بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحج — Surah Hajj
آیت نمبر 11
کل آیات: 78
قرآن کریم الحج آیت 11
آیت نمبر: 11 — سورۃ الحج islamicurdubooks.com ↗
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّعۡبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرۡفٍ ۚ فَاِنۡ اَصَابَہٗ خَیۡرُۨ اطۡمَاَنَّ بِہٖ ۚ وَ اِنۡ اَصَابَتۡہُ فِتۡنَۃُۨ انۡقَلَبَ عَلٰی وَجۡہِہٖ ۟ۚ خَسِرَ الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃَ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۱﴾
اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کنارے پر رہ کر اللہ کی بندگی کرتا ہے، اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہو گیا اور جو کوئی مصیبت آ گئی تو الٹا پھر گیا اُس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی یہ ہے صریح خسارہ
بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ ایک کنارے پر (کھڑے) ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اگر کوئی نفع مل گیا تو دلچسپی لینے لگتے ہیں اور اگر کوئی آفت آگئی تو اسی وقت منھ پھیر لیتے ہیں، انہوں نے دونوں جہان کانقصان اٹھا لیا۔ واقعی یہ کھلا نقصان ہے
اور کچھ آدمی اللہ کی بندگی ایک کنارہ پر کرتے ہیں پھر اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچ گئی جب تو چین سے ہیں اور جب کوئی جانچ آکر پڑی منہ کے بل پلٹ گئے، ف۳۲) دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا یہی ہے صر یح نقصان
اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو کنارہ پر رہ کر خدا کی عبادت کرتا ہے۔ سو اگر اسے کوئی فائدہ پہنچ جائے تو وہ اس سے مطمئن ہو جاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش پیش آجائے (یا کوئی مصیبت پہنچ جائے) تو فوراً (اسلام سے) منہ موڑ لیتا ہے۔ اس نے دنیا و آخرت کا گھاٹا اٹھایا اور یہ کھلا ہوا خسارہ ہے۔
اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر کرتا ہے، پھر اگر اسے کوئی بھلائی پہنچ جائے تو اس کے ساتھ مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش آپہنچے تو اپنے منہ پر الٹا پھر جاتا ہے۔ اس نے دنیا اور آخرت کا نقصان اٹھایا، یہی تو صریح خسارہ ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

شک کے مارے لوگ ٭٭

«حَرْفٍ» کے معنی شک کے ایک طرف کے ہیں۔ گویا وہ دین کے ایک کنارے کھڑے ہو جاتے ہیں فائدہ ہوا تو پھولے نہیں سماتے، نقصان دیکھا بھاگ کھڑے ہوئے۔ صحیح بخاری شریف میں (‏‏‏‏سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ { اعراب ہجرت کر کے مدینے پہنچتے تھے اب اگر بال بچے ہوئے جانوروں میں برکت ہوئی تو کہتے یہ دین بڑا اچھا ہے اور اگر نہ ہوئے تو کہتے یہ دین تو نہایت برا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4742] ‏‏‏‏ ابن حاتم میں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اعراب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اسلام قبول کرتے واپس جا کر اگر اپنے ہاں بارش، پانی پاتے، جانوروں میں، گھربار میں برکت دیکھتے تو اطمینان سے کہتے بڑا اچھا دین ہے اور اگر اس کے خلاف دیکھتے تو جھٹ سے بک دیتے کہ اس دین میں سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں، اس پر یہ آیت اتری۔‏‏‏‏“ بروایت عوفی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”ایسے لوگ بھی تھے جو مدینے پہنچتے ہی اگر ان کے ہاں لڑکا ہوتا یا ان کی اونٹنی بچہ دیتی تو انہیں راحت ہوئی تو خوش ہو جاتے اور ان کی تعریفیں کرنے لگتے اور اگر کوئی بلا، مصیبت آ گئی، مدینے کی ہوا موافق نہ آئی، گھر میں لڑکی پیدا ہو گئی، صدقے کا مال میسر نہ ہوا توشیطانی وسوسے میں آ جاتے اور صاف کہہ دیتے کہ اس دین میں تو مشکل ہی مشکل ہے۔‏‏‏‏“ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”یہ حالت منافقوں کی ہے، دنیا اگر مل گئی تو دین سے خوش ہیں جہاں نہ ملی یا امتحان آ گیا فوراً پلہ جھاڑلیا کرتے ہیں، مرتد کافر ہو جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ یہ پورے بدنصیب ہیں دنیا آخرت دونوں برباد کر لیتے ہیں اس سے زیادہ اور بربادی کیا ہوتی؟ جن ٹھاکروں، بتوں اور بزرگوں سے یہ مدد مانگتے ہیں، جن سے فریاد کرتے ہیں، جن کے پاس اپنی حاجتیں لے کر جاتے ہیں، جن سے روزیاں مانگتے ہیں وہ تو محض عاجز ہیں، نفع نقصان ان کے ہاتھ ہی نہیں۔ سب سے بڑی گمراہی یہی ہے۔ دنیا میں بھی ان کی عبادت سے نقصان نفع سے پیشتر ہی ہو جاتا ہے۔ اور آخرت میں ان سے جو نقصان پہنچے گا اس کا کہنا ہی کیا ہے؟ یہ بت تو ان کے نہایت برے والی اور نہایت برے ساتھی ثابت ہوں گے۔ یا یہ مطلب کہ ایسا کرنے والے خود بہت ہی بد اور بڑے ہی برے ہیں لیکن پہلی تفسیر زیادہ اچھی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

