بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحج — Surah Hajj
آیت نمبر 12
کل آیات: 78
قرآن کریم الحج آیت 12
آیت نمبر: 12 — سورۃ الحج islamicurdubooks.com ↗
یَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّہٗ وَ مَا لَا یَنۡفَعُہٗ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِیۡدُ ﴿ۚ۱۲﴾
پھر وہ اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارتا ہے جو نہ اُس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ فائدہ یہ ہے گمراہی کی انتہا
اللہ کے سوا انہیں پکارتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکیں نہ نفع۔ یہی تو دور دراز کی گمراہی ہے
اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہیں جو ان کا برا بھلا کچھ نہ کرے یہی ہے دور کی گمراہی،
وہ اللہ کو چھوڑ کر اس کو پکارتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچاتا ہے اور نہ نفع۔ یہی تو انتہائی گمراہی ہے۔
وہ اللہ کے سوا اس چیز کو پکارتا ہے جو اسے نقصان نہیں پہنچاتی اور اس چیز کو جو اسے نفع نہیں دیتی، یہی تو دور کی گمراہی ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

شک کے مارے لوگ ٭٭

«حَرْفٍ» کے معنی شک کے ایک طرف کے ہیں۔ گویا وہ دین کے ایک کنارے کھڑے ہو جاتے ہیں فائدہ ہوا تو پھولے نہیں سماتے، نقصان دیکھا بھاگ کھڑے ہوئے۔ صحیح بخاری شریف میں (‏‏‏‏سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ { اعراب ہجرت کر کے مدینے پہنچتے تھے اب اگر بال بچے ہوئے جانوروں میں برکت ہوئی تو کہتے یہ دین بڑا اچھا ہے اور اگر نہ ہوئے تو کہتے یہ دین تو نہایت برا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4742] ‏‏‏‏ ابن حاتم میں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اعراب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اسلام قبول کرتے واپس جا کر اگر اپنے ہاں بارش، پانی پاتے، جانوروں میں، گھربار میں برکت دیکھتے تو اطمینان سے کہتے بڑا اچھا دین ہے اور اگر اس کے خلاف دیکھتے تو جھٹ سے بک دیتے کہ اس دین میں سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں، اس پر یہ آیت اتری۔‏‏‏‏“ بروایت عوفی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”ایسے لوگ بھی تھے جو مدینے پہنچتے ہی اگر ان کے ہاں لڑکا ہوتا یا ان کی اونٹنی بچہ دیتی تو انہیں راحت ہوئی تو خوش ہو جاتے اور ان کی تعریفیں کرنے لگتے اور اگر کوئی بلا، مصیبت آ گئی، مدینے کی ہوا موافق نہ آئی، گھر میں لڑکی پیدا ہو گئی، صدقے کا مال میسر نہ ہوا توشیطانی وسوسے میں آ جاتے اور صاف کہہ دیتے کہ اس دین میں تو مشکل ہی مشکل ہے۔‏‏‏‏“ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”یہ حالت منافقوں کی ہے، دنیا اگر مل گئی تو دین سے خوش ہیں جہاں نہ ملی یا امتحان آ گیا فوراً پلہ جھاڑلیا کرتے ہیں، مرتد کافر ہو جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ یہ پورے بدنصیب ہیں دنیا آخرت دونوں برباد کر لیتے ہیں اس سے زیادہ اور بربادی کیا ہوتی؟ جن ٹھاکروں، بتوں اور بزرگوں سے یہ مدد مانگتے ہیں، جن سے فریاد کرتے ہیں، جن کے پاس اپنی حاجتیں لے کر جاتے ہیں، جن سے روزیاں مانگتے ہیں وہ تو محض عاجز ہیں، نفع نقصان ان کے ہاتھ ہی نہیں۔ سب سے بڑی گمراہی یہی ہے۔ دنیا میں بھی ان کی عبادت سے نقصان نفع سے پیشتر ہی ہو جاتا ہے۔ اور آخرت میں ان سے جو نقصان پہنچے گا اس کا کہنا ہی کیا ہے؟ یہ بت تو ان کے نہایت برے والی اور نہایت برے ساتھی ثابت ہوں گے۔ یا یہ مطلب کہ ایسا کرنے والے خود بہت ہی بد اور بڑے ہی برے ہیں لیکن پہلی تفسیر زیادہ اچھی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 12){يَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهٗ وَ مَا لَا يَنْفَعُهٗ …:} بعض لوگ {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} سے مراد صرف بت لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اولیاء اللہ {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} نہیں ہیں۔ حالانکہ {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کے سوا ہر چیز ہے، خواہ بت ہوں یا قبریں، درخت ہوں یا جانور، مثلاً گائے وغیرہ، خواہ انسان ہوں یا جن یا فرشتے، زندہ ہوں یا مردہ، نیک ہوں یا بد، سب {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} ہیں، کیونکہ جو بھی موجود ہے یا اللہ ہے یا {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔“} اگر ولیوں اور نبیوں کو {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} نہ مانیں تو انھیں اللہ ماننا پڑے گا۔ پھر {”وحده لا شريك له“} اور {” قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ “} کا مطلب کیا ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا سب کچھ {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} (اللہ کے سوا) ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ نحل (۲۰، ۷۳)۔
← پچھلی آیت (11) پوری سورۃ اگلی آیت (13) →