بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الفرقان
سورۃ الفرقان — 77 آیات — صفحہ 1 از 2
قرآن کریم Surah 25
تَبٰرَکَ الَّذِیۡ نَزَّلَ الۡفُرۡقَانَ عَلٰی عَبۡدِہٖ لِیَکُوۡنَ لِلۡعٰلَمِیۡنَ نَذِیۡرَا ۙ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نہایت متبرک ہے وہ جس نے یہ فرقان اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ سارے جہان والوں کے لیے نذیر ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
بہت بابرکت ہے وه اللہ تعالیٰ جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وه تمام لوگوں کے لئے آگاه کرنے واﻻ بن جائے
احمد رضا خان بریلوی
بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اتارا قرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کو ڈر سنانے والا ہو
علامہ محمد حسین نجفی
بابرکت ہے وہ خدا جس نے اپنے (خاص) بندہ پر فرقان نازل کیا ہے تاکہ وہ تمام جہانوں کیلئے ڈرانے والا بن جائے۔
عبدالسلام بن محمد
بہت برکت والا ہے وہ جس نے اپنے بندے پر فیصلہ کرنے والی (کتاب) اتاری، تاکہ وہ جہانوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بیان ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا بیان فرماتا ہے تاکہ لوگوں پر اس کی بزرگی عیاں ہو جائے کہ اس نے اس پاک کلام کو اپنے بندے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے۔ سورۃ الکہف کے شروع میں بھی اپنی حمد اسی اندازے سے بیان کی ہے، یہاں اپنی ذات کا بابرکت ہونا بیان فرمایا اور یہی وصف بیان کیا۔ یہاں لفظ «نَزَّلَ» فرمایا جس سے بار بار بکثرت اترنا ثابت ہوتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ» ۱؎ [4-النساء:136] ‏‏‏‏ پس پہلی کتابوں کو لفظ «أَنزَلَ» سے اور اس آخر کتاب کو لفظ «نَزَّلَ» سے تعبیر فرمانا۔ اسی لیے ہے کہ پہلی کتابیں ایک ساتھ اترتی رہیں اور قرآن کریم تھوڑا تھوڑا کر کے حسب ضرورت اترتا رہا۔ کبھی کچھ آیتیں، کبھی کچھ سورتیں، کبھی کچھ احکام۔ اس میں ایک بڑی حکمت یہ بھی تھی کہ لوگوں کو اس پر عمل مشکل نہ ہو اور خوب یاد ہو جائے اور مان لینے کے لیے دل کھل جائے۔ جیسے کہ اسی سورت میں فرمایا ہے کہ کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ قرآن کریم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ساتھ کیوں نہ اترا؟ جواب دیا گیا ہے کہ اس طرح اس لیے اترا کہ اس کے ساتھ تیری دل جمعی رہے اور ہم نے ٹھہرا ٹھہرا کر نازل فرمایا۔ یہ جو بھی بات بنائیں گے ہم اس کا صحیح اور جچاتلا جواب دیں جو خوب تفصیل والا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس آیت میں اس کا نام فرقان رکھا۔ اس لیے کہ یہ حق و باطل میں، ہدایت و گمراہی میں فرق کرنے والا ہے۔ اس سے بھلائی برائی میں، حلال حرام میں تمیز ہوتی ہے۔ قرآن کریم کی یہ پاک صفت بیان فرما کر، جس پر قرآن اترا ان کی ایک پاک صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ خاص اس کی عبادت میں لگے رہنے والے ہیں، اس کے مخلص بندے ہیں۔ یہ وصف سب سے اعلیٰ وصف ہے۔ اسی لیے بڑی بڑی نعمتوں کے بیان کے موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی وصف بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسے معراج کے موقعہ پر فرمایا «سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ» ۱؎ [17-الإسراء:1] ‏‏‏‏ اور جیسے اپنی خاص عبادت نماز کے موقعہ پر فرمایا «وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا» ۱؎ [72-الجن:19] ‏‏‏‏ ’ اور جب بندہ اللہ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی عبادت کرنے کھڑے ہوتے ہیں ‘ یہی وصف قرآن کریم کے اترنے اور آپ کے پاس بزرگ فرشتے کے آنے کے اکرام کے بیان کرنے کے موقعہ پر بیان فرمایا۔

پھر ارشاد ہوا کہ اس پاک کتاب کا آپ کی طرف اترنا اس لیے ہے کہ آپ تمام جہان کے لیے آگاہ کرنے والے بن جائیں، ایسی کتاب جو سراسر حکمت و ہدایت والی ہے۔ جو مفصل، مبین اور محکم ہے۔ جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا۔ جو حکیم و حمید اللہ کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔ آپ اس کی تبلیغ دنیا بھر میں کر دیں، ہر سرخ و سفید کو، ہر دور و نزدیک والے کو اللہ کے عذابوں سے ڈرا دیں، جو بھی آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر ہے اس کی طرف آپ کی رسالت ہے۔ جیسے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: { میں تمام سرخ و سفید انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:521] ‏‏‏‏ اور فرمان ہے: { مجھے پانچ باتیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی تھیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا لیکن میں تمام دنیا کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:335] ‏‏‏‏ خود قرآن میں ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ» ۱؎ [7-الأعراف:158] ‏‏‏‏ ’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اعلان کر دو کہ اے دنیا کے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر ہوں۔ ‘ پھر فرمایا مجھے رسول بنا کر بھیجنے والا، مجھ پر یہ پاک کتاب اتارنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان و زمین کا تنہا مالک ہے، جو جس کام کو کرنا چاہے اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔ وہی مارتا اور جلاتا ہے، اس کی کوئی اولاد نہیں، نہ اس کا کوئی شریک ہے۔ ہر چیز اس کی مخلوق اور اس کی زیر پرورش ہے۔ سب کا خالق، مالک، رازق، معبود اور رب وہی ہے۔ ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے والا اور تدبیر کرنے والا وہی ہے۔
بہت بابرکت ہے وہ اللہ تعالیٰ جس نے اپنے بندے پر فرقان 1 اتارا تاکہ وہ تمام لوگوں کے 2 لئے آگاہ کرنے والا بن جائے۔
(آیت 1) ➊ { تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ …:} اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں سب سے پہلے توحید پر کلام فرمایا، کیونکہ وہ سب سے پہلے اور سب سے اہم ہے، پھر نبوت پر، کیونکہ وہ رب اور بندے کے درمیان واسطہ ہے، پھر قیامت پر، کیونکہ وہ خاتمہ ہے۔ (شوکانی) ➋ {” تَبٰرَكَ”بَرَكَةٌ“} سے باب تفاعل ہے، {”بَرَكَةٌ“} کا اشتقاق {” بِرْكَةٌ “} (حوض) سے ہے کہ اس میں بہت زیادہ پانی ہوتا ہے، یا {”بَرَكَ الْإِبِلُ“} سے ہے، جس کا معنی اونٹ کا بیٹھنا ہے۔ باب تفاعل میں مبالغہ پایا جاتا ہے، اسی مناسبت سے اس کا ترجمہ ”بہت برکت والا ہے“ کیا گیا ہے۔ برکت سے مراد خیر میں زیادہ ہونا، بڑھا ہوا ہونا، دائمی خیر والا ہونا ہے۔ یعنی وہ خیر اور بھلائی میں ساری کائنات سے بے انتہا بڑھا ہوا ہے۔ بلندی، بڑائی، احسان، غرض ہر لحاظ سے اس کی ذات بے حد و حساب خوبیوں اور بھلائیوں کی جامع ہے۔ یاد رہے {” تَبٰرَكَ “} کا لفظ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے آتا ہے، کسی اور میں یہ خوبی نہیں۔ ➌ {نَزَّلَ الْفُرْقَانَ:نَزَّلَ “} میں تکرار کا معنی پایا جاتا ہے، یعنی تھوڑا تھوڑا کرکے نازل فرمایا۔ اس کی حکمت آگے آیت (۳۲) میں آ رہی ہے۔ قرآن کو {” الْفُرْقَانَ “} کہا ہے، یعنی یہ اپنے احکام کے ذریعے سے حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا ہے اور اسی لفظ کی بنا پر اس سورت کا نام ”الفرقان“ رکھا گیا ہے۔ ➍ { عَلٰى عَبْدِهٖ:} دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت کی تفسیر۔ ➎ { لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَا:} اس میں آپ پر قرآن نازل کرنے کی حکمت بیان فرمائی ہے۔ سارے جہانوں سے مراد قیامت تک تمام جن و انس ہیں، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ان سب کے لیے ہے، کوئی دوسرا رسول دنیا میں ایسا نہیں آیا۔ یہ مضمون قرآن مجید میں کئی مقامات پر بیان ہوا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۵۸)، انعام (۱۹)، سبا (۲۸) اور احزاب (۴۰) عرب اور اہلِ کتاب کی صراحت کے لیے دیکھیے آل عمران (۲۰) جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أُعْطِيْتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِيْ… وَ كَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلٰی قَوْمِهِ خَاصَّةً وَ بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ كَافَّةً ] [بخاري، الصلاۃ، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : جعلت لي الأرض …: ۴۳۸ ] ”مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے انبیاء میں سے کسی کو نہیں دی گئیں… (ان میں سے ایک یہ ہے کہ) پہلے نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا جبکہ مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا۔“ ➏ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف ”نذیر“ ہونے کا ذکر فرمایا، کیونکہ آگے کفار کے اقوال و احوال اور ان کے انجام کا ذکر ہے، اس کے مناسب ڈرانا ہی ہے۔ نذارت و بشارت دونوں کا اکٹھا ذکر آگے آ رہا ہے، فرمایا: «{ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا }» [ الفرقان: ۵۶ ] ”اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔“
ۣالَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لَمۡ یَتَّخِذۡ وَلَدًا وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ وَ خَلَقَ کُلَّ شَیۡءٍ فَقَدَّرَہٗ تَقۡدِیۡرًا ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ہے، جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے، جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی اللہ کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی اور وه کوئی اوﻻد نہیں رکھتا، نہ اس کی سلطنت میں کوئی اس کا ساجھی ہے اور ہر چیز کو اس نے پیدا کرکے ایک مناسب اندازه ٹھہرا دیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جس کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اور اس نے نہ اختیار فرمایا بچہ اور اس کی سلطنت میں کوئی ساجھی نہیں اس نے ہر چیز پیدا کرکے ٹھیک اندازہ پر رکھی،
علامہ محمد حسین نجفی
جس کیلئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس نے کسی کو اولاد نہیں بنایا۔ اور نہ بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور ہر چیز کا ایک اندازہ (پیمانہ) مقرر کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ ذات کہ اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس نے نہ کوئی اولاد بنائی اور نہ کبھی بادشاہی میں کوئی اس کا شریک رہا ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا، پھر اس کا اندازہ مقرر کیا، پورا اندازہ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بیان ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا بیان فرماتا ہے تاکہ لوگوں پر اس کی بزرگی عیاں ہو جائے کہ اس نے اس پاک کلام کو اپنے بندے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے۔ سورۃ الکہف کے شروع میں بھی اپنی حمد اسی اندازے سے بیان کی ہے، یہاں اپنی ذات کا بابرکت ہونا بیان فرمایا اور یہی وصف بیان کیا۔ یہاں لفظ «نَزَّلَ» فرمایا جس سے بار بار بکثرت اترنا ثابت ہوتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ» ۱؎ [4-النساء:136] ‏‏‏‏ پس پہلی کتابوں کو لفظ «أَنزَلَ» سے اور اس آخر کتاب کو لفظ «نَزَّلَ» سے تعبیر فرمانا۔ اسی لیے ہے کہ پہلی کتابیں ایک ساتھ اترتی رہیں اور قرآن کریم تھوڑا تھوڑا کر کے حسب ضرورت اترتا رہا۔ کبھی کچھ آیتیں، کبھی کچھ سورتیں، کبھی کچھ احکام۔ اس میں ایک بڑی حکمت یہ بھی تھی کہ لوگوں کو اس پر عمل مشکل نہ ہو اور خوب یاد ہو جائے اور مان لینے کے لیے دل کھل جائے۔ جیسے کہ اسی سورت میں فرمایا ہے کہ کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ قرآن کریم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ساتھ کیوں نہ اترا؟ جواب دیا گیا ہے کہ اس طرح اس لیے اترا کہ اس کے ساتھ تیری دل جمعی رہے اور ہم نے ٹھہرا ٹھہرا کر نازل فرمایا۔ یہ جو بھی بات بنائیں گے ہم اس کا صحیح اور جچاتلا جواب دیں جو خوب تفصیل والا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس آیت میں اس کا نام فرقان رکھا۔ اس لیے کہ یہ حق و باطل میں، ہدایت و گمراہی میں فرق کرنے والا ہے۔ اس سے بھلائی برائی میں، حلال حرام میں تمیز ہوتی ہے۔ قرآن کریم کی یہ پاک صفت بیان فرما کر، جس پر قرآن اترا ان کی ایک پاک صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ خاص اس کی عبادت میں لگے رہنے والے ہیں، اس کے مخلص بندے ہیں۔ یہ وصف سب سے اعلیٰ وصف ہے۔ اسی لیے بڑی بڑی نعمتوں کے بیان کے موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی وصف بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسے معراج کے موقعہ پر فرمایا «سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ» ۱؎ [17-الإسراء:1] ‏‏‏‏ اور جیسے اپنی خاص عبادت نماز کے موقعہ پر فرمایا «وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا» ۱؎ [72-الجن:19] ‏‏‏‏ ’ اور جب بندہ اللہ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی عبادت کرنے کھڑے ہوتے ہیں ‘ یہی وصف قرآن کریم کے اترنے اور آپ کے پاس بزرگ فرشتے کے آنے کے اکرام کے بیان کرنے کے موقعہ پر بیان فرمایا۔

پھر ارشاد ہوا کہ اس پاک کتاب کا آپ کی طرف اترنا اس لیے ہے کہ آپ تمام جہان کے لیے آگاہ کرنے والے بن جائیں، ایسی کتاب جو سراسر حکمت و ہدایت والی ہے۔ جو مفصل، مبین اور محکم ہے۔ جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا۔ جو حکیم و حمید اللہ کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔ آپ اس کی تبلیغ دنیا بھر میں کر دیں، ہر سرخ و سفید کو، ہر دور و نزدیک والے کو اللہ کے عذابوں سے ڈرا دیں، جو بھی آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر ہے اس کی طرف آپ کی رسالت ہے۔ جیسے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: { میں تمام سرخ و سفید انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:521] ‏‏‏‏ اور فرمان ہے: { مجھے پانچ باتیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی تھیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا لیکن میں تمام دنیا کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:335] ‏‏‏‏ خود قرآن میں ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ» ۱؎ [7-الأعراف:158] ‏‏‏‏ ’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اعلان کر دو کہ اے دنیا کے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر ہوں۔ ‘ پھر فرمایا مجھے رسول بنا کر بھیجنے والا، مجھ پر یہ پاک کتاب اتارنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان و زمین کا تنہا مالک ہے، جو جس کام کو کرنا چاہے اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔ وہی مارتا اور جلاتا ہے، اس کی کوئی اولاد نہیں، نہ اس کا کوئی شریک ہے۔ ہر چیز اس کی مخلوق اور اس کی زیر پرورش ہے۔ سب کا خالق، مالک، رازق، معبود اور رب وہی ہے۔ ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے والا اور تدبیر کرنے والا وہی ہے۔
2-1یہ پہلی صفت ہے یعنی کائنات میں تصرف کا مالک صرف وہی ہے، کوئی اور نہیں۔ 2-2اس میں نصاریٰ، یہود اور بعض ان عرب قبائل کا رد عمل جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ 2-3اس میں صنم پرست مشرکین اور (دو خداؤں کے خالق) کے قائلین کا رد عمل ہے۔ 2-4ہر چیز کا خالق صرف وہی ہے اور اپنی حکمت و مشیت کے مطابق اس نے اپنی مخلوقات کو ہر وہ چیز بھی مہیا کی ہے جو اس کے مناسب حال ہے یا ہر چیز کی موت اور روزی اس نے پہلے سے ہی مقرر کردی ہے۔
(آیت 2) ➊ { الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چار صفات بیان فرمائی ہیں جو اس کی توحید کی دلیل ہیں۔ پہلی یہ کہ آسمان و زمین کی بادشاہی اسی کی ہے، کسی اور کی نہیں۔ ان دونوں کو چلانے والا وہی ہے، دوسرے سب اپنے وجود اور اپنی بقا میں اسی کے محتاج ہیں۔ ➋ { وَ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا:} یہ دوسری صفت ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آخری آیت کی تفسیر۔ اس میں یہود و نصاریٰ کا ردّ ہے اور ان جھوٹے مسلمانوں کا بھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یا علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنھم کو، یا کسی اور کو اللہ کے نور کا ٹکڑا مانتے ہیں۔ ➌ { وَ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ:} یہ تیسری صفت ہے۔ {” لَمْ يَكُنْ “} میں نفی کا استمرار ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور نہ کبھی بادشاہی میں کوئی اس کا شریک رہا ہے۔“ اس میں ہر قسم کے مشرکین کا ردّ ہے، جیسے بت پرست، قبر پرست، دو خدا ماننے والے اور شرک خفی کا ارتکاب کرنے والے وغیرہ۔ ➍ { وَ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا:} یہ چوتھی صفت ہے کہ ہر چیز اسی نے پیدا کی، پھر اس کے لیے ایک خاص اندازہ مقرر فرما دیا، جس کی بدولت اس سے وہی افعال و اثرات صادر ہوتے ہیں جن کے لیے وہ پیدا کی گئی ہے اور اسے وہی صورت، جسامت اور صلاحیتیں عطا کیں جو اس کی ضرورت کے مطابق ہیں، مثلاً انسان کو فہم و ادراک، غور و فکر، صنعت و حرفت اور مفید کام بجا لانے کی صلاحیت بخشی، اسی طرح ہر حیوان اور پودے اور جماد کو اس مصلحت کے مطابق بنایا جو اس سے مطلوب تھی۔ جب اللہ کے سوا کسی نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا تو کسی اور کی عبادت کیوں؟ دیکھیے سورۂ انعام (۱۰۲)، رعد (۱۶)، فاطر (۳)، زمر (۶۲)، مؤمن (۶۲)، حج (۷۳)، نحل (۲۰) اور اعراف (۱۹۱)۔
وَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اٰلِہَۃً لَّا یَخۡلُقُوۡنَ شَیۡئًا وَّ ہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ وَ لَا یَمۡلِکُوۡنَ لِاَنۡفُسِہِمۡ ضَرًّا وَّ لَا نَفۡعًا وَّ لَا یَمۡلِکُوۡنَ مَوۡتًا وَّ لَا حَیٰوۃً وَّ لَا نُشُوۡرًا ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لوگوں نے اُسے چھوڑ کر ایسے معبود بنا لیے جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں، جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے، جو نہ مار سکتے ہیں نہ جِلا سکتے ہیں، نہ مرے ہوئے کو پھر اٹھا سکتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان لوگوں نے اللہ کے سوا جنہیں اپنے معبود ٹھہرا رکھے ہیں وه کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وه خود پیدا کئے جاتے ہیں، یہ تو اپنی جان کے نقصان نفع کا بھی اختیارنہیں رکھتے اور نہ موت وحیات کے اور نہ دوباره جی اٹھنے کے وه مالک ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور لوگوں نے اس کے سوا اور خدا ٹھہرالیے کہ وہ کچھ نہیں بناتے اور خود پیدا کیے گئے ہیں اور خود اپنی جانوں کے برے بھلے کے مالک نہیں اور نہ مرنے کا اختیار نہ جینے کا نہ اٹھنے کا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان (مشرکوں) نے اللہ کو چھوڑ کر ایسے خدا بنائے ہیں جو کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے اور وہ خود پیدا کئے ہوئے ہیں اور وہ خود اپنے لئے نقصان یا نفع کے مالک و مختار نہیں ہیں۔ جو نہ مار سکتے ہیں نہ جلا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی مرے ہوئے کو دوبارہ اٹھا سکتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے اس کے سوا کئی اور معبود بنا لیے، جو کوئی چیز پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں اور اپنے لیے نہ کسی نقصان کے مالک ہیں اور نہ نفع کے اور نہ کسی موت کے مالک ہیں اور نہ زندگی کے اور نہ اٹھائے جانے کے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکوں کی جہالت ٭٭

مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ خالق، مالک، مختار بادشاہ کو چھوڑ کر ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو ایک مچھر کا پر بھی نہیں بنا سکتے بلکہ وہ خود اللہ کے بنائے ہوئے اور اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بھی کسی نفع نقصان کے پہنچانے کے مالک نہیں چہ جائیکہ دوسرے کا بھلا کریں یا دوسرے کا نقصان کریں۔ یا دوسری کوئی بات کر سکیں۔ وہ اپنی موت زیست کا یا دوبارہ جی اٹھنے کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ پھر اپنی عبادت کرنے والوں کی ان چیزوں کے مالک وہ کیسے ہو جائیں گے؟ بات یہی ہے کہ ان تمام کاموں کا مالک اللہ ہی ہے، وہی جلاتا اور مارتا ہے، وہی اپنی تمام مخلوق کو قیامت کے دن نئے سرے سے پیدا کرے گا۔ اس پر یہ کام مشکل نہیں، ایک کا پیدا کرنا اور سب کو پیدا کرنا، ایک کو موت کے بعد زندہ کرنا اور سب کو کرنا، اس پر یکساں اور برابر ہے۔ ایک آنکھ جھپکانے میں اس کا پورا ہو جاتا ہے۔ صرف ایک آواز کے ساتھ تمام مری ہوئی مخلوق زندہ ہو کر اس کے سامنے ایک چٹیل میدان میں کھڑی ہو جائے گی۔ اور آیت میں فرمایا ہے صرف ایک دفعہ کی ایک آواز ہو گی کہ ساری مخلوق ہمارے سامنے حاضر ہو جائے گی، وہی معبود برحق ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی رب ہے، نہ لائق عبادت ہے۔ اس کا چاہا ہوتا ہے، اس کے چاہے بغیر کچھ بھی نہیں ہوتا۔ وہ ماں باپ سے، لڑکی لڑکوں سے، عدیل و بدیل سے، وزیر و نظیر سے، شریک وسہیم سب سے پاک ہے۔ وہ «أَحَدٌ» ہے، «الصَّمَدُ» ہے، «لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ» ہے، اس کا کفو کوئی نہیں۔
3-1لیکن ظالموں نے ایسے ہمہ صفات موصوف رب کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو رب بنا لیا جو اپنے بارے میں بھی کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے چہ جائیکہ کہ وہ کسی اور کے لئے کچھ کرسکنے کے اختیارات سے بہرہ ور ہوں اس کے بعد منکرین نبوت کے شبہات کا ازالہ کیا جا رہا ہے۔
(آیت 3){ وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا يَخْلُقُوْنَ شَيْـًٔا …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے معبود برحق ہونے کے چند معیار بیان فرمائے اور تمام مشرکوں کو دعوت دی کہ وہ اپنے خداؤں کو ان معیاروں پر پرکھیں اور بتائیں کہ وہ کسی طرح بھی معبود ہو سکتے ہیں۔ وہ معیار یہ ہیں: (1) جو ہستی کوئی چیز پیدا نہ کر سکے، یا کسی چیز کی بھی خالق نہ ہو وہ معبود نہیں ہو سکتی۔ (2) جو چیز خود مخلوق ہو، اسے کسی نے پیدا کیا ہو وہ الٰہ نہیں ہو سکتی۔ ظاہر ہے اللہ کے سوا جن کو بھی معبود بنایا گیا ہے سب مخلوق ہیں، وہ چاہے فرشتے ہوں یا جن، انسان، درخت، پتھر، بت، قبر، سورج، چاند، تارے یا کوئی اور، اس لیے انھیں معبود بنانا بہت بڑی جہالت ہے۔ (3) جو ہستی کسی دوسرے کو فائدہ یا نقصان نہ پہنچا سکتی ہو، دوسرے لفظوں میں جو ہستی حاجت روا اور مشکل کشا نہ ہو وہ الٰہ نہیں ہو سکتی۔ یہی وہ صفت ہے جسے مشرکین اللہ کے سوا بعض دوسری ہستیوں میں تسلیم کرتے ہیں، خواہ وہ جان دار ہوں یا بے جان، زندہ ہوں یا مر چکی ہوں، اور شرک کی یہی قسم سب سے زیادہ عام ہے۔ اس کا ردّ اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا کہ جو چیز اپنے نفع و نقصان ہی کی مالک نہ ہو وہ کسی دوسرے کی حاجت روا یا مشکل کُشا کیسے ہو سکتی ہے! یہ معیار ایسا واضح اور زبردست ہے کہ اس کے مطابق اللہ کے سوا تمام معبود باطل قرار پاتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کو توڑا اور وہ ان کا بال بیکا نہ کر سکے۔ رہے بزرگان دین، خواہ وہ پیغمبر ہوں یا ولی، زندہ ہوں یا فوت ہو چکے ہوں، سب کو ان کی زندگی میں بے شمار تکلیفیں پہنچتی رہیں، لیکن وہ اپنی تکلیفیں اور بیماریاں خود رفع نہ کر سکے، تو دوسروں کی کیا کرتے، یا کیا کریں گے، وہ تو خود صرف اللہ سے دعا کرتے رہے۔ رہے شمس و قمر، تارے اور فرشتے، تو یہ سب ایسی مخلوق ہیں جن کے پاس اپنا اختیار کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ نے انھیں جس کام پر لگا دیا ہے اس کے سوا دوسرا کام کر ہی نہیں سکتے، لہٰذا وہ بھی الوہیت کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ (4) معبود برحق ہونے کا ایک معیار یہ ہے کہ وہ ہستی کسی زندہ کو مار سکتی ہو اور مردہ کو زندہ کر سکتی ہو اور زندہ کرکے قبروں سے اٹھا سکتی ہو، اللہ کی یہ شان ہے کہ وہ ہر وقت زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ چیزیں پیدا کر رہا ہے، قیامت کو وہ سب کو زندہ کرکے سامنے لا کھڑا کرے گا، دوسری کسی ہستی کے اختیار میں کسی کو زندہ کرنا ہے نہ مارنا اور نہ قیامت برپا کرنا۔ اس مقام پر معبود برحق ہونے کے یہ معیار بیان ہوئے ہیں، جب کہ دوسرے مقامات پر اور بھی کئی معیار مذکور ہیں، مثلاً جو خود محتاج ہو وہ الٰہ نہیں ہو سکتا، جو بے جان ہو وہ الٰہ نہیں ہو سکتا، جو کھانا کھاتا ہو وہ الٰہ نہیں ہو سکتا، جسے نیند یا موت آتی ہے وہ الٰہ نہیں ہو سکتا، جو ہر چیز کا علم نہ رکھتا ہو وہ الٰہ نہیں ہو سکتا، جو نہ سن سکتا ہو، نہ دیکھ سکتا ہو، نہ بول سکتا ہو، نہ جواب دے سکتا ہو وہ الٰہ نہیں ہو سکتا وغیرہ۔ (تیسیر القرآن کیلانی بتصرف)
وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفۡکُۨ افۡتَرٰىہُ وَ اَعَانَہٗ عَلَیۡہِ قَوۡمٌ اٰخَرُوۡنَ ۚۛ فَقَدۡ جَآءُوۡ ظُلۡمًا وَّ زُوۡرًا ۚ﴿ۛ۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جن لوگوں نے نبیؐ کی بات ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ فرقان ایک من گھڑت چیز ہے جسے اِس شخص نے آپ ہی گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اِس کام میں اس کی مدد کی ہے بڑا ظلم اور سخت جھوٹ ہے جس پر یہ لوگ اتر آئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کافروں نے کہا یہ تو بس خود اسی کا گھڑا گھڑایا جھوٹ ہے جس پر اور لوگوں نے بھی اس کی مدد کی ہے، دراصل یہ کافر بڑے ہی ﻇلم اور سرتاسر جھوٹ کے مرتکب ہوئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کافر بولے یہ تو نہیں مگر ایک بہتان جو انہوں نے بنالیا ہے اور اس پر اور لوگوں نے انہیں مدد دی ہے بیشک وہ ظلم اور جھوٹ پر آئے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض ایک جھوٹ ہے جسے اس شخص نے گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس کام میں اس کی مدد کی ہے (یہ بات کہہ کر) خود یہ لوگ بڑے ظلم اور جھوٹ کے مرتکب ہوئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ نہیں ہے مگر ایک جھوٹ، جو اس نے گھڑ لیا اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس پر اس کی مدد کی، سو بلاشبہ وہ بھاری ظلم اور سخت جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خود فریب مشرک ٭٭

خود فریب مشرکین ایک جہالت اوپر کی آیتوں میں بیان ہوئی۔ جو ذات الٰہی کی نسبت تھی۔ یہاں دوسری جہالت بیان ہو رہی ہے جو ذات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو تو اس نے اوروں کی مدد سے خود ہی جھوٹ موٹ گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ان کا ظلم اور جھوٹ ہے جس کے باطل ہونے کا خود انہیں بھی علم ہے۔ جو کچھ کہتے ہیں وہ خود اپنی معلومات کے بھی خلاف کہتے ہیں۔ کبھی ہانک لگانے لگتے ہیں کہ اگلی کتابوں کے قصے اس نے لکھوا لئے ہیں، وہی صبح شام اس کی مجلس میں پڑھے جا رہے ہیں۔ یہ جھوٹ وہ ہے جس میں کسی کو کوئی شک نہ ہو سکے۔ اس لیے کہ صرف اہل مکہ ہی نہیں بلکہ دنیا جانتی ہے کہ ہمارے نبی امی تھے نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔ چالیس سال کی نبوت سے پہلے کی زندگی آپ نے انہی لوگوں میں گزاری تھی اور وہ اس طرح کہ اتنی مدت میں ایک واقعہ بھی آپ کی زندگی میں یا ایک لمحہ بھی ایسا نہ تھا جس پر انگلی اٹھا سکے۔ ایک ایک وصف آپ کا وہ تھا جس پر زمانہ شیدا تھا جس پر اہل مکہ رشک کرتے تھے۔ آپ کی عام مقبولیت اور محبوبیت، بلند اخلاق اور خوش معاملگی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ہر ایک دل میں آپ کے لیے جگہ تھی۔ عام زبانیں آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم امین کے پیارے خطاب سے پکارتی تھیں، دنیا آپ کے قدموں تلے آنکھیں بچھاتی تھی۔ کون سا دل تھا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر نہ ہو، کون سی آنکھ تھی جس میں احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت نہ ہو؟ کون سا مجمع تھا جس میں آپ کا ذکر خیر نہ ہو؟ کون وہ شخص تھا جو آپ کی بزرگی، صداقت، امانت، نیکی اور بھلائی کا قائل نہ ہو؟

پھر جب کہ اللہ کی بلند ترین عزت سے آپ معزز کئے گئے۔ آسمانی وحی کے آپ امین بنائے گئے تو صرف باپ دادوں کی روش کو پامال ہوتے ہوئے دیکھ کر یہ بےوقوف بےپیندے لوٹے کی طرح لڑھک گئے، تھالی کے بینگن کی طرح ادھر سے ادھر ہو گئے، لگے باتیں بنانے، اور عیب جوئی کرنے لیکن جھوٹ کے پاؤں کہاں؟ کبھی آپ کو شاعر کہتے، کبھی ساحر اور کبھی کذاب۔ حیران تھے کہ کیا کہیں اور کس طرح اپنی جاہلانہ روش کو باقی رکھیں اور اپنے معبودان باطل کے جھنڈے اوندھے نہ ہونے دیں اور کس طرح ظلم کدہ دنیا کو نور الہٰی سے نہ جگمگانے دیں؟ اب انہیں جواب ملتا ہے کہ قرآن کی سچی حقائق پہ مبنی اور سچی خبریں اللہ کی دی ہوئی ہیں جو علام الغیوب ہے، جس سے ایک ذرہ پوشیدہ نہیں کہ اس میں ماضی کے بیان سبھی سچ ہیں۔ جو آئندہ کی خبر اس میں ہے وہ بھی سچ ہے۔ اللہ کے سامنے ہو چکی ہوئی اور ہونے والی بات یکساں ہے۔ وہ غیب کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح ظاہر کو۔ اس کے بعد اپنی شان غفاریت کو اور شان رحم و کرم کو بیان فرمایا تاکہ بدلوگ بھی اس سے مایوس نہ ہوں۔ کچھ بھی کیا ہو، اب بھی اس کی طرف جھک جائیں، توبہ کریں، اپنے کئے پر پچھتائیں۔ نادم ہوں، اور رب کی رضا چاہیں۔

رحمت رحیم کے قربان جائیے کہ ایسے سرکش و دشمن، اللہ و رسول پر بہتان باز، اس قدر ایذائیں دینے والے لوگوں کو بھی اپنی عام رحمت کی دعوت دیتا ہے اور اپنے کرم کی طرف انہیں بلاتا ہے۔ وہ اللہ کو برا کہیں، وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہیں، وہ کلام اللہ پر باتیں بنائیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کی طرف رہنمائی کرے، اپنے فضل و کرم کی طرف دعوت دے، اسلام اور ہدایت ان پر پیش کرے، اپنی بھلی باتیں ان کو سجھائے اور سمجھائے۔ چنانچہ اور آیت میں عیسائیوں کی تثلیث پرستی کا ذکر کر کے ان کی سزا کا بیان کرتے ہوئے فرمایا «اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدة:74] ‏‏‏‏ ’ یہ لوگ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے؟ اور کیوں اس کی طرف جھک کر اس سے اپنے گناہوں کی معافی طلب نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی بخشنے والا اور بہت ہی مہربان ہے۔ ‘ مومنوں کو ستانے اور انہیں فتنے میں ڈالنے والوں کا ذکر کر کے سورۃ البروج میں فرمایا کہ اگر ایسے لوگ بھی توبہ کر لیں، اپنے برے کاموں سے ہٹ جائیں، باز آئیں تو میں بھی ان پر سے اپنے عذاب ہٹالوں گا اور رحمتوں سے نواز دونگا۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کیسے مزے کی بات بیان فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: اللہ کے رحم و کرم کو دیکھو، یہ لوگ اس کے نیک چہیتے بندوں کو ستائیں، ماریں، پیٹیں، قتل کریں اور وہ انہیں توبہ کی طرف اور اپنے رحم و کرم کی طرف بلائے! «فسبحانہ ما اعظم شانہ» ۔
4-1مشرکین کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کتاب گھڑنے میں یہود سے یا ان کے بعض دوست (مثلاً ابو فکیہہ یسار، عداس اور جبرو غیرہ) سے مدد لی۔ جیسا کہ سورة النحل آیت13میں اس کی ضروری تفصیل گزر چکی ہے۔
(آیت 4) ➊ { وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا …:} توحید کے بیان اور شرک اور مشرکین کے ردّ کے بعد منکرینِ نبوت کے شبہات و اعتراضات ذکر فرمائے، چنانچہ پہلا اعتراض ان کا یہ بیان فرمایا کہ یہ قرآن آپ نے اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے اور کچھ لوگوں نے اس معاملہ میں آپ کی مدد کی ہے۔ اس کی کچھ تفصیل سورۂ نحل (۱۰۳) میں گزر چکی ہے۔ ➋ { فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًا:} ظلم کا معنی کسی چیز کو اس کی جگہ کے سوا رکھ دینا ہے، کیونکہ ظلم کا اصل معنی اندھیرا ہے اور اندھیرے میں آدمی چیز کو اس کی جگہ نہیں رکھ سکتا۔ {” زُوْرًا “} ایسے سخت جھوٹ کو کہتے ہیں جو بنا سنوار کر خوش نما بنا دیا گیا ہو، اس لیے اس کا معنی فریب بھی ہو سکتا ہے۔ تنوین تہویل کے لیے ہے، یعنی انھوں نے یہ جو بات کہی ہے وہ بھاری ظلم (بے انصافی) اور سخت جھوٹ ہے، اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ قرآن جیسی کتاب، جس کی فصاحت و بلاغت اور مضامین کے مقابلے سے کل کائنات عاجز ہے، اسے اپنے پاس سے تصنیف کرکے پیش کر دینا کسی انسان کے بس میں نہیں، چاہے اس کی پشت پر چند نہیں ہزاروں بلکہ اللہ کے سوا سب جمع ہو جائیں۔ افسوس اور تعجب اس پر ہے کہ یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات کہہ رہے ہیں جن کی پوری زندگی ان کے سامنے گزری (دیکھیے یونس: ۱۶) اور جن کے بارے میں انھیں خوب معلوم ہے کہ آپ نے نہ کبھی پڑھنا لکھنا سیکھا اور نہ کسی عالم کی شاگردی کی (دیکھیے عنکبوت: ۴۸) پھر یہ قرآن آپ کی تصنیف کیسے ہو سکتا ہے؟
وَ قَالُوۡۤا اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ اکۡتَتَبَہَا فَہِیَ تُمۡلٰی عَلَیۡہِ بُکۡرَۃً وَّ اَصِیۡلًا ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہتے ہیں یہ پرانے لوگوں کی لکھی ہوئی چیزیں ہیں جنہیں یہ شخص نقل کرتا ہے اور وہ اِسے صبح و شام سنائی جاتی ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ بھی کہا کہ یہ تو اگلوں کے افسانے ہیں جو اس نے لکھا رکھے ہیں بس وہی صبح وشام اس کے سامنے پڑھے جاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے اگلوں کی کہانیاں ہیں جو انہوں نے لکھ لی ہیں تو وہ ان پر صبح و شام پڑھی جاتی ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی داستانیں ہیں جو اس شخص نے لکھوائی ہیں اور وہ صبح و شام اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں (یا اس سے لکھوائی جاتی ہیں)۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہایہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، جو اس نے لکھوا لی ہیں، تو وہ پہلے اور پچھلے پہر اس پر پڑھی جاتی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خود فریب مشرک ٭٭

خود فریب مشرکین ایک جہالت اوپر کی آیتوں میں بیان ہوئی۔ جو ذات الٰہی کی نسبت تھی۔ یہاں دوسری جہالت بیان ہو رہی ہے جو ذات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو تو اس نے اوروں کی مدد سے خود ہی جھوٹ موٹ گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ان کا ظلم اور جھوٹ ہے جس کے باطل ہونے کا خود انہیں بھی علم ہے۔ جو کچھ کہتے ہیں وہ خود اپنی معلومات کے بھی خلاف کہتے ہیں۔ کبھی ہانک لگانے لگتے ہیں کہ اگلی کتابوں کے قصے اس نے لکھوا لئے ہیں، وہی صبح شام اس کی مجلس میں پڑھے جا رہے ہیں۔ یہ جھوٹ وہ ہے جس میں کسی کو کوئی شک نہ ہو سکے۔ اس لیے کہ صرف اہل مکہ ہی نہیں بلکہ دنیا جانتی ہے کہ ہمارے نبی امی تھے نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔ چالیس سال کی نبوت سے پہلے کی زندگی آپ نے انہی لوگوں میں گزاری تھی اور وہ اس طرح کہ اتنی مدت میں ایک واقعہ بھی آپ کی زندگی میں یا ایک لمحہ بھی ایسا نہ تھا جس پر انگلی اٹھا سکے۔ ایک ایک وصف آپ کا وہ تھا جس پر زمانہ شیدا تھا جس پر اہل مکہ رشک کرتے تھے۔ آپ کی عام مقبولیت اور محبوبیت، بلند اخلاق اور خوش معاملگی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ہر ایک دل میں آپ کے لیے جگہ تھی۔ عام زبانیں آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم امین کے پیارے خطاب سے پکارتی تھیں، دنیا آپ کے قدموں تلے آنکھیں بچھاتی تھی۔ کون سا دل تھا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر نہ ہو، کون سی آنکھ تھی جس میں احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت نہ ہو؟ کون سا مجمع تھا جس میں آپ کا ذکر خیر نہ ہو؟ کون وہ شخص تھا جو آپ کی بزرگی، صداقت، امانت، نیکی اور بھلائی کا قائل نہ ہو؟

پھر جب کہ اللہ کی بلند ترین عزت سے آپ معزز کئے گئے۔ آسمانی وحی کے آپ امین بنائے گئے تو صرف باپ دادوں کی روش کو پامال ہوتے ہوئے دیکھ کر یہ بےوقوف بےپیندے لوٹے کی طرح لڑھک گئے، تھالی کے بینگن کی طرح ادھر سے ادھر ہو گئے، لگے باتیں بنانے، اور عیب جوئی کرنے لیکن جھوٹ کے پاؤں کہاں؟ کبھی آپ کو شاعر کہتے، کبھی ساحر اور کبھی کذاب۔ حیران تھے کہ کیا کہیں اور کس طرح اپنی جاہلانہ روش کو باقی رکھیں اور اپنے معبودان باطل کے جھنڈے اوندھے نہ ہونے دیں اور کس طرح ظلم کدہ دنیا کو نور الہٰی سے نہ جگمگانے دیں؟ اب انہیں جواب ملتا ہے کہ قرآن کی سچی حقائق پہ مبنی اور سچی خبریں اللہ کی دی ہوئی ہیں جو علام الغیوب ہے، جس سے ایک ذرہ پوشیدہ نہیں کہ اس میں ماضی کے بیان سبھی سچ ہیں۔ جو آئندہ کی خبر اس میں ہے وہ بھی سچ ہے۔ اللہ کے سامنے ہو چکی ہوئی اور ہونے والی بات یکساں ہے۔ وہ غیب کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح ظاہر کو۔ اس کے بعد اپنی شان غفاریت کو اور شان رحم و کرم کو بیان فرمایا تاکہ بدلوگ بھی اس سے مایوس نہ ہوں۔ کچھ بھی کیا ہو، اب بھی اس کی طرف جھک جائیں، توبہ کریں، اپنے کئے پر پچھتائیں۔ نادم ہوں، اور رب کی رضا چاہیں۔

رحمت رحیم کے قربان جائیے کہ ایسے سرکش و دشمن، اللہ و رسول پر بہتان باز، اس قدر ایذائیں دینے والے لوگوں کو بھی اپنی عام رحمت کی دعوت دیتا ہے اور اپنے کرم کی طرف انہیں بلاتا ہے۔ وہ اللہ کو برا کہیں، وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہیں، وہ کلام اللہ پر باتیں بنائیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کی طرف رہنمائی کرے، اپنے فضل و کرم کی طرف دعوت دے، اسلام اور ہدایت ان پر پیش کرے، اپنی بھلی باتیں ان کو سجھائے اور سمجھائے۔ چنانچہ اور آیت میں عیسائیوں کی تثلیث پرستی کا ذکر کر کے ان کی سزا کا بیان کرتے ہوئے فرمایا «اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدة:74] ‏‏‏‏ ’ یہ لوگ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے؟ اور کیوں اس کی طرف جھک کر اس سے اپنے گناہوں کی معافی طلب نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی بخشنے والا اور بہت ہی مہربان ہے۔ ‘ مومنوں کو ستانے اور انہیں فتنے میں ڈالنے والوں کا ذکر کر کے سورۃ البروج میں فرمایا کہ اگر ایسے لوگ بھی توبہ کر لیں، اپنے برے کاموں سے ہٹ جائیں، باز آئیں تو میں بھی ان پر سے اپنے عذاب ہٹالوں گا اور رحمتوں سے نواز دونگا۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کیسے مزے کی بات بیان فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: اللہ کے رحم و کرم کو دیکھو، یہ لوگ اس کے نیک چہیتے بندوں کو ستائیں، ماریں، پیٹیں، قتل کریں اور وہ انہیں توبہ کی طرف اور اپنے رحم و کرم کی طرف بلائے! «فسبحانہ ما اعظم شانہ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 5){ وَ قَالُوْۤا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا …:} یعنی خود تو اَن پڑھ ہے، اس لیے دوسرے لوگوں کے ذمے اس نے یہ کام لگا رکھا ہے کہ صبح و شام یہ لکھوائی ہوئی کہانیاں اسے پڑھ پڑھ کر سنائیں، تاکہ اسے زبانی یاد ہو جائیں۔ یہ بات ایسی تھی جس کے جھوٹ اور بہتان ہونے میں کسی کو شبہ نہیں ہو سکتا۔ چالیس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں رہ چکے تھے، اگر کوئی شخص چھوٹے سے شہر میں چند دن صبح و شام کسی کے پاس رہے تو اس کا پتا ہر ایک کو چل جاتا ہے اور ان لوگوں کا اصرار ہے کہ اب بھی دوسروں کی لکھوائی ہوئی باتیں صبح و شام آپ کے سامنے پڑھی جاتی ہیں۔ پھر اگر ایسا ہی تھا تو وہ بھی کسی سے لکھو اکر ایسی ایک سورت ہی پیش کر دیتے۔
قُلۡ اَنۡزَلَہُ الَّذِیۡ یَعۡلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّہٗ کَانَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے محمدؐ، ان سے کہو کہ "اِسے نازل کیا ہے اُس نے جو زمین اور آسمانوں کا بھید جانتا ہے" حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا غفور رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجیئے کہ اسے تو اس اللہ نے اتارا ہے جو آسمان وزمین کی تمام پوشیده باتوں کو جانتا ہے۔ بےشک وه بڑا ہی بخشنے واﻻ مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ اسے تو اس نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر بات جانتا ہے بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ اس (قرآن) کو اس (خدا) نے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین کے رازوں کو جانتا ہے۔ بےشک وہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
توکہہ اسے اس نے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین میں سب پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ بے شک وہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خود فریب مشرک ٭٭

خود فریب مشرکین ایک جہالت اوپر کی آیتوں میں بیان ہوئی۔ جو ذات الٰہی کی نسبت تھی۔ یہاں دوسری جہالت بیان ہو رہی ہے جو ذات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو تو اس نے اوروں کی مدد سے خود ہی جھوٹ موٹ گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ان کا ظلم اور جھوٹ ہے جس کے باطل ہونے کا خود انہیں بھی علم ہے۔ جو کچھ کہتے ہیں وہ خود اپنی معلومات کے بھی خلاف کہتے ہیں۔ کبھی ہانک لگانے لگتے ہیں کہ اگلی کتابوں کے قصے اس نے لکھوا لئے ہیں، وہی صبح شام اس کی مجلس میں پڑھے جا رہے ہیں۔ یہ جھوٹ وہ ہے جس میں کسی کو کوئی شک نہ ہو سکے۔ اس لیے کہ صرف اہل مکہ ہی نہیں بلکہ دنیا جانتی ہے کہ ہمارے نبی امی تھے نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔ چالیس سال کی نبوت سے پہلے کی زندگی آپ نے انہی لوگوں میں گزاری تھی اور وہ اس طرح کہ اتنی مدت میں ایک واقعہ بھی آپ کی زندگی میں یا ایک لمحہ بھی ایسا نہ تھا جس پر انگلی اٹھا سکے۔ ایک ایک وصف آپ کا وہ تھا جس پر زمانہ شیدا تھا جس پر اہل مکہ رشک کرتے تھے۔ آپ کی عام مقبولیت اور محبوبیت، بلند اخلاق اور خوش معاملگی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ہر ایک دل میں آپ کے لیے جگہ تھی۔ عام زبانیں آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم امین کے پیارے خطاب سے پکارتی تھیں، دنیا آپ کے قدموں تلے آنکھیں بچھاتی تھی۔ کون سا دل تھا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر نہ ہو، کون سی آنکھ تھی جس میں احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت نہ ہو؟ کون سا مجمع تھا جس میں آپ کا ذکر خیر نہ ہو؟ کون وہ شخص تھا جو آپ کی بزرگی، صداقت، امانت، نیکی اور بھلائی کا قائل نہ ہو؟

