بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحج — Surah Hajj
آیت نمبر 74
کل آیات: 78
قرآن کریم الحج آیت 74
آیت نمبر: 74 — سورۃ الحج islamicurdubooks.com ↗
مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿۷۴﴾
اِن لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ پہچانی جیسا کہ اس کے پہچاننے کا حق ہے واقعہ یہ ہے کہ قوت اور عزت والا تو اللہ ہی ہے
انہوں نے اللہ کے مرتبہ کے مطابق اس کی قدر جانی ہی نہیں، اللہ تعالیٰ بڑا ہی زور وقوت واﻻ اور غالب وزبردست ہے
اللہ کی قدر نہ جانی جیسی چاہیے تھی بیشک اللہ قوت والا غالب ہے،
(آہ) ان لوگوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جس طرح قدر کرنی چاہیے۔ بےشک اللہ بڑا طاقتور ہے (اور) سب پر غالب ہے۔
انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق تھا۔ بے شک اللہ یقینا بہت قوت والا ہے، سب پر غالب ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کم عقل پجاری ٭٭

اللہ کے ماسوا جن کے عبادت کی جاتی ہے ان کی کمزوری اور ان کے پجاریوں کی کم عقلی بیان ہو رہی ہے کہ ’ اے لوگو! یہ جاہل جس جس کی بھی اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں، رب کے ساتھ یہ جو شرک کرتے ہیں، ان کی ایک مثال نہایت عمدہ اور بالکل واقعہ کے مطابق بیان ہو رہی ہے ذرا توجہ سے سنو۔ کہ ان کے تمام کے تمام بت، بزرگ وغیرہ جنہیں یہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں، جمع ہو جائیں اور ایک مکھی بنانا چاہیں تو سارے عاجز آ جائیں گے اور ایک مکھی بھی پیدا نہ کر سکیں گے ‘۔ مسند احمد کی حدیث قدسی میں فرمان الٰہی ہے { اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو میری طرح کسی کو بنانا چاہتا ہے۔ اگر واقعی میں کسی کو یہ قدرت حاصل ہے تو ایک ذرہ، ایک مکھی یا ایک دانہ اناج کا ہی خود بنادیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:391/2:صحیح] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں الفاظ یوں ہیں کہ ’ وہ ایک ذرہ یا ایک جو ہی بنادیں ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5953] ‏‏‏‏ اچھا اور بھی ان کے معبودان باطل کی کمزوری اور ناتوانی سنو کہ ’ یہ ایک مکھی کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے وہ ان کا حق ان کی چیز ان سے چھینے چلی جا رہی ہے، یہ بے بس ہیں، یہ بھی تو نہیں کر سکتے کہ اس سے اپنی چیز ہی واپس لے لیں بھلا مکھی جیسی حقیر اور کمزور مخلوق سے بھی جو اپنا حق نہ لے سکے اس سے بھی زیادہ کمزور، بودا ضعیف ناتوان بے بس اور گرا پڑا کوئی اور ہوسکتا ہے؟ ‘ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”طالب“ سے مراد بت اور ”مطلوب“ سے مراد مکھی ہے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں اور ظاہر لفظوں سے بھی یہی ظاہر ہے۔ دوسرا مطلب یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ طالب سے مراد عابد اور مطلوب سے مراد اللہ کے سوا اور معبود۔ اللہ کی قدروعظمت ہی ان کے دلوں میں نہیں رچی اگر ایسا ہوتا تو اتنے بڑے توانا اللہ کے ساتھ ایسی ذلیل مخلوق کو کیوں شریک کر لیتے۔ جو مکھی اڑانے کی بھی قدرت نہیں رکھتی جیسے مشرکین قریش کے بت تھے۔ اللہ اپنی قدرت وقوت میں یکتا ہے تمام چیزیں بے نمونہ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ ’ سب سے پہلی پیدائش میں اس نے پیدا کر دی ہیں کسی ایک سے بھی مدد لیے بغیر پھر سب کو ہلاک کر کے دوبارہ اس سے بھی زیادہ آسانی سے پیدا کرنے پر قادر ہے ‘۔ «إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ إِنَّهُ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ» ۱؎ [85-البروج:13-12] ‏‏‏‏ ’ وہ بڑی مضبوط پکڑ والا، ابتداء اور اعادہ کرنے والا ‘، «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ» ۱؎ [51-الذاريات:58] ‏‏‏‏ ’ رزق دینے والا، اور بے انداز قوت رکھنے والا ہے ‘، ’ سب کچھ اس کے سامنے پست ہے، کوئی اس کے ارادے کو بدلنے والا، اس کے فرمان کو ٹالنے والا اس کی عظمت اور سلطنت کا مقابلہ کرنے والا نہیں، وہ واحد قہار ہے ‘۔

📖 احسن البیان

74۔ 1 یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کی بےبس مخلوق کو اس کا ہمسر اور شریک قرار دے لیتے ہیں۔ اگر ان کو اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت، اس کی قدرت و طاقت اور اس کی بےپناہی کا صحیح صحیح اندازہ اور علم ہو تو وہ کبھی اس کی خدائی میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔

📖 القرآن الکریم

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
← پچھلی آیت (73) پوری سورۃ اگلی آیت (75) →