۱؎ [79-النازعات:8-6] ‏‏‏‏، جب کہ زمین لرزنے لگے گی اور یکے بعد دیگرے زبردست جھٹکے لگیں گے دل دھڑکنے لگیں گے زمین کی وہ حالت ہو جائے گی جو کشتی کی طوفان میں اور گرداب میں ہوتی ہے یا جیسے کوئی قندیل عرش میں لٹک رہی ہو جسے ہوائیں چاروں طرف جھلارہی ہوں۔ آہ! یہی وقت ہو گا کہ دودھ پلانے والیاں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی اور حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے اور بچے بوڑھے ہو جائیں گے شیاطین بھاگنے لگیں گے زمین کے کناروں تک پہنچ جائیں گے لیکن وہاں سے فرشتوں کی مار کھا کر لوٹ آئیں گے۔ لوگ ادھر ادھر حیران پریشان زمین ایک طرف سے دوسرے کو آوازیں دینے لگیں گے اسی لیے اس دن کا نام قرآن نے «يَوْمَ التَّنَاد» رکھا جیسے کہ آیت میں ہے «وَيَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ» ۱؎ [40-غافر:32] ‏‏‏‏۔ اسی وقت زمین ایک طرف سے دوسری طرف تک پھٹ جائے گی اس وقت زمین ایک طرف سے دوسری طرف تک پھٹ جائے گی اس وقت کی گھبراہٹ کا انداز نہیں ہوسکتا۔ اب آسمان میں انقلابات ظاہر ہوں گے سورج چاند بے نور ہو جائیں گے، ستارے جھڑنے لگیں گے اور کھال ادھڑنے لگے گی۔ زندہ لوگ یہ سب کچھ دیکھ رہے ہوں گے ہاں مردہ لوگ اس سے بے خبر ہونگے آیت قرآن «وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:68] ‏‏‏‏ میں جن لوگوں کا استثنا کیا گیا ہے کہ وہ بے ہوش نہ ہوں گے اس سے مراد شہید لوگ ہیں۔ یہ گھبراہٹ زندوں پر ہو گی شہید اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور روزیاں پاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس دن کے شر سے نجات دے گا اور انہیں پر امن رکھے گا۔ یہ عذاب الٰہی صرف بدترین مخلوق کو ہو گا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ اس سورت کی شروع کی آیتوں میں بیان فرماتا ہے۔ یہ حدیث طبرانی جریر ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے اور بہت مطول ہے اس حصے کو نقل کرنے سے یہاں مقصود یہ ہے کہ اس آیت میں جس زلزلے کا ذکر ہے یہ قیامت سے پہلے ہوگا۔ اور قیامت کی طرف اس کی اضافت بوجہ قرب اور نزدیکی کے ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے «اشراط الساعة» وغیرہ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یا اس سے مراد وہ زلزلہ ہے جو قیام قیامت کے بعد میدان محشر میں ہو گا جب کہ لوگ قبروں سے نکل کرمیدان میں جمع ہوں گے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسے پسند فرماتے ہیں اس کی دلیل میں بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

(‏‏‏‏١)‏‏‏‏‏‏‏‏ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم تیز تیز چل رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے با آواز بلند ان دونوں آیتوں کی تلاوت کی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے کان میں آواز پڑتے ہی وہ سب اپنی سواریاں لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد جمع ہو گے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ اور فرمائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جانتے ہو یہ کون سا دن ہو گا؟ یہ وہ دن ہو گا جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو فرمائے گا کہ اے آدم جہنم کا حصہ نکال۔ وہ کہیں گے اے اللہ کتنوں میں سے کتنے؟ فرمائے گا ہر ہزار میں سے نو سو نناوے جہنم کے لیے اور ایک جنت کے لیے }۔ یہ سنتے ہی صحابہ کے دل دہل گئے، چپ لگ گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھ کر فرمایا کہ { غم نہ کرو، خوش ہو جاؤ، عمل کرتے رہو۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تمہارے ساتھ مخلوق کی وہ تعداد ہے کہ جس کے ساتھ ہو اسے بڑھا دے یعنی یاجوج ماجوج اور نبی آدم میں سے جو ہلاک ہو گئے اور ابلیس کی اولاد }۔ اب صحابہ رضی اللہ عنہم کی گھبراہٹ کم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عمل کرتے رہو اور خوشخبری سنو اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم تو اور لوگوں کے مقابلے پر ایسے ہی ہو جیسے اونٹ کے پہلو کا یا جانور کے ہاتھ کا داغ } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3169،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اسی روایت کی اور سند میں ہے کہ { یہ آیت حالت سفر میں اتری۔ اس میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان سن کر رونے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قریب قریب رہو اور ٹھیک ٹھاک رہو ہر نبوت کے پہلے جاہلیت کا زمانہ رہا ہے وہی اس گنتی کو پوری کر دے گا ورنہ منافقوں سے وہ گنتی پوری ہوگی } }۔ اس میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { مجھے تو امید ہے کہ اہل جنت کی چوتھائی صرف تم ہی ہو گے }۔ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ اکبر کہا۔ ارشاد ہوا کہ { عجب نہیں کہ تم تہائی ہو }، اس پر انہوں نے پھر تکبیر کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھے امید ہے کہ تم ہی نصفاً نصف ہو گے }، انہوں نے پھر تکبیر کہی }۔ راوی کہتے ہیں مجھے یاد نہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوتہائیاں بھی فرمائیں یا نہیں؟ ۱؎ [سنن ترمذي:3168،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { غزوہ تبوک سے واپسی میں مدینے کے قریب پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت آیت شروع کی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24906:مرسل] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ { جنوں اور انسانوں سے جو ہلاک ہوئے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:4910:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { تم تو ایک ہزار اجزا میں سے ایک جز ہی ہو }۔ ۱؎ [مسند بزار:3467:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { قیامت والے دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پکارے گا وہ جواب دیں گے «لَبَّيْكَ رَبّنَا وَسَعْدَيْك» پھر آواز آئے گی کہ ’ اللہ تجھے حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد میں جہنم کا حصہ نکال ‘، پوچھیں گے اللہ کتنا؟ حکم ہوگا ’ ہر ہزار میں سے نو سو نناوے ‘ اس وقت حاملہ کے حمل گرجائیں گے، بچے بوڑھے ہو جائیں گے، اور لوگ حواس باختہ ہو جائیں گے کسی نشے سے نہیں بلکہ اللہ کے عذابوں کی سختی کی وجہ سے۔ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم کے چہرے متغیر ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یاجوج ماجوج میں سے نو سو ننانوے اور تم میں سے ایک۔ تم تو ایسے ہو جیسے سفید رنگ بیل کے چند سیاہ بال جو اس کے پہلو میں ہوں۔ یامثل چند سفید بالوں کے جو سیاہ رنگ بیل کے پہلو میں ہوں } }۔ پھر فرمایا { مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی گنتی میں تمہاری گنتی چوتھے حصے کی ہوگی }، ہم نے اس پر تکبیر کہی۔ پھر فرمایا { آدھی تعداد میں باقی سب اور آدھی تعداد صرف تمہاری }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4841] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر وہ ایک خوش نصیب ہم میں سے کون ہوگا؟ جب کہ یہ حالت ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:3307،] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے { تم اللہ کے سامنے ننگے پیروں ننگے بدن بے ختنہ حاضر کئے جاؤ گے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مرد عورتیں ایک ساتھ؟ ایک دوسرے پر نظریں پڑیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عائشہ وہ وقت نہایت سخت اور خطرناک ہو گا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6527] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا دوست اپنے دوست کو قیامت کے دن یاد کرے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عائشہ تین موقعوں پر کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا۔ اعمال کے تول کے وقت جب تک کمی زیادتی نہ معلوم ہو جائے۔ اعمال ناموں کے اڑائے جانے کے وقت جب تک دائیں بائیں ہاتھ میں نہ آ جائیں۔ اس وقت جب کہ جہنم میں سے ایک گردن نکلے گی جو گھیرلے گی اور سخت غیظ وغضب میں ہوگی اور کہے گی میں تین قسم کے لوگوں پر مسلط کی گئی ہوں ایک تو وہ لوگ جو اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے رہتے ہیں دوسرے وہ جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور تیسرے ہر سرکش ضدی متکبر پر پھر تو وہ انہیں سمیٹ لے گی اور چن چن کر اپنے پیٹ میں پہنچا دے گی جہنم پر پل صراط ہو گی جو بال سے باریک اور تلوار سے تیز ہو گی اس پر آنکس اور کانٹے ہوں گے جسے اللہ چاہے پکڑ لے گی اس پر سے گزرنے والے مثل بجلی کے ہوں گے مثل آنکھ جھپکنے کے مثل ہوا کے مثل تیزرفتار گھوڑوں اور اونٹوں کے فرشتے ہر طرف کھڑے دعائیں کرتے ہوں گے کہ اللہ سلامتی دے اللہ بچا دے پس بعض تو بالکل صحیح سالم گزر جائیں گے بعض کچھ چوٹ کھا کر بچ جائیں گے بعض اوندھے منہ جہنم میں گریں گے} }۔ ۱؎ [مسند احمد:110/6:ضعیف] ‏‏‏‏

قیامت کے آثار میں اور اس کی ہولناکیوں میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ جن کی جگہ اور ہے۔ یہاں فرمایا ’ قیامت کا زلزلہ نہایت خطرناک ہے بہت سخت ہے نہایت مہلک ہے دل دہلانے والا اور کلیجہ اڑانے والا ہے ‘۔ زلزلہ رعب و گھبراہٹ کے وقت دل کے ہلنے کو کہتے ہیں جیسے آیت میں ہے کہ «هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا» ۱؎ [33-الأحزاب:11] ‏‏‏‏ ’ اس میدان جنگ میں مومنوں کو مبتلا کیا گیا اور سخت جھنجھوڑ دئے گئے ‘۔ جب تم اسے دیکھو گے یہ ضمیر شان کی قسم سے ہے اسی لیے اس کے بعد اس کی تفسیر ہے کہ ’ اس سختی کی وجہ سے دودھ پلانے والی ماں اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور حاملہ کے حمل ساقط ہو جائیں گے۔ لوگ بدحواس ہو جائیں گے ایسے معلوم ہوں گے جیسے کوئی نشے میں بدمست ہو رہا ہو۔ دراصل وہ نشے میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کے عذابوں کی سختی نے انہیں بے ہوش کر رکھا ہو گا ‘۔
لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو! بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔
(آیت 2،1) ➊ { يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ:” النَّاسُ “} کے ساتھ مسلم و کافر اور آیت کے نزول کے وقت موجود یا بعد میں قیامت تک آنے والے تمام لوگ مخاطب ہیں۔ بعض لوگ {” يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ “} کے ساتھ سورت کے آغاز کو اس کے مکی ہونے کی دلیل بناتے ہیں مگر یہ قاعدہ کلی نہیں، کیونکہ مدنی سورتوں میں بھی {” يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ “} کے ساتھ خطاب آیا ہے، مثلاً سورۂ بقرہ میں ہے: «{ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ }» [ البقرۃ: ۲۱ ] مفسرین کے مطابق اس سورت میں مدنی آیات بھی ہیں، مثلاً آیت (۳۹): «{ اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُ }» اور مکی بھی، مگر وہ ملی جلی ہیں، الگ الگ ہر ایک کے مکی یا مدنی ہونے کی تعیین معلوم نہیں۔ (قرطبی) ➋ { اتَّقُوْا رَبَّكُمْ:} تقویٰ کا معنی بچنا بھی ہے اور ڈرنا بھی، کیونکہ آدمی جس سے ڈرتا ہے اس سے بچتا ہے، یعنی اپنے اس محسن کے عذاب سے بچو جو پیدا کرنے سے لے کر اب تک تمھاری پرورش کر رہا ہے اور تم پر بے شمار احسان کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر اس چیز سے بچو جو تمھیں اس کی سزا کا حق دار بنا سکتی ہے، خواہ وہ اس کے فرائض کا ترک ہو یا اس کے حرام کردہ کاموں کا ارتکاب، ان دونوں سے بچنا ہی اس کا تقویٰ ہے۔ ➌ { اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ:” زَلْزَلَةَ”زَلْزَلَ يُزَلْزِلُ“} سے {” فَعْلَلَةٌ “} کے وزن پر مصدر ہے، بہت سخت ہلانا۔ {” السَّاعَةِ “} کا لفظی معنی گھڑی اور لمحہ ہے۔ قیامت کو {” السَّاعَةِ “} اس لیے کہتے ہیں کہ وہ ایک لمحے میں برپا ہو جائے گی۔ {” اِنَّ “} ایسے موقع پر اس سے پہلے والی بات کی وجہ بیان کرنے کے لیے آتا ہے، یعنی اپنے رب سے اس لیے ڈرو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔ اس میں مزید خوف کی بات یہ ہے کہ وہ صرف انسانی پیمانے کے مطابق عظیم نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اسے عظیم فرما رہے ہیں، اب اس کی عظمت اور ہولناکی کا کوئی اندازہ ہو سکتا ہے؟ ➍ {يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ:تَرَوْنَهَا “} میں{ ”هَا“} کی ضمیر {” زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ “} میں {” زَلْزَلَةَ “} کی طرف بھی جا سکتی ہے، معنی یہ ہو گا کہ جس دن تم اس زلزلے کو دیکھو گے اور {” السَّاعَةِ “ } کی طرف بھی، اس صورت میں معنی یہ ہو گا کہ جس دن تم اس قیامت کو دیکھو گے۔ {” ذُهُوْلٌ “} کا معنی ہے ایسی غفلت جس کے ساتھ دہشت یا خوف بھی ہو۔ {”مُرْضِعَةٍ “} عورت جس وقت بچے کو دودھ پلا رہی ہو اس وقت اسے {”مُرْضِعَةٌ“ } کہتے ہیں۔ وہ صفات جو صرف عورتوں میں پائی جاتی ہیں ان کے ساتھ ”تاء“ نہیں لگائی جاتی، مثلاً {”حَائِضٌ، حَامِلٌ، مُرْضِعٌ“} ان کے ساتھ ”تاء“ اس وقت لگائی جاتی ہے جب وہ اس کام میں مصروف ہوں، مثلاً کوئی بھی عورت جو کسی بھی وقت دودھ پلاتی ہے {” مُرْضِعٌ “} کہلائے گی، {” مُرْضِعَةٌ “} اس وقت ہو گی جس وقت وہ بچے کو دودھ پلا رہی ہو۔ مطلب اس وقت کی ہولناکی بیان کرنا ہے کہ دودھ پلانے والی عورت، جسے اپنے بچے سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہیں ہوتی، اس زلزلہ کی وجہ سے عین دودھ پلاتے ہوئے ایسی دہشت زدہ ہو گی کہ اسے اپنے بچے تک کی ہوش نہیں ہو گی۔ ➎ {وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا:} حاملہ عورت کو {”حَامِلٌ“} کہتے ہیں، مگر یہ لفظ بوجھ اٹھانے والے کسی بھی شخص پر بولا جا سکتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے {”حَامِلٌ“} کی جگہ {” ذَاتِ حَمْلٍ “} (حمل والی) کا لفظ استعمال فرمایا۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ }» [ الطلاق: ۴ ] ”حمل والی (عورتوں کو طلاق ہو جائے) تو ان کی عدت یہ ہے کہ وہ حمل وضع کر لیں۔“ مراد قیامت یا قیامت کے زلزلے کی شدت کا بیان ہے کہ ہر حمل والی اپنا حمل (جو اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق {” فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ “} بہت محفوظ ٹھکانے میں ہے) اس دن کی شدت کی وجہ سے گرا دے گی۔ ➏ {وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى …: ” سُكٰرٰى”سَكْرَانُ“} یا {”سَكِرٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”كَسْلَانٌ“} کی جمع {”كُسَالٰي“} ہے، یعنی تم لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ نشے میں ہیں، انھیں کچھ ہوش نہیں، حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے جس کی وجہ سے انھیں کوئی ہوش نہیں رہے گا۔ مفسر قاسمی رحمہ اللہ نے {” سُكٰرٰى “} کو مجاز کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے، وہ فرماتے ہیں، مجاز وہ ہوتا ہے جو کسی چیز پر بولا بھی جا سکے اور اس کی نفی بھی ہو سکے، مثلاً حمزہ، سعد اور علی شیر تھے، یہ بھی درست ہے اور یہ بھی درست ہے کہ وہ شیر نہیں تھے۔ اسی طرح کسی کو بے سمجھی کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ فلاں گدھا ہے، جب کہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ گدھا نہیں ہے۔ ➐ {زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ:} مفسرین میں اختلاف ہے کہ قیامت کے اس زلزلے سے کیا مراد ہے؟ اس میں شک نہیں کہ قرآن مجید کی سب سے معتبر تفسیر وہ ہے جو خود قرآن میں آئی ہو، اس کے بعد وہ جو صحیح سند کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس زلزلے کا موقع جو صحیح حدیث میں بیان ہوا ہے، وہ ہے جو ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، اے آدم! وہ عرض کریں گے، لبیک و سعدیک! بار بار حاضر ہوں، بار بار حاضر ہوں اور بھلائی ساری تیرے ہاتھ میں ہے۔اللہ فرمائیں گے، آگ والی جماعت نکال کر الگ کر دو۔ وہ کہیں گے، اور آگ والی جماعت کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ تو اس وقت بچہ بوڑھا ہو جائے گا: «{ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيْدٌ }» ”اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی اور تو لوگوں کو نشے والے دیکھے گا، حالانکہ وہ نشے والے نہیں ہوں گے اور لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔“ تو یہ بات صحابہ پر بہت سخت گزری، انھوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! وہ آدمی ہم میں سے کون ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ کہ یاجوج ماجوج میں سے ایک ہزار ہوں گے اور تم میں سے ایک ہو گا۔“ پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تو امید رکھتا ہوں کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو گے۔“ راوی نے کہا، یہ سن کر ہم نے اللہ کی حمد کی اور تکبیر کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقینا میں امید رکھتا ہوں کہ تم اہل جنت کا نصف ہو گے۔ دوسری امتوں کے مقابلے میں تمھاری مثال سیاہ بیل کی جلد میں ایک سفید بال کی سی ہے یا جس طرح گدھے کے بازو کے اندرونی جانب ایک گول نشان ہوتا ہے۔“ [ بخاري، الرقاق، باب «‏‏‏‏ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم» …: ۶۵۳۰۔مسلم، الإیمان، باب قولہ: یقول اللہ لآدم أخرج بعث النار…: ۲۲۲ ] یہ صحیح حدیث دلیل ہے کہ اس آیت میں مذکور زلزلے سے مراد وہ وقت ہے جب آدم علیہ السلام کو ایک ہزار میں سے نو سو نناوے آدمی جہنم کے لیے نکال کر الگ کرنے کا حکم ہو گا۔ اس وقت لوگوں پر ایسا زلزلہ طاری ہو گا، وہ ایسے شدید ہلائے جائیں گے اور اس قدر خوف زدہ ہوں گے کہ جس کا ذکر اس آیت میں آیا ہے۔ بعض لوگ اس حدیث کو آیت کا مصداق قرار دینے پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس وقت نہ کوئی حاملہ ہو گی اور نہ دودھ پلانے والی، تو حاملہ حمل کیسے گرائے گی اور دودھ پلانے والی اپنے بچے سے کیسے غافل ہو گی؟ اس لیے اس آیت سے وہ وقت مراد نہیں، بلکہ ایک صاحب نے تسلیم کرکے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے، اسے ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ کوئی ایسے حضرات کو سمجھائے کہ کیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم نہیں تھا، پھر انھوں نے یہ کیوں فرمایا؟ دراصل ایسے حضرات نے کلام کے اسلوب کو سمجھا ہی نہیں، یہ تو اس وقت کی ہولناکی اور شدت سے استعارہ ہے کہ اگر اس وقت حاملہ عورتیں ہوں تو سب کا حمل گر جائے گا اور اگر دودھ پلانے والیاں ہوں تو وہ اپنے بچے سے غافل ہو جائیں گی۔ اس سوال کا اس سے بھی مضبوط جواب یہ ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [ يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلٰی مَا مَاتَ عَلَيْهِ ] [ مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب الأمر بحسن الظن باللہ…: ۲۸۷۸ ] ”ہر بندہ اس حالت پر اٹھے گا جس پر فوت ہوا تھا۔“ اس سے معلوم ہوا کہ دودھ پلانے والیاں اور حمل والیاں صرف پہلے نفخہ کے وقت ہی اس حال میں نہیں ہوں گی بلکہ قیامت والے دن اٹھتے وقت بھی ان کی یہی حالت ہو گی۔ اس سے منکرین حدیث کا سوال سرے سے ختم ہو جاتا ہے۔ ابن جریر، بقاعی اور بہت سے مفسرین نے فرمایا کہ صحیح حدیث کے بعد کوئی اور تفسیر معتبر نہیں ہے۔ بعض مفسرین نے اس کا مصداق قیامت کا پہلا نفخہ لیا ہے اور صور میں تین نفخے بتائے ہیں، ایک نفخۂ فزع، ایک نفخۂ صعق اور ایک نفخۂ بعث۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے وہ زلزلہ مراد ہے جو پہلے نفخہ یعنی نفخۂ فزع سے پیدا ہو گا، کیونکہ قیامت کو تو نہ کوئی حاملہ ہو گی اور نہ دودھ پلانے والی۔ اس نفخے سے ہر چیز درہم برہم ہو جائے گی، اس وقت جو بھی دودھ پلانے والی عورت ہو گی وہ اپنے بچے کو دودھ پلانے سے غافل ہو جائے گی۔ علقمہ اور شعبی کا بھی یہی قول ہے۔ طبری نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس قول پر مشتمل مرفوع حدیث یہ کہہ کر نقل کی ہے کہ اس کی اسناد میں نظر ہے (کیونکہ اس میں دو راوی مجہول ہیں)۔ طبری فرماتے ہیں: ”یہ قول ہی اصل قول ہوتا اگر صحیح احادیث اس کے خلاف نہ آتیں، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی وحی اور قرآن کے معانی کا سب سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔“ علاوہ ازیں تحقیق یہی ہے کہ نفخے دو ہی ہیں، تین نفخوں والی یہ روایت ثابت نہیں۔ امام بقاعی اور صاحب احسن التفسیر نے ایک بہت اچھی بات فرمائی ہے: ”عین ممکن ہے کہ {” زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ “} سے یہ زلزلہ بھی مراد ہو جو آدم علیہ السلام کو اہل نار کے الگ نکالنے کے حکم کے وقت پیدا ہو گا اور اس سے پہلے کے زلزلے بھی (یعنی صور میں پہلی پھونک کا زلزلہ اور دوبارہ پھونک کا زلزلہ، جس سے سب لوگ زندہ ہو کر محشر کی طرف دوڑیں گے) کیونکہ قیامت کا دن بہت لمبا (پچاس ہزار سال کا) ہے تو ہر زلزلے کی نسبت قیامت کی طرف درست ہے۔“ اب اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس طویل دن میں کتنے زلزلے برپا ہوں گے جو سب کے سب {” زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ “} ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اپنی پناہ میں رکھے۔
یَوۡمَ تَرَوۡنَہَا تَذۡہَلُ کُلُّ مُرۡضِعَۃٍ عَمَّاۤ اَرۡضَعَتۡ وَ تَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمۡلٍ حَمۡلَہَا وَ تَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَ مَا ہُمۡ بِسُکٰرٰی وَ لٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیۡدٌ ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس روز تم اسے دیکھو گے، حال یہ ہو گا کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچّے سے غافل ہو جائے گی، ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا، اور لوگ تم کو مدہوش نظر آئیں گے، حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب ہی کچھ ایسا سخت ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور تمام حمل والیوں کے حمل گر جائیں گے اور تو دیکھے گا کہ لوگ مدہوش دکھائی دیں گے، حاﻻنکہ درحقیقت وه متوالے نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے
احمد رضا خان بریلوی
جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھ اپنا گابھ ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور نشہ میں نہ ہوں گے مگر ہے یہ کہ اللہ کی مار کڑی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن تم اسے دیکھوگے کہ ہر دودھ پلانے والی (ماں) اس (بچہ) سے غافل ہو جائے گی جسے وہ دودھ پلاتی ہے اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔ اور تم لوگوں کو نشہ میں مدہوش دیکھوگے۔ حالانکہ وہ نشہ میں مدہوش نہیں ہوں گے۔ مگر اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اس سے غافل ہوجائے گی جسے اس نے دودھ پلایا اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی اور تو لوگوں کو نشے میں دیکھے گا، حالانکہ وہ ہرگز نشے میں نہیں ہوں گے اور لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دعوت تقویٰ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تقوے کا حکم فرماتا ہے اور آنے والے دہشت ناک امور سے ڈرا رہا ہے خصوصاً قیامت کے زلزلے سے۔ اس سے مراد یا تو وہ زلزلہ ہے جو قیامت کے قائم ہونے کے درمیان آئے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا» ۱؎ [99-الزلزلة:2،1] ‏‏‏‏، ’ زمین خوب اچھی طرح جھنجھوڑ دی جائے گی ‘۔ اور فرمایا آیت «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» ۱؎ [69-الحاقة:15،14] ‏‏‏‏ یعنی ’ زمین اور پہاڑ اٹھا کر باہم ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے کر دئے جائیں گے‘۔ اور فرمان ہے آیت «إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا فَكَانَتْ هَبَاءً مُّنبَثًّا» ۱؎ [56-الواقعة:6-4] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب کہ زمین بڑے زور سے ہلنے لگے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے ‘۔ صور کی حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ جب آسمان و زمین کو پیدا کر چکا تو صور کو پیدا کیا اسے اسرافیل علیہ السلام کو دیا وہ اسے منہ میں لیے ہوئے آنکھیں اوپر کو اٹھائے ہوئے عرش کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ کب حکم الٰہی ہو اور وہ صور پھونک دیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! صور کیا چیز ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایک پھونکنے کی چیز ہے بہت بری جس میں تین مرتبہ پھونکا جائے گا پہلا نفخہ گھبراہٹ کا ہو گا دوسرا بے ہوشی کا تیسرا اللہ کے سامنے کھڑا ہونے کا۔ اسرافیل علیہ السلام کو حکم ہو گا وہ پھونکیں گے جس سے کل زمین و آسمان والے گھبرا اٹھیں گے سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے۔ بغیر رکے، بغیر سانس لیے بہت دیرتک برابر اسے پھونکتے رہیں گے } }۔

اسی پہلے صور کا ذکر آیت «وَمَا يَنظُرُ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ» ۱؎ [38-ص:15] ‏‏‏‏ میں ہے اس سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے زمین کپکپانے لگے گی۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ» ۱؎ [79-النازعات:8-6] ‏‏‏‏، جب کہ زمین لرزنے لگے گی اور یکے بعد دیگرے زبردست جھٹکے لگیں گے دل دھڑکنے لگیں گے زمین کی وہ حالت ہو جائے گی جو کشتی کی طوفان میں اور گرداب میں ہوتی ہے یا جیسے کوئی قندیل عرش میں لٹک رہی ہو جسے ہوائیں چاروں طرف جھلارہی ہوں۔ آہ! یہی وقت ہو گا کہ دودھ پلانے والیاں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی اور حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے اور بچے بوڑھے ہو جائیں گے شیاطین بھاگنے لگیں گے زمین کے کناروں تک پہنچ جائیں گے لیکن وہاں سے فرشتوں کی مار کھا کر لوٹ آئیں گے۔ لوگ ادھر ادھر حیران پریشان زمین ایک طرف سے دوسرے کو آوازیں دینے لگیں گے اسی لیے اس دن کا نام قرآن نے «يَوْمَ التَّنَاد» رکھا جیسے کہ آیت میں ہے «وَيَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ» ۱؎ [40-غافر:32] ‏‏‏‏۔ اسی وقت زمین ایک طرف سے دوسری طرف تک پھٹ جائے گی اس وقت زمین ایک طرف سے دوسری طرف تک پھٹ جائے گی اس وقت کی گھبراہٹ کا انداز نہیں ہوسکتا۔ اب آسمان میں انقلابات ظاہر ہوں گے سورج چاند بے نور ہو جائیں گے، ستارے جھڑنے لگیں گے اور کھال ادھڑنے لگے گی۔ زندہ لوگ یہ سب کچھ دیکھ رہے ہوں گے ہاں مردہ لوگ اس سے بے خبر ہونگے آیت قرآن «وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:68] ‏‏‏‏ میں جن لوگوں کا استثنا کیا گیا ہے کہ وہ بے ہوش نہ ہوں گے اس سے مراد شہید لوگ ہیں۔ یہ گھبراہٹ زندوں پر ہو گی شہید اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور روزیاں پاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس دن کے شر سے نجات دے گا اور انہیں پر امن رکھے گا۔ یہ عذاب الٰہی صرف بدترین مخلوق کو ہو گا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ اس سورت کی شروع کی آیتوں میں بیان فرماتا ہے۔ یہ حدیث طبرانی جریر ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے اور بہت مطول ہے اس حصے کو نقل کرنے سے یہاں مقصود یہ ہے کہ اس آیت میں جس زلزلے کا ذکر ہے یہ قیامت سے پہلے ہوگا۔ اور قیامت کی طرف اس کی اضافت بوجہ قرب اور نزدیکی کے ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے «اشراط الساعة» وغیرہ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یا اس سے مراد وہ زلزلہ ہے جو قیام قیامت کے بعد میدان محشر میں ہو گا جب کہ لوگ قبروں سے نکل کرمیدان میں جمع ہوں گے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسے پسند فرماتے ہیں اس کی دلیل میں بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

(‏‏‏‏١)‏‏‏‏‏‏‏‏ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم تیز تیز چل رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے با آواز بلند ان دونوں آیتوں کی تلاوت کی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے کان میں آواز پڑتے ہی وہ سب اپنی سواریاں لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد جمع ہو گے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ اور فرمائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جانتے ہو یہ کون سا دن ہو گا؟ یہ وہ دن ہو گا جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو فرمائے گا کہ اے آدم جہنم کا حصہ نکال۔ وہ کہیں گے اے اللہ کتنوں میں سے کتنے؟ فرمائے گا ہر ہزار میں سے نو سو نناوے جہنم کے لیے اور ایک جنت کے لیے }۔ یہ سنتے ہی صحابہ کے دل دہل گئے، چپ لگ گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھ کر فرمایا کہ { غم نہ کرو، خوش ہو جاؤ، عمل کرتے رہو۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تمہارے ساتھ مخلوق کی وہ تعداد ہے کہ جس کے ساتھ ہو اسے بڑھا دے یعنی یاجوج ماجوج اور نبی آدم میں سے جو ہلاک ہو گئے اور ابلیس کی اولاد }۔ اب صحابہ رضی اللہ عنہم کی گھبراہٹ کم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عمل کرتے رہو اور خوشخبری سنو اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم تو اور لوگوں کے مقابلے پر ایسے ہی ہو جیسے اونٹ کے پہلو کا یا جانور کے ہاتھ کا داغ } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3169،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اسی روایت کی اور سند میں ہے کہ { یہ آیت حالت سفر میں اتری۔ اس میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان سن کر رونے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قریب قریب رہو اور ٹھیک ٹھاک رہو ہر نبوت کے پہلے جاہلیت کا زمانہ رہا ہے وہی اس گنتی کو پوری کر دے گا ورنہ منافقوں سے وہ گنتی پوری ہوگی } }۔ اس میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { مجھے تو امید ہے کہ اہل جنت کی چوتھائی صرف تم ہی ہو گے }۔ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ اکبر کہا۔ ارشاد ہوا کہ { عجب نہیں کہ تم تہائی ہو }، اس پر انہوں نے پھر تکبیر کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھے امید ہے کہ تم ہی نصفاً نصف ہو گے }، انہوں نے پھر تکبیر کہی }۔ راوی کہتے ہیں مجھے یاد نہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوتہائیاں بھی فرمائیں یا نہیں؟ ۱؎ [سنن ترمذي:3168،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { غزوہ تبوک سے واپسی میں مدینے کے قریب پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت آیت شروع کی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24906:مرسل] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ { جنوں اور انسانوں سے جو ہلاک ہوئے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:4910:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { تم تو ایک ہزار اجزا میں سے ایک جز ہی ہو }۔ ۱؎ [مسند بزار:3467:ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { قیامت والے دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پکارے گا وہ جواب دیں گے «لَبَّيْكَ رَبّنَا وَسَعْدَيْك» پھر آواز آئے گی کہ ’ اللہ تجھے حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد میں جہنم کا حصہ نکال ‘، پوچھیں گے اللہ کتنا؟ حکم ہوگا ’ ہر ہزار میں سے نو سو نناوے ‘ اس وقت حاملہ کے حمل گرجائیں گے، بچے بوڑھے ہو جائیں گے، اور لوگ حواس باختہ ہو جائیں گے کسی نشے سے نہیں بلکہ اللہ کے عذابوں کی سختی کی وجہ سے۔ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم کے چہرے متغیر ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یاجوج ماجوج میں سے نو سو ننانوے اور تم میں سے ایک۔ تم تو ایسے ہو جیسے سفید رنگ بیل کے چند سیاہ بال جو اس کے پہلو میں ہوں۔ یامثل چند سفید بالوں کے جو سیاہ رنگ بیل کے پہلو میں ہوں } }۔ پھر فرمایا { مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی گنتی میں تمہاری گنتی چوتھے حصے کی ہوگی }، ہم نے اس پر تکبیر کہی۔ پھر فرمایا { آدھی تعداد میں باقی سب اور آدھی تعداد صرف تمہاری }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4841] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر وہ ایک خوش نصیب ہم میں سے کون ہوگا؟ جب کہ یہ حالت ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:3307،] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے { تم اللہ کے سامنے ننگے پیروں ننگے بدن بے ختنہ حاضر کئے جاؤ گے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مرد عورتیں ایک ساتھ؟ ایک دوسرے پر نظریں پڑیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عائشہ وہ وقت نہایت سخت اور خطرناک ہو گا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6527] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا دوست اپنے دوست کو قیامت کے دن یاد کرے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عائشہ تین موقعوں پر کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا۔ اعمال کے تول کے وقت جب تک کمی زیادتی نہ معلوم ہو جائے۔ اعمال ناموں کے اڑائے جانے کے وقت جب تک دائیں بائیں ہاتھ میں نہ آ جائیں۔ اس وقت جب کہ جہنم میں سے ایک گردن نکلے گی جو گھیرلے گی اور سخت غیظ وغضب میں ہوگی اور کہے گی میں تین قسم کے لوگوں پر مسلط کی گئی ہوں ایک تو وہ لوگ جو اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے رہتے ہیں دوسرے وہ جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور تیسرے ہر سرکش ضدی متکبر پر پھر تو وہ انہیں سمیٹ لے گی اور چن چن کر اپنے پیٹ میں پہنچا دے گی جہنم پر پل صراط ہو گی جو بال سے باریک اور تلوار سے تیز ہو گی اس پر آنکس اور کانٹے ہوں گے جسے اللہ چاہے پکڑ لے گی اس پر سے گزرنے والے مثل بجلی کے ہوں گے مثل آنکھ جھپکنے کے مثل ہوا کے مثل تیزرفتار گھوڑوں اور اونٹوں کے فرشتے ہر طرف کھڑے دعائیں کرتے ہوں گے کہ اللہ سلامتی دے اللہ بچا دے پس بعض تو بالکل صحیح سالم گزر جائیں گے بعض کچھ چوٹ کھا کر بچ جائیں گے بعض اوندھے منہ جہنم میں گریں گے} }۔ ۱؎ [مسند احمد:110/6:ضعیف] ‏‏‏‏

قیامت کے آثار میں اور اس کی ہولناکیوں میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ جن کی جگہ اور ہے۔ یہاں فرمایا ’ قیامت کا زلزلہ نہایت خطرناک ہے بہت سخت ہے نہایت مہلک ہے دل دہلانے والا اور کلیجہ اڑانے والا ہے ‘۔ زلزلہ رعب و گھبراہٹ کے وقت دل کے ہلنے کو کہتے ہیں جیسے آیت میں ہے کہ «هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا» ۱؎ [33-الأحزاب:11] ‏‏‏‏ ’ اس میدان جنگ میں مومنوں کو مبتلا کیا گیا اور سخت جھنجھوڑ دئے گئے ‘۔ جب تم اسے دیکھو گے یہ ضمیر شان کی قسم سے ہے اسی لیے اس کے بعد اس کی تفسیر ہے کہ ’ اس سختی کی وجہ سے دودھ پلانے والی ماں اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور حاملہ کے حمل ساقط ہو جائیں گے۔ لوگ بدحواس ہو جائیں گے ایسے معلوم ہوں گے جیسے کوئی نشے میں بدمست ہو رہا ہو۔ دراصل وہ نشے میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کے عذابوں کی سختی نے انہیں بے ہوش کر رکھا ہو گا ‘۔
2۔ 1 آیت مذکورہ میں جس زلزلے کا ذکر ہے، جس کے نتائج دوسری آیت میں بتلائے گئے ہیں جس کا مطلب لوگوں پر سخت خوف، دہشت اور گھبراہٹ کا طاری ہونا، یہ قیامت سے قبل ہوگا اور اس کے ساتھ دنیا فنا ہو جائیگی۔ یا یہ قیامت کے بعد اس وقت ہوگا جب قبروں سے اٹھ کر میدان محشر میں جمع ہوں گے۔ بہت سے مفسرین پہلی رائے کے قائل ہیں۔ جبکہ بعض مفسرین دوسری رائے کے اور اس کی تائید میں وہ احادیث پیش کرتے ہیں مثلا اللہ تعالیٰ آدم ؑ کو حکم دے گا کہ وہ اپنی ذریت میں سے ہزار میں 999 جہنم کے لیے نکال دے۔ یہ بات سن کر حمل والیوں کے حمل گرجائیں گے بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور لوگ مدہوش سے نظر آئیں گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہونگے صرف عذاب کی شدت ہوگی یہ بات صحابہ پر بڑی گراں گزری ان کے چہرے متغیر ہوگئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا (گھبراؤ نہیں) یہ 999 یاجوج ماجوج میں سے ہوں گے اور تم میں سے صرف ایک ہوگا۔ تمہاری (تعداد) لوگوں میں اس طرح ہوگی جیسے سفید رنگ کے بیل کے پہلو میں کالے بال یا کالے رنگ کے بیل کے پہلو میں سفید بال ہوں اور مجھے امید ہے کہ اہل جنت میں تم چوتھائی یا تہائی یا نصف ہو گے جسے سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بطور مسرت کے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا (صحیح بخاری تفسیر سورة حج) پہلی رائے بھی بےوزن نہیں ہے بعض ضعیف احادیث سے ان کی بھی تائید ہوتی ہے اس لئے زلزلہ اور اس کی کیفیات سے مراد اگر فزع اور ہولناکی کی شدت ہے (ظاہر یہی ہے) تو سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی یہ کیفیت دونوں موقعوں پر ہی ہوگی اس لیے دونوں ہی رائیں صحیح ہوسکتی ہیں کیونکہ دونوں موقعوں پر لوگوں کی کیفیت ایسی ہوگی جیسی اس آیت میں اور صحیح بخاری کی روایت میں بیان کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ وَّ یَتَّبِعُ کُلَّ شَیۡطٰنٍ مَّرِیۡدٍ ۙ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بعض لوگ ایسے ہیں جو عِلم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بعض لوگ اللہ کے بارے میں باتیں بناتے ہیں اور وه بھی بے علمی کے ساتھ اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کچھ لوگ وہ ہیں کہ اللہ کے معاملہ میں جھگڑتے ہیں بے جانے بوجھے، اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے ہو لیتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں کہ جو اللہ کے بارے میں علم کے بغیر کج بحثی کرتے ہیں اور سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کے بارے میں کچھ جانے بغیر جھگڑتا ہے اور پوری کوشش سے ہر سرکش شیطان کے پیچھے چلتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ازلی مردہ لوگ ٭٭

جو لوگ موت کے بعد کی زندگی کے منکر ہیں اور اللہ کو اس پر قادر نہیں مانتے اور فرمان الٰہی سے ہٹ کر نبیوں کی تابعداری کو چھوڑ کر سرکش انسانوں اور جنوں کی ماتحتی کرتے ہیں ان کی جناب باری تعالیٰ تردید فرما رہا ہے، ’ آپ دیکھیں گے کہ جتنے بدعتی اور گمراہ لوگ ہیں وہ حق سے منہ پھیر لیتے ہیں، باطل کی اطاعت میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ دیتے ہیں اور گمراہ سرداروں کی مانتے ہیں وہ ازلی مردود ہے اپنی تقلید کرنے والوں کو وہ بہکاتا رہتا ہے اور آخرش انہیں عذابوں میں پھانس دیتا ہے جو جہنم کی جلانے والی آگ کے ہیں ‘۔

یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں اتری ہے اس خبیث نے کہا تھا کہ ذرا بتلاؤ تو اللہ تعالیٰ سونے کا ہے یا چاندی کا یا تانبے کا اس کے اس سوال سے آسمان لرز اٹھا اور اس کی کھوپڑی اڑ گئی۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک یہودی نے ایسا ہی سوال کیا تھا اسی وقت آسمانی کڑاکے نے اسے ہلاک کردیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:20267:مرسل ضعیف] ‏‏‏‏
3۔ 1 مثلًا یہ کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے، یا اس کی اولاد ہے وغیرہ وغیرہ۔
(آیت 3) ➊ { وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ …:} واؤ عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کچھ لوگوں کا ذکر محذوف ہے جو آیات کے مطابق یہ ہے کہ لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے اور قیامت پر اور دوبارہ زندہ ہو کر پیش ہونے پر یقین رکھتا ہے۔ ➋ اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو قیامت کا منکر ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں کچھ جانے بغیر خواہ مخواہ جھگڑتا ہے اور کہتا ہے کہ جو لوگ ہڈیاں اور مٹی ہو چکے اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کیسے کرے گا؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے صریح حکم کے مقابلے میں اپنے قیاس اور عقل کے ڈھکوسلے پیش کرتا ہے اور اپنے اس جھگڑے میں پوری کوشش سے ہر سرکش شیطان یعنی ابلیس اور اس کی اولاد کے اور انسانوں میں سے کفر کے سرداروں کے پیچھے چلتا ہے، جو لوگوں کو حق سے روکتے ہیں۔ {”تَبِعَ يَتْبَعُ“} (ع) کا معنی پیروی کرنا ہے۔ {” يَتَّبِعُ “} باب افتعال میں مبالغہ ہے، یعنی پوری کوشش کرکے ہر شیطان کے پیچھے چلتا ہے۔ (بقاعی) ➌ اس آیت سے معلوم ہوا کہ علم کے ساتھ جھگڑا درست بلکہ لازم ہے، جیسا کہ فرمایا: «{اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ }» [ النحل: ۱۲۵ ] ”اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلا اور ان سے اس طریقے کے ساتھ بحث کر جو سب سے اچھا ہے۔“
کُتِبَ عَلَیۡہِ اَنَّہٗ مَنۡ تَوَلَّاہُ فَاَنَّہٗ یُضِلُّہٗ وَ یَہۡدِیۡہِ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیۡرِ ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
حالانکہ اُس کے تو نصیب ہی میں یہ لکھا ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا اسے وہ گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذاب جہنّم کا راستہ دکھائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
جس پر (قضائے الٰہی) لکھ دی گئی ہے کہ جو کوئی اس کی رفاقت کرے گا وه اسے گمراه کر دے گا اور اسے آگ کے عذاب کی طرف لے جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
جس پر لکھ دیا گیا ہے کہ جو اس کی دوستی کرے گا تو یہ ضرور اسے گمراہ کردے گا اور اسے عذاب دوزخ کی راہ بتائے گا
علامہ محمد حسین نجفی
جس (مردود) کے بارے میں لکھا جا چکا ہے کہ جو کوئی اس کو دوست بنائے گا وہ ضرور اسے گمراہ کرے گا۔ اور اسے بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا راستہ دکھائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اس پر لکھ دیا گیا ہے کہ واقعہ یہ ہے کہ جو اس سے دوستی کرے گا تو وہ اسے گمراہ کرے گا اور اسے بھڑکتی ہوئی آگ کا راستہ دکھائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ازلی مردہ لوگ ٭٭

جو لوگ موت کے بعد کی زندگی کے منکر ہیں اور اللہ کو اس پر قادر نہیں مانتے اور فرمان الٰہی سے ہٹ کر نبیوں کی تابعداری کو چھوڑ کر سرکش انسانوں اور جنوں کی ماتحتی کرتے ہیں ان کی جناب باری تعالیٰ تردید فرما رہا ہے، ’ آپ دیکھیں گے کہ جتنے بدعتی اور گمراہ لوگ ہیں وہ حق سے منہ پھیر لیتے ہیں، باطل کی اطاعت میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ دیتے ہیں اور گمراہ سرداروں کی مانتے ہیں وہ ازلی مردود ہے اپنی تقلید کرنے والوں کو وہ بہکاتا رہتا ہے اور آخرش انہیں عذابوں میں پھانس دیتا ہے جو جہنم کی جلانے والی آگ کے ہیں ‘۔

یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں اتری ہے اس خبیث نے کہا تھا کہ ذرا بتلاؤ تو اللہ تعالیٰ سونے کا ہے یا چاندی کا یا تانبے کا اس کے اس سوال سے آسمان لرز اٹھا اور اس کی کھوپڑی اڑ گئی۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک یہودی نے ایسا ہی سوال کیا تھا اسی وقت آسمانی کڑاکے نے اسے ہلاک کردیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:20267:مرسل ضعیف] ‏‏‏‏
4۔ 1 یعنی شیطان کی بابت تقدیر الٰہی میں یہ بات ثبت ہے۔
(آیت 4){ كُتِبَ عَلَيْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ …: ” تَوَلّٰي يَتَوَلّٰي“} دوست بنانا۔ {” عَلَيْهِ “} میں ضمیر {”هِ“} شیطان کی طرف لوٹ رہی ہے۔ پہلے{ ” اَنَّهٗ “ } میں ضمیر شان کی ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ واقعہ یہ ہے۔ اس سے مراد بات میں پختگی پیدا کرنا ہوتا ہے، یعنی شیطان کے متعلق لکھا جا چکا ہے کہ جو اس سے دوستی کرے گا شیطان اسے گمراہ کرے گا۔ مطلب یہ کہ قضائے الٰہی میں اس کے متعلق یہ طے کیا جا چکا ہے۔ ”لکھنے“ کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا کہ بات لکھے جانے کے بعد پکی ہو جاتی ہے، یا یہ کہ لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے۔
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّنَ الۡبَعۡثِ فَاِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ وَّ غَیۡرِ مُخَلَّقَۃٍ لِّنُبَیِّنَ لَکُمۡ ؕ وَ نُقِرُّ فِی الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّکُمۡ ۚ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِکَیۡلَا یَعۡلَمَ مِنۡۢ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ وَ تَرَی الۡاَرۡضَ ہَامِدَۃً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہَا الۡمَآءَ اہۡتَزَّتۡ وَ رَبَتۡ وَ اَنۡۢبَتَتۡ مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍۭ بَہِیۡجٍ ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لوگو، اگر تمہیں زندگی بعد موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بے شکل بھی (یہ ہم اس لیے بتا رہے ہیں) تاکہ تم پر حقیقت واضح کر دیں ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموں میں ٹھیرائے رکھتے ہیں، پھر تم کو ایک بچّے کی صورت میں نکال لاتے ہیں (پھر تمہیں پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی پُوری جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلا لیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے، پھر جہاں ہم نے اُس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کر دی
مولانا محمد جوناگڑھی
لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور بے نقشہ تھا۔ یہ ہم تم پر ﻇاہر کر دیتے ہیں، اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں پھر تمہیں بچپن کی حالت میں دنیا میں ﻻتے ہیں پھر تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو، تم میں سے بعض تو وه ہیں جو فوت کر لئے جاتے ہیں اور بعض بے غرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دیئے جاتے ہیں کہ وه ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بے خبر ہو جائے۔ تو دیکھتا ہے کہ زمین (بنجر اور) خشک ہے پھر ہم اس پر بارشیں برساتے ہیں تو وه ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے لوگو! اگر تمہیں قیامت کے دن جینے میں کچھ شک ہو تو یہ غور کرو کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا مٹی سے پھر پانی کی بوند سے پھر خون کی پھٹک سے (ف۹۱۲ پھر گوشت کی بوٹی سے نقشہ بنی اور بے بنی تاکہ ہم تمہارے لیے اپنی نشانیاں ظاہر فرمائیں اور ہم ٹھہرائے رکھتے ہیں ماؤں کے پیٹ میں جسے چاہیں ایک مقرر میعاد تک پھر تمہیں نکالتے ہیں بچہ پھر اس لیے کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں کوئی پہلے ہی مرجاتا ہے اور کوئی سب میں نکمی عمر تک ڈالا جاتا ہے کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے اور تو زمین کو دیکھے مرجھائی ہوئی پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا تر و تازہ ہوئی اور ابھر آئی اور ہر رونق دار جوڑا اُگا لائی
علامہ محمد حسین نجفی
اے لوگو! اگر تمہیں (دوبارہ) اٹھائے جانے میں شک ہے تو (اس میں تو کوئی شک نہیں کہ) ہم نے تمہیں مٹي سے پیدا کیا ہے پھر نطفہ سے، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو متشکل (مکمل تخلیق والا) بھی ہوتا ہے اور غیر متشکل (نامکمل تخلیق والا) بھی۔ اور یہ اس لئے ہے کہ ہم تم پر (اپنی قدرت کی کار فرمائی) واضح کریں اور ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک مقررہ مدت تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تمہیں بچے کی صورت میں باہر نکالتے ہیں پھر (تمہاری پرورش کرتے ہیں) تاکہ اپنی پوری قوت کی منزل (جوانی) تک پہنچو۔ پھر تم میں سے بعض کو تو (بڑھاپے سے پہلے) اٹھا لیا جاتا ہے اور بعض کو پست ترین عمر کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے تاکہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے اور تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک پڑی ہے تو جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ لہلہانے اور ابھرنے لگتی ہے اور ہر قسم کی خوشنما نباتات اگاتی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو! اگر تم اٹھائے جانے کے بارے میں کسی شک میں ہو تو بے شک ہم نے تمھیں حقیر مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک قطرے سے، پھر کچھ جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کی ایک بوٹی سے، جس کی پوری شکل بنائی ہوئی ہے اور جس کی پوری شکل نہیں بنائی ہوئی، تاکہ ہم تمھارے لیے واضح کریں اور ہم جسے چاہتے ہیں ایک مقررہ مدت تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر ہم تمھیں ایک بچے کی صورت میں نکالتے ہیں، پھر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو قبض کر لیا جاتا ہے اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو سب سے نکمّی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے، تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ اور تو زمین کو مردہ پڑی ہوئی دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے اور ہر خوبصورت قسم میں سے اگاتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہلی پیدائش دوسری پیدائش کی دلیل ٭٭

مخالفین اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل بیان کی جاتی ہے کہ ’ اگر تمہیں دوسری بار کی زندگی سے انکار ہے تو ہم اس کی دلیل میں تمہاری پہلی دفعہ کی پیدائش تمہیں یاد دلاتے ہیں ‘۔ تم اپنی اصلیت پر غور کر کے دیکھو کہ ہم نے تمہیں مٹی سے بنایا ہے یعنی تمہارے باپ آدم علیہ السلام کو جن کی نسل تم سب ہو۔ پھر تم سب کو ذلیل پانی کے قطروں سے پیدا کیا ہے جس نے پہلے خون بستہ کی شکل اختیار کی پھر گوشت کا ایک لوتھڑا بنا۔ چالیس دن تک تو نطفہ اپنی شکل میں بڑھتا ہے پھر بحکم الٰہی اس میں خون کی سرخ پھٹکی پڑتی ہے، پھر چالیس دن کے بعد وہ ایک گوشت کے ٹکڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس میں کوئی صورت و شبیہ نہیں ہوتی، پھر اللہ تعالیٰ اسے صورت عنایت فرماتا ہے سر، ہاتھ، سینہ، پیٹ، رانیں، پاؤں اور کل اعضاء بنتے ہیں۔ کبھی اس سے پہلے ہی حمل ساقط ہو جاتا ہے، کبھی اس کے بعد بچہ گر پڑتا ہے۔ یہ تو تمہارے مشاہدے کی بات ہے۔ اور کبھی ٹھہرجاتا ہے۔ جب اس لوتھڑے پر چالیس دن گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو اسے ٹھیک ٹھاک اور درست کرکے اس میں روح پھونک دیتا ہے اور جیسے اللہ چاہتا ہو خوبصورت بدصورت مرد عورت بنا دیا جاتا ہے رزق، اجل، نیکی، بدی اسی وقت لکھ دی جاتی ہے۔

بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس رات تک جمع ہوتی ہے۔ پھر چالیس دن تک خون بستہ کی صورت رہتی ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کے لوتھڑے کی، پھر فرشتے کو چار چیزیں لکھ دینے کا حکم دے کر بھیجا جاتا ہے۔ رزق، عمل، اجل، شقی یا سعید ہونا لکھ لیا جاتا ہے پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3208] ‏‏‏‏ عبداللہ فرماتے ہیں نطفے کے رحم میں ٹھہرتے ہی فرشتہ پوچھتا ہے کہ ”اے اللہ یہ مخلوق ہو گا یا نہیں؟“ اگر انکار ہوا تو وہ جمتا ہی نہیں۔ خون کی شکل میں رحم اسے خارج کر دیتا ہے اور اگر حکم ملا کہ اس کی پیدائش کی جائے گی تو فرشتہ دریافت کرتا ہے کہ لڑکا ہو گا یا لڑکی؟ نیک ہو گا یا بد؟ اجل کیا ہے؟ اثر کیا ہے؟ کہاں مرے گا؟ پھر نطفے سے پوچھا جاتا ہے تیرے رب کون ہے وہ کہتا ہے اللہ!، پوچھا جاتا ہے رازق کون ہے؟ کہتا ہے کہ اللہ!۔ پھر فرشتے سے کہا جاتا ہے تو جا اور اصل کتاب میں دیکھ لے وہیں اس کا حال مل جائے گا پھر وہ پیدا کیا جاتا ہے لکھی ہوئی زندگی گزارتا ہے مقدر کا رزق پاتا ہے مقررہ جگہ چلتا پھرتا ہے پھر موت آتی ہے اور دفن کیا جاتا ہے جہاں دفن ہونا مقدر ہے۔ پھر عامر رحمتہ اللہ علیہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی مضغہ ہونے کے بعد چوتھی پیدائش کی طرف لوٹایا جاتا ہے اور ذی روح بنتا ہے۔

حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت میں ہے کہ { چالیس پینتالیس دن جب نطفے پر گزر جاتے ہیں تو فرشتہ دریافت کرتا ہے کہ یہ دوزخی ہے یا جنتی؟ جو جواب دیا جاتا ہے لکھ لیتا ہے پھر پوچھتا ہے لڑکا ہے یا لڑکی؟ جو جواب ملتا ہے لکھ لیتا ہے پھر عمل اور اثر اور رزق اور اجل لکھی جاتی ہے اور صحیفہ لپیٹ لیا جاتا ہے جس میں نہ کمی ممکن ہے نہ زیادتی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2643] ‏‏‏‏ پھر بچہ ہو کردنیا میں تولد ہوتا ہے نہ عقل ہے نہ سمجھ۔ کمزور ہے اور تمام اعضاء ضعیف ہیں پھر اللہ تعالیٰ بڑھاتا رہتا ہے ماں باپ کو مہربان کر دیتا ہے۔ دن رات انہیں اس کی فکر رہتی ہے تکلیفیں اٹھا کر پرورش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پروان چڑھاتا ہے۔ یہاں تک کہ عنفوان جوانی کا زمانہ آتا ہے خوبصورت تنومند ہو جاتا ہے بعض تو جوانی میں ہی چل بستے ہیں بعض بوڑھے پھونس ہو جاتے ہیں کہ پھر عقل وخرد کھوبیٹھتے ہیں اور بچوں کی طرح ضعیف ہو جاتے ہیں۔ حافظہ، فہم، فکر سب میں فتور پڑ جاتا ہے علم کے بعد بےعلم ہو جاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ» ۱؎ [30-الروم:54] ‏‏‏‏ ’ اللہ نے تمہیں کمزوری میں پیدا کیا پھر زور دیا پھر اس قوت وطاقت کے بعد ضعف اور بڑھاپا آیا جو کچھ وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے پورے علم والا اور کامل قدرت والا ہے ‘۔ مسند حافظ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { بچہ جب تک بلوغت کو نہ پہنچے اس کی نیکیاں اس کے باپ کے یا ماں باپ کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیں اور برائی نہ اس پر ہوتی ہے نہ ان پر۔ بلوغت پر پہنچتے ہی قلم اس پر چلنے لگتا ہے اس کے ساتھ کے فرشتوں کو اس کی حفاظت کرنے اور اسے درست رکھنے کا حکم مل جاتا ہے۔ جب وہ اسلام میں ہی چالیس سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے تین بلاؤں سے نجات دے دیتا ہے جنون اور جذام سے اور برص سے، جب اسے اللہ تعالیٰ کے دین پر بچاس سال گزرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب میں تخفیف کر دیتا ہے جب وہ ساٹھ سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی کے کاموں کی طرف اس کی طبعیت کا پورا میلان کر دیتا ہے اور اسے اپنی طرف راغب کر دیتا ہے جب وہ ستر برس کا ہو جاتا ہے تو آسمانی فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب وہ اسی برس کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں تو لکھتا ہے لیکن برائیوں سے تجاوز فرما لیتا ہے۔ جب وہ نوے برس کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیتا ہے اس کے گھرانے والوں کے لیے اسے سفارشی اور شفیع بنا دیتا ہے وہ اللہ کے ہاں امین اللہ کا خطاب پاتا ہے اور زمین میں اللہ کے قیدیوں کی طرح رہتا ہے جب بہت بڑی ناکارہ عمر کو پہنچ جاتا ہے جب کہ علم کے بعد بے علم ہو جاتا ہے تو جو کچھ وہ اپنی صحت اور ہوش کے زمانے میں نیکیاں کیا کرتا تھا سب اس کے نامہ اعمال میں برابر لکھی جاتی ہیں اور اگر کوئی برائی اس سے ہو گئی تو وہ نہیں لکھی جاتی } }۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3678:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت غریب ہے اور اس میں سخت نکارت ہے باوجود اس کے اسے امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ اپنی مسند میں لائے ہیں موقوفاً بھی اور مرفوعاً بھی۔ انس رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے اور عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے از فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ۱؎ [مسند احمد:89/2:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر انس رضی اللہ عنہ سے ہی دوسری سند سے مرفوعاً یہی وارد کی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:217/3:ضعیف] ‏‏‏‏ حافظ ابوبکر بن بزار رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اسے بہ روایت انس بن مالک رضی اللہ عنہ مرفوع میں بیان کیا ہے۔ ۱؎ [مسند بزار:3587:ضعیف] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏اور مسلمانوں پر رب کی مہربانی کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اللہ ہماری عمر میں نیکی کے ساتھ برکت دے آمین)‏‏‏‏‏‏‏‏

مردوں کے زندہ کر دینے کی ایک دلیل یہ بیان کر کے پھر دوسری دلیل بیان فرماتا ہے کہ ’ چٹیل میدان بے روئیدگی کی خشک اور سخت زمین کو ہم آسمانی پانی سے لہلہاتی اور تروتازہ کر دیتے ہیں طرح طرح کے پھل پھول میوے دانے وغیرہ کے درختوں سے سرسبز ہو جاتی ہے قسم قسم کے درخت اگ آتے ہیں اور جہاں کچھ نہ تھا وہاں سب کچھ ہو جاتا ہے مردہ زمین ایک دم زندگی کے کشادہ سانس لینے لگتی ہے جس جگہ ڈرلگتا تھا وہاں اب راحت روح اور نورعین اور سرور قلب موجود ہو جاتا ہے قسم قسم کے طرح طرح کے میٹھے کھٹے خوش ذائقہ مزیدار رنگ روپ والے پھل اور میوؤں سے لدے ہوئے خوبصورت چھوٹے بڑے جھوم جھوم کر بہار کا لطف دکھانے لگتے ہیں ‘۔ یہی وہ مردہ زمین ہے جو کل تک خاک اڑا رہی تھی آج دل کا سرور اور آنکھوں کا نور بن کر اپنی زندگی کی جوانی کامزا دی رہی ہے۔ پھولوں کے چھوٹے چھوٹے پودے دماغ کو مخزن عطار بنا دیتے ہیں دور سے نسیم کے ہلکے ہلکے جھونکے کتنے خوشگوار معلوم ہوتے ہیں۔ سچ ہے خالق، مدبر، اپنی چاہت کے مطابق کرنے والا، خود مختیار حاکم حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور اس کی نشانی مردہ زمین کا زندہ ہونا مخلوق کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ وہ ہر انقلاب پر ہر قلب ماہیت پر قادر ہے جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے۔ جس کام کا ارادہ کرتا ہے، فرماتا ہے ہو جا، پھر ناممکن ہے کہ وہ کہتے ہی ہو نہ جائے جیسے کہ آیت میں ہے «إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» ۱؎ [36-یس:82] ‏‏‏‏۔ یاد رکھو قیامت قطعا بلا شک و شبہ آنے والی ہی ہے اور قبروں کے مردوں کو وہ قدرت والا اللہ زندہ کر کے اٹھانے والا ہے وہ عدم سے وجود میں لانے پر قادر تھا اور ہے اور رہے گا۔ سورۃ یاسین میں بھی بعض لوگوں کے اس اعتراض کا ذکر کر کے انہیں ان کی پہلی پیدائش یاد دلا کر قائل کیا گیا ہے ساتھ ہی سبز درخت سے آگ پیدا کرنے کی قلب ماہیت کو بھی دلیل میں پیش فرمایا گیا ہے اور آیتیں بھی اس بارے میں بہت سی ہیں۔

