بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحج — Surah Hajj
آیت نمبر 17
کل آیات: 78
قرآن کریم الحج آیت 17
آیت نمبر: 17 — سورۃ الحج islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ الصّٰبِئِیۡنَ وَ النَّصٰرٰی وَ الۡمَجُوۡسَ وَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا ٭ۖ اِنَّ اللّٰہَ یَفۡصِلُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۱۷﴾
جو لوگ ایمان لائے، اور جو یہودی ہوئے، اور صابئی، اور نصاریٰ، اور مجوس، اور جن لوگوں نے شرک کیا، ان سب کے درمیان اللہ قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا، ہر چیز اللہ کی نظر میں ہے
بیشک اہل ایمان اور یہودی اور صابی اور نصرانی اور مجوسی اور مشرکین ان سب کے درمیان قیامت کے دن خود اللہ تعالیٰ فیصلے کر دے گا، اللہ تعالیٰ ہر ہر چیز پر گواه ہے
بیشک مسلمان اور یہودی اور ستارہ پرست اور نصرانی اور آتش پرست اور مشرک، بیشک اللہ ان سب میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،
بےشک جو اہلِ ایمان ہیں، جو یہودی ہیں، جو صابی ہیں، جو عیسائی ہیں، جو مجوسی ہیں اور جو مشرک ہیں یقیناً قیامت کے دن اللہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جو یہودی بنے اور صابی اور نصاریٰ اور مجوس اور وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا یقینا اللہ ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا۔ بے شک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مختلف مذہبوں کا فیصلہ روز قیامت ہو گا ٭٭

«صَّابِئِينَ» کا بیان مع اختلاف سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے یہاں فرماتا ہے کہ ’ ان مختلف مذہب والوں کا فیصلہ قیامت کے دن صاف ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو جنت دے گا اور کفار کو جہنم واصل کرے گا۔ سب کے اقوال وافعال ظاہر وباطن اللہ پر عیاں ہیں ‘۔

📖 احسن البیان

17۔ 1 مجوسی سے مراد ایران کے آتش پرست ہیں جو دو خداؤں کے قائل ہیں، ایک ظلمت کا خالق ہے، دوسرا نور کا، جسے وہ اہرمن اور یزداں کہتے ہیں۔ 17۔ 2 ان میں مذکورہ گمراہ فرقوں کے علاوہ جتنے بھی اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرنے والے ہیں، سب آگئے۔ 17۔ 3 ان میں سے حق پر کون ہے، باطل پر کون، یہ تو ان دلائل سے واضح ہوجاتا ہے جو اللہ اپنے قرآن میں نازل فرماتے ہیں اور اپنے آخری پیغمبر کو بھی اسی مقصد کے لئے بھیجا تھا، یہاں فیصلے سے مراد وہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ باطل پرستوں کو قیامت والے دن دے گا، اس سزا سے بھی واضح ہوجائے گا کہ دنیا میں حق پر کون تھا اور باطل پر کون کون۔ 17۔ 4 یہ فیصلہ محض حاکمانہ اختیارات کے زور پر نہیں ہوگا، بلکہ عدل و انصاف کے مطابق ہوگا، کیونکہ وہ باخبر ہستی ہے، اسے ہر چیز کا علم ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 17) ➊ { اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِيْنَ هَادُوْا …:} گزشتہ آیات میں ایمان والوں کے علاوہ مختلف لوگوں کا ذکر ہوا، کچھ قیامت کے منکر، کچھ کنارے پر رہ کر عبادت کرنے والے، کچھ اللہ کے ساتھ شریک بنانے والے وغیرہ۔ اس پر سوال پیدا ہوا کہ اتنے مختلف عقائد کے لوگ جو اپنی اپنی بات پر اس قدر پختہ ہیں کہ واضح دلائل کے باوجود اپنی بات نہیں چھوڑتے، آخر کبھی ان کے جھگڑے کا فیصلہ بھی ہو گا؟ فرمایا، ان کے جھگڑے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے دن فرمائے گا، جب مومن جنت اور کافر جہنم میں جائیں گے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا میں ان کے حق یا باطل پر ہونے کا فیصلہ نہیں ہوا۔ یقینا ہوا ہے اور قرآن مجید کا نام فرقان اسی لیے ہے۔ یہ کلام ایسے ہی ہے جیسے بحث ختم کرنے کے لیے بات اللہ کے سپر دکر دی جاتی ہے، حالانکہ بات کرنے والے کو اپنے سچا ہونے کا اور فریق مخالف کے خطا پر ہونے کا یقین ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ اَللّٰهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا وَ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ }» [ الشورٰی: ۱۵ ] ”ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔ ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں، اللہ ہمیں آپس میں جمع کرے گا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“ ➋ مومنین، یہود، نصاریٰ اور صابئین کا بیان سورۂ بقرہ (۶۲) میں گزر چکا ہے، وہاں ملاحظہ فرمائیں، یہاں مجوس اور مشرکین کا مزید ذکر ہے۔ مجوس سے مراد آتش پرست ہیں جو دو خالق مانتے ہیں، ایک خالق خیر (یزدان) اور ایک خالق شر (اہرمن) یہ لوگ اپنے آپ کو زرتشت کا پیرو کہتے ہیں اور کسی نبی کا نام بھی لیتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ لوگ بعد میں گمراہ ہوئے یا شروع ہی سے غلط تھے۔ مزدک نے ان کے مذہب اور اخلاق کو بری طرح مسخ کرکے رکھ دیا، حتیٰ کہ حقیقی بہن سے نکاح بھی ان کے ہاں جائز قرار دیا گیا۔ {” وَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْۤا “} (وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا) سے مراد عرب اور دوسرے ملکوں کے وہ مشرک ہیں جنھوں نے مندرجہ بالا گروہوں میں سے کسی کا نام اختیار نہیں کیا تھا، مثلاً گائے اور بتوں کے پجاری ہندو۔ قرآن مجید انھیں مشرکین اور {” وَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْۤا “} کے نام سے ذکر کرتا ہے، اگرچہ موحد مسلمانوں کے سوا مندرجہ بالا سب مذاہب میں شرک کی کوئی نہ کوئی قسم ضرور پائی جاتی ہے۔ ➌ { اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ:} یعنی ان تمام گروہوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کا فیصلہ حاکمانہ اختیار کی وجہ سے اندھا فیصلہ نہیں ہو گا، بلکہ عین عدل و انصاف ہو گا، کیونکہ ہر چیز اس کے سامنے ہے، وہ ہر چیز پر گواہ ہے اور ہر ایک کو اس کے عمل کے عین مطابق جزا یا سزا دے گا۔
← پچھلی آیت (16) پوری سورۃ اگلی آیت (18) →