بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحج — Surah Hajj
آیت نمبر 57
کل آیات: 78
قرآن کریم الحج آیت 57
آیت نمبر: 57 — سورۃ الحج islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿٪۵۷﴾
اور جنہوں نے کفر کیا ہو گا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہوگا اُن کے لیے رسوا کن عذاب ہوگا
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کے لئے ذلیل کرنے والے عذاب ہیں
اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے،
اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کیلئے رسوا کن عذاب ہے۔
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا تو وہی ہیں جن کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کافروں کے دل سے شک و شبہ نہیں جائے گا ٭٭

یعنی کافروں کو جو شک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا۔ شیطان یہ غلط گمان قیامت تک ان کے دلوں سے نہ نکلنے دے گا۔ قیامت اور اس کے عذاب ان کے پاس ناگہاں آ جائیں گے۔ اس وقت یہ محض بے شعور ہوں گے جو مہلت انہیں مل رہی ہے اس سے یہ مغرور ہو گئے۔ جس قوم کے پاس اللہ کے عذاب آئے اسی حالت میں آئے کہ وہ ان سے نڈر بلکہ بےپروا ہو گئے تھے اللہ کے عذابوں سے غافل وہی ہوتے ہیں جو پورے فاسق اور اعلانیہ مجرم ہوں۔ یا انہیں بے خبر دن عذاب پہنچے جو دن ان کے لیے منحوس ثابت ہو گا۔ بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد یوم بدر ہے اور بعض نے کہا ہے مراد اس سے قیامت کا دن ہے یہی قول صحیح ہے گو بدر کا دن بھی ان کے لیے عذاب اللہ کا دن تھا۔ اس دن صرف اللہ کی بادشاہت ہوگی۔ جیسے اور آیت میں ہے «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ۱؎ [1-الفاتحہ:4] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:26] ‏‏‏‏ ’ اس دن رحمن کا ہی ملک ہو گا اور وہ دن کافروں پر نہایت ہی گراں گزرے گا ‘۔ فیصلے خود اللہ کرے گا۔ جن کے دلوں میں اللہ پر ایمان رسول کی صداقت اور ایمان کے مطابق جن کے اعمال تھے جن کے دل اور عمل میں موافقت تھی۔ جن کی زبانیں دل کے مانند تھیں وہ جنت کی نعمتوں میں مالا مال ہوں گے جو نعمتیں نہ فنا ہوں نہ گھٹیں نہ بگڑیں نہ کم ہوں۔ جن کے دلوں میں حقانیت سے کفر تھا، جو حق کو جھٹلاتے تھے، نبیوں کے خلاف کرتے تھے، اتباع حق سے تکبر کرتے تھے ان کے تکبر کے بدلے انہیں ذلیل کرنے والے عذاب ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» ۱؎ [40-غافر:60] ‏‏‏‏ ’ جو لوگ میری عبادتوں سے سرکشی کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 57){ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا …: ” فَاُولٰٓىِٕكَ “} کی ”فاء“ کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے لیے رسوا کن عذاب کا سبب ان لوگوں کا کفر اور اللہ کی آیات کو جھٹلانا تھا۔ انھوں نے اللہ کی آیات اور اس کے رسولوں کی اہانت کی، بدلہ عذابِ مہین کی صورت میں ملا، جیسا عمل ویسا نتیجہ۔
← پچھلی آیت (56) پوری سورۃ اگلی آیت (58) →