سیدنا لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ جو ابورزین عقیلی کی کنیت سے مشہور ہیں { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا ہم لوگ سب کے سب قیامت کے دن اپنے رب تبارک وتعالیٰ کو دیکھیں گے؟ اور اس کی مخلوق میں اس دیکھنے کی مثال کوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا تم سب کے سب چاند کو یکساں طور پر نہیں دیکھتے؟ } ہم نے کہا ”ہاں“ فرمایا { پھر اللہ تو بہت بڑی عظمت والا ہے }۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی بھی کوئی مثال دنیا میں ہے؟ جواب ملا کہ { کیا ان جنگلوں سے تم نہیں گزرے جو غیر آباد ویران پڑے ہوں خاک اڑ رہی ہو خشک مردہ ہو رہیں پھر دیکھتے ہو کہ وہی ٹکڑا سبزے سے اور قسم قسم کے درختوں سے ہرا بھرا نوپید ہو جاتا ہے بارونق بن جاتا ہے اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور مخلوق میں یہی دیکھی ہوئی مثال اس کا کافی نمونہ اور ثبوت ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4731،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جو اس بات کا یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ حق ہے اور قیامت قطعا بے شبہ آنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ مردوں کو قبروں سے دوبارہ زندہ کرے گا وہ یقیناً جنتی ہے۔‏‏‏‏“
5۔ 1 یعنی نطفے (قطرہ منی) سے چالیس روز بعد عَلَقَۃٍ گاڑھا خون اور عَلَقَۃٍ سے مُضْغَۃٍ گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے مُخَلَّقَۃٍ سے، وہ بچہ مراد ہے جس کی پیدائش واضح اور شکل و صورت نمایاں ہوجائے، اس کے برعکس، جس کی شکل و صورت واضح نہ ہو، نہ اس میں روح پھونکی جائے اور قبل از وقت ہی وہ ساقط ہوجائے۔ صحیح حدیث میں بھی رحم مادر کی ان کیفیات کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثلا ایک حدیث میں ہے کہ نطفہ چالیس دن کے بعد علقۃ (گاڑھا خون) بن جاتا ہے پھر چالیس دن کے بعد یہ مضغۃ (لوتھرڑا یا گوشت کی بوٹی) کی شکل اختیار کرلیتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ آتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے یعنی چار مہینے کے بعد نفخ روح ہوتا ہے اور بچہ ایک واضح شکل میں ڈھل جاتا ہے (صحیح بخاری) 5۔ 2 یعنی اس طرح ہم اپنا کمال قدرت و تخلیق تمہارے لئے بیان کرتے ہیں۔ 5۔ 3 یعنی جس کو ساقط کرنا نہیں ہوتا۔ 5۔ 4 یعنی عمر اشد سے پہلے ہی۔ عمر اشد سے مراد بلوغت یا کمال عقل و کمال قوت وتمیز کی عمر، جو 30 سے 40 سال کے درمیان عمر ہے۔ 5۔ 5 اس سے مراد بڑھاپے میں قوائے انسانی میں ضعف و کمزوری کے ساتھ عقل و حافظہ کا کمزور ہوجانا اور یادداشت اور عقل و فہم میں بچے کی طرح ہوجانا، جسے سورة یٰسین میں (وَمَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ) 36۔ یس:68) اور سورة تین میں (ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ) 95۔ التین:5) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ 5۔ 6 یہ احیائے موتی (مردوں کے زندہ کرنے) پر اللہ تعالیٰ کے قادر ہونے کی دوسری دلیل ہے۔ پہلی دلیل، جو مذکورہ ہوئی، یہ تھی کہ جو ذات ایک حقیر قطرہ پانی سے اس طرح ایک انسانی پیکر تراش سکتا ہے اور ایک حسین وجود عطا کرسکتا ہے، علاوہ ازیں وہ اسے مختلف مراحل سے گزارتا ہوا بڑھاپے کے ایسے اسٹیج پر پہنچا سکتا ہے جہاں اس کے جسم سے لے کر اس کی ذہنی و دماغی صلاحیتیں تک، سب ضعف و انحطاط کا شکار ہوجائیں۔ کیا اس کے لئے اسے دوبارہ زندگی عطا کردینا مشکل ہے؟ یقینا جو ذات انسان کو ان مراحل سے گزار سکتی ہے، وہی ذات مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے ایک نیا قالب اور نیا وجود بخش سکتی ہے دوسری دلیل یہ دی ہے کہ دیکھو زمین بنجر اور مردہ ہوتی ہے لیکن اسے بارش کے بعد یہ کس طرح زندہ اور شاداب اور انواع و اقسام کے غلے، میوہ جات اور رنگ برنگ کے پھولوں سے مالا مال ہوجاتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ قیامت والے دن انسانوں کو بھی ان کی قبروں سے اٹھا کر کھڑا کرے گا۔ جس طرح حدیث میں ہے ایک صحابی نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو جس طرح پیدا فرمائے گا اس کی کوئی نشانی مخلوقات میں سے بیان فرمائیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارا گزر ایسی وادی سے ہوا ہے جو خشک اور بنجر ہو پھر دوبارہ اسے لہلہاتا ہوا دیکھا ہو؟ اس نے کہا ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس اسی طرح انسانوں کی جی اٹھنا ہوگا۔ (مسند احمد جلد 4)
(آیت 5) ➊ { يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ …:} یعنی اگر تمھیں آخرت کو دوبارہ زندہ ہونے میں شک ہے تو اسے دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی پیدائش کی ابتدا پر غور کرو، اس سے تم جان لو گے کہ جس نے تمھیں پہلی دفعہ پیدا کیا وہ دوسری دفعہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے اور جو زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد نباتات پیدا کرتا ہے وہ تمھیں تمھاری قبروں سے نکالنے پر بھی قادر ہے۔ ➋ { مِنْ تُرَابٍ:} اس میں تنوین تحقیر کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ حقیر مٹی کیا گیا ہے۔ آدم علیہ السلام کی پیدائش کی طرف اشارہ ہے اور سب لوگوں کے مٹی سے پیدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں، جو اس بے جان اور قدموں میں پامال ہونے والی مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: «{ الَّذِيْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ (7) ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِيْنٍ }» [ السجدۃ: ۷، ۸ ] ”وہ (ذات پاک) جس نے اچھا بنایا ہر چیز کو جو اس نے پیدا کی اور انسان کی پیدائش حقیر مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی کے خلاصہ سے بنائی۔“ زیر تفسیر آیت میں انسانی زندگی پر گزرنے والے سات مراحل ذکر ہوئے ہیں۔ ➌ { ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ:} پھر پانی کے ایک قطرے سے۔ جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ منی کے ایک قطرے میں کروڑوں جرثومے ہوتے ہیں، جن میں سے صرف ایک جرثومہ عورت کے بیضہ سے مل کر حمل کا حصہ بنتا ہے۔ یہ معاملہ مٹی سے بھی عجیب ہے کہ ایک سیال لیس دار خوردبینی ذرے سے ایک حسین و جمیل انسان پیدا ہو جاتا ہے، اسے پیدا کرنے والے کے لیے اسے دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ شیخ سعدی نے کہا ہے: دھد نطفہ را صورتے چوں پری کہ کرداست برآب صورت گری ”یعنی اللہ تعالیٰ ایک قطرے کو پری جیسی صورت عطا فرما دیتا ہے، بھلا اس کے سوا کون ہے جو پانی پر صورت گری کر سکتا ہے۔“ ➍ { ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ:عَلَقَةٍ “} کا معنی جما ہوا خون بھی ہے اور جونک بھی، یعنی پھر وہ سیال مادہ جمے ہوئے خون کا ایک ٹکڑا بن جاتا ہے، جس کی شکل جو نک سے ملتی جلتی ہے۔ ➎ {ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ …:”مَضَغَ يَمْضَغُ “} (ف) چبانا۔ {” مُضْغَةٍ “} گوشت کا ٹکڑا جو چبایا جاتا ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب نطفہ عورت کے رحم میں قرار پکڑتا ہے تو چالیس دن اسی حالت میں اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، پھر وہ اللہ کے حکم سے سرخ رنگ کا جما ہوا خون بن جاتا ہے، پھر وہ چالیس دن تک اسی حالت میں رہتا ہے۔ پھر وہ بدل کر {” مُضْغَةٍ “} یعنی گوشت کا ایک ٹکڑا بن جاتا ہے، جس میں نہ کوئی نقش ہوتا ہے نہ شکل و صورت، پھر اس میں نقش اور شکل و صورت بننا شروع ہوتی ہے، چنانچہ اس کے سر، ہاتھوں، سینے، پیٹ، ٹانگوں، پاؤں اور باقی اعضاء کی شکل بنتی ہے، پھر کبھی شکل و صورت بننے سے پہلے عورت اسے گرا دیتی ہے اور کبھی شکل و صورت بننے کے بعد، جیسا کہ بچوں کے اسقاط کی صورت میں مشاہدہ ہوتا رہتا ہے۔ اس لیے فرمایا: «{ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَيْرِ مُخَلَّقَةٍ }» کہ جس کی پوری شکل بنائی ہوئی ہے اور جس کی پوری شکل نہیں بنائی ہوئی۔“ سورۂ مومنون (۱۲ تا ۱۴) میں بھی یہ تفصیل مذکور ہے۔عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِيْ بَطْنِ أُمِّهٖ أَرْبَعِيْنَ يَوْمًا وَأَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً ثُمَّ يَكُوْنُ عَلَقَةً مِثْلَهٗ ثُمَّ يَكُوْنُ مُضْغَةً مِثْلَهٗ ذٰلِكَ ثُمَّ يُبْعَثُ إِلَيْهِ الْمَلَكُ فَيُؤْذَنُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ فَیَکْتُبُ رِزْقَهٗ وَ أَجَلَهُ وَعَمَلَهٗ وَ شَقِيٌّ أَمْ سَعِيْدٌ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيْهِ الرُّوْحُ ] [ بخاري، التوحید، باب: «ولقد سبقت کلمتنا …» : ۷۴۵۴۔ مسلم: ۲۶۴۳ ] ”تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں (نطفہ کی صورت میں) چالیس دن اور چالیس راتیں جمع ہوتی رہتی ہے۔ پھر وہ اتنی دیر تک جما ہوا خون رہتا ہے، پھر اتنی دیر ہی مضغہ رہتا ہے، پھر اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جاتاہے، تو اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے، اس کا رزق اور اس کی مدت اور اس کا عمل اور یہ بات کہ بدبخت ہے یا نیک بخت لکھ دیتا ہے، پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔“ ➏ { لِنُبَيِّنَ لَكُمْ:} تاکہ ہم تمھارے لیے واضح کریں کہ ہم جب پانی کے ایک قطرے کو پوری شکل و صورت والا گوشت کا ٹکڑا بنا دیتے ہیں تو ہمارے لیے تمھیں دوبارہ بنانا اور قبروں سے نکال کر زندہ کرکے حساب کتاب لینا کیا مشکل ہے۔ ➐ { وَ نُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ …:} یعنی جسے ہم چاہتے ہیں ساقط ہونے سے محفوظ کرکے رحم میں قائم رکھتے ہیں۔ {” اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى “ } یعنی کم از کم چھ ماہ اور زیادہ جتنا ہم چاہتے ہیں۔ یہ ہماری مرضی پر موقوف ہے کہ ہم نے اسے کتنی دیر رحم میں رکھنا ہے۔ {” ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا “} پھر ہم اسے بچے کی صورت میں شکم مادر سے نکالتے ہیں۔ ➑ { ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ …: ” ثُمَّ “} کے بعد کچھ عبارت محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آ رہی ہے، یعنی پھر ہم تمھیں بچہ ہونے کی حالت میں ماں کے پیٹ سے نکالتے ہیں جو اپنے بدن، کانوں، آنکھوں، قوت اور عقل میں کمزور ہوتا ہے۔ {” ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ “} پھر اللہ تعالیٰ اسے آہستہ آہستہ قوت بخشتا ہے، اس کے والدین دن رات اس پر شفقت اور اس کی خدمت کرتے ہیں، وہ بڑھتا جاتا ہے، تاکہ بچپن، لڑکپن سے گزرتا ہوا اپنی پوری قوت کو پہنچ کر جوانی کا حسن و کمال حاصل کرلے۔ ➒ {وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى …:} یعنی تم میں سے کچھ وہ ہیں جو جوانی کو پہنچ کر یا اس سے پہلے فوت کر لیے جاتے ہیں۔ {” وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْـًٔا “} یہ ساتواں مرحلہ ہے، یعنی کچھ وہ ہیں جو سب سے نکمّی عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں، یعنی انتہائی بڑھاپا جس میں عقل و فکر اور بدن کی تمام قوتیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ جو شخص کسی وقت بہت بڑا عالم تھا اسے کچھ یاد نہیں رہتا، نہ حافظہ باقی رہتا ہے اور نہ عقل کام کرتی ہے۔ دوبارہ بچوں کی طرح کمزور اور عقل و فکر سے عاری ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ }» [یٰسٓ: ۶۸ ] ”اور جسے ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اسے بناوٹ میں الٹا کر دیتے ہیں۔“ اور فرمایا: «{ اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَيْبَةً }» [ الروم: ۵۴ ] ”اللہ وہ ہے جس نے تمھیں کمزوری سے پیدا کیا، پھر کمزوری کے بعد قوت بنائی، پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا بنا دیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارذل العمر سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، جیسا کہ عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو یہ کلمات سکھاتے تھے جس طرح معلم لڑکوں کو لکھنا سکھاتا ہے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد ان کلمات کے ساتھ پناہ مانگا کرتے تھے: [ اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَ أَعُوْذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلٰی أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ] [ بخاري، الجھاد والسیر، باب ما یتعوذ من الجبن: ۲۸۲۲ ] ”اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ نکمّی عمر کی طرف لوٹایا جاؤں اور میں دنیا کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ مصعب بن سعد کی روایت میں {” اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ “} کے بعد {” وَأَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ “} بھی ہے کہ میں بخل سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ [ بخاري، الدعوات، باب الاستعاذۃ من أرذل العمر…: ۶۳۷۴ ] ➓ {وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً …: ” اهْتَزَّتْ”هَزَّ يَهُزُّ هَزًّا“} حرکت دینا، ہلانا۔ {”اِهْتَزَّ يَهْتَزُّ اِهْتِزَازًا“} (افتعال) حرکت کرنا، کھیتی کا لہلہانا۔ {” رَبَتْ”رَبَا يَرْبُوْ“} (ن) بڑھنا، پھولنا۔ یہ موت کے بعد زندگی کی دوسری دلیل ہے۔ مختلف قسم کی نباتات اور اجناس کے بیج زمین میں بکھرے پڑے ہوتے ہیں، جنھیں ہواؤں نے یا پرندوں نے جگہ جگہ پھیلا دیا تھا۔ اسی طرح بے شمار چیزوں کی جڑیں بھی جگہ جگہ مٹی میں دفن ہوتی ہیں، جن میں زندگی کا نشان تک نہیں ہوتا، مگر جوں ہی ان پر بارش کے چھینٹے پڑے تو ہر طرف زندگی لہلہانے لگی۔ ہر مردہ جڑ اپنی قبر سے جی اٹھی اور ہر بے کار پڑا ہوا بے جان بیج ایک زندہ پودے کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ مردوں کے زندہ ہونے کا ایسا عمل ہے جسے ہر انسان موسم بہار میں اور موسم برسات میں خود مشاہدہ کرتا رہتا ہے۔ یہی صورت انسان کے جسم کی ہے، اس کے اٹھنے کا بھی ایک موسم ہے، جو صور کا دوسرا نفخہ ہے، جب یہ موسم آ جائے گا تو ہر انسان اپنے دفن ہونے کی جگہ سے زندہ اٹھا کر کھڑا کر دیا جائے گا۔ (تیسیر القرآن)
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡحَقُّ وَ اَنَّہٗ یُحۡیِ الۡمَوۡتٰی وَ اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ۙ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے، اور وہ مُردوں کو زندہ کرتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے،
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہی مردوں کو جِلاتا ہے اور وه ہر ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور یہ کہ وہ مردے جِلائے گا اور یہ کہ وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ (سب کچھ) اس لئے ہے کہ اللہ ہی کی ذات حق ہے۔ اور بےشک وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور (اس لیے) کہ وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور (اس لیے) کہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہلی پیدائش دوسری پیدائش کی دلیل ٭٭

مخالفین اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل بیان کی جاتی ہے کہ ’ اگر تمہیں دوسری بار کی زندگی سے انکار ہے تو ہم اس کی دلیل میں تمہاری پہلی دفعہ کی پیدائش تمہیں یاد دلاتے ہیں ‘۔ تم اپنی اصلیت پر غور کر کے دیکھو کہ ہم نے تمہیں مٹی سے بنایا ہے یعنی تمہارے باپ آدم علیہ السلام کو جن کی نسل تم سب ہو۔ پھر تم سب کو ذلیل پانی کے قطروں سے پیدا کیا ہے جس نے پہلے خون بستہ کی شکل اختیار کی پھر گوشت کا ایک لوتھڑا بنا۔ چالیس دن تک تو نطفہ اپنی شکل میں بڑھتا ہے پھر بحکم الٰہی اس میں خون کی سرخ پھٹکی پڑتی ہے، پھر چالیس دن کے بعد وہ ایک گوشت کے ٹکڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس میں کوئی صورت و شبیہ نہیں ہوتی، پھر اللہ تعالیٰ اسے صورت عنایت فرماتا ہے سر، ہاتھ، سینہ، پیٹ، رانیں، پاؤں اور کل اعضاء بنتے ہیں۔ کبھی اس سے پہلے ہی حمل ساقط ہو جاتا ہے، کبھی اس کے بعد بچہ گر پڑتا ہے۔ یہ تو تمہارے مشاہدے کی بات ہے۔ اور کبھی ٹھہرجاتا ہے۔ جب اس لوتھڑے پر چالیس دن گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو اسے ٹھیک ٹھاک اور درست کرکے اس میں روح پھونک دیتا ہے اور جیسے اللہ چاہتا ہو خوبصورت بدصورت مرد عورت بنا دیا جاتا ہے رزق، اجل، نیکی، بدی اسی وقت لکھ دی جاتی ہے۔

بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس رات تک جمع ہوتی ہے۔ پھر چالیس دن تک خون بستہ کی صورت رہتی ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کے لوتھڑے کی، پھر فرشتے کو چار چیزیں لکھ دینے کا حکم دے کر بھیجا جاتا ہے۔ رزق، عمل، اجل، شقی یا سعید ہونا لکھ لیا جاتا ہے پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3208] ‏‏‏‏ عبداللہ فرماتے ہیں نطفے کے رحم میں ٹھہرتے ہی فرشتہ پوچھتا ہے کہ ”اے اللہ یہ مخلوق ہو گا یا نہیں؟“ اگر انکار ہوا تو وہ جمتا ہی نہیں۔ خون کی شکل میں رحم اسے خارج کر دیتا ہے اور اگر حکم ملا کہ اس کی پیدائش کی جائے گی تو فرشتہ دریافت کرتا ہے کہ لڑکا ہو گا یا لڑکی؟ نیک ہو گا یا بد؟ اجل کیا ہے؟ اثر کیا ہے؟ کہاں مرے گا؟ پھر نطفے سے پوچھا جاتا ہے تیرے رب کون ہے وہ کہتا ہے اللہ!، پوچھا جاتا ہے رازق کون ہے؟ کہتا ہے کہ اللہ!۔ پھر فرشتے سے کہا جاتا ہے تو جا اور اصل کتاب میں دیکھ لے وہیں اس کا حال مل جائے گا پھر وہ پیدا کیا جاتا ہے لکھی ہوئی زندگی گزارتا ہے مقدر کا رزق پاتا ہے مقررہ جگہ چلتا پھرتا ہے پھر موت آتی ہے اور دفن کیا جاتا ہے جہاں دفن ہونا مقدر ہے۔ پھر عامر رحمتہ اللہ علیہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی مضغہ ہونے کے بعد چوتھی پیدائش کی طرف لوٹایا جاتا ہے اور ذی روح بنتا ہے۔

حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت میں ہے کہ { چالیس پینتالیس دن جب نطفے پر گزر جاتے ہیں تو فرشتہ دریافت کرتا ہے کہ یہ دوزخی ہے یا جنتی؟ جو جواب دیا جاتا ہے لکھ لیتا ہے پھر پوچھتا ہے لڑکا ہے یا لڑکی؟ جو جواب ملتا ہے لکھ لیتا ہے پھر عمل اور اثر اور رزق اور اجل لکھی جاتی ہے اور صحیفہ لپیٹ لیا جاتا ہے جس میں نہ کمی ممکن ہے نہ زیادتی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2643] ‏‏‏‏ پھر بچہ ہو کردنیا میں تولد ہوتا ہے نہ عقل ہے نہ سمجھ۔ کمزور ہے اور تمام اعضاء ضعیف ہیں پھر اللہ تعالیٰ بڑھاتا رہتا ہے ماں باپ کو مہربان کر دیتا ہے۔ دن رات انہیں اس کی فکر رہتی ہے تکلیفیں اٹھا کر پرورش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پروان چڑھاتا ہے۔ یہاں تک کہ عنفوان جوانی کا زمانہ آتا ہے خوبصورت تنومند ہو جاتا ہے بعض تو جوانی میں ہی چل بستے ہیں بعض بوڑھے پھونس ہو جاتے ہیں کہ پھر عقل وخرد کھوبیٹھتے ہیں اور بچوں کی طرح ضعیف ہو جاتے ہیں۔ حافظہ، فہم، فکر سب میں فتور پڑ جاتا ہے علم کے بعد بےعلم ہو جاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ» ۱؎ [30-الروم:54] ‏‏‏‏ ’ اللہ نے تمہیں کمزوری میں پیدا کیا پھر زور دیا پھر اس قوت وطاقت کے بعد ضعف اور بڑھاپا آیا جو کچھ وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے پورے علم والا اور کامل قدرت والا ہے ‘۔ مسند حافظ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { بچہ جب تک بلوغت کو نہ پہنچے اس کی نیکیاں اس کے باپ کے یا ماں باپ کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیں اور برائی نہ اس پر ہوتی ہے نہ ان پر۔ بلوغت پر پہنچتے ہی قلم اس پر چلنے لگتا ہے اس کے ساتھ کے فرشتوں کو اس کی حفاظت کرنے اور اسے درست رکھنے کا حکم مل جاتا ہے۔ جب وہ اسلام میں ہی چالیس سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے تین بلاؤں سے نجات دے دیتا ہے جنون اور جذام سے اور برص سے، جب اسے اللہ تعالیٰ کے دین پر بچاس سال گزرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب میں تخفیف کر دیتا ہے جب وہ ساٹھ سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی کے کاموں کی طرف اس کی طبعیت کا پورا میلان کر دیتا ہے اور اسے اپنی طرف راغب کر دیتا ہے جب وہ ستر برس کا ہو جاتا ہے تو آسمانی فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب وہ اسی برس کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں تو لکھتا ہے لیکن برائیوں سے تجاوز فرما لیتا ہے۔ جب وہ نوے برس کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیتا ہے اس کے گھرانے والوں کے لیے اسے سفارشی اور شفیع بنا دیتا ہے وہ اللہ کے ہاں امین اللہ کا خطاب پاتا ہے اور زمین میں اللہ کے قیدیوں کی طرح رہتا ہے جب بہت بڑی ناکارہ عمر کو پہنچ جاتا ہے جب کہ علم کے بعد بے علم ہو جاتا ہے تو جو کچھ وہ اپنی صحت اور ہوش کے زمانے میں نیکیاں کیا کرتا تھا سب اس کے نامہ اعمال میں برابر لکھی جاتی ہیں اور اگر کوئی برائی اس سے ہو گئی تو وہ نہیں لکھی جاتی } }۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3678:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت غریب ہے اور اس میں سخت نکارت ہے باوجود اس کے اسے امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ اپنی مسند میں لائے ہیں موقوفاً بھی اور مرفوعاً بھی۔ انس رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے اور عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے از فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ۱؎ [مسند احمد:89/2:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر انس رضی اللہ عنہ سے ہی دوسری سند سے مرفوعاً یہی وارد کی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:217/3:ضعیف] ‏‏‏‏ حافظ ابوبکر بن بزار رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اسے بہ روایت انس بن مالک رضی اللہ عنہ مرفوع میں بیان کیا ہے۔ ۱؎ [مسند بزار:3587:ضعیف] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏اور مسلمانوں پر رب کی مہربانی کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اللہ ہماری عمر میں نیکی کے ساتھ برکت دے آمین)‏‏‏‏‏‏‏‏

مردوں کے زندہ کر دینے کی ایک دلیل یہ بیان کر کے پھر دوسری دلیل بیان فرماتا ہے کہ ’ چٹیل میدان بے روئیدگی کی خشک اور سخت زمین کو ہم آسمانی پانی سے لہلہاتی اور تروتازہ کر دیتے ہیں طرح طرح کے پھل پھول میوے دانے وغیرہ کے درختوں سے سرسبز ہو جاتی ہے قسم قسم کے درخت اگ آتے ہیں اور جہاں کچھ نہ تھا وہاں سب کچھ ہو جاتا ہے مردہ زمین ایک دم زندگی کے کشادہ سانس لینے لگتی ہے جس جگہ ڈرلگتا تھا وہاں اب راحت روح اور نورعین اور سرور قلب موجود ہو جاتا ہے قسم قسم کے طرح طرح کے میٹھے کھٹے خوش ذائقہ مزیدار رنگ روپ والے پھل اور میوؤں سے لدے ہوئے خوبصورت چھوٹے بڑے جھوم جھوم کر بہار کا لطف دکھانے لگتے ہیں ‘۔ یہی وہ مردہ زمین ہے جو کل تک خاک اڑا رہی تھی آج دل کا سرور اور آنکھوں کا نور بن کر اپنی زندگی کی جوانی کامزا دی رہی ہے۔ پھولوں کے چھوٹے چھوٹے پودے دماغ کو مخزن عطار بنا دیتے ہیں دور سے نسیم کے ہلکے ہلکے جھونکے کتنے خوشگوار معلوم ہوتے ہیں۔ سچ ہے خالق، مدبر، اپنی چاہت کے مطابق کرنے والا، خود مختیار حاکم حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور اس کی نشانی مردہ زمین کا زندہ ہونا مخلوق کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ وہ ہر انقلاب پر ہر قلب ماہیت پر قادر ہے جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے۔ جس کام کا ارادہ کرتا ہے، فرماتا ہے ہو جا، پھر ناممکن ہے کہ وہ کہتے ہی ہو نہ جائے جیسے کہ آیت میں ہے «إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» ۱؎ [36-یس:82] ‏‏‏‏۔ یاد رکھو قیامت قطعا بلا شک و شبہ آنے والی ہی ہے اور قبروں کے مردوں کو وہ قدرت والا اللہ زندہ کر کے اٹھانے والا ہے وہ عدم سے وجود میں لانے پر قادر تھا اور ہے اور رہے گا۔ سورۃ یاسین میں بھی بعض لوگوں کے اس اعتراض کا ذکر کر کے انہیں ان کی پہلی پیدائش یاد دلا کر قائل کیا گیا ہے ساتھ ہی سبز درخت سے آگ پیدا کرنے کی قلب ماہیت کو بھی دلیل میں پیش فرمایا گیا ہے اور آیتیں بھی اس بارے میں بہت سی ہیں۔

سیدنا لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ جو ابورزین عقیلی کی کنیت سے مشہور ہیں { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا ہم لوگ سب کے سب قیامت کے دن اپنے رب تبارک وتعالیٰ کو دیکھیں گے؟ اور اس کی مخلوق میں اس دیکھنے کی مثال کوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا تم سب کے سب چاند کو یکساں طور پر نہیں دیکھتے؟ } ہم نے کہا ”ہاں“ فرمایا { پھر اللہ تو بہت بڑی عظمت والا ہے }۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی بھی کوئی مثال دنیا میں ہے؟ جواب ملا کہ { کیا ان جنگلوں سے تم نہیں گزرے جو غیر آباد ویران پڑے ہوں خاک اڑ رہی ہو خشک مردہ ہو رہیں پھر دیکھتے ہو کہ وہی ٹکڑا سبزے سے اور قسم قسم کے درختوں سے ہرا بھرا نوپید ہو جاتا ہے بارونق بن جاتا ہے اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور مخلوق میں یہی دیکھی ہوئی مثال اس کا کافی نمونہ اور ثبوت ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4731،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جو اس بات کا یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ حق ہے اور قیامت قطعا بے شبہ آنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ مردوں کو قبروں سے دوبارہ زندہ کرے گا وہ یقیناً جنتی ہے۔‏‏‏‏“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 7،6) ➊ {ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ …:} اس آیت کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں، ایک یہ کہ ”باء“ سببیہ ہے جو {”كَائِنٌ“} وغیرہ سے متعلق ہے، جو افعال عامہ سے مشتق ہیں۔ یعنی بنی آدم کو پیدا کرنے اور مردہ زمین کو زندہ کرنے کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ہمیشہ ثابت اور موجود ہے، سو وہی ان دونوں کا اور ہر چیز کا موجد ہے۔ {” وَ اَنَّهٗ يُحْيِ الْمَوْتٰى “} اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہی مردوں کو زندہ کرے گا، اگر وہ مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت نہ رکھتا تو بے جان مٹی اور نطفے کو اور مردہ زمین کو زندگی کیسے بخشتا؟ {” وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ “} اور اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، سو وہ نطفے اور مردہ زمین کو زندگی بخشنے پر بھی قادر ہے۔ {” وَ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ …“} اور اس کا سبب یہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ قبروں میں دفن لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا، تاکہ ہر ایک کو اس کے کیے کا بدلہ ملے، ورنہ نطفے سے لے کر جوانی اور پھر بڑھاپے تک پہنچانے کا کوئی مقصد نہ ہوتا، جب کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی کام عبث اور بے مقصد نہیں۔ قدیم مفسرین یہ معنی بیان کرتے ہیں۔ ➋ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ”باء“ کو ایسے لفظ کے متعلق کیا جائے جو سیاق و سباق سے مناسبت رکھتا ہو، مثلاً {” شَاهِدٌ “} وغیرہ، {”أَيْ ذٰلِكَ شَاهِدٌ بِأَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ“} مطلب یہ ہو گا کہ یہ جو کچھ گزرا، یعنی انسان کا مٹی سے، پھر نطفے سے (آخر تک) پیدا ہونا اور مردہ زمین کا پانی سے زندہ ہو جانا اس بات کا شاہد اور اس کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا…۔ متاخرین اس معنی کو ترجیح دیتے ہیں۔
وَّ اَنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ لَّا رَیۡبَ فِیۡہَا ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ یَبۡعَثُ مَنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور یہ (اِس بات کی دلیل ہے) کہ قیامت کی گھڑی آ کر رہے گی، اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، اور اللہ ضرور اُن لوگوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں جا چکے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ کہ قیامت قطعاً آنے والی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ قبروں والوں کو دوباره زنده فرمائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور اس لیے کہ قیامت آنے والی اس میں کچھ شک نہیں، اور یہ کہ اللہ اٹھائے گا انہیں جو قبروں میں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور قیامت ضرور آنے والی ہے۔ جس میں کوئی شک نہیں ہے اور یقیناً اللہ انہیں زندہ کرے گا جو قبروں میں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور (اس لیے) کہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں اور (اس لیے) کہ اللہ ان لوگوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہلی پیدائش دوسری پیدائش کی دلیل ٭٭

مخالفین اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل بیان کی جاتی ہے کہ ’ اگر تمہیں دوسری بار کی زندگی سے انکار ہے تو ہم اس کی دلیل میں تمہاری پہلی دفعہ کی پیدائش تمہیں یاد دلاتے ہیں ‘۔ تم اپنی اصلیت پر غور کر کے دیکھو کہ ہم نے تمہیں مٹی سے بنایا ہے یعنی تمہارے باپ آدم علیہ السلام کو جن کی نسل تم سب ہو۔ پھر تم سب کو ذلیل پانی کے قطروں سے پیدا کیا ہے جس نے پہلے خون بستہ کی شکل اختیار کی پھر گوشت کا ایک لوتھڑا بنا۔ چالیس دن تک تو نطفہ اپنی شکل میں بڑھتا ہے پھر بحکم الٰہی اس میں خون کی سرخ پھٹکی پڑتی ہے، پھر چالیس دن کے بعد وہ ایک گوشت کے ٹکڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس میں کوئی صورت و شبیہ نہیں ہوتی، پھر اللہ تعالیٰ اسے صورت عنایت فرماتا ہے سر، ہاتھ، سینہ، پیٹ، رانیں، پاؤں اور کل اعضاء بنتے ہیں۔ کبھی اس سے پہلے ہی حمل ساقط ہو جاتا ہے، کبھی اس کے بعد بچہ گر پڑتا ہے۔ یہ تو تمہارے مشاہدے کی بات ہے۔ اور کبھی ٹھہرجاتا ہے۔ جب اس لوتھڑے پر چالیس دن گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو اسے ٹھیک ٹھاک اور درست کرکے اس میں روح پھونک دیتا ہے اور جیسے اللہ چاہتا ہو خوبصورت بدصورت مرد عورت بنا دیا جاتا ہے رزق، اجل، نیکی، بدی اسی وقت لکھ دی جاتی ہے۔

بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس رات تک جمع ہوتی ہے۔ پھر چالیس دن تک خون بستہ کی صورت رہتی ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کے لوتھڑے کی، پھر فرشتے کو چار چیزیں لکھ دینے کا حکم دے کر بھیجا جاتا ہے۔ رزق، عمل، اجل، شقی یا سعید ہونا لکھ لیا جاتا ہے پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3208] ‏‏‏‏ عبداللہ فرماتے ہیں نطفے کے رحم میں ٹھہرتے ہی فرشتہ پوچھتا ہے کہ ”اے اللہ یہ مخلوق ہو گا یا نہیں؟“ اگر انکار ہوا تو وہ جمتا ہی نہیں۔ خون کی شکل میں رحم اسے خارج کر دیتا ہے اور اگر حکم ملا کہ اس کی پیدائش کی جائے گی تو فرشتہ دریافت کرتا ہے کہ لڑکا ہو گا یا لڑکی؟ نیک ہو گا یا بد؟ اجل کیا ہے؟ اثر کیا ہے؟ کہاں مرے گا؟ پھر نطفے سے پوچھا جاتا ہے تیرے رب کون ہے وہ کہتا ہے اللہ!، پوچھا جاتا ہے رازق کون ہے؟ کہتا ہے کہ اللہ!۔ پھر فرشتے سے کہا جاتا ہے تو جا اور اصل کتاب میں دیکھ لے وہیں اس کا حال مل جائے گا پھر وہ پیدا کیا جاتا ہے لکھی ہوئی زندگی گزارتا ہے مقدر کا رزق پاتا ہے مقررہ جگہ چلتا پھرتا ہے پھر موت آتی ہے اور دفن کیا جاتا ہے جہاں دفن ہونا مقدر ہے۔ پھر عامر رحمتہ اللہ علیہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی مضغہ ہونے کے بعد چوتھی پیدائش کی طرف لوٹایا جاتا ہے اور ذی روح بنتا ہے۔

حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت میں ہے کہ { چالیس پینتالیس دن جب نطفے پر گزر جاتے ہیں تو فرشتہ دریافت کرتا ہے کہ یہ دوزخی ہے یا جنتی؟ جو جواب دیا جاتا ہے لکھ لیتا ہے پھر پوچھتا ہے لڑکا ہے یا لڑکی؟ جو جواب ملتا ہے لکھ لیتا ہے پھر عمل اور اثر اور رزق اور اجل لکھی جاتی ہے اور صحیفہ لپیٹ لیا جاتا ہے جس میں نہ کمی ممکن ہے نہ زیادتی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2643] ‏‏‏‏ پھر بچہ ہو کردنیا میں تولد ہوتا ہے نہ عقل ہے نہ سمجھ۔ کمزور ہے اور تمام اعضاء ضعیف ہیں پھر اللہ تعالیٰ بڑھاتا رہتا ہے ماں باپ کو مہربان کر دیتا ہے۔ دن رات انہیں اس کی فکر رہتی ہے تکلیفیں اٹھا کر پرورش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پروان چڑھاتا ہے۔ یہاں تک کہ عنفوان جوانی کا زمانہ آتا ہے خوبصورت تنومند ہو جاتا ہے بعض تو جوانی میں ہی چل بستے ہیں بعض بوڑھے پھونس ہو جاتے ہیں کہ پھر عقل وخرد کھوبیٹھتے ہیں اور بچوں کی طرح ضعیف ہو جاتے ہیں۔ حافظہ، فہم، فکر سب میں فتور پڑ جاتا ہے علم کے بعد بےعلم ہو جاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ» ۱؎ [30-الروم:54] ‏‏‏‏ ’ اللہ نے تمہیں کمزوری میں پیدا کیا پھر زور دیا پھر اس قوت وطاقت کے بعد ضعف اور بڑھاپا آیا جو کچھ وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے پورے علم والا اور کامل قدرت والا ہے ‘۔ مسند حافظ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { بچہ جب تک بلوغت کو نہ پہنچے اس کی نیکیاں اس کے باپ کے یا ماں باپ کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیں اور برائی نہ اس پر ہوتی ہے نہ ان پر۔ بلوغت پر پہنچتے ہی قلم اس پر چلنے لگتا ہے اس کے ساتھ کے فرشتوں کو اس کی حفاظت کرنے اور اسے درست رکھنے کا حکم مل جاتا ہے۔ جب وہ اسلام میں ہی چالیس سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے تین بلاؤں سے نجات دے دیتا ہے جنون اور جذام سے اور برص سے، جب اسے اللہ تعالیٰ کے دین پر بچاس سال گزرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب میں تخفیف کر دیتا ہے جب وہ ساٹھ سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی کے کاموں کی طرف اس کی طبعیت کا پورا میلان کر دیتا ہے اور اسے اپنی طرف راغب کر دیتا ہے جب وہ ستر برس کا ہو جاتا ہے تو آسمانی فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب وہ اسی برس کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں تو لکھتا ہے لیکن برائیوں سے تجاوز فرما لیتا ہے۔ جب وہ نوے برس کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیتا ہے اس کے گھرانے والوں کے لیے اسے سفارشی اور شفیع بنا دیتا ہے وہ اللہ کے ہاں امین اللہ کا خطاب پاتا ہے اور زمین میں اللہ کے قیدیوں کی طرح رہتا ہے جب بہت بڑی ناکارہ عمر کو پہنچ جاتا ہے جب کہ علم کے بعد بے علم ہو جاتا ہے تو جو کچھ وہ اپنی صحت اور ہوش کے زمانے میں نیکیاں کیا کرتا تھا سب اس کے نامہ اعمال میں برابر لکھی جاتی ہیں اور اگر کوئی برائی اس سے ہو گئی تو وہ نہیں لکھی جاتی } }۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3678:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت غریب ہے اور اس میں سخت نکارت ہے باوجود اس کے اسے امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ اپنی مسند میں لائے ہیں موقوفاً بھی اور مرفوعاً بھی۔ انس رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے اور عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے از فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ۱؎ [مسند احمد:89/2:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر انس رضی اللہ عنہ سے ہی دوسری سند سے مرفوعاً یہی وارد کی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:217/3:ضعیف] ‏‏‏‏ حافظ ابوبکر بن بزار رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اسے بہ روایت انس بن مالک رضی اللہ عنہ مرفوع میں بیان کیا ہے۔ ۱؎ [مسند بزار:3587:ضعیف] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏اور مسلمانوں پر رب کی مہربانی کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اللہ ہماری عمر میں نیکی کے ساتھ برکت دے آمین)‏‏‏‏‏‏‏‏

مردوں کے زندہ کر دینے کی ایک دلیل یہ بیان کر کے پھر دوسری دلیل بیان فرماتا ہے کہ ’ چٹیل میدان بے روئیدگی کی خشک اور سخت زمین کو ہم آسمانی پانی سے لہلہاتی اور تروتازہ کر دیتے ہیں طرح طرح کے پھل پھول میوے دانے وغیرہ کے درختوں سے سرسبز ہو جاتی ہے قسم قسم کے درخت اگ آتے ہیں اور جہاں کچھ نہ تھا وہاں سب کچھ ہو جاتا ہے مردہ زمین ایک دم زندگی کے کشادہ سانس لینے لگتی ہے جس جگہ ڈرلگتا تھا وہاں اب راحت روح اور نورعین اور سرور قلب موجود ہو جاتا ہے قسم قسم کے طرح طرح کے میٹھے کھٹے خوش ذائقہ مزیدار رنگ روپ والے پھل اور میوؤں سے لدے ہوئے خوبصورت چھوٹے بڑے جھوم جھوم کر بہار کا لطف دکھانے لگتے ہیں ‘۔ یہی وہ مردہ زمین ہے جو کل تک خاک اڑا رہی تھی آج دل کا سرور اور آنکھوں کا نور بن کر اپنی زندگی کی جوانی کامزا دی رہی ہے۔ پھولوں کے چھوٹے چھوٹے پودے دماغ کو مخزن عطار بنا دیتے ہیں دور سے نسیم کے ہلکے ہلکے جھونکے کتنے خوشگوار معلوم ہوتے ہیں۔ سچ ہے خالق، مدبر، اپنی چاہت کے مطابق کرنے والا، خود مختیار حاکم حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور اس کی نشانی مردہ زمین کا زندہ ہونا مخلوق کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ وہ ہر انقلاب پر ہر قلب ماہیت پر قادر ہے جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے۔ جس کام کا ارادہ کرتا ہے، فرماتا ہے ہو جا، پھر ناممکن ہے کہ وہ کہتے ہی ہو نہ جائے جیسے کہ آیت میں ہے «إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» ۱؎ [36-یس:82] ‏‏‏‏۔ یاد رکھو قیامت قطعا بلا شک و شبہ آنے والی ہی ہے اور قبروں کے مردوں کو وہ قدرت والا اللہ زندہ کر کے اٹھانے والا ہے وہ عدم سے وجود میں لانے پر قادر تھا اور ہے اور رہے گا۔ سورۃ یاسین میں بھی بعض لوگوں کے اس اعتراض کا ذکر کر کے انہیں ان کی پہلی پیدائش یاد دلا کر قائل کیا گیا ہے ساتھ ہی سبز درخت سے آگ پیدا کرنے کی قلب ماہیت کو بھی دلیل میں پیش فرمایا گیا ہے اور آیتیں بھی اس بارے میں بہت سی ہیں۔

سیدنا لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ جو ابورزین عقیلی کی کنیت سے مشہور ہیں { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا ہم لوگ سب کے سب قیامت کے دن اپنے رب تبارک وتعالیٰ کو دیکھیں گے؟ اور اس کی مخلوق میں اس دیکھنے کی مثال کوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا تم سب کے سب چاند کو یکساں طور پر نہیں دیکھتے؟ } ہم نے کہا ”ہاں“ فرمایا { پھر اللہ تو بہت بڑی عظمت والا ہے }۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی بھی کوئی مثال دنیا میں ہے؟ جواب ملا کہ { کیا ان جنگلوں سے تم نہیں گزرے جو غیر آباد ویران پڑے ہوں خاک اڑ رہی ہو خشک مردہ ہو رہیں پھر دیکھتے ہو کہ وہی ٹکڑا سبزے سے اور قسم قسم کے درختوں سے ہرا بھرا نوپید ہو جاتا ہے بارونق بن جاتا ہے اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور مخلوق میں یہی دیکھی ہوئی مثال اس کا کافی نمونہ اور ثبوت ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4731،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جو اس بات کا یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ حق ہے اور قیامت قطعا بے شبہ آنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ مردوں کو قبروں سے دوبارہ زندہ کرے گا وہ یقیناً جنتی ہے۔‏‏‏‏“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ وَّ لَا ہُدًی وَّ لَا کِتٰبٍ مُّنِیۡرٍ ۙ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بعض اور لوگ ایسے ہیں جو کسی علم اور ہدایت اور روشنی بخشنے والی کتاب کے بغیر، گردن اکڑائے ہوئے
مولانا محمد جوناگڑھی
بعض لوگ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے جھگڑتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کوئی آدمی وہ ہے کہ اللہ کے بارے میں یوں جھگڑتا ہے کہ نہ تو علم نہ کوئی دلیل اور نہ کوئی روشن نوشتہ (تحریر)
علامہ محمد حسین نجفی
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم کے، بغیر کسی راہنمائی کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے کج بحثی کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم کے اور بغیر کسی ہدایت کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے جھگڑا کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گمراہ جاہل مقلد لوگ ٭٭

چونکہ اوپر کی آیتوں میں گمراہ جاہل مقلدوں کا حال بیان فرمایا تھا یہاں ان کے مرشدوں اور پیروں کا حال بیان فرما رہے ہیں کہ ’ وہ بےعقلی اور بے دلیلی سے صرف رائے قیاس اور خواہش نفسانی سے اللہ کے بارے میں کلام کرتے رہتے ہیں، حق سے اعراض کرتے ہیں، تکبر سے گردن پھیرلیتے ہیں، حق کو قبول کرنے سے بےپراوہی کے ساتھ انکار کرجاتے ہیں جیسے فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام کے کھلے معجزوں کو دیکھ کر بھی بےپراوہی کی اور نہ مانے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا» ۱؎ [4-النساء:61] ‏‏‏‏ ’ جب ان سے اللہ کی وحی کی تابعداری کو کہا جاتا ہے اور رسول اللہ کے فرمان کی طرف بلایا جاتا ہے تو تو دیکھے گا کہ اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ منافق تجھ سے دور چلے جایا کرتے ہیں ‘۔ سورۃ المنافقون میں ارشاد ہوا کہ «وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّـهِ لَوَّوْا رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:5] ‏‏‏‏ ’ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اور اپنے لیے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کرواؤ تو وہ اپنے سرگھما کر گھمنڈ میں آ کر بے نیاز ی سے انکار کرجاتے ہیں ‘۔ لقمان رحمہ اللہ نے اپنے صاحبزادے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا آیت «وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ للنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ» ۱؎ [31-لقمان:18] ‏‏‏‏ ’ لوگوں سے اپنے رخسار نہ پھلادیا کر یعنی اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر ان سے تکبر نہ کر ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا وَلَّىٰ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِي أُذُنَيْهِ وَقْرًا فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» ۱؎ [31-لقمان:7] ‏‏‏‏ ’ ہماری آیتیں سن کر یہ تکبر سے منہ پھیرلیتا ہے ‘۔ «لِيُضِلَّ» کا لام یہ تو لام عاقبت ہے یا لام تعلیل ہے اس لیے کہ بسا اوقات اس کا مقصود دوسروں کو گمراہ کرنا نہیں ہوتا اور ممکن ہے کہ اس سے مراد معاند اور انکار ہی ہو اور ہوسکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ ہم نے اسے ایسا بداخلاق اس لیے بنا دیا ہے کہ یہ گمراہوں کا سردار بن جائے۔ اس کے لیے دنیا میں بھی ذلت وخواری ہے جو اس کے تکبر کا بدلہ۔ یہ یہاں تکبر کر کے بڑا بننا چاہتا تھا ہم اسے اور چھوٹا کر دیں گے یہاں بھی اپنی چاہت میں ناکام اور بے مراد رہے گا۔ اور آخرت کے دن بھی جہنم کی آگ کا لقمہ ہو گا۔ اسے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے کا کہ ’ یہ تیرے اعمال کا نتیجہ ہے اللہ کی ذات ظلم سے پاک ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَاءِ الْجَحِيمِ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَ‌أْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِ‌يمُ إِنَّ هَـٰذَا مَا كُنتُم بِهِ تَمْتَرُ‌ونَ» [44-الدخان:47-50] ‏‏‏‏ ’ فرشتوں سے کہا جائے گا کہ اسے پکڑ لو اور گھسیٹ کر جہنم میں لے جاؤ اور اس کے سر پر آگ جیسے پانی کی دھار بہاؤ۔ لے اب اپنی عزت اور تکبر کا بدلہ لیتا جا۔ یہی وہ ہے جس سے عمربھر شک شبہ میں رہا ‘۔ حسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ { ایک دن میں وہ ستر ستر مرتبہ آگ میں جل کر بھرتا ہو جائے گا۔ پھر زندہ کیا جائے گا پھر جلایا جائے گا }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ «اعاذنا الله» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 9،8) ➊ { وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ …:} یہاں ایک سوال ہے کہ یہی الفاظ اس سے پہلے آیت (۳) میں گزرے ہیں، پھر انھیں دوبارہ لانے میں کیا حکمت ہے؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ وہاں قیامت کے قیام پر اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے متعلق ان کج بحث جھگڑالوؤں کا ذکر ہے جو علم سے سراسر عاری اور محض مقلد ہیں اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چلتے ہیں۔ جبکہ یہاں ان جھگڑالوؤں کا ذکر ہے جو گمراہی کے پیشوا ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں، دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ جس طرح پہلی آیت: {” وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ “} میں واؤ سے پہلے کچھ لوگوں کا ذکر محذوف ہے (آیت: ۳ کی تفسیر ایک بار پھر دیکھ لیں) اسی طرح موقع کی مناسبت سے یہاں بھی {” وَ مِنَ النَّاسِ “} کی واؤ سے پہلے کچھ لوگوں کا ذکر محذوف ہے، یعنی جو لوگ انسان کی پیدائش اور مردہ زمین کو زندہ کرنے کے دلائل سے پہلے قیامت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان نہیں لا رہے تھے ان قطعی دلائل کے بعد ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو ایمان لے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہٹ دھرم اور عقل و شعور سے عاری ہیں جو کسی بھی دلیل کے بغیر محض تکبر کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ خود ایمان نہیں لاتے، بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ ➋ { بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى …:} علم سے مراد بدیہی اور فطری دلیل ہے جو کسی غوروفکر کے بغیر ہر ایک کی سمجھ میں آتی ہے۔ {”هُدًى “ } سے مراد غور و فکر اور نظر و استدلال سے حاصل ہونے والی عقلی دلیل ہے اور {” كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ “} سے مراد آسمان سے نازل ہونے والی کتابوں میں صحیح ثابت ہونے والی کوئی دلیل نقلی ہے۔ یعنی اس کے پاس قیامت کے انکار یا اللہ تعالیٰ کے وجود یا اس کی قدرت کے انکار کی کوئی فطری دلیل ہے نہ عقلی اور نہ نقلی۔ اس کے جھگڑے کا باعث صرف تکبر ہے۔ ➌ { ثَانِيَ عِطْفِهٖ: ”ثَنٰي يَثْنِيْ ثَنْيًا“} بروزن {”لَوَي يَلْوِيْ لَيًّا“} (ض)موڑنے کے معنی میں آتا ہے۔ {” ثَنٰي عِنَانَ فَرَسِهِ“} اس نے اپنے گھوڑے کی باگ موڑی۔ جھکانے کے معنی میں بھی آتا ہے: «‏‏‏‏اَلَاۤ اِنَّهُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ» ‏‏‏‏ [ ھود: ۵ ] ”سن لو! بلاشبہ وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں۔“ {”عِطْفٌ“ } کا معنی کندھا بھی ہے اور پہلو بھی۔ یہ اس کے تکبر کی تصویر ہے کہ وہ کس طرح پہلو موڑتے ہوئے اور گردن کشی کرتے ہوئے حق سے اعراض کرتا ہے۔ ➍ {لَهٗ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ:} مراد مسلمانوں کے ہاتھوں قتل، شکست، اسیری یا محکومی ہے، جیسا کہ بدر، احد، خندق، فتح خیبر، فتح مکہ اور فتح طائف اور دوسری بے شمار جنگوں میں ہوا۔ مزید ذلت و رسوائی یہ کہ مال و اولاد کی فراوانی کے باوجود {” مَعِيْشَةً ضَنْكًا “} (طٰہٰ: ۱۲۴) اور اموال و اولاد کے ذریعے سے مسلسل عذاب ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۵۵) جو دنیا میں کفار کا اور حق تعالیٰ کی یاد سے منہ موڑنے والے ہر شخص کا مقدر ہے۔
ثَانِیَ عِطۡفِہٖ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ لَہٗ فِی الدُّنۡیَا خِزۡیٌ وَّ نُذِیۡقُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہِ خدا سے بھٹکا دیں ایسے شخص کے لیے دُنیا میں رُسوائی ہے اور قیامت کے روز اُس کو ہم آگ کے عذاب کا مزا چکھائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو اپنی پہلو موڑنے واﻻ بن کر اس لئے کہ اللہ کی راه سے بہکادے، اسے دنیا میں بھی رسوائی ہوگی اور قیامت کے دن بھی ہم اسے جہنم میں جلنے کا عذاب چکھائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
حق سے اپنی گردن موڑے ہوئے تاکہ اللہ کی راہ سے بہکادے اس کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے آگ کا عذاب چکھائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
(غرور سے) اپنے شانے کو موڑے ہوئے (اور گردن اکڑائے ہوئے) تاکہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے گمراہ کریں ان کیلئے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم انہیں جلانے والی آگ کے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اس حال میں کہ اپنا پہلو موڑنے والا ہے، تاکہ اللہ کے راستے سے گمراہ کرے، اس کے لیے دنیا میں ایک رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے آگ کا عذاب چکھائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گمراہ جاہل مقلد لوگ ٭٭

چونکہ اوپر کی آیتوں میں گمراہ جاہل مقلدوں کا حال بیان فرمایا تھا یہاں ان کے مرشدوں اور پیروں کا حال بیان فرما رہے ہیں کہ ’ وہ بےعقلی اور بے دلیلی سے صرف رائے قیاس اور خواہش نفسانی سے اللہ کے بارے میں کلام کرتے رہتے ہیں، حق سے اعراض کرتے ہیں، تکبر سے گردن پھیرلیتے ہیں، حق کو قبول کرنے سے بےپراوہی کے ساتھ انکار کرجاتے ہیں جیسے فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام کے کھلے معجزوں کو دیکھ کر بھی بےپراوہی کی اور نہ مانے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا» ۱؎ [4-النساء:61] ‏‏‏‏ ’ جب ان سے اللہ کی وحی کی تابعداری کو کہا جاتا ہے اور رسول اللہ کے فرمان کی طرف بلایا جاتا ہے تو تو دیکھے گا کہ اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ منافق تجھ سے دور چلے جایا کرتے ہیں ‘۔ سورۃ المنافقون میں ارشاد ہوا کہ «وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّـهِ لَوَّوْا رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:5] ‏‏‏‏ ’ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اور اپنے لیے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کرواؤ تو وہ اپنے سرگھما کر گھمنڈ میں آ کر بے نیاز ی سے انکار کرجاتے ہیں ‘۔ لقمان رحمہ اللہ نے اپنے صاحبزادے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا آیت «وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ للنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ» ۱؎ [31-لقمان:18] ‏‏‏‏ ’ لوگوں سے اپنے رخسار نہ پھلادیا کر یعنی اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر ان سے تکبر نہ کر ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا وَلَّىٰ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِي أُذُنَيْهِ وَقْرًا فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» ۱؎ [31-لقمان:7] ‏‏‏‏ ’ ہماری آیتیں سن کر یہ تکبر سے منہ پھیرلیتا ہے ‘۔ «لِيُضِلَّ» کا لام یہ تو لام عاقبت ہے یا لام تعلیل ہے اس لیے کہ بسا اوقات اس کا مقصود دوسروں کو گمراہ کرنا نہیں ہوتا اور ممکن ہے کہ اس سے مراد معاند اور انکار ہی ہو اور ہوسکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ ہم نے اسے ایسا بداخلاق اس لیے بنا دیا ہے کہ یہ گمراہوں کا سردار بن جائے۔ اس کے لیے دنیا میں بھی ذلت وخواری ہے جو اس کے تکبر کا بدلہ۔ یہ یہاں تکبر کر کے بڑا بننا چاہتا تھا ہم اسے اور چھوٹا کر دیں گے یہاں بھی اپنی چاہت میں ناکام اور بے مراد رہے گا۔ اور آخرت کے دن بھی جہنم کی آگ کا لقمہ ہو گا۔ اسے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے کا کہ ’ یہ تیرے اعمال کا نتیجہ ہے اللہ کی ذات ظلم سے پاک ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَاءِ الْجَحِيمِ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَ‌أْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِ‌يمُ إِنَّ هَـٰذَا مَا كُنتُم بِهِ تَمْتَرُ‌ونَ» [44-الدخان:47-50] ‏‏‏‏ ’ فرشتوں سے کہا جائے گا کہ اسے پکڑ لو اور گھسیٹ کر جہنم میں لے جاؤ اور اس کے سر پر آگ جیسے پانی کی دھار بہاؤ۔ لے اب اپنی عزت اور تکبر کا بدلہ لیتا جا۔ یہی وہ ہے جس سے عمربھر شک شبہ میں رہا ‘۔ حسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ { ایک دن میں وہ ستر ستر مرتبہ آگ میں جل کر بھرتا ہو جائے گا۔ پھر زندہ کیا جائے گا پھر جلایا جائے گا }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ «اعاذنا الله» ۔
9۔ 1 ثانی اسم فاعل ہے موڑنے والا عطف کے معنی پہلو کے ہیں یہ یجادل سے حال ہے اس میں اس شخص کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو بغیر کسی عقلی اور نقلی دلیل کے اللہ کے بارے میں جھگڑتا ہے کہ وہ تکبر اور اعراض کرتے ہوئے اپنی گردن موڑتے ہوئے پھرتا ہے جیسے دوسرے مقامات پر اس کیفیت کو ان الفاظ سے ذکر کیا گیا ہے۔ (وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا) 31۔ لقمان:7) (لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ) 63۔ المنافقون:5) (اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ) 17۔ الاسراء:83)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتۡ یَدٰکَ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَیۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿٪۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ ہے تیرا وہ مستقبل جو تیرے اپنے ہاتھوں نے تیرے لیے تیار کیا ہے ورنہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ ان اعمال کی وجہ سے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھے تھے۔ یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ﻇلم کرنے واﻻ نہیں
احمد رضا خان بریلوی
یہ اس کا بدلہ ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا
علامہ محمد حسین نجفی
تب اسے بتایا جائے گا کہ یہ سب کچھ سزا ہے اس کی جو تیرے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور خدا ہرگز اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اس کی وجہ سے ہے جو تیرے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا اور (اس لیے) کہ اللہ ہرگز اپنے بندوں پر کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گمراہ جاہل مقلد لوگ ٭٭

چونکہ اوپر کی آیتوں میں گمراہ جاہل مقلدوں کا حال بیان فرمایا تھا یہاں ان کے مرشدوں اور پیروں کا حال بیان فرما رہے ہیں کہ ’ وہ بےعقلی اور بے دلیلی سے صرف رائے قیاس اور خواہش نفسانی سے اللہ کے بارے میں کلام کرتے رہتے ہیں، حق سے اعراض کرتے ہیں، تکبر سے گردن پھیرلیتے ہیں، حق کو قبول کرنے سے بےپراوہی کے ساتھ انکار کرجاتے ہیں جیسے فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام کے کھلے معجزوں کو دیکھ کر بھی بےپراوہی کی اور نہ مانے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا» ۱؎ [4-النساء:61] ‏‏‏‏ ’ جب ان سے اللہ کی وحی کی تابعداری کو کہا جاتا ہے اور رسول اللہ کے فرمان کی طرف بلایا جاتا ہے تو تو دیکھے گا کہ اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ منافق تجھ سے دور چلے جایا کرتے ہیں ‘۔ سورۃ المنافقون میں ارشاد ہوا کہ «وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّـهِ لَوَّوْا رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:5] ‏‏‏‏ ’ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اور اپنے لیے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کرواؤ تو وہ اپنے سرگھما کر گھمنڈ میں آ کر بے نیاز ی سے انکار کرجاتے ہیں ‘۔ لقمان رحمہ اللہ نے اپنے صاحبزادے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا آیت «وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ للنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ» ۱؎ [31-لقمان:18] ‏‏‏‏ ’ لوگوں سے اپنے رخسار نہ پھلادیا کر یعنی اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر ان سے تکبر نہ کر ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا وَلَّىٰ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِي أُذُنَيْهِ وَقْرًا فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» ۱؎ [31-لقمان:7] ‏‏‏‏ ’ ہماری آیتیں سن کر یہ تکبر سے منہ پھیرلیتا ہے ‘۔ «لِيُضِلَّ» کا لام یہ تو لام عاقبت ہے یا لام تعلیل ہے اس لیے کہ بسا اوقات اس کا مقصود دوسروں کو گمراہ کرنا نہیں ہوتا اور ممکن ہے کہ اس سے مراد معاند اور انکار ہی ہو اور ہوسکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ ہم نے اسے ایسا بداخلاق اس لیے بنا دیا ہے کہ یہ گمراہوں کا سردار بن جائے۔ اس کے لیے دنیا میں بھی ذلت وخواری ہے جو اس کے تکبر کا بدلہ۔ یہ یہاں تکبر کر کے بڑا بننا چاہتا تھا ہم اسے اور چھوٹا کر دیں گے یہاں بھی اپنی چاہت میں ناکام اور بے مراد رہے گا۔ اور آخرت کے دن بھی جہنم کی آگ کا لقمہ ہو گا۔ اسے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے کا کہ ’ یہ تیرے اعمال کا نتیجہ ہے اللہ کی ذات ظلم سے پاک ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَاءِ الْجَحِيمِ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَ‌أْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِ‌يمُ إِنَّ هَـٰذَا مَا كُنتُم بِهِ تَمْتَرُ‌ونَ» [44-الدخان:47-50] ‏‏‏‏ ’ فرشتوں سے کہا جائے گا کہ اسے پکڑ لو اور گھسیٹ کر جہنم میں لے جاؤ اور اس کے سر پر آگ جیسے پانی کی دھار بہاؤ۔ لے اب اپنی عزت اور تکبر کا بدلہ لیتا جا۔ یہی وہ ہے جس سے عمربھر شک شبہ میں رہا ‘۔ حسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ { ایک دن میں وہ ستر ستر مرتبہ آگ میں جل کر بھرتا ہو جائے گا۔ پھر زندہ کیا جائے گا پھر جلایا جائے گا }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ «اعاذنا الله» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 10) {وَ اَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۸۲) اور انفال (۵۱) بعض اہل علم نے اس کی ایک اور توجیہ لکھی ہے کہ {”فَعَّالٌ“} کا وزن ہمیشہ مبالغہ کے لیے نہیں آتا، بلکہ بعض اوقات صرف نسبت کے لیے یعنی {”ذُوْ شَيْءٍ“} (کسی چیز والا) کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے {”سَمَّانٌ“} (گھی والا)، {” قَطَّانٌ “} (روئی والا)، {”حَدَّادٌ“} (لوہار)، {تَمَّارٌ} (کھجوروں والا)، مطلب یہ ہے کہ یہاں {”ظَلَّامٌ“} مبالغے کے لیے نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات عالی ہے جس کی طرف ظلم کی نسبت بھی نہیں ہو سکتی۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّعۡبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرۡفٍ ۚ فَاِنۡ اَصَابَہٗ خَیۡرُۨ اطۡمَاَنَّ بِہٖ ۚ وَ اِنۡ اَصَابَتۡہُ فِتۡنَۃُۨ انۡقَلَبَ عَلٰی وَجۡہِہٖ ۟ۚ خَسِرَ الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃَ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کنارے پر رہ کر اللہ کی بندگی کرتا ہے، اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہو گیا اور جو کوئی مصیبت آ گئی تو الٹا پھر گیا اُس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی یہ ہے صریح خسارہ
مولانا محمد جوناگڑھی
بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ ایک کنارے پر (کھڑے) ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اگر کوئی نفع مل گیا تو دلچسپی لینے لگتے ہیں اور اگر کوئی آفت آگئی تو اسی وقت منھ پھیر لیتے ہیں، انہوں نے دونوں جہان کانقصان اٹھا لیا۔ واقعی یہ کھلا نقصان ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کچھ آدمی اللہ کی بندگی ایک کنارہ پر کرتے ہیں پھر اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچ گئی جب تو چین سے ہیں اور جب کوئی جانچ آکر پڑی منہ کے بل پلٹ گئے، ف۳۲) دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا یہی ہے صر یح نقصان
علامہ محمد حسین نجفی
اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو کنارہ پر رہ کر خدا کی عبادت کرتا ہے۔ سو اگر اسے کوئی فائدہ پہنچ جائے تو وہ اس سے مطمئن ہو جاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش پیش آجائے (یا کوئی مصیبت پہنچ جائے) تو فوراً (اسلام سے) منہ موڑ لیتا ہے۔ اس نے دنیا و آخرت کا گھاٹا اٹھایا اور یہ کھلا ہوا خسارہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر کرتا ہے، پھر اگر اسے کوئی بھلائی پہنچ جائے تو اس کے ساتھ مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش آپہنچے تو اپنے منہ پر الٹا پھر جاتا ہے۔ اس نے دنیا اور آخرت کا نقصان اٹھایا، یہی تو صریح خسارہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شک کے مارے لوگ ٭٭

«حَرْفٍ» کے معنی شک کے ایک طرف کے ہیں۔ گویا وہ دین کے ایک کنارے کھڑے ہو جاتے ہیں فائدہ ہوا تو پھولے نہیں سماتے، نقصان دیکھا بھاگ کھڑے ہوئے۔ صحیح بخاری شریف میں (‏‏‏‏سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ { اعراب ہجرت کر کے مدینے پہنچتے تھے اب اگر بال بچے ہوئے جانوروں میں برکت ہوئی تو کہتے یہ دین بڑا اچھا ہے اور اگر نہ ہوئے تو کہتے یہ دین تو نہایت برا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4742] ‏‏‏‏ ابن حاتم میں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اعراب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اسلام قبول کرتے واپس جا کر اگر اپنے ہاں بارش، پانی پاتے، جانوروں میں، گھربار میں برکت دیکھتے تو اطمینان سے کہتے بڑا اچھا دین ہے اور اگر اس کے خلاف دیکھتے تو جھٹ سے بک دیتے کہ اس دین میں سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں، اس پر یہ آیت اتری۔‏‏‏‏“ بروایت عوفی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”ایسے لوگ بھی تھے جو مدینے پہنچتے ہی اگر ان کے ہاں لڑکا ہوتا یا ان کی اونٹنی بچہ دیتی تو انہیں راحت ہوئی تو خوش ہو جاتے اور ان کی تعریفیں کرنے لگتے اور اگر کوئی بلا، مصیبت آ گئی، مدینے کی ہوا موافق نہ آئی، گھر میں لڑکی پیدا ہو گئی، صدقے کا مال میسر نہ ہوا توشیطانی وسوسے میں آ جاتے اور صاف کہہ دیتے کہ اس دین میں تو مشکل ہی مشکل ہے۔‏‏‏‏“ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”یہ حالت منافقوں کی ہے، دنیا اگر مل گئی تو دین سے خوش ہیں جہاں نہ ملی یا امتحان آ گیا فوراً پلہ جھاڑلیا کرتے ہیں، مرتد کافر ہو جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ یہ پورے بدنصیب ہیں دنیا آخرت دونوں برباد کر لیتے ہیں اس سے زیادہ اور بربادی کیا ہوتی؟ جن ٹھاکروں، بتوں اور بزرگوں سے یہ مدد مانگتے ہیں، جن سے فریاد کرتے ہیں، جن کے پاس اپنی حاجتیں لے کر جاتے ہیں، جن سے روزیاں مانگتے ہیں وہ تو محض عاجز ہیں، نفع نقصان ان کے ہاتھ ہی نہیں۔ سب سے بڑی گمراہی یہی ہے۔ دنیا میں بھی ان کی عبادت سے نقصان نفع سے پیشتر ہی ہو جاتا ہے۔ اور آخرت میں ان سے جو نقصان پہنچے گا اس کا کہنا ہی کیا ہے؟ یہ بت تو ان کے نہایت برے والی اور نہایت برے ساتھی ثابت ہوں گے۔ یا یہ مطلب کہ ایسا کرنے والے خود بہت ہی بد اور بڑے ہی برے ہیں لیکن پہلی تفسیر زیادہ اچھی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
11۔ 1 حرف کے معنی ہیں کنارہ۔ ان کناروں پر کھڑا ہونے والا، غیر مستقر ہوتا ہے یعنی اسے قرار و ثبات نہیں ہوتا۔ اسی طرح جو شخص دین کے بارے میں شک و تذبذب کا شکار رہتا ہے اس کا حال بھی یہی ہے، اسے دین پر استقامت نصیب نہیں ہوتی کیونکہ اس کی نیت صرف دنیاوی مفادات کی رہتی ہے، ملتے رہے تو ٹھیک ہے، بصورت دیگر وہ پھر دین آبائی یعنی کفر اور شرک کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو سچے مسلمان ہوتے اور ایمان اور یقین سے سرشار ہوتے ہیں۔ بعض روایات میں یہ وصف نو مسلم اعرابیوں کا بیان کیا گیا ہے (فتح الباری، باب مذکور)
(آیت 11) ➊ { وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ …:” حَرْفٍ “} کا معنی کنارا ہے، یعنی وہ دین کے دائرے کے وسط میں داخل نہیں ہوتا، بلکہ کنارے ہی پر رہتا ہے، یا اس کے دل میں ایمان جاگزیں نہیں ہوتا، صرف زبان اسلام کا اقرار کرتی ہے، جیسے کوئی شخص کسی لشکر کے کنارے پر رہے، اگر فتح نظر آ رہی ہو تو جا ملے، ورنہ فرار اختیار کرے۔ یہ آیت ان اعراب (بادیہ نشین) لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو صحرا سے ہجرت کرکے آتے۔ پھر اگر جان و مال میں برکت ہوتی تو اسلام پر بڑے اطمینان کا اظہار کرتے اور اگر تکلیف اور دکھ میں مبتلا ہو جاتے تو مرتد ہو کر واپس بھاگ جاتے۔ بعض ”مؤلفۃ القلوب“ کی بھی یہی حالت تھی۔ (کبیر) اور دیکھیے سورۂ بقرہ(۱۷ تا ۲۰)۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: [ كَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ الْمَدِيْنَةَ، فَيُسْلِمُ، فَإِنْ وَلَدَتِ امْرَأَتُهُ غُلَامًا وَنُتِجَتْ خَيْلُهُ قَالَ هٰذَا دِيْنٌ صَالِحٌ وَ إِنْ لَّمْ تَلِدِ امْرَأَتُهُ وَ لَمْ تُنْتَجْ خَيْلُهُ قَالَ هٰذَا دِيْنُ سَوْءٍ ] [ بخاري، التفسیر، باب { و من الناس من یعبد اللہ علی حرف }: ۴۷۴۲ ] ”آدمی مدینے آتا، پھر اگر اس کی بیوی لڑکے کو جنم دیتی اور اس کی گھوڑیاں بچے دیتیں تو کہتا، یہ اچھا دین ہے اور اگر بیوی کے ہاں بچہ نہ ہوتا اور نہ گھوڑیاں بچے دیتیں تو کہتا یہ دین برا ہے۔“ ➋ { انْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ:} یعنی مرتد ہو گیا اور پھر کفر و شرک کی طرف پلٹ گیا۔ ➌ {ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ:} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں، یعنی دنیا کا فائدہ اور بھلائی دیکھے تو بندگی پر قائم رہے اور اگر آزمائش آ جائے اور کوئی تکلیف پہنچے تو بندگی چھوڑ دے۔ ادھر (تکلیف اور مصیبت سے) دنیا گئی ادھر (بندگی چھوڑ کر مرتد ہونے سے) دین گیا۔ کنارے پر کھڑا ہے، یعنی دل ابھی نہ اس طرف ہے اور نہ اس طرف، جیسے کوئی مکان کے کنارے کھڑا ہے، جب چاہے نکل جائے۔ (موضح)
یَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّہٗ وَ مَا لَا یَنۡفَعُہٗ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِیۡدُ ﴿ۚ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر وہ اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارتا ہے جو نہ اُس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ فائدہ یہ ہے گمراہی کی انتہا
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ کے سوا انہیں پکارتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکیں نہ نفع۔ یہی تو دور دراز کی گمراہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہیں جو ان کا برا بھلا کچھ نہ کرے یہی ہے دور کی گمراہی،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ اللہ کو چھوڑ کر اس کو پکارتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچاتا ہے اور نہ نفع۔ یہی تو انتہائی گمراہی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اللہ کے سوا اس چیز کو پکارتا ہے جو اسے نقصان نہیں پہنچاتی اور اس چیز کو جو اسے نفع نہیں دیتی، یہی تو دور کی گمراہی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شک کے مارے لوگ ٭٭

