بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحج — Surah Hajj
آیت نمبر 65
کل آیات: 78
قرآن کریم الحج آیت 65
آیت نمبر: 65 — سورۃ الحج islamicurdubooks.com ↗
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ وَ الۡفُلۡکَ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ یُمۡسِکُ السَّمَآءَ اَنۡ تَقَعَ عَلَی الۡاَرۡضِ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۶۵﴾
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اُس نے وہ سب کچھ تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے جو زمین میں ہے، اور اسی نے کشتی کو قاعدے کا پابند بنایا ہے کہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے، اور وہی آسمان کو اس طرح تھامے ہوئے کہ اس کے اِذن کے بغیر وہ زمین پر نہیں گر سکتا؟ واقعہ یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے حق میں بڑا شفیق اور رحیم ہے
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی نے زمین کی تمام چیزیں تمہارے لئے مسخر کر دی ہیں اور اس کے فرمان سے پانی میں چلتی ہوئی کشتیاں بھی۔ وہی آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر اس کی اجازت کے بغیر نہ گر پڑے، بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر شفقت ونرمی کرنے واﻻ اور مہربان ہے
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے تمہارے بس میں کردیا جو کچھ زمین میں ہے اور کشتی کہ دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہے اور وہ روکے ہوئے ہے آسمان کو کہ زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے حکم سے، بیشک اللہ آدمیوں پر بڑی مہر والا مہربان ہے
کیا تم نہیں دیکھتے کہ جو کچھ زمین میں ہے۔ اللہ نے وہ سب کچھ تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے اور کشتی کو بھی جو سمندر میں اس کے حکم سے چلتی ہے۔ اور وہی آسمان کو روکے ہوئے ہے کہ اس کے حکم کے بغیر زمین پر نہ گر پڑے۔ بےشک اللہ لوگوں پر بڑا شفقت والا، بڑا رحمت والا ہے۔
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے تمھاری خاطر مسخر کر دیا ہے جو کچھ زمین میں ہے اور ان کشتیوں کو بھی جو سمندر میں اس کے حکم سے چلتی ہیں اور وہ آسمان کو تھام کر رکھتا ہے اس سے کہ زمین پر گر پڑے مگر اس کے اذن سے۔ بے شک اللہ یقینا لوگوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قدرت اور غلبہ الٰہی کا اظہار ٭٭

اپنی عظیم الشان قدرت اور زبردست غلبے کو بیان فرما رہا ہے کہ «فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ» ۱؎ [22-الحج:5] ‏‏‏‏ ’ سوکھی غیر آباد مردہ زمین پر اس کے حکم سے ہوائیں بادل لاتی ہیں جو پانی برساتے ہیں اور زمین لہلہاتی ہوئی سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے گویا جی اٹھتی ہے ‘۔ یہاں پر (‏‏‏‏ف)‏‏‏‏‏‏‏‏ تعقیب کے لیے ہے ہر چیز کی تعقیب اسی کے انداز سے ہوتی ہے۔ «ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا» ۱؎ [23-المؤمنون:14] ‏‏‏‏ نطفے کا ملقہ ہونا پھر ملقے کا مضغہ ہونا جہاں بیان فرمایا ہے وہاں بھی (‏‏‏‏ف)‏‏‏‏‏‏‏‏ آئی ہے اور ہر دو صورت میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ حجاز کی بعض زمینیں ایسی بھی ہیں کہ بارش کے ہوتے ہی معا سرخ وسبز ہو جاتی ہیں «فَاللہُ اَعْلَمُ» ۔ زمین کے گوشوں میں اور اس کے اندر جو کچھ ہے، سب اللہ کے علم میں ہے۔ ایک ایک دانہ اس کی دانست میں ہے۔ پانی وہیں پہنچتا ہے اور وہ اگ آتا ہے۔ جیسے لقمان رحمتہ اللہ علیہ کے قول میں ہے کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ‏‏‏‏ ’ اے بچے! اگرچہ کوئی چیز رائی کے دانے برابر ہوچاہے کسی چٹان میں ہو یا آسمان میں یا زمین میں اللہ اسے ضرور لائے گا اللہ تعالیٰ پاکیزہ اور باخبر ہے ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» ۱؎ [27-النمل:25] ‏‏‏‏ ’ زمین و آسمان کی ہر چیز کو اللہ ظاہر کر دے گا ‘۔ ایک آیت میں ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [6-الأنعام:59] ‏‏‏‏، ’ ہرپتے کے جھڑنے کا، ہر دانے کا جو زمین کے اندھیروں میں ہو ہر تر وخشک چیز کا اللہ کو علم ہے اور وہ کھلی کتاب میں ہے ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ» ۱؎ [10-یونس:61] ‏‏‏‏ ’ کوئی ذرہ آسمان و زمیں میں اللہ سے پوشیدہ نہیں، کوئی چھوٹی بڑی چیز ایسی نہیں جو ظاہر کتاب میں نہ ہو ‘۔ امیہ بن ابو صلت یا زید بن عمر و بن نفیل کے قصیدے میں ہے شعر «وَقُولَا لَهُ مَنْ يُنْبِت الْحَبّ فِي الثَّرَى» «فَيُصْبِح مِنْهُ الْبَقْل يَهْتَزّ رَابِيًا» «وَيُخْرِج مِنْهُ حَبّه فِي رُءُوسه» «فَفِي ذَلِكَ آيَات لِمَنْ كَانَ وَاعِيًا» ”اے میرے دونوں پیغمبرو! تم اس سے کہو کہ مٹی میں سے دانے کون نکالتا ہے کہ درخت پھوٹ کر جھومنے لگتا ہے اور اس کے سرے پر بال نکل آتی ہے؟ عقلمند کے لیے تو اس میں قدرت کی ایک چھوڑ کئی نشانیاں موجود ہیں۔‏‏‏‏“

