بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحج — Surah Hajj
آیت نمبر 55
کل آیات: 78
قرآن کریم الحج آیت 55
آیت نمبر: 55 — سورۃ الحج islamicurdubooks.com ↗
وَ لَا یَزَالُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡہُ حَتّٰی تَاۡتِیَہُمُ السَّاعَۃُ بَغۡتَۃً اَوۡ یَاۡتِیَہُمۡ عَذَابُ یَوۡمٍ عَقِیۡمٍ ﴿۵۵﴾
انکار کرنے والے تو اس کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ یا تو اُن پر قیامت کی گھڑی اچانک آ جائے، یا ایک منحوس دن کا عذاب نازل ہو جائے
کافر اس وحی الٰہی میں ہمیشہ شک شبہ ہی کرتے رہیں گے حتیٰ کہ اچانک ان کے سروں پر قیامت آجائے یا ان کے پاس اس دن کا عذاب آجائے جو منحوس ہے
اور کافر اس سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر قیامت آجائے اچانک یا ان پر ایسے دن کا عذاب آئے جس کا پھل ان کے لیے کچھ اچھا نہ ہو
اور جو کافر ہیں وہ تو ہمیشہ اس کی طرف سے شک میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ اچانک قیامت ان پر آجائے۔ یا پھر منحوس دن کا عذاب ان پر آجائے۔
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہمیشہ اس کے بارے میں کسی شک میں رہیں گے، یہاں تک کہ ان کے پاس اچانک قیامت آجائے، یا ان کے پاس اس دن کا عذاب آجائے جو بانجھ (ہر خیر سے خالی) ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کافروں کے دل سے شک و شبہ نہیں جائے گا ٭٭

یعنی کافروں کو جو شک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا۔ شیطان یہ غلط گمان قیامت تک ان کے دلوں سے نہ نکلنے دے گا۔ قیامت اور اس کے عذاب ان کے پاس ناگہاں آ جائیں گے۔ اس وقت یہ محض بے شعور ہوں گے جو مہلت انہیں مل رہی ہے اس سے یہ مغرور ہو گئے۔ جس قوم کے پاس اللہ کے عذاب آئے اسی حالت میں آئے کہ وہ ان سے نڈر بلکہ بےپروا ہو گئے تھے اللہ کے عذابوں سے غافل وہی ہوتے ہیں جو پورے فاسق اور اعلانیہ مجرم ہوں۔ یا انہیں بے خبر دن عذاب پہنچے جو دن ان کے لیے منحوس ثابت ہو گا۔ بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد یوم بدر ہے اور بعض نے کہا ہے مراد اس سے قیامت کا دن ہے یہی قول صحیح ہے گو بدر کا دن بھی ان کے لیے عذاب اللہ کا دن تھا۔ اس دن صرف اللہ کی بادشاہت ہوگی۔ جیسے اور آیت میں ہے «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ۱؎ [1-الفاتحہ:4] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:26] ‏‏‏‏ ’ اس دن رحمن کا ہی ملک ہو گا اور وہ دن کافروں پر نہایت ہی گراں گزرے گا ‘۔ فیصلے خود اللہ کرے گا۔ جن کے دلوں میں اللہ پر ایمان رسول کی صداقت اور ایمان کے مطابق جن کے اعمال تھے جن کے دل اور عمل میں موافقت تھی۔ جن کی زبانیں دل کے مانند تھیں وہ جنت کی نعمتوں میں مالا مال ہوں گے جو نعمتیں نہ فنا ہوں نہ گھٹیں نہ بگڑیں نہ کم ہوں۔ جن کے دلوں میں حقانیت سے کفر تھا، جو حق کو جھٹلاتے تھے، نبیوں کے خلاف کرتے تھے، اتباع حق سے تکبر کرتے تھے ان کے تکبر کے بدلے انہیں ذلیل کرنے والے عذاب ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» ۱؎ [40-غافر:60] ‏‏‏‏ ’ جو لوگ میری عبادتوں سے سرکشی کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے ‘۔