«حَرْفٍ» کے معنی شک کے ایک طرف کے ہیں۔ گویا وہ دین کے ایک کنارے کھڑے ہو جاتے ہیں فائدہ ہوا تو پھولے نہیں سماتے، نقصان دیکھا بھاگ کھڑے ہوئے۔ صحیح بخاری شریف میں (‏‏‏‏سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ { اعراب ہجرت کر کے مدینے پہنچتے تھے اب اگر بال بچے ہوئے جانوروں میں برکت ہوئی تو کہتے یہ دین بڑا اچھا ہے اور اگر نہ ہوئے تو کہتے یہ دین تو نہایت برا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4742] ‏‏‏‏ ابن حاتم میں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اعراب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اسلام قبول کرتے واپس جا کر اگر اپنے ہاں بارش، پانی پاتے، جانوروں میں، گھربار میں برکت دیکھتے تو اطمینان سے کہتے بڑا اچھا دین ہے اور اگر اس کے خلاف دیکھتے تو جھٹ سے بک دیتے کہ اس دین میں سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں، اس پر یہ آیت اتری۔‏‏‏‏“ بروایت عوفی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”ایسے لوگ بھی تھے جو مدینے پہنچتے ہی اگر ان کے ہاں لڑکا ہوتا یا ان کی اونٹنی بچہ دیتی تو انہیں راحت ہوئی تو خوش ہو جاتے اور ان کی تعریفیں کرنے لگتے اور اگر کوئی بلا، مصیبت آ گئی، مدینے کی ہوا موافق نہ آئی، گھر میں لڑکی پیدا ہو گئی، صدقے کا مال میسر نہ ہوا توشیطانی وسوسے میں آ جاتے اور صاف کہہ دیتے کہ اس دین میں تو مشکل ہی مشکل ہے۔‏‏‏‏“ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”یہ حالت منافقوں کی ہے، دنیا اگر مل گئی تو دین سے خوش ہیں جہاں نہ ملی یا امتحان آ گیا فوراً پلہ جھاڑلیا کرتے ہیں، مرتد کافر ہو جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ یہ پورے بدنصیب ہیں دنیا آخرت دونوں برباد کر لیتے ہیں اس سے زیادہ اور بربادی کیا ہوتی؟ جن ٹھاکروں، بتوں اور بزرگوں سے یہ مدد مانگتے ہیں، جن سے فریاد کرتے ہیں، جن کے پاس اپنی حاجتیں لے کر جاتے ہیں، جن سے روزیاں مانگتے ہیں وہ تو محض عاجز ہیں، نفع نقصان ان کے ہاتھ ہی نہیں۔ سب سے بڑی گمراہی یہی ہے۔ دنیا میں بھی ان کی عبادت سے نقصان نفع سے پیشتر ہی ہو جاتا ہے۔ اور آخرت میں ان سے جو نقصان پہنچے گا اس کا کہنا ہی کیا ہے؟ یہ بت تو ان کے نہایت برے والی اور نہایت برے ساتھی ثابت ہوں گے۔ یا یہ مطلب کہ ایسا کرنے والے خود بہت ہی بد اور بڑے ہی برے ہیں لیکن پہلی تفسیر زیادہ اچھی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 12){يَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهٗ وَ مَا لَا يَنْفَعُهٗ …:} بعض لوگ {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} سے مراد صرف بت لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اولیاء اللہ {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} نہیں ہیں۔ حالانکہ {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کے سوا ہر چیز ہے، خواہ بت ہوں یا قبریں، درخت ہوں یا جانور، مثلاً گائے وغیرہ، خواہ انسان ہوں یا جن یا فرشتے، زندہ ہوں یا مردہ، نیک ہوں یا بد، سب {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} ہیں، کیونکہ جو بھی موجود ہے یا اللہ ہے یا {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔“} اگر ولیوں اور نبیوں کو {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} نہ مانیں تو انھیں اللہ ماننا پڑے گا۔ پھر {”وحده لا شريك له“} اور {” قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ “} کا مطلب کیا ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا سب کچھ {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} (اللہ کے سوا) ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ نحل (۲۰، ۷۳)۔
یَدۡعُوۡا لَمَنۡ ضَرُّہٗۤ اَقۡرَبُ مِنۡ نَّفۡعِہٖ ؕ لَبِئۡسَ الۡمَوۡلٰی وَ لَبِئۡسَ الۡعَشِیۡرُ ﴿۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ اُن کو پکارتا ہے جن کا نقصان اُن کے نفع سے قریب تر ہے بدترین ہے اُس کا مولیٰ اور بدترین ہے اُس کا رفیق
مولانا محمد جوناگڑھی
اسے پکارتے ہیں جس کا نقصان اس کے نفع سے زیاده قریب ہے، یقیناً برے والی ہیں اور برے ساتھی
احمد رضا خان بریلوی
ایسے کو پوجتے نہیں جس کے نفع سے نقصان کی توقع زیادہ ہے بیشک کیا ہی برا مولیٰ اور بیشک کیا ہی برا رفیق،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ ایسے کو پکارتا ہے جس کا ضرر اس کے فائدہ سے زیادہ قریب ہے۔ کیا ہی برا ہے آقا اور کیا ہی برا ہے ساتھی۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اسے پکارتا ہے کہ یقینا اس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے، بلاشبہ وہ برا دوست ہے اور بلاشبہ وہ برا ساتھی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شک کے مارے لوگ ٭٭

«حَرْفٍ» کے معنی شک کے ایک طرف کے ہیں۔ گویا وہ دین کے ایک کنارے کھڑے ہو جاتے ہیں فائدہ ہوا تو پھولے نہیں سماتے، نقصان دیکھا بھاگ کھڑے ہوئے۔ صحیح بخاری شریف میں (‏‏‏‏سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ { اعراب ہجرت کر کے مدینے پہنچتے تھے اب اگر بال بچے ہوئے جانوروں میں برکت ہوئی تو کہتے یہ دین بڑا اچھا ہے اور اگر نہ ہوئے تو کہتے یہ دین تو نہایت برا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4742] ‏‏‏‏ ابن حاتم میں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اعراب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اسلام قبول کرتے واپس جا کر اگر اپنے ہاں بارش، پانی پاتے، جانوروں میں، گھربار میں برکت دیکھتے تو اطمینان سے کہتے بڑا اچھا دین ہے اور اگر اس کے خلاف دیکھتے تو جھٹ سے بک دیتے کہ اس دین میں سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں، اس پر یہ آیت اتری۔‏‏‏‏“ بروایت عوفی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”ایسے لوگ بھی تھے جو مدینے پہنچتے ہی اگر ان کے ہاں لڑکا ہوتا یا ان کی اونٹنی بچہ دیتی تو انہیں راحت ہوئی تو خوش ہو جاتے اور ان کی تعریفیں کرنے لگتے اور اگر کوئی بلا، مصیبت آ گئی، مدینے کی ہوا موافق نہ آئی، گھر میں لڑکی پیدا ہو گئی، صدقے کا مال میسر نہ ہوا توشیطانی وسوسے میں آ جاتے اور صاف کہہ دیتے کہ اس دین میں تو مشکل ہی مشکل ہے۔‏‏‏‏“ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”یہ حالت منافقوں کی ہے، دنیا اگر مل گئی تو دین سے خوش ہیں جہاں نہ ملی یا امتحان آ گیا فوراً پلہ جھاڑلیا کرتے ہیں، مرتد کافر ہو جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ یہ پورے بدنصیب ہیں دنیا آخرت دونوں برباد کر لیتے ہیں اس سے زیادہ اور بربادی کیا ہوتی؟ جن ٹھاکروں، بتوں اور بزرگوں سے یہ مدد مانگتے ہیں، جن سے فریاد کرتے ہیں، جن کے پاس اپنی حاجتیں لے کر جاتے ہیں، جن سے روزیاں مانگتے ہیں وہ تو محض عاجز ہیں، نفع نقصان ان کے ہاتھ ہی نہیں۔ سب سے بڑی گمراہی یہی ہے۔ دنیا میں بھی ان کی عبادت سے نقصان نفع سے پیشتر ہی ہو جاتا ہے۔ اور آخرت میں ان سے جو نقصان پہنچے گا اس کا کہنا ہی کیا ہے؟ یہ بت تو ان کے نہایت برے والی اور نہایت برے ساتھی ثابت ہوں گے۔ یا یہ مطلب کہ ایسا کرنے والے خود بہت ہی بد اور بڑے ہی برے ہیں لیکن پہلی تفسیر زیادہ اچھی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
13۔ 1 بعض مفسرین کے نزدیک غیر اللہ کا پجاری قیامت والے دن کہے گا کہ جس کا نقصان، اس کے نفع کے قریب تر ہے، وہ والی اور ساتھی یقینا برا ہے۔ یعنی اپنے معبودوں کے بارے یہ کہے گا کہ وہاں اس کے امیدوں کے محل ڈھے جائیں گے اور یہ معبود، جن کی بات اس کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے عذاب سے اس بچائیں گے، اس کی شفاعت کریں گے، وہاں خود وہ معبود بھی، اس کے ساتھ ہی جہنم کا ایندھن بنے ہونگے مطلب یہ کہ غیر اللہ کو پکارنے سے فوری نقصان تو اس کا ہوا کہ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا، یہ قریب نقصان ہے۔ اور آخرت میں تو اس کا نقصان تحقیق شدہ ہی ہے۔
(آیت 13){ يَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ …:} یعنی نفع تو درکنار ان کے پکارنے میں الٹا نقصان ہے، کیونکہ جو شخص انھیں پکارتا ہے وہ ایمان سے تو یقینا اور فوراً ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، اب رہا ظاہری فائدہ، تو وہ محض ایک خیالی امید ہے جو اس نے اپنے دماغ میں پال رکھی ہے۔ حاصل ہو تو ہو، نہ ہو تو نہ ہو۔ ہو بھی تو ان معبودوں کی طرف سے نہیں ہو گی، انھیں پکارنے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
اِنَّ اللّٰہَ یُدۡخِلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَفۡعَلُ مَا یُرِیۡدُ ﴿۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اِس کے برعکس) اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، یقیناً ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ایمان اور نیک اعمال والوں کو اللہ تعالیٰ لہریں لیتی ہوئی نہروں والی جنتوں میں لے جائے گا۔ اللہ جو اراده کرے اسے کر کے رہتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ داخل کرے گا انہیں جو ایمان لائے اور بھلے کام کیے باغوں میں جن کے نیچے نہریں رواں، بیشک اللہ کرتا ہے جو چاہے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل بھی کئے ان بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ بیشک اللہ وہ کرتا ہے جو کچھ وہ چاہتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، بے شک اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یقین کے مالک لوگ ٭٭

برے لوگوں کا بیان کر کے بھلے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے جن کے دلوں میں یقین کا نور ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا ظہور ہے بھلائیوں کے خواہاں برائیوں سے گریزاں ہیں یہ بلند محلات میں عالی درجات میں ہونگے کیونکہ یہ راہ یافتہ ہیں ان کے علاوہ سب لوگ حواس باختہ ہیں۔ اب جو چاہے کرے جو چاہے رکھے دھرے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 14) ➊ { اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …:} کافروں اور مطلب پرست بے یقین مسلمانوں کے بعد سختی اور نرمی یعنی ہر حال میں اسلام پر قائم رہنے والے مسلمانوں کا ذکر فرمایا، جو یقین و ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہیں اور ہر عمل خلوص نیت کے ساتھ سنت نبوی کے مطابق بجا لاتے ہیں، کیونکہ عمل صالح کے لیے یہ دونوں چیزیں لازم ہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایسی جنتوں کا وعدہ فرمایا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ ➋ { اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ:} یعنی اللہ تعالیٰ غیر محدود اختیارات کا مالک ہے، دنیا یا آخرت میں جسے جو چاہے دے دے۔ تھوڑے سے عمل پر وہ جنت عطا کر دے کہ جس کا عرض زمین و آسمان کے عرض کے برابر ہے، فرمایا: «{ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ }» [ آل عمران: ۱۳۳ ] ”جنت کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔“ جبکہ کفار و مشرکین کو ہمیشہ کے لیے جہنم میں پھینک دے۔ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے حکم میں چون و چرا کر سکے، وہ جو دینا چاہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو روک لے کوئی وہ دے نہیں سکتا اور نہ دلوا سکتا ہے۔
مَنۡ کَانَ یَظُنُّ اَنۡ لَّنۡ یَّنۡصُرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ فَلۡیَمۡدُدۡ بِسَبَبٍ اِلَی السَّمَآءِ ثُمَّ لۡیَقۡطَعۡ فَلۡیَنۡظُرۡ ہَلۡ یُذۡہِبَنَّ کَیۡدُہٗ مَا یَغِیۡظُ ﴿۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو شخص یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ دُنیا اور آخرت میں اُس کی کوئی مدد نہ کرے گا اُسے چاہیے کہ ایک رسّی کے ذریعے آسمان تک پہنچ کر شگاف لگائے، پھر دیکھ لے کہ آیا اُس کی تدبیر کسی ایسی چیز کو رد کر سکتی ہے جو اس کو ناگوار ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مدد دونوں جہان میں نہ کرے گا وه اونچائی پر ایک رسہ باندھ کر (اپنے حلق میں پھنده ڈال کر اپنا گلا گھونٹ لے) پھر دیکھ لے کہ اس کی چاﻻکیوں سے وه بات ہٹ جاتی ہے جو اسے تڑپا رہی ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
جو یہ خیال کرتا ہو کہ اللہ اپنے نبی کی مدد نہ فرمائے گا دنیا اور آخرت میں تو اسے چاہیے کہ اوپر کو ایک رسی تانے پھر اپنے آپ کو پھانسی دے لے پھر دیکھے کہ اس کا یہ داؤں کچھ لے گیا اس بات کو جس کی اسے جلن ہے
علامہ محمد حسین نجفی
جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ خدا دنیا اور آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا تو اسے چاہیے کہ ایک رسی کے ذریعہ آسمان تک پہنچ کر شگاف لگائے۔ پھر دیکھے کہ آیا اس کی یہ تدبیر اس چیز کو دور کر سکتی ہے جو اسے غصہ میں لا رہی تھی۔
عبدالسلام بن محمد
جو شخص یہ گمان کرتا ہو کہ اللہ دنیا اور آخرت میں کبھی اس کی مدد نہیں کرے گا تو وہ ایک رسی آسمان کی طرف لٹکائے، پھر کاٹ دے، پھر دیکھے کیا واقعی اس کی تدبیر اس چیز کو دور کر دے گی جو اسے غصہ دلاتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مخالفین نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہلاک ہوں ٭٭

یعنی جو یہ جان رہا ہے کہ ’ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہ دنیا میں کرے گا نہ آخرت میں وہ یقین مانے کہ اس کا یہ خیال محض خیال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد ہو کر ہی رہے گی چاہے ایسا شخص اپنے غصے میں ہار ہی جائے بلکہ اسے چاہے کہ اپنے مکان کی چھت میں رسی باندھ کر اپنے گلے میں پھندا ڈال کر اپنے آپ کو ہلاک کر دے۔ ناممکن ہے کہ وہ چیز یعنی اللہ کی مدد اس کے نبی کے لیے نہ آئے گو یہ جل جل کر مرجائیں مگر ان کی خیال آرائیاں غلط ثابت ہو کر رہیں گی ‘۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی سمجھ کے خلاف ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ کی امداد آسمان سے نازل ہو گی۔ ہاں اگر اس کے بس میں ہو تو ایک رسی لٹکا کر آسمان پر چڑھ جائے اور اس اترتی ہوئی مدد آسمانی کو کاٹ دے۔ لیکن پہلا معنی زیادہ ظاہر ہے اور اس میں ان کی پوری بے بسی اور نامرادی کا ثبوت ہے کہ اللہ اپنے دین کو اپنی کتاب کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ترقی دے گا ہی چونکہ یہ لوگ اسے دیکھ نہیں سکتے اس لیے انہیں چاہیئے کہ یہ مرجائیں، اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:52،51] ‏‏‏‏ ’ ہم اپنے رسولوں کی اور ایماندروں کی مدد کرتے ہی ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘۔ یہاں فرمایا کہ ’ یہ پھانسی پر لٹک کر دیکھ لے کہ شان محمدی کو کس طرح کم کر سکتا ہے؟ اپنے سینے کی آگ کو کسی طرح بجھا سکتا ہے اس قرآن کو ہم نے اتارا ہے جس کی آیتیں الفاظ اور معنی کے لحاظ سے بہت ہی واضع ہیں۔ اللہ کی طرف سے اس کے بندوں پر یہ حجت ہے۔ ہدایت گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے اس کی حکمت وہی جانتا ہے کوئی اس سے بازپرس نہیں کر سکتا وہ سب کا حاکم ہے، وہ رحمتوں والا، عدل والا، غلبے والا، حکمت والا، عظمت والا، اور علم والا ہے ‘۔ «لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ» ۱؎ [21-الانبیاء:23] ‏‏‏‏ ’ کوئی اس پر مختار نہیں جو چاہے کرے سب سے حساب لینے والا وہی ہے اور وہ بھی بہت جلد ‘۔
15۔ 1 اس کے ایک معنی تو یہ کئے گئے ہیں کہ ایسا شخص، جو یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہ کرے، کیونکہ اس کے غلبہ و فتح سے اسے تکلیف ہوتی ہے، تو وہ اپنے گھر کی چھت پر رسی لٹکا کر اور اپنے گلے میں اس کا پھندا لے کر اپنا گلا گھونٹ لے، شاید یہ خود کشی اسے غیظ و غضب سے بچا لے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو دیکھ کر اپنے دل میں پاتا ہے۔ اس صورت میں سماء سے مراد گھر کی چھت ہوگی۔ دوسرے معنی ہیں کہ ایک رسہ لے کر آسمان پر چڑھ جائے اور آسمان سے جو وحی یا مدد آتی ہے، اس کا سلسلہ ختم کرا دے (اگر وہ کرسکتا ہے) اور دیکھے کہ کیا اس کے بعد اس کا کلیجہ ٹھنڈا ہوگیا ہے؟ امام ابن کثیر نے پہلے مفہوم کو اور امام شوکانی نے دوسرے مفہوم کو زیادہ پسند کیا ہے اور سیاق سے یہی دوسرا مفہوم زیادہ قریب لگتا ہے۔
(آیت 15) ➊ {مَنْ كَانَ يَظُنُّ اَنْ لَّنْ يَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا …: ” سَبَبٌ “} رسی۔ {” السَّمَآءِ”سَمَا يَسْمُوْ“} (ن) سے ہے جس کا معنی ہے بلند ہونا۔ آسمان کو اس کی بلندی کی وجہ سے ”سماء“ کہتے ہیں، اس لیے بادل کو بھی ”سماء“ کہہ لیتے ہیں اور چھت کو بھی۔ ➋ { ” مَنْ كَانَ يَظُنُّ اَنْ لَّنْ يَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ “} کی ایک تفسیر وہ ہے جو طبری نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل کی ہے کہ جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہیں کرے گا، وہ چھت سے ایک رسی باندھے، پھر اس کے ساتھ پھانسی لے کر اپنا گلا گھونٹ لے اور مر جائے اور دیکھے، کیا اس کے ایسا کرنے سے اس کے غصے اور حسد کی آگ بجھتی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت پر اس کے سینے میں بھڑک رہی ہے؟ مطلب یہ ہے کہ جو سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مدد نہیں کرے گا وہ بے شک پھانسی لے کر مر جائے، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اپنے رسول کی نصرت یقینا فرمائے گا۔ چونکہ ہر چیز کا اللہ کے ہاں ایک وقت مقرر ہے، اس لیے نصرت میں دیر کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی مدد کبھی کرے گا ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ تو یقینا اپنے تمام رسولوں اور اہل ایمان کی دنیا اور آخرت میں مدد فرماتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ }» [ المؤمن: ۵۱ ] ”بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔“ اس تفسیر پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت سے پہلے یا بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں آیا تو ”اس کی مدد نہیں کرے گا“ میں ”اس“ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے مراد ہو سکتے ہیں؟ جواب اس کا یہ دیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضمیر لوٹانے کے لیے پہلے آپ کا ذکر ہونا ضروری نہیں، کیونکہ آپ کا ذکر ہر مومن کے ذہن میں موجود ہے۔ اس لیے الفاظ میں پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہ بھی ہو تو حرج نہیں۔ دوسری تفسیر وہ ہے جو طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد سے نقل کی ہے کہ جو شخص (اپنے متعلق) یہ گمان کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں (اس کی کبھی مدد نہیں کرے گا) اسے کبھی رزق نہیں دے گا، وہ اوپر کی طرف رسی لٹکا کر اپنا گلا گھونٹ لے، پھر دیکھے…۔ یعنی جو شخص اللہ کی نصرت پر یقین کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ایسے ناامید شخص کو چاہیے کہ وہ پھانسی لے کر مر جائے، پھر دیکھے کہ کیا اس سے اس کی امید برآتی ہے؟ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کو کہا جائے کہ اگر تم فلاں بات پر یقین نہیں کرتے تو جاؤ دیوار سے ٹکر ما رکر مر جاؤ۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے اس آیت کی ایک بہت عمدہ تفسیر فرمائی ہے، وہ لکھتے ہیں: ”دنیا کی تکلیف میں جو اللہ تعالیٰ سے ناامید ہو کر اس کی بندگی چھوڑ دے اور جھوٹی چیزوں کی پوجا کرے، جن کے ہاتھ نہ برا ہے نہ بھلا، وہ اپنے دل کو سمجھانے اور تسلی دینے کے لیے یہ صورت قیاس کرلے کہ جیسے ایک شخص اونچی لٹکتی رسی سے لٹک رہا ہے، اگر چڑھ نہیں سکتا تو توقع تو ہے کہ رسی اوپر کھینچے تو چڑھ جاوے۔ جب رسی توڑ دی پھر کیا توقع؟ رسی کہا اللہ کی امید کو اور اس رسی کو آسمان کی طرف تانے یعنی اونچان کی طرف۔“ (موضح) اس تفسیر اور اس سے پہلی تفسیر دونوں میں اس آیت کا تعلق گزشتہ آیت: «{ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ }» سے بھی واضح ہو رہا ہے۔
وَ کَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنٰہُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یُّرِیۡدُ ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ایسی ہی کھُلی کھُلی باتوں کے ساتھ ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے، اور ہدایت اللہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے اسی طرح اس قرآن کو واضح آیتوں میں اتارا ہے جسے اللہ چاہے ہدایت نصیب فرماتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بات یہی ہے کہ ہم نے یہ قرآن اتارا روشن آیتیں اور یہ کہ اللہ راہ دیتا ہے جسے چاہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اسی طرح ہم نے اس (قرآن) کو نازل کیا ہے روشن دلیلوں کی صورت میں اور بےشک اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی طرح ہم نے اسے روشن آیات کی صورت میں نازل کیا ہے اور یہ کہ اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مخالفین نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہلاک ہوں ٭٭

یعنی جو یہ جان رہا ہے کہ ’ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہ دنیا میں کرے گا نہ آخرت میں وہ یقین مانے کہ اس کا یہ خیال محض خیال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد ہو کر ہی رہے گی چاہے ایسا شخص اپنے غصے میں ہار ہی جائے بلکہ اسے چاہے کہ اپنے مکان کی چھت میں رسی باندھ کر اپنے گلے میں پھندا ڈال کر اپنے آپ کو ہلاک کر دے۔ ناممکن ہے کہ وہ چیز یعنی اللہ کی مدد اس کے نبی کے لیے نہ آئے گو یہ جل جل کر مرجائیں مگر ان کی خیال آرائیاں غلط ثابت ہو کر رہیں گی ‘۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی سمجھ کے خلاف ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ کی امداد آسمان سے نازل ہو گی۔ ہاں اگر اس کے بس میں ہو تو ایک رسی لٹکا کر آسمان پر چڑھ جائے اور اس اترتی ہوئی مدد آسمانی کو کاٹ دے۔ لیکن پہلا معنی زیادہ ظاہر ہے اور اس میں ان کی پوری بے بسی اور نامرادی کا ثبوت ہے کہ اللہ اپنے دین کو اپنی کتاب کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ترقی دے گا ہی چونکہ یہ لوگ اسے دیکھ نہیں سکتے اس لیے انہیں چاہیئے کہ یہ مرجائیں، اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:52،51] ‏‏‏‏ ’ ہم اپنے رسولوں کی اور ایماندروں کی مدد کرتے ہی ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘۔ یہاں فرمایا کہ ’ یہ پھانسی پر لٹک کر دیکھ لے کہ شان محمدی کو کس طرح کم کر سکتا ہے؟ اپنے سینے کی آگ کو کسی طرح بجھا سکتا ہے اس قرآن کو ہم نے اتارا ہے جس کی آیتیں الفاظ اور معنی کے لحاظ سے بہت ہی واضع ہیں۔ اللہ کی طرف سے اس کے بندوں پر یہ حجت ہے۔ ہدایت گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے اس کی حکمت وہی جانتا ہے کوئی اس سے بازپرس نہیں کر سکتا وہ سب کا حاکم ہے، وہ رحمتوں والا، عدل والا، غلبے والا، حکمت والا، عظمت والا، اور علم والا ہے ‘۔ «لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ» ۱؎ [21-الانبیاء:23] ‏‏‏‏ ’ کوئی اس پر مختار نہیں جو چاہے کرے سب سے حساب لینے والا وہی ہے اور وہ بھی بہت جلد ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 16) ➊ {وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ:} طبري نے فرمايا: ”اور جس طرح ہم نے مختلف دلائل کے ساتھ ان لوگوں کے لیے اپنی حجت واضح کی ہے جو لوگوں کے مرنے کے بعد انھیں زندہ کرنے پر ہمیں قادر نہیں مانتے اور ہم پر ایمان نہیں لاتے، اسی طرح ہم نے یہ پورا قرآن ہی نہایت روشن آیات کی صورت میں اتارا ہے۔“ ➋ {وَ اَنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يُّرِيْدُ:} اس جملے کا پچھلے جملے سے کیا تعلق ہے اور درمیان میں واؤ لانے کی کیا حکمت ہے؟ اس سوال کے حل کے لیے اہلِ علم نے آیت کی کئی نحوی ترکیبیں کی ہیں، مگر مجھے سب سے قریب بقاعی کی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ {” وَ اَنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يُّرِيْدُ “} میں ”واؤ“ سے معلوم ہو رہا ہے کہ اس کا کسی محذوف پر عطف ہے جو {” وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ “} سے تعلق رکھتا ہے، چنانچہ پوری عبارت یوں ہو گی: {” وَكَذٰلِكَ أَنْزَلْنَاهُ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لِيُعْلَمَ أَنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنْ يَّشَاءُ وَ أَنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يُّرِيْدُ “} ”اور اسی طرح ہم نے اسے روشن آیات کی صورت میں نازل کیا ہے، تاکہ سب کو معلوم ہو جائے کہ اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور یہ معلوم ہو جائے کہ بے شک اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔“ یعنی گو قرآن میں ایمان و توحید کی روشن دلیلیں موجود ہیں مگر سب لوگوں کے اس سے ہدایت نہ پانے کی وجہ یہ ہے کہ سب کو معلوم ہو جائے کہ گمراہی اور ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ کوئی شخص اپنے بل بوتے پر یہ نعمت حاصل نہیں کر سکتا، اس لیے کہ یہ علم و عقل اور تجربہ تو حقیقت تک پہنچنے کا ایک امکانی ذریعہ ہے، لیکن اس تک رسائی صرف اللہ کی توفیق پر موقوف ہے۔ بعض اہلِ علم نے اس کی یہ ترکیب کی ہے: {”وَالْأَمْرُ أَنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يُّرِيْدُ “} ”اور اصل معاملہ یہ ہے کہ بے شک اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔“ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ الصّٰبِئِیۡنَ وَ النَّصٰرٰی وَ الۡمَجُوۡسَ وَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا ٭ۖ اِنَّ اللّٰہَ یَفۡصِلُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو لوگ ایمان لائے، اور جو یہودی ہوئے، اور صابئی، اور نصاریٰ، اور مجوس، اور جن لوگوں نے شرک کیا، ان سب کے درمیان اللہ قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا، ہر چیز اللہ کی نظر میں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک اہل ایمان اور یہودی اور صابی اور نصرانی اور مجوسی اور مشرکین ان سب کے درمیان قیامت کے دن خود اللہ تعالیٰ فیصلے کر دے گا، اللہ تعالیٰ ہر ہر چیز پر گواه ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک مسلمان اور یہودی اور ستارہ پرست اور نصرانی اور آتش پرست اور مشرک، بیشک اللہ ان سب میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک جو اہلِ ایمان ہیں، جو یہودی ہیں، جو صابی ہیں، جو عیسائی ہیں، جو مجوسی ہیں اور جو مشرک ہیں یقیناً قیامت کے دن اللہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جو یہودی بنے اور صابی اور نصاریٰ اور مجوس اور وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا یقینا اللہ ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا۔ بے شک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مختلف مذہبوں کا فیصلہ روز قیامت ہو گا ٭٭

«صَّابِئِينَ» کا بیان مع اختلاف سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے یہاں فرماتا ہے کہ ’ ان مختلف مذہب والوں کا فیصلہ قیامت کے دن صاف ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو جنت دے گا اور کفار کو جہنم واصل کرے گا۔ سب کے اقوال وافعال ظاہر وباطن اللہ پر عیاں ہیں ‘۔
17۔ 1 مجوسی سے مراد ایران کے آتش پرست ہیں جو دو خداؤں کے قائل ہیں، ایک ظلمت کا خالق ہے، دوسرا نور کا، جسے وہ اہرمن اور یزداں کہتے ہیں۔ 17۔ 2 ان میں مذکورہ گمراہ فرقوں کے علاوہ جتنے بھی اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرنے والے ہیں، سب آگئے۔ 17۔ 3 ان میں سے حق پر کون ہے، باطل پر کون، یہ تو ان دلائل سے واضح ہوجاتا ہے جو اللہ اپنے قرآن میں نازل فرماتے ہیں اور اپنے آخری پیغمبر کو بھی اسی مقصد کے لئے بھیجا تھا، یہاں فیصلے سے مراد وہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ باطل پرستوں کو قیامت والے دن دے گا، اس سزا سے بھی واضح ہوجائے گا کہ دنیا میں حق پر کون تھا اور باطل پر کون کون۔ 17۔ 4 یہ فیصلہ محض حاکمانہ اختیارات کے زور پر نہیں ہوگا، بلکہ عدل و انصاف کے مطابق ہوگا، کیونکہ وہ باخبر ہستی ہے، اسے ہر چیز کا علم ہے۔
(آیت 17) ➊ { اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِيْنَ هَادُوْا …:} گزشتہ آیات میں ایمان والوں کے علاوہ مختلف لوگوں کا ذکر ہوا، کچھ قیامت کے منکر، کچھ کنارے پر رہ کر عبادت کرنے والے، کچھ اللہ کے ساتھ شریک بنانے والے وغیرہ۔ اس پر سوال پیدا ہوا کہ اتنے مختلف عقائد کے لوگ جو اپنی اپنی بات پر اس قدر پختہ ہیں کہ واضح دلائل کے باوجود اپنی بات نہیں چھوڑتے، آخر کبھی ان کے جھگڑے کا فیصلہ بھی ہو گا؟ فرمایا، ان کے جھگڑے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے دن فرمائے گا، جب مومن جنت اور کافر جہنم میں جائیں گے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا میں ان کے حق یا باطل پر ہونے کا فیصلہ نہیں ہوا۔ یقینا ہوا ہے اور قرآن مجید کا نام فرقان اسی لیے ہے۔ یہ کلام ایسے ہی ہے جیسے بحث ختم کرنے کے لیے بات اللہ کے سپر دکر دی جاتی ہے، حالانکہ بات کرنے والے کو اپنے سچا ہونے کا اور فریق مخالف کے خطا پر ہونے کا یقین ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ اَللّٰهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا وَ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ }» [ الشورٰی: ۱۵ ] ”ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔ ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں، اللہ ہمیں آپس میں جمع کرے گا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“ ➋ مومنین، یہود، نصاریٰ اور صابئین کا بیان سورۂ بقرہ (۶۲) میں گزر چکا ہے، وہاں ملاحظہ فرمائیں، یہاں مجوس اور مشرکین کا مزید ذکر ہے۔ مجوس سے مراد آتش پرست ہیں جو دو خالق مانتے ہیں، ایک خالق خیر (یزدان) اور ایک خالق شر (اہرمن) یہ لوگ اپنے آپ کو زرتشت کا پیرو کہتے ہیں اور کسی نبی کا نام بھی لیتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ لوگ بعد میں گمراہ ہوئے یا شروع ہی سے غلط تھے۔ مزدک نے ان کے مذہب اور اخلاق کو بری طرح مسخ کرکے رکھ دیا، حتیٰ کہ حقیقی بہن سے نکاح بھی ان کے ہاں جائز قرار دیا گیا۔ {” وَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْۤا “} (وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا) سے مراد عرب اور دوسرے ملکوں کے وہ مشرک ہیں جنھوں نے مندرجہ بالا گروہوں میں سے کسی کا نام اختیار نہیں کیا تھا، مثلاً گائے اور بتوں کے پجاری ہندو۔ قرآن مجید انھیں مشرکین اور {” وَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْۤا “} کے نام سے ذکر کرتا ہے، اگرچہ موحد مسلمانوں کے سوا مندرجہ بالا سب مذاہب میں شرک کی کوئی نہ کوئی قسم ضرور پائی جاتی ہے۔ ➌ { اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ:} یعنی ان تمام گروہوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کا فیصلہ حاکمانہ اختیار کی وجہ سے اندھا فیصلہ نہیں ہو گا، بلکہ عین عدل و انصاف ہو گا، کیونکہ ہر چیز اس کے سامنے ہے، وہ ہر چیز پر گواہ ہے اور ہر ایک کو اس کے عمل کے عین مطابق جزا یا سزا دے گا۔
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَسۡجُدُ لَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ الشَّمۡسُ وَ الۡقَمَرُ وَ النُّجُوۡمُ وَ الۡجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ کَثِیۡرٌ مِّنَ النَّاسِ ؕ وَ کَثِیۡرٌ حَقَّ عَلَیۡہِ الۡعَذَابُ ؕ وَ مَنۡ یُّہِنِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ مُّکۡرِمٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَفۡعَلُ مَا یَشَآءُ ﴿ؕٛ۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سربسجود ہیں وہ سب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان اور بہت سے وہ لوگ بھی جو عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں؟ اور جسے اللہ ذلیل و خوار کر دے اُسے پھر کوئی عزّت دینے والا نہیں ہے، اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہیں وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت آدمی اور بہت وہ ہیں جن پر عذاب مقرر ہوچکا اور جسے اللہ ذلیل کرے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں، بیشک اللہ جو چاہے کرے، (السجدة) ۶
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہر چیز اللہ کو سجدہ کر رہی ہے خواہ وہ آسمانوں میں ہے یا زمین میں۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور بہت سارے انسان بھی اور بہت سے انسان وہ ہیں جن پر عذاب مقرر ہو چکا ہے اور جس کو اللہ ذلیل کر دے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں ہے بیشک اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ، اسی کے لیے سجدہ کرتے ہیں جو کوئی آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے لوگ۔ اور بہت سے وہ ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا اور جسے اللہ ذلیل کر دے پھر اسے کوئی عزت دینے والا نہیں۔ بے شک اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
چاند سورج ستارے سب سجدہ ریز ٭٭

مستحق عبادت صرف وحدہ لاشریک اللہ ہے اس کی عظمت کے سامنے ہر چیز سر جھکائے ہوئے ہے خواہ بخوشی خواہ بے خوشی۔ ہر چیز کا سجدہ اپنی وضع ہر چیز کا سجدہ اپنی وضع میں ہے۔ چنانچہ قرآن نے سائے کا دائیں بائیں اللہ کے سامنے سر بہ سجود ہونا بھی آیت «اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:48] ‏‏‏‏ میں بیان فرمایا ہے۔ آسمانوں کے فرشتے، زمین کے حیوان، انسان، جنات، پرند، چرند، سب اس کے سامنے سربہ سجود ہیں اور اس کی تسبیح اور حمد کر رہے۔ سورج چاند ستارے بھی اس کے سامنے سجدے میں گرے ہوئے ہیں۔ ان تینوں چیزوں کو الگ اس لیے بیان کیا گیا کہ بعض لوگ ان کی پرستش کرتے ہیں حالانکہ وہ خود اللہ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں اسی لیے فرمایا ’ سورج چاند کو سجدے نہ کرو اسے سجدے کرو جو ان کا خالق ہے ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے { رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا { جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ } آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”اللہ کو علم ہے اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ عرش تلے جا کر اللہ کو سجدہ کرتا ہے پھر اس سے اجازت طلب کرتا ہے وقت آ رہا ہے کہ اس سے ایک دن کہہ دیا جائے گا کہ جہاں سے آیا ہے وہیں واپس چلا جا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3199] ‏‏‏‏ سنن ابی داؤد، نسائی، ابن ماجہ، اور مسند احمد میں گرہن کی حدیث میں ہے کہ { سورج چاند اللہ کی مخلوق ہے وہ کسی کی موت پیدائش سے گرہن میں نہیں آتے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی میں سے جس کس پر تجلی ڈالتا ہے تو وہ اس کے سامنے جھک جاتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1193،قال الشيخ الألباني:منکر] ‏‏‏‏

ابو العالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں سورج چاند اور کل ستارے غروب ہو کر سجدے میں جاتے ہیں اور اللہ سے اجازت مانگ کر داہنی طرف سے لوٹ کر پھر اپنے مطلع میں پہنچتے ہیں۔ پہاڑوں اور درختوں کا سجدے میں ان کے سائے کا دائیں بائیں پڑنا ہے۔ { ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا خواب بیان کیا کہ میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں۔ میں جب سجدے میں گیا تو وہ درخت بھی سجدے میں گیا اور میں نے سنا کہ وہ اپنے سجدے میں یہ پڑھ رہا تھا۔ دعا «اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا وَتَقَبَّلْهَا منی منّي كَمَا تَقَبّلْتَها مِنْ عَبْدِكَ دَاوُودَ» ۔ یعنی ”اے اللہ اس سجدے کی وجہ سے میرے لیے اپنے پاس اجر و ثواب لکھ اور میرے گناہ معاف فرما اور میرے لیے اسے ذخیرہ آخرت کر اور اسے قبول فرما جسے کہ تو نے اپنے بندے داؤد علیہ السلام کا سجدہ قبول فرمایا تھا۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ پھر میں نے دیکھا کہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کی آیت پڑھی۔ سجدہ کیا اور یہی دعا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس سجدے میں پڑھی جسے میں سن رہا تھا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:579،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ تمام حیوانات بھی اسے سجدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اپنے جانور کی پیٹھ کو اپنا منبر نہ بنا لیا کرو بہت سی سواریاں اپنے سوار سے زیادہ اچھی ہوتی ہیں اور زیادہ ذکر اللہ کرنے والی ہوتی ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:440/3:حسن ضعیف] ‏‏‏‏ اکثر انسان بھی اپنی خوشی سے عبادت الٰہی بجا لاتے ہیں اور سجدے کرتے ہیں ہاں وہ بھی ہیں جو اس سے محروم ہیں تکبر کرتے ہیں۔ سرکشی کرتے ہیں اللہ جسے ذلیل کرے اسے عزیز کون کر سکتا ہے؟ رب فاعل خودمختار ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا یہاں ایک شخص ہے جو اللہ کے ارادوں اور اس کی مشیت کو نہیں مانتا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا ”اے شخض بتا تیری پیدائش اللہ تعالیٰ نے تیری چاہت کے مطابق کی یا اپنی؟“ اس نے کہا اپنی چاہت کے مطابق۔ فرمایا ”یہ بھی بتا کہ جب تو چاہتا ہے مریض ہو جاتا ہے یا جب اللہ چاہتا ہے؟“ اس نے کہا جب وہ چاہتا ہے۔ پوچھا ”پھر تجھے شفاء تیری چاہت سے ہوتی ہے یا اللہ کے ارادے سے؟“ جواب دیا اللہ کے ارادے سے۔ فرمایا ”اچھا یہ بھی بتاکہ اب وہ جہاں چاہے گا تجھے لے جائے گا یا جہاں تو چاہے گا؟“ کہا جہاں وہ چاہے۔ فرمایا ”پھر کیا بات باقی رہ گئی؟ سن اگر تو اس کے خلاف جواب دیتا تو واللہ میں تیرا سراڑا دیتا۔‏‏‏‏“

مسلم شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب انسان سجدے کی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان الگ ہٹ کر رونے لگتا ہے کہ افسوس ابن آدم کو سجدے کا حکم ملا اس نے سجدہ کر لیا جنتی ہو گیا میں نے انکار کر دیا جہنمی بن گیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:81] ‏‏‏‏ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ { یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الحج کو اور تمام سورتوں پر یہ فضیلت ملی کہ اس میں دو آیتیں سجدے کی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں اور جو ان دونوں پر سجدہ نہ کرے اسے چاہے کہ اسے پڑھے ہی نہیں } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1402،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”یہ حدیث قوی نہیں“، لیکن امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا یہ قول قابل غور ہے کیونکہ اس کے راوی ابن لہیہ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی سماعت کی اس میں تصریح کر دی ہے اور ان پر بڑی جرح وتدلیس کی ہے جو اس سے اٹھ جاتی ہے۔ ابوداؤد میں فرمان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { سورۃ الحج کو قرآن کی اور سورتوں پر یہ فضیلت دی گئی ہے اس میں دو سجدے ہیں }۔ ۱؎ [المراسیل لا بی داؤد:78/13:ضعیف] ‏‏‏‏ امام ابوداؤد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سند سے تو یہ حدیث مستند نہیں لیکن اور سند سے یہ مسند بھی بیان کی گئی ہے مگر صحیح نہیں۔ مروی ہے کہ { سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حدیبہ میں اس سورت کی تلاوت کی اور دوبار سجدہ کیا اور فرمایا اسے ان سجدوں سے فضیلت دی گئی }۔ [ابوبکر بن عدی] ‏‏‏‏ { سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے قرآن میں پندرہ سجدے پڑھائے، تین مفصل میں دو سورۃ الحج میں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1057،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ سب روایتیں اس بات کو پوری طرح مضبوط کر دیتی ہیں۔
18۔ 1 بعض مفسرین نے اس سجدے سے ان تمام چیزوں کا احکام الٰہی کے تابع ہونا مراد لیا ہے، کسی میں مجال نہیں کہ وہ حکم الٰہی سے سرتابی کرسکے۔ ان کے نزدیک وہ سجدہ اطاعت و عبادت مراد نہیں۔ جب کہ بعض مفسرین نے اسے مجاز کے بجائے حقیقت پر مبنی کیا ہے کہ ہر مخلوق اپنے اپنے انداز سے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہے مثلا (من فی السموات) سے مراد فرشتے ہیں ومن فی الارض سے ہر قسم کے حیوانات، انسان، جنات، چوپائے اور پرندے اور دیگر اشیاء ہیں یہ سب اپنے اپنے انداز سے سجدہ اور تسبیح کرتی ہیں (وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ) 17۔ الاسراء:44) سورة بنی اسرائیل۔ سورج چاند اور ستاروں کا بطور خاص اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ مشرکین ان کی عبادت کرتے رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تم ان کو سجدہ کرتے ہو یہ تو اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے والے ہیں اور اس کے ماتحت ہیں اس لیے تم انھیں سجدہ مت کرو اس ذات کو سجدہ کرو جو ان کا خالق ہے (حم سجدہ 37) صحیح حدیث میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا جانتے ہو سورج کہاں جاتا ہے میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا سورج جاتا ہے اور عرش کے نیچے جاکر سجدہ ریز ہوجاتا ہے پھر اسے (طلوع ہونے کا) حکم دیا جاتا ہے ایک وقت آئے گا کہ اسے کہا جائے گا واپس لوٹ جا یعنی جہاں سے آیا ہے وہیں چلا جا۔ (صحیح بخاری) اسی طرح صحابی کا واقعہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے خواب میں اپنے ساتھ درخت کو سجدہ کرتے دیکھا (ترمذی) اور پہاڑوں اور درختوں کے سجدے میں ان سایوں کا دائیں بائیں پھرنا یا جھکنا بھی شامل ہے جس طرف اشارہ سورة الرعد اور النحل 47، 48 میں بھی کیا گیا ہے۔ 18۔ 2 یہ سجدہ اطاعت و عبادت ہی ہے جس کو انسانوں کی ایک بڑی تعداد کرتی ہے اور اللہ کی رضا کی مستحق قرار پاتی ہے۔ 18۔ 3 یہ وہ ہیں جو سجدہ اطاعت سے انکار کرکے کفر اختیار کرتے ہیں، ورنہ تکوینی احکام یعنی سجدہ انقیاد میں تو انھیں بھی مجال انکار نہیں۔ 18۔ 4 کفر اختیار کرنے کا نتیجہ ذلت و رسوائی اور آخرت کا دائمی عذاب ہے، جس سے بچا کر کافروں کو عزت دینے والا کوئی نہیں ہوگا۔
(آیت 18) ➊ { اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَهٗ …:} پچھلی آیت میں جن گروہوں کا ذکر ہوا اہل ایمان کے علاوہ سب نے اللہ کے ساتھ شریک بنا رکھے ہیں۔ یہود نے عزیر علیہ السلام کو اور نصاریٰ نے مسیح علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے۔ صابی ستارہ پرست، مجوس آتش پرست اور مشرکین بت پرست ہیں۔ اس آیت میں فرمایا کہ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کی عبادت اور اسے سجدہ کرنے پر متفق ہے؟ انسان جسے اللہ تعالیٰ نے عقل جیسی نعمت عطا فرمائی، اس کا حق تو یہ تھا کہ اس کے سارے افراد اوروں سے زیادہ اس کی عبادت اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہونے پر متفق ہوتے، مگر اس کے بہت سے افراد غیر اللہ کی عبادت کی وجہ سے عذاب الٰہی کے حق دار ٹھہرے ہیں۔ ➋ {” اَلَمْ تَرَ “} سے مراد {”أَلَمْ تَعْلَمْ“} ہے، یعنی کیا تجھے معلوم نہیں؟ کیونکہ آسمانوں اور زمین میں بسنے والے تمام افراد کو اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا۔ مزید دیکھیے سورۂ فیل کی آیت (۱): «{ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ }» کی تفسیر۔ {” اَلَمْ تَرَ “} کے اولین مخاطب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کے بعد آپ کی امت کا ہر فرد۔ ➌ بعض مفسرین نے یہاں سجدے سے مراد انقیاد لیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے ساری مخلوق عاجز اور بے بس ہے۔ چاہے یا نہ چاہے، اسے اس کے سامنے گردن جھکانا اور اس کے {”كُنْ فَيَكُوْنُ“} والے حکم کو ماننا پڑتا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ وہ {”كُنْ“} کہے اور کوئی اس سے منہ پھیر سکے۔ مگر یہاں سجدے کا صرف یہ معنی مراد لینا درست نہیں، کیونکہ یہ سجدہ تو ساری مخلوق کے ساتھ ساتھ ہر انسان اور جن بھی کرتا ہے، بلکہ یہاں مراد وہ سجدہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق بہت سے لوگ کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں پر عذاب واجب ہو چکا ہے، یعنی وہ سجدہ نہیں کرتے۔ اگر تکوینی سجدہ مراد ہو تو مومن و کافر کسی کی مجال نہیں کہ اس کے حکم سے سرتابی کرے۔ آدمی ایک ٹانگ اٹھا سکتا ہے، ذرا دونوں اٹھا کر تو دکھائے؟ اپنی بھوک یا پیاس کو روک لے۔ پیشاب پاخانہ کی حاجت سے بے نیاز ہو کر دکھائے۔ دل کی دھڑکن، خون کی گردش، بچپن، جوانی، بڑھاپا، بیماری، ضعف، انحطاط، موت، غرض اللہ کے کسی تکوینی حکم کے مقابلے میں سجدے سے سر اٹھا کر دکھائے؟ معلوم ہوا اس سجدے سے وہ سجدہ مراد ہے جو انسان اپنی خوشی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق وہ تمام چیزیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے اپنی خوشی سے اللہ کے لیے سجدہ کرتی ہیں، جب کہ لوگوں میں سے بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کی بندگی کے لیے یہ سجدہ خوشی سے کرتے ہیں اور بہت سے نہیں کرتے۔ جن و انس کے علاوہ باقی ساری مخلوق دونوں طرح سے اللہ کے لیے سجدہ ریز ہے، تکوینی طور پر بھی اور اطاعت و عبادت کے لیے بھی، جبکہ انسان تکوینی طور پر اللہ کے حکم کے سامنے سجدہ ریز ہے، اطاعت و عبادت کے طور پر بہت سے انسان سجدہ کرتے ہیں، بہت سے نہیں کرتے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز کا تکوینی حکم کے تابع ہونا تو سمجھ میں آتا ہے، مگر عبادت کے لیے باقاعدہ سجدہ کرنا سمجھ میں نہیں آتا، کیونکہ پہاڑ، درخت، سورج، چاند اور ستارے تو بے جان چیزیں ہیں، وہ سجدہ کیا کریں گی؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں میں احساس اور شعور رکھا ہے اور اس نے ہر چیز کو اپنے سامنے رکوع و سجود اور قیام و تسبیح کا طریقہ بھی سکھا رکھا ہے، حتیٰ کہ جب اس نے زمین و آسمان کو حکم دیا کہ خوشی یا ناخوشی سے حاضر ہو جاؤ تو دونوں نے کہا، ہم خوشی سے حاضر ہیں۔ دیکھیے سورۂ حم السجدہ (۱۱) اور فرمایا: «{ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّيْرُ صٰٓفّٰتٍ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِيْحَهٗ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ }» [ النور: ۴۱ ] ”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ، اس کی تسبیح کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے پر پھیلائے ہوئے، ہر ایک نے یقینا اپنی نماز (جس میں قیام اور رکوع و سجود سب کچھ ہوتا ہے) اور اپنی تسبیح جان لی ہے اور اللہ اسے خوب جاننے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔“ اور دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۴۴)، احزاب (۷۲)، حشر (۲۱)، نحل (۴۸)، حم السجدہ (۲۱) اور سورۂ بقرہ (۷۴) خلاصہ یہ ہے کہ یہاں {” النَّاسِ “} کے سجدے سے مراد عبادت کا سجدہ ہے، جو کچھ لوگ کرتے ہیں اور کچھ لوگ نہیں کرتے اور {” النَّاسِ “} کے علاوہ باقی تمام چیزوں کے سجدے سے دونوں سجدے مراد ہیں، تکوینی بھی اور عبادت کا سجدہ بھی۔ ➍ اللہ تعالیٰ نے اپنی بے شمار مخلوق میں سے چند کا خاص طور پر نام لے کر ذکر فرمایا کہ وہ اللہ کے لیے سجدہ کرتی ہیں۔ اس میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان تمام اشیاء میں سے ہر ایک کو کسی نہ کسی مشرک نے اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش صابئین کرتے ہیں۔ عرب کے مشرکین شعریٰ اور دوسرے ستاروں کی پوجا کرتے تھے۔ ابراہیم علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو ان کی عبادت سے منع فرمایا تھا۔ پہاڑوں کے پتھروں کی پوجا بت پرست کرتے ہیں، اسی طرح کئی درختوں کی بھی عبادت ہوتی ہے، جیسے کئی قبر پرست اور بت پرست اپنے اپنے دربار کے درختوں کو بھی کرنی والا سمجھتے ہیں اور ان کے پتے یا ٹہنی توڑنے کو بہت بڑا گناہ سمجھتے ہیں۔ کئی جانوروں کو بھی معبود بنایا گیا ہے، جیسے ہندو گائے، سانپ، بندر اور کئی جانوروں کی پوجا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سب تو اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتے اور اسے اپنا رب مانتے ہیں، پھر عقل سے کس قدر عاری ہیں وہ لوگ جو اللہ کو سجدہ کرنے کے بجائے ان کو سجدہ کرتے ہیں جو خود اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر انسان کی اور ذلت کیا ہو گی؟ ➎ { وَ مَنْ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ:يُهِنِ “} پر {” مَنْ “} آنے کی وجہ سے نون پر جزم آ گئی، دو ساکنوں کی وجہ سے ”یاء“ گر گئی تو {”يُهِنْ“} ہو گیا، پھر آگے ملانے کے لیے نون کو کسرہ دے دیا۔ یعنی جسے اللہ تعالیٰ اس کے شرک و کفر کی شامت کے نتیجے میں انسانی عز و شرف سے محروم کر کے جانوروں سے بھی بدتر بنا دے (اعراف: ۱۷۹) اور جہنم کے دائمی عذاب میں مبتلا کرکے ہمیشہ کے لیے ذلیل و رسوا کر دے تو اسے اس ذلت سے نکال کر کوئی عزت عطا کرنے والا نہیں، فرمایا: «{ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ }» [ آل عمران: ۲۶ ] ”اور تو جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے۔“ ➏ { اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ:اِنَّ “} (ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ) اپنے سے پہلے جملے کی علت بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو عزت اور کسی کو ذلت کیوں دیتا ہے؟ فرمایا، وہ اپنی مرضی کا مالک ہے، جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انبیاء کی آیت (۲۳) کی تفسیر۔ ➐ اس آیت پر سجدہ ہے اور سورۂ حج کے اس سجدہ پر سب کا اتفاق ہے۔
ہٰذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِیۡ رَبِّہِمۡ ۫ فَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا قُطِّعَتۡ لَہُمۡ ثِیَابٌ مِّنۡ نَّارٍ ؕ یُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُءُوۡسِہِمُ الۡحَمِیۡمُ ﴿ۚ۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ دو فریق ہیں جن کے درمیان اپنے رب کے معاملے کا جھگڑا ہے اِن میں سے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے اُن کے لیے آگ کے لباس کاٹے جا چکے ہیں، اُن کے سروں پر کھَولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ دونوں اپنے رب کے بارے میں اختلاف کرنے والے ہیں، پس کافروں کے لئے تو آگ کے کپڑے بیونت کر کاٹے جائیں گے، اور ان کے سروں کے اوپر سے سخت کھولتا ہوا پانی بہایا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
یہ دو فریق ہیں کہ اپنے رب میں جھگڑے تو جو کافر ہوئے ان کے لیے آگ کے کپڑے بیونتے (کاٹے) گئے ہیں اور ان کے سروں پر کھولتا پانی ڈالا جائے گا
علامہ محمد حسین نجفی
یہ دو فریق ہیں جو اپنے پروردگار کے بارے میں باہم جھگڑ رہے ہیں تو ان میں سے جو لوگ کافر ہیں ان کیلئے آگ کے کپڑے کاٹے جا چکے ہیں ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
یہ دو جھگڑنے والے ہیں، جنھوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا، تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان کے لیے آگ کے کپڑے کاٹے جاچکے ، ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن و کافر کی مثال ٭٭

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ قسم کھا کر فرماتے تھے کہ { یہ آیت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور ان کے مقابلے میں بدر کے دن جو دو کافر آئے تھے اور عتبہ اور اس کے دو ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3966] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں ہے { سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن میں سب سے پہلے اللہ کے سامنے اپنی حجت ثابت کرنے کے لیے گھٹنوں کے بل گرجاؤں گا۔‏‏‏‏“ قیس فرماتے ہیں انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے بدر کے دن یہ لوگ ایک دوسرے کے سامنے آئے تھے علی اور حمزہ رضی اللہ عنہم اور عبیدہ اور شیبہ اور عتبہ اور ولید }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4744] ‏‏‏‏ اور قول ہے کہ مراد مسلمان اور اہل کتاب ہیں۔ اہل کتاب کہتے تھے ہمارا نبی تمہارے نبی سے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے اس لیے ہم اللہ سے بہ نسبت تمہارے زیادہ قریب ہیں۔ مسلمان کہتے تھے کہ ہماری کتاب تمہاری کتاب کا فیصلہ کرتی ہے اور ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں اس لیے تم سے ہم اولیٰ ہیں پس اللہ نے اسلام کو غالب کیا اور یہ آیت اتری۔

قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد اس سے سچا ماننے والے اور جھٹلانے والے ہیں۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس آیت میں مومن و کافر کی مثال ہے جو قیامت میں مختلف تھے۔ عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد جنت دوزخ کا قول ہے دوزخ کی مانگ تھی کہ مجھے سزا کی چیز بنا، اور جنت کی آرزو تھی کہ مجھے رحمت بنا۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ان تمام اقوال میں شامل ہے اور بدر کا واقعہ بھی اس کے ضمن میں آسکتا ہے مومن اللہ کے دین کا غلبہ چاہتے تھے اور کفار نور ایمان کے بجھانے حق کو پست کرنے اور باطل کے ابھارنے کی فکر میں تھے۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بھی اس کو مختار بتلاتے ہیں اور یہ ہے بھی بہت اچھا چنانچہ اس کے بعد ہی ہے کہ کفار کے لیے آگ کے ٹکڑے الگ الگ مقرر کر دئے جائیں گے۔ یہ تانبے کی صورت ہوں گے جو بہت ہی حرارت پہنچاتا ہے پھر اوپر سے گرم ابلتے ہوئے پانی کا تریڑا ڈالا جائے گا۔ جس سے ان کے آنتیں اور چربی گھل جائے گی اور کھال بھی جھلس کر جھڑجائے گی۔ ترمذی میں ہے کہ { اس گرم آگ جیسے پانی سے ان کی آنتیں وغیرہ پیٹ سے نکل کر پیروں پر گر پڑیں گی۔ پھر جیسے تھے ویسے ہو جائیں گے پھر یہی ہو گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2582،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ عبداللہ بن سری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں فرشتہ اس ڈولچے کو اس کے کڑوں سے تھام کر لائے گا اس کے منہ میں ڈالنا چاہے گا یہ گھبرا کر منہ پھیر لے گا۔ تو فرشتہ اس کے ماتھے پر لوہے کا ہتھوڑا مارے گا جس سے اس کا سر پھٹ جائے گا وہیں سے اس گرم آگ پانی کو ڈالے گا جو سیدھا پیٹ میں پہنچے گا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان ہتھوڑوں میں جن سے دوزخیوں کی ٹھکائی ہو گی اگر ایک زمین پر لا کر رکھ دیا جائے تو تمام انسان اور جنات مل کر بھی اسے اٹھا نہیں سکتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:29/3:ضعیف] ‏‏‏‏ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر وہ کسی بڑے پہاڑ پر مار دیا جائے تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائے جہنمی اس سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے پھر جیسے تھے ویسے ہی کر دئے جائیں گے اگر عساق کا جو جہنمیوں کی غذا ہے ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو کے مارے ہلاک ہو جائیں } }۔ [مسند احمد:83/3:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کے لگتے ہی ایک ایک عضو بدن جھڑ جائے گا اور ہائے وائے کا غل مچ جائے گا جب کبھی وہاں سے نکل جانا چاہیں گے وہیں لوٹا دیئے جائیں گے۔

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جہنم کی آگ سخت سیاہ بہت اندھیرے والی ہے اس کے شعلے بھی روشن نہیں نہ اس کے انگارے روشنی والے ہیں پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔‏‏‏‏“ زید رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ”جہنمی اس میں سانس بھی نہ لے سکیں گے۔‏‏‏‏“ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”واللہ انہیں چھوٹنے کی تو آس ہی نہیں رہے گی پیروں میں بوجھل بیڑیاں ہیں ہاتھوں میں مضبوط ہتھکڑیاں ہیں آگ کے شعلے انہیں اس قدر اونچا کر دیتے ہیں کہ گویا باہر نکل جائیں گے لیکن پھر فرشتوں کے ہاتھوں سے گرز کھا کر تہ میں اتر جاتے ہیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ اب جلنے کا مزہ چکھو۔‏‏‏‏“ جیسے فرمان ہے «وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ‌ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» ۱؎ [32-السجدة:20] ‏‏‏‏ ’ ان سے کہا جائے گا اس آگ کا عذاب برداشت کرو جسے آج تک جھٹلاتے رہے ‘۔ زبانی بھی اور اپنے اعمال سے بھی۔
19۔ 1 ھذان خصمن یہ دونوں تثنیہ کے صیغے ہیں بعض نے اس سے مراد مذکورہ گمراہ فرقے اور اس کے مقابلے میں دوسرا فرقہ مسلمان کو لیا ہے۔ یہ دونوں اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں، مسلمان تو وحدانیت اور اس کی قدرت علی البعث کے قائل ہیں، جب کہ دوسرے اللہ کے بارے میں مختلف گمراہیوں میں مبتلا ہیں۔ اس ضمن میں جنگ بدر میں لڑنے والے مسلمان اور کافر بھی آجاتے ہیں، جس کے آغاز میں مسلمانوں میں ایک طرف حضرت حمزہ، حضرت علی اور حضرت عبیدۃ ؓ تھے اور دوسری طرف ان کے مقابلے میں کافروں میں عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ تھے (امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ دونوں ہی مفہوم صحیح اور آیت کے مطابق ہیں۔
(آیت 19) ➊ { هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ:} یہاں دو جھگڑنے والوں میں ایک فریق مسلمان اور دوسرا فریق وہ پانچوں گروہ ہیں جن کا پچھلی آیت میں ایمان والوں کے بعد ذکر ہوا ہے اور جنھیں اس آیت میں کافر قرار دیا گیا ہے۔ رب تعالیٰ کے بارے میں جھگڑنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اللہ کی توحید کے قائل ہیں اور یہ تمام لوگ توحید کے بارے میں طرح طرح کے خیالات رکھتے ہیں جو کفر ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس مخالفت کا لازمی نتیجہ مسلمانوں کی طرف سے جہاد ہے۔ پہلا غزوہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دو بدو جنگ ہوئی غزوۂ بدر تھا، جس میں سب سے پہلے میدان میں نکلنے والے حمزہ بن عبد المطلب، عبیدہ بن حارث اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنھم تھے، جو اپنے قریب ترین رشتہ داروں عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کے مقابلے میں نکلے تھے۔ چنانچہ اس آیت کا اولین مصداق یہی تین صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں۔ ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے: [ أَنَّهٗ كَانَ يُقْسِمُ قَسَمًا إِنَّ هٰذِهِ الْآيَةَ: «هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ» ‏‏‏‏ نَزَلَتْ فِيْ حَمْزَةَ وَصَاحِبَيْهِ وَعُتْبَةَ وَصَاحِبَيْهِ يَوْمَ بَرَزُوْا فِيْ يَوْمِ بَدْرٍ ] [ بخاري، التفسیر، باب: «‏‏‏‏ھذان خصمان …» : ۴۷۴۳۔ مسلم: ۳۰۳۳ ] ”وہ قسم کھا کر کہتے تھے کہ یہ آیت: «{ هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ }» ان چھ آدمیوں حمزہ اور ان کے دو ساتھی، عقبہ اور اس کے دو ساتھیوں کے بارے میں اتری تھی جو بدر کے دن ایک دوسرے کے مقابلے میں نکلے تھے۔“ اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں پہلا شخص ہوں جو قیامت کے دن اس جھگڑے کے لیے رحمان کے سامنے دونوں زانوؤں کے بل بیٹھوں گا اور اپنا مقدمہ پیش کروں گا۔“ [ بخاري، التفسیر، باب: «‏‏‏‏ھٰذان خصمان اختصموا في ربھم» ‏‏‏‏: ۴۷۴۴ ] ان تینوں حضرات کے بعد قیامت تک آنے والے وہ تمام مجاہد بھی اس آیت میں شامل ہیں جنھوں نے توحید کی خاطر کفار سے جہاد کیا یا کریں گے۔ ➋ {فَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّنْ نَّارٍ:} یعنی کافروں کے لیے آگ کے کپڑے کاٹے جا چکے۔ یہاں قیامت کے دن ہونے والے کام کو ماضی کے لفظ کے ساتھ بیان فرمایا، یعنی یہ کام اتنا یقینی ہے کہ بس ہو ہی چکا۔ آگ کے یہ کپڑے قمیصوں کی صورت میں بھی ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «{ سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ }» [ إبراھیم: ۵۰ ] ”ان کی قمیصیں گندھک کی ہوں گی۔“ او رنیچے اور اوپر والے بچھونوں اور لحافوں کی صورت میں بھی، جیسا کہ فرمایا: «{ لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ[الأعراف: ۴۱ ] ”ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا اور ان کے اوپر کے لحاف ہوں گے۔“ ➌ {يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ:الْحَمِيْمُ “} انتہائی گرم (کھولتا ہوا) پانی۔ مزید دیکھیے سورۂ دخان(۴۸)۔
یُصۡہَرُ بِہٖ مَا فِیۡ بُطُوۡنِہِمۡ وَ الۡجُلُوۡدُ ﴿ؕ۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس سے اُن کی کھالیں ہی نہیں پیٹ کے اندر کے حصے تک گل جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس سے ان کے پیٹ کی سب چیزیں اور کھالیں گلا دی جائیں گی
احمد رضا خان بریلوی
جس سے گل جائے گا جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے اور ان کی کھالیں
علامہ محمد حسین نجفی
(اور) جس سے ان کے پیٹ کے اندر کی چیزیں اور کھالیں گل جائیں گی۔
عبدالسلام بن محمد
اس کے ساتھ پگھلا دیا جائے گا جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے اور چمڑے بھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن و کافر کی مثال ٭٭

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ قسم کھا کر فرماتے تھے کہ { یہ آیت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور ان کے مقابلے میں بدر کے دن جو دو کافر آئے تھے اور عتبہ اور اس کے دو ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3966] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں ہے { سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن میں سب سے پہلے اللہ کے سامنے اپنی حجت ثابت کرنے کے لیے گھٹنوں کے بل گرجاؤں گا۔‏‏‏‏“ قیس فرماتے ہیں انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے بدر کے دن یہ لوگ ایک دوسرے کے سامنے آئے تھے علی اور حمزہ رضی اللہ عنہم اور عبیدہ اور شیبہ اور عتبہ اور ولید }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4744] ‏‏‏‏ اور قول ہے کہ مراد مسلمان اور اہل کتاب ہیں۔ اہل کتاب کہتے تھے ہمارا نبی تمہارے نبی سے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے اس لیے ہم اللہ سے بہ نسبت تمہارے زیادہ قریب ہیں۔ مسلمان کہتے تھے کہ ہماری کتاب تمہاری کتاب کا فیصلہ کرتی ہے اور ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں اس لیے تم سے ہم اولیٰ ہیں پس اللہ نے اسلام کو غالب کیا اور یہ آیت اتری۔

قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد اس سے سچا ماننے والے اور جھٹلانے والے ہیں۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس آیت میں مومن و کافر کی مثال ہے جو قیامت میں مختلف تھے۔ عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد جنت دوزخ کا قول ہے دوزخ کی مانگ تھی کہ مجھے سزا کی چیز بنا، اور جنت کی آرزو تھی کہ مجھے رحمت بنا۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ان تمام اقوال میں شامل ہے اور بدر کا واقعہ بھی اس کے ضمن میں آسکتا ہے مومن اللہ کے دین کا غلبہ چاہتے تھے اور کفار نور ایمان کے بجھانے حق کو پست کرنے اور باطل کے ابھارنے کی فکر میں تھے۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بھی اس کو مختار بتلاتے ہیں اور یہ ہے بھی بہت اچھا چنانچہ اس کے بعد ہی ہے کہ کفار کے لیے آگ کے ٹکڑے الگ الگ مقرر کر دئے جائیں گے۔ یہ تانبے کی صورت ہوں گے جو بہت ہی حرارت پہنچاتا ہے پھر اوپر سے گرم ابلتے ہوئے پانی کا تریڑا ڈالا جائے گا۔ جس سے ان کے آنتیں اور چربی گھل جائے گی اور کھال بھی جھلس کر جھڑجائے گی۔ ترمذی میں ہے کہ { اس گرم آگ جیسے پانی سے ان کی آنتیں وغیرہ پیٹ سے نکل کر پیروں پر گر پڑیں گی۔ پھر جیسے تھے ویسے ہو جائیں گے پھر یہی ہو گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2582،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ عبداللہ بن سری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں فرشتہ اس ڈولچے کو اس کے کڑوں سے تھام کر لائے گا اس کے منہ میں ڈالنا چاہے گا یہ گھبرا کر منہ پھیر لے گا۔ تو فرشتہ اس کے ماتھے پر لوہے کا ہتھوڑا مارے گا جس سے اس کا سر پھٹ جائے گا وہیں سے اس گرم آگ پانی کو ڈالے گا جو سیدھا پیٹ میں پہنچے گا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان ہتھوڑوں میں جن سے دوزخیوں کی ٹھکائی ہو گی اگر ایک زمین پر لا کر رکھ دیا جائے تو تمام انسان اور جنات مل کر بھی اسے اٹھا نہیں سکتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:29/3:ضعیف] ‏‏‏‏ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر وہ کسی بڑے پہاڑ پر مار دیا جائے تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائے جہنمی اس سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے پھر جیسے تھے ویسے ہی کر دئے جائیں گے اگر عساق کا جو جہنمیوں کی غذا ہے ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو کے مارے ہلاک ہو جائیں } }۔ [مسند احمد:83/3:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کے لگتے ہی ایک ایک عضو بدن جھڑ جائے گا اور ہائے وائے کا غل مچ جائے گا جب کبھی وہاں سے نکل جانا چاہیں گے وہیں لوٹا دیئے جائیں گے۔

