بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحج — Surah Hajj
آیت نمبر 71
کل آیات: 78
قرآن کریم الحج آیت 71
آیت نمبر: 71 — سورۃ الحج islamicurdubooks.com ↗
وَ یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا وَّ مَا لَیۡسَ لَہُمۡ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ نَّصِیۡرٍ ﴿۷۱﴾
یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کر رہے ہیں جن کے لیے نہ تو اس نے کوئی سند نازل کی ہے اور نہ یہ خود اُن کے بارے میں کوئی علم رکھتے ہیں اِن ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہے
اور یہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کر رہے ہیں جس کی کوئی خدائی دلیل نازل نہیں ہوئی نہ وه خود ہی اس کا کوئی علم رکھتے ہیں۔ ﻇالموں کا کوئی مددگار نہیں
اور اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جن کی کوئی سند اس نے نہ اتاری اور ایسوں کو جن کا خود انہیں کچھ علم نہیں اور ستمگاروں کا کوئی مددگار نہیں
اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کی عبادت کرتے ہیں جن کیلئے نہ تو اللہ نے کوئی دلیل (سند) نازل کی ہے اور نہ ہی انہیں ان کے بارے میں کوئی علم ہے اور (ان) ظالموں کیلئے کوئی مددگار نہیں ہے۔
اور وہ اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی دلیل نازل نہیں کی اور جس کا انھیں کچھ علم نہیں اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

شیطان کی تقلید ٭٭

بلاسند، بغیر دلیل کے اللہ کے سوا دوسرے کی پوجا پاٹ عبادت وبندگی کرنے والوں کا جہل وکفر بیان فرماتا ہے کہ شیطانی تقلید اور باپ دادا کی دیکھا دیکھی کے سوا نہ کوئی نقلی دلیل ان کے پاس ہے نہ عقلی۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ» ۱؎ [23-المؤمنون:117] ‏‏‏‏ ’ جو بھی اللہ کے ساتھ دوسرے معبود کو بے دلیل پکارے اس سے اللہ خود ہی بازپرس کر لے گا۔ ناممکن ہے کہ ایسے ظالم چھٹکارا پاجائیں ‘۔ یہاں بھی فرمایا کہ ’ ان ظالموں کا کوئی مددگار نہیں کہ اللہ کے کسی عذاب سے انہیں بچالے ‘۔ ان پر اللہ کے پاک کلام کی آیتیں، صحیح دلیلیں، واضح حجتیں جب پیش کی جاتی ہیں تو ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ اللہ کی توحید، رسولوں کی اتباع کو صاف طور پر بیان کیا تو انہیں سخت غصہ آیا، ان کی شکلیں بدل گئیں، تیوریوں پر بل پڑنے لگے آستینیں چڑھنے لگیں اگر بس چلے تو زبان کھینچ لیں، ایک لفظ حقانیت کا زمین پر نہ آنے دیں۔ اسی وقت گلا گھونٹ دیں، ان سچے خیرخواہوں کی اللہ کے دین کے مبلغوں کی برائیاں کرنے لگتے ہیں۔ زبانیں ان کے خلاف چلنے لگتی ہیں اور ممکن ہو تو ہاتھ بھی ان کے خلاف اٹھنے میں نہیں رکتے۔ فرمان ہوتا ہے کہ ’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دو کہ ایک طرف تو تم جو دکھ ان اللہ کے متوالوں کو پہنچانا چاہتے ہو اسے وزن کرو دوسری طرف اس دکھ کا وزن کر لو جو تمہیں یقیناً تمہارے کفر و انکار کی وجہ سے پہنچنے والا ہے پھر دیکھو کہ بدترین چیز کون سی ہے؟ وہ آتش دوزخ اور وہاں کے طرح طرح کے عذاب؟ یا جو تکلیف تم ان سچے موحدوں کو پہنچانا چاہتے ہو؟ گو یہ بھی تمہارے ارادے ہی ارادے ہیں اب تم ہی سمجھ لو کہ جہنم کیسی بری جگہ ہے؟ کس قدر ہولناک ہے؟ کس قدرایذاء دہندہ ہے؟ اور کتنی مشکل والی جگہ ہے؟ ‘ «إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:66] ‏‏‏‏ ’ یقیناً وہ نہایت ہی بدترین جگہ اور بہت ہی خوفناک مقام ہے ‘، جہاں راحت و آرام کا نام بھی نہیں۔

📖 احسن البیان

71۔ 1 یعنی ان کے پاس نہ کوئی نقلی دلیل ہے، جسے آسمانی کتاب سے یہ دکھا سکیں، نہ عقلی دلیل ہے جسے غیر اللہ کی عبادت کے اثبات میں پیش کرسکیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 71) ➊ { وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی کتاب میں نہیں فرمایا کہ میں نے فلاں فلاں ہستی کو فلاں فلاں اختیارات دے رکھے ہیں، لہٰذا ان کاموں کے لیے اپنی حاجات ان سے طلب کرو اور نہ اس بات کی کوئی علمی یا عقلی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو بھی کائنات میں اپنی مرضی چلانے کا اختیار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس سے مرادیں مانگی جائیں۔ دیکھیے سورۂ احقاف (۴، ۵) اور فاطر (۴۰) جب شرک کی نہ کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ نقلی، تو معلوم ہوا کہ لوگوں نے جو غیر اللہ کے آستانے بنا رکھے ہیں، یا زندہ یا فوت شدہ بزرگوں کو خدائی اختیارات کا مالک سمجھ کر ان کی نذریں نیازیں چڑھا رہے ہیں اور ان کی قبروں کا یا ان کے بتوں کا طواف یا ان کے سامنے قیام، رکوع یا سجود کر رہے ہیں، یا ان کے مجاور بن کر ان کا اعتکاف کر رہے ہیں، یا انھیں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر ان سے فریادیں کر رہے ہیں تو ان کے پاس اوہام پرستی اور باپ دادا کی اندھی تقلید کے سوا کچھ نہیں، جس کا رد قرآن مجید میں کئی مقامات پر کیا گیا ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۰) اور مائدہ (۱۰۴)۔ ➋ { وَ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ:} عبارت کی ترتیب کے مطابق یہ الفاظ کافی تھے کہ {”وَمَا لَهُمْ مِنْ نَّصِيْرٍ“} یعنی ان کا کوئی مددگار نہیں، اس کے بجائے فرمایا {” وَ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ “} یعنی ظالموں کا کوئی مددگار نہیں، یعنی اللہ کی نصرت سے ان کی محرومی کا باعث ان کا ظلم (شرک) ہے کہ اللہ کا حق بندوں کو دے دیا۔ یہ احمق سمجھ رہے ہیں کہ ان کے خود ساختہ معبود، حاجت روا اور مشکل کشا دنیا اور آخرت میں ان کی مدد کریں گے، حالانکہ ان کی مدد کوئی نہیں کرے گا، کیونکہ ان ظالموں نے اللہ کے لیے شریک بنا کر اسے ناراض کر لیا، سو وہ تو ان کی مدد کو آئے گا ہی نہیں اور دوسرے معبودوں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں میں طاقت ہی نہیں کہ ان کی مدد کر سکیں۔
← پچھلی آیت (70) پوری سورۃ اگلی آیت (72) →