بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحج — Surah Hajj
آیت نمبر 45
کل آیات: 78
قرآن کریم الحج آیت 45
آیت نمبر: 45 — سورۃ الحج islamicurdubooks.com ↗
فَکَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَا وَ ہِیَ ظَالِمَۃٌ فَہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا وَ بِئۡرٍ مُّعَطَّلَۃٍ وَّ قَصۡرٍ مَّشِیۡدٍ ﴿۴۵﴾
کتنی ہی خطاکاربستیاں ہیں جن کو ہم نے تباہ کیا ہے اور آج وہ اپنی چھتوں پر اُلٹی پڑی ہیں، کتنے ہی کنویں بیکار اور کتنے ہی قصر کھنڈر بنے ہوئے ہیں
بہت سی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تہ وباﻻ کر دیا اس لئے کہ وه ﻇالم تھے پس وه اپنی چھتوں کے بل اوندھی ہوئی پڑی ہیں اور بہت سے آباد کنوئیں بیکار پڑے ہیں اور بہت سے پکے اور بلند محل ویران پڑے ہیں
اور کتنی ہی بستیاں ہم نے کھپادیں (ہلاک کردیں) کہ وہ ستمگار تھیں تو اب وہ اپنی چھتوں پر ڈہی (گری) پڑی ہیں اور کتنے کنویں بیکار پڑے اور کتنے محل گچ کیے ہوئے
غرض کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تباہ و برباد کر دیا کیونکہ وہ ظالم تھیں (چنانچہ) وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور کتنے کنویں ہیں جو بیکار پڑے ہیں اور کتنے مضبوط محل ہیں (جو کھنڈر بن گئے ہیں)۔
سو کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ہم نے اس حال میں ہلاک کیا کہ وہ ظالم تھیں، پس وہ اپنی چھتوں پر گری ہوئی ہیں اور کتنے ہی بے کار چھوڑے ہوئے کنویں ہیں اور چونا گچ محل۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ’ منکروں کا انکار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح علیہ السلام سے لے کر موسیٰ علیہ السلام تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کر لیں۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخر کار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر درد ناک انجام ہوا ‘۔ سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھٹکارا نہیں ہوتا } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11-ھود:102] ‏‏‏‏ تلاوت کی }۔ پھر فرمایا کہ ’ کئی ایک بستیوں والے ظالموں کو جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ہم نے غارت کر دیا۔ جن کے محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اوندھے گرے ہوئے ہیں، ان کی منزلیں ویران ہوگیئں، ان کی آبادیاں ویران ہوگئیں، ان کے کنویں خالی پڑے ہیں، جو کل تک آباد تھے آج خالی ہیں، ان کے چونہ گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، جو بلند و بالا اور پختہ تھے وہ آج ویران پڑے ہیں، وہاں الو بول رہا ہے، ان کی مضبوطی انہیں نہ بچا سکی، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بے کار ثابت ہوئی۔ رب کے عذاب نے تہس نہس کر دیا ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ» ۱؎ [4-النساء:78] ‏‏‏‏ یعنی ’ گو تم چونہ گچ پکے قلعوں میں محفوظ ہو لیکن موت وہاں بھی تمہیں چھوڑنے کی نہیں ‘۔

’ کیا وہ خود زمین میں چلے پھرے نہیں یا کبھی غور وفکر بھی نہیں کیا کہ کچھ عبرت حاصل ہوتی؟ ‘ امام ابن ابی الدنیا کتاب «التفکر و الا عبار» میں روایت لائے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسیٰ! لوہے کی نعلین پہن کر لوہے کی لکڑی لے کر زمین میں چل پھر کر آثار وعبرت کو دیکھ وہ ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ تیری لوہے کی جوتیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور لوہے کی لکڑی بھی ٹوٹ پھوٹ جائے۔ اسی کتاب میں بعض دانشمندوں کا قول ہے کہ وعظ کے ساتھ اپنے دل کو زندہ کر۔ اور غور وفکر کے ساتھ اسے نورانی کر اور زہد اور دنیا سے بچنے کے ساتھ اسے مار دے اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرلے اور موت کے ذکر سے اسے ذلیل کر دے اور فنا کے یقین سے اسے صبر دے۔ دنیا کی مصیبتیں اس کے سامنے رکھ کر اس آنکھیں کھول دے زمانے کی تنگی اسے دکھا اسے دہشت ناک بنا دے، دنوں کے الٹ پھیر اسے سمجھا کر بیدار کر دے۔ گزشتہ واقعات سے اسے عبرتناک بنا۔ اگلوں کے قصے اسے سنا کر ہوشیار رکھ۔ ان کے شہروں میں اور ان کی سوانح میں اسے غور وفکر کرنے کا عادی بنا۔ اور دیکھ کہ گہنگاروں کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہوا کس طرح وہ لوٹ پوٹ کر دیئے گئے۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 45) ➊ {فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِيَ …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۵۹) کی تفسیر۔ {” بِئْرٍ “} مؤنث سماعی ہے، اس لیے اس کی صفت {” مُعَطَّلَةٍ “} آئی ہے۔ {” مَشِيْدٍ”شَادَ يَشِيْدُ شَيْدًا“} (ض) سے اسم مفعول ہے، چونے کے ساتھ مضبوط کیا ہوا۔ یہ مجرد ثلاثی سے ہے، جب کہ سورۂ نساء کی آیت (۷۸): «{ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَيَّدَةٍ }» میں باب تفعیل یعنی ثلاثی مزیدفیہ استعمال ہوا ہے جس میں مبالغہ ہوتا ہے، کیونکہ وہاں موت کا ذکر ہے کہ خواہ تم چونے کے ساتھ بنے ہوئے محکم سے محکم قلعوں میں ہو موت تمھیں وہاں بھی نہیں چھوڑے گی۔ موت کی دسترس کے اظہار کے لیے {” مُشَيَّدَةٍ “} (باب تفعیل) لایا گیا، جب کہ پرانے محلات خواہ کس قدر مضبوط ہوں آخر وہ پختگی باقی نہیں رہتی، اس لیے صرف {” مَشِيْدٍ “} (ثلاثی مجرد) پر اکتفا کیا گیا۔ {” مَشِيْدٍ “} کا ایک معنی بلند بھی ہے۔ ➋ یہ سات اقوام جن کا ذکر ہوا ہے، کثرت و قوت میں تمام اقوام سے بڑھ کر تھیں۔ ان کے علاوہ ان کے عہد میں اور بعد کے زمانوں میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس طرح کی کتنی قومیں گزری ہیں؟ ان سب کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنی عادت بیان فرمائی کہ پہلے انھیں مہلت دی جاتی ہے، پھر اگر وہ اس سے فائدہ اٹھا کر ایمان لے آئیں تو خیر، ورنہ انھیں ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ اگرچہ ترتیب کے مطابق پہلے مہلت کا اور پھر پکڑنے کا ذکر ہونا چاہیے تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے کے انجام بد سے ڈرانے کے لیے ایسی اقوام کی کثرت، ان کی قوت و شوکت اور ان کی تباہی و بربادی کی یاد دلانے والے آثار قدیمہ کا بیان پہلے فرمایا اور آیت (۴۶) میں دوبارہ انھیں مہلت دینے کے بعد پکڑنے کا ذکر فرمایا۔ سو ارشاد فرمایا کہ کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ان کے ظلم اور کفر انِ نعمت کی پاداش میں ہم نے ہلاکت اور تباہی کے گھاٹ اتار دیا۔ اب ان کا حال یہ ہے کہ ان کی چھتیں بوسیدہ ہو کر گرنے کے بعد ان کی دیواریں بھی ان پر گری پڑی ہیں اور کتنے ہی کنویں ہیں جو کبھی آبادی کا مرکز تھے اور ان پر پانی کے لیے آنے جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا، اب اجاڑ اور ویران پڑے ہیں۔ عربوں کے ہاں پانی کی قلت کی وجہ سے کنوؤں کا خصوصاً ذکر فرمایا۔ اسی طرح کتنے ہی چونے کے ساتھ مضبوط بنے ہوئے بلند و بالا اور پر شکوہ ایوان اور محلات ہیں، جن میں ہر وقت چہل پہل رہتی تھی اور جن کی حفاظت کے لیے دن رات ہزاروں فوجیوں کا پہرا ہوتا تھا، اب ان پر کوؤں، چیلوں اور الوؤں کی حکومت ہے۔
← پچھلی آیت (44) پوری سورۃ اگلی آیت (46) →