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جہنم کی آگ سخت سیاہ بہت اندھیرے والی ہے اس کے شعلے بھی روشن نہیں نہ اس کے انگارے روشنی والے ہیں پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔‏‏‏‏“ زید رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ”جہنمی اس میں سانس بھی نہ لے سکیں گے۔‏‏‏‏“ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”واللہ انہیں چھوٹنے کی تو آس ہی نہیں رہے گی پیروں میں بوجھل بیڑیاں ہیں ہاتھوں میں مضبوط ہتھکڑیاں ہیں آگ کے شعلے انہیں اس قدر اونچا کر دیتے ہیں کہ گویا باہر نکل جائیں گے لیکن پھر فرشتوں کے ہاتھوں سے گرز کھا کر تہ میں اتر جاتے ہیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ اب جلنے کا مزہ چکھو۔‏‏‏‏“ جیسے فرمان ہے «وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ‌ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» ۱؎ [32-السجدة:20] ‏‏‏‏ ’ ان سے کہا جائے گا اس آگ کا عذاب برداشت کرو جسے آج تک جھٹلاتے رہے ‘۔ زبانی بھی اور اپنے اعمال سے بھی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 20) {يُصْهَرُ بِهٖ مَا فِيْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُ: ”صَهَرَ ({مَنَعَ}) الشَّحْمَ“} اس نے چربی پگھلائی، یعنی ان کے سروں پر ایسا جلتا اور کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا کہ جس کے ساتھ ان کے پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں پگھل کر باہر نکل جائیں گی اور ان کے چمڑے بھی پگھل جائیں گے اور یہ عذاب مسلسل جاری رہے گا۔ جب بھی ان کے چمڑے گل سڑ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں ان کے علاوہ اور چمڑے بدل دے گا۔ دیکھیے سورۂ نساء (۵۶)۔
وَ لَہُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِیۡدٍ ﴿۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُن کی خبر لینے کے لیے لوہے کے گُرز ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان کی سزا کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کے لئے لوہے کے گرز ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھی کے لیے لوہے کے ہتھوڑے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن و کافر کی مثال ٭٭

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ قسم کھا کر فرماتے تھے کہ { یہ آیت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور ان کے مقابلے میں بدر کے دن جو دو کافر آئے تھے اور عتبہ اور اس کے دو ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3966] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں ہے { سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن میں سب سے پہلے اللہ کے سامنے اپنی حجت ثابت کرنے کے لیے گھٹنوں کے بل گرجاؤں گا۔‏‏‏‏“ قیس فرماتے ہیں انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے بدر کے دن یہ لوگ ایک دوسرے کے سامنے آئے تھے علی اور حمزہ رضی اللہ عنہم اور عبیدہ اور شیبہ اور عتبہ اور ولید }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4744] ‏‏‏‏ اور قول ہے کہ مراد مسلمان اور اہل کتاب ہیں۔ اہل کتاب کہتے تھے ہمارا نبی تمہارے نبی سے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے اس لیے ہم اللہ سے بہ نسبت تمہارے زیادہ قریب ہیں۔ مسلمان کہتے تھے کہ ہماری کتاب تمہاری کتاب کا فیصلہ کرتی ہے اور ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں اس لیے تم سے ہم اولیٰ ہیں پس اللہ نے اسلام کو غالب کیا اور یہ آیت اتری۔

قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد اس سے سچا ماننے والے اور جھٹلانے والے ہیں۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس آیت میں مومن و کافر کی مثال ہے جو قیامت میں مختلف تھے۔ عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد جنت دوزخ کا قول ہے دوزخ کی مانگ تھی کہ مجھے سزا کی چیز بنا، اور جنت کی آرزو تھی کہ مجھے رحمت بنا۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ان تمام اقوال میں شامل ہے اور بدر کا واقعہ بھی اس کے ضمن میں آسکتا ہے مومن اللہ کے دین کا غلبہ چاہتے تھے اور کفار نور ایمان کے بجھانے حق کو پست کرنے اور باطل کے ابھارنے کی فکر میں تھے۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بھی اس کو مختار بتلاتے ہیں اور یہ ہے بھی بہت اچھا چنانچہ اس کے بعد ہی ہے کہ کفار کے لیے آگ کے ٹکڑے الگ الگ مقرر کر دئے جائیں گے۔ یہ تانبے کی صورت ہوں گے جو بہت ہی حرارت پہنچاتا ہے پھر اوپر سے گرم ابلتے ہوئے پانی کا تریڑا ڈالا جائے گا۔ جس سے ان کے آنتیں اور چربی گھل جائے گی اور کھال بھی جھلس کر جھڑجائے گی۔ ترمذی میں ہے کہ { اس گرم آگ جیسے پانی سے ان کی آنتیں وغیرہ پیٹ سے نکل کر پیروں پر گر پڑیں گی۔ پھر جیسے تھے ویسے ہو جائیں گے پھر یہی ہو گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2582،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ عبداللہ بن سری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں فرشتہ اس ڈولچے کو اس کے کڑوں سے تھام کر لائے گا اس کے منہ میں ڈالنا چاہے گا یہ گھبرا کر منہ پھیر لے گا۔ تو فرشتہ اس کے ماتھے پر لوہے کا ہتھوڑا مارے گا جس سے اس کا سر پھٹ جائے گا وہیں سے اس گرم آگ پانی کو ڈالے گا جو سیدھا پیٹ میں پہنچے گا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان ہتھوڑوں میں جن سے دوزخیوں کی ٹھکائی ہو گی اگر ایک زمین پر لا کر رکھ دیا جائے تو تمام انسان اور جنات مل کر بھی اسے اٹھا نہیں سکتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:29/3:ضعیف] ‏‏‏‏ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر وہ کسی بڑے پہاڑ پر مار دیا جائے تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائے جہنمی اس سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے پھر جیسے تھے ویسے ہی کر دئے جائیں گے اگر عساق کا جو جہنمیوں کی غذا ہے ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو کے مارے ہلاک ہو جائیں } }۔ [مسند احمد:83/3:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کے لگتے ہی ایک ایک عضو بدن جھڑ جائے گا اور ہائے وائے کا غل مچ جائے گا جب کبھی وہاں سے نکل جانا چاہیں گے وہیں لوٹا دیئے جائیں گے۔

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جہنم کی آگ سخت سیاہ بہت اندھیرے والی ہے اس کے شعلے بھی روشن نہیں نہ اس کے انگارے روشنی والے ہیں پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔‏‏‏‏“ زید رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ”جہنمی اس میں سانس بھی نہ لے سکیں گے۔‏‏‏‏“ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”واللہ انہیں چھوٹنے کی تو آس ہی نہیں رہے گی پیروں میں بوجھل بیڑیاں ہیں ہاتھوں میں مضبوط ہتھکڑیاں ہیں آگ کے شعلے انہیں اس قدر اونچا کر دیتے ہیں کہ گویا باہر نکل جائیں گے لیکن پھر فرشتوں کے ہاتھوں سے گرز کھا کر تہ میں اتر جاتے ہیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ اب جلنے کا مزہ چکھو۔‏‏‏‏“ جیسے فرمان ہے «وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ‌ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» ۱؎ [32-السجدة:20] ‏‏‏‏ ’ ان سے کہا جائے گا اس آگ کا عذاب برداشت کرو جسے آج تک جھٹلاتے رہے ‘۔ زبانی بھی اور اپنے اعمال سے بھی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 21){وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيْدٍ:مَقَامِعُ”مِقْمَعٌ“} کی جمع ہے، ہتھوڑے۔
کُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنۡہَا مِنۡ غَمٍّ اُعِیۡدُوۡا فِیۡہَا ٭ وَ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿٪۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب کبھی وہ گھبرا کر جہنّم سے نکلنے کی کوشش کریں گے پھر اُسی میں دھکیل دیے جائیں گے کہ چکھو اب جلنے کی سزا کا مزا
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ جب بھی وہاں کے غم سے نکل بھاگنے کا اراده کریں گے وہیں لوٹا دیئے جائیں گے اور (کہا جائے گا) جلنے کا عذاب چکھو!
احمد رضا خان بریلوی
جب گھٹن کے سبب اس میں سے نکلنا چاہیں گے اور پھر اسی میں لوٹا دیے جائیں گے، اور حکم ہوگا کہ چکھو آگ کا عذاب،
علامہ محمد حسین نجفی
جب بھی چاہیں گے کہ اس (جہنم) سے نکل کر رنج و غم سے چھٹکارا پائیں تو پھر اسی میں لوٹا دئیے جائیں گے اور (ان سے کہا جائے گا کہ) جلانے والی آگ کا مزہ چکھو۔
عبدالسلام بن محمد
جب کبھی ارادہ کریں گے کہ سخت گھٹن کی وجہ سے اس سے نکلیں، اس میں لوٹا دیے جائیں گے اور چکھو جلنے کا عذاب۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن و کافر کی مثال ٭٭

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ قسم کھا کر فرماتے تھے کہ { یہ آیت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور ان کے مقابلے میں بدر کے دن جو دو کافر آئے تھے اور عتبہ اور اس کے دو ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3966] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں ہے { سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن میں سب سے پہلے اللہ کے سامنے اپنی حجت ثابت کرنے کے لیے گھٹنوں کے بل گرجاؤں گا۔‏‏‏‏“ قیس فرماتے ہیں انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے بدر کے دن یہ لوگ ایک دوسرے کے سامنے آئے تھے علی اور حمزہ رضی اللہ عنہم اور عبیدہ اور شیبہ اور عتبہ اور ولید }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4744] ‏‏‏‏ اور قول ہے کہ مراد مسلمان اور اہل کتاب ہیں۔ اہل کتاب کہتے تھے ہمارا نبی تمہارے نبی سے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے اس لیے ہم اللہ سے بہ نسبت تمہارے زیادہ قریب ہیں۔ مسلمان کہتے تھے کہ ہماری کتاب تمہاری کتاب کا فیصلہ کرتی ہے اور ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں اس لیے تم سے ہم اولیٰ ہیں پس اللہ نے اسلام کو غالب کیا اور یہ آیت اتری۔

قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد اس سے سچا ماننے والے اور جھٹلانے والے ہیں۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس آیت میں مومن و کافر کی مثال ہے جو قیامت میں مختلف تھے۔ عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد جنت دوزخ کا قول ہے دوزخ کی مانگ تھی کہ مجھے سزا کی چیز بنا، اور جنت کی آرزو تھی کہ مجھے رحمت بنا۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ان تمام اقوال میں شامل ہے اور بدر کا واقعہ بھی اس کے ضمن میں آسکتا ہے مومن اللہ کے دین کا غلبہ چاہتے تھے اور کفار نور ایمان کے بجھانے حق کو پست کرنے اور باطل کے ابھارنے کی فکر میں تھے۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بھی اس کو مختار بتلاتے ہیں اور یہ ہے بھی بہت اچھا چنانچہ اس کے بعد ہی ہے کہ کفار کے لیے آگ کے ٹکڑے الگ الگ مقرر کر دئے جائیں گے۔ یہ تانبے کی صورت ہوں گے جو بہت ہی حرارت پہنچاتا ہے پھر اوپر سے گرم ابلتے ہوئے پانی کا تریڑا ڈالا جائے گا۔ جس سے ان کے آنتیں اور چربی گھل جائے گی اور کھال بھی جھلس کر جھڑجائے گی۔ ترمذی میں ہے کہ { اس گرم آگ جیسے پانی سے ان کی آنتیں وغیرہ پیٹ سے نکل کر پیروں پر گر پڑیں گی۔ پھر جیسے تھے ویسے ہو جائیں گے پھر یہی ہو گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2582،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ عبداللہ بن سری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں فرشتہ اس ڈولچے کو اس کے کڑوں سے تھام کر لائے گا اس کے منہ میں ڈالنا چاہے گا یہ گھبرا کر منہ پھیر لے گا۔ تو فرشتہ اس کے ماتھے پر لوہے کا ہتھوڑا مارے گا جس سے اس کا سر پھٹ جائے گا وہیں سے اس گرم آگ پانی کو ڈالے گا جو سیدھا پیٹ میں پہنچے گا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان ہتھوڑوں میں جن سے دوزخیوں کی ٹھکائی ہو گی اگر ایک زمین پر لا کر رکھ دیا جائے تو تمام انسان اور جنات مل کر بھی اسے اٹھا نہیں سکتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:29/3:ضعیف] ‏‏‏‏ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر وہ کسی بڑے پہاڑ پر مار دیا جائے تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائے جہنمی اس سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے پھر جیسے تھے ویسے ہی کر دئے جائیں گے اگر عساق کا جو جہنمیوں کی غذا ہے ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو کے مارے ہلاک ہو جائیں } }۔ [مسند احمد:83/3:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کے لگتے ہی ایک ایک عضو بدن جھڑ جائے گا اور ہائے وائے کا غل مچ جائے گا جب کبھی وہاں سے نکل جانا چاہیں گے وہیں لوٹا دیئے جائیں گے۔

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جہنم کی آگ سخت سیاہ بہت اندھیرے والی ہے اس کے شعلے بھی روشن نہیں نہ اس کے انگارے روشنی والے ہیں پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔‏‏‏‏“ زید رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ”جہنمی اس میں سانس بھی نہ لے سکیں گے۔‏‏‏‏“ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”واللہ انہیں چھوٹنے کی تو آس ہی نہیں رہے گی پیروں میں بوجھل بیڑیاں ہیں ہاتھوں میں مضبوط ہتھکڑیاں ہیں آگ کے شعلے انہیں اس قدر اونچا کر دیتے ہیں کہ گویا باہر نکل جائیں گے لیکن پھر فرشتوں کے ہاتھوں سے گرز کھا کر تہ میں اتر جاتے ہیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ اب جلنے کا مزہ چکھو۔‏‏‏‏“ جیسے فرمان ہے «وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ‌ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» ۱؎ [32-السجدة:20] ‏‏‏‏ ’ ان سے کہا جائے گا اس آگ کا عذاب برداشت کرو جسے آج تک جھٹلاتے رہے ‘۔ زبانی بھی اور اپنے اعمال سے بھی۔
22۔ 1 اس میں جہنمیوں کے عذاب کی کچھ تفصیل بیان کی گئی ہے جو انھیں وہاں بھگتنا ہوگا۔
(آیت 22) ➊ { كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا …:} اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ آگ کی لپٹ کے ساتھ اوپر آئیں گے اور چاہیں گے کہ جہنم کی شدید گھٹن سے نکل جائیں تو آگ کی لپٹ کے نیچے جانے کے ساتھ وہ بھی دوبارہ نیچے چلے جائیں گے۔ یہ مطلب اس لیے ہے کہ جہنمی تو زنجیروں میں جکڑے اور پروئے ہوئے ہوں گے، وہ خود کس طرح نکلنے کا ارادہ کر سکتے ہیں؟ فرمایا: «{ وَ تَرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ مُّقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ }» [ إبراھیم: ۴۹ ] ”اور تو مجرموں کو اس دن زنجیروں میں ایک دوسرے کے ساتھ جکڑے ہوئے دیکھے گا۔“ اور فرمایا: «{ ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُ }» [ الحاقۃ: ۳۲ ] ”پھر ایک زنجیر میں، جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے، پس اس (کافر) کو داخل کر دو۔“ ➋ {وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ:} یعنی ان سے یہ کہا جائے گا کہ جلنے کے عذاب کا مزا چکھو۔
اِنَّ اللّٰہَ یُدۡخِلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ یُحَلَّوۡنَ فِیۡہَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَہَبٍ وَّ لُؤۡلُؤًا ؕ وَ لِبَاسُہُمۡ فِیۡہَا حَرِیۡرٌ ﴿۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اُن کو اللہ ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہاں وہ سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیے جائیں گے اور ان کے لباس ریشم کے ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
ایمان والوں اور نیک کام والوں کو اللہ تعالیٰ ان جنتوں میں لے جائے گا جن کے درختوں تلے سے نہریں لہریں لے رہی ہیں، جہاں وه سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سچے موتی بھی۔ وہاں ان کا لباس خالص ریشم ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ داخل کرے گا انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہیں اس میں پہنائے جائیں گے سونے کے کنگن اور موتی اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہے
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ ایمان لائے اور اس کے ساتھ نیک عمل بھی کئے بےشک اللہ ان کو ان بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہاں ان کو سونے کے کنگن اور موتی (کے ہار) پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کے لباس ریشم کے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، انھیں اس میں کچھ سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور موتی بھی اور ان کا لباس اس میں ریشم ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کے محلات و باغات ٭٭

اوپر دوزخیوں کا، ان کی سزاؤں کا، ان کے طوق و زنجیر کا، ان کے جلنے جھلسنے کا، ان کے آگ کے لباس کا ذکر کر کے اب جنت کا، وہاں کی نعمتوں کا اور وہاں کے رہنے والوں کا حال بیان فرما رہا ہے۔ اللہ ہمیں اپنی سزاؤں سے بچائے اور جزاؤں سے نوازے آمین! فرماتا ہے ’ ایمان اور نیک عمل کے بدلے جنت مل گئی جہاں کے محلات اور باغات کے چاروں طرف پانی کی نہریں لہریں مار رہی ہونگی جہاں چاہیں گے وہیں خودبخود ان کا رخ ہو جایا کرے گا سونے کے زیوروں سے سجے ہوئے ہوں گے موتیوں میں تل رہے ہوں گے ‘۔ متفق علیہ حدیث میں ہے { مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:250] ‏‏‏‏ کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک فرشتہ ہے کہ جس کا نام بھی مجھے معلوم ہے وہ اپنی پیدائش سے مومنوں کے لیے زیور بنا رہا ہے اور قیامت تک اسی کام میں رہے گا اگر ان میں سے ایک کنگن بھی دنیا میں ظاہر ہو جائے تو سورج کی روشنی اسی طرح جاتی رہے جس طرح اس کے نکلنے سے چاند کی روشنی جاتی رہتی ہے۔ دوزخیوں کے کپڑوں کا ذکر اوپر ہو چکا ہے جنتیوں کے کپڑوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ نرم چمکیلے ریشمی کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے جسے سورۃ الدہر میں ہے کہ «عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ وَحُلُّوا أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا نَّ هَـٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاءً وَكَانَ سَعْيُكُم مَّشْكُورًا» ۱؎ [76-الانسان:،20،21] ‏‏‏‏ ’ ان کے لباس سبزریشمی ہوں گے چاندی کے کنگن ہوں گے اور شراب طہور کے جام پر جام پی رہے ہونگے۔ یہ ہے تمہاری جزا اور یہ تمہارے بار اور سعی کا نتیجہ ‘۔ صحیح حدیث میں ہے { ریشم تم نہ پہنو جو اسے دنیا میں پہن لے گا وہ آخرت کے دن اس سے محروم رہے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5830] ‏‏‏‏ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو اس دن ریشمی لباس سے محروم رہا وہ جنت میں نہ جائے گا کیونکہ جنت والوں کا یہی لباس ہے ان کو پاک بات سکھا دی گئی۔

جیسے فرمان ہیں آیت «وَأُدْخِلَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ» ۱؎ [14-ابراھیم:23] ‏‏‏‏ ’ ایماندار بحکم الٰہی جنت میں جائیں گے جہاں ان کا تحفہ آپس میں سلام ہو گا ‘۔ اور آیت میں ہے «أُولَـٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:75] ‏‏‏‏ ’ ہر دروازے سے فرشتے ان کے پاس آئیں گے اور سلام کر کے کہیں گے تمہارے صبر کا کیا ہی اچھا انجام ہوا ‘۔ اور جگہ فرمایا آیت «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا اِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا» ۱؎ [56-الواقعة:26،25] ‏‏‏‏ ’ وہاں کوئی لغو بات اور رنج دینے والی بات نہ سنیں گے بجز سلام اور سلامتی کے ‘۔ پس انہیں وہ مکان دے دیا گیا جہاں صرف دل لبھانے والی آوازیں اور سلام ہی سلام سنتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے وہاں مبارک سلامت کی آوازیں ہی آئیں گی برخلاف دوزخیوں کے کہ ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ سنتے ہیں، جھڑکے جاتے ہیں سرزنش کی جا رہی ہے کہ ایسے عذاب برداشت کرو وغیرہ۔ اور انہیں وہ جگہ دی گئی کہ یہ نہال نہال ہو گئے اور بے ساختہ ان کی زبانوں سے اللہ کی حمد ادا ہونے لگی۔ کیونکہ بےشمار بے نظیر رحمتیں پالیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { جیسے بے قصد و بے تکلف سانس آتا جاتا رہتا ہے اسی طرح بہشتیوں کو تسبیح وحمد کا الہام ہو گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2835] ‏‏‏‏ بعض مفسیریں کا قول ہے کہ طیب کلام سے مراد قرآن کریم ہے اور «‏‏‏‏ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» » ‏‏‏‏ ہے حدیث کے ورد اور اذکار ہیں اور صراط حمید سے مراد اسلامی راستہ ہے یہ تفسیر بھی پہلی تفسیر کے خلاف نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
23۔ 1 جہنمیوں کے مقابلے میں یہ اہل جنت کا اور ان نعمتوں کا تذکرہ ہے جو اہل ایمان کو مہیا کی جائیں گی۔
(آیت 23) ➊ {اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …: ” يُحَلَّوْنَ”حَلَّي يُحَلِّيْ تَحْلِيَةً“} (تفعیل)سے مضارع مجہول ہے۔ اسی سے {”حِلْيَةٌ“} بمعنی زیور ہے۔ {” اَسَاوِرَ”أَسْوِرَةٌ“} کی جمع ہے جو خود {” سِوَارٌ “} کی جمع ہے۔ جمع الجمع ان کنگنوں کی کثرت اور حسن و خوبی کے بیان کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ {” مِنْ اَسَاوِرَ “} میں {” مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، یعنی کچھ کنگن سونے اور موتیوں کے ہوں گے اور کچھ ایسے ہوں گے جو تم نہیں جانتے، جیسا کہ فرمایا: «{ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ }» [ السجدۃ: ۱۷ ] ”پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔“ توحید ربانی کے بارے میں باہمی معرکہ آرا گروہوں میں سے {” الَّذِيْنَ كَفَرُوْا “} کے عذاب کے ذکر کے بعد {” الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} کے ثواب کا ذکر ہو رہا ہے۔ ابتدا اس کی حرف تاکید {” اِنَّ “} سے ہے اور کفار کے ہر عذاب کے مقابلے میں اہل ایمان کے لیے کسی نہ کسی نعمت کا ذکر ہے۔چنانچہ {” يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “، ” كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا “} کے مقابلے میں ہے۔ {” تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ “، ”يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ “} کے مقابلے میں ہے۔ {” وَ لِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ “، ” قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ “} کے مقابلے میں ہے۔ {” يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ “، ” وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيْدٍ “} کے مقابلے میں ہے اور {” وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ “، ” وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ “} کے مقابلے میں ہے، کیونکہ جنتیوں کے لیے طیب بات ”سلام“ ہے تو جہنمیوں کے لیے بری بات ”جلنے کا عذاب چکھو“ ہے۔ ➋ { اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا:} عورتوں کے لیے سونے اور موتیوں کے زیور تو معروف بات ہے، رہے مرد تو گزشتہ زمانے میں بادشاہ اور بڑے بڑے رئیس زینت اور اپنی شان و شوکت کے اظہار کے لیے کنگن اور موتی پہنا کرتے تھے۔ اس آیت سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اہل ایمان کو جنت میں شاہانہ لباس پہنایا جائے گا۔ مزید دیکھیے سورۂ کہف (۳۱)۔ ➌ { وَ لِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ:حَرِيْرٌ “} سے مراد خالص ریشم ہے، جس کا استعمال مردوں کے لیے دنیا میں حرام ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ لَبِسَ الْحَرِيْرَ فِي الدُّنْيَا فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ ] [ بخاري، اللباس، باب لبس الحریر للرجال…:۵۸۳۲۔ مسلم:۷۳] ”جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا وہ اسے آخرت میں ہر گز نہیں پہنے گا۔“
وَ ہُدُوۡۤا اِلٰی الطَّیِّبِ مِنَ الۡقَوۡلِ ۚۖ وَ ہُدُوۡۤا اِلَی صِرَاطِ الۡحَمِیۡدِ ﴿۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان کو پاکیزہ بات قبول کرنے کی ہدایت بخشی گئی اور انہیں خدائے ستودہ صفات کا راستہ دکھایا گیا
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کو پاکیزه بات کی رہنمائی کر دی گئی اور قابل صد تعریف راه کی ہدایت کر دی گئی
احمد رضا خان بریلوی
اور انہیں پاکیزہ بات کی ہدایت کی گئی اور سب خوبیوں سراہے کی راہ بتائی گئی
علامہ محمد حسین نجفی
(یہ اس لئے ہے کہ) انہیں پاکیزہ گفتگو کی طرف ہدایت دی گئی اور انہیں لائق ستائش (خدا) کی راہ کی طرف راہنمائی کی گئی۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھیں پاکیزہ بات کی طرف ہدایت کی گئی اور انھیں تمام تعریفوں کے مالک کے راستے کی طرف ہدایت کی گئی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کے محلات و باغات ٭٭

اوپر دوزخیوں کا، ان کی سزاؤں کا، ان کے طوق و زنجیر کا، ان کے جلنے جھلسنے کا، ان کے آگ کے لباس کا ذکر کر کے اب جنت کا، وہاں کی نعمتوں کا اور وہاں کے رہنے والوں کا حال بیان فرما رہا ہے۔ اللہ ہمیں اپنی سزاؤں سے بچائے اور جزاؤں سے نوازے آمین! فرماتا ہے ’ ایمان اور نیک عمل کے بدلے جنت مل گئی جہاں کے محلات اور باغات کے چاروں طرف پانی کی نہریں لہریں مار رہی ہونگی جہاں چاہیں گے وہیں خودبخود ان کا رخ ہو جایا کرے گا سونے کے زیوروں سے سجے ہوئے ہوں گے موتیوں میں تل رہے ہوں گے ‘۔ متفق علیہ حدیث میں ہے { مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:250] ‏‏‏‏ کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک فرشتہ ہے کہ جس کا نام بھی مجھے معلوم ہے وہ اپنی پیدائش سے مومنوں کے لیے زیور بنا رہا ہے اور قیامت تک اسی کام میں رہے گا اگر ان میں سے ایک کنگن بھی دنیا میں ظاہر ہو جائے تو سورج کی روشنی اسی طرح جاتی رہے جس طرح اس کے نکلنے سے چاند کی روشنی جاتی رہتی ہے۔ دوزخیوں کے کپڑوں کا ذکر اوپر ہو چکا ہے جنتیوں کے کپڑوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ نرم چمکیلے ریشمی کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے جسے سورۃ الدہر میں ہے کہ «عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ وَحُلُّوا أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا نَّ هَـٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاءً وَكَانَ سَعْيُكُم مَّشْكُورًا» ۱؎ [76-الانسان:،20،21] ‏‏‏‏ ’ ان کے لباس سبزریشمی ہوں گے چاندی کے کنگن ہوں گے اور شراب طہور کے جام پر جام پی رہے ہونگے۔ یہ ہے تمہاری جزا اور یہ تمہارے بار اور سعی کا نتیجہ ‘۔ صحیح حدیث میں ہے { ریشم تم نہ پہنو جو اسے دنیا میں پہن لے گا وہ آخرت کے دن اس سے محروم رہے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5830] ‏‏‏‏ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو اس دن ریشمی لباس سے محروم رہا وہ جنت میں نہ جائے گا کیونکہ جنت والوں کا یہی لباس ہے ان کو پاک بات سکھا دی گئی۔

جیسے فرمان ہیں آیت «وَأُدْخِلَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ» ۱؎ [14-ابراھیم:23] ‏‏‏‏ ’ ایماندار بحکم الٰہی جنت میں جائیں گے جہاں ان کا تحفہ آپس میں سلام ہو گا ‘۔ اور آیت میں ہے «أُولَـٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:75] ‏‏‏‏ ’ ہر دروازے سے فرشتے ان کے پاس آئیں گے اور سلام کر کے کہیں گے تمہارے صبر کا کیا ہی اچھا انجام ہوا ‘۔ اور جگہ فرمایا آیت «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا اِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا» ۱؎ [56-الواقعة:26،25] ‏‏‏‏ ’ وہاں کوئی لغو بات اور رنج دینے والی بات نہ سنیں گے بجز سلام اور سلامتی کے ‘۔ پس انہیں وہ مکان دے دیا گیا جہاں صرف دل لبھانے والی آوازیں اور سلام ہی سلام سنتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے وہاں مبارک سلامت کی آوازیں ہی آئیں گی برخلاف دوزخیوں کے کہ ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ سنتے ہیں، جھڑکے جاتے ہیں سرزنش کی جا رہی ہے کہ ایسے عذاب برداشت کرو وغیرہ۔ اور انہیں وہ جگہ دی گئی کہ یہ نہال نہال ہو گئے اور بے ساختہ ان کی زبانوں سے اللہ کی حمد ادا ہونے لگی۔ کیونکہ بےشمار بے نظیر رحمتیں پالیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { جیسے بے قصد و بے تکلف سانس آتا جاتا رہتا ہے اسی طرح بہشتیوں کو تسبیح وحمد کا الہام ہو گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2835] ‏‏‏‏ بعض مفسیریں کا قول ہے کہ طیب کلام سے مراد قرآن کریم ہے اور «‏‏‏‏ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» » ‏‏‏‏ ہے حدیث کے ورد اور اذکار ہیں اور صراط حمید سے مراد اسلامی راستہ ہے یہ تفسیر بھی پہلی تفسیر کے خلاف نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
24۔ 1 یعنی جنت ایسی جگہ ہے جہاں پاکیزہ باتیں ہی ہونگی، وہاں بےہودہ اور گناہ کی بات نہیں ہوگی۔ 24۔ 2 یعنی ایسی جگہ کی طرف جہاں ہر طرف اللہ کی حمد اور اس کی تسبیح کی صدائے دل نواز گونج رہی ہوگی۔ اگر اس کا تعلق دنیا سے ہو تو مطلب قرآن اور اسلام کی طرف رہنمائی ہے جو اہل ایمان کے حصے میں آتی ہے۔
(آیت 24) ➊ {وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ:} یعنی دنیا میں انھیں پاکیزہ بات کلمۂ توحید ”لا الٰہ الا اللہ “ کی ہدایت عطا ہوئی اور انھیں تمام تعریفوں والے پروردگار کے راستے اسلام کی ہدایت ملی۔ اسی طرح آخرت میں انھیں اس مقام کی طرف لے جایا جائے گا جہاں وہ پاکیزہ کلام ہی سنیں گے، کوئی لغو یا گناہ کی بات کان میں نہیں پڑے گی۔ نہ جھگڑا ہو گا اور نہ کوئی بک بک، ہر طرف سے سلام کی آواز آئے گی، فرمایا: «{ لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِيْمًا (25) اِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا }» [ الواقعۃ: ۲۵، ۲۶ ] ”وہ اس میں نہ بے ہودہ گفتگو سنیں گے اور نہ گناہ میں ڈالنے والی بات، مگر یہ کہنا کہ سلام ہے، سلام ہے۔“ سلام کے علاوہ اللہ کی حمدہو گی اور اس کی تسبیح۔ دیکھیے سورۂ فاطر (۳۳ تا ۳۵) اور زمر (۷۳، ۷۴)۔ ➋ { وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِيْدِ:} اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ اہل جنت کو یہ سعادت حمد الٰہی کی وجہ سے حاصل ہو گی، فرمایا: «{دَعْوٰىهُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ }» [ یونس: ۱۰ ] ” ان کی دعا ان میں یہ ہو گی ”پاک ہے تو اے اللہ!“ اور ان کی آپس کی دعا ان (باغات) میں سلام ہو گی اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہو گا کہ سب تعریف اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔“
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ الَّذِیۡ جَعَلۡنٰہُ لِلنَّاسِ سَوَآءَۨ الۡعَاکِفُ فِیۡہِ وَ الۡبَادِ ؕ وَ مَنۡ یُّرِدۡ فِیۡہِ بِاِلۡحَادٍۭ بِظُلۡمٍ نُّذِقۡہُ مِنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿٪۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جن لوگوں نے کفر کیا اور جو (آج) اللہ کے راستے سے روک رہے ہیں اور اُس مسجدِ حرام کی زیارت میں مانع ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے بنایا ہے، جس میں مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر ہیں (اُن کی روش یقیناً سزا کی مستحق ہے) اِس (مسجدِ حرام) میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راه سے روکنے لگے اور اس حرمت والی مسجد سے بھی جسے ہم نے تمام لوگوں کے لئے مساوی کر دیا ہے وہیں کے رہنے والے ہوں یا باہر کے ہوں، جو بھی ﻇلم کے ساتھ وہاں الحاد کا اراده کرے ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور روکتے ہیں اللہ کی راہ اور اس ادب والی مسجد سے جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے مقرر کیا کہ اس میں ایک سا حق ہے وہاں کے رہنے والے اور پردیسی کا، اور جو اس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور (لوگوں) کو خدا کے راستے سے روکتے ہیں اور اس مسجد سے جسے ہم نے (بلا امتیاز) سب لوگوں کیلئے (عبادت گاہ) بنایا ہے جس میں وہاں کے رہنے والے اور باہر سے آنے والے برابر ہیں اور جو بھی اس میں ظلم و زیادتی کے ساتھ غلط روی کا ارادہ کرے تو ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور وہ اللہ کے راستے سے اور اس حرمت والی مسجد سے روکتے ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے اس طرح بنایا ہے کہ اس میں رہنے والے اور باہر سے آنے والے برابر ہیں اور جو بھی اس میں کسی قسم کے ظلم کے ساتھ کسی کج روی کا ارادہ کرے گا ہم اسے درد ناک عذاب سے مزہ چکھائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسجدالحرام سے روکنے والے ٭٭

اللہ تعالیٰ کافروں کے اس فعل کی تردید کرتا ہے جو وہ مسلمانوں کو مسجد الحرام سے روکتے تھے وہاں انہیں احکام حج ادا کرنے سے باز رکھتے تھے «وَمَا كَانُوا أَوْلِيَاءَهُ إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [8-الانفال:34] ‏‏‏‏ ’ باوجود اس کے اولیاء اللہ کے ہونے کا دعویٰ کرتے تھے حالانکہ اولیاء وہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ کا ڈر ہو ‘۔ اس سے معلوم ہوتا کہ یہ ذکر مدینے شریف کا ہے۔ جیسے سورۃ البقرہ کی آیت «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ اللَّـهِ» ۱؎ [2-البقرة:217] ‏‏‏‏، میں ہے یہاں فرمایا کہ ’ باوجود کفر کے پھر یہ بھی فعل ہے کہ اللہ کی راہ سے اور مسجد الحرام سے مسلمانوں کو روکتے ہیں جو درحقیقت اس کے اہل ہیں ‘۔ یہی ترتیب اس آیت کی ہے «لَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّـهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّـهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ» ۱؎ [13-الرعد:28] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کی صفت یہ ہے کہ ان کے دل ذکر اللہ سے مطمئن ہو جاتے ہیں ‘۔ مسجد الحرام جو اللہ نے سب کے لیے یکساں طور پر باحرمت بنائی ہے مقیم اور مسافر کے حقوق میں کوئی کمی زیادتی نہیں رکھی۔ اہل مکہ مسجد الحرام میں اترسکتے ہیں اور باہر والے بھی۔ وہاں کی منزلوں میں وہاں کے باشندے اور بیرون ممالک کے لوگ سب ایک ہی حق رکھتے ہیں۔ اس مسئلے میں امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ تو فرمانے لگے مکے کی حویلیاں ملکیت میں لائی جا سکتی ہیں۔ ورثے میں بٹ سکتی ہیں اور کرائے پر بھی دی جا سکتی ہیں۔ دلیل یہ دی کہ { اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا کہ کل آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہی مکان میں اتریں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ { عقیل نے ہمارے لیے کون سی حویلی چھوڑی ہے؟ پھر فرمایا کافر مسلمان کا ورث نہیں ہوتا اور نہ مسلمان کافر کا} }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4282] ‏‏‏‏

اور دلیل یہ ہے کہ امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صفوان بن امیہ کامکان چار ہزار درہم میں خرید کر وہاں جیل خانہ بنایا تھا۔ طاؤس اور عمرو بن دینار بھی اس مسئلے میں امام صاحب کے ہم نوا ہیں۔ امام اسحاق بن راہویہ اس کے خلاف کہتے ہیں کہ ورثے میں بٹ نہیں سکتے نہ کرائے پر دئیے جا سکتے ہیں۔ اسلاف میں سے ایک جماعت یہ کہتی ہے مجاہد اور عطا رحمہ اللہ علیہم کا یہی مسلک ہے۔ اس کی دلیل ابن ماجہ کی یہ حدیث ہے { سیدنا علقمہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صدیقی اور فاروقی خلافت میں مکے کی حویلیاں آزاد اور بے ملکیت استعمال کی جاتی رہیں اگر ضرورت ہوتی تو رہتے ورنہ اوروں کو بسنے کے لیے دے دیتے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3107،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نہ تو مکہ شریف کے مکانوں کا بیچنا جائز ہے نہ ان کا کرایہ لینا۔ عطا رحمہ اللہ بھی حرم میں کرایہ لینے کو منع کرتے تھے۔ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ مکہ شریف کے گھروں کے دروازے رکھنے سے روکتے تھے کیونکہ صحن میں حاجی لوگ ٹھیرا کرتے تھے۔ سب سے پہلے گھر کا دروازہ سہیل بن عمرو نے بنایا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی وقت انہیں حاضری کا حکم بھیجا انہوں نے آ کر کہا مجھے معاف فرمایا جائے میں سوداگر شخص ہوں میں نے ضرورتاً یہ دروازے بنائے ہیں تاکہ میرے جانور میرے بس میں رہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر خیر ہم اسے تیرے لیے جائز رکھتے ہیں۔ اور روایت میں حکم فاروقی رضی اللہ عنہ ان الفاظ میں مروی ہے کہ اہل مکہ اپنے مکانوں کے دروازے نہ رکھو تاکہ باہر کے لوگ جہاں چاہیں ٹھیریں۔ عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہری اور غیروطنی ان میں برابر ہیں جہاں چاہیں اتریں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکے شریف کے لوگ گھروں کا کرایہ کھانے والا اپنے پیٹ میں آگ بھرنے والا ہے۔ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ نے ان دونوں کے درمیان کا مسلک پسند فرمایا یعنی ملکیت کو اور ورثے کو تو جائز بتایا ہاں کرایہ کو ناجائز کہا ہے اس سے دلیلوں میں جمع ہو جاتی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«بِإِلْحَادٍ»
میں“با“ زائد ہے جیسے «تَـنْـبُتُ بِالدُّهُنِ» ۱؎ [23-المؤمنون:20] ‏‏‏‏ میں۔ اور اعشی کے شعر «ضَمَنَتْ بِرِزْقِ عِیَالِناً اًرْحُنَا» ، میں یعنی ہمارے گھرانے کی روزیاں ہمارے نیزوں پر موقوف ہیں الخ، اور شعروں کے اشعار میں ”با“ کا ایسے موقعوں پر زائد آنا مستعمل ہوا ہے لیکن اس سے بھی عمدہ بات یہ ہے کہ ہم کہیں کہ یہاں کا فعل «يَهُمُّ» کے معنی کا متضمن ہے اس لیے ”با“ کے ساتھ متعدی ہوا ہے۔ الحاد سے مراد کبیرہ شرمناک گناہ ہے۔ «بِظُلْمٍ» سے مراد قصداً ہے تاویل کی روسے نہ ہونا ہے۔ اور معنی شرک کے غیر اللہ کی عبادت کے بھی کئے گئے ہیں۔ یہ بھی مطلب ہے کہ حرم میں اللہ کے حرام کئے ہوئے کام کو حلال سمجھ لینا جیسے گناہ قتل بے جا ظلم وستم وغیرہ۔ ایسے لوگ درد ناک عذابوں کے سزاوار ہیں۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو بھی یہاں برا کام کرے یہ حرم شریف کی خصوصیت ہے کہ غیروطنی لوگ جب کسی بدکام کا ارادہ بھی کر لیں تو بھی انہیں سزا ہوتی ہے چاہے اسے عملاً نہ کریں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر کوئی شخص عدن میں ہو اور حرم میں الحاد وظلم کا ارادہ رکھتا ہو تو بھی اللہ اسے درد ناک عذاب کا مزہ چکھائے گا۔ شعبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس نے تو اس کو مرفوع بیان کیا تھا لیکن میں اسے مرفوع نہیں کرتا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:141/17:صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ] ‏‏‏‏ اس کی اور سند بھی ہے جو صحیح ہے اور موقوف ہونا بہ نسبت مرفوع ہونے کے زیادہ ٹھیک ہے عموماً قول سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور روایت میں ہے کسی پر برائی کے صرف سے برائی نہیں لکھی جاتی لیکن اگر دور دراز مثلا عدن میں بیٹھ کر بھی یہاں کے کسی شخص کے قتل کا ارادہ کرے تو اللہ اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہاں یا نہیں کہنے پر یہاں قسمیں کھانا بھی الحاد میں داخل ہے۔ سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ اپنے خادم کو یہاں گالی دینا بھی الحاد میں ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے امیر شخص کا یہاں آ کر تجارت کرنا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکے میں اناج کا بیچنا۔ ابن حبیب بن ابوثابت فرماتے ہیں گراں فروشی کے لیے اناج کو یہاں روک رکھنا۔

ابن ابی حاتم میں بھی فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی منقول ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2020،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { یہ آیت عبداللہ بن انیس کے بارے میں اتری ہے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہاجر اور ایک انصار کے ساتھ بھیجا تھا ایک مرتبہ ہر ایک اپنے اپنے نسب نامے پر فخر کرنے لگا اس نے غصے میں آ کر انصاری کو قتل کر دیا اور مکے کی طرف بھاگ کھڑا ہوا اور دین اسلام چھوڑ بیٹھا۔ تو مطلب یہ ہو گا کہ جو الحاد کے بعد مکہ کی پناہ لے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏ ان آثار سے گویہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کام الحاد میں سے ہیں لیکن حقیقتاً یہ ان سب سے زیادہ اہم بات ہے بلکہ اس سے بڑی چیز پر اس میں تنبیہہ ہے۔ اسی لیے جب ہاتھی والوں نے بیت اللہ شریف کی خرابی کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے غول کے غول بھیج دئے «تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ» ۱؎ [105-الفیل:4،5] ‏‏‏‏ جنہوں نے ان پر کنکریاں پھینک کر ان کا بھس اڑا دیا اور وہ دوسروں کے لیے باعث عبرت بنا دئے گئے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ { ایک لشکر اس بیت اللہ کے غزوے کے ارادے سے آئے گا جب وہ بیدا میں پہنچیں گے تو سب کے سب مع اول آخر کے دھنسادئے جائیں گے }۔ [صحیح بخاری:2118] ‏‏‏‏ الخ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { آپ یہاں الحاد کرنے سے بچیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ یہاں ایک قریشی الحاد کرے گا اس کے گناہ اگر تمام جن و انس کے گناہوں سے تولے جائیں تو بھی بڑھ جائیں دیکھو خیال رکھو تم وہی نہ بن جانا }۔ ۱؎ [مسند احمد:136/2:حسن] ‏‏‏‏ اور روایت میں یہ بھی ہے کے نصیحت آپ نے انہیں حطیم میں بیٹھ کر کی تھی۔ ۱؎ [مسند احمد:196/2:حسن] ‏‏‏‏
25۔ 1 روکنے والوں سے مراد کفار مکہ ہیں جنہوں نے 6 ہجری میں مسلمانوں کو مکہ جاکر عمرہ کرنے سے روک دیا تھا، اور مسلمانوں کو حدیبیہ سے واپس آنا پڑا تھا۔ 25۔ 2 اس میں اختلاف ہے کہ مسجد حرام سے مراد خاص مسجد (خانہ کعبہ) ہی ہے یا پورا حرم مکہ۔ کیونکہ قرآن میں بعض جگہ پورے حرم مکہ کے لیے بھی مسجد حرام کا لفظ بولا گیا ہے۔، یعنی جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔ جو شخص بھی کسی جگہ سے حج یا عمرے کے لئے مکہ جائے تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ جہاں چاہے ٹھہر جائے، وہاں رہنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ٹھہرانے سے نہ روکیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ مکانات اور زمینیں ملک خاص ہوسکتی ہیں اور ان میں مالکانہ تصرفات یعنی بیچنا، کرائے پر دینا جائز ہے۔ البتہ وہ مقامات جن کا تعلق مناسک حج سے ہے، مثلاً منی، مزدلفہ اور عرفات کے میدان یہ وقف عام ہیں۔ ان میں کسی کی ملکیت جائز نہیں۔ یہ مسئلہ قدیم فقہاء کے درمیان خاصہ مختلف فیہ رہا ہے۔ تاہم آجکل تقریباً تمام کے تمام علماء ہی ملکیت خاص کے قائل ہوگئے ہیں۔ اور یہ مسئلہ سرے سے اختلافی ہی نہیں رہا۔ مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم نے بھی امام ابوحنیفہ اور فقہاء کا مسلک مختار اسی کو قرار پایا ہے۔ (ملاحظہ ' معارف القرآن جلد 6 صفحہ 253) 25۔ 3 الحاد کے لفظی معنی تو کج روی ہے ہیں یہاں یہ عام ہے، کفر و شرک سے لے کر ہر قسم کے گناہ کے لئے حتٰی کہ بعض عملا الفاظ قرآنی کے پیش نظر اس بات تک قائل ہیں کہ حرم میں اگر کسی گناہ کا ارادہ بھی کرلے گا، (چاہے اس پر عمل نہ کرسکے) تو وہ بھی اس وعید میں شامل ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ محض ارادے پر مؤاخذہ نہیں ہوگا، جیسا کہ دیگر آیات سے واضح ہے۔ تاہم ارادہ اگر عزم مصمم کی حد تک ہو تو پھر گرفت ہوسکتا ہے۔ (فتح القدیر) 25۔ 4 یہ بدلہ ہے ان لوگوں کا جو مذکورہ گناہوں کے مرتکب ہوں گے۔
(آیت 25) ➊ {اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ:} ابن عاشور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ {” وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِيْدِ “} کے مقابلے میں ہے کہ اہل ایمان کو اللہ ({الْحَمِيْدِ}) کے راستے کی ہدایت عطا ہوئی، جب کہ کفار کا یہ حال ہے کہ وہ خود بھی راہ ہدایت اختیار کرنے کا انکار کر چکے ہیں اور لوگوں کو بھی اللہ کے راستے (اسلام) اور مسجد حرام سے مسلسل روک رہے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ مومنوں کے لیے جنت اور کافروں کے لیے عذابِ الیم ہے۔ {” كَفَرُوْا “} ماضی ہے اور {” يَصُدُّوْنَ “} مضارع، یعنی وہ کافر تو گزشتہ زمانے سے ہو چکے، البتہ ان کا لوگوں کو اسلام سے اور مسجد حرام سے روکنے کا عمل مسلسل جاری ہے۔ ماضی پر مضارع کے عطف کی ایک اور مثال اس آیت میں ہے: «{ اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ }» [ الرعد: ۲۸ ] کفار مسلمانوں کو ہجرت سے پہلے بھی مسجد حرام میں آنے، نماز پڑھنے اور طواف کرنے سے روکتے تھے، (علق: ۹، ۱۰) اور ہجرت کے بعد بھی جب وہ سن ۶ ہجری میں عمرہ کرنے کے لیے آئے تو کفار نے انھیں عمرہ کرنے سے منع کر دیا۔ دیکھیے سورۂ فتح (۲۵، ۲۶) اور بقرہ (۲۱۷) نتیجہ یہ کہ اللہ کے راستے سے روکنے کی وجہ سے کفار عذاب الیم کے حق دار ٹھہرے جب کہ مسلمان اللہ کے راستے ({صِرَاطِ الْحَمِيْدِ}) پر چلنے کی وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے۔ ➋ { وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِيْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ …:} اگرچہ اللہ کے راستے سے روکنے میں مسجد حرام سے روکنا بھی شامل تھا مگر اسے علیحدہ ذکر فرمایا۔ مقصود مسجد حرام کی عظمت کو نمایاں کرنا ہے اور اس مناسبت سے اس کی تعمیر، حج کی ابتدا، طواف اور دوسرے چند احکام، پھر قربانی، اس کی حکمت اور اہمیت کی طرف منتقل ہونا ہے۔ ➌ { ” الْعَاكِفُ “} کا لفظی معنی ”اپنے آپ کو روک کر رکھنے والا“ ہے اور مراد مکہ کا باشندہ ہے، کیونکہ اس کے مقابلے میں {”الْبَادِ “} آ رہا ہے، یعنی ”بادیہ“ (باہر) سے آنے والا۔ کفار کے ظلم کا بیان ہے کہ وہ اس مسجد سے لوگوں کو روکتے ہیں جس میں عبادت، طواف، عمرہ اور حج کے لیے آنا سب لوگوں کا برابر حق ہے، خواہ مکہ کے رہائشی ہوں یا باہر سے آنے والے۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَا بَنِيْ عَبْدِ مَنَافٍ! لَا تَمْنَعُوْا أَحَدًا طَافَ بِهٰذَا الْبَيْتِ وَصَلَّی أَيَّةَ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ ] [ ترمذي، الحج، باب ما جاء في الصلاۃ بعد العصر…: ۸۶۸ ] ”اے بنی عبد مناف! کسی شخص کو مت روکو جو رات یا دن کی کسی گھڑی میں اس گھر کا طواف کرنا چاہے یا (اس میں) نماز پڑھنا چاہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ مسجد حرام میں نماز کے ممنوعہ اوقات میں بھی نماز اور طواف جائز ہے۔ ➍ تیسیر القرآن میں ہے کہ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے حقوق ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ اور باہر سے آنے والے لوگوں کو برابر کے حصے دار قرار دیا ہے اور آیا ان حقوق کا اور ان کی برابری کا تعلق صرف بیت الحرام یا کعبہ سے ہے یا پورے حرم مکہ سے؟ جہاں تک صرف بیت اللہ کا تعلق ہے اور اس میں نماز، طواف اور ارکان حج بجا لانے کا تعلق ہے تو اس میں اہل مکہ اور بیرونی حضرات کے اس حق عبادت میں کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ اہل مکہ کو قطعاً یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ بیرونی حضرات کو حرم میں داخل ہونے، نمازیں ادا کرنے، طواف کرنے یا ارکان حج و عمرہ بجا لانے سے روکیں، کیونکہ اس حق میں اہل مکہ اور بیرونی حضرات سب برابر کے حصے دار ہیں۔ اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا اس حق کا تعلق پورے حرم مکہ سے بھی ہے یا نہیں؟ یعنی کیا پورے حرم مکہ کے دروازے باہر سے آنے والے حضرات کے لیے کھلے رہنے چاہییں کہ وہ جب چاہیں حرم مکہ کے اندر موجود جس جگہ چاہیں آ کر ڈیرے ڈال دیں اور رہیں سہیں اور ان سے کوئی کرایہ وغیرہ بھی وصول نہ کیا جائے؟ اس اختلاف کی دو وجہیں ہیں، ایک یہ کہ ارکان حج میں سے بیشتر کا تعلق صرف بیت اللہ سے نہیں بلکہ حرم مکہ سے ہے۔ صفا، مروہ، منیٰ، مزدلفہ، مشعر حرام سب بیت اللہ کی حدود سے باہر ہیں، جب کہ حرم مکہ میں داخل ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود بعض مقامات پر مسجد حرام کا ذکر کرکے اس سے حرم مکہ مراد لیا ہے، مثلاً ارشاد باری ہے: «{ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ}» [ البقرۃ:۱۹۶] ”یہ (رعایت) اس شخص کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے رہنے والے نہ ہوں۔“ اور یہ تو ظاہر ہے کہ کوئی شخص مسجد حرام کے اندر رہائش پذیر نہیں ہوتا، یہاں لازماً مسجد حرام سے مراد حرم مکہ ہی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا: «{ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ }» [ البقرۃ: ۲۱۷ ] ”اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک (ماہ حرام میں جنگ کرنے سے) زیادہ بڑا ہے۔“ پھر اس سے اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا حرم میں زمین اور مکان کی خرید و فروخت اور اس سے آگے ان کی ملکیت و وراثت بھی جائز ہے یا نہیں؟ تو یہ بات تو صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ اسلام سے پہلے مکہ کے مکانات اور زمینوں پر لوگوں کے ملکیت و وراثت اور بیچنے اور کرایہ پر دینے کے حقوق قائم تھے جو اسلام کے بعد بھی قائم رہے، اسلام نے انھیں منسوخ نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد عقیل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر قبضہ کر لیا، پھر اسے بیچ بھی دیا، چنانچہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ سے پوچھا گیا کہ آپ کہاں قیام فرمائیں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَهَلْ تَرَكَ عَقِيْلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُوْرٍ ] [ بخاري، الحج، باب توریث دور مکۃ و بیعہا و شرائہا…: ۱۵۸۸ ] ”کیا عقیل نے ہمارا کوئی مکان چھوڑا بھی ہے (جس میں ہم رہیں)؟“ نیز عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نافع بن عبد الحارث نے مکہ میں صفوان بن امیہ سے ایک گھر جیل خانہ بنانے کے لیے اس شرط پر خریدا کہ اگر عمر رضی اللہ عنہ اس خریداری کو منظور کریں گے تو بیع پوری ہو گی، بصورت دیگر صفوان کو چار سو دینار مل جائیں گے۔ [ بخاري، في الخصومات، باب الربط والحبس في الحرم، قبل ح: ۲۴۲۳ ] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حرم میں مکانوں کی خرید و فروخت جائز ہے (وہ چار سو دینار عمر رضی اللہ عنہ کا حکم آنے تک کے عرصے کا کرایہ شمار ہوں گے یا اتنی دیر تک فروخت سے روک رکھنے کا زر تلافی)۔ کچھ حضرات نے بخاری کی صحیح روایات کے مقابلے میں ضعیف روایات کے ساتھ مکہ کے مکانات کی خرید و فروخت اور انھیں کرایہ پر دینے کو حرام ٹھہرایا ہے، ان روایات میں سے ایک بھی صحیح سند کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، کوئی منقطع ہے، کوئی مرسل اور کسی میں کوئی راوی ضعیف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کے قول سے دین کا مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مکہ کے مکانوں کا کرایہ نہ لینا مستحب ہے، تاہم اس کے جواز سے انکار مشکل ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ کا اپنا موقف یہ ہے کہ حرم مکہ میں مکانوں کی خرید و فروخت اور وراثت وغیرہ جائز ہے، جیسا کہ عنوان {”بَابُ تَوْرِيْثِ دُوْرِ مَكَّةَ وَ بَيْعِهَا وَ شِرَائِهَا“} (اس بات کا بیان کہ مکہ میں موجود مکانات میراث ہو سکتے ہیں اور ان کی خرید و فروخت جائز ہے) سے معلوم ہو رہا ہے۔ ➎ {وَ مَنْ يُّرِدْ فِيْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ …: ”اِلْحَادٌ“} سیدھے راستے سے ہٹ جانا۔ ظلم کا لفظ عام ہے جس میں سب سے پہلے کفر و شرک آتا ہے، پھر کوئی بھی کام کرنا جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے، یا کوئی کام ترک کرنا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، اس میں بدعت بھی شامل ہے اور گناہ کا کوئی اور کام بھی، مثلاً حرم کی حرمت کا خیال نہ رکھنا، یعنی حرم کے جانوروں کو ذبح کرنا، اس کے درختوں کو کاٹنا، کسی کی گم شدہ چیز اٹھانا، الا یہ کہ اسے استعمال نہ کرے اور اس کا اعلان ہمیشہ کرتا رہے، اس میں ذخیرہ اندوزی کرنا۔ غرض دوسری جگہوں میں ٹیڑھی راہ اختیار کرنا عذابِ الیم کا باعث ہے مگر حرم مکہ میں اس کا ارادہ بھی عذابِ الیم کا باعث ہے۔
وَ اِذۡ بَوَّاۡنَا لِاِبۡرٰہِیۡمَ مَکَانَ الۡبَیۡتِ اَنۡ لَّا تُشۡرِکۡ بِیۡ شَیۡئًا وَّ طَہِّرۡ بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَ الۡقَآئِمِیۡنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ ﴿۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یاد کرو وہ وقت جب ہم نے ابراہیمؑ کے لیے اِس گھر (خانہ کعبہ) کی جگہ تجویز کی تھی (اِس ہدایت کے ساتھ) کہ "میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جبکہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو کعبہ کے مکان کی جگہ مقرر کر دی اس شرط پر کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو طواف قیام رکوع سجده کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھنا
احمد رضا خان بریلوی
اور جب کہ ہم نے ابراہیم کو اس گھر کا ٹھکانا ٹھیک بتادیا اور حکم دیا کہ میرا کوئی شریک نہ کر اور میرا گھر ستھرا رکھ طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع سجدے والوں کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے ابراہیم (ع) کیلئے خانہ کعبہ کی جگہ معین کر دی۔ (اور حکم دیا کہ) میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کیلئے پاک رکھنا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ہم نے ابراہیم کے لیے بیت اللہ کی جگہ متعین کر دی کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کر اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع، سجود کرنے والوں کے لیے پاک کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسجدالحرام کی اولین بنیاد توحید ٭٭

یہاں مشرکین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ ’ وہ گھر جس کی بنیاد اول دن سے اللہ کی توحید پر رکھی گئی ہے تم نے اس میں شرک جاری کر دیا۔ اس گھر کے بانی خلیل اللہ علیہ السلام ہیں سب سے پہلے آپ علیہ السلام نے ہی اسے بنایا ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ فرمایا: { مسجد الحرام }۔ میں نے کہا پھر؟ فرمایا: { بیت المقدس }۔ میں نے کہا ان دونوں کے درمیان کس قدر مدت کا فاصلہ ہے؟ فرمایا: { چالیس سال کا } }۔ [صحیح بخاری:3366] ‏‏‏‏ اللہ کا فرمان ہے آیت «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ» ۱؎ [3-آل عمران:97،96] ‏‏‏‏، دو آیتوں تک۔ اور آیت میں ہے «وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ» ۱؎ [2-البقرہ:125] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ابراہیم واسماعیل علیہم السلام سے وعدہ لیا کہ میرے گھر کو پاک رکھنا ‘ الخ۔ بیت اللہ شریف کی بنا کا کل ذکر ہے ہم پہلے لکھ چکے ہیں اس لیے یہاں دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں فرمایا ’ اسے صرف میرے نام پر بنا اور اسے پاک رکھ یعنی شرک وغیرہ سے اور اسے خاص کر دے ان کے لیے جو موحد ہیں ‘۔ طواف وہ عبادت ہے جو ساری زمین پر بجز بیت اللہ کے میسر ہی نہیں ناجائز ہے۔ پھر طواف کے ساتھ نماز کو ملایا قیام، رکوع، سجدے، کا ذکر فرمایا اس لیے کہ جس طرح طواف اس کے ساتھ مخصوص ہے نماز کا قبلہ بھی یہی ہے ہاں اس کی حالت میں کہ انسان کو معلوم نہ ہو یا جہاد میں ہو یا سفر میں ہو نفل نماز پڑھ رہا ہو تو بیشک قبلہ کی طرف منہ نہ ہونے کی حالت میں بھی نماز ہو جائے گی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور یہ حکم ملا کہ ’ اس گھر کے حج کی طرف تمام انسانوں کو بلا ‘۔ مذکور ہے کہ آپ علیہ السلام نے اس وقت عرض کی کہ باری تعالیٰ میری آواز ان تک کیسے پہنچے گی؟ جواب ملا کہ ’ آپ کے ذمہ صرف پکارنا ہے آواز پہنچانا میرے ذمہ ہے ‘۔ آپ علیہ السلام نے مقام ابراہیم پر یا صفا پہاڑی پر ابو قیس پہاڑ پر کھڑے ہو کر ندا کی کہ ”لوگو! تمہارے رب نے اپنا ایک گھر بنایا ہے پس تم اس کا حج کرو۔‏‏‏‏“ پہاڑ جھک گئے اور آپ کی آواز ساری دنیا میں گونج گئی۔ یہاں تک کہ باپ کی پیٹھ میں اور ماں کے پیٹ میں جو تھے انہیں بھی سنائی دی۔ ہرپتھر درخت اور ہر اس شخص نے جس کی قسمت میں حج کرنا لکھا تھا باآواز لبیک پکارا۔ بہت سے سلف سے یہ منقول ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرمایا پیدل لوگ بھی آئیں گے اور سواریوں پر سوار بھی آئیں گے۔ اس سے بعض حضرات نے استدلال کیا ہے کہ جسے طاقت ہو اس کے لیے پیدل حج کرنا سواری پر حج کرنے سے افضل ہے اس لیے کہ پہلے پیدل والوں کا ذکر ہے پھر سواروں کا۔ تو ان کی طرف توجہ زیادہ ہوئی اور ان کی ہمت کی قدر دانی کی گئی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میری یہ تمنا رہ گئی کہ کاش کہ میں پیدل حج کرتا۔ اس لیے کہ فرمان الٰہی میں پیدل والوں کا ذکر ہے۔ لیکن اکثر بزرگوں کا قول ہے کہ سواری پر افضل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود کمال قدرت وقوت کے پا پیادہ حج نہیں کیا تو سواری پر حج کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری اقتداء ہے۔ پھر فرمایا دور دراز سے حج کے لیے آئیں گے خلیل اللہ علیہ السلام کی دعا بھی یہی تھی کہ آیت «فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ» ۱؎ [14-ابراھیم:37] ‏‏‏‏ ’ لوگوں کے دلوں کو اے اللہ تو ان کی طرف متوجہ کر دے ‘۔ آج دیکھ لو وہ کون سا مسلمان ہے جس کا دل کعبے کی زیارت کا مشتاق نہ ہو؟ اور جس کے دل میں طواف کی تمنائیں تڑپ نہ رہی ہوں۔ (‏‏‏‏اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے)۔
26۔ 1 یعنی بیعت اللہ کی جگہ بتلا دی اور وہاں ہم نے ذریت ابراہیم ؑ کو ٹھہرایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طوفان نوح ؑ کی ویرانی کے بعد خانہ کعبہ کی تعمیر سب سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ کے ہاتھوں سے ہوئی ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث سے بھی ثابت ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' سب سے پہلی مسجد جو زمین میں بنائی گئی، مسجد حرام ہے، اور اس کے چالیس سال بعد مسجد اقصٰی تعمیر ہوئی ' (مسند احمد 5۔ 150، 166، 167 و مسلم کتاب المساجد) 4 یہ خانہ کعبہ کی تعمیر کی غرض بیان کی کہ اس میں صرف میری عبادت کی جائے اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ مشرکین نے اس میں جو بت سجا رکھے ہیں جن کی وہ یہاں آکر عبادت کرتے ہیں یہ ظلم صریح ہے کہ جہاں صرف اللہ کی عبادت کرنی چاہیے تھی وہاں بتوں کی عبادت کی جاتی ہے۔ 26۔ 2 کفر بت پرستی اور دیگر گندگیوں اور نجاستوں سے۔ یہاں ذکر صرف نماز پڑھنے والوں کا کیا ہے، کیونکہ یہ دونوں عبادت خانہ کعبہ کے ساتھ خاص ہیں، نماز میں رخ اس کی طرف ہوتا ہے اور طواف صرف اسی کے گرد کیا جاتا ہے۔ لیکن اہل بدعت نے اب بہت سی قبروں کا طواف بھی ایجاد کرلیا ہے اور بعض نمازوں کے لیے قبلہ بھی کوئی اور۔ اعاذنا اللہ منہما
(آیت 26) ➊ {وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ:بَوَّاْنَا “} (تفعیل) جگہ دینا، جگہ مقرر کرنا، یعنی وہ وقت یاد کرو جب ہم نے ابراہیم علیہ السلام کے لیے بیت اللہ کی جگہ متعین کی۔ بیت اللہ اس سے پہلے تعمیر ہو چکا تھا، بلکہ زمین پر اللہ کا سب سے پہلا گھر یہی تھا اور ظاہر ہے کہ ابراہیم علیہ السلام سے بہت پہلے آدم علیہ السلام اور دوسرے انبیاء علیھم السلام اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے۔ اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ بیت اللہ کی پہلی تعمیر آدم علیہ السلام نے کی یا اس سے پہلے فرشتوں نے اسے تعمیر کیا تھا۔ ایک ٹیلے پر اس کی بنیادیں موجود تھیں جس پر ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام نے کعبہ کی عمارت تعمیر فرمائی۔ صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنھما کی لمبی حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کعبہ ابراہیم علیہ السلام سے پہلے ایک اونچی جگہ تعمیر ہوا تھا۔ چنانچہ اس حدیث میں زمزم کے نمودار ہونے کے بعد فرشتے کے ام اسماعیل علیھما السلام کو تسلی دینے کا ذکر ہے: [ فَقَالَ لَهَا الْمَلَكُ لاَ تَخَافُوا الضَّيْعَةَ فَإِنَّ هٰهُنَا بَيْتَ اللّٰهِ، يَبْنِيْ هٰذَا الْغُلَامُ وَ أَبُوْهُ وَ إِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ أَهْلَهُ وَ كَانَ الْبَيْتُ مُرْتَفِعًا مِنَ الْأَرْضِ كَالرَّابِيَةِ تَأْتِيْهِ السُّيُوْلُ فَتَأْخُذُ عَنْ يَّمِيْنِهِ وَ عَنْ شِمَالِهِ فَكَانَتْ كَذٰلِكَ حَتّٰی مَرَّتْ بِهِمْ رُفْقَةٌ مِنْ جُرْهُمَ ] [ بخاري، الأنبیاء، باب «‏‏‏‏یزفون» ‏‏‏‏:۳۳۶۴ ] ” تو فرشتے نے اس سے کہا، تم ضائع ہونے سے مت ڈرو، کیونکہ یہاں اللہ کا گھر ہے، یہ لڑکا اور اس کا باپ اسے بنائے گا اور اللہ اس کے رہنے والوں کو ضائع نہیں کرے گا۔ بیت اللہ زمین سے ٹیلے کی طرح بلند تھا، سیلاب آتے اور اس کے دائیں بائیں طرف ہو جاتے۔ ام اسماعیل ایسے ہی رہیں، حتیٰ کہ جرہم قبیلے کے کچھ لوگ ان کے پاس سے گزرے۔“ اس حدیث کے آخر میں بیت اللہ کی تعمیر کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ زمزم کے نمودار ہونے کے وقت بھی ایک ٹیلے پر بیت اللہ موجود تھا مگر اس کی از سر نو تعمیر اسماعیل علیہ السلام کے جوان ہونے پر ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام نے کی۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۲۷) کی تفسیر۔ ➋ { اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـًٔا …: ” الرُّكَّعِ “ ” رَاكِعٌ “} کی جمع ہے، جیسے {”سُجَّدٌ“} ہے۔ {” السُّجُوْدِ”سَاجِدٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”رَاقِدٌ“} اور {”جَالِسٌ“ } کی جمع {” رُقُوْدٌ “} اور {”جُلُوْسٌ“} ہے۔ طواف کا معنی کسی چیز کے گرد پھرنا، چکر لگانا ہے۔ یعنی اس گھر کی بنیاد خالص توحید پر رکھو، ہر شخص یہاں آ کر صرف اللہ کی عبادت کرے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ مگر کفار مکہ نے اس کے گرد تین سو ساٹھ بت رکھ دیے جن کا وہ طواف کرتے تھے، اب بھی کئی مسلمان کہلانے والے قبروں اور آستانوں کا طواف کرتے ہیں، حالانکہ طواف اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے ایک گھر کا رکھا ہے، جسے کعبۃ اللہ کہتے ہیں، اس کے سوا کسی جگہ کا یا شخص کا طواف جائز نہیں۔ کعبہ کو {” بَيْتِيَ “} (میرا گھر) کہنے میں اس کی جو شان بیان ہوئی ہے اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ یعنی بیت اللہ کی تعمیر کے ساتھ ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور میرے گھر کو طواف، قیام، سجدہ اور رکوع کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھو۔ بیت اللہ کو صاف ستھرا رکھنے سے مراد عام صفائی کے علاوہ شرک و بت پرستی سے پاک صاف رکھنا بھی ہے۔ اس سے مشرکین کو عار دلانا مقصود ہے کہ یہ شرط تو ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے چلی آتی ہے کہ اس میں بت پرستی حرام ہے۔ نیز دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۲۵)کی تفسیر۔
وَ اَذِّنۡ فِی النَّاسِ بِالۡحَجِّ یَاۡتُوۡکَ رِجَالًا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ ﴿ۙ۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور لوگوں میں حج کی منادی کر دے لوگ تیرے پاس پا پیاده بھی آئیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر بھی اور دور دراز کی تمام راہوں سے آئیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور لوگوں میں حج کی عام ندا کردے وہ تیرے پاس حاضر ہوں گے پیادہ اور ہر دبلی اونٹنی پر کہ ہر دور کی راہ سے آتی ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ کہ لوگ (آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے) آپ کے پاس آئیں گے۔ پیادہ پا اور ہر لاغر سواری پر کہ وہ سواریاں دور دراز سے آئی ہوں گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دے، وہ تیرے پاس پیدل اور ہر لاغر سواری پر آئیں گے، جو ہر دور دراز راستے سے آئیں گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسجدالحرام کی اولین بنیاد توحید ٭٭

