بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الفرقان — Surah Furqan
آیت نمبر 43
کل آیات: 77
قرآن کریم الفرقان آیت 43
آیت نمبر: 43 — سورۃ الفرقان islamicurdubooks.com ↗
اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۴۳﴾
کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ کیا تم ایسے شخص کو راہِ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو؟
کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے کیا آپ اس کے ذمہدار ہوسکتے ہیں؟
کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنی جی کی خواہش کو اپنا خدا بنالیا تو کیا تم اس کی نگہبانی کا ذمہ لو گے
(اے رسول(ص)) کیا آپ نے وہ شخص دیکھا ہے جس نے اپنی خواہش (نفس) کو اپنا خدا بنا رکھا ہے؟ کیا آپ اس کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں؟
کیا تو نے وہ شخص دیکھا جس نے اپنا معبود اپنی خواہش ہی کو بنا لیا، تو کیا تو اس کا ذمہ دار ہو گا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انبیاء کا مذاق ٭٭

کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔ جیسے فرمان ہے «وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» ۱؎ [13-الرعد:32] ‏‏‏‏ ’ تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ ‘ کہنے لگے: وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے۔ نفس و شیطان جس چیز کو اچھا ظاہر کرتا ہے، یہ بھی اسے اچھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بھلا ان کا ذمہ دار تو کیسے ٹھہر سکتا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جاہلیت میں عرب کی یہ حالت تھی کہ جہاں کسی سفید گول مول پتھر کو دیکھا، اس کے سامنے جھکنے اور سجدے کرنے لگے۔ اس سے اچھا کوئی نظر پڑ گیا تو اس کے سامنے جھک گئے۔ اور اول کو چھوڑ دیا۔ پھر فرماتا ہے: یہ تو چوپایوں سے بھی بدتر ہیں۔ نہ ان کے کان ہیں، نہ دل ہیں۔ چوپائے تو خیر قدرتاً آزاد ہیں لیکن یہ جو عبادت کے لیے پیدا کیے گئے تھے، یہ ان سے بھی زیادہ بہک گئے بلکہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔ اور قیام حجت کے بعد، رسولوں کے پہنچ چکنے کے بعد بھی اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ اس کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں مانتے۔

📖 احسن البیان

43-1یعنی جو چیز اس کے نفس کو اچھی لگی اسی کو اپنا دین و مذہب بنا لیا کیا ایسے شخص کو تو راہ یاب کرسکتا ہے یا اللہ کے عذاب سے چھڑا سکے گا؟ اس کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا کیا وہ شخص جس کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا پس وہ اسے اچھا سمجھتا ہے پس اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ یاب پس تو ان پر حسرت و افسوس نہ کر۔ فاطر۔ حضرت ابن عباس ؓ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں زمانہ جاہلیت میں آدمی ایک عرصے تک سفید پتھر کی عبادت کرتا رہتا جب اسے اس سے اچھا پتھر نظر آجاتا تو وہ پہلے پتھر کو چھوڑ کر دوسرے پتھر کی پوجا شروع کردیتا ابن کثیر۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے اشخاص جو عقل وفہم سے اس طرح عاری اور محض خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہیں اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کیا تو ان کو ہدایت کے راستے پر لگا سکتا ہے؟ یعنی نہیں لگا سکتا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 43) ➊ {اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ:} یہ فطری بات ہے کہ کفار کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مذاق کا نشانہ بنانا اور اپنے باطل معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سخت تکلیف دہ تھا، کیونکہ آپ کی شدید خواہش تھی کہ وہ ایمان لے آئیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے حال پر تعجب دلاتے ہوئے فرمایا: ”کیا تو نے وہ شخص دیکھا جس نے اپنی خواہش ہی اپنا معبود بنا لیا؟“ ابوحیان نے فرمایا: {”وَالْمَعْنٰي أَنَّهُ لَمْ يَتَّخِذْ إِلٰهًا إِلَّا هَوَاهُ“} ”معنی یہ ہے کہ اس نے اپنی خواہش کے سوا کسی کو معبود بنایا ہی نہیں۔“ زمخشری نے فرمایا: ”جو شخص اپنے دین میں خواہش ہی کا حکم مانے، کوئی بھی کام کرنے یا نہ کرنے میں اسی کے پیچھے چلے تو یہ شخص اپنی خواہش کی عبادت کرنے والا اور اسے اپنا معبود بنانے والا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ شخص جو اپنی خواہش کے سوا کسی اور کو اپنا معبود ہی نہیں سمجھتا آپ اسے ہدایت کی طرف کیسے لا سکتے ہیں؟ کیا آپ اس کے ذمہ دار ہیں، یا اسے اسلام لانے پر مجبور کر سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ تمھیں ہر حال میں اسلام قبول کرنا ہو گا، چاہو یا نہ چاہو، جب کہ دین میں (قبولِ اسلام کے معاملہ میں) زبردستی ہے ہی نہیں، فرمایا: «{ لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ }» [ البقرۃ: ۲۵۶ ] ”دین میں کوئی زبردستی نہیں۔“ اور فرمایا: «{ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ[قٓ: ۴۵ ] ”اور تو ان پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں۔“ اور فرمایا: «{ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَۜيْطِرٍ}» [ الغاشیۃ: ۲۲ ] ”تو ہر گز ان پر کوئی مسلط کیا ہوا نہیں ہے۔“ (الکشاف) اور دیکھیے سورۂ جاثیہ (۲۳) اور فاطر (۸)۔ ➋ کوئی شخص اگر نفس کی خواہش پر کوئی گناہ کر لے اور اپنے آپ کو اللہ کا گناہ گار سمجھے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے اپنی خواہش کو اپنا الٰہ بنا لیا۔ ورنہ ہر گناہ شرک ہو گا اور ہر گناہ گار مشرک، جبکہ ایسا نہیں ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ }» [ النساء: ۴۸ ] ”بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے۔“ طبری نے اپنی معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا: ”مراد اس سے کافر ہے جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور کسی دلیل کے بجائے اپنی خواہش ہی کو اپنا معبود بنا لے۔“ ➌ { اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَيْهِ وَكِيْلًا:} یعنی آپ اس کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہیں، آپ کا کام صرف دعوت ہے، جیسا کہ فرمایا: «{فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَيْنَا الْحِسَابُ }» [ الرعد: ۴۰ ] ”تو تیرے ذمے صرف پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمے حساب لینا ہے۔“ اور دیکھیے سورۂ شوریٰ (۴۸)۔
← پچھلی آیت (42) پوری سورۃ اگلی آیت (44) →