تمام کائنات کا مالک وہی ہے۔ وہ ہر ایک سے بے نیاز ہے۔ ہر ایک اس کے سامنے فقیر اور اس کی بارگاہ عالی کا محتاج ہے۔ سب انسان اس کے غلام ہیں۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ کل حیوانات، جمادات، کھیتیاں، باغات اس نے تمہارے فائدے کے لیے، تمہاری ماتحتی میں دے رکھے ہیں آسمان و زمین کی چیزیں تمہارے لیے سرگرداں ہیں۔ اس کا احسان وفضل و کرم ہے کہ اسی کے حکم سے کشتیاں تمہیں ادھر سے ادھر لے جاتی ہیں۔ تمہارے مال ومتاع ان کے ذریعے یہاں سے وہاں پہنچتے ہیں۔ پانی کو چیرتی ہوئیں، موجوں کو کاٹتی ہوئیں بحکم الٰہی ہواؤں کے ساتھ تمہارے نفع کے لیے چل رہی ہیں۔ یہاں کی ضرورت کی چیزیں وہاں سے وہاں کی یہاں برابر پہنچتی رہتی ہیں۔ وہ خود آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر نہ گر پڑے ورنہ ابھی وہ حکم دے تو یہ زمین پر آ رہے اور تم سب ہلاک ہو جاؤ۔

انسانوں کے گناہوں کے باوجود اللہ ان پر رأفت و شفقت، بندہ نوازی اور غلام پروری کر رہا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [13-الرعد:6] ‏‏‏‏، ’ لوگوں کے گناہوں کے باوجود اللہ تعالیٰ ان پر صاحب مغفرت ہے۔ ہاں بے شک وہ سخت عذابوں والا بھی ہے ‘۔ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے، وہی تمہیں فناکرے گا، وہی پھر دوبارہ پیدا کرے گا۔ جیسے فرمایا آیت «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:28] ‏‏‏‏ ’ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حالانکہ تم مردہ تھے، اسی نے تمہیں زندہ کیا پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا، پھر دوبارہ زندہ کر دے گا۔ پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ‘۔ ایک اور آیت میں ہے «قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:26] ‏‏‏‏ ’ اللہ ہی تمہیں دوبارہ زندہ کرتا ہے پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر تمہیں قیامت والے دن، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں جمع کرے گا ‘۔ اور جگہ فرمایا «قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ» ۱؎ [40-غافر:11] ‏‏‏‏ ’ وہ کہیں گے کہ اے اللہ تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا ‘۔ پس کلام کا مطلب یہ ہے کہ ایسے اللہ کے ساتھ تم دوسروں کو شریک کیوں ٹھیراتے ہو؟ دوسروں کی عبادت اس کے ساتھ کیسے کرتے ہو؟ پیدا کرنے والا فقط وہی، روزی دینے والا وہی، مالک ومختار فقط وہی، تم کچھ نہ تھے اس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہاری موت کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا یعنی قیامت کے دن انسان بڑا ہی ناشکرا اور بے قدرا ہے۔