یہاں مشرکین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ ’ وہ گھر جس کی بنیاد اول دن سے اللہ کی توحید پر رکھی گئی ہے تم نے اس میں شرک جاری کر دیا۔ اس گھر کے بانی خلیل اللہ علیہ السلام ہیں سب سے پہلے آپ علیہ السلام نے ہی اسے بنایا ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ فرمایا: { مسجد الحرام }۔ میں نے کہا پھر؟ فرمایا: { بیت المقدس }۔ میں نے کہا ان دونوں کے درمیان کس قدر مدت کا فاصلہ ہے؟ فرمایا: { چالیس سال کا } }۔ [صحیح بخاری:3366] ‏‏‏‏ اللہ کا فرمان ہے آیت «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ» ۱؎ [3-آل عمران:97،96] ‏‏‏‏، دو آیتوں تک۔ اور آیت میں ہے «وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ» ۱؎ [2-البقرہ:125] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ابراہیم واسماعیل علیہم السلام سے وعدہ لیا کہ میرے گھر کو پاک رکھنا ‘ الخ۔ بیت اللہ شریف کی بنا کا کل ذکر ہے ہم پہلے لکھ چکے ہیں اس لیے یہاں دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں فرمایا ’ اسے صرف میرے نام پر بنا اور اسے پاک رکھ یعنی شرک وغیرہ سے اور اسے خاص کر دے ان کے لیے جو موحد ہیں ‘۔ طواف وہ عبادت ہے جو ساری زمین پر بجز بیت اللہ کے میسر ہی نہیں ناجائز ہے۔ پھر طواف کے ساتھ نماز کو ملایا قیام، رکوع، سجدے، کا ذکر فرمایا اس لیے کہ جس طرح طواف اس کے ساتھ مخصوص ہے نماز کا قبلہ بھی یہی ہے ہاں اس کی حالت میں کہ انسان کو معلوم نہ ہو یا جہاد میں ہو یا سفر میں ہو نفل نماز پڑھ رہا ہو تو بیشک قبلہ کی طرف منہ نہ ہونے کی حالت میں بھی نماز ہو جائے گی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور یہ حکم ملا کہ ’ اس گھر کے حج کی طرف تمام انسانوں کو بلا ‘۔ مذکور ہے کہ آپ علیہ السلام نے اس وقت عرض کی کہ باری تعالیٰ میری آواز ان تک کیسے پہنچے گی؟ جواب ملا کہ ’ آپ کے ذمہ صرف پکارنا ہے آواز پہنچانا میرے ذمہ ہے ‘۔ آپ علیہ السلام نے مقام ابراہیم پر یا صفا پہاڑی پر ابو قیس پہاڑ پر کھڑے ہو کر ندا کی کہ ”لوگو! تمہارے رب نے اپنا ایک گھر بنایا ہے پس تم اس کا حج کرو۔‏‏‏‏“ پہاڑ جھک گئے اور آپ کی آواز ساری دنیا میں گونج گئی۔ یہاں تک کہ باپ کی پیٹھ میں اور ماں کے پیٹ میں جو تھے انہیں بھی سنائی دی۔ ہرپتھر درخت اور ہر اس شخص نے جس کی قسمت میں حج کرنا لکھا تھا باآواز لبیک پکارا۔ بہت سے سلف سے یہ منقول ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرمایا پیدل لوگ بھی آئیں گے اور سواریوں پر سوار بھی آئیں گے۔ اس سے بعض حضرات نے استدلال کیا ہے کہ جسے طاقت ہو اس کے لیے پیدل حج کرنا سواری پر حج کرنے سے افضل ہے اس لیے کہ پہلے پیدل والوں کا ذکر ہے پھر سواروں کا۔ تو ان کی طرف توجہ زیادہ ہوئی اور ان کی ہمت کی قدر دانی کی گئی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میری یہ تمنا رہ گئی کہ کاش کہ میں پیدل حج کرتا۔ اس لیے کہ فرمان الٰہی میں پیدل والوں کا ذکر ہے۔ لیکن اکثر بزرگوں کا قول ہے کہ سواری پر افضل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود کمال قدرت وقوت کے پا پیادہ حج نہیں کیا تو سواری پر حج کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری اقتداء ہے۔ پھر فرمایا دور دراز سے حج کے لیے آئیں گے خلیل اللہ علیہ السلام کی دعا بھی یہی تھی کہ آیت «فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ» ۱؎ [14-ابراھیم:37] ‏‏‏‏ ’ لوگوں کے دلوں کو اے اللہ تو ان کی طرف متوجہ کر دے ‘۔ آج دیکھ لو وہ کون سا مسلمان ہے جس کا دل کعبے کی زیارت کا مشتاق نہ ہو؟ اور جس کے دل میں طواف کی تمنائیں تڑپ نہ رہی ہوں۔ (‏‏‏‏اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے)۔
27۔ 1 جو چارے کی قلت اور سفر کی دوری اور تھکاوٹ سے لاغر اور کمزور ہوجائیں گے۔ 27۔ 2 یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ مکہ کے پہاڑ کی چوٹی سے بلند ہونے والی یہ نحیف سی صدا، دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گئی، جس کا مشاہدہ حج اور عمرے میں ہر حاجی اور معتمر کرتا ہے۔
(آیت 27) ➊ {وَ اَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ …:} حج کا لفظی معنی قصد ہے، مراد اللہ کے گھر کا قصد ہے، اس نیت سے کہ وہ قولی، بدنی اور مالی عبادات ادا کریں گے جو اللہ تعالیٰ نے یہاں مقرر فرمائی ہیں۔ {” رِجَالًا”رَاجِلٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”نَائِمٌ“} کی جمع {”نِيَامٌ“} ہے، یعنی پیدل چلنے والے۔ {” ضَامِرٍ “} سواری کا وہ جانور جسے چارے کی قلت اور سفر نے تھکا کر دبلا کر دیا ہو۔ {” فَجٍّ “} دو پہاڑوں کے درمیان کھلے راستے کو کہتے ہیں، مکہ کے راستے میں اکثر پہاڑوں سے گزر ہوتا ہے، اس لیے اس کے راستوں کو {”فَجٍّ “} کہہ دیا ہے۔ {” عَمِيْقٍ “} کا لفظی معنی گہرا ہے، مراد دور کا سفر ہے، دور کی مسافت کو کنویں کی گہرائی سے مشابہت دی ہے۔ پنجابی میں اسے ”ڈونگھے پینڈے“ کہتے ہیں۔ ➋ حج کے اعلان سے پہلے اپنے گھر کو طواف، قیام، رکوع اور سجدہ کرنے کے لیے آنے والوں کی خاطر پاک صاف کرنے کا حکم دیا۔ معلوم ہوا مہمانوں کی آمد سے پہلے گھر کی صفائی ہونی چاہیے۔ ➌ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو کعبہ کی تعمیر کے بعد حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کرو، وہ تمھارے پاس پیدل اور ان بے شمار سواریوں پر سوار ہو کر آئیں گے جو بہت گہرے اور دور دراز راستوں کو طے کرتی ہوئی آئیں گی اور سفر کی دوری کی وجہ سے لاغر ہو چکی ہوں گی۔ {” كُلِّ ضَامِرٍ “} سے مراد لاغر سواریوں کی کثرت ہے، کیونکہ ہر لاغر سواری تو مکہ نہیں جاتی۔ عربی میں {”كُلٌّ“} کا لفظ کثرت کے لیے بھی آتا ہے، جیسا کہ عنترہ کے ان شعروں میں {” كُلٌّ “} کا لفظ تین دفعہ کثرت کے معنی میں آیا: { جَادَتْ عَلَيْهِ كُلُّ بَكْرَةِ حَرَّةٍ فَتَرَكْنَ كُلَّ قَرَارَةٍ كَالدِّرْهَمِ سَحًّا وَ تَسْكَابًا فَكُلَّ عَشِيَّةٍ يَجْرِيْ عَلَيْهَا الْمَاءُ لَمْ يَتَصَرَّمِ} (ابن عاشور) ابراہیم علیہ السلام نے یہ اعلان کیسے کیا؟ اس کے متعلق تفسیر ابن کثیر میں ہے: ”جب اللہ تعالیٰ نے حج کی دعوت کے لیے اعلان کرنے کا حکم دیا تو ذکر کیا جاتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے عرض کی، پروردگارا! میں لوگوں تک یہ پیغام کیسے پہنچاؤں، میری تو آواز ہی ان تک نہیں پہنچے گی؟ فرمایا، تم منادی کرو، پیغام پہنچانا ہمارا کام ہے۔ تو آپ نے اپنے مقام پر، بعض نے کہا پتھر پر، بعض نے کہا صفا پر اور بعض نے کہا جبل ابی قبیس پر کھڑے ہو کر اعلان کیا: ”لوگو! تمھارے رب نے گھر بنایا ہے، تم اس کا حج کرو۔“ کہا جاتا ہے کہ پہاڑ جھک گئے، حتیٰ کہ یہ آواز زمین کے کناروں تک پہنچ گئی اور جو ماؤں کے شکم یا باپوں کی پشت میں تھے ان کے کانوں میں بھی پہنچ گئی۔ ہر پتھر، اینٹ یا درخت جس نے اسے سنا اس نے بھی اور جس شخص کے متعلق اللہ نے قیامت تک حج کرنا لکھا تھا، سب نے جواب میں کہا: {” لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ “} یہ ان روایتوں کا مضمون ہے جو ابن عباس، مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر اور کئی ایک سلف سے آئی ہیں۔ (واللہ اعلم) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے انھیں پورے طول سے نقل کیا ہے۔“ ابن کثیر رحمہ اللہ کے بیان سے ظاہر ہے کہ اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات مروی نہیں، اوپر نقل کردہ روایات میں ”ذکر کیا جاتا ہے“، ”بعض نے کہا“، ”کہا جاتا ہے“ اور ”واللہ اعلم“ کے الفاظ ابن کثیر کی ان روایات کی صحت میں تردد کو ظاہر کر رہے ہیں۔ تابعین نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ اس اعلان کے وقت وہاں موجود نہیں تھے اور نہ انھوں نے اپنا ذریعہ بتایا ہے۔ رہی ابن عباس رضی اللہ عنھما کی روایت تو اس کے متعلق تفسیر ابن کثیر کے محقق دکتور حکمت بن بشیر لکھتے ہیں کہ اسے ابن ابی شیبہ (مصنف: ۱۱؍۵۱۸) اور حاکم (المستدرک: ۲؍۳۸۸) دونوں نے جریر عن قابوس عن ابیہ عن ابن عباس کے طریق سے مختصراً بیان کیا ہے، حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، لیکن قابوس {” لَيِّنُ الْحَدِيْثِ “} (کمزور حدیث والا) ہے، جیسا کہ تقریب میں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے یہ روایت ثابت بھی ہو تو معلوم نہیں انھوں نے یہ کہاں سے لی ہے؟ کیونکہ نہ خود اس وقت موجود تھے اور نہ انھوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ابراہیم علیہ السلام کی آواز ساری دنیا اور تمام ارواح تک پہنچانا کچھ مشکل نہیں، مگر یہ بات کسی معتبر طریقے سے ثابت ہونا ضروری ہے۔ ابن عاشور رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام {”رَحَّالَةٌ“} تھے، یعنی بہت سفر کیا کرتے تھے، چنانچہ انھوں نے حسب استطاعت اس حکم پر عمل کیا اور ہر اس مقام پر حج کا اعلان کیا جہاں وہ اپنے سفروں کے دوران گزرے یا پہنچے۔ پھر ان کے بعد ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان فرمایا، اب دنیا کا کوئی کونا ایسا نہیں جہاں یہ اعلان نہ پہنچا ہو اور جہاں سے لوگ سفر کرکے حج کے لیے نہ پہنچتے ہوں۔ سعودی حکومت کا اندازہ ہے کہ دس پندرہ سال تک حاجیوں کی تعداد سالانہ ایک کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ سارا سال عمرہ کے لیے آنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ {” يَاْتُوْكَ رِجَالًا “} (تیرے پاس آئیں گے) سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام ہر سال حج کے موقع پر خود وہاں موجود ہوتے تھے، یا مراد ہے کہ حج پر جانے والا ہر شخص ابراہیم علیہ السلام کی دعوت پر گویا انھی کے پاس جاتا ہے۔
لِّیَشۡہَدُوۡا مَنَافِعَ لَہُمۡ وَ یَذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ فِیۡۤ اَیَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَہُمۡ مِّنۡۢ بَہِیۡمَۃِ الۡاَنۡعَامِ ۚ فَکُلُوۡا مِنۡہَا وَ اَطۡعِمُوا الۡبَآئِسَ الۡفَقِیۡرَ ﴿۫۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں اُن کے لیے رکھے گئے ہیں اور چند مقرر دنوں میں اُن جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اُس نے انہیں بخشے ہیں، خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اپنے فائدے حاصل کرنے کو آجائیں اور ان مقرره دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں اور چوپایوں پر جو پالتو ہیں۔ پس تم آپ بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ
احمد رضا خان بریلوی
تاکہ وہ اپنا فائدہ پائیں اور اللہ کا نام لیں جانے ہوئے دنوں میں اس پر کہ انہیں روزی دی بے زبان چوپائے تو ان میں سے خود کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو کھلاؤ
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ وہ اپنے فائدوں کیلئے حاضر ہوں اور مقررہ (دنوں میں خدا کا نام لیں) ان چوپایوں پر (ذبح کے وقت) جو اللہ نے انہیں عنایت فرمائے۔ پس خود بھی ان سے کھاؤ اور حاجت مند فقیر کو بھی کھلاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ وہ اپنے بہت سے فائدوں میں حاضر ہوں اور چند معلوم دنوں میں ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں، سو ان میں سے کھاؤ اور تنگ دست محتاج کو کھلاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دنیا اور آخرت کے فائدے ٭٭

دنیا اور آخرت کے فوائد حاصل کرنے کے لیے آئیں۔ اللہ کی رضا کے ساتھ ہی دنیاوی مفاد تجارت وغیرہ کا فائدہ اٹھائیں۔ جیسے فرمایا آیت «لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۠ وَاذْكُرُوْهُ كَمَا ھَدٰىكُمْ وَاِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّالِّيْنَ» ۱؎ [2-البقرة:198] ‏‏‏‏ موسم حج میں تجارت کرنا ممنوع نہیں۔ مقررہ دنوں سے مراد ذی الحجہ کا پہلا عشرہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { کسی دن کا عمل اللہ کے نزدیک ان دنوں کے عمل سے افضل نہیں۔ لوگوں نے پوچھا جہاد بھی نہیں؟ فرمایا: { جہاد بھی نہیں، بجز اس مجاہد کے عمل کے جس نے اپنی جان و مال اللہ کی راہ میں قربان کر دیا ہو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:969] ‏‏‏‏ میں نے اس حدیث کو اس کی تمام سندوں کے ساتھ ایک مستقل کتاب میں جمع کر دیا ہے۔ چنانچہ ایک روایت میں ہے { کسی دن کا عمل اللہ کے نزدیک ان دنوں سے بڑا اور پیارا نہیں پس تم ان دس دنوں میں «‏‏‏‏ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» » ‏‏‏‏ «اﷲُ اَکْبَرُ» اور «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» بکثرت پڑھا کرو }۔ ۱؎ [مسند احمد:75/2:صحیح] ‏‏‏‏ انہی دنوں کی قسم «وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ» ۱؎ [89-الفجر:1۔2] ‏‏‏‏ کی آیت میں ہے۔ بعض سلف کہتے ہیں آیت «وَوٰعَدْنَا مُوْسٰي ثَلٰثِيْنَ لَيْلَةً وَّاَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيْقَاتُ رَبِّهٖٓ اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً» ۱؎ [7-الأعراف:142] ‏‏‏‏ سے بھی مراد یہی دن ہیں۔ ابو داؤد میں ہے کہ { ان دنوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے رہا کرتے تھے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2452،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان دنوں بازار میں آتے اور تکبیر پکارتے، بازار والے بھی آپ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تکبیر پڑھنے لگتے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:قبل الحدیث:970] ‏‏‏‏ ان ہی دس دنوں میں عرفہ کا دن ہے جس دن کے روزے کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { گزشتہ اور آئندہ دو سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1162] ‏‏‏‏ ان ہی دس دنوں میں قربانی کا دن یعنی بقر عید کا دن ہے جس کا نام اسلام میں حج اکبر کا دن ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ { اللہ کے نزدیک یہ سب دنوں سے افضل ہے }۔ الغرض سارے سال میں ایسی فضیلت کے دن اور نہیں۔ جیسے کہ حدیث شریف میں ہے { یہ دس دن رمضان شریف کے آخری دس دنوں سے بھی افضل ہیں}۔

کیونکہ نماز روزہ صدقہ وغیرہ جو رمضان کے اس آخری عشرے میں ہوتا ہے وہ سب ان دنوں میں بھی ہوتا ہے مزید برآں ان میں فریضہ حج ادا ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ رمضان شریف کے آخری دن افضل ہیں کیونکہ انہیں میں لیلۃ القدر ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ تیسرا قول درمیانہ ہے کہ دن تو یہ افضل اور راتیں رمضان المبارک کے آخری دس دنوں کی افضل ہیں۔ اس قول کے مان لینے سے مختلف دلائل میں جمع ہو جاتی ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ایام معلومات کی تفسیر میں ایک دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قربانی کا دن اور اس کے بعد کے تین دن ہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ابراہیم نخعی رحمتہ اللہ علیہ سے یہی مروی ہے اور ایک روایت سے امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب بھی یہی ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ بقرہ عید اور اس کے بعد کے دو دن۔ اور ایام معدودات سے بقرہ عید اور اس کے بعد کے تین دن۔ اس کی اسناد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تک صحیح ہے۔ سدی رحمتہ اللہ علیہ بھی یہی کہتے ہیں، امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی مذہب ہے اور اس کی اور اس سے پہلے کے قول کی تائید فرمان باری آیت «عَلٰي مَا رَزَقَهُمْ مِّنْ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ» ۱؎ [22-الحج:28] ‏‏‏‏ سے ہوتی ہے کیونکہ اس سے مراد جانوروں کی قربانی کے وقت اللہ کا نام لینا ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ یہ عرفے کا دن بقرہ عید کا دن اور اس کے بعد کا ایک دن ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب یہی ہے۔ حضرت اسلم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ مراد یوم نحر اور ایام تشریق ہیں «بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ» سے مراد اونٹ گائے اور بکری ہیں۔ جیسے سورۃ الانعام کی آیت «ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ قُلْ ءٰالذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَيَيْنِ اَمَّا اشْـتَمَلَتْ عَلَيْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَيَيْنِ نَبِّـــــُٔـوْنِيْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:143] ‏‏‏‏ میں مفصل موجود ہے۔ پھر فرمایا ’ اسے خود کھاؤ اور محتاجوں کو کھلاؤ ‘۔ اس سے بعض لوگوں نے دلیل لی ہے کہ قربانی کا گوشت کھانا واجب ہے۔ لیکن یہ قول غریب ہے۔ اکثر بزرگوں کا مذہب ہے کہ یہ رخصت ہے یا استحباب ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قربانی کی تو حکم دیا کہ ہر اونٹ کے گوشت کا ایک ٹکڑا نکال کر پکالیا جائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ گوشت کھایا اور شوربا پیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1218] ‏‏‏‏ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں اسے پسند کرتا ہوں کہ قربانی کا گوشت قربانی کرنے والا کھا لے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے۔

ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مشرک لوگ اپنی قربانی کا گوشت نہیں کھاتے تھے اس کہ برخلاف مسلمانوں کو اس کے گوشت کے کھانے کی اجازت دی گئی اب جو چاہے کھائے جو چاہے نہ کھائے۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مشرک لوگ اپنی قربانیوں کا گوشت نہیں کھاتے تھے اس کے برخلاف مسلمانوں کو اس گوشت کے کھانے کی اجازت دی گئی اب جو چاہے کھائے جو چاہے نہ کھائے مجاہد رحمتہ اللہ علیہ اور عطا رحمتہ اللہ علیہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہاں کا یہ حکم آیت «وَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا» ۱؎ [5-المائدة:2] ‏‏‏‏ کی طرح ہے یعنی ’ جب تم احرام سے فارغ ہو جاؤ تو شکار کھیلو ‘۔ اور سورۃ الجمعہ میں فرمان ہے آیت «فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ» ۱؎ [62-الجمعة:10] ‏‏‏‏ ’ جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ ‘۔ مطلب یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں میں حکم ہے شکار کرنے کا اور زمین میں روزی تلاش کرنے کے لیے پھیل جانے کا لیکن یہ حکم وجوبی اور فرضی نہیں اسی طرح اپنی قربانی کے گوشت کو کھانے کا حکم بھی ضروری اور واجب نہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اس قول کو پسند فرماتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قربانی کے گوشت کے دو حصے کر دئیے جائیں ایک حصہ خود قربانی کرنے والے کا دوسرا حصہ فقیر فقراء کا۔ بعض کہتے ہیں تین کرنے چاہیئں تہائی اپنا تہائی ہدیہ دینے کے لیے اور تہائی صدقہ کرنے کے لیے۔ پہلے قول والے اوپر کی آیت کی سند لاتے ہیں اور دوسرے قول والے آیت «وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» ۱؎ [22-الحج:36] ‏‏‏‏ کو دلیل میں پیش کرتے ہیں اس کا پورا بیان آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”آیت «الْبَائِسَ الْفَقِيرَ» سے مطلب وہ بے بس انسان ہے جو احتیاج ہونے پر بھی سوال سے بچتا ہو۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو دست سوال دارز نہ کرتا ہو، کم بینائی والا ہو۔‏‏‏‏“
28۔ 1 یہ فائدے دینی بھی ہیں کہ نماز، طواف اور مناسک حج وعمرہ کے ذریعے سے اللہ کی مغفرت و رضا حاصل کی جائے اور دنیاوی بھی کہ تجارت اور کاروبار سے مال و اسباب دنیا میسر آجائے۔ 28۔ 2 بہیمۃ الانعام پالتو جانوروں سے مراد اونٹ، گائے، بکری (اور بھیڑ دنبے) ہیں۔ ان پر اللہ کا نام لینے کا مطلب ان کو ذبح کرنا جو اللہ کے نام لے کر ہی کیا جاتا ہے اور ایام معلومات سے مراد، ذبح کے ایام ' ایام تشریق ہیں، جو یوم (10 ذولالحجہ) اور تین دن اس کے بعد ہیں۔ یعنی 11، 12 اور 13 ذوالحجہ تک قربانی کی جاسکتی ہے۔ عام طور پر ایام معلومات سے عشرہ ذوالحجہ اور ایام معدودات سے ایام تشریق مراد لئے جاتے ہیں۔ تاہم یہاں ' معلومات ' جس سیاق میں آیا ہے، اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایام تشریق مراد ہیں۔ واللہ اعلم۔
(آیت 28) ➊ {لِيَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ:} یعنی لوگ پیدل اور سوار ہو کر حج کے لیے آئیں گے، تاکہ وہ اپنے بہت سے فائدوں میں حاضر ہوں۔ حج کا اصل مقصد تو عبادت کے ذریعے سے دینی اور اخروی فوائد حاصل کرنا ہے، لیکن ضمناً اس میں بہت سے دنیوی اور ملی فوائد بھی پائے جاتے ہیں۔ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرہ کے دینی و دنیوی فوائد دونوں ذکر فرمائے ہیں، چنانچہ فرمایا: [ تَابِعُوْا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوْبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيْرُ خَبَثَ الْحَدِيْدِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ] [ ترمذي، الحج، باب ما جاء في ثواب الحج والعمرۃ: ۸۱۰، عن عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ] ”حج اور عمرہ پے در پے کیا کرو، کیونکہ یہ فقر اور گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے اور سونے چاندی کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔“ دینی فوائد میں بہت بڑا فائدہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْعُمْرَةُ إِلَی الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ ] [ بخاري، الحج، باب وجوب العمرۃ و فضلھا: ۱۷۷۳۔ مسلم: ۱۳۴۹ ] ” عمرہ سے لے کر عمرہ، دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں۔“ گناہوں کی معافی بھی بہت بڑا نفع ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ حَجَّ لِلّٰهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهٗ ] [ بخاري، الحج، باب فضل الحج المبرور: ۱۵۲۱، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ۔ مسلم:1350] ”جو شخص حج کرے، نہ کوئی شہوانی فعل کرے اور نہ کوئی نافرمانی کرے تو واپس اس طرح (گناہوں سے پاک ہو کر) جائے گا جس طرح اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: [ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهٗ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهٗ ] [ مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ …:۱۲۱ ] ”کیا تمھیں یہ بات معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے (گناہوں) کو گرا دیتا ہے اور یہ کہ ہجرت اپنے سے پہلے (گناہوں) کو گرا دیتی ہے اور یہ کہ حج اپنے سے پہلے (گناہوں) کو گرا دیتا ہے۔“ حج کے فوائد میں سے سب سے بڑا فائدہ تمام دنیا کے مسلمانوں کا جمع ہونا اور اس بات کا مظاہرہ ہے کہ ہم سب ایک امت ہیں، کالے، گورے، سرخ اور زرد کسی کو کسی پر رنگ یا زبان کی وجہ سے برتری حاصل نہیں، سب بھائی بھائی ہیں۔ اس موقع پر سب کا ایک دوسرے کے حالات سے آگاہ ہونا اور مشکل میں گرفتار اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے سوچنا اور اس کا بندوبست کرنا ہے۔ ان فوائد میں سے ایک فائدہ اس موقع پر تجارت، صنعت، مزدوری وغیرہ کے ذریعے سے حلال روزی کمانا بھی ہے، چنانچہ فرمایا: «{ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ }» [ البقرۃ: ۱۹۸ ] ”تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا کوئی فضل تلاش کرو۔“ یہ مسلمانوں کی بین الاقوامی مصنوعات اورپیداوار سے آگاہی اور تمام دنیا کی باہمی تجارت منظم کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اسی طرح اس موقع پر دنیا بھر کے علماء سے ملاقات اور دین و دنیا کے علوم میں اضافہ بھی حج کے فوائد میں سے بہت بڑا فائدہ ہے۔ پھر اس سفر کے دوران دنیا کے مختلف علاقوں اور لوگوں کے حالات سے واقفیت بھی بہت بڑا علم ہے جو حج کی برکات میں سے عظیم برکت ہے۔ خلاصہ یہ کہ حج مسلمانوں کے بے شمار سیاسی، اقتصادی، معاشی اور تمدنی فوائد کا جامع ہے۔ ➋ {وَ يَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِيْۤ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ …:} قرآن مجید کی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ چوپاؤں پر اللہ تعالیٰ کا نام لینے سے مراد انھیں {”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“} پڑھ کر ذبح کرنا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۱۸ تا ۱۲۱) یہاں حج کا ایک مقصد یہ بیان فرمایا کہ حج کرنے والے حضرات چند معلوم دنوں میں ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں کی نعمت بھی یاد دلائی ہے۔ یہ {” اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ “} (چند معلوم دن) کون سے ہیں؟ بعض بڑے بڑے جلیل القدر حضرات نے اس سے مراد ذوالحجہ کے پہلے دس دن اور سورۂ بقرہ (۲۰۳) میں {” اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ “} سے مراد ایام تشریق لیے ہیں؟ مگر بقول مفسر امین شنقیطی صاحب اضواء البیان: ”ان حضرات کی جلالت قدر کے باوجود ان کا موقف درست نہیں، بلکہ درست بات ان حضرات کی ہے جو اس سے یوم النحر (دس ذوالحجہ) اور اس کے بعد والے دو یا تین دن مراد لیتے ہیں۔ کیونکہ اس آیت میں چند معلوم دنوں میں قربانی کا ذکر ہے، جب کہ ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں صرف ایک دن (دس ذوالحجہ) کو قربانی ہوتی ہے (حالانکہ {” مَعْلُوْمٰتٍ “} کم از کم تین ہونے چاہییں)۔ خلاصہ یہ کہ ان {” اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ “} سے مراد وہ دن ہیں جن میں قربانی کی جاتی ہے اور وہ یوم النحراور اس کے بعد دو دن یا تین دن ہیں۔“ یوم النحر کے بعد پورے ایام تشریق (۱۱، ۱۲، ۱۳) یعنی چار دن میں قربانی کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: [ كُلُّ أَيَّامِ التَّشْرِيْقِ ذَبْحٌ ] ”ایام تشریق سارے ذبح کے دن ہیں۔“ شیخ البانی رحمہ اللہ نے {” مَنَاسِكُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ “} میں فرمایا کہ اسے احمد نے روایت کیا اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے اور یہ میرے نزدیک اپنے مجموع طرق کے ساتھ قوی ہے، اسی لیے میں نے اسے سلسلہ صحیحہ (۲۴۷۶) میں درج کیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ان چار دنوں میں اللہ کی عطا کردہ بہت بڑی نعمت پالتو جانوروں کو اس کے نام پر قربان کرنا حج کے مقاصد میں سے ایک بہت بڑا مقصد ہے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: [ أَيُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ؟ قَالَ الْعَجُّ وَ الثَّجُّ ] [ ترمذي، الحج، باب ما جاء في فضل التلبیۃ والنحر: ۸۲۷ ] ”حج کی کون سی چیز افضل ہے؟“ فرمایا: ”(لبیک کے ساتھ) آواز بلند کرنا اور خون بہانا (قربانی کرنا)۔“ ➌ { فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا …:} اس سے پہلے حج کرنے والوں کا ذکر غائب کے صیغوں کے ساتھ ہے، اب انھیں مخاطب کر لیا ہے کہ چوپائے جو میں نے تمھیں عطا کیے اور تم نے میرے نام پر قربان کیے، اب میری اس نعمت کا تقاضا ہے کہ خود بھی کھاؤ اور تنگ دست فقیر کو بھی کھلاؤ۔ {” الْبَآىِٕسَ “} کا معنی ہے جو مالی طور پر تنگدست ہو۔ فقیر بھی وہی ہے، صرف فقیر کی بدحالی پر رحم کو ابھارنے کے لیے {” الْفَقِيْرَ “} سے پہلے {” الْبَآىِٕسَ “} ذکر فرمایا، کیونکہ فقیر کا لفظ تو عام استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ غنی کو نہیں کھلا سکتے، بلکہ یہ فقراء کو کھلانے کی تاکید کے لیے ہے، اغنیاء کو کھلانے کا ذکر آیت (۳۶) میں آ رہا ہے۔ خود کھانے کا حکم اس لیے دیا کہ مشرکین اپنی قربانی میں سے نہیں کھاتے تھے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ خود کھانے کا حکم وجوب کے لیے نہیں بلکہ استحباب یا رخصت کے لیے ہے، یعنی تمھیں خود بھی کھانے کی اجازت ہے، ضروری نہیں کہ کھاؤ۔ بہرحال امر کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہو سکے تو اپنی قربانی کا گوشت خود بھی کھانا چاہیے، جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ أَنَّ الْبُدْنَ الَّتِيْ نَحَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ مِئَةَ بَدَنَةٍ نَحَرَ بِيَدِهٖ ثَلاَثًا وَّ سِتِّيْنَ وَنَحَرَ عَلِيٌّ مَا غَبَرَ وَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِيْ قِدْرٍ ثُمَّ شَرِبَا مِنْ مَرْقِهَا ] [ مسند أحمد: 331/3، ح: ۱۴۵۶۱ ] ”وہ اونٹ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نحر کیے ایک سو اونٹ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے تریسٹھ (۶۳) اونٹ نحر کیے اور باقی علی رضی اللہ عنہ نے کیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اونٹ کا ایک ایک ٹکڑا لینے کا حکم دیا جو ایک دیگ میں ڈالے گئے، پھر دونوں نے اس کا کچھ شوربا پیا۔“ شعیب ارناؤوط نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
ثُمَّ لۡیَقۡضُوۡا تَفَثَہُمۡ وَ لۡیُوۡفُوۡا نُذُوۡرَہُمۡ وَ لۡیَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَیۡتِ الۡعَتِیۡقِ ﴿۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں، اور اس قدیم گھر کا طواف کریں
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر وه اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اللہ کے قدیم گھر کا طواف کریں
احمد رضا خان بریلوی
پھر اپنا میل کچیل اتاریں اور اپنی منتیں پوری کریں اور اس آزاد گھر کا طواف کریں
علامہ محمد حسین نجفی
پھر لوگوں کو چاہیئے کہ اپنی میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور قدیم گھر (خانہ کعبہ) کا طواف کریں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا خوب طواف کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احکام حج ٭٭

پھر وہ احرام کھول ڈالے سر منڈوالیں کپڑے پہن لیں، ناخن کٹوا ڈالیں، وغیرہ احکام حج پورے کر لیں۔ نذریں پوری کر لیں حج کی قربانی کی اور جو ہو۔ پس جو شخص حج کے لیے نکلا اس کے ذمے طواف بیت اللہ، طواف صفا مروہ، عرفات کے میدان میں جانا، مزدلفے کی حاضری، شیطانوں کو کنکر مارنا وغیرہ سب کچھ لازم ہے۔ ان تمام احکام کو پورے کریں اور صحیح طور پر بجا لائیں اور بیت اللہ شریف کا طواف کریں جو یوم النحر کو واجب ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { حج کا آخری کام طواف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس ذی الحجہ کو منٰی کی طرف واپس آئے تو سب سے پہلے شیطانوں کو سات سات کنکریاں ماریں۔ پھر قربانی کی، پھر سر منڈوایا، پھر لوٹ کر بیت اللہ آ کر طواف بیت اللہ کیا }۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ { لوگوں کو حکم کیا گیا ہے کہ ان کا آخری کام طواف بیت اللہ ہو۔ ہاں البتہ حائضہ عورتوں کو رعایت کر دی گئی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1755] ‏‏‏‏ بیت العتیق کے لفظ سے استدلال کر کے فرمایا گیا ہے کہ طواف کرنے والے کو حطیم بھی اپنے طواف کے اندر لے لینا چاہے۔ اس لیے کہ وہ بھی اصل بیت اللہ شریف میں سے ہے ابراہیم علیہ السلام کی بنا میں یہ داخل تھا گو قریش نے نیا بناتے وقت اسے باہر چھوڑ دیا لیکن اس کی وجہ بھی خرچ کی کمی تھی نہ کہ اور کچھ۔ { اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حطیم کے پیچھے سے طواف کیا اور فرمایا بھی دیا کہ { حطیم بیت اللہ شریف میں داخل ہے }۔ اور آپ نے دونوں شامی رکنوں کو ہاتھ نہیں لگایا نہ بوسہ دیا کیونکہ وہ بناء ابراہیمی کے مطابق پورے نہیں۔ اس آیت کے اترنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حطیم کے پیچھے سے طواف کیا }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:41/6:] ‏‏‏‏ پہلے اس طرح کی عمارت تھی کہ یہ اندر تھا اسی لیے اسے پرانا گھر کہا گیا یہی سب سے پہلا اللہ کا گھر ہے اور وجہ یہ بھی ہے کہ یہ طوفان نوح میں سلامت رہا۔ اور یہ بھی وجہ ہے کہ کوئی سرکش اس پر غالب نہیں آسکا۔ یہ ان سب کی دست برد سے آزاد ہے جس نے بھی اس سے برا قصد کیا وہ تباہ ہوا۔ اللہ نے اسے سرکشوں کے تسلط سے آزاد کر لیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3170،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی میں اسی طرح کی ایک مرفوع حدیث بھی ہے جو حسن غریب ہے اور ایک اور سند سے مرسلاً بھی مروی ہے۔
29۔ 1 یعنی 10 ذوالحجہ کو جمرہ کبریٰ (یا عقبہ) کو کنکریاں مارنے کے بعد حاجی تحلل اول (یا اصغر) حاصل ہوجاتا ہے، جس کے بعد وہ احرام کھول دیتا ہے اور بیوی سے مباشرت کے سوا، دیگر وہ تمام کام اس کے لئے جائز ہوجاتے ہیں، جو حالت احرام میں ممنوع ہوتے ہیں۔ میل کچیل دور کرنے کا مطلب یہی ہے کہ پھر وہ بالو، ناخنوں وغیرہ کو صاف کرلے، تیل خوشبو استعمال کرے اور سلے ہوئے کپڑے پہن لے وغیرہ۔ 29۔ 2 اگر کوئی مانی ہوئی ہو، جیسے لوگ مان لیتے ہیں کہ اگر اللہ نے ہمیں اپنے مقدس گھر کی زیارت نصیب فرمائی، تو ہم فلاں نیکی کا کام کریں گے۔ 29۔ 3 عتیق کے معنی قدیم کے ہیں مراد خانہ کعبہ ہے کہ حلق یا تقصیر کے بعد افاضہ کرلے، جسے طواف زیارت بھی کہتے ہیں، اور یہ حج کا رکن ہے جو وقوف عرفہ اور جمرہ عقبہ (یا کبرٰی) کو کنکریاں مارنے کے بعد کیا جاتا ہے۔ جب کہ طواف قدوم بعض کے نزدیک واجب اور بعض کے نزدیک سنت ہے اور طواف وداع سنت مؤکدہ (یا واجب) ہے۔ جو اکثر اہل علم کے نزدیک عذر سے ساقط ہوجاتا ہے، جیسے حائضہ عورت سے بالاتفاق ساقط ہوجاتا ہے (ایسر التفاسیر)
(آیت 29) ➊ { ثُمَّ لْيَقْضُوْا تَفَثَهُمْ:تَفَثٌ “} کے دو معنی کیے گئے ہیں، ایک میل کچیل اور دوسرا مناسک حج۔ پہلے معنی کے مطابق ترجمہ ہو گا ”پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ احرام باندھنے کے ساتھ ہی سلے ہوئے کپڑے پہننا، بال یا ناخن کٹوانا اور خوشبو لگانا حرام ہو جاتا ہے۔ صرف دو چادریں ہوتی ہیں، سر ننگا ہوتا ہے اور زیادہ مل مل کر غسل نہیں کرنا ہوتا، اس مسافرانہ اور فقیرانہ حالت میں بدن پر میل کچیل چڑھ جاتا ہے۔ دس ذوالحجہ کو جمرہ عقبہ کو کنکر مارنے کے بعد بیوی سے مباشرت کے سوا احرام کی تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ میل کچیل دور کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پھر وہ سر کے بال منڈوائیں یا کتروائیں اور ناخن وغیرہ صاف کریں، پھر غسل کرکے سلے ہوئے کپڑے پہن لیں۔ اگر کسی نے قربانی کرنی ہو تو بہتر ہے احرام کھولنے سے پہلے کرلے، اگر احرام کھول کر قربانی کرے تب بھی کوئی حرج نہیں۔ احرام کھول کر، سلے ہوئے کپڑے پہن کر بیت اللہ کے طواف کے لیے روانہ ہو جائیں۔ اس طواف کا نام طواف زیارت اور طواف افاضہ ہے، یہ حج کا رکن ہے اور اس کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا۔ اس طواف کے بعد احرام کی آخری پابندی بھی ختم ہو جاتی ہے اور بیوی سے مباشرت حلال ہو جاتی ہے۔ دوسرے معنی کے مطابق ترجمہ ہو گا ”پھر وہ اپنے حج کے اعمال پورے کریں اور اپنی نذریں پوری کریں۔“ ➋ { وَ لْيُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ:} یعنی فریضۂ حج کے اعمال سے زائد کسی عمل کی نذر مانی ہو تو وہ پوری کریں، مثلاً زائد طواف یا مسجد حرام میں اعتکاف یا زائد قربانی یا نفل نماز یا صدقہ یا قرآن کی تلاوت وغیرہ۔ ➌ {وَ لْيَطَّوَّفُوْا بِالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ: ”طَافَ يَطُوْفُ طَوَافًا “} (ن) کسی چیز کے گرد پھرنا، چکر لگانا۔ {” وَ لْيَطَّوَّفُوْا “} باب تفعل سے ہے جو اصل میں {”لِيَتَطَوَّفُوْا“} تھا، حروف کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہو گیا، یعنی بیت اللہ کا خوب طواف کریں، فرض طواف کے علاوہ نفل طواف بھی کثرت سے کریں۔ یا باب تفعل سے طواف کی مشکل کی طرف اشارہ ہے، جو اس دن حاجیوں کے بے پناہ ہجوم کی وجہ سے پیش آتی ہے کہ اسے برداشت کرتے ہوئے کعبۃ اللہ کا طواف کریں۔ ➍ { بِالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ:} عتیق کا معنی قدیم ہے۔ زمین پر اللہ کا پہلا تعمیر کیا جانے والا گھر ہونے کی وجہ سے اس کا نام {”اَلْبَيْتُ الْعَتِيْقُ“} ہے۔ عتیق کا دوسرا معنی آزاد ہے، یعنی اللہ کے سوا اس کا مالک کوئی نہیں جو اس میں آنے سے کسی کو روک سکے۔ یہ ہر آقا کے تسلط سے آزاد ہے۔ یہ مشرکین کا ظلم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے آنے والے مسلمانوں کو اس سے روکتے ہیں۔ آزاد کا ایک مطلب یہ ہے کہ اس پر کبھی کوئی جابر مسلط نہیں ہو سکا، جیسا کہ اصحاب الفیل کا واقعہ معروف ہے۔ جو ظالم بھی اس گھر پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرے گا اس کا یہی حال ہو گا۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَغْزُوْ جَيْشٌ الْكَعْبَةَ فَإِذَا كَانُوْا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ ] [ بخاري، البیوع، باب ما ذکر في الأسواق: ۲۱۱۸ ] ”ایک لشکر کعبہ سے جنگ کے لیے آئے گا، جب وہ بیداء (مکہ کے باہر کھلے میدان) میں پہنچیں گے تو سب کے سب اول سے آخر تک زمین میں دھنسا دیے جائیں گے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَيُحَجَّنَّ الْبَيْتُ وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوْجِ يَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ ] [ بخاري، الحج، باب قول اللّٰہ تعالٰی: { جعل اللّٰہ الکعبۃ… }: ۱۵۹۳ ] ”یاجوج ماجوج کے خروج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج اور عمرہ جاری رہے گا۔“ علاماتِ قیامت بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ ] [ بخاري، الحج، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «جعل اللّٰہ الکعبۃ…» : ۱۵۹۱ ] ”(قیامت کے قریب) ایک پتلی پنڈلیوں والا حبشی بیت اللہ کو گرا دے گا۔“ مزید فرمایا: [كَأَنِّيْ بِهِ أَسْوَدَ أَفْحَجَ يَقْلُعُهَا حَجَرًا حَجَرًا ] [ بخاري، الحج، باب ھدم الکعبۃ: ۱۵۹۵ ] ”گویا میں وہ دیکھ رہا ہوں، کالا ٹیڑھے پاؤں والا ہے، اسے ایک ایک پتھر کر کے اکھیڑ رہا ہے۔“
ذٰلِکَ ٭ وَ مَنۡ یُّعَظِّمۡ حُرُمٰتِ اللّٰہِ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ؕ وَ اُحِلَّتۡ لَکُمُ الۡاَنۡعَامُ اِلَّا مَا یُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فَاجۡتَنِبُوا الرِّجۡسَ مِنَ الۡاَوۡثَانِ وَ اجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِ ﴿ۙ۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ تھا (تعمیر کعبہ کا مقصد) اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے اور تمہارے لیے مویشی جانور حلال کیے گئے، ما سوا اُن چیزوں کے جو تمہیں بتائی جا چکی ہیں پس بتوں کی گندگی سے بچو، جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ ہے اور جو کوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے اس کے اپنے لئے اس کے رب کے پاس بہتری ہے۔ اور تمہارے لئے چوپائے جانور حلال کر دیئے گئے بجز ان کے جو تمہارے سامنے بیان کیے گئے ہیں پس تمہیں بتوں کی گندگی سے بچتے رہنا چاہئے اور جھوٹی بات سے بھی پرہیز کرنا چاہئے
احمد رضا خان بریلوی
بات یہ ہے اور جو اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کے لیے اس کے رب کے یہاں بھلا ہے، اور تمہارے لیے حلال کیے گئے بے زبان چوپائے سوا ان کے جن کی ممانعت تم پر پڑھی جاتی ہے تو دور ہو بتوں کی گندگی سے اور بچو جھوٹی بات سے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ ہے حج اور اس کے مناسک کی بات! جو اللہ کی محترم چیزوں کی تعظیم کرتا ہے۔ تو یہ اس کے پروردگار کے ہاں بہتر ہے اور تمہارے لئے چوپائے حلال ہیں۔ بجز ان کے جو تم سے بیان کئے جاتے رہتے ہیں۔ پس تم بتوں کی گندگی سے پرہیز کرو۔ اور راگ گانے کی مجلس سے اجتناب کرو۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اور جو کوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کے لیے اس کے رب کے ہاں بہتر ہے اور تمھارے لیے مویشی حلال کر دیے گئے ہیں سوائے ان کے جو تمھیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔پس بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے بچو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بت پرستی کی گندگی سے دور رہو ٭٭

فرماتا ہے یہ تو تھے احکام حج اور ان پر جو جزا ملتی ہے اس کا بیان۔ اب اور سنو جو شخص حرمات الٰہی کی عزت کرے یعنی گناہوں سے اور حرام کاموں سے بچے، ان کے کرنے سے اپنے آپ کو روکے اور ان سے بھاگا رہے اس کے لیے اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ جس طرح نیکیوں کے کرنے پر اجر ہے اسی طرح برائیوں کے چھوڑنے پر بھی ثواب ہے۔ مکہ حج عمرہ بھی حرمات الٰہی ہیں۔ تمہارے لیے چوپائے سب حلال ہیں ہاں جو حرام تھے وہ تمہارے سامنے بیان ہو چکے ہیں۔ یہ جو مشرکوں نے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام نام رکھ چھوڑے ہیں یہ اللہ نے نہیں بتلائے۔ اللہ کو جو حرام کرنا تھا بیان فرما چکا جیسے «الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّـهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:3] ‏‏‏‏ مردار جانور بوقت ذبح بہا ہوا خون سور کا گوشت اللہ کے سوا دوسرے کے نام پر مشہور کیا ہوا، گلا گھٹا ہوا وغیرہ۔ تمہیں چاہے کہ بت پرستی کی گندگی سے دور رہو۔ «مِنَ» یہاں پر بیان جنس کے لیے ہے، اور جھوٹی بات سے بچو۔ اس آیت میں شرک کے ساتھ جھوٹ کو ملادیا جیسے آیت «قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا باللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:33] ‏‏‏‏ یعنی ’ میرے رب نے گندے کاموں کو حرام کر دیا خواہ وہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ۔ اور گناہ کو سرکشی کو اور بےعلمی کے ساتھ اللہ پر باتیں بنانے کو ‘۔ اسی میں جھوٹی گواہی بھی داخل ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا میں تمہیں سب سے بڑا کبیرہ گناہ بتاؤں؟ صحابہ نے کہا ارشاد ہو، فرمایا: { اللہ کے ساتھ شریک کرنا ماں باپ کی نافرمانی کرنا } پھر تکیہ سے الگ ہٹ کر فرمایا: { اور جھوٹ بولنا اور جھوٹی شہادت دینا }۔ اسے باربار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب نہ فرماتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2654] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں کھڑے ہو کر تین بار فرمایا: { جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر کر دی گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ بالا فقرہ تلاوت فرمایا } }۔ [سنن ابوداود:3599،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { صبح کی نماز کی بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر یہ فرمایا }۔ [سنن ابوداود:3599،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھی مروی ہے ”اللہ کے دین کو خلوص کے ساتھ تھام لو باطل سے ہٹ کر حق کی طرف آ جاؤ۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والوں میں نہ بنو۔‏‏‏‏“

پھر مشرک کی تباہی کی مثال بیان فرمائی کہ ’ جیسے کوئی آسمان سے گر پڑے پس یا تو اسے پرند ہی اچک لے جائیں گے یا ہوا کسی ہلاکت کے دور دراز گڑھے میں پہنچا دے گی ‘۔ چنانچہ کافر کی روح کو لے کر جب فرشتے آسمان کی طرف چڑھتے ہیں تو اس کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے اور وہیں سے وہ پھینک دی جاتی ہے اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ یہ حدیث پوری تفصیل کے ساتھ سورۃ ابراہیم میں گزر چکی ہے سورۃ الانعام میں ان مشرکوں کی ایک اور مثال بیان فرمائی ہے «قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰ أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّـهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُ أَصْحَابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ائْتِنَا قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّـهِ هُوَ الْهُدَىٰ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:71] ‏‏‏‏ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئیے کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیز کو پکاریں کہ نہ وه ہم کو نفع پہنچائے اور نہ ہم کو نقصان پہنچائے اور کیا ہم الٹے پھر جائیں اس کے بعد کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کر دی ہے، جیسے کوئی شخص ہو کہ اس کو شیطانوں نے کہیں جنگل میں بے راه کر دیا ہو اور وه بھٹکتا پھرتا ہو، اس کے کچھ ساتھی بھی ہوں کہ وه اس کو ٹھیک راستہ کی طرف بلا رہے ہوں کہ ہمارے پاس آ۔ آپ کہہ دیجئیے کہ یقینی بات ہے کہ راه راست وه خاص اللہ ہی کی راه ہے اور ہم کو یہ حکم ہوا ہے کہ ہم پروردگار عالم کے پورے مطیع ہو جائیں ‘۔ یہ اس کی مثل کے ہے جسے شیطان باؤلا بنا دے۔
30۔ 1 ان حرمتوں سے مراد وہ مناسک حج ہیں جن کی تفصیل ابھی گزری ہے۔ ان کی تعظیم کا مطلب، ان کی اس طرح ادائیگی ہے جس طرح بتلایا گیا ہے۔ یعنی ان کی خلاف ورزی کر کے ان حرمتوں کو پامال نہ کرے۔ 30۔ 2 جو بیان کئے گئے ہیں ' کا مطلب ہے جن کا حرام ہونا بیان کردیا گیا، جیسے آیت (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ) 5۔ المائدہ:3) میں تفصیل ہے۔ 30۔ 3 رجس سے مراد گندگی اور پلیدی کے ہیں یہاں اس سے مراد لکڑی، لوہے یا کسی اور چیز کے بنے ہوئے بت ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کرنا، یہ نجاست ہے اور اللہ کے غضب اور عدم رضا کا باعث، اس سے بچو۔ 30۔ 4 جھوٹی بات میں، جھوٹی بات کے علاوہ جھوٹی قسم بھی ہے (جس کو حدیث میں شرک اور حقوق والدین کے بعد تیسرے نمبر پر کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے) اور سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ اللہ جن چیزوں سے پاک ہے، وہ اسکی طرف منسوب کی جائیں۔ مثلًا اللہ کی اولاد ہے وغیرہ۔ فلاں بزرگ کے اختیارات میں شریک ہے یا فلاں کام پر اللہ کس طرح قادر ہوگا جیسے کفار بعث بعد الموت پر تعجب کا اظہار کرتے رہے ہیں اور کرتے ہیں یا اپنی طرف سے اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام اور حرام چیزوں کو حلال کرلینا جیسے مشرکین بحیرہ سائبہ وصیلہ اور عام جانوروں کو اپنے اوپر حرام کرلیتے تھے یہ سب جھوٹ ہیں ان سے اجتناب ضروری ہے۔
(آیت 30) ➊ {ذٰلِكَ:} یہ لفظ دو کلاموں کے درمیان فاصلے کے لیے آتا ہے اور اس سورت میں تین دفعہ آیا ہے۔ ایک یہ، ایک آیت (۳۲) میں: «{ ذٰلِكَ وَ مَنْ يُّعَظِّمْ شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ }» اور ایک آیت (۶۰) میں: «{ ذٰلِكَ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ}» اس کا مبتدا محذوف مانتے ہیں {”اَلْأَمْرُ ذٰلِكَ“} یعنی حج کا معاملہ تو یہ ہوا اور…۔ ➋ {وَ مَنْ يُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ:} یعنی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمتوں کی تعظیم خود بندے کے لیے بہتر ہے، کیونکہ یہ اس کے لیے اس کے رب کی رضا حاصل کرنے کا باعث ہے، جس کا فائدہ اسی کو ہو گا۔ {” حُرُمٰتِ اللّٰهِ “} سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کے احترام کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، جیسے حرم، مسجد حرام، حرمت والے مہینے، ہدایا یعنی مکہ میں قربانی کے لیے جانے والے اونٹ، قلائد یعنی وہ بھیڑ بکریاں اور گائیں جن کے گلے میں قلادے (پٹے اور ہار) ڈالے ہوئے ہوں وغیرہ۔ ان سب کی تکریم ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے چلی آ رہی ہے، مگر مشرکین نے اپنے ملت ابراہیم کے پیروکار ہونے کے دعوے کے باوجود ان حرمتوں کو پامال کیا اور خود ساختہ چیزوں کو حرمت والا قرار دے لیا، جیسے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی وغیرہ۔ {” وَ مَنْ يُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ “} کا مطلب یہ بھی ہے کہ احرام میں جو کام اللہ تعالیٰ نے حرام کیے ہیں، مثلاً شکار کرنا، شہوانی افعال، لڑائی جھگڑا، فسق و فجور وغیرہ، تو ان کے ارتکاب کو جو شخص بہت بڑا گناہ سمجھ کر ان سے اجتناب کرے تو یہ اس کے رب کے ہاں اس کے لیے بہتر ہے۔ ➌ { وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۳) اور سورۂ نحل (۱۱۵)۔ ➍ {فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ …: ” اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ “} کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان چوپاؤں کے حلال ہونے کا حکم دیا جو مشرکین نے حرام کر رکھے تھے، مثلاً بحیرہ، سائبہ وغیرہ اور {” اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ “} کے ساتھ ان جانوروں کو حرام قرار دیا جو مشرکین نے حلال کر رکھے تھے، مثلاً غیر اللہ کے نام پر ذبح کر دہ جانور اور مردار وغیرہ۔ مشرکین کے بعض جانوروں کو حرام اور بعض کو حلال کرنے کا باعث بتوں کی عبادت تھی اور یہ ان کا اللہ پر صاف جھوٹ اور بہتان تھا کہ حلال و حرام کا یہ حکم اس کا حکم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے شرک اور جھوٹ دونوں سے بچنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اس گندگی سے بچو جو بتوں کی صورت میں ہے اور جھوٹی بات سے بچو۔ یعنی مشرکین نے اللہ کے ساتھ جو بتوں کو شریک بنا رکھا ہے اور اللہ کے ذمے بعض چیزوں کو حلال یا حرام کرنے کا بہتان باندھ رکھا ہے تم اس شرک سے اور اس جھوٹ اور بہتان سے اجتناب کرو۔ {” قَوْلَ الزُّوْرِ “} کا لفظ عام ہے، اس لیے اس میں جھوٹی شہادت دینا، کسی پر بہتان لگانا، غرض کوئی بھی جھوٹ بولنا شامل ہے اور سب سے اجتناب کا حکم ہے۔ {” الرِّجْسَ “} کا معنی گندگی ہے، {” مِنْ “} بیان کرنے کے لیے ہے، یعنی گندگی ظاہری بھی ہوتی ہے مگر خاص طور پر حکم دیا کہ اس معنوی گندگی سے بچو جو بتوں کی صورت میں ہے۔ ابن جزی فرماتے ہیں: {” مِنْ لِبَيَانِ الْجِنْسِ كَأَنَّهُ قَالَ الرِّجْسُ الَّذِيْ هُوَ الْأَوْثَانُ۔“}
حُنَفَآءَ لِلّٰہِ غَیۡرَ مُشۡرِکِیۡنَ بِہٖ ؕ وَ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخۡطَفُہُ الطَّیۡرُ اَوۡ تَہۡوِیۡ بِہِ الرِّیۡحُ فِیۡ مَکَانٍ سَحِیۡقٍ ﴿۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یکسُو ہو کر اللہ کے بندے بنو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا، اب یا تو اسے پرندے اُچک لے جائیں گے یا ہوا اُس کو ایسی جگہ لے جا کر پھینک دے گی جہاں اُس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ کی توحید کو مانتے ہوئے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوئے۔ سنو! اللہ کے ساتھ شریک کرنے واﻻ گویا آسمان سے گر پڑا، اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا کسی دور دراز کی جگہ پھینک دے گی
احمد رضا خان بریلوی
ایک اللہ کے ہوکر کہ اس کا ساجھی کسی کو نہ کرو، اور جو اللہ کا شریک کرے وہ گویا گرا آسمان سے کہ پرندے اسے اچک لے جاتے ہیں یا ہوا اسے کسی دور جگہ پھینکتی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
صرف اللہ ہی کیلئے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے۔ اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گرا تو اسے کسی پرندہ نے اچک لیا یا ہوا نے اسے کسی دور دراز جگہ پر پھینک دیا۔
عبدالسلام بن محمد
اس حال میں کہ اللہ کے لیے ایک طرف ہونے والے ہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنے والے نہیں اورجو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا، پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں، یا اسے ہوا کسی دور جگہ میں گرا دیتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بت پرستی کی گندگی سے دور رہو ٭٭

فرماتا ہے یہ تو تھے احکام حج اور ان پر جو جزا ملتی ہے اس کا بیان۔ اب اور سنو جو شخص حرمات الٰہی کی عزت کرے یعنی گناہوں سے اور حرام کاموں سے بچے، ان کے کرنے سے اپنے آپ کو روکے اور ان سے بھاگا رہے اس کے لیے اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ جس طرح نیکیوں کے کرنے پر اجر ہے اسی طرح برائیوں کے چھوڑنے پر بھی ثواب ہے۔ مکہ حج عمرہ بھی حرمات الٰہی ہیں۔ تمہارے لیے چوپائے سب حلال ہیں ہاں جو حرام تھے وہ تمہارے سامنے بیان ہو چکے ہیں۔ یہ جو مشرکوں نے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام نام رکھ چھوڑے ہیں یہ اللہ نے نہیں بتلائے۔ اللہ کو جو حرام کرنا تھا بیان فرما چکا جیسے «الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّـهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:3] ‏‏‏‏ مردار جانور بوقت ذبح بہا ہوا خون سور کا گوشت اللہ کے سوا دوسرے کے نام پر مشہور کیا ہوا، گلا گھٹا ہوا وغیرہ۔ تمہیں چاہے کہ بت پرستی کی گندگی سے دور رہو۔ «مِنَ» یہاں پر بیان جنس کے لیے ہے، اور جھوٹی بات سے بچو۔ اس آیت میں شرک کے ساتھ جھوٹ کو ملادیا جیسے آیت «قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا باللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:33] ‏‏‏‏ یعنی ’ میرے رب نے گندے کاموں کو حرام کر دیا خواہ وہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ۔ اور گناہ کو سرکشی کو اور بےعلمی کے ساتھ اللہ پر باتیں بنانے کو ‘۔ اسی میں جھوٹی گواہی بھی داخل ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا میں تمہیں سب سے بڑا کبیرہ گناہ بتاؤں؟ صحابہ نے کہا ارشاد ہو، فرمایا: { اللہ کے ساتھ شریک کرنا ماں باپ کی نافرمانی کرنا } پھر تکیہ سے الگ ہٹ کر فرمایا: { اور جھوٹ بولنا اور جھوٹی شہادت دینا }۔ اسے باربار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب نہ فرماتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2654] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں کھڑے ہو کر تین بار فرمایا: { جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر کر دی گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ بالا فقرہ تلاوت فرمایا } }۔ [سنن ابوداود:3599،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { صبح کی نماز کی بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر یہ فرمایا }۔ [سنن ابوداود:3599،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھی مروی ہے ”اللہ کے دین کو خلوص کے ساتھ تھام لو باطل سے ہٹ کر حق کی طرف آ جاؤ۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والوں میں نہ بنو۔‏‏‏‏“

پھر مشرک کی تباہی کی مثال بیان فرمائی کہ ’ جیسے کوئی آسمان سے گر پڑے پس یا تو اسے پرند ہی اچک لے جائیں گے یا ہوا کسی ہلاکت کے دور دراز گڑھے میں پہنچا دے گی ‘۔ چنانچہ کافر کی روح کو لے کر جب فرشتے آسمان کی طرف چڑھتے ہیں تو اس کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے اور وہیں سے وہ پھینک دی جاتی ہے اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ یہ حدیث پوری تفصیل کے ساتھ سورۃ ابراہیم میں گزر چکی ہے سورۃ الانعام میں ان مشرکوں کی ایک اور مثال بیان فرمائی ہے «قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰ أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّـهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُ أَصْحَابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ائْتِنَا قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّـهِ هُوَ الْهُدَىٰ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:71] ‏‏‏‏ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئیے کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیز کو پکاریں کہ نہ وه ہم کو نفع پہنچائے اور نہ ہم کو نقصان پہنچائے اور کیا ہم الٹے پھر جائیں اس کے بعد کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کر دی ہے، جیسے کوئی شخص ہو کہ اس کو شیطانوں نے کہیں جنگل میں بے راه کر دیا ہو اور وه بھٹکتا پھرتا ہو، اس کے کچھ ساتھی بھی ہوں کہ وه اس کو ٹھیک راستہ کی طرف بلا رہے ہوں کہ ہمارے پاس آ۔ آپ کہہ دیجئیے کہ یقینی بات ہے کہ راه راست وه خاص اللہ ہی کی راه ہے اور ہم کو یہ حکم ہوا ہے کہ ہم پروردگار عالم کے پورے مطیع ہو جائیں ‘۔ یہ اس کی مثل کے ہے جسے شیطان باؤلا بنا دے۔
31۔ 1 حنفاء حنیف کی جمع ہے جس کے مصدری معنی ہیں مائل ہونا ایک طرف ہونا، یک رخا ہونا یعنی شرک سے توحید کی طرف اور کفر و باطل سے اسلام اور دین حق کی طرف مائل ہوتے ہوئے۔ یا ایک طرف ہو کر خالص اللہ کی عبادت کرتے ہوئے۔ 31۔ 2 یعنی جس طرح بڑے پرندے، چھوٹے جانوروں کو نہایت تیزی سے جھپٹا مار کر انھیں نوچ کھاتے ہیں یا ہوائیں کسی کو دور دراز جگہوں پر پھینک دیں اور کسی کو اس کا سراغ نہ ملے۔ دونوں صورتوں میں تباہی اس کا مقدر ہے۔ اسی طرح وہ انسان جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے، وہ سلامت فطرت اور طہارت نفس کے اعتبار سے طہر و صفا کی بلندی پر فائز ہوجاتا ہے اور جوں ہی وہ شرک کا ارتکاب کرتا ہے تو گویا اپنے کو بلندی سے پستی میں اور صفائی سے گندگی اور کیچڑ میں پھینک لیتا ہے
(آیت 31) ➊ {حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَيْرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ:أَيْ كُوْنُوْا حُنَفَاءَ“} یعنی تمام معبودوں سے ہٹ کر صرف اللہ کی خالص عبادت کرنے والے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے والے بنو۔ {” حُنَفَآءَ “} پر نصب {” اجْتَنِبُوْا “} کی ضمیر سے حال ہونے کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۱۶۰ تا ۱۶۳)۔ ➋ { وَ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ:} جو شخص توحید پر قائم ہے وہ بلندی اور عزو شرف میں گویا آسمان پر ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا اور اسی کا حکم مانتا ہے۔ جب اس نے شرک کیا تو اس بلند مقام سے گر گیا، اب یا تو اسے پرندے راستے ہی میں اچک لیں گے، یعنی وہ بتوں کے پجاریوں یا ان زندہ یا مردہ پیروں بزرگوں کے مجاوروں کے ہتھے چڑھ جائے گا جنھوں نے ان پیروں بزرگوں کو خدا بنا رکھا ہے، یا ہوا اسے بہت دور جگہ میں گرا دے گی، یعنی اگر کسی کے قابو نہ آیا تو اللہ سے تو بدظن ہو ہی چکا ہے، پھر اسے اس کی خواہش بہت دور گہری جگہ میں گرا دے گی، یعنی سب سے منکر ہو کر دہریہ ہو جائے گا۔ دونوں صورتوں میں اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔
ذٰلِکَ ٭ وَ مَنۡ یُّعَظِّمۡ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقۡوَی الۡقُلُوۡبِ ﴿۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ ہے اصل معاملہ (اسے سمجھ لو)، اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ سن لیا اب اور سنو! اللہ کی نشانیوں کی جو عزت وحرمت کرے اس کے دل کی پرہیز گاری کی وجہ سے یہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بات یہ ہے، اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے
علامہ محمد حسین نجفی
یہ ہے حقیقت حال! اور جو کوئی شعائر اللہ کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اور جو اللہ کے نام کی چیزوں کی تعظیم کرتا ہے تو یقینا یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قربانی کے جانور اور حجاج ٭٭

اللہ کے شعائر کی جن میں قربانی کے جانور بھی شامل ہیں حرمت وعزت بیان ہو رہی ہے کہ ’ احکام الٰہی پر عمل کرنا اللہ کے فرمان کی توقیر کرنا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { یعنی قربانی کے جانوروں کو فربہ اور عمدہ کرنا۔ سہل کا بیان ہے کہ ہم قربانی کے جانوروں کو پال کر انہیں فربہ اور عمدہ کرتے تھے تمام مسلمانوں کا یہی دستور تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:9/10] ‏‏‏‏ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { دو سیاہ رنگ کے جانوروں کے خون سے ایک عمدہ سفید رنگ جانور کا خون اللہ کو زیادہ محبوب ہے } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1861،] ‏‏‏‏ پس اگرچہ اور رنگت کے جانور بھی جائز ہیں لیکن سفید رنگ جانور افضل ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے چتکبرے بڑے بڑے سینگوں والے اپنی قربانی میں ذبح کئے }۔ [صحیح بخاری:5565] ‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مینڈھا بڑا سینگ والا چت کبرا ذبح کیا جس کے منہ پر آنکھوں کے پاس اور پیروں پر سیاہ رنگ تھا }۔ [سنن ابوداود:2796،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے صحیح کہتے ہیں۔ ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے بہت موٹے تازے چکنے چتکبرے خصی ذبح کئے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3122،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ہم قربانی کے لیے جانور خریدتے وقت اس کی آنکھوں کو اور کانوں کو اچھی طرح دیکھ بھال لیا کریں۔ اور آگے سے کٹے ہوئے کان والے پیچھے سے کٹے ہوئے کان والے لمبائی میں چرے ہوئے کان والے یا سوراخ دار کان والے کی قربانی نہ کریں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2804،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اسے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ صحیح کہتے ہیں۔ اسی طرح { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے ہوئے اور کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2805،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی شرح میں سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب کہ آدھا یا آدھے سے زیادہ کان یا سینگ نہ ہو۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں اگر اوپر سے کسی جانور کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو اسے عربی میں «قصماً» کہتے اور جب نیچے کا حصہ ٹوٹا ہوا ہو تو اسے «عضب» کہتے۔ اور حدیث میں لفظ «عضب» ہے اور کان کا کچھ حصہ کٹ گیا ہو تو اسے بھی عربی میں «عضب» کہتے ہیں۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایسے جانور کی قربانی گو جائز ہے لیکن کراہت کے ساتھ۔ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جائز ہی نہیں۔ (‏‏‏‏بظاہر یہی قول مطابق حدیث ہے) امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر سینگ سے خون جاری ہے تو جائز نہیں ورنہ جائز ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ { چار قسم کے عیب دار جانور قربانی میں جائز نہیں کانا جانور جس کا بھینگا پن ظاہر ہو اور وہ بیمار جانور جس کی بیماری کھلی ہوئی ہو اور وہ لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو اور وہ دبلا پتلا مریل جانور جو گودے کے بغیر کا ہو گیا ہو }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2802،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اسے امام ترمذی صحیح کہتے ہیں۔ یہ عیوب وہ ہیں جن سے جانور گھٹ جاتا ہے۔ اس کا گوشت ناقص ہو جاتا ہے اور بکریاں چرتی چگتی رہتی ہیں اور یہ بوجہ اپنی کمزوری کے چارہ پورہ نہیں پاتا اسی لیے اس حدیث کے مطابق امام شافعی وغیرہ کے نزدیک اس کی قربانی ناجائز ہے۔ ہاں بیمار جانور کے بارے میں جس کی بیماری خطرناک درجے کی نہ ہو بہت کم ہو امام صاحب کے دونوں قول ہیں۔