پھر جب کہ اللہ کی بلند ترین عزت سے آپ معزز کئے گئے۔ آسمانی وحی کے آپ امین بنائے گئے تو صرف باپ دادوں کی روش کو پامال ہوتے ہوئے دیکھ کر یہ بےوقوف بےپیندے لوٹے کی طرح لڑھک گئے، تھالی کے بینگن کی طرح ادھر سے ادھر ہو گئے، لگے باتیں بنانے، اور عیب جوئی کرنے لیکن جھوٹ کے پاؤں کہاں؟ کبھی آپ کو شاعر کہتے، کبھی ساحر اور کبھی کذاب۔ حیران تھے کہ کیا کہیں اور کس طرح اپنی جاہلانہ روش کو باقی رکھیں اور اپنے معبودان باطل کے جھنڈے اوندھے نہ ہونے دیں اور کس طرح ظلم کدہ دنیا کو نور الہٰی سے نہ جگمگانے دیں؟ اب انہیں جواب ملتا ہے کہ قرآن کی سچی حقائق پہ مبنی اور سچی خبریں اللہ کی دی ہوئی ہیں جو علام الغیوب ہے، جس سے ایک ذرہ پوشیدہ نہیں کہ اس میں ماضی کے بیان سبھی سچ ہیں۔ جو آئندہ کی خبر اس میں ہے وہ بھی سچ ہے۔ اللہ کے سامنے ہو چکی ہوئی اور ہونے والی بات یکساں ہے۔ وہ غیب کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح ظاہر کو۔ اس کے بعد اپنی شان غفاریت کو اور شان رحم و کرم کو بیان فرمایا تاکہ بدلوگ بھی اس سے مایوس نہ ہوں۔ کچھ بھی کیا ہو، اب بھی اس کی طرف جھک جائیں، توبہ کریں، اپنے کئے پر پچھتائیں۔ نادم ہوں، اور رب کی رضا چاہیں۔

رحمت رحیم کے قربان جائیے کہ ایسے سرکش و دشمن، اللہ و رسول پر بہتان باز، اس قدر ایذائیں دینے والے لوگوں کو بھی اپنی عام رحمت کی دعوت دیتا ہے اور اپنے کرم کی طرف انہیں بلاتا ہے۔ وہ اللہ کو برا کہیں، وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہیں، وہ کلام اللہ پر باتیں بنائیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کی طرف رہنمائی کرے، اپنے فضل و کرم کی طرف دعوت دے، اسلام اور ہدایت ان پر پیش کرے، اپنی بھلی باتیں ان کو سجھائے اور سمجھائے۔ چنانچہ اور آیت میں عیسائیوں کی تثلیث پرستی کا ذکر کر کے ان کی سزا کا بیان کرتے ہوئے فرمایا «اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدة:74] ‏‏‏‏ ’ یہ لوگ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے؟ اور کیوں اس کی طرف جھک کر اس سے اپنے گناہوں کی معافی طلب نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی بخشنے والا اور بہت ہی مہربان ہے۔ ‘ مومنوں کو ستانے اور انہیں فتنے میں ڈالنے والوں کا ذکر کر کے سورۃ البروج میں فرمایا کہ اگر ایسے لوگ بھی توبہ کر لیں، اپنے برے کاموں سے ہٹ جائیں، باز آئیں تو میں بھی ان پر سے اپنے عذاب ہٹالوں گا اور رحمتوں سے نواز دونگا۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کیسے مزے کی بات بیان فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: اللہ کے رحم و کرم کو دیکھو، یہ لوگ اس کے نیک چہیتے بندوں کو ستائیں، ماریں، پیٹیں، قتل کریں اور وہ انہیں توبہ کی طرف اور اپنے رحم و کرم کی طرف بلائے! «فسبحانہ ما اعظم شانہ» ۔
6-1یہ ان کے جھوٹ اور افترا کے جواب میں کہا کہ قرآن کو تو دیکھو، اس میں کیا ہے؟ کیا اس کی کوئی بات غلط اور خلاف واقعہ ہے؟ یقینا نہیں ہے، بلکہ ہر بات بالکل صحیح اور سچی ہے، اس لئے کہ اس کو اتارنے والی ذات وہ ہے جو آسمان و زمین کی ہر پوشیدہ بات کو جانتا ہے۔
(آیت 6) ➊ { قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِيْ يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} یہ ان کے جھوٹ اور افترا کے جواب میں فرمایا کہ قرآن کو تو دیکھو اس میں کیا ہے؟ کیا اس کی کوئی بات غلط اور خلاف واقعہ ہے؟ یقینا نہیں ہے، بلکہ ہر بات بالکل سچی اور صحیح ہے، اس لیے کہ اس کو اتارنے والی وہ ذات ہے جس کے پاس زمین و آسمان کی ظاہر باتوں ہی کا نہیں تمام پوشیدہ باتوں کا بھی پورا علم ہے۔ وہ ماضی کو جانتا ہے، حال اور مستقبل کو بھی۔ اس لیے اس کی نازل کردہ کتاب میں گزشتہ زمانوں کی باتیں ہیں، حال کی بھی اور آئندہ زمانے کی بھی اور ان میں سے کوئی بات غلط ثابت ہوئی ہے نہ ہو گی۔ جو شخص آسمانوں اور زمین کے تمام راز نہ جانتا ہو وہ اس جیسی کتاب تو کجا اس جیسی ایک سورت بھی نہیں بنا سکتا، اگر تمھیں اصرار ہے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ بندے کی تصنیف ہے، تو تم بھی مقابلے میں کوئی سورت لے آؤ۔ ➋ { اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ جو سب چیزوں کا علم رکھتا ہو وہ ہر چیز پر قادر بھی ہوتا ہے، پھر وہ ان لوگوں کے انکار، تکبر اور استہزا پر فوری گرفت کیوں نہیں کرتا۔ فرمایا وجہ یہ ہے کہ {” اِنَّهٗ كَانَ “} یعنی وہ ہمیشہ سے بندوں کے گناہوں پر بہت پردہ ڈالنے والا ہے، دائمی رحم والا ہے، وہ چاہتا تو اس گستاخی پر انھیں سخت سزا دیتا، مگر وہ غفور و رحیم ہے، اس لیے تم سے درگزر کر رہا ہے۔ اس میں انھیں توبہ و انابت اور اسلام و ہدایت کی طرف پلٹ آنے کی ترغیب ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یعنی (آسمان و زمین کی چھپی ہوئی باتیں جاننے والے نے) اپنی بخشش اور مہربانی سے ہی اسے اتارا ہے۔“ (موضح) یعنی اس کی مغفرت و رحمت یہ قرآن اتارنے کا باعث ہے۔
وَ قَالُوۡا مَالِ ہٰذَا الرَّسُوۡلِ یَاۡکُلُ الطَّعَامَ وَ یَمۡشِیۡ فِی الۡاَسۡوَاقِ ؕ لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مَلَکٌ فَیَکُوۡنَ مَعَہٗ نَذِیۡرًا ۙ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہتے ہیں "یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے؟ کیوں نہ اس کے پاس کوئی فرشتہ بھیجا گیا جو اس کے ساتھ رہتا اور (نہ ماننے والوں کو) دھمکاتا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور انہوں نے کہا کہ یہ کیسا رسول ہے؟ کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا جاتا؟ کہ وه بھی اس کے ساتھ ہو کر ڈرانے واﻻ بن جاتا
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے اور رسول کو کیا ہوا کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے (ف۹۱۶ کیوں نہ اتارا گیا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کہ ان کے ساتھ ڈر سناتا
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے؟ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا جو اس کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا؟
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا اس رسول کو کیا ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا کہ اس کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی حماقتیں ٭٭

اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:53] ‏‏‏‏ الخ، ’ اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ ‘ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔ یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔

دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔ حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔ پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔ اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔

جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ’ جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ ‘ ۱؎ [67-الملك:7-8] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔

سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔ اور روایت میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: { سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:152/3:ضعیف] ‏‏‏‏ «ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:102] ‏‏‏‏ ’ فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ ‘ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
7-1قرآن پر طعن کرنے کے بعد رسول پر طعن کیا جا رہا ہے اور یہ طعن رسول کی بشریت پر ہے۔ کیونکہ ان کے خیال میں بشریت، عظمت رسالت کی متحمل نہیں۔ اس لئے انہوں نے کہا کہ یہ تو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے اور ہمارے ہی جیسا بشر ہے۔ حالانکہ رسول کو تو بشر نہیں ہونا چاہیئے۔
(آیت 7) ➊ { وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ …:} یہ قرآن پر طعن کے بعد رسول پر طعن ہے اور بہت گھٹیا طعن ہے، کفار کا یہ جاہلانہ طعن قرآن میں متعدد مقامات پر دہرایا گیا ہے، ان کے خیال میں کوئی بشر رسول نہیں ہو سکتا۔ (دیکھیے بنی اسرائیل: ۹۴، ۹۵) اس لیے انھوں نے کہا، یہ رسول (جو ہماری طرف بھیجے جانے کا دعویٰ کرتا ہے) اسے کیا ہے کہ ہماری طرح کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، ہم میں اور اس میں فرق کیا ہے؟ اسے تو فرشتہ ہونا چاہیے تھا، جو بشری ضرورتوں سے پاک ہوتا اور اگر انسان ہوتے ہوئے اسے یہ مقام مل گیا تھا، تو اس کی شان کم از کم اتنی تو ہوتی جتنی دنیا کے کسی بادشاہ کی ہوتی ہے۔ (دیکھیے زخرف: ۵۳) اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب آگے آیت (۲۰) میں دیا ہے۔ ➋ { لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ …:} یعنی اگر انسان ہی کو رسول ہونا تھا تو اس کی طرف آسمان سے کوئی فرشتہ اتارا جاتا، جو سب کو نظر آتا، ہر وقت اس کے ساتھ رہتا اور لوگوں کو بتاتا کہ یہ اللہ کا رسول ہے، پھر جو لوگ اس پر ایمان نہ لاتے انھیں اللہ کے عذاب کی دھمکی دیتا۔
اَوۡ یُلۡقٰۤی اِلَیۡہِ کَنۡزٌ اَوۡ تَکُوۡنُ لَہٗ جَنَّۃٌ یَّاۡکُلُ مِنۡہَا ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوۡنَ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یا اور کچھ نہیں تو اِس کے لیے کوئی خزانہ ہی اتار دیا جاتا، یا اس کے پاس کوئی باغ ہی ہوتا جس سے یہ (اطمینان کی) روزی حاصل کرتا" اور ظالم کہتے ہیں "تم لوگ تو ایک سحر زدہ آدمی کے پیچھے لگ گئے ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
یا اس کے پاس کوئی خزانہ ہی ڈال دیا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہی ہوتا جس میں سے یہ کھاتا۔ اور ان ﻇالموں نے کہا کہ تم ایسے آدمی کے پیچھے ہو لئے ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
یا غیب سے انہیں کوئی خزانہ مل جاتا یا ان کا کوئی باغ ہوتا جس میں سے کھاتے اور ظالم بولے تم تو پیروی نہیں کرتے مگر ایک ایسے مرد کی جس پر جادو ہوا
علامہ محمد حسین نجفی
یا اس پر کوئی خزانہ اتارا جاتا یا اس کے لئے کوئی باغ ہی ہوتا جس سے یہ کھاتا؟ اور ظالموں نے تو (یہاں تک) کہہ دیا کہ تم ایک ایسے شخص کی پیروی کر رہے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یا اس کی طرف کوئی خزانہ اتارا جاتا، یا اس کا کوئی باغ ہوتا جس سے وہ کھایا کرتا اور ظالموں نے کہا تم تو بس ایسے آدمی کی پیروی کر رہے ہو جس پر جادو کیا ہوا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی حماقتیں ٭٭

اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:53] ‏‏‏‏ الخ، ’ اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ ‘ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔ یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔

دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔ حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔ پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔ اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔

جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ’ جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ ‘ ۱؎ [67-الملك:7-8] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔

سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔ اور روایت میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: { سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:152/3:ضعیف] ‏‏‏‏ «ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:102] ‏‏‏‏ ’ فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ ‘ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
8-1تاکہ طلب رزق سے بےنیاز ہو۔ 8-2تاکہ اس کی حیثیت تو ہم سے کچھ ممتاز ہوجاتی۔ 8-3یعنی جس کی عقل و فہم سحر زدہ ہے
(آیت 8) ➊ { اَوْ يُلْقٰۤى اِلَيْهِ كَنْزٌ:} یا اس کی طرف کوئی خزانہ اتارا جاتا جس سے اس کی شان کم از کم قیصر و کسریٰ کی سی تو ہوتی۔ ➋ {اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاْكُلُ مِنْهَا:} یا خزانہ نہ سہی، کم از کم اس کا کوئی باغ ہوتا، تاکہ اس باغ سے اطمینان کی روزی حاصل کرتا اور روزی کمانے کے لیے بازاروں کے چکر لگانے سے بچ جاتا۔ کفار کے اس طرح کے مطالبات کی اس سے بھی لمبی فہرست سورۂ بنی اسرائیل (۹۰ تا ۹۳) میں بیان ہوئی ہے۔ ➌ { وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا:} یہی بات فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی۔ دیکھیے بنی اسرائیل (۱۰۱)۔
اُنۡظُرۡ کَیۡفَ ضَرَبُوۡا لَکَ الۡاَمۡثَالَ فَضَلُّوۡا فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ سَبِیۡلًا ﴿٪۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
دیکھو، کیسی کیسی عجیب حجتیں یہ لوگ تمہارے آگے پیش کر رہے ہیں، ایسے بہکے ہیں کہ کوئی ٹھکانے کی بات اِن کو نہیں سوجھتی
مولانا محمد جوناگڑھی
خیال تو کیجیئے! کہ یہ لوگ آپ کی نسبت کیسی کیسی باتیں بناتے ہیں۔ پس جس سے وه خود ہی بہک رہے ہیں اور کسی طرح راه پر نہیں آسکتے
احمد رضا خان بریلوی
اے محبوب دیکھو کیسی کہاوتیں تمہارے لیے بنارہے ہیں تو گمراہ ہوئے کہ اب کوئی راہ نہیں پاتے،
علامہ محمد حسین نجفی
دیکھئے! یہ لوگ آپ کے متعلق کیسی کیسی (کٹ حجتیاں) باتیں بیان کرتے ہیں سو وہ گمراہ ہوگئے ہیں سو اب وہ راہ نہیں پا سکتے۔
عبدالسلام بن محمد
دیکھ انھوں نے تیرے لیے کیسی مثالیں بیان کیں، سو گمراہ ہو گئے، پس وہ کوئی راستہ نہیں پاسکتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی حماقتیں ٭٭

اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:53] ‏‏‏‏ الخ، ’ اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ ‘ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔ یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔

دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔ حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔ پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔ اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔

جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ’ جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ ‘ ۱؎ [67-الملك:7-8] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔

سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔ اور روایت میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: { سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:152/3:ضعیف] ‏‏‏‏ «ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:102] ‏‏‏‏ ’ فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ ‘ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
9-1یعنی اے پیغمبر! آپ کی نسبت یہ اس قسم کی باتیں اور بہتان تراشی کرتے ہیں، کبھی ساحر کہتے ہیں، کبھی مسحور و مجنون اور کبھی کذاب و شاعر۔ حالانکہ یہ ساری باتیں باطل ہیں اور جن کے پاس ذرہ برابر بھی عقل فہم ہے، وہ ان کا جھوٹا ہونا جانتے ہیں، پس یہ ایسی باتیں کر کے خود ہی راہ ہدایت سے دور ہوجاتے ہیں، انھیں راہ راست کس طرح نصیب ہوسکتی ہے؟
(آیت 9) ➊ { اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ:} دیکھو انھوں نے تمھارے لیے کیسے مثالیں بیان کیں، صرف اس لیے کہ کسی طرح آپ کو جھوٹا ثابت کر سکیں۔ ➋ { فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا:} سو بھٹک گئے اور ایسے بھٹکے کہ کسی راستے پر آ ہی نہیں سکتے، کیونکہ راہ پر وہ آتا ہے جس کے دل میں اخلاص ہو اور وہ محض غلط فہمی کا شکار ہو گیا ہو، ان کے دلوں میں تو اخلاص کے بجائے ضد اور ہٹ دھرمی ہے۔ مزید دیکھیے بنی اسرائیل (۴۷، ۴۸)۔
تَبٰرَکَ الَّذِیۡۤ اِنۡ شَآءَ جَعَلَ لَکَ خَیۡرًا مِّنۡ ذٰلِکَ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۙ وَ یَجۡعَلۡ لَّکَ قُصُوۡرًا ﴿۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بڑا بابرکت ہے وہ جو اگر چاہے تو ان کی تجویز کردہ چیزوں سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر تم کو دے سکتا ہے، (ایک نہیں) بہت سے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اور بڑے بڑے محل
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ تو ایسا بابرکت ہے کہ اگر چاہے تو آپ کو بہت سے ایسے باغات عنایت فرما دے جو ان کے کہے ہوئے باغ سے بہت ہی بہتر ہوں جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہوں اور آپ کو بہت سے (پختہ) محل بھی دے دے
احمد رضا خان بریلوی
بڑی برکت والا ہے وہ کہ اگر چاہے تو تمہارے لیے بہت بہتر اس سے کردے جنتیں جن کے نیچے نہریں بہیں اور کرے گا تمہارے لیے اونچے اونچے محل،
علامہ محمد حسین نجفی
بڑا بابرکت ہے وہ خدا جو اگر چاہے تو آپ کو اس (کفار کی بیان کردہ چیزوں) سے بہتر دے دے۔ یعنی ایسے باغات کہ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں۔ اور آپ کیلئے (عالیشان) محل بنوا دے۔
عبدالسلام بن محمد
بہت برکت والا ہے وہ کہ اگر چاہے تو تیرے لیے اس سے بھی بہتر بنا دے ایسے باغات جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہیں اور تیرے لیے کئی محل بنا دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی حماقتیں ٭٭

اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:53] ‏‏‏‏ الخ، ’ اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ ‘ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔ یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔

دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔ حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔ پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔ اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔

جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ’ جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ ‘ ۱؎ [67-الملك:7-8] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔

سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔ اور روایت میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: { سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:152/3:ضعیف] ‏‏‏‏ «ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:102] ‏‏‏‏ ’ فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ ‘ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
10-1یعنی یہ آپ کے لئے جو مطالبے کرتے ہیں، اللہ کے لئے ان کا کردینا کوئی مشکل نہیں ہے، وہ چاہے تو ان سے بہتر باغات اور محلات دنیا میں آپ کو عطا کرسکتا ہے جو کہ ان کے دماغوں میں ہیں۔ لیکن ان کے مطالبے تو تکذیب وعناد کے طور پر ہیں نہ کہ طلب ہدایت اور تلاش نجات کے لئے۔
(آیت 10){ تَبٰرَكَ الَّذِيْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ …:} بہت برکت اور لامحدود قوتوں اور اسباب کا مالک ہے وہ اللہ کہ اگر چاہے تو جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں آپ کو اس سے کہیں بہتر چیزیں دنیا ہی میں دے دے، ایک باغ نہیں بے شمار باغات دے دے، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور ایک محل نہیں بہت سے محل عطا کر دے۔
بَلۡ کَذَّبُوۡا بِالسَّاعَۃِ ۟ وَ اَعۡتَدۡنَا لِمَنۡ کَذَّبَ بِالسَّاعَۃِ سَعِیۡرًا ﴿ۚ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ "اُس گھڑی" کو جھٹلا چکے ہیں اور جو اُس گھڑی کو جھٹلائے اس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بات یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھتے ہیں اور قیامت کے جھٹلانے والوں کے لئے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ یہ تو قیامت کو جھٹلاتے ہیں، اور جو قیامت کو جھٹلائے ہم نے اس کے لیے تیار کر رکھی ہے بھڑکتی ہوئی آگ،
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ یہ لوگ قیامت کو جھٹلاتے ہیں اور جو لوگ قیامت کو جھٹلاتے ہیں ہم نے ان کیلئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ انھوںنے قیامت کو جھٹلا دیا اور ہم نے اس کے لیے جو قیامت کو جھٹلائے ، ایک بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی حماقتیں ٭٭

اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:53] ‏‏‏‏ الخ، ’ اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ ‘ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔ یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔

دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔ حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔ پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔ اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔

جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ’ جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ ‘ ۱؎ [67-الملك:7-8] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔

سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔ اور روایت میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: { سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:152/3:ضعیف] ‏‏‏‏ «ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:102] ‏‏‏‏ ’ فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ ‘ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
11-1قیامت کا جھٹلانا ہی تکذیب رسالت کا بھی باعث ہے۔
(آیت 11){ بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ …:} پچھلی آیت کے ساتھ اس کا تعلق یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے کہیں بہتر چیزیں عطا کر بھی دے تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ لوگ ایمان لے آئیں گے؟ یقینی جواب اس کا یہ ہے کہ یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے، بلکہ پھر اور قسم کی باتیں بنانا شروع کر دیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ سرے سے قیامت کے دن کو، دوبارہ جی اٹھنے کو، اللہ کے سامنے حاضر ہونے کو اور اپنے برے اعمال کی سزا بھگتنے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ انھوں نے اسے صاف جھٹلا دیا ہے، کیونکہ اس سے انھیں دنیا میں اپنی خواہش پرستی سے دست بردار ہونا پڑتا ہے، پھر اگر یہ لوگ ایسی کٹ حجتیاں نہ کریں تو اور کریں بھی کیا؟ دیکھیے سورۂ قیامہ کی آیات (۱ تا ۶)۔
اِذَا رَاَتۡہُمۡ مِّنۡ مَّکَانٍۭ بَعِیۡدٍ سَمِعُوۡا لَہَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیۡرًا ﴿۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ جب دور سے اِن کو دیکھے گی تو یہ اُس کے غضب اور جوش کی آوازیں سن لیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جب وه انہیں دور سے دیکھے گی تو یہ اس کا غصے سے بپھرنا اور دھاڑنا سنیں گے
احمد رضا خان بریلوی
جب وہ انہیں دور جگہ سے دیکھے گی تو سنیں گے اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ (آگ) جب انہیں دور سے دیکھے گی تو وہ اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا سنیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
جب وہ انھیں دور جگہ سے دیکھے گی تو وہ اس کے لیے سخت غصے کی اور گدھے کی سی آواز سنیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی حماقتیں ٭٭

اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:53] ‏‏‏‏ الخ، ’ اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ ‘ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔ یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔

دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔ حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔ پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔ اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔

جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ’ جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ ‘ ۱؎ [67-الملك:7-8] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔

سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔ اور روایت میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: { سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:152/3:ضعیف] ‏‏‏‏ «ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:102] ‏‏‏‏ ’ فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ ‘ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
12-1یعنی جہنم ان کافروں کو دور سے میدان محشر میں دیکھ کر ہی غصے سے کھول اٹھے گی اور ان کو اپنے دامن غضب میں لینے کے لئے چلائے گی اور جھنجھلائے گی، جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (اِذَآ اُلْقُوْا فِيْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِيْقًا وَّهِىَ تَفُوْرُ ۝ ۙ تَكَادُ تَمَــيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ) 67۔ الملک:8-7) ' ' جب جہنمی، جہنم میں ڈالے جائیں گے تو اس کا دھاڑنا سنیں گے اور وہ (جوش غضب سے) اچھلتی ہوگی، ایسے لگے گا کہ وہ غصے سے پھٹ پڑے گی ' جہنم کا دیکھنا اور چلانا ایک حقیقت ہے۔
(آیت 12){ اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِيْدٍ …:} جہنم جب ان کافروں کو بہت دور سے دیکھے گی تو وہ جہنم کی ایسی آواز سنیں گے جو شدید غصے والی اور گدھے کی آواز جیسی ہو گی۔ اس وقت جہنم کے غصے کا حال سورۂ ملک (۶ تا ۸) میں بیان ہوا ہے۔ اس سے جہنم کا صاحب شعور ہونا ثابت ہوتا ہے، اس کے علاوہ بھی کئی آیات و احادیث سے جہنم کا صاحب شعور ہونا، غصے ہونا، گدھے جیسی آواز نکالنا، کلام کرنا سب کچھ ثابت ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ يَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ }» [ قٓ: ۳۰ ] ”جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کیا تو بھر گئی؟ اور وہ کہے گی کیا کچھ مزید ہے؟“ اور صحیح بخاری میں جنت اور جہنم کے آپس میں جھگڑنے کا ذکر آیا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کے جہنم کے اندر قدم (پاؤں) رکھنے پر اس کے قط قط (بس بس) کہنے کا ذکر ہے۔ [ دیکھیے بخاري، التفسیر، باب قولہ: «‏‏‏‏و تقول ھل من مزید» ‏‏‏‏: ۴۸۴۸، ۴۸۴۹ ] اور بخاری ہی میں جہنم کے اللہ تعالیٰ سے اپنی شدید گرمی کی شکایت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے سال میں دو سانس نکالنے کی اجازت ملنے کی حدیث موجود ہے۔ [ دیکھیے بخاري، بدء الخلق، باب صفۃ النار وأنہا مخلوقۃ: ۳۲۶۰ ] جہنم کے شعور، اس کی تندی اور سرکشی کے لیے دیکھیے سورۂ فجر (۲۳) کی تفسیر۔ بعض عقل پرست حضرات ان تمام آیات و احادیث کو مجاز پر محمول کرتے ہیں، مگر اہل السنہ اسے حقیقت مانتے ہیں، کیونکہ مجاز اس وقت مانا جاتا ہے جب حقیقت ناممکن ہو۔ اللہ تعالیٰ کا جہنم کو شعور، رؤیت اور کلام عطا کرنا کچھ مشکل نہیں۔ اگر بے جان حنانہ (ستون) کے رونے کی آواز صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سن سکتے ہیں تو جہنمی جہنم کے غصے کی آواز کیوں نہیں سن سکتے اور جہنم انھیں دور سے کیوں نہیں دیکھ سکتی؟ اور اگر اللہ تعالیٰ گوشت کے ایک ٹکڑے (زبان) کو بولنے کی قوت عطا کر سکتا ہے تو وہ کسی بھی چیز میں یہ قوت کیوں پیدا نہیں کر سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے قریب مسلمانوں اور یہودیوں کی جنگ میں غرقد کے سوا ہر درخت اور پتھر مومن کو بول کر بتائے گا کہ یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے اسے قتل کر دے۔ [ دیکھیے مسلم، الفتن و أشراط الساعۃ، باب لا تقوم الساعۃ حتی…: ۲۹۲۲ ] اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ، لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰی تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ، وَ حَتّٰی تُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ وَ شِرَاكُ نَعْلِهِ وَ تُخْبِرُهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ ] [ ترمذي، الفتن، باب ما جاء في کلام السباع: ۲۱۸۱، وقال الألباني صحیح ] ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ درندے انسانوں سے کلام کریں گے اور آدمی سے اس کے کوڑے کا سرا اور جوتے کا تسمہ کلام کرے گا اور اس کی ران اسے بتائے گی کہ اس کے اہل نے اس کے بعد کیا گناہ کیا ہے۔“ عقل پرست حضرات ان تمام مقامات پر تاویل کرتے جائیں تو اکثر آیات و احادیث کھلونا بن کر رہ جائیں گی، جن سے یہ لوگ جس طرح چاہیں گے کھیلیں گے اور جو مطلب چاہیں گے نکالتے رہیں گے۔
وَ اِذَاۤ اُلۡقُوۡا مِنۡہَا مَکَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیۡنَ دَعَوۡا ہُنَالِکَ ثُبُوۡرًا ﴿ؕ۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب یہ دست و پا بستہ اُس میں ایک تنگ جگہ ٹھونسے جائیں گے تو اپنی موت کو پکارنے لگیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب یہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں مشکیں کس کر پھینک دیئے جائیں گے تو وہاں اپنے لئے موت ہی موت پکاریں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب اس کی کسی تنگ جگہ میں ڈالے جائیں گے زنجیروں میں جکڑے ہوئے تو وہاں موت مانگیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب انہیں زنجیروں میں جکڑ کر آتش (دوزخ) کی کسی تنگ جگہ میں ڈال دیا جائے گا تو وہاں (اپنی) ہلاکت کو پکاریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب وہ اس کی کسی تنگ جگہ میں آپس میں جکڑے ہوئے ڈالے جائیں گے تو وہاں کسی نہ کسی ہلاکت کو پکاریں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی حماقتیں ٭٭

اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:53] ‏‏‏‏ الخ، ’ اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ ‘ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔ یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔

دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔ حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔ پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔ اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔

جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ’ جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ ‘ ۱؎ [67-الملك:7-8] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔

سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔ اور روایت میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: { سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:152/3:ضعیف] ‏‏‏‏ «ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:102] ‏‏‏‏ ’ فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ ‘ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 13) {وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا …:” مُقَرَّنِيْنَ”قَرَنَ الثَّوْرَيْنِ“} (ض) اس نے دو بیل ایک لکڑی میں اکٹھے جوڑ دیے۔ {” قَرَنَ الْبَعِيْرَيْنِ“} اس نے دو اونٹ ایک رسی میں اکٹھے باندھ دیے۔ {” مُقَرَّنِيْنَ “} باب تفعیل سے اسم مفعول ہے، اس میں باندھنے کی شدت کا اظہار ہو رہا ہے۔ اس سے دو چیزوں کا مفہوم ظاہر ہوتا ہے، ایک ان کے ہاتھوں، پاؤں اور گردنوں کا زنجیروں سے بندھا ہوا ہونا اور دوسرا ایک قسم کے کئی مجرموں کا ایک ہی جگہ ہونا۔ (دیکھیے نمل: ۸۳۔ حم السجدہ: ۱۹) یعنی جہنم میں ہر مجرم کے لیے اتنی تنگ جگہ ہو گی جہاں سے وہ ہل بھی نہیں سکے گا، اس کے علاوہ ایک ہی قسم کے کئی مجرم ایک ساتھ ہوں گے۔ (دیکھیے ابراہیم: ۴۹۔ ہمزہ: ۸، ۹) جہنم کی آگ کی لپٹیں انھیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہو ں گی، اس وقت وہ سخت مصیبت سے گھبرا کر موت کو پکاریں گے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یعنی ایک بار مریں تو چھوٹ جائیں، دن میں ہزار بار مرنے سے بدتر حال ہوتا ہے۔“ (موضح)
لَا تَدۡعُوا الۡیَوۡمَ ثُبُوۡرًا وَّاحِدًا وَّ ادۡعُوۡا ثُبُوۡرًا کَثِیۡرًا ﴿۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ) آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کو پکارو
مولانا محمد جوناگڑھی
(ان سے کہا جائے گا) آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی اموات کو پکارو
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا جائے گا آج ایک موت نہ مانگو اور بہت سی موتیں مانگو
علامہ محمد حسین نجفی
(ان سے کہا جائے گا کہ) آج ایک ہلاکت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی ہلاکتوں کو پکارو۔
عبدالسلام بن محمد
آج ایک ہلاکت کو مت پکارو، بلکہ بہت زیادہ ہلاکتوں کو پکارو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی حماقتیں ٭٭

اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:53] ‏‏‏‏ الخ، ’ اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ ‘ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔ یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔

دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔ حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔ پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔ اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔

جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ’ جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ ‘ ۱؎ [67-الملك:7-8] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔

سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔ اور روایت میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: { سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:152/3:ضعیف] ‏‏‏‏ «ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:102] ‏‏‏‏ ’ فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ ‘ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
14-1یعنی جہنمی جب جہنم کے عذاب سے تنگ آ کر آرزو کریں گے کہ کاش انھیں موت آجائے، وہ فنا کے گھاٹ اتر جائیں۔ تو ان سے کہا جائے گا کہ اب ایک موت نہیں کئی موتوں کو پکارو۔ مطلب یہ ہے کہ اب تمہاری قسمت میں ہمیشہ کے لئے انواع و اقسام کے عذاب ہیں یعنی موتیں ہی موتیں ہیں، تم کہاں تک موت کا مطالبہ کرو گے
(آیت 14){ لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا …:} یعنی انھیں یہ جواب دیا جائے گا۔ دیکھیے سورۂ زخرف (۷۷) اور مومن (۴۹، ۵۰)۔
قُلۡ اَذٰلِکَ خَیۡرٌ اَمۡ جَنَّۃُ الۡخُلۡدِ الَّتِیۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ ؕ کَانَتۡ لَہُمۡ جَزَآءً وَّ مَصِیۡرًا ﴿۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن سے پوچھو، یہ انجام اچھا ہے یا وہ اَبدی جنت جس کا وعدہ خداترس پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے؟ جو اُن کے اعمال کی جزا اور اُن کے سفر کی آخری منزل ہو گی
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجیئے کہ کیا یہ بہتر ہے یا وه ہمیشگی والی جنت جس کا وعده پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے، جو ان کا بدلہ ہے اور ان کے لوٹنے کی اصلی جگہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ کیا یہ بھلا یا وہ ہمیشگی کے باغ جس کا وعدہ ڈر والوں کو ہے، وہ ان کا صلہ اور انجام ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ ان سے کہیے کہ آیا یہ (آتش دوزخ) اچھی ہے یا وہ دائمی جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ ان (کے اعمال) کا صلہ ہے اور (آخری) ٹھکانا۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے کیا یہ بہتر ہے یا ہمیشگی کی جنت، جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے، وہ ان کے لیے بدلہ اور ٹھکانا ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابدی لذتیں اور مسرتیں ٭٭

اوپر بیان فرمایا ان بدکاروں کا جو ذلت و خواری کے ساتھ اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے جائیں گے اور سر کے بل وہاں پھینک دئیے جائیں گے۔ بندھے بندھائے ہوں گے اور تنگ و تاریک جگہ ہوں گے، نہ چھوٹ سکیں، نہ حرکت کر سکیں، نہ بھاگ سکیں، نہ نکل سکیں۔ پھر فرماتا ہے: بتلاؤ یہ اچھے ہیں یا وہ؟ جو دنیا میں گناہوں سے بچتے رہے، اللہ کا ڈر دل میں رکھتے رہے اور آج اس کے بدلے اپنے اصلی ٹھکانے پہنچ گئے یعنی جنت میں جہاں من مانی نعمتیں، ابدی لذتیں، دائمی مسرتیں ان کے لیے موجود ہیں۔ عمدہ کھانے، اچھے بچھونے، بہترین سواریاں، پرتکلف لباس، بہتر سے بہتر مکانات، بنی سنوری پاکیزہ حوریں، راحت افزا منظر، ان کے لیے مہیا ہیں، جہاں تک کسی کی نگاہیں تو کہاں خیالات بھی نہیں پہنچ سکتے۔ نہ ان راحتوں کے بیانات کسی کان میں پہنچے۔ پھر ان کے کم ہو جانے، ختم ہو جانے کا بھی کوئی خطرہ نہیں اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں نہ، وہ نعمتیں کم ہوں۔ لازوال، بہترین زندگی، ابدی رحمت، دوامی کی دولت انہیں مل گئی اور ان کی ہو گئی۔ یہ رب کا احسان و انعام ہے جو ان پر ہوا اور جس کے یہ مستحق تھے۔ رب کا وعدہ ہے جو اس نے اپنے ذمے کر لیا ہے جو ہو کر رہنے والا ہے جس کا عدم ایفا ناممکن ہے، جس کا غلط ہونا محال ہے۔ اس سے اس کے وعدے کے پورا کرنے کا سوال کرو، اس سے جنت طلب کرو، اسے اس کا وعدہ یاد دلاؤ۔ یہ بھی اس کا فضل ہے کہ اس کے فرشتے اس سے دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ رب العالمین مومن بندوں سے جو تیرا وعدہ ہے، اسے پورا کر اور انہیں جنت عدن میں لے جا۔ قیامت کے دن مومن کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! تیرے وعدے کو سامنے رکھ کر ہم عمل کرتے رہے، آج تو اپنا وعدہ پورا کر۔ یہاں پہلے دوزخیوں کا ذکر کر کے پھر سوال کے بعد جنتیوں کا ذکر ہوا۔ سورۃ الصافات میں جنتیوں کا ذکر کر کے پھر سوال کے بعد دوزخیوں کا ذکر ہوا کہ ’ کیا یہی بہتر ہے یا زقوم کا درخت؟ جسے ہم نے ظالموں کے لیے فتنہ بنا رکھا ہے جو جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے پھل ایسے بدنما ہیں جیسے سانپ کے پھن۔ دوزخی اسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھرنا پڑے گا۔ پھر کھولتا ہوا گرم پانی پیپ وغیرہ سے ملا جلا پینے کو دیا جائے گا۔ پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔ انہوں نے اپنے پاپ دادوں کو گمراہ پایا اور بےتحاشا ان کے پیچھے لپکنا شروع کر دیا۔ ‘ ۱؎ [37-الصافات:62-70] ‏‏‏‏
15-1یہ، اشارہ ہے جہنم کے مذکورہ عذابوں کی طرف، جن میں جہنمی جکڑ بند ہو کر مبتلا ہوں گے۔ کہ یہ بہتر ہے جو کفر و شرک کا بدلہ ہے یا وہ جنت، جس کا وعدہ متقین سے ان کے تقویٰ و اطاعت الٰہی پر کیا گیا ہے۔ یہ سوال جہنم میں کیا جائے گا لیکن اسے یہاں اس لئے نقل کیا گیا ہے کہ شاید جہنمیوں کے اس انجام سے عبرت پکڑ کر لوگ تقویٰ و اطاعت کا راستہ اختیار کرلیں اور اس انجام بد سے بچ جائیں، جس کا نقشہ یہاں کھینچا گیا ہے۔
(آیت 15) ➊ { قُلْ اَذٰلِكَ خَيْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ …:} یعنی آپ ان مشرکوں سے کہیں کہ اس طرح جکڑے ہوئے جہنم کی تنگ جگہ میں ہر وقت موت کی آرزو کرتے رہنا بہتر ہے، یا جنتِ خلد (ہمیشگی کی جنت)؟ یہ سوال پوچھنے کے لیے نہیں بلکہ ڈانٹنے کے لیے ہے، کیونکہ جنت اور جہنم کے درمیان بہتر ہونے کا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ ➋ { الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ:} متقی سے مراد وہ شخص ہے جو کم از کم شرک سے بچے، اس کے بعد گناہ سے بچنے کے لحاظ سے متقین کے بے شمار درجے ہیں اور حسبِ مراتب سب کے ساتھ جنت کا وعدہ ہے۔ البتہ مشرک کبھی جنت میں نہیں جائے گا، فرمایا: «{ اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ وَ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ }» [ المائدۃ:۷۲ ] ”بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے ساتھ شریک بنائے، سو یقینا اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔“
لَہُمۡ فِیۡہَا مَا یَشَآءُوۡنَ خٰلِدِیۡنَ ؕ کَانَ عَلٰی رَبِّکَ وَعۡدًا مَّسۡـُٔوۡلًا ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس میں اُن کی ہر خواہش پوری ہو گی، جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، جس کا عطا کرنا تمہارے پروردگار کے ذمے ایک واجب الادا وعدہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه جو چاہیں گے ان کے لئے وہاں موجود ہوگا، ہمیشہ رہنے والے۔ یہ تو آپ کے رب کے ذمے وعده ہے جو قابل طلب ہے
احمد رضا خان بریلوی
ان کے لیے وہاں من مانی مرادیں ہیں جن میں ہمیشہ رہیں گے، تمہارے رب کے ذمہ وعدہ ہے مانگا ہوا، ف۲۸)
علامہ محمد حسین نجفی
اس میں ان کیلئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ایک وعدہ جو آپ کے رب کے ذمہ ہے جس کے متعلق سوال کیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
ان کے لیے اس میں جو چاہیں گے ہوگا، ہمیشہ رہنے والے، یہ تیرے رب کے ذمے ہوچکا، ایسا وعدہ جو قابل طلب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابدی لذتیں اور مسرتیں ٭٭

اوپر بیان فرمایا ان بدکاروں کا جو ذلت و خواری کے ساتھ اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے جائیں گے اور سر کے بل وہاں پھینک دئیے جائیں گے۔ بندھے بندھائے ہوں گے اور تنگ و تاریک جگہ ہوں گے، نہ چھوٹ سکیں، نہ حرکت کر سکیں، نہ بھاگ سکیں، نہ نکل سکیں۔ پھر فرماتا ہے: بتلاؤ یہ اچھے ہیں یا وہ؟ جو دنیا میں گناہوں سے بچتے رہے، اللہ کا ڈر دل میں رکھتے رہے اور آج اس کے بدلے اپنے اصلی ٹھکانے پہنچ گئے یعنی جنت میں جہاں من مانی نعمتیں، ابدی لذتیں، دائمی مسرتیں ان کے لیے موجود ہیں۔ عمدہ کھانے، اچھے بچھونے، بہترین سواریاں، پرتکلف لباس، بہتر سے بہتر مکانات، بنی سنوری پاکیزہ حوریں، راحت افزا منظر، ان کے لیے مہیا ہیں، جہاں تک کسی کی نگاہیں تو کہاں خیالات بھی نہیں پہنچ سکتے۔ نہ ان راحتوں کے بیانات کسی کان میں پہنچے۔ پھر ان کے کم ہو جانے، ختم ہو جانے کا بھی کوئی خطرہ نہیں اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں نہ، وہ نعمتیں کم ہوں۔ لازوال، بہترین زندگی، ابدی رحمت، دوامی کی دولت انہیں مل گئی اور ان کی ہو گئی۔ یہ رب کا احسان و انعام ہے جو ان پر ہوا اور جس کے یہ مستحق تھے۔ رب کا وعدہ ہے جو اس نے اپنے ذمے کر لیا ہے جو ہو کر رہنے والا ہے جس کا عدم ایفا ناممکن ہے، جس کا غلط ہونا محال ہے۔ اس سے اس کے وعدے کے پورا کرنے کا سوال کرو، اس سے جنت طلب کرو، اسے اس کا وعدہ یاد دلاؤ۔ یہ بھی اس کا فضل ہے کہ اس کے فرشتے اس سے دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ رب العالمین مومن بندوں سے جو تیرا وعدہ ہے، اسے پورا کر اور انہیں جنت عدن میں لے جا۔ قیامت کے دن مومن کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! تیرے وعدے کو سامنے رکھ کر ہم عمل کرتے رہے، آج تو اپنا وعدہ پورا کر۔ یہاں پہلے دوزخیوں کا ذکر کر کے پھر سوال کے بعد جنتیوں کا ذکر ہوا۔ سورۃ الصافات میں جنتیوں کا ذکر کر کے پھر سوال کے بعد دوزخیوں کا ذکر ہوا کہ ’ کیا یہی بہتر ہے یا زقوم کا درخت؟ جسے ہم نے ظالموں کے لیے فتنہ بنا رکھا ہے جو جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے پھل ایسے بدنما ہیں جیسے سانپ کے پھن۔ دوزخی اسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھرنا پڑے گا۔ پھر کھولتا ہوا گرم پانی پیپ وغیرہ سے ملا جلا پینے کو دیا جائے گا۔ پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔ انہوں نے اپنے پاپ دادوں کو گمراہ پایا اور بےتحاشا ان کے پیچھے لپکنا شروع کر دیا۔ ‘ ۱؎ [37-الصافات:62-70] ‏‏‏‏
16-1یعنی ایسا وعدہ، جو یقینا پورا ہو کر رہے گا، جیسے قرض کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ نے اپنے ذمے یہ وعدہ واجب کرلیا ہے جس کا اہل ایمان اس سے مطالبہ کرسکتے ہیں۔ یہ محض اس کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اہل ایمان کے لئے اس حسن جزا کو اپنے لئے ضروری قرار دے لیا ہے۔
(آیت 16) ➊ {لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَآءُوْنَ خٰلِدِيْنَ:” لَهُمْ “} اور {” فِيْهَا “} کو پہلے لانے میں حصر کا مفہوم ہے، یعنی یہ نعمت کہ جو چاہیں مل جائے، صرف متقی لوگوں کو حاصل ہو گی اور انھیں بھی صرف جنت میں ملے گی۔ دنیا میں یہ نعمت نہ متقی لوگوں کو حاصل ہے نہ غیر متقی لوگوں کو۔ دنیا میں ہر ایک کا حال وہ ہے جو شاعر نے بیان کیا ہے: {مَا كُلُّ مَا يَتَمَنَّي الْمَرْءُ يُدْرِكُهُ تَجْرِي الرِّيَاحُ بِمَا لَا تَشْتَهِي السُّفُنُ} ”ایسا نہیں کہ آدمی جو بھی تمنا کرے اسے حاصل ہی کر لے، کیونکہ ہوائیں کشتیوں کی خواہش کے خلاف چلا کرتی ہیں۔“ سورۂ حٰمٓ السجدہ کی آیت(۳۱): «‏‏‏‏وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ» میں بھی اسی آیت کا مضمون بیان ہوا ہے۔ ➋ یہاں ایک سوال کیا جاتا ہے کہ جنتیوں کو جب ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے تو اگر وہ نبیوں کے مرتبے کی خواہش کریں تو کیا انھیں وہ بھی حاصل ہو جائے گا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے دلوں میں ایسی تمنا پیدا ہی نہیں ہو گی، وہ سب اپنے اپنے شغل ہی میں خوش ہوں گے اور سب حسد اور تنافس سے پاک اپنی حالت پر خوش ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِيْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَ }» [ یٰسٓ: ۵۵ ] ”بے شک جنت کے رہنے والے آج ایک شغل میں خوش ہیں۔“ اور جنت میں درجوں کا تفاوت اللہ تعالیٰ کی طرف سے طے ہے۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَتَرَاءَ وْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ كَمَا يَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ ] [ بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ …: ۳۲۵۶ ] ”اہلِ جنت اپنے اوپر کے بالاخانوں والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے وہ نہایت چمک دار تارے کو دیکھتے ہیں، جو مشرق یا مغرب کے دور افق میں ہوتا ہے، ان کی ایک دوسرے کے درمیان درجوں کی برتری کی وجہ سے۔“ ➌ { كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْـُٔوْلًا:} اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ یہ وعدہ اس قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے پورا کرنے کی دعا کی جائے، یا یہ ایسا وعدہ ہے جو مانگنے پر یقینا پورا کیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے {” اُولُوا الْاَلْبَابِ “} (مومنوں) کی دعا ذکر فرمائی ہے، جو وہ کیا کرتے ہیں: «{ رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ[آل عمران: ۱۹۴ ] ”اے ہمارے رب! اور ہمیں عطا فرما جس کا وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر، بے شک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔“ طبری نے بعض اہل عربیت سے {” وَعْدًا مَّسْـُٔوْلًا “} کا معنی {” وَعْدًا وَاجِبًا “} نقل فرمایا ہے، کیونکہ جس چیز کا سوال یا مطالبہ ہو سکتا ہو وہ واجب ہوتی ہے، خواہ مطالبہ نہ ہی کیا جائے، مثلاً قرض، جیسا کہ عرب کہتے ہیں: {” لَأُعْطِيَنَّكَ أَلْفًا وَّعْدًا مَسْؤلًا“} ”میں تمھیں ایک ہزار دوں گا، یہ مسؤل وعدہ ہے۔“ یعنی تمھارے لیے واجب ہے، تم اس کا سوال اور مطالبہ کر سکتے ہو۔
وَ یَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ وَ مَا یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَقُوۡلُ ءَاَنۡتُمۡ اَضۡلَلۡتُمۡ عِبَادِیۡ ہٰۤؤُلَآءِ اَمۡ ہُمۡ ضَلُّوا السَّبِیۡلَ ﴿ؕ۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہ وہی دن ہو گا جب کہ (تمہارا رب) اِن لوگوں کو بھی گھیر لائے گا اور ان کے اُن معبودوں کو بھی بُلا لے گا جنہیں آج یہ اللہ کو چھوڑ کر پوج رہے ہیں، پھر وہ اُن سے پوچھے گا "کیا تم نے میرے اِن بندوں کر گمراہ کیا تھا؟ یا یہ خود راہِ راست سے بھٹک گئے تھے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس دن اللہ تعالیٰ انہیں اور سوائے اللہ کے جنہیں یہ پوجتے رہے، انہیں جمع کرکے پوچھے گا کہ کیا میرے ان بندوں کو تم نے گمراه کیا یا یہ خود ہی راه سے گم ہوگئے
احمد رضا خان بریلوی
اور جس دن اکٹھا کرے گا انہیں اور جن کوا لله کے سوا پوجتے ہیں پھر ان معبودو ں سے فرمائے گا کیا تم نے گمراہ کردیے یہ میرے بندے یا یہ خود ہی راہ بھولے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس دن اللہ ان لوگوں کو اور ان کے ان معبودوں کو جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پوجتے رہے ہیں۔ اکٹھا کرے گا تو اللہ ان (معبودوں) سے پوچھے گا کہ آیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا؟ یا وہ خود ہی (سیدھے) راستہ سے بھٹک گئے تھے؟
عبدالسلام بن محمد
اور جس دن وہ انھیں اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے، اکٹھا کرے گا، پھر کہے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا، یا وہ خود راستے سے بھٹک گئے تھے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیسیٰ علیہ السلام سے سولات ٭٭