📖 احسن البیان

65۔ 1 مثلًا جانور، نہریں، درخت اور دیگر بیشمار چیزیں، جن کے منافع سے انسان بہرہ ور اور لذت یاب ہوتا ہے۔ 65۔ 2 یعنی اگر وہ چاہے تو آسمان زمین پر گرپڑے، جس سے زمین پر ہر چیز تباہ ہوجائے۔ ہاں قیامت والے دن اس کی مشیت سے آسمان بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گا۔ 65۔ 3 اس لئے اس نے مذکورہ چیزوں کو انسان کے تابع کردیا ہے اور آسمان کو بھی ان پر گرنے نہیں دیتا۔ تابع (مسخر) کرنے کا مطلب ہے کہ ان چیزوں سے فائدہ اٹھانا اس کے لئے ممکن یا آسان کردیا گیا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 65) ➊ { اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ:} یہ تیسری دلیل ہے۔ زمین کی ہر چیز کو انسان کے لیے مسخر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے اس طرح بنایا ہے کہ آدمی اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ سورج اور چاند اس رفتار سے چل رہے ہیں جو انسان کے لیے مفید ہے۔ ہوا، پانی، آگ، بجلی، ایٹم، غرض کتنی ہی منہ زور قوتیں ہیں جن سے انسان فائدہ اٹھا رہا ہے۔ پالتو جانور ہیں تو ان پر سواری کرتا ہے، ان کا دودھ پیتا، گوشت کھاتا اور کئی ضروریات پوری کرتا ہے، غرض وہ ہر طرح سے انسان کے تابع کر دیے گئے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اونٹ، گائے، بھینس اور گھوڑے کو انسان کے تابع نہ کرتا تو انسان کبھی انھیں پالتو نہ بنا سکتا، فرمایا: «‏‏‏‏وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا يَاْكُلُوْنَ» [ یٰسٓ: ۷۲ ] ”اور ہم نے انھیں ان کے تابع کر دیا تو ان میں سے کچھ ان کی سواری ہیں اور ان میں سے بعض کو وہ کھاتے ہیں۔“ رہے جنگلی جانور، تو ان کا شکار کرکے انھیں زندہ یا مردہ اپنے قابو میں لے آتا ہے۔ ➋ { وَ الْفُلْكَ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ:} یہ چوتھی دلیل ہے، اگرچہ سمندر میں چلنے والے جہاز بھی زمین کی ان چیزوں میں شامل ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے مسخر کر رکھا ہے، مگر ان کا معاملہ دوسری چیزوں سے زیادہ عجیب ہے کہ پانی، جو ہر وزن والی چیز کو اپنے اندر غرق کر لیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے اس طرح انسان کے فائدے کے لیے مسخر کر دیا ہے کہ وہ اللہ کی مقرر کردہ ایک خاص وضع پر بنائے ہوئے ہزاروں ٹن کے پہاڑوں جیسے وزنی اور لمبے چوڑے اور اونچے بحری جہازوں کو اپنے سینے پر اٹھائے رکھتا ہے، غرق نہیں کرتا۔ یہ جہاز انسان کی ضرورت کی ہزاروں اشیاء اٹھا کر سیکڑوں ہزاروں میل کا سفر کرتے ہیں اور ان میں بیٹھے ہوئے لوگ اس طرح آرام سے بیٹھے ہوتے ہیں گویا وہ اپنے گھر میں آرام کر رہے ہیں۔ {” بِاَمْرِهٖ “} یعنی یہ سب کچھ اس کے تکوینی حکم سے ممکن ہوا کہ اس نے سمندر کو اس طرح بنایا ہے کہ جہاز اس پر چل سکیں۔ اگر اس کا حکم نہ ہوتا تو سمندر انھیں ایک لمحے میں ڈبو کر اپنی آغوش میں لے لیتا، یا انھیں اپنے سینے پر چلنے نہ دیتا اور وہ ایک جگہ کھڑے کھڑے ہی تباہ ہو جاتے۔ ➌ { وَ يُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ:} یہ پانچویں دلیل ہے۔ آسمان کو زمین پر گرنے سے روک کر رکھنا سمندر میں جہازوں کے چلنے سے بھی عجیب ہے کہ جہازوں کے نیچے کم از کم پانی تو ہے جسے اللہ نے انھیں غرق کرنے سے منع کر دیا ہے، بلکہ اسے جہازوں کا ٹھکانا اور سہارا بنا دیا ہے مگر آسمان کو اتنی بلندی پر نیچے کسی بھی چیز کے سہارے کے بغیر تھام کر رکھنا اس بے انتہا قوتوں والے مالک ہی کا کام ہے۔ ایسے مالک کے ہوتے ہوئے بے بس مخلوق کی بندگی کرنے سے بڑی بے انصافی کیا ہو سکتی ہے؟ ➍ {اِلَّا بِاِذْنِهٖ:} یہ اس لیے فرمایا کہ جب اس کا اذن ہو گا تو آسمان پھٹ جائے گا اور اسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے سے کوئی چیز نہیں روک سکے گی۔ ➎ {اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ: ”رَؤفٌ“} اور {” رَحِيْمٌ “ } دونوں مبالغے کے صیغے ہیں۔ صفت {”رَأْفَةٌ“ } میں نقصان سے بچانے کا اور صفت {”رَحْمَةٌ“} میں نفع پہنچانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کی جگہ بھی آ جاتے ہیں۔ اکٹھے آنے میں نقصان سے بچانے اور نفع پہنچانے کے دونوں مفہوم جمع ہو گئے۔ (ابن عاشور) {”رَءُوْفٌ“} اور {” رَحِيْمٌ “} بجائے خود مبالغے کے صیغے ہیں، ان پر مزید تنوینِ تعظیم آنے کے بعد اس کی رافت و رحمت کا کیا اندازہ ہو سکتا ہے؟ ➏ { اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر جو یہ احسانات فرمائے ہیں اور تمھاری زندگی کے لیے جو یہ اسباب فراہم کیے ہیں یہ اس وجہ سے نہیں کہ وہ تمھارا حاجت مند ہے، بلکہ یہ سراسر اس کی شفقت و مہربانی کا کرشمہ ہے، تمھارا اس پر کوئی زور نہ تھا کہ وہ چاہتا یا نہ چاہتا تم اس سے یہ اسباب حاصل کر لیتے۔
← پچھلی آیت (64) پوری سورۃ اگلی آیت (66) →