ابو داؤد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا بالکل سینگ کٹے جانور سینگ ٹوٹے جانور اور کانے جانور سے اور بالکل کمزور جانور سے جو ہمیشہ ہی ریوڑ کے پیچھے رہ جاتا ہو بوجہ کمزوری کے یا بوجہ زیادہ عمر کے اور لنگڑے جانور سے } ۱؎ [سنن ابوداود:2803،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ پس ان کل عیوب والے جانوروں کی قربانی ناجائز ہے۔ ہاں اگر قربانی کے لیے صحیح سالم بےعیب جانور مقرر کر دینے کے بعد اتفاقاً اس میں کوئی ایسی بات آ جائے مثلا لولا لنگڑا وغیرہ ہو جائے تو امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک اس کی قربانی بلاشبہ جائز ہے، امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اس کے خلاف ہیں۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کی دلیل وہ حدیث ہے جو مسند احمد میں ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { میں نے قربانی کے لیے جانور خریدا اس پر ایک بھیڑیئے نے حملہ کیا اور اس کی ران کا بوٹا توڑ لیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم اسی جانور کی قربانی کر سکتے ہو } }۔ ۱؎ [مسند احمد:32/3:ضعیف] ‏‏‏‏ پس خریدتے وقت جانور کا فربہ ہونا تیار ہونا بےعیب ہونا چاہیئے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ { آنکھ کان دیکھ لیا کرو }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2804،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ { سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک نہایت عمدہ اونٹ قربانی کے لیے نامزد کیا لوگوں نے اس کی قیمت تین سو اشرفی لگائیں تو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو میں اسے بیچ دوں اور اس کی قیمت سے اور جانور بہت سے خرید لوں اور انہیں راہ للہ قربان کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا اور حکم دیا کہ { اسی کوفی سبیل اللہ ذبح کرو } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1756،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قربانی کے اونٹ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ محمد بن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عرفات میں ٹھہرنا اور مزدلفہ اور رمی جمار اور سر منڈوانا اور قربانی کے اونٹ یہ سب شعائر اللہ ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان سب سے بڑھ کر بیت اللہ شریف ہے۔

پھر فرماتا ہے ’ ان جانوروں کے بالوں میں، اون میں تمہارے لیے فوائد ہیں ان پر تم سوار ہوتے ہو ان کی کھالیں تمہارے لیے کار آمد ہیں۔ یہ سب ایک مقررہ وقت تک۔ یعنی جب تک اسے راہ للہ نامزد نہیں کیا۔ ان کا دودھ پیو ان سے نسلیں حاصل کرو جب قربانی کے لیے مقرر کر دیا پھر وہ اللہ کی چیز ہو گیا ‘۔ بزرگ کہتے ہیں اگر ضرورت ہو تو اب بھی سواری کی اجازت ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { ایک شخص کو اپنی قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر سوار ہو جاؤ }۔ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اسے قربانی کی نیت کا کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری یا تیسری بار فرمایا { افسوس بیٹھ کیوں نہیں جاتا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1690] ‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف میں ہے { جب ضرورت اور حاجت ہو تو سوار ہو جایا کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1324] ‏‏‏‏ ایک شخص کی قربانی کی اونٹنی نے بچہ دیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ اس کو دودھ پیٹ بھر کر پی لینے دے پھر اگر بچ رہے تو خیر تو اپنے کام میں لا اور قربانی والے دن اسے اور اس بچے کو دونوں کو بنام اللہ ذبح کر دے۔ پھر فرماتا ہے ’ ان کی قربان گاہ بیت اللہ شریف ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «هَدْيًا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ» ۱؎ [5-المائدۃ:95] ‏‏‏‏ اور آیت میں «وَالْهَدْيَ مَعْكُوْفًا اَنْ يَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ» ۱؎ [48-الفتح:25] ‏‏‏‏ بیت العتیق کے معنی اس سے پہلے ابھی ابھی بیان ہو چکے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بیت اللہ کا طواف کرنے والا احرام سے حلال ہو جاتا ہے۔ دلیل میں یہی آیت «لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ» ۱؎ [22-الحج:33] ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی۔
32۔ 1 شعائر شعیرہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں علامت اور نشانی کے ہیں جیسے جنگ میں ایک شعار (مخصوص لفظ بطور علامت) اختیار کرلیا جاتا ہے جس سے وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہنچانتے ہیں اس اعتبار سے شعائر اللہ وہ ہیں، جو جو اسلام کے نمایاں امتیازی احکام ہیں، جن سے ایک مسلمان کا امتیاز اور تشخص قائم ہوتا ہے اور دوسرے اہل مذاہب سے الگ پہچان لیا جاتا ہے، صفا، مروہ پہاڑیوں کو بھی اس لئے شعائر اللہ کہا گیا ہے کہ مسلمان حج و عمرے میں ان کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ یہاں حج کے دیگر مناسک خصوصاً قربانی کے جانوروں کو شعائر اللہ کہا گیا ہے۔ اس تعظیم کو دل کا تقوٰی قرار دیا گیا ہے۔ یعنی دل کے ان افعال سے جن کی بنیاد تقوٰی ہے۔
(آیت 32){ ذٰلِكَ وَ مَنْ يُّعَظِّمْ شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ …:” ذٰلِكَ “} کی تفسیر آیت (۳۰) میں ملاحظہ فرمائیں۔{” شَعَآىِٕرَ”شَعِيْرَةٌ“} کی جمع ہے، اسم فاعل بمعنی {” مُشْعِرَةٌ “} ہے، جس سے کسی چیز کا شعور ہو (نشانیاں)، یعنی وہ چیزیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کا شعور دلانے کے لیے مقرر کر رکھی ہیں، جو شخص ان کی تعظیم کرے گا تو اس کا باعث دلوں کا تقویٰ ہے، یعنی جس کے دل میں اللہ کا ڈر ہو گا وہ ان کی تعظیم ضرور کرے گا۔ ہر وہ چیز جس کی زیارت کا اللہ نے حکم دیا ہے یا اس میں حج کا کوئی عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، وہ {”شعائر الله“} میں داخل ہے۔ قربانی کے جانور بھی {”شعائر الله“} میں داخل ہیں، چنانچہ فرمایا: «{ وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ }» [ الحج: ۳۶ ] ”اور قربانی کے بڑے جانور، ہم نے انھیں تمھارے لیے اللہ کی نشانیوں سے بنایا ہے۔“ ان کی تعظیم کا مطلب یہ ہے کہ ان کے آتے ہوئے انھیں کوئی نقصان نہ پہنچائے، جانور قیمتی خریدے اور عیب دار جانور نہ خریدے۔ ان پر جھول اچھی ڈالے، انھیں خوب کھلائے پلائے اور سجا کر رکھے، جیسا کہ گلے میں قلادے ڈالنے سے ظاہر ہے، مجبوری کے بغیر ان پر سواری نہ کرے، جیسا کہ آگے حدیث آ رہی ہے اور قربانی کے بعد ان کے جھول وغیرہ بھی صدقہ کر دے۔ {”شعائر الله“} کی تعظیم اگرچہ اس سے پہلے {” حُرُمٰتِ اللّٰهِ “} کی تعظیم میں آ چکی ہے مگر {” حُرُمٰتِ “ } کا مفہوم وسیع اور عام ہے جب کہ {” شَعَآىِٕرَ “} خاص ہے، اس لیے {”شعائر الله“} کی تعظیم کی تاکید کے لیے اسے دوبارہ الگ ذکر فرمایا۔
لَکُمۡ فِیۡہَا مَنَافِعُ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ مَحِلُّہَاۤ اِلَی الۡبَیۡتِ الۡعَتِیۡقِ ﴿٪۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تمہیں ایک وقت مقرر تک اُن (ہدی کے جانوروں) سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے پھر اُن (کے قربان کرنے) کی جگہ اسی قدیم گھر کے پاس ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان میں تمہارے لئے ایک مقرر وقت تک فائده ہے پھر ان کے حلال ہونے کی جگہ خانہ کعبہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تمہارے لیے چوپایوں میں فائدے ہیں ایک مقررہ میعاد تک پھر ان کا پہنچنا ہے اس آزاد گھر تک
علامہ محمد حسین نجفی
تمہارے ان جانوروں میں ایک مقررہ مدت تک فائدے ہیں۔ پھر ان کے ذبح کرنے کا مقام اسی قدیم گھر کی طرف ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تمھارے لیے ان میں ایک مقرر وقت تک کئی فائدے ہیں، پھر ان کے حلال ہونے کی جگہ اس قدیم گھر کی طرف ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قربانی کے جانور اور حجاج ٭٭

اللہ کے شعائر کی جن میں قربانی کے جانور بھی شامل ہیں حرمت وعزت بیان ہو رہی ہے کہ ’ احکام الٰہی پر عمل کرنا اللہ کے فرمان کی توقیر کرنا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { یعنی قربانی کے جانوروں کو فربہ اور عمدہ کرنا۔ سہل کا بیان ہے کہ ہم قربانی کے جانوروں کو پال کر انہیں فربہ اور عمدہ کرتے تھے تمام مسلمانوں کا یہی دستور تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:9/10] ‏‏‏‏ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { دو سیاہ رنگ کے جانوروں کے خون سے ایک عمدہ سفید رنگ جانور کا خون اللہ کو زیادہ محبوب ہے } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1861،] ‏‏‏‏ پس اگرچہ اور رنگت کے جانور بھی جائز ہیں لیکن سفید رنگ جانور افضل ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے چتکبرے بڑے بڑے سینگوں والے اپنی قربانی میں ذبح کئے }۔ [صحیح بخاری:5565] ‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مینڈھا بڑا سینگ والا چت کبرا ذبح کیا جس کے منہ پر آنکھوں کے پاس اور پیروں پر سیاہ رنگ تھا }۔ [سنن ابوداود:2796،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے صحیح کہتے ہیں۔ ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے بہت موٹے تازے چکنے چتکبرے خصی ذبح کئے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3122،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ہم قربانی کے لیے جانور خریدتے وقت اس کی آنکھوں کو اور کانوں کو اچھی طرح دیکھ بھال لیا کریں۔ اور آگے سے کٹے ہوئے کان والے پیچھے سے کٹے ہوئے کان والے لمبائی میں چرے ہوئے کان والے یا سوراخ دار کان والے کی قربانی نہ کریں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2804،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اسے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ صحیح کہتے ہیں۔ اسی طرح { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے ہوئے اور کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2805،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی شرح میں سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب کہ آدھا یا آدھے سے زیادہ کان یا سینگ نہ ہو۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں اگر اوپر سے کسی جانور کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو اسے عربی میں «قصماً» کہتے اور جب نیچے کا حصہ ٹوٹا ہوا ہو تو اسے «عضب» کہتے۔ اور حدیث میں لفظ «عضب» ہے اور کان کا کچھ حصہ کٹ گیا ہو تو اسے بھی عربی میں «عضب» کہتے ہیں۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایسے جانور کی قربانی گو جائز ہے لیکن کراہت کے ساتھ۔ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جائز ہی نہیں۔ (‏‏‏‏بظاہر یہی قول مطابق حدیث ہے) امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر سینگ سے خون جاری ہے تو جائز نہیں ورنہ جائز ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ { چار قسم کے عیب دار جانور قربانی میں جائز نہیں کانا جانور جس کا بھینگا پن ظاہر ہو اور وہ بیمار جانور جس کی بیماری کھلی ہوئی ہو اور وہ لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو اور وہ دبلا پتلا مریل جانور جو گودے کے بغیر کا ہو گیا ہو }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2802،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اسے امام ترمذی صحیح کہتے ہیں۔ یہ عیوب وہ ہیں جن سے جانور گھٹ جاتا ہے۔ اس کا گوشت ناقص ہو جاتا ہے اور بکریاں چرتی چگتی رہتی ہیں اور یہ بوجہ اپنی کمزوری کے چارہ پورہ نہیں پاتا اسی لیے اس حدیث کے مطابق امام شافعی وغیرہ کے نزدیک اس کی قربانی ناجائز ہے۔ ہاں بیمار جانور کے بارے میں جس کی بیماری خطرناک درجے کی نہ ہو بہت کم ہو امام صاحب کے دونوں قول ہیں۔

ابو داؤد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا بالکل سینگ کٹے جانور سینگ ٹوٹے جانور اور کانے جانور سے اور بالکل کمزور جانور سے جو ہمیشہ ہی ریوڑ کے پیچھے رہ جاتا ہو بوجہ کمزوری کے یا بوجہ زیادہ عمر کے اور لنگڑے جانور سے } ۱؎ [سنن ابوداود:2803،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ پس ان کل عیوب والے جانوروں کی قربانی ناجائز ہے۔ ہاں اگر قربانی کے لیے صحیح سالم بےعیب جانور مقرر کر دینے کے بعد اتفاقاً اس میں کوئی ایسی بات آ جائے مثلا لولا لنگڑا وغیرہ ہو جائے تو امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک اس کی قربانی بلاشبہ جائز ہے، امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اس کے خلاف ہیں۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کی دلیل وہ حدیث ہے جو مسند احمد میں ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { میں نے قربانی کے لیے جانور خریدا اس پر ایک بھیڑیئے نے حملہ کیا اور اس کی ران کا بوٹا توڑ لیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم اسی جانور کی قربانی کر سکتے ہو } }۔ ۱؎ [مسند احمد:32/3:ضعیف] ‏‏‏‏ پس خریدتے وقت جانور کا فربہ ہونا تیار ہونا بےعیب ہونا چاہیئے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ { آنکھ کان دیکھ لیا کرو }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2804،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ { سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک نہایت عمدہ اونٹ قربانی کے لیے نامزد کیا لوگوں نے اس کی قیمت تین سو اشرفی لگائیں تو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو میں اسے بیچ دوں اور اس کی قیمت سے اور جانور بہت سے خرید لوں اور انہیں راہ للہ قربان کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا اور حکم دیا کہ { اسی کوفی سبیل اللہ ذبح کرو } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1756،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قربانی کے اونٹ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ محمد بن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عرفات میں ٹھہرنا اور مزدلفہ اور رمی جمار اور سر منڈوانا اور قربانی کے اونٹ یہ سب شعائر اللہ ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان سب سے بڑھ کر بیت اللہ شریف ہے۔

پھر فرماتا ہے ’ ان جانوروں کے بالوں میں، اون میں تمہارے لیے فوائد ہیں ان پر تم سوار ہوتے ہو ان کی کھالیں تمہارے لیے کار آمد ہیں۔ یہ سب ایک مقررہ وقت تک۔ یعنی جب تک اسے راہ للہ نامزد نہیں کیا۔ ان کا دودھ پیو ان سے نسلیں حاصل کرو جب قربانی کے لیے مقرر کر دیا پھر وہ اللہ کی چیز ہو گیا ‘۔ بزرگ کہتے ہیں اگر ضرورت ہو تو اب بھی سواری کی اجازت ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { ایک شخص کو اپنی قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر سوار ہو جاؤ }۔ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اسے قربانی کی نیت کا کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری یا تیسری بار فرمایا { افسوس بیٹھ کیوں نہیں جاتا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1690] ‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف میں ہے { جب ضرورت اور حاجت ہو تو سوار ہو جایا کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1324] ‏‏‏‏ ایک شخص کی قربانی کی اونٹنی نے بچہ دیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ اس کو دودھ پیٹ بھر کر پی لینے دے پھر اگر بچ رہے تو خیر تو اپنے کام میں لا اور قربانی والے دن اسے اور اس بچے کو دونوں کو بنام اللہ ذبح کر دے۔ پھر فرماتا ہے ’ ان کی قربان گاہ بیت اللہ شریف ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «هَدْيًا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ» ۱؎ [5-المائدۃ:95] ‏‏‏‏ اور آیت میں «وَالْهَدْيَ مَعْكُوْفًا اَنْ يَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ» ۱؎ [48-الفتح:25] ‏‏‏‏ بیت العتیق کے معنی اس سے پہلے ابھی ابھی بیان ہو چکے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بیت اللہ کا طواف کرنے والا احرام سے حلال ہو جاتا ہے۔ دلیل میں یہی آیت «لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ» ۱؎ [22-الحج:33] ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی۔
33۔ 1 وہ فائدہ، سواری، دودھ، مذید نسل اور اون وغیرہ کا حصول ہے۔ وقت مقرر مراد (ذبح کرنا) ہے یعنی ذبح نہ ہونے تک تمہیں ان سے مذکورہ فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کے جانور سے، جب تک وہ ذبح نہ ہوجائے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ صحیح حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ ایک آدمی ایک قربانی کا جانور اپنے ساتھ ہانکے لے جا رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اس پر سوار ہوجا، اس نے کہا یہ حج کی قربانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس پر سوار ہوجا۔ (صحیح بخاری) 33۔ 2 حلال ہونے سے مراد جہاں ان کا ذبح کرنا حلال ہوتا ہے۔ یعنی یہ جانور، مناسک حج کی ادائیگی کے بعد، بیت اللہ اور حرم مکی میں پہنچتے ہیں اور وہاں اللہ کے نام پر ذبح کر دئیے جاتے ہیں، پس مذکورہ فوائد کا سلسلہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔ اور اگر وہ ایسے ہی حرم کے لئے قربانی دی جاتی ہے، تو حرم میں پہنچتے ہی ذبح کردیئے جاتے ہیں اور فقراء مکہ میں ان کا گوشت تقسیم کردیا جاتا ہے۔
(آیت 33) ➊ {لَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى:} فائدوں سے مراد ان کی سواری کرنا، ان کا دودھ پینا، ان سے نسل اور اون حاصل کرنا ہے، اسی طرح ان کے گوبر وغیرہ کو ایندھن یا کھاد کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ مشرکین جس طرح قربانی کا گوشت نہیں کھاتے تھے اسی طرح قربانی کے جانوروں سے اون، دودھ یا سواری وغیرہ کا فائدہ اٹھانا بھی جائز نہیں سمجھتے تھے۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ قربانی کے جانوروں سے اس وقت تک فائدہ اٹھانا جائز ہے جب تک انھیں قربانی کے لیے نامزد نہ کیا جائے، اس کے بعد سواری یا دودھ یا اون کا فائدہ اٹھانا جائز نہیں۔ مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ”شعائر الله“ سے فائدہ اٹھانا بطور احسان ذکر فرمایا ہے اور ظاہر ہے کہ قربانی کے لیے نامزد ہونے کے بعد ہی جانور ”شعائر اللہ“ میں شامل ہوتے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: [ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی رَجُلاً يَسُوْقُ بَدَنَةً فَقَالَ ارْكَبْهَا فَقَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ فَقَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا وَيْلَكَ ] [ بخاري، الحج، باب رکوب البدن: ۱۶۸۹۔ مسلم،: ۱۳۲۳ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو ایک بدنہ (قربانی کے لیے مکہ جانے والا اونٹ) ہانک کر لے جاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے کہا: ”یہ بدنہ ہے۔“ فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے کہا: ”یہ بدنہ ہے۔“ فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ، افسوس ہو تم پر۔“ جابر رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اِرْكَبْهَا بِالْمَعْرُوْفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتّٰی تَجِدَ ظَهْرًا ] [ مسلم، الحج، باب جواز رکوب البدنۃ …: ۱۳۲۴ ] ”اس پر اس طرح سوار ہو جاؤ کہ اسے تکلیف نہ دو، جب تمھیں اس کی ضرورت پڑ جائے، یہاں تک کہ تمھیں کوئی اور سواری مل جائے۔“ ابن کثیر نے شعبہ عن زہیر بن ابی ثابت الاعمی عن مغیرہ بن حذف کی سند سے علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے ایک شخص کو بدنہ ہانک کر لے جاتے ہوئے دیکھا، جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، فرمایا: ”اس کا دودھ صرف اتنا پیو جو اس کے بچے سے زائد ہو اور جب یوم النحرہو تو اسے اور اس کے بچے کو ذبح کر دو۔“ یہ علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا، مجھے مغیرہ بن حذف کے حالات نہیں ملے اور متن میں بچے کو ذبح کرنے کی بات غریب (انوکھی) ہے۔ ➋ {ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيْقِ:مَحِلُّهَاۤ “} اترنے کی جگہ۔ حلال ہونے کی جگہ سے مراد یہ ہے کہ جہاں آخر قربانی کے جانوروں کو پہنچنا ہے اور نحر یا ذبح ہونا ہے وہ بیت عتیق (کعبہ) ہے۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ هَدْيًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ }» [ المائدۃ: ۹۵ ] یعنی قربانی کا ایسا جانور جو کعبہ تک پہنچنے والا ہو۔ ان دونوں آیتوں میں کعبہ سے مراد حرم کعبہ ہے، کیونکہ عین کعبہ میں تو قربانی نہیں کی جاتی، قربانی تو اس کے باہر کی جاتی ہے، چنانچہ پورے مکہ یا منیٰ میں جہاں بھی قربانی کی جائے درست ہے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَكُلُّ مِنًی مَنْحَرٌ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيْقٌ وَ مَنْحَرٌ] [أبوداوٗد، المناسک، باب الصلاۃ بجمع: ۱۹۳۷ ] ”عرفہ پورا وقوف کی جگہ ہے، منیٰ پورا نحر کی جگہ ہے اور مزدلفہ پورا وقوف کی جگہ ہے اور مکہ کی تمام سڑکیں راستہ ہیں اور نحر کی جگہ ہیں۔ “ ہمارے استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں، اور ہو سکتا ہے کہ {” مَحِلُّهَاۤ “ } میں {”هَا“ } ضمیر سے مراد سارے شعائر ہوں، تو مطلب یہ ہو گا کہ آخر ان تمام مناسک کا خاتمہ بیت اللہ کے طواف کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ معنی زیادہ مناسب ہے، ورنہ خصوصیت کے ساتھ ”بیت عتیق“ کہنے کا فائدہ واضح نہیں رہے گا۔ (قرطبی)
وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلۡنَا مَنۡسَکًا لِّیَذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ عَلٰی مَا رَزَقَہُمۡ مِّنۡۢ بَہِیۡمَۃِ الۡاَنۡعَامِ ؕ فَاِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَلَہٗۤ اَسۡلِمُوۡا ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُخۡبِتِیۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہر امّت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کر دیا ہے تاکہ (اُس امّت کے لوگ) اُن جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اُس نے اُن کو بخشے ہیں (اِن مختلف طریقوں کے اندر مقصد ایک ہی ہے) پس تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے اور اُسی کے تم مطیع فرمان بنو اور اے نبیؐ، بشارت دے دے عاجزانہ رَوش اختیار کرنے والوں کو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ وه ان چوپائے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں دے رکھے ہیں۔ سمجھ لو کہ تم سب کا معبود برحق صرف ایک ہی ہے تم اسی کے تابع فرمان ہو جاؤ عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر تو تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ہر قوم کیلئے قربانی کا ایک طور طریقہ مقرر کیا ہے۔ تاکہ وہ ان چوپایوں پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیں، جو اس نے انہیں عطا کئے ہیں (الغرض) تمہارا اللہ ایک ہی ہے لہٰذا تم اس کی بارگاہ میں سر جھکاؤ اور ان عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کی ہے، تاکہ وہ ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں۔ سو تمھارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے فرماںبردار ہو جاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو خوش خبری سنادے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قربانی ہر امت پر فرض قرار دی گئی ٭٭

فرمان ہے کہ ’ کل امتوں میں ہر مذہب میں ہر گروہ کو ہم نے قربانی کا حکم دیا تھا۔ ان کے لیے ایک دن عید کا مقرر تھا۔ وہ بھی اللہ کے نام ذبیحہ کرتے تھے ‘۔ سب کے سب مکے شریف میں اپنی قربانیاں بھیجتے تھے۔ تاکہ قربانی کے چوپائے جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت اللہ کا نام ذکر کریں۔ { حضور علیہ السلام کے پاس دو مینڈھے چتکبرے بڑے بڑے سینگوں والے لائے گئے آپ نے انہیں لٹا کر ان کی گردن پر پاؤں رکھ کر بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کر ذبح کیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5564] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا { تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت }۔ پوچھا ہمیں اس میں کیا ملتا ہے؟ فرمایا: { ہر بال کے بدلے ایک نیکی }۔ دریافت کیا اور“اون“ کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: { ان کے روئیں کے بدلے ایک نیکی } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3127،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اسے امام ابن جریر رحمتہ اللہ بھی لائے ہیں۔ تم سب کا اللہ ایک ہے گو شریعت کے بعض احکام ادل بدل ہوتے رہے لیکن توحید میں، اللہ کی یگانگت میں، کسی رسول کو کسی نیک امت کو اختلاف نہیں ہوا۔ اور آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الانبیاء:25] ‏‏‏‏ ’ تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو ‘۔ سب اللہ کی توحید، اسی کی عبادت کی طرف تمام جہان کو بلاتے رہے۔ سب پر اول وحی یہی نازل ہوتی رہی۔ پس تم سب اس کی طرف جھک جاؤ، اس کے ہو کر رہو، اس کے احکام کی پابندی کرو، اس کی اطاعت میں استحکام کرو۔ جو لوگ مطمئن ہیں، جو متواضع ہیں، جو تقوے والے ہیں، جو ظلم سے بیزار ہیں، مظلومی کی حالت میں بدلہ لینے کے خوگر نہیں، مرضی مولا، رضائے رب پر راضی ہیں انہیں خوشخبریاں سنا دیں، وہ مبارکباد کے قابل ہیں۔ جو ذکر الٰہی سنتے ہیں دل نرم، اور خوف الٰہی سے پر کر کے رب کی طرف جھک جاتے ہیں، کٹھن کاموں پر صبر کرتے ہیں، مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں۔ امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”واللہ اگر تم نے صبر وبرداشت کی عادت نہ ڈالی تو تم برباد کر دیئے جاؤ گے۔‏‏‏‏“ «وَالْمُقِيمِي» کی قرأت اضافت کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ لیکن ابن سمیفع نے «وَالْمُقِيمِي» پڑھا ہے اور «الصَّلَوٰةِ» کا زبر پڑھا ہے۔ امام حسن نے پڑھا تو ہے نون کے حذف اور اضافت کے ساتھ لیکن «الصَّلَوٰةِ» کا زبر پڑھا ہے اور فرماتے ہیں کہ نون کا حذف یہاں پر بوجہ تخفیف کے ہے کیونکہ اگر بوجہ اضافت مانا جائے تو اس کا زبر لازم ہے۔ اور ہوسکتا ہے کہ بوجہ قرب کے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ فریضہ الٰہی کے پابند ہیں اور اللہ کا حق ادا کرنے والے ہیں اور اللہ کا دیا ہوا دیتے رہتے ہیں، اپنے گھرانے کے لوگوں کو، فقیروں محتاجوں کو اور تمام مخلوق کو جو بھی ضرورت مند ہوں سب کے ساتھ سلوک و احسان سے پیش آتے ہیں۔ اللہ کی حدود کی حفاظت کرتے ہیں منافقوں کی طرح نہیں کہ ایک کام کریں تو ایک کو چھوڑیں۔ سورۃ براۃ میں بھی یہی صفتیں بیان فرمائی ہیں اور وہیں پوری تفسیر بھی بحمدللہ ہم کر آئے ہیں۔ «فَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ»
34۔ 1 منسک۔ نسک ینسک کا مصدر ہے معنی ہیں اللہ کے تقرب کے لیے قربانی کرنا ذبیحۃ (ذبح شدہ جانور) کو بھی نسیکۃ کہا جاتا ہے جس کی جمع نسک ہے اس کے معنی اطاعت و عبادت کے بھی ہیں کیونکہ رضائے الٰہی کے لئے جانور کی قربانی کرنا عبادت ہے۔ اسی لئے غیر اللہ کے نام پر یا ان کی خوشنودی کے لئے جانور ذبح کرنا غیر اللہ کی عبادت ہے، جہاں حج کے اعمال و ارکان ادا کئے جاتے ہیں، جیسے عرفات، مزدلفہ، منٰی اور مکہ۔ مطلق ارکان و اعمال حج کو بھی مناسک کہہ لیا جاتا ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم پہلے بھی ہر مذہب والوں کے لئے ذبح کا یا عبادت کا یہ طریقہ مقرر کرتے آئے ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعے سے اللہ کا قرب حاصل کرتے رہیں۔ اور اس میں حکمت یہ ہے کہ ہمارا نام لیں۔ یعنی بسم اللہ واللہ اکبر کہہ کر ذبح کریں یا ہمیں یاد رکھیں۔
(آیت 34) ➊ { وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا:مَنْسَكًا “} کے تین معنی ہو سکتے ہیں، عبادت، عبادت کی جگہ اور قربانی۔ یہاں آخری معنی زیادہ موزوں ہے، کیونکہ آگے جانوروں پر اللہ کا نام لینے کا ذکر آ رہا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے بطور نیاز قربانی کرنا تمام آسمانی شریعتوں کے نظام عبادت کا لازمی جز رہا ہے۔ اسلام میں بھی یہ بطور عبادت مقرر کی گئی ہے، اس میں حاجی، غیر حاجی کی کوئی قید نہیں ہے۔ چنانچہ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ ضَحَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلٰی صِفَاحِهِمَا يُسَمِّيْ وَيُكَبِّرُ فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهٖ] [بخاري، الأضاحی، باب من ذبح الأضاحي بیدہ: ۵۵۵۸۔ مسلم: ۱۹۶۶ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے دو چتکبرے مینڈھے قربانی کیے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پہلوؤں پر اپنا پاؤں رکھا اور {” بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ “} پڑھ کر ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔“ یاد رہے مکہ میں حج یا عمرہ پر کی جانے والی قربانی کو ہدی اور دوسرے مقامات پر کی جانے والی قربانی کو اضحیہ کہا جاتا ہے۔ ➋ تفسیر ثنائی میں ہے: ”قرآن مجید کے اس دعویٰ (کہ ہر قوم میں قربانی کا حکم ہے) کا ثبوت آج بھی مذہبی کتب میں ملتا ہے۔ عیسائیوں کی بائبل تو قربانی کے احکام سے بھری پڑی ہے۔ تورات کی دوسری کتاب سفر خروج میں عموماً یہی احکام ہیں۔ تعجب تو یہ ہے کہ ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔ ہندوؤں اور آریوں کے مسلمہ پیشوا منوجی کہتے ہیں: ”یگیہ (قربانی) کے واسطے اور نوکروں کے کھانے کے واسطے اچھے ہرن اور پرند مارنا چاہیے۔ اگلے زمانے میں رشیوں نے یگیہ کے لیے کھانے کے لائق ہرن اور پکشیوں کو مارا ہے۔ شری برہماجی نے آپ سے آپ یگیہ (قربانی) کے واسطے پشو (حیوانوں) کو پیدا کیا۔ اس سے یگیہ جو قتل ہوتا ہے وہ بدھ نہیں کہلاتا۔ حیوان، پرند، کچھوا وغیرہ، یہ سب یگیہ کے واسطے مارے جانے سے اعلیٰ ذات کو دوسرے جنم میں پاتے ہیں۔“ [ ادہیائے: ۵۔ شلوک: ۲۲، ۲۳، ۳۹، ۴۰ ] گو آج کل کے ہندو یا آریہ ایسے مقامات کی تاویل یا تردید کریں مگر صاف الفاظ کے ہوتے ہوئے ان کی تاویل کون سنتا ہے۔ اس جگہ ہم نے صرف یہ دکھانا تھا کہ قرآن شریف نے جو دعویٰ کیا ہے وہ بحمد اللہ اپنا ثبوت رکھتا ہے، باقی قربانی کی علت اور وجہ کے لیے ہماری کتب مباحثہ، حق پر کاش، ترک اسلام وغیرہ ملاحظہ ہوں۔“ ➌ { لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ …:} یعنی ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کی ہے، تاکہ وہ ہمارے عطا کردہ پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام لے کر انھیں قربان کریں، نہ کہ کفار کی طرح ہمارے عطا کر دہ چوپاؤں کو بتوں اور غیر اللہ کے آستانوں پر انھیں خوش کرنے کی نیت سے ذبح کریں۔ ➍ { فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا:} پہلی امتوں پر قربانی مقرر کرنے کے ذکر کے بعد اب ہماری امت کو خطاب ہے کہ پہلی امتوں کا الٰہ اور تمھارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے، سو تم بھی پوری طرح اسی کے فرماں بردار ہو جاؤ اور اپنے آپ کو پوری طرح اس کے سپرد کر دو اور اپنی ہر عبادت، جس میں قربانی بھی ہے، صرف اسی کے لیے کرو۔ اگر کسی اور کے لیے کرو گے تو اس کی عبادت میں شرک کے مجرم ٹھہرو گے۔ مگر اب بعض مسلمان کہلانے والوں کا یہ حال ہو گیا ہے کہ عید الاضحی پر قربانی کو بھی عبد القادر جیلانی کی گیارھویں قرار دے کر ان کے نام کا ختم دیتے ہیں، اس سے بڑھ کر شرک کیا ہو گا؟ ➎ {وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ:” الْمُخْبِتِيْنَ “} باب افعال ({ إِخْبَاتٌ }) سے اسم فاعل ہے۔ {”خَبْتٌ“} نیچی جگہ کو کہتے ہیں۔ {”مُخْبِتٌ“} کا معنی نیچی جگہ میں چلنے والا ہے، پھر یہ لفظ استعارہ کے طور پر تواضع اور عاجزی کرنے والے کے لیے استعمال ہونے لگا۔ بعض حضرات نے اسے {”خَبَتِ النَّارُ“} (آگ بجھ گئی) سے مشتق مانا ہے، حالانکہ اس کا اصل ”خ ب و“ ہے، جبکہ {” الْمُخْبِتِيْنَ “} کا اصل ”خ ب ت“ ہے۔ یعنی ان عاجزی کرنے والوں کو بشارت دے دے کہ جن کے ہاں اللہ کے حضور عاجزی ہی عاجزی ہے اور ذرہ بھر تکبر نہیں۔ یہاں مراد حج و عمرہ کے لیے آنے والے ہیں کہ ان کی کفن جیسی ان سلی چادروں، ننگے سروں، ان کی وضع قطع، ان کی لبیک کی صداؤں، منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں وقوف، ان کے طواف، سعی اور ان کی قربانیوں، غرض ہر چیز سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے سامنے پامال ہو چکے ہیں۔
الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَ الصّٰبِرِیۡنَ عَلٰی مَاۤ اَصَابَہُمۡ وَ الۡمُقِیۡمِی الصَّلٰوۃِ ۙ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جن کا حال یہ ہے کہ اللہ کا ذکر سُنتے ہیں تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں، جو مصیبت بھی اُن پر آتی ہے اُس پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ رزق ہم نے اُن کو دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
انہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے ان کے دل تھرا جاتے ہیں۔ انہیں جو برائی پہنچے اس پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وه اس میں سے بھی دیتے رہتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کہ جب اللہ کا ذکر ہوتا ہے ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں اور جو افتاد پڑے اس کے سنے والے اور نماز برپا رکھنے والے اور ہمارے دیے سے خرچ کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کہ جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل دھل جاتے ہیں۔ اور جو ان مصائب و آلام پر صبر کرنے والے ہیں جو انہیں پہنچتے ہیں اور جو پابندی سے نماز ادا کرتے ہیں۔ اور ہم نے انہیں جو کچھ عطا کیا ہے اس میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرتے رہتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے، ان کے دل ڈرجاتے ہیں اور ان پر جو مصیبت آئے اس پر صبر کرنے والے اور نماز قائم کرنے والے ہیں اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قربانی ہر امت پر فرض قرار دی گئی ٭٭

فرمان ہے کہ ’ کل امتوں میں ہر مذہب میں ہر گروہ کو ہم نے قربانی کا حکم دیا تھا۔ ان کے لیے ایک دن عید کا مقرر تھا۔ وہ بھی اللہ کے نام ذبیحہ کرتے تھے ‘۔ سب کے سب مکے شریف میں اپنی قربانیاں بھیجتے تھے۔ تاکہ قربانی کے چوپائے جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت اللہ کا نام ذکر کریں۔ { حضور علیہ السلام کے پاس دو مینڈھے چتکبرے بڑے بڑے سینگوں والے لائے گئے آپ نے انہیں لٹا کر ان کی گردن پر پاؤں رکھ کر بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کر ذبح کیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5564] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا { تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت }۔ پوچھا ہمیں اس میں کیا ملتا ہے؟ فرمایا: { ہر بال کے بدلے ایک نیکی }۔ دریافت کیا اور“اون“ کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: { ان کے روئیں کے بدلے ایک نیکی } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3127،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اسے امام ابن جریر رحمتہ اللہ بھی لائے ہیں۔ تم سب کا اللہ ایک ہے گو شریعت کے بعض احکام ادل بدل ہوتے رہے لیکن توحید میں، اللہ کی یگانگت میں، کسی رسول کو کسی نیک امت کو اختلاف نہیں ہوا۔ اور آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الانبیاء:25] ‏‏‏‏ ’ تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو ‘۔ سب اللہ کی توحید، اسی کی عبادت کی طرف تمام جہان کو بلاتے رہے۔ سب پر اول وحی یہی نازل ہوتی رہی۔ پس تم سب اس کی طرف جھک جاؤ، اس کے ہو کر رہو، اس کے احکام کی پابندی کرو، اس کی اطاعت میں استحکام کرو۔ جو لوگ مطمئن ہیں، جو متواضع ہیں، جو تقوے والے ہیں، جو ظلم سے بیزار ہیں، مظلومی کی حالت میں بدلہ لینے کے خوگر نہیں، مرضی مولا، رضائے رب پر راضی ہیں انہیں خوشخبریاں سنا دیں، وہ مبارکباد کے قابل ہیں۔ جو ذکر الٰہی سنتے ہیں دل نرم، اور خوف الٰہی سے پر کر کے رب کی طرف جھک جاتے ہیں، کٹھن کاموں پر صبر کرتے ہیں، مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں۔ امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”واللہ اگر تم نے صبر وبرداشت کی عادت نہ ڈالی تو تم برباد کر دیئے جاؤ گے۔‏‏‏‏“ «وَالْمُقِيمِي» کی قرأت اضافت کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ لیکن ابن سمیفع نے «وَالْمُقِيمِي» پڑھا ہے اور «الصَّلَوٰةِ» کا زبر پڑھا ہے۔ امام حسن نے پڑھا تو ہے نون کے حذف اور اضافت کے ساتھ لیکن «الصَّلَوٰةِ» کا زبر پڑھا ہے اور فرماتے ہیں کہ نون کا حذف یہاں پر بوجہ تخفیف کے ہے کیونکہ اگر بوجہ اضافت مانا جائے تو اس کا زبر لازم ہے۔ اور ہوسکتا ہے کہ بوجہ قرب کے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ فریضہ الٰہی کے پابند ہیں اور اللہ کا حق ادا کرنے والے ہیں اور اللہ کا دیا ہوا دیتے رہتے ہیں، اپنے گھرانے کے لوگوں کو، فقیروں محتاجوں کو اور تمام مخلوق کو جو بھی ضرورت مند ہوں سب کے ساتھ سلوک و احسان سے پیش آتے ہیں۔ اللہ کی حدود کی حفاظت کرتے ہیں منافقوں کی طرح نہیں کہ ایک کام کریں تو ایک کو چھوڑیں۔ سورۃ براۃ میں بھی یہی صفتیں بیان فرمائی ہیں اور وہیں پوری تفسیر بھی بحمدللہ ہم کر آئے ہیں۔ «فَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 35) ➊ { الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ:” وَجِلَ يَوْجَلَ وَجْلاً “} (ع) شدید خوف۔ اس آیت میں {” الْمُخْبِتِيْنَ “} (تواضع اور عاجزی کرنے والوں) کے اوصاف بیان ہوئے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات یا اس کے کسی حکم کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل سخت ڈر جاتے ہیں اور وہ اللہ کی حمد و ثنا اور اس سے استغفار کرتے ہیں اور دل و جان سے اس کا حکم بجا لاتے ہیں۔ کفار کی طرح نہیں کہ جن کے دل اکیلے اللہ کا ذکر ہونے پر تنگ پڑ جاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَاهُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ}» [ الزمر: ۴۵ ] ”اور جب اس اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑجاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور جب ان کا ذکر ہوتا ہے جو اس کے سوا ہیں تو اچانک وہ بہت خوش ہو جاتے ہیں۔ “ اور جب ان کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو نہایت تکبر سے منہ پھیر کر چل دیتے ہیں جیسے انھوں نے وہ سنی ہی نہیں، فرمایا: «{ وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِيْۤ اُذُنَيْهِ وَقْرًا فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ}» [ لقمان: ۷ ] ”اور جب اس پر ہماری آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتا ہے، گویا اس نے وہ سنی ہی نہیں، گویا اس کے دونوں کانوں میں بوجھ ہے، سو اسے دردناک عذاب کی خوش خبری دے دے۔“ ایسے متکبروں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ بھی مہر لگا دیتا ہے، فرمایا: «{ كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ[المؤمن: ۳۵ ] ”اسی طرح اللہ ہر متکبر، سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔“ ➋ {وَ الصّٰبِرِيْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ:} یہ آیات چونکہ حج کے بیان میں آئی ہیں اور حج میں سفر کی صعوبتوں کے علاوہ بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں، بعض ساتھیوں کے مزاج کی شدت، خود غرضی یا ضروریات کی کمی کی وجہ سے لڑائی جھگڑے کی نوبت آتی ہے، خصوصاً جب ان میں بدعقیدہ اور مشرک لوگ بھی ہوں، کیونکہ یہ سورت مکہ میں اتری اور اب بھی بہت سے حاجی وہ ہوتے ہیں جو شرک و بدعت میں گرفتار ہوتے ہیں اور توحید و سنت کی بات سننا برداشت ہی نہیں کر سکتے۔ بعض اوقات بھوک، بیماری، راستے کی رکاوٹیں اور قدرتی آفات پیش آ جاتی ہیں، تو اللہ کے وہ متواضع بندے ان سب مواقع پر «فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ وَ لَا جِدَالَ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۹۷ ] اور «‏‏‏‏وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ (155) الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۵۵، ۱۵۶ ] پر عمل کرتے ہوئے اتنا صبر کرتے ہیں کہ صابرین کے لقب سے سرفراز ہوتے ہیں۔ ➌ { وَ الْمُقِيْمِي الصَّلٰوةِ: ”اَلْمُقِيْمِيْنَ“} کا نون {” الصَّلٰوةِ “} کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے گر گیا ہے۔ مضاف پر اگرچہ الف لام نہیں آتا مگر اسم فاعل یا صفت کا کوئی صیغہ اپنے معمول کی طرف مضاف ہو تو اس پر الف لام آ جاتا ہے۔ سفر حج کی صعوبتوں کی وجہ سے عین ممکن ہے کہ نماز میں سستی ہو جائے، یا وہ صحیح طریقے سے ادا نہ کی جا سکے، مگر اللہ کے وہ عاجز بندے اللہ سے اتنی محبت رکھتے اور نماز میں غفلت سے اس قدر خوف زدہ رہتے ہیں کہ ہر وقت اس کی فکر میں رہتے ہیں اور اسے اتنی پابندی سے بروقت اور صحیح طریقے سے ادا کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ کی طرف سے انھیں ”نماز قائم کرنے والے“ کا لقب عطا ہوتا ہے، گویا وہ ہر وقت نماز ہی میں ہیں۔ ➍ { وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ:} اس سفر میں چونکہ خرچ بہت ہوتا ہے، اس لیے فرمایا کہ ہمارے وہ بندے سفر کے خرچ میں، یا کھانے پینے کے خرچ میں، یا اپنے ساتھیوں پر خرچ کرنے میں، یا قربانی وغیرہ پر خرچ کرنے میں بخل نہیں کرتے، بلکہ ہم نے جو کچھ انھیں دیا ہے، یہ سمجھ کر کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اسی کا عطا کردہ ہے، فراخ دلی سے خرچ کرتے ہیں۔ ➎ اس آیت کی مندرجہ بالا تفسیر مفسر بقاعی نے سیاق و سباق کے لحاظ سے کی ہے۔ الفاظ عام ہونے کا تقاضا ہے کہ {”الْمُخْبِتِيْنَ “} (اللہ کے متواضع بندوں) کی یہ صفات ان میں صرف حج کے دوران میں نہیں بلکہ دوسرے تمام اوقات میں بھی پائی جاتی ہیں، جس سے وہ بشارت الٰہی {” بَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ “} کے مستحق بنتے ہیں۔
وَ الۡبُدۡنَ جَعَلۡنٰہَا لَکُمۡ مِّنۡ شَعَآئِرِ اللّٰہِ لَکُمۡ فِیۡہَا خَیۡرٌ ٭ۖ فَاذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ عَلَیۡہَا صَوَآفَّ ۚ فَاِذَا وَجَبَتۡ جُنُوۡبُہَا فَکُلُوۡا مِنۡہَا وَ اَطۡعِمُوا الۡقَانِعَ وَ الۡمُعۡتَرَّ ؕ کَذٰلِکَ سَخَّرۡنٰہَا لَکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور (قربانی کے) اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے شعائر اللہ میں شامل کیا ہے، تمہارے لیے اُن میں بھَلائی ہے، پس انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو، اور جب (قربانی کے بعد) ان کی پیٹھیں زمین پر ٹک جائیں تو اُن میں سے خود بھی کھاؤ اور اُن کو بھی کھلاؤ جو قناعت کیے بیٹھے ہیں اور اُن کو بھی جو اپنی حاجت پیش کریں اِن جانوروں کو ہم نے اِس طرح تمہارے لیے مسخّر کیا ہے تاکہ تم شکریہ ادا کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
قربانی کے اونٹ ہم نے تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی نشانیاں مقرر کر دی ہیں ان میں تمہیں نفع ہے۔ پس انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو، پھر جب ان کے پہلو زمین سے لگ جائیں اسے (خود بھی) کھاؤ اور مسکین سوال سے رکنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ، اسی طرح ہم نے چوپایوں کو تمہارے ماتحت کردیا ہے کہ تم شکر گزاری کرو
احمد رضا خان بریلوی
اور قربانی کے ڈیل دار جانور اور اونٹ اور گائے ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے کیے تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے تو ان پر اللہ کا نام لو ایک پاؤں بندھے تین پاؤں سے کھڑے پھر جب ان کی کروٹیں گرجائیں تو ان میں سے خود کھاؤ اور صبر سے بیٹھنے والے اور بھیک مانگنے والے کو کھلاؤ، ہم نے یونہی ان کو تمہارے بس میں دے دیا کہ تم احسان مانو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے قربانی کے اونٹوں کو تمہارے لئے شعائر اللہ سے قرار دیا ہے۔ ان میں تمہارے لئے بھلائی ہے پس تم ان کو صف بستہ کھڑا کرکے خدا کا نام لو۔ اور جب وہ کروٹ کے بل گر پڑیں تو ان میں سے خود بھی کھاؤ اور بے سوال اور سوالی کو بھی کھلاؤ اسی طرح ہم نے ان جانوروں کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے تاکہ تم شکرگزار (بندے) بن جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اور قربانی کے بڑے جانور، ہم نے انھیں تمھارے لیے اللہ کی نشانیوں سے بنایا ہے، تمھارے لیے ان میں بڑی خیر ہے۔ سو ان پر اللہ کا نام لو، اس حال میں کہ گھٹنا بندھے کھڑے ہوں، پھر جب ان کے پہلو گر پڑیں تو ان سے کچھ کھائو اور قناعت کرنے والے کو کھلاؤ اور مانگنے والے کو بھی۔ اسی طرح ہم نے انھیں تمھارے لیے مسخر کر دیا، تاکہ تم شکر کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شعائر اللہ کیا ہیں ؟ ٭٭

یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے جانور پیدا کئے اور انہیں اپنے نام پر قربان کرنے اور اپنے گھر بطور قربانی کے پہنچانے کا حکم فرمایا اور انہیں شعائر اللہ قرار دیا اور حکم فرمایا آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ‌ اللَّـهِ وَلَا الشَّهْرَ‌ الْحَرَ‌امَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَائِدَ وَلَا آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَ‌امَ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّن رَّ‌بِّهِمْ وَرِ‌ضْوَانًا» ۱؎ [5-المائدة:2] ‏‏‏‏ ’ نہ تو اللہ کے ان عظمت والے نشانات کی بے ادبی کرو نہ حرمت والے مہینوں کی گستاخی کرو ‘ لہٰذا ہر اونٹ گائے جو قربانی کے لیے مقرر کر دیا جائے وہ بدن میں داخل ہے۔ گو بعض لوگوں نے صرف اونٹ کو ہی بدن کہا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ اونٹ تو ہے ہی گائے بھی اس میں شامل ہے۔ حدیث میں ہے کہ { جس طرح اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے قربان ہوسکتا ہے اسی طرح گائے بھی }۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے صحیح مسلم شریف میں روایت ہے کہ { ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم اونٹ میں سات شریک ہو جائیں اور گائے میں بھی سات آدمی شرکت کر لیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1318] ‏‏‏‏ امام اسحاق بن راہویہ وغیرہ تو فرماتے ہیں ان دونوں جانوروں میں دس دس آدمی شریک ہو سکتے ہیں مسند احمد اور سنن نسائی میں ایسی حدیث بھی آئی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرمایا ’ ان جانورں میں تمہارا اخروی نفع ہے ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { بقرہ عید والے دن انسان کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک قربانی سے زیادہ پسندیدہ نہیں۔ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، کھروں اور بالوں سمیت انسان کی نیکیوں میں پیش کیا جائے گا۔ یاد رکھو قربانی کے خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں پہنچ جاتا ہے پس ٹھنڈے دل سے قربانیاں کرو } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1493،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ تو قرض اٹھا کر بھی قربانی کیا کرتے تھے اور لوگوں کے دریافت کرنے پر فرماتے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہیں اس میں تمہارا بھلا ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { کسی خرچ کا فضل اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہ نسبت اس خرچ کے جو بقرہ عید والے دن کی قربانی پر کیا جائے ہرگز افضل نہیں } }۔ ۱؎ [دارقطنی:282/4:ضعیف] ‏‏‏‏ پس اللہ فرماتا ’ تمہارے لیے ان جانوروں میں ثواب ہے نفع ہے ضرورت کے وقت دودھ پی سکتے ہو سوار ہو سکتے ہو ‘،پھر ان کی قربانی کے وقت اپنا نام پڑھنے کی ہدایت کرتا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے عید الاضحی کی نماز رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی نماز سے فراغت پاتے ہی سامنے مینڈھا لایا گیا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا «بِسْمِ اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر اللَّهُمَّ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي» پڑھ کر ذبح کیا (‏‏‏‏کہا اے اللہ یہ میری طرف سے ہے اور میری امت میں سے جو قربانی نہ کر سکے اس کی طرف سے ہے) }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2810،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں { عید والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو مینڈھے لائے گئے انہیں قبلہ رخ کر کے آپ نے دعا «وَجَّهْت وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَات وَالْأَرْض حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيك لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْت وَأَنَا أَوَّل الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ مِنْك وَلَك عَنْ مُحَمَّد وَأُمَّته» پڑھ کر «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهِ أَكْبَرُ» کہہ کر ذبح کر ڈالا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2795،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { قربانی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھے موٹے موٹے تازے تیار عمدہ بڑے سینگوں والے چتکبرے خریدتے، جب نماز پڑھ کر خطبے سے فراغت پاتے ایک جانور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں عید گاہ میں ہی خود اپنے ہاتھ سے اسے ذبح کرتے اور فرماتے { اللہ تعالیٰ یہ میری ساری امت کی طرف سے ہے جو بھی توحید وسنت کا گواہ ہے }، پھر دوسرا جانور حاضر کیا جاتا جسے ذبح کرکے فرماتے { یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے } پھر دونوں کا گوشت مسکینوں کو بھی دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے بھی کھاتے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3122،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

«صَوَافَّ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اونٹ کو تین پیروں پر کھڑا کر کے اس کا بایاں ہاتھ باندھ کر دعا «بِسْمِ اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر لَا إِلَه إِلَّا اللَّه اللَّهُمَّ مِنْك وَلَك» پڑھ کر اسے نحر کرنے کے کئے ہیں۔ { سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے اپنے اونٹ کو قربان کرنے کے لیے بٹھایا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اسے کھڑا کر دے اور اس کا پیر باندھ کر اسے نحر کر یہی سنت ہے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1713] ‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اونٹ کا ایک پاؤں باندھ کر تین پاؤں پر کھڑا کر کے ہی نحر کرتے تھے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1768،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سلیمان بن عبدالملک سے فرمایا تھا کہ بائیں طرف سے نحر کیا کرو۔ حجتہ الوداع کا بیان کرتے ہوئے جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر کئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں حربہ تھا جس سے آپ زخمی کر رہے تھے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1218] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «صَوَافِن» ہے یعنی کھڑے کر کے پاؤں باندھ کر «صَوَافَّ» کے معنی خالص کے بھی کئے گئے ہیں یعنی جس طرح جاہلیت کے زمانے میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے تم نہ کرو، صرف اللہ واحد کے نام پر ہی قربانیاں کرو۔ پھر جب یہ زمین پر گر پڑیں یعنی نحر ہو جائیں ٹھنڈے پڑجائیں تو خود کھاؤ اوروں کو بھی کھلاؤ نیزہ مارتے ہی ٹکڑے کاٹنے شروع نہ کرو جب تک روح نہ نکل جائے اور ٹھنڈا نہ پڑ جائے۔ چنانچہ ایک حدیث میں بھی آیا ہے کہ { روحوں کے نکالنے میں جلدی نہ کرو }۔ صحیح مسلم کی حدیث میں کہ { اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ سلوک کرنا لکھ دیا ہے دشمنوں کو میدان جنگ میں قتل کرتے وقت بھی نیک سلوک رکھو اور جانوروں کو ذبح کرتے وقت بھی اچھی طرح سے نرمی کے ساتھ ذبح کرو چھری تیز کر لیا کرو اور جانور کو تکلیف نہ دیا کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1955] ‏‏‏‏ فرمان ہے کہ { جانور میں جب تک جان ہے اور اس کے جسم کا کوئی حصہ کاٹ لیا جائے تو اس کا کھانا حرام ہے }۔ [سنن ابوداود:2857،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

پھر فرمایا ’ اسے خود کھاؤ ‘، بعض سلف تو فرماتے ہیں ”یہ کھانا مباح ہے۔‏‏‏‏“ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے ”مستحب ہے“ اور لوگ کہتے ہیں ”واجب ہے۔‏‏‏‏“ ’ اور مسکینوں کو بھی دو خواہ وہ گھروں میں بیٹھنے والے ہوں خواہ وہ دربدر سوال کرنے والے ‘۔ یہ بھی مطلب ہے کہ قانع تو وہ ہے جو صبر سے گھر میں بیٹھا رہے اور معتر وہ ہے جو سوال تو نہ کرے لیکن اپنی عاجزی مسکینی کا اظہار کرے۔ یہ بھی مروی ہے کہ قانع وہ ہے جو مسکین ہو آنے جانے والا۔ اور «مُعْتَرَّ» سے مراد دوست اور ناتواں لوگ اور وہ پڑوسی جو گو مالدار ہوں لیکن تمہارے ہاں جو آئے جائے اسے وہ دیکھتے ہوں۔ وہ بھی ہیں جو طمع رکھتے ہوں اور وہ بھی جو امیر فقیر موجود ہوں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ «الْقَانِعَ» سے مراد اہل مکہ ہیں۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ ” «قَانِعَ» سے مراد تو سائل ہے کیونکہ وہ اپنا ہاتھ سوال کے لیے دراز کرتا ہے، اور «مُعْتَرَّ» سے مراد وہ جو ہیر پھیر کرے کہ کچھ مل جائے۔‏‏‏‏“ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنے چاہئیں۔ تہائی اپنے کھانے کو، تہائی دوستوں کے دینے کو، تہائی صدقہ کرنے کو۔

حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میں نے تمہیں قربانی کے گوشت کو جمع کر کے رکھنے سے منع فرما دیا تھا کہ تین دن سے زیادہ تک نہ روکا جائے اب میں اجازت دیتا ہوں کہ کھاؤ جمع کرو جس طرح چاہو } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1977] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { کھاؤ جمع کرو اور صدقہ کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1971] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے { کھاؤ اور کھلاؤ اور راہ للہ دو }۔ بعض لوگ کہتے ہیں قربانی کرنے والا آدھا گوشت آپ کھائے اور باقی صدقہ کر دے کیونکہ قرآن نے فرمایا ہے ’ خود کھاؤ اور محتاج فقیر کو کھلاؤ ‘۔ اور حدیث میں بھی ہے کہ { کھاؤ، جمع، ذخیرہ کرو اور راہ للہ دو }۔ اب جو شخص اپنی قربانی کا سارا گوشت خود ہی کھا جائے تو ایک قول یہ بھی ہے کہ اس پر کچھ حرج نہیں۔ بعض کہتے ہیں اس پر ویسی ہی قربانی یا اس کی قیمت کی ادائیگی ہے بعض کہتے ہیں آدھی قیمت دے، بعض آدھا گوشت۔ بعض کہتے ہیں اس کے اجزا میں سے چھوٹے سے چھوٹے جز کی قیمت اس کے ذمے ہے باقی معاف ہے۔ کھال کے بارے میں مسند احمد میں حدیث ہے کہ { کھاؤ اور فی اللہ دو اور اس کے چمڑوں سے فائدہ اٹھاؤ لیکن انہیں بیچو نہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:15/4:ضعیف] ‏‏‏‏ بعض علماء نے بیچنے کی رخصت دی ہے۔ بعض کہتے ہیں غریبوں میں تقسیم کر دئیے جائیں۔

مسئلہ ٭٭

براء بن عازب کہتے ہیں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سب سے پہلے ہمیں اس دن نماز عید ادا کرنی چاہیئے پھر لوٹ کر قربانیاں کرنی چاہئیں جو ایسا کرے اس نے سنت کی ادائیگی کی۔ اور جس نے نماز سے پہلے ہی قربانی کر لی اس نے گویا اپنے والوں کے لیے گوشت جمع کر لیا اسے قربانی سے کوئی لگاؤ نہیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:951-955] ‏‏‏‏ اسی لیے امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اور علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ قربانی کا اول وقت اس وقت ہوتا ہے جب سورج نکل آئے اور اتنا وقت گزر جائے کہ نماز ہولے اور دو خطبے ہو لیں۔ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک اس کے بعد کا اتنا وقت بھی کہ امام ذبح کر لے۔ کیونکہ صحیح مسلم میں ہے { امام جب تک قربانی نہ کرے تم قربانی نہ کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1964] ‏‏‏‏ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک تو گاؤں والوں پر عید کی نماز ہی نہیں اس لیے کہتے ہیں کہ وہ طلوع فجر کے بعد ہی قربانی کر سکتے ہیں ہاں شہری لوگ جب تک امام نماز سے فارغ نہ ہولے قربانی نہ کریں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف عید والے دن ہی قربانی کرنا مشروع ہے اور قول ہے کہ شہر والوں کے لیے تو یہی ہے کیونکہ یہاں قربانیاں آسانی سے مل جاتی ہیں۔ لیکن گاؤں والوں کے لیے عید کا دن اور اس کے بعد کے ایام تشریق۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ دسویں اور گیا رھویں تاریخ سب کے لیے قربانی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عید کے بعد کے دو دن۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عید کا دن اور اس کے بعد کے تین دن جو ایام تشریق کے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہی ہے کیونکہ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایام تشریق سب قربانی کے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:82/4:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ کہا گیا ہے کہ قربانی کے دن ذی الحجہ کے خاتمہ تک ہیں لیکن یہ قول غریب ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اسی وجہ سے ہم نے ان جانوروں کو تمہارا فرماں بردار اور زیر اثر کر دیا ہے کہ تم چاہو سواری لو، جب چاہو دودھ نکال لو، جب چاہو ذبح کر کے گوشت کھا لو ‘۔ جیسے سورۃ یسٰین میں آیت «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَا أَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مَالِكُونَ وَذَلَّلْنَاهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ وَلَهُمْ فِيهَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ أَفَلَا يَشْكُرُونَ» ۱؎ [36-یس:71-73] ‏‏‏‏ تک بیان ہوا ہے۔ یہی فرمان یہاں ہے کہ ’ اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کرو اور ناشکری، ناقدری نہ کرو ‘۔
36۔ 1 بدن بدنۃ کی جمع ہے یہ جانور عام طور پر موٹا تازہ ہوتا ہے اس لیے بدنۃ کہا جاتا ہے۔ فربہ جانور۔ اہل لغت نے اسے صرف اونٹوں کے ساتھ خاص کیا ہے لیکن حدیث کی رو سے گائے پر بھی بدنۃ کا اطلاق صحیح ہے مطلب یہ ہے کہ اونٹ اور گائے جو قربانی کے لیے لیے جائیں یہ بھی شعائر اللہ یعنی اللہ کے ان احکام میں سے ہیں جو مسلمانوں کے لیے خاص اور ان کی علامت ہیں۔ 3: صواف مصفوفۃ (صف بستہ یعنی کھڑے ہوئے) معنی میں ہے اونٹ کو اسی طرح کھڑے کھڑے نحر کیا جاتا ہے کہ بایاں ہاتھ پاؤں اس کا بندھا ہوا اور تین پاؤں پر وہ کھڑا ہوتا ہے۔ 36۔ 2 یعنی سارا خون نکل جائے اور وہ بےروح ہو کر زمین پر گرے تب اسے کاٹنا شروع کرو۔ کیونکہ جی دار جانور کا گوشت کاٹ کر کھانا ممنوع ہے ' جس جانور سے اس حال میں گوشت کاٹا جائے کہ وہ زندہ ہو تو وہ (کاٹا) ہوا گوشت مردہ ہے۔ 36۔ 3 بعض علماء کے نزدیک یہ امر وجوب کے لئے ہے یعنی قربانی کا گوشت کھانا، قربانی کرنے والے کے لئے واجب ہے یعنی ضروری ہے اور اکثر علماء کے نزدیک یہ امر جواز کے لئے ہے۔ یعنی اس امر کا مقصد صرف جواز کا اثبات یعنی اگر کھالیا جائے تو جائز یا پسندیدہ ہے اور اگر کوئی نہ کھائے بلکہ سب کا سب تقسیم کر دے تو کوئی گناہ نہیں ہے۔ 3: قانع کے ایک معنی سائل کے اور دوسرے معنی قناعت کرنے والے کے کیے گئے ہیں یعنی وہ سوال نہ کرے اور معتر کے معنی بعض نے بغیر سوال کے سامنے آنے والے کے کیے ہیں اور تیسرا سائلین اور معاشرے کی ضرورت مند افراد کے لیے۔ جس کی تائید میں یہ حدیث بھی پیش کی جاتی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں (پہلے) تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت ذخیرہ کرکے رکھنے سے منع کیا تھا لیکن اب تمہیں اجازت ہے کہ کھاؤ اور جو مناسب سمجھو ذخیرہ کرو دوسری روایت کے الفاظ ہیں پس کھاؤ
(آیت 36) ➊ {وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ:الْبُدْنَ”بَدَنَةٌ“} کی جمع ہے، بڑے بدن والا جانور۔ یہ لفظ بڑے جسم کی وجہ سے اونٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے پہلے قربانی کے لیے سورۂ انعام (۱۴۳، ۱۴۴) میں {”بَهِيْمَةُ الْأَنْعَامِ“} یعنی پالتو چوپاؤں کا ذکر فرمایا تھا جو بھیڑ، بکری، اونٹ اور گائے ہیں۔ اس آیت میں بڑے جانوروں کا ذکر خصوصاً فرمایا، کیونکہ چوپاؤں میں بطور {”شعائر الله“} وہ زیادہ نمایاں ہوتے ہیں، خاص طور پر اونٹ اپنے بلند قد کی وجہ سے اور اِشعار کی وجہ سے زیادہ ہی نمایاں ہوتا ہے۔ اِشعار کا مطلب یہ ہے کہ جب مکہ میں قربانی کے اونٹ روانہ کیے جاتے ہیں تو ان کے کوہان کے دائیں طرف برچھی وغیرہ سے زخم کرکے خون جلد پر مل دیا جاتا ہے، جو علامت ہوتا ہے کہ یہ جانور مکہ معظمہ قربانی کے لیے جا رہے ہیں اور جس سے ہر دیکھنے والا ان کی تعظیم و تکریم اور خدمت کرتا ہے۔ گائے کو بھی {”بَدَنَةٌ“} کہہ لیتے ہیں، قاموس میں ہے: {” اَلْبَدَنَةُ مُحَرَّكَةً مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ كَالْأُضْحِيَةِ مِنَ الْغَنَمِ“} ”یعنی جس طرح بھیڑ بکری کی قربانی کو اضحیہ کہتے ہیں اسی طرح اونٹ اور گائے کو بدنہ کہتے ہیں۔“ حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: [ خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّيْنَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنْ نَّشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ، وَالْبَقَرِ، كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِيْ بَدَنَةٍ ] [ مسلم، الحج، باب جواز الاشتراک في الھدی…: 1318/351 ] ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھے ہوئے نکلے تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم اونٹوں اور گائیوں میں شریک ہو جائیں، ہم میں سے ہر سات آدمی ایک بدنہ میں شریک ہو جائیں۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اونٹ اور گائے دونوں کو بدنہ کہتے ہیں اور یہ کہ حج کے موقع پر اونٹ اور گائے دونوں میں سات سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔ دوسری روایت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے، بیان کرتے ہیں: [ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ سَفَرٍ فَحَضَرَ الْأَضْحٰی فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَقَرَةِ سَبْعَةً وَفِي الْجَزُوْرِ عَشْرَةً ] [ ترمذي، الحج، باب ما جاء في الاشتراک في البدنۃ والبقرۃ: ۹۰۵، وقال حدیث حسن صحیح وقال الألباني صحیح ] ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے تو نحر (قربانی کا وقت) آگیا تو ہم نے گائے سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی اور اونٹ دس آدمیوں کی طرف سے۔“ ترمذی کے علاوہ اسے احمد، نسائی اور طبرانی نے بھی روایت کیا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج کے علاوہ دوسرے مقامات پر عید الاضحی کے موقع پر اونٹ میں دس آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔ ہاں، حج کے موقع پر سات آدمی شریک ہوں گے، جیسا کہ مسلم کی حدیث میں گزرا ہے۔ البتہ ہمارے استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے: ”ایک اونٹ کی قربانی میں دس اور ایک گائے کی قربانی میں سات شریک ہو سکتے ہیں، جیسا کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کی روایت میں ہے اور صحیح مسلم میں جو جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں {”اَلْجَزُوْرُ عَنْ سَبْعَةٍ “} (اونٹ سات کی طرف سے) آیا ہے وہ اس کے منافی نہیں ہے، کیونکہ دس والی روایت جواز پر محمول ہے۔“ ➋ { لَكُمْ فِيْهَا خَيْرٌ:خَيْرٌ “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”تمھارے لیے ان میں بڑی خیر ہے۔“ اس خیر میں وہ منافع بھی شامل ہیں جو آیت (۲۳) کی تفسیر میں گزرے ہیں اور ذبح کرنے کے بعد ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیوں اور جسم کے ہر حصے سے فائدہ اٹھانا بھی شامل ہے۔ آخرت میں ملنے والا اجر و ثواب اس کے علاوہ ہے اور وہ ایسی خیر ہے جو شمار سے باہر ہے۔ ➌ { فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا:} یہ کہنے کے بجائے کہ انھیں ذبح کرو، فرمایا، ان پر اللہ کا نام لو۔ اس لفظ کو بار بار دہرانے سے یہ بات ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ اللہ کے پیدا کیے یہ چوپائے اسی کے نام پر ذبح ہونے چاہییں، نہ کسی غیر سے کوئی مراد بر لانے کی نیت پر اور نہ کسی غیر کے نام پر۔ ➍ { ” صَوَآفَّ “ ” صَافَّةٌ “} کی جمع ہے بروزن {”فَوَاعِلَ۔“} صف کا معروف معنی قطار ہے، یعنی اونٹوں کو قربان گاہ میں قطار کی صورت میں کھڑا کرکے باری باری نحر کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے قربانی کے جمال و جلال میں اضافہ ہوتا ہے، جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ سے مروی لمبی حدیث میں ہے: [ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلاَثًا وَسِتِّيْنَ بِيَدِهٖ ثُمَّ أَعْطٰی عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ ] [ مسلم، الحج، باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۱۲۱۸۔ مسند أحمد: ۳ /۳۲۰،۳۲۱، ح: ۱۴۴۵۳ ] ”پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربان گاہ کی طرف پلٹے اور اپنے ہاتھ سے تریسٹھ (۶۳) اونٹ نحر کیے، آپ انھیں ایک برچھے کے ساتھ زخم لگاتے تھے، پھر آپ نے وہ برچھا علی رضی اللہ عنہ کو دے دیا تو انھوں نے باقی کو نحر کر دیا (اور وہ کل سو اونٹ تھے)۔“ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت بھی منیٰ میں باقاعدہ قربان گاہ تھی، جیسا کہ آج کل حکومت نے باقاعدہ جگہیں مقرر کر رکھی ہیں اور یہ بھی کہ سب اونٹ وہاں قریب قریب جمع تھے۔ (ابن عاشور) مگر حبر الامہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے اس کی تفسیر فرمائی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اونٹوں کو تین ٹانگوں پر کھڑا کر کے نحر کیا جائے، اس طرح کہ ان کی اگلی بائیں ٹانگ اکٹھی کرکے باندھی ہوئی ہو۔ [ طبري بسند ثابت ] جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: [ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهٗ كَانُوْا يَنْحَرُوْنَ الْبَدَنَةَ مَعْقُوْلَةَ الْيُسْرٰی قَائِمَةً عَلٰی مَا بَقِيَ مِنْ قَوَائِمِهَا ] [ أبوداوٗد، المناسک، باب کیف تنحر البدن: ۱۷۶۷، و صححہ الألباني ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اونٹوں کو اس طرح نحر کرتے تھے کہ ان کے اگلے بائیں پاؤں کا گھٹنا بندھا ہوتا اور وہ باقی ٹانگوں پر کھڑے ہوتے۔“ ابن عمر رضی اللہ عنھما ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس نے اپنی اونٹنی بٹھا رکھی تھی اور اسے نحر کر رہا تھا تو فرمایا: ”اسے کھڑا کرکے پاؤں باندھ کر نحر کرو، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔“ [ بخاري، الحج، باب نحر الإبل مقیدۃ: ۱۷۱۳] قرآن مجید کے الفاظ {” فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا “} (جب ان کے پہلو گر پڑیں) سے بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ اونٹوں کو کھڑا کرکے نحر کرنا چاہیے، کیونکہ اگر ان کے پہلو پہلے ہی زمین پر ہوں تو وہ کیسے گریں گے؟ ➎ {فَاِذَاوَجَبَتْ جُنُوْبُهَا:} نحر یہ ہے کہ اونٹ کو اگلی بائیں ٹانگ بندھی ہونے کی حالت میں کھڑا کر دیا جاتا ہے، پھر اس کے سینے کے گڑھے میں، جہاں سے گردن شروع ہوتی ہے، کوئی برچھا یا نیزہ یا چھرا {”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ“} پڑھ کر مارا جاتا ہے جس سے خون کا پرنالہ بہ نکلتا ہے، بہت سا خون نکل جانے پر اونٹ دائیں یا بائیں کروٹ پر گر پڑتا ہے۔ اس کی جان پوری طرح نکلنے سے پہلے اس کی کھال اتارنا یا گوشت کا کوئی ٹکڑا کاٹنا منع ہے، کیونکہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهٗ فَلْيُرِحْ ذَبِيْحَتَهٗ ] [ مسلم، الصید و الذبائح، باب الأمر بإحسان الذبح…: ۱۹۵۵ ] ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان یعنی اس سے اچھا سلوک کرنا فرض فرمایا ہے، سو تم جب قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو اور لازم ہے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچائے۔“ اور ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيْمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌ ] [ أبوداوٗد، الضحایا، باب إذا قطع من الصید قطعۃ: ۲۸۵۸۔ ترمذي: ۱۴۸۰ ] ”جانور کا جو حصہ اس وقت کاٹا جائے جب وہ زندہ ہو تو وہ (گوشت) مردار ہے۔“ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ ➏ { فَكُلُوْا مِنْهَا …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے اس سے پہلے آیت (۲۸) کی تفسیر۔ {” الْقَانِعَ”قَنِعَ يَقْنَعُ“} (ع) سے اسم فاعل ہے، قناعت کرنے والا، اللہ نے جو دیا ہے اس پر صبر کرکے سوال سے بچنے والا۔ {” الْمُعْتَرَّ “} (سوال کے لیے) سامنے آنے والا۔ {” فَكُلُوْا “} میں ”فاء“ سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے جانور کی جان پوری طرح نکلنے کے بعد جتنی جلدی ہو سکے اس کا گوشت کھانے اور کھلانے کا اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ قربانی کے گوشت ہی سے ناشتہ کرنا مستحب ہے۔ معلوم ہوا قربانی کا گوشت خود بھی کھانا چاہیے، دوست احباب، خویش و اقارب اور ان مساکین کو بھی کھلانا چاہیے جو سوال نہیں کرتے اور ان فقراء و مساکین کو بھی جو سوال کے لیے آ جاتے ہیں۔ گویا قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جا سکتے ہیں اور ضروری نہیں کہ تینوں برابر ہوں۔ ➐ { كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ:} یعنی یہ ہم ہیں جنھوں نے اس طرح بے بس کرکے اتنے بڑے قوی ہیکل اونٹ اور بیل، جو طاقت میں تم سے کہیں زیادہ ہیں، تمھارے تابع کر دیے ہیں۔ تم ان سے جو فائدہ چاہتے ہو اٹھاتے ہو، ان پر بوجھ لادتے ہو، سواری کرتے ہو، دودھ پیتے ہو اور جب چاہتے ہو ذبح کر لیتے ہو، وہ اف نہیں کرتے۔ مقصد یہ ہے کہ تم ہمارا شکر ادا کرو، نہ کہ مشرکین کی طرح ان کا جن کا نہ ان چوپاؤں کے پیدا کرنے میں کوئی دخل ہے اور نہ تمھارے لیے تابع کرنے میں۔
لَنۡ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوۡمُہَا وَ لَا دِمَآؤُہَا وَ لٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقۡوٰی مِنۡکُمۡ ؕ کَذٰلِکَ سَخَّرَہَا لَکُمۡ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰىکُمۡ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نہ اُن کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون، مگر اُسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے اُس نے ان کو تمہارے لیے اِس طرح مسخّر کیا ہے تاکہ اُس کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اُس کی تکبیر کرو اور اے نبیؐ، بشارت دے دے نیکو کار لوگوں کو
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ اس کے خون بلکہ اسے تو تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے۔ اسی طرح اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے مطیع کر دیا ہے کہ تم اس کی رہنمائی کے شکریئے میں اس کی بڑائیاں بیان کرو، اور نیک لوگوں کو خوشخبری سنا دیجئے!
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے یونہی ان کو تمہارے پس میں کردیا کہ تم اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ تم کو ہدایت فرمائی، اور اے محبوب! خوشخبری سناؤ نیکی والوں کو
علامہ محمد حسین نجفی
نہ ان کا گوشت اللہ تک پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون ہاں البتہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اسی طرح ہم نے انہیں تمہارے لئے مسخر کیا ہے تاکہ تم اس کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی کبریائی و بڑائی بیان کرو۔ اور (اے رسول) احسان کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون اور لیکن اسے تمھاری طرف سے تقویٰ پہنچے گا۔ اسی طرح اس نے انھیں تمھارے لیے مسخر کر دیا، تاکہ تم اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمھیں ہدایت دی اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قربانی پر اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرو ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ’ قربانیوں کے وقت اللہ کا نام بڑائی سے لیا جائے ‘۔ اسی لیے قربانیاں مقرر ہوئی ہیں کہ خالق رازق اسے مانا جائے نہ کہ قربانیوں کے گوشت و خون سے اللہ کو کوئی نفع ہوتا ہو۔ اللہ تعالیٰ ساری مخلوق سے غنی اور کل بندوں سے بے نیاز ہے۔ جاہلیت کی بیوقوفیوں میں ایک یہ بھی تھی کہ قربانی کے جانور کا گوشت اپنے بتوں کے سامنے رکھ دیتے تھے اور ان پر خون کا چھینٹا دیتے تھے۔ یہ بھی دستور تھا کہ بیت اللہ شریف پر قربانی کے خون چھڑکتے، مسلمان ہو کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایسا کرنے کے بارے میں سوال کیا جس پر یہ آیت اتری کہ ’ اللہ تو تقویٰ کو دیکھتا ہے اسی کو قبول فرماتا ہے اور اسی پر بدلہ عنایت فرماتا ہے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا نہ اس کی نظریں تمہارے مال پر ہیں بلکہ اس کی نگاہیں تمہارے دلوں پر اور تمہارے اعمال پر ہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2564] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { خیرات وصدقہ سائل کے ہاتھ میں پڑے اس سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ قربانی کے جانور کے خون کا قطرہ زمین پر ٹپکے اس سے پہلے اللہ کے ہاں پہنچ جاتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1493،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کا مطلب یہی ہے کہ خون کا قطرہ الگ ہوتے ہی قربانی مقبول ہو جاتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