بیان ہو رہا ہے کہ مشرک جن جن کی عبادتیں اللہ کے سوا کرتے رہے، قیامت کے دن انہیں ان کے سامنے ان پر عذاب کے علاوہ زبانی سرزنش بھی کی جائے گی تاکہ وہ نادم ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام، عزیر علیہ السلام اور فرشتے جن جن کی عبادت ہوئی تھی، سب موجود ہوں گے اور ان کے عابد بھی۔ سب اسی مجمع میں حاضر ہوں گے۔ اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ان معبودوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں سے اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا یا یہ از خود ایسا کرنے لگے؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے بھی یہی سوال ہو گا۔ جس کا وہ جواب دیں گے کہ میں نے انہیں ہرگز اس بات کی تعلیم نہیں دی یہ جیسا کہ تجھ پر خوب روشن ہے، میں نے تو انہیں وہی کہا تھا جو تو نے مجھ سے کہا تھا کہ عبادت کے لائق فقط اللہ ہی ہے۔ یہ سب معبود جو اللہ کے سوا تھے اور سچے بندے تھے اور شرک سے بیزار تھے۔ جواب دیں گے کہ کسی مخلوق کو، ہم کو یا ان کو یہ لائق ہی نہ تھا کہ تیرے سوا کسی اور کی عبادت کریں۔ ہم نے ہرگز انہیں اس شرک کی تعلیم نہیں دی۔ خود ہی انہوں نے اپنی خوشی سے دوسروں کی پوجا شروع کر دی تھی۔ ہم ان سے اور ان کی عبادتوں سے بیزار ہیں۔ ہم ان کے اس شرک سے بری الذمہ ہیں۔ ہم تو خود تیرے عابد ہیں۔ پھر کیسے ممکن تھا کہ معبودیت کے منصب پر آ جاتے؟ یہ تو ہمارے لائق ہی نہ تھا، تیری ذات اس سے بہت پاک اور برتر ہے کہ کوئی تیرا شریک ہو۔

چنانچہ اور آیت میں صرف فرشتوں سے اس سوال جواب کا ہونا بھی بیان ہوا ہے۔ «نَّتَّخِذَ» کی دوسری قرأت «نُتَّخَذََ» بھی ہے یعنی یہ کسی طرح نہیں ہوسکتا تھا، نہ یہ ہمارے لائق تھا کہ لوگ ہمیں پوجنے لگیں اور تیری عبادت چھوڑ دیں۔ کیونکہ ہم تو خود تیرے بندے ہیں، تیرے در کے بھکاری ہیں۔ مطلب دونوں صورتوں میں قریب قریب ایک ہی ہے۔ ان کے بہکنے کی وجہ ہماری سمجھ میں تو یہ آتی ہے کہ انہیں عمریں ملیں، بہت کھانے پینے کو ملتا رہا۔ بد مستی میں بڑھتے گئے یہاں تک کہ جو نصیحت رسولوں کی معرفت پہنچتی تھی اسے بھلا دیا۔ تیری عبادت سے اور سچی توحید سے ہٹ گئے۔ یہ لوگ تھے یہ بےخبر، ہلاکت کے گڑھے میں گر پڑے۔ تباہ و برباد ہو گئے «ُبوراً» سے مطلب ہلاکت والے ہی ہیں۔

جیسے ابن زبعری نے اپنے شعر میں اس لفظ کو اس معنی میں باندھا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ ان مشرکوں سے فرمائے گا: لو اب تو تمہارے یہ معبود خود تمہیں جھٹلا رہے ہیں، تم تو انہیں اپنا سمجھ کر اس خیال سے کہ یہ تمہیں اللہ کے مقرب بنا دیں گے ان کی پوجا پاٹ کرتے رہے، آج یہ تم سے کوسوں دور بھاگ رہے ہیں، تم سے یکسو ہو رہے ہیں اور بیزاری ظاہر کر رہے ہیں۔ جیسے ارشاد ہے: «وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:5-6] ‏‏‏‏ الخ، ’ اس سے زیادہ گمراہ کون ہے جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی چاہت پوری نہ کر سکیں بلکہ وہ تو ان کی دعا سے محض غافل ہیں اور محشر والے دن یہ سب ان سب کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادتوں کے صاف منکر ہو جائیں گے۔ ‘ پس قیامت کے دن یہ مشرکین نہ تو اپنی جانوں سے عذاب اللہ ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی مدد کر سکیں گے، نہ کسی کو اپنا مددگار پائیں گے۔ تم میں سے جو بھی اللہ واحد کے ساتھ شرک کرے، ہم اسے زبردست اور نہایت سخت عذاب کریں گے۔
17-1دنیا میں اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی رہی اور کی جاتی رہے گی۔ ان میں جمادات (پتھر، لکڑی اور دیگر دھاتوں کی بنی ہوئی مورتیاں) بھی ہیں، جو غیر عاقل ہیں اور اللہ کے نیک بندے بھی ہیں جو عاقل ہیں مثلاً حضرت عزیر، حضرت مسیح (علیہما السلام) اور دیگر بہت سے نیک بندے۔ اسی طرح فرشتے اور جنات کے پجاری بھی ہونگے۔ اللہ تعالیٰ غیر عاقل جمادات کو بھی شعور و ادراک اور گویائی کی قوت عطا فرمائے گا اور ان سب معبودین سے پوچھے گا کہ بتلاؤ! تم نے میرے بندوں کو اپنی عبادت کرنے کا حکم دیا تھا یا یہ اپنی مرضی سے تمہاری عبادت کر کے گمراہ ہوئے تھے؟
(آیت 17) ➊ { وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَ مَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} قیامت کے دن اللہ تعالیٰ غیر اللہ کی پرستش کرنے والوں کو اور ان سب کو اکٹھا کرے گا جن کی وہ پرستش کرتے رہے تھے۔ ان میں فرشتے بھی ہوں گے، انبیاء بھی، جیسے عیسیٰ اور عزیر علیھما السلام اور اللہ کے کئی دوسرے نیک بندے بھی، حیوانات بھی ہوں گے، جیسے گائے، سانپ اور بندر وغیرہ، نباتات بھی ہوں گے، جیسے پیپل وغیرہ اور جمادات بھی ہوں گے، جیسے بت وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ بے شعور اور بے جان چیزوں کو بھی شعور اور بولنے کی قوت عطا فرمائے گا اور ان سب سے پوچھے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا، یا یہ خود ہی سیدھے راستے سے بھٹک گئے تھے؟ ➋ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا پہلے ہی علم ہے، اس سوال سے مقصود ایک تو غیر اللہ کی پرستش کرنے والوں کو لاجواب اور ذلیل و رسوا کرنا ہو گا، دوسرا ان کی پاک باز ہستیوں کی زبانی شرک سے بے زاری کا اعلان ہو گا۔ ➌ {” وَ مَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} میں لفظ {” مَا “} استعمال ہوا ہے، جو عموماً غیر عاقل چیزوں کے لیے آتا ہے، حالانکہ وہ انبیاء و اولیاء کی بھی پرستش کرتے تھے۔ شاید ایسا اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کی حیثیت ظاہر کرنے کے لیے کیا گیا ہے، یا اس لیے کہ {” مَا “} عاقل اور غیر عاقل دونوں کے لیے آتا ہے، اگرچہ اکثر غیر عاقل چیزوں کے لیے آتا ہے۔ ➍ یہ مضمون قرآن مجید میں کئی مقامات پر آیا ہے، فرشتوں سے سوال کے لیے دیکھیے سورۂ سبا (۴۰، ۴۱) اور مسیح علیہ السلام سے سوال کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۱۱۶)۔
قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ مَا کَانَ یَنۡۢبَغِیۡ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَّخِذَ مِنۡ دُوۡنِکَ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ وَ لٰکِنۡ مَّتَّعۡتَہُمۡ وَ اٰبَآءَہُمۡ حَتّٰی نَسُوا الذِّکۡرَ ۚ وَ کَانُوۡا قَوۡمًۢا بُوۡرًا ﴿۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ عرض کریں گے "پاک ہے آپ کی ذات، ہماری تو یہ بھی مجال نہ تھی کہ آپ کے سوا کسی کو اپنا مولا بنائیں مگر آپ نے اِن کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامانِ زندگی دیا حتیٰ کہ یہ سبق بھول گئے اور شامت زدہ ہو کر رہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
وه جواب دیں گے کہ تو پاک ذات ہے خود ہمیں ہی یہ زیبا نہ تھا کہ تیرے سوا اوروں کو اپنا کارساز بناتے بات یہ ہے کہ تو نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو آسودگیاں عطا فرمائیں یہاں تک کہ وه نصیحت بھلا بیٹھے، یہ لوگ تھے ہی ہلاک ہونے والے
احمد رضا خان بریلوی
وہ عرض کریں گے پاکی ہے تجھ کو ہمیں سزاوار (حق) نہ تھا کہ تیرے سوا کسی اور کو مولیٰ بنائیں لیکن تو نے انہیں اور ان کے باپ داداؤں کو برتنے دیا یہاں تک کہ وہ تیری یاد بھول گئے اور یہ لوگ تھے ہی ہلاک ہونے والے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ کہیں گے کہ پاک ہے تیری ذات ہمیں یہ حق نہیں تھا کہ ہم تجھے چھوڑ کر کسی اور کو اپنا مولا بنائیں لیکن تو نے انہیں اور ان کے باپ دادا کو خوب آسودگی اور آسائش عطا کی۔ یہاں تک کہ انہوں نے (تیری) یاد بھلا دی۔ اور اس طرح تباہ و برباد ہوگئے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ کہیں گے تو پاک ہے، ہمارے لائق نہ تھا کہ ہم تیرے سوا کسی بھی طرح کے دوست بناتے اور لیکن تو نے انھیں اور ان کے باپ دادا کو سامان دیا، یہاں تک کہ وہ (تیری ) یاد کو بھول گئے اور وہ ہلاک ہونے والے لوگ تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیسیٰ علیہ السلام سے سولات ٭٭

بیان ہو رہا ہے کہ مشرک جن جن کی عبادتیں اللہ کے سوا کرتے رہے، قیامت کے دن انہیں ان کے سامنے ان پر عذاب کے علاوہ زبانی سرزنش بھی کی جائے گی تاکہ وہ نادم ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام، عزیر علیہ السلام اور فرشتے جن جن کی عبادت ہوئی تھی، سب موجود ہوں گے اور ان کے عابد بھی۔ سب اسی مجمع میں حاضر ہوں گے۔ اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ان معبودوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں سے اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا یا یہ از خود ایسا کرنے لگے؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے بھی یہی سوال ہو گا۔ جس کا وہ جواب دیں گے کہ میں نے انہیں ہرگز اس بات کی تعلیم نہیں دی یہ جیسا کہ تجھ پر خوب روشن ہے، میں نے تو انہیں وہی کہا تھا جو تو نے مجھ سے کہا تھا کہ عبادت کے لائق فقط اللہ ہی ہے۔ یہ سب معبود جو اللہ کے سوا تھے اور سچے بندے تھے اور شرک سے بیزار تھے۔ جواب دیں گے کہ کسی مخلوق کو، ہم کو یا ان کو یہ لائق ہی نہ تھا کہ تیرے سوا کسی اور کی عبادت کریں۔ ہم نے ہرگز انہیں اس شرک کی تعلیم نہیں دی۔ خود ہی انہوں نے اپنی خوشی سے دوسروں کی پوجا شروع کر دی تھی۔ ہم ان سے اور ان کی عبادتوں سے بیزار ہیں۔ ہم ان کے اس شرک سے بری الذمہ ہیں۔ ہم تو خود تیرے عابد ہیں۔ پھر کیسے ممکن تھا کہ معبودیت کے منصب پر آ جاتے؟ یہ تو ہمارے لائق ہی نہ تھا، تیری ذات اس سے بہت پاک اور برتر ہے کہ کوئی تیرا شریک ہو۔

چنانچہ اور آیت میں صرف فرشتوں سے اس سوال جواب کا ہونا بھی بیان ہوا ہے۔ «نَّتَّخِذَ» کی دوسری قرأت «نُتَّخَذََ» بھی ہے یعنی یہ کسی طرح نہیں ہوسکتا تھا، نہ یہ ہمارے لائق تھا کہ لوگ ہمیں پوجنے لگیں اور تیری عبادت چھوڑ دیں۔ کیونکہ ہم تو خود تیرے بندے ہیں، تیرے در کے بھکاری ہیں۔ مطلب دونوں صورتوں میں قریب قریب ایک ہی ہے۔ ان کے بہکنے کی وجہ ہماری سمجھ میں تو یہ آتی ہے کہ انہیں عمریں ملیں، بہت کھانے پینے کو ملتا رہا۔ بد مستی میں بڑھتے گئے یہاں تک کہ جو نصیحت رسولوں کی معرفت پہنچتی تھی اسے بھلا دیا۔ تیری عبادت سے اور سچی توحید سے ہٹ گئے۔ یہ لوگ تھے یہ بےخبر، ہلاکت کے گڑھے میں گر پڑے۔ تباہ و برباد ہو گئے «ُبوراً» سے مطلب ہلاکت والے ہی ہیں۔

جیسے ابن زبعری نے اپنے شعر میں اس لفظ کو اس معنی میں باندھا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ ان مشرکوں سے فرمائے گا: لو اب تو تمہارے یہ معبود خود تمہیں جھٹلا رہے ہیں، تم تو انہیں اپنا سمجھ کر اس خیال سے کہ یہ تمہیں اللہ کے مقرب بنا دیں گے ان کی پوجا پاٹ کرتے رہے، آج یہ تم سے کوسوں دور بھاگ رہے ہیں، تم سے یکسو ہو رہے ہیں اور بیزاری ظاہر کر رہے ہیں۔ جیسے ارشاد ہے: «وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:5-6] ‏‏‏‏ الخ، ’ اس سے زیادہ گمراہ کون ہے جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی چاہت پوری نہ کر سکیں بلکہ وہ تو ان کی دعا سے محض غافل ہیں اور محشر والے دن یہ سب ان سب کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادتوں کے صاف منکر ہو جائیں گے۔ ‘ پس قیامت کے دن یہ مشرکین نہ تو اپنی جانوں سے عذاب اللہ ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی مدد کر سکیں گے، نہ کسی کو اپنا مددگار پائیں گے۔ تم میں سے جو بھی اللہ واحد کے ساتھ شرک کرے، ہم اسے زبردست اور نہایت سخت عذاب کریں گے۔
18-1یعنی جب ہم خود تیرے سوا کسی کو کار ساز نہیں سمجھتے تھے تو پھر ہم اپنی بابت کس طرح لوگوں کو کہہ سکتے تھے کہ تم اللہ کی بجائے ہمیں اپنا ولی اور کار ساز سمجھو۔
(آیت 18) ➊ { قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ يَنْۢبَغِيْ لَنَاۤ …:} یعنی جب ہم خود تیرے سوا کسی کو یارو مددگار نہیں سمجھتے تھے اور تیری توحید پر قائم تھے، تو لوگوں کو اپنے بارے میں کس طرح کہہ سکتے تھے کہ تم اللہ کے بجائے ہمیں اپنا حاجت روا اور مشکل کشا بنا لو۔ یہ بات تو ہمیں زیب ہی نہیں دیتی۔ دیکھیے آل عمران (۷۹، ۸۰)۔ ➋ {وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ …: ” بُوْرًا “ ” بَارَ يَبُوْرُ “} سے مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے، یا {”بَائِرٌ“} کی جمع ہے، ہلاک ہونے والے، یعنی ہم نے انھیں گمراہ نہیں کیا، بلکہ یہ خود ہی کم ظرف اور کمینے لوگ تھے، تو نے انھیں اور ان کے آبا و اجداد کو ہر قسم کا رزق دیا، یہ کھا پی کر نمک حرام ہو گئے، حتیٰ کہ تیری یاد بھی بھول گئے، جو انھیں سب نعمتیں دینے والا تھا۔ {” الذِّكْرَ “} کا دوسرا معنی یہ ہے کہ یہ لوگ وہ نصیحتیں بھول گئے جو انبیاء نے انھیں کی تھیں۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۴۴)۔
فَقَدۡ کَذَّبُوۡکُمۡ بِمَا تَقُوۡلُوۡنَ ۙ فَمَا تَسۡتَطِیۡعُوۡنَ صَرۡفًا وَّ لَا نَصۡرًا ۚ وَ مَنۡ یَّظۡلِمۡ مِّنۡکُمۡ نُذِقۡہُ عَذَابًا کَبِیۡرًا ﴿۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یوں جھٹلا دیں گے وہ (تمہارے معبود) تمہاری اُن باتوں کو جو آج تم کہہ رہے ہو، پھر تم نہ اپنی شامت ٹال سکو گے نہ کہیں سے مدد پا سکو گے اور جو بھی تم میں سے ظلم کرے اسے ہم سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
تو انہوں نے تو تمہیں تمہاری تمام باتوں میں جھٹلایا، اب نہ تو تم میں عذابوں کے پھیرنے کی طاقت ہے، نہ مدد کرنے کی، تم میں سے جس جس نے ﻇلم کیا ہے ہم اسے بڑا عذاب چکھائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو اب معبودوں نے تمہاری بات جھٹلادی تو اب تم نہ عذاب پھیرسکو نہ اپنی مدد کرسکو اور تم میں جو ظالم ہے ہم اسے بڑا عذاب چکھائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے کافرو) اس طرح وہ (تمہارے معبود) تمہاری ان باتوں کو جھٹلا دیں گے جو تم کرتے ہو۔ پھر نہ تو تم (عذاب کو) ٹال سکوگے اور نہ ہی اپنی کوئی مدد کر سکوگے۔ اور تم میں سے جو ظلم کرے گا ہم اسے بڑے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
سو انھوں نے تو تمھیں اس بات میں جھٹلا دیا جو تم کہتے ہو، پس تم نہ کسی طرح ہٹانے کی طاقت رکھتے ہو اور نہ کسی مدد کی اور تم میں سے جو ظلم کرے گا ہم اسے بہت بڑا عذاب چکھائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیسیٰ علیہ السلام سے سولات ٭٭

بیان ہو رہا ہے کہ مشرک جن جن کی عبادتیں اللہ کے سوا کرتے رہے، قیامت کے دن انہیں ان کے سامنے ان پر عذاب کے علاوہ زبانی سرزنش بھی کی جائے گی تاکہ وہ نادم ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام، عزیر علیہ السلام اور فرشتے جن جن کی عبادت ہوئی تھی، سب موجود ہوں گے اور ان کے عابد بھی۔ سب اسی مجمع میں حاضر ہوں گے۔ اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ان معبودوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں سے اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا یا یہ از خود ایسا کرنے لگے؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے بھی یہی سوال ہو گا۔ جس کا وہ جواب دیں گے کہ میں نے انہیں ہرگز اس بات کی تعلیم نہیں دی یہ جیسا کہ تجھ پر خوب روشن ہے، میں نے تو انہیں وہی کہا تھا جو تو نے مجھ سے کہا تھا کہ عبادت کے لائق فقط اللہ ہی ہے۔ یہ سب معبود جو اللہ کے سوا تھے اور سچے بندے تھے اور شرک سے بیزار تھے۔ جواب دیں گے کہ کسی مخلوق کو، ہم کو یا ان کو یہ لائق ہی نہ تھا کہ تیرے سوا کسی اور کی عبادت کریں۔ ہم نے ہرگز انہیں اس شرک کی تعلیم نہیں دی۔ خود ہی انہوں نے اپنی خوشی سے دوسروں کی پوجا شروع کر دی تھی۔ ہم ان سے اور ان کی عبادتوں سے بیزار ہیں۔ ہم ان کے اس شرک سے بری الذمہ ہیں۔ ہم تو خود تیرے عابد ہیں۔ پھر کیسے ممکن تھا کہ معبودیت کے منصب پر آ جاتے؟ یہ تو ہمارے لائق ہی نہ تھا، تیری ذات اس سے بہت پاک اور برتر ہے کہ کوئی تیرا شریک ہو۔

چنانچہ اور آیت میں صرف فرشتوں سے اس سوال جواب کا ہونا بھی بیان ہوا ہے۔ «نَّتَّخِذَ» کی دوسری قرأت «نُتَّخَذََ» بھی ہے یعنی یہ کسی طرح نہیں ہوسکتا تھا، نہ یہ ہمارے لائق تھا کہ لوگ ہمیں پوجنے لگیں اور تیری عبادت چھوڑ دیں۔ کیونکہ ہم تو خود تیرے بندے ہیں، تیرے در کے بھکاری ہیں۔ مطلب دونوں صورتوں میں قریب قریب ایک ہی ہے۔ ان کے بہکنے کی وجہ ہماری سمجھ میں تو یہ آتی ہے کہ انہیں عمریں ملیں، بہت کھانے پینے کو ملتا رہا۔ بد مستی میں بڑھتے گئے یہاں تک کہ جو نصیحت رسولوں کی معرفت پہنچتی تھی اسے بھلا دیا۔ تیری عبادت سے اور سچی توحید سے ہٹ گئے۔ یہ لوگ تھے یہ بےخبر، ہلاکت کے گڑھے میں گر پڑے۔ تباہ و برباد ہو گئے «ُبوراً» سے مطلب ہلاکت والے ہی ہیں۔

جیسے ابن زبعری نے اپنے شعر میں اس لفظ کو اس معنی میں باندھا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ ان مشرکوں سے فرمائے گا: لو اب تو تمہارے یہ معبود خود تمہیں جھٹلا رہے ہیں، تم تو انہیں اپنا سمجھ کر اس خیال سے کہ یہ تمہیں اللہ کے مقرب بنا دیں گے ان کی پوجا پاٹ کرتے رہے، آج یہ تم سے کوسوں دور بھاگ رہے ہیں، تم سے یکسو ہو رہے ہیں اور بیزاری ظاہر کر رہے ہیں۔ جیسے ارشاد ہے: «وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:5-6] ‏‏‏‏ الخ، ’ اس سے زیادہ گمراہ کون ہے جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی چاہت پوری نہ کر سکیں بلکہ وہ تو ان کی دعا سے محض غافل ہیں اور محشر والے دن یہ سب ان سب کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادتوں کے صاف منکر ہو جائیں گے۔ ‘ پس قیامت کے دن یہ مشرکین نہ تو اپنی جانوں سے عذاب اللہ ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی مدد کر سکیں گے، نہ کسی کو اپنا مددگار پائیں گے۔ تم میں سے جو بھی اللہ واحد کے ساتھ شرک کرے، ہم اسے زبردست اور نہایت سخت عذاب کریں گے۔
19-1یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے جو مشرکین سے مخاطب ہو کر اللہ تعالیٰ کہے گا کہ تم جن کو اپنا معبود گمان کرتے تھے، انہوں نے تو تمہیں تمہاری باتوں میں جھوٹا قرار دے دیا ہے اور تم نے دیکھ لیا ہے کہ انہوں نے تم سے صفائی کا اعلان کردیا ہے۔ گویا جن کو تم اپنا مددگار سمجھتے تھے، وہ مددگار ثابت نہیں ہوئے۔ اب کیا تمہارے اندر یہ طاقت ہے کہ تم میرے عذاب کو اپنے سے پھیر سکو اور اپنی مدد کرسکو۔
(آیت 19) ➊ { فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ:} یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے جو وہ مشرکین سے مخاطب ہو کر فرمائے گا کہ تم نے جنھیں معبود بنا رکھا تھا انھوں نے تو تمھیں تمھاری بات میں جھٹلا دیا اور تم سے بری ہو گئے۔ قیامت کے دن تمام خود ساختہ معبودوں کا اپنے پوجنے والوں سے بری ہونا اور ان کا دشمن بن جانا قرآن میں متعدد مقامات پر آیا ہے، دیکھیے سورۂ یونس (۲۸)، نحل (۸۶)، مریم (۸۲)، فاطر (۱۳، ۱۴) اور احقاف (۶)۔ ➋ {فَمَا تَسْتَطِيْعُوْنَ۠ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا:} یعنی جن سے تم مدد کی توقع رکھتے تھے وہ تمھارے دشمن بن گئے، تو اب تم عذاب سے کسی طرح نہیں بچ سکتے، نہ اسے اپنے آپ سے کسی سفارش یا فدیے سے ہٹا سکتے ہو اور نہ ہی خود یا کوئی اور تمھاری مدد کو آ سکتا ہے۔ ➌ { وَ مَنْ يَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِيْرًا:} ظلم سے مراد شرک ہے، دیکھیے سورۂ انعام کی آیت (۸۲): «{ اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ يَلْبِسُوْۤا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ }» کی تفسیر اور عذابِ کبیر سے مراد جہنم ہے۔ مطلب یہ کہ تم سب نے ظلم کا ارتکاب کیا، اس لیے ہم تمھیں جہنم کا عذاب چکھائیں گے، یعنی جہنم میں پھینکنے کی وجہ بیان فرمائی ہے۔
وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ مِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّاۤ اِنَّہُمۡ لَیَاۡکُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَ یَمۡشُوۡنَ فِی الۡاَسۡوَاقِ ؕ وَ جَعَلۡنَا بَعۡضَکُمۡ لِبَعۡضٍ فِتۡنَۃً ؕ اَتَصۡبِرُوۡنَ ۚ وَ کَانَ رَبُّکَ بَصِیۡرًا ﴿٪۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے محمدؐ، تم سے پہلے جو رسول بھی ہم نے بھیجے ہیں وہ سب بھی کھانا کھانے والے اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے لوگ ہی تھے دراصل ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے کیا تم صبر کرتے ہو؟ تمہارا رب سب کچھ دیکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب کے سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تم میں سے ہر ایک کو دوسرے کی آزمائش کا ذریعہ بنا دیا۔ کیا تم صبر کرو گے؟ تیرا رب سب کچھ دیکھنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب ایسے ہی تھے کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے اور ہم نے تم میں ایک کو دوسرے کی جانچ کیا ہے اور اے لوگو! کیا تم صبر کرو گے اور اے محبوب! تمہارا رب دیکھتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے ہیں وہ جو سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے اور ہم نے تم کو ایک دوسرے کیلئے ذریعہ آزمائش بنایا ہے کیا تم صبر کروگے؟ اور آپ کا پروردگار بڑا دیکھنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجے مگر بلاشبہ وہ یقینا کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمھارے بعض کو بعض کے لیے ایک آزمائش بنایا ہے۔ کیا تم صبر کرو گے؟ اور تیرا رب ہمیشہ سے سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافر اس بات پر اعتراض کرتے تھے کہ نبی کو کھانے پینے اور تجارت بیوپار سے کیا مطلب؟ اس کا جواب ہو رہا ہے کہ اگلے سب پیغمبر بھی انسانی ضرورتیں بھی رکھتے تھے، کھانا پینا ان کے ساتھ بھی لگا ہوا تھا۔ بیوپار، تجارت اور کسب معاش وہ بھی کیا کرتے تھے۔ یہ چیزیں نبوت کے خلاف نہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنی عنایت خاص سے انہیں وہ پاکیزہ اوصاف، نیک خصائل، عمدہ اقوال، مختار افعال، ظاہر دلیلیں، اعلیٰ معجزے دیتا ہے کہ ہر عقل سلیم والا، ہر دانا بینا مجبور ہو جاتا ہے کہ ان کی نبوت کو تسلیم کر لے اور ان کی سچائی کو مان لے۔ اسی آیت جیسی اور آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» ۱؎ [12-يوسف:109] ‏‏‏‏ الخ، ہے۔ ’ یعنی تجھ سے پہلے بھی جتنے نبی آئے، سب شہروں میں رہنے والے انسان ہی تھے۔ ‘ اور آیت میں ہے «وَمَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا يَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوْا خٰلِدِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:8] ‏‏‏‏ الخ، ’ ہم نے انہیں ایسے جثے نہیں بنائے تھے کہ کھانے پینے سے وہ آزاد ہوں۔ ‘ ہم تو تم میں سے ایک ایک کی آزمائش ایک ایک سے کر لیا کرتے ہیں تاکہ فرمانبردار اور نافرمان ظاہر ہو جائیں۔ صابر اور غیر صابر معلوم ہو جائیں۔ تیرا رب دانا و بینا ہے، خوب جانتا ہے کہ مستحق نبوت کون ہے؟ جیسے فرمایا «اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:124] ‏‏‏‏ ’ منصب رسالت کی اہلیت کس میں ہے؟ اسے اللہ ہی بخوبی جانتا ہے۔ ‘ اسی کو اس کا بھی علم ہے کہ مستحق ہدایت کون ہیں؟ اور کون نہیں؟ چونکہ اللہ کا ارادہ بندوں کا امتحان لینے کا ہے، اس لیے نبیوں کو عموماً معمولی حالت میں رکھتا ہے ورنہ اگر انہیں بکثرت دنیا دیتا تو ان کے مال کے لالچ میں بہت سے ان کے ساتھ ہو جاتے تو پھر سچے جھوٹے مل جاتے۔ صحیح مسلم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں خود تجھے اور تیری وجہ سے اور لوگوں کو آزمانے والا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ مسند میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { اگر میں چاہتا تو میرے ساتھ سونے چاندی کے پہاڑ چلتے رہتے۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4920:صحیح] ‏‏‏‏ اور صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی اور بادشاہ بننے میں اور نبی اور بندہ بننے میں اختیار دیا گیا تو آپ نے بندہ اور نبی بننا پسند فرمایا۔ } ۱؎ [مسند احمد:231/2:صحیح] ‏‏‏‏ «فصلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی الہ واصحابہ اجمعین»
20-1یعنی وہ انسان تھے اور غذا کے محتاج۔ 20-2یعنی رزق حلال کی فراہمی کے لئے کسب و تجارت بھی کرتے تھے۔ مطلب اس سے یہ ہے کہ یہ چیزیں منصب نبوت کے منافی نہیں، جس طرح کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ 20-3یعنی ہم نے انبیاء کو اور ان کے ذریعے سے ان پر ایمان لانے والوں کی بھی آزمائش کی، تاکہ کھرے کھوٹے کی تمیز ہوجائے، جنہوں نے آزمائش میں صبر کا دامن پکڑے رکھ، وہ کامیاب اور دوسرے ناکام رہے؛ اسی لئے آگے فرمایا، کیا تم صبر کرو گے؟،
(آیت 20) ➊ { وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ …:} یہ اس اعتراض کا جواب ہے کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروںمیں چلتا پھرتا ہے؟ فرمایا، پہلے تمام رسول بھی کھاتے پیتے تھے اور روزی کمانے کے لیے اور ضرورت کی چیزیں خریدنے کے لیے بازاروں میں جاتے تھے، بشر تھے فرشتے نہ تھے۔ (دیکھیے یوسف: ۱۰۹۔ انبیاء: ۷، ۸) اگر کھانے پینے اور بازاروں میں چلنے پھرنے کے باوجود تم انھیں رسول مانتے ہو، جیسا کہ تم ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کی اولاد ہونے اور ان کی ملت ہونے پر فخر کرتے ہو، نوح، موسیٰ اور عیسیٰ علیھم السلام کو پیغمبر مانتے ہو، تو اس رسول پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟ ➋ { وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً اَتَصْبِرُوْنَ:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ پیغمبر کو سونے چاندی کے خزانے اور باغات و محلات کیوں عطا نہیں کیے گئے؟ فرمایا: ”ہم نے تمھارے بعض کو بعض کے لیے آزمائش بنایا ہے“ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عموماً انبیاء کو دنیاوی لحاظ سے معمولی حالت میں رکھتا ہے، ورنہ اگر وہ انھیں دنیا کثرت کے ساتھ دیتا تو بہت سے لوگ مال کے لالچ میں ان کے ساتھ ہو جاتے، سچے جھوٹے مل جل جاتے اور امتحان کا مقصد فوت ہو جاتا۔ عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: [ إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَ أَبْتَلِيَ بِكَ وَ أَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَأُهُ نَائِمًا وَ يَقْظَانَ ] [ مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا و أھلھا، باب الصفات التي یعرف بہا …: ۲۸۶۵ ] ”میں نے تجھے صرف اس لیے بھیجا ہے کہ تیری آزمائش کروں اور تیرے ساتھ (لوگوں کی) آزمائش کروں اور میں نے تجھ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی نہیں دھو سکتا، تو اسے سوتے جاگتے پڑھے گا۔“ الغرض! اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کو ان کے مختلف حالات کی وجہ سے ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا ہے، چنانچہ رسول اور اہل ایمان منکرین کے لیے آزمائش ہیں اور منکرین کے لیے رسول اور اہل ایمان آزمائش ہیں۔ غنی فقیر کے لیے آزمائش ہیں، تندرست بیمار کے لیے آزمائش ہیں کہ وہ اپنے سے برتر کو دیکھ کر اپنی حالت پر صبر کرتے ہیں یا نہیں۔ فقیر اور بیمار غنی اور تندرست کے لیے آزمائش ہیں کہ وہ اپنے سے کم تر کو دیکھ کر شکر کرتے ہیں یا نہیں۔ حقیقت ہے کہ شکر کی بنیاد بھی صبر ہے، جو اپنی حالت پر صابر نہیں وہ کبھی شاکر نہیں ہو سکتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: «{ اَتَصْبِرُوْنَ }» ”کیا تم صبر کرتے ہو۔“ مطلب یہ ہے کہ صبر کرو۔ ➌ { وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا:} اس کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی یہاں مناسبت رکھتے ہیں، ایک یہ کہ تمھارا رب جو کچھ کر رہا ہے دیکھ کر ہی کر رہا ہے، اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ دوسرا یہ کہ تم جس صدق اور خلوص کے ساتھ کفار کی مخالفت برداشت کرو گے وہ اسے دیکھ رہا ہے اور وہ کبھی تمھاری محنت کی بے قدری نہیں کرے گا۔
وَ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡنَا الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَوۡ نَرٰی رَبَّنَا ؕ لَقَدِ اسۡتَکۡبَرُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ وَ عَتَوۡ عُتُوًّا کَبِیۡرًا ﴿۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں "کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں" بڑا گھمنڈ لے بیٹھے یہ اپنے نفس میں اور حد سے گزر گئے یہ اپنی سرکشی میں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جنہیں ہماری ملاقات کی توقع نہیں انہوں نے کہا کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے؟ یا ہم اپنی آنکھوں سے اپنے رب کو دیکھ لیتے؟ ان لوگوں نے اپنے آپ کو ہی بہت بڑا سمجھ رکھا ہے اور سخت سرکشی کرلی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے وہ جو ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے ہم پر فرشتے کیوں نہ اتارے یا ہم اپنے رب کو دیکھتے بیشک اپنے جی میں بہت ہی اونچی کھینچی (سرکشی کی) اور بڑی سرکشی پر آئے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ ہمارے پاس آنے کی امید نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے؟ یا ہم اپنے پروردگار کو ہی دیکھ لیتے! انہوں نے اپنے دلوں میں اپنے کو بہت بڑا سمجھا اور سرکشی میں حد سے گزر گئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں نے کہا جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے، ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے، یا ہم اپنے رب کو دیکھتے؟ بلا شبہ یقینا وہ اپنے دلوں میں بہت بڑے بن گئے اور انھوں نے سرکشی اختیار کی ، بہت بڑی سر کشی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تصدیق نبوت کے لئے احمقانہ شرائط ٭٭

کافر لوگ انکار نبوت کا ایک بہانہ یہ بھی بناتے تھے کہ اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو کسی فرشتے کو کیوں نہ بھیجا؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ وہ ایک بہانہ یہ بھی کرتے تھے کہ «قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ» ۱؎ [6-الأنعام:124] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب تک خود ہمیں وہ نہ دیا جائے جو رسولوں کو دیا گیا، ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبیوں کے پاس اللہ کی طرف سے فرشتہ وحی لے کر آتا ہے، ہمارے پاس بھی آئے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا مطالبہ یہ ہو کہ فرشتوں کو دیکھ لیں۔ خود فرشتے آ کر ہمیں سمجھائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کریں تو ہم آپ کو نبی مان لیں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ کفار نے کہا: «أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:92] ‏‏‏‏ یعنی ’ تو اللہ کو لے آ، فرشتوں کو بنفس نفیس ہمارے پاس لے آ۔ ‘ اس کی پوری تفسیر سورۃ سبحان میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی ان کا یہی مطالبہ بیان ہوا ہے کہ یا تو ہمارے اوپر فرشتے اتریں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ یہ بات اس لیے ان کی منہ سے نکلی کہ یہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے تھے اور ان کا غرور حد سے بڑھ گیا تھا۔ ان کی ایمان لانے کی نیت نہ تھی۔ جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:111] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے، اس قسم کی اور بھی تمام چیزیں ہم ان کے سامنے کر دیتے۔ جب بھی انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہوتا۔ ‘

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فرشتوں کو یہ دیکھیں گے لیکن اس وقت ان کے لیے ان کا دیکھنا کچھ سود مند نہ ہو گا۔ اس سے مراد سکرات موت کا وقت ہے جب کہ فرشتے کافروں کے پاس آتے ہیں اور اللہ کے غضب اور جہنم کی آگ کی خبر انہیں سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خبیث نفس! تو خبیث اور ناپاک جسم میں تھا، اب گرم ہواؤں، گرم پانی اور نامبارک سایوں کی طرف چل، وہ نکلنے سے کتراتی ہے اور بدن میں چھپتی پھرتی ہے۔ اس پر فرشتے ان کے چہروں پر اور ان کی کمروں پر ضربیں مارتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:93] ‏‏‏‏ یعنی ’ کاش کہ تو ظالموں کو ان کی سکرات کے وقت دیکھتا جب کہ فرشتے انہیں مارنے کے لیے ہاتھ بڑھائے ہوئے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کے عذاب چکھنے پڑیں گے کیونکہ تم اللہ تعالیٰ سے متعلق ناحق الزامات تراشتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔ ‘ مومنوں کا حال ان کے بالکل برعکس ہو گا، وہ اپنی موت کے وقت خوشخبریاں سنائے جاتے ہیں اور ابدی مسرتوں کی بشارتیں دئیے جاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:30-32] ‏‏‏‏ ’ جنہوں نے اللہ کو اپنا رب کہا اور مانا پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس ہمارے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو بلکہ ان جنتوں میں جانے کی خوشی مناؤ جن کا تمہیں وعدہ دیا جاتا رہا۔ ہم تمہارے والی ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، تم جو کچھ چاہو گے پاؤ گے اور جس چیز کی خواہش کرو گے موجود ہو جائے گی، بخشنے والے مہربان اللہ کی طرف سے یہ تمہاری میزبانی ہو گی۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے کہ { فرشتے مومن کی روح سے کہتے ہیں: اے پاک روح! جو پاک جسم میں تھی، تو اللہ تعالیٰ کے رحم اور رحمت کی طرف چل، جو تجھ سے نارض نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4262،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سورۃ ابراہیم کی آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّـهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّـهُ مَا يَشَاءُ» ۱؎ [14-إبراهيم:27] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں یہ سب حدیثیں مفصل بیان ہو چکی ہیں۔

بعض نے کہا ہے: مراد اس سے قیامت کے دن فرشتوں کا دیکھنا ہو سکتا ہے کہ دونوں موقعوں پر فرشتوں کا دیکھنا مراد ہو۔ اس میں ایک قول کی دوسرے قول سے نفی نہیں کیونکہ دونوں موقعوں پر ہر نیک و بد فرشتوں کو دیکھیں گے، مومنوں کو رحمت و رضوان کی خوشخبری کے ساتھ فرشتوں کا دیدار ہو گا اور کافروں کو لعنت و پھٹکار اور عذابوں کی خبروں کے ساتھ۔ فرشتے اس وقت ان کافروں سے صاف کہہ دیں گے کہ اب فلاح و بہبود تم پر حرام ہے۔ حجر کے لفظی معنی روک ہیں چنانچہ قاضی جب کسی کو اس کی مفلسی یا حماقت یا بچپن کی وجہ سے مال کے تصرف سے روک دے تو کہتے ہیں: «حَجرَ الْقَاضِیَ عَلیٰ فُلاَنٍ» ۔ حطیم کو بھی حجر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ طواف کرنے والوں کو اپنے اندر طواف کرنے سے روک دیتا ہے بلکہ اس کے باہر سے طواف کیا جاتا ہے۔ عقل کو بھی عربی میں حجر کہتے ہیں اس لیے وہ بھی انسان کو برے کاموں سے روک دیتی ہے۔ پس فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ جو خوشخبریاں مومنوں کو اس وقت ملتی ہیں، اس سے تم محروم ہو۔ یہ معنی تو اس بنا پر ہیں کہ اس جملے کو فرشتوں کا قول کہا جائے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ یہ مقولہ اس وقت کافروں کا ہو گا۔ وہ فرشتوں کو دیکھ کر کہیں گے کہ اللہ کرے تم ہم سے آڑ میں رہو، تمہیں ہمارے پاس آنا نہ ملے۔ گو یہ معنی ہو سکتے ہیں لیکن دور کے معنی ہیں۔ بالخصوص اس وقت کہ جب اس کے خلاف وہ تفسیر جو ہم نے اوپر بیان کی، سلف سے مروی ہے۔ البتہ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک قول ایسا مروی ہے لیکن انہی سے صراحت کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ یہ قول فرشتوں کا ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر قیامت کے دن اعمال کے حساب کے وقت ان کے اعمال غارت و اکارت ہو جائیں گے۔ یہ جنہیں اپنی نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھے، وہ بےکار ہو جائیں گے کیونکہ یا تو وہ خلوص والے نہ تھے یا سنت کے مطابق نہ تھے۔ اور جو عمل ان دونوں سے یا ان میں سے ایک چیز سے خالی ہو، وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ اس لیے کافروں کے نیک اعمال بھی مردود ہیں۔ ہم نے ان کے اعمال کا ملاحظہ کیا اور ان کو مثل بکھرے ہوئے ذروں کے کر دیا کہ وہ سورج کی شعاعیں جو کسی سوراخ میں سے آ رہی ہوں، ان میں نظر تو آتے ہیں لیکن کوئی انہیں پکڑنا چاہے تو ہاتھ نہیں آتے۔ جس طرح پانی جو زمین پر بہا دیا جائے، وہ پھر ہاتھ نہیں آ سکتا۔ یا غبار جو ہاتھ نہیں لگ سکتا۔ یا درختوں کے پتوں کا چورا جو ہوا میں بکھر گیا ہو یا راکھ اور خاک جو اڑتی پھرتی ہو۔ اسی طرح ان کے اعمال ہیں جو محض بے کار ہو گئے، ان کا کوئی ثواب ان کے ہاتھ نہیں لگے گا۔ اس لیے کہ یا تو ان میں خلوص نہ تھا یا شریعت کے مطابقت نہ تھی یا دونوں وصف نہ تھے۔ پس جب یہ عالم و عادل حاکم حقیقی کے سامنے پیش ہوئے تو محض نکمے ثابت ہوئے، اسی لیے اسے ردی اور نہ ہاتھ لگنے والی چیز سے تشبیہ دی گئی۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَىٰ شَيْءٍ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ» ۱؎ [14-إبراهيم:18] ‏‏‏‏ ’ کافروں کے اعمال کی مثال راکھ جیسی ہے جسے تیز ہوا اڑا دے۔ ‘ انسان کی نیکیاں بعض بدیوں سے بھی ضائع ہو جاتی ہیں جیسے صدقہ و خیرات کہ وہ احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے ضائع ہو جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ» ۱؎ [2-البقرة:264] ‏‏‏‏ پس ان کے اعمال میں سے آج یہ کسی عمل پر قادر نہیں۔ اور آیت میں ان کی مثال اس ریت کے ٹیلے سے دی گئی جو دور سے مثل دریا کے لہریں مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جسے دیکھ کر پیاسا آدمی پانی سمجھتا ہے لیکن جب پاس آتا ہے تو امید ٹوٹ جاتی ہے۔ ۱؎ [24-النور:39] ‏‏‏‏ اس کی تفسیر بھی اللہ کے فضل سے گزر چکی ہے۔

پھر فرمایا کہ ان کے مقابلے میں جنتیوں کی بھی سن لو کیونکہ یہ دونوں فریق برابر کے نہیں۔ جنتی تو بلند درجوں میں، اعلیٰ بالاخانوں میں امن و امان، راحت و آرام کے ساتھ عیش و عشرت میں ہوں گے۔ مقام اچھا، منظر دل پسند، ہر راحت موجود، ہر دل خوش کن چیز سامنے، جگہ اچھی، مکان طیب، منزل مبارک، سونے بیٹھنے رہنے سہنے کا آرام۔ برخلاف اس کے جہنمی دوزخ کے نیچے کے طبقوں میں جکڑ بند، اوپر نیچے، دائیں بائیں آگ، حسرت افسوس، رنج و غم پھکنا، جلنا و بےقراری، جگرسوزی، مقام بد، بری منزل، خوفناک منظر، عذاب سخت۔ نیک لوگوں کے جن کے دل میں ایمان تھا اعمال مقبول ہوئے، اچھی جزائیں دی گئیں، بدلے ملے۔ جہنم سے بچے، جنت کے مالک وارث بنے۔ پس یہ جو تمام بھلائیوں کو سمیٹ بیٹھے اور وہ جو ہر نیکی سے محروم رہے، کہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ پس نیکوں کی سعادت بیان فرما کر بدوں کی شقاوت پر تنبیہ کر دی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوئی ساعت ایسی بھی ہو گی کہ جنتی حوروں کے ساتھ دن دوپہر کو آرام فرمائیں اور جہنمی شیطانوں کے ساتھ جکڑے ہوئے دوپہر کو گھبرائیں۔

سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آدھے دن میں بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ پس جنتیوں کا دوپہر کے سونے کا وقت جنت میں ہو گا اور دوزخیوں کا جہنم میں۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہوا ہے کہ کس وقت جنتی جنت میں جائیں گے اور جہنمی جہنم میں۔ یہ وہ وقت ہو گا جب یہاں دنیا میں دوپہر کا وقت ہوتا ہے اور لوگ اپنے گھروں کو دو گھڑی آرام حاصل کرنے کی غرض سے لوٹتے ہیں۔ جنتیوں کا یہ قیلولہ جنت میں ہو گا۔ مچھلی کی کلیجی انہیں پیٹ بھر کر کھلائی جائے گی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دن آدھا ہو، اس سے بھی پہلے جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں قیلولہ کریں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی اور آیت «ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» ۱؎ [37-الصافات:68] ‏‏‏‏ بھی پڑھی۔ جنت میں جانے والے صرف ایک مرتبہ جناب باری کے سامنے پیش ہونگے، یہی آسانی سے حساب لینا ہے پھر یہ جنت میں جا کر دوپہر کا آرام کریں گے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے: «فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ٧ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ٨ وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا» ۱؎ [84-الانشقاق:7-9] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس شخص کو اپنا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے بہت آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے والوں کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا۔ ‘ اس کا قیام اور منزل بہتر ہے۔