11۔ 1 حرف کے معنی ہیں کنارہ۔ ان کناروں پر کھڑا ہونے والا، غیر مستقر ہوتا ہے یعنی اسے قرار و ثبات نہیں ہوتا۔ اسی طرح جو شخص دین کے بارے میں شک و تذبذب کا شکار رہتا ہے اس کا حال بھی یہی ہے، اسے دین پر استقامت نصیب نہیں ہوتی کیونکہ اس کی نیت صرف دنیاوی مفادات کی رہتی ہے، ملتے رہے تو ٹھیک ہے، بصورت دیگر وہ پھر دین آبائی یعنی کفر اور شرک کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو سچے مسلمان ہوتے اور ایمان اور یقین سے سرشار ہوتے ہیں۔ بعض روایات میں یہ وصف نو مسلم اعرابیوں کا بیان کیا گیا ہے (فتح الباری، باب مذکور)

📖 القرآن الکریم

(آیت 11) ➊ { وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ …:” حَرْفٍ “} کا معنی کنارا ہے، یعنی وہ دین کے دائرے کے وسط میں داخل نہیں ہوتا، بلکہ کنارے ہی پر رہتا ہے، یا اس کے دل میں ایمان جاگزیں نہیں ہوتا، صرف زبان اسلام کا اقرار کرتی ہے، جیسے کوئی شخص کسی لشکر کے کنارے پر رہے، اگر فتح نظر آ رہی ہو تو جا ملے، ورنہ فرار اختیار کرے۔ یہ آیت ان اعراب (بادیہ نشین) لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو صحرا سے ہجرت کرکے آتے۔ پھر اگر جان و مال میں برکت ہوتی تو اسلام پر بڑے اطمینان کا اظہار کرتے اور اگر تکلیف اور دکھ میں مبتلا ہو جاتے تو مرتد ہو کر واپس بھاگ جاتے۔ بعض ”مؤلفۃ القلوب“ کی بھی یہی حالت تھی۔ (کبیر) اور دیکھیے سورۂ بقرہ(۱۷ تا ۲۰)۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: [ كَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ الْمَدِيْنَةَ، فَيُسْلِمُ، فَإِنْ وَلَدَتِ امْرَأَتُهُ غُلَامًا وَنُتِجَتْ خَيْلُهُ قَالَ هٰذَا دِيْنٌ صَالِحٌ وَ إِنْ لَّمْ تَلِدِ امْرَأَتُهُ وَ لَمْ تُنْتَجْ خَيْلُهُ قَالَ هٰذَا دِيْنُ سَوْءٍ ] [ بخاري، التفسیر، باب { و من الناس من یعبد اللہ علی حرف }: ۴۷۴۲ ] ”آدمی مدینے آتا، پھر اگر اس کی بیوی لڑکے کو جنم دیتی اور اس کی گھوڑیاں بچے دیتیں تو کہتا، یہ اچھا دین ہے اور اگر بیوی کے ہاں بچہ نہ ہوتا اور نہ گھوڑیاں بچے دیتیں تو کہتا یہ دین برا ہے۔“ ➋ { انْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ:} یعنی مرتد ہو گیا اور پھر کفر و شرک کی طرف پلٹ گیا۔ ➌ {ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ:} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں، یعنی دنیا کا فائدہ اور بھلائی دیکھے تو بندگی پر قائم رہے اور اگر آزمائش آ جائے اور کوئی تکلیف پہنچے تو بندگی چھوڑ دے۔ ادھر (تکلیف اور مصیبت سے) دنیا گئی ادھر (بندگی چھوڑ کر مرتد ہونے سے) دین گیا۔ کنارے پر کھڑا ہے، یعنی دل ابھی نہ اس طرف ہے اور نہ اس طرف، جیسے کوئی مکان کے کنارے کھڑا ہے، جب چاہے نکل جائے۔ (موضح)
← پچھلی آیت (10) پوری سورۃ اگلی آیت (12) →