بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحج — Surah Hajj
آیت نمبر 8
کل آیات: 78
قرآن کریم الحج آیت 8
آیت نمبر: 8 — سورۃ الحج islamicurdubooks.com ↗
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ وَّ لَا ہُدًی وَّ لَا کِتٰبٍ مُّنِیۡرٍ ۙ﴿۸﴾
بعض اور لوگ ایسے ہیں جو کسی علم اور ہدایت اور روشنی بخشنے والی کتاب کے بغیر، گردن اکڑائے ہوئے
بعض لوگ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے جھگڑتے ہیں
اور کوئی آدمی وہ ہے کہ اللہ کے بارے میں یوں جھگڑتا ہے کہ نہ تو علم نہ کوئی دلیل اور نہ کوئی روشن نوشتہ (تحریر)
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم کے، بغیر کسی راہنمائی کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے کج بحثی کرتے ہیں۔
اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم کے اور بغیر کسی ہدایت کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے جھگڑا کرتا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

گمراہ جاہل مقلد لوگ ٭٭

چونکہ اوپر کی آیتوں میں گمراہ جاہل مقلدوں کا حال بیان فرمایا تھا یہاں ان کے مرشدوں اور پیروں کا حال بیان فرما رہے ہیں کہ ’ وہ بےعقلی اور بے دلیلی سے صرف رائے قیاس اور خواہش نفسانی سے اللہ کے بارے میں کلام کرتے رہتے ہیں، حق سے اعراض کرتے ہیں، تکبر سے گردن پھیرلیتے ہیں، حق کو قبول کرنے سے بےپراوہی کے ساتھ انکار کرجاتے ہیں جیسے فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام کے کھلے معجزوں کو دیکھ کر بھی بےپراوہی کی اور نہ مانے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا» ۱؎ [4-النساء:61] ‏‏‏‏ ’ جب ان سے اللہ کی وحی کی تابعداری کو کہا جاتا ہے اور رسول اللہ کے فرمان کی طرف بلایا جاتا ہے تو تو دیکھے گا کہ اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ منافق تجھ سے دور چلے جایا کرتے ہیں ‘۔ سورۃ المنافقون میں ارشاد ہوا کہ «وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّـهِ لَوَّوْا رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:5] ‏‏‏‏ ’ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اور اپنے لیے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کرواؤ تو وہ اپنے سرگھما کر گھمنڈ میں آ کر بے نیاز ی سے انکار کرجاتے ہیں ‘۔ لقمان رحمہ اللہ نے اپنے صاحبزادے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا آیت «وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ للنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ» ۱؎ [31-لقمان:18] ‏‏‏‏ ’ لوگوں سے اپنے رخسار نہ پھلادیا کر یعنی اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر ان سے تکبر نہ کر ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا وَلَّىٰ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِي أُذُنَيْهِ وَقْرًا فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» ۱؎ [31-لقمان:7] ‏‏‏‏ ’ ہماری آیتیں سن کر یہ تکبر سے منہ پھیرلیتا ہے ‘۔ «لِيُضِلَّ» کا لام یہ تو لام عاقبت ہے یا لام تعلیل ہے اس لیے کہ بسا اوقات اس کا مقصود دوسروں کو گمراہ کرنا نہیں ہوتا اور ممکن ہے کہ اس سے مراد معاند اور انکار ہی ہو اور ہوسکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ ہم نے اسے ایسا بداخلاق اس لیے بنا دیا ہے کہ یہ گمراہوں کا سردار بن جائے۔ اس کے لیے دنیا میں بھی ذلت وخواری ہے جو اس کے تکبر کا بدلہ۔ یہ یہاں تکبر کر کے بڑا بننا چاہتا تھا ہم اسے اور چھوٹا کر دیں گے یہاں بھی اپنی چاہت میں ناکام اور بے مراد رہے گا۔ اور آخرت کے دن بھی جہنم کی آگ کا لقمہ ہو گا۔ اسے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے کا کہ ’ یہ تیرے اعمال کا نتیجہ ہے اللہ کی ذات ظلم سے پاک ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَاءِ الْجَحِيمِ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَ‌أْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِ‌يمُ إِنَّ هَـٰذَا مَا كُنتُم بِهِ تَمْتَرُ‌ونَ» [44-الدخان:47-50] ‏‏‏‏ ’ فرشتوں سے کہا جائے گا کہ اسے پکڑ لو اور گھسیٹ کر جہنم میں لے جاؤ اور اس کے سر پر آگ جیسے پانی کی دھار بہاؤ۔ لے اب اپنی عزت اور تکبر کا بدلہ لیتا جا۔ یہی وہ ہے جس سے عمربھر شک شبہ میں رہا ‘۔ حسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ { ایک دن میں وہ ستر ستر مرتبہ آگ میں جل کر بھرتا ہو جائے گا۔ پھر زندہ کیا جائے گا پھر جلایا جائے گا }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ «اعاذنا الله» ۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 9،8) ➊ { وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ …:} یہاں ایک سوال ہے کہ یہی الفاظ اس سے پہلے آیت (۳) میں گزرے ہیں، پھر انھیں دوبارہ لانے میں کیا حکمت ہے؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ وہاں قیامت کے قیام پر اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے متعلق ان کج بحث جھگڑالوؤں کا ذکر ہے جو علم سے سراسر عاری اور محض مقلد ہیں اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چلتے ہیں۔ جبکہ یہاں ان جھگڑالوؤں کا ذکر ہے جو گمراہی کے پیشوا ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں، دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ جس طرح پہلی آیت: {” وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ “} میں واؤ سے پہلے کچھ لوگوں کا ذکر محذوف ہے (آیت: ۳ کی تفسیر ایک بار پھر دیکھ لیں) اسی طرح موقع کی مناسبت سے یہاں بھی {” وَ مِنَ النَّاسِ “} کی واؤ سے پہلے کچھ لوگوں کا ذکر محذوف ہے، یعنی جو لوگ انسان کی پیدائش اور مردہ زمین کو زندہ کرنے کے دلائل سے پہلے قیامت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان نہیں لا رہے تھے ان قطعی دلائل کے بعد ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو ایمان لے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہٹ دھرم اور عقل و شعور سے عاری ہیں جو کسی بھی دلیل کے بغیر محض تکبر کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ خود ایمان نہیں لاتے، بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ ➋ { بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى …:} علم سے مراد بدیہی اور فطری دلیل ہے جو کسی غوروفکر کے بغیر ہر ایک کی سمجھ میں آتی ہے۔ {”هُدًى “ } سے مراد غور و فکر اور نظر و استدلال سے حاصل ہونے والی عقلی دلیل ہے اور {” كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ “} سے مراد آسمان سے نازل ہونے والی کتابوں میں صحیح ثابت ہونے والی کوئی دلیل نقلی ہے۔ یعنی اس کے پاس قیامت کے انکار یا اللہ تعالیٰ کے وجود یا اس کی قدرت کے انکار کی کوئی فطری دلیل ہے نہ عقلی اور نہ نقلی۔ اس کے جھگڑے کا باعث صرف تکبر ہے۔ ➌ { ثَانِيَ عِطْفِهٖ: ”ثَنٰي يَثْنِيْ ثَنْيًا“} بروزن {”لَوَي يَلْوِيْ لَيًّا“} (ض)موڑنے کے معنی میں آتا ہے۔ {” ثَنٰي عِنَانَ فَرَسِهِ“} اس نے اپنے گھوڑے کی باگ موڑی۔ جھکانے کے معنی میں بھی آتا ہے: «‏‏‏‏اَلَاۤ اِنَّهُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ» ‏‏‏‏ [ ھود: ۵ ] ”سن لو! بلاشبہ وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں۔“ {”عِطْفٌ“ } کا معنی کندھا بھی ہے اور پہلو بھی۔ یہ اس کے تکبر کی تصویر ہے کہ وہ کس طرح پہلو موڑتے ہوئے اور گردن کشی کرتے ہوئے حق سے اعراض کرتا ہے۔ ➍ {لَهٗ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ:} مراد مسلمانوں کے ہاتھوں قتل، شکست، اسیری یا محکومی ہے، جیسا کہ بدر، احد، خندق، فتح خیبر، فتح مکہ اور فتح طائف اور دوسری بے شمار جنگوں میں ہوا۔ مزید ذلت و رسوائی یہ کہ مال و اولاد کی فراوانی کے باوجود {” مَعِيْشَةً ضَنْكًا “} (طٰہٰ: ۱۲۴) اور اموال و اولاد کے ذریعے سے مسلسل عذاب ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۵۵) جو دنیا میں کفار کا اور حق تعالیٰ کی یاد سے منہ موڑنے والے ہر شخص کا مقدر ہے۔
← پچھلی آیت (7) پوری سورۃ اگلی آیت (9) →