عامر شعبی رحمہ اللہ سے قربانی کی کھالوں کی نسبت پوچھا گیا تو فرمایا ”اللہ کو گوشت و خون نہیں پہنچتا اگر چاہو بیچ دو، اگر چاہو خود رکھ لو، اگر چاہو راہ للہ دے دو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے قبضے میں دیا ہے۔ کہ تم اللہ کے دین اور اس کی شریعت کی راہ پا کر اس کی مرضی کے کام کرو اور نا مرضی کے کاموں سے رک جاؤ۔ اور اس کی عظمت وکبریائی بیان کرو۔ جو لوگ نیک کار ہیں، حدود اللہ کے پابند ہیں، شریعت کے عامل ہیں، رسولوں کی صداقت تسلیم کرتے ہیں وہ مستحق مبارکباد اور لائق خوشخبری ہیں۔‏‏‏‏“

مسئلہ ٭٭

امام ابوحنیفہ، مالک ثوری رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”جس کے پاس نصاب زکوٰۃ جتنا مال ہو اس پر قربانی واجب ہے۔‏‏‏‏“ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ شرط بھی ہے کہ وہ اپنے گھر میں مقیم ہو۔ چنانچہ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ { جسے وسعت ہو اور قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3123،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اس روایت میں غرابت ہے اور امام احمد رحمتہ اللہ علیہ اسے منکر بتاتے ہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر دس سال قربانی کرتے رہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1507،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ امام شافعی رحمہ اللہ اور حضرت مام احمد رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ قربانی واجب و فرض نہیں بلکہ مستحب ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ { مال و زکوٰۃ کے سوا اور کوئی فرضیت نہیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1789،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

یہ بھی روایت پہلے بیان ہو چکی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام امت کی طرف سے قربانی کی } پس وجوب ساقط ہو گیا۔ ابو شریحہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے پڑوس میں رہتا تھا۔ یہ دونوں بزرگ قربانی نہیں کرتے تھے اس ڈر سے کہ لوگ ان کی اقتداء کریں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں قربانی سنت کفایہ ہے، جب کہ محلے میں سے یا گلی میں سے یا گھر میں سے کسی ایک نے کر لی باقی سب نے ایسا نہ کیا۔ اس لیے کہ مقصود صرف شعار کا ظاہر کرنا ہے۔ ترمذی وغیرہ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں فرمایا: { ہر گھر والوں پر ہر سال قربانی ہے اور «عَتِيرَة» ہے جانتے ہو «عَتِيرَة» کیا ہے؟ وہی جسے تم «رَّجَبِيَّة» کہتے ہو } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2788،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اس کی سند میں کلام کیا گیا ہے۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنے پورے گھر کی طرف سے ایک بکری راہ للہ ذبح کر دیا کرتے تھے اور خود بھی کھاتے، اوروں کو بھی کھلاتے۔ پھر لوگوں نے اس میں وہ کر لیا جو تم دیکھ رہے ہو }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1505،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ { سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ اپنی اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کیا کرتے تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7210] ‏‏‏‏

اب قربانی کے جانور کی عمر کا بیان ملاحظہ ہو۔ صحیح مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نہ ذبح کرو مگر «مُسِنَّة» بجز اس صورت کے کہ وہ تم پر بھاری پڑ جائے تو پھر بھیڑ کا بچہ بھی چھ ماہ کا ذبح کر سکتے ہو } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2788،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ زہری رحمہ اللہ تو کہتے ہیں کہ «الْجَذَع» یعنی چھ ماہ کا کوئی جانور قربانی میں کام ہی نہیں آسکتا اور اس کے بالمقابل اوزاعی رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ ہر جانور کا جزعہ کافی ہے۔ لیکن یہ دونوں قول افراط والے ہیں۔ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اونٹ گائے بکری تو وہ جائز ہے جو ثنی ہو۔ اور بھیڑ کا چھ ماہ کا بھی جائز ہے۔ اونٹ تو ثنی ہوتا ہے جب پانچ سال پورے کر کے چھٹے میں لگ جائے۔ اور گائے جب دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ جائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین گزار کر چوتھے میں لگ گیا ہو۔ اور بکری کا ثنی وہ ہے جو دو سال گزار چکا ہو اور جذعہ کہتے ہیں اسے جو سال بھر کا ہو گیا ہو اور کہا گیا ہے جو دس ماہ کا ہو۔ ایک قول ہے جو آٹھ ماہ کا ہو ایک قول ہے جو چھ ماہ کا ہو اس سے کم مدت کا کوئی قول نہیں۔ اس سے کم عمر والے کو حمل کہتے ہیں۔ جب تک کہ اس کی پیٹھ پر بال کھڑے ہوں اور بال لیٹ جائیں اور دونوں جانب جھک جائیں تو اسے جذع کہا جاتا ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 37) ➊ {لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا …:} یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس نہ قربانیوں کے گوشت پہنچیں گے، جو کھا لیے گئے اور نہ ان کے خون، جو بہا دیے گئے۔ یہ سب کچھ یہیں رہ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان سے غنی ہے، اس کے پاس تو تقویٰ یعنی تمھارے دل کا وہ خوف پہنچے گا جو اللہ کی ناراضگی سے بچاتا ہے، جو دل پر غالب ہو جاتا ہے تو آدمی اللہ کے ہر حکم کی تعمیل کرتا اور ہر منع کردہ کام سے باز آ جاتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ لَا يَنْظُرُ إِلٰی صُوَرِكُمْ وَ أَمْوَالِكُمْ وَلٰكِنْ يَّنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِكُمْ وَ أَعْمَالِكُمْ ] [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم و خذلہ…: 2564/34 ] ”اللہ تعالیٰ تمھاری شکلوں اور تمھارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمھارے دلوں اور تمھارے عملوں کو دیکھتا ہے۔“ اس آیت اور حدیث سے دل کے تقویٰ اور نیت کے اخلاص کی اہمیت ظاہر ہے، اس لیے قربانی خالص اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے، نہ دکھاوا مقصود ہو اور نہ شہرت، نہ فخر اور نہ یہ خیال کہ لوگ قربانی کرتے ہیں تو ہم بھی کریں۔ نیت کے بغیر عمل کا کچھ فائدہ نہیں۔ نیت خالص ہو تو بعض اوقات عمل کے بغیر ہی بلند مقامات تک پہنچا دیتی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپس آئے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: [ إِنَّ بِالْمَدِيْنَةِ اَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيْرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوْا مَعَكُمْ قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَهُمْ بِالْمَدِيْنَةِ؟ قَالَ وَهُمْ بِالْمَدِيْنَةِ حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ ] [ بخاري، المغازی، باب: ۴۴۲۳ ] ”مدینہ میں کئی لوگ ہیں کہ تم نے کوئی سفر نہیں کیا اور نہ کوئی وادی طے کی ہے مگر وہ تمھارے ساتھ رہے ہیں۔“ لوگوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! مدینہ میں رہتے ہوئے؟“ فرمایا: ”ہاں! مدینہ میں رہتے ہوئے، انھیں عذر نے روکے رکھا۔“ نیت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ آدمی کی زندگی جتنی بھی ہو محدود ہے، یعنی صرف چند سال، اگر اس میں نیک عمل کرے تو ہمیشہ ہمیشہ جنت میں اور برے عمل کرے تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا۔ محدود عمل پر غیر محدود جزا نیت کی وجہ سے ہے کہ نیک کی نیت ہمیشہ نیکی کرتے رہنے کی اور بد کی نیت ہمیشہ بدی کرتے رہنے کی تھی۔ دیکھیے سورۂ انعام (۲۷، ۲۸)۔ ➋ {كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ:} یہاں تاکید کے لیے قربانی کے جانوروں کو مسخر کرنے کا احسان دوبارہ یاد دلایا اور تکبیر یعنی ”اللہ اکبر“ کہہ کر اللہ کی بزرگی بیان کرنے کا ذکر فرمایا، اس سے پہلے قربانی کرتے وقت اللہ کا نام لینے کا حکم دیا۔ معلوم ہوا کہ قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت {” بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ “} کہنا اللہ کو مطلوب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما اونٹ کو اِشعار (کوہان کی ایک طرف زخم) کرتے ہوئے {”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“} پڑھتے تھے۔ [ الموطأ لإمام مالک: ۸۴۵ ] انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھے قربانی کیے، انھیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور {”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ“} پڑھا اور اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا۔ [ بخاري، الأضاحي، باب التکبیر عند الذبح: ۵۵۶۵ ] {” لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ “} کے لفظ عام ہونے کی وجہ سے چوپاؤں کو مسخر کرنے کی نعمت پر دوسرے اوقات میں بھی اللہ کی کبریائی بیان کرنی چاہیے، جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کے لیے روانہ ہوتے وقت اونٹ پر سوار ہوتے تو تین دفعہ ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر {”سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ“} پڑھتے (آگے سفر کی مکمل دعا مذکور ہے)۔ [ مسلم، الحج، باب استحباب الذکر إذا رکب دابتہ…: ۱۳۴۲ ] ➌ {وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ:” الْمُخْبِتِيْنَ “} کو بشارت دینے کے حکم کے بعد {” الْمُحْسِنِيْنَ “} کو بشارت دینے کا حکم دیا۔ احسان کا تعلق {” وَ لٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ “} سے ہے۔ تقویٰ ہر وقت اللہ کے خوف سے اس کے احکام پر عمل اور اس کی نافرمانی سے بچنے کا نام ہے۔ احسان بھی یہی ہے کہ ہر وقت یہ بات دل و دماغ میں حاضر رکھے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حدیث جبریل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کی تفسیر فرمائی: [ أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ] [ بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل…: ۵۰ ] ”احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ یقینا تمھیں دیکھ رہا ہے۔“ تواضع اور احسان کی صفات رکھنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں ہر خیر کی بشارت ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۱۲)، نساء (۱۲۵) اور لقمان (۲۲) اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔ (آمین) ➍ مفسر بقاعی نے {” وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ “} کی واؤ کا ایک نکتہ بیان فرمایا ہے کہ دین کا مدار نذارت و بشارت دونوں پر ہے، اس مقام پر چونکہ حج اور اس کے اعمال قربانی وغیرہ کا ذکر ہے، جو بشارت سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں، اس لیے نذارت کو حذف کرکے واؤ عطف کے بعد بشارت کا واضح الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔ گویا اصل عبارت یوں تھی:{” فَأَنْذِرْ أَيُّهَا الدَّاعِي! الْمُسِيْئِيْنَ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ “} ”سوائے دعوت دینے والے! برائی کرنے والوں کو ڈرا اور نیکی کرنے والوں کو خوش خبری سنا دے۔“
اِنَّ اللّٰہَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُوۡرٍ ﴿٪۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یقیناً اللہ مدافعت کرتا ہے اُن لوگوں کی طرف سے جو ایمان لائے ہیں یقیناً اللہ کسی خائن کافر نعمت کو پسند نہیں کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
سن رکھو! یقیناً سچے مومنوں کے دشمنوں کو خود اللہ تعالیٰ ہٹا دیتا ہے۔ کوئی خیانت کرنے واﻻ ناشکرا اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ بلائیں ٹالتا ہے، مسلمانوں کی بیشک اللہ دوست نہیں رکھتا ہر بڑے دغا باز ناشکرے کو
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک اللہ اہلِ ایمان کی طرف سے دفاع کرتا ہے۔ یقیناً اللہ کسی خیانت کار کفرانِ نعمت کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اللہ ان لوگوں کی طرف سے دفاع کرتا ہے جو ایمان لائے، بے شک اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو بے حد خیانت کرنے والا، بہت ناشکرا ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے خبر دے رہا ہے کہ ’ جو اس کے بندے اس پر بھروسہ رکھیں اس کی طرف جھکتے رہیں انہیں وہ اپنی امان نصیب فرماتا ہے، شریروں کی برائیاں دشمنوں کی بدیاں خود ہی ان سے دور کر دیتا ہے، اپنی مدد ان پر نازل فرماتا ہے، اپنی حفاظت میں انہیں رکھتا ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ» ۱؎ [39-الزمر:36] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں؟ ‘ اور آیت میں «وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا» ۱؎ [65-الطلاق:3] ‏‏‏‏ ’ جو اللہ پر بھروسہ رکھے اللہ آپ اسے کافی ہے ‘ الخ، دغا باز ناشکرے اللہ کی محبت سے محروم ہیں اپنے عہدو پیمان پورے نہ کرنے والے اللہ کی نعمتوں کے منکر اللہ کے پیار سے دور ہیں۔
38۔ 1 جس طرح 6 ہجری میں کافروں نے اپنے غلبے کی وجہ سے مسلمانوں کو مکہ جا کر عمرہ نہیں کرنے دیا، اللہ تعالیٰ نے دو سال بعد ہی کافروں کے اس غلبہ کو ختم فرما کر مسلمانوں سے ان کے دشمنوں کو ہٹا دیا اور مسلمانوں کو ان پر غالب کردیا۔
(آیت 38) ➊ {اِنَّ اللّٰهَ يُدٰفِعُ عَنِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا:} پچھلی آیات کے ساتھ اس مضمون کا تعلق یہ ہے کہ اس سورت میں اس سے پہلے کفار کا اور ان کے لیے عذاب الیم کا ذکر ہوا ہے، جو اسلام اور مسجد حرام سے لوگوں کو روکتے ہیں کہ جس میں اللہ کی عبادت کرنا ہر ایک کا حق ہے۔ پھر آیت (۱۹) {” هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ “} میں مشرکین اور موحدین کی کشمکش کا ذکر فرمایا ہے، اس کے بعد بیت اللہ کی تعمیر، حج کی ابتدا اور قربانی اور حج کے دوسرے اعمال کی فضیلت کا بیان ہوا ہے جس سے مہاجر مسلمانوں کے دل میں اپنے وطن کو دیکھنے، بیت اللہ کی زیارت اور اس کے عمرہ و حج کا شوق پیدا ہونا قدرتی تھا اور یہ خیال بھی کہ کافر کب تک ظلم کرتے رہیں گے اور مسلمانوں کو اللہ کے گھر سے روکتے رہیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اپنے آپ کو بے یار و مددگار مت سمجھیں، اللہ تعالیٰ ان کا دفاع کر رہا ہے اور کرے گا۔ بہت جلد مسلمانوں کو غلبہ عطا ہو گا اور کفار، جنھوں نے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور انھیں ان کے وطن مکہ معظمہ سے ہجرت پر مجبور کیا، وہ مغلوب ہوں گے۔ ➋ {اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ:خَوَّانٍ”خَانَ يَخُوْنُ“} سے اسم فاعل مبالغے کا صیغہ ہے اور {” كَفُوْرٍ”كَفَرَ يَكْفُرُ“} سے اسم فاعل مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے مقابلے میں مسلمانوں کے دفاع کی وجہ بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو بے حد خیانت کرنے والا، بہت ناشکرا ہے، جبکہ کفار میں یہ دونوں صفات پائی جاتی ہیں۔ ➌ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو بے حد خیانت کرنے والا، بہت ناشکر ا ہو، تو کیا وہ عام خیانت کرنے والے اور عام ناشکرے کو پسند فرماتا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی خیانت کرنے والے اور کسی بھی ناشکرے کو پسند نہیں کرتا، خواہ وہ صرف خائن و کافر ہو یا خوان و کفور ہو، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَآىِٕنِيْنَ}» [الأنفال: ۵۸ ] ”بے شک اللہ خیانت کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔“ اور فرمایا: «{ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ }» [ آل عمران: ۳۲ ] ”بے شک اللہ کفر کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔“ یہاں مبالغے کے صیغے لانے کے دو فائدے ہیں، ایک یہ کہ کفار مکہ کا حال بیان کرنا مقصود ہے کہ انھیں بیت اللہ کی تولیت کی امانت اور حرم میں سکونت کی نعمت عطا کی گئی مگر انھوں نے شرک و کفر پر اصرار کرکے اور مسلمانوں پر بے پناہ مظالم ڈھا کر، انھیں خانہ بدر کرکے اور آئندہ حج و عمرہ، نماز و طواف اور دوسری عبادات کے لیے اللہ کے گھر میں آنے سے روک دیا۔ یہ امانت میں حد سے بڑھی ہوئی خیانت اور نعمت کی بہت بڑی ناشکری ہے۔ یاد رہے کہ {” خَوَّانٍ “} میں {” كَفُوْرٍ “} سے زیادہ مبالغہ ہے۔ {”خَؤُوْنٌ“} کے بجائے {” خَوَّانٍ “} اس لیے لایا گیا ہے کہ کفر اور دوسرے نقائص کی اصل بھی خیانت ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ ممکن نہیں کہ انسان میں پائے جانے والے نقائص مبالغہ سے خالی ہوں۔ خیانت ہی کو لے لیجیے! آدمی جب کسی کی خیانت کی نیت کرتا ہے، پھر اس پر عمل کرتا ہے تو درحقیقت وہ پہلے اپنی جان کی خیانت کرتا ہے، پھر لوگوں کی اور رب تعالیٰ کی بھی، کفر کا بھی یہی حال ہے۔
اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُۨ ﴿ۙ۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اجازت دے دی گئی اُن لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہیں، اور اللہ یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جن (مسلمانوں) سے (کافر) جنگ کر رہے ہیں انہیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وه مظلوم ہیں۔ بیشک ان کی مدد پر اللہ قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
پروانگی (اجازت) عطا ہوئی انہیں جن سے کافر لڑتے ہیں اس بناء پر کہ ان پر ظلم ہوا اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ان مظلوموں کو (دفاعی جہاد کی) اجازت دی جاتی ہے جن سے جنگ کی جا رہی ہے اس بناء پر کہ ان پر ظلم کیا گیا ہے۔ اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے، اجازت دے دی گئی ہے، اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر یقینا پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حکم جہاد صادر ہوا ٭٭

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم مدینے سے بھی نکالے جانے لگے اور کفار مکے سے چڑھ دوڑے تب جہاد کی اجازت کی یہ آیت اتری۔ بہت سے سلف سے منقول ہے کہ جہاد کی یہ پہلی آیت ہے جو قرآن میں اتری۔ اسی سے بعض بزرگوں نے استدلال کیا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے۔ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے شریف سے ہجرت کی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زبان سے نکلا کہ ”افسوس ان کفار نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو وطن سے نکالا یقیناً یہ تباہ ہوں گے۔‏‏‏‏“ پھر یہ آیت اتری تو صدیق رضی اللہ عنہ نے جان لیا کہ جنگ ہو کر رہے گی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3171،قال الشيخ الألباني:صحیح الاسناد] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ» ۱؎ [47-محمد:4-6] ‏‏‏‏ ’ اللہ اپنے مومن بندوں کی مدد پر قادر ہے۔ اگر چاہے تو بے لڑے بھڑے انہیں غالب کر دے لیکن وہ آزمانا چاہتا ہے اسی لیے حکم دیا کہ ان کفار کی گردنیں مارو ‘۔ الخ، اور آیت میں ہے فرمایا «قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللَّـهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ» ۱؎ [9-التوبہ:15،14] ‏‏‏‏ ’ ان سے لڑو اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سزا دے گا اور رسوا کرے اور ان پر تمہیں غالب کرے گا اور مومنوں کے حوصلے نکالنے کا موقع دے گا کہ ان کے کلیجے ٹھنڈے ہو جائیں ساتھ ہی جسے چاہے گا توفیق توبہ دے گا اللہ علم وحکمت والا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً وَاللّٰهُ خَبِيْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [9-التوبہ:16] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم چھوڑ دیئے جاؤ گے حالانکہ اب تک تو وہ کھل کر سامنے نہیں آئے جو مجاہد ہیں، اللہ، رسول اور مسلمانوں کے سوا کسی سے دوستی اور یگانگت نہیں کرتے۔ سمجھ لو کہ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّـهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:142] ‏‏‏‏ ’ کیا تم نے یہ گمان کیا ہے کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک مجاہدین اور صابرین دوسروں سے ممتاز نہیں ہوئے ‘۔ اور آیت میں فرمایا ہے آیت «وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ» ۱؎ [47-محمد:31] ‏‏‏‏ ’ ہم تمہیں یقیناً آزمائیں گے یہاں تک کہ تم میں سے غازی اور صبر کرنے والے ہمارے سامنے نمایاں ہو جائیں ‘۔ اس بارے میں اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ پھر فرمایا ’ اللہ ان کی مدد پر قادر ہے ‘۔ اور یہی ہوا بھی کہ اللہ نے اپنے لشکر کو دنیا پر غالب کر دیا۔ جہاد کو شریعت نے جس وقت مشروع فرمایا وہ وقت بھی اس کے لیے بالکل مناسب اور نہایت ٹھیک تھا۔
39۔ 1 اکثر سلف کا قول ہے کہ اس آیت میں سب سے پہلے جہاد کا حکم دیا گیا، جس کے دو مقصد یہاں بیان کئے گئے ہیں۔ مظلومیت کا خاتمہ اور اعلائے کلمۃ اللہ۔ اس لئے کہ مظلومین کی مدد اور ان کی داد رسی نہ کی جائے تو پھر دنیا میں زور آور کمزوروں کو اور بےوسیلہ لوگوں کو جینے ہی نہ دیں جس سے زمین فساد سے بھر جائے۔ اور اگر باطل تو باطل کے غلبے سے دنیا کا امن و سکون اور اللہ کا نام لینے والوں کے لئے کوئی عبادت خانہ باقی نہ رہے (مذید تشریح کے لئے دیکھئے سورة بقرہ، آیت 251 کا حاشیہ)۔
(آیت 39) ➊ {اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ …:”أَيْ فِي الْقِتَالِ“} اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہلِ ایمان کے دفاع کا طریقہ بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام مسلمانوں سے لے گا، وہ اگر چاہے تو قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط اور اصحابِ مدین کی طرح آسمانی عذاب کے ذریعے سے کفار کو تباہ و برباد کر سکتا ہے، مگر فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کرنے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے اللہ تعالیٰ نے کفار کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے سزا دلوانے کا طریقہ اختیار فرمایا، کیونکہ اس میں بے شمار حکمتیں ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَ يُخْزِهِمْ وَ يَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَ يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُؤْمِنِيْنَ (14) وَ يُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ وَ يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ }» [ التوبۃ: ۱۴، ۱۵ ] ”ان سے لڑو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انھیں رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمھاری مدد کرے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا دے گا اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور اللہ تعالیٰ توبہ کی توفیق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔“ جہاد کی چند حکمتوں کے لیے دیکھیے سورۂ محمد (۴)، آل عمران (۱۴۰ تا ۱۴۲، ۱۷۹) اور توبہ (۱۶)۔ ➋ یہ پہلی آیت ہے جس میں کفار سے لڑائی کی اجازت دی گئی ہے، کیونکہ مکہ میں کفار کی بے شمار زیادتیوں کے باوجود مسلمانوں کو لڑنے کی اجازت نہیں تھی، بلکہ ہاتھ روک کر رکھنے کا حکم تھا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَيْدِيَكُمْ وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ» ‏‏‏‏ [ النساء: ۷۷ ] ”کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔“عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: [ لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ قَالَ أَبُوْ بَكْرٍ أَخْرَجُوْا نَبِيَّهُمْ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ! لَيُهْلِكُنَّ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰی: «‏‏‏‏اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُ» ‏‏‏‏ وَهِيَ أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ ] [ مستدرک حاکم: 246/2، ح: ۲۹۶۸۔ مسند أحمد: 216/1، ح: ۱۸۷۰ ] ”جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکال دیا گیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”انھوں نے (مکہ والوں نے) اپنے نبی کو نکال دیا، انا للہ و انا الیہ راجعون، وہ ضرور ہلاک کر دیے جائیں گے۔“ تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: «{ اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُ }» [ الحج: ۳۹ ] عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”یہ وہ پہلی آیت ہے جو قتال کے بارے میں نازل ہوئی۔“ جب مسلمان مدینہ منتقل ہو گئے تو چھوٹی سی اسلامی مملکت قائم ہو گئی۔ کفار نے یہاں بھی چین سے نہ بیٹھنے دیا تو اس آیت میں مسلمانوں کو بھی لڑائی کی اجازت مل گئی۔ یہ تقریباً ہجرت کے پہلے سال کے آخر کا واقعہ ہے، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ کے خلاف کئی مہمیں بھیجیں، جن کے نتیجے میں پہلا فیصلہ کن معرکہ بدر کے مقام پر ہوا، جسے اللہ تعالیٰ نے یوم الفرقان قرار دیا اور جس میں فرشتوں کے ذریعے سے مسلمانوں کی مدد کی گئی۔ ➌ قتال (لڑائی) ایک نہایت مشکل کام ہے، بے شک موت کا وقت مقرر ہے مگر آدمی جان بچانے کے لیے لڑائی سے جان بچاتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قتال فرض کرنے میں تدریج سے کام لیا، پہلے اس آیت کے ذریعے سے قتال کا اذن ملا، پھر {”قَاتِلُوْا “} کے حکم کے ساتھ قتال فرض ہوا، مگر صرف ان لوگوں سے جو لڑائی کریں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۹۰ ] ”اور اللہ کے راستے میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی مت کرو۔“ اس کے بعد تمام کفار سے لڑنا فرض کر دیا گیا، فرمایا: «‏‏‏‏كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۲۱۶ ] ”تم پر لڑنا لکھ دیا گیا ہے، حالانکہ وہ تمھیں ناپسند ہے۔“ اور فرمایا: «{ فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ }» [ التوبۃ: ۵ ] ”پس جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو اور انھیں پکڑو اور انھیں گھیرو اور ان کے لیے ہر گھات کی جگہ بیٹھو۔“ اور فرمایا: «{ قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ }» [ التوبۃ: ۲۹] ”لڑو ان لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخر پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ دیں اور وہ حقیر ہوں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی يَشْهَدُوْا أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَ يُقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ فَإِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَاءَ هُمْ وَ أَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الإْسْلَامِ وَ حِسَابُهُمْ عَلَی اللّٰهِ ] [ بخاري، الإیمان، باب «‏‏‏‏فإن تابوا و أقاموا الصلاۃ…:» ۲۵ ] ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمام لوگوں سے قتال (لڑائی) کروں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، پھر جب وہ یہ کام کر لیں تو انھوں نے اپنے خون اور اپنے مال مجھ سے محفوظ کر لیے مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔“ لڑائی کی تدریجاً فرضیت ایسے ہی ہے جیسے شراب تین مرحلوں میں مکمل حرام ہوئی۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۹۰) کی تفسیر۔ اسی طرح روزہ تین مرحلوں میں موجودہ صورت میں فرض ہوا۔ ➍ {بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا:} یعنی مسلمانوں کو قتال کی اجازت اس لیے دی گئی ہے کہ ان پر ظلم کیا گیا ہے، یہ ظلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی کیا گیا اور مسلمانوں پر بھی۔ عروہ بن زبیر فرماتے ہیں: [ سَأَلْتُ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عَمْرٍو عَنْ أَشَدِّ مَا صَنَعَ الْمُشْرِكُوْنَ بِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَأَيْتُ عُقْبَةَ بْنَ أَبِيْ مُعَيْطٍ جَاءَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّيْ، فَوَضَعَ رِدَائَهٗ فِيْ عُنُقِهِ فَخَنَقَهُ بِهَا خَنْقًا شَدِيْدًا، فَجَاءَ أَبُوْ بَكْرٍ حَتّٰی دَفَعَهُ عَنْهُ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «{ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ }» ] [ بخاري، فضائل أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، باب: ۳۶۷۸ ] ”میں نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے پوچھا: ”مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ سخت تکلیف کیا پہنچائی تھی؟“ انھوں نے فرمایا: ”میں نے (بدبخت) عقبہ بن ابی معیط کو دیکھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، اس نے اپنی چادر آپ کی گردن میں ڈالی اور آپ کا گلا بہت سختی سے گھونٹ دیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور اسے دھکیل کر پیچھے ہٹایا اور کہا: «{ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ }» [ المؤمن: ۲۸ ] ”کیا تم ایک آدمی کو اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے، میرا رب اللہ ہے، حالانکہ یقینا وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح دلیلیں لے کر آیا ہے۔“ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [ كَانَ أَوَّلَ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ: رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُوْ بَكْرٍ، وَعَمَّارٌ، وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ، وَصُهَيْبٌ، وَبِلاَلٌ، وَالْمِقْدَادُ، فَأَمَّا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَمَنَعَهُ اللّٰهُ بِعَمِّهِ أَبِيْ طَالِبٍ وَ أَمَّا أَبُوْ بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللّٰهُ بِقَوْمِهِ وَ أَمَّا سَائِرُهُمْ، فَأَخَذَهُمُ الْمُشْرِكُوْنَ وَأَلْبَسُوْهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيْدِ وَصَهَرُوْهُمْ فِي الشَّمْسِ، فَمَا مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلٰی مَا أَرَادُوْا، إِلاَّ بِلَالاً، فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللّٰهِ، وَهَانَ عَلٰي قَوْمِهِ، فَأَخَذُوْهُ، فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ، فَجَعَلُوْا يَطُوْفُوْنَ بِهِ فِيْ شِعَابِ مَكَّةَ وَهُوَ يَقُوْلُ: أَحَدٌ، أَحَدٌ ] [ ابن ماجہ، السنۃ، باب فضل سلمان وأبي ذر والمقداد: ۱۵۰ و صححہ الحاکم والذھبي وابن حبان وغیرھم و الألباني ] ”سب سے پہلے جن لوگوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا وہ سات آدمی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمار، ان کی والدہ سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد رضی اللہ عنھم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے چچا ابو طالب کے ذریعے سے محفوظ رکھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کے ذریعے سے محفوظ رکھا۔ باقی سب کو مشرکین نے پکڑ لیا اور انھیں لوہے کی قمیصیں پہنا کر دھوپ میں جھلسنے کے لیے پھینک دیا۔ چنانچہ ان میں سے جو بھی تھا اس نے اس کے مطابق کہہ دیا جو وہ چاہتے تھے سوائے بلال رضی اللہ عنہ کے۔ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں اس کے نزدیک اس کی جان بے قدر و قیمت ٹھہری (اس نے اپنی جان کی کوئی پروا نہ کی) اور وہ ان لوگوں کی نظر میں ایسا بے قدر و قیمت ٹھہرا کہ انھوں نے اسے پکڑا اور لڑکوں کو دے دیا۔ وہ اسے مکہ کی گھاٹیوں میں پھراتے تھے اور وہ کہتا تھا: اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مشرکین کی بے تحاشا مار کا تذکرہ بھی کتبِ سیرت میں موجود ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِعَمَّارٍ وَأَهْلِهِ وَهُمْ يُعَذَّبُوْنَ فَقَالَ أَبْشِرُوْا آلَ عَمَّارٍ وَآلَ يَاسِرٍ فَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّةُ ] [ مستدرک حاکم: 383/3، ح: ۵۶۶۶ و صححہ الحاکم و وافقہ الذھبی ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمار اور اس کے خاندان کے پاس سے گزرے، جب انھیں عذاب دیا جا رہا تھا تو فرمایا: ”اے آل عمار اور آل یاسر! خوش ہو جاؤ، تمھارے وعدے کی جگہ جنت ہے۔“ خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ کعبہ کے سائے میں چادر کی ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور ہمیں مشرکین کی طرف سے بہت سخت تکلیف پہنچی تھی۔ میں نے کہا: ”کیا آپ اللہ سے دعا نہیں کرتے؟“ آپ (سیدھے ہو کر) بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ (غصے سے) سرخ تھا، فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا کہ لوہے کی کنگھیوں کے ساتھ ان کی ہڈیوں سے گوشت اور پٹھے چھیل دیے جاتے تھے، یہ چیز انھیں ان کے دین سے نہیں پھیرتی تھی اور انھیں سر کی چوٹی پر آرا رکھ کر دو حصوں میں چیر دیا جاتا، یہ چیز انھیں ان کے دین سے پھیرتی نہ تھی اور (اللہ کی قسم!) یہ کام ضرور پورا ہو کر رہے گا یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک چلے گا اور اسے کسی کا خوف نہیں ہو گا سوائے اللہ کے، یا سوائے بھیڑیے کے اس کی بھیڑ بکریوں پر اور لیکن تم جلدی کرتے ہو۔“ [ بخاري، مناقب الأنصار، باب ما لقي النبي صلی اللہ علیہ وسلم و أصحابہ من المشرکین بمکۃ: ۳۸۵۲ ] کفار نے مسلمانوں پر اس قدر ظلم کیا اور اتنی ایذائیں دیں کہ ان میں سے کچھ حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے اور کچھ مکہ ہی میں ظلم کی چکی میں پستے رہے، حتیٰ کہ انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت اختیار کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہجرت کرکے مدینہ چلے گئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ایک دفعہ ہجرت کرنے کے لیے نکلے مگر ابن الدغنہ برک الغماد سے انھیں واپس لے آئے، پھر بعد میں وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کرکے مدینہ چلے گئے۔ ➎ {وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُ:} یعنی اگرچہ ان کی تعداد بہت کم ہے، مگر اللہ تعالیٰ ان کی نصرت پر اور انھیں غالب کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ یہاں یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ اس وقت مدینہ کی چھوٹی سی بستی میں مسلمانوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں تھی، مقابلے میں قریش تھے، جن کی سرداری پورے عرب میں مسلم تھی اور عرب کے تمام مشرک قبائل ان کی پشت پر تھے، بعد میں یہودی بھی ان کے ساتھ مل گئے۔ اس موقع پر کائنات کے مالک اور شہنشاہ کا یہ فرمان کہ ”بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر یقینا پوری طرح قادر ہے“ یہ جملہ ان مسلمانوں کو قوی اور قائم کر دینے والا تھا جنھیں پورے عرب کے مقابلے کے لیے کہا جا رہا تھا اور کفار کو بھی تنبیہ ہے کہ ان کا مقابلہ چند مسلمانوں سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ہے، کیونکہ مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بیان نہیں بلکہ مراد نصرت کا وعدہ ہے۔
الَّذِیۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ بِغَیۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ؕ وَ لَوۡ لَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لَّہُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذۡکَرُ فِیۡہَا اسۡمُ اللّٰہِ کَثِیۡرًا ؕ وَ لَیَنۡصُرَنَّ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے صرف اِس قصور پر کہ وہ کہتے تھے "ہمارا رب اللہ ہے" اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد اور مسجدیں، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے، سب مسمار کر ڈالی جائیں اللہ ضرور اُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ وه ہیں جنہیں ناحق اپنے گھروں سے نکالا گیا، صرف ان کےاس قول پر کہ ہمارا پروردگار فقط اللہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو عبادت خانے اور گرجے اور مسجدیں اور یہودیوں کے معبد اور وه مسجدیں بھی ڈھا دی جاتیں جہاں اللہ کا نام بہ کثرت لیا جاتا ہے۔ جو اللہ کی مدد کرے گا اللہ بھی ضرور اس کی مدد کرے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں واﻻ بڑے غلبے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اتنی بات پر کہ انہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے اور اللہ اگر آدمیوں میں ایک کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا تو ضرور ڈھادی جاتیں خانقاہیں اور گرجا اور کلیسے اور مسجدیں جن میں اللہ کا بکثرت نام لیا جاتا ہے، اور بیشک اللہ ضرور مدد فرمائے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا بیشک ضرور اللہ قدرت والا غالب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ وہ (مظلوم) ہیں جو ناحق اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے صرف اتنی بات پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے اور اگر خدا بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا رہتا تو نصرانیوں کی خانقاہیں اور گرجے اور (یہود کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں بکثرت ذکر خدا ہوتا ہے۔ سب گرا دی جاتیں جو کوئی اللہ (کے دین) کی مدد کرے گا اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا۔ بیشک وہ طاقت والا (اور) غالب آنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جنھیں ان کے گھروں سے کسی حق کے بغیر نکالا گیا، صرف اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے۔ اور اگر اللہ کا لوگوں کو ان کے بعض کو بعض کے ذریعے ہٹانا نہ ہوتا تو بری طرح ڈھا دیے جاتے (راہبوں کے) جھونپڑے اور (نصرانیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں، جن میں اللہ کا ذکر بہت زیادہ کیا جاتا ہے اور یقینا اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے گا، بے شک اللہ یقینا بہت قوت والا، سب پر غالب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں رہے مسلمان بہت ہی کمزور تھے تعداد میں بھی دس کے مقابلے میں ایک بمشکل بیٹھتا۔ چنانچہ جب لیلتہ العقبہ میں انصاریوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تو انہوں نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو اس وقت منیٰ میں جتنے مشرکین جمع ہیں ان پر شب خون ماریں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھے ابھی اس کا حکم نہیں دیا گیا }۔

یہ یاد رہے کہ یہ بزرگ صرف اسی (‏‏‏‏٨٠)‏‏‏‏‏‏‏‏ سے کچھ اوپر تھے۔ جب مشرکوں کی بغاوت بڑھ گئی، جب وہ سرکشی میں حد سے گزر گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ایذائیں دیتے دیتے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کے درپے ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جلا وطن کرنے کے منصوبے گانٹھنے لگے۔ اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ دیئے۔ بیک بینی و دوگوش وطن مال اسباب، اپنوں غیروں کو چھوڑ کر جہاں جس کا موقعہ بنا گھبرا کر چل دیا کچھ تو حبشہ پہنچے کچھ مدینے گئے۔ یہاں تک کہ خود آفتاب رسالت کا طلوع بھی مدینے شریف میں ہوا۔ اہل مدینہ محمدی جھنڈے تلے جوش خروش سے جمع لشکری صورت مرتب ہو گئی۔ کچھ مسلمان ایک جھنڈے تلے دکھائی دینے لگے، قدم ٹکانے کی جگہ مل گئی۔ اب دشمنان دین سے جہاد کے احکام نازل ہوئے تو پس سب سے پہلے یہی آیت اتری۔ اس میں بیان فرمایا گیا کہ ’ یہ مسلمان مظلوم ہیں، ان کے گھربار ان سے چھین لیے گئے ہیں، بے وجہ گھر سے بے گھر کر دئیے گئے ہیں، مکے سے نکال دئیے گئے، مدینے میں بے سرو سامانی میں پہنچے۔ ان کا جرم بجز اس کے سوا نہ تھا کہ صرف اللہ کے پرستار تھے رب کو ایک مانتے تھے اپنے پروردگار صرف اللہ کو جانتے تھے۔ یہ استثنا منقطع ہے گو مشرکین کے نزدیک تو یہ امر اتنا بڑا جرم ہے جو ہرگز کسی صورت سے معافی کے قابل نہیں ‘۔ فرمان ہے آیت «يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا باللّٰهِ رَبِّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِيْ سَبِيْلِيْ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِيْ» ۱؎ [60-الممتحنة:1] ‏‏‏‏ ’ تمہیں اور ہمارے رسول کو صرف اس بنا پر نکالتے ہیں کہ تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو جو تمہارا حقیقی پروردگار ہے ‘۔ خندقوں والوں کے قصے میں فرمایا آیت «مَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَن يُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» ۱؎ [85-البروج:8] ‏‏‏‏ یعنی ’ دراصل ان کا کوئی قصور نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ غالب، مہربان، ذی احسان پر ایمان لائے تھے ‘۔ { مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم خندق کھودتے ہوئے اپنے رجز میں کہہ رہے تھے، شعر «لَا هُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اِهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا» «فَأَنْزِلَن سَكِينَة عَلَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَام إِنْ لَاقَيْنَا» «إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَة أَبَيْنَا» خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی موافقت میں تھے اور قافیہ کا آخری حرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ ادا کرتے اور «‏‏‏‏أَبَيْنَا» ‏‏کہتے ہوئے خوب بلند آواز کرتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4106] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے ’ اگر اللہ تعالیٰ ایک کا علاج دوسرے سے نہ کرتا اگر ہر سیر پر سوا سیر نہ ہوتا تو زمین میں شر فساد مچ جاتا، ہر قوی ہر کمزور کو نگل جاتا ‘۔ عیسائی عابدوں کے چھوٹے عبادت خانوں کو «صَوَامِعُ» کہتے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ صابی مذہب کے لوگوں کے عبادت خانوں کا نام ہے اور بعض کہتے ہیں مجوسیوں کے آتش کدوں کو «صَوَامِعُ» کہتے ہیں۔ مقاتل کہتے ہیں یہ وہ گھر ہیں جو راستوں پر ہوتے ہیں۔ «بِيَعٌ» ان سے بڑے مکانات ہوتے ہیں یہ بھی نصرانیوں کے عابدوں کے عبادت خانے ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں یہ یہودیوں کے کنیسا ہیں۔ صلوات کے بھی ایک معنی تو یہی کئے گئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں مراد گرجا ہیں۔ بعض کا قول ہے صابی لوگوں کا عبادت خانہ۔ راستوں پر جو عبادت کے گھر اہل کتاب کے ہوں انہیں صلوات کہا جاتا ہے اور مسلمانوں کے ہوں انہیں مساجد۔ «فِيهَا» کی ضمیر کا مرجع مساجد ہے اس لیے کہ سب سے پہلے یہی لفظ ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ سب جگہیں ہیں یعنی تارک الدنیا لوگوں کے صوامع، نصرانیوں کے بیع، یہودیوں کے صلوات اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں اللہ کا نام خوب لیا جاتا ہے۔

بعض علماء کا بیان ہے کہ اس آیت میں اقل سے اکثر کی طرف کی ترقی کی صنعت رکھی گئی ہے پس سب سے زیادہ آباد سب سے بڑا عبادت گھر جہاں کے عابدوں کا قصد صحیح نیت نیک عمل صالح ہے وہ مسجدیں ہیں۔ پھر فرمایا ’ اللہ اپنے دین کے مددگاروں کا خود مددگار ہے ‘، جیسے فرمان ہے آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّـهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ» ۱؎ [47-محمد:8،7] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر اے مسلمانو! تم اللہ کے دین کی امداد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔ کفار پر افسوس ہے اور ان کے اعمال غارت ہیں ‘۔ پھر اپنے دو وصف بیان فرمائے قوی ہونا کہ ساری مخلوق کو پیدا کر دیا، عزت والا ہونا کہ سب اس کے ماتحت ہر ایک اس کے سامنے ذلیل وپست سب اس کی مدد کے محتاج وہ سب سے بے نیاز جسے وہ مدد دے وہ غالب جس پر سے اس کی مدد ہٹ جائے وہ مغلوب۔ فرماتا ہے آیت «وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» ۱؎ [37-الصافات:173-171] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے تو پہلے سے ہی اپنے رسولوں سے وعدہ کر لیا ہے کہ ان کی یقینی طور پر مدد کی جائے گی اور یہ کہ ہمارا لشکر ہی غالب آئے گا ‘۔ اور آیت میں ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ‏‏‏‏ ’ اللہ کہہ چکا ہے کہ میں اور میرا رسول غالب ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ قوت وعزت والا ہے ‘۔
صوامع صومعۃ کی جمع) سے چھوٹے گرجے اور بیع (بیعۃ کی جمع) سے بڑے گرجے صلوات سے یہودیوں کے عبادت خانے اور مساجد سے مسلمانوں کی عبادت گاہیں مراد ہیں
(آیت 40) ➊ { الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ …:} یہ آیت دلیل ہے کہ اس سورت کا یہ حصہ مدینہ میں نازل ہوا ہے۔ ➋ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے دو ظلم بیان فرمائے ہیں، ایک یہ کہ انھوں نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا، جب کہ یہ تمام دنیا کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ جو شخص جہاں رہتا ہے وہاں رہنے میں اور اس کی تمام سہولتوں سے فائدہ اٹھانے میں وہاں کے تمام لوگوں کے ساتھ برابر حق رکھتا ہے اور کسی کو حق نہیں کہ اسے اس کے گھر سے نکال باہر کرے۔ دوسرا ظلم یہ کہ انھوں نے مسلمانوں کو صرف اس جرم کی وجہ سے ان کے گھروں سے نکالا کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب صرف اللہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ جرم ہے ہی نہیں بلکہ عین عدل ہے اور یہ گھروں سے نکالنے کا باعث نہیں بلکہ امن و سکون سے اپنے گھروں میں سکونت کا ضامن ہے۔ دراصل اس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی ایسے طریقے سے تعریف فرمائی ہے کہ ان سے ہر جرم کی نفی کرکے اس چیز کو ان کا جرم بیان کیا ہے جو حقیقت میں جرم نہیں خوبی ہے، جیسا کہ عرب کے ایک شاعر نے کچھ لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا: {وَلَا عَيْبَ فِيْهِمْ غَيْرَ أَنَّ سُيُوْفَهُمْ بِهِنَّ فُلُوْلٌ مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ} ”ان میں اس کے سوا کوئی عیب نہیں کہ ان کی تلواروں میں دشمن کے لشکروں سے کھٹکھٹانے کی وجہ سے دندانے پڑے ہوئے ہیں۔“ ظاہر ہے کہ جسے وہ عیب کہہ رہا ہے وہ دراصل بہت بڑی خوبی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقامات پر بھی کفار کا یہ ظلم یاد دلا کر مسلمانوں کو ان کی دوستی سے منع فرمایا ہے، فرمایا: «‏‏‏‏يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ» ‏‏‏‏ [ الممتحنۃ: ۱ ] ”وہ رسول کو اور خود تمھیں اس لیے نکالتے ہیں کہ تم اللہ پر ایمان لائے ہو۔“ ➌ {وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ …: ” صَوَامِعُ”صَوْمَعَةٌ“} کی جمع ہے، وہ عبادت خانہ جو عیسائی راہب آبادیوں سے دور اونچے مینار کی شکل میں بناتے تھے، جس کی اوپر کی منزل میں وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہتے اور مینار کی چوٹی پر عموماً رات کو چراغ جلاتے، تاکہ مسافر راستہ معلوم کر سکیں اور نچلی منزل میں قیام کر سکیں۔ امرؤ القیس نے کہا ہے: {تُضِيْءُ الظَّلَامَ بِالْعَشِيِّ كَأَنَّهَا مَنَارَةُ مُمْسَي رَاهِبٍ مُتَبَتِّلٖ} {” بِيَعٌ”بِيْعَةٌ“} کی جمع ہے، آبادیوں میں نصرانیوں کے گرجے۔ {” صَلَوٰتٌ “} یہودیوں کے عبادت خانے، یہ {” صَلَاةٌ “} کی جمع ہے۔ شاید ان کا نام {” صَلَوٰتٌ “} اس لیے رکھا گیا ہو کہ یہودیوں کو صرف اپنے عبادت خانے میں نماز پڑھنا لازم تھا۔ بعض کہتے ہیں یہ {”صلوتا“} کی جمع ہے جو غیر عربی لفظ ہے اور یہودیوں کے عبادت خانے پر بولا جاتا ہے۔ {” لَهُدِّمَتْ “} باب تفعیل کی وجہ سے ترجمہ ہو گا ”بری طرح ڈھا دیے جاتے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام ہی ایسا رکھا ہے کہ ہر چیز، ہر شخص اور ہر جماعت، دوسری چیز، یا شخص یا جماعت کے مقابلے میں اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے جنگ کرتی رہے، اگر ایسا نہ ہوتا اور نیکی کو اللہ تعالیٰ اپنی حمایت میں لے کر بدی کے مقابلے میں کھڑا نہ کرتا تو نیکی کا نشان تک زمین پر باقی نہ رہتا۔ بے دین اور شریر لوگ، جن کی ہر زمانے میں کثرت رہی ہے، تمام مقدس مقامات اور شعائر اللہ کو ہمیشہ کے لیے صفحۂ ہستی سے مٹا دیتے۔ اس لیے ضروری ہوا کہ بدی کی طاقتیں کتنی ہی جمع ہو جائیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وقت آئے جب نیکی کے ہاتھوں بدی کے حملوں کا دفاع کرایا جائے اور حق تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرنے والوں کی خود مدد فرما کر ان کو دشمنانِ حق پر غالب کرے۔ بہرحال اس وقت مسلمانوں کو ظالم کافروں کے مقابلے میں جہاد و قتال کی اجازت دینا اسی قانون قدرت کے ماتحت تھا اور یہ وہ عام قانون ہے جس کا انکار کوئی عقل مند نہیں کر سکتا۔ اگر دفاع و حفاظت کا یہ قانون نہ ہوتا تو اپنے اپنے زمانے میں نہ نصرانی راہبوں کے صوامع قائم رہتے اور نہ نصاریٰ کے گرجے، نہ یہود کے عبادت خانے اور نہ مسلمانوں کی وہ مسجدیں جن میں اللہ کا ذکر بڑی کثرت سے ہوتا ہے، یہ سب عبادت گاہیں گرا کر اور بری طرح ڈھا کر ملیامیٹ کر دی جاتیں۔ تواس عام قانون کے تحت کوئی وجہ نہیں کہ مسلمانوں کو ایک مناسب وقت پر اپنے دشمنوں سے لڑنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس مضمون کی ایک اور آیت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۵۱)۔ ➍ اس آیت سے معلوم ہوا کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی جائے، ان کو مسمار نہ کیا جائے، کیونکہ ان میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے، البتہ بت خانے اور آتش کدے صرف اس صورت میں باقی رکھے جائیں گے جب کسی قوم سے معاہدے میں انھیں باقی رکھنا شامل ہو۔ ➎ {وَ لَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ:} اللہ کی مدد سے مراد اللہ کے دین کی مدد ہے، کیونکہ اس نے خود فرمایا ہے: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ» [ فاطر: ۱۵] ”اے لوگو! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو اور اللہ ہی سب سے بے پروا، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔“ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی خود بھی اس کے دین کو فروغ دینے کی کوشش کرے۔ دین کی مدد دلیل و برہان کے ساتھ بھی ہے اور سیف و سنان کے ساتھ بھی، اسی طرح جان کے ساتھ بھی ہے اور مال کے ساتھ بھی، پھر ہاتھوں کے ساتھ بھی ہے اور زبان کے ساتھ بھی، غرض ہر طرح سے اللہ کے دین کی مدد لازم ہے اور جو بھی یہ فریضہ سرانجام دے گا اللہ تعالیٰ اس کی یقینا ضرور مدد فرمائے گا، خواہ اس کے لیے نصرت کے دنیوی اسباب مہیا فرما دے یا غیب سے اپنے لشکروں میں سے کسی لشکر کے ساتھ مدد کر دے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اَلَّا ھُوَ» ‏‏‏‏ [ المدثر: ۳۱ ] ”اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ جیسے بدر میں فرشتوں کے ذریعے سے مدد فرمائی (انفال: ۹) اور خندق میں آندھی اور ان لشکروں کے ذریعے سے مدد فرمائی جو تم نے نہیں دیکھے۔ (احزاب: ۹) ➏ { اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ:} بے شک اللہ یقینا بہت قوت والا، سب پر غالب ہے۔ جس کی وہ مدد کرے یقینا وہی غالب ہو گا اور اس کا مدمقابل مغلوب ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا اور اپنے دین کی مدد کرنے والے انصار و مہاجرین اور ان کے پیروکاروں کے ہاتھوں زمین کے جابر و قاہر بادشاہوں کو مغلوب و مقہور کرکے مشرق سے مغرب تک اسلام کا بول بالا کر دیا۔ «{ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيْثًا }» [ النساء: ۸۷ ] ”اور اللہ سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے؟“
اَلَّذِیۡنَ اِنۡ مَّکَّنّٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ نَہَوۡا عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ لِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الۡاُمُوۡرِ ﴿۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ وه لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں اور زکوٰتیں دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں۔ تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں قابو دیں تو نماز برپا رکھیں اور زکوٰة اور بھلائی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں اور اللہ ہی کے لیے سب کاموں کا انجام،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار عطا کریں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ (اختیار) میں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور اچھے کام کا حکم دیں گے اور برے کام سے روکیں گے، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پابندی احکامات کی تاکید ٭٭

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ آیت ہمارے بارے میں اتری ہے۔ ہم بےسبب خارج ازوطن کئے گئے تھے، پھر ہمیں اللہ نے سلطنت دی، ہم نے نماز و روزہ کی پابندی کی بھلے احکام دئیے اور برائی سے روکنا جاری کیا۔ پس یہ آیت میرے اور میرے ساتھیوں کے بارے میں ہے۔‏‏‏‏“ ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔‏‏‏‏“ خلیفہ رسول عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے خطبے میں اس آیت «الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ» ۱؎ [22-الحج:41] ‏‏‏‏ کی تلاوت فرما کر فرمایا ”اس میں بادشاہوں کا بیان ہی نہیں بلکہ بادشاہ رعایا دونوں کا بیان ہے۔ بادشاہ پر تو یہ ہے کہ حقوق الٰہی تم سے برابر لے اللہ کے حق کی کوتاہی کے بارے میں تمہیں پکڑے اور ایک کا حق دوسرے سے دلوائے اور جہاں تک ممکن ہو تمہیں صراط مستقیم سمجھاتا رہے۔ تم پر اس کا یہ حق ہے کہ ظاہر وباطن خوشی خوشی اس کی اطاعت گزاری کرو۔‏‏‏‏“ عطیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی آیت کامضمون آیت «وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ» ۱؎ [24-النور:55] ‏‏‏‏ میں ہے۔ کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ «وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» ۱؎ [28-القص:83] ‏‏‏‏ عمدہ نتیجہ پرہیزگاروں کا ہو گا۔ ہرنیکی کا بدلہ اسی کے ہاں ہے۔
41۔ 1 اس آیت میں اسلامی حکومت کی بنیادی اہداف اور اغراض و مقاصد بیان کئے گئے ہیں، جنہیں خلافت راشدہ کی دیگر اسلامی حکومتوں میں بروئے کار لایا گیا اور انہوں نے اپنی ترجیحات میں ان کو سر فہرست رکھا تو ان کی بدولت ان کی حکومتوں میں امن اور سکون بھی رہا، رفاہیت و خوش حالی بھی رہی اور مسلمان سربلند اور سرفراز بھی رہے۔ آج بھی سعودی عرب کی حکومت میں بحمد اللہ ان چیزوں کا اہتمام ہے، تو اس کی برکت سے وہ اب بھی امن و خوش حالی کے اعتبار سے دنیا کی بہترین اور مثالی مملکت ہے۔ آجکل اسلامی ملکوں میں فلاحی مملکت کے قیام کا بڑا غلغلہ اور شور ہے اور ہر آنے جانے والاحکمران اس کے دعوے کرتا ہے لیکن ہر اسلامی ملک میں بدامنی، فساد، قتل و غارت اور ادبار وپستی اور زبوں حالی روز افزوں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سب اللہ کے بتلائے ہوئے راستے کو اختیار کرنے کے بجائے مغرب کے جمہوری اور لادینی نظام کے ذریعے سے فلاح و کامرانی حاصل کرنا چاہتے ہیں جو آسمان میں تھگلی لگانے اور ہوا کو مٹھی میں لینے کے مترادف ہے جب تک مسلمان مملکتیں قرآن کے بتلائے ہوئے اصول کے مطابق اقامت صلوۃ و زکوٰۃ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اہتمام نہیں کریں اور اپنی ترجیحات میں ان کو سرفہرست نہیں رکھیں گی وہ فلاحی ممللکت کے قیام میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گی۔ 41۔ 2 یعنی ہر بات کا مرجع اللہ کا حکم اور اس کی تدبیر ہی ہے اس کے حکم کے بغیر کائنات میں کوئی پتہ بھی نہیں ہلتا۔ چہ جائیکہ کوئی اللہ کے احکام اور ضابطوں سے انحراف کرکے حقیقی فلاح و کامیابی سے ہمکنار ہوجائے۔
(آیت 41) ➊ {اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ …:} اس سے پہلے جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے کہ انھیں لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے، کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا اور وہ گھروں سے صرف توحید الٰہی کے جرم میں نکالے گئے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی ضرور مدد کرے گا، انھی کے متعلق اللہ تعالیٰ پیشگی بیان فرما رہے ہیں کہ اگر ہم نے انھیں زمین میں اقتدار بخشا تو وہ چار کام سرانجام دیں گے۔ پہلا اور دوسرا یہ کہ وہ نماز اور زکوٰۃ کا نظام قائم کریں گے۔ تاریخ شاہد ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے عہد میں اقامت صلاۃ کا ایسا مضبوط نظام قائم تھا کہ حدیث و سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں دوسرے گناہوں کے ارتکاب کا اور ان کی سزا کا ذکر آپ پڑھیں گے مگر ایک بھی شخص نہیں پائیں گے جو نماز نہ پڑھتا ہو یا زکوٰۃ نہ دیتا ہو اور اسے مسلمان سمجھا جاتا ہو، حتیٰ کہ منافقین کو بھی اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دینے کے لیے مسجدوں میں آ کر نماز پڑھنا پڑتی تھی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى يُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا» [ النساء: ۱۴۲ ] ”بے شک منافق لوگ اللہ سے دھوکا بازی کر رہے ہیں، حالانکہ وہ انھیں دھوکا دینے والا ہے اور جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں، لوگوں کو دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر بہت کم۔“ اور سب جانتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بعض قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: [ وَاللّٰهِ! لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ ] [ بخاري، الزکاۃ، باب وجوب الزکاۃ: ۱۴۰۰ ] ”اللہ کی قسم! میں ہر صورت اس سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں تفریق کرے گا۔“ مسلمانوں کے زوال کا آغاز اس دن سے ہوا جب کچھ حکمرانوں نے ان لوگوں کا موقف اختیار کیا جو کہتے تھے کہ کوئی نماز پڑھے یا نہ پڑھے، زکوٰۃ دے یا نہ دے، اس کے ایمان میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، وہ پکا مسلمان ہے۔ کچھ لوگ یہاں تک پہنچ گئے کہ ایمان سب کا ایک جیسا ہے، اس میں کمی یا اضافہ نہیں ہوتا، اس لیے ہمارا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اور ہمارا اور جبریل علیہ السلام کا ایمان برابر ہے۔ آج کل بعض حضرات کی جماعتیں پوری دنیا میں نماز کی دعوت دیتی پھرتی ہیں مگر خود ان کے خویش و اقارب اور بیویاں اور اولاد بے نماز ہیں، اس کے باوجود وہ انھیں سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔ اپنا کاروبار اور جائداد انھی کے سپرد رکھتے ہیں۔ اصل سبب عقیدے کی خرابی ہے کہ وہ بے نماز اور نمازی دونوں کے ایمان کو برابر سمجھتے ہیں اور صاف کہتے ہیں کہ ایمان صرف تصدیق اور اقرار کا نام ہے، اگر آج {” اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ “} کا فریضہ سرانجام دینے والے صدیق و فاروق اور عثمان و علی رضی اللہ عنھم ہوتے تو ہم دیکھتے کہ یہ لوگ کس طرح نماز اور زکوٰۃ کے بغیر مسلمان کی حیثیت سے دندناتے پھرتے، بلکہ اپنے آپ کو نمازیوں سے بہتر مسلمان قرار دیتے رہتے۔ تیسرا اور چوتھا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے۔ اس آیت سے خلفائے راشدین کی خلافت برحق ثابت ہوتی ہے، کیونکہ انھوں نے صلاۃ و زکوٰۃ کے علاوہ صرف زبان ہی سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دیا۔ اللہ کی حدود قائم کیں، جن کی برکت سے حیرہ سے چل کر اکیلی خاتون نے بیت اللہ کا حج کیا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ تھا۔ جہاد کے ذریعے سے دنیا کو توحید کی دعوت دی اور شرک و کفر سے منع کیا اور قیصر و کسریٰ اور عرب کے بڑے بڑے جابروں کو شکست فاش دے کر ان کے خزانے فتح کیے اور ان کی اقوام کو دائرۂ اسلام میں داخل کیا۔ جو خوشی سے اس دائرے میں نہیں آیا اسے زبردستی مسلمان نہیں بنایا مگر اس سے اس وقت تک جنگ جاری رکھی جب تک اس نے جزیہ ادا کرنے کا اقرار کرکے اسلام کا محکوم بننا قبول نہیں کیا۔ خلفائے راشدین کے بعد وہ خلفاء بھی اس بشارت میں شامل ہیں جنھوں نے یہ چاروں امور پوری طرح سرانجام دیے۔ کس قدر بدنصیب ہیں وہ لوگ جو ان عظیم ہستیوں سے بغض رکھتے ہیں کہ جن کے اوصاف حسنہ اور اعمالِ صالحہ کی شہادت اللہ تعالیٰ انھیں اقتدار عطا کرنے سے پہلے دے رہا ہے۔ ➋ آج بھی اللہ تعالیٰ کا نصرت کا وعدہ انھی لوگوں سے ہے جنھیں اللہ تعالیٰ اقتدار عطا فرمائے تو وہ یہ چاروں کام سرانجام دیں۔ اس کے نتیجے میں انھیں اقوام عالم پر غلبہ حاصل ہو گا، اسی کے نتیجے میں معاشی بدحالی ختم ہو کر فلاحی مملکت قائم ہو گی اور اسی کے نتیجے میں امن قائم ہو گا۔ افسوس! مسلمان حکام ان چاروں چیزوں کو چھوڑ کر کفار کے طریقوں جمہوریت، سود، بے حیائی کے فروغ، آخرت سے دوری اور صرف اور صرف دنیا طلبی کے پیچھے لگ کر یہ توقع کر رہے ہیں کہ اس سے دنیا پر غلبہ حاصل ہو گا، خوش حالی آئے گی اور امن قائم ہو گا، حالانکہ یہ ممکن ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری ہر بیماری کا علاج صرف اور صرف اللہ کے فرمان پر عمل ہے۔ ➌ اللہ تعالیٰ کا یہی وعدہ اور بشارت سورۂ نور میں بھی مذکور ہے، فرمایا: «‏‏‏‏وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ» ‏‏‏‏ [ النور: ۵۵ ] ”اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ضرور ہی جانشین بنائے گا، جس طرح ان لوگوں کو جانشین بنایا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور ہی اقتدار دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ہر صورت انھیں ان کے خوف کے بعد بدل کرامن دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور جس نے اس کے بعد کفر کیا تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔“ ➍ {وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ:} مفسر بقاعی نے اس ”واؤ“ کے تحت بہت خوب صورت نکتہ بیان فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اس ”واؤ“ کا جس جملے پر عطف ہے وہ یہاں ذکر نہیں ہوا، جہاد کے حکم اور اس کی حکمت {” وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ “} کی مناسبت سے کلام یہ ہے کہ {”فَلِلّٰهِ بَادِئَةُ الْأُمُوْرِ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْأُمُوْرِ“} یعنی پہلے کفار کے مسلمانوں کو طویل عرصہ تک بے حد ایذا کی مہلت دینے اور اب مسلمانوں کو جہاد کی اجازت اور نصرت کے وعدے کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام امور کی ابتدا بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ شروع میں بعض اوقات کفار کو مہلت دے دیتا ہے، جس سے ان پر اتمامِ حجت مقصود ہوتا ہے اور ایمان کے دعوے داروں کا امتحان مقصود ہوتا ہے، تاکہ سچا اور جھوٹا اور مذبذب ایمان اور مستحکم ایمان والا ظاہر ہو جائے اور بعض اوقات شروع ہی میں مسلمانوں کی مدد کر دیتا ہے۔ پس تمام کاموں کا آغاز صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور تمام کاموں کا انجام بھی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ {”بَادِئَةُ الْأُمُوْرِ“} کے حذف اور {” عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ “} کے ذکر سے مسلمانوں کو حوصلہ دیا ہے کہ ابتدا میں تو بعض اوقات اللہ کے دشمنوں کو بھی موقع مل جاتا ہے مگر انجام تمھارا ہی ہے۔ اب یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے، چاہے تو دنیا میں بھی انجام مسلمانوں کے حق میں کر دے اور چاہے تو اس وقت ان کے حق میں کر دے جب ہر کام اپنے انجام کو پہنچ جائے گا اور جب اللہ تعالیٰ کے سوا سب کا اختیار ختم ہو جائے گا (انفطار: ۱۹) بلکہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی بول بھی نہیں سکے گا۔ (نبا: ۳۸) پھر جو جہنم سے بچ گیا اور جنت میں داخل ہو گیا تو وہی کامیاب ہے اور اسی کا انجام بخیر ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۸۵)۔
وَ اِنۡ یُّکَذِّبُوۡکَ فَقَدۡ کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوۡدُ ﴿ۙ۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ، اگر وہ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو اُن سے پہلے قوم نوحؑ اور عاد اور ثمود
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں (تو کوئی تعجب کی بات نہیں) تو ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور ﺛمود
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر یہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو بیشک ان سے پہلے جھٹلا چکی ہے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) اگر لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو (یہ کوئی نئی بات نہیں ہے) ان سے پہلے (کئی قومیں اپنے نبیوں کو جھٹلا چکی ہیں جیسے) قوم نوح نے، عاد و ثمود نے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو بے شک ان سے پہلے قوم نوح اور عاد اور ثمود نے جھٹلایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ’ منکروں کا انکار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح علیہ السلام سے لے کر موسیٰ علیہ السلام تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کر لیں۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخر کار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر درد ناک انجام ہوا ‘۔ سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھٹکارا نہیں ہوتا } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11-ھود:102] ‏‏‏‏ تلاوت کی }۔ پھر فرمایا کہ ’ کئی ایک بستیوں والے ظالموں کو جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ہم نے غارت کر دیا۔ جن کے محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اوندھے گرے ہوئے ہیں، ان کی منزلیں ویران ہوگیئں، ان کی آبادیاں ویران ہوگئیں، ان کے کنویں خالی پڑے ہیں، جو کل تک آباد تھے آج خالی ہیں، ان کے چونہ گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، جو بلند و بالا اور پختہ تھے وہ آج ویران پڑے ہیں، وہاں الو بول رہا ہے، ان کی مضبوطی انہیں نہ بچا سکی، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بے کار ثابت ہوئی۔ رب کے عذاب نے تہس نہس کر دیا ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ» ۱؎ [4-النساء:78] ‏‏‏‏ یعنی ’ گو تم چونہ گچ پکے قلعوں میں محفوظ ہو لیکن موت وہاں بھی تمہیں چھوڑنے کی نہیں ‘۔

’ کیا وہ خود زمین میں چلے پھرے نہیں یا کبھی غور وفکر بھی نہیں کیا کہ کچھ عبرت حاصل ہوتی؟ ‘ امام ابن ابی الدنیا کتاب «التفکر و الا عبار» میں روایت لائے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسیٰ! لوہے کی نعلین پہن کر لوہے کی لکڑی لے کر زمین میں چل پھر کر آثار وعبرت کو دیکھ وہ ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ تیری لوہے کی جوتیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور لوہے کی لکڑی بھی ٹوٹ پھوٹ جائے۔ اسی کتاب میں بعض دانشمندوں کا قول ہے کہ وعظ کے ساتھ اپنے دل کو زندہ کر۔ اور غور وفکر کے ساتھ اسے نورانی کر اور زہد اور دنیا سے بچنے کے ساتھ اسے مار دے اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرلے اور موت کے ذکر سے اسے ذلیل کر دے اور فنا کے یقین سے اسے صبر دے۔ دنیا کی مصیبتیں اس کے سامنے رکھ کر اس آنکھیں کھول دے زمانے کی تنگی اسے دکھا اسے دہشت ناک بنا دے، دنوں کے الٹ پھیر اسے سمجھا کر بیدار کر دے۔ گزشتہ واقعات سے اسے عبرتناک بنا۔ اگلوں کے قصے اسے سنا کر ہوشیار رکھ۔ ان کے شہروں میں اور ان کی سوانح میں اسے غور وفکر کرنے کا عادی بنا۔ اور دیکھ کہ گہنگاروں کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہوا کس طرح وہ لوٹ پوٹ کر دیئے گئے۔‏‏‏‏“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 42تا44) ➊ { وَ اِنْ يُّكَذِّبُوْكَ …:} آیت کے شروع میں ”واؤ“ کا عطف ایک محذوف جملے پر ہے اور وہ محذوف جملہ اور یہ مذکور جملہ دونوں ترغیب و ترہیب پر مشتمل پچھلی آیات کا حاصل بیان کر رہے ہیں۔ وہ جملہ یہ ہے: {” فَاِنْ آمِنُوْا بِكَ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ وَ إِنْ يُّكَذِّبُوْكَ أَخَذْتُهُمْ“} ”پس اگر وہ (یہ سب کچھ سن کر) تجھ پر ایمان لے آئیں تو ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں گے اور اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو میں انھیں پکڑ لوں گا۔“ پہلا جملہ سننے والے کی سمجھ کے سپرد کرکے حذف کر دیا ہے اور{” وَ اِنْ يُّكَذِّبُوْكَ “} کا اس پر عطف ڈالا ہے۔ (بقاعی) قرآن مجید میں بعض مقامات پر اس حذف شدہ جملے جیسے جملے مذکور بھی ہیں، مثلاً: «‏‏‏‏فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِيْ شِقَاقٍ» [ البقرۃ: ۱۳۷ ] ”پھر اگر وہ اس جیسی چیز پر ایمان لائیں جس پر تم ایمان لائے ہو تو یقینا وہ ہدایت پا گئے اور اگر پھر جائیں تو وہ محض ایک مخالفت میں (پڑے ہوئے) ہیں۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ» ‏‏‏‏ [ آل عمران: ۲۰ ] ”پس اگر وہ تابع ہو جائیں تو بے شک ہدایت پا گئے اور اگر وہ منہ پھیر لیں تو تیرے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہے۔“اور فرمایا: «‏‏‏‏قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ وَ اِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْا» ‏‏‏‏ [ النور: ۵۴ ] ”کہہ دے اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، پھر اگر تم پھر جاؤ تو اس کے ذمے صرف وہ ہے جو اس پر بوجھ ڈالا گیا ہے اور تمھارے ذمے وہ جو تم پر بوجھ ڈالا گیا اور اگر اس کا حکم مانو گے تو ہدایت پاجاؤ گے۔“ {” وَ اِنْ يُّكَذِّبُوْكَ …“} یہ جملہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے اور ان کا غم دور کرنے کے لیے فرمایا ہے، یعنی اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو میں انھیں پکڑ لوں گا، خواہ وہ کتنی قوت رکھتے ہوں، میں نے ان سے پہلے عمر، قد و قامت، قوت و شوکت، مال و متاع، خبث و نجاست اور حکومت و اقتدار میں ان سے کہیں بڑھی ہوئی قوموں کو، جب وہ باز نہ آئے تو پکڑ لیا اور وہ میری گرفت سے بچ نہ سکے، تو مکہ کے ان کافروں کی کیا بساط ہے؟ اس لیے آپ غم زدہ نہ ہوں۔ آپ سے پہلے نوح علیہ السلام کی قوم نے جھٹلایا، جن کی عمریں سب لوگوں سے زیادہ اور جن کا اقتدار نہایت مضبوط تھا اور عاد نے جو بہت لمبے اور نہایت مضبوط قد رکھتے تھے، جن کے بعد ان جیسی قوم پیدا نہیں ہوئی اور ثمود، جنھوں نے میدانوں میں اور پہاڑوں میں چٹانیں تراش کر نہایت مضبوط اور بلند و بالا عمارتیں بنا رکھی تھیں اور ابراہیم علیہ السلام کی قوم کو جو جبر و تکبر میں انتہا کو پہنچے ہوئے تھے اور لوط علیہ السلام کی خبیث اور نجس قوم کو اور مدین والوں کو جنھوں نے حرام طریقے سے کمائے ہوئے مال کے خزانے جمع کر رکھے تھے۔ ➋ {وَ كُذِّبَ مُوْسٰى:} موسیٰ علیہ السلام کو چونکہ سب لوگوں کو نظر آنے والے اتنے معجزے عطا کیے گئے جو اس سے پہلے کسی کو عطا نہیں ہوئے تھے، اس لیے ان کی تکذیب انتہائی بعید بات تھی، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے کلام کا اسلوب بدل دیا اور اس لیے بھی بدل دیا کہ پہلے ذکر کر دہ تمام انبیاء کی اقوام نے انھیں جھٹلایا تھا جب کہ موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل نے انھیں چند ایک کے سوا نہیں جھٹلایا، صرف فرعون کی قوم قبطیوں نے انھیں جھٹلایا تھا۔ رہی بنی اسرائیل کی نافرمانیاں تو وہ موسیٰ علیہ السلام کو جھوٹا سمجھنے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس قوم کی بدعملی اور طبیعت کی خست کی وجہ سے تھیں۔ ➌ { فَاَمْلَيْتُ لِلْكٰفِرِيْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ:} اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور مسلمانوں کو دلاسا اور تسلی دی ہے کہ میں نے مکہ کے کفار کو بھی اسی طرح مہلت دی ہے، اب جنگ کی اجازت ہے، اگر یہ ایمان لے آئیں تو خیر، ورنہ ان پر بھی میری پکڑ مہاجرین و انصار کی یلغار کی صورت میں تیار ہے۔ ➍ { فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ:نَكِيْرِ “} کی ”راء“ کے نیچے کسرہ ہے، کیونکہ اصل میں {” نَكِيْرِيْ“} تھا، میرا عذاب۔ ”یاء“ کو تخفیف کے لیے اور فواصل یعنی آیات کے آخری الفاظ (مثلاً {كَفُوْرٍ، عَزِيْزٌ، الْاُمُوْرِ، مَشِيْدٍ، الصُّدُوْرِ} وغیرہ) کی موافقت کے لیے حذف کر دیا گیا۔ ان پر آنے والے عذابوں کی تفصیل سورۂ عنکبوت میں ہے، فرمایا: «{ فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ }» [ العنکبوت: ۴۰ ] ”تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اوران میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کر دیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔“
وَ قَوۡمُ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ قَوۡمُ لُوۡطٍ ﴿ۙ۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور قوم ابراہیمؑ اور قوم لوطؑ
مولانا محمد جوناگڑھی
اور قوم ابراہیم اور قوم لوط
احمد رضا خان بریلوی
اور ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم،
علامہ محمد حسین نجفی
اور قوم ابراہیم (ع) نے اور قوم لوط نے (جھٹلایا)۔
عبدالسلام بن محمد
اور ابراہیم کی قوم نے اور لوط کی قوم نے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ’ منکروں کا انکار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح علیہ السلام سے لے کر موسیٰ علیہ السلام تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کر لیں۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخر کار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر درد ناک انجام ہوا ‘۔ سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھٹکارا نہیں ہوتا } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11-ھود:102] ‏‏‏‏ تلاوت کی }۔ پھر فرمایا کہ ’ کئی ایک بستیوں والے ظالموں کو جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ہم نے غارت کر دیا۔ جن کے محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اوندھے گرے ہوئے ہیں، ان کی منزلیں ویران ہوگیئں، ان کی آبادیاں ویران ہوگئیں، ان کے کنویں خالی پڑے ہیں، جو کل تک آباد تھے آج خالی ہیں، ان کے چونہ گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، جو بلند و بالا اور پختہ تھے وہ آج ویران پڑے ہیں، وہاں الو بول رہا ہے، ان کی مضبوطی انہیں نہ بچا سکی، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بے کار ثابت ہوئی۔ رب کے عذاب نے تہس نہس کر دیا ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ» ۱؎ [4-النساء:78] ‏‏‏‏ یعنی ’ گو تم چونہ گچ پکے قلعوں میں محفوظ ہو لیکن موت وہاں بھی تمہیں چھوڑنے کی نہیں ‘۔

’ کیا وہ خود زمین میں چلے پھرے نہیں یا کبھی غور وفکر بھی نہیں کیا کہ کچھ عبرت حاصل ہوتی؟ ‘ امام ابن ابی الدنیا کتاب «التفکر و الا عبار» میں روایت لائے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسیٰ! لوہے کی نعلین پہن کر لوہے کی لکڑی لے کر زمین میں چل پھر کر آثار وعبرت کو دیکھ وہ ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ تیری لوہے کی جوتیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور لوہے کی لکڑی بھی ٹوٹ پھوٹ جائے۔ اسی کتاب میں بعض دانشمندوں کا قول ہے کہ وعظ کے ساتھ اپنے دل کو زندہ کر۔ اور غور وفکر کے ساتھ اسے نورانی کر اور زہد اور دنیا سے بچنے کے ساتھ اسے مار دے اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرلے اور موت کے ذکر سے اسے ذلیل کر دے اور فنا کے یقین سے اسے صبر دے۔ دنیا کی مصیبتیں اس کے سامنے رکھ کر اس آنکھیں کھول دے زمانے کی تنگی اسے دکھا اسے دہشت ناک بنا دے، دنوں کے الٹ پھیر اسے سمجھا کر بیدار کر دے۔ گزشتہ واقعات سے اسے عبرتناک بنا۔ اگلوں کے قصے اسے سنا کر ہوشیار رکھ۔ ان کے شہروں میں اور ان کی سوانح میں اسے غور وفکر کرنے کا عادی بنا۔ اور دیکھ کہ گہنگاروں کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہوا کس طرح وہ لوٹ پوٹ کر دیئے گئے۔‏‏‏‏“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَّ اَصۡحٰبُ مَدۡیَنَ ۚ وَ کُذِّبَ مُوۡسٰی فَاَمۡلَیۡتُ لِلۡکٰفِرِیۡنَ ثُمَّ اَخَذۡتُہُمۡ ۚ فَکَیۡفَ کَانَ نَکِیۡرِ ﴿۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اہل مدین بھی جھٹلا چکے ہیں اور موسیٰؑ بھی جھٹلائے جا چکے ہیں ان سب منکرینِ حق کو میں نے پہلے مُہلت دی، پھر پکڑ لیا اب دیکھ لو کہ میری عقوبت کیسی تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور مدین والے بھی اپنے اپنے نبیوں کو جھٹلا چکے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) بھی جھٹلائے جا چکے ہیں پس میں نے کافروں کو یوں ہی سی مہلت دی پھر دھر دبایا، پھر میرا عذاب کیسا ہوا؟
احمد رضا خان بریلوی
اور مدین والے اور موسیٰ کی تکذیب ہوئی تو میں نے کافرو ں کو ڈھیل دی پھر انہیں پکڑا تو کیسا ہوا میرا عذاب
علامہ محمد حسین نجفی
اور اہل مدین نے بھی۔ اور موسیٰ کو بھی جھٹلایا گیا۔ سو پہلے میں نے کافروں کو (کچھ) مہلت دی اور پھر انہیں پکڑ لیا۔ تو (دیکھو) میرا عذاب کیسا تھا؟
عبدالسلام بن محمد
اور مدین والوں نے۔ اور موسیٰ کو جھٹلایا گیا تو میں نے ان کافروں کو مہلت دی، پھرمیں نے انھیں پکڑ لیا تو میرا عذاب کیسا تھا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ’ منکروں کا انکار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح علیہ السلام سے لے کر موسیٰ علیہ السلام تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کر لیں۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخر کار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر درد ناک انجام ہوا ‘۔ سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھٹکارا نہیں ہوتا } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11-ھود:102] ‏‏‏‏ تلاوت کی }۔ پھر فرمایا کہ ’ کئی ایک بستیوں والے ظالموں کو جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ہم نے غارت کر دیا۔ جن کے محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اوندھے گرے ہوئے ہیں، ان کی منزلیں ویران ہوگیئں، ان کی آبادیاں ویران ہوگئیں، ان کے کنویں خالی پڑے ہیں، جو کل تک آباد تھے آج خالی ہیں، ان کے چونہ گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، جو بلند و بالا اور پختہ تھے وہ آج ویران پڑے ہیں، وہاں الو بول رہا ہے، ان کی مضبوطی انہیں نہ بچا سکی، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بے کار ثابت ہوئی۔ رب کے عذاب نے تہس نہس کر دیا ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ» ۱؎ [4-النساء:78] ‏‏‏‏ یعنی ’ گو تم چونہ گچ پکے قلعوں میں محفوظ ہو لیکن موت وہاں بھی تمہیں چھوڑنے کی نہیں ‘۔

’ کیا وہ خود زمین میں چلے پھرے نہیں یا کبھی غور وفکر بھی نہیں کیا کہ کچھ عبرت حاصل ہوتی؟ ‘ امام ابن ابی الدنیا کتاب «التفکر و الا عبار» میں روایت لائے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسیٰ! لوہے کی نعلین پہن کر لوہے کی لکڑی لے کر زمین میں چل پھر کر آثار وعبرت کو دیکھ وہ ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ تیری لوہے کی جوتیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور لوہے کی لکڑی بھی ٹوٹ پھوٹ جائے۔ اسی کتاب میں بعض دانشمندوں کا قول ہے کہ وعظ کے ساتھ اپنے دل کو زندہ کر۔ اور غور وفکر کے ساتھ اسے نورانی کر اور زہد اور دنیا سے بچنے کے ساتھ اسے مار دے اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرلے اور موت کے ذکر سے اسے ذلیل کر دے اور فنا کے یقین سے اسے صبر دے۔ دنیا کی مصیبتیں اس کے سامنے رکھ کر اس آنکھیں کھول دے زمانے کی تنگی اسے دکھا اسے دہشت ناک بنا دے، دنوں کے الٹ پھیر اسے سمجھا کر بیدار کر دے۔ گزشتہ واقعات سے اسے عبرتناک بنا۔ اگلوں کے قصے اسے سنا کر ہوشیار رکھ۔ ان کے شہروں میں اور ان کی سوانح میں اسے غور وفکر کرنے کا عادی بنا۔ اور دیکھ کہ گہنگاروں کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہوا کس طرح وہ لوٹ پوٹ کر دیئے گئے۔‏‏‏‏“
44۔ 1 اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ نئی بات نہیں ہے پچھلی قومیں بھی اپنے پیغمبروں کے ساتھ یہی کچھ کرتی رہی ہیں اور میں بھی انھیں مہلت دیتا رہا۔ پھر جب ان کا وقت مہلت ختم ہوگیا تو انھیں تباہ برباد کردیا گیا۔ اس میں تعریض وکنایہ ہے مشرکین مکہ کے لیے کہ تکذیب کے باوجود تم ابھی تک مؤاخذہ الہی سے بچے ہوئے ہو تو یہ نہ سمجھ لینا کہ ہمارا کوئی مؤاخذہ کرنے والا نہیں بلکہ یہ اللہ کی طرف سے مہلت ہے جو وہ ہر قوم کو دیا کرتا ہے لیکن اگر وہ اس اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اطاعت وانقیاد کا راستہ اختیار نہیں کرتی تو پھر اسے ہلاک یا مسلمانوں کے ذریعے سے مغلوب اور ذلت و رسوائی سے دوچار کردیا جاتا ہے۔ 44۔ 2 یعنی کس طرح میں نے انھیں اپنی نعمتوں سے محروم کرکے عذاب و ہلاکت سے دو چار کردیا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَکَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَا وَ ہِیَ ظَالِمَۃٌ فَہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا وَ بِئۡرٍ مُّعَطَّلَۃٍ وَّ قَصۡرٍ مَّشِیۡدٍ ﴿۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کتنی ہی خطاکاربستیاں ہیں جن کو ہم نے تباہ کیا ہے اور آج وہ اپنی چھتوں پر اُلٹی پڑی ہیں، کتنے ہی کنویں بیکار اور کتنے ہی قصر کھنڈر بنے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بہت سی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تہ وباﻻ کر دیا اس لئے کہ وه ﻇالم تھے پس وه اپنی چھتوں کے بل اوندھی ہوئی پڑی ہیں اور بہت سے آباد کنوئیں بیکار پڑے ہیں اور بہت سے پکے اور بلند محل ویران پڑے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کتنی ہی بستیاں ہم نے کھپادیں (ہلاک کردیں) کہ وہ ستمگار تھیں تو اب وہ اپنی چھتوں پر ڈہی (گری) پڑی ہیں اور کتنے کنویں بیکار پڑے اور کتنے محل گچ کیے ہوئے
علامہ محمد حسین نجفی
غرض کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تباہ و برباد کر دیا کیونکہ وہ ظالم تھیں (چنانچہ) وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور کتنے کنویں ہیں جو بیکار پڑے ہیں اور کتنے مضبوط محل ہیں (جو کھنڈر بن گئے ہیں)۔
عبدالسلام بن محمد
سو کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ہم نے اس حال میں ہلاک کیا کہ وہ ظالم تھیں، پس وہ اپنی چھتوں پر گری ہوئی ہیں اور کتنے ہی بے کار چھوڑے ہوئے کنویں ہیں اور چونا گچ محل۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ’ منکروں کا انکار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح علیہ السلام سے لے کر موسیٰ علیہ السلام تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کر لیں۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخر کار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر درد ناک انجام ہوا ‘۔ سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھٹکارا نہیں ہوتا } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11-ھود:102] ‏‏‏‏ تلاوت کی }۔ پھر فرمایا کہ ’ کئی ایک بستیوں والے ظالموں کو جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ہم نے غارت کر دیا۔ جن کے محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اوندھے گرے ہوئے ہیں، ان کی منزلیں ویران ہوگیئں، ان کی آبادیاں ویران ہوگئیں، ان کے کنویں خالی پڑے ہیں، جو کل تک آباد تھے آج خالی ہیں، ان کے چونہ گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، جو بلند و بالا اور پختہ تھے وہ آج ویران پڑے ہیں، وہاں الو بول رہا ہے، ان کی مضبوطی انہیں نہ بچا سکی، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بے کار ثابت ہوئی۔ رب کے عذاب نے تہس نہس کر دیا ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ» ۱؎ [4-النساء:78] ‏‏‏‏ یعنی ’ گو تم چونہ گچ پکے قلعوں میں محفوظ ہو لیکن موت وہاں بھی تمہیں چھوڑنے کی نہیں ‘۔

’ کیا وہ خود زمین میں چلے پھرے نہیں یا کبھی غور وفکر بھی نہیں کیا کہ کچھ عبرت حاصل ہوتی؟ ‘ امام ابن ابی الدنیا کتاب «التفکر و الا عبار» میں روایت لائے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسیٰ! لوہے کی نعلین پہن کر لوہے کی لکڑی لے کر زمین میں چل پھر کر آثار وعبرت کو دیکھ وہ ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ تیری لوہے کی جوتیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور لوہے کی لکڑی بھی ٹوٹ پھوٹ جائے۔ اسی کتاب میں بعض دانشمندوں کا قول ہے کہ وعظ کے ساتھ اپنے دل کو زندہ کر۔ اور غور وفکر کے ساتھ اسے نورانی کر اور زہد اور دنیا سے بچنے کے ساتھ اسے مار دے اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرلے اور موت کے ذکر سے اسے ذلیل کر دے اور فنا کے یقین سے اسے صبر دے۔ دنیا کی مصیبتیں اس کے سامنے رکھ کر اس آنکھیں کھول دے زمانے کی تنگی اسے دکھا اسے دہشت ناک بنا دے، دنوں کے الٹ پھیر اسے سمجھا کر بیدار کر دے۔ گزشتہ واقعات سے اسے عبرتناک بنا۔ اگلوں کے قصے اسے سنا کر ہوشیار رکھ۔ ان کے شہروں میں اور ان کی سوانح میں اسے غور وفکر کرنے کا عادی بنا۔ اور دیکھ کہ گہنگاروں کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہوا کس طرح وہ لوٹ پوٹ کر دیئے گئے۔‏‏‏‏“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 45) ➊ {فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِيَ …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۵۹) کی تفسیر۔ {” بِئْرٍ “} مؤنث سماعی ہے، اس لیے اس کی صفت {” مُعَطَّلَةٍ “} آئی ہے۔ {” مَشِيْدٍ”شَادَ يَشِيْدُ شَيْدًا“} (ض) سے اسم مفعول ہے، چونے کے ساتھ مضبوط کیا ہوا۔ یہ مجرد ثلاثی سے ہے، جب کہ سورۂ نساء کی آیت (۷۸): «{ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَيَّدَةٍ }» میں باب تفعیل یعنی ثلاثی مزیدفیہ استعمال ہوا ہے جس میں مبالغہ ہوتا ہے، کیونکہ وہاں موت کا ذکر ہے کہ خواہ تم چونے کے ساتھ بنے ہوئے محکم سے محکم قلعوں میں ہو موت تمھیں وہاں بھی نہیں چھوڑے گی۔ موت کی دسترس کے اظہار کے لیے {” مُشَيَّدَةٍ “} (باب تفعیل) لایا گیا، جب کہ پرانے محلات خواہ کس قدر مضبوط ہوں آخر وہ پختگی باقی نہیں رہتی، اس لیے صرف {” مَشِيْدٍ “} (ثلاثی مجرد) پر اکتفا کیا گیا۔ {” مَشِيْدٍ “} کا ایک معنی بلند بھی ہے۔ ➋ یہ سات اقوام جن کا ذکر ہوا ہے، کثرت و قوت میں تمام اقوام سے بڑھ کر تھیں۔ ان کے علاوہ ان کے عہد میں اور بعد کے زمانوں میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس طرح کی کتنی قومیں گزری ہیں؟ ان سب کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنی عادت بیان فرمائی کہ پہلے انھیں مہلت دی جاتی ہے، پھر اگر وہ اس سے فائدہ اٹھا کر ایمان لے آئیں تو خیر، ورنہ انھیں ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ اگرچہ ترتیب کے مطابق پہلے مہلت کا اور پھر پکڑنے کا ذکر ہونا چاہیے تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے کے انجام بد سے ڈرانے کے لیے ایسی اقوام کی کثرت، ان کی قوت و شوکت اور ان کی تباہی و بربادی کی یاد دلانے والے آثار قدیمہ کا بیان پہلے فرمایا اور آیت (۴۶) میں دوبارہ انھیں مہلت دینے کے بعد پکڑنے کا ذکر فرمایا۔ سو ارشاد فرمایا کہ کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ان کے ظلم اور کفر انِ نعمت کی پاداش میں ہم نے ہلاکت اور تباہی کے گھاٹ اتار دیا۔ اب ان کا حال یہ ہے کہ ان کی چھتیں بوسیدہ ہو کر گرنے کے بعد ان کی دیواریں بھی ان پر گری پڑی ہیں اور کتنے ہی کنویں ہیں جو کبھی آبادی کا مرکز تھے اور ان پر پانی کے لیے آنے جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا، اب اجاڑ اور ویران پڑے ہیں۔ عربوں کے ہاں پانی کی قلت کی وجہ سے کنوؤں کا خصوصاً ذکر فرمایا۔ اسی طرح کتنے ہی چونے کے ساتھ مضبوط بنے ہوئے بلند و بالا اور پر شکوہ ایوان اور محلات ہیں، جن میں ہر وقت چہل پہل رہتی تھی اور جن کی حفاظت کے لیے دن رات ہزاروں فوجیوں کا پہرا ہوتا تھا، اب ان پر کوؤں، چیلوں اور الوؤں کی حکومت ہے۔
اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَتَکُوۡنَ لَہُمۡ قُلُوۡبٌ یَّعۡقِلُوۡنَ بِہَاۤ اَوۡ اٰذَانٌ یَّسۡمَعُوۡنَ بِہَا ۚ فَاِنَّہَا لَا تَعۡمَی الۡاَبۡصَارُ وَ لٰکِنۡ تَعۡمَی الۡقُلُوۡبُ الَّتِیۡ فِی الصُّدُوۡرِ ﴿۴۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کے دل سمجھنے والے اور اِن کے کان سُننے والے ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا انہوں نے زمین میں سیر وسیاحت نہیں کی جو ان کے دل ان باتوں کے سمجھنے والے ہوتے یا کانوں سے ہی ان (واقعات) کو سن لیتے، بات یہ ہے کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وه دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا زمین میں نہ چلے کہ ان کے دل ہوں جن سے سمجھیں یا کان ہوں جن سے سنیں تو یہ کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینو ں میں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں تاکہ( یہ منظر دیکھ کر) ان کے دل ایسے ہو جاتے کہ جن سے وہ (حق کو) سمجھ سکتے اور کان ایسے ہو جاتے جن سے (آواز حق) سن سکتے۔ مگر (حقیقت یہ ہے کہ) آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھر ے نہیں کہ ان کے لیے ایسے دل ہوں جن کے ساتھ وہ سمجھیں، یا کان ہوں جن کے ساتھ وہ سنیں۔ پس بے شک قصہ یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں اور لیکن وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پس یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ ’ اگلوں کے واقعات سامنے رکھ کر دلوں کو سمجھدار بناؤ ان کی ہلاکت کے سچے افسانے سن کر عبرت حاصل کرو۔ سن لو آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ سب سے برا اندھا پن دل کا ہے گو آنکھیں صحیح سالم موجود ہوں۔ دل کے اندھے پن کی وجہ سے نہ تو عبرت حاصل ہوتی ہے نہ خیر و شر کی تمیز ہوتی ہے ‘۔ ابو محمد بن جیارہ اندلسی نے جن کا انتقال ؁٥١٧ھ میں ہوا ہے اس مضمون کو اپنے چند اشعار میں خوب نبھایا ہے وہ فرماتے ہیں ”اے وہ شخص جو گناہوں میں لذت پا رہا ہے کیا اپنے بڑھاپے اور نفس کی برائی سے بھی تو بیخبر ہے؟ اگر نصیحت اثر نہیں کرتی تو کیا دیکھنے سننے سے بھی عبرت حاصل نہیں ہوتی؟ سن لے آنکھیں اور کان اپنا کام نہ کریں تو اتنا برا نہیں جتنا، برا یہ ہے کہ واقعات سے سبق نہ حاصل کیا جائے۔ یاد رکھ نہ تو دنیا باقی رہے گی نہ آسمان نہ سورج چاند۔ گو جی نہ چاہے مگر دنیا سے تم کو ایک روز بادل ناخواستہ کوچ کرناہی پڑے گا۔ کیا امیر ہو کیا غریب کیا شہری ہو یا دیہاتی۔‏‏‏‏“
46۔ 1 اور جب کوئی قوم ضلالت کے اس مقام پر پہنچ جائے کہ عبرت کی صلاحیت بھی کھو بیٹھے، تو ہدایت کی بجائے، گذشتہ قوموں کی طرح تباہی اس کا مقدر بن کر رہتی ہے۔ آیت میں عمل و عقل کا تعلق دل کی طرف کیا گیا ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ عقل کا محل دل ہے، اور بعض کہتے ہیں کہ محل عقل دماغ ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ ان دونوں باتوں میں کوئی فرق نہیں، اس لئے عقل و فہم کے حصول میں عقل اور دماغ دونوں کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے (فتح القدیر)
(آیت 46) ➊ { اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ …:} عرب کے لوگ تجارت کے لیے دور دراز سفر کرتے تھے، چنانچہ وہ گرمیوں میں شام کی طرف اور سردیوں میں یمن کی طرف جاتے تھے۔ سورۂ قریش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس انعام کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے۔ یمن قومِ عاد کا مسکن تھا اور شام کے سفر میں مدائن صالح اور قوم لوط کی تباہ شدہ بستیوں پر سے ان کا گزر ہوتا تھا، قوم لوط کے متعلق فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِيْنَ (137) وَ بِالَّيْلِ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الصافات: ۱۳۷، ۱۳۸ ] ”اور بلاشبہ تم یقینا صبح جاتے ہوئے ان پر سے گزرتے ہو اور رات کو بھی۔ تو کیا تم سمجھتے نہیں؟“ اور قومِ لوط اور قومِ شعیب (اصحاب الایکہ) کے متعلق فرمایا: «{ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍ }» [ الحجر: ۷۹ ] ”اور بے شک وہ دونوں (بستیاں) یقینا ظاہر راستے پر موجود ہیں۔“ مدین کا علاقہ بھی حجاز کے شمال مغرب میں واقع تھا۔ سفر میں آدمی کو مالی فوائد کے علاوہ علمی فوائد اور بے شمار تجربات اور عبرتیں حاصل ہوتی ہیں اور سفر کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے۔ ابوالعلاء المعری کہتا ہے: {وَ قِيْلَ أَفَادَ بِالْأَسْفَارِ مَالاً فَقُلْنَا هَلْ أَفَادَ بِهَا فُؤَادًا} ”لوگوں نے بتایا کہ اس نے مختلف سفروں میں بہت سا مال حاصل کیا ہے، تو ہم نے کہا، کیا اس نے ان سے کوئی دل بھی حاصل کیا ہے؟“ یعنی اسے سفروں سے کچھ عقل و دانش اور نصیحت و عبرت بھی حاصل ہوئی ہے؟ اس آیت میں ان لوگوں سے جنھوں نے یہ سفر کیے تھے، کہا جا رہا ہے کہ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ مختلف قوموں کے آثار قدیمہ دیکھ کر ان کے دل عقل کرتے اور نصیحت و عبرت حاصل کرتے، یا لوگوں سے سن کر ہی عبرت حاصل کرتے؟ مقصد یہ ہے کہ سفر کا فائدہ تو سوچنا سمجھنا اور عبرت حاصل کرنا ہے اور بے شک تم نے ان سفروں میں آنکھوں سے بہت کچھ دیکھا اور کانوں سے بہت کچھ سنا مگر جب اس سے عبرت اور عقل حاصل نہیں کی تو سمجھو کہ تم آنکھیں رکھنے کے باوجود اندھے اور کان رکھنے کے باوجود بہرے ہو، فرمایا: «وَ مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۷۱ ] ”اور ان لوگوں کی مثال جنھوں نے کفر کیا، اس شخص کی مثال جیسی ہے جو ان جانوروں کو آواز دیتا ہے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہیں سنتے، بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، سو وہ نہیں سمجھتے۔“ گویا جس کا دل عقل سے خالی ہے اس کی آنکھوں اور کانوں کا اسے کوئی فائدہ نہیں۔ اسی طرح اس آیت میں ان لوگوں کو جنھوں نے سفر نہیں کیا، ترغیب دی جا رہی ہے کہ دنیا میں چلو پھرو، اس سے تمھاری آنکھیں دیکھ کر اور کان سن کر عبرت و نصیحت حاصل کریں گے۔ ➋ {فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ …: ” إِنَّ “} کے بعد {” هَا “} ضمیر قصہ کہلاتی ہے، یہ مذکر بھی آتی ہے، جیسا کہ اس آیت کی ایک قراء ت {” فَإِنَّهُ لَا تَعْمَي الْأَبْصَارُ“} بھی ہے، اس وقت اسے ضمیر شان کہتے ہیں، معنی دونوں کا ایک ہی ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ…۔ بینائی دو قسم کی ہے، ایک آنکھوں کی بینائی، اسے بصارت کہتے ہیں اور ایک دل کی بینائی، اسے بصیرت کہتے ہیں۔ اسی طرح اندھا پن بھی دو قسم کا ہے، ایک آنکھوں کا اندھا ہونا اور ایک دل کا اندھا ہونا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ یہاں آنکھوں کے اندھا نہ ہونے کا مطلب ہے کہ آنکھیں اندھی ہونے سے کچھ نقصان نہیں، اصل نقصان دل اندھا ہونے اور بصیرت سے محروم ہونے کا ہے۔ ➌ بعض اہل علم نے بصارت اور بصیرت کی مثال سواری اور سوار کی بیان فرمائی ہے، اگر سوار دیکھتا ہے تو سواری اندھی ہونے کا خاص نقصان نہیں، لیکن اگر سوار اندھا ہے تو سواری کی نگاہ جتنی بھی تیز ہو کچھ فائدہ نہیں۔ ➍ موجودہ سائنس کا کہنا ہے کہ سوچنا سمجھنا دماغ کا کام ہے دل کا نہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس دل کو عقل کا مرکز قرار دیا ہے جو سینے میں ہے، اس دماغ کو نہیں جو سر میں ہے۔ اب بعض لوگوں نے کہا کہ قرآن نے سائنس کی زبان میں بات نہیں کی، ادبی زبان میں بات کی ہے مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ سائنس کے نظریات بدلتے رہتے ہیں، جب کہ اللہ کا فرمان اٹل ہے اور کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔ یہ بات تو ہر شخص جانتا ہے کہ دماغ کو خون دل ہی سے پہنچتا ہے، عین ممکن ہے کہ دماغ محض ایک سٹور ہو جس کا بٹن دل میں ہے اور یہ بھی عین ممکن ہے اور بے شمار دفعہ ہوا ہے کہ یہاں بھی سائنس اصل حقیقت تک پہنچ جائے اور دل کو عقل کا مرکز تسلیم کرلے۔
وَ یَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ بِالۡعَذَابِ وَ لَنۡ یُّخۡلِفَ اللّٰہُ وَعۡدَہٗ ؕ وَ اِنَّ یَوۡمًا عِنۡدَ رَبِّکَ کَاَلۡفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴿۴۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہ کرے گا، مگر تیرے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے ہزار برس کے برابر ہُوا کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ ہرگز اپنا وعده نہیں ٹالے گا۔ ہاں البتہ آپ کے رب کے نزدیک ایک دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور یہ تم سے عذاب مانگنے میں جلدی کرتے ہیں اور اللہ ہرگز اپنا وعدہ جھوٹا نہ کرے گا اور بیشک تمہارے رب کے یہاں ایک دن ایسا ہے جیسے تم لوگوں کی گنتی میں ہزار برس
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) یہ لوگ آپ سے عذاب کے مطالبہ میں جلدی کر رہے ہیں اور اللہ کبھی اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرے گا اور آپ کے پروردگار کے نزدیک ایک دن تم لوگوں کے شمار کئے ہوئے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ تجھ سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اللہ ہرگز اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرے گا اور بے شک ایک دن تیرے رب کے ہاں ہزار سال کے برابر ہے، اس گنتی سے جو تم شمار کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذرا صبر ، عذاب کا شوق پورا ہو گا ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے فرما رہا ہے کہ ’ یہ ملحد کفار اللہ کو اس کے رسول کو اور قیامت کے دن کو جھٹلانے والے تجھ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی کر رہے ہیں کہ جلد ان عذابوں کو کیوں نہیں برپا کر دیا جاتا جن سے ہمیں ہر وقت ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے ‘۔ چنانچہ وہ اللہ سے بھی کہتے تھے کہ «وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» ۱؎ [8-الأنفال:32] ‏‏‏‏ ’ الٰہی اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے سنگ باری کر یا اور کسی طرح کا درد ناک عذاب بھیج ‘۔ کہتے تھے کہ «وَقَالُوا رَبّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطّنَا قَبْل يَوْم الْحِسَاب» ۱؎ [38-ص:16] ‏‏‏‏ ’ حساب کے دن سے پہلے ہی ہمارا معاملہ صاف کر دے ‘۔ اللہ فرماتا ہے «وَلَنْ يُخْلِف اللَّه وَعْده» ۱؎ [22-الحج:47] ‏‏‏‏ ’ یاد رکھو اللہ کا وعدہ اٹل ہے قیامت اور عذاب آ کر ہی رہیں گے ‘۔ اولیاء اللہ کی عزت اور اعداء اللہ کی ذلت یقینی اور ہو کر رہنے والی ہے۔ اصمعی کہتے ہیں میں ابوعمرو بن علا کے پاس تھا کہ عمرو بن عبید آیا اور کہنے لگا کہ اے ابوعمرو! کیا اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا ”نہیں“، اس نے اسی وقت عذاب کی ایک آیت تلاوت کی اس پر آپ نے فرمایا کیا تو عجمی ہے؟ سن عرب میں «الْوَعْد» کا یعنی اچھی بات سے وعدہ خلافی کو برا فعل سمجھا جاتا ہے لیکن «الْإِيعَاد» کا یعنی سزا کے احکام کا ردو بدل یا معافی بری نہیں سمجھی جاتی بلکہ وہ کرم ورحم سمجھا جاتا ہے دیکھو شاعر کہتا ہے۔ «فَإِنِّي وَإِنْ أَوْعَدْته أَوْ وَعَدْته» «لَمُخْلِف إِيعَادِي وَمُنْجِز مَوْعِدِي» میں کسی کو سزا کہوں یا اس سے انعام کا وعدہ کروں۔ تو یہ تو ہوسکتا ہے کہ میں اپنی دھمکی کے خلاف کر جاؤں بلکہ قطعا ہرگز سزا نہ دوں لیکن اپنا وعدہ تو ضرور پورا کر کے ہی رہوں گا۔ الغرض سزا کا وعدہ کر کے سزا نہ کرنا یہ وعدہ خلافی نہیں۔ لیکن رحمت انعام کا وعدہ کر کے پھر روک لینا یہ بری صفت ہے جس سے اللہ کی ذات پاک ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ایک ایک دن اللہ کے نزدیک تمہارے ہزار ہزار دنوں کے برابر ہے یہ بہ اعتبار اس کے حلم اور بردباری کے ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ وہ ہر وقت ان کی گرفت پر قادر ہے اس لیے عجلت کیا ہے؟ ‘ گو کتنی ہی سے مہلت مل جائے، گو کتنی ہی سے رسی دراز ہو جائے لیکن جب چاہے گا سانس لینے کی بھی مہلت نہ دے گا اور پکڑ لے گا۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمان ہوتا ہے ’ بہت سی بستیوں کے لوگ ظلم پر کمر کسے ہوئے تھے، میں نے بھی چشم پوشی کر رکھی تھی۔ جب مست ہو گئے تو اچانک گرفت کر لی، سب مجبور ہیں سب کو میرے ہی سامنے حاضر ہونا ہے، سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے ‘۔ ترمذی وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فقراء مسلمان مالدار مسلمانوں سے آدھا دن پہلے جنت میں جائیں گے یعنی پانچ سو برس پہلے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2353،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏‏‏‏

اور روایت میں ہے { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا آدھے دن کی مقدار کیا ہے؟ فرمایا کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا؟ میں نے کہا ہاں! تو یہی آیت «وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ» سنائی۔ یعنی ’ اللہ کے ہاں ایک دن ایک ہزار سال کا ہے ‘ }۔ ابوداؤد کی کتاب الملاحم کے آخر میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ وہ میری امت کو آدھے دن تک تو ضرور مؤخر رکھے گا }۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا آدھا دن کتنے عرصے کا ہوگا؟ آپ نے فرمایا پانچ سو سال کا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4350،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت «وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ» کو پڑھ کر فرمانے لگے یہ ان دنوں میں سے جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ [ ابن جریر ] ‏‏‏‏

بلکہ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے کتاب «الرد علی الجمیه» میں اس بات کو کھلے لفظ میں بیان کیا ہے۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ آیت مثل آیت «يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗٓ اَلْفَ سَـنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» ۱؎ [32-السجدة:5] ‏‏‏‏ کے ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ کام کی تدبیر آسمان سے زمین کی طرف کرتا ہے، پھر اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔ ایک ہی دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہے ‘۔ امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ ایک نو مسلم اہل کتاب سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین چھ دن میں پیدا کیا اور ایک دن تیرے رب کے نزدیک مثل ایک ہزار سال کے ہے جو گنتے ہو۔ اللہ نے دنیا کی اجل چھ دن کی کی ہے ساتویں دن قیامت ہے اور ایک ایک دن مثل ہزار ہزار سال کے ہے پس چھ دن تو گزر گئے اور اب تم ساتویں دن میں ہو اب تو بالکل اس حاملہ کی طرح ہے جو پورے دنوں میں ہو اور نہ جانے کب بچہ ہو جائے۔
47۔ 1 اس لئے یہ لوگ تو اپنے حساب سے جلدی کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے حساب میں ایک دن بھی ہزار سال کا ہے اس اعتبار سے وہ اگر کسی کو ایک دن (24 گھنٹے) کی مہلت دے تو ہزار سال، نصف یوم کی مہلت تو پانچ سو سال، 6 گھنٹے (جو 24 گھنٹے کا چوتھائی ہے) مہلت دے تو ڈھائی سو سال کا عرصہ عذاب کے لئے درکار ہے، اس طرح اللہ کی طرف سے کسی کو ایک گھنٹے کی مہلت مل جانے کا مطلب کم و بیش چالیس سال کی مہلت ہے (ایسر التفاسیر) ایک دوسرے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی قدرت میں ایک دن اور ہزار سال برابر ہیں اس لیے تقدیم و تاخیر سے کوئی فرق نہیں پڑتا یہ جلدی مانگتے ہیں وہ دیر کرتا ہے تاہم یہ بات تو یقینی ہے کہ وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرکے رہے گا اور بعض نے اسے آخرت پر محمول کیا ہے کہ شدت ہولناکی کی وجہ سے قیامت کا ایک دن ہزار سال بلکہ بعض کو پچاس ہزار سال کا لگے گا اور بعض نے کہا کہ آخرت کا دن واقعی ہزار سال کا ہوگا۔
(آیت 47) ➊ {وَ يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ:} مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جلد از جلد عذاب لانے کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔ اس مطالبے سے ان کا مقصد عذاب آنے کا انکار اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانا، آپ کا مذاق اڑانا اور آپ کو لاجواب کرنا تھا۔ قرآن مجید نے ان کے اس مطالبے کا کئی جگہ ذکر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [ الأنبیاء: ۳۸ ] ”اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ» [ العنکبوت: ۵۳ ] ”اور وہ تجھ سے جلدی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو ان پر عذاب ضرور آ جاتا۔“ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ سے براہ ِراست عذاب کی دعا سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے: «‏‏‏‏وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ» [ صٓ: ۱۶ ] ”اور انھوں نے کہا اے ہمارے رب!ہمیں ہمارا حصہ یوم حساب سے پہلے جلد ی دے دے۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» ‏‏‏‏ [ الأنفال: ۳۲ ] ”اور جب انھوں نے کہا اے اللہ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔“ ➋ { وَ لَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ:} مشرکین جس یقین کے ساتھ عذاب نازل ہونے کو جھٹلاتے تھے اسی تاکید کے ساتھ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف ہر گز نہیں کرے گا، جو اس نے فرمایا ہے ہو کر رہے گا، مگر اس وقت پر جو اس نے مقرر فرمایا ہے۔ ➌ { وَ اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ …:} یعنی رب تعالیٰ تمھاری طرح تنگ ظرف اور جلد باز نہیں بلکہ بے حد حلیم اور وسعت والا ہے۔ اس کی دی ہوئی تھوڑی سی مہلت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے، تمھارا ایک ہزار سال اس کے نزدیک صرف ایک دن ہے، وہ اتنا حلیم ہے کہ آدھے دن کی مہلت دے تو وہ بھی پانچ سو برس ہو گی اور ایک گھنٹہ کی مہلت دے تو چالیس برس سے زیادہ ہو گی۔ اس کے حلم کی وجہ یہ ہے کہ وہ انتقام پر قادر ہے، کوئی چیز اس کی گرفت سے نکل نہیں سکتی، خواہ وہ کتنی مہلت دے یا رسی دراز کرے۔
وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَمۡلَیۡتُ لَہَا وَ ہِیَ ظَالِمَۃٌ ثُمَّ اَخَذۡتُہَا ۚ وَ اِلَیَّ الۡمَصِیۡرُ ﴿٪۴۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کتنی ہی بستیاں ہیں جو ظالم تھیں، میں نے ان کو پہلے مہلت دی، پھر پکڑ لیا اور سب کو واپس تو میرے پاس ہی آنا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بہت سی ﻇلم کرنے والی بستیوں کو میں نے ڈھیل دی پھر آخر انہیں پکڑ لیا، اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کتنی بستیاں کہ ہم نے ان کو ڈھیل دی اس حال پر کہ وہ ستمگار تھیں پھر میں نے انہیں پکڑا اور میری ہی طرف پلٹ کر آتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جن کو میں نے مہلت دی۔ حالانکہ وہ ظالم تھیں۔ پھر میں نے انہیں پکڑ لیا اور (آخرکار) میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں میں نے مہلت دی، اس حال میں کہ وہ ظالم تھیں، پھر میں نے انھیں پکڑ لیا اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذرا صبر ، عذاب کا شوق پورا ہو گا ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے فرما رہا ہے کہ ’ یہ ملحد کفار اللہ کو اس کے رسول کو اور قیامت کے دن کو جھٹلانے والے تجھ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی کر رہے ہیں کہ جلد ان عذابوں کو کیوں نہیں برپا کر دیا جاتا جن سے ہمیں ہر وقت ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے ‘۔ چنانچہ وہ اللہ سے بھی کہتے تھے کہ «وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» ۱؎ [8-الأنفال:32] ‏‏‏‏ ’ الٰہی اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے سنگ باری کر یا اور کسی طرح کا درد ناک عذاب بھیج ‘۔ کہتے تھے کہ «وَقَالُوا رَبّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطّنَا قَبْل يَوْم الْحِسَاب» ۱؎ [38-ص:16] ‏‏‏‏ ’ حساب کے دن سے پہلے ہی ہمارا معاملہ صاف کر دے ‘۔ اللہ فرماتا ہے «وَلَنْ يُخْلِف اللَّه وَعْده» ۱؎ [22-الحج:47] ‏‏‏‏ ’ یاد رکھو اللہ کا وعدہ اٹل ہے قیامت اور عذاب آ کر ہی رہیں گے ‘۔ اولیاء اللہ کی عزت اور اعداء اللہ کی ذلت یقینی اور ہو کر رہنے والی ہے۔ اصمعی کہتے ہیں میں ابوعمرو بن علا کے پاس تھا کہ عمرو بن عبید آیا اور کہنے لگا کہ اے ابوعمرو! کیا اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا ”نہیں“، اس نے اسی وقت عذاب کی ایک آیت تلاوت کی اس پر آپ نے فرمایا کیا تو عجمی ہے؟ سن عرب میں «الْوَعْد» کا یعنی اچھی بات سے وعدہ خلافی کو برا فعل سمجھا جاتا ہے لیکن «الْإِيعَاد» کا یعنی سزا کے احکام کا ردو بدل یا معافی بری نہیں سمجھی جاتی بلکہ وہ کرم ورحم سمجھا جاتا ہے دیکھو شاعر کہتا ہے۔ «فَإِنِّي وَإِنْ أَوْعَدْته أَوْ وَعَدْته» «لَمُخْلِف إِيعَادِي وَمُنْجِز مَوْعِدِي» میں کسی کو سزا کہوں یا اس سے انعام کا وعدہ کروں۔ تو یہ تو ہوسکتا ہے کہ میں اپنی دھمکی کے خلاف کر جاؤں بلکہ قطعا ہرگز سزا نہ دوں لیکن اپنا وعدہ تو ضرور پورا کر کے ہی رہوں گا۔ الغرض سزا کا وعدہ کر کے سزا نہ کرنا یہ وعدہ خلافی نہیں۔ لیکن رحمت انعام کا وعدہ کر کے پھر روک لینا یہ بری صفت ہے جس سے اللہ کی ذات پاک ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ایک ایک دن اللہ کے نزدیک تمہارے ہزار ہزار دنوں کے برابر ہے یہ بہ اعتبار اس کے حلم اور بردباری کے ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ وہ ہر وقت ان کی گرفت پر قادر ہے اس لیے عجلت کیا ہے؟ ‘ گو کتنی ہی سے مہلت مل جائے، گو کتنی ہی سے رسی دراز ہو جائے لیکن جب چاہے گا سانس لینے کی بھی مہلت نہ دے گا اور پکڑ لے گا۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمان ہوتا ہے ’ بہت سی بستیوں کے لوگ ظلم پر کمر کسے ہوئے تھے، میں نے بھی چشم پوشی کر رکھی تھی۔ جب مست ہو گئے تو اچانک گرفت کر لی، سب مجبور ہیں سب کو میرے ہی سامنے حاضر ہونا ہے، سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے ‘۔ ترمذی وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فقراء مسلمان مالدار مسلمانوں سے آدھا دن پہلے جنت میں جائیں گے یعنی پانچ سو برس پہلے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2353،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏‏‏‏

اور روایت میں ہے { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا آدھے دن کی مقدار کیا ہے؟ فرمایا کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا؟ میں نے کہا ہاں! تو یہی آیت «وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ» سنائی۔ یعنی ’ اللہ کے ہاں ایک دن ایک ہزار سال کا ہے ‘ }۔ ابوداؤد کی کتاب الملاحم کے آخر میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ وہ میری امت کو آدھے دن تک تو ضرور مؤخر رکھے گا }۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا آدھا دن کتنے عرصے کا ہوگا؟ آپ نے فرمایا پانچ سو سال کا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4350،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت «وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ» کو پڑھ کر فرمانے لگے یہ ان دنوں میں سے جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ [ ابن جریر ] ‏‏‏‏

بلکہ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے کتاب «الرد علی الجمیه» میں اس بات کو کھلے لفظ میں بیان کیا ہے۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ آیت مثل آیت «يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗٓ اَلْفَ سَـنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» ۱؎ [32-السجدة:5] ‏‏‏‏ کے ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ کام کی تدبیر آسمان سے زمین کی طرف کرتا ہے، پھر اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔ ایک ہی دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہے ‘۔ امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ ایک نو مسلم اہل کتاب سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین چھ دن میں پیدا کیا اور ایک دن تیرے رب کے نزدیک مثل ایک ہزار سال کے ہے جو گنتے ہو۔ اللہ نے دنیا کی اجل چھ دن کی کی ہے ساتویں دن قیامت ہے اور ایک ایک دن مثل ہزار ہزار سال کے ہے پس چھ دن تو گزر گئے اور اب تم ساتویں دن میں ہو اب تو بالکل اس حاملہ کی طرح ہے جو پورے دنوں میں ہو اور نہ جانے کب بچہ ہو جائے۔
48۔ 1 اسی لئے یہاں قانون مہلت کو پھر بیان کیا ہے کہ میری طرف سے عذاب میں کتنی ہی تاخیر کیوں نہ ہوجائے، تاہم میری گرفت سے کوئی بچ نہیں سکتا، نہ کہیں فرار ہوسکتا ہے۔ اسے لوٹ کر بالآخر میرے ہی پاس آنا ہے۔
(آیت 48) ➊ {وَ كَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا …:} اس آیت میں قانون مہلت کو دہرایا ہے کہ میں نے کتنی ہی بستیوں کو ان کے ظلم کے باوجود تمھاری طرح مہلت دی، پھر میں نے انھیں پکڑ لیا۔ ➋ { وَ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ:} یعنی اگر کسی ظالم قوم پر عذاب آنے میں دیر ہوئی، یا دنیا میں سرے سے اس پر عذاب آیا ہی نہیں تو بھی وہ ہماری گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتے، ہر حال میں انھیں ہماری ہی طرف آنا ہے، وہاں سب وعدے پورے ہوں گے۔
قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَکُمۡ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۚ۴۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے محمدؐ، کہہ دو کہ "لوگو، میں تو تمہارے لیے صرف وہ شخص ہوں جو (برا وقت آنے سے پہلے) صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اعلان کر دو کہ لوگو! میں تمہیں کھلم کھلا چوکنا کرنے واﻻ ہی ہوں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرمادو کہ اے لوگو! میں تو یہی تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) آپ کہہ دیجئے! اے لوگو! میں تو صرف تمہیں ایک کھلا ہوا (عذاب خدا سے) ڈرانے والا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اے لوگو! میں تو بس تمھارے لیے کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اطاعت الٰہی سے روکنے والوں کا حشر ٭٭

چونکہ کفار عذاب مانگا کرتے تھے اور ان کی جلدی مچاتے رہتے تھے ان کے جواب میں اعلان کرایا جا رہا ہے کہ ’ لوگو! میں تو اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ تمہیں رب کے عذابوں سے جو تمہارے آگے ہیں چوکنا کر دوں، تمہارا حساب میرے ذمے نہیں۔ عذاب اللہ کے بس میں ہے چاہے اب لائے چاہے دیر سے لائے۔ مجھے کیا معلوم کہ تم میں کس کی قسمت میں ہدایت ہے اور کون اللہ کی رحمت سے محروم رہنے والا ہے چاہت اللہ کی ہی پوری ہونی ہے حکومت اسی کے ہاتھ ہے مختار اور کرتا دھرتا وہی ہے «لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ» ۱؎ [13-الرعد:41] ‏‏‏‏ ’ کسی کو اس کے سامنے چوں چرا کی مجال نہیں وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے ‘۔ میری حیثیت تو صرف ایک آگاہ کرنے والے کی ہے ‘۔ جن کے دلوں میں یقین و ایمان ہے اور اس کی شہادت ان کے اعمال سے بھی ثابت ہے۔ ان کے کل گناہ معافی کے لائق ہیں اور ان کی کل نیکیاں قدردانی کے قابل ہیں۔ رزق کریم سے مراد جنت ہے۔ جو لوگ اوروں کو بھی اللہ کی راہ سے اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روکتے ہیں وہ جہنمی ہیں، سخت عذابوں اور تیز آگ کے ایندھن ہیں، اللہ ہمیں بچائے۔ اور آیت میں ہے کہ «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88] ‏‏‏‏ ’ ایسے کفار کو ان کے فساد کے بدلے عذاب پر عذاب ہیں ‘۔
49۔ 1 یہ کفار و مشرکین کے مطالبہ پر کہا جا رہا ہے کہ میرا کام تو عذاب بھیجنا، یہ اللہ کا کام ہے، وہ جلدی گرفت فرما لے یا اس میں تاخیر کرے، وہ اپنی حسب و مشیت و مصلحت یہ کام کرتا ہے۔ جس کا علم بھی اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ اس خطاب کے اصل مخاطب اگرچہ اہل مکہ ہیں۔ لیکن چونکہ آپ پوری نوح انسانی کے لئے رہبر اور رسول بن کر آئے تھے، اس لئے خطاب یَا اَیُّھَا لنَّاسُ! کے الفاظ سے کیا گیا، اس میں قیامت تک ہونے والے وہ کفار و مشرکین آگئے جو اہل مکہ کا سا رویہ اختیار کریں گے۔
(آیت 49) ➊ { قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ:} اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ یہ لوگ آپ سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ایک جواب تو اپنا قانونِ مہلت ذکر فرمایا، یہ آیت دوسرا جواب ہے۔ فرمایا، ان سے کہہ دیجیے کہ میں تو صرف تمھیں ڈرانے والا ہوں، میرا کام کفر کے برے انجام سے خبردار اور آگاہ کرنا ہے، عذاب جلدی لانا یا دیر سے لانا میرا کام نہیں، یہ مجھے بھیجنے والے کا کام ہے۔ میں صرف پیغام پہنچانے والا ہوں، خود اللہ نہیں ہوں۔ ➋ { يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ:} یعنی تمام دنیا کے لوگوں کو پیغام پہنچا دو خواہ کسی قوم یا ملک سے تعلق رکھتے ہوں، خواہ قیامت تک کسی زمانے کے لوگ ہوں۔ دیکھیے سورۂ سبا (۲۸)۔ ➌ { نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ:} یعنی میں تمھیں ڈرانے والا (اور بشارت دینے والا) ہوں، تمھیں کھول کر ہر وہ چیز بتاتا ہوں جو تمھارے لیے نقصان دہ ہے، تاکہ تم اس سے بچ جاؤ اور ہر وہ چیز بتاتا ہوں جو تمھارے فائدے کی ہے، تاکہ تم اسے اختیار کر لو۔ یہاں {”نَذِيْرٌ “} کے ساتھ {” بَشِيْرٌ “} بھی ہے مگر الفاظ میں اسے حذف کر دیا گیا ہے، کیونکہ مقام اس عذاب سے ڈرانے کا ہے جسے وہ جلدی مانگ رہے ہیں۔ یہاں {” بَشِيْرٌ “} کو الگ اس لیے ذکر نہیں فرمایا کہ ہر نذیر بشیر بھی ہوتا ہے، کیونکہ اس کی خبردار کر دہ چیزوں سے بچنے کا نتیجہ خوشی کی خبر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ {” نَذِيْرٌ “} کے ضمن میں {” بَشِيْرٌ “} کے تذکرے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد پہلی آیت میں بشارت ہے اور دوسری میں نذارت۔ (بقاعی)
فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۵۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے اُن کے لیے مغفرت ہے اور عزّت کی روزی
مولانا محمد جوناگڑھی
پس جو ایمان ﻻئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان ہی کے لئے بخشش ہے اور عزت والی روزی
احمد رضا خان بریلوی
تو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی
علامہ محمد حسین نجفی
سنو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کیلئے (گناہوں کی) بخشش بھی ہے اور عزت کی روزی بھی۔
عبدالسلام بن محمد
تو وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے عظیم بخشش اور باعزت رزق ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اطاعت الٰہی سے روکنے والوں کا حشر ٭٭

چونکہ کفار عذاب مانگا کرتے تھے اور ان کی جلدی مچاتے رہتے تھے ان کے جواب میں اعلان کرایا جا رہا ہے کہ ’ لوگو! میں تو اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ تمہیں رب کے عذابوں سے جو تمہارے آگے ہیں چوکنا کر دوں، تمہارا حساب میرے ذمے نہیں۔ عذاب اللہ کے بس میں ہے چاہے اب لائے چاہے دیر سے لائے۔ مجھے کیا معلوم کہ تم میں کس کی قسمت میں ہدایت ہے اور کون اللہ کی رحمت سے محروم رہنے والا ہے چاہت اللہ کی ہی پوری ہونی ہے حکومت اسی کے ہاتھ ہے مختار اور کرتا دھرتا وہی ہے «لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ» ۱؎ [13-الرعد:41] ‏‏‏‏ ’ کسی کو اس کے سامنے چوں چرا کی مجال نہیں وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے ‘۔ میری حیثیت تو صرف ایک آگاہ کرنے والے کی ہے ‘۔ جن کے دلوں میں یقین و ایمان ہے اور اس کی شہادت ان کے اعمال سے بھی ثابت ہے۔ ان کے کل گناہ معافی کے لائق ہیں اور ان کی کل نیکیاں قدردانی کے قابل ہیں۔ رزق کریم سے مراد جنت ہے۔ جو لوگ اوروں کو بھی اللہ کی راہ سے اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روکتے ہیں وہ جہنمی ہیں، سخت عذابوں اور تیز آگ کے ایندھن ہیں، اللہ ہمیں بچائے۔ اور آیت میں ہے کہ «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88] ‏‏‏‏ ’ ایسے کفار کو ان کے فساد کے بدلے عذاب پر عذاب ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 50) ➊ {فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ:} یہ بشارت کی آیت ہے۔ {” مَغْفِرَةٌ “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ عظیم بخشش کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایمان میں دل سے تصدیق، زبان سے اقرار اور اعضاء سے عمل تینوں چیزیں شامل ہیں، مگر اعمال صالحہ کا الگ ذکر خاص طور پر تاکید کے لیے فرمایا، کیونکہ اس میں عموماً کوتاہی ہوتی ہے۔ ➋ {لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِيْمٌ:} اس سلسلۂ کلام کا آغاز قتال کے اذن سے ہوا ہے، اس وقت مسلمان کفار کے ظلم و ستم کی وجہ سے گھروں سے بے گھر تھے اور مالی طور پر بھی نہایت تنگی کی حالت میں تھے، اس لیے انھیں بشارت دینے کا حکم ہوا کہ ایمان اور عمل صالح کے حامل مجاہد افراد کے لیے عظیم بخشش بھی ہے اور باعزت رزق بھی۔ باعزت رزق سے مراد دنیا میں مال غنیمت اور آخرت میں جنت ہے کہ دونوں میں اللہ کے سوا کسی کے احسان کا بار نہیں ہے۔