صفوان بن محرز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن دو شخصوں کو لایا جائے گا، ایک تو وہ جو ساری دنیا کا بادشاہ تھا، اس سے حساب لیا جائے گا تو اس کی پوری عمر میں ایک بھی نیکی نہ نکلے گی پس اسے جہنم کے داخلے کا حکم ملے گا۔ پھر دوسرا شخص آئے گا جس نے ایک کمبل میں دنیا گزاری تھی، جب اس سے حساب لیا جائے گا تو یہ کہے گا کہ اللہ میرے پاس دنیا میں تھا ہی کیا جس کا حساب لیا جائے؟ اللہ فرمائے گا: یہ سچا ہے، اسے چھوڑ دو۔ اسے جنت میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ پھر کچھ عرصے کے بعد دونوں کو بلایا جائے گا تو جہنمی بادشاہ تو مثل سوختہ کوئلے کے ہو گیا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کس حال میں ہو؟ کہے گا: نہایت برے حال میں اور نہایت خراب جگہ میں ہوں۔ پھر جنتی کو بلایا جائے گا اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کیسی گزرتی ہے؟ یہ کہے گا: الحمدللہ بہت اچھی اور نہایت بہتر جگہ میں ہوں۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنی اپنی جگہ پھر چلے جاؤ۔ سعید صواف رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ مومن پر تو قیامت کا دن ایسا چھوٹا ہو جائے گا جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت۔ یہ جنت کی کیاریوں میں پہنچا دئیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اور مخلوق کے حساب ہو جائیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/9] ‏‏‏‏ پس جنتی بہتر ٹھکانے والے اور عمدہ جگہ والے ہوں گے۔
21-1یعنی کسی انسان کو رسول بنا کر بھیجنے کی بجائے، کسی فرشتے کو بنا کر بھیجا جاتا۔ یا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کے ساتھ فرشتے بھی نازل ہوتے، جنہیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور وہ اس بشر رسول کی تصدیق کرتے۔ 21-2یعنی رب آ کر ہمیں کہتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرا رسول ہے اور اس پر ایمان لانا تمہارے لئے ضروری ہے۔ 21-3اسی استکبار اور سرکشی کا نتیجہ ہے کہ وہ اس قسم کے مطالبے کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی منشا کے خلاف ہیں اللہ تعالیٰ تو ایمان بالغیب کے ذریعے سے انسانوں کو آزماتا ہے اگر وہ فرشتوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے اتار دے یا آپ خود زمین پر نزول فرما لے تو اس کے بعد ان کی آزمائش کا پہلو ہی ختم ہوجائے اس لیے اللہ تعالیٰ ایسا کام کیونکر کرسکتا ہے جو اس کی حکمت تخلیق اور مشیت تکوینی کے خلاف ہے؟
(آیت 21) ➊ {وَ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا …:} یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے منکروں کا چوتھا اعتراض ہے، اللہ تعالیٰ نے {”وَقَالُوْا“} (اور انھوں نے کہا) یا {”وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا“} (اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا) کہنے کے بجائے فرمایا: «{وَ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا }» (اور ان لوگوں نے کہا جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے) یعنی انھیں اتنی گستاخی کی جرأت اس لیے ہوئی کہ وہ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے۔ یقین تو دور، اگر انھیں قیامت کی اور ہمارے سامنے پیش ہونے کی امید بھی ہوتی تو اتنی بڑی بات ان کے منہ سے نہ نکلتی۔ ➋ منکرین نے کہا کہ (اس نبی پر فرشتہ وحی لے کر اترتا ہے تو) ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں کیے گئے، یا ایسا کیوں نہیں ہوا کہ ہم اپنے رب کو (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیتے؟ یہ ایسی بات ہے کہ کسی انسان کا حق نہیں کہ زبان پر لانے کی جرأت کرے، کیونکہ یہ اس ذات پاک پر اعتراض ہے جس کی عظمت کی کوئی حد ہے نہ کوئی اس کی حکمتیں معلوم کر سکتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قسم کا مفہوم رکھنے والے الفاظ {” لَقَدْ “} کے ساتھ فرمایا کہ مجھے قسم ہے کہ یہ لوگ اپنے دلوں میں بہت بڑے بن گئے اور انھوں نے ایسی سرکشی اختیار کی جو بہت بڑی سرکشی ہے۔ حالانکہ نہ حقیقت میں انھیں کوئی بڑائی حاصل ہے نہ لوگوں کی نگاہ میں۔ آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایسا کیوں نہیں ہوا کہ اس نبی کے ساتھ فرشتے اترتے، یا خود رب تعالیٰ سامنے آ کر اس کی تصدیق کرتا۔ گویا ان کے لیے نبی کے واضح معجزات خصوصاً قرآن کی کوئی حیثیت نہیں، جس کی ایک سورت کی مثل وہ نہیں لا سکے۔ ➌ کفار کا یہ اعتراض اللہ تعالیٰ نے دوسرے کئی مقامات پر بھی ذکر فرمایا ہے۔ چنانچہ سورۂ انعام میں فرمایا: «{ وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ }» [ الأنعام: ۱۲۴ ] ”اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہر گز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ ہمیں اس جیسا دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا، اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔ عنقریب ان لوگوں کو جنھوں نے جرم کیے، اللہ کے ہاں بڑی ذلت پہنچے گی اور بہت سخت عذاب، اس وجہ سے کہ وہ فریب کیا کرتے تھے۔“ اور سورۂ بنی اسرائیل کی آیات (۹۰ تا ۹۳) میں ان مطالبات کا ذکر ہے جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی شرط کے طور پر پیش کیے تھے، ان میں سے ایک مطالبہ یہ تھا: «{ اَوْ تَاْتِيَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيْلًا }» [ بني إسرائیل: ۹۲ ] ”یا تو اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آئے۔“ ➍ اللہ تعالیٰ نے اسے بہت بڑا تکبر اور بہت بڑی سرکشی اس لیے قرار دیا کہ انھوں نے اپنے ہر شخص کے لیے نبی کا مرتبہ ملنے کا مطالبہ کیا جو فرشتے کے نزول کی وجہ سے اسے حاصل ہوتا ہے۔ (دیکھیے مدثر: ۵۲، ۵۳) پھر یہیں تک نہیں رہے، بلکہ کئی فرشتوں کے نزول کا مطالبہ کیا جو ان کے پاس اللہ کا پیغام لے کر آئیں۔ اس سے بھی بڑھے تو رب تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کر دیا۔ گویا ان چیزوں کا مطالبہ کر دیا جو نبیوں کو بھی عطا نہیں ہوئیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا سوال تو موسیٰ علیہ السلام نے بھی کیا تھا، اسے تکبر کیوں نہیں کہا گیا؟ جواب یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے دیدار کا مطالبہ ایمان کی شرط کے طور پر نہیں کیا تھا بلکہ شوق کے تقاضے سے کیا تھا۔
یَوۡمَ یَرَوۡنَ الۡمَلٰٓئِکَۃَ لَا بُشۡرٰی یَوۡمَئِذٍ لِّلۡمُجۡرِمِیۡنَ وَ یَقُوۡلُوۡنَ حِجۡرًا مَّحۡجُوۡرًا ﴿۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن نہ ہوگا، چیخ اٹھیں گے کہ پناہ بخدا
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن یہ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن ان گناه گاروں کو کوئی خوشی نہ ہوگی اور کہیں گے یہ محروم ہی محروم کیے گئے
احمد رضا خان بریلوی
جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے وہ دن مجرموں کی کوئی خوشی کا نہ ہوگا اور کہیں گے الٰہی ہم میں ان میں کوئی آڑ کردے رکی ہوئی
علامہ محمد حسین نجفی
یہ لوگ جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے تو اس دن مجرموں کیلئے کوئی بشارت نہیں ہوگی اور وہ کہیں گے پناہ ہے پناہ (یا حرام ہے حرام)۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے خوشی کی کوئی خبر نہ ہوگی اور کہیں گے (کاش! ہمارے اوران کے درمیان) ایک مضبوط آڑ ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تصدیق نبوت کے لئے احمقانہ شرائط ٭٭

کافر لوگ انکار نبوت کا ایک بہانہ یہ بھی بناتے تھے کہ اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو کسی فرشتے کو کیوں نہ بھیجا؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ وہ ایک بہانہ یہ بھی کرتے تھے کہ «قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ» ۱؎ [6-الأنعام:124] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب تک خود ہمیں وہ نہ دیا جائے جو رسولوں کو دیا گیا، ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبیوں کے پاس اللہ کی طرف سے فرشتہ وحی لے کر آتا ہے، ہمارے پاس بھی آئے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا مطالبہ یہ ہو کہ فرشتوں کو دیکھ لیں۔ خود فرشتے آ کر ہمیں سمجھائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کریں تو ہم آپ کو نبی مان لیں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ کفار نے کہا: «أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:92] ‏‏‏‏ یعنی ’ تو اللہ کو لے آ، فرشتوں کو بنفس نفیس ہمارے پاس لے آ۔ ‘ اس کی پوری تفسیر سورۃ سبحان میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی ان کا یہی مطالبہ بیان ہوا ہے کہ یا تو ہمارے اوپر فرشتے اتریں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ یہ بات اس لیے ان کی منہ سے نکلی کہ یہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے تھے اور ان کا غرور حد سے بڑھ گیا تھا۔ ان کی ایمان لانے کی نیت نہ تھی۔ جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:111] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے، اس قسم کی اور بھی تمام چیزیں ہم ان کے سامنے کر دیتے۔ جب بھی انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہوتا۔ ‘

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فرشتوں کو یہ دیکھیں گے لیکن اس وقت ان کے لیے ان کا دیکھنا کچھ سود مند نہ ہو گا۔ اس سے مراد سکرات موت کا وقت ہے جب کہ فرشتے کافروں کے پاس آتے ہیں اور اللہ کے غضب اور جہنم کی آگ کی خبر انہیں سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خبیث نفس! تو خبیث اور ناپاک جسم میں تھا، اب گرم ہواؤں، گرم پانی اور نامبارک سایوں کی طرف چل، وہ نکلنے سے کتراتی ہے اور بدن میں چھپتی پھرتی ہے۔ اس پر فرشتے ان کے چہروں پر اور ان کی کمروں پر ضربیں مارتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:93] ‏‏‏‏ یعنی ’ کاش کہ تو ظالموں کو ان کی سکرات کے وقت دیکھتا جب کہ فرشتے انہیں مارنے کے لیے ہاتھ بڑھائے ہوئے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کے عذاب چکھنے پڑیں گے کیونکہ تم اللہ تعالیٰ سے متعلق ناحق الزامات تراشتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔ ‘ مومنوں کا حال ان کے بالکل برعکس ہو گا، وہ اپنی موت کے وقت خوشخبریاں سنائے جاتے ہیں اور ابدی مسرتوں کی بشارتیں دئیے جاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:30-32] ‏‏‏‏ ’ جنہوں نے اللہ کو اپنا رب کہا اور مانا پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس ہمارے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو بلکہ ان جنتوں میں جانے کی خوشی مناؤ جن کا تمہیں وعدہ دیا جاتا رہا۔ ہم تمہارے والی ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، تم جو کچھ چاہو گے پاؤ گے اور جس چیز کی خواہش کرو گے موجود ہو جائے گی، بخشنے والے مہربان اللہ کی طرف سے یہ تمہاری میزبانی ہو گی۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے کہ { فرشتے مومن کی روح سے کہتے ہیں: اے پاک روح! جو پاک جسم میں تھی، تو اللہ تعالیٰ کے رحم اور رحمت کی طرف چل، جو تجھ سے نارض نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4262،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سورۃ ابراہیم کی آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّـهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّـهُ مَا يَشَاءُ» ۱؎ [14-إبراهيم:27] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں یہ سب حدیثیں مفصل بیان ہو چکی ہیں۔

بعض نے کہا ہے: مراد اس سے قیامت کے دن فرشتوں کا دیکھنا ہو سکتا ہے کہ دونوں موقعوں پر فرشتوں کا دیکھنا مراد ہو۔ اس میں ایک قول کی دوسرے قول سے نفی نہیں کیونکہ دونوں موقعوں پر ہر نیک و بد فرشتوں کو دیکھیں گے، مومنوں کو رحمت و رضوان کی خوشخبری کے ساتھ فرشتوں کا دیدار ہو گا اور کافروں کو لعنت و پھٹکار اور عذابوں کی خبروں کے ساتھ۔ فرشتے اس وقت ان کافروں سے صاف کہہ دیں گے کہ اب فلاح و بہبود تم پر حرام ہے۔ حجر کے لفظی معنی روک ہیں چنانچہ قاضی جب کسی کو اس کی مفلسی یا حماقت یا بچپن کی وجہ سے مال کے تصرف سے روک دے تو کہتے ہیں: «حَجرَ الْقَاضِیَ عَلیٰ فُلاَنٍ» ۔ حطیم کو بھی حجر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ طواف کرنے والوں کو اپنے اندر طواف کرنے سے روک دیتا ہے بلکہ اس کے باہر سے طواف کیا جاتا ہے۔ عقل کو بھی عربی میں حجر کہتے ہیں اس لیے وہ بھی انسان کو برے کاموں سے روک دیتی ہے۔ پس فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ جو خوشخبریاں مومنوں کو اس وقت ملتی ہیں، اس سے تم محروم ہو۔ یہ معنی تو اس بنا پر ہیں کہ اس جملے کو فرشتوں کا قول کہا جائے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ یہ مقولہ اس وقت کافروں کا ہو گا۔ وہ فرشتوں کو دیکھ کر کہیں گے کہ اللہ کرے تم ہم سے آڑ میں رہو، تمہیں ہمارے پاس آنا نہ ملے۔ گو یہ معنی ہو سکتے ہیں لیکن دور کے معنی ہیں۔ بالخصوص اس وقت کہ جب اس کے خلاف وہ تفسیر جو ہم نے اوپر بیان کی، سلف سے مروی ہے۔ البتہ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک قول ایسا مروی ہے لیکن انہی سے صراحت کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ یہ قول فرشتوں کا ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر قیامت کے دن اعمال کے حساب کے وقت ان کے اعمال غارت و اکارت ہو جائیں گے۔ یہ جنہیں اپنی نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھے، وہ بےکار ہو جائیں گے کیونکہ یا تو وہ خلوص والے نہ تھے یا سنت کے مطابق نہ تھے۔ اور جو عمل ان دونوں سے یا ان میں سے ایک چیز سے خالی ہو، وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ اس لیے کافروں کے نیک اعمال بھی مردود ہیں۔ ہم نے ان کے اعمال کا ملاحظہ کیا اور ان کو مثل بکھرے ہوئے ذروں کے کر دیا کہ وہ سورج کی شعاعیں جو کسی سوراخ میں سے آ رہی ہوں، ان میں نظر تو آتے ہیں لیکن کوئی انہیں پکڑنا چاہے تو ہاتھ نہیں آتے۔ جس طرح پانی جو زمین پر بہا دیا جائے، وہ پھر ہاتھ نہیں آ سکتا۔ یا غبار جو ہاتھ نہیں لگ سکتا۔ یا درختوں کے پتوں کا چورا جو ہوا میں بکھر گیا ہو یا راکھ اور خاک جو اڑتی پھرتی ہو۔ اسی طرح ان کے اعمال ہیں جو محض بے کار ہو گئے، ان کا کوئی ثواب ان کے ہاتھ نہیں لگے گا۔ اس لیے کہ یا تو ان میں خلوص نہ تھا یا شریعت کے مطابقت نہ تھی یا دونوں وصف نہ تھے۔ پس جب یہ عالم و عادل حاکم حقیقی کے سامنے پیش ہوئے تو محض نکمے ثابت ہوئے، اسی لیے اسے ردی اور نہ ہاتھ لگنے والی چیز سے تشبیہ دی گئی۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَىٰ شَيْءٍ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ» ۱؎ [14-إبراهيم:18] ‏‏‏‏ ’ کافروں کے اعمال کی مثال راکھ جیسی ہے جسے تیز ہوا اڑا دے۔ ‘ انسان کی نیکیاں بعض بدیوں سے بھی ضائع ہو جاتی ہیں جیسے صدقہ و خیرات کہ وہ احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے ضائع ہو جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ» ۱؎ [2-البقرة:264] ‏‏‏‏ پس ان کے اعمال میں سے آج یہ کسی عمل پر قادر نہیں۔ اور آیت میں ان کی مثال اس ریت کے ٹیلے سے دی گئی جو دور سے مثل دریا کے لہریں مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جسے دیکھ کر پیاسا آدمی پانی سمجھتا ہے لیکن جب پاس آتا ہے تو امید ٹوٹ جاتی ہے۔ ۱؎ [24-النور:39] ‏‏‏‏ اس کی تفسیر بھی اللہ کے فضل سے گزر چکی ہے۔

پھر فرمایا کہ ان کے مقابلے میں جنتیوں کی بھی سن لو کیونکہ یہ دونوں فریق برابر کے نہیں۔ جنتی تو بلند درجوں میں، اعلیٰ بالاخانوں میں امن و امان، راحت و آرام کے ساتھ عیش و عشرت میں ہوں گے۔ مقام اچھا، منظر دل پسند، ہر راحت موجود، ہر دل خوش کن چیز سامنے، جگہ اچھی، مکان طیب، منزل مبارک، سونے بیٹھنے رہنے سہنے کا آرام۔ برخلاف اس کے جہنمی دوزخ کے نیچے کے طبقوں میں جکڑ بند، اوپر نیچے، دائیں بائیں آگ، حسرت افسوس، رنج و غم پھکنا، جلنا و بےقراری، جگرسوزی، مقام بد، بری منزل، خوفناک منظر، عذاب سخت۔ نیک لوگوں کے جن کے دل میں ایمان تھا اعمال مقبول ہوئے، اچھی جزائیں دی گئیں، بدلے ملے۔ جہنم سے بچے، جنت کے مالک وارث بنے۔ پس یہ جو تمام بھلائیوں کو سمیٹ بیٹھے اور وہ جو ہر نیکی سے محروم رہے، کہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ پس نیکوں کی سعادت بیان فرما کر بدوں کی شقاوت پر تنبیہ کر دی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوئی ساعت ایسی بھی ہو گی کہ جنتی حوروں کے ساتھ دن دوپہر کو آرام فرمائیں اور جہنمی شیطانوں کے ساتھ جکڑے ہوئے دوپہر کو گھبرائیں۔

سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آدھے دن میں بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ پس جنتیوں کا دوپہر کے سونے کا وقت جنت میں ہو گا اور دوزخیوں کا جہنم میں۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہوا ہے کہ کس وقت جنتی جنت میں جائیں گے اور جہنمی جہنم میں۔ یہ وہ وقت ہو گا جب یہاں دنیا میں دوپہر کا وقت ہوتا ہے اور لوگ اپنے گھروں کو دو گھڑی آرام حاصل کرنے کی غرض سے لوٹتے ہیں۔ جنتیوں کا یہ قیلولہ جنت میں ہو گا۔ مچھلی کی کلیجی انہیں پیٹ بھر کر کھلائی جائے گی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دن آدھا ہو، اس سے بھی پہلے جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں قیلولہ کریں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی اور آیت «ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» ۱؎ [37-الصافات:68] ‏‏‏‏ بھی پڑھی۔ جنت میں جانے والے صرف ایک مرتبہ جناب باری کے سامنے پیش ہونگے، یہی آسانی سے حساب لینا ہے پھر یہ جنت میں جا کر دوپہر کا آرام کریں گے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے: «فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ٧ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ٨ وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا» ۱؎ [84-الانشقاق:7-9] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس شخص کو اپنا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے بہت آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے والوں کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا۔ ‘ اس کا قیام اور منزل بہتر ہے۔

صفوان بن محرز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن دو شخصوں کو لایا جائے گا، ایک تو وہ جو ساری دنیا کا بادشاہ تھا، اس سے حساب لیا جائے گا تو اس کی پوری عمر میں ایک بھی نیکی نہ نکلے گی پس اسے جہنم کے داخلے کا حکم ملے گا۔ پھر دوسرا شخص آئے گا جس نے ایک کمبل میں دنیا گزاری تھی، جب اس سے حساب لیا جائے گا تو یہ کہے گا کہ اللہ میرے پاس دنیا میں تھا ہی کیا جس کا حساب لیا جائے؟ اللہ فرمائے گا: یہ سچا ہے، اسے چھوڑ دو۔ اسے جنت میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ پھر کچھ عرصے کے بعد دونوں کو بلایا جائے گا تو جہنمی بادشاہ تو مثل سوختہ کوئلے کے ہو گیا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کس حال میں ہو؟ کہے گا: نہایت برے حال میں اور نہایت خراب جگہ میں ہوں۔ پھر جنتی کو بلایا جائے گا اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کیسی گزرتی ہے؟ یہ کہے گا: الحمدللہ بہت اچھی اور نہایت بہتر جگہ میں ہوں۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنی اپنی جگہ پھر چلے جاؤ۔ سعید صواف رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ مومن پر تو قیامت کا دن ایسا چھوٹا ہو جائے گا جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت۔ یہ جنت کی کیاریوں میں پہنچا دئیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اور مخلوق کے حساب ہو جائیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/9] ‏‏‏‏ پس جنتی بہتر ٹھکانے والے اور عمدہ جگہ والے ہوں گے۔
22-1اس دن سے مراد موت کا دن ہے یعنی یہ کافر فرشتوں کو دیکھنے کی آرزو تو کرتے ہیں لیکن موت کے وقت جب یہ فرشتوں کو دیکھیں گے تو ان کے لیے کوئی خوشی اور مسرت نہیں ہوگی اس لیے کہ فرشتے انھیں اس موقع پر عذاب جہنم کی وعید سناتے ہیں اور کہتے ہیں اے خبیث روح خبیث جسم سے نکل جس سے روح دوڑتی اور بھاگتی ہے جس پر فرشتے اسے مارتے اور کوٹتے ہیں جیسا کہ (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا ۙ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ ۚ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ) 8۔ الانفال:50)، (وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَيْءٌ وَّمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ۭ وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ ۚ اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ) 6۔ الانعام:93) میں ہے اس کے برعکس مومن کا حال وقت احتضار جان کنی کے وقت یہ ہوتا ہے کہ فرشتے اسے جنت اور اس کی نعمتوں کی نوید جاں فزا سناتے ہیں جیسا کہ سورة حم السجدۃ332میں ہے اور حدیث میں بھی آتا ہے کہ فرشتے مومن کی روح سے کہتے ہیں اے پاک روح جو پاک جسم میں تھی نکل اور ایسی جگہ چل جہاں اللہ کی نعمتیں ہیں اور وہ رب ہے جو تجھ سے راضی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے مسند احمد، ابن ماجہ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ دونوں ہی قول صحیح ہیں اس لیے کہ دونوں ہی دن ایسے ہیں کہ فرشتے مومن اور کافر دونوں کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں مومنوں کو رحمت ورضوان الہی کی خوشخبری اور کافروں کو ہلاکت و خسران کی خبر دیتے ہیں۔ 22-2حِجْر کے اصل معنی ہیں منع کرنا، روک دینا۔ جس طرح قاضی کسی کو اس کی بےوقوفی یا کم عمری کی وجہ سے اس کے اپنے مال کو خرچ کرنے سے روک دے تو کہتے ہیں حَجَرَ الْقَاضِیْ عَلٰی فُلَان قاضی نے فلاں کو تصرف کرنے سے روک دیا ہے۔ اسی مفہوم میں خانہ کعبہ کے اس حصے حطیم کو حجر کہا جاتا ہے جسے قریش مکہ نے خانہ کعبہ میں شامل نہیں کیا تھا اس لیے طواف کرنے والوں کے لیے اس کے اندر سے طواف کرنا منع ہے طواف کرتے وقت اس کے بیرونی حصے سے گزرنا چاہیے جسے دیوار سے ممتاز کردیا گیا ہے اور عقل کو بھی حجر کہا جاتا ہے اس لیے کہ عقل بھی انسانوں کو ایسے کاموں سے روکتی ہے جو انسان کے لائق نہیں ہیں معنی یہ ہیں کہ فرشتے کافروں کو کہتے ہیں کہ تم ان چیزوں سے محروم ہو جن کی خوشخبری متقین کو دی جاتی ہے یعنی یہ حراما محرما علیکم کے معنی میں ہے آج جنت الفردوس اور اس کی نعمتیں تم پر حرام ہیں اس کے مستحق صرف اہل ایمان وتقوی ہوں گے۔
(آیت 22) ➊ { يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰٓىِٕكَةَ لَا بُشْرٰى يَوْمَىِٕذٍ لِّلْمُجْرِمِيْنَ:} یعنی رب تعالیٰ کو دیکھنا تو بہت دور، فرشتوں کو دیکھنا بھی معمولی بات نہیں، جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن ان مجرموں کے لیے کوئی خوشی کی خبر نہیں ہو گی، کیونکہ وہ ان کے لیے عذاب ہی لے کر آتے ہیں (حجر: ۸) خواہ وہ دنیا میں کوئی عذاب لے کر آئیں یا موت کے وقت ان کے پاس آئیں (انعام: ۹۳۔ انفال: ۵۰۔ محمد: ۲۷، ۲۸) یا قیامت کے دن انھیں دکھائی دیں۔ ➋ { وَ يَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا:حِجْرًا “} کا معنی آڑ، رکاوٹ ہے، {” مَحْجُوْرًا “} تاکید کے لیے ہے، یعنی بہت مضبوط رکاوٹ۔ یعنی جب مجرم فرشتوں کو دیکھیں گے تو چاہیں گے کہ ان کے اور فرشتوں کے درمیان کوئی مضبوط آڑ ہو، کوئی سخت رکاوٹ ہو جس کے ذریعے سے وہ ان سے بچ جائیں۔
وَ قَدِمۡنَاۤ اِلٰی مَا عَمِلُوۡا مِنۡ عَمَلٍ فَجَعَلۡنٰہُ ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴿۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اُسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور انہوں نے جو جو اعمال کیے تھے ہم نےان کی طرف بڑھ کر انہیں پراگنده ذروں کی طرح کردیا
احمد رضا خان بریلوی
اور جو کچھ انہوں نے کام کیے تھے ہم نے قصد فرماکر انہیں باریک باریک غبار، کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم ان کے ان کاموں کی طرف متوجہ ہوں گے جو انہوں نے کئے ہوں گے۔ اور انہیں پراگندہ غبار بنا دیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم اس کی طرف آئیں گے جو انھوں نے کوئی بھی عمل کیا ہو گا تو اسے بکھرا ہوا غبار بنا دیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تصدیق نبوت کے لئے احمقانہ شرائط ٭٭

کافر لوگ انکار نبوت کا ایک بہانہ یہ بھی بناتے تھے کہ اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو کسی فرشتے کو کیوں نہ بھیجا؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ وہ ایک بہانہ یہ بھی کرتے تھے کہ «قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ» ۱؎ [6-الأنعام:124] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب تک خود ہمیں وہ نہ دیا جائے جو رسولوں کو دیا گیا، ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبیوں کے پاس اللہ کی طرف سے فرشتہ وحی لے کر آتا ہے، ہمارے پاس بھی آئے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا مطالبہ یہ ہو کہ فرشتوں کو دیکھ لیں۔ خود فرشتے آ کر ہمیں سمجھائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کریں تو ہم آپ کو نبی مان لیں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ کفار نے کہا: «أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:92] ‏‏‏‏ یعنی ’ تو اللہ کو لے آ، فرشتوں کو بنفس نفیس ہمارے پاس لے آ۔ ‘ اس کی پوری تفسیر سورۃ سبحان میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی ان کا یہی مطالبہ بیان ہوا ہے کہ یا تو ہمارے اوپر فرشتے اتریں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ یہ بات اس لیے ان کی منہ سے نکلی کہ یہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے تھے اور ان کا غرور حد سے بڑھ گیا تھا۔ ان کی ایمان لانے کی نیت نہ تھی۔ جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:111] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے، اس قسم کی اور بھی تمام چیزیں ہم ان کے سامنے کر دیتے۔ جب بھی انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہوتا۔ ‘

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فرشتوں کو یہ دیکھیں گے لیکن اس وقت ان کے لیے ان کا دیکھنا کچھ سود مند نہ ہو گا۔ اس سے مراد سکرات موت کا وقت ہے جب کہ فرشتے کافروں کے پاس آتے ہیں اور اللہ کے غضب اور جہنم کی آگ کی خبر انہیں سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خبیث نفس! تو خبیث اور ناپاک جسم میں تھا، اب گرم ہواؤں، گرم پانی اور نامبارک سایوں کی طرف چل، وہ نکلنے سے کتراتی ہے اور بدن میں چھپتی پھرتی ہے۔ اس پر فرشتے ان کے چہروں پر اور ان کی کمروں پر ضربیں مارتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:93] ‏‏‏‏ یعنی ’ کاش کہ تو ظالموں کو ان کی سکرات کے وقت دیکھتا جب کہ فرشتے انہیں مارنے کے لیے ہاتھ بڑھائے ہوئے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کے عذاب چکھنے پڑیں گے کیونکہ تم اللہ تعالیٰ سے متعلق ناحق الزامات تراشتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔ ‘ مومنوں کا حال ان کے بالکل برعکس ہو گا، وہ اپنی موت کے وقت خوشخبریاں سنائے جاتے ہیں اور ابدی مسرتوں کی بشارتیں دئیے جاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:30-32] ‏‏‏‏ ’ جنہوں نے اللہ کو اپنا رب کہا اور مانا پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس ہمارے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو بلکہ ان جنتوں میں جانے کی خوشی مناؤ جن کا تمہیں وعدہ دیا جاتا رہا۔ ہم تمہارے والی ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، تم جو کچھ چاہو گے پاؤ گے اور جس چیز کی خواہش کرو گے موجود ہو جائے گی، بخشنے والے مہربان اللہ کی طرف سے یہ تمہاری میزبانی ہو گی۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے کہ { فرشتے مومن کی روح سے کہتے ہیں: اے پاک روح! جو پاک جسم میں تھی، تو اللہ تعالیٰ کے رحم اور رحمت کی طرف چل، جو تجھ سے نارض نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4262،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سورۃ ابراہیم کی آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّـهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّـهُ مَا يَشَاءُ» ۱؎ [14-إبراهيم:27] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں یہ سب حدیثیں مفصل بیان ہو چکی ہیں۔

بعض نے کہا ہے: مراد اس سے قیامت کے دن فرشتوں کا دیکھنا ہو سکتا ہے کہ دونوں موقعوں پر فرشتوں کا دیکھنا مراد ہو۔ اس میں ایک قول کی دوسرے قول سے نفی نہیں کیونکہ دونوں موقعوں پر ہر نیک و بد فرشتوں کو دیکھیں گے، مومنوں کو رحمت و رضوان کی خوشخبری کے ساتھ فرشتوں کا دیدار ہو گا اور کافروں کو لعنت و پھٹکار اور عذابوں کی خبروں کے ساتھ۔ فرشتے اس وقت ان کافروں سے صاف کہہ دیں گے کہ اب فلاح و بہبود تم پر حرام ہے۔ حجر کے لفظی معنی روک ہیں چنانچہ قاضی جب کسی کو اس کی مفلسی یا حماقت یا بچپن کی وجہ سے مال کے تصرف سے روک دے تو کہتے ہیں: «حَجرَ الْقَاضِیَ عَلیٰ فُلاَنٍ» ۔ حطیم کو بھی حجر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ طواف کرنے والوں کو اپنے اندر طواف کرنے سے روک دیتا ہے بلکہ اس کے باہر سے طواف کیا جاتا ہے۔ عقل کو بھی عربی میں حجر کہتے ہیں اس لیے وہ بھی انسان کو برے کاموں سے روک دیتی ہے۔ پس فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ جو خوشخبریاں مومنوں کو اس وقت ملتی ہیں، اس سے تم محروم ہو۔ یہ معنی تو اس بنا پر ہیں کہ اس جملے کو فرشتوں کا قول کہا جائے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ یہ مقولہ اس وقت کافروں کا ہو گا۔ وہ فرشتوں کو دیکھ کر کہیں گے کہ اللہ کرے تم ہم سے آڑ میں رہو، تمہیں ہمارے پاس آنا نہ ملے۔ گو یہ معنی ہو سکتے ہیں لیکن دور کے معنی ہیں۔ بالخصوص اس وقت کہ جب اس کے خلاف وہ تفسیر جو ہم نے اوپر بیان کی، سلف سے مروی ہے۔ البتہ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک قول ایسا مروی ہے لیکن انہی سے صراحت کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ یہ قول فرشتوں کا ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر قیامت کے دن اعمال کے حساب کے وقت ان کے اعمال غارت و اکارت ہو جائیں گے۔ یہ جنہیں اپنی نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھے، وہ بےکار ہو جائیں گے کیونکہ یا تو وہ خلوص والے نہ تھے یا سنت کے مطابق نہ تھے۔ اور جو عمل ان دونوں سے یا ان میں سے ایک چیز سے خالی ہو، وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ اس لیے کافروں کے نیک اعمال بھی مردود ہیں۔ ہم نے ان کے اعمال کا ملاحظہ کیا اور ان کو مثل بکھرے ہوئے ذروں کے کر دیا کہ وہ سورج کی شعاعیں جو کسی سوراخ میں سے آ رہی ہوں، ان میں نظر تو آتے ہیں لیکن کوئی انہیں پکڑنا چاہے تو ہاتھ نہیں آتے۔ جس طرح پانی جو زمین پر بہا دیا جائے، وہ پھر ہاتھ نہیں آ سکتا۔ یا غبار جو ہاتھ نہیں لگ سکتا۔ یا درختوں کے پتوں کا چورا جو ہوا میں بکھر گیا ہو یا راکھ اور خاک جو اڑتی پھرتی ہو۔ اسی طرح ان کے اعمال ہیں جو محض بے کار ہو گئے، ان کا کوئی ثواب ان کے ہاتھ نہیں لگے گا۔ اس لیے کہ یا تو ان میں خلوص نہ تھا یا شریعت کے مطابقت نہ تھی یا دونوں وصف نہ تھے۔ پس جب یہ عالم و عادل حاکم حقیقی کے سامنے پیش ہوئے تو محض نکمے ثابت ہوئے، اسی لیے اسے ردی اور نہ ہاتھ لگنے والی چیز سے تشبیہ دی گئی۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَىٰ شَيْءٍ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ» ۱؎ [14-إبراهيم:18] ‏‏‏‏ ’ کافروں کے اعمال کی مثال راکھ جیسی ہے جسے تیز ہوا اڑا دے۔ ‘ انسان کی نیکیاں بعض بدیوں سے بھی ضائع ہو جاتی ہیں جیسے صدقہ و خیرات کہ وہ احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے ضائع ہو جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ» ۱؎ [2-البقرة:264] ‏‏‏‏ پس ان کے اعمال میں سے آج یہ کسی عمل پر قادر نہیں۔ اور آیت میں ان کی مثال اس ریت کے ٹیلے سے دی گئی جو دور سے مثل دریا کے لہریں مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جسے دیکھ کر پیاسا آدمی پانی سمجھتا ہے لیکن جب پاس آتا ہے تو امید ٹوٹ جاتی ہے۔ ۱؎ [24-النور:39] ‏‏‏‏ اس کی تفسیر بھی اللہ کے فضل سے گزر چکی ہے۔

پھر فرمایا کہ ان کے مقابلے میں جنتیوں کی بھی سن لو کیونکہ یہ دونوں فریق برابر کے نہیں۔ جنتی تو بلند درجوں میں، اعلیٰ بالاخانوں میں امن و امان، راحت و آرام کے ساتھ عیش و عشرت میں ہوں گے۔ مقام اچھا، منظر دل پسند، ہر راحت موجود، ہر دل خوش کن چیز سامنے، جگہ اچھی، مکان طیب، منزل مبارک، سونے بیٹھنے رہنے سہنے کا آرام۔ برخلاف اس کے جہنمی دوزخ کے نیچے کے طبقوں میں جکڑ بند، اوپر نیچے، دائیں بائیں آگ، حسرت افسوس، رنج و غم پھکنا، جلنا و بےقراری، جگرسوزی، مقام بد، بری منزل، خوفناک منظر، عذاب سخت۔ نیک لوگوں کے جن کے دل میں ایمان تھا اعمال مقبول ہوئے، اچھی جزائیں دی گئیں، بدلے ملے۔ جہنم سے بچے، جنت کے مالک وارث بنے۔ پس یہ جو تمام بھلائیوں کو سمیٹ بیٹھے اور وہ جو ہر نیکی سے محروم رہے، کہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ پس نیکوں کی سعادت بیان فرما کر بدوں کی شقاوت پر تنبیہ کر دی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوئی ساعت ایسی بھی ہو گی کہ جنتی حوروں کے ساتھ دن دوپہر کو آرام فرمائیں اور جہنمی شیطانوں کے ساتھ جکڑے ہوئے دوپہر کو گھبرائیں۔

سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آدھے دن میں بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ پس جنتیوں کا دوپہر کے سونے کا وقت جنت میں ہو گا اور دوزخیوں کا جہنم میں۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہوا ہے کہ کس وقت جنتی جنت میں جائیں گے اور جہنمی جہنم میں۔ یہ وہ وقت ہو گا جب یہاں دنیا میں دوپہر کا وقت ہوتا ہے اور لوگ اپنے گھروں کو دو گھڑی آرام حاصل کرنے کی غرض سے لوٹتے ہیں۔ جنتیوں کا یہ قیلولہ جنت میں ہو گا۔ مچھلی کی کلیجی انہیں پیٹ بھر کر کھلائی جائے گی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دن آدھا ہو، اس سے بھی پہلے جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں قیلولہ کریں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی اور آیت «ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» ۱؎ [37-الصافات:68] ‏‏‏‏ بھی پڑھی۔ جنت میں جانے والے صرف ایک مرتبہ جناب باری کے سامنے پیش ہونگے، یہی آسانی سے حساب لینا ہے پھر یہ جنت میں جا کر دوپہر کا آرام کریں گے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے: «فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ٧ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ٨ وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا» ۱؎ [84-الانشقاق:7-9] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس شخص کو اپنا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے بہت آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے والوں کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا۔ ‘ اس کا قیام اور منزل بہتر ہے۔

صفوان بن محرز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن دو شخصوں کو لایا جائے گا، ایک تو وہ جو ساری دنیا کا بادشاہ تھا، اس سے حساب لیا جائے گا تو اس کی پوری عمر میں ایک بھی نیکی نہ نکلے گی پس اسے جہنم کے داخلے کا حکم ملے گا۔ پھر دوسرا شخص آئے گا جس نے ایک کمبل میں دنیا گزاری تھی، جب اس سے حساب لیا جائے گا تو یہ کہے گا کہ اللہ میرے پاس دنیا میں تھا ہی کیا جس کا حساب لیا جائے؟ اللہ فرمائے گا: یہ سچا ہے، اسے چھوڑ دو۔ اسے جنت میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ پھر کچھ عرصے کے بعد دونوں کو بلایا جائے گا تو جہنمی بادشاہ تو مثل سوختہ کوئلے کے ہو گیا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کس حال میں ہو؟ کہے گا: نہایت برے حال میں اور نہایت خراب جگہ میں ہوں۔ پھر جنتی کو بلایا جائے گا اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کیسی گزرتی ہے؟ یہ کہے گا: الحمدللہ بہت اچھی اور نہایت بہتر جگہ میں ہوں۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنی اپنی جگہ پھر چلے جاؤ۔ سعید صواف رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ مومن پر تو قیامت کا دن ایسا چھوٹا ہو جائے گا جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت۔ یہ جنت کی کیاریوں میں پہنچا دئیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اور مخلوق کے حساب ہو جائیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/9] ‏‏‏‏ پس جنتی بہتر ٹھکانے والے اور عمدہ جگہ والے ہوں گے۔
23-1ھَبَاَء ان باریک ذروں کو کہتے ہیں جو کسی سوراخ سے گھر کے اندر داخل ہونے والی سورج کی کرن میں محسوس ہوتے ہیں لیکن اگر کوئی انھیں ہاتھ میں پکڑنا چاہے تو یہ ممکن نہیں ہے۔ کافروں کے عمل بھی قیامت والے دن ان ہی ذروں کی طرح بےحیثیت ہونگے، کیونکہ وہ ایمان و اخلاص سے بھی خالی ہونگے اور موافقت شریعت کی مطابقت بھی۔ یہاں کافروں کے اعمال کو جس طرح بےحیثیت ذروں کی مثل کہا گیا ہے۔ اسی طرح دوسرے مقامات پر کہیں راکھ سے، کہیں سراب سے اور کہیں صاف چکنے پتھر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ ساری تمثیلات پہلے گزر چکی ہیں ملاحظہ ہو (وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَيْءٌ وَّمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ۭ وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ ۚ اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ) 2۔ البقرۃ:264) (مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِۨ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ ۭ لَا يَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰي شَيْءٍ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ) 14۔ ابراہیم:18)
(آیت 23) {وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ …: ” هَبَآءً “} غبار کے ان ذرّات کو کہتے ہیں جو روشن دان کے ذریعے سے کمرے میں آنے والی دھوپ میں چمک رہے ہوتے ہیں، پکڑنا چاہیں تو کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ کوئی شخص جسے کسی چیز سے شدید کراہت و نفرت ہو وہ اسے کسی دوسرے کے ہاتھوں تباہ و برباد کرنے پر قناعت نہیں کرتا، بلکہ وہ خود اسے تباہ و برباد کرتا ہے، اس لیے فرمایا کہ جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے، دنیا میں دیکھیں یا آخرت میں، تو انھوں نے اپنے خیال میں جو بھی اچھا عمل کیا ہو گا، خواہ سخاوت ہو یا صلہ رحمی یا مظلوم کی مدد یا بیت اللہ کی آباد کاری اور حاجیوں کی خدمت وغیرہ، ہم خود اس کی طرف آئیں گے اور اسے بکھرا ہوا غبار بنا دیں گے، کیونکہ عمل کی قبولیت کے لیے ایمان، اخلاص اور اس کا شریعت کے مطابق ہونا ضروری ہے، جب کہ ان کے اعمال اس سے خالی تھے۔ روشن دان سے آنے والی روشنی میں سکون کی حالت میں غبار کے ذرات پھر بھی کچھ مرتب اور موجود نظر آتے ہیں، لیکن جب انھیں ہوا یا کوئی اور چیز حرکت دیتی ہے تو کچھ ہاتھ نہیں آتا اور وہ سب بکھر کر کالعدم ہو جاتے ہیں، اس لیے انھیں بکھرا ہوا غبار فرمایا۔ (بقاعی) کفار کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے کہیں {”رَمَادٌ“} (راکھ) کے ساتھ تشبیہ دی ہے (دیکھیے ابراہیم: ۱۸)، کہیں سراب کے ساتھ (دیکھیے نور: ۳۹) اور کہیں فرمایا کہ ہم ان کے لیے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔ (دیکھیے کہف: ۱۰۵)۔
اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ یَوۡمَئِذٍ خَیۡرٌ مُّسۡتَقَرًّا وَّ اَحۡسَنُ مَقِیۡلًا ﴿۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بس وہی لوگ جو جنت کے مستحق ہیں اُس دن اچھی جگہ ٹھیریں گے اور دوپہرگزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
البتہ اس دن جنتیوں کا ٹھکانا بہتر ہوگا اور خواب گاه بھی عمده ہوگی
احمد رضا خان بریلوی
جنت والوں کا اس دن اچھا ٹھکانا اور حساب کے دوپہر کے بعد اچھی آرام کی جگہ،
علامہ محمد حسین نجفی
اس دن بہشت والوں کا ٹھکانہ بہترین ہوگا اور دوپہر کی آرام گاہ بھی عمدہ ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
اس دن جنت والے ٹھکانے کے اعتبار سے نہایت بہتر اور دوپہر کی آرام گاہ کے اعتبار سے کہیں اچھے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تصدیق نبوت کے لئے احمقانہ شرائط ٭٭

کافر لوگ انکار نبوت کا ایک بہانہ یہ بھی بناتے تھے کہ اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو کسی فرشتے کو کیوں نہ بھیجا؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ وہ ایک بہانہ یہ بھی کرتے تھے کہ «قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ» ۱؎ [6-الأنعام:124] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب تک خود ہمیں وہ نہ دیا جائے جو رسولوں کو دیا گیا، ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبیوں کے پاس اللہ کی طرف سے فرشتہ وحی لے کر آتا ہے، ہمارے پاس بھی آئے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا مطالبہ یہ ہو کہ فرشتوں کو دیکھ لیں۔ خود فرشتے آ کر ہمیں سمجھائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کریں تو ہم آپ کو نبی مان لیں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ کفار نے کہا: «أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:92] ‏‏‏‏ یعنی ’ تو اللہ کو لے آ، فرشتوں کو بنفس نفیس ہمارے پاس لے آ۔ ‘ اس کی پوری تفسیر سورۃ سبحان میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی ان کا یہی مطالبہ بیان ہوا ہے کہ یا تو ہمارے اوپر فرشتے اتریں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ یہ بات اس لیے ان کی منہ سے نکلی کہ یہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے تھے اور ان کا غرور حد سے بڑھ گیا تھا۔ ان کی ایمان لانے کی نیت نہ تھی۔ جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:111] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے، اس قسم کی اور بھی تمام چیزیں ہم ان کے سامنے کر دیتے۔ جب بھی انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہوتا۔ ‘

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فرشتوں کو یہ دیکھیں گے لیکن اس وقت ان کے لیے ان کا دیکھنا کچھ سود مند نہ ہو گا۔ اس سے مراد سکرات موت کا وقت ہے جب کہ فرشتے کافروں کے پاس آتے ہیں اور اللہ کے غضب اور جہنم کی آگ کی خبر انہیں سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خبیث نفس! تو خبیث اور ناپاک جسم میں تھا، اب گرم ہواؤں، گرم پانی اور نامبارک سایوں کی طرف چل، وہ نکلنے سے کتراتی ہے اور بدن میں چھپتی پھرتی ہے۔ اس پر فرشتے ان کے چہروں پر اور ان کی کمروں پر ضربیں مارتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:93] ‏‏‏‏ یعنی ’ کاش کہ تو ظالموں کو ان کی سکرات کے وقت دیکھتا جب کہ فرشتے انہیں مارنے کے لیے ہاتھ بڑھائے ہوئے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کے عذاب چکھنے پڑیں گے کیونکہ تم اللہ تعالیٰ سے متعلق ناحق الزامات تراشتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔ ‘ مومنوں کا حال ان کے بالکل برعکس ہو گا، وہ اپنی موت کے وقت خوشخبریاں سنائے جاتے ہیں اور ابدی مسرتوں کی بشارتیں دئیے جاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:30-32] ‏‏‏‏ ’ جنہوں نے اللہ کو اپنا رب کہا اور مانا پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس ہمارے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو بلکہ ان جنتوں میں جانے کی خوشی مناؤ جن کا تمہیں وعدہ دیا جاتا رہا۔ ہم تمہارے والی ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، تم جو کچھ چاہو گے پاؤ گے اور جس چیز کی خواہش کرو گے موجود ہو جائے گی، بخشنے والے مہربان اللہ کی طرف سے یہ تمہاری میزبانی ہو گی۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے کہ { فرشتے مومن کی روح سے کہتے ہیں: اے پاک روح! جو پاک جسم میں تھی، تو اللہ تعالیٰ کے رحم اور رحمت کی طرف چل، جو تجھ سے نارض نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4262،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سورۃ ابراہیم کی آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّـهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّـهُ مَا يَشَاءُ» ۱؎ [14-إبراهيم:27] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں یہ سب حدیثیں مفصل بیان ہو چکی ہیں۔

بعض نے کہا ہے: مراد اس سے قیامت کے دن فرشتوں کا دیکھنا ہو سکتا ہے کہ دونوں موقعوں پر فرشتوں کا دیکھنا مراد ہو۔ اس میں ایک قول کی دوسرے قول سے نفی نہیں کیونکہ دونوں موقعوں پر ہر نیک و بد فرشتوں کو دیکھیں گے، مومنوں کو رحمت و رضوان کی خوشخبری کے ساتھ فرشتوں کا دیدار ہو گا اور کافروں کو لعنت و پھٹکار اور عذابوں کی خبروں کے ساتھ۔ فرشتے اس وقت ان کافروں سے صاف کہہ دیں گے کہ اب فلاح و بہبود تم پر حرام ہے۔ حجر کے لفظی معنی روک ہیں چنانچہ قاضی جب کسی کو اس کی مفلسی یا حماقت یا بچپن کی وجہ سے مال کے تصرف سے روک دے تو کہتے ہیں: «حَجرَ الْقَاضِیَ عَلیٰ فُلاَنٍ» ۔ حطیم کو بھی حجر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ طواف کرنے والوں کو اپنے اندر طواف کرنے سے روک دیتا ہے بلکہ اس کے باہر سے طواف کیا جاتا ہے۔ عقل کو بھی عربی میں حجر کہتے ہیں اس لیے وہ بھی انسان کو برے کاموں سے روک دیتی ہے۔ پس فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ جو خوشخبریاں مومنوں کو اس وقت ملتی ہیں، اس سے تم محروم ہو۔ یہ معنی تو اس بنا پر ہیں کہ اس جملے کو فرشتوں کا قول کہا جائے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ یہ مقولہ اس وقت کافروں کا ہو گا۔ وہ فرشتوں کو دیکھ کر کہیں گے کہ اللہ کرے تم ہم سے آڑ میں رہو، تمہیں ہمارے پاس آنا نہ ملے۔ گو یہ معنی ہو سکتے ہیں لیکن دور کے معنی ہیں۔ بالخصوص اس وقت کہ جب اس کے خلاف وہ تفسیر جو ہم نے اوپر بیان کی، سلف سے مروی ہے۔ البتہ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک قول ایسا مروی ہے لیکن انہی سے صراحت کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ یہ قول فرشتوں کا ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر قیامت کے دن اعمال کے حساب کے وقت ان کے اعمال غارت و اکارت ہو جائیں گے۔ یہ جنہیں اپنی نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھے، وہ بےکار ہو جائیں گے کیونکہ یا تو وہ خلوص والے نہ تھے یا سنت کے مطابق نہ تھے۔ اور جو عمل ان دونوں سے یا ان میں سے ایک چیز سے خالی ہو، وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ اس لیے کافروں کے نیک اعمال بھی مردود ہیں۔ ہم نے ان کے اعمال کا ملاحظہ کیا اور ان کو مثل بکھرے ہوئے ذروں کے کر دیا کہ وہ سورج کی شعاعیں جو کسی سوراخ میں سے آ رہی ہوں، ان میں نظر تو آتے ہیں لیکن کوئی انہیں پکڑنا چاہے تو ہاتھ نہیں آتے۔ جس طرح پانی جو زمین پر بہا دیا جائے، وہ پھر ہاتھ نہیں آ سکتا۔ یا غبار جو ہاتھ نہیں لگ سکتا۔ یا درختوں کے پتوں کا چورا جو ہوا میں بکھر گیا ہو یا راکھ اور خاک جو اڑتی پھرتی ہو۔ اسی طرح ان کے اعمال ہیں جو محض بے کار ہو گئے، ان کا کوئی ثواب ان کے ہاتھ نہیں لگے گا۔ اس لیے کہ یا تو ان میں خلوص نہ تھا یا شریعت کے مطابقت نہ تھی یا دونوں وصف نہ تھے۔ پس جب یہ عالم و عادل حاکم حقیقی کے سامنے پیش ہوئے تو محض نکمے ثابت ہوئے، اسی لیے اسے ردی اور نہ ہاتھ لگنے والی چیز سے تشبیہ دی گئی۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَىٰ شَيْءٍ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ» ۱؎ [14-إبراهيم:18] ‏‏‏‏ ’ کافروں کے اعمال کی مثال راکھ جیسی ہے جسے تیز ہوا اڑا دے۔ ‘ انسان کی نیکیاں بعض بدیوں سے بھی ضائع ہو جاتی ہیں جیسے صدقہ و خیرات کہ وہ احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے ضائع ہو جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ» ۱؎ [2-البقرة:264] ‏‏‏‏ پس ان کے اعمال میں سے آج یہ کسی عمل پر قادر نہیں۔ اور آیت میں ان کی مثال اس ریت کے ٹیلے سے دی گئی جو دور سے مثل دریا کے لہریں مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جسے دیکھ کر پیاسا آدمی پانی سمجھتا ہے لیکن جب پاس آتا ہے تو امید ٹوٹ جاتی ہے۔ ۱؎ [24-النور:39] ‏‏‏‏ اس کی تفسیر بھی اللہ کے فضل سے گزر چکی ہے۔

پھر فرمایا کہ ان کے مقابلے میں جنتیوں کی بھی سن لو کیونکہ یہ دونوں فریق برابر کے نہیں۔ جنتی تو بلند درجوں میں، اعلیٰ بالاخانوں میں امن و امان، راحت و آرام کے ساتھ عیش و عشرت میں ہوں گے۔ مقام اچھا، منظر دل پسند، ہر راحت موجود، ہر دل خوش کن چیز سامنے، جگہ اچھی، مکان طیب، منزل مبارک، سونے بیٹھنے رہنے سہنے کا آرام۔ برخلاف اس کے جہنمی دوزخ کے نیچے کے طبقوں میں جکڑ بند، اوپر نیچے، دائیں بائیں آگ، حسرت افسوس، رنج و غم پھکنا، جلنا و بےقراری، جگرسوزی، مقام بد، بری منزل، خوفناک منظر، عذاب سخت۔ نیک لوگوں کے جن کے دل میں ایمان تھا اعمال مقبول ہوئے، اچھی جزائیں دی گئیں، بدلے ملے۔ جہنم سے بچے، جنت کے مالک وارث بنے۔ پس یہ جو تمام بھلائیوں کو سمیٹ بیٹھے اور وہ جو ہر نیکی سے محروم رہے، کہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ پس نیکوں کی سعادت بیان فرما کر بدوں کی شقاوت پر تنبیہ کر دی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوئی ساعت ایسی بھی ہو گی کہ جنتی حوروں کے ساتھ دن دوپہر کو آرام فرمائیں اور جہنمی شیطانوں کے ساتھ جکڑے ہوئے دوپہر کو گھبرائیں۔

سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آدھے دن میں بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ پس جنتیوں کا دوپہر کے سونے کا وقت جنت میں ہو گا اور دوزخیوں کا جہنم میں۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہوا ہے کہ کس وقت جنتی جنت میں جائیں گے اور جہنمی جہنم میں۔ یہ وہ وقت ہو گا جب یہاں دنیا میں دوپہر کا وقت ہوتا ہے اور لوگ اپنے گھروں کو دو گھڑی آرام حاصل کرنے کی غرض سے لوٹتے ہیں۔ جنتیوں کا یہ قیلولہ جنت میں ہو گا۔ مچھلی کی کلیجی انہیں پیٹ بھر کر کھلائی جائے گی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دن آدھا ہو، اس سے بھی پہلے جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں قیلولہ کریں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی اور آیت «ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» ۱؎ [37-الصافات:68] ‏‏‏‏ بھی پڑھی۔ جنت میں جانے والے صرف ایک مرتبہ جناب باری کے سامنے پیش ہونگے، یہی آسانی سے حساب لینا ہے پھر یہ جنت میں جا کر دوپہر کا آرام کریں گے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے: «فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ٧ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ٨ وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا» ۱؎ [84-الانشقاق:7-9] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس شخص کو اپنا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے بہت آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے والوں کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا۔ ‘ اس کا قیام اور منزل بہتر ہے۔

صفوان بن محرز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن دو شخصوں کو لایا جائے گا، ایک تو وہ جو ساری دنیا کا بادشاہ تھا، اس سے حساب لیا جائے گا تو اس کی پوری عمر میں ایک بھی نیکی نہ نکلے گی پس اسے جہنم کے داخلے کا حکم ملے گا۔ پھر دوسرا شخص آئے گا جس نے ایک کمبل میں دنیا گزاری تھی، جب اس سے حساب لیا جائے گا تو یہ کہے گا کہ اللہ میرے پاس دنیا میں تھا ہی کیا جس کا حساب لیا جائے؟ اللہ فرمائے گا: یہ سچا ہے، اسے چھوڑ دو۔ اسے جنت میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ پھر کچھ عرصے کے بعد دونوں کو بلایا جائے گا تو جہنمی بادشاہ تو مثل سوختہ کوئلے کے ہو گیا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کس حال میں ہو؟ کہے گا: نہایت برے حال میں اور نہایت خراب جگہ میں ہوں۔ پھر جنتی کو بلایا جائے گا اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کیسی گزرتی ہے؟ یہ کہے گا: الحمدللہ بہت اچھی اور نہایت بہتر جگہ میں ہوں۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنی اپنی جگہ پھر چلے جاؤ۔ سعید صواف رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ مومن پر تو قیامت کا دن ایسا چھوٹا ہو جائے گا جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت۔ یہ جنت کی کیاریوں میں پہنچا دئیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اور مخلوق کے حساب ہو جائیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/9] ‏‏‏‏ پس جنتی بہتر ٹھکانے والے اور عمدہ جگہ والے ہوں گے۔
24-1بعض نے اس سے یہ استدلال بھی کیا ہے کہ اہل ایمان کے لئے قیامت کا یہ ہولناک دن اتنا مختصر اور ان کا حساب اتنا آسان ہوگا کہ قیلولے کے وقت تک یہ فارغ ہوجائیں گے اور جنت میں یہ اہل خاندان اور حور عین کے ساتھ دوپہر کو آرام فرما ہونگے، جس طرح حدیث میں ہے کہ مومن کے لئے یہ دن اتنا ہلکا ہوگا کہ جتنے میں دنیا میں ایک فرض نماز ادا کرلینا (مسند احمد-475
(آیت 24) ➊ { اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَقَرًّا …:} جہنمیوں کے ذکر کے ساتھ اہلِ جنت کا ذکر فرمایا کہ وہ اس دن کفار سے ٹھکانے کے اعتبار سے نہایت بہتر اور آرام گاہ کے اعتبار سے کہیں اچھے ہوں گے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیامت کے دن کفار کے لیے تو خیر کا وجود ہی نہیں ہو گا، پھر اہلِ جنت کا ٹھکانے اور آرام گاہ میں ان سے بہتر ہونے کا کیا مطلب؟ جواب یہ ہے کہ دنیا میں کفار کو جو عیش و آرام میسر تھا اہلِ جنت اس دن اس سے کہیں اچھے ٹھکانے اور آرام گاہ میں ہوں گے، یا یہ بات جہنمیوں پر طنز کے طور پر کہی گئی ہے۔ ➋ { اَحْسَنُ مَقِيْلًا:} اصل میں {” مَقِيْلًا “ } کے لفظی معنی ہیں ”قیلولہ کرنے کی جگہ“ اور قیلولہ گرمی میں دوپہر کے آرام کو کہتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [ لَا يَنْتَصِفُ النَّهَارُ مِنْ يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَتّٰی يَقِيْلَ هٰؤُلَاءِ وَ هٰؤُلَاءِ ثُمَّ قَرَأَ: «{ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِيْمِ }» ] [ مستدرک حاکم: 402/2، ح: ۳۵۱۶، صححہ الحاکم و وافقہ الذھبي ] ”قیامت کے دن ابھی دوپہر نہ ہوئی ہو گی کہ یہ لوگ اور وہ لوگ دوپہر کا آرام کر رہے ہوں گے، پھر (کفار کے متعلق) یہ آیت پڑھی: «{اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِيْمِ }» [ الصافات: ۶۸ ] ”بلاشبہ ان کی واپسی یقینا اسی بھڑکتی ہوئی آگ کی طرف ہو گی۔“
وَ یَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ وَ نُزِّلَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ تَنۡزِیۡلًا ﴿۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آسمان کو چیرتا ہوا ایک بادل اس روز نمودار ہو گا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس دن آسمان بادل سمیت پھٹ جائے گا اور فرشتے لگاتار اتارے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور جس دن پھٹ جائے گا آسمان بادلوں سے اور فرشتے اتارے جائیں گے پوری طرح
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس دن بادل کے ساتھ آسمان شق ہو جائے گا اور فرشتے جوق در جوق اتارے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اورجس دن آسمان بادل کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے اتارے جائیں گے، لگاتار اتارا جانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فیصلوں کا دن ٭٭

قیامت کے دن جو ہولناک امور ہوں گے، ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی شامل ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی، پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے: «هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّـهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ» ۱؎ [2-البقرة:210] ‏‏‏‏ یعنی کہ ’ انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔ تمام جانور، چوپائے، درندے، پرندے اور کل مخلوق وہاں ہو گی پھر آسمان اول پھٹے گا اور اس کے فرشتے اتریں گے جو تمام مخلوق کو دو طرف سے گھیرلیں گے اور وہ گنتی میں بہت زیادہ ہوں گے۔ پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اس کے فرشتے بھی آئیں گے جو زمین کی اور آسمان اول کی تمام مخلوق کی گنتی سے بھی زیادہ ہوں گے۔ پھر تیسرا آسمان شق ہو گا اس کے فرشتے بھی، دونوں آسمانوں کے فرشتے مل کر زمین کی مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، سب کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اسی طرح چوتھا پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں۔ پھر ہمارا رب عز و جل ابر کے سائے میں تشریف لائے گا، اس کے اردگرد بزرگ تر پاک فرشتے ہوں گے جو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کی کل مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، ان پر سینگوں جیسے نشان ہونگے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ کی تسبیح و تہلیل و تقدس بیان کریں گے، ان کے تلوے سے لے کر ٹخنے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کا راستہ ہو گا اور ٹخنے سے گھٹنے تک کا بھی اتنا ہی۔ اور گھٹنے سے ناف تک کا بھی اتنا فاصلہ ہو گا۔ اور ناف سے گردن کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور گردن سے کان کی لو تک بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور اس کے اوپر سے سر تک کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ قیامت کا نام «یَوْمَ التَّلاَقِ» اسی لیے ہے کہ اس میں زمین و آسمان والے ملیں گے، انہیں دیکھ کر پہلے تو محشر والے سمجھ لیں گے کہ ہمارا اللہ آیا۔

لیکن فرشتے سمجھا دیں گے کہ وہ آنے والا ہے، ابھی تک نازل نہیں ہوا۔ پھر جب ساتوں آسمانوں کے فرشتے آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر تشریف لائے گا جسے آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے جن کے ٹخنے سے گھٹنے تک ستر سال کا راستہ ہے اور ران اور مونڈھے کے درمیان بھی ستر سال کا راستہ ہے۔ ہر فرشتہ دوسرے سے علیحدہ اور جداگانہ ہے۔ ہر ایک کی ٹھوڑی سینے سے لگی ہوئی ہے اور زبان پر «سبُْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ» کا وظیفہ ہے۔ ان کے سروں پر ایک پھیلی ہوئی چیز ہے جیسے سرخ شفق، اس کے اوپر عرش ہو گا۔ اس میں راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو ضعیف ہیں اور بھی اس حدیث میں بہت سی خامیاں ہیں۔ صور کی مشہور حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور آیت میں ہے کہ ’ اس دن ہو پڑنے والی ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ کر روئی کی طرح ہو جائے گا۔ اور اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے لیے ہوں گے۔ ‘ ۱؎ [69-الحاقة:15-17] ‏‏‏‏ شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکّ الْحَمْدُ عَلیٰ حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے، تو قابل ستائش و تعریف ہے۔ باوجود علم کے پھر بھی بردباری برتنا تیرا وصف ہے جس پر ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اور چار کی تسبیح یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلیٰ عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے تیرے ہی لیے سب تعریف ہے کہ تو باوجود قدرت کے معاف فرماتا رہتا ہے۔ ابوبکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرش کو اترتا دیکھ کر اہل محشر کی آنکھیں پھٹ جائیں گی، جسم کانپ اٹھیں گے، دل لرز جائیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ عز و جل مخلوق کی طرف اترے گا تو درمیان میں ستر ہزار پردے ہوں گے۔ بعض نور کے، بعض ظلمت کے۔ اس ظلمت میں سے ایک ایسی آواز نکلے گی جس سے دل پاش پاش ہو جائیں گے۔ شاید ان کی یہ روایت انہی دو تھیلوں میں سے لی ہوئی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» ۱؎ [40-غافر:16] ‏‏‏‏ ’ آج ملک کس کے لیے ہے؟ صرف اللہ غالب و قہار کے لیے۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے: { اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں مالک ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:7413] ‏‏‏‏ وہ دن کفار پر بڑا بھاری پڑا ہو گا۔ اسی کا بیان اور جگہ بھی ہے کہ { کافروں پر وہ دن گراں گزرے گا۔ } ۱؎ [74-المدثر:9-10] ‏‏‏‏ ہاں مومنوں کو اس دن مطلق گھبراہٹ یا پریشانی نہ ہو گی۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پچاس ہزار سال کا دن تو بہت ہی دراز ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مومنوں پر تو وہ ایک وقت کی فرض نماز سے بھی ہلکا اور آسان ہو گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ‏‏‏‏ پیغمبر علیہ السلام کے طریقے اور آپ کے لائے ہوئے کھلے حق سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کے سوا دوسری راہوں پہ چلنے والے اس دن بڑے ہی نادم ہونگے اور حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ چبائیں گے۔ گو اس کا نزول عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے یہ ہر ایسے ظالم کو شامل ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» ۱؎ [33-الأحزاب:66-67] ‏‏‏‏ ’ پس ہر ظالم قیامت کے دن پچھتائے گا، اپنے ہاتھوں کو چبائے گا اور آہ و زاری کر کے کہے گا: کاش! کہ میں نے نبی کی راہ اپنائی ہوتی۔ کاش! کہ میں نے فلاں کی عقیدت مندی نہ کی ہوتی۔ جس نے مجھے راہ حق سے گمراہ کر دیا۔ ‘ امیہ بن خلف کا اور اس کے بھائی ابی بن خلف کا بھی یہی حال ہو گا اور ان کے سوا اور بھی ایسے لوگوں کا یہ حال ہو گا۔ کہے گا کہ اس نے مجھے ذکر یعنی قرآن سے بیگانہ کر دیا حالانکہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان انسان کو رسوا کرنے والا ہے، وہ اسے ناحق کی طرف بلاتا ہے اور حق سے ہٹا دیتا ہے۔
25-1اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان پھٹ جائے گا اور بادل سایہ فگن ہوجائیں گے، اللہ تعالیٰ فرشتوں کے جلو میں، میدان محشر میں، جہاں ساری مخلوق جمع ہوگی، حساب کتاب کے لئے جلوہ فرما ہوگا، جیسا کہ سورة بقرۃ آیت210سے واضح ہے۔
(آیت 25) {وَ يَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ …: ” يَوْمَ “} پر نصب محذوف {”اُذْكُرْ“} کی وجہ سے ہے، یعنی اس دن کو یاد کرو۔ {”تَشَقَّقُ “} اصل میں {”تَتَشَقَّقُ“} ہے، تخفیف کے لیے ایک تاء حذف کر دی ہے۔ ”آسمان بادل کے ساتھ پھٹ جائے گا“ کا مطلب یہ ہے کہ آسمان پھٹ کر اس سے بادل نکلے گا، جیسا کہ کہا جاتا ہے: {” تَشَقَّقَتِ الْأَرْضُ بِالنَّبَاتِ “} ”زمین نبات کے ساتھ پھٹی“ یعنی زمین پھٹ کر اس میں سے نبات نکلی۔ یعنی اس دن کو یاد کرو جب آسمان پھٹ کر اس میں سے سائبانوں کی صورت ایک بادل نکلے گا، جس میں فرشتے جماعتوں کی صورت میں لگا تار میدانِ محشر میں اتارے جائیں گے، جو زمین پر ہو گا۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کی ہولناکی اور اس میں واقع ہونے والے عظیم معاملات کا ذکر فرما رہے ہیں، جن میں سے آسمان کا پھٹنا اور بادلوں کے ساتھ اس کا کھل جانا بھی ہے، جو نور کے عظیم سائبانوں کی صورت میں ہوں گے۔ پھر فرشتے اتریں گے اور میدانِ محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے، پھر اللہ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ مجاہد نے فرمایا، یہ اسی طرح ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ }» [ البقرۃ: ۲۱۰ ] ”وہ اس کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس اللہ بادل کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی اور کام تمام کر دیا جائے اور سب کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔“ اس دن کی کچھ کیفیت ان آیات میں بیان ہوئی ہے، فرمایا: «{ فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ (13) وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً (14) فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ (15) وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِيَ يَوْمَىِٕذٍ وَّاهِيَةٌ (16) وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآىِٕهَا وَ يَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ (17) يَوْمَىِٕذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِيَةٌ }» [ الحاقۃ: ۱۳ تا ۱۸ ] ”پس جب صور میں پھونکا جائے گا، ایک بار پھونکنا۔ اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے گا، پس دونوں ٹکرا دیے جائیں گے، ایک بار ٹکرا دینا۔ تو اس دن ہونے والی ہو جائے گی۔ اور آسمان پھٹ جائے گا، پس وہ اس دن کمزور ہو گا۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور تیرے رب کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس دن تم پیش کیے جاؤ گے، تمھاری کوئی چھپی ہوئی بات چھپی نہیں رہے گی۔“ اور فرمایا: «{ وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ (68) وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِايْٓءَ بِالنَّبِيّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ (69) وَ وُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُوْنَ}» [ الزمر: ۶۸ تا ۷۰ ] ”اور صور میں پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہوں گے، مر کر گر جائیں گے مگرجسے اللہ نے چاہا، پھر اس میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔ اور زمین اپنے رب کے نور کے ساتھ روشن ہو جائے گی اور لکھا ہوا (سامنے) رکھا جائے گا اور نبی اور گواہ لائے جائیں گے اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ اور ہر شخص کو پورا پورا دیا جائے گا جو اس نے کیا اور وہ زیادہ جاننے والا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔“ اور فرمایا: «{ كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا (21) وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا (22) وَ جِايْٓءَ يَوْمَىِٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى }» [ الفجر: ۲۱ تا ۲۳ ] ”ہر گز نہیں، جب زمین کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دی جائے گی۔ اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے جو صف در صف ہوں گے۔ اور اس دن جہنم کو لایا جائے گا، اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا اور (اس وقت) اس کے لیے نصیحت کہاں۔“ اتنی صریح آیات کے باوجود کئی بدنصیب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے زمین پر نزول فرمانے کے منکر ہیں اور ایسی تاویلیں کرتے ہیں جو انکار سے بھی بدتر ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۰)، فجر (۲۱ تا ۲۳) اور حاقہ (۱۶، ۱۷) کی تفسیر۔
اَلۡمُلۡکُ یَوۡمَئِذِۣ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ ؕ وَ کَانَ یَوۡمًا عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ عَسِیۡرًا ﴿۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمان کی ہو گی اور وہ منکرین کے لیے بڑا سخت دن ہو گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اس دن صحیح طور پر ملک صرف رحمٰن کا ہی ہوگا اور یہ دن کافروں پر بڑا بھاری ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
اس دن سچی بادشاہی رحمن کی ہے، اور وہ دن کافروں پر سخت ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اس دن حقیقی بادشاہی (خدائے) رحمن کی ہوگی اور وہ دن کافروں کیلئے بڑا سخت ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
اس دن حقیقی بادشاہی رحمان کی ہوگی اور کافروں پر وہ بہت مشکل دن ہوگا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فیصلوں کا دن ٭٭

قیامت کے دن جو ہولناک امور ہوں گے، ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی شامل ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی، پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے: «هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّـهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ» ۱؎ [2-البقرة:210] ‏‏‏‏ یعنی کہ ’ انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔ تمام جانور، چوپائے، درندے، پرندے اور کل مخلوق وہاں ہو گی پھر آسمان اول پھٹے گا اور اس کے فرشتے اتریں گے جو تمام مخلوق کو دو طرف سے گھیرلیں گے اور وہ گنتی میں بہت زیادہ ہوں گے۔ پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اس کے فرشتے بھی آئیں گے جو زمین کی اور آسمان اول کی تمام مخلوق کی گنتی سے بھی زیادہ ہوں گے۔ پھر تیسرا آسمان شق ہو گا اس کے فرشتے بھی، دونوں آسمانوں کے فرشتے مل کر زمین کی مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، سب کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اسی طرح چوتھا پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں۔ پھر ہمارا رب عز و جل ابر کے سائے میں تشریف لائے گا، اس کے اردگرد بزرگ تر پاک فرشتے ہوں گے جو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کی کل مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، ان پر سینگوں جیسے نشان ہونگے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ کی تسبیح و تہلیل و تقدس بیان کریں گے، ان کے تلوے سے لے کر ٹخنے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کا راستہ ہو گا اور ٹخنے سے گھٹنے تک کا بھی اتنا ہی۔ اور گھٹنے سے ناف تک کا بھی اتنا فاصلہ ہو گا۔ اور ناف سے گردن کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور گردن سے کان کی لو تک بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور اس کے اوپر سے سر تک کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ قیامت کا نام «یَوْمَ التَّلاَقِ» اسی لیے ہے کہ اس میں زمین و آسمان والے ملیں گے، انہیں دیکھ کر پہلے تو محشر والے سمجھ لیں گے کہ ہمارا اللہ آیا۔

لیکن فرشتے سمجھا دیں گے کہ وہ آنے والا ہے، ابھی تک نازل نہیں ہوا۔ پھر جب ساتوں آسمانوں کے فرشتے آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر تشریف لائے گا جسے آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے جن کے ٹخنے سے گھٹنے تک ستر سال کا راستہ ہے اور ران اور مونڈھے کے درمیان بھی ستر سال کا راستہ ہے۔ ہر فرشتہ دوسرے سے علیحدہ اور جداگانہ ہے۔ ہر ایک کی ٹھوڑی سینے سے لگی ہوئی ہے اور زبان پر «سبُْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ» کا وظیفہ ہے۔ ان کے سروں پر ایک پھیلی ہوئی چیز ہے جیسے سرخ شفق، اس کے اوپر عرش ہو گا۔ اس میں راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو ضعیف ہیں اور بھی اس حدیث میں بہت سی خامیاں ہیں۔ صور کی مشہور حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور آیت میں ہے کہ ’ اس دن ہو پڑنے والی ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ کر روئی کی طرح ہو جائے گا۔ اور اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے لیے ہوں گے۔ ‘ ۱؎ [69-الحاقة:15-17] ‏‏‏‏ شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکّ الْحَمْدُ عَلیٰ حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے، تو قابل ستائش و تعریف ہے۔ باوجود علم کے پھر بھی بردباری برتنا تیرا وصف ہے جس پر ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اور چار کی تسبیح یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلیٰ عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے تیرے ہی لیے سب تعریف ہے کہ تو باوجود قدرت کے معاف فرماتا رہتا ہے۔ ابوبکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرش کو اترتا دیکھ کر اہل محشر کی آنکھیں پھٹ جائیں گی، جسم کانپ اٹھیں گے، دل لرز جائیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ عز و جل مخلوق کی طرف اترے گا تو درمیان میں ستر ہزار پردے ہوں گے۔ بعض نور کے، بعض ظلمت کے۔ اس ظلمت میں سے ایک ایسی آواز نکلے گی جس سے دل پاش پاش ہو جائیں گے۔ شاید ان کی یہ روایت انہی دو تھیلوں میں سے لی ہوئی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» ۱؎ [40-غافر:16] ‏‏‏‏ ’ آج ملک کس کے لیے ہے؟ صرف اللہ غالب و قہار کے لیے۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے: { اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں مالک ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:7413] ‏‏‏‏ وہ دن کفار پر بڑا بھاری پڑا ہو گا۔ اسی کا بیان اور جگہ بھی ہے کہ { کافروں پر وہ دن گراں گزرے گا۔ } ۱؎ [74-المدثر:9-10] ‏‏‏‏ ہاں مومنوں کو اس دن مطلق گھبراہٹ یا پریشانی نہ ہو گی۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پچاس ہزار سال کا دن تو بہت ہی دراز ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مومنوں پر تو وہ ایک وقت کی فرض نماز سے بھی ہلکا اور آسان ہو گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ‏‏‏‏ پیغمبر علیہ السلام کے طریقے اور آپ کے لائے ہوئے کھلے حق سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کے سوا دوسری راہوں پہ چلنے والے اس دن بڑے ہی نادم ہونگے اور حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ چبائیں گے۔ گو اس کا نزول عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے یہ ہر ایسے ظالم کو شامل ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» ۱؎ [33-الأحزاب:66-67] ‏‏‏‏ ’ پس ہر ظالم قیامت کے دن پچھتائے گا، اپنے ہاتھوں کو چبائے گا اور آہ و زاری کر کے کہے گا: کاش! کہ میں نے نبی کی راہ اپنائی ہوتی۔ کاش! کہ میں نے فلاں کی عقیدت مندی نہ کی ہوتی۔ جس نے مجھے راہ حق سے گمراہ کر دیا۔ ‘ امیہ بن خلف کا اور اس کے بھائی ابی بن خلف کا بھی یہی حال ہو گا اور ان کے سوا اور بھی ایسے لوگوں کا یہ حال ہو گا۔ کہے گا کہ اس نے مجھے ذکر یعنی قرآن سے بیگانہ کر دیا حالانکہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان انسان کو رسوا کرنے والا ہے، وہ اسے ناحق کی طرف بلاتا ہے اور حق سے ہٹا دیتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 26) { اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِ الْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ …:} یعنی دنیا کی وہ تمام عارضی اور مجازی حکومتیں ختم ہو جائیں گی، جن سے انسان دھوکے میں پڑا رہتا ہے اور ظاہراً، باطناً، صورتاً، یعنی ہر لحاظ سے اکیلے رحمان کی بادشاہت ہو گی اور صرف اسی کا حکم چلے گا اور وہ دن کافروں پر بہت سخت ہو گا۔ یہ بھی مومنوں پر اس کی رحمت کا تقاضا ہو گا، کیونکہ ان کے دشمنوں کو سزا دینے سے جو خوشی انھیں حاصل ہونی ہے وہ اور کسی طرح حاصل نہیں ہو سکتی؟ (بقاعی) عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَطْوِي اللّٰهُ عَزَّ وَ جَلَّ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنٰی ثُمَّ يَقُوْلُ أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُوْنَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُوْنَ؟ ] [ مسلم، صفات المنافقین، باب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار: ۲۷۸۸ ] ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمان کو لپیٹ دے گا، پھر انھیں اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑ کر فرمائے گا، میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں جبار لوگ؟ کہاں ہیں متکبر لوگ؟“ اور دیکھیے سورۂ زمر (۶۷) اور مومن (۱۶) کفار پر اس دن کے سخت ہونے اور مومنوں پر آسان ہونے کا مضمون دیکھیے سورۂ مدثر (۸ تا ۱۰) میں۔
وَ یَوۡمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیۡہِ یَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِی اتَّخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِیۡلًا ﴿۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ظالم انسان اپنا ہاتھ چبائے گا اور کہے گا "کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس دن ﻇالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی راه اختیار کی ہوتی
احمد رضا خان بریلوی
اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ چبا چبا لے گا کہ ہائے کسی طرح سے میں نے رسول کے ساتھ راہ لی ہوتی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس دن ظالم (حسرت سے) اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا (اور) کہے گا: کاش! میں نے رسول(ص) کے ساتھ (سیدھا) راستہ اختیار کیا ہوتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جس دن ظالم اپنے دونوں ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا، کہے گا اے کاش! میں رسول کے ساتھ کچھ راستہ اختیار کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فیصلوں کا دن ٭٭

قیامت کے دن جو ہولناک امور ہوں گے، ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی شامل ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی، پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے: «هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّـهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ» ۱؎ [2-البقرة:210] ‏‏‏‏ یعنی کہ ’ انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔ تمام جانور، چوپائے، درندے، پرندے اور کل مخلوق وہاں ہو گی پھر آسمان اول پھٹے گا اور اس کے فرشتے اتریں گے جو تمام مخلوق کو دو طرف سے گھیرلیں گے اور وہ گنتی میں بہت زیادہ ہوں گے۔ پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اس کے فرشتے بھی آئیں گے جو زمین کی اور آسمان اول کی تمام مخلوق کی گنتی سے بھی زیادہ ہوں گے۔ پھر تیسرا آسمان شق ہو گا اس کے فرشتے بھی، دونوں آسمانوں کے فرشتے مل کر زمین کی مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، سب کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اسی طرح چوتھا پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں۔ پھر ہمارا رب عز و جل ابر کے سائے میں تشریف لائے گا، اس کے اردگرد بزرگ تر پاک فرشتے ہوں گے جو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کی کل مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، ان پر سینگوں جیسے نشان ہونگے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ کی تسبیح و تہلیل و تقدس بیان کریں گے، ان کے تلوے سے لے کر ٹخنے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کا راستہ ہو گا اور ٹخنے سے گھٹنے تک کا بھی اتنا ہی۔ اور گھٹنے سے ناف تک کا بھی اتنا فاصلہ ہو گا۔ اور ناف سے گردن کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور گردن سے کان کی لو تک بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور اس کے اوپر سے سر تک کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ قیامت کا نام «یَوْمَ التَّلاَقِ» اسی لیے ہے کہ اس میں زمین و آسمان والے ملیں گے، انہیں دیکھ کر پہلے تو محشر والے سمجھ لیں گے کہ ہمارا اللہ آیا۔

لیکن فرشتے سمجھا دیں گے کہ وہ آنے والا ہے، ابھی تک نازل نہیں ہوا۔ پھر جب ساتوں آسمانوں کے فرشتے آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر تشریف لائے گا جسے آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے جن کے ٹخنے سے گھٹنے تک ستر سال کا راستہ ہے اور ران اور مونڈھے کے درمیان بھی ستر سال کا راستہ ہے۔ ہر فرشتہ دوسرے سے علیحدہ اور جداگانہ ہے۔ ہر ایک کی ٹھوڑی سینے سے لگی ہوئی ہے اور زبان پر «سبُْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ» کا وظیفہ ہے۔ ان کے سروں پر ایک پھیلی ہوئی چیز ہے جیسے سرخ شفق، اس کے اوپر عرش ہو گا۔ اس میں راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو ضعیف ہیں اور بھی اس حدیث میں بہت سی خامیاں ہیں۔ صور کی مشہور حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور آیت میں ہے کہ ’ اس دن ہو پڑنے والی ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ کر روئی کی طرح ہو جائے گا۔ اور اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے لیے ہوں گے۔ ‘ ۱؎ [69-الحاقة:15-17] ‏‏‏‏ شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکّ الْحَمْدُ عَلیٰ حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے، تو قابل ستائش و تعریف ہے۔ باوجود علم کے پھر بھی بردباری برتنا تیرا وصف ہے جس پر ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اور چار کی تسبیح یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلیٰ عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے تیرے ہی لیے سب تعریف ہے کہ تو باوجود قدرت کے معاف فرماتا رہتا ہے۔ ابوبکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرش کو اترتا دیکھ کر اہل محشر کی آنکھیں پھٹ جائیں گی، جسم کانپ اٹھیں گے، دل لرز جائیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ عز و جل مخلوق کی طرف اترے گا تو درمیان میں ستر ہزار پردے ہوں گے۔ بعض نور کے، بعض ظلمت کے۔ اس ظلمت میں سے ایک ایسی آواز نکلے گی جس سے دل پاش پاش ہو جائیں گے۔ شاید ان کی یہ روایت انہی دو تھیلوں میں سے لی ہوئی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» ۱؎ [40-غافر:16] ‏‏‏‏ ’ آج ملک کس کے لیے ہے؟ صرف اللہ غالب و قہار کے لیے۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے: { اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں مالک ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:7413] ‏‏‏‏ وہ دن کفار پر بڑا بھاری پڑا ہو گا۔ اسی کا بیان اور جگہ بھی ہے کہ { کافروں پر وہ دن گراں گزرے گا۔ } ۱؎ [74-المدثر:9-10] ‏‏‏‏ ہاں مومنوں کو اس دن مطلق گھبراہٹ یا پریشانی نہ ہو گی۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پچاس ہزار سال کا دن تو بہت ہی دراز ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مومنوں پر تو وہ ایک وقت کی فرض نماز سے بھی ہلکا اور آسان ہو گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ‏‏‏‏ پیغمبر علیہ السلام کے طریقے اور آپ کے لائے ہوئے کھلے حق سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کے سوا دوسری راہوں پہ چلنے والے اس دن بڑے ہی نادم ہونگے اور حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ چبائیں گے۔ گو اس کا نزول عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے یہ ہر ایسے ظالم کو شامل ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» ۱؎ [33-الأحزاب:66-67] ‏‏‏‏ ’ پس ہر ظالم قیامت کے دن پچھتائے گا، اپنے ہاتھوں کو چبائے گا اور آہ و زاری کر کے کہے گا: کاش! کہ میں نے نبی کی راہ اپنائی ہوتی۔ کاش! کہ میں نے فلاں کی عقیدت مندی نہ کی ہوتی۔ جس نے مجھے راہ حق سے گمراہ کر دیا۔ ‘ امیہ بن خلف کا اور اس کے بھائی ابی بن خلف کا بھی یہی حال ہو گا اور ان کے سوا اور بھی ایسے لوگوں کا یہ حال ہو گا۔ کہے گا کہ اس نے مجھے ذکر یعنی قرآن سے بیگانہ کر دیا حالانکہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان انسان کو رسوا کرنے والا ہے، وہ اسے ناحق کی طرف بلاتا ہے اور حق سے ہٹا دیتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 27) ➊ { وَ يَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيْهِ:} ظالم سے مراد یہاں وہ مشرک ہے جس نے ایمان قبول نہیں کیا۔ اس کا قرینہ {” يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا “} ہے، یعنی وہ حسرت و افسوس اور ندامت سے ہاتھوں کو دانتوں سے کاٹے گا۔ ➋ { يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا:سَبِيْلًا “} پر تنوین تنکیر کے لیے ہے، کوئی راستہ، کچھ راستہ، یعنی قیامت کے دن جب ایمان والوں کو، وہ خواہ کسی بھی درجے کا ایمان رکھتے ہوں، آخر کار جنت میں داخلہ ملے گا، تو اس وقت کافر کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ کچھ ہی راستہ اختیار کیا ہوتا، کسی بھی درجے میں رسول کی رفاقت اختیار کی ہوتی۔ دیکھیے اس کی ہم معنی آیت: «{ رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ }» [ الحجر: ۲ ] کی تفسیر۔
یٰوَیۡلَتٰی لَیۡتَنِیۡ لَمۡ اَتَّخِذۡ فُلَانًا خَلِیۡلًا ﴿۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہائے میری کم بختی، کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا
احمد رضا خان بریلوی
وائے خرابی میری ہائے کسی طرح میں نے فلانے کو دوست نہ بنایا ہوتا،
علامہ محمد حسین نجفی
ہائے میری بدبختی! کاش میں نے فلاں شخص کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔
عبدالسلام بن محمد
ہائے میری بربادی! کاش کہ میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فیصلوں کا دن ٭٭

قیامت کے دن جو ہولناک امور ہوں گے، ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی شامل ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی، پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے: «هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّـهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ» ۱؎ [2-البقرة:210] ‏‏‏‏ یعنی کہ ’ انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔ تمام جانور، چوپائے، درندے، پرندے اور کل مخلوق وہاں ہو گی پھر آسمان اول پھٹے گا اور اس کے فرشتے اتریں گے جو تمام مخلوق کو دو طرف سے گھیرلیں گے اور وہ گنتی میں بہت زیادہ ہوں گے۔ پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اس کے فرشتے بھی آئیں گے جو زمین کی اور آسمان اول کی تمام مخلوق کی گنتی سے بھی زیادہ ہوں گے۔ پھر تیسرا آسمان شق ہو گا اس کے فرشتے بھی، دونوں آسمانوں کے فرشتے مل کر زمین کی مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، سب کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اسی طرح چوتھا پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں۔ پھر ہمارا رب عز و جل ابر کے سائے میں تشریف لائے گا، اس کے اردگرد بزرگ تر پاک فرشتے ہوں گے جو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کی کل مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، ان پر سینگوں جیسے نشان ہونگے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ کی تسبیح و تہلیل و تقدس بیان کریں گے، ان کے تلوے سے لے کر ٹخنے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کا راستہ ہو گا اور ٹخنے سے گھٹنے تک کا بھی اتنا ہی۔ اور گھٹنے سے ناف تک کا بھی اتنا فاصلہ ہو گا۔ اور ناف سے گردن کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور گردن سے کان کی لو تک بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور اس کے اوپر سے سر تک کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ قیامت کا نام «یَوْمَ التَّلاَقِ» اسی لیے ہے کہ اس میں زمین و آسمان والے ملیں گے، انہیں دیکھ کر پہلے تو محشر والے سمجھ لیں گے کہ ہمارا اللہ آیا۔

لیکن فرشتے سمجھا دیں گے کہ وہ آنے والا ہے، ابھی تک نازل نہیں ہوا۔ پھر جب ساتوں آسمانوں کے فرشتے آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر تشریف لائے گا جسے آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے جن کے ٹخنے سے گھٹنے تک ستر سال کا راستہ ہے اور ران اور مونڈھے کے درمیان بھی ستر سال کا راستہ ہے۔ ہر فرشتہ دوسرے سے علیحدہ اور جداگانہ ہے۔ ہر ایک کی ٹھوڑی سینے سے لگی ہوئی ہے اور زبان پر «سبُْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ» کا وظیفہ ہے۔ ان کے سروں پر ایک پھیلی ہوئی چیز ہے جیسے سرخ شفق، اس کے اوپر عرش ہو گا۔ اس میں راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو ضعیف ہیں اور بھی اس حدیث میں بہت سی خامیاں ہیں۔ صور کی مشہور حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور آیت میں ہے کہ ’ اس دن ہو پڑنے والی ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ کر روئی کی طرح ہو جائے گا۔ اور اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے لیے ہوں گے۔ ‘ ۱؎ [69-الحاقة:15-17] ‏‏‏‏ شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکّ الْحَمْدُ عَلیٰ حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے، تو قابل ستائش و تعریف ہے۔ باوجود علم کے پھر بھی بردباری برتنا تیرا وصف ہے جس پر ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اور چار کی تسبیح یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلیٰ عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے تیرے ہی لیے سب تعریف ہے کہ تو باوجود قدرت کے معاف فرماتا رہتا ہے۔ ابوبکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرش کو اترتا دیکھ کر اہل محشر کی آنکھیں پھٹ جائیں گی، جسم کانپ اٹھیں گے، دل لرز جائیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ عز و جل مخلوق کی طرف اترے گا تو درمیان میں ستر ہزار پردے ہوں گے۔ بعض نور کے، بعض ظلمت کے۔ اس ظلمت میں سے ایک ایسی آواز نکلے گی جس سے دل پاش پاش ہو جائیں گے۔ شاید ان کی یہ روایت انہی دو تھیلوں میں سے لی ہوئی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» ۱؎ [40-غافر:16] ‏‏‏‏ ’ آج ملک کس کے لیے ہے؟ صرف اللہ غالب و قہار کے لیے۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے: { اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں مالک ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:7413] ‏‏‏‏ وہ دن کفار پر بڑا بھاری پڑا ہو گا۔ اسی کا بیان اور جگہ بھی ہے کہ { کافروں پر وہ دن گراں گزرے گا۔ } ۱؎ [74-المدثر:9-10] ‏‏‏‏ ہاں مومنوں کو اس دن مطلق گھبراہٹ یا پریشانی نہ ہو گی۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پچاس ہزار سال کا دن تو بہت ہی دراز ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مومنوں پر تو وہ ایک وقت کی فرض نماز سے بھی ہلکا اور آسان ہو گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ‏‏‏‏ پیغمبر علیہ السلام کے طریقے اور آپ کے لائے ہوئے کھلے حق سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کے سوا دوسری راہوں پہ چلنے والے اس دن بڑے ہی نادم ہونگے اور حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ چبائیں گے۔ گو اس کا نزول عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے یہ ہر ایسے ظالم کو شامل ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» ۱؎ [33-الأحزاب:66-67] ‏‏‏‏ ’ پس ہر ظالم قیامت کے دن پچھتائے گا، اپنے ہاتھوں کو چبائے گا اور آہ و زاری کر کے کہے گا: کاش! کہ میں نے نبی کی راہ اپنائی ہوتی۔ کاش! کہ میں نے فلاں کی عقیدت مندی نہ کی ہوتی۔ جس نے مجھے راہ حق سے گمراہ کر دیا۔ ‘ امیہ بن خلف کا اور اس کے بھائی ابی بن خلف کا بھی یہی حال ہو گا اور ان کے سوا اور بھی ایسے لوگوں کا یہ حال ہو گا۔ کہے گا کہ اس نے مجھے ذکر یعنی قرآن سے بیگانہ کر دیا حالانکہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان انسان کو رسوا کرنے والا ہے، وہ اسے ناحق کی طرف بلاتا ہے اور حق سے ہٹا دیتا ہے۔
28-1اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نافرمانوں سے دوستی اور وابستگی نہیں رکھنی چاہیئے، اس لئے کہ اچھی صحبت سے انسان اچھا اور بری صحبت سے انسان برا بنتا ہے۔ اکثر لوگوں کی گمراہی کی وجہ غلط دوستوں کا انتخاب اور صحبت بد کا اختیار کرنا ہی ہے۔ اس لئے حدیث میں بھی صالحین کی صحبت کی تاکید اور بری صحبت سے اجتناب کو ایک بہترین مثال سے و اضع کیا گیا ہے۔
(آیت 28) {يٰوَيْلَتٰى لَيْتَنِيْ لَمْ اَتَّخِذْ …: ” يٰوَيْلَتٰى “} اصل میں {”يَا وَيْلَتِيْ“} ہے، جس میں لفظ {”وَيْلَةٌ“} یائے متکلم کی طرف مضاف ہے، جسے الف سے بدل دیا گیا ہے، معنی ہے میری ہلاکت، میری بربادی۔ یعنی کافر اپنی ہلاکت کو پکارے گا اور ان لوگوں کا نام لے کر کہے گا جنھوں نے اسے گمراہ کیا تھا کہ کاش! میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ایک کا نام لینے کے بجائے ہر شخص کے دلی دوست کے لیے {” فُلَانًا “} کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ کفار کی اس ندامت کا ذکر سورۂ بقرہ (۱۶۷) اور سورۂ احزاب (۶۶ تا ۶۸) میں بھی دیکھیے۔ اس سے معلوم ہوا آدمی کو خوب سوچ سمجھ کر دوست کا انتخاب کرنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلرَّجُلُ عَلٰی دِيْنِ خَلِيْلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُّخَالِلُ ] [ أبوداوٗد، الأدب، باب من یؤمر أن یجالس: ۴۸۳۳، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ و حسنہ الألباني ] ”آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لیے تم میں سے ہر ایک کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کسے دلی دوست بنا رہا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَ نَافِخِ الْكِيْرِ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُّحْذِيَكَ وَ إِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ إِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً، وَ نَافِخُ الْكِيْرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ إِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيْحًا خَبِيْثَةً ] [ بخاري، الذبائح و الصید، باب المسک: ۵۵۳۴، عن أبي موسٰی رضی اللہ عنہ ] ”نیک اور برے ہم نشین کی مثال کستوری رکھنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی ہے، کستوری رکھنے والا یا تو تجھے عطیہ دے دے گا، یا تو اس سے خرید لے گا، یا اس سے عمدہ خوشبو پاتا رہے گا اور بھٹی دھونکنے والا یا تو تیرے کپڑے جلا دے گا، یا تو اس سے گندی بو پاتا رہے گا۔“
لَقَدۡ اَضَلَّنِیۡ عَنِ الذِّکۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِیۡ ؕ وَ کَانَ الشَّیۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا ﴿۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس کے بہکائے میں آ کر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی، شیطان انسان کے حق میں بڑا ہی بے وفا نکلا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراه کردیا کہ نصیحت میرے پاس آپہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو (وقت پر) دغا دینے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اس نے مجھے بہکادیا میرے پاس آئی ہوئی نصیحت سے اور شیطان آدمی کو بے مدد چھوڑ دیتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اس نے نصیحت (یا قرآن) کے میرے پاس آجانے کے بعد مجھے اس کے قبول کرنے سے بہکا دیا اور شیطان تو ہے ہی (مشکل وقت میں) بے یار و مددگار چھوڑ دینے والا (دغا باز)۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اس نے تو مجھے نصیحت سے گمراہ کر دیا، اس کے بعد کہ میرے پاس آئی اور شیطان ہمیشہ انسان کو چھوڑ جانے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فیصلوں کا دن ٭٭

قیامت کے دن جو ہولناک امور ہوں گے، ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی شامل ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی، پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے: «هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّـهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ» ۱؎ [2-البقرة:210] ‏‏‏‏ یعنی کہ ’ انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔ تمام جانور، چوپائے، درندے، پرندے اور کل مخلوق وہاں ہو گی پھر آسمان اول پھٹے گا اور اس کے فرشتے اتریں گے جو تمام مخلوق کو دو طرف سے گھیرلیں گے اور وہ گنتی میں بہت زیادہ ہوں گے۔ پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اس کے فرشتے بھی آئیں گے جو زمین کی اور آسمان اول کی تمام مخلوق کی گنتی سے بھی زیادہ ہوں گے۔ پھر تیسرا آسمان شق ہو گا اس کے فرشتے بھی، دونوں آسمانوں کے فرشتے مل کر زمین کی مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، سب کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اسی طرح چوتھا پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں۔ پھر ہمارا رب عز و جل ابر کے سائے میں تشریف لائے گا، اس کے اردگرد بزرگ تر پاک فرشتے ہوں گے جو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کی کل مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، ان پر سینگوں جیسے نشان ہونگے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ کی تسبیح و تہلیل و تقدس بیان کریں گے، ان کے تلوے سے لے کر ٹخنے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کا راستہ ہو گا اور ٹخنے سے گھٹنے تک کا بھی اتنا ہی۔ اور گھٹنے سے ناف تک کا بھی اتنا فاصلہ ہو گا۔ اور ناف سے گردن کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور گردن سے کان کی لو تک بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور اس کے اوپر سے سر تک کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ قیامت کا نام «یَوْمَ التَّلاَقِ» اسی لیے ہے کہ اس میں زمین و آسمان والے ملیں گے، انہیں دیکھ کر پہلے تو محشر والے سمجھ لیں گے کہ ہمارا اللہ آیا۔

لیکن فرشتے سمجھا دیں گے کہ وہ آنے والا ہے، ابھی تک نازل نہیں ہوا۔ پھر جب ساتوں آسمانوں کے فرشتے آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر تشریف لائے گا جسے آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے جن کے ٹخنے سے گھٹنے تک ستر سال کا راستہ ہے اور ران اور مونڈھے کے درمیان بھی ستر سال کا راستہ ہے۔ ہر فرشتہ دوسرے سے علیحدہ اور جداگانہ ہے۔ ہر ایک کی ٹھوڑی سینے سے لگی ہوئی ہے اور زبان پر «سبُْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ» کا وظیفہ ہے۔ ان کے سروں پر ایک پھیلی ہوئی چیز ہے جیسے سرخ شفق، اس کے اوپر عرش ہو گا۔ اس میں راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو ضعیف ہیں اور بھی اس حدیث میں بہت سی خامیاں ہیں۔ صور کی مشہور حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور آیت میں ہے کہ ’ اس دن ہو پڑنے والی ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ کر روئی کی طرح ہو جائے گا۔ اور اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے لیے ہوں گے۔ ‘ ۱؎ [69-الحاقة:15-17] ‏‏‏‏ شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکّ الْحَمْدُ عَلیٰ حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے، تو قابل ستائش و تعریف ہے۔ باوجود علم کے پھر بھی بردباری برتنا تیرا وصف ہے جس پر ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اور چار کی تسبیح یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلیٰ عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے تیرے ہی لیے سب تعریف ہے کہ تو باوجود قدرت کے معاف فرماتا رہتا ہے۔ ابوبکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرش کو اترتا دیکھ کر اہل محشر کی آنکھیں پھٹ جائیں گی، جسم کانپ اٹھیں گے، دل لرز جائیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ عز و جل مخلوق کی طرف اترے گا تو درمیان میں ستر ہزار پردے ہوں گے۔ بعض نور کے، بعض ظلمت کے۔ اس ظلمت میں سے ایک ایسی آواز نکلے گی جس سے دل پاش پاش ہو جائیں گے۔ شاید ان کی یہ روایت انہی دو تھیلوں میں سے لی ہوئی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» ۱؎ [40-غافر:16] ‏‏‏‏ ’ آج ملک کس کے لیے ہے؟ صرف اللہ غالب و قہار کے لیے۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے: { اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں مالک ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:7413] ‏‏‏‏ وہ دن کفار پر بڑا بھاری پڑا ہو گا۔ اسی کا بیان اور جگہ بھی ہے کہ { کافروں پر وہ دن گراں گزرے گا۔ } ۱؎ [74-المدثر:9-10] ‏‏‏‏ ہاں مومنوں کو اس دن مطلق گھبراہٹ یا پریشانی نہ ہو گی۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پچاس ہزار سال کا دن تو بہت ہی دراز ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مومنوں پر تو وہ ایک وقت کی فرض نماز سے بھی ہلکا اور آسان ہو گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ‏‏‏‏ پیغمبر علیہ السلام کے طریقے اور آپ کے لائے ہوئے کھلے حق سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کے سوا دوسری راہوں پہ چلنے والے اس دن بڑے ہی نادم ہونگے اور حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ چبائیں گے۔ گو اس کا نزول عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے یہ ہر ایسے ظالم کو شامل ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» ۱؎ [33-الأحزاب:66-67] ‏‏‏‏ ’ پس ہر ظالم قیامت کے دن پچھتائے گا، اپنے ہاتھوں کو چبائے گا اور آہ و زاری کر کے کہے گا: کاش! کہ میں نے نبی کی راہ اپنائی ہوتی۔ کاش! کہ میں نے فلاں کی عقیدت مندی نہ کی ہوتی۔ جس نے مجھے راہ حق سے گمراہ کر دیا۔ ‘ امیہ بن خلف کا اور اس کے بھائی ابی بن خلف کا بھی یہی حال ہو گا اور ان کے سوا اور بھی ایسے لوگوں کا یہ حال ہو گا۔ کہے گا کہ اس نے مجھے ذکر یعنی قرآن سے بیگانہ کر دیا حالانکہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان انسان کو رسوا کرنے والا ہے، وہ اسے ناحق کی طرف بلاتا ہے اور حق سے ہٹا دیتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 29) ➊ { لَقَدْ اَضَلَّنِيْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِيْ:} اس میں اس تمنا کی وجہ بیان کی ہے کہ کاش! میں فلاں کو دوست نہ بناتا۔ وہ یہ کہ میرے پاس ({الذِّكْرِ}) کامل نصیحت آئی، مگر اس دوست نے مجھے اس کو قبول کرنے سے بے راہ کر دیا۔ {” الذِّكْرِ “} سے مراد کے لیے دیکھیے سورۂ حجر (۶، ۹)۔ ➋ {وَ كَانَ الشَّيْطٰنُ …: ” الشَّيْطٰنُ”شَطْنٌ“} سے مشتق ہے، جس کا معنی دوری بھی ہے اور خباثت بھی۔ شیطان ہر وہ خبیث شخص ہے جو حق سے دور ہو، خواہ انسان ہو یا جن، کیونکہ شیطان دونوں ہی میں پائے جاتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۱۲) {”خَذُوْلًا “} چھوڑ جانے والا، {” كَانَ “} کی وجہ سے ”ہمیشہ چھوڑ جانے والا“ ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی شیطان آدمی کو پہلے برے کام کی ترغیب دیتا ہے، جب آدمی وہ کام کر لیتا ہے اور مصیبت میں گرفتار ہو جاتا ہے تو اس کو چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۲۱، ۲۲) رہے دوست، تو قیامت کے دن متقی دوستوں کے سوا سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔ دیکھیے سورۂ زخرف (۶۷)۔
وَ قَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِی اتَّخَذُوۡا ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ مَہۡجُوۡرًا ﴿۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور رسول کہے گا کہ "اے میرے رب، میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنا لیا تھا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور رسول کہے گا کہ اے میرے پروردگار! بےشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور رسول نے عرض کی کہ اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑنے کے قابل ٹھہرایا
علامہ محمد حسین نجفی
اور رسول(ص) کہیں گے اے میرے پروردگار! میری قوم (امت) نے اس قرآن کو بالکل چھوڑ دیا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور رسول کہے گا اے میرے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑا ہوا بنا رکھا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شکایت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

قیامت والے دن اللہ کے سچے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی شکایت جناب باری تعالیٰ میں کریں گے کہ نہ یہ لوگ قرآن کی طرف مائل تھے، نہ رغبت سے قبولیت کے ساتھ سنتے تھے بلکہ اوروں کو بھی اس کے سننے سے روکتے تھے۔ جیسے کہ کفار کا مقولہ خود قرآن میں ہے کہ وہ کہتے تھے «وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:26] ‏‏‏‏ ’ اس قرآن کو نہ سنو اور اس کے پڑھے جانے کے وقت شور و غل کرو۔ ‘ یہی اس کا چھوڑ رکھنا تھا۔ نہ اس پر ایمان لاتے تھے، نہ اسے سچا جانتے تھے، نہ اس پر غور و فکر کرتے تھے، نہ ہی اسے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ نہ اس پر عمل تھا، نہ اس کے احکام کو بجا لاتے تھے، نہ اس کے منع کردہ کاموں سے رکتے تھے بلکہ اس کے سوا اور کاموں میں مشغول و منہمک رہتے تھے جیسے شعر، اشعار، غزلیات، باجے، گانے، راگ، راگنیاں، اسی طرح اور لوگوں کے کلام سے دلچسپی لیتے تھے اور ان پر عامل تھے، یہی اسے چھوڑ دینا تھا۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کریم و منان، جو ہر چیز پر قادر ہے، ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کے ناپسندیدہ کاموں سے دست بردار ہو جائیں اور اس کے پسندیدہ کاموں کی طرف جھک جائیں۔ وہ ہمیں اپنے کلام کی سمجھ دے اور دن رات اس پر عمل کرنے کی ہدایت دے، جس سے وہ خوش ہو۔ وہ کریم و وہاب ہے۔

پھر فرمایا: جس طرح اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی قوم میں قرآن کو نظر انداز کر دینے والے لوگ ہیں۔ اسی طرح اگلی امتوں میں بھی ایسے لوگ تھے جو خود کفر کر کے دوسروں کو اپنے کفر میں شریک کار کرتے تھے اور اپنی گمراہی کے پھیلانے کی فکر میں لگے رہتے تھے۔ جیسے فرمان ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:112] ‏‏‏‏ یعنی ’ اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن شیاطین و انسان بنا دئیے ہیں۔ ‘

پھر فرمایا: جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرے، کتاب اللہ پر ایمان لائے، اللہ کی وحی پر یقین کرے، اس کا ہادی اور ناصر خود اللہ تعالیٰ ہے۔ مشرکوں کی جو خصلت اوپر بیان ہوئی، اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ لوگوں کو ہدایت پر نہ آنے دیں اور آپ مسلمانوں پر غالب رہیں۔ اس لیے قرآن نے فیصلہ کیا کہ یہ نامراد ہی رہیں گے۔ اللہ اپنے نیک بندوں کو خود ہدایت کرے گا اور مسلمان کی خود مدد کرے گا۔ یہ معاملہ اور ایسوں کا مقابلہ کچھ تجھ سے ہی نہیں، تمام اگلے نبیوں کے ساتھ یہی ہوتا رہا ہے۔
30-1مشرکین قرآن پڑھے جانے کے وقت خوب شور کرتے تاکہ قرآن نہ سنا جاسکے، یہ بھی ہجران ہے، اس پر ایمان نہ لانا اور عمل نہ کرنا بھی ہجران ہے، اس پر غور و فکر کرنا اور اس کے اوامر پر عمل اور نواہی سے اجتناب نہ کرنا بھی ہجران ہے۔ اسی طرح اس کو چھوڑ کر کسی اور کتاب کو ترجیح دینا، یہ بھی ہجران ہے یعنی قرآن کا ترک اور اس کا چھوڑ دینا ہے، جس کے خلاف قیامت والے دن اللہ کے پیغمبر اللہ کی بارگاہ میں استغاثہ دائر فرمائیں گے۔
(آیت 30) {وَ قَالَ الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا …:} اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے یہ شکایت دنیا میں کی، کیونکہ کفار نے کہا تھا: «{ لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ }» [ حٰمٓ السجدۃ: ۲۶ ] ”اس قرآن کو مت سنو اور اس میں شور کرو، تاکہ تم غالب رہو۔“ اور دوسرا یہ کہ قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ شکایت کریں گے، کیونکہ قرآن مجید میں یقینی مستقبل کے لیے ماضی کا لفظ کثرت سے استعمال ہوا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ ”میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑا ہوا بنا رکھا تھا“ کے الفاظ سے جان بوجھ کر اسے نظر انداز کرنے کا مفہوم واضح ہو رہا ہے، جو صرف ”چھوڑ رکھا تھا“ کے الفاظ سے واضح نہیں ہوتا۔ {” هٰذَا الْقُرْاٰنَ “} میں {” هٰذَا “} کے لفظ سے قرآن کی عظمت بیان کرنا مقصود ہے، یعنی انھوں نے اتنی عظمت والے قرآن کو اس طرح بنا رکھا تھا جیسے کوئی ایسی چیز ہو جسے جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا جائے۔ رہا یہ سوال کہ آیت میں مذکور ”میری قوم“ سے مراد کیا ہے؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ ”میری قوم“ کے لفظ سے سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں قرآن پر ایمان نہ لانے والے مراد ہیں، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے لے کر قیامت تک آنے والے وہ تمام لوگ مراد ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے، کیونکہ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امتِ دعوت اور آپ کی قوم ہیں، جیسا کہ نوح علیہ السلام کی امت تھی، جو ایمان نہ لانے کے باوجود ان کی امت اور ان کی قوم تھی۔ ان کے قرآن کو چھوڑنے سے مراد اسے سننے، پڑھنے، اس پر غور و فکر کرنے سے اجتناب اور اس پر ایمان نہ لانا ہے۔ اس کے بعد {” قَوْمِي “} میں وہ تمام ایمان لانے والے بھی شامل ہیں جنھوں نے کسی طرح بھی قرآن کو چھوڑا۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”قرآن کو سننے سے گریز، اس میں شور ڈالنا اور اس پر ایمان نہ لانا، اسے چھوڑنا ہے۔ اسی طرح بقدر ضرورت اس کا علم حاصل نہ کرنا اور اسے حفظ نہ کرنا بھی اسے چھوڑنا ہے۔ اس کا مطلب سمجھنے کی کوشش نہ کرنا، اس کے اوامر پر عمل نہ کرنا اور اس کی منع کردہ چیزوں سے باز نہ آنا بھی اسے چھوڑنا ہے۔ اسے چھوڑ کر دوسری چیزوں کو اختیار کرنا بھی اسے چھوڑنا ہے، مثلاً گانے بجانے کو، عشقیہ اشعار کو، لوگوں کے اقوال و آراء کو اور ان کے بنائے ہوئے طریقوں کو قرآن پر ترجیح دینا اسے چھوڑنا ہے۔“ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت امتِ مسلمہ نے جس طرح جان بوجھ کر قرآن کو پسِ پشت پھینک رکھا ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہ پھینکا ہو۔ ان کے اکثر لوگ دنیا کمانے کے لیے اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان، تاجر اور صنعت کار بنائیں گے اور اس کام کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کریں گے، مگر انھیں قرآن کی تعلیم نہیں دلوائیں گے اور دلوائیں گے بھی تو صرف ناظرہ قرآن کی یا حفظ کی، جس سے انھیں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ کتنا ستم ہے کہ دنیا کی کوئی زبان سیکھی جائے تو اس کا ایک لفظ بھی مطلب سمجھے بغیر نہیں پڑھا جاتا، جب کہ قرآن پورا ناظرہ پڑھ لیا جاتا ہے، بعض اوقات حفظ کر لیا جاتا ہے، اس سے آگے اس کی تجوید اور حسن قراء ت بھی حاصل کر لی جاتی ہے، مگر اس کا مطلب سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کی جاتی۔ جب اس کا مطلب ہی نہیں سمجھا گیا، تو اس پر غور و فکر کا اور اس پر عمل کا مرحلہ کب آئے گا؟ پورا قرآن تو دور کی بات ہے روزانہ پانچ وقت جو نماز وہ پڑھتے ہیں انھیں اس کا مطلب معلوم نہیں، نہ وہ یہ جانتے ہیں کہ ہم اپنے مالک سے کلام کرتے ہوئے کیا عرض کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے تمام ممالک میں ({إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيْ}) قرآن کو مسلمانوں کی زندگی سے عملاً نکال باہر کر دیا گیا ہے۔ ان کی سیاست کفار سے لی ہوئی جمہوریت ہے، جس میں اللہ اور اس کے رسول کا کوئی دخل نہیں، یا قرآن و سنت کے احکام کی پابندی سے آزاد استبدادی ملوکیت ہے، ان کی تجارت و صنعت کا دار و مدار سود پر ہے، ان کی عدالتوں میں کفار کے قوانین رائج ہیں اور ان کی وضع قطع اور تمدن و تہذیب یہود و نصاریٰ اور ہندوؤں کی سی ہے۔ ان کے ہاں قرآن صرف برکت کے لیے ہے، یا مجلس کے افتتاح کے لیے، یا دم درود اور پیری مریدی میں خود ساختہ وظائف کے لیے، یا محبت و عداوت اور تسخیر قلوب کے عملیات کے لیے، یا اچھے سے اچھے کاغذ اور اچھی جلد والا خرید کر جہیز میں دینے کے لیے ہے، یا خوبصورت غلاف میں لپیٹ کر اونچی سے اونچی جگہ رکھنے کے لیے۔ وہ اس کی طرف پیٹھ نہیں کرتے، مگر بات اس کی ایک نہیں مانتے۔ ان کے دینی مدارس میں سالہا سال تک انسانوں کے مرتب کیے ہوئے مسائل پڑھائے جاتے ہیں، جب وہ دل و دماغ میں خوب راسخ ہو جاتے ہیں تو انھیں قرآن و حدیث سے دورے کی شکل میں سال دو سال میں فارغ کر دیا جاتا ہے۔ (الا ما رحم ربی) حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم قرآن کو چھوڑنے کی یہ روش ترک کرکے صحابہ و تابعین کی طرح قرآن کی طرف واپس نہیں آئیں گے، اسے اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا نہیں بنائیں گے، نصرتِ الٰہی اور باعزت زندگی سے محروم ہی رہیں گے۔ سچ فرمایا امام مالک رحمہ اللہ نے: {” لَنْ يَّصْلُحَ آخِرُ هٰذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا بِمَا صَلُحَ بِهِ أَوَّلُهَا“} [ شرح سنن أبي داوٗد لعبد المحسن العباد: 334/2 ] ”اس امت کا آخر بھی اسی کے ساتھ درست ہو گا جس کے ساتھ اس کا اول درست ہوا تھا۔“
وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ؕ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ ہَادِیًا وَّ نَصِیۡرًا ﴿۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے محمدؐ، ہم نے تو اسی طرح مجرموں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی رہنمائی اور مدد کو کافی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بعض گناه گاروں کو بنادیا ہے اور تیرا رب ہی ہدایت کرنے واﻻ اور مدد کرنے واﻻ کافی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے دشمن بنادیے تھے مجرم لوگ اور تمہارا رب کافی ہے ہدایت کرنے اور مدد دینے کو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کیلئے مجرموں میں سے بعض کو دشمن بنایا اور آپ کا پروردگار راہنمائی اور مدد کیلئے کافی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے مجرموں میں سے کوئی نہ کوئی دشمن بنایا اور تیرا رب ہدایت دینے والا اور مدد کرنے والا کافی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شکایت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

قیامت والے دن اللہ کے سچے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی شکایت جناب باری تعالیٰ میں کریں گے کہ نہ یہ لوگ قرآن کی طرف مائل تھے، نہ رغبت سے قبولیت کے ساتھ سنتے تھے بلکہ اوروں کو بھی اس کے سننے سے روکتے تھے۔ جیسے کہ کفار کا مقولہ خود قرآن میں ہے کہ وہ کہتے تھے «وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:26] ‏‏‏‏ ’ اس قرآن کو نہ سنو اور اس کے پڑھے جانے کے وقت شور و غل کرو۔ ‘ یہی اس کا چھوڑ رکھنا تھا۔ نہ اس پر ایمان لاتے تھے، نہ اسے سچا جانتے تھے، نہ اس پر غور و فکر کرتے تھے، نہ ہی اسے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ نہ اس پر عمل تھا، نہ اس کے احکام کو بجا لاتے تھے، نہ اس کے منع کردہ کاموں سے رکتے تھے بلکہ اس کے سوا اور کاموں میں مشغول و منہمک رہتے تھے جیسے شعر، اشعار، غزلیات، باجے، گانے، راگ، راگنیاں، اسی طرح اور لوگوں کے کلام سے دلچسپی لیتے تھے اور ان پر عامل تھے، یہی اسے چھوڑ دینا تھا۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کریم و منان، جو ہر چیز پر قادر ہے، ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کے ناپسندیدہ کاموں سے دست بردار ہو جائیں اور اس کے پسندیدہ کاموں کی طرف جھک جائیں۔ وہ ہمیں اپنے کلام کی سمجھ دے اور دن رات اس پر عمل کرنے کی ہدایت دے، جس سے وہ خوش ہو۔ وہ کریم و وہاب ہے۔

پھر فرمایا: جس طرح اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی قوم میں قرآن کو نظر انداز کر دینے والے لوگ ہیں۔ اسی طرح اگلی امتوں میں بھی ایسے لوگ تھے جو خود کفر کر کے دوسروں کو اپنے کفر میں شریک کار کرتے تھے اور اپنی گمراہی کے پھیلانے کی فکر میں لگے رہتے تھے۔ جیسے فرمان ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:112] ‏‏‏‏ یعنی ’ اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن شیاطین و انسان بنا دئیے ہیں۔ ‘

پھر فرمایا: جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرے، کتاب اللہ پر ایمان لائے، اللہ کی وحی پر یقین کرے، اس کا ہادی اور ناصر خود اللہ تعالیٰ ہے۔ مشرکوں کی جو خصلت اوپر بیان ہوئی، اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ لوگوں کو ہدایت پر نہ آنے دیں اور آپ مسلمانوں پر غالب رہیں۔ اس لیے قرآن نے فیصلہ کیا کہ یہ نامراد ہی رہیں گے۔ اللہ اپنے نیک بندوں کو خود ہدایت کرے گا اور مسلمان کی خود مدد کرے گا۔ یہ معاملہ اور ایسوں کا مقابلہ کچھ تجھ سے ہی نہیں، تمام اگلے نبیوں کے ساتھ یہی ہوتا رہا ہے۔
31-1یعنی جس طرح اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیری قوم میں سے وہ لوگ تیرے دشمن ہیں جنہوں نے قرآن کو چھوڑ دیا، اسی طرح گزشتہ امتوں میں بھی تھا، یعنی ہر نبی کے دشمن وہ لوگ ہوتے تھے جو گناہگار تھے، وہ لوگوں کو گمراہی کی طرف بلاتے تھے (مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِۨ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ ۭ لَا يَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰي شَيْءٍ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ) 6۔ الانعام:112) میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔ 31-2یعنی یہ کافر گو لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں لیکن تیرا رب جس کو ہدایت دے اس کو ہدایت سے کون روک سکتا ہے؟ اصل ہادی اور مددگار تو تیرا رب ہی ہے۔
(آیت 31) ➊ { وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ:} چونکہ اس شکایت میں دل کی جلن اور شدید غم کا اظہار تھا، اس لیے اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور مسلمانوں کو تسلی دی کہ قرآن کو چھوڑنے والوں کا یہ طرز عمل صرف تمھارے ساتھ ہی نہیں ہے بلکہ پہلے انبیاء کے ساتھ بھی ایسے ہی رہا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۱۲، ۱۲۳)۔ ➋ { وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَّ نَصِيْرًا:} اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو بشارتیں دی ہیں، ایک یہ کہ جو لوگ اب اعراض کر رہے ہیں ان میں سے کئی ہدایت قبول کریں گے، یا ان کی پشتوں سے آنے والے ہدایت قبول کریں گے، جیسا کہ پہاڑوں کے فرشتے نے اللہ کے حکم سے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کش کی کہ اگر آپ چاہیں تو میں ان پر مکہ کے دو پہاڑوں کو آپس میں ملا دوں، توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ بَلْ أَرْجُوْ أَنْ يُّخْرِجَ اللّٰهُ مِنْ أَصْلاَبِهِمْ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ وَحْدَهُ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ] [ بخاري، بدء الخلق، باب إذا قال أحدکم آمین …: ۳۲۳۱ ] ”بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں سے ایسے لوگ نکالے گا جو اکیلے اللہ کی عبادت کریں گے، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گے۔“ اور دوسری بشارت نصرتِ الٰہی کی ہے۔ {” وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَّ نَصِيْرًا “} میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اپنے سارے کام اس کے سپرد کر دو، کیونکہ ہدایت و نصرت کے لیے کفایت کرنے والا وہی ہے۔ (ابن عاشور)
وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَ عَلَیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَۃً وَّاحِدَۃً ۚۛ کَذٰلِکَ ۚۛ لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ وَ رَتَّلۡنٰہُ تَرۡتِیۡلًا ﴿۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
منکرین کہتے ہیں "اِس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اتار دیا گیا؟" ہاں، ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے رہیں اور (اسی غرض کے لیے) ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کافروں نے کہا کہ اس پر قرآن سارا کا سارا ایک ساتھ ہی کیوں نہ اتارا گیا اسی طرح ہم نے (تھوڑا تھوڑا کرکے) اتارا تاکہ اس سے ہم آپ کا دل قوی رکھیں، ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر ہی پڑھ سنایا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کافر بولے قرآن ان پر ایک ساتھ کیوں نہ اتار دیا ہم نے یونہی بتدریج سے اتارا ہے کہ اس سے تمہارا دل مضبوط کریں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا
علامہ محمد حسین نجفی
اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص پر پورا قرآن یکبارگی کیوں نہیں نازل کیا گیا؟ ہاں اس طرح اس لئے کیا کہ ہم تمہارے دل کو ثبات و تقویت دیں اور (اسی لئے) اسے عمدہ ترتیب کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر نازل کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ قرآن اس پر ایک ہی بار کیوں نہ نازل کر دیا گیا؟ اسی طرح ( ہم نے اتارا) تاکہ ہم اس کے ساتھ تیرے دل کو مضبوط کریں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا، خوب ٹھہر کر پڑھنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن حکیم مختلف اوقات میں کیوں اتارا ٭٭

کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جیسے تورات، انجیل، زبور وغیرہ ایک ساتھ پیغمبروں پر نازل ہوتی رہیں۔ یہ قرآن ایک ہی دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیوں نہ ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں واقعی یہ متفرق طور پر اترا ہے، بیس برس میں نازل ہوا ہے جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی، جو جو واقعات ہوتے رہے، احکام نازل ہوتے گئے تاکہ مومنوں کا دل جما رہے۔ ٹھہر ٹھہر کر احکام اتریں تاکہ ایک دم عمل مشکل نہ ہو پڑے، وضاحت کے ساتھ بیان ہو جائے۔ سمجھ میں آ جائے۔ تفسیر بھی ساتھ ہی ساتھ ہوتی رہے۔ ہم ان کے کل اعتراضات کا صحیح اور سچا جواب دیں گے جو ان کے بیان سے بھی واضح اور سچا ہو گا۔ جو کمی یہ بیان کریں گے، ہم ان کی تسلی کر دیں گے۔ صبح و شام، رات دن، سفر حضر میں بار بار اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور اپنے خاص بندوں کی ہدایت کے لیے ہمارا کلام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی تک اترتا رہا۔ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضیلت بھی ظاہر ہوتی رہی لیکن دوسرے انبیاء علیہم السلام پر ایک ہی مرتبہ سارا کلام اترا مگر اس سے بہترین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تبارک و تعالیٰ بار بار خطاب کرتا رہا تاکہ اس قرآن کی عظمت بھی آشکار ہو جائے، اس لیے کہ یہ کتنی لمبی مدت میں نازل ہوا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سب نبیوں میں اعلیٰ اور قرآن بھی سب کلاموں میں بالا۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ قرآن کو دونوں بزرگیاں ملیں۔ یہ ایک ساتھ لوح محفوظ سے ملأ اعلیٰ میں اترا۔ لوح محفوظ سے پورے کا پورا دنیا کے آسمان تک پہنچا۔ پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوتا رہا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں: سارا قرآن ایک دفعہ ہی لیلۃ القدر میں دنیا کے آسمان پر نازل ہوا پھر بیس سال تک زمین پر اترتا رہا۔ پھر اس کے ثبوت میں آپ نے آیت «وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرًا» اور آیت «وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:106] ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی۔ اس کے بعد کافروں کی جو درگت قیامت کے روز ہونے والی ہے، اس کا بیان فرمایا کہ بدترین حالت اور قبیح تر ذلت میں ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا۔ یہ اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے، یہی برے ٹھکانے والے اور سب سے بڑھ کر گمراہ ہیں۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کافروں کا حشر منہ کے بل کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے انہیں پیر کے بل چلایا ہے ِ، وہ سر کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔
32-1جس طرح تورات، انجیل اور زبور وغیرہ کتابیں بیک مرتبہ نازل ہوئیں۔ 32-2اللہ نے جواب میں فرمایا کہ ہم نے حالات و ضروریات کے مطابق اس قرآن کو23سال میں تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا تاکہ اے پیغمبر! تیرا اور اہل ایمان کا دل مضبوط ہو اور ان کے خوب ذہن نشین ہوجائے۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا) 17۔ الاسراء:16) ' اور قرآن، اس کو ہم نے جدا جدا کیا، تاکہ تو اسے لوگوں پر رک رک کر پڑھے اور ہم نے اس کو وقفے وقفے سے اتارا '۔ اس قرآن کی مثال بارش کی طرح ہے بارش جب بھی نازل ہوتی ہے مردہ زمین میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور یہ فائدہ بالعموم اسی وقت ہوتا ہے جب بارش وقتا فوقتا نازل ہو نہ کہ ایک ہی مرتبہ ساری بارش کے نزول سے۔
(آیت 32) ➊ { وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ …:} یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے منکروں کا پانچواں اعتراض ہے جو بالکل ہی بے کار ہے۔ اعتراض یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سارا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نازل نہیں کیا گیا؟ یہ تھوڑا تھوڑا کر کے جو آ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوچ سوچ کر اسے تصنیف کر لیتے ہیں اور یہ انسانی کلام ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ ہاں، اسے ایسے ہی تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا گیا ہے، کیونکہ اس میں بہت سی حکمتیں ہیں۔ اعتراض بے کار اس لیے ہے کہ قرآن کا دعویٰ ہے کہ چونکہ یہ اللہ کا کلام ہے، اس لیے ساری کائنات مل کر بھی اس کی ایک سورت کی مثل نہیں بنا سکتی۔ اس سے پہلے قرآن کا جو حصہ نازل ہوا ہے اس کی مثل تو یہ لوگ لا نہیں سکے، اگر پورا قرآن اکٹھا نازل ہو جائے تو اس کی مثل کیسے پیش کریں گے۔ پھر ایسا مطالبہ کیوں؟ ➋ یہاں بھی اگر {” وَقَالُوْا “} (اور انھوں نے کہا) کہہ دیا جاتا تو کافی تھا، مگر {” وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا “} اس لیے فرمایا کہ ان لوگوں نے جو یہ بات کی ہے اس کی وجہ اس مطالبے کا معقول ہونا نہیں بلکہ اس کا باعث صرف اور صرف کفر ہے، جب کوئی شخص انکار پر تل ہی جائے تو وہ ایسی ہی بے تکی ہانکا کرتا ہے۔ ➌ { كَذٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ:} یعنی اس طرح تھوڑا تھوڑا نازل کرنے میں بہت سے عظیم فائدے ہیں: (1) ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس طرح ہم آپ کے دل کو مضبوط اور قائم رکھتے ہیں، اس طرح کہ جب مشکلات کا ہجوم ہوتا ہے، کفار کوئی اعتراض کرتے ہیں، یا کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو ہم وحی کے ذریعے سے اس کا حل بتا دیتے ہیں، اس طرح بار بار وحی کا نزول ہوتا ہے، جبریل علیہ السلام بار بار آپ کے پاس آتے ہیں، تو اس احساس سے آپ کی ڈھارس بندھ جاتی ہے، حوصلہ بڑھ جاتا ہے اور دل مضبوط ہو جاتا ہے کہ مالک ہمارے حال سے غافل نہیں، مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ساتھ ساتھ رہنمائی فرما رہا ہے اور اپنے سب سے مقرب فرشتے کو ہمارے پاس بھیج رہا ہے۔ اگر جبریل علیہ السلام ایک ہی دفعہ پورا قرآن لا کر فارغ ہو جاتے تو بار بار پیش آنے والی مشکلات میں دل کو حوصلہ کیسے ملتا اور اسے وہ لذت و قوت کیسے حاصل ہوتی جو اس احساس سے حاصل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قاصد اس کی طرف سے اس کا پیغام لے کر آیا ہے: وداع و وصل جدا گانہ لذتے دارد ہزار بار برو، صد ہزار بار بیا ”وداع و وصل الگ الگ لذت رکھتے ہیں، تو ہزار بار جا اور سو ہزار بار آ۔“ (2) ایک وقت میں چند آیات اترنے سے ان کا سمجھنا آسان ہوتا تھا، موقع کی مناسبت سے ان کا مفہوم زیادہ متعین اور واضح ہو جاتا تھا، یہ امکان ختم ہو جاتا تھا کہ ہر شخص محض لفظوں کو لے کر ان کا جو مفہوم چاہے نکالتا پھرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے عمل میں آ کر ان آیات کی عملی تصویر بھی سامنے آ جاتی تھی۔ ساری کتاب اکٹھی اترنے میں یہ بات نہ تھی۔ (3) اس طرح قرآنِ مجید اترنے میں احکام تدریج کے ساتھ اترے، جس سے امت کے لیے تخفیف ہوئی، اگر ایک ہی وقت میں چوری، ڈاکے، قتل، شراب، بہتان، زنا، غرض ہر گناہ کی حد بیان کر دی جاتی تو اس پر عمل نہایت مشکل ہوتا۔ (4) مصلحتِ وقت کے لحاظ سے کئی احکام کچھ مدت تک کے لیے تھے، اس کے بعد انھیں منسوخ ہونا تھا، لہٰذا پوری کتاب نازل ہونے کی صورت میں یہ ممکن نہ تھا۔ (5) لوگوں کے سوالات کے حل اور کفار کے اعتراضات کے جواب کے لیے بار بار آیات کے نزول سے جو تسلی و تشفی ہوتی تھی وہ بیک وقت قرآن نازل ہونے سے کبھی نہ ہو سکتی تھی۔ (6) اہلِ عرب اُمّی لوگ تھے، جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، ان کے لیے چند آیات کو حفظ کرنا آسان تھا، جو ہر موقع پر اترتیں۔ پورا قرآن اترنے میں یہ بات نہ تھی۔ اس طرح قرآن سینوں میں محفوظ ہو گیا، کاغذ کا محتاج نہ رہا۔ لکھی ہوئی پوری کتاب مسلسل یاد کرنے میں سستی ہو سکتی تھی، جس سے صرف لکھی ہوئی کتاب پر انحصار ہو جاتا، نتیجتاً قرآن بھی پہلی کتابوں کی طرح غیر محفوظ ہو جاتا۔ (7) چند آیات اترنے سے قرآن کا معجز اور بے مثال کتاب ثابت ہونا زیادہ واضح ہوتا تھا، جب بھی چند آیات اترتیں تو کفار کا ان کے جواب سے قاصر رہنا نمایاں ہوتا۔ اگر پورا قرآن ایک وقت میں اترتا تو اس کا اعجاز اتنا نمایاں نہ ہوتا۔ (8) دوسرے مقام پر فرمایا: «{ وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا }» [ بني إسرائیل: ۱۰۶ ] ”اور عظیم قرآن، ہم نے اس کو جدا جدا کر کے (نازل) کیا، تاکہ تو اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور ہم نے اسے نازل کیا، (تھوڑا تھوڑا) نازل کرنا۔“ اس قرآن کی مثال بارش کی طرح ہے، بارش جب بھی نازل ہوتی ہے مردہ زمین میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور یہ فائدہ تبھی ہوتا ہے جب بارش وقتاً فوقتاً نازل ہو، نہ کہ ایک ہی مرتبہ ساری بارش ہو جائے۔ ایک مثال اس کی یہ ہے کہ کوئی استاد اپنے شاگرد کو ایک ہی دن میں ساری کتاب پڑھ کر سنا دے۔ ➍ { وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِيْلًا:” تَرْتِيْلًا “} کا اصل {”تَرْتِيْلُ الْأَسْنَانِ “} سے ہے، ”دانتوں کے درمیان کچھ فاصلہ ہونا“ جیسے بابونہ کے پھول کی پتیاں ہوں، ایسے دانتوں کو {” ثَغْرٌ مُرتَّلٌ“} کہتے ہیں۔ یعنی اسی طرح قرآن ٹھہر ٹھہر کر تیئیس (۲۳) برس میں نازل ہوا۔
وَ لَا یَاۡتُوۡنَکَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰکَ بِالۡحَقِّ وَ اَحۡسَنَ تَفۡسِیۡرًا ﴿ؕ۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور (اس میں یہ مصلحت بھی ہے) کہ جب کبھی وہ تمہارے سامنے کوئی نرالی بات (یا عجیب سوال) لے کر آئے، اُس کا ٹھیک جواب بر وقت ہم نے تمہیں دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کھول دی
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ آپ کے پاس جو کوئی مثال ﻻئیں گے ہم اس کا سچا جواب اور عمده توجیہ آپ کو بتادیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ کوئی کہاوت تمہارے پاس نہ لائیں گے مگر ہم حق اور اس سے بہتر بیان لے آئیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ لوگ جب بھی کوئی (نیا) اعتراض اٹھاتے ہیں تو ہم اس کا صحیح جواب اور عمدہ تشریح آپ کے سامنے لاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ تیرے پاس کوئی مثال نہیں لاتے مگر ہم تیرے پاس حق اور بہترین تفسیر بھیج دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن حکیم مختلف اوقات میں کیوں اتارا ٭٭

کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جیسے تورات، انجیل، زبور وغیرہ ایک ساتھ پیغمبروں پر نازل ہوتی رہیں۔ یہ قرآن ایک ہی دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیوں نہ ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں واقعی یہ متفرق طور پر اترا ہے، بیس برس میں نازل ہوا ہے جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی، جو جو واقعات ہوتے رہے، احکام نازل ہوتے گئے تاکہ مومنوں کا دل جما رہے۔ ٹھہر ٹھہر کر احکام اتریں تاکہ ایک دم عمل مشکل نہ ہو پڑے، وضاحت کے ساتھ بیان ہو جائے۔ سمجھ میں آ جائے۔ تفسیر بھی ساتھ ہی ساتھ ہوتی رہے۔ ہم ان کے کل اعتراضات کا صحیح اور سچا جواب دیں گے جو ان کے بیان سے بھی واضح اور سچا ہو گا۔ جو کمی یہ بیان کریں گے، ہم ان کی تسلی کر دیں گے۔ صبح و شام، رات دن، سفر حضر میں بار بار اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور اپنے خاص بندوں کی ہدایت کے لیے ہمارا کلام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی تک اترتا رہا۔ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضیلت بھی ظاہر ہوتی رہی لیکن دوسرے انبیاء علیہم السلام پر ایک ہی مرتبہ سارا کلام اترا مگر اس سے بہترین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تبارک و تعالیٰ بار بار خطاب کرتا رہا تاکہ اس قرآن کی عظمت بھی آشکار ہو جائے، اس لیے کہ یہ کتنی لمبی مدت میں نازل ہوا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سب نبیوں میں اعلیٰ اور قرآن بھی سب کلاموں میں بالا۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ قرآن کو دونوں بزرگیاں ملیں۔ یہ ایک ساتھ لوح محفوظ سے ملأ اعلیٰ میں اترا۔ لوح محفوظ سے پورے کا پورا دنیا کے آسمان تک پہنچا۔ پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوتا رہا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں: سارا قرآن ایک دفعہ ہی لیلۃ القدر میں دنیا کے آسمان پر نازل ہوا پھر بیس سال تک زمین پر اترتا رہا۔ پھر اس کے ثبوت میں آپ نے آیت «وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرًا» اور آیت «وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:106] ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی۔ اس کے بعد کافروں کی جو درگت قیامت کے روز ہونے والی ہے، اس کا بیان فرمایا کہ بدترین حالت اور قبیح تر ذلت میں ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا۔ یہ اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے، یہی برے ٹھکانے والے اور سب سے بڑھ کر گمراہ ہیں۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کافروں کا حشر منہ کے بل کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے انہیں پیر کے بل چلایا ہے ِ، وہ سر کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔
33-1یہ قرآن کے وقفے وقفے سے اتارے جانے کی حکمت و علت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مشرکین جب بھی کوئی مثال یا اعتراض اور شبہ پیش کریں گے تو قرآن کے ذریعے سے ہم اس کا جواب یا وضاحت پیش کردیں گے اور یوں انھیں لوگوں کو گمراہ کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔
(آیت 33){ وَ لَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ …: ”مَثَلٌ“ } کا معنی کسی چیز کے مشابہ چیز بھی ہے، ضرب المثل یا کہاوت بھی اور کسی چیز کی صفت بھی، جیسے فرمایا: «{ مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ }» [ الرعد: ۳۵ ] ”اس جنت کی صفت جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔“ (راغب) سورت کے شروع سے اللہ تعالیٰ نے کفار کے پانچ اعتراض ذکر فرمائے ہیں اور سب کا دندان شکن جواب دیا ہے، آخر میں خلاصے کے طور پر فرمایا کہ ان لوگوں نے جو شکوک و شبہات اور طعن و اعتراض پیش کیے ہیں، یا قیامت تک پیش کریں گے ہم نے سب کا ایسا جواب دیا ہے اور دیتے رہیں گے جو سراسر حق ہے اور نہایت واضح ہے، ان کے اقوال کی طرح باطل یا غیر واضح نہیں ہے۔ {” مَثَلٌ“} سے مراد ان کے وہ سوالات، مطالبات اور اعتراضات ہیں جو انھوں نے آپ پر پیش کیے تھے اور {”اَلْحَقُّ“} سے مراد شبہے کا ازالہ اور سوال کا جواب ہے۔ (شوکانی) دیکھیے ان کا پہلا اعتراض تھا: «{ وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ افْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَيْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ }» [ الفرقان: ۴ ] اسی کے ضمن میں تھا: { وَ قَالُوْۤا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا } [ الفرقان: ۵ ] دوسرا اعتراض تھا: «{ وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ يَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًا (7) اَوْ يُلْقٰۤى اِلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاْكُلُ مِنْهَا }» [الفرقان: ۷، ۸ ] تیسرا اعتراض تھا: «{ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا }» [ الفرقان: ۸ ] چوتھا اعتراض تھا: «{ وَ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا }» [ الفرقان: ۲۱ ] اور پانچواں اعتراض تھا: «{ وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً }» [ الفرقان: ۳۲ ] ان اعتراضات کو امثال کہنے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا تیسرا اعتراض {” وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا “} بیان کرنے کے بعد فرمایا: «{ اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا }» [الفرقان: ۹ ] ” دیکھ انھوں نے تیرے لیے کیسی مثالیں بیان کیں، سو گمراہ ہو گئے، پس وہ کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔“ (ابن عاشور)
اَلَّذِیۡنَ یُحۡشَرُوۡنَ عَلٰی وُجُوۡہِہِمۡ اِلٰی جَہَنَّمَ ۙ اُولٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿٪۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو لوگ اوندھے منہ جہنم کی طرف دھکیلے جانے والے ہیں ان کا موقف بہت برا اور ان کی راہ حد درجہ غلط ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ اپنے منھ کے بل جہنم کی طرف جمع کیے جائیں گے۔ وہی بدتر مکان والے اور گمراه تر راستے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے اپنے منہ کے بل ان کا ٹھکانا سب سے برا اور وہ سب سے گمراہ،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ لوگ جو اپنے مونہوں کے بل جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے وہ ٹھکانے کے لحاظ سے بدتر اور راستہ کے اعتبار سے گمراہ تر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جو اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے وہی ٹھکانے میں نہایت برے اور راستے کے اعتبار سے بہت زیادہ گمراہ ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن حکیم مختلف اوقات میں کیوں اتارا ٭٭

کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جیسے تورات، انجیل، زبور وغیرہ ایک ساتھ پیغمبروں پر نازل ہوتی رہیں۔ یہ قرآن ایک ہی دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیوں نہ ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں واقعی یہ متفرق طور پر اترا ہے، بیس برس میں نازل ہوا ہے جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی، جو جو واقعات ہوتے رہے، احکام نازل ہوتے گئے تاکہ مومنوں کا دل جما رہے۔ ٹھہر ٹھہر کر احکام اتریں تاکہ ایک دم عمل مشکل نہ ہو پڑے، وضاحت کے ساتھ بیان ہو جائے۔ سمجھ میں آ جائے۔ تفسیر بھی ساتھ ہی ساتھ ہوتی رہے۔ ہم ان کے کل اعتراضات کا صحیح اور سچا جواب دیں گے جو ان کے بیان سے بھی واضح اور سچا ہو گا۔ جو کمی یہ بیان کریں گے، ہم ان کی تسلی کر دیں گے۔ صبح و شام، رات دن، سفر حضر میں بار بار اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور اپنے خاص بندوں کی ہدایت کے لیے ہمارا کلام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی تک اترتا رہا۔ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضیلت بھی ظاہر ہوتی رہی لیکن دوسرے انبیاء علیہم السلام پر ایک ہی مرتبہ سارا کلام اترا مگر اس سے بہترین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تبارک و تعالیٰ بار بار خطاب کرتا رہا تاکہ اس قرآن کی عظمت بھی آشکار ہو جائے، اس لیے کہ یہ کتنی لمبی مدت میں نازل ہوا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سب نبیوں میں اعلیٰ اور قرآن بھی سب کلاموں میں بالا۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ قرآن کو دونوں بزرگیاں ملیں۔ یہ ایک ساتھ لوح محفوظ سے ملأ اعلیٰ میں اترا۔ لوح محفوظ سے پورے کا پورا دنیا کے آسمان تک پہنچا۔ پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوتا رہا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں: سارا قرآن ایک دفعہ ہی لیلۃ القدر میں دنیا کے آسمان پر نازل ہوا پھر بیس سال تک زمین پر اترتا رہا۔ پھر اس کے ثبوت میں آپ نے آیت «وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرًا» اور آیت «وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:106] ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی۔ اس کے بعد کافروں کی جو درگت قیامت کے روز ہونے والی ہے، اس کا بیان فرمایا کہ بدترین حالت اور قبیح تر ذلت میں ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا۔ یہ اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے، یہی برے ٹھکانے والے اور سب سے بڑھ کر گمراہ ہیں۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کافروں کا حشر منہ کے بل کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے انہیں پیر کے بل چلایا ہے ِ، وہ سر کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 34) ➊ { اَلَّذِيْنَ يُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ …:} اس آیت کو پچھلی آیات کے ساتھ ملائیں تو ان الفاظ کا تقاضا ہے کہ یہاں کچھ عبارت محذوف ہے، جو یہ ہے کہ ”نبی اور قرآن پر اعتراض کرنے والے یہ لوگ اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے“ اور وہ لوگ جو اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے وہی ٹھکانے میں نہایت برے اور راستے کے اعتبار سے بہت زیادہ گمراہ ہیں۔ ➋ { اُولٰٓىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِيْلًا:شَرٌّ “} اصل میں {”أَشَرُّ “} ہے، جیسے {”خَيْرٌ“} اصل میں {” أَخْيَرُ“} ہے، دونوں اسم تفضیل کے صیغے ہیں، {” اَضَلُّ “} بھی اسم تفضیل ہے، مگر یہاں تفضیل مراد نہیں، نہ یہ معنی ہے کہ یہ لوگ اہلِ جنت سے زیادہ برے ہیں۔ یہاں {” شَرٌّ “} اور {” اَضَلُّ “} کا لفظ کسی کے مقابلے میں زیادہ برے یا زیادہ گمراہ کے معنی میں نہیں بلکہ صرف مبالغے کے لیے ہے، یعنی نہایت برے اور بہت زیادہ گمراہ ہیں، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”وہی ٹھکانے میں نہایت برے اور راستے کے اعتبار سے بہت زیادہ گمراہ ہیں۔“ ٹھکانے سے مراد جہنم ہے اور راستے سے مراد کفر و شرک کا راستہ ہے، جو جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ چند آیات پہلے اہلِ جنت کا وصف بیان ہوا ہے: «{ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِيْلًا }» [ الفرقان: ۲۴ ] اس کے مقابلے میں یہاں اہلِ جہنم کا وصف {” شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِيْلًا “} بیان ہوا ہے۔ ➌ { اَلَّذِيْنَ يُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ …:} دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۹۷) اور طٰہٰ (۱۲۵) چہروں کے بل اکٹھے کیے جانے کی ایک تفسیر یہ ہے کہ انھیں چہروں کے بل گھسیٹتے ہوئے میدانِ محشر کی طرف لے جایا جائے گا، جیسا کہ جہنم میں بھی ان کے ساتھ یہی معاملہ ہو گا، فرمایا: «{ يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ }» [ القمر: ۴۸ ] ”جس دن وہ آگ میں اپنے چہروں پر گھسیٹے جائیں گے، چکھو آگ کا چھونا۔“ اور فرمایا: «{ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ }» [ النمل: ۹۰ ] ”اور جوبرائی لے کر آئے گا تو ان کے چہرے آگ میں اوندھے ڈالے جائیں گے۔“ دوسری تفسیر وہ ہے جو انس رضی اللہ عنہ نے روایت فرمائی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! کافر کو قیامت کے دن چہرے کے بل اکٹھا کیا جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَلَيْسَ الَّذِيْ أَمْشَاهُ عَلَی الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلٰی أَنْ يُّمْشِيَهُ عَلٰی وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «‏‏‏‏الذین یحشرون علی…» : ۴۷۶۰ ] ”کیا جس نے اسے ٹانگوں پر چلایا ہے وہ اس پر قادر نہیں کہ اسے قیامت کے دن اس کے چہرے پر چلائے؟“ اکثر مفسرین نے یہی تفسیر کی ہے۔
وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ وَ جَعَلۡنَا مَعَہٗۤ اَخَاہُ ہٰرُوۡنَ وَزِیۡرًا ﴿ۚۖ۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارونؑ کو مددگار کے طور پر لگایا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے ہمراه ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر بنادیا
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی اور اس کے بھائی ہارون کو وزیر کیا،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر مقرر کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو بوجھ بٹانے والا بنا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔ فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔ جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «‏‏‏‏اَصْحَابَ الرَّسِّ» ‏‏‏‏ کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (‏‏‏‏یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:17] ‏‏‏‏ قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ ‘ ۱؎ [23-المؤمنون:31] ‏‏‏‏ قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: { سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3651] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 35) ➊ { وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ:} ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے پانچ رسولوں اور ان کی اقوام کے قصّے اور قومِ لوط کی بستیوں کا ذکر نہایت اختصار کے ساتھ فرمایا ہے، مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والوں کو گزشتہ اقوام جیسے برے انجام سے ڈرانا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجنے سے پہلے جو کتاب عطا فرمائی گئی اس کے متعلق دو قول ہیں، ایک یہ کہ وہ تورات ہی تھی اور فرعون کے غرق ہونے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو جو کتاب الواح کی شکل میں ”طُور“ پر عطا کی گئی وہ پوری تورات نہ تھی، بلکہ اس کا ایک حصہ تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ تورات تو فرعون کے غرق ہونے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو ”طور“ پر ملی، اس سے پہلے فرعون کی طرف روانہ ہوتے وقت موسیٰ علیہ السلام کو جو کتاب عطا ہوئی اس سے مراد وحی الٰہی پر مشتمل وہ احکام ہیں جو تورات کے علاوہ تھے، انھیں بھی ”کتاب اللہ“ کہا جاتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مزدور کے فیصلے کے متعلق فرمایا تھا جس نے اس شخص کی بیوی سے زنا کیا تھا جس کی وہ مزدوری کر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَ الَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللّٰهِ ] ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ کروں گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنوارے مزدور کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کا اور عورت کو اعتراف کی صورت میں رجم کا حکم دیا۔ [ بخاري، الشروط، باب الشروط التي لا تحل في الحدود: ۲۷۲۴، ۲۷۲۵ ] اس قول کے مطابق فرعون اس کتاب اللہ کی تکذیب کی وجہ سے غرق ہوا جو تورات کے علاوہ تھی اور جو موسیٰ علیہ السلام کی طرف حدیث کی صورت میں بھیجی گئی تھی۔ ➋ { وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِيْرًا:} دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۲۹ تا ۳۵) اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ کسی رسول کو اگر واقعی ضرورت ہو تو اس کا بوجھ بٹانے کے لیے فرشتہ نہیں بھیجا جاتا، جیسا کہ کفار کا مطالبہ ہے، بلکہ آدمی ہی بھیجا جاتا ہے۔
فَقُلۡنَا اذۡہَبَاۤ اِلَی الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ؕ فَدَمَّرۡنٰہُمۡ تَدۡمِیۡرًا ﴿ؕ۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُن سے کہا کہ جاؤ اُس قوم کی طرف جس نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے آخر کار اُن لوگوں کو ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کہہ دیا کہ تم دونوں ان لوگوں کی طرف جاؤ جو ہماری آیتوں کو جھٹلا رہے ہیں۔ پھر ہم نے انہیں بالکل ہی پامال کردیا
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے فرمایا تم دونوں جاؤ اس قوم کی طرف جس نے ہماری آیتیں جھٹلائیں پھر ہم نے انہیں تباہ کرکے ہلاک کردیا،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے ان سے کہا کہ تم دونوں جاؤ اس قوم کی طرف جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے (جب انہوں نے نہ مانا) تو ہم نے ان کو بالکل ہلاک و برباد کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ہم نے کہا کہ دونوں ان لوگوں کی طرف جائو جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، بری طرح ہلاک کرنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔ فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔ جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «‏‏‏‏اَصْحَابَ الرَّسِّ» ‏‏‏‏ کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (‏‏‏‏یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:17] ‏‏‏‏ قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ ‘ ۱؎ [23-المؤمنون:31] ‏‏‏‏ قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: { سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3651] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 36) ➊ { فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ …:} اس سے پہلی آیت اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے قصے کی ابتدا کا ذکر فرمایا، پھر سارا طویل قصہ حذف کرکے ان دونوں کے قصے کی انتہا کا ذکر فرما دیا، کیونکہ یہاں مقصود اتنی بات ہی تھی، یہ اختصار کا کمال ہے۔ ➋ {اِلَى الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا:} ان آیات سے مراد یا تو وہ معجزے ہیں جو موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے، یا ایک اللہ کی عبادت، موسیٰ علیہ السلام کی نبوت تسلیم کرنے اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے کے احکام ہیں، جو اللہ کی طرف سے موسیٰ علیہ السلام لے کر فرعون کے پاس گئے تھے۔ رسول بھیجنے سے پہلے ہی انھیں آیات جھٹلانے والے اس لیے قرار دیا کہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ انھوں نے آیات کو جھٹلا دینا ہے، یا اس لیے کہ قرآن کے مخاطب لوگوں کو معلوم تھا کہ فرعون نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا تھا۔ ان کے علم کے اعتبار سے {” كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا “} فرما دیا۔ ➌ { فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِيْرًا:” تَدْمِيْرًا “} کسی چیز کو اس طرح توڑنا کہ پھر درست نہ ہو سکے۔ (المراغی) مزید وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۶)۔
وَ قَوۡمَ نُوۡحٍ لَّمَّا کَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغۡرَقۡنٰہُمۡ وَ جَعَلۡنٰہُمۡ لِلنَّاسِ اٰیَۃً ؕ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلظّٰلِمِیۡنَ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿ۚۖ۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہی حال قوم نوحؑ کا ہوا جب انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی ہم نے اُن کو غرق کر دیا اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک نشان عبرت بنا دیا اور ان ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب ہم نے مہیا کر رکھا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور قوم نوح نے بھی جب رسولوں کو جھوٹا کہا تو ہم نے انہیں غرق کردیا اور لوگوں کے لیے انہیں نشان عبرت بنا دیا۔ اور ہم نے ﻇالموں کے لیے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور نوح کی قوم کو جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا ہم نے ان کو ڈبو دیا اور انہیں لوگوں کے لیے نشانی کردیا اور ہم نے ظالموں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور نوح(ع) کی قوم کو بھی ہم نے غرق کر دیا جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ اور انہیں لوگوں کیلئے نشانِ عبرت بنا دیا اور ہم نے ظالموں کیلئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور نوح کی قوم کو بھی جب انھوں نے رسولوں کو جھٹلا دیا تو ہم نے انھیں غرق کر دیا اور انھیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا اور ہم نے ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔ فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔ جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «‏‏‏‏اَصْحَابَ الرَّسِّ» ‏‏‏‏ کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (‏‏‏‏یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:17] ‏‏‏‏ قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ ‘ ۱؎ [23-المؤمنون:31] ‏‏‏‏ قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: { سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3651] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 37){ وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ …:} اس قوم کی طرف صرف نوح علیہ السلام آئے تھے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ انھوں نے رسولوں کو جھٹلا دیا، وجہ اس کی یہ ہے کہ ایک پیغمبر کو جھٹلانا سب کو جھٹلانا ہے، کیونکہ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہے۔ ان کی تکذیب اور غرق کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۲۵ تا ۴۹)۔
وَّ عَادًا وَّ ثَمُوۡدَا۠ وَ اَصۡحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوۡنًۢا بَیۡنَ ذٰلِکَ کَثِیۡرًا ﴿۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِسی طرح عاد اور ثمود اور اصحاب الرس اور بیچ کی صدیوں کے بہت سے لوگ تباہ کیے گئے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور عادیوں اور ﺛمودیوں اور کنوئیں والوں کو اور ان کے درمیان کی بہت سی امتوں کو (ہلاک کردیا)
احمد رضا خان بریلوی
اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں کو اور ان کے بیچ میں بہت سی سنگتیں (قومیں)
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اسی طرح) ہم نے قومِ عاد و ثمود اور اصحاب الرس کو اور ان کے درمیان، بہت سی نسلوں (اور) قوموں کو بھی ہلاک کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور عاد اور ثمود کو اور کنویں والوں کو اور اس کے درمیان بہت سے زمانے کے لوگوں کو بھی (ہلاک کر دیا)۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔ فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔ جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «‏‏‏‏اَصْحَابَ الرَّسِّ» ‏‏‏‏ کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (‏‏‏‏یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:17] ‏‏‏‏ قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ ‘ ۱؎ [23-المؤمنون:31] ‏‏‏‏ قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: { سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3651] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔
38-1رس کے معنی کنویں کے ہیں۔ اَصْحَاب الرَّس کنوئیں والے۔ اس کی تعین میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، امام ابن جریر طبری نے کہا کہ اس سے مراد اصحاب الاخدود ہیں جن کا ذکر سورة البروج میں ہے (ابن کثیر) 38-2قرن کے صحیح معنی ہیں ہم عصر لوگوں کا ایک گروہ۔ جب ایک نسل کے لوگ ختم ہوجائیں تو دوسری نسل دوسرا قدیم زمانہ کہلائے گی۔ (ابن کثیر)، اس کے معنی ہیں ہر نبی کی امت بھی ایک زمانہ ہوسکتی ہے۔
(آیت 38) ➊ {وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ:} نوح علیہ السلام سب سے پہلے نبی ہیں جن کی امت انھیں جھٹلانے کی وجہ سے غرق ہوئی اور موسیٰ علیہ السلام آخری نبی ہیں جن پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے فرعون اور اس کی آل غرق ہوئی۔ اس آیت میں ان کے درمیان کے لوگوں کا ذکر ہے جو پانی کے سوا ہلاک کیے گئے۔ {” الرَّسِّ “} کا معنی کنواں اور جمع {”رِسَاسٌ“} ہے۔ ابن جریر نے فرمایا: ”کلامِ عرب میں {” الرَّسِّ “} ہر کھودی ہوئی جگہ کو کہتے ہیں، مثلاً کنواں اور قبر وغیرہ۔“ اس لیے بعض نے اس سے مراد ”اصحاب الاخدود“ بھی لیے ہیں۔ شنقیطی نے فرمایا: ”عاد و ثمود کا قصہ قرآن کی متعدد آیات میں آیا ہے، رہے {”اَصْحٰبَ الرَّسِّ “} تو قرآن میں نہ ان کے قصے کی تفصیل آئی ہے نہ ان کے نبی کا نام آیا ہے۔“ ان کے متعلق مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں جو سب بے دلیل ہیں، اس لیے ہم نے انھیں ذکر نہیں کیا۔ {” الرَّسِّ “} ایک وادی کا نام بھی ہے، جس کا زہیر نے اپنے مُعَلَّقہ میں ذکر کیا ہے: {بَكَرْنَ بُكُوْرًا وَاسْتَحَرْنَ بِسُحْرَةٍ فَهُنَّ لِوَادِي الرَّسِّ كَالْيَدِ لِلْفَمِ } ➋ { وَ قُرُوْنًۢا بَيْنَ ذٰلِكَ كَثِيْرًا:” قَرْنٌ“} ایک زمانے کے لوگ جو ایک دوسرے سے ملتے رہے ہوں، {”فَهُوَ مِنَ الْاِقْتِرَانِ۔“ ”بَيْنَ ذٰلِكَ “} (اس کے درمیان) سے مراد نوح اور موسیٰ علیھما السلام کے درمیان کا یا عاد و ثمود اور اصحاب الرس کے درمیان کا زمانہ ہے۔ دوسری جگہ ان کی کثرت کے متعلق فرمایا: «{ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ }» [ إبراہیم: ۹ ] ”کیا تمھارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، نوح کی قوم کی (خبر) اور عاد اور ثمود کی اور ان کی جو ان کے بعد تھے، جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ اور فرمایا: «{ وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ }» [ بني إسرائیل: ۱۷ ] ”اور ہم نے نوح کے بعد کتنے ہی زمانوں کے لوگ ہلاک کر دیے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ بائبل وغیرہ کے حوالے سے نوح اور موسیٰ علیھما السلام کے درمیان آباء کی گنتی اور سالوں کی گنتی کا کچھ اعتبار نہیں، نہ دنیا کی مدت کا کوئی یقینی علم ہے۔ سائنسدانوں کی باتیں بھی محض ظن و تخمین پر مبنی ہیں۔
وَ کُلًّا ضَرَبۡنَا لَہُ الۡاَمۡثَالَ ۫ وَ کُلًّا تَبَّرۡنَا تَتۡبِیۡرًا ﴿۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے (پہلے تباہ ہونے والوں کی) مثالیں دے دے کر سمجھایا اور آخرکار ہر ایک کو غارت کر دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے ان کے سامنے مثالیں بیان کیں پھر ہر ایک کو بالکل ہی تباه و برباد کردیا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے سب سے مثالیں بیان فرمائیں اور سب کو تباہ کرکے مٹادیا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ہر ایک کیلئے (پہلے برباد ہونے والوں) کی مثالیں بیان کیں اور (آخرکار) ہم نے سب کو نیست و نابود کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہر ایک، ہم نے اس کے لیے مثالیں بیان کیں اور ہر ایک کو ہم نے تباہ کر دیا، بری طرح تباہ کرنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔ فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔ جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «‏‏‏‏اَصْحَابَ الرَّسِّ» ‏‏‏‏ کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (‏‏‏‏یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:17] ‏‏‏‏ قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ ‘ ۱؎ [23-المؤمنون:31] ‏‏‏‏ قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: { سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3651] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔
39-1یعنی دلائل کے ذریعے سے ہم نے حجت قائم کردی۔ 39-2یعنی تمام حجت کے بعد۔
(آیت 39) ➊ { وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ:} یعنی ہم نے ہر ایک کو مثالیں اور دلائل دے دے کر سمجھایا۔ یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ ہم نے ہر ایک کو پہلی تباہ شدہ قوموں کی مثالیں بیان کرکے سمجھایا۔ ➋ { وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِيْرًا:تَبَّرَ يُتَبِّرُ تَتْبِيْرًا “} کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ کر دینا۔
وَ لَقَدۡ اَتَوۡا عَلَی الۡقَرۡیَۃِ الَّتِیۡۤ اُمۡطِرَتۡ مَطَرَ السَّوۡءِ ؕ اَفَلَمۡ یَکُوۡنُوۡا یَرَوۡنَہَا ۚ بَلۡ کَانُوۡا لَا یَرۡجُوۡنَ نُشُوۡرًا ﴿۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُس بستی پر تو اِن کا گزر ہو چکا ہے جس پر بدترین بارش برسائی گئی تھی کیا انہوں نے اس کا حال دیکھا نہ ہو گا؟ مگر یہ موت کے بعد دوسری زندگی کی توقع ہی نہیں رکھتے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ لوگ اس بستی کے پاس سے بھی آتے جاتے ہیں جن پر بری طرح کی بارش برسائی گئی۔ کیا یہ پھر بھی اسے دیکھتے نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ انہیں مرکر جی اٹھنے کی امید ہی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ضرور یہ ہو آئے ہیں اس بستی پر جس پر برا برساؤ برسا تھا تو کیا یہ اسے دیکھتے نہ تھے بلکہ انہیں جی اٹھنے کی امید تھی ہی نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور (یہ لوگ) اس بستی سے گزرے ہیں! جس پر (پتھروں کی) بڑی بارش برسائی گئی تھی کیا (وہاں سے گزرتے ہوئے) اسے دیکھتے نہیں رہتے بلکہ (دراصل بات یہ ہے کہ) یہ حشر و نشر کی امید ہی نہیں رکھتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا یہ لوگ اس بستی پر آ چکے، جس پر بارش برسائی گئی، بری بارش، تو کیا وہ اسے دیکھا نہ کرتے تھے؟ بلکہ وہ کسی طرح اٹھائے جانے کی امید نہ رکھتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔ فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔ جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «‏‏‏‏اَصْحَابَ الرَّسِّ» ‏‏‏‏ کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (‏‏‏‏یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:17] ‏‏‏‏ قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ ‘ ۱؎ [23-المؤمنون:31] ‏‏‏‏ قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: { سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3651] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔
40-1بستی سے، قوم لوط کی بستیاں سدوم اور عمورہ وغیرہ مراد ہیں اور بری بارش سے پتھروں کی بارش مراد ہے۔ ان بستیوں کو الٹ دیا گیا تھا اور اس کے بعد ان پر کھنگر پتھروں کی بارش کی گئی تھی جیسا کہ (فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّيْلٍ ڏ مَّنْضُوْدٍ) 11۔ ہود:82) میں بیان ہے۔ یہ بستیاں شام فلسطین کے راستے میں پڑتی ہیں، جن سے گزر کر ہی اہل مکہ آتے جاتے تھے۔ 40-2اس لئے ان تباہ شدہ بستیوں اور ان کے کھنڈرات دیکھنے کے باوجود عبرت نہیں پکڑتے۔ اور آیات الٰہی اور اللہ کے رسول کو جھٹلانے سے باز نہیں آتے۔
(آیت 40) ➊ { وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْيَةِ …: ” وَ لَقَدْ “} کا لفظ قسم کا مفہوم رکھتا ہے، یعنی قسم ہے کہ یہ لوگ شام کی طرف جاتے ہوئے قومِ لوط کی بستیوں کے پاس سے گزرتے ہیں، کیونکہ وہ مکہ سے شام کو جانے والے راستے پر تھیں۔ دیکھیے سورۂ حجر (۷۹) اور صافات (۱۳۷)۔ ➋ { الَّتِيْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ:} مراد کھنگر پتھروں کی بارش ہے۔ دیکھیے سورۂ ہود (۸۲)، حجر (۷۴)، اعراف (۸۴)، شعراء (۱۷۳) اور نمل (۵۸)۔ ➌ {اَفَلَمْ يَكُوْنُوْا يَرَوْنَهَا …:} ”تو کیا وہ اسے دیکھا نہ کرتے تھے؟“ یعنی یقینا دیکھا کرتے تھے۔ تو ان کے ایمان نہ لانے کی یہ وجہ نہ تھی کہ انھوں نے ان تباہ شدہ بستیوں کے آثار نہیں دیکھے تھے، بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ وہ کسی طرح دوبارہ زندہ ہونے کی امید نہ رکھتے تھے، اس لیے انھوں نے انھیں صرف تماشائی کی حیثیت سے دیکھا، ان سے کوئی عبرت حاصل نہ کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کے قائل اور اس کے منکر کے دیکھنے میں کتنا بڑا فرق ہوتا ہے۔ {” نُشُوْرًا “} کی تنوین کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے ”بلکہ وہ کسی طرح اٹھائے جانے کی امید نہ رکھتے تھے۔“
وَ اِذَا رَاَوۡکَ اِنۡ یَّتَّخِذُوۡنَکَ اِلَّا ہُزُوًا ؕ اَہٰذَا الَّذِیۡ بَعَثَ اللّٰہُ رَسُوۡلًا ﴿۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) "کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تمہیں جب کبھی دیکھتے ہیں تو تم سے مسخرا پن کرنے لگتے ہیں۔ کہ کیا یہی وه شخص ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہیں نہیں ٹھہراتے مگر ٹھٹھا کیا یہ ہیں جن کو اللہ نے رسول بناکر بھیجا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ جب بھی آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا مذاق اڑانے لگتے ہیں (اور کہتے ہیں) کیا یہ وہ ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
اور جب وہ تجھے دیکھتے ہیں تو تجھے نہیں بناتے مگر مذاق ، کیا یہی ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کا مذاق ٭٭

کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔ جیسے فرمان ہے «وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» ۱؎ [13-الرعد:32] ‏‏‏‏ ’ تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ ‘ کہنے لگے: وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے۔ نفس و شیطان جس چیز کو اچھا ظاہر کرتا ہے، یہ بھی اسے اچھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بھلا ان کا ذمہ دار تو کیسے ٹھہر سکتا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جاہلیت میں عرب کی یہ حالت تھی کہ جہاں کسی سفید گول مول پتھر کو دیکھا، اس کے سامنے جھکنے اور سجدے کرنے لگے۔ اس سے اچھا کوئی نظر پڑ گیا تو اس کے سامنے جھک گئے۔ اور اول کو چھوڑ دیا۔ پھر فرماتا ہے: یہ تو چوپایوں سے بھی بدتر ہیں۔ نہ ان کے کان ہیں، نہ دل ہیں۔ چوپائے تو خیر قدرتاً آزاد ہیں لیکن یہ جو عبادت کے لیے پیدا کیے گئے تھے، یہ ان سے بھی زیادہ بہک گئے بلکہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔ اور قیام حجت کے بعد، رسولوں کے پہنچ چکنے کے بعد بھی اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ اس کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں مانتے۔
41-1دوسرے مقام پر اس طرح فرمایا (اَھٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ) 21۔ الانبیاء:36) کیا یہ وہ شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے؟ یعنی ان کی بابت کہتا ہے کہ وہ کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ اس حقیقت کا اظہار ہی مشرکین کے نزدیک ان کے معبودوں کی توہین تھی۔ جیسے آج بھی قبر پرستوں کو کہا جائے کہ قبروں میں مدفون بزرگ کائنات میں تصرف کرنے کا اختیار نہیں رکھتے تو کہتے ہیں کہ یہ اولیاء اللہ کی شان میں گستاخی کر رہے ہیں۔
(آیت 41) ➊ { وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ۠ اِلَّا هُزُوًا:} مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا جس طرح شدت کے ساتھ انکار کرتے اور آپ کی نبوت اور قرآن پر متعدد اعتراضات کرتے رہتے تھے، اس کے ذکر کے بعد ان کی ایک خاص ایذا کا ذکر فرمایا کہ وہ جب تجھے دیکھتے ہیں تو اپنے مذاق کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ ➋ { اَهٰذَا الَّذِيْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا:هٰذَا “} کا اشارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر کے لیے ہے، یعنی کیا یہی وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ رسول ہو کیسے گیا، جب کہ یہ ہمارے جیسا بشر ہے، جیسا کہ ایک جگہ ان کا قول ہے: «{ اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا }» [ بني إسرائیل: ۹۴ ] ”کیا اللہ نے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیج دیا ہے۔“ پھر دیکھو اگر رسالت کسی بشر کو ملنا ہی تھی تو مکہ اور طائف کے کسی سردار کو ملتی۔ یہ نہ بادشاہ نہ سرمایہ دار، اسے کیسے مل گئی! ان کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا: «{ وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيْمٍ }» [ الزخرف: ۳۱ ] ”اور انھوں نے کہا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟“ شیخ عبد الرحمن السعدی نے فرمایا: ”ان کی یہ بات ایسا شخص ہی کر سکتا ہے جو سب سے بڑھ کر جاہل اور گمراہ ہو اور سخت عناد اور دشمنی رکھتا ہو۔ اس کا مقصد اپنے باطل کی ترویج ہو۔“ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ۠ اِلَّا هُزُوًا اَهٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ }» [ الأنبیاء: ۳۶ ] ”اور جب تجھے وہ لوگ دیکھتے ہیں جنھوں نے کفر کیا تو تجھے مذاق ہی بناتے ہیں، کیا یہی ہے جو تمھارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے، اور وہ خود رحمان کے ذکر ہی سے منکر ہیں۔“
اِنۡ کَادَ لَیُضِلُّنَا عَنۡ اٰلِہَتِنَا لَوۡ لَاۤ اَنۡ صَبَرۡنَا عَلَیۡہَا ؕ وَ سَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ حِیۡنَ یَرَوۡنَ الۡعَذَابَ مَنۡ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس نے تو ہمیں گمراہ کر کے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کر دیا ہوتا اگر ہم اُن کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے" اچھا، وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر اِنہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
(وه تو کہیئے) کہ ہم اس پر جمے رہے ورنہ انہوں نے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے بہکادینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ اور یہ جب عذابوں کو دیکھیں گے تو انہیں صاف معلوم ہوجائے گا کہ پوری طرح راه سے بھٹکا ہوا کون تھا؟
احمد رضا خان بریلوی
قریب تھا کہ یہ ہمیں ہمارے خداؤں سے بہکادیں اگر ہم ان پر صبر نہ کرتے اور اب جانا چاہتے ہیں جس دن عذاب دیکھیں گے کہ کون گمراہ تھا
علامہ محمد حسین نجفی
وہ تو قریب تھا کہ یہ شخص ہمارے معبودوں سے ہمیں بہکا دے۔ اگر ہم ان (کی پرستش) پر ثابت قدم نہ رہتے تو عنقریب جب وہ عذاب (الٰہی) کو دیکھیں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ راہِ راست سے کون زیادہ بھٹکا ہوا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
بے شک یہ تو قریب تھا کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے گمراہ ہی کر دیتا، اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم ان پر جمے رہے۔ اور عنقریب وہ جان لیں گے جب عذاب دیکھیں گے، کون راستے کے اعتبار سے زیادہ گمراہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کا مذاق ٭٭

کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔ جیسے فرمان ہے «وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» ۱؎ [13-الرعد:32] ‏‏‏‏ ’ تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ ‘ کہنے لگے: وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے۔ نفس و شیطان جس چیز کو اچھا ظاہر کرتا ہے، یہ بھی اسے اچھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بھلا ان کا ذمہ دار تو کیسے ٹھہر سکتا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جاہلیت میں عرب کی یہ حالت تھی کہ جہاں کسی سفید گول مول پتھر کو دیکھا، اس کے سامنے جھکنے اور سجدے کرنے لگے۔ اس سے اچھا کوئی نظر پڑ گیا تو اس کے سامنے جھک گئے۔ اور اول کو چھوڑ دیا۔ پھر فرماتا ہے: یہ تو چوپایوں سے بھی بدتر ہیں۔ نہ ان کے کان ہیں، نہ دل ہیں۔ چوپائے تو خیر قدرتاً آزاد ہیں لیکن یہ جو عبادت کے لیے پیدا کیے گئے تھے، یہ ان سے بھی زیادہ بہک گئے بلکہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔ اور قیام حجت کے بعد، رسولوں کے پہنچ چکنے کے بعد بھی اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ اس کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں مانتے۔
42-1یعنی ہم ہی اپنے آباؤ اجداد کی تقلید اور روایتی مذہب سے وابستگی کی وجہ سے غیر اللہ کی عبادت سے باز نہیں آئے ورنہ اس پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کا یہ قول نقل فرمایا کہ کس طرح وہ شرک پر جمے ہوئے ہیں کہ اس میں فخر کر رہے ہیں 42-2یعنی اس دنیا میں تو ان مشرکین اور غیر اللہ کے پجاریوں کو اہل توحید گمراہ نظر آتے ہیں لیکن جب یہ اللہ کی بارگاہ میں پہنچیں گے اور وہاں انھیں شرک کی وجہ سے عذاب الہی سے دوچار ہونا پڑے گا تو پتہ لگے گا کہ گمراہ کون تھا؟ ایک اللہ کی عبادت کرنے والے یا در در پر اپنی جبینیں جھکانے والے؟
(آیت 42) ➊ { اِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا …: ” اِنْ كَادَ “} اصل میں {”إِنَّهُ كَادَ“} تھا، یعنی بے شک وہ قریب تھا۔ یعنی یہ تو یقینا قریب تھا کہ ہمیں ہمارے معبودوں کی عبادت ہی سے نہیں خود ان معبودوں ہی سے گمراہ کر دیتا، یہ ہماری بہادری ہے کہ ہم ان کی عبادت پر ڈٹے رہے ہیں۔ ➋ اس سے کفار کا اپنے شرک پر شدت کے ساتھ ڈٹے رہنا ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اسے چھوڑنے کو گمراہ ہونا قرار دے رہے ہیں اور یہ بھی کہ ان کا یہ کام کسی دلیل کی بنا پر نہ تھا، بلکہ محض آبا و اجداد کی تقلید اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے تھا۔ ➌ اس آیت سے ان کا اعتراف ثابت ہو رہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کی دعوت پیش کرنے، اس کے لیے دلائل و معجزات پیش کرنے اور ہر اعتراض کا جواب دینے میں اتنی محنت سے کام لیا کہ کفار کو حق تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا، پھر انھوں نے حق قبول نہیں کیا تو اس کی وجہ صرف اور صرف ان کی ہٹ دھرمی تھی۔ ➍ پچھلی آیت کے ساتھ ملا کر اس آیت کو دیکھیں تو کفار کی عجیب تضاد بیانی سامنے آتی ہے کہ ابھی جس شخص کے متعلق انھوں نے نہایت حقارت سے کہا کہ کیا یہی ہے وہ جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟ تو ابھی اس کی شخصیت کی تاثیر اور اس کے دلائل کی قوت کے بے پناہ ہونے کا اپنے منہ سے اعتراف کر رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اسلام کی دعوت سے کس قدر مرعوب اور بوکھلائے ہوئے تھے کہ مذاق بھی اڑاتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور برتری کا احساس ان پر اس قدر حاوی بھی تھا کہ بلا ارادہ ان کے منہ سے وہ باتیں نکلوا دیتا تھا جو وہ ہر گز کہنا نہیں چاہتے تھے۔ ➎ { وَ سَوْفَ يَعْلَمُوْنَ حِيْنَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ …:} یہ ان کے لیے حق کو گمراہی کہنے پر اللہ تعالیٰ کی طر ف سے سخت وعید ہے۔
اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ کیا تم ایسے شخص کو راہِ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے کیا آپ اس کے ذمہدار ہوسکتے ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنی جی کی خواہش کو اپنا خدا بنالیا تو کیا تم اس کی نگہبانی کا ذمہ لو گے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) کیا آپ نے وہ شخص دیکھا ہے جس نے اپنی خواہش (نفس) کو اپنا خدا بنا رکھا ہے؟ کیا آپ اس کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے وہ شخص دیکھا جس نے اپنا معبود اپنی خواہش ہی کو بنا لیا، تو کیا تو اس کا ذمہ دار ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کا مذاق ٭٭

کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔ جیسے فرمان ہے «وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» ۱؎ [13-الرعد:32] ‏‏‏‏ ’ تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ ‘ کہنے لگے: وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے۔ نفس و شیطان جس چیز کو اچھا ظاہر کرتا ہے، یہ بھی اسے اچھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بھلا ان کا ذمہ دار تو کیسے ٹھہر سکتا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جاہلیت میں عرب کی یہ حالت تھی کہ جہاں کسی سفید گول مول پتھر کو دیکھا، اس کے سامنے جھکنے اور سجدے کرنے لگے۔ اس سے اچھا کوئی نظر پڑ گیا تو اس کے سامنے جھک گئے۔ اور اول کو چھوڑ دیا۔ پھر فرماتا ہے: یہ تو چوپایوں سے بھی بدتر ہیں۔ نہ ان کے کان ہیں، نہ دل ہیں۔ چوپائے تو خیر قدرتاً آزاد ہیں لیکن یہ جو عبادت کے لیے پیدا کیے گئے تھے، یہ ان سے بھی زیادہ بہک گئے بلکہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔ اور قیام حجت کے بعد، رسولوں کے پہنچ چکنے کے بعد بھی اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ اس کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں مانتے۔
43-1یعنی جو چیز اس کے نفس کو اچھی لگی اسی کو اپنا دین و مذہب بنا لیا کیا ایسے شخص کو تو راہ یاب کرسکتا ہے یا اللہ کے عذاب سے چھڑا سکے گا؟ اس کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا کیا وہ شخص جس کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا پس وہ اسے اچھا سمجھتا ہے پس اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ یاب پس تو ان پر حسرت و افسوس نہ کر۔ فاطر۔ حضرت ابن عباس ؓ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں زمانہ جاہلیت میں آدمی ایک عرصے تک سفید پتھر کی عبادت کرتا رہتا جب اسے اس سے اچھا پتھر نظر آجاتا تو وہ پہلے پتھر کو چھوڑ کر دوسرے پتھر کی پوجا شروع کردیتا ابن کثیر۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے اشخاص جو عقل وفہم سے اس طرح عاری اور محض خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہیں اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کیا تو ان کو ہدایت کے راستے پر لگا سکتا ہے؟ یعنی نہیں لگا سکتا۔
(آیت 43) ➊ {اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ:} یہ فطری بات ہے کہ کفار کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مذاق کا نشانہ بنانا اور اپنے باطل معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سخت تکلیف دہ تھا، کیونکہ آپ کی شدید خواہش تھی کہ وہ ایمان لے آئیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے حال پر تعجب دلاتے ہوئے فرمایا: ”کیا تو نے وہ شخص دیکھا جس نے اپنی خواہش ہی اپنا معبود بنا لیا؟“ ابوحیان نے فرمایا: {”وَالْمَعْنٰي أَنَّهُ لَمْ يَتَّخِذْ إِلٰهًا إِلَّا هَوَاهُ“} ”معنی یہ ہے کہ اس نے اپنی خواہش کے سوا کسی کو معبود بنایا ہی نہیں۔“ زمخشری نے فرمایا: ”جو شخص اپنے دین میں خواہش ہی کا حکم مانے، کوئی بھی کام کرنے یا نہ کرنے میں اسی کے پیچھے چلے تو یہ شخص اپنی خواہش کی عبادت کرنے والا اور اسے اپنا معبود بنانے والا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ شخص جو اپنی خواہش کے سوا کسی اور کو اپنا معبود ہی نہیں سمجھتا آپ اسے ہدایت کی طرف کیسے لا سکتے ہیں؟ کیا آپ اس کے ذمہ دار ہیں، یا اسے اسلام لانے پر مجبور کر سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ تمھیں ہر حال میں اسلام قبول کرنا ہو گا، چاہو یا نہ چاہو، جب کہ دین میں (قبولِ اسلام کے معاملہ میں) زبردستی ہے ہی نہیں، فرمایا: «{ لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ }» [ البقرۃ: ۲۵۶ ] ”دین میں کوئی زبردستی نہیں۔“ اور فرمایا: «{ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ[قٓ: ۴۵ ] ”اور تو ان پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں۔“ اور فرمایا: «{ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَۜيْطِرٍ}» [ الغاشیۃ: ۲۲ ] ”تو ہر گز ان پر کوئی مسلط کیا ہوا نہیں ہے۔“ (الکشاف) اور دیکھیے سورۂ جاثیہ (۲۳) اور فاطر (۸)۔ ➋ کوئی شخص اگر نفس کی خواہش پر کوئی گناہ کر لے اور اپنے آپ کو اللہ کا گناہ گار سمجھے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے اپنی خواہش کو اپنا الٰہ بنا لیا۔ ورنہ ہر گناہ شرک ہو گا اور ہر گناہ گار مشرک، جبکہ ایسا نہیں ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ }» [ النساء: ۴۸ ] ”بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے۔“ طبری نے اپنی معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا: ”مراد اس سے کافر ہے جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور کسی دلیل کے بجائے اپنی خواہش ہی کو اپنا معبود بنا لے۔“ ➌ { اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَيْهِ وَكِيْلًا:} یعنی آپ اس کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہیں، آپ کا کام صرف دعوت ہے، جیسا کہ فرمایا: «{فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَيْنَا الْحِسَابُ }» [ الرعد: ۴۰ ] ”تو تیرے ذمے صرف پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمے حساب لینا ہے۔“ اور دیکھیے سورۂ شوریٰ (۴۸)۔
اَمۡ تَحۡسَبُ اَنَّ اَکۡثَرَہُمۡ یَسۡمَعُوۡنَ اَوۡ یَعۡقِلُوۡنَ ؕ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿٪۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ اُن سے بھی گئے گزرے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا آپ اسی خیال میں ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں۔ وه تو نرے چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیاده بھٹکے ہوئے
احمد رضا خان بریلوی
یا یہ سمجھتے ہو کہ ان میں بہت کچھ سنتے یا سمجھتے ہیں وہ تو نہیں مگر جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی بدتر گمراہ
علامہ محمد حسین نجفی
کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں؟ یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گم کردہ راہ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یا تو گمان کرتا ہے کہ ان کے اکثر سنتے ہیں یا سمجھتے ہیں، وہ نہیں ہیں مگر چوپائوں کی طرح ، بلکہ وہ راستے کے اعتبار سے زیادہ گمراہ ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کا مذاق ٭٭

کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔ جیسے فرمان ہے «وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» ۱؎ [13-الرعد:32] ‏‏‏‏ ’ تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ ‘ کہنے لگے: وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے۔ نفس و شیطان جس چیز کو اچھا ظاہر کرتا ہے، یہ بھی اسے اچھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بھلا ان کا ذمہ دار تو کیسے ٹھہر سکتا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جاہلیت میں عرب کی یہ حالت تھی کہ جہاں کسی سفید گول مول پتھر کو دیکھا، اس کے سامنے جھکنے اور سجدے کرنے لگے۔ اس سے اچھا کوئی نظر پڑ گیا تو اس کے سامنے جھک گئے۔ اور اول کو چھوڑ دیا۔ پھر فرماتا ہے: یہ تو چوپایوں سے بھی بدتر ہیں۔ نہ ان کے کان ہیں، نہ دل ہیں۔ چوپائے تو خیر قدرتاً آزاد ہیں لیکن یہ جو عبادت کے لیے پیدا کیے گئے تھے، یہ ان سے بھی زیادہ بہک گئے بلکہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔ اور قیام حجت کے بعد، رسولوں کے پہنچ چکنے کے بعد بھی اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ اس کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں مانتے۔
43-1یعنی یہ چوپائے جس مقصد کے لئے پیدا کیئے گئے ہیں، اسے وہ سمجھتے ہیں۔ لیکن انسان، جسے صرف اللہ کی عبادت کے لئے پیدا کیا گیا تھا، وہ رسولوں کی یاد دہانی کے باوجود اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرتا اور در در پر اپنا ماتھا ٹیکتا پھرتا ہے۔ اس اعتبار سے چوپائے سے بھی زیادہ بدتر اور گمراہ ہے۔
(آیت 44){ اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُوْنَ …: } راستے کے اعتبار سے زیادہ گمراہ اس لیے کہ جانور تو معذور ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سوچنے سمجھنے کا مادہ ہی نہیں رکھا، مگر افسوس ان پر ہے جو عقل و شعور رکھتے ہیں مگر اس سے کوئی کام نہیں لیتے، یا لیتے ہیں تو الٹا لیتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ چوپائے تو پھر بھی اپنے مالک کے تابع رہتے ہیں، چراگاہ میں چلے جاتے ہیں، پھر واپس ٹھکانے پر پہنچ جاتے ہیں، مگر یہ نہ اپنے خالق و مالک کو پہچانتے ہیں نہ اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۷۹)۔
اَلَمۡ تَرَ اِلٰی رَبِّکَ کَیۡفَ مَدَّ الظِّلَّ ۚ وَ لَوۡ شَآءَ لَجَعَلَہٗ سَاکِنًا ۚ ثُمَّ جَعَلۡنَا الشَّمۡسَ عَلَیۡہِ دَلِیۡلًا ﴿ۙ۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارا رب کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے؟ اگر وہ چاہتا تو اسے دائمی سایہ بنا دیتا ہم نے سورج کو اُس پر دلیل بنایا
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے سائے کو کس طرح پھیلا دیا ہے؟ اگر چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا ہی کر دیتا۔ پھر ہم نے آفتاب کو اس پر دلیل بنایا
احمد رضا خان بریلوی
اے محبوب! کیا تم نے اپنے رب کو نہ دیکھا کہ کیسا پھیلا سایہ اور اگر چاہتا تو اسے ٹھہرایا ہوا کردیتا پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل کیا،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نے اپنے پروردگار کی (قدرت کی) طرف نہیں دیکھا کہ اس نے سایہ کو کیونکر پھیلایا ہے؟ اور اگر وہ چاہتا تو اسے (ایک جگہ) ٹھہرا ہوا بنا دیتا۔ پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل راہ بنایا۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے اپنے رب کو نہیں دیکھا، اس نے کس طرح سائے کو پھیلا دیا اور اگر وہ چاہتا تو اسے ضرور ساکن کر دیتا، پھر ہم نے سورج کو اس پر دلالت کرنے والا بنایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اگر وہ چاہے تو رات دن نہ بدلے ٭٭

اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت پر دلیلیں بیان ہو رہی ہے کہ مختلف اور متضاد چیزوں کو وہ پیدا کر رہا ہے۔ سائے کو وہ بڑھاتا ہے، کہتے ہیں کہ یہ وقت صبح صادق سے لے کر سورج نکلنے تک کا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو اسے ایک ہی حالت پر رکھ دیتا۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر وہ رات ہی رات رکھے تو کوئی دن نہیں کر سکتا اور اگر دن ہی دن رکھے تو کوئی رات نہیں لا سکتا۔ اگر سورج نہ نکلتا تو سائے کا حال ہی معلوم نہ ہوتا۔ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ سائے کے پیچھے دھوپ، دھوپ کے پیچھے سایہ، یہ بھی قدرت کا انتظام ہے۔ پھر سہج سہج ہم اسے یعنی سائے کو یا سورج کو اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک گھٹتا جاتا ہے تو دوسرا بڑھتا جاتا ہے اور یہ انقلاب سرعت سے عمل میں آتا ہے۔ کوئی جگہ سایہ دار باقی نہیں رہتی۔ صرف گھروں کے چھپڑوں کے اور درختوں کے نیچے سایہ رہ جاتا ہے اور ان کے بھی اوپر دھوپ کھلی ہوئی ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا کر کے ہم اسے اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔

اسی نے رات کو تمہارے لیے لباس بنایا ہے کہ وہ تمہارے وجود پر چھا جاتی ہے اور اسے ڈھانپ لیتی ہے جیسے فرمان ہے: قسم ہے رات کی جبکہ ڈھانپ لے، اسی نے نیند کو سبب راحت و سکون بنایا ہے کہ اس وقت حرکت موقوف ہو جاتی ہے۔ اور دن بھر کے کام کاج سے جو تھکن چڑھ گئی تھی، وہ اس آرام سے اتر جاتی ہے۔ بدن کو اور روح کو راحت حاصل ہو جاتی ہے۔ پھر دن کو اٹھ کھڑے ہوتے ہو، پھیل جاتے ہو۔ اور روزی کی تلاش میں لگ جاتے ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ اس نے اپنی رحمت سے رات دن مقرر کر دیا ہے کہ تم سکون و آرام بھی حاصل کر لو اور اپنی روزیاں بھی تلاش کرو۔ ‘ ۱؎ [28-القصص:73] ‏‏‏‏
45-1یہاں سے پھر توحید کے دلائل کا آغاز ہو رہا ہے۔ دیکھو، اللہ تعالیٰ نے کائنات میں کس طرح سایہ پھیلایا ہے، جو صبح صادق کے بعد سے سورج طلوع ہونے تک رہتا ہے۔ یعنی اس وقت دھوپ نہیں ہوتی، دھوپ کے ساتھ یہ سمٹتا سکڑنا شروع ہوتا جاتا ہے۔ 45-2یعنی ہمیشہ سایہ ہی رہتا، سورج کی دھوپ سائے کو ختم ہی نہ کرتی۔ 45-3یعنی دھوپ سے ہی سایہ کا پتہ چلتا ہے کہ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ اگر سورج نہ ہوتا، تو سائے سے بھی لوگ متعارف نہ ہوتے۔
(آیت 45) ➊ { اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ …:} سورت کی ابتدا توحید کے اثبات اور شرک کے رد کے دلائل سے ہوئی ہے، کفار کی گمراہی کے بیان کے بعد ایک بار پھر توحید کے دلائل کا بیان ہے۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ سائے کے پھیلنے اور سکڑنے کو کائنات میں تدریج کے اصول کی مثال کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، توجہ اس بات کی طرف دلائی جا رہی ہے کہ یہی اصول قرآن کے آہستہ آہستہ نازل ہونے میں کار فرما ہے۔ ➋ آیت کے شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے اپنا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ فرمایا ہے، فرمایا: «{اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ }» ”کیا تو نے اپنے رب کو نہیں دیکھا، اس نے کس طرح سائے کو پھیلا دیا۔“ کیونکہ اصل مقصود سائے کی کیفیت کی طرف توجہ دلانا ہے اور آخر میں اپنا ذکر اپنی عظمت کے اظہار کے لیے جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ فرمایا ہے، فرمایا: «{ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيْلًا }» ”پھر ہم نے سورج کو اس پر دلالت کرنے والا بنایا۔“ ➌ سائے سے مراد روشنی اور تاریکی کے بین بین وہ درمیانی حالت ہے جو سورج نکلنے سے پہلے ہوتی ہے اور دن بھر مکانوں میں، دیواروں کی اوٹ میں اور درختوں کے نیچے رہتی ہے۔ بعض مفسرین نے سائے سے مراد رات کی ظلمت لی ہے، جسے اللہ تعالیٰ سورج غروب ہونے کے ساتھ بتدریج پھیلاتا ہے اور طلوع آفتاب تک بتدریج ختم کرتا ہے۔ ➍ یعنی تم نے اپنے رب کی عجیب کاری گری نہیں دیکھی کہ اس نے سائے کو اس طرح بنایا کہ طلوع آفتاب تک ہر جگہ پھیلا ہوتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ سورج کو طلوع نہ ہونے دیتا تو وہی سایہ قائم رہتا، مگر اس نے اپنی قدرت سے سورج نکالا، جس سے دھوپ پھیلنا شروع ہوئی اور سایہ بتدریج ایک طرف کو سمٹنے لگا۔ اگر دھوپ نہ آتی تو سائے کو ہم سمجھ بھی نہ سکتے۔ پھر سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہر چیز کا سایہ مغرب کی طرف بہت لمبا اور پھیلا ہوا ہوتا ہے، پھر جیسے جیسے سورج بلند ہوتا ہے سایہ آہستہ آہستہ سکڑتا جاتا ہے، حتیٰ کہ دھوپ پھیلنے سے بالکل ختم ہو جاتا ہے یا تھوڑا سا رہ جاتا ہے، پھر سایہ مشرق کی طرف بڑھنا شروع ہو جاتا ہے جو آخر کار رات کی تاریکی کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔ سائے کے اس پھیلنے اور سکڑنے میں انسان، حیوان حتیٰ کہ زمین پر پائی جانے والی ہر چیز کے لیے بے شمار فائدے ہیں، بلکہ ان کی زندگی ہی سائے کے اس گھٹنے بڑھنے پر موقوف ہے۔ ہمیشہ سایہ رہے تو زمین پر کوئی جان دار مخلوق بلکہ نباتات تک باقی نہ رہ سکے، کیونکہ ان سب کی زندگی سورج کی حرارت پر موقوف ہے۔ سایہ بالکل نہ رہے تب بھی زندگی محال ہے، کیونکہ ہر وقت سورج کے سامنے رہنے اور اس کی شعاعوں سے کوئی پناہ نہ ملنے کی صورت میں نہ جان دار زندہ رہ سکتے ہیں نہ نباتات، بلکہ پانی تک کا وجود باقی رہنا مشکل ہے، پھر اللہ کا فضل یہ ہے کہ دھوپ چھاؤں کا یہ سلسلہ آہستہ آہستہ بدلتا ہے، اگر یہ تبدیلی یک لخت ہو تب بھی زمین کی مخلوقات کی خیر نہیں۔ دن رات، دھوپ چھاؤں اور موسموں کے تغیر و تبدل کا سارا سلسلہ تدریج کے اصول پر قائم ہے، جس سے مقصود انسان کی ضروریات بہم پہنچانا ہے۔ دن بھر کے اوقات، نمازوں کے ہوں یا کسی اور کام کے، سائے کے بڑھنے گھٹنے سے وجود میں آتے ہیں۔ ➎ { وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ قصص (۷۱، ۷۲)۔ ➏ { ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيْلًا:} یعنی اگر دھوپ نہ ہوتی تو کچھ پتا نہ چلتا کہ سایہ کیا ہوتا ہے، کیونکہ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ (قرطبی) اس کے علاوہ سورج کا سائے پر دلالت کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ سایہ دھوپ کے تابع رہتا ہے، دھوپ ہی کے اعتبار سے وہ بڑھتا گھٹتا اور پھیلتا سمٹتا ہے، گویا دھوپ اس کے لیے بمنزلہ دلیل و راہنما ہے۔ (شوکانی)
ثُمَّ قَبَضۡنٰہُ اِلَیۡنَا قَبۡضًا یَّسِیۡرًا ﴿۴۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر (جیسے جیسے سورج اٹھتا جاتا ہے) ہم اس سائے کو رفتہ رفتہ اپنی طرف سمیٹتے چلے جاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ہم نے اسے آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچ لیا
احمد رضا خان بریلوی
پھر ہم نے آہستہ آہستہ اسے اپنی طرف سمیٹا
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم اس (سایہ) کو تھوڑا تھوڑا کرکے اپنی طرف سمیٹتے جاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ہم نے اسے اپنی طرف سمیٹ لیا، تھوڑا تھوڑا سمیٹنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اگر وہ چاہے تو رات دن نہ بدلے ٭٭

اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت پر دلیلیں بیان ہو رہی ہے کہ مختلف اور متضاد چیزوں کو وہ پیدا کر رہا ہے۔ سائے کو وہ بڑھاتا ہے، کہتے ہیں کہ یہ وقت صبح صادق سے لے کر سورج نکلنے تک کا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو اسے ایک ہی حالت پر رکھ دیتا۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر وہ رات ہی رات رکھے تو کوئی دن نہیں کر سکتا اور اگر دن ہی دن رکھے تو کوئی رات نہیں لا سکتا۔ اگر سورج نہ نکلتا تو سائے کا حال ہی معلوم نہ ہوتا۔ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ سائے کے پیچھے دھوپ، دھوپ کے پیچھے سایہ، یہ بھی قدرت کا انتظام ہے۔ پھر سہج سہج ہم اسے یعنی سائے کو یا سورج کو اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک گھٹتا جاتا ہے تو دوسرا بڑھتا جاتا ہے اور یہ انقلاب سرعت سے عمل میں آتا ہے۔ کوئی جگہ سایہ دار باقی نہیں رہتی۔ صرف گھروں کے چھپڑوں کے اور درختوں کے نیچے سایہ رہ جاتا ہے اور ان کے بھی اوپر دھوپ کھلی ہوئی ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا کر کے ہم اسے اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔

اسی نے رات کو تمہارے لیے لباس بنایا ہے کہ وہ تمہارے وجود پر چھا جاتی ہے اور اسے ڈھانپ لیتی ہے جیسے فرمان ہے: قسم ہے رات کی جبکہ ڈھانپ لے، اسی نے نیند کو سبب راحت و سکون بنایا ہے کہ اس وقت حرکت موقوف ہو جاتی ہے۔ اور دن بھر کے کام کاج سے جو تھکن چڑھ گئی تھی، وہ اس آرام سے اتر جاتی ہے۔ بدن کو اور روح کو راحت حاصل ہو جاتی ہے۔ پھر دن کو اٹھ کھڑے ہوتے ہو، پھیل جاتے ہو۔ اور روزی کی تلاش میں لگ جاتے ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ اس نے اپنی رحمت سے رات دن مقرر کر دیا ہے کہ تم سکون و آرام بھی حاصل کر لو اور اپنی روزیاں بھی تلاش کرو۔ ‘ ۱؎ [28-القصص:73] ‏‏‏‏
46۔-1یعنی وہ سایہ آہستہ آہستہ ہم اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اور اس کی جگہ رات کا گمبیھر اندھیرا چھا جاتا ہے۔
(آیت 46) ➊ { ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَيْنَا …:} یعنی آہستہ آہستہ گھٹاتے ہوئے ہم اسے بالکل مٹا دیتے ہیں، جیسے جیسے سورج بلند ہوتا ہے سایہ بھی بتدریج کم ہوتا جاتا ہے، حتیٰ کہ نصف النہار کے وقت بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سورج کے مغرب کی طرف ڈھلنے کے ساتھ سائے کو بڑھاتے بڑھاتے رات کے آنے پر اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ ➋ اپنی طرف سمیٹنے سے مراد غائب کرنا اور فنا کر دینا ہے، کیونکہ ہر چیز کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے، ہر چیز اسی کی طرف سے آتی ہے اور اسی کی طرف جاتی ہے، چنانچہ فرمایا: «{ وَ لِلّٰهِ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَيْهِ يُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ }» [ ھود: ۱۲۳ ] ”اور اللہ ہی کے پاس آسمانوں اور زمین کا غیب ہے اور سب کے سب کام اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔“ ➌ {قَبْضًا يَّسِيْرًا:} یعنی اتنا آہستہ کہ پوری طرح اس کے سمٹنے کا ادراک نہایت مشکل ہے۔
وَ ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الَّیۡلَ لِبَاسًا وَّ النَّوۡمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّہَارَ نُشُوۡرًا ﴿۴۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے لباس، اور نیند کو سکونِ موت، اور دن کو جی اٹھنے کا وقت بنایا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پرده بنایا۔ اور نیند کو راحت بنائی۔ اور دن کو اٹھ کھڑے ہونے کا وقت
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پردہ کیا اور نیند کو آرام اور دن بنایا اٹھنے کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات کو پردہ پوش اور نیند کو (باعث) راحت اور دن کو اٹھ کھڑے ہونے کا وقت بنایا۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی ہے جس نے تمھارے لیے رات کو لباس بنایا اور نیند کو آرام اور دن کو اٹھ کھڑا ہونا بنایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اگر وہ چاہے تو رات دن نہ بدلے ٭٭

اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت پر دلیلیں بیان ہو رہی ہے کہ مختلف اور متضاد چیزوں کو وہ پیدا کر رہا ہے۔ سائے کو وہ بڑھاتا ہے، کہتے ہیں کہ یہ وقت صبح صادق سے لے کر سورج نکلنے تک کا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو اسے ایک ہی حالت پر رکھ دیتا۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر وہ رات ہی رات رکھے تو کوئی دن نہیں کر سکتا اور اگر دن ہی دن رکھے تو کوئی رات نہیں لا سکتا۔ اگر سورج نہ نکلتا تو سائے کا حال ہی معلوم نہ ہوتا۔ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ سائے کے پیچھے دھوپ، دھوپ کے پیچھے سایہ، یہ بھی قدرت کا انتظام ہے۔ پھر سہج سہج ہم اسے یعنی سائے کو یا سورج کو اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک گھٹتا جاتا ہے تو دوسرا بڑھتا جاتا ہے اور یہ انقلاب سرعت سے عمل میں آتا ہے۔ کوئی جگہ سایہ دار باقی نہیں رہتی۔ صرف گھروں کے چھپڑوں کے اور درختوں کے نیچے سایہ رہ جاتا ہے اور ان کے بھی اوپر دھوپ کھلی ہوئی ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا کر کے ہم اسے اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔

اسی نے رات کو تمہارے لیے لباس بنایا ہے کہ وہ تمہارے وجود پر چھا جاتی ہے اور اسے ڈھانپ لیتی ہے جیسے فرمان ہے: قسم ہے رات کی جبکہ ڈھانپ لے، اسی نے نیند کو سبب راحت و سکون بنایا ہے کہ اس وقت حرکت موقوف ہو جاتی ہے۔ اور دن بھر کے کام کاج سے جو تھکن چڑھ گئی تھی، وہ اس آرام سے اتر جاتی ہے۔ بدن کو اور روح کو راحت حاصل ہو جاتی ہے۔ پھر دن کو اٹھ کھڑے ہوتے ہو، پھیل جاتے ہو۔ اور روزی کی تلاش میں لگ جاتے ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ اس نے اپنی رحمت سے رات دن مقرر کر دیا ہے کہ تم سکون و آرام بھی حاصل کر لو اور اپنی روزیاں بھی تلاش کرو۔ ‘ ۱؎ [28-القصص:73] ‏‏‏‏
47-1یعنی لباس، جس طرح لباس انسانی ڈھانچے کو چھپا لیتا ہے، اسی طرح رات تمہیں اپنی تاریکی میں چھپا لیتی ہے۔ 47-2سبات کے معنی کاٹنے کے ہوتے ہیں۔ نیند انسان کے جسم کو عمل سے کاٹ دیتی ہے، جس سے اس کو راحت میسر آتی ہے۔ بعض کے نزدیک سبات کے معنی تمدد پھیلنے کے ہیں نیند میں انسان دراز ہوجاتا ہے اس لیے اسے سبات کہا۔ ایسر التفاسیر وفتح القدیر۔ 47-3یعنی نیند، جو موت کی بہن ہے، دن کو انسان اس نیند سے بیدار ہو کر کاروبار اور تجارت کے لئے پھر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ أحْیَانا بَعْدَ مَا اَمَاتَنا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ) ' تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف اکٹھے ہونا ہے '۔
(آیت 47) ➊ {وَ هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِبَاسًا …: ” سُبَاتًا “} اور {” سَبْتٌ “} (ن، ض) مصدر ہیں، راحت، سکون، قطع کرنا۔ کلام کا اسلوب بطور التفات متکلم سے غائب کی طرف واپس آ گیا ہے۔ سائے اور دھوپ کے بعد رات اور دن کا ذکر فرمایا۔ جملے کے دونوں جز {” هُوَ “} اور {” الَّذِيْ “} معرفہ ہونے سے اس میں قصر افراد پیدا ہو رہا ہے، یعنی رات دن بنانے والا وہ اکیلا ہی ہے، کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں۔ جب تم بھی مانتے ہو کہ رات دن کا ایک لمحہ بنانے میں کسی کا کوئی حصہ نہیں، تو ان کے اندر موجود کسی چیز کا داتا اور دستگیر کوئی دوسرا کیسے بن گیا؟ {” جَعَلَ لَكُمْ“} میں توجہ دلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دھوپ چھاؤں اور رات دن کا یہ سلسلہ تمھارے لیے بنایا ہے، وہ ہر چیز سے غنی ہے۔ رات کو لباس بنانے کا مطلب یہ ہے کہ روشنی راحت میں خلل انداز ہو سکتی تھی، لہٰذا اس نے رات کو تاریک بنا دیا جو لباس کی طرح ہر چیز کو چھپا لیتی ہے۔ رات کی تاریکی میں کتنے ہی دینی و دنیوی فائدے ہیں، کسی غازی، کسی عابد شب بیدار، کسی علم کی لذت یا کسی اونچے مقصد کی لذت سے آشنا ہی کو اس کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ البتہ ایک فائدہ ایسا ہے جس سے کوئی بھی محروم نہیں رہتا، نہ اس سے کوئی مستغنی ہو سکتا ہے اور وہ ہے نیند، جو موت کی طرح تمھاری تمام حرکت قطع کر کے تمھیں مکمل سکون کی وادی میں لے جاتی ہے اور تمھاری تھکن دور کرتی اور پورے جسم کی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کر دیتی ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۶۰) اور زمر (۴۲)۔ ➋ {وَ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا:نُشُوْرًا “} میں دو مفہوم پائے جاتے ہیں، ایک یہ کہ نیند ایک طرح کی موت ہے اور دن کو بیدار ہونا قیامت کو اٹھنے کی ایک مثال ہے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر جاتے تو کہتے: [ بِاسْمِكَ أَمُوْتُ وَ أَحْيَا ] ”تیرے ہی نام کے ساتھ میں مرتا ہوں اور زندہ ہوں گا۔“ اور جب بیدار ہوتے تو کہتے: [ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَ إِلَيْهِ النُّشُوْرُ ] [ بخاري، الدعوات، باب ما یقول إذا نام: ۶۳۱۲ ] ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں موت دینے کے بعد زندگی بخشی اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔“ دوسرا یہ کہ رات آرام کے لیے اور دن کام کاج اور اللہ کا فضل تلاش کرنے کے لیے ہے۔ آیت میں اللہ کی توحید کی دلیل بھی ہے اور قیامت پر اس کی قدرت کا اظہار بھی اور نعمت کی یاد دہانی بھی۔ اور دیکھیے سورۂ قصص (۷۳)۔
وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ الرِّیٰحَ بُشۡرًۢا بَیۡنَ یَدَیۡ رَحۡمَتِہٖ ۚ وَ اَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَہُوۡرًا ﴿ۙ۴۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہی ہے جو اپنی رحمت کے آگے آگے ہواؤں کو بشارت بنا کر بھیجتا ہے پھر آسمان سے پاک پانی نازل کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وہی ہے جو باران رحمت سے پہلے خوش خبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی ہے جس نے ہوائیں بھیجیں اپنی رحمت کے آگے مژدہ سنائی ہوئی اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا پاک کرنے والا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت (بارش) سے پہلے خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے۔ اور ہم آسمان سے پاک اور پاک کرنے والا پانی برساتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ کسی مردہ شہر (غیر آباد) کو زندہ کریں اور اپنی مخلوق میں سے بہت سے جانوروں اور انسانوں کو پلائیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی ہے جس نے ہوائوں کو اپنی رحمت سے پہلے خوش خبری کے لیے بھیجا اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی اتارا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی ایک اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے۔ ان ہواؤں میں رب نے بہت سے خواص رکھے ہیں۔ بعض بادلوں کو پراگندہ کر دیتی ہیں، بعض انہیں اٹھاتی ہیں، بعض انہیں لے چلتی ہیں، بعض خنک اور بھیگی ہوئی چل کر لوگوں کو باران رحمت کی طرف متوجہ کر دیتی ہیں، بعض اس سے پہلے زمین کو تیار کر دیتی ہیں، بعض بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں اور انہیں بوجھل کر دیتی ہیں۔ آسمان سے ہم پاک صاف پانی برساتے ہیں کہ وہ پاکیزگی کا آلہ بنے۔ یہاں طہور ایسا ہی ہے جیسا سحور اور وجور وغیرہ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ فعول معنی فاعل کے ہے یا یہ مبالغہ کے لیے مبنی ہے یا متعدی کے لیے۔ یہ سب اقوال لغت اور حکم کے اعتبار سے مشکل ہیں۔ پوری تفصیل کے لائق یہ مقام نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں ابوالعالیہ رحمہ اللہ کے ساتھ بارش کے زمانہ میں نکلا۔ بصرے کے راستے اس وقت بڑے گندے ہو رہے تھے۔ آپ نے ایسے راستہ پر نماز ادا کی۔ میں نے آپ کو توجہ دلائی تو آپ نے فرمایا: اسے آسمان کے پاک پانی نے پاک کر دیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے اسے پاک اتارا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ بئر بضاعہ سے وضو کر لیں؟ یہ ایک کنواں ہے جس میں لوگ گندگی اور کتوں کا گوشت پھینکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:66،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ نے اسے وارد کیا ہے۔ امام ابوداؤد اور امام ترمذی رحمہما اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔ عبدالملک بن مروان کے دربار میں ایک مرتبہ پانی کا ذکر چھڑا تو خالد بن یزید رحمہ اللہ نے کہا: بعض پانی آسمان کے ہوتے ہیں، بعض پانی وہ ہوتے ہیں جسے بادل سمندر سے پیتا ہے اور اسے گرج، کڑک اور بجلی میٹھا کر دیتی ہے لیکن اس سے زمین میں پیداوار نہیں ہوتی۔ ہاں آسمانی پانی سے پیداوار اگتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آسمان کے پانی کے ہر قطرہ سے چارہ، گھاس وغیرہ پیدا ہوتا ہے۔ سمندر میں لؤلؤ اور موتی پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی «فِیْ الْبَرِّ بَرٌّ وَّ فِیْ الْبَحْرِ دَرٌّ» زمین میں گیہوں اور سمندر میں موتی۔ پھر فرمایا کہ اسی سے ہم غیر آباد بنجر خشک زمین کو زندہ کر دیتے ہیں، وہ لہلہانے لگتی ہے اور تروتازہ ہو جاتی ہے۔ جیسے فرمان ہے «فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ۱؎ [22-الحج:5] ‏‏‏‏ علاوہ مردہ زمین کے زندہ ہو جانے کے، یہ پانی حیوانوں اور انسانوں کے پینے میں آتا ہے، ان کے کھیتوں اور باغات کو پلایا جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ وہ اللہ وہی ہے، جو لوگوں کی کامل ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برساتا ہے۔ ‘ ۱؎ [42-الشورى:28] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے کہ ’ اللہ کے آثار رحمت کو دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے۔ ‘ ۱؎ [30-الروم:5] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے: ساتھ ہی میری قدرت کا ایک نظارہ یہ بھی دیکھو کہ ابر اٹھتا ہے، گرجتا ہے لیکن جہاں میں چاہتا ہوں برستا ہے، اس میں بھی حکمت و حجت ہے۔

بارش اللہ کے حکم سے ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ کوئی سال کسی سال کے کم و بیش بارش کا نہیں لیکن اللہ جہاں چاہے، برسائے۔ جہاں سے چاہے، پھیرے۔ پس چاہئے تھا کہ ان نشانات کو دیکھ کر اللہ کی ان زبردست حکمتوں کو اور قدرتوں کو سامنے رکھ کر اس بات کو بھی مان لیتے کہ بیشک ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور یہ بھی جان لیتے کہ بارشیں ہمارے گناہوں کی شامت سے بند کر دی جاتی ہیں تو ہم گناہ چھوڑ دیں لیکن ان لوگوں نے ایسا نہ کیا بلکہ ہماری نعمتوں پر اور ناشکری کی۔ ایک مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ میں بادل کی نسبت کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: بادلوں پر جو فرشتہ مقرر ہے، وہ یہ ہے۔ آپ ان سے جو چاہیں، دریافت فرما لیں۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس تو اللہ کا حکم آتا ہے کہ فلاں فلاں شہر اتنے اتنے قطرے برساؤ، ہم تعمیل ارشاد کر دیتے ہیں۔ بارشیں جیسی نعمت کے وقت اکثر لوگوں کے کفر کا طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے یہ بارش برسائے گئے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ بارش برس چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جاننے والا ہے۔ آپ نے فرمایا: سنو! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ مومن ہو گئے اور بہت سے کافر ہو گئے۔ جنہوں نے کہا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بارش ہم پر برسی ہے، وہ تو میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں سے کفر کرنے والے ہوئے اور جنہوں نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں تارے کے اثر سے پانی برسایا گیا، انہوں نے میرے ساتھ کفر کیا اور تاروں پر ایمان لائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:810] ‏‏‏‏
48-1طَھُور فعول کے وزن پر آلے کے معنی میں ہے۔ یعنی ایسی چیزیں جس سے پاکیزگی حاصل کی جاتی ہے جیسے وضو کے پانی کو وضو اور ایندھن کو وقود کہا جاتا ہے اس معنی میں پانی طاہر خود بھی پاک اور مطہر دوسروں کو پاک کرنے والا بھی ہے حدیث میں بھی ہے ان الماء طہور لا ینجسہ شیء ابو داؤد۔ ذائقہ بدل جا‏ئے تو ایسا پانی ناپاک ہے کما فی الحدیث
(آیت 48) ➊ { وَ هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا …:} دیکھیے سورۂ اعراف (۵۷) ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ ہے کہ وہ ہواؤں کو خوش خبری دینے والی بنا کر بھیجتا ہے کہ وہ اپنے بعد بادل آنے کی خوش خبری دیتی ہیں، اور ہواؤں کی کئی قسمیں ہیں جو کئی کاموں پر مقرر ہیں، بعض وہ جو بادلوں کو ابھارتی ہیں، بعض انھیں اٹھاتی ہیں، کچھ انھیں ہانکتی ہیں، کچھ ان سے پہلے بشارت دیتی ہیں، کچھ زمین پر جھاڑو پھیر دیتی ہیں اور کچھ بادلوں میں بار آوری کا کام کرتی ہیں، تاکہ ان سے بارش برسے۔“ یعنی ہواؤں، بادلوں اوربارش کے اس سلسلے کا خالق اور مالک و مختار بھی وہی ہے۔ اس حقیقت کو مشرکینِ مکہ بھی تسلیم کرتے تھے۔ ➋ { وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًا:} یہاں پھر غائب سے متکلم کی طرف التفات ہے۔ {” السَّمَآءِ “} سے مراد بادل ہے۔ {” طَهُوْرًا “ } ”جس کے ساتھ طہارت حاصل کی جائے“ جیسا کہ {”وَقُوْدٌ“} جس کے ساتھ آگ جلائی جائے، {”وَضُوْءٌ“} جس کے ساتھ وضو کیا جائے، {”سَحُوْرٌ“} جس کے ساتھ سحری کی جائے اور {”سَنُوْنٌ“} جس کے ساتھ دانت صاف کیے جائیں۔ یعنی ہم نے بادل سے پانی اتارا جو ہر طرح کی گندگیوں سے پاک ہوتا ہے اور ہر طرح کے جراثیم اور زہریلے مادوں سے بھی۔ زمین سے جو پانی بخارات کی صورت میں بادل کی صورت اختیار کرتا ہے وہ بخارات بن کر اڑنے سے پہلے نجس ہو یا زہر آلود، نمکین ہو یا کسی عنصر کے ساتھ ملا ہوا، جب بادل سے برسے گا تو ہر آمیزش اور نجاست سے پاک ہو گا اور صرف خود ہی پاک نہیں ہو گا بلکہ دوسری چیزوں کو بھی نجاست سے پاک کرنے والا ہو گا۔ یہ آیت دلیل ہے کہ کسی بھی چیز کو پاک کرنے کا اصل ذریعہ پانی ہے۔
لِّنُحۡیَِۧ بِہٖ بَلۡدَۃً مَّیۡتًا وَّ نُسۡقِیَہٗ مِمَّا خَلَقۡنَاۤ اَنۡعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ کَثِیۡرًا ﴿۴۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تاکہ ایک مردہ علاقے کو اس کے ذریعے زندگی بخشے اور اپنی مخلوق میں سے بہت سے جانوروں اور انسانوں کو سیراب کرے
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ اس کے ذریعے سے مرده شہر کو زنده کردیں اوراسے ہم اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چوپایوں اور انسانوں کو پلاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تاکہ ہم ا سسے زندہ کریں کسی مردہ شہر کو اور اسے پلائیں اپنے بنائے ہوئے بہت سے چوپائے اور آدمیوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم اس (پانی) کو طرح طرح سے لوگوں کے درمیان تقسیم کرتے ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں مگر اکثر لوگوں نے ناشکری کے سوا ہر بات سے انکار کر دیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ ہم اس کے ذریعے ایک مردہ شہر کو زندہ کریں اور اسے اس (مخلوق) میں سے جو ہم نے پیدا کی ہے، بہت سے جانوروں اور انسانوں کو پینے کے لیے مہیا کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی ایک اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے۔ ان ہواؤں میں رب نے بہت سے خواص رکھے ہیں۔ بعض بادلوں کو پراگندہ کر دیتی ہیں، بعض انہیں اٹھاتی ہیں، بعض انہیں لے چلتی ہیں، بعض خنک اور بھیگی ہوئی چل کر لوگوں کو باران رحمت کی طرف متوجہ کر دیتی ہیں، بعض اس سے پہلے زمین کو تیار کر دیتی ہیں، بعض بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں اور انہیں بوجھل کر دیتی ہیں۔ آسمان سے ہم پاک صاف پانی برساتے ہیں کہ وہ پاکیزگی کا آلہ بنے۔ یہاں طہور ایسا ہی ہے جیسا سحور اور وجور وغیرہ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ فعول معنی فاعل کے ہے یا یہ مبالغہ کے لیے مبنی ہے یا متعدی کے لیے۔ یہ سب اقوال لغت اور حکم کے اعتبار سے مشکل ہیں۔ پوری تفصیل کے لائق یہ مقام نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں ابوالعالیہ رحمہ اللہ کے ساتھ بارش کے زمانہ میں نکلا۔ بصرے کے راستے اس وقت بڑے گندے ہو رہے تھے۔ آپ نے ایسے راستہ پر نماز ادا کی۔ میں نے آپ کو توجہ دلائی تو آپ نے فرمایا: اسے آسمان کے پاک پانی نے پاک کر دیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے اسے پاک اتارا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ بئر بضاعہ سے وضو کر لیں؟ یہ ایک کنواں ہے جس میں لوگ گندگی اور کتوں کا گوشت پھینکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:66،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ نے اسے وارد کیا ہے۔ امام ابوداؤد اور امام ترمذی رحمہما اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔ عبدالملک بن مروان کے دربار میں ایک مرتبہ پانی کا ذکر چھڑا تو خالد بن یزید رحمہ اللہ نے کہا: بعض پانی آسمان کے ہوتے ہیں، بعض پانی وہ ہوتے ہیں جسے بادل سمندر سے پیتا ہے اور اسے گرج، کڑک اور بجلی میٹھا کر دیتی ہے لیکن اس سے زمین میں پیداوار نہیں ہوتی۔ ہاں آسمانی پانی سے پیداوار اگتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آسمان کے پانی کے ہر قطرہ سے چارہ، گھاس وغیرہ پیدا ہوتا ہے۔ سمندر میں لؤلؤ اور موتی پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی «فِیْ الْبَرِّ بَرٌّ وَّ فِیْ الْبَحْرِ دَرٌّ» زمین میں گیہوں اور سمندر میں موتی۔ پھر فرمایا کہ اسی سے ہم غیر آباد بنجر خشک زمین کو زندہ کر دیتے ہیں، وہ لہلہانے لگتی ہے اور تروتازہ ہو جاتی ہے۔ جیسے فرمان ہے «فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ۱؎ [22-الحج:5] ‏‏‏‏ علاوہ مردہ زمین کے زندہ ہو جانے کے، یہ پانی حیوانوں اور انسانوں کے پینے میں آتا ہے، ان کے کھیتوں اور باغات کو پلایا جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ وہ اللہ وہی ہے، جو لوگوں کی کامل ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برساتا ہے۔ ‘ ۱؎ [42-الشورى:28] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے کہ ’ اللہ کے آثار رحمت کو دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے۔ ‘ ۱؎ [30-الروم:5] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے: ساتھ ہی میری قدرت کا ایک نظارہ یہ بھی دیکھو کہ ابر اٹھتا ہے، گرجتا ہے لیکن جہاں میں چاہتا ہوں برستا ہے، اس میں بھی حکمت و حجت ہے۔

بارش اللہ کے حکم سے ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ کوئی سال کسی سال کے کم و بیش بارش کا نہیں لیکن اللہ جہاں چاہے، برسائے۔ جہاں سے چاہے، پھیرے۔ پس چاہئے تھا کہ ان نشانات کو دیکھ کر اللہ کی ان زبردست حکمتوں کو اور قدرتوں کو سامنے رکھ کر اس بات کو بھی مان لیتے کہ بیشک ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور یہ بھی جان لیتے کہ بارشیں ہمارے گناہوں کی شامت سے بند کر دی جاتی ہیں تو ہم گناہ چھوڑ دیں لیکن ان لوگوں نے ایسا نہ کیا بلکہ ہماری نعمتوں پر اور ناشکری کی۔ ایک مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ میں بادل کی نسبت کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: بادلوں پر جو فرشتہ مقرر ہے، وہ یہ ہے۔ آپ ان سے جو چاہیں، دریافت فرما لیں۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس تو اللہ کا حکم آتا ہے کہ فلاں فلاں شہر اتنے اتنے قطرے برساؤ، ہم تعمیل ارشاد کر دیتے ہیں۔ بارشیں جیسی نعمت کے وقت اکثر لوگوں کے کفر کا طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے یہ بارش برسائے گئے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ بارش برس چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جاننے والا ہے۔ آپ نے فرمایا: سنو! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ مومن ہو گئے اور بہت سے کافر ہو گئے۔ جنہوں نے کہا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بارش ہم پر برسی ہے، وہ تو میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں سے کفر کرنے والے ہوئے اور جنہوں نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں تارے کے اثر سے پانی برسایا گیا، انہوں نے میرے ساتھ کفر کیا اور تاروں پر ایمان لائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:810] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 49) ➊ {لِنُحْيِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّيْتًا وَّ نُسْقِيَهٗ …: ” اَنَاسِيَّ “ ” أَنْسِيٌّ“} کی جمع ہے، جیسے: {”كُرْسِيٌّ“} کی جمع {”كَرَاسِيُّ“} ہے یا {”إِنْسَانٌ“} کی جمع ہے جو اصل میں {”أَنَاسِيْنُ“} تھا، جیسے: {”ظَرْبَانٌ“} (بلی جیسا ایک جانور) کی جمع {”ظَرَابِيُّ“} ہے، پھر آخری نون کو یاء سے بدل دیا اور یاء کا یاء میں ادغام کر دیا۔ {”سَقٰي يَسْقِيْ“} پلانا، {”أَسْقٰي يُسْقِيْ“} پلوانا، پینے کے لیے مہیا کرنا۔ ➋ اگر سمندر کا پانی اپنی اصل حالت میں کھیتی کو پلایا جائے تو کھیتی مرجھا کر تباہ ہو جائے اور اگر کوئی جان دار پی لے تو اس کی آنتوں کو کاٹ کے رکھ دے، یا کم از کم زخمی کر دے، لیکن اسی سمندر کے پانی کے بخارات جب بارش میں منتقل ہوتے ہیں تو کیا نباتات، کیا حیوان اور کیا انسان، سب کے لیے یہ پانی حیات بخش ثابت ہوتا ہے، کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اور جان دار مخلوق بارش ہونے سے پہلے ہواؤں کی آمد ہی پر مسرور ہو کر جھومنے لگتی ہے۔ نباتات ہی سے جان دار مخلوق کو غذا حاصل ہوتی ہے اور اس کے پینے کے لیے اللہ تعالیٰ صاف ستھرا پانی دیتا ہے۔ جمادات کے علاوہ اس کائنات ارضی پر کوئی مخلوق ایسی نہیں جس کی زندگی کی بقا پانی کے بغیر ممکن ہو۔ (کیلانی) ➌ ان دو آیات میں بھی اللہ کی توحید، موت کے بعد زندگی کے دلائل اور اللہ کی نعمت کی یاد دہانی تینوں چیزیں موجود ہیں۔
وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنٰہُ بَیۡنَہُمۡ لِیَذَّکَّرُوۡا ۫ۖ فَاَبٰۤی اَکۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوۡرًا ﴿۵۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس کرشمے کو ہم بار بار ان کے سامنے لاتے ہیں تاکہ وہ کچھ سبق لیں، مگر اکثر لوگ کفر اور ناشکری کے سوا کوئی دوسرا رویہ اختیار کرنے سے انکار کر دیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بے شک ہم نے اسےان کے درمیان طرح طرح سے بیان کیا تاکہ وه نصیحت حاصل کریں، مگر پھر بھی اکثر لوگوں نے سوائے ناشکری کے مانا نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے ان میں پانی کے پھیرے رکھے کہ وہ دھیان کریں تو بہت لوگوں نے نہ مانا مگر ناشکری کرنا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر ہم چاہتے تو ایک ایک بستی میں ایک ایک ڈرانے والا بھیجتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلا شبہ یقینا ہم نے اسے ان کے درمیان پھیر پھیر کر بھیجا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں، مگر اکثر لوگوں نے سخت ناشکری کرنے کے سوا کچھ نہیں مانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی ایک اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے۔ ان ہواؤں میں رب نے بہت سے خواص رکھے ہیں۔ بعض بادلوں کو پراگندہ کر دیتی ہیں، بعض انہیں اٹھاتی ہیں، بعض انہیں لے چلتی ہیں، بعض خنک اور بھیگی ہوئی چل کر لوگوں کو باران رحمت کی طرف متوجہ کر دیتی ہیں، بعض اس سے پہلے زمین کو تیار کر دیتی ہیں، بعض بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں اور انہیں بوجھل کر دیتی ہیں۔ آسمان سے ہم پاک صاف پانی برساتے ہیں کہ وہ پاکیزگی کا آلہ بنے۔ یہاں طہور ایسا ہی ہے جیسا سحور اور وجور وغیرہ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ فعول معنی فاعل کے ہے یا یہ مبالغہ کے لیے مبنی ہے یا متعدی کے لیے۔ یہ سب اقوال لغت اور حکم کے اعتبار سے مشکل ہیں۔ پوری تفصیل کے لائق یہ مقام نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں ابوالعالیہ رحمہ اللہ کے ساتھ بارش کے زمانہ میں نکلا۔ بصرے کے راستے اس وقت بڑے گندے ہو رہے تھے۔ آپ نے ایسے راستہ پر نماز ادا کی۔ میں نے آپ کو توجہ دلائی تو آپ نے فرمایا: اسے آسمان کے پاک پانی نے پاک کر دیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے اسے پاک اتارا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ بئر بضاعہ سے وضو کر لیں؟ یہ ایک کنواں ہے جس میں لوگ گندگی اور کتوں کا گوشت پھینکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:66،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ نے اسے وارد کیا ہے۔ امام ابوداؤد اور امام ترمذی رحمہما اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔ عبدالملک بن مروان کے دربار میں ایک مرتبہ پانی کا ذکر چھڑا تو خالد بن یزید رحمہ اللہ نے کہا: بعض پانی آسمان کے ہوتے ہیں، بعض پانی وہ ہوتے ہیں جسے بادل سمندر سے پیتا ہے اور اسے گرج، کڑک اور بجلی میٹھا کر دیتی ہے لیکن اس سے زمین میں پیداوار نہیں ہوتی۔ ہاں آسمانی پانی سے پیداوار اگتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آسمان کے پانی کے ہر قطرہ سے چارہ، گھاس وغیرہ پیدا ہوتا ہے۔ سمندر میں لؤلؤ اور موتی پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی «فِیْ الْبَرِّ بَرٌّ وَّ فِیْ الْبَحْرِ دَرٌّ» زمین میں گیہوں اور سمندر میں موتی۔ پھر فرمایا کہ اسی سے ہم غیر آباد بنجر خشک زمین کو زندہ کر دیتے ہیں، وہ لہلہانے لگتی ہے اور تروتازہ ہو جاتی ہے۔ جیسے فرمان ہے «فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ۱؎ [22-الحج:5] ‏‏‏‏ علاوہ مردہ زمین کے زندہ ہو جانے کے، یہ پانی حیوانوں اور انسانوں کے پینے میں آتا ہے، ان کے کھیتوں اور باغات کو پلایا جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ وہ اللہ وہی ہے، جو لوگوں کی کامل ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برساتا ہے۔ ‘ ۱؎ [42-الشورى:28] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے کہ ’ اللہ کے آثار رحمت کو دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے۔ ‘ ۱؎ [30-الروم:5] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے: ساتھ ہی میری قدرت کا ایک نظارہ یہ بھی دیکھو کہ ابر اٹھتا ہے، گرجتا ہے لیکن جہاں میں چاہتا ہوں برستا ہے، اس میں بھی حکمت و حجت ہے۔

بارش اللہ کے حکم سے ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ کوئی سال کسی سال کے کم و بیش بارش کا نہیں لیکن اللہ جہاں چاہے، برسائے۔ جہاں سے چاہے، پھیرے۔ پس چاہئے تھا کہ ان نشانات کو دیکھ کر اللہ کی ان زبردست حکمتوں کو اور قدرتوں کو سامنے رکھ کر اس بات کو بھی مان لیتے کہ بیشک ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور یہ بھی جان لیتے کہ بارشیں ہمارے گناہوں کی شامت سے بند کر دی جاتی ہیں تو ہم گناہ چھوڑ دیں لیکن ان لوگوں نے ایسا نہ کیا بلکہ ہماری نعمتوں پر اور ناشکری کی۔ ایک مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ میں بادل کی نسبت کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: بادلوں پر جو فرشتہ مقرر ہے، وہ یہ ہے۔ آپ ان سے جو چاہیں، دریافت فرما لیں۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس تو اللہ کا حکم آتا ہے کہ فلاں فلاں شہر اتنے اتنے قطرے برساؤ، ہم تعمیل ارشاد کر دیتے ہیں۔ بارشیں جیسی نعمت کے وقت اکثر لوگوں کے کفر کا طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے یہ بارش برسائے گئے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ بارش برس چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جاننے والا ہے۔ آپ نے فرمایا: سنو! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ مومن ہو گئے اور بہت سے کافر ہو گئے۔ جنہوں نے کہا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بارش ہم پر برسی ہے، وہ تو میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں سے کفر کرنے والے ہوئے اور جنہوں نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں تارے کے اثر سے پانی برسایا گیا، انہوں نے میرے ساتھ کفر کیا اور تاروں پر ایمان لائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:810] ‏‏‏‏
50-1یعنی قرآن کریم کو اور بعض نے صٓرفناہ میں ھا کا مرجع بارش قرار دیا ہے جس کا مطب یہ ہوگا کہ بارش کو ہم پھیر پھیر کر برساتے ہیں یعنی کبھی ایک علاقے میں کبھی دوسرے علاقے میں حتی کہ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی ایک ہی شہر کے ایک حصے میں بارش ہوتی ہے دوسروں میں نہیں ہوتی اور کبھی دوسرے حصوں میں ہوتی ہے پہلے حصے میں نہیں ہوتی یہ اللہ کی حکمت ومشیت ہے وہ جس طرح چاہتا ہے کہیں بارش برساتا ہے اور کہیں نہیں اور کبھی کسی علاقے میں کبھی کسی اور علاقے میں۔ 50-2اور ایک کفر ناشکری یہ بھی ہے کہ بارش کو مشیت الٰہی کی بجائے ستاروں کی گردش کا نتیجہ قرار دیا جائے، جیسا کہ اہل جاہلیت کہا کرتے تھے۔ کما فی الحدیث۔
(آیت 50) ➊ {وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ …:} اس آیت کی دو تفسیریں ہیں اور دونوں درست ہیں۔ اگر{” صَرَّفْنٰهُ “} میں {”هٗ “} کی ضمیر اوپر بیان کردہ دلائل کی طرف ہو، جیسا کہ اکثر مفسرین کا رجحان ہے، تو معنی یہ ہو گا کہ ہم نے توحید کے دلائل کو قرآن مجید میں مختلف طریقوں سے پھیر پھیر کر بیان کیا ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں، مگر اکثر لوگوں نے توحید قبول نہیں کی اور انھوں نے ناشکری اور کفر کے سوا کچھ مانا ہی نہیں۔ اور اگر {” صَرَّفْنٰهُ “ } کی ضمیر {” مَآءً “} کی طرف ہو تو معنی یہ ہو گا کہ ہم نے اس پانی کو ان کے درمیان طرح طرح سے پھیرا ہے، چنانچہ وہ کہیں زیادہ برستا ہے کہیں کم۔ سب جگہ ایک جیسا اور ایک وقت میں نہیں برستا، کسی جگہ بارش سے سیلاب آ جاتا ہے تو دوسری جگہ بارش کا ایک قطرہ نہیں گرتا اور قحط پڑ جاتا ہے، کہیں وہ مائع صورت میں ہے، کہیں پتھر کی طرح برف کی صورت میں اور کہیں بخارات کی صورت میں۔ غرض یہ سب اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی قدرت کے کرشمے ہیں۔ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ابن عباس اور ابن مسعود رضی اللہ عنھم نے فرمایا: [ مَا مِنْ عَامٍ أَمْطَرَ مِنْ عَامٍ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَصْرِفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ ثُمَّ قَرَأَ: «{ وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوْا }» ‏‏‏‏ ] [ مستدرک حاکم: 403/2، ح: ۳۵۲۰۔ طبري: ۲۱۲۱۶۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 460/5، ح: ۲۴۶۱ ] ”یعنی کوئی سال ایسا نہیں جس میں دوسرے کسی سال سے زیادہ بارش ہوتی ہو، لیکن اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا ہے اسے پھیرتا ہے۔“ پھر یہ آیت پڑھی: «{ وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوْا }» [ الفرقان: ۵۰ ] ”اور بلاشبہ یقینا ہم نے اسے ان کے درمیان پھیر پھیر کر بھیجا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔“ دکتور حکمت بن بشیر نے اس حدیث کی تخریج کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ سعید بن جبیر کے واسطے سے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسی سند کے ساتھ روایت کرکے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول طبری اور بیہقی نے دو سندوں سے روایت کیا ہے اور امام بیہقی نے اسے صحیح کہا ہے۔ [ السنن الکبریٰ للبیہقي: 363/3 ] ان دو جلیل القدر صحابہ کے قول کی رو سے یہ تفسیر زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ظاہر ہے کہ یہ بات وہ اپنے پاس سے نہیں کہہ سکتے، اس لیے یہ حکماً مرفوع ہے۔ ابن عاشور لکھتے ہیں: ”جدید تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ بارش زمین پر ہر سال مجموعی طور پر ایک جیسی ہوتی ہے اور یہی بات سیکڑوں برس پہلے وحی کے ذریعے سے بتا دی گئی تھی۔“ ➋ { لِيَذَّكَّرُوْا:} یعنی بارش کو اس طرح پھیر پھیر کر مختلف جگہوں پر کم یا زیادہ نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں، بارش کو محض اللہ تعالیٰ کی رحمت و فضل کا نتیجہ مانیں، اس کے برسنے پر اللہ کا شکر ادا کریں اور نہ برسنے پر توبہ و استغفار کریں۔ ➌ {فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا:كُفُوْرًا “} اور {” كُفْرٌ“ } دونوں مصدر ہیں، {” كُفُوْرًا “} میں حرف زیادہ ہونے کی وجہ سے مبالغہ ہے، یعنی سخت ناشکری۔ ناشکری یہ کہ اس بارش کو ستاروں کا کرشمہ قرار دیا جائے۔ زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں ایک بارش کے بعد، جو رات کے وقت ہوئی تھی، صبح کی نماز پڑھائی، جب فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: [ هَلْ تَدْرُوْنَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِيْ مُؤْمِنٌ بِيْ وَ كَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ رَحْمَتِهِ، فَذٰلِكَ مُؤْمِنٌ بِيْ وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَ أَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَ كَذَا، فَذٰلِكَ كَافِرٌ بِيْ وَ مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ ] [ مسلم، الإیمان، باب بیان کفر من قال مطرنا بالنوء: ۷۱۔ بخاري: ۸۴۶ ] ”جانتے ہو آج رات تمھارے رب نے کیا فرمایا ہے؟“ انھوں نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔“ کہا، اس نے فرمایا ہے: ”آج میرے بندوں نے صبح کی ہے کہ کچھ مجھ پر ایمان رکھنے والے ہیں اور کچھ کفر کرنے والے ہیں۔ جس نے کہا، ہم پر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی ہے، تو یہ مجھ پر ایمان رکھنے والا اور ستارے کے ساتھ کفر کرنے والا ہے اور جس نے کہا، ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی تو یہ ستارے پر ایمان رکھنے والا اور میرے ساتھ کفر کرنے والا ہے۔“