📖 احسن البیان

55۔ 1 یَوْمِ عَقِیْمِ (بانجھ دن) سے مراد قیامت کا دن ہے۔ اسے عقیم اس لئے کہا گیا ہے کہ اس کے بعد کوئی دن نہیں ہوگا، جس طرح عقیم اس کو کہا جاتا ہے جس کی اولاد نہ ہو۔ یا اس لئے کہ کافروں کے لئے اس دن کوئی رحمت نہیں ہوگی، گویا ان کے لئے خیر سے خالی ہوگا۔ جس طرح باد تند کو، جو بطور عذاب کے آتی رہی ہے الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ کہا گیا ہے۔ (اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ) 51۔ الذاریات:41) جب ہم نے ان پر بانجھ ہوا بھیجی۔ یعنی ایسی ہوا جس میں کوئی خیر تھی نہ بارش کی نوید

📖 القرآن الکریم

(آیت 55) {وَ لَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ …:} یعنی کفار اس قرآن کے متعلق ہمیشہ کسی نہ کسی شک میں مبتلا رہیں گے، خواہ وہ شیطان کا پیدا کردہ ہو یا خود ان کے نفس کا اور اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک ان کے پاس قیامت کی گھڑی نہ آ جائے، یا یوم عقیم (بانجھ دن) کا عذاب نہ آ جائے۔ بانجھ دن سے مراد قیامت کا دن ہے، اسے عقیم اس لیے کہا گیا ہے کہ اس کے بعد کوئی دن نہیں ہو گا، جس طرح عقیم اسے کہا جاتا ہے جس کی اولاد نہ ہو، یا اس لیے کہ کفار کے لیے اس دن میں کوئی خیر نہیں ہو گی، جس طرح آندھی کو جو عذاب کے طور پر آئی {” الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ “} (ہر خیر سے خالی ہوا) کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ فِيْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ» [ الذاریات: ۴۱ ] ”اور عاد میں (بھی نشانی ہے) جب ہم نے ان پر بانجھ (خیر و برکت سے خالی) ہوا بھیجی۔“ اس یوم عقیم سے کیا مراد ہے؟ بعض مفسرین نے اس سے مراد یومِ بدر لیا ہے کہ اس میں کفار کے لیے کوئی خیر و برکت نہیں تھی۔ مگر یہ اس لیے درست نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کافر اس یوم عقیم کا عذاب آنے تک شک میں رہیں گے، گویا اس دن کے آنے کے بعد کافروں کو کوئی شک نہیں رہے گا اور ظاہر ہے کہ بدر کے بعد بھی کافر موجود ہیں اور ان کے شکوک و شبہات بھی موجود ہیں۔ علاوہ ازیں اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے خود اس دن کی تعیین فرما دی ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ» ‏‏‏‏ [ الحج: ۵۶ ] ”تمام بادشاہی اس دن اللہ کی ہو گی، وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔“ معلوم ہوا کہ اس یومِ عقیم سے مراد قیامت کا دن ہے اور مزید فرمایا: «وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ (17) ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ (18) يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْـًٔا وَ الْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ» ‏‏‏‏ [ الانفطار: ۱۷ تا ۱۹ ] ”اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ جزا کا دن کیا ہے؟ پھر تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ جزا کا دن کیا ہے؟ جس دن کوئی جان کسی جان کے لیے کسی چیز کا اختیار نہ رکھے گی اور اس دن سب حکم اللہ کا ہو گا۔“ اس پر یہ سوال ہے کہ اس سے تکرار لازم آتا ہے، کیونکہ {” السَّاعَةُ “} سے مراد بھی قیامت ہے۔ جواب یہ ہے کہ {” السَّاعَةُ “} میں قیامت کا ذکر ہے اور {” عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيْمٍ “} میں قیامت کے دن کے عذاب کا ذکر ہے۔ خلاصہ آیت کا یہ ہے کہ کفار اس وقت سے پہلے ایمان نہیں لائیں گے جب ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
← پچھلی آیت (54) پوری سورۃ اگلی